داڑھی کترے پیروں ، خطیبوں کےلیے لمحہ فکریہ کس کے راستے پر چل رہے ہو ؟
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لا طاعۃ فی المعصیۃ انما الطاعۃ فی المعروف ۔
ترجمہ : اللہ عزوجل کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ، بلکہ مخلوق کی اطاعت تو فقط بھلائی والے کاموں میں ہی جائز ہے ۔ (صحیح البخاری جلد 6 صفحہ 2649 حدیث نمبر 6830 دار ابن كثير دمشق)
عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : خالفوا المشرکین وفروا اللحی و أحفوا الشوارب ۔ و کان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مشرکین کی مخالفت کرو اور داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی ، اسے کاٹ دیتے تھے ۔ (صحیح بخاری صفحہ 1486 حدیث نمبر 5892 مطبوعہ دار ابن کثیر،چشتی)
امام کمال الدین ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : واما الاخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد ۔
ترجمہ : داڑھی ایک مٹھی سے کم کروانا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں ، اسے کسی نے بھی مباح نہیں قرار دیا ۔ (فتح القدیر جلد 2 صفحہ 352 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
فتح القدیر ، غنیۃ ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے : والنظم للآخر ، وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج ۔
ترجمہ : بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کر دینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ، ہندؤوں اور بعض قسم کے انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ (درر شرح غرر کتاب الصیام فصل حامل او مرضع خافت جلد 1 صفحہ 208 مطبوعہ میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی،چشتی)
حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے : والأخذ من اللحية وهو دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال لم يبحه أحد وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الإعاجم فتح ۔
ترجمہ : جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں اور سب لے لینا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے ۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1 صفحہ 681 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
الدر المختار میں ہے : وَأَمَّا الْأَخْذُ مِنْهَا وَهِيَ دُونَ ذَلِكَ كَمَا يَفْعَلُهُ بَعْضُ الْمَغَارِبَةِ ، وَمُخَنَّثَةُ الرِّجَالِ فَلَمْ يُبِحْهُ أَحَدٌ ، وَأَخْذُ كُلِّهَا فِعْلُ يَهُودِ الْهِنْدِ وَمَجُوسِ الْأَعَاجِمِ فَتْحٌ ۔
ترجمہ : بہرحال جب داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں اور داڑھی بالکل منڈوانا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے ۔ (الدر المختار مع رد المحتار باب ما یفسد الصوم جلد 3 صفحہ 398 مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض،چشتی)
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند ۔
ترجمہ : داڑھی منڈانا حرام ہے ، یہ افرنگیوں ، ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں ۔ اور داڑھی بمقدار ایک مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایک جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں ۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواک فارسی جلد 1 صفحہ 113،چشتی)(اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ مترجم اردو جلد 1 صفحہ 607 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : تور بشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا داڑھی کاٹانا عجمیوں ، افرنگیوں ، ہندؤوں ، مشرکوں کا شعار ہے اور فرقہ قلندریہ کا یہ طریقہ دین نہیں ہے اللہ عزوجل ان لوگوں سے دین کو پاک رکھے ۔ (لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ جلد 2 صفحہ 105 مطبوعہ دارالنوادر،چشتی)
محمد قال اخبرنا ابو حنیفۃ عن الہیثم عن ابن عمرانہ کان یقبض علی اللحیۃ ثم یقص ما تحت القبضۃ قال محمد وبہ ناخذ و ھو قول ابی حنیفۃ ۔ (کتاب الآثار باب صفتہ الشعر من الوجہ جلد 1 صفحہ 766 ، 767 مطبوعہ دارالنوادر)
ترجمہ : امام محمد ، امام اعظم علیہما الرحمہ سے ، وہ جناب ہیثم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کاٹ دیا کرتے تھے ۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارا عمل اسی حکم پر ہے اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی ارشاد ہے ۔
اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ احناف کے نزدیک قبضہ (مُٹھی) برابر داڑھی رکھنے پر فتویٰ ہے لہٰذا یہ حکم لازمی ہے ۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا : مذہب صحیح پر ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ منڈوانے والا یا کاٹ کر حد شرعی سے کم کرنے والا فاسق ہے ۔ فاسق کی امامت مکروہ اور اس کو امام بنانا گناہ ہے ۔ اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی جائیں گی ، ان کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ (وقار الفتاوی جلد 2 صفحہ 223 مطبوعہ بزم وقارالدین کراچی) ۔ ذرا سوچیں جب ایسے شخص کی امامت جائز نہیں تو بیعت کیسے جائز ہے ؟ ۔ اللہ عزوجل ہمیں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و شریعتِ مطہرہ کو مقدم رکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی مہاروی ، قادری ، نقشبندی ، سہروردی ۔










No comments:
Post a Comment