مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں
محترم قارئینِ کرام : مالک اشتر اپنے حواریوں کو کہتا ہے : اشتر نخعی نے کہا واللہ حضرت زبیر اور طلحہ کے ارادے سے ہم خوب واقف ہیں لیکن آج تک علی کے ارادے سے واقف نہ ہو سکے ، اگر ان میں صلح ہو گئی تو یہ ہمارے خون پر ہو گا اس لیے کیوں نہ علی پر حملہ کر کے اسے بھی عثمان کے پاس پہنچا دیں اور اس سے جو فتنہ پیدا ہوگا وہ بالکل ہماری مرضی کے عین مطابق ہوگا اور ہم سکون سے زندگی گزار سکیں گے ۔ (تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 511 ، 512 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
ناظرین : اس حوالے کو بغور پڑھیں اور اشتر کے حواریوں کے بیانات بھی اس اسکین میں موجود ہیں ان کو بھی بغور پڑھیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین فتنہ ڈالنے میں اس گروہ کا کتنا ہاتھ تھا اس سے اندازہ لگائیں ان لوگوں نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قتل تک منصوبہ بنایا اس سے ان کا مقصد کیا تھا اپنی عیش و عشرت اور امت میں فتنہ و فساد اللہ جل شانہ ہمیں حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین اگر اشتر اپنے اس مذموم منصوبے میں کامیاب ہو جاتا تو آج ابن ملجم کی جگہ وہ شخص لعن طعن کھا رہا ہوتا ۔ لیکن یہ بھیس بدل کر اپنا مفاد اٹھاتے رہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تو ان کو عداوت تھی ہی حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ان کی محبت کا اندازہ اس ایک حوالے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ محبین حیدر کرار کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت کا اندازہ اب ہو گا ۔
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عَنْ زِرٍّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسْمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِيْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَّ لَا يُبْغِضَنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔
ترجمہ : حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح کتاب الإيمان باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان ، 1 / 86، الحديث رقم : 78،ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924،چشتی،والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064،چشتی،وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325)
عَنْ عَلِيٍّ : قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ۔ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِيْنَ دَعَالَهُمُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا کہ مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور کوئی منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح ابواب المناقب باب مناقب علي بن أبي طالب جلد 5 صفحہ 643 الحديث رقم : 3736،چشتی)
مالک اشتر کی حقیقت حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فراست کی روشنی میں : ⏬
تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ روافض نے ہمیشہ ان شخصیات کو غیر معمولی تقدس عطا کرنے کی کوشش کی جن کا کردار امتِ مسلمہ کے اندر فتنہ و انتشار سے وابستہ رہا ، جبکہ اس کے برعکس اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و فضیلت کو مشتبہ بنانے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی عبداللہ بن سبا جیسے یہودی منافق کو اسلام کی تاریخ کا مؤثر کردار بنا کر پیش کیا جاتا ہے کبھی مختار ثقفی جیسے کذاب کی مدح سرائی کی جاتی ہے کبھی ابو لؤلؤ فیروز جیسے قاتلِ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہیرو بنا دیا جاتا ہے ، اور اسی سلسلے کی ایک کڑی مالک اشتر بھی ہے ، جسے غیر معمولی بہادری اور تقدس کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ تاریخی حقائق اس امر پر شاہد ہیں کہ مالک اشتر ان فتنہ پرداز عناصر میں شامل تھا جن کے اقدامات نے امتِ مسلمہ کو شدید آزمائشوں میں مبتلا کیا اس کا نام حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف برپا ہونے والے فتنے اور بعد کے خونریز واقعات کے پس منظر میں بھی مذکور ملتا ہے ، جن کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان جان سے گئے اور امت کا شیرازہ منتشر ہوا ۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی فراست اور حق شناسی کی وجہ سے خصوصی مقام عطا فرمایا ، مالک اشتر کے بارے میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار فرمایا جب ابھی اس کے فتنے پوری طرح ظاہر بھی نہیں ہوئے تھے ۔ امام ابو بکر ابن خلال رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ نَبَّأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ مَعَاشِرَ مَذْحِجٍ فَقَالَ أَمِنْكُمْ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: مَا لَهُ؟ قَاتَلَهُ اللَّهُ، كَفَى اللَّهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ شَرَّهُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ أَنَّ لِلنَّاسِ مِنْهُ يَوْمًا عَصِيبًا ۔
ترجمہ : عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم قبیلہ مذحج کے چند افراد کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ میں ان کے قریب بیٹھا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار اشتر کی طرف دیکھتے اور پھر نظر پھیر لیتے ۔ پھر فرمایا : کیا یہ شخص تم ہی میں سے ہے ؟ ۔ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، اے امیر المؤمنین ! آپ نے فرمایا : اسے کیا ہوا ! اللہ اسے ہلاک کرے ۔ اللہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔ اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ایک دن لوگوں کو اس کی وجہ سے نہایت سخت اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ (السنۃ ابن خلال جلد 3 صفحہ 516 ، 517 رقم : 836،چشتی)
عبداللہ بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : دخلنا على عمر معاشر وفد مذحج وكنت من أقربهم منه مجلسا فجعل عمر نظر إلى الأشتر ويصرف بصره فقال لي أمنكم هذا قلت نعم يا أمير المؤمنين قال ما له قاتله الله كفى الله أمة محمد شره والله أني لأحسب أن للمسلمين منه يوما عصيبا ۔
ترجمہ : ہم قبیلیہ مذحج کے کچھ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میں عمر رضی اللہ عنہ کے سب سے قریب بیٹھ گیا تو عمر رضی اللہ عنہ مالک اشتر کو دیکھنے لگے اور پھر اس سے نظر ہٹانے لگے اور فرمایا : کیا یہ شخص تمہارے ساتھ آیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں اے امیر المؤمین ! تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے کیا پرابلم ہے اللہ اسے ہلاک کرے ، اللہ امت محمدیہ کےلیے اس کے شر کے بالمقابل کافی ہو جائے ، اللہ کی قسم مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کی وجہ سے کسی دن بہت بڑا سانحہ دیکھنا پڑے گا ۔ (العلل ومعرفة الرجال لأحمد جلد 1 صفحہ 315 وإسناده حسن)
یہ روایت حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی بصیرت اور فراست کی روشن دلیل ہے ۔ آپ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ، جس کا فتنہ اس وقت پوری طرح ظاہر نہیں ہوا تھا ، امت کو پہلے ہی متنبہ فرما دیا کہ اس کا انجام امت کےلیے نہایت سنگین ہوگا بعد کے تاریخی واقعات نے ثابت کر دیا کہ مالک اشتر واقعی ان فتنہ انگیز عناصر میں شامل رہا جن کے سبب امت شدید داخلی انتشار کا شکار ہوئی ۔
الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے : وذكره ابن سعد في الطّبقة الأولى من التّابعين بالكوفة، فقال: وكان ممن ألّب على عثمان، وشهد حصره ۔
ترجمہ : اور ابن سعد نے اس کا ذکر کوفہ کے پہلے طبقۂ تابعین میں کیا ہے ، اور کہا : وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو ابھارا ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے محاصرے میں بھی شریک رہا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة مالك بن الحارث جلد 6 صفحہ 212 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت،چشتی)(تارخ مدینہ دمشق جلد 56 صفحہ 312 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)
سیر اعلام النبلاء میں ہے : وكان شهما ، مطاعا ، زعرا ألب على عثمان ، وقاتله ۔
ترجمہ : وہ بہادر ، اثر و رسوخ رکھنے والا ، اور برے اخلاق والا شخص تھا اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے جنگ بھی کی ۔ (سیر اعلام النبلاء الاشتر مالک بن حارث نخعی جلد 4 صفحہ 34 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)
ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا گستاخ مالک بن اشتر نخعی : ⏬
ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے ”مالک اشتر کوفی“ کو ”کلب“ (کتا) کہا ہے : عن كنانة قال : كنت أقود بصفية بنت حيي لترد عن عثمان رضي الله عنه ، فلقيها الأشتر فضرب وجه بغلتها حتى مالت، فقالت : ردوني لَا يَفْضَحُنِي هذا الكلب قال : فوضعت خشبا بين منزلها وبين منزل عثمان ، ينقل عليه الطعام والشراب ۔
ترجمہ : ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے غلام کنانہ کہتے ہیں کہ : میں ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کی سواری لے کر نکلا تاکہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا پہنچا سکیں تو مالک بن الاشتر سامنے آگیا اور اس نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی سواری کے منہ پر ایسی ضرب لگائی کہ آپ گرتے گرتے بچیں پھر ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے واپس لے چلو کہیں یہ کتا (مالک اشتر) مجھے رسوا نہ کر دے ، کنانہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے بیچ لکڑی رکھی اور اس کے ذریعہ کھانا پانی بھیجا جانے لگا ۔ (مسند ابن الجعد صفحہ 390 وإسناده حسن)(تاريخ المدينة لابن شبة جلد 4 صفحہ 1311،چشتی)(تاريخ دمشق جلد 39 صفحہ 415)(التاريخ الكبير للبخاري مطبوعہ العثمانية جلد 7 صفحہ 237)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بدعا اشتر پر سلامتی نہ ہو وہ میرا بیٹا نہیں ہے : ⏬
اذْهَبْ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ وَقُلْ : يُقْرِئُكَ ابْنُكَ مَالِكٌ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : خُذِي هَذَا الْجَمَلَ فَتَبَلَّغِي عَلَيْهِ مَكَانَ جَمَلِكِ ، فَقَالَتْ: لَا سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِابْنِي ،قَالَ: وَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَهُ ۔
اشتر نے کہا : اسے (اونٹ کو) عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ اور کہو : تمہارا بیٹا مالک تمہیں سلام کہتا ہے اور کہتا ہے کہ : یہ اونٹ لے لو اور اس پر سوار ہو کر اپنے اونٹ کی جگہ سفر کرو ۔ راوی کہتے ہیں : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ اس پر سلامتی نازل نہ کرے ، وہ میرا بیٹا نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 474 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)
قتل عثمان رضی اللہ عنہ کی بنا پر اشتر کےلیے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ کی بد دعا : ⏬
طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ کہتے ہیں : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ قَالَتْ : قُتِلَ وَاللَّهِ مَظْلُومًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَتَهُ ، أَقَادَ اللَّهُ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ بِهِ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى أَعْيُنِ بَنِي تَمِيمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ ، وَأَهْرَاقَ اللَّهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلاَلَةٍ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى الأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ ، فَوَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلاَّ أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا ۔
ترجمہ : اے اُم المؤمنین ! امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو کس وجہ سے قتل کیا گیا ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : واللہ ! وہ مظلوم قتل کیے گئے ۔ اللہ ان کے قاتلوں پر لعنت کرے ۔ اللہ ابن ابی بکر (محمد بن ابی بکر) سے ان کا بدلہ لے ۔ اللہ بنو تمیم کے لوگوں کی آنکھوں میں ان کے گھر میں ذلت ڈال دے ۔ اللہ بنو بدیل کے خون کو گمراہی پر بہائے ۔ اور اللہ اشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیج دے ۔ پھر فرمایا : واللہ ! ان لوگوں میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جسے ان کی (عائشہ کی) بددعا نہ پہنچی ہو ۔ (المعجم الكبير للطبراني جلد 1 صفحہ 88 رقم : 133 وإسناده صحيح،چشتی)
حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ کہ مالک اشتر کو قتل کردیا جائے : ⏬
ثُمَّ قَالَ : الْمِذْحَجِيَّةُ تَوَقَّوْا فَارْكَبُوا ، فَرَكِبَ ، قَالَ : وَمَا أَرَاهُ يُرِيدُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَهَمَّ عَلِيٌّ أَنْ يَبْعَثَ خَيْلًا تُقَاتِلُهُ ۔
ترجمہ : پھر اشتر نے کہا : اے مدحجیو ! تیار ہو جاؤ ، سوار ہو جاؤ ۔ وہ سوار ہو گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس دن معاویہ کے سوا کسی کا ارادہ رکھتا تھا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے پیچھے سوار بھیجیں جو اس سے قتال کریں ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 476 ، 477 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ مالک اشتر سے بغض کرتے تھے اور اسے ٹھکانے لگانے کی ترکیب : ⏬
اباوعمر محمد بن یوسف کندی (المتوفی 353) نے کہا : حدثني علي بن الحسن بن قديد ، قال : حدثنا هارون بن سعيد بن الهيثم ، قال : حدثني خالد بن نزار ، عن سفيان بن عيينة ، عن مجالد ، عن الشعبي ، عن عبد الله بن جعفر ، قال : فقلت له : أسألك بحق جعفر ألا بعثت الأشتر إلى مصر ، فإن ظفرت فهو الذي تحب وإلا استرحت منه ۔ قال سفيان : وكان قد ثقل عليه وأبغضه وقلاه ۔ قال : فولاه وبعثه وبعث معه طيرين لي من العرب ، فلما قدم قلزم مصر لقي بها بما يلقى به العمال هنالك، فشرب شربة عسل ، فمات ، فلما قدم طيراي أخبرني ۔ فدخلت على علي ، فأخبرته ، فقال : لليدين وللفم ۔
عبد الله بن جعفر بن أبى طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں چاہتا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ میری کوئی بات نہ ٹالیں ، تو میں کہتا تھا : آپ (میرے والد) جعفر کی خاطر یہ بات مان لیں ! چنانچہ میں نے ان سے کہا : جعفر کی خاطر آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ اشتر کو مصر کیوں نہیں بھیج دیتے ؟ اگر وہ کامیاب ہو گیا تو وہی ہوگا جو آپ پسند کرتے ہیں ، اور اگر کامیاب نہ ہوا تو آپ اس سے راحت پا جائیں گے ۔ سفیان کہتے ہیں : علی رضی اللہ عنہ اشتر سے تنگ آ چکے تھے ، اس سے بغض کرتے تھے اور اس سے بے رغبتی رکھتے تھے ۔ (عبداللہ بن جعفر) کہتے ہیں : پھر علی رضی اللہ عنہ نے اسے مصر کا گورنر مقرر کر کے روانہ کر دیا ، اور اس کے ساتھ عرب کے دو جاسوسوں کو بھی بھیجا جو میرے لیے خبر لانے والے تھے ۔ جب اشتر مصر کے علاقے قلزم پہنچا تو وہاں اس کا وہی استقبال کیا گیا جو اس زمانے میں حکام کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اس نے شہد کا ایک گھونٹ پیا اور اسی سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ پھر جب میرے وہ دونوں جاسوس واپس آئے تو انہوں نے مجھے یہ خبر دی ۔ تب میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ اطلاع دی ۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ چاروں شانے چت ہوا اور منہ کی کھائی ۔ (كتاب الولاة صفحہ 21 ، و رجاله ثقات)
حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد مهنى بن يحيى کہتے ہیں : سألت أحمد عن مالك الأشتر ، يروى عنه الحديث ؟ قال : لا ۔
ترجمہ : میں نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مالک الاشتر کے بارے میں پوچھا کہ اس سے حدیث روایت کی جا سکتی ہے توفرمایا : نہیں ۔ (السنة لأبي بكر بن الخلال جلد 3 صفحہ 517 قال المحقق : إسناده صحيح و هوكذلك) ۔
اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔























No comments:
Post a Comment