Thursday, 23 July 2026

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے کا مدلل جواب

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے کا مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام : جناب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب لکھتے ہیں : یہ امر مسلمہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے ۔ (خصائص مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفحہ 84 مطبوعہ منہاج القرآن پبلیکیشنز لاہور)


جبکہ قرآن مجید میں ہے کہ : وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْؕ ۔ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ ۔ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۔ (سورہ ابراھیم آیت نمبر 4)

ترجمہ : اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے پھراللہ گمراہ کرتا ہےجسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے اور وہی عزت حکمت والا ہے ۔


جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت عالمگیر ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوقات کی طرف رسول ہیں حتی کہ جمادات و نباتات تک کی بولیاں جانتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پچھلی کتابوں کی زبان نہ جانتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا ہر قوم پر یہ احسان ہے کہ اس نے ان میں وہ رسول بھیجے جو ان کی زبان بولتا تھا تاکہ افادہ اور استفادہ میں اور افہام اور تفہیم میں آسانی ہو اور قوم آسانی کے ساتھ رسول کی بات سمجھ سکے اور اس کے لیے شریعت کے اسرار اور حقائق کو سمجھنا آسان اور سہل ہو جائے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عربی زبان تھی اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کا پیغام صرف ان ہی لوگوں کےلیے حجت ہو جن کی زبان عربی ہو اور دوسری زبانیں بولتے ہیں ان کےلیے آپ کا پیغام حجت نہ ہو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ان کی زبانوں میں قرآن مجید اور احادیث اور آثار کا ترجمہ کر کے ان تک پہنچادیا گیا تو آپ کا پیغام ان پر بھی حجت ہو گیا ۔ رہا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک تمام انسانوں کےلیے رسول ہیں اس پر کیا دلیل ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (سورہ اعراف آیت نمبر ١٥٨) ، آپ کہیے اے لوگو ! بیشک میں تم تمام کی طرف اللہ کا رسول ہوں ۔


بلکہ آپ صرف انسانوں کے نہیں بلکہ تمام جنات اور انسانوں کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الإنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ۔ (سورہ اسراء  آیت نمبر 88) ، آپ کہیے اگر (تمام جن اور انس اس قرآن کی مثل لانے پر جمتمع ہوجائیں تو وہ اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے خو اس وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو جائیں ۔


اس قرآن کی مثال لانے کا جنات کو بھی چلینج کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے مکاف ہیں بلکہ آپ جن اور انسان کے علاوہ تمام جمعادات، نباتات، اور تمام حیوانات کے غرض پوری کائنات کےلیے رسول ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ۔ (سورہ الفرقان آیت نمبر ١) ، وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے (مقدس) بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں والوں کے لیے ڈرانے والے ہوں ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے عموم پر احادیث بھی دلالت کرتی ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بنان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ، ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی ہے ، تمام روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور آلہ طہارت بنادیا گیا پس میری امت میں سے جو شخص بھی (جہاں) نماز کا وقت پائے وہ نماز پڑھ لے ، اور میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کےلیے حلال نہیں کیا گیا تھا اور (پہلے) ہر نبی صرف اپنی قوم کو طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 335،چشتی)(صحیح مسلم رقم الحدیث :521)(سنن النسائی رقم الحدیث : 736 ، 432)


علامہ ابو لحسن علی بن خلف بابن بطال اندلسی متوفی 449 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ جس طرح آپ کو دیکھنا اور آپ کا کلام سننا لوگوں پر حجت تھا ، اسی طرح بعد کے لوگوں پر آپ کی احادیث حجت ہیں ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ قرآن مجید ہے اور وہ ان احادیث کی تائید اور موافقت کرتا ہے اور آپ کا معجزہ یعنی قرآن مجید قیامت تک باقی رہے گا اور وہ تغیر و تبدل محفوظ رہے گا اور چونکہ آپ کی عوت قیامت کے لوگوں کےلیے باقی رہے گی اور قیامت تک آپ کی دعوت کا ماننا ان پر واجب رہے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خصوصیت عطاء فرمائی کہ آپ کا معجزہ یعنی قرآان کریم قیامت کے باقی رہے گا ۔ (شرح صحیح البخاری جلد 1 صفحہ 470 مطبوعہ مکتبہ الرشید الریاض،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ عزوجل نے بے شمُار کمالات سے نوازا ہے ۔ ان کمالات میں سے ایک دیگر مخلوقات اور خطوں کی زَبانوں کا جاننا بھی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب جانتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کریم نے تمام زَبانوں کا علم عطا فرمایا تھا جیسا کہ امام احمد بن محمد صاوی مالکی علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اَنَّ اللّٰهَ عَلَّمَهٗ جَمِيْعَ اللُّغَاتِ ، فَكَانَ يُخَاطِبُ كُلَّ قَوْمٍ بِلُغَتِهِم ، یعنی اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام زبانیں سکھا دی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قوم سے اُسی کی زبان میں کلام فرمایا کرتے تھے ۔ (حاشیۃ الصاوی سورہ ابراہیم تحت الایۃ 4 جلد 3 صفحہ 260) ۔ شارح بخاری امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس بات کو کچھ لفظی اختلاف کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ (مواہب الدنیہ جلد 2 صفحہ 19 ، 20 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(مواہب الدنیہ مترجم اردو جلد 2 صفحہ 35 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


جب کبھی کوئی ایسا اجنبی آتا جس کی زبان کوئی نہ سمجھ سکتا  تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صرف اس کی بات سمجھتے بلکہ اسی زبان میں جواب بھی ارشاد فرماتے ۔ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عجمی زبان میں جواب : ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسجدِ حرام میں ایک عجمی وفد  پہنچا ۔ ان میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں جانتا تھا ۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنی زَبان میں کہا : من ابون اسیران  یعنی تم میں اللہ کے رسول کون ہیں ؟ حاضرین میں سے کوئی بھی ان کی بات نہ سمجھ سکا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اَشْکَدّ اور “ یعنی یہاں میرے پاس آگے آجاؤ ، وہ قریب آگئے اور گفتگو کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں ان کی زَبان میں جواب دیتے رہے ، آخِرکار انہوں نے اسلام قبول کیا ، آپ سے بیعت کی اور پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے ۔ (نسیم الریاض جلد 2 صفحہ 134 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)


حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قدرتی طور پر تمام زبانیں جانتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانوروں ، پتّھروں ، کنکروں کی بولیاں سمجھتے ہیں تو انسانوں کی بولی کیوں نہ سمجھیں گے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 242 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کے تحت فرماتے ہیں : ہر نبی علیہ السلام اپنی قوم کی زبان سے واقف بھیجیے گۓ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری مخلوق اور فرشتے علیہم السلام آپ کی امت ہیں ۔ اونٹ ، ہرنی ، جانور اور چرند پرند سب بولی میں فریاد کرتے ۔ یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب کی زبانیں سمجھنے کا ثبوت ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 45 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور)


وہ سمجھتے ہیں بولیاں سب کی ، وہی بھرتے ہیں جھولیاں سب کی

آؤ بازارِ مصطفےٰ کو چلیں ، کھوٹے سکے وہیں پہ چلتے ہیں


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صِرْف عَرَب و عَجم کی بولیاں جانتے تھے بلکہ بےزبانوں کی  زبان بھی سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت یَعْلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار سفر میں کسی  جگہ سو رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیا اور  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کرلیا ، پھر واپس اپنی جگہ چلا گیا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور میں نے اس بات کا ذِکْر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد  فرمایا: اس درخت نے اپنے رب سے اِجازت طَلَب کی تھی کہ وہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (یعنی مجھے) سلام کرے ۔ اللہ کریم نے اسے اجازت  عطا فرمائی ۔ (مشکاۃ المصابیح جلد 2 صفحہ 393 حدیث نمبر 5922)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کے تحت فرماتے ہیں : درخت کی یہ حاضِری صرف سایہ کرنے کےلیے نہ تھی بلکہ مجھے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) سلام کرنے کےلیے تھی اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانور درخت بھی سلام کرتے ہیں دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے میں بھی سلام کرنے والوں کے سلام سُنتے انہیں جواب دیتے ہیں آج بھی بعدِ وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا سلام کرتی ہے ۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی مخلوق کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام کرنے بھیجتا ہے ۔ دیکھو درخت اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر سلام کرنے آیا تھا ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 207 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)


اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم ، جانور بھی کریں جن کی تعظیم

سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم، پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں

(حدائق بخشش صفحہ 112)


حضرت  یَعْلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے کہ ہمارا گُزر ایک  ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا جس پر پانی دیا جا رہا تھا۔ (یعنی اس وقت کھیت والے اس پر کھیت کو پانی دے رہے تھے) اُونٹ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھکادی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا : اس اُونٹ کا مالِک کہاں ہے ؟  مالِک حاضِر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ اُونٹ بیچتے ہو ؟ اس نے عرض کی : نہیں ، بلکہ یہ آپ کےلیے تحفہ ہے ۔ مزید عرض کی کہ یہ ایسے گھرانے کا ہے کہ جن کے پاس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس اونٹ نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چاراکم ڈالتے ہو ۔ اس کے ساتھ اچّھا سُلُوک کرو ۔ (مشکاۃ المصابیح جلد 2 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 393 حدیث نمبر 5922)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانوروں کی بولی بھی سمجھتے ہیں ۔ حضرتِ سلیمان علیہ السلام صِرْف چڑیوں چیونٹیوں (یعنی مخصوص جانوروں) کی بولی سمجھتے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شجر و حجر خشک و تر ساری مخلوق کی بولی جانتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ حضور حاجت روا مشکل کشا  ہیں ۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے جانور بھی مانتے ہیں جو انسان مسلمان ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاجت روا ، مشکل کشا نہ مانے وہ جانوروں سے بدتر ہے۔ تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری میں جانور بھی فریادی ہوتے تھے ۔


ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ، ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد

اسی در پر شترانِ ناشاد ، گلۂ رنج و عَنا کرتے ہیں

(حدائق بخشش صفحہ 113)


لہٰذا اپنا ہر دکھ درد حضور سے کہو فریاد کرو ۔ (مراۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 207 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور)


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ آپ قضائے حاجت کےلیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو بچے تھے ، ہم نے انہیں پکڑ لیا ، چڑیا آئی اور پھڑپھڑانے لگی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تودریافت فرمایا : کس نے اس کے بچّوں کے معاملے میں اسے تکلیف پہنچائی ہے ؟ اس کے بچّے اسے لوٹا دو ۔ (سنن ابوداؤد جلد 3 صفحہ 75 حدیث نمبر 2675،چشتی)


حضرت زید بن اَرْقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اَعْرابی کے خیمے کے پاس سے گزرا تو وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نَظَر پڑتے ہی ہرنی نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خیمے والا اَعرابی (دیہاتی) مجھے جنگل سے پکڑ کر لایا ہے ، جبکہ میرے دو بچّے جنگل میں ہیں ، میرے تھنوں میں دودھ گاڑھا ہورہا ہے یہ نہ تو مجھے ذَبَحْ کرتا ہے کہ میں اِس تکلیف سے راحت پاجاؤں اور نہ مجھے چھوڑتا ہے کہ اپنے بچّوں کو دودھ پلا آؤں ۔ ہرنی کی فریاد سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  : اگر میں تجھے چھوڑدوں تو کیا تُو اپنے بچّوں کو دودھ پلا کر واپس آجائے گی ؟ عرض کی : جی ہاں ! یَا رَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ضَرور واپس آؤں گی ، اگر میں نہ آؤں تو اللہ پاک مجھے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والے کا سا عذاب دے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے چھوڑا تو وہ بڑی تیزی وبے قراری سے جنگل کی طرف چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد واپس آگئی ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے خیمے کے ساتھ باندھ دیا ۔ اتنے میں وہ اَعرابی بھی پانی کا مشکیزہ اٹھائے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ہرنی ہمیں بیچ دو ! عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بطورِ ہدیہ پیشِ خدمت ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے آزاد فرما دیا ۔ حضرت زید بن اَرْقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ پاک کی قسم! میں نے اس ہرنی کو دیکھا کہ وہ جنگل میں کلمہ پڑھتی ہوئی جارہی تھی ۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 6 صفحہ 35)


شان رحمت جوش پر آئی چھڑایا قید سے

بے کلی کے ساتھ جب ہرنی پُکاری یارسول

(قبالہ بخشش صفحہ 90)


حضرت  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلۂ بنی سُلَیْم کا ایک اعرابی نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضِر ہوا اور کہنے لگا : میں اس وَقْت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک میری یہ گوہ آپ پر ایمان نہ لائے ۔ یہ کہہ کر اس نے گوہ کو آپ کے سامنے ڈال دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوہ کو پکارا تو اس نے ”لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ“ اتنی بُلند آواز سے کہا کہ تمام حاضِرین نے سُن لیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پو چھا : تیرا معبود کون ہے ؟ گوہ نے جواب دیا : میرا معبود وہ ہے کہ جس کا عرش آسمان میں ہے اور اسی کی بادشاہی زمین میں ہے ، اس کی رَحْمت جنّت میں ہے اور اس کا عذاب جہنّم میں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : اے گوہ ! یہ بتا کہ میں کون ہوں ؟ گوہ نے بُلند آواز سے کہا : اَنْتَ رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ ، آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَکَ ، جس نے آپ کی تصدیق کی وہ کامیاب ہو گیا وَقَدْ خَابَ مَنْ کَذَّبَکَ اور جس نے آپ کو جُھٹلایا وہ نامراد ہو گیا ۔ یہ مَنْظر دیکھ کر اعرابی (دیہاتی) اس قدر متأثر ہو ا کہ فوراً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جس وقت آپ کے پاس آیا تھا تو میری نظر میں روئے زمین پر آپ سے زیادہ ناپسند کوئی آدمی نہیں تھا لیکن اس وقت میرا یہ حال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نزدیک میری جان اور میرے والدین سے بھی زیادہ پیارے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خُدا کےلیے حمد ہے جس نے تجھ کو ایسے دین کی ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہو گا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کی تعلیم دی ۔ اعرابی قراٰن کی ان دو سورتوں کو سن کر کہنے لگا کہ میں نے بڑے بڑے فصیح و بلیغ ، طویل و مختصر ہر قسم کے کلاموں کو سنا ہے مگر خُدا کی قسم ! میں نے آج تک اس سے بڑھ کر اور اس سے بہتر کلام کبھی نہیں سنا ۔ (معجم اوسط جلد 4 صفحہ 283 حدیث نمبر 5996،چشتی)


امام مسلم متوفی ٢٦١ ھ کی روایت میں اس سے زیادہ عموم ہے : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے انبیاء (سابقین) چھ وجوہ سے فضیلت عطا کی گئی ہے مجھے جو امعالکلم عطا کیے گئے، میری رعب سے مدد کی گئی، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں، اور میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور آلہ طہارت بنادیا گیا اور مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور تمام نبیوں کو مجھ پر ختم کیا گیا ۔ (صحیح مسلم المسا جد : 5، (523) 1147، سنن للبیہق الترمذی رقم الحدیث :1553، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 567، مسند ابوعوانہ ج 1 ص 395 ۔ ، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2313، سنن کبری للبیہق ج 2 ص 433، ج 9 ص 5 دلائل النبوت ج 5 ص 472، شرح السنہ رقم الحدیث : 3617)


حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا، ہم مکہ کی طرف بعض اطراف میں گئے، آپ کے سامنے جو پہاڑ یا درخت آتا وہ کہتا تھا : السلام علیک یارسول اللہ ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3626، سنن الدارمی الحدیث :21،چشتی،دلائل النبوت للبیہق ج 2 ص 154، 153، شرح السنہ رقم الحدیث :3510) 


امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے بعض گھروں والوں کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ پانی (کی مشکیں لاد کر) لاتے تھے، ان کا وہ اونٹ سرکش ہوگیا اور اس نے اپنے اوپر پانی لاد نے نہیں دیا وہ انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا جس پر پانی لاد کر لاتے تھے اب وہ سرکش ہوگیا ہے اور اب وہ ہم کو اپنی پشت پر پانی لادنے نہیں دیتا اور ہمارے کھیت اور ہمارے باغ سوکھے پڑے ہیں، وسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا چلو، آپ کے اصحاب اٹھے اور آپ باغ میں داخل ہوئے جس کے ایک گوشے میں وہ اونٹ کھڑا ہو اتھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف جانے لگے، انصار نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ اونٹ اب کاٹنے والے پاگل کتے کی طرح ہوگیا ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ پر حملہ کردے گا ؟ آپ نے فرمایا مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے جب وہ اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو وہ آپ کی طرف آیا اور آپ کے سامنے آکر سجدہ میں گرگیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیشانی سے پکڑا تو وہ پہلے سے بہت زیادہ متواضع اور مطیع تھا، حتی کہ آپ نے اس کو کام میں لگا دیا، آپ کے اصحاب نے آپ سے کہا یہ بےعقل جانور آپ کو سجدہ کرتا ہے تو ہم عقل والے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں، آپ نے فرمایا کسی بشر کےلیے دوسرے بشر کو سجدہ کرنا جا ئز نہیں ہے اور اگر کسی بشر کےلیے دوسرے بشر کو سجدہ کرنا جا ئز ہوتا تو عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ خاوند کا اپنی پر عظیم حق ہے ۔ (مسند احمد ج 3 ص 158، 159 مقدیم، مسند احمد رقم الحدیث :12641، عالم الکتب بیروت، مسند احمد رقم الحدیث :12551 دارالحدیث قہر ہ، حمزہ احمد زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، حافظ الہیثمی نے بھی کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ج 9 ص 4، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث :287، مسند البزار رقم الحدیث :2454،چشتی،حافظ منذری نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : اس حدیث کو امام نسائی نے اس کو مختصر روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ سے مختصر روایت کر کیا ہے۔ الترغیب والتر ج 3 ص 55 مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، الترغیب والتر ہیب ج 2 ص 675 ۔ 674، رقم الحدیث 2893، مطبوعہ دارابن کثیر بیروت، صحیح ابن حبان رقمالحدیث :4162، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :9147)


حافظ سلیمان بن احمد طبرانی متوفی 360 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگو آئے اور انہوں نے کہا ہمارہ اونٹ غضب ہوگیا ہے اور وہ باغ میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس اونٹ کے پاس گئے اور فرمایا آؤ، وہ آپ کے پاس سر جکھائے ہوئے آیا حتی کہ آپ نے اس کے نکیل ڈال دی اور وہ اونت اس کے مالکوں کے حوالے کر دیا ۔ حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ! گویا کہ اس کو علم تھا کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مابین لابتیھا احد الا یعلم انی الا کفرت الجن والانس۔ مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان جو کوئی بھی ہے وہ یہ جانتا ہے کہ میں نبی ہوں سوا کافر جنوں اور انسانوں کے ۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :12744 حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں اور بعض میں کچھ ضعف ہے۔ مجمع الزوائد ج 9 ص 4، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث : 279، دلا ئل النبوت للبیہقج 6 ص 30، مسند احمد ج 3 ص 310، قدیم،چشتی،مسند احمد رقم الحدیث :14385، عالم الکتب، مسند احمد رقم الحدیث :14269، دارالحدیث قاہرہ، حمزہ احمد نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مصنف ابن شیبہ ج 11 ص 473، ، سنن دارمی رقم الحدیث :1 مسند عبدبن حمید : رقم الحدیث : 11323، الخصائص الکبری ج 2 ص 94)


نیز امام طبرانی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : عبداللہ بن یعلی بن مرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تین چیزیں دیکھیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھیں، میں آپ کے ساتھ مکہ کے راستے میں جارہا تھا، آپ ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کا بیٹا بہت سخت جنون میں مبتلا تھا، اس عورت نے کہا یا رسول اللہ آپ دیکھ رہے ہیں میرے بیٹے کا کیا حال ہے آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اس کے لیے دعا کر دوں، آپ اس کے لیے دعا کی بھر آپ چلے گئے پھر آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جو اپنی گردن بڑبڑا رہا تھا آپ نے فرمایا اس اونٹ کے مالک کو بلاو جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا یہ اونٹ کہہ رہا ہے میں ان کے ہاں پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کام لینا شروع کردیا حتی کہ اب میں بو ڑھا ہوگیا تو یہ لوگ مجھ ذبح کرنا چاہتے ہیں، پھر آپ آگئے تو آپ نے دو الگ الگ درختوں کو دیکھا، آپ نے فرمایا جاو ان دونوں درختوں سے کہو وہ مل کر متصل ہوجائیں، جب وہ درخت مل گئے تو آپ نے ان کی اوٹ میں حاجت قضا کی اور فرمایا جاؤ ان سے کہو اب یہ الگ الگ ہوجائیں پھر آپ آگئے، جب واپس آئے تو اس بچہ کے پاس سے گزرے وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کی ماں کے پاس چھ مینڈھے تھے اس نے دو مینڈھے آپ کو ہدیہ کیے، اور کہنے لگی اس پر دوبارہ بالکل جنون طاری نہیں ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مامن شئی یعلم انی رسول اللہ کفر اوفسقہ الجن والا نسی ہر چیز جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں کافر یا فاسق جنوں و انسان کے ۔ (المعجم الکبیر ج 22 ص 262 ۔ 261، رقم الحدیث : 672، دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 23 مصنف ابن شیبہ ج 11 ص 493، امام حاکم اور ذہبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، المستدرک ج 2 ص 618 ۔ 617 دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث مسند رقم الحدیث : 17489، دارالحدیث قاہرہ، حمزہ زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، البدایہ والنہایہ ج 4 ص 172)


نوٹ : المعجم الکبیر ، دلائل النبوت میں اور البدایہ والنہایہ میں یہ حدیث مکمل ہے اور باقی کتابوں میں اس کے مختلف اجزاء ہیں ۔


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے ساتھ ایک باغ میں داخل ہوئے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور ایک انصاری تھا، اس باغ میں بکریاں تھیں انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، حضرت ابوبکر نے کہا یا رسو اللہ ! ان بکریوں کی بہ نسبت آپ کو سجدہ کرنے کے ہم زیادہ حقدار ہیں، آپ نے فرمایا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے کو سجدہ کرے اور اگر کسی کے لیے یہ جا ئز ہوتا کہ وہ دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۔ (البدایہ ولنہایہ ج 4 ص 537، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ)


حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ سے گزرے تو وہاں ایک خیمہ میں ہرنی بندھی ہوئی تھی، اس کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے کھول دیجئے تاکہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلاؤں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھول دیا وہ تھوڑی دیر بعد واپس آگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پھر باندھ دیا، جب وہ خیمہ والے آئے تو آپ نے ان سے اس ہرنی کو مانگ لیا اور اس کو کھول کر آزاد کردیا ۔ (دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 34، مطبوعہ دارالکتب العلمی بیروت)


حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بنو سلیم سے ایک اعرابی آیا وہ ایک گوہ کو شکار کر کے لایا تھا جو اس کی آستین میں تھی تاکہ اس کو اپنے گھر لے جائے اور پکاکر کھائے۔ اب اس نے ایک جماعت کو دیکھا تو پو چھا یہ کون لوگ ہیں ؟ اس کو بتایا کہ یہ نبی ہیں وہ لوگوں کو چیرتا ہوا آیا اور کہنے لگا لات اور عزی کی قسم ! میرے نزدیک آپ سے زیادہ مبغوض اور کوئی نہیں ہے، اور اگر میری قوم مجھے جلدی باز نہ کہتی تو میں اب تک آپ کو قتل کرچکا ہوتا اور ہر کالے گورے کو آپ کے قتل سے خوش کرچکا ہوتا، حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اٹھ کر اس کو قتل کر دوں ! آپ نے فرمایا : اے عمر ! کیا تم نہیں جانتے کہ بردبار شخص کو نبی بنایا جاتا ہے، پھر آپ اس اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہارے اس قول کا کیا مطلب ہے اور تم نے یہ ناحق بات کیوں کہی ہے ؟ تم نے میری مجلس میں میری تعظیم کی اور تم اللہ کے رسول سے تو ہیں آمیز کلام کرتے ہو ! اس نے کہا لات اور عزی کی قسم ! می‏ اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا حتی کہ یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے یہ کہہ کر اس نے اپنی آستین سے گوہ نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پھینک دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے گوہ ! گوہ نے فصیح عربی میں کہا جس کو تمام حاضرین سن رہے تھے : لبیک وسعد یک ! آپ نے اے گوہ ! تم کس کی عبادت کرتی ہو ! اس نے کہا جس کا آسمان میں عرش ہے اور زمین میں اس کی سلطنت ہے، سمندر میں اس کا راستہ ہے جنت میں اس کی رحمت ہے، دوزخ میں اس کا عذاب ہے، آپ نے فرمایا اور میں کون ہوں اے گوہ ! اس نے کہا آپ رب العالمین کے رسول ہیں، خاتم النبین ہیں، جس نے آپ کی تصد یق کی وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے آپ تکذیب کی وہ ناکام ہوگیا، اس اعرابی نے کہا اب آنکھوں سے دیکھنے کے بعد میں کسی سنی سنائی بات پر یقین نہیں کروں گا، جس وقت میں آپ کے پاس آیا تھا اس وقت میرے نزدیک روئے زمین پر آپ سے زیادہ کوئی مبغوض کوئی نہیں تھا۔ اور اب میرے نزدیک روئے پر آپ میرے والد، میری آنکھوں اور میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور میں آپ سے اپنے اندر اور باہر اور اپنے ظاہر اور باطن سے محبت کرتا ہوں اور اور میں گوہی دیتا ہوں کہ اللہ سے زیادہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لیے حمد ہے جس نے میری وجہ سے تم کو ہدایت دی، یہ دین غالب ہے۔ یہ دین مغلوب نہیں ہوگا۔ اور بےنماز کے بغیر یہ دین مقبول نہیں ہے اور نماز قرآن کے بغیر مقبول نہیں ہے، اس نے کہا آپ مجھے تعلیم دیں پھر آپ نے اس کو تعلیم دی ، الحدیث ۔ (دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 38 ۔ 36، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث :275 المعجم الصغیر رقم الحدیث : 948 المعجم الاوسط رقم الحدیث : 5993 ، حافظ الہثیمی نے کہا ہے کہ امام طبرانی نے اس حدیث کو معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے شیخ محمد بن علی بن الولید البصری سے روایت کیا ہے، امام بہیقی نے کہا اس حدیث کا بو جھ اسی پر ہے اور اس کے باقی راوی صحیح ہیں۔ مجمع الزوائد ج 8 ص 294، حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ حدیث حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ سے مر ویہ ہے اور ہم نے جس سند کا ذکر کیا وہ زیادہ بہتر ہے اور وہ بھی ضعیف ہے اور اس کا بو جھ اسلی پر ہے۔ البدایہ ج 4 ص 546، حافظ جلالدین سیوطی نے لکھا ہے : یہ حدیث میں بھی اسانید سے مروی ہے ، حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ سے، اور ابن وحیہ اور حافظ ذیبی کا یہ زعم ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے میں کہتا ہوں کہ حضرت عمر کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جن میں محمد بن علی بن الولید نہیں ہے جس کو امام ابو نعیم نے روایت کیا ہے اور امام ابن عساکر نے اس حدیث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ الخصائص ج 2 ص 108)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف زبانوں کے بولنے والے کلام کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی زبانوں کو جانتے تھے ، فرشتے اور جنات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلام کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی زبانوں کو سمجھتے تھے ، جانوروں کی بولیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان گفتگو فرماتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری کا ئنات کے رسول ہیں اور پوری کا ئنات بشمول تورت و زبور کی زبانوں کو جانتے ہیں ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔










No comments:

Post a Comment

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے کا مدلل جواب

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے کا مدلل جواب محترم قارئینِ کرام : جناب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب لکھتے ہیں ...