Monday, 25 April 2022

فضائلِ شبِ قدر

فضائلِ شبِ قدر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کام : رمضان المبارک کا آخری عشرہ نہایت عظیم الشان اور اہم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لیلۃ القدر کی فضیلت کے بیان میںپوری سورت نازل فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے : إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِِo وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِِo لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍٍo تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍٍo سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ (سورۃ القدر، 97 : 1. 5)

ترجمہ : بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہےo اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہےo اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیںo یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے ۔


لیلۃ القدر کی فضیلت میں کتبِ حدیث بہت سی روایات مذکور ہیں۔ ذیل میں چند ایک احادیث کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ يْمَانًا وَّاحْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ۔

ترجمہ : جو شخص لیلۃ القدر میں حالتِ ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے، اُس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2 : 709، رقم : 1910)


مندرجہ بالا ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر اور طاعت و عبادت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو، دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو پھر یہ کہ آئندہ برائی نہ کرنے کا عہد کرے۔ اس شان سے عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مژدۂ مغفرت بن کر آتی ہے۔ لیکن وہ شخص محروم رہ جاتا ہے جو اس رات کو پائے مگر عبادت نہ کرسکے۔


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ماہ جو تم پر آیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ ساری خیر سے محروم رہا۔ اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل شهر رمضان، 2 : 309، رقم : 1644،چشتی)


ایسے شخص کی محرومی میں واقعتا کیا شک ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزار لیتا ہے تو اَسّی (80) سال کی عبادت سے افضل بابرکت رات کے لئے جاگنا کوئی زیادہ مشکل کام تو نہیں ۔


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہر اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو ۔ (بيهقی، شعب الإيمان، 3 : 343، رقم : 3717،چشتی)


حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان ایام میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کو یوں بیان کرتی ہیں : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، إذا دخل العشرُ ، أحيا الليلَ وأيقظ أهلَه وجدَّ وشدَّ المِئزَرَ .( صحيح البخاري: 2024 صحيح مسلم: 1174)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمضان کے آخری عشرہ میں داخل ہوتے تو عبادت وریاضت کے لیے اپنی کمر مضبوط کرلیتے، شب بیداری کرتے اور اپنے گھروالوں کو کو بیدار کیا کرتے تھے ۔


آخر کیوں ؟ اس لیے کہ اسی عشرے کے طاق راتوں کی ایک رات شب قدر ہوتی ہے جس کی عبادت وریاضت ہزار مہینے یعنی 83 سال چار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ اسی رات میں قرآن کریم کا نزول ہوا، اس رات میں فرشتے اور روح الأمین نازل ہوتے ہیں۔ اور اس رات میں پورے سال واقع ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

یہ رات فضائل کی ہے برکات کی شب ہے ، یہ رات فرشتوں کی ملاقات کی شب ہے ، یہ رات ریاضت کی مناجات کی شب ہے ، یہ رات فقط لطف و عنایات کی شب ہے ، اس رات کے لمحے میں تقدیس ہے شامل ، یہ رات اگر مل جائے تو ہے زیست کا حاصل ۔


اب سوال یہ ہے کہ اس رات کو شب قدر یا لیلتہ القدر کیوں کہتے ہیں؟ تو اس کی بابت مفسرین کرام کے درمیان اختلاف ہے کیوں کہ عربی زبان میں قدر کے بہت سارے معانی ہوتے ہیں۔


کچھ لوگوں نے کہا کہ قدر کا معانی تعظیم کے ہیں اس لیے اس رات کو شب قدر کہتے ہیں، ارشاد باری تعالی ہے : مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ (سورہ الحج 74) ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے بعض لوگوں نے کہا: قدر کا معنی اندازہ وفیصلہ کرنے کے ہیں،اور چوں کہ اس رات سال بھر کے واقعات کے فیصلے کیے جاتے ہیں،اس لیے اس رات کو شب قدرکہتے ہیں۔


اللہ تعالی کا ارشاد ہے: فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ( سورہ الدخان 4) یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہوتا ہے۔


کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قدر کے معنی تنگی کے ہیں اور چوں کہ اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اُترتے ہیں کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ ( سورہ طلاق 7) اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو۔


جبکہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہےکہ قدر کے معنی قدرو منزلت کے ہیں، چونکہ اس رات میں جو عبدت کی جاتی ہے اللہ تعالی کے ہاں اس کی بڑی قدر ہے،اس پر بڑا ثواب ہے اس لیے اس کو شب قدر کہتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔


اللہ تعالی نے اس رات کی اہمیت پر مشتمل ایک پوری سورہ نازل کردی ہے جسے ہم سورۃ القدر کے نام سے جانتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿٥﴾

ترجمہ : ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے (1) اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے(3) فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں (4) وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔


اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے، إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿٣﴾ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (سورہ الدخان 2-4) کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے (3) یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہوتا ہے ۔


اس رات کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : ومَن قامَ ليلةَ القدرِ إيمانًا واحتِسابًا غُفِرَ لَهُ ما تقدَّمَ من ذنبِهِ (صحیح البخاری: 2014 صحیح مسلم: 760،چشتی)


یعنی جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ تعالی سے اجروثواب کی نیت سے عبادت میں مشغول رہا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو گئے ۔


بڑا بد قسمت ہے وہ شخص جو اس رات کے فیضان سے محروم رہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا : إنَّ هذا الشَّهرَ قد حضركموفيه ليلةٌ خيرٌ من ألفِ شهرٍ من حُرِمها فقد حُرم الخيرَ كلَّه ولا يُحرمُ خيرَها إلَّا محرومٌ (صحيح ابن ماجه: 1341)

یعنی تمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آیا ہے جس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو شخص اس رات سے محروم ہوگیا وہ سارے خیر سے محروم ہوگیا اور اس کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہو ۔


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاشیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : أن رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال:تَحَرَّوْا ليلة القدرِ في الوِتْرِ، منالعشرِ الأواخرِ من رمضانَ ) صحيح البخاری: 2017،چشتی)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔


گویا کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے، البتہ اس رات کی تعین کے تعلق سے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ نے فتح الباری میں اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ علیہ نے نیل الأوطار میں چالیس سے زائد اقوال نقل کیا ہے، ویسے اس سلسلے میں ٹھوس بات یہ کہی جا سکتی ہےکہ اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ اور رحمت کاملہ سے اس رات کو آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ امت مسلمہ کے افراد اس کی تلاش و جستجو میں لگے رہیں ۔


شیخ محمد بن العثیمین لکھتے ہیں : شب قدر تمام سالوں میں کسی خاص رات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ منتقل ہوتی رہتی ہے، مثال کے طور پر کسی سال ستائس کی رات میں ہوتی ہے تو کبھی کسی دوسرے سال میں پچیسویں رات کو ہوتی ہے ۔


اس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ کسی رات کی تخصیص کیے بغیر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش وجستجو کا اہتمام کیا جائے تاکہ کثرت سے انعامات خداوندی کے مستحق بن سکیں، اور اخفاء وپوشیدگی کا مقصد بھی پورا ہو جائے ۔


البتہ بعض احادیث میں مبارکہ میں شب قدر کی کچھ علامتیں بیان کی گئی ہیں جن کو دیکھ کر ہم شب قدر کی پہچان کر سکتے ہیں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے : أن تطلعَ الشمسُ في صبيحةِ يومِها بيضاءَ لا شُعاعَ لها ۔ (صحيح مسلم: 762)

یعنی شب قدر کے بعد کی صبح جب سورج طلوع ہوگا وہ سفید ہوگا اور اس میں روشنی نہیں ہوگی ۔


اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ليلةُ القدْرِ ليلةٌ سمِحَةٌ ، طَلِقَةٌ ، لا حارَّةٌ ولا بارِدَةٌ ، تُصبِحُ الشمسُ صبيحتَها ضَعيفةً حمْراءَ ۔ (صحيح الجامع: 5475)

یعنی اس کی رات صاف پر سکون سردی وگرمی سے خالی ہوتی ہے، اور اس کی صبح سورج دھیمی روشنی والا سرخ رنگ کا نکلتا ہے ۔


بہر کیف ان عظیم راتوں میں بکثرت نماز، تلاوت قرآن، ذکرو فکر اور توبہ واستغفار کا اہتمام کرنا چاہئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی اس دعا کا کثرت سے ورد کرنا چاہئے، کیوں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول جب ہم اس رات کو پائیں تو کیا پڑھیں ؟ تو آپ نے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی تھی : اللَّهمَّ إنَّكَ عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعفُ عنِّي ۔

ترجمہ : اے میرے اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ہے تو عفو درگزر کو پسند کرتا ہے اس لیے مجھے معاف فرمادے ۔ (سنن الترمذي: 3513،چشتی)


لیکن ہائے افسوس : جب ہم اس تعلق سے مسلمان کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے، کہ اکثر لوگ اس رات کی اہمیت سے باکل بے خبر ہیں، عام راتوں کی طرف ان راتوں کو بھی گزار دیتے ہیں، طرفہ تماشہ یہ کہ کچھ لوگ ان مبارک راتوں میں اللہ کی نافرمانی اور کفر وعصیان کے کاموں میں لگے رہتے ہیں ۔


کچھ لوگ ان راتوں میں جاگتے بھی ہیں تو ان کا جاگنا بطور فنکشن ہوتا ہے، مساجد میں روشنی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے لیکن دل کا چراغ بجھا ہوتا ہے، لوگوں کا ہجوم، گرم گرم چائے، مٹھائیوں کا دور، لاؤڈ اسپیکر پر قرآن خوانی اور نعتیہ کلام کے پروگرام ضرور ہوتے ہیں لیکن دل لذت آشنائی سے خالی ہوتا ہے ۔


ضرورت ہے کہ ہم شب قدر کی عظمت ورفعت کو دل کی گہرائی سے جانیں، اس رات کی عبادت ہزار مہینے یعنی 83 سال چار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے، اس اہم نکتے کو اپنے ذہن ودماغ میں بٹھائیں اور آج ہی سے کمرکس لیں کہ عشرہ اواخراوربالخصوص اس کی طاق راتوں 21/23/25/ 27/ 29 میں سستی و کسلمندی کو بالکل قریب نہ ہونے دیں گے، اس تعلق سے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ ہم سب اس کی توفیق بخشے ۔


ان ایام سے فائدہ اٹھانے اور اپنے اندر جمعیت باطنی پیدا کرنے کا سب سے آسان طریقہ اعتکاف ہے کیوں کہ اس میں انسان اپنی دنیاوی مشغولیات سے الگ ہوکر صرف اللہ تعالی کی رضا جوئی اور اس کے تقرب کے حصول میں لگ جاتا ہے ، یہی وہ بنیادی مقصد تھا جس کی خاطر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عشرہ اواخر میں ہرسال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے اور انتقال کے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔


اس سے پہلے شب قدر ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم آپسی عداوت وچبقلش، بغض و حسد، جھگڑا لڑائی اور نزاع سے بالکل دوری اختیار کرلیں، کیوں کہ یہ چیزیں خیرو بھلائی کے روکنے کا باعث ہیں ۔


صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں : خرج النبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يُخبرنا بليلةِ القدرِ، فتلاحَى رجلانِ من المسلمينَ، فقال : ( خرجت لأخبركم بليلةِ القدرِ، فتلاحَى فُلانٌ وفُلانٌ فرفعت (صحيح البخاری: 2023،چشتی)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تاکہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں اس بیچ دو آدمی باہم جھگڑنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نکلا تھا تاکہ تمہیں شب قدر کی بابت بتاؤں لیکن فلاں فلاں باہم جھگڑ نے لگے اس لیے اس کی تعیین اُٹھا لی گئی ۔


ذرا غور کریں کہ لعن طعن ، گالم گلوچ اور عداوت و دشمنی کیسا ناسور ہے کہ اس کے باعث شب قدر کی تعیین اٹھا لی گئی اس لیے عشرہ اواخر ہمیں اپنے معاشرتی معاملات کی بھی سدھار کر لینی چاہیے ۔ الغرض شب قدر نہایت عظیم اور مہتم بالشان رات ہے اس میں کی جانے والی دعائیں اللہ تعالی رد نہیں فرماتے ، اس لیے ہم عشرہ اواخر اور اس کی طاق راتوں کو عبادت و ریاضت ، ذکر و فکر ، تلاوت قرآن ، اور شب بیداری سے آباد کریں اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرماۓ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 23 April 2022

علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ اور غلامی

علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ اور غلامی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ عمر بھر غلامی کے خلاف سرگرمِ جہاد رہے ۔ غلامی کی دو اقسام ہیں ۔ ایک جسمانی غلامی اور دوسری ذہنی غلامی۔ان دونوں غلامیوں کی تین وجوہات ہوتی ہیں۔ غربت، جنگ اور جہالت ۔ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور انسان کی سب سے بڑی قوت اس کی ذہنی و فکری آزادی ہے ۔ جب انسان ذہنی طور پر آزاد ہو تو وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے اور جسمانی طور پر غلام لیکن ذہنی طور پر آزاد قوم بہت جلد جسمانی آزادی حاصل کر لیتی ہے۔لیکن ذہنی غلامی میں مبتلا قوم اپنے آپ کو غلام ہی نہیں سمجھتی اس لیے آزادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ ہم نے اپنے اپنے مسالک ، اکابرین،جاگیرداروں اور وڈیرے ہیں ۔ ہمارے ہاں دلائل کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔
ہمدردی کی نسل سے تعلق رکھتی یہ غلامی اْس غلام کی دوہری کمر کی طرح ہے جو پنجرے میں پڑے پڑے ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور پنجرے سے باہر نکلنے پر بھی ہم آہستہ آہستہ سیدھی ہوتی کمر کو پھر سے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم دوہری کمر کے عادی ہو چکے ہیں ۔ (چشتی)

تقسیم برصغیر پاک و ہند میں ہم نے انگریزوں سے جسمانی آزادی تو حاصل کر لی لیکن ذہنی طور پر ہم اب بھی غلام ہیں ۔ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ہمارے رہن سہن ، ہماری سوچ سب انگریزوں اور ہندووں کے غلام ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں متعدد گھرانوں کی بیٹیاں صرف اس وجہ سے شادی کے بندھن میں بندھنے سے گریزاں ہے کہ ان کے ماں باپ اْن کے جہیز کا بندوبست نہیں کر پاتے۔یہ لعنت بھی ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے جبکہ حقیقی معنوں میں جہیز کی لعنت کا ہمارے دین اور ثقافت سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ، لیکن کیا کریں صاحب ہم بھی برصغیر پاک و ہند کی سر زمین پر پروان چڑھے ہیں تو پھر ہندووں کی یہ روایات اپنانا ہماری زندگی کا لازمی جزو بن گیا ہے ۔
ایک دوسرا پہلو اس نوجوان طبقے کا ہے جو اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیتے کہ ہمیں کس کا غلام بننا ہے ، خود کو کتنی قیمت پر بیچنا ہے اور غلامی کا طوق ہمارے گلے میں نہ ڈالا گیا تو پھر اپنی ڈگری ، تعلیمی اداروں اور حکومت کو کیسے لعن طعن کرنا ہے یا غلامی نے ہمیں نہ قبول کیا تو ہم موت کو قبول کر لیں گے ۔ (چشتی)

ہماری عوام ، ہمارے حکمران سب ہی انگلش کو اپنی زبان سمجھتے ہیں اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی اردو میں بات کرے تو اُسے جاہل سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہم تو ذہنی غلام ہیں ۔ ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کرنا ابھی تک انسانیت کا خواب ہے ۔ حکومتوں نے اپنی پالیسوں کے ذریعے ، بزنس مین نے کاروباری پالیسی کے ذریعے ، ذرائع ابلاغ نے ٹی وی ریڈیو اخبارات رسائل اور دیگر ذرائع ابلاغ بشمول انٹرنیٹ کے ذریعے ذہنی غلامی کو نہ نسبت کم کرنے کے اور زیادہ کیا ۔ انسان کی سوچ ، طرز عمل اور انداز کو توڑ مروڑ کر اپنا مطیع کیا گیا ہے ۔ایک آزاد انسان جس کی سوچ بھی آزاد ہونی چاہیے مگر اس کی سوچ کو مختلف طریقوں ، زاویوں اور حربوں سے قید کیا گیا ۔ آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے ۔ آزاد سوچ انسان کا پیدائشی حق ہے ۔ آزادی کو سمجھیں اور آزادی کی قدر کریں ۔ اپنے معاشرے کو محکومیت سے نجات دلانے کے لیے ہمت کریں ۔ جہاں آزادی کو چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی ، خطرے میں دیکھیں تو انسانیت کی خاطر آزادی اور اس کے متوالوں کا بلا جھجک دفاع کریں ۔ ہمیں احساس کمتری کو ترک کرکے اپنا محاسبہ کرنا ہو گا ۔ (چشتی)

دوسروں کی بجائے اپنی برائیوں کو دور کر کے زندگی کے داخلی اور خارجی انتشار میں راستے خود تلاش کرنا ہونگے ، ہر دلکش اور رجحان بن جانے والی چیز کو اپنی راہ نجات سمجھنے کی بجائے اْس کی حقیقی قدروقیمت معلوم کرنا ہوگی ۔ ہمیں اپنی افضل ترین امت ہونے اور زرخرید غلام ہونے میں فرق معلوم ہونا چاہیے ۔ ہم میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ جب ہمارے حقوق کی پامالی کی جائے تو اس کے خلاف احتجاجاََ کھڑے ہو سکیں ۔

اشرف المخلوقات کی حیثیت سے علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ انسان کی عظمت اسی میں پاتے ہیں کہ خدا کے سوا وہ کسی کے سامنے سر نہ جھکائے اور نہ کسی ذہنی و عملی غلامی میں مبتلا ہو ۔ چنانچہ ’’پیامِ مشرق‘‘ میں غلامی کے عنوان سے ایک نظم میں علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ غلامی کو قبول کرنے والے اور آزادی جیسی نعمتِ عظمیٰ کو مطلق العنان حکمرانوں کے قدموں میں ڈال دینے والے بے بصر انسانوں کو کتوں سے بھی بدتر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کسی کتے کو کتے کے آگے سر جھکاتے ہوئے نہیں دیکھا : ⬇

آدم از بے بصری بند گئی آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذرِ قباد و جم کرد
یعنی از خوئے غلامی زِسگان خوار تر است
من ندیدم کہ سگے پیشِ سگے سر خم کرد

اور ’’ارمغان حجاز‘‘ میں اس لعنت کو موت سے بد تر گردانتے ہیں ۔ ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کے حوالے سے کہتے ہیں : ⬇

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام
شرعِ ملوکانہ میں جدّتِ احکام دیکھ
صور کا غوغا حلال، حشر کی لذّت حرام
اے کے غلامی سے ہے روح تیری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام

علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ غلاموں کی نظر اور بصیرت کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہیں : ⬇

غلامی کیا ہے ؟ ذوقِ حسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حر کی آنکھ ہے بینا

علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ کے نزدیک غلام بے ضمیر ہوتا ہے ۔ وہ دور آزادی میںجس چیز کو غیرت و حمیت کے صریحاً منافی سمجھتا ہے غلامی کے زیر اثر اسی کو دل و جان سے قبول کر لیتا ہے : ⬇

جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز
دیکھتی ہے حلقہ گردن میں سازِ دلبری
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

’’زبور عجم‘‘ میں ’’دَر بیانِ فنونِ لطیفۂ غلاماں‘‘ کے عنوان سے ایک نظم ہے ۔ اس میں غلاموں کی موسیقی ، مصوری اور تصورِ مذہب پر اپنے مخصوص پر سوز ، مگر بے لاگ انداز میں اظہارِ خیال فرمایا ہے ۔ موسیقی کا پوسٹ مارٹم یوں کرتے ہیں : ⬇

مرگ ہا اندر فنون بندگی
من چہ گویم از فسونِ بندگی
نغمہ او خالی از نارِ حیات
ہمچو سیل افتد بدبوارِ حیات
از نئے او آشکارا رازِ او
مرگِ یک شہر است اندر سازِ او
الخدر ایں نغمۂ موت است و بس
نیستی در کسوتِ صوت است و بس

میں تمھیں کیا بتائوں کہ غلامی کا جادو کیا ہے اس کے فنون میں بھی موت کے سوا کچھ نہیں ۔ اس کا نغمہ زندگی کی حرارت سے خالی ہے اور اس کا سیلاب زندگی کی دیوار کو ڈھا دیتا ہے ۔ اس کا ساز آبادیوں کو موت کی نیند سلا دیتا ہے ۔ اس لیے غلام کے نغمہ موت سے دور رہ اور اپنے آپ کو تباہ ہونے سے بچا لے ۔ (چشتی)

غلاموں کی مصوری پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں : ⬇

در غلامی تن زِ جاں گرد تہی
از تنِ بے جاں چہ امیدِ بہی
ذوق ایجاد و نمو از دل رود
آدمی از خویشتن غافل رود
جبرئیلے را اگر سازی غلام
بر فتد از گنبدِ آئینہ فام
کیشِ او تقلید و کارش آزری ست
ندرت اندر مذہبِ او کافری ست

یعنی ’’غلامی میں جسم روح سے خالی ہو جاتے ہیں ، اور جسمِ بے روح سے کیا امید کی جا سکتی ہے ؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے حتیٰ کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے ۔ جبرائیل اگر (خدا کے سوا کسی اور کی) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے ۔ ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے ۔ اور اس کے نزدیک ہر نئی بات کفر ہوتی ہے ۔ (چشتی)

علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ حالتِ غلامی میں مذہب اور عبادت و ریاضت کو تضیعِ اوقات سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک غلامی میں مذہب اور عشق میں دوری ہو جاتی ہے ۔ عشق زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوتا، قول و فعل میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے ۔ غلام دین اور عقل تک کا سودا کر لیتا ہے اور وہ جسمانی آسائش کی خاطر روح کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے اگر چہ غلام خدا کا نام لیتا ہے، مگر دراصل وہ اقتدار کا پجاری ہوتاہے ۔ ا س کے مذہبی عقائد بہت محدود ہوتے ہیں اور اس کا ذہن اندھیروں کی آماجگاہ بنا رہتا ہے۔ زندگی اس کے لیے مصیبت اور موت ہمہ وقت اس کے جلو میں رہتی ہے ۔ اشعار ملاحظہ ہوں : ⬇

در غلامی عشق و مذہب را فراق
انگبینِ زندگانی بد مذاق
در غلامی عشق جز گفتار نیست
کارِ ما گفتارِ ما را یار نیست
دین و دانش را غلام ارزاں دہد
تابدن را زندہ دارد جاں دہد
گرچہ بر لب ہائے اور نام خداست
قبلہ او طاقتِ فرمانروا ست
مذہبِ او تنگ چوں آفاقِ او
از عشا تاریک تر اشراقِ او
زندگی بارِ گراں بردوشِ او
مرگِ او پروردہ آغوشِ او

آگے چل کر غلامی کی چند در چند برائیوں کی جانب مزید اشارہ کرتے ہیں : ⬇

از غلامے ذوقِ دیدارے مجوے
از غلامے جانِ بیدار مجوے
دیدۂ او محنت دیدن نبرد
در جہاں خورد و گراں خوابیدہ و مرد
تا غلام از خویش گردد نا امید
آرزو از سینہ گردد ناپدید

’’پس چہ باید کرد‘‘ میں تو اس ضمن میں ان کا لہجہ بہت ہی تلخ ہو جاتا ہے۔ غلامی کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

از غلامے لذتِ ایمان مجو
گرچہ باشد حافظِ قرآن مجو
مومن است و پیشۂ او آزری ست
دین و عرفانش سراپا کافری ست

یعنی ’’اگر ایک غلام حافظِ قرآن بھی ہو تو اس سے لذتِ ایمان کی توقع نہ کرو ۔ وہ کہنے کو تو مسلمان ہے ، مگر دراصل وہ بت گر ہے اور اس کا دین اور عقل سراپا کفر ہے ۔

علاّمہ اقبال علیہ الرحمہ تادمِ رحلت غلامی کے خلاف جد جہد میں مصروف رہے اور یہ جنگ دراصل بالواسطہ طور پر سامراجی طاقت کے خلاف تھی ۔ صاف ترغیب تھی کہ استعمار کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، غلامی کی زنجیریں کاٹ دو اور ظالم افرنگیوں کا تختہ الٹ دو چنانچہ ایک مکتوب میں بھی غلامی کی یوں مذمت کرتے ہیں : ⬇

غلام قوم مادیات کو روحانیات پر مقدم سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور جب انسان میں خوئے غلامی راسخ ہو جاتی ہے تو وہ ہر ایسی تعلیم سے بیزاری کے بہانے تلاش کرتا ہے جس کا مقصد قوتِ نفس اور روحِ انسانی کا ترفع ہو ۔

سید نیازی مرحوم ’’اقبال کے حضور‘‘ میں ان کا یہ مقولہ نقل کرتے ہیں : غلامی بہت بڑی لعنت ہے۔ غلامی زبان سے وہ کچھ بھی کہلوا دیتی ہے جو انسان نہیں کہنا چاہتا۔ دانستہ بھی اور نا دانستہ بھی ۔ (مغرب پر اقبال کی تنقید‘‘۔ انتخاب: ڈاکٹر عبدالغنی فاروق) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Friday, 22 April 2022

فتح مکہ تاریخ و اسباب (دوم)

فتح مکہ تاریخ و اسباب (دوم)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فتح مکہ کی پیش گوئی : ہجرت کے وقت انتہائی رنجیدگی کے عالم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے یارِ غار صدیق جاں نثار رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں مکہ سے ہجرت فرما کر اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا تھا اور مکہ سے نکلتے وقت اللہ عزوجل کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے کہ : اے مکہ! خدا کی قسم ! تو میری نگاہِ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے ۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا ۔ ”اس وقت کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ مکہ کو اس بے سروسامانی کے عالم میں خیرباد کہنے والا صرف آٹھ ہی برس بعد ایک فاتح اعظم کی شان و شوکت کے ساتھ اسی شہر مکہ میں نزولِ اجلال فرمائے گا اور کعبۃ اللہ میں داخل ہو کر اپنے سجدوں کے جمال و جلال سے خدا کے مقدس گھر کی عظمت کو سرفراز فرمائے گا ۔ لیکن ہوا یہ کہ اہل مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑ ڈالا ۔ اور صلح نامہ سے غداری کر کے ”عہد شکنی” کے مرتکب ہو گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حلیف بنو خزاعہ کو مکہ والوں نے بے د ردی کے ساتھ قتل کردیا ۔ بے چارے بنو خزاعہ اس ظالمانہ حملے کی تاب نہ لا کر حرم کعبہ میں پناہ لینے کےلیے بھاگے تو ان درندہ صفت انسانوں نے حرم الٰہی کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیا اور حرم کعبہ میں بھی ظالمانہ طور پر بنو خزاعہ کا خون بہایا ۔ اس حملہ میں بنو خزاعہ کے تئیس آدمی قتل ہو گئے ۔ اس طرح اہل مکہ نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑ ڈالا ۔ اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی ۔

چنانچہ ۱۰ رمضان   ۸ھ ؁کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے دس ہزار لشکر پرانوار ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ مدینہ سے چلتے وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام صحابہ کرام روزہ دار تھے لیکن جب آپ مقام ”کدید” میں پہنچے تو پانی مانگا اور اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے پورے لشکر کو دکھا کر آپ نے پانی نوش فرمایا اور سب کو روزہ چھوڑ دینے کا حکم فرمایا ۔ چنانچہ آپ اور آپ کے اصحاب نے سفر اور جہاد میں ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا موقوف کردیا ۔ (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان، رقم ۴۲۷۶، جلد ۵ صفحہ ۱۴۶،چشتی)

غرض فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ بانی کعبہ کے جانشین حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سرزمین مکہ میں نزول اجلال فرمایا اور حکم دیا کہ میرا جھنڈا مقام ”حجون” (جنۃ المعلیٰ) کے پاس گاڑا جائے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے نام فرمان جاری کردیا کہ وہ فوجوں کے ساتھ مکہ کے بالائی حصہ یعنی ”کدا” کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں ۔ (بخاری شریف،کتاب المغازی،باب این رکزالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔الخ ، رقم۴۲۸۰،ج۵،ص ۱۴۷)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ کی سرزمین میں قدم رکھتے ہی جو پہلا فرمان شاہی جاری فرمایا وہ یہ اعلان تھا کہ جس کے لفظ لفظ میں رحمتوں کے دریا موجیں ماررہے ہیں : جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اُس کےلیے امان ہے ۔ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا اُس کےلیے امان ہے جو کعبہ میں داخل ہوجائے گا اس کےلیے امان ہے ۔
اس موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابو سفیان ایک فخر پسند آدمی ہے اس کےلیے کوئی ایسی امتیازی بات فرما دیجیے کہ اس کا سر فخر سے اونچا ہوجائے تو آپ نے فرمایا کہ ”جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کےلیے امان ہے ۔” حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹنی ”قصواء”پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے ۔ اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر ”مغفر”تھا ۔ آپ ۔ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کوکبہ نبوی تھا ۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سر جھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ لگ جاتا تھا۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع خداوندِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہ ِ عظمت میں اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کےلیے تھی ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹنی ”قصواء” پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے ۔ اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر ”مغفر” تھا ۔ آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کوکبہ نبوی تھا ۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سر جھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ لگ جاتا تھا ۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہِ عظمت میں اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی ۔ (زرقانی جلد ۲ صفحہ ۳۲۰۔ ۳۲۱،چشتی)

بیت اللہ میں داخلہ : پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اور حضرت اُسامہ بن زید کو اونٹنی کے پیچھے بٹھا کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کعبہ کے کلید بردار بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے مسجد حرام میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور کعبہ کا طواف کیا اور حجر ِ اسود کو بوسہ دیا ۔ (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب دخول النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم من اعلیٰ مکۃ، رقم ۴۲۸۹ جلد ۵ صفحہ ۱۴۸۔۱۴۹،چشتی)

کعبہ کے اندرونِ حصار تین سو ساٹھ بتوں کی قطار تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود بہ نفس نفیس ایک چھڑی لے کر کھڑے ہوئے اور ان بتوں کو چھڑی کی نوک سے ٹھونکے مار مار کر گراتے جاتے تھے ۔ اور ”جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ” کی آیت تلاوت فرماتے تھے ۔ یعنی حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی ۔ (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب این رکز النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الرایۃ یوم الفتح رقم الحدیث ۴۲۸۷ جلد ۵ صفحہ ۱۴۸،چشتی)

پھر ان بتوں کو جو عین کعبہ کے اندر تھے آپ نے ان سب کو نکالنے کا حکم فرمایا ۔ جب تمام بتوں سے کعبہ پاک ہو گیا تو آپ اپنے ساتھ اُسامہ بن زید اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور تمام گوشوں پر تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز بھی پڑھی ۔ (بخاری جلد ۱ صفحہ ۲۱۸ و بخاری جلد ۲ صفحہ ۶۱۴)

کعبہ مقدسہ کے اندر سے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکلے تو حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر کعبہ کی کنجی ان کے ہاتھ میں عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ خُذُوْھَا خَالِدَۃً تَالِدَۃً لاَّیَنْزَعُھَا مِنْکُمْ اِلاَّ ظَالِمُ ۔ (زرقانی جلد ۲ صفحہ ۲۳۹)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دربارِعام : اس کے بعد حرم الٰہی میں آپ نے سب سے پہلا دربار عام منعقد فرمایا جس میں افواج اسلام کے علاوہ ہزاروں کفار و مشرکین کے عوام و خواص کا ایک زبردست اژدھام تھا ۔ اس دربار میں آپ نے ایک خطبہ دیا اور پھر اہل مکہ کو مخاطب کر کے آپ نے فرمایا کہ بولو، تم کو معلوم ہے کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں ؟ ۔ اس دہشت انگیز اور خوفناک سوال سے تمام مجرمین حواس باختہ ہو کر کانپ اٹھے ، لیکن جبینِ رحمت کے پیغمبرانہ تیور کو دیکھ کر سب یک زبان ہو کر بولے ”اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ” یعنی آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں۔ یہ سن کر فاتح مکہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ : لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطَّلَقَاءُ ۔
آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو ۔ (شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الأعظم جلد ۳ صفحہ ۴۴۹)

بالکل غیر متوقع طو رپر ایک دم اچانک یہ فرمان رحمت سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرطِ ندامت سے اشکبار ہو گئیں ۔ اور کفار کی زبانوں پر لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے نعروں سے حرم کعبہ کے در و دیوار پر بارش انوار ہونے لگی ۔ مجرموں کی نظر میں ناگہاں ایک عجیب انقلاب برپا ہو گیا کہ سماں ہی بدل گیا ۔ فضا ہی پلٹ گئی ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

فتح مکہ تاریخ و اسباب (اوّل)

فتح مکہ تاریخ و اسباب (اوّل)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : فتح مکہ 20 رمضان المبارک سنہ 8 ہجری میں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 8 سال قبل اسی شہر پاک مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے ۔ صرف 8 سال بعد اللہ رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی طاقت اور غلبہ عطاء فرمایا کہ وہی مکہ مکرمہ جہاں سے غریب اور نادار مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے آج محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شان شوکت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔

مکہ مکرمہ کون سی تاریخ میں فتح ہوا ؟ امام بیہقی نے ۱۳ رمضان ، امام مسلم نے ۱۶ رمضان ، امام احمد نے ۱۸ رمضان بتایا ، مگر محمد بن اسحٰق نے اپنے مشائخ کی ایک جماعت سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ۲۰ رمضان ۸ ھ کو مکہ فتح ہوا ۔ (شرح الزرقانی ، باب غزوۃ الفتح الأعظم ،ج۳،ص۳۹۶۔۳۹۷،چشتی)

فتح مکہ کی پیشین گوئیاں اور بشارتیں قرآن کریم کی چند آیتوں میں مذکور ہیں ان میں سے سورہ نصر بھی ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَ الْفَتْحُ ۙ۔ وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ اَفْوَاجًا ۙ ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ اسْتَغْفِرْہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ۔ (پ30،النصر:1۔3)
ترجمہ : جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے ۔

فتح مکہ کے واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر عفو و درگزر اور رحم و کرم کا جو اعلان و اظہار فرمایا تاریخ عالم میں کسی فاتح کی زندگی میں اس کی مثال نہیں مل سکتی ۔ غور فرمائیے کہ اشرافِ قریش کے ان ظالموں اور جفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے جو بارہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پتھر کی بارش کرچکے تھے ، وہ خونخوار بھی تھے جنہوں نے بارہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قاتلانہ حملے کئے تھے، وہ بے رحم و بے درد بھی تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک کو شہید ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کو لہولہان کر ڈالا تھا ۔ وہ اوباش بھی تھے جو برسہا برس تک اپنی بہتان تراشیوں اور شرمناک گالیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک کو زخمی کرچکے تھے ۔ وہ سفاک اور درندہ صفت بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے میں چادر کا پھندا ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گلا گھونٹ چکے تھے ۔ وہ ظلم و ستم کے مجسمے ، اور پاپ کے پتلے بھی تھے ، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو نیزہ مار کر اونٹ سے گرا دیا تھا اور ان کا حمل ساقط ہو گیا تھا ۔ وہ جفاکار و خونخوار بھی تھے جن کے جارحانہ حملوں اور ظالمانہ یلغار سے بار بار مدینہ کے در و دیوار ہل چکے تھے ۔ وہ ستم گار بھی تھے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور اُن کی ناک کان کاٹنے والے ، ان کی آنکھیں پھوڑنے والے ، ان کا جگر چبانے والے بھی اس مجمع میں موجود تھے ۔ وہ بے رحم بھی تھے جنہوں نے شمع نبوت کے جاں نثار پر وانوں حضرت بلال ، حضرت صہیب، حضرت عمار ، حضرت خباب، حضرت خبیب ، حضرت زید بن دشنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو رسیوں سے باندھ باندھ کر کوڑے مار مار کر جلتی ریتوں پر لٹایا تھا، کسی کو آگ کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر سلایا تھا ، کسی کو سولی پر لٹکا کر شہید کردیا تھا ۔ یہ تمام جور و جفا اور ظلم و ستم گاری کے پیکر ، جن کے جسم کے رونگٹے رونگٹے اور بدن کے بال بال ، ظلم و عدوان اور سرکشی و طغیان کے وبال سے شرمناک مظالم اور خوفناک جرموں کے پہاڑ بن چکے تھے ، آج یہ سب کے سب دس بارہ ہزار مہاجرین و انصار کے لشکر کی حراست میں مجرم بنے ہوئے کھڑے کانپ رہے تھے اور اپنے دلوں میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید آج ہماری لاشوں کو کتوں سے نچوا کر ہماری بوٹیاں چیلوں اور کوؤں کو کھلا دی جائیں گی اور انصار و مہاجرین کی غضب ناک فوجیں ہمارے بچے بچے کو خاک و خون میں ملا کر ہماری نسلوں کو نیست و نابود کر ڈالیں گی اور ہماری بستیوں کو تاخت و تاراج کر کے تہس نہس کردیں گی ، مگر ان سب مجرمین کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر معاف فرما دیا کہ انتقام تو کیسا ؟ بدلا تو کہاں کا ؟ آج تم پر کوئی ملامت بھی نہیں۔ اے آسمان بول ! اے زمین بتا ! اے چاند و سورج تم بولو ! کیا تم نے روئے زمین پر ایسا فاتح اور رحم دل شہنشاہ کبھی دیکھا ہے ؟ یا کبھی سنا ہے ؟ سن لو تمہارے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا اور کوئی فاتح نہ ہوا ہے نہ ہوگا ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہر کمال میں بے مثل و بے مثال ہیں ۔

مسلمانو ! یہ ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُسوہ حسنہ اور سیرت مبارکہ ۔ لہٰذا ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوئہ حسنہ اور سیرت مقدسہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے کا جذبہ اپنے دل سے نکال کر اپنے دشمنوں کو درگزر کرنے اور معاف کر دینے کی کوشش کریں ۔ کیونکہ لوگوں کی تقصیرات اور خطاؤں کو معاف کر دینا ، یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی ہے اور یہی امت کےلیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم بھی ہے ۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ ہے : ”صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَاَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَاءَ کَ” ۔ یعنی جو تم سے تعلق کاٹے تم اس سے میل ملاپ رکھو اور جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردیا کرو اور جو تمہارے ساتھ بدسلوکی کرے تم اس کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کرو اور قرآن مجید میں بھی عفوِتقصیر اور دشمنوں سے درگزر کردینے والوں کے بڑے بڑے درجات و مراتب بیان کیے گئے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ : وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ۔ (پ4،اٰل عمران:134)
یعنی لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردینے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہیں اور بڑے درجات والے ہیں ۔

فتح مکہ کے اسباب اور نتائج

ہجرت کے آٹھویں سال رَمَضانُ المبارَک کے مہینے میں آسمان و زمین نے ایک ایسی فتح کا منظر دیکھا کہ جس کی مثال نہیں نہیں ملتی ، اس فتح کا پس منظر و سبب کیا تھا اور نتائج کیا رونما ہوئے اس کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت و اعلانِ نبوت کے ساتھ ہی مکۂ مکرمہ کے وہ لوگ جو آپ کو صادق و امین ، شریف ، محترم ، قابلِ فخر اور عزت و کرامت کے ہر لقب کا اہل جانتے تھے یَک لخت آپ کے مخالف ہوگئے ، انہیں دینِ اسلام کے پیغام پر عمل پیرا ہونے میں اپنی سرداریاں کھوجانے کا ڈر ہوا ، انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اگر آج رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پُکار پرلَبَّیک کہہ دیں تو 14 صدیاں بعد تو کیا قیامت تک صحابیِ رسولِ آخرُالزّماں کے عظیم لقب سے جانے جائیں گے ، ہر کلمہ گو انہیں  رضی اللہُ عنہم  کہہ کر یاد کرے گا ، قراٰن (وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ) ۔ کا مُژدہ سنائے گا ، بہر کیف یہ ان کے نصیب میں ہی نہ تھا ، (جن کے مقدر میں تھا انہوں نے لَبَّیک بھی کہا) اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخالفت کرنے والوں کے ہاتھوں طرح طرح کی اذیتیں اٹھائیں ، لیکن صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا ، جب کفارِ مکہ کا ظلم و ستم ساری حدیں پار کر گیا اور اللہ کریم نے بھی اجازت دے دی تو مسلمان مکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت کر گئے تاکہ آزادی کے ساتھ اپنے ربِّ کریم کی عبادت کریں ۔ لیکن افسوس کہ کفارِ مکہ پھر بھی باز نہ آئے اور مسلمانوں کو مدینۂ منورہ میں بھی اذیت دینے کے درپے رہے ، ان کی انہی کارستانیوں کے سبب غزوۂ بدر ، اُحُد ، خندق اور کئی سرایا کا وقوع ہوا ، وقت گزرتے گزرتے ہجرت کا چھٹا سال آگیا ، مسلمان مکۂ مکرمہ میں بیتُ اللہ شریف کی زیارت کےلیے بے قرار تھے ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 1400 صحابۂ کرام رضی اللہ عنہن کی ہمراہی میں ادائیگی عمرہ کےلیے مکۂ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے ، کفارِ مکہ نے پھر جفا کاری سے کام لیا اور پُراَمْن مسلمانوں کو مکۂ مکرمہ میں داخل ہونے سے منع کردیا ، بالآخر طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جسے صلح حدیبیہ کا نام دیا گیا ۔ ظاہری طور پر اس معاہدہ کی اکثر شرائط مسلمانوں کے حق میں بہت سخت تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کے کاموں میں حکمت ہے اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کے بھیجے ہوئے حکیمِ کائنات ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب شرائط منظور فرمالیں ، ان شرائط میں یہ بھی تھا کہ فریقین دس سال تک جنگ موقوف رکھیں گے ، اس کے ساتھ ساتھ معاہدے میں ایک بات یہ طے پائی کہ عرب کے دیگر قبائل کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ دونوں فریقوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں باہمی امداد کا معاہدہ کر لیں ۔ عرب کے دو قبیلے خزاعہ اور بنوبکر آپس میں دشمن تھے اور ان میں بہت عرصے سے لڑائیاں جاری تھیں ۔ صلح حدیبیہ کے بعد قبیلہ خزاعہ مسلمانوں کا دوست بن گیا اور بنوبکر نامی قبیلے نے قریش کے ساتھ اتحاد کر لیا ۔ اب چونکہ صلح کے معاہدے کی وجہ سے مسلمانوں کی طرف سے حملے کا کوئی امکان نہیں تھا اس لیے بنوبکر کی ایک شاخ بَنُو نُفاثہ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کفارِ قریش کے ساتھ مل کر بنوخزاعہ پر اچانک حملہ کر دیا ۔ (مدارج النبوۃ، 2/281،چشتی)

یہ واضح طور پر صلح حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی تھی جس میں بنوخزاعہ کو کافی جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس واقعے کی خبر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے قریش کی طرف پیغام بھیجا کہ تین شرطوں میں سے کوئی ایک شرط قبول کر لیں : (1) خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا (یعنی ان کے قتل کا بدلہ) دیں (2) بنو نفاثہ کی حمایت سے دست بر دار ہو جائیں (3) اعلان کردیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا ۔ قرطہ بن عمرنے قریش کا نمائندہ بن کر کہا کہ ہمیں صرف تیسری شرط منظور ہے ۔ (شرح الزرقانی علی المواھب،3/384،چشتی)

دس 10رمضان المبارک 8 ہجری کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر مکے کی طرف روانہ ہو گئے ۔ مکہ شریف پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ رحمت بھرا فرمان جاری کیا کہ جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کےلیے امان ہے ، جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا اس کےلیے امان ہے ، جو مسجدِ حرام میں داخل ہو جائے گا اس کےلیے امان ہے ۔ مزید فرمایا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کےلیے بھی امان ہے ۔ (معرفۃ السنن والآثارللبیہقی،13/293، 294، حدیث:18231، 18236،چشتی)

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبۂ مقدّسَہ کو بُتوں سے پاک فرما کر کعبہ شریف کے اندر نفل ادا فرمائے ، اور باہر تشریف لا کر خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد کفارِ قریش سے ارشاد فرمایا : بولو! تم کو کچھ معلوم ہے ؟ کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں ؟
کفار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے بولے : اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ آپ کرم والے بھائی اور کرم والے بھائی کے بیٹے ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت جوش میں آئی اور یوں فرمایا : لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ آج تم پر کوئی الزام نہیں ، جاؤ تم آزاد ہو۔ بالکل غیر متوقع طور پر یہ اعلان سُن کر کفار جوق در جوق دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے ۔ (بخاری، 1/156، حدیث: 397، سبل الھدیٰ والرشاد،5/242)

اس عام معافی کا کفار کے دلوں پر بہت اچھا اثر پڑا اور وہ آ آ کر آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرنے لگے ، فتحِ مکہ کے روز دو ہزار افراد ایمان لائے تھے ۔ (امتاع الاسماع، 8/388،چشتی)

حضرت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ سردارانِ قریش میں سے تھے ۔ پہلے اس خوف سے اپنے گھر میں بند ہو گئے تھے کہ کہیں مجھے قتل نہ کر دیا جائے کیونکہ حالتِ کفر میں انہوں نے اسلام کی بہت زیادہ مخالفت کی تھی ۔ انہوں نے اپنے بیٹے جو مسلمان تھے ، ان کے ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں امان کا پیغام بھیجا تو آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے انہیں امان عطا فرما دی اور اس کے بعد وہ ایمان لے آئے ۔ (المغازی للواقدی، 2/846، 847) 

حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی السرح رضی اللہ عنہ یہ بھی قریش کے سرداروں میں سے تھے ۔ حضرت سیّدُنا عثمان بن عفان  رضی اللہُ عنہ کے رضاعی بھائی تھے ۔ یہ پہلے اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گئے تھے ، اس لیے یہ حکم جاری کیا گیا تھا کہ جہاں ملے قتل کر دیا جائے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کےلیے امان طلب کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امان عطا فرمائی اور بیعتِ اسلام لے لی ، یوں یہ بھی مسلمان ہو گئے اور ایسے زبردست مسلمان ہوئے کہ پھر کوئی ایسی بات ان سے سرزد نہیں ہوئی جو ان کے دین کو داغدار کرے ۔ (المغازی للواقدی، 2/856،چشتی)

حضرت امیر معاویہ اور ان کے والدِ محترم حضرت ابوسفیان رضی اللہُ عنہمما  سمیت کئی اہم شخصیات فتحِ مکہ کے موقع پر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئیں ، جن میں سے چند نام یہ ہیں : حضرت ابو قحافہ ، حضرت حکیم ابن حزام ، حضرت جبیر ابن مُطعِم ، حضرت عبدالرحمٰن ابن سَمُرہ ، حضرت عَتَّاب بن اَسِید ، حضرت عَتَّاب بن سُلَیم اور حضرت عبداللہ بن حکیم  رضی اللہُ عنہم ۔ (اسدالغابۃ، 3/602، سیر اعلام النبلاء، 3/217، 575، 576، 4/233، 267) ۔ (مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 21 April 2022

فضائل و مناقب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حصّہ چہارم

فضائل و مناقب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حصّہ چہارم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا وصال مبارک : پہلے کھلے رافضی اور اب سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی یہ جھوٹ بول کر کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کروایا اس طرح یہ کذّاب لوگ جھوٹ بھی بولتے ہیں اور توہین بھی کرتے ہیں آئیے حقائق کیا ہیں پڑھتے ہیں مستند دلائل کی روشنی میں ۔ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ (شرح الزرقا نی علی المواہب ، المقصدالثانی ، الفصل الثالث،عائشۃ ام المؤمنین جلد ۴ صفحہ ۳۹۲)

ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال کے وقت فرمایا : کاش کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

جب ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں ۔ باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کو بیماری کے باعث اپنے گھر میں ہوئی۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ آپ کا نماز جنازہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز وتر کے بعد پڑھایا تھا ۔ (البداية والنهاية، لابن کثير، ج : 4، جز : 7، ص : 97)

امام بخاري رحمۃ الله علیہ (المتوفى256) صحیح بخاری میں روایت لکھتے ہیں : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ، قَالَتْ: أَخْشَى أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ، فَقِيلَ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ وُجُوهِ المُسْلِمِينَ، قَالَتْ: ائْذَنُوا لَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدِينَكِ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِنِ اتَّقَيْتُ، قَالَ: «فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكِ، وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ» وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلاَفَهُ، فَقَالَتْ: دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَى عَلَيَّ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا ۔ (صحيح البخاري: 6/ 106 رقم 4753،چشتی)
ترجمہ : ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے تھوڑی دیر پہلے، جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھیں، ابن عباس نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں ۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور خود بھی عزت دار ہیں (اس لئے آپ کو اجازت دے دینی چاہئے) اس پر انہوں نے کہا کہ پھر انہیں اندر بلا لو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں خدا کے نزدیک اچھی ہوں تو سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انشاءاللہ آپ اچھی ہی رہیں گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور آپ کی برات (قرآن مجید میں) آسمان سے نازل ہوئی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے ۔ محترمہ نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی، میں تو چاہتی ہوں کہ کاش میں ایک بھولی بسری گمنام ہوتی ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا اوراس کے اوپر سے اسے چھپا کر وہاں پر ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وہاں پہچنچی تو گڈھے میں گرگئی اور ان کی وفات ہوگئیں ۔ اس جھوٹ اور بہتان کے برعکس بخاری کی اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ فطری وفات ہوئی تھی کیونکہ اگر گڑھے میں گر کر وفات ہوگئی ہوتی تو پھر وفات سے قبل لوگوں کی آمدرفت کا سلسلہ نہ ہوتا اسی طرح اجازت وغیرہ کا ذکر بھی نہ ہوتا کیونکہ یہ صورت حال اسی وقت ہوتی ہے جب کسی کی وفات اس کے گھر میں فطری طور پر ہو ۔ نیز بخاری کی یہی حدیث صحیح ابن حبان میں بھی ہے اوراس میں ابن عباس کے لئے عیادت کے الفاظ ہیں ، ملاحظہ ہو : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكَ جَاءَكِ يَعُودُكِ , قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ۔(صحيح ابن حبان: 16/ 41)

عیادت کا لفظ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طریقہ پرہوئی تھی ۔ بلکہ حاکم کی روایت میں ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی پوری صراحت ہے ملاحظہ ہوں الفاظ : جاء ابن عباس يستأذن على عائشة رضي الله عنها في مرضها ۔ (المستدرك على الصحيحين للحاكم: 4/ 9 ، صححہ الحاکم ووافقہ الذھبی،چشتی)

یہ روایات اس بات کی زبردست دلیل ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طور پر ان کے گھر پر ہوئی تھی ۔ آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کا بھی ہے ۔ نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا نے پڑ ھائی اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ (اسد الغابہ،ج:۵/ص:۵۰۴،چشتی)

کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ماتم کیا ؟

ہمارے پیج کے ان باکس میں شیعہ حضرات کی طرف سے کیے گئے اعتراض کے بارے میں ہم سے جواب طلب کیا گیا جس کا ہم مدلل جواب تحریر کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں ۔

شیعہ جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف اپنے مطلب کی بات کرتے ہیں اور پوری بات نہیں کرتے۔ جس طرح حضرت عائشہ کا ماتم ثابت کرنا چاہ رہے ہیں لیکن مکمل روایت نقل نہیں کی اور یہ مکمل روایت ہے اور فیصلہ خود کریں : ⬇

حدثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عباد قال سمعت عاشة تقول مات رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري وفي دولتي لم أظلم فيه أحدا فمن سفهي وحداثة سني أن رسول الله قبض وهو في حجري ثم وضعت رأسه على وسادة وقمت ألتدم مع النسا وأضرب وجهي ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی ۔ (مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 6258 إسناده حسن)

اس میں ماتم کا جواز نہیں ملتا بلکہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرما رہی ہیں کہ “یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی” ۔
یہ وفات کسی عام بندے کی نہیں تھی بلکہ افضل البشر ورحمۃ اللعالمین کی وفات تھی اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے یہ عمل ہو بھی گیا ہے تو اس کو ماتم کرنے کی دلیل نہیں لی جا سکتی ۔
ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو معصوم عن الخطاء نہیں سمجھتے اور شیعہ جنہیں امام معصوم سمجھتے ہیں ان سے بھی کافی غلطیاں ہوئیں تھی.جیساکہ شیعہ کتاب “ملاذ الاخیار / ج10/ صفحہ 126 پر لکھا ہے علی ع نے غلطی سے آدمی کو چوری کے الزام میں ہاتھ کٹوا دیئے لیکن اصل چور کوئی اور تھا۔
اگر حضرت عائشہ سے ایک بارماتم ثابت ہے اور جس میں وہ خود اپنی غلطی کا ازھار بھی کر رہی ہے تو کیا اسے جس طرح شیعہ ماتم کرتے ہیں اس کی دلیل لی جا سکتی ہے؟ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے ہر سال ماتم کیا ؟
اگر شیعہ سمجھتے ہیں کی ماتم کرنا محبت کی نشانی ہے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک پر حضرت علی، فاطمہ، حسن وحسین رضی اللہ عنھم اجمعین نے ماتم کیوں نہ کیا ؟ کیوں سینہ نہیں پیٹا ؟ کیوں تلوار سے ماتم نہیں کیا ؟ کیوں قمی زنی نہیں کی؟ کیا ان حضرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں تھی؟
کیا شیعہ حضرات نبی ص کی وفات پر ہر سال ماتم کرتے ہیں ؟ کیونکہ ماتم تو شیعہ کے نزدیک عبادت ہے ، اور بعض کے نزدیک تو اصل نماز ہی ماتم ہے ۔
ہم شیعہ حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ عزوجل سے ڈریں اور جب بھی بات کریں تو مکمل کیا کریں صرف اپنے مطلب کی بات کاٹ کر لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔

اللہ عزوجل نے ہمیں اشرف المخلوقات میں سے پیدا کیا اگر وہ چاہتا تو ہمیں جانوروں میں سے بھی پیدا کر سکتا تھا اس وجہ سے اللہ کا شکر ادا کریں اللہ سبحان وتعالی نے ہمیں صحت جیسی نعمت دی، ہمیں دماغ دیا سوچنے کیلئے اس وجہ سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کفر نہ کریں اپنا خون بہا کر ۔

اللہ ہم سب کو حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان صبر کرنے والوں میں سے کردے جنہیں اللہ نے قرآن میں بشارت دی ہے آمین ۔

القرآن۔ سورۃ البقرۃ ۔ آیت 155-156

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے

جنہیں ، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ (مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

فضائل و مناقب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حصّہ سوم

فضائل و مناقب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حصّہ سوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے پہلے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نسبت “جبیر بن مطعم ” کے بیٹے سے ہوئی تھی مگر جبیر نے اپنی ماں کے ایماء پر یہ نسبت اس لئے فسخ کردی کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے اہل مسلمان ہوچکے ہیں ۔ اس کے بعد حضرت خولہ بنت حکیم کی تحریک پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے عقد مبارک مکہ مکر مہ ماہ شوال المکرم  میں ایک روایت کے مطابق ہجرت سے ایک سال قبل بروایت دیگر تین سال قبل 621 عیسوی میں انتہائی سادہ و سادگی سے ہوا ۔ امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خود نکاح پڑھایا, پانچ سو درہم حق مہر مقررہوا ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کے تین سال بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت فرما کر مدینہ شریف تشریف لے گئے ۔ مدینہ منور پہنچ کر سرور کائنات نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن حارثہ , حضرت ابورافع ‘ اور حضرت عبداللہ بن اریقط رضی اللہ عنہم کو اپنے اہل وعیال کولانے کےلیے مکہ مکرمہ بھیجا ۔ واپسی پر حضرت زید بن حارثہ کے ہمراہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا ‘حضرت ام کلثوم ‘ حضرت سودہ بنت زمعہ ‘حضرت ام ایمن اور حضرت اسامہ بن زید تھے ۔ اور حضرت عبداللہ بن اریقط کے  ہمراہ حضرت عبداللہ بن ابوبکر’ حضرت ام رومان’ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہم اجمعین تھیں ۔ (مدارج نبوۃ جلد دوم ‘ازواج مطہرات)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی نگاہ میں آپ کا مقام و مرتبہ اور آپ سے جو محبت تھی وہ نا قابلِ بیان ہے : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جب غزوۂ سلاسِل سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے پوچھا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا *عائشہ*، انہوں نے عرض کی مردوں میں ؟ فرمایا ان کے والد (حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) ۔ {بخاری شریف}

ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن  میں آپ کا درجہ فقہ وحدیث علم وفضل میں بہت ہی بلند ترین اور ممتاز ہے ۔ خود آقائے کائنات صل اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :” اپنے دین کا نصف علم اس حُمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سیکھو“ ۔ اور حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ آپ کے علم و ہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں فرماتے ہیں: اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے علم کے مقابلے میں تمام امّھات المؤمنین ، بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرتِ عائشہ صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا - ام المومنین  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ‘ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم اور امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہم کے دور میں آپ فتوی دیاکرتی تھیں ‘اکابر صحابہ ‘صحابیہ آپ کے علم وفضل کے معترف تھے اورمسائل میں آپ سے استفسار کیا کرتے تھے آپ سے دوہزار دوسو دس (2210) حدیثیں مروی ہیں جن میں سے ایک سوچوہتر (174)حدیثوں پر بخاری و مسلم نے اتفاق کیاہے ۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کا ایک چوتھائی آپ سے منقول ہے. تفسیر ‘ حدیث ‘ اسرار شریعت ‘خطاب, ادب اور انساب میں آپ کو بہت کمال حاصل تھا ۔ (زرقانی جلد دوم’ جلد سوم فضائل اہلیت ‘شان صحابہ)

اوصاف وکمالاتِ ‘علم و فضل ‘فہم و فراست ‘ تبلیغِ دین ‘ زہد وتقوی اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے لحاظ سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا  کو کافی فوقیت حاصل تھی ۔

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ خود فرماتی ہیں : دس خوبیوں (اوصاف) سے مجھے دیگر ازواجِ مطہرات پر فوقیت حاصل ہے ۔
(1)  حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا ۔
(2)  میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مُہاجر ہوں ۔
(3)  اللہ تعالٰی نے میری پاکدامنی کا بیان آسمان سے قرآن میں نازل فرمایا ۔
(4)  نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو دکھلا دی تھی اور آپ تین راتیں مجھے خواب میں دیکھتے رہے ۔
(5)  میں اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیا کرتے تھے یہ شرف میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا ۔
(6)  حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نمازِ تہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المؤمنین میں سے کوئی بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی اس کریمانہ محبت سے سرفراز نہیں ہوئی ۔
(7)  میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خدا کی وحی نازل ہوا کرتی تھی یہ اعزازِ خداوندی ہے جو میرے سوا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی کسی زوجہ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا ۔
(8)  وفاتِ اقدس کے وقت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو اپنی گود میں لیے ہوئی تھی اور آپ کا سرِ انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا وصال ہوا ۔
(9)  حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا ۔
(10)  نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا مزار مبارک خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ) میں بنی ۔ (سیرت المصطفی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا خدمت دین کے باب میں کردار اور مقام و مرتبہ کیا ہے ؟ اس کو سمجھنے کےلیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دین پر استقامت اور ریاضت و مجاہدہ میں آپ کو کتنا تمکن حاصل تھا ۔ خدمت دین اس وقت تک مقبول اور مبارک نہیں ہوتی جب تک دین کی خدمت کرنے والے خود اپنی زندگی سیرت و کردار کو اور اپنے شب و روز کو عملی نمونہ نہ بنالیں ۔ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی مقبول ترین زوجہ مطہرہ تو تھیں مگر خود وہ اپنی عملی زندگی میں دین کا عظیم الشان نمونہ تھیں ۔ یہاں آپ کی حیات مبارکہ چند گوشے اختصار کے ساتھ بیان کیے جارہے ہیں جس کی روشنی میں آپ کے کردار کے مبارک پہلو کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔

آپ رضی اللہ عنہا کا ذوق عبادت اور ریاضت و مجاہدہ اس قدر بلند مرتبے کا تھا کہ نماز میں طویل قیام فرماتیں۔ جس کو احمد بن حنبل نے اپنی المسند میں نقل کیا ہے ۔ اس طرح نفلی نمازیں ادا کرتیں تو قرات کے دوران جب آیت وعید کا ذکر آتا آپ پر گریہ و زاری طاری ہوجاتی ، آپ ان کا تکرار کرتیں ۔ نماز کے بعد دیر تک آپ پر گریہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ فرض نمازوں کا یہ عالم تھا کہ آپ اکثر و بیشتر نماز پنجگانہ با جماعت اداکرتیں ۔ وہ یوں کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مبارک متصل تھا ۔ امام کی آواز آتی تھی سو مسجد نبوی کے امام کی اقتداء میں متصل اپنے حجرہ مبارک میں نماز ادا کرتی تھیں ۔ جب خواتین زیادہ جمع ہوجاتیں تو الگ سے اہتمام کرتیں اور خود صف کے وسط میں قیام فرماکر انہیں نماز پڑھاتیں ۔ آپ صائم الدھر تھیں اکثر و بیشتر روزے کا اہتمام فرماتیں ۔ سخت گرمیوں میں بھی نفلی روزہ ترک نہ کرتیں ۔ امام احمد بن حنبل نے المسند ، امام ابن سعد طبقات میں آپ کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ایک مرتبہ گھر پر تھیں ، حج پر نہیں گئی تھیں نویں ذوالحج تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے فرمان کے مطابق روزہ رکھا تھا کیونکہ سخت گرمی تھی ۔ آپ اپنے اوپر پانی گرارہی تھیں ۔ آپ سے افطار کرلینے کا کہا گیا فرمایا : میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے ۔ جو لوگ حج پر نہ گئے ہوں ان کے لیے یوم عرفہ کا روزہ پچھلے پورے سال کےلیے کفارہ بن جاتا ہے ۔

عبادت میں کوئی ایک فضیلت کا امر اپنی حیات میں ترک نہ کرتی تھیں ۔ حتی کہ سفر میں بھی روزہ ترک نہ کرتی تھیں ۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے سوال کیا کہ آپ نے جہاد کو افضل ترین اعمال قرار دیا ہے ۔ کیا ہم جہاد نہ کیا کریں ؟ یعنی شوق جہاد پیدا ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا : سب سے افضل عبادت حج مبرور ہے دوسری روایت میں ہے ۔ حج و عمرہ افضل عبادت ہے آپ اس پر اکتفاء کریں ۔ اسی طرح آپ کی حیات طیبہ میں اور عادت مبارک میں جود و سخا کمال درجے کا تھا ۔ تھوڑا زیادہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دست مبارک تک پہنچ جاتا یا آپ کی ملکیت میں آجاتا اسی وقت خیرات کر دیتیں ۔

حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے فرمان کو اکثر بیان فرماتیں ۔ ’’دوزخ کی آگ سے بچائو اختیار کرو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کی خیرات کے ذریعے سے ہو ۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے وصال کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بہت فتوحات ہوئیں ۔ اموال کثرت سے آنے لگے جو مال آپ رضی اللہ عنہا کے حصے میں آئے آپ اس مال کو اسی لمحے خرچ کر دیتیں ۔

امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں بیان فرمایا ایک مرتبہ ایک لاکھ درہم آپ کے حصہ میں آئے۔ آپ نے سورج غروب ہونے سے پہلے پورا ایک درہم خیرات کردیا۔ ایک روز آپ کی خادمہ نے عرض کیا : اگر آپ ایک درہم بچا کر رکھ لیتی اس سے ہمارے لیے کچھ گوشت آجاتا ۔ فرمایا : بیٹے ! اگر مجھے پہلے بتادیتیں تو میں بچا لیتی ۔

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زہد و ورع بھی کمال درجے کا تھا آپ نے پوری حیات مبارکہ میں فرائض و واجبات اور سنن کا پوری صحت سے اہتمام کیا اور شبہات سے بچیں ۔ ایک روز ایک نابینا شخص سوال کرنے کے لیے آیا تو آپ نے اس سے پردہ کرلیا جس پر آپ سے کہا گیا کہ وہ تو دیکھتا نہیں اس پر آپ نے فرمایا کہ میں تو دیکھتی ہوں ۔

آپ کے حجرہ مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا مزار مبارک تھا ۔ بعد ازاں حضرت صدیق اکبر بھی وہاں مدفون ہوئے جب سیدنا فاروق اعظم تو آپ پردے کا زیادہ اہتمام کرتیں کیونکہ وہ آپ کےلیے نامحرم تھے اس سے آپ کے اعتقاد کا اندازہ ہوتا ہے کہ صاحب مزار حاضر ہونے والے کو دیکھتا ہے ۔

اس طرح دعوت و تبلیغ میں آپ کا کردار بڑا نمایاں تھا ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بڑا اہتمام کرتیں ، جب کسی کے عمل میں کوئی کمی بیشی آپ مشاہدہ فرماتیں اسی وقت اس کو حکمت و بصیرت اور محبت سے اصلاح اور تربیت کرتیں ۔ آپ کا علم دین اتنا وسیع تھا کہ جس قرآن کے علم، علم التفسیر ، علم الحدیث ، علم فقہ میں گہرائی و گیرائی ، عربی ادب، شعر و نثر ، علم میراث ، علم تاریخ ، علم انساب، علم طب پر کمال درجے کی مہارت رکھتیں ۔ علم میں آپ کا درجہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہن میں بلند تھا ۔ ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں ۔

جسے امام ترمذی نے روایت کیا جب بھی صحابہ کرام کو علمی مسائل میں اشکال ہوتا اور کسی سے کوئی حل نہ ہورہا ہوتا تو آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ اس مسئلہ کو حل فرما دیتیں ۔ آپ کے دروازے پر علم کا کوئی طلبگار بھی آتا مشکل حل کروائے بغیر واپس نہ جاتا ۔ جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور آکر سوال کرتے تھے ۔

حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت عبداللہ ابن عباس ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم آپ سے اخذ فیض ، استفادہ اور مسائل دریافت کرتے ۔ اس وجہ سے 100 سے زائد صحابہ کرام ، تابعین عظام رضی اللہ عنہم نے آپ سے علم اور احادیث نبوی روایت کی ہیں ۔ آپ کا درجہ صحابہ اور صحابیات میں استاذ کا تھا ۔

امام زہری فرماتے ہیں آپ کے علم کو جملہ خواتین علماء کے علم کے ساتھ سے موازنہ کیا جائے بلکہ سب کے علم کو جمع کرلیا جائے تو بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ان سب سے وسیع تر ہے ۔ امام بدرالدین زرکشی نے الاجابہ کے نام سے کتاب لکھی جس میں آپ کی دقت علم کو بیان کیا ہے ۔

امام جلال الدین سیوطی نے عین الصحابہ کے نام سے ایک رسالہ رقم فرمایا ہے آپ کے علم کی گہرائی ، گیرائی ، فقہ اجتہاد علم کا بیان کیا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو آپ کا ہی حجرہ مبارک محبط وحی تھا اکثر و بیشتر نزول وحی آپ کے ہی حجرہ مبارکہ میں ہوتا ۔ اسی وجہ سے آپ صحابہ کرام تابعین عظام کےلیے معلمہ تھیں ۔ آپ مفسرہ ، محدثہ ، مجتہدہ ، فقیہہ ، زاہدہ ، عابدہ ، طیبہ طاہرہ تھیں ۔ پوری امت مسلمہ کی ماں ہیں ۔ آپ کا شمار کبار حفاظ حدیث و سنت میں ہوتا ہے ۔ آپ پردہ کے پیچھے سے تعلیم دیتی تفسیر پڑھاتیں ، حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی حدیث روایت کرتیں ۔ سنت نبوی کے احکام سمجھاتیں ، استنباط اور اجتہاد کے ذریعے پوری امت کی رہنمائی فرماتیں ۔ آقا صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے وصال کے بعد کم و بیش 50 برس تک حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی سنت کو امت تک پہنچایا ، حدیث نبوی کی تعلیم دی ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرویات 2210 ہیں یہ مسند عائشہ ہیں ۔ اس میں متفق علیہ 174 ہیں جو بخاری اور مسلم دونوں میں روایت ہوئی ہیں۔ بقیہ میں سے صحیح بخاری میں 54 اور صحیح مسلم میں 69 بیان ہوئی ہیں ۔ بقیہ حدیث دیگر کتب احادیث ہیں ۔

اگر آپ کی مرویات نہ ہوتیں تو سنت نبوی کا بہت بڑا حصہ امت کو معلوم نہ ہوسکتا۔ خاص کر سنت فعلیہ کا حصہ، آپ کا حجرہ مبارک اس امت کا سب سے بڑا مدرسہ، حدیث و سنت تھا۔ جہاں علم، فقہ، علم، حدیث، علم قرآن، علم تفسیر کے چشمے بہتے تھے۔ صحابہ کرام تابعین عظام مختلف شہروں سے اطراف عالم سے سفر کرکے آپ سے اکتساب فیض کرتے۔ آپؓ کا فیض آج بھی امت کو جاری ہے۔ آج بھی عالم رئویا میں ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا حدیث کی اجازت فرماتیں ہیں حدیث کی سند حدیث کا سبق دیتی اور حدیث کا سبق سنتی ہیں ۔ بخاری و مسلم کی کتب کی اجازت اور سند خود دیتی ہیں ۔ آج بھی آپ کا فیض امت محمدی صلی اللہ علیہ والہ و سلم میں جاری و ساری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ طریق جاری رہے گا ۔

آپ نے حدیث میں روایت بالمعنی کا طریق اختیار نہیں اپنایا بلکہ روایت بالفظ پر تمسک کیا۔ ضبط الفاظ حدیث کا بڑی اہتمام کیا۔ امت کی سب بڑی فقیہ تھیں۔ کبار مجتہدین میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ صحابہ کرام کی طرف سے آپ سے فتویٰ طلب کیا جاتا احکام میں اجتہاد اور استنباط کرتیں، آپ نے بہت سے شاگرد چھوڑے جن میں عروہ بن زبیر ہیں جنہیں عالم المدینہ کا لقب دیا جاتا تھا یہ آپ کے بھانجے اور حضرت اسما بن ابی بکر کے صاحبزادے ہیں ۔ انہوں نے طویل عمر آپ کی صحبت میں رہ کر اخذ علم اور اکتساب فیض کیا اور مدینہ طیبہ کے سب سے بڑے عالم بنے۔ اس طرح آپ کے تلامذہ میں حضرت قاسم بن ابی بکر آپ کے بھتیجے ہیں جو اتنے بڑے زاہد اور اتنے بڑے صوفی زہد و ورع کے پیکر تھے کہ دور دراز سے تابعین چل کر آپ سے اکتساب فیض کے لیے تشریف لاتے ۔

آپ کے معمولات کو دیکھ کر دین سیکھتے ۔ یہ قاسم بن محمد بن ابی بکر وہ ہستی آپ کے درس کے دوران جن کی مسجد نبوی میں مسند حدیث تھی اور مسجد نبوی بھری رہتی تھی ۔ طلبہ ان سے حدیث کا درس لیتے یہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فیض کے قاسم ہیں ۔ بعد ازاں ان کی مسند پر عبدالرحمن بن قاسم بن محمدبن ابی بکر بیٹھے ۔ انہوں نے علم حدیث کے چشمے بنائے ۔ یہی وہ نشست ہے جس پر بعد ازاں امام مالک بیٹھے ۔ آپ کے تلامذہ میں ان تابعین کے علاوہ سعید بن مسیب جیسی جلیل القدر ہستیاں ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عامر حضرت مسروق بن اجداء بھی ہیں ۔ آپ سے حضرت عکرمہ نے بھی براہ راست اخذ علم اور اکتساب فیض کیا ۔

اسی طرح خواتین میں بھی بہت سی مفسرہ، محدثہ اور فقیہہ ہوئیں جن کے ذریعے آپ نے امت میں علم کے چشمے اور دریا بہائے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں میں امت میں کسی ایسی عالمہ،محدثہ، فقیہا، مفسرہ سے واقف نہیں ہوں جن کا علم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جتنا ہو ۔

حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے علم کا بہت سا حصہ یاد کرلیا اور 50 برس تک اس نبوی علم کی امانت امت کو پہنچاتی رہیں اور کثیر تعداد میں خلق نے آپ سے اخذ علم کیا اور استفادہ کیا ۔ اور دین کے احکام و اداب سیکھے اور حافظ ابن حجر فرماتے ہیں شریعت کے کم و بیش ایک چوتھائی احکام ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔ آپ سے استفادہ کرنے والے جلیل القدر تلامذہ کا عدد 88 ہے ۔ جیسے خلق کثیر کہا جاتا ہے ۔ حضرت عائشہ بنت طلحہ کہتی ہیں کہ آپ مرجع خاص و عام تھیں ہر شہر سے طالبان علم سفر کرکے آپ کی بارگاہ میں آتے ۔ امام بخاری نے الادب المفرد میں کہاں ہے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا چشمہ علم محمدی صلی اللہ علیہ والہ و سلم تھیں ۔ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے علم کے دریا بہادیے ۔ کتب حدیث آپ کی مرویات سے معمور ہیں۔ نسلاً بعد نسل امت کے علماء، محدثین ، مجتہدین، فقہاء بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ سے فیض لیتے رہے۔ دین میں آپ کی خدمات کا یہ عالم ہے کہ آپ ام المومنین تو ہیں ہی مگر محسنہ المومنین بھی ہیں۔ علم کے باب میں پوری امت کی سرپرستی فرمانے والی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ سے اکتساب فیض کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے علم سے حاصل ہونے والے نور سے اپنی زندگیوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

عبادت و ریاضت میں بھی آپ کا مقام و مرتبہ بہت ہی اَرفع و اعلیٰ ہے ۔ آپ بکثرتِ فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں، ہر سال حج کرتیں ۔ آپ کے بھتیجے حضرتِ قاسم بن محمدبن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدّیقہ  رضی اللہ تعالٰی عنہا بلا ناغہ تہجد کی نماز پڑھنے کی پابند تھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہا کرتیں ۔
(ازواج مطہرات)

خوفِ خداوندی اور خشیتِ ربانی کا یہ عالم کہ ایک بار دوزخ کی یاد آگئی تو رونا شروع کر دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیا کہ مجھے دوزخ کا خیال آگیا اس لیے رو رہی ہوں ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو شعروشاعری میں بھی بہت مہارت حاصل تھی - جب کوئی ضرورت درپیش ہوتی تو فی البدیہ اشعار میں گفتگو کرتی تھیں ۔

ام المومنین رضی اللہ عنہا کے یہ دو شعر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی مدح میں مروی ہیں : ⬇

لوسمعوافی مصر اوصاف خدہ
لمابذلو فی سوم یوسف من نقد
لواحی زلیخالوراین حبیبۂ
لاثرن بالقطع القلوب علی الایدی
(زرقانی جلد سوم)

ماہ رمضان المبارک کی سترہ تاریخ 57 یا 58 ہجری مطابق 13 جولائی 678 عیسوی چھیاسٹھ (66) سال کی عمر میں آپ کا وصال مدینہ منوّرہ میں ہوا طانا للہ و انا الیہ راجعون ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8،چشتی)

حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیّت کے مطابق رات میں آپ کو جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی قبروں کے پہلو میں تدفین ہوئی ۔
ام المؤمنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ذاتِ مبارکہ حُسن علم و ادب فضل وکمال ‘ ریاضت و روحانیت’ پیکرِ شرم و حیا ‘ مجسمۂ عفّت و عصمت ‘ سیرت و خصلت ‘ ذہانت و فطانت ‘ علم و ہنر کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں کا مجموعہ کمالات تھیں  آپ کی ذاتِ مبارکہ خواتین کے لئے حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کا ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے جن کی زندگی کے آئینہ میں دنیا اور دین دونوں سنوارے جا سکتے ہیں ۔ حضرت ام المؤمنین کی سیرتِ مبارکہ سے ہماری ماں بہنوں کو اپنی زندگی سنوارنی چاہیے اور ہم سب کو زیادہ سے خراج عقیدت پیش کرکے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی بارگاہ اقدس کا قرب حاصل کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ (مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 19 April 2022

فضائل و مناقب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حصّہ دوم

فضائل و مناقب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: إِنَّ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَوْمًا: يَا عَائِشَةُ، هَذَا جِبْرِيْلُ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ. فَقُلْتُ: وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُةُ، تَرَي مَا لَا أَرَي تُرِددُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ میں نے جواب دیا : ان پر بھی سلام ہو اور الله کی رحمت اور برکات ہوں۔ لیکن آپ (یعنی رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ دیکھ سکتے ہیں وہ میں نہیں دیکھ سکتی ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل أصحاب النبي، باب: فضل عائشة، 3 / 1374، الرقم: 3557، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة، 4 / 1895، الرقم؛ 2447، و الترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان، باب: ما جاء في تبليغ السلام، 5 / 55، الرقم: 2693)

عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : أُرِيْتُکِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ أَرَي أَنَّکِ فِي سَرَقَةٍ مِّنْ حَرِيْرٍ وَ يُقَالُ: هَذِهِ امْرَأَتُکَ، فَاکْشَفْ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُوْلُ إِنْ يَکُ هَذَا مِن عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے خواب میں دو مرتبہ تمہیں دیکھا میں نے دیکھا کہ تم ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی ہو اور مجھے کہا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ سو پردہ ہٹا کر دیکھیے، جب میں نے دیکھا تو تم تھی۔ تو میں نے کہا کہ اگر یہ الله تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ ایسا کر کے ہی رہے گا ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل أصحاب النبي، باب: تزويج النبي عائشة، 3 / 1415، الرقم: 3682، و في کتاب: النکاح، باب: قول الله ولا جناح عليکم فيما عرضتم به من خطبة النساء، 5 / 1969، ومسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: فضل عائشة، 4 / 1889، الرقم: 2438، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 41، الرقم: 24188،چشتی)

عَنْ أَبِي عُثْمَانَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلٰى جَيْشٍ ذَاتِ السُّلَاسِلِ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلٰىکَ؟ قَالَ: عَائِشَةُ. قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: أَبُوْهَا. قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ. فَعَدَّ رِجَالًا فَسَکَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ ۔
ترجمہ : حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ ذات السلاسل کے لئے حضرت عمرو بن العاص کو امیر لشکر مقرر فرمایا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! آپ کو انسانوں میں سب سے پیارا کون ہے ؟ فرمایا : عائشہ، میں عرض گزار ہوا : مردوں میں سے؟ فرمایا: اس کا والد، میں نے عرض کیا: ان کے بعد کو ن ہے؟ فرمایا: عمر، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند دیگر حضرات کے نام لئے لیکن میں اس خیال سے خاموش ہو گیا کہ کہیں میرا نام آخر میں نہ آئے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المغازي، باب: غزوة ذات السلاسل، 4 / 1584، الرقم: 4100، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: من فضائل أبي بکر، 4 / 1856، الرقم 2384، و الترمذي في السنن، کتاب: المناقب، باب: فضل عائشة، 5 / 706، الرقم: 3885، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 308، الرقم: 6885)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَ إِذَا کُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَي. قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَ مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِکَ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِذَا کُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّکِ تَقُولِيْنَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَ إِذَا کُنْتِ غَضْبَي قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ وَاللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَکَ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں بخوبی جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں عرض گزار ہوئی کہ یہ بات آپ کس طرح معلوم کرلیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو کہ رب محمد کی قسم! اور جب تم ناخوش ہوتی ہو تو کہتی ہو رب ابراہیم کی قسم! وہ فرماتی ہیں کہ میں عرض گزار ہوئی کہ خدا کی قسم! یارسول الله! اس وقت میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: النکاح، باب: غيرة النساء ووجدهن، 5 / 2004، الرقم: 4930، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: فضل عائشة، 4 / 1890، الرقم: 2439، و ابن حبان في الصحيح، 16 / 49، الرقم: 7112، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 61، الرقم: 24363،چشتی)

عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها: أَنَّ النَّاسَ کَانُوْا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُوْنَ بِهَا أَوْ يَبْتَغُوْنَ بِذَلِکَ مَرْضَاةَ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ لوگ اپنے تحائف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرنے کیلئے میرے (ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخصوص کردہ) دن کی تلاش میں رہتے تھے، اور اس عمل سے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا چاہتے تھے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الهبة و فضلها و التحريض عليها، باب: قبول الهدية، 2 / 910، الرقم: 2435، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة، 4 / 1891، الرقم: 2441، و النسائي في السنن، کتاب: عشرة النساء، باب: حب الرجل بعض نسائه أکثر من بعض، 7 / 69، الرقم: 3951، و البيهقي في السنن الکبري، 6 / 169، الرقم: 11723)

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَيَتَعَذُّرُ فِي مَرَضِهِ أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ ؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا ؟ اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللهُ بَيْنَ سَحْرِي وَ نَحْرِي وَ دُفِنَ فِي بَيْتِي ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الوصال) میں (میری) باری طلب کرنے کے لیے پوچھتے کہ میں آج کہاں رہوں گا؟ کل میں کہاں رہوں گا؟ پھر جس دن میری باری تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سرانور میری گود میں تھا کہ اللہ عزوجل نے آپ کی روح مقدسہ قبض کرلی اور میرے گھر میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدفون ہوئے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء في قبر النبي ﷺ، 1 / 486، الرقم: 1323، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة رضی الله عنها ، 4 / 1893، الرقم؛ 2443)

عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَ أَنَا أَنْظُرُ إِلٰى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُوْنَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّي أَکُوْنَ أَنَا الَّتِي أَسْأَمُ فَاقْدُرُوْا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيْثَةِ السِّنِّ الْحَرِيْصَةِ عَلَي اللَّهْوِ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حبشی اپنے ہتھیاروں سے لیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں کھیل رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنی چادر میں چھپائے ہوئے تھے تاکہ میں ان کا کھیل دیکھتی رہوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری وجہ سے کھڑے رہے یہاں تک کہ میرا جی بھر گیا اور میں خود وہاں سے چلی گئی۔ اب تم خود اندازہ کر لو کہ جو لڑکی کم سن اور کھیل کی شائق ہو وہ کب تک دیکھے گی ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: النکاح، باب: نظر المرأة إلي الحبش و نحوهم من غير ريبة، 5 / 2006، الرقم: 4938، و مسلم في الصحيح، کتاب: صلاة العيدين، باب: الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد، 2 / 608، الرقم: 892، و النسائي في السنن، کتاب: صلاة العيدين، باب: اللعب في المسجد يوم العيد و نظر النساء إلي ذلک، 3 / 195، الرقم: 1595، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 85، الرقم: 24596، و الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 179، الرقم: 282،چشتی)

عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ. قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُبَيْلَ مَوْتِهَا عَلَي عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوْبَةٌ. قَالَتْ: أَخْشَي أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ، فَقِيْلَ: ابْنُ عَمِّ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَ مِنْ وُجُوْهِ الْمُسْلِمِيْنَ قَالَتْ: ائْذَنُوا لَهُ؟ فَقَالَ: کَيْفَ تَجِدِيْنَکِ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِنْ اتَّقَيْتُ. قَالَ: فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَي، زَوْجَةُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَلَمْ يَنْکِحْ بِکْرًا غَيرَکِ وَ نَزَلَ عُذْرُکِ مِنَ السَّمَاءِ، وَ دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلَافَهُ فَقَالَتْ: دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثَنَي عَلَيَّ وَ وَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا ۔
ترجمہ : امام ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی جبکہ وفات سے پہلے وہ عالم نزع میں تھیں۔ انہوں نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ یہ میری تعریف کریں گے۔ حاضرین نے کہا: یہ تو رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد اور سرکردہ مسلمانوں میں سے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اچھا انہیں اجازت دے دو۔ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما نے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟ جواب دیا: اگر پرہیزگارہوں تو بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا: ان شاء الله بہترہی رہے گا کیونکہ آپ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا انہوں نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا اور آپ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ ان کے بعد حضرت عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا نے فرمایا: حضرت عبد الله بن عباس آئے تھے وہ میری تعریف کر رہے تھے اور میں یہ چاہتی ہوں کہ کاش! میں گمنام ہوتی ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: التفسير، باب: ولولا إذ سمعتموه، 4 / 1779، الرقم: 4476،چشتی)

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: کَانَتْ عَائِشَةُ رضی الله عنها لَا تُمْسِکُ شَيْئًا مِمَّا جَاءَ هَا مِنْ رِزْقِ اللهِ تَعَالَي إِلَّا تَصَدَّقَتْ بِهِ ۔
ترجمہ : حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس اللہ کے رزق میں سے جو بھی چیز آتی وہ اس کو اپنے پاس نہ روکے رکھتیں بلکہ اسی وقت (کھڑے کھڑے) اس کا صدقہ فرما دیتیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المناقب، باب: مناقب قريش، 3 / 1291، الرقم: 3314)

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ جَارًا لِرَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَارِسِيًا کَانَ طَيبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوْهُ، فَقَالَ: وَ هَذِهِ لِعَائِشَةَ فَقَالَ: لاَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لَا، فَعَادَ يَدْعُوْهُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: وَ هَذِهِ قَالَ: لَا، قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لَا، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوْهُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: وَ هَذِهِ، قَالَ: نَعَمْ، فِي الثَّالِثَةِ، فَقَامَ يَتَدَافِعَانِ حَتَّي أَتَيَا مَنْزِلَهُ ۔
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی بہت اچھا سالن بناتا تھا، پس ایک دن اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے سالن بنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دینے کیلئے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور یہ بھی یعنی عائشہ (بھی میرے ساتھ مدعو ہے یا نہیں) تو اس نے عرض کیا: نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں (میں نہیں جاؤں گا) اس شخص نے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی (یعنی عائشہ) تو اس آدمی نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار فرما دیا۔ اس شخص نے سہ بارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی، اس نے عرض کیا: ہاں یہ بھی، پھر دونوں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا) ایک دوسرے کو تھامتے ہوئے اٹھے اور اس شخص کے گھر تشریف لے کر آئے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الأشربة، باب: ما يفعل الضيف إذا تبعه غير من دعاه صاحب الطعام و استحباب إذن صاحب الطعام للتابع، 3 / 1609، الرقم: 2037، و أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 123، الرقم: 12265)

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ جِبْرِيْلَ جَاءَ بِصُوْرَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيْرٍ خَضْرَاءَ إِلٰى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ زَوْجَتُکَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام ریشم کے سبز کپڑے میں (لپٹی ہوئی) ان کی تصویر لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دنیا و آخرت میں آپ کی اہلیہ ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: من فضل عائشة، 5 / 704، الرقم: 3880، و ابن حبان في الصحيح، 16 / 6، الرقم: 7094، و ابن راهويه في المسند، 3 / 649، الرقم: 1237، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 140، 141،چشتی)

عَنْ أَبِي مُوْسَي، قَالَ: مَا أَشْکَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَدِيْثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا ۔
ترجمہ : حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جب کبھی بھی کوئی حدیث مشکل ہو جاتی تو ہم ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے اس کے بارے میں پوچھتے تو ان کے ہاں اس حدیث کا صحیح علم پالیتے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب: من فضل عائشة، 5 / 705، الرقم: 3883، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 179، و المزي في تهذيب الکمال، 12 / 423، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 32، و العسقلاني في الإصابة، 8 / 18)

عَنْ مُوْسَي بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ ۔
ترجمہ : حضرت موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر کسی کو فصیح نہیں دیکھا ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب: من فضل عائشة، 5 / 705، الرقم: 3884، و الحاکم في المستدرک، 4 / 12، الرقم: 6735، و الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 182، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 191، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 876، الرقم: 1646، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243، و قال: رجاله رجال الصحيح،چشتی)

عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها في رواية طويلة: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ لِفَاطِمَةَ: إِنَّهَا (أَي عَائِشَةَ) حِبَّةُ أَبِيْکَ وَ رَبِّ الْکَعْبَةِ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا ایک طویل حدیث میں روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی الله عنہا سے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! بے شک عائشہ تمہارے والد کو بہت زیادہ محبوب ہے ۔ (أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الانتصار، 4 / 274، الرقم: 4898، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 322)

عَنْ ذَکْوَانَ حَاجِبِ عَائِشَةَ: أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَي عَائِشَةَ... فَقَالَتْ: ائْذِنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ، قَالَ: فَأَدْخَلْتُهُ فَلَمَّا جَلَسَ، قَالَ: أَبْشِرِي، فَقَالَتْ: أَيْضًا، فَقَالَ: مَا بَيْنَکِ وَ بَيْنَ أَنْ تَلْقَي مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَ الْأَحِبَّةَ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الرُّوْحُ مِنَ الْجَسَدِ، کُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَ لَمْ يَکُنْ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا وَ سَقَطَتْ قِلاَدَتُکِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَأَصْبَحَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتَّي يُصْبِحَ فِي الْمَنْزِلِ وَ أَصْبَحَ النَّاسُ لَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عزوجل (فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا) فَکَانَ ذَلِکَ فِي سَبَبِکِ، وَ مَا أَنْزَلَ اللهُ عزوجل لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ، وَ أَنْزَلَ اللهُ بَرَاءَ تَکِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ جَاءَ بِهِ الرُّوْحُ الْأَمِيْنُ، فَأَصْبَحَ لَيْسَِﷲِ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ اللهِ يُذْکَرُ اللهُ فِيْهِ إِلَّا يُتْلَي فِيْهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنْکَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَ الَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًا ۔
ترجمہ : حضرت ذکوان جو کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کے دربان تھے، روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے ملنے کی اجازت طلب کرنے کیلئے تشریف لائے۔. . تو آپ نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو انہیں اجازت دے دو، راوی بیان کرتے ہیں پھر میں ان کو اندر لے آیا پس جب وہ بیٹھ گئے تو عرض کرنے لگے: اے ام المومنین! آپ کو خوشخبری ہو، آپ نے جواباً فرمایا: اور تمہیں بھی خوشخبری ہو، پھر انہوں نے عرض کیا: آپ کی آپ کے محبوب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات میں سوائے آپ کی روح کے قفس عنصری سے پرواز کرنے کے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام ازواج مطہرات سے بڑھ کر عزیز تھیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوائے پاکیزہ چیز کے کسی کو پسند نہیں فرماتے تھے، اور ابوا والی رات آپ کے گلے کا ہار گر گیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح تک گھر نہ پہنچے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے صبح اس حال میں کی کہ ان کے پاس وضو کرنے کیلئے پانی نہیں تھا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ’’پس تیمم کرو پاکیزہ مٹی کے ساتھ۔‘‘ اور یہ سارا آپ کے سبب ہوا اور یہ جو رخصت اللہ تعالیٰ نے (تیمم کی شکل میں) نازل فرمائی (یہ بھی آپ کی بدولت ہوا) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل فرمائی جسے حضرت جبریل امین علیہ السلام لے کر نازل ہوئے پس اب اللہ تعالیٰ کی مساجد میں سے کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے جس میں اس (سورئہ براءت) کی رات دن تلاوت نہ ہوتی ہو۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: اے ابن عباس! بس کرو میری اور تعریف نہ کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی (جسے کوئی نہ جانتا ہوتا) ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 276، الرقم: 2496، و ابن حبان في الصحيح في الصحيح، 16 / 41، 42، الرقم: 7108، و الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 321، الرقم: 10783، و أبو يعلي في المسند، 5 / 5765، الرقم: 2648،چشتی)

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَي مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَ هُوَ يُکَلِّمُ رَجُلًا، قُلْتُ: رَأَيْتُکَ وَاضِعًا يَدَيْکَ عَلٰى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْکَلْبِيِّ وَ أَنْتَ تُکَلِّمُهُ، قَالَ: وَ رَأَيْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: ذَاکَ جِبْرِيْلُ عليه السلام وَ هُوَ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ، قَالَتْ: وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ، جَزَاهُ اللهُ خَيْراً مِنْ صَاحِبٍ وَ دَخِيْلٍ، فَنِعْمُ الصَاحِبُ وَ نِعْمَ الدَّخِيْلُ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے کی گردن پر اپنا دست اقدس رکھا ہوا ہے اور ایک آدمی سے کلام فرما رہے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے دحیہ کلبی کے گھوڑے کی گردن پر اپنا دست اقدس رکھا ہوا ہے اور ان سے کلام فرما رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے یہ منظر دیکھا؟ آپ نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے اور وہ تجھے سلام پیش کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں ہوں، اور اللہ تعالیٰ دوست اور مہمان کو جزائے خیر عطا فرمائے، پس کتنا ہی اچھا دوست (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس) اور کتنا ہی اچھا مہمان (حضرت جبریل علیہ السلام) ہیں ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 674، الرقم: 24506، 2 / 871، الرقم: 1635، و الحميدي في المسند، 1 / 133، الرقم: 277، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 46، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 20)

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طَيِّبَ نَفْسٍ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، ادْعُ اللهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَ مَا تَأَخَّرَ مَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ فَضَحِکَتْ عَائِشَةُ حَتَّي سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضِّحْکِ، قَالَ لَهَا رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: أَيَسُرُّکِ دُعَائِي، فَقَالَتْ: وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُکَ، فَقَالَ ﷺ: وَاللهِ، إِنَّهَا لَدُعَائِي لِأُمَّتِي فِي کُلِّ صَلَاةٍ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشگوار حالت میں دیکھا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! عائشہ کے اگلے پچھلے، ظاہری و باطنی، تمام گناہ معاف فرما (ایسا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازرائے مزاح فرمایا) یہ سن کر حضرت عائشہ رضی الله عنہا اتنی ہنسیں یہاں تک کہ ان کا سر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں آ پڑا (یعنی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئیں) اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میری دعا تمہیں اچھی لگی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کی دعا مجھے اچھی نہ لگے، پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بے شک ہر نماز میں میری یہ دعا میری امت کیلئے خاص ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 6 / 48، الرقم: 7111، الحاکم في المستدرک، 4 / 13، الرقم: 6738، و ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 390، الرقم: 32285، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 498، الرقم: 2032، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 145، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243)

عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: کَانَتْ عَائِشَةُ أَفْقَهَ النَّاسِ وَ أَعْلَمَ النَّاسِ وَ أَحْسَنَ النَّاسِ رَأْيًا فِي الْعَامَّةِ ۔
ترجمہ : حضرت عطا بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا تمام لوگوں سے بڑھ کر فقیہ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر جاننے والیں اور تمام لوگوں سے بڑھ کر عام معاملات میں اچھی رائے رکھنے والی تھیں ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 15، الرقم: 6748، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 185، و العسقلاني في تهذيب التهذيب، 12 / 463، و المزي في تهذيب الکمال، 35 / 234، و ابن عبد البر في الاستيعاب، 4 / 1883، و العسقلاني في الإصابة، 8 / 18)

عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِشِعْرٍ، وَلَا فَرِيْضَةٍ، وَلَا أَعْلَمَ بِفِقْهٍ مِنْ عَائِشَةَ ۔
ترجمہ : حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر، شعر، فرائض اور فقہ کا عالم کسی کو نہیں دیکھا ۔ (أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 276، الرقم: 26044، و العسقلاني في تهذيب التهذيب، 12 / 463، و المزي في تهذيب الکمال، 35 / 234، و ابن عبد البر في الاستيعاب، 4 / 1883، و العسقلاني في الإصابة، 8 / 18،چشتی)

عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: لَوْ جُمِعَ عِلْمُ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِيْهِنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ عِلْمُ عَائِشَةَ أَکْثَرُ مِنْ عِلْمِهِنَّ ۔
ترجمہ : حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس امت کی تمام عورتوں کے جن میں امہات المومنین بھی شامل ہوں علم کو جمع کر لیا جائے تو عائشہ کا علم ان سب کے علم سے زیادہ ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 184، الرقم: 299، و العسقلاني في تهذيب التهذيب، 12 / 463، و المزي في تهذيب الکمال، 35 / 235، وابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 33، و الخلال في السنة، 2 / 476، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 185، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243، و قال: رجال هذا الحديث ثقات،چشتی)

عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا رَأَيْتُ خَطِيْبًا قَطُّ أَبْلَغَ وَلَا أَفْطَنَ مِنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها ۔
ترجمہ : قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کسی بھی خطیب کو عائشہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر بلاغت و فطانت (ذہانت) والا نہیں دیکھا ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 183، الرقم: 298، و الشيباني في الآحاد و المثاني، 5 / 398، الرقم: 3027، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243)

عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَعْلَمَ بِالْقُرْآنِ وَ لَا بِفَرِيْضَةٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَ لَا بِشِعْرٍ وَلَا بِحَدِيْثِ الْعَرَبِ وَلَا بِنَسَبٍ مِنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها ۔
ترجمہ : حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر کسی کو قرآن، فرائض، حلال و حرام، شعر، عربوں کی باتیں، اور نسب کا عالم نہیں دیکھا ۔ (أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 49، 50، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 32)

عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ وَ کَانَتْ تَغْشَي عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَعَثَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلٰىهَا بِمَالٍ فِي غَرَارَتَيْنِ ثَمَانِيْنَ أَوْ مِائَةَ أَلْفٍ فَدَعَتْ بِطَبْقٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صَائِمَةٌ فَجَلَسَتْ تَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ فَأَمْسَتْ وَ مَا عِنْدَهَا مِنْ ذَلِکَ دِرْهَمٌ فَلَمَّا أَمْسَتْ، قَالَتْ: يَا جَارِيَةُ، هَلُمِّي فِطْرِي فَجَاءَ تْهَا بِخُبْزٍ وَ زَيْتٍ، فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ ذَرَّةَ: أَمَا اسْتَطَعْتِ مِمَّا قَسَمْتِ الْيَوْمَ أَنْ تَشْتَرِي لَنَا لَحْمًا بِدِرْهَمٍ نَفْطُرُ عَلَيْهِ، قَالَتْ: لاَ تُعَنِّفِيْنِي، لَوْ کُنْتِ ذَکَرْتِيْنِي لَفَعَلْتُ ۔
ترجمہ : حضرت ام ذرہ، جو کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ حضرت عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دو تھیلوں میں آپ کو اسی ہزار یا ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا، آپ نے (مال رکھنے کے لئے) ایک تھال منگوایا اور آپ اس دن روزے سے تھیں، آپ وہ مال لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئیں، پس شام تک اس مال میں سے آپ کے پاس ایک درہم بھی نہ بچا، جب شام ہو گئی تو آپ نے فرمایا: اے لڑکی! میرے لیے افطار کیلئے کچھ لاؤ، وہ لڑکی ایک روٹی اور تھوڑا سا گھی لے کر حاضر ہوئی، پس ام ذرہ نے عرض کیا: کیا آپ نے جو مال آج تقسیم کیا ہے اس میں سے ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت نہیں خرید سکتی تھیں جس سے آج ہم افطار کرتے، حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا: اب میرے ساتھ اس لہجے میں بات نہ کر اگر اس وقت (جب میں مال تقسیم کر رہی تھی) تو نے مجھے یاد کرایا ہوتا تو شاید میں ایسا کر لیتی ۔ (أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 47، و هناد في الزهد، 1 / 337، 338، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 187، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 8 / 67،چشتی)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ امْرَأَ تَيْنِ أَجْوَدَ مِنْ عَائِشَةَ وَ أَسْمَاءَ وَ جُوْدُهُمَا مَخْتَلِفٌ: أَمَّا عَائِشَةُ، فَکَانَتْ تَجْمَعُ الشَّيْئَ إِلٰى الشَّيْيئِ حَتَّي إِذَا کَانَ اجْتَمَعَ عِنْدَهَا قَسَمَتْ وَ أَمَّا أَسْمَاءُ فَکَانَتْ لَا تُمْسِکُ شَيْئًا لِغَدٍ ۔
ترجمہ : حضرت عبد الله بن زبیر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ اور حضرت اسماء رضی الله عنہما سے بڑھ کر سخاوت کرنے والی کوئی عورت نہیں دیکھی اور دونوں کی سخاوت میں فرق ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا تھوڑی تھوڑی اشیاء جمع فرماتی رہتی تھیں اور جب کافی ساری اشیاء آپ کے پاس جمع ہو جاتیں تو آپ انہیں (غربا اور محتاجوں میں) تقسیم فرما دیتیں، جبکہ حضرت اسماء (بھی) اپنے پاس کل کیلئے کوئی چیز نہیں بچا کر رکھتی تھیں ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 106، الرقم: 286، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 58، 59)

عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: بَعَثَ مُعَاوِيَةُ إِلٰى عَائِشَةَ بِطَوْقٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيْهِ جَوْهَرٌ قُوِّمَ بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَسَّمَتْهُ بَيْنَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : حضرت عطا سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو سونے کا ہار بھیجا جس میں ایک ایسا جوہر لگا ہوا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، پس آپ نے وہ قیمتی ہار تمام امہات المومنین میں تقسیم فرما دیا ۔ (أخرجه هناد في الزهد، 1 / 337، الرقم: 618، وابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 29،چشتی)

عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ رضی الله عنها ، کَانَتْ تَسْرَدُ الصَّوْمَ. وَ عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ عَائِشَةَ کَانَتْ تَصُوْمُ الدَّهْرَ وَ لاَ تَفْطُرُ إِلَّا يَوْمَ أَضْحَي أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ ۔ و في رواية عنه: قَالَ: کُنْتُ إِذَا غَدَوْتُ أَبْدَأُ بِبَيْتِ عَائِشَةَ أُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَغَدَوْتُ يَوْمًا فَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تَسَبِّحُ وَ تَقْرَأُ: (فَمَنَّ اللهُ عَلَيْنَا وَ وَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِ) وَ تَدْعُوْ وَ تَبْکِي وَ تُرَدِّدُهَا فَقُمْتُ حَتَّي مَلَلْتُ الْقِيَامَ فَذَهَبْتُ إِلٰى السُّوْقِ لِحَاجَتِي ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هِي قَائِمَةٌ کَمَا هِيَ تُصَلِّي وَ تَبْکِي ۔
ترجمہ : حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا مسلسل روزے سے ہوتی تھیں۔ اور قاسم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ مسلسل روزہ سے ہوتی تھیں اور صرف عید الاضحی اور عید الفطر کو افطار فرماتی تھیں ۔ اور ان ہی سے روایت ہے کہ میں صبح کو جب گھر سے روانہ ہوتا تو سب سے پہلے سلام کرنے کی غرض سے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس جاتا، پس ایک صبح میں آپ کے گھر گیا تو آپ حالت قیام میں تسبیح فرما رہی تھیں اور یہ آیہ کریمہ پڑھ رہی تھیں (فَمَنَّ اللهُ عَلَيْنَا وَ وَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِ) اور دعا کرتی اور روتی جا رہی تھیں اور اس آیت کو بار بار دہرا رہی تھیں، پس میں (انتظار کی خاطر) کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ میں کھڑا ہو ہو کر اکتا گیا اور اپنے کام کی غرض سے بازار چلا گیا، پھر میں واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ اسی حالت میں کھڑی نماز ادا کر رہیں ہیں اور مسلسل روئے جا رہی ہیں ۔ (أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 451، الرقم: 4048، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 375، الرقم: 2092، وابن أبي عاصم في کتاب الزهد، 1 / 164، وابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 31) ۔ (مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ)

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...