Saturday, 5 September 2015

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

 

محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ فقیر چشتی ہے اور محفلِ سماع جو شرعی حدود کے اندر مکمل شرائطِ سماع کے ساتھ ہو اسے جائز سمجھتا ہے ۔ یعنی کہ محفل میں مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات نہ ہوں ، افراد با وضو ہوں ، توحید و رسالت اور دین کے بارے میں اشعار ہوں ، خواتین اور مرد آپس میں خلط ملط نہ ہوں یعنی کہ ملے ہوئے نہ ہوں ، توجہ الفاظ اور اشعار پر ہو ۔ اگر خلاف شرع کوئی کام نہ ہو تو جائز ہے ۔ مگر آج کل بزگانِ دین کے مزار ات پر ان کے عرس کا نام لے کر خوب موج مستیاں ہو رہی ہیں ۔ بد معاش ، بد کردار لوگ اپنی رنگیلیوں ، باجوں تماشوں ، عورتوں کی چھیڑ چھاڑ کے مزے اٹھانے کےلیے اللہ والوں کے مزاروں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ کاش !یہ لوگ موج مستیاں ، ڈھول باجے ، مزامیر کے ساتھ قوالیاں مزارات سے الگ کرتے اور عرس کا نام نہ لیتے تو کم از کم اسلام اور اسلام کے بزرگانِ دین بدنام نہ ہوتے ۔ آج کفار مشرکین یہ کہنے لگے ہیں کہ اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ناچ گانوں ، تماشوں ، باجوں اور بے پردہ عورتوں کو اسٹیجوں پر لا کر بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والا مذہب ہے ۔ افسوس انہوں نے غلط سمجھا ۔ اسلام ہرگز ہرگز ایسا دین نہیں ہے اسلام کا حکم تو یہ ہے  کہ ڈھول ، باجے ، سارنگی ، مزامیر وغیرہ آلاتِ موسیقی ، تالیاں ، رقص ، سب حرام ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں : قوالی مع مزامیر چشتیہ سلسلے میں رائج اور جائز ہے ۔ یہ بزرگانِ چشتیہ علیہم الرّحمہ پر ان کا صریح بہتان ہے بلکہ ان لوگوں نے بھی مزامیر کے ساتھ قوالی سننے کو حرام فرمایا ہے ۔ حضرت خواجہ محبوب الٰہی نظام  الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خاص خلیفہ حضرتِ فخر الدین زرّادی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ سماع کے متعلق ایک رسالہ لکھوایا جس کا نام ہے : کشف  القناع عن اصول السماع ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ہمار بزرگوں کا سماع مزامیر کے بہتان سے بری ہیں ۔ (ان کا سماع تو یہ ہے کہ) صرف قوال کی آواز ان اشعار کے ساتھ ہو جو کمال صنعت الہٰی کی خبر دیتے ہیں قطب الاقتاب حضرت بابا فرید الدین شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور حضرتِ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرتِ محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سیر الاولیاء میں تحریر فرماتے ہیں حضرت خواجہ محبوب الٰہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نےچند شرائط کے ساتھ سماع جائز فرمایا : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا یا عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا  جائے ، فحش ، بے حیا اور مزاحیہ نہ ہو ۔ (4) آلہ سماع یعنی سارنگی ، مزامیر و رباب سے پاک ہو ، ان باتوں کے ہوتے ہوئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ قوالی جائز ہے ۔ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں ، نہ قادری انہیں تو مزے داریا ں اور لطف اندوزیاں چاہئیں ۔ اور اب جب  کہ سارے کے سارے قوال بے نمازی اور فاسق و فاجر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں نیز  عورتیں اور امرد لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین و ایمان سے کوئی محبت نہیں ۔ بے حیائی اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئ ہے اور قرآن و حدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہےکہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لا کر ان سے ڈانس کروائے جائیں ، پھر ان تماشوں کا نام عرس رکھا جائے یہ صرف اور صرف کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب کو ذلیل  و بدنام کرنے کی سازش ہے  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز  ہے اور نا اہل کےلیے نا جائز ہے ۔ ایسا کہنے والوں سے فقیر چشتی پوچھتا ہے کہ آج کل قوالیوں کے سینکڑوں ، ہزاروں کے مجمع میں کیا سب کے سب اہل اللہ اور اصحابِ استغراق ہیں ، جنہیں دنیا اور متاعِ دنیا کا قطعا ہوش نہیں ؟ جنہیں یادِ الہٰی اور ذکر الہٰی سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ؟ خزانے کی نیندوں اور گپوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے  ، چور چکور ، جھوٹے ، فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ ؛ کیا یہ سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہو کر اللہ والے ہو جاتے ہیں یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔


صحیح بخاری شریف میں ہے : سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف ۔ ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا : ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو آزاد شخص (کی خرید و فروخت) کو ، ریشم کو ، شراب کو اور گانے بجانے کے آلات کوحلال سمجھیں گے ۔ (صحیح البخاری جلد 7 صفحہ 106دارطوق النجاۃ)


و عن نافع  قال : سمع ابن عمر مزمارا قال : فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق وقال لي : يا نافع هل تسمع شيئا؟ فقلت : لا ، قال:فرفع أصبعيه عن أذنيه و قال : كنت مع النبی صلى الله عليه وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا ۔

 ترجمہ : حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے گزرے تو  آلات  موسیقی کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی ، آپ رضی اللہ عنہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں  اور اس راستے سے ہٹ گئے پھر مجھ سےکہا : اے نافع! کیا تمہیں آواز آرہی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  اسی طرح کی آواز سنی تو اسی  طرح کا عمل کیا ۔ (سنن ابی داؤد جلد 4 صفحہ 281 مطبوعہ بیروت)


قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ ؟ فقال : نعم ، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑجانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کی یا رسول اللہ درآنحالیکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ تو فرمایا : ہاں ، جب ان میں آلاتِ موسیقی ، شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہو جائے گا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 7 صفحہ 501 مطبوعہ ریاض)


مروجہ قوالی جو مزامیر (آلاتِ موسیقی) کے ساتھ ہوتی ہے ، اس کا پڑھنا سننا ، ناجائز و حرام ہے ۔ لہٰذا ایسی قوالی کو گھروں اور مزارات وغیرہ سے مکمل طور پر ختم کرنا واجب ہے ۔ توایسی قوالی کا گھر یا باہر کہیں بھی اہتمام کرنا، جائز نہیں ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے : وعن ابی عامر أو ابی مالک الأشعری قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الخزوالحریر والخمر والمعازف ، حضرت ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے روایت ہے  فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے  سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم اور شراب ، باجوں کو حلال سمجھ لیں گی ۔ (صحیح بخاری کتاب الأشربۃ حدیث نمبر 5590 صفحہ  1024 مکتبہ العصریہ بیروت،چشتی)


اس حدیث پاک  کے تحت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : یعنی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ان محرمات کو حلال ہی جان لیں گے ، یا حلال کی طرح بے دھڑک استعمال کریں گے ، یا ان چیزوں کی حلت کےلیے تاویلیں کریں گے مثلًا کہیں گے کہ ریشم اگر جسم سے متصل ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں ، ہم نے کرتا سوتی پہنا ہے اوپر سے اچکن ریشمی ہے ، یا کہیں گے کہ باجے وغیرہ قوالی میں حلال ہیں مجازی عشق کےلیے باجے حرام ہیں ہم تو اللہ رسول کے عشق کےلیے سنتے ہیں وغیرہ ۔ (مرآۃ المناجیح جلد 7 صفحہ  123 مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا : ظهرت القينات والمعازف ، یعنی قیامت کے قریب ناچنے گانے والیوں اور باجے تاشوں کی کثرت ہو جائےگی ۔ (جامع ترمذی ، مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ صفحہ 470)


فتاویٰ عالمگیری میں ہے : السماع والقول والرقص الذى يفعله التصوفة فى زماننا حرام لا يجوز القصد اليه والجلوس عليه ۔

ترجمہ : سماع ، قوّالی ، رقص ( ناچ)  جو آجکل کے نام نہاد صوفیوں میں رائج ہے یہ حرام ہے ـ اس میں شرکت جائز نہیں ـ (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 کتاب الکراہیۃ صفحہ 325)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء احناف کا نظریہ : ⏬


صحیح البخاری حدیث نمبر ٥٥٩٠ کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : امام سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں میری امت کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا جائے گا ‘ مسلمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ گواہی دیتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے ‘ روزے رکھتے ہوں گے اور حج کرتے ہوں گے۔ مسمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کا کیا سبب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : وہ آلات موسیقی اور گانے بجانے والیوں میں مشغول ہوں گے ‘ اور وہ ان شرابوں کو پئیں گے وہ اس لھو میں اور شراب نوشی میں رات گزاریں گے اور جب وہ صبح اٹھیں گے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے۔ امام ترمذی نے اس مضمون کی حدیث روایت کی ہے ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢١٢) اور حکیم ترمذی نے نو اور الاصول میں روایت کیا ہے حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں گھبراہٹ ہوگی لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے تو وہ بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے۔ (عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)


امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ صحیح البخاری : ٩٤٩ کی شرح میں لکھتے ہیں : الغنا ( گانے بجانے) کی تحریم میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ یہ اس لہو و لعب سے ہے جو بالاتفاق مذموم ہے ‘ اور رہا وہ غنا جو محرمات سے الی ہو تو اس کی قلیل مقدار ‘ عید ‘ شادی اور خوشی تقاریب میں جائز ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ حرام ہے ‘ اور اہل عراق کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی کے مذہب میں یہ مکروہ ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ‘ صوفیاء کی ایک جماعت نے عید کے دن لڑکیوں کے دف بجانے کی حدیث سے غنا کے مباح ہونے پر استدلال کیا ہے خواہ وہ آلات موسیقی کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر ہو ‘ اور ان یہ استدلال مردود ہے کیونکہ ان لڑکیوں کا یہ غنا صرف جنگ اور بہادری کی نظم سے متعلق تھا ‘ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دی ‘ لیکن جو غنا معروف اور مشہور ہے وہ بےریش لڑکوں اور عورتوں کے محاسن پر مشتمل ہوتا ہے اور دیگر حرام چیزوں کا بیان ہوتا ہے ‘ جو پر سکون آدمی کے دل میں شہوت کا جوش اور ہیجان پیدا کردیتا ہے اس کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ اور صوفیاء نے اس کی جو بدعت نکالی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور جب تم ان کے اقوال اور افعال کو دیکھو گے تو اس میں زندیقی کے آثار پائو گے اور اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کی گئی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٦ ص ٣٩٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ،چشتی)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ : ⏬


امام یحییٰ بن شرف نواوی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٦ ھ صحیح مسلم : ٨٩٢ کی شرح میں لکھتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہیں تھیں ‘ یعنی گانا بجانا ان کی عادت نہیں تھی اور نہ وہ اس میں مشہور تھیں ‘ اور غنا میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اہل حجاز کی ایک جماعت نے اس کو مباح کہا ہے اور یہ امام مالک سے ایک روایت ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور اہل عراق نے اس کو حرام کہا ہے ‘ امام شافعی کا مذہب اس کی کراہت ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ۔ پیشہ ور گانے والیاں وہ ہوتی ہیں جو اپنے گانے سے عورتوں کا شوق اور ان کی محبت پیدا کرتی ہیں اور بےحیائی کی طرف اپنے کلام میں تعریض اور اشارے کرتی ہیں اور پرسکون دلوں میں حسین عورتوں کی طلب کے جذبات کی آگ بھڑکاتی ہیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ غنا میں زنا ہے ۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٤ ص ٥٠٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)


حافظ شہاب الدین علی بن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی کے متعلق ایک قوم نے لکھا ہے کہ ان کی تحریم پر اجماع ہے اور بعض علماء نے اس کے برعکس لکھا ہے ‘ ہم کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی تشریح میں اس پر مفصل لکھیں گے ‘ اور فریقین کے شبہات کا ذکر کریں گے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ١١٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی شرح میں آلات موسیقی کی تحریم کی جس بحث کا وعدہ کیا ہے اس کا ذکر کرنا وہ بھول گئے ۔


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ : ⏬


علاوہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : صوفیہ نے آلات موسیقی کے ساتھ سماع کی جو بدعت رائج کی ہوئی ہے ‘ اس کی تحریم میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے ‘ لیکن جو لوگ نیکی کی طرف منسوب ہیں ان میں سے اکثر کے اوپر نفوس شہوانیہ اور اغراض شیطانیہ غالب ہوچکی ہیں اور اس کا ذکر ان میں اس قدر مسہور ہوچکا ہے کہ وہ اس کی تحریم اور اس کے فحش سے اندھے ہوچکے ہیں اور ان میں سے بہت لوگوں سے بےحیائوں ‘ ہیجڑوں اور بچوں کی قبیح حرکات صادر ہوتی ہیں ‘ اور وہ موزون اور منضبط حرکات کے ساتھ رقص کرتے ہیں اور ناچتے ہیں جس طرح جاہل اور بےحیاء کرتے ہیں ‘ اور ان کی بےحیائی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ کام عبادات اور نیک اعمال سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آلات موسیقی کے سماع سے دلوں کا زنگ دور ہوجاتا ہے ‘ اور تحقیق یہ ہے کہ یہ زندقی کے آثار ہیں اور اہل باطل کے اقوال ہیں ‘ ہم بدعتوں سے اور فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اور اللہ سے توبہ کا اور سنت پر عمل کرنے کا سوال کرتے ہیں۔ (المفھم ج ٢ ص ٥٣٤ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ : ⏬


امام ابوالفرج عبدالرحمن بن الجوزی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : ایک قوم کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ سماع اللہ عزوجل کی عبادت ہے ‘ جنید سے منقول ہے کہ ان صوفیاء پر تین وقتوں میں رحمت نازل ہوتی ہے کھانے کے وقت کیونکہ یہ فاقہ کے بعد کھاتے ہیں ‘ اور مذاکرہ کے وقت کیونکہ یہ صدیقین کے مقامات اور انبیاء کے احوال سے متجاوز ہوتے ہیں اور سماع کے وقت کیونکہ یہ وجد کے ساتھ سنتے ہیں اور حق کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر جنید سے یہ روایت صحیح ہے تو اس سماع سے ان اشعار کا سماع مراد ہے جو دلوں کو نرم کرتے ہیں اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں ‘ ابن عقیل نے کہا ہم نے ان صوفیاء سے سنا ہے کہ جب کوئی سار بان اونٹ کو ہنکاتے وقت گانا گاتا ہے اس وقت دعا کی جائے تو مستجاب ہوتی ہے : کیونکہ ان کا اعتقاد ہے کہ گانے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے ‘ ابن عقیل نے کہا یہ کفر ہے کیونکہ جو شخص حرام یا مکروہ کو عبادت اعتقاد کرے وہ اس اعتقاد سے کافر ہوجائے گا ۔ (تلسبیس ابلیس ص ٢٥٢ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)


امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب یہ صوفیا غناء کو سنتے ہیں تو وجد کرتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور چیختے ہیں اور کپڑے پھاڑ ڈالتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ کتنے ہی عابد جب قرآن مجید کو سنتے ہیں تو بعض مرجاتے ہیں ‘ بعض بےہوش ہوجاتے ہیں اور بعض چیختے اور چلاتے ہیں ‘ اور اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے ‘ حضرات صحابہ سے اس کی مثل نہیں سنی گئی ۔ سب سے صاف دل صحابہ کرام کے تھے اور جب ان کو وجد آتا تو وہ صرف روتے تھے اور خدا سے ڈرتے تھے ‘ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعظ کیا تو ایک شخص بےہوش ہوگیا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ہم پر دین میں کون تلبیس کررہا ہے اگر یہ سچا ہے تو یہ اپنی شہرت کررہا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اللہ اس کو مٹادے گا۔ (تلبیس ابلیس ص ٢٥٤۔ ٢٥٣ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ،چشتی)


نیز امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب صوفیاء پر رقص کے حال میں طرب طاری ہوتا ہے تو یہ ناچتے ناچتے کسی شخص کو مجلس سے اٹھا لیتے ہیں تاکہ وہ بھی کھڑا ہوجائے ‘ اور ان کے مذہب میں یہ جائز نہیں ہے کہ جو شخص جذب سے ناچ رہا ہو تو اہل مجلس بیٹھے رہیں جب وہ کھڑا ہو تو باقی لوگ بھی کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب کوئی شخص سرننگا کرے تو باقی لوگ بھی سرننگا کرلیتے ہیں ‘ حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت حرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہارِ ذلت کےلیے سر ننگا کرلیتے ہیں ‘ حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت احرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار ذلت کے لیے سرننگا کیا جاتا ہے۔ (تلبیس ابلیس ص ٢٦١‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)


امام موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ جنبلی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی تین قسم کے ہیں : ستار ‘ بانسری اور منہ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ‘ سارنگی ‘ طنبور اور ہاتھ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ‘ ان کا بجانا حرام ہے اور جو شخص عادتاً ان باجوں کو سنے اس کی شہادت مردود ہے ‘ اور دوسری قسم دف ہے ‘ خوشی کے مواقع پر عورتوں کا دف بجانا جائز ہے۔ اور مردوں کے لیے دف بجانا ہرحال میں مکروہ ہے۔ کیونکہ عورتیں اور مخنث دف جاتے ہیں اور مردوں کے دف بجانے میں عورتوں کی مشابہت ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مثابہت کرتے ہیں ‘ تیسری قسم چھڑی بجانا ہے یہ اس وقت مکروہ ہے جب اس کے ساتھ کوئی حرام یا مکروہ چیز ہو جیسے تالی بجانا ‘ گانا یا ناچنا۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٧٤۔ ١٧٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٦ ھ)


اس کے علاوہ لہو ولعب کے طور پر ایسے گانے بجانے جس میں بیہودہ باتیں ، خلاف شریعت الفاظ اورشہوت انگیز جملے ہوں اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔مسلمانوں کو اپنے رب سے ڈرنا چاہیے اور ان تمام تر خرافات سے انتہائی دور رہنا چاہیے۔آج کل کچھ لوگ نہایت شوق سے موسیقی کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور اسے سلسلہ چشتیہ کے بزرگوں کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ یہ نفس کا دھوکا ہے۔دف کے علاوہ ہاتھ اور منہ سے بجائے جانے والے آلات کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر شدید عذاب کی وعید سنائی جیسا کہ اوپر مکمل حوالہ کے ساتھ گزرا۔اور بزرگوں کی طرف اسے منسوب کرنا صاف جھوٹ اور ان پر غلط الزام ہے۔ان بزرگوں کی کتابوں میں صاف صاف اسے حرام وناجائز بتایا گیاہے ۔تفصیل کےلیے بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص اور محبوب الہی سیدنا نظام الدین علیہ الرحمہ کے خلیفہ محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی کی کتاب مستطاب’ سیر الاولیاء ‘ باب نہم در بیان وجد وسماع کا مطا لعہ کرے ۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب خرافات سے الگ ہو کر اللہ عزوجل کی شان میں حمد کے کلمات اور نبی دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت مبارکہ اور بزرگان دین کی شان میں منقبت کے اشعار اس کے علاوہ درست اورموافق شریعت اشعار ترنم کے ساتھ پڑھنا اور سننا بلا شبہ جائز ہے ۔


ضروری نوٹ : آج کل نعت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گانوں کی طرز پر اور آلات موسیقی پر پڑھا جا رہا ہے جو کہ توہین نعت بھی ہے اور توہین فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹانے آئے تھے اسی کو آج کل کے پیشہ ور لوگ نعت کے نام پر آگے بڑھا رھے ہیں اہل اسلام اس کا مکمل بائیکاٹ کریں اور علماء اسلام اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں اور حکم شرعی واضح طور پر لکھیں اللہ تعالیٰ ان ناچ گانے کی طرز پر نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے والوں سے ہمیں بچائے آمین ۔

    

قطب الاقطاب سیدنا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سیدنا محبوبِ الٰہی نظام الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ سیدنا محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب سیر الاولیاء میں  فرماتے ہیں : حضرت  سلطان المشائخ قدس سرّہ فرمود کہ چندیں چیز می باید کہ سماع مباح شود مسمع مستمع ، مسموع وآلہ سماع مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نہ باشد وعورت نہ باشد و مستمع آنکہ می شنود واز  یاد حق خالی نہ باشد ۔ ومسموع آنکہ گویند فحش ومسخرگی نباشد ۔ وآلہ سماع مزامیر است چوں چنگ ورباب ومثلِ آں می باید کہ درمیان نہ باشد ایں چنیں سماع حلال است ، یعنی محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چند شرائط کے ساتھ سماع حلال ہے : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا نہ ہو اور عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا جائے فحش، بے حیائی اور مسخرگی نہ ہو ۔ (4) آلۂ سماع یعنی سارنگی مزامیر ورباب سے پاک ہو ۔ (سیر الاولیاء باب 9 در سماع  ووجد و رقص صفحہ 501،چشتی)


ایک شخص نے حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار دُرویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب و مزامیر تھا رقص کیا تو حضرت نے فرمایا کہ انہوں نے اچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے وہ ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد کسی نے بتایا کہ جب یہ جماعت باہر آئی تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے سماع کس طرح سنا اور رقص کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا یہ کوئی جواب نہیں اس طرح تو ہر گناہ گار، حرام کار کہہ سکتا ہے ۔ (سیر الاولیاء بان 9 صفحہ 530)


حضرت سیدنا محبوبِ الٰہی نظام االدین علیہ الرحمۃ والرضوان کے ملفوظات پر مشتمل انہیں کے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ امیر حسن علائی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف فوائد الفوائد شریف میں ہے : دریں میاں شخصی بیامد وحکایت جماعتی تقریر کردہ کہ ہم اکنوں در فلاں موضع یارانِ شما جمعیتی کردند ومزامیر درمیاں بود خوجہ ذکراللہ بالخیر ایں معنیٰ ناپسندید فرمود کہ من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیاں نہ باشد ہرچہ کردہ اند نیکو نہ کردہ اند دریں باب بسیار غلومی فرمود ۔

ترجمہ : حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور بتایا کہ فلاں جگہ آپ کے مریدوں نے محفل کی ہے اور وہاں مزامیر بھی تھے حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا ــ اور فرمایا میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر ( باجے)  حرام چیزیں وہاں نہیں ہونا چاہیئے ان لوگوں نے جو کچھ کیا اچھا نہیں کیا اس بارے میں کافی ذکر فرماتے رہے ــ اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اگر کوئی کسی مقام سے گزرے تو شرع میں کرےگا اور اگر شرع سے گرا تو کہاں گرےگا ۔ (فوائد الفوائد، جلد 3 مجلس پنجم مطبوعہ اردو اکاڈمی دہلی صفحہ 512 ترجمہ خواجہ حسن نظامی،چشتی)


مسلمانو ! ذرا دل میں ہاتھ رکھ کر سوچو کہ ایک طرف تو حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ ہے جو اوپر درج ہے اِن اقوال کے ہوتے ہوئے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ  قوالی جائز ہے ـ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں نہ قادری انہیں تو مزےداریاں اور لطف اندوزیاں چاہیے ۔ اور اب جبکہ تقریبًا سارے قوال بے نمازی اور فاسق وفاجر ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں ۔ یہاں تک کہ عورتیں اور اَمْرَدْ لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین وایمان سے کوئی محبت نہ ہو اور حرام کاری ، بے حیائی ، بدکاری اس کے رگ وپے میں سرایت کر گئی ہو ۔ اور قرآن وحدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہ ہو ۔ کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہے کہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لاکر ان کے گانے بجانے کرائے جائیں پھر ان تماشوں کا نام عرسِ بزرگانِ دین رکھا جائے ۔ کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب اسلام کو بدنام کیا جائے ؟


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز اور نا اہل کےلیے ناجائز ہے  ایسا کہنے والوں سے ہم پوچھتے ہیں کہ آج کل جو قوالیوں کی مجالس میں لاکھوں لاکھ کے مجمع ہوتے ہیں کیا یہ سب اہل اللہ اور اصحاب استغراق ہیں ؟ ۔ جنہیں متاعِ دنیا کا قطعًا ہوش نہیں ؟ ۔ جنہیں یادِ خدا ذکر الٰہی سے  ایک آن فرصت نہیں ؟


خرّاٹے کی نیندوں اور گپّوں شپّوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے، چور ،  ڈکیت ، جھوٹے فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ کیا  سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہوکر اللہ والے ہو جاتے ہیں ؟ اور خدا کی یاد میں محو ہو جاتے ہیں ؟ ۔ یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج و مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ ۔ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔ یاد رکھو قبر کی اندھیری کوٹھری میں کوئی حیلہ وبہانہ نہ چلےگا ۔


بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ مزامیر کے ساتھ  قوالی ناجائز ہوتی تو درگاہوں اور خانقاہوں میں کیوں ہوتی ؟ ۔ کاش یہ لوگ جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث اور بزرگانِ دین کے مقابلے میں آجکل کے فُسّاق داڑھی منڈانے والے ، نمازوں کو قصدًا چھوڑنے والے ، بعض خانقاہیوں کا عمل پیش کرنا دین سے دوری اور سخت نادانی ہے جو احادیث ہم نے اوپر لکھیں اور بزرگانِ دین کے اقوال نقل کئے ان کے مقابل نہ کسی کا قول معتبر ہوگا نہ عمل ۔ آج کل خانقاہوں میں کسی کام کا ہونا اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ۔


آخر میں ایک بات یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ : جو کوئی خلافِ شرع کام کی بنیاد ڈالتا ہے تو اس پر اپنا اور سارے کرنے والوں کا گناہ ہوتا ہے ۔  لہٰذا جو مزامیر کے ساتھ قوالیاں کراتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیتے ہیں ان پر اپنا، قوالوں ، اور لاکھوں تماشئیوں کا گناہ ہے اور مرتے ہی انہیں اپنے انجام دیکھنے کو مل جائے گا ۔


سماع کی شرائط : ⏬


سیدی مولانا محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی مرید حضور پرنورشیخ فرید الحق والدین گنج شکر و حضور سیدنا محبوب الٰہی رحمہم اللہ علیہم کتاب مستطاب سید الاولیاء میں فرماتے ہیں : حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ تعالیٰ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ چند شرائط ہوں تو سماع مباح ہو گا ، کچھ شرطیں سنانے والے میں کچھ سننے والے میں ، کچھ اس کلام میں جو سنائی جائے ، کچھ آلہ سماع میں یعنی : ⏬


(1) سنانے والا کامل مرد ہو

(2) چھوٹا لڑکا نہ ہو

(3) عورت نہ ہو

(4) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو

(5) جو کلام پڑھی جائے فحش نہ ہو

(6) تمسخرانہ انداز کی نہ ہو

(7) آلات سمع یعنی مز امیر جیسے سارنگی اور باب وغیرہ .... چاہیے کہ ان چیزوں سے کوئی موجود نہ اس طرح کا سماع حلال ہو گا ۔

مسلمانو ! یہ فتویٰ ہے مرور سردار سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان اولیاء رحمة اللہ علیہ کا ، کیا اس کےبعد بھی مفتریوں کو منہ دکھانے کی گنجائش ہے ؟


اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : ایک آدمی نے حضرت شیخ المشائخ کی خدمت میں عرض کی کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار درویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب اور دیگر مزامیر تھے ، رقص کیا ( دھمال ڈالا) فرمایا انہوں نےاچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے ، ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد ایک نے کہا : جب یہ جماعت اس مقام سے باہر آئی ،لوگوں نے ان سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر (آلات موسیقی) تھے ، تم نے سماع کس طرح سنا اوررقص کیا ( دھمال ڈالا) انہوں نے جواب دیا ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ، سلطان المشائخ نےفرمایا : یہ جواب کچھ نہیں ، اس طرح تو تمام گناہوں کے متعلق کہہ سکتے ہیں ۔


مسلمانوں کیسا صاف ارشاد ہے کہ مزامیر (آلات موسیقی) ناجائز ہیں اور اس کاعذر کا کہ ہیمں استغراق کے باعث مزامیر کی خبر نہ ہوئی ، کیا مسکت جواب عطاء فرمایا کہ ایسا حیلہ ہرگناہ میں چل سکتا ہے شراب پینے اور کہ دے کہ شدت استغراق کے باعث ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یاپانی ، زنا کرے اور کہ دے کہ غلبہ حال کے سبب ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جورو ہے یا بیگانہ ۔ اس میں ہے ۔


اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : حضرت شیخ المشائخ نے فرمایا میں نے منع کر رکھا ہے کہ مزامیر اور دیگر محرمات درمیان میں نہ ہوں اور اس بات میں آپ نے بہت مبالغہ کیا ، یہاں تک فرمایا کہ اگر امام نماز میں بھول جائے مرد تو سبحان اللہ کہہ کر امام کو مطلع کرے اور عورت سبحان اللہ نہ کہے کیونکہ اس کو اپنی آواز سنانا نہ چاہیے پس ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر نہ مارے کہ اس طرح یہ کھیل ہو گا بلکہ ہاتھ کی پشت دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے جب یہ یہاں تک لہو و لعب کی چیزوں اور ان جیسی چیزوں سے پرہیز آئی ہے تو سماع بطریق اولیٰ منع ہیں ۔ مسلمانو! جو ائمہ طریقت علیہم الرّحمہ اس درجہ احتیاط فرمائیں کہ تالی کی صورت کو ممنوع بتائیں وہ اور معاذاللہ مزامیر کی تہمت ، للہ انصاف ! کیسا ضبط بے ربط ہے ، اللہ تعالیٰ اتباع شیطان سے بچائے اور ان سچے محبوبان خدا کا سچا اتباع عطاء فرمائے آمین ۔ مروجہ قوالی مع مزامیر کے بارے میں  امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرما تے ہیں : مزامیر جائز نہیں حضور سیدناسلطان المشائخ نظام الحق والدین سردار سلسلہ عالیہ  چشتیہ نظامیہ فوائدالفوائد شریف میں ارشاد فرما تے ہیں ۔ مزامیر حرام است یعنی مزامیر حرام ہے ۔ ( فتاوی رضویہ  جلد نمبر ۲۱ صفحہ نمبر ۱۱۶ مترجم جدید،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ احکام شریعت صفحہ 176 میں ایک مسئلہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے مزامیر کیساتھ قوالی ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : خالی قوالی جائز ہے اور مزامیر حرام زیادہ غلو اب منتسبان سلسلہ چشتیہ کو ہےحضرت سلطان المشائخ محبوب الہی رضی اللہ تعالی عنہ (مراد حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ ہیں) فوائد الفواد شریف میں فر ماتے ہیں مزامیر حرام است ( باجے ساز گانے کے آلات) حضرت یحیی منیری رحمۃ اللہ علیہ نے مزامیر کو زنا کیساتھ شمار کیا ہے ۔ (احکام شریعت کےصفحہ نمبر 81 پر کافی تفصیلی گفتگو کی ہے)


فتاوی رضویہ میں امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے ۔۔۔ اور کہتا ہے کہ مزامیر اُن باجوں کو کہتے ہیں ، جو منہ سے بجائے جاتے ہیں ۔  ڈھلک ، ستار ، طبلہ ، مجیرے ، ہارمونیم ، سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ ان کا اوردف کاایک حکم ہے ۔ (اس کے جواب میں امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : زیدکاقول باطل و مردود ہے ، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کا لفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 140 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنا کیساہے ؟

اس کے جواب میں فرمایا : قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مرا د کہ ڈھول ستار کے ساتھ ، جب تو حرام اور سخت حرام ہے اور اگر صرف خوش الحانی مراد ہے ، تو کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو ، تو جائز بلکہ محمود ہے اور اگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو ، تو ناپسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 664 رضافاؤنڈیشن لاهور)


اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا ، ناچ کرانا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 98 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)


متصوفہ زمانہ (بناوٹی صوفی ) کہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور کبھی اوچھلتے کودتے اور ناچنے لگتے ہیں اس قسم کا گانا بجانا ، ناجائز ہے ، ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے ، مشایخ سے اس قسم کے گانے کا کوئی ثبوت نہیں ۔ جو چیز مشایخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھ دیا جو ان کے حال و کیف کے موافق ہے تو ان پر کیفیت و رقت طاری ہوگئی اور بے خود ہو کر کھڑے ہوگئے اور اس حال وارفتگی میں ان سے حرکات غیر اختیاریہ صادر ہوئے ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مشایخ و بزرگانِ دین کے احوال اور ان متصوفہ کے حال و قال میں زمین آسمان کا فرق ہے ، یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ، جن میں فساق و فجار کا اجتماع ہوتا ہے ، نااہلوں کا مجمع ہوتا ہے ، گانے والوں میں اکثر بے شرع ہوتےہیں ، تالیاں بجاتے اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے کودتے ناچتے تھرکتے ہیں اور اس کا نام حال رکھتے ہیں ان حرکات کو صوفیہ کرام کے احوال سے کیا نسبت ، یہاں سب چیزیں اختیار ی ہیں وہاں بے اختیاری تھیں ۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 511 مکتبۃالمدینہ کراچی)


مروجہ قوالی جو مزامیر کے ساتھ ہوتی ہے  نہ شریعت میں جائز ہے ، نہ مشائخِ  چشت سے ثابت ہے ۔ (فتاوی بحر العلوم جلد 5 صفحہ 583 شبیر برادرز ،لاہور)


مروجہ ڈھول کو جائز کہنے والے شریعت پرجھوٹ باندھنے والے ہیں ، ان سے کہا جائے کہ اگرتم سچے ہو ، تو دکھاؤ شریعت میں اسے کہاں جائز بتایا گیاہے ؟ان سب پراس افتراء سے توبہ کرنافرض ہے ۔

ناک کان ہاتھوں پیروں میں کسی قسم کا  زیور جائز نہیں ہے اگر چہ پلاسٹیک کا ہو کہ یہ عورتوں سے مشابہت ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا من تشبہ بقوم فھو منھم ۔

مرد کےلیے صرف چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ والی وہ بھی ساڑھے چار ماشے کم ہو جائز ہے اس کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا زیور جائز نہیں ۔ (کتبِ فقہ)


 مذکورہ بالا افعال کا حامل خص فاسق معلن ہے اس سے اذان پڑھوانا ، قوالی یعنی محفلِ سماع میں کلام پڑھوانا یا نعت وغیرہ سننا ناجائز ہے کہ فاسق کی تعظیم نا جائز ہے اور منبر پر بٹھانے نعت پڑھوانے پر اس کی تعظیم ہے ۔ توبہ کرکے پھر گناہ کرنا بہت برا ہے اور یہ اللہ کے ساتھ استہزا کرنا ہے اس لیے جب تک وہ امور قبیحہ و شنیعہ سے سچے دل سے توبہ نہ کرلے اور قبیحہ افعال سے باز نہ آجائے اس کا بائیکاٹ کر دیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ  فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ۔ (سورہ انعام آیت نمبر ۶۸)

 ترجمہ : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔


جب استغفار کرلے اور افعال قبیحہ سے باز آجائے تو اذان دینے اور میلاد وغیرہ میں بلانے میں کوئی حرج نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

غیر مقلد وہابیوں کا علم غیب و کرامات اورغیر اللہ سے مدد مانگنا

غیر مقلد وہابیوں کا علم غیب و کرامات اورغیر اللہ سے مدد مانگنا

نوٹ : ۔ میرے پاس ان تمام کتابوں کے اسکن موجود ہیں

غیر مقلد وھابی نام نہاد اھلحدیث کی عادت ہے کہ علماء اھلسن و جماعت کی کتابوں سے بزرگوں کی کرامات اور کشف کے چند واقعات بیان کر کے ان بزرگوں پہ شرک اور کفر کے فتوے لگاتے پھرتے ہیں. لیکن غیر مقلد حضرات لوگوں کو یہ نہیں بتاتے جیسے واقعات یہ اھلسنت و جماعت کی کتابوں سے پیش کرتے ہیں ایسے ہی علم غیب، کشف و کرامات اور الہامات کے واقعات غیر مقلدین کے اکابر علماء سے بھی مذکور ہیں جو کہ ان کی کتابوں میں لکھے ہیں لیکن غیر مقلدین یہ واقعات لوگوں کے سامنے پیش ہی نہیں کرتے تاکہ ان کے قرآن و حدیث کے دعوے کا بھرم لوگوں کے سامنے بنا رہے اور ان کے علماء کے شرک اور کفر والے واقعات، کرامات اور الہامات لوگوں کے سامنے نہ آ سکیں اور کوئی ان پہ اعتراض نہ کر سکے۔

غیر مقلدین کا یہ دھوکہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے میں غیر مقلدین کے مستند علماء کی کرامات اور ان کا تصوف آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں تاکہ سب کو غیر مقلدین کی نفس پرستی اور اکابر پرستی کا علم ہو سکے کہ جن واقعات کے کتابوں میں موجود ہونے پر یہ اھلسنت و جماعت کے خلاف کفر و شرک کے فتوے صادر کرتے ہیں ایسے ہی واقعات اور کرامات ان کے علماء سے مذکور ہونے پر ان کے شرک اور کفر کے فتوے غائب ہو جاتے ہیں اور یہی ان کی نفس پرستی اور اکابر پرستی کی اعلیٰ مثال ہے۔

غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ اگر وہ ان علماء کو نہیں مانتے تو پھر جیسے کفر اور شرک کے فتوے وہ اھلسنت و جماعت کی کرامات اور ان کے واقعات پہ لگاتے ہیں ایسے ہی کفر اور شرک کے فتوے ذرا اپنے ان علماء پہ بھی لگائیں تاکہ حقیقت پتہ چل سکے کہ تم لوگ اکابر پرست ہو یا قران و حدیث پہ عمل کرنے والے ہو ؟

رسول اللہ ﷺ کا غیر مقلد مولوی غلام رسول سے ملنے کے لیے حالت بیداری میں قلعہ میاں سنگھ تشریف لانا
''جناب تایا صاحب حکیم غلام محمد نے فرمایا ۔ میں نے مولوی صاحب کو کہا ہم حکام کی باز پرس سے تنگ آگئے ہیں بہتر ہے کہ ہم یہاں کی بودو باش ترک کرکے کسی ریاست میں جا کر قیام کریں مولوی صاحب نے فرمایا : بھائی جان آپ کا فرمانا بجا ہے ۔ لیکن میں مجبور ہوں ۔ کیونکہ ایک دن میں مسجد میں سویا ہوتھا کہ ایک شخص نے مجھے آکر جگایا اور کہا کہ میرے ساتھ چلو تم کو رسول اللہﷺ بلاتے ہیں ۔ میں اس کے ساتھ ہولیا۔ جب گاؤں سے باہر نکلا تو دیکھتا ہوں کہ حضور ﷺ کی پالکی پڑی ہے ۔ حاضر ہوکر میں نے سلام کیا۔ آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور فرمایا غلام رسول ہم تمہاری مسجد کو جانا چاہتے ہیں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑے رکھا اور پالکی والوں نے پالکی اٹھالی مسجد میں تشریف لاکر اسی پکڑے ہاتھ سے مجھے منبر پر بٹھا یا اور فر مایا : وعظ کرو ، تم سے لوگوں کو ہدایت ہوگی ۔ تمہاری یہی بودوباش ہے۔ بھائی صاحب فرمائیے میں تو مامور ہوں ، کیسے اس جگہ کو چھوڑ سکتا ہوں ؟ ‘‘ (سوانح حیات غلام رسول، صفحہ 141)

غیر عورت کو اپنے گھر بلانے کا غیر مقلدی نسخہ : قلعہ میاں سنگھ میں ایک گلاب نامی چوکیدار تھا ، وہ موضع مرالی والہ میں چوکیدار مقرر ہو کرچلاگیا۔ وہاں ایک بیوہ دھوبن تھی۔اس کے دام الفت میں گرفتار ہوگیا۔ جب مرالی والہ کے باشندوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے گلاب کو وہاں سے نکال دیا وہ واپس ’’قلعہ میاں سنگھ ‘‘ میں آگیا ۔ اب چوکیدار نے یہ دستور مقرر کرلیا کہ روزانہ مولوی (غلام رسول غیر مقلد) صاحب کے پاس جاتا اور یہ کہتا کہ حضرت میں مرچکا ہوں ۔ ایک دن مولوی صاحب قریب کے بالا خانے میں قیلولہ فر مارہے تھے۔ گلاب مولوی صاحب کے ایک خادم بڈھا کشمیری کو سفارشاً ساتھ لے کر مولوی صاحب کی خدمت میں پہنچا اور دستور کے موافق مولوی صاحب کو دابنا شروع کیا اور اپنی سابقہ درخواست پیش کی ۔ بڈھانے بھی مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ حضرت اس بات میں کیا گناہ ہے ، عورت بیوہ ہے، اگر اس کا نکاح ہوجاوے تو کارِ ثواب ہے۔ آپ نے بڈھا کشمیری کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اس سے قسم لے لو کہ یہ شخص قبل از نکاح اس کو مس نہ کرے گا۔ گلاب نے قسم اٹھائی کہ قبل از نکاح بالکل عورت مذکورہ کو مس نہ کروں گا ۔

مولوی صاحب نے فرمایا کہ بعد از نماز عشا اپنے گھر کے چھت پر کھڑے ہو کر ’’ مرالی والا ‘‘ کی طرف منہ کرکے تین دفعہ یہ لفظ کہنا۔ آجا ،آجا، آجا۔تین روز ایسا ہی کر کے پھر مجھے بتانا،تیسرے روز عصر کے قریب عورت مذکورہ گلاب کے گھر آگئی اور کہنے لگی کہ پرسوں عشا سے لے کر اب تک میرے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی۔ تمہارے گھر میں داخل ہوتے ہی آرام ہوگیا۔ گلاب اس عورت کو پکڑ کر اندر لے گیا۔ اور متواتر تین روز اندر ہی رہا۔تیسرے روز قیلولہ کے وقت مولوی صاحب نے بڈھا کشمیری کو بلا کر فرمایا کہ جاؤ اور اس موذی کو پکڑ کر لاؤ وہ اس وقت زنا کررہا ہے۔ بڈھا فوراًگیا اور گلاب کو پکڑلایا۔ مولوی صاحب نے کہاکہ جا میری آنکھوں کے سامنے سے دور ہوجا۔وہ لوٹ کرگھرگیا۔وہ عورت جیسے آئی تھی ویسے خفا ہو کر چلی گئی۔ ‘‘(سوانح حیات مولانا غلام رسول ص ۹۹۔ ۱۰۰)

۔بیداری کی حالت میں اعتراض کرنیوالوں کے نام تقریر سے پہلے جان لینا
غیر مقلد عالم غلام رسول قلعوی کہتے ہیں کہ '' جب میں وعظ کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تواللہ کے فضل و کرم سے تمام اعتراضات و سوالات کی فہرست اعتراض کرنے والے کے نام کے ساتھ مجھے پیش کر دی جاتی ہے'' ( تذکرہ غلام رسول قلعوی، صفحہ 234، مصنف ، مورخِ اہلحدیث محمد اسحٰق بھٹی)
سوال یہ ہے کہ حالت بیداری میں وعظ کرنے کے دوران مولانا کے سامنے اعتراض کرنے والوں کے ناموں کی لسٹ کیسے سامنے آ جاتی ہے؟
کیا حالت بیداری میں ایسی کرامت کا اظہار ہونا ممکن ہے؟ کیا مولانا غلام رسول علم غیب جانتے تھے؟
کرامت کے منکر غیر مقلدین اپنے اس عالم کی اس کرامت پہ کیا فتوی لگائیں گے؟؟

غیر مقلد عالم صوفی صاحب کے اختیار میں ہے کٹا،کٹی دلوانا : میرے فیصل آباد کے ایک دوست مولوی محمد رمضان یوسف سلفی نے بتایا کہ صوفی صاحب کسی گاؤں میں گئے اور ایک شخص انہیں اپنے گھر لے گیا اور کہا کہ میری بھینس ہر سال کٹا جنتی ہے ، دعا فرمایے یہ کٹی جنے۔ صوفی صاحب نے بھینس کی دم پکڑی اور اسے تین دفعہ کھینچ کر کہا ۔ دے کٹی … دے کٹی…دے کٹی…اس کے بعد اس نے متواتر تین کٹیاں دیں۔ ‘‘ [صوفی محمد عبداللہ حالات ، خدمات ، آثار ص 321 ]

غیر مقلد عالم صوفی عبداللہ کو لڑکا لڑکی دینے کا اختیار : اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے مختلف مواقع پر صوفی صاحب کے مختلف طریقے تھے، ایک شخص نے عرض کیا میری کئی لڑکیاں ہیں ، لڑکا کوئی نہیں۔ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ لڑکا عطا فرمادے… صوفی صاحب نے اس کی بات سن کر زمین پر لکیریں کھینچنا شروع کیں اور ساتھ ہی لکیریں گننے لگے۔ پہلی لکیر کھینچی تو کہا ایک ۔ دوسری کھینچی تو کہا دو ۔ تیسری کھینچی تو کہا تین۔چوتھی لکیر آدھی کھینچی تھی اور ابھی لفظ ’’ چار ‘‘ زبان سے نہیں نکلا تھا کہ درخواست کنندہ نے ہاتھ پکڑلیا اور عرض کیا، بس تین ہی بہت ہیں۔ اس عمل کا اثر یہ ہوا کہ تین لڑکے صحیح اور تندرست پیدا ہوئے اور چوتھا ساڑھے چار مہینے کے بعد ساقط ہوگیا ۔
یہ بات صاحب واقعہ نے میرے فیصل آباد کے دوست علی ارشد صاحب کو بتائی اور انہوں نے مجھ سے بیان کی ۔ ‘‘[صوفی محمد عبداللہ حالات و خدمات ، آثار ص،359 360 ]

غیر مقلد عالم سلمان منصور پوری کا علم غیب : قاضی منصور پوری صاحب تیس سال تک پٹیالہ کی مسجد میں خطبہ جمعہ فرماتے رہے اور 1930 میں جب دوسرے حج کے لئے روانہ ہوئے تو نماز جمعہ کے بعد فرمایا کہ اس مسجد میں یہ میرا آخری جمعہ ہے۔۔۔۔۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مولانا حج سے واپسی پر جہاز میں وفات پا گئے۔۔(قاضی محمد سلمان منصور پوری، صفحہ 387،388)۔
مولانا صاحب کو کیسے پتا چل گیا کہ ان کا اس مسجد میں آخری جمعہ ہے؟؟؟؟
کیا مولانا سلمان منصور پوری کو علم غیب حاصل تھا؟؟؟

اہلحدیث عالم محمد شریف گھڑیالوی کی کرامت اور علم غیب : اہلحدیث عالم محمد شریف گھڑیالوی کی کرامت ہے کہ ایک آدمی مر گیا اور ان کا والد مولانا صاحب کو جنازہ کے لئے لے گئے تو مولانا نے پہلے ہی کہہ دیا کہ آپ کا بیٹا مرا نہیں اور وہ اس مرض سے کبھی نہیں مرے گا بلکہ وہ غشی میں ہے،، چنانچہ اس کے والد واپس گئے تو دیکھا کہ واقعی وہ زندہ تھا۔۔۔
گھڑیالہ سے ایک میل دور سکھوں اور اوڈوں کی لڑائی ہو رہی تھی تو مولانا نے گھر بیٹھے بتا دیا کہ اس طرح لڑائی ہو رہے ہے اور بعد میں ایک اوڈ نے وہی کیفیت بتائی جو مولانا نے بتائی تھی۔۔(اسلامی شکل و صورت، مولانا شریف گھڑیالوی، صفحہ 110)۔
اب مولانا کو کیا غیب کا علم تھا جو بتا دیا کہ لڑکا زندہ ہے اور لڑائی بھی اتنے دور سے دیکھ لی؟؟؟

غیر مقلد عالم کا اللہ سے جھگڑا کر کے اپنی بات کو منوانا۔ : غیر مقلد عالم نذیر احمد سبحانی کا کہنا ہے کہ صوفی عبداللہ اللہ کے اتنے لاڈلے تھے کہ اللہ سے جھگڑا کر کے اپنی بات منوا لیتے تھے۔ـ( علمائے اہلحدیث کا ذوق تصوف، صفحہ 83)
غیر مقلد یہ نہ کہیں کہ یہ حوالے اور کرامات غلط ہیں اسی لئے غیر مقلد عالم کہتے ہیں کہ ان کے بڑوں کی یہ کرامات افسانے نہیں بلکہ حقیقت ہیں(علمائے اہلحدیث کا ذوق تصوف ص79)

غیر مقلدو! تمہارا عالم اللہ سے جھگڑا کر کے اپنی بات منوائے تو ولی اور اگر کوئی دیوبندی ،بریلوی کوئی کرامت بیان کر دے تو مشرک! کچھ تو انصاف کرو!
ہے کوئی قرآن اور حدیث پہ عمل کرنے والا غیر مقلد جو اللہ سے جھگڑا کرنے پر اپنے اس عالم پہ فتوی لگائے؟؟

غیر مقلد عالم صوفی عبداللہ کے میلے کپڑوں میں شفا : غیر مقلدین کے مورخ اسحاق بھٹی بیان کرتے ہیں کہ ان کومشہور غیر مقلد عالم صوفی عبداللہ کے مرید حکیم صاحب نے بتایا کہ ان کی بیوی کو پیٹ میں درد ہوا جو کہ ٹھیک نہیں ہو رہا تھا اور پھر ان کی بیوی نے صوفی عبداللہ کے میلے کپڑوں کا پانی پیا تو درد ٹھیک ہو گیا۔(علمائے اہلحدیث کا ذوق تصوف، صفحہ 35)
علمائے دیوبند کی کرامتیں بیان کرکے ان پر شرک اور کفر کا فتوی لگانے والے غیر مقلدو! اپنے اس اکابر کی کرامت پہ بھی شرک اور کفر کا فتوی لگاؤ۔

غیر مقلد عالم بارک اللہ گیلانی کو دنیا میں جنت کی بشارت : غیر مقلدین کے عالم ثناء اللہ گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کے والد بارک اللہ گیلانی کو دنیا میں جنت کی بشارت ملی تھی۔(اہلحدیث علماء کا ذوق تصوف، صفحہ 58)

یہ اہلحدیث عالم ثناء اللہ گیلانی جامع مسجد مکی اہلحدیث دھرنگ کے امام اور خطیب بھی ہیں۔
غیر مقلدو! تمہارے عالم کو تو دنیا میں ہی جنت کی بشارت مل گئی۔ اس کو علم غیب کہو گے یا الہام یا کشف؟ ہمت ہے تواپنے عالم کا نام لے کر اب لگاؤ کرامت پہ کفر اور شرک کا فتوی!

نبی کریمﷺ کا قُرب روحانی حاصل کرنے کے لئے غیر مقلدین کا وظیفہ : غیرمقلدین کے مشہور عالم ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب نے نبی کریم ﷺ کا روحانی قرب حاصل کرنے کے لئے سورۃ کوثر کا وظیفہ بتایا کہ ''شبِ جمعہ کو باوضو بیٹھ کر 1000 بار سورۃ کوثر مع بسم اللہ پڑھے تو نبی کریم ﷺ کی زیارت ہو گی'' اس قرب کی دلیل میں نیچے شاہ عبدالعزیزؒ کا واقع بیان کیا کہ شاہ صاحبؒ کو نبی کریم ﷺ کی حضوری حاصل تھی اور ایک بار شاہ صاحبؒ کے مکان میں حقہ تھا تو نبی کریم ﷺ تشریف نہ لائے۔(سراجاََ منیرا، صفحہ26)

پہلا سوال یہ ہے کہ اول جو عمل سورۃ الکوثر کا مولانا میرسیالکوٹی بتا رہے ہیں کس حدیث سے ثابت ہے ؟
دوسرا سوال: اب زیارت ﷺ جو مقصد مومن ہے ،اس کی تنبیہ میں ایک تاریخی واقعہ نقل کیا ہے،وہ واقعہ اس بات کی طرف واضح دلیل ہے کہ مولانا میر صرف خواب میں زیارت کے قائل نہ تھے بلکہ جاگتے ہوئے کھلی آنکھوں سے اس دار دنیا میں تشریف لانے کے قائل تھے۔ کیا بیداری میں نبی کریم ﷺ کی زیارت ممکن ہے؟
کیا مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی کا بیداری میں نبی کریمﷺ کی زیارت کا عقیدہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟
مولانا ابراہیم سیالکوٹی اس عقیدہ کی وجہ سے مشرک ہوئے یا نہیں؟
غیر مقلدو! اپنے عالم کے اس عقیدہ کی قرآن اور حدیث سے دلیل لاؤ یا پھر ان پہ بھی شرک اور کفریہ عقیدہ کا وہ فتوی لگاؤ جو فضائل اعمال کے واقعات پہ لگاتے ہو۔

غیر مقلد عالم عبداللہ غزنوی کے الہامات : آپ بچپن میں غزنی کے علماء سے پڑھتے رہے،علوم متداولہ کی تحصیل آپ نے وہی کی ،آُ پکی تیز فہمی اور سلامتی فکر پہ لوگوں کو حیرت ہوتی تھی،تفسیر وحدیث سے آپکو والہانہ شغف تھا۔غزنی میں کوئی ایسا مقتدر عالم نہ تھا،جس سے آپکا علمی زوق تسکین پاسکتا ،کسی مشکل مقام کے سمجھنے میں دقت محسوس ہوئی،یا کسی دہنی مسلۂ میں اشکال پید اہوتا ،تو غزنی کہ علماء سے تسلی بخش جواب نہ ملتا،آپ فرماتے تھے مجے ان دنوں الہام ہوا کہ حضرت شیخ حبیب اللہ قندھاروی ؒ سے رجوعکرو،غزنی سے قندھار کا رستہ کافی طویل تھا،اور اس زمانے میں سخت دشوار
گزار بھی تھا،شیخ حبیب اللہ قند ھاروی ؒ کے چشمہ علم سے پیاس بجھانے کی خاطر آپ سفر کی سختیاں جھیلتے ہوئے قندھار پہنچے،کچھ مدت ان سے استفادہ کیا ،اور وطن لوٹ آئے،اسکے بعد جب کوئی مشکل مسلۂ درپیش آتا تو آپ انہی کو لکھ بھیجتے،حضرت الشیخ کا جواب ہمیشہ محققانہ ہوتا۔کچھ مدت کے بعد آپ نے ایک بار پھر قندھار کا سفر کیا ،اور بعض اشکالات کے حل کے لئے اپنے شیخ کے پاس حاضر ہوئے۔حضرت الشیخ کو تعجب ہوتا کہپ یہ شخص محض مسائل پوچھنے کے لئے اتنی لمبی مسافت طے کرتا ہے ۔حضرت الشیخ علماء کی بھری محفل میں فرمایا کرتے تھے:۔
مسائل دینیہ را چنا ایں شخص می فہمد سن خود نمی فہم ( یہ شخص دینی مسائل کو جسطرح سمجھتا ہے،میں بھی نہیں سمجھتا۔)
دوسری بار جب حضرت الشیخ سے رخصت ہونے لگے ،تو حضرت الشیخ نے آپ سے فرمایا:۔
’’قندھار شہر آپ سے بہت دور ہے،اور آپکو یہاں آنے میں سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے،آپ یہ زحمت نہ فرمایا کیجئے۔
حضرت نے فرمایا:۔میرا آنا دین کی خاطر ہے ،اور سفر کی یہ صعو بتیں جو میں جھیلتا ہوں ،تو اپنی عاقبت سنورانے کیلئے جھیلتا ہوں ،حضرت الشیخ نے فرمایا:۔
’’ میں جانتاہوں کہ خدا کود آپکی تربیت کر رہا ہے،آپکو میری ضرورت نہیں ،خدا آپکو کبھی ضائع نہیں کریں گا،اگر کبھی کوئی عقدہ پیش آیا ،تو مجھے یقین ہے کہ خدا بزرگ وبرتر کسی دیوار اور کدی درخت کو آپ کے لئے گویا کر دے گا ،آپ فرمایا کرتے تھے :۔
رب ما جل شانہ مواقق گفتہ شیخ نامن معاملہ کردہ است
(میرے پروردگار نے شیخ کے ارشاد کے مطابق درو دیوار کو میرے لیا گویا کر دیا)
(بحوالہ حضرت مولانا سید داؤد غزنویؒ ص ۲۲۲،۳۲۲)
کہاں گئے شرک اور کفر کا فتوی لگانے والے غیر مقلد؟؟؟؟

غیر مقلد عالم عبدالجبار غزنوی کا دنیا کو تسخیر کرنے کے لئے وظیفہ کرنا
غیر مقلد عالم ابو بکر غزنوی کہتے ہیں کہ ان کے دادا عبدالجبار غزنوی حزب البحر وظیفہ باقاعدگی سے کرتے تھے۔حزب البحر وظیفہ تسخیر کا وظیفہ ہے جس میں وظیفہ کرنے والا اللہ تعالی سے درخواست کرتا ہے کہ یہ زمین، آسمان، ہوا ، فضا، صحرا، دریا ، بیاباں،کوہستاں، پہاڑ ، سمندر ، انسان اور تمام مخلوق میرے لئے مسخر کر دے۔(تحریک اہلحدیث تاریخ کے آئینے میں، صفحہ 335)

اس حوالے سے ثابت ہوا کہ غیر مقلد عالم عبدالجبار غزنوی تمام مخلوقات کو مسخر کرنا چاہتا تھا اور اس کے لئے وظیفہ کرتا تھا۔

کیا کوئی غیر مقلد اس حزب البحر وظیفہ کی قران اور حدیث سے دلیل دے سکتا ہے؟؟؟

کیا کوئی غیر مقلد اس حزب البحر وظیفہ شرعی حیثیت بتا سکتا ہے؟؟؟

ہے کوئی غیر مقلد جو اپنے عالم کے اس وظیفہ کی شرعی حیثیت بتا سکے اور قرآن و حدیث سے اس کی کوئی دلیل دے سکے؟؟؟؟

غیر مقلد مشہور عالم نواب صدیق حسن خان صاحب کی روحوں سے فیض حاصل کرنے کی وصیت

غیر مقلد مشہور عالم نواب صدیق حسن خان صاحب روحوں سے فیض حاصل کرنے کی وصیت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ '' اس مسئلہ اور اس امر میں کہ ارباب صاحب دل و اولیاؒ اور انبیاء علیہم السلام کی ارواح مقدسہ سے بغیر رسوم اور بدعات کی پابندی کے جو اصل ضلالت کا شیوہ ہے اپنے مناسب حال فیض اٹھائیں تو اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے''ـ(مآثر صدیقی، جلد 4 صفحہ 128،129)
غیر مقلدو! تمہارا سب سے بڑا عالم انبیاء اور اولیاءکی ارواح سے فیض حاصل کرنے کی وصیت کر رہا ہے تو اتنا ہی قرآن اور حدیث کے ماننے والے ہو تو یا تو اس کو قرآن و حدیث سے ثابت کرو یا پھر لگاؤ فتوی اپنے نواب صدیق حسن خان پہ شرک کا۔

غیر مقلدین کے نواب صدیق حسن خان صاحب کا نبی کریم ﷺ سے مدد مانگنا
غیر مقلدین کے نواب صدیق حسن خان صاحب نبی کریم ﷺ سے مدد مانگتے ہوئے،،(ماثر صدیقی، حصہ 2 صفحہ 29،30)
غیر مقلدو! ہمت ہے تو اب لگاؤ شرک کا فتوی اپنے نواب صاحب پر۔

Wednesday, 2 September 2015

مراد رسول ﷺ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ حَمْدَ الشَّاکِرِیْنَ وَاَفْضَلُ الصَّلوٰۃِ وَاَکْمَلُ السَّلَامِ عَلیٰ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ قَاءِدِ الْغُرِّالْمُحَجَّلِیْنَ نَبِیِّ الْحَرَمَیْنِ اِمَامِ الْقِبْلَتَیْنِ وَسِیْلَتِنَا فِی الدَّارَیْنِ صَاحِبِ قَابَ قَوْسَیْنِ مَحْبُوْبِ رَبِّ الْمَشْرِقَیْنِ وَالْمَغْرِبَیْنِ جَدِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ مَوْلَانَا وَمَوْلَی الثَّقَلَیْنِ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا وَمَلْجَأْنَا وَمَأْوٰنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہ‘
اَمَّابَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یااَ یُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤمِنِینَ (الانفال: ۶۴)
صَدَقَ اللّٰہُ مَوْلَانَا الْعَظِیْم
حضرات محترم!
حمد وصلوٰۃ کے بعد سورۃانفال کی ایک مختصرسی آیتِ مبارکہ تلاوت کی گئی ہے جس میں اللہ رب العزت جل جلالہ‘نے اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے یوں فرمایا
یااَیُّھَاالنَّبِیُّ۔۔۔۔۔۔اے غیب کی خبریں بتانے والے
حَسْبُکَ اللّٰہُ ۔۔۔تجھے اللہ کافی ہے۔۔۔وَمَنِ ا تَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اور تیرے وہ غلام جوتیرے فرمان بردار ہیں مومنوں سے ہیں۔
جمہور مفسرین اورعلمائے امت فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب فاروق اعظم سیدناعمربن خطاب رضی اللہ عنہ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔گویااللہ نے فرمایااے محبوب!
عمر آ گیا ہے اب تجھے اللہ اورعمردونوں کافی ہیں۔
سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ ایک ایسی ہمہ گیر،ہمہ پہلو،جامع ،مکمل اوربے مثال شخصیت ہیں کہ ان کی سیرت وحیات ،فضائل وکمالات،شمائل وخصائل اورمراتبِ عالیہ ،بیان کرناانسانی بس سے باہرہے کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ایک دن جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے تو
میں نے کہااے جبریل !میرے عمر کے متعلق بیان کرو کہ فرشتوں کی نظر میں ان کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟
توجبریل امین نے عرض کی یارسول اللہ!
اگرعمرکے آسمانی مرتبے کو بیان کرنے میں اتنی عمرصرف کروں جتنی حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہدایت میں گزاری (یعنی ساڑھے نوسوسال) توپھر بھی عمرکے فضائل ختم نہ ہوں گے۔ (تاریخ الخلفاء)
آ ج کے خطاب میں آپ کاذکرخیراس لئے ضروری ہے کہ
آپ 26ذی الحج کومسجدنبوی شریف میں مصلّٰے رسالت پر امامت کرارہے تھے کہ عین حالتِ نماز میں ایک ایرانی مجوسی ابولؤلؤفیروزنے خنجرکے پے درپے وارکرکے آپ کو شدیدزخمی کردیا۔۔۔اورانہی زخموں کی تاب نہ لاکریکم محرم الحرام کوآپ شہیدہو گئے۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلِیْہِ رَاْجِعُوْن
آپ کو روضۂ رسول میں حضورکے پہلومیں دفن ہونے کی سعادت ملی
کیا مقدر ہیں صدیق فاروق کے
جن کا گھر رحمتوں کے خزینے میں ہے
گویا26ذی الحج سے یکم محرم تک یہ سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے ایام شہادت ہیں۔

نام ونسب
آپ کا اسم مبارک عمر۔۔۔کنیت ابوحفص ۔۔۔لقب فاروق اعظم ۔۔۔اورقبیلہ بنو عدی ہے۔۔۔ آٹھویں پشت میں ان کاسلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔
آپ کو ابوحفص کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میںآئیں۔ ان کے نام کی نسبت سے آپ کو ابو حفص کہا گیا ۔
یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں خلفاء برحق ہیں جنہیں خلفائے راشدین کہاجاتاہے۔ہرمسلمان کا سرادب واحترام کے ساتھ انکے آ گے جھکاہواہے۔ پہلے دوخلفاء حضرت ابوبکرصدیق اورحضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہماکو۔۔۔ شیخین کریمین (ساری امت کے دوبڑے بزرگ)کہاجاتاہے ۔اور حضرت عثمانِ غنی اور حضرت مولاعلی رضی اللہ عنہماان دونوں کو ختنینکہاجاتاہے ۔
حضرات شیخین رسولِ خداصلی اللہ علیہ وسلم کے سسرہیں۔ان دونوں کی صاحبزادیاں حضرت عائشہ صدیقہ اورحضرت حفصہ رضی اللہ عنہماحضورکے نکاح میں آئیں۔حضرات ختنین (حضرت عثمان غنی اورحضرت علی رضی اللہ عنہما)یہ دونوں حضورکے دامادہیں۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوصاحبزادیاںیکے بعددیگرے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیں اوراپنی سب سے لاڈلی اورپیاری صاحبزادی سیدہ فاطمۃ الزہراء حضرت علی کے نکاح میں دیں رضی اللہ تعالیٰ عنہم وعنھن ۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاشیخین کو افضل جاننااور ختنین سے محبت کرنایہ اہل سنت کی نشانی ہے۔

قرآن اورفاروق اعظم
حضرات !میں سیدنافاروق اعظم کی عظمت کے اظہارکیلئے صرف تاریخی دلائل نہیں پیش کر رہابلکہ میرادعویٰ یہ ہے کہ فاروق اعظم کی شان کو جانچنے،پرکھنے،ماننے اورجاننے کیلئے قرآن وحدیث کا شیشہ سامنے رکھ لواوران میں فاروقِ اعظم کاچہرہ دیکھو۔
مجھ سے نہ پوچھوفاروق کون ہے؟
قرآن سے پوچھو یا حدیث سے پوچھو
خدا سے پوچھو یا مصطفےٰ سے پوچھو
میں نہیں بول رہا۔۔۔فاروق کون ہے؟یامصطفی بول رہا ہے یاخدابول رہاہے۔ سبحان اللہ !
حضرات محترم!
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی کس کس شان اورعظمت کاذکرکیاجائے آپ وہ جامع ،ہمہ گیراورہمہ پہلوشخصیت ہیں جن کی شان یہ ہے کہ قرآن پاک کی سولہ آیات آپ کے مشورے اوررائے کی تائید ،تصدیق اورتوثیق میں اتریں۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ نے ازالۃالخفاء میں ان سولہ آیات کونقل کیاہے جو حضرت عمرفاروق کی رائے کے مطابق اتریں۔ حضرت فاروق اعظم فرش پہ بیٹھ کررائے دیتے اورعرش سے اس کے حق میں وحی آ جاتی ۔
اے میرے محبوب !فرش پر جوفاروق کہہ رہاہے عرش پرہم بھی وہی کہہ رہے ہیں۔اگرکسی نے سیدنافاروق اعظم کی شان اورعظمت معلوم کرنی ہوتووہ آئینہ قرآنی میں چہرہ فاروقی دیکھے۔ اسکی صرف تین مثالیں پیش خدمت ہیں۔

فرضیتِپردہ
اسلام میں پردے کی بڑی اہمیت ہے لیکن یہ پردہ کب فرض ہوا؟۔۔۔جب عمر نے رائے دی ۔
سنیے حضرات گرامی!
سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ ایک دن بارگاہ رسالت میں حاضرہیں اورعرض کرتے ہیںیارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! کیاہی اچھا ہوکہ آپ اپنی ازواج مطہرات کویہ حکم فرمائیں کہ وہ اپنے چہروں پر پردہ ڈال کراورچادراوڑھ کرباہرآیاکریں۔
(صحیح بخاری رقم الحدیث: ۲۹۳)
ابھی یہ بات مکمل نہیں ہوئی کہ جبریل امین حاضر ہوئے اورقرآن کی یہ آیت پڑھنی شروع کردی
یاَیُّھَاالنَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِینَ یدْنِینَ عَلَیھِنَّ مِنْ جَلَا بِیبِھِنَّ (الاحزاب :۵۹)
اے نبی! آپ اپنی بیویوں کو۔۔۔اپنی بیٹیوں کو۔۔۔ اور مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دے دیں کہ جب وہ باہرنکلیں توچادراوڑھ کرباہرآیاکریں۔
گویایوں سمجھ کہ خدانے کہامحبوب! جوکچھ عمرکہہ رہا ہے میں بھی وہی کہہ رہاہوں

نباتِ رسول
حضرات محترم!اس آیت کریمہ کے ایک لفظ پہ غورکریں
اللہ نے فرمایا:
قُلْ لِّاَزْوَاجِکَای نبی فرمادیجئے اپنی بیویوں کو وَبَنَاتِکَاوراپنی بیٹیوں کو بنات جمع کالفظ ہے جس کی واحد بنت ہے بنت کامعنی ایک بیٹی اوربنات کامعنی زیادہ بیٹیاں مسلمانوں یہ آیت بتاتی ہے کہ نبی پاک کی بیٹی ایک نہیں تھی بلکہ ایک سے زیادہ یعنی( چار)تھیں۔
۱۔۔۔سیدہ زینب ۲۔۔۔سیدہ رقیہ
۳۔۔۔سیدہ ام کلثوم ۴۔۔۔سیدہ فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنھن )
حضورکی اگرصرف ایک بیٹی سیدہ فاطمہ ہوتی تو پھراللہ قرآن میںیوں کہتا
یااَیُّھَاالنَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبِنْتِکَ
اے نبی !اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹی سے کہہ۔
معلوم ہوا!
خدابھی گواہی دے رہا ہے کہ نبی کی صاحبزادیاں چارہیں اگرصرف سیدہ فاطمہ ہی بیٹی ہوتیں۔توخدابنات نہ فرماتابلکہ بنت فرماتاتوقرآن سے ثابت ہواکہ نبی پاک کی بیٹی ایک نہ تھی بلکہ چارتھیں۔

مقام ابراہیم پرنماز
ایک دن سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی طبیعت مچلی اور دل میں یہ بات آئی کہ مقام ابراہیم کے سامنے کھڑے ہوکرہم طواف کے نفل پڑھاکریں۔
عرض کرتے ہیںیارسول اللہ ۔۔۔میری ایک رائے ہے حضورنے پوچھاکیا رائے ہے ؟۔
عرض کی حضور!میں چاہتاہوں کہ حاجی جب طواف کریں توطواف کے بعد دو نفل طواف کے پڑھے جاتے ہیں وہ مقام ابراہیم کے پاس پڑھے جائیں تاکہ ابراہیمی ذوق تازہ ہوجائے۔
ابھی بات مکمل ہوئی ہے کہ اللہ نے جبریل کوحکم دیاجبریل !جلدی جا۔جبریل آئے اور عرض کی یارسول اللہ !خدا فرماتاہے
وَاتَّخِذُ وْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیمَ مُصَلّٰی (البقرہ :۱۲۵)
اے محبوب!آج کے بعدطواف کرنے والوں کوحکم دے دوکہ طواف کے نفل مقام ابراہیم کے سامنے پڑھاکریں۔
اے عمرتیری عظمت پہ ہم قربان جائیں۔۔۔ تیرے مشورے وحیِ خدابن گئے تیرے مشورے آیاتِ قرآن بن گئے۔۔۔تیری رائے خدانے چن لی۔۔۔ تیراانتخاب خدانے بھی کرلیا اور مصطفےٰ نے بھی کرلیا۔

عمر انتخابِ مصطفےٰ علیہ التحےۃ والثناء
حضرات!۔۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاروق اعظم کوخدا سے مانگ کر لیاتھا۔۔۔عمرتوحضورکاانتخاب ہیں۔۔۔حضورکی دعاکے لفظ سنو!
اَللّٰہُمَّ اَعِزِّالْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہَذَینِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِاَ بِیْ جَہْلٍ اَوْبِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (ترمذی رقم الحدیث :۳۶۸۱)
اے اللہ توابوجہل یاعمر بن خطاب یا دونوں میں سے جس کو تو پسند کرتا ہے اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔
حضرات !میراذوق کچھ یوں ہے کہ اگرحضور۔۔۔اَوْ۔۔۔نہ کہتے۔۔۔وَ۔۔۔کہہ دیتے تودونوں مسلمان ہو جاتے کیونکہ نبی کے منہ سے دعانکلے توپوری کیسے نہ ہو؟ کیونکہ اَوْ لغت عرب میں احدالامرین کیلئے آتاہے مطلب یہ کہ دونوں نہیں ایک اَوْ کا معنی ہے میں دوکو نہیں چاہتاان میں سے ایک کو چاہتاہوں جو تجھے پسند ہے۔
معلوم ہوا!۔۔۔ عمراللہ کی پسند ہے دوسری روایت ہے کہ حضور نے یوں دعامانگی سے: اَللَّھُمَّ اَعِزِّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّۃً
(ابن ماجہ ۱/۳۹، زرقانی ۱/۲۷۳)
یااللہ صرف عمربن خطاب کومسلمان کرکے دین کوعزت عطافرما۔

مریداورمراد
حضرات!۔۔۔تمام صحابہ بن مانگے آئے ۔۔۔خودبخودآئے۔۔۔ اورفاروق حضور کی بارگاہ میں بن مانگے نہیںآئے بلکہ مانگے ہوئے آئے ہیں اورجب آئے ہیں تو سر جھکاکربزبانِ حال یوں کہا
؂ مجھے تیری قسم اے رونق بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
حضرات !۔۔۔
ایک ہوتا ہے مرید۔۔۔ اور۔۔۔ایک ہوتاہے مراد
ایک لاکھ چوبیس ہزار یاکم وبیش تمام صحابہ حضورکے مریدہیں اورفاروق اعظم صرف مرید نہیں بلکہ مرادہیں۔مریدوں کے اندربھی کچھ مریدہوتے ہیں اورکچھ مراد ہوتے ہیں جیسے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃاللہ علیہ ہندوستان میں تشریف لائے تودہلی میں سارے لوگ مریدبن گئے لیکن مجددالف ثانی مرادبن گئے۔مریدبگڑجائے توپیرکا بگڑتا کچھ نہیں اوراگرمرادبگڑجائے توپیرکا رہتا ہی کچھ نہیں۔
ذراتوجہ فرمائیں!لوگو عمرپرتنقیدنہ کروکیونکہ وہ مریدنہیں بلکہ مرادِمصطفی ہے۔ عطائے خداہے ۔پسندالہہ ہے ۔اگرعمرپرتنقیدکروگے تویہ عطائے خداپرتنقیدہوگی۔
وجہ یہ ہے کہ حضورنے مانگا۔۔۔یااللہ مجھے عمردے اور اس شرط پہ مانگتاہوں کہ اس سے اسلام کوعزت ملے ۔رب نے دے دیا۔۔۔اگر مانگنے والامحبوب ہوتومحب خوش ہوتے اور چاہتے ہیں کہ محبوب کچھ مانگے توسہی ۔۔۔ لیکن جب محبوبِ خدانے مانگاتو کیامانگا۔۔۔ عمر مانگا۔۔۔رب نے دے دیا۔

مثال
میںآپ سے مسجدکیلئے چندہ مانگتاہوں۔آپ میں سے کوئی بڑااچھاآدمی اٹھ کرمجھے 100روپیہ دے دیتاہے تومیں وہ نوٹ مسجدوالوں کودے دیتاہوں۔اب انتظامیہ والے کہتے ہیں مجددی صاحب! آپ نے ہمیں کھوٹہ نوٹ دے دیا۔۔۔ تو میں کہوں گاجناب میراکیاقصورہے؟ میں نے توان سے مانگاتھا۔اگریہ خودکھرے ہوتے توکھرادیتے ۔ان میں سے کوئی کھوٹہ تھاجس نے کھوٹہ دے دیا۔
عمر پر اعتراض کرنے والو!
اگرتمہیں عمرمیں کوئی کھوٹ نظرآتی ہے توعمرکوکیاکہتے ہو۔۔۔اس کا کیاقصور؟ نبی کوکیا کہتے ہو۔۔۔نبی کاکیاقصور؟۔۔۔نبی نے تورب سے مانگاتھا۔
جس نے کھوٹہ دیا ہے اس سے پوچھو؟۔
اگرمعاذاللہ رب خودکھوٹہ ہوگا توکھوٹہ دیاہوگا۔
اگروہ خودکھراہے اور یقیناًکھراہے تواس نے کھراہی دیاہے۔
؂ اے منکر فاروق تجھے اتنی بھی خبر ہے؟
فاروق کو محمد نے مانگا تھا خدا سے
نادانو! نہ عمرپراعتراض کرونہ نبی پر۔۔۔ سیدھے خداسے ٹکرلوکیونکہ مانگنے والایہ ہے اوردینے والاوہ ہے ۔کیاآپ کی طبیعت یہ مانتی ہے کہ محبوب نے مانگاہو اوررب نے کوئی کھوٹہ بندہ دے دیا ہو؟ہرگز نہیں۔۔۔ایساہونہیں سکتاکیونکہ اس میں بدنامی عمرکی نہیں۔۔۔خداکی ہے۔
معلوم ہواکہ عمرپر اعتراض کرنا۔۔۔درحقیقت خداپر اعتراض ہے ۔

تین انقلابی دعائیں
تین دعائیں ایسی ہیں کہ جنہوں نے انقلاب برپاکردیا ان تین دعاؤں نے دنیاکانقشہ بدل دیا
ض۔۔۔ اک دعائے ابراہیمی
ض۔۔۔ اک دعائے موسوی
ض۔۔۔ ا ک دعائے محمدی (علیہم الصلوات)

پہلی دعا
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ مکمل کرچکے ،تعمیرکعبہ ہوچکی توخلیل اللہ اور ذبیح اللہ نے مل کرہاتھ اٹھائے اورجودعامانگی وہ سنوقرآن کے لفظ ہیں:
رَبَّنَاوَابْعَثْ فِیھِمْ رَسُوْلًامِّنْھُمْ یتْلُوْاعَلَیھِمْ اٰیا تِکَ وَیعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیزَکِّےْھِمْ۔۔۔الخ(البقرہ :۱۲۹)
شاعراسلام حفیظ جالندھری نے دعائے ابراہیم کا ترجمہ یوں کیا
؂ دعا مانگی الٰہی نعمت موعود مل جائے
بنی ہاشم کا مرجھایا ہوا گلزار کھل جائے
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہاخداوند۱۔۔۔میں تیراگھربناکر
دولت نہیں مانگتا ۔۔۔ حکومت نہیں مانگتا
امارت نہیں مانگتا ۔۔۔ وزارت نہیں مانگتا
عہدہ نہیں مانگتا ۔۔۔ منصب نہیں مانگتا
سونا نہیں مانگتا ۔۔۔ چاندی نہیں مانگتا
تخت نہیں مانگتا ۔۔۔ تاج نہیں مانگتا
دنیا نہیں مانگتا ۔۔۔ مملکت نہیں مانگتا
شہنشاہی نہیں مانگتا ۔۔۔ بادشاہی نہیں مانگتا
کچھ نہیں مانگتا ۔۔۔تجھ سے تیراکملی والامحبوب مانگتاہوں۔۔۔اس کویہاں بھیج دے ۔ کعبہ بنانا میراکام تھا۔۔۔اب اس کو بسانا اس کاکام ہے۔رب نے کہا۔۔۔قبول ہے ۔
یہ دعائے ابراہیم ہے جس کے متعلق حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا اَنَا دَعْوَۃُ اِبْرَاہِیم میں ابراہیم کی دعابن کے آیا ہوں۔۔۔ یہ دعائے ابراہیم ہے جو میرے آقا کی شکل میں قبولیت کا جامہ پہن کرآئی اوردنیامیں انقلاب برپا کردیا۔

دوسری دعا
حضرت موسیٰ علیہ السلام کواللہ نے نبوت دی ،رسالت دی ،کتاب دی اورفرمایا دنیا میں انقلاب لے آؤ۔انہوں نے دعاکی
وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیرًامِّنْ اَھْلِی ھَارُوْنَ (طٰہٰ)یااللہ میں اکیلا ہوں اور بوجھ بڑاہے ۔۔۔میرے بھائی ہارون کو میراوزیربنادے ۔۔۔میراساتھی بنا دے ۔۔۔ میرے مددگاربنادے۔۔۔ تا کہ میرا کام آسان ہوجائے اورنبوت ورسالت کے چرچے ہوجائیں۔۔۔اللہ نے کہا قبول ہے۔
اس دعاکی قبولیت نے بنی اسرائیل میں انقلاب پیداکردیا،مصرمیں انقلاب آ گیا۔۔۔اورموسیٰ کلیم اللہ نے اللہ کاپیغام دنیاتک پہنچادیا۔

تیسری دعا
یہ میرے نبی کی وہ دعاہے جوجمعہ کی رات کوخانہ کعبہ کے سامنے مانگی ۔۔۔وہ دعا یہ تھی اَللّٰھُمَّ اَعِزِّالْاِسْلَامَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّۃً (ابن ماجہ)اے اللہ میں تجھ سے عمرمانگتاہوں تاکہ دین کوعزت مل جائے ۔
؂ اجابت کا جوڑا عنایت کا سہرا
دلہن بن کے نکلی دعائے محمد
اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا
بڑھی ناز سے جب دعائے محمد
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعاقبول ہوگئی اورخدانے عمردے دیااورعمرنے اسلام کو جو عزت دی اورعمرکی وجہ سے اسلامی انقلاب کاکام مکمل ہوگیا۔
حضرات!
عمروہ ہے جوحضورنے رب سے مانگاہے اورعمرکاانتخاب حضورنے کیاہے ۔
جب انتخاب نبی نے کیاہو۔۔۔اور۔۔۔عطارب نے کیاہوتوکمی کیسی؟

عائشہ انتخابِ خدا
حضرات گرامی!جب ام المؤمنین سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاپر منافقوں نے زبانِ طعن درازکرتے ہوئے آپ کی بارگاہ میں بے ادبی کی اورالزام لگایا تومحبوب خداصلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوگئے۔۔۔ حضورکی طبیعت افسردہ ہوگئی۔۔۔ صحابہ کرام مضطرب ہوگئے ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم گھرتشریف لائے توعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضورکے تیوردیکھے کہ حضورپریشان ہیں۔ پوچھانہیں کہ حضورمجھ میں آپ نے کیاکمی دیکھی ؟۔۔۔آپ کیوں رنجیدہ ہیں؟۔۔۔آپ کیوں غمگین ہیں؟۔۔۔ آپ کیوں افسردہ ہیں؟۔ خیال آیاکہ میں اپنے اباجان سے جاکرپوچھ لوں کہ آخرحضور کی طبیعت پر انقباض کیوں ہے؟
اپنے والدسیدناصدیق اکبرکے گھرچلی گئیں۔اباجان سے پوچھاابا حضور ہواکیا ہے؟۔۔۔صدیق اکبرنے روتے ہوئے کہامیری پیاری بیٹی ! منافقوں نے تیرے متعلق طعنہ دیاہے اورنازیبابات کہی ہے جس کاخداکے حبیب کی طبیعت پر بڑا اثر ہواہے ۔منافقوں کے اس الزام کی وجہ سے آپ سخت پریشان ہیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے مصلیٰ اٹھایا اور گھرمیں علیحدہ کمرے میں چلی گئیں اورمصلیٰ بچھا کرسرسجدے میں رکھ کر روناشروع کردیا۔آپ نے پوچھا بیٹی کیاکرنے لگی ہو؟
عرض کی ۔۔۔خداکی عدالت کادروازہ کھٹکھٹانے لگی ہوں۔میں خداسے یہ درخواست کرنے لگی ہوں کہ سچے اورجھوٹے میں امتیازکردے۔
حضرات محترم!
عائشہ صدیقہ بھی رورہی ہیں۔۔۔صدیق اکبربھی رورہے ہیں۔۔۔عائشہ صدیقہ کی والدہ بھی رورہی ہیں۔۔۔ادھر تاجدارِمدینہ کی طبیعت افسردہ ہے۔۔۔ادھرصحابہ کی طبیعت نڈھال ہے۔۔۔غم میں مبتلاہیں۔۔۔اورمنافق مدینے کے بازاروں میں زبان طعن درازکرکے بکواس کر رہے ہیں۔
کچھ عجیب ماحول ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ سرسجدے میں رکھ کررورہی ہیں۔
اماں آئیں بیٹی اب رونابندکردو۔
عرض کرتی ہیں اماں جان۔۔۔ مجھے اسی حال میں رہنے دو۔جب ہائی کورٹ افسردہ ہے تومیں اب سپریم کورٹ میں رٹ دائرکر رہی ہوں اورمیں خداکی بارگاہ سے اس کافیصلہ چاہتی ہوں کہ منافقوں کی رائے تومیرے متعلق یہ ہے ۔۔۔خدایامیرے متعلق تیری رائے کیاہے ؟۔
ادھررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلیل القدرصحابہ کا اجلاس بلایاہے۔۔۔ صحابہ کرام محو گفتگوہیں حضرت عمر نے عرض کی اے اللہ کے محبوب مجھے اذن ہے کچھ کہنے کا؟۔۔۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعمرکہو
توعمرنے بڑے ادب سے گذارش کی آقا۔۔۔ عائشہ صدیقہ کو آپ کی رفیقہ حیات بنایاکس نے تھا؟
حضورصلی اللہ علیہ وسلم آب دیدہ ہیں۔آنکھوں میںآنسوہیں،خاموش ہیں مگر پرجوش ہیں اوراپنی انگلی اٹھاکرآسمان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عائشہ صدیقہ کومیری رفیقہ حیات توخدا نے بنایاہے ۔
عمرنے ہاتھ جوڑکرکہا حضورانہیں کہیں یہ چپ ہو جائیں۔آپ بھی خاموش رہیں اورمیں بھی خاموش ہوجاتاہوں۔جس نے آپ کویہ رفیقہ حیات دی تھی وہی اس کے متعلق فیصلہ کرنے کاحق دارہے ۔
حضرات!
پتہ نہیں کتنے دن لگ جاتے۔۔۔ جب عمر نے کہاجس نے یہ رفیقہ حیات دی ہے اس کا فیصلہ کرنا اسی کاکام ہے ہم توخاموش رہیں گے یہ توہوگئے چپ
نبی چپ ۔۔۔ صحابی چپ
عمر چپ ۔۔۔ صدیق چپ
عثمان چپ ۔۔۔ علی چپ
مومنین چپ ۔۔۔ قانتین چپ
صائمین چپ ۔۔۔ متقین چپ
صحابہ چپ ۔۔۔ مدینے والے چپ
مگر خدابول اٹھا!اور حضرت جبرئیل آگئے ۔۔۔عائشہ صدیقہ کی شکایتیں عرش پرپہنچیں اورخداکی آیتیں فرش پر پہنچیں۔۔۔ سورہ نوراترنی شروع ہو گئی سارامجمع خاموش ہے۔۔۔ سناٹاچھا گیا ۔۔۔ جبریل خداکافیصلہ پڑھتاجاتاہے ۔۔۔حضور کی زبان پر چڑھتا جاتاہے ۔۔۔اورحضور سناتے جاتے ہیں
اَلْخَبِیثٰتُ لِلْخَبِیثِینَ وَالْخَبِیثُوْنَ لِلْخَبِیثٰتِ وَالطَّیبٰتُ لِلطَّیبِینَ وَالطَّیبُوْنَ لِلطَّیبٰتِ اُوْلٰءِکَ مُبَرَّءُ وْنَ مِمَّایقُوْلُوْنَ لَھُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیمٌo (النور:۲۶)
خدانے کہامحبوب!
عمرتیراانتخاب تھا۔۔۔عائشہ میرانتخاب ہے ۔
عمرکوتونے چناتھااپنے لئے۔۔۔ عائشہ کومیں چناتھا تیرے لیے ۔
اگرتیراانتخاب غلط نہیں ہوسکتا۔۔۔تومیراانتخاب بھی غلط نہیں ہوسکتا۔ (سبحان اللہ)
خدایاتیری بے نیازی پہ قربان !نبی کی بیوی کی عزت خداکی بارگاہ میں کتنی ہے ؟ خدانے خودوکیل صفائی بن کرجرح کی اورجرح کرکے نبی کی بیوی کی صفائی دی خدا نے کہا!محبوب اعلان کردے۔ فیصلہ میرایہ ہے
الخبیثٰت للخبیثین والخبیثون للخبیثٰت
ناپاک عورتوں کیلئے ناپاک مرد ۔ناپاک مردوں کیلئے ناپاک عورتیں
والطیبٰت للطیبین والطیبون للطیبات
اورپاک عورتیں پاک مردوں کیلئے اورپاک مرد پاک عورتوں کیلئے
یہ وکیل صفائی کی جرح ہے ۔ خیال تھاکہ اس جرح کاکوئی جواب دے لیکن جرح خدا کرئے ۔۔۔تو جواب کون دے؟۔۔۔
خدانے فرمایا!
اے میرے نبی کے صحابہ پریشان نہ ہونا۔۔۔نبی کے غلامو!۔۔۔ منافقوں کے الزام سے خائف ،ترساں ولرزاں نہ بنو،سنومیری جرح یہ ہے کہ اگر مردناپاک ہے توبیوی ناپاک ہوگی اگرمردپاک ہے توبیوی پاک ہوگی ۔پہلے یہ بتاؤ۔
میرے نبی جیسا پاک ہے کون؟
اگریہ پاک ہے ۔۔۔توعائشہ بھی پاک ہے ۔
رب نے یوں جرح کی جب اس جرح کا کوئی جواب نہ آیاتورب نے فیصلے کااعلان کر دیااولئک مبرؤن ممایقولونیہ منافق جھوٹ بکتے ہیں عائشہ کادامن پاک ہے۔۔۔پاک ہے۔۔۔پاک ہے۔
حضرات!پھرکہتاہوں غورسے سنیے!
ض۔۔۔یوسف علیہ السلام پرالزام لگا۔۔۔توگواہی اک بچے نے دی ۔
ض۔۔۔موسیٰ علیہ السلام پرالزام لگا۔۔۔توصفائی اک عورت نے دی۔
ض۔۔۔حضرت مریم پرالزام لگا۔۔۔توصفائی حضرت عیسیٰ نے گہوارے سے دی۔۔۔
جب حضرت عائشہ پہ الزام لگا۔۔۔توصفائی خدانے عرش سے دی۔
دوبارہ سنو!
ض۔۔۔یوسف پرالزام لگایافرش والوں نے ۔۔۔توصفائی دی فرش والوں نے۔
ض۔۔۔موسی پر الزام لگایافرش والوں نے ۔۔۔صفائی دی فرش والوں نے
ض۔۔۔مریم پرالزام لگایافرش والوں نے ۔۔۔توصفائی دی فرش والوں نے
ض۔۔۔عائشہ پرالزام لگایافرش والوں نے ۔۔۔توصفائی دی عرش والوں نے۔

کون عائشہ صدیقہ۔۔۔؟
وہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔۔۔جس نے جبریل کواصلی صورت میں دیکھا۔۔۔جس کی ذات پر کئی باررب کا سلام آیا۔۔۔جس کے بسترپر کئی باررب کاکلام آیا۔
کون عائشہ صدیقہ۔۔۔؟
مائی عائشہ صدیقہ ویکھ کیڈے شان والی اے
جدھا حجرہ مبارک عرش اعظم توں وی عالی اے
فلک توں صاف روضے اتے دسدیاں نور دیاں لاٹاں
جتھے نوری ملک ہرویلے پڑھدے رہن صلواتاں

کون عائشہ صدیقہ ۔۔۔؟
اگر تیری سحر بار رِدا پہ داغ آ جاتا
تو خدا کا انتخابی فیصلہ مخدوش کہلاتا
رسول اللہ نے رکھا صدیقہ لقب تیرا
فقط فرشی نہیں عرشی بھی کرتے ہیں ادب تیرا
شرف تیرے دوپٹے نے غزوۂ بدر میں پایا
کہ جس کا پرچم مخبرِ صادق نے لہرایا
تیرا حجرہ امینِ خاص ہے ذاتِ رسالت کا
بساطِ ارض پر ٹکڑا یہی ہے باغِ جنت کا
اسی میں رحمۃ للعالمین رہتے تھے رہتے ہیں
تیرا حجرہ ہے وہی جسے گنبدِ خضرا بھی کہتے ہیں
تومیں عرض یہ کررہاہوں کہ
جب حضرت سیدنافاروق اعظم نے عائشہ صدیقہ کی پاکیزگی اورطہارت کا اعلان کیاتوخدا نے بھی عرش سے وہی اعلان کردیا۔معلوم ہواکہ عمرکی رائے وحی خدابن جاتی تھی۔

احادیث اور فاروقِ اعظم
حضرات محترم!فاروق اعظم کامرتبہ پوچھناہے توحضورسے پوچھوآپ نے فرمایا
لَوْکَانَ بَعْدِی نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُبْنَ الْخَطَّابِ
اگرمیرے بعدکوئی نبی ہوتاتوعمرہوتا۔(جامع ترمذی رقم الحدیث ۳۶۸۶ )
معلوم ہوا!
حضورکی ختم نبوت یہ اٹل مسئلہ ہے کہ حضورکے بعدکوئی نبی نہیں ورنہ فاروق اعظم کی شخصیت اتنی جامع ہے کہ نبی والی ساری صلاحیتیں اور کمالات ان کی ذات میں مو جود ہیں۔لیکن نبی نہیں ہیں
؂ ہوتی نہ محمد پہ اگر ختم رسالت
فاروق تھے اس عظمتِ کبریٰ کے سزا وار
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شماراحادیث آپ کی شان میں واردہیں۔
ز۔۔۔ جیساکہ آپ نے فرمایا
اِنَّ الشَّیطَانَ یفِرُّمِنْ ظِلِّ عُمَرَ۔۔۔اِنَّ الشَّیطٰنَ لَیخَافُ مِنْکَ یاعُمَرُ(ترمذی ج رقم الحدیث ۳۶۹۰، مشکوٰۃ:۵۵۸)
شیطان جب عمرکو دیکھ لے توبھاگ جاتاہے۔۔۔شیطان توعمرکے نام سے بھی خوف کھاتاہے۔

محدث امت
ز۔۔۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ مُحَدَّثُوْنَ وَاِنَّ فِی ھٰذِہ الْاُمَّۃِ عُمَرُ (بخاری،مسلم)
مجھ سے پہلے ہر امت میں محدث ہوتے رہے بے شک اس امت کامحدث عمرہے۔
صحابہ کرام نے پوچھایارسول اللہ ۔۔۔محدث کسے کہتے ہیں؟
توحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تَتَکَلَّمُ الْمَلَاِ ئکَۃُ عَلٰی لِسَانِہ (صواعق محرقہ)
جس کی زبان پرفرشتے بولتے ہیں:
ایک ہوتاہے مُحَدِّثْ۔۔۔جوحدیث کی روایت کرے اورایک ہوتاہے مُحَدَّثْجس کے دل میں اللہ بلاواسطہ الہام فرماتاہے اور فرشتے اسکی زبان پربولتے ہیں۔
حضرات سنیے! حضرت عمر فاروق کی زبان کی شان۔۔۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا
اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَوَ قَلْبِہ (ترمذی الرقم ۳۶۸۲)
خدانے عمرکی زبان اوردل پر حق کو جاری کردیاہے۔

کون عمر۔۔۔۔۔۔؟
جن کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعودنے فرمایا :
لَوْاَنَّ عِلْمَ عُمَرَوُضِعَ فِی کِفَّۃِ الْمِیزَانِ وَوُضِعَ عِلْمُ اَھْلِ الْاَرْضِ فِی کِفَّۃٍ لَرَجَحَ عِلْمُہ‘ بِعِلْمِھِمْ (المعجم الکبیرالرقم۸۸۰۹)
اگرعمرکاعلم ترازوکے ایک پلڑے میں رکھاجائے اورتمام اہل زمین کاعلم دوسرے پلڑے میں رکھاجائے تویقیناحضرت عمرکاعلم ساری کائنات کے علم پربھاری ہوگا۔

کون عمر۔۔۔۔۔۔؟
جن کومیرے حضورنے فرمایا:عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ سِرَاجُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ
میراعمر ۔۔۔اہل جنت کاسورج ہے۔(حلےۃالاولیاء۶/۳۳۳)

کون فاروقِ اعظم ۔۔۔۔۔۔؟
جس نے اپنے دورخلافت میں چھتیس سے زیادہ ملک فتح کئے ۔صرف ایرانی مجوسیوں کے خلاف 80بارجنگ لڑی اورہرجنگ میں کامیابی حاصل کی۔
جن کی فتوحات کایہ عالم ہے کہ اپنے دورِخلافت میں25 لاکھ مربع میل پراسلام کاپرچم لہرا دیا۔آپ نے مصرفتح کیا۔۔۔اردن فتح کیا۔۔۔حمص فتح کیا۔۔۔ شام فتح کیا۔۔۔عراق فتح کیا ۔۔۔ایران فتح کیا۔۔۔مکران فتح کیا۔۔۔ بلوچستان فتح کیا ۔۔۔ یہ تمام فتوحات فاروقی ہیں جن کا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہاہے۔

کون فاروقِ اعظم ۔۔۔۔۔۔؟
جس نے اپنے دورِ خلافت میں اعلان کردیاتھاکہ اگردجلہ کے کنارے کوئی کتایابکری کا بچہ بھوکاپیاسامرگیاتوقیامت کے دن خداعمرسے پوچھے گا۔ کہ تیرے دورحکومت میں جانوربھوکے کیوں رہے؟توفاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اسلام کہ یہ نظریہ پیش کیا۔۔۔کہ اسلامی حکومت وہ ہے جس میں نہ کوئی انسان بھوکارہے اورنہ کوئی حیوان ۔
کون فاروقِ اعظم ۔۔۔۔۔۔؟
ز۔۔۔ جس کے دورِ خلافت میں عدل وانصاف کااتناچرچاہواتھاکہ آسمان بھی نازکررہاتھا ۔۔۔ زمین بھی فخرکررہی تھی۔
ز۔۔۔ جس نے رقعہ لکھادریائے نیل کو۔۔۔تونیل نے حکم مانا۔
ز۔۔۔ زمین پرزلزلہ آیاتوحضرت عمر نے پاؤں سے ٹھوکرماری اورکہا
اُسْکُنْ یااَرْضُ فَاِنَّمَا عَلَیکَ عُمَرُ
اے زمین ٹھہرجاآیا ۔۔۔ تجھ پرعدل کرنے والاعمرموجودہے توکیوں ہلتی ہے
اورزمین ٹھہرگئی ۔

کون عمر۔۔۔؟
مصرکے گورنرکے متعلق شکایت پہنچی کہ آرام پسند ہوگیاہے ۔ باریک لباس پہنتا اور گھوڑوں پرسواریاں کرتا ہے توآپ نے اسے اپنی بارگاہ میں طلب کرلیا۔ جب وہ آیاتو مصرکے گورنر کواندرلے گئے اورٹاٹ کا کپڑادے کرفرمایایہ باریک لباس اتار اوریہ ٹاٹ کاکپڑاپہن اوریہ بکریوں کاریوڑکھڑاہے اس کولے کرجنگل میں جا۔۔۔ اور بکریاں چرا۔۔۔ تو انسانوں پرحکومت کرنے کے قابل نہیں ہے ۔جب اس قابل بنے گا پھر دیکھیں گے۔
حضرات محترم!
دعاکروپھرکوئی عمرآجائے ۔عمرنہیں توعمرکاغلام ہی آجائے ۔عالم اسلام پر پھر ویسی عدل کی بہارآجائے۔پاکستان میں سکھ اورامن ہوجائے مسلمانوں آج ضرورت ہے آودامن فاروق اعظم کو دامن لیں۔
آج ہمارے ملک کی صورت حال یہ ہے کہ عدالتوں میں خونخواربھیڑئیے بیٹھے ہیں۔۔۔جوعوام کاخون چوس رہے ہیں۔۔۔ سیاست پرلٹیروں کاقبضہ ہے ۔۔۔حکومت پر وڈیروں کاقبضہ ہے ۔۔۔ عوام سے بھی دھوکا ہورہاہے ۔۔۔اوراسلام سے بھی دھوکاہورہاہے۔
؂ ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے
انجام گلستان کیا ہو گا
اے مسلمان تیرے سینے میں غیرت فاروقی کب پیداہوگی ؟تو قلندر کیوں نہیں بنتا؟ تو اللہ اوررسول کانام لے کرکیوں نہیں اٹھتا؟تواس ملک میں عدل فاروقی کے لئے مجاہدبن اورموجودہ بساط کو الٹ کررکھ دے۔ اوراس ملک میں اسلامی انقلاب برپاکردے ۔
مسلمانوں یادرکھو!اگرتم یہ کام نہ کرسکے توروزِ قیامت مجرموں کے کہڑے میں کھڑے کئے جاؤگے۔ تم سے رسول اللہ پوچھیں گے میراکلمہ پڑھنے والو!کلمہ پڑھ کر بغاوت کرتے رہے ہو۔اسلامی نظام کیلئے تم نے کیاکام کیا۔
اس لیے اے مسلمان آج ضرورت ہے کہ توسنبھل جا۔۔۔ہوش میں آ۔۔۔توبہ کر۔۔۔ فاروق اعظم کادامن تھام لے۔۔۔فاروق کے نقش قدم پر چل ۔۔۔خلافتِ راشدہ کانمونہ سامنے رکھ۔اورصحیح مسلمان بن جا۔۔۔پھر
خزاں جائے گی جائے گی بہار آئے گی کلیوں میں
لگیں گے نعرہ تکبیر پھر دل کی گلیوں میں

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّاالْبَلاَغُ الْمُبِیْن

غیرمقلدین بدعتی ہیں خود غیر مقلد وھابیوں کی زبانی پڑھیئے


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
غیرمقلدین کے مشہور عالم مؤرخ مولانا محمد شاہ جہاں پوری نے سن1900 ء میں اپنی کتاب "الارشاد و الیٰ سبیل الرشاد" تحریر فرمائی اور رقمطراز ہیں ،
"کچھ عرصہ سے ہندوستان میں ایک ایسے غیرمانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آ رھے ہیں جس سے لوگ بالکل ناآشنا ہیں ،پچھلے زمانے میں شازونادر اس خیا ل کے لوگ کہیں ہوں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں میں سنا ھے ،اپنے اپ کو تو وہ اھل حدیث یا محمدی مؤحد کہتے ہیں مگر فریق مخالف میں ان کا نام غیر مقلد یا وہابی با الا مذھب لیا جاتا ھے(الارشادالی سبیل الرشاد ص13 بحوالہ تجلیات صفدر ص361ج5 مطبوعہ امدادیہ ملتان)
قارئین کرام ۔ اس عبارت کو بار بار پڑھیں غیر مقلد مؤرخ کے بیان سے صاف معلوم ہو رھا ھے کہ سن 1900ء تک غیرمقلدین کا نام نشان نہیں تھا مگر سن 1900 کے بعد یہ فرقہ زور پکڑ گیا ،یہی وہ دور ھے جسمیں انگریز نے اپنے ناپاک قدم اس خطے میں مضبوط کیے ۔نیز مؤرخ کے بیان سے یہ بھی واضح ہوا کہ غیر مقلدین مسلمانوں کے درمیان غیر مانوس لوگ ہیں ( یعنی قابل نفرت)۔
اھل حدیث انگریزوں کا دیا ہوا نام ھے۔
1886 ء سے پہلے اس فرقہ کو غیر مقلد یا وہابی بمعنی باغی و نمک حرام کہا جاتا تھا پھر بعد میں غیر مقلدین نے متفقہ طور پر حکومت برطانیہ کو درخواست دی کہ ھمییں وہابی کہنے سے قانونا منع کیا جائے اور اھل حدیث کا نام الاٹ کیا جائے۔چنانچہ اشاعتہ السنہ جو کہ غیر مقلدین کا ترجمان رسالہ ھے اس میں ھے "بخدمت جناب سیکر ٹری گورنمنٹ ! میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا خواہستگا ر ہوں ۔1886 ء میں ،میں نے اپنے ماہواری رسالہ اشاعت السنہ میں شائع کیا تھا جسمیں اس بات کا اظہار کیا تھا ،کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی اور نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ھے ،لہذا اس لفظ کا استعمال مسلمانان ہند کے اس گروہ کے حق میں جو اھلحدیث کہلاتے ہیں اور وہ ھمیشہ سے سرکار انگریزی کے نمک خوار اور خیر خواہ رھے ہیں اور یہ بات بارہا ثابت ہوچکی ھے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھم کمال ادب و انکساری کیساتھ گورنمٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کر کے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اھلحدیث کے نام سے مخاطب کرے۔(اشاعتہ لسنتہ ص24 جلد 11 شمارہ نمبر 2 )
منقول از تجلیات صفدر ص321 جلد 5 ۔
نوٹ ۔ اس درخواست فرقہ اھل حدیث کے تمام صوبہ جات ھندوستان کے دستخط ثبت ہیں۔ قارئین کرام ،اپ اس تحریر کو بھی بار بار پڑھیں جس سے چند باتیں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں ۔
1۔وہابی باغی و نمک حرام کو کہا جاتا ھے ،(تو محمد بن عبدلوھاب جسکو وہابی اور دیوبندی اپنا مشرکہ مقتدا تسلیم کرتے ہیں تو سب باغی و نمک حرام ٹھہرے)
2۔ فرقہ غیر مقلدین انگریز کے پٹھو و نمک خوار ہیں ،اسلئے انگریز کے خیر خواہ بھی ہیں تو جو انگریزوں کا خیر خواہ ہو اور وہ لازما اھل اسلام کا شر خواہ و دشمن ہوگا ۔
3۔فرقہ غیر مقلدین خود اپنے آپ کو اھل حدیث کہتے تھے باقی مسلمان انھیں اس نا م سے موسوم نہ کرتے تھے ،
4۔ فرقہ غیر مقلدین کو نام وپہنچان انگریزوں کا عطیہ ھے۔کیونکہ بیٹے کا نام ماں باپ ہی رکھتے ہیں ۔

وھابی غیر مقلدوں کی کہانی ان کی ہی زبانی


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مولانا عبدالمجید سوھروردی لکھتے ہیں ''محمد حسین بٹالوی نے اشاعتہ السنۃ کے ذریعہ اہلحدیث کی بہت ہی خدمت کی اور لفظ وھابی آپ کی کوششوں س سرکای دفاتر اور کاغذات سے منسوخ ہوا اور جماعت کو اھلحدیث کے نام سے موسوم کیا گیا ۔آپ نے حکومت کی خدمت بھی کی اور انعام میں جاگیر بھی پائی ۔
(سیرت ثنائی ص372)
تنبیہ ضروری۔محمد حسین بٹالوی پہلے خود بھی انگریز تھا نجانے کیوں ،کب اور کیسے اور کیسا مسلمان ہوا ؟؟؟
قارئین کرام !! مذکورہ بالا اقتباسات پڑھیں اور پھر گہرائی کیساتھ مطالعہ کریں کہ انگریز سرکار سے جہاد کو حرام قرار دینے والے یہ نام نہاد مسلمان انگریز کی حمایت میں کتابیں لکھکر وظیفے حاصل کریں اور پھر بھی اھلحدیث کہلائیں ۔فیاللاسف
میاں نذیر حسین دھلوی کا حج ۔ میاں صاھب سن1300 ھ میں حج کے لئے چلے تو پہلے کمشنر دہلی کی کوٹھی کا طواف کیا اور چٹھی لی ۔ چنانچہ الحیاہ بعدالممات نامی کتاب میں مفصل حج کا حال مذکور ھے ھم چند اقتباسات سطور ذیل مں نقل کرتے ہیں ۔
"مولوی نذیر حسین دہلی کے بڑے مقتدر عالم ہیں جنھون نے نازک وقتوں میں اپنی وفادار گورنمنٹ برطانیہ کیساتھ ثابت کی ھے ،وہ اپنے فرض زیارت کعبہ کے ادا کرنے کو مکہ جاتے ہیں ،میں امید کرتا ہوں کہ جس کسی برٹش گورنمنٹ افسر کی مدد وہ چاہیں گے وہ ان کو مدد دے گا کیونکہ وہ کامل طور پر اس مدد کے مستحق ہیں (10 اگست 1887ء الحیات بعد الممات ص138 ،140) عرب اترتے ہیں پہلے جدہ میں برٹش کونسل کی کوٹھی پر حاضری دی چٹھیاں پیش کیں ص142 لیکن پھر گرفتاری ہوئی اور اس نئے مذہب پر نوٹس لیا گیا ،ھدایہ کا نام لے کر دستخط بدل کر جان بچائی پھر ھبی توبہ نامہ لکھنا پڑا ،اس وقت میاں صاھب نے کہا انگریز ی حکومت ہندوستان میں ھم مسلمانوں کے لئے خدا کی رحمت ھے ۔
( الحیاۃ بعد الممات ص162)
قارئین کرام !!کے سفر حج کی داستان پڑھی ایک طرف تو وہ انگیریز کیطرف سے اتنی پزیرائی اور دوسری طرف سے اسکی گرفتاری اور پھر توبہ نامہ اور جعلی دستخط کر کے جان چھڑانا اور پھر انگریز گورنمنٹ کو رحمت الہی قرار دینا یہ تمام باتیں اسبات کےلئے واضح دلیل ہیں کہ اس جماعت کے ڈانڈے کہاں اور کن لوگوں سے ملتے ہیں ۔
اھلحدیث "انگیریز کے شادی ،غمی شریک بھائی۔ ملکہ برطانیہ وکٹوریہ لینڈ کی جشن جوبلی کے موقع پر اہلحدیث نہ صرف جشن میں شیریک ہوئے بلکہ ملکہ وکٹوریہ کےلئے بھی جی بھر کر دعائیں مانگیں اور انہں "قیصرہ ھند"کا لقب دیا ،چنانچہ "اہلحدیث کے مشہور مجلہ اشاعتہ السنۃ میں خاصی تفصیل کیساتھ اس جشن کی روئیداد مذکور ھے ھم تلخیص نذر قارئین کرتے ہیں ،
ایک بہت بڑا دروازہ بنایا گیا جس پر ایک طرف انگریزی میں دوسری طرف اردو میں لکھا ہوا تھا "دل سے ھے یہ دعائے اھلحدیث جشن جوبلی مبارک ہو " اور اینڈریس دیا ۔بحضور فیض گنجور کوئین وکٹوریہ گریٹ قیصرہ ھند بارک اللہ فی سلطنتھا ھم ممبران گروہ اھلحدیث اپنے گروہ کے کل اشخاص کی طرف سے حضور والہ خدمت عالی میں جشن جوبلی کی دل مسرت سے مبارک باد عرض کرتے ہیں ،اپکی سلطنت میں جو نعمت مذہبی آزادی اس گروہ کو حاصل ھے اس سے یہ گروہ اپنا خاص نصیبہ اٹھا رھا ھے ،بخلاف دوسرے اسلامی فرقوں کے کہ ان کو دیگر اسلامی سلطنتوں میں بھی یہ آزادی حاصل ھے ،اس خصوصیت سے یہ یقین ہو سکتا ھے کہ اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ مسرت ھے۔ اور ان کے دل سے مبارکباد کی صدائیں زیادہ زور کیساتھ نعرہ زن ہیں ۔(اشاعتہ السنتہ ص204 جلد 9 شمارہ نمر 7)
قارئیں کرام ! آپ اس حوالے کو بغور پڑھیں کتنے واشگاف الفاظ میں انگریز کی منتوں کا اقرار ھے اور پھر کسقدر دعاؤں کے بعد اظہار تشکر ،نیز ایک مرتدہ کافرہ کی جشن جوبلی میں کس اھتمام سے شرکت ھے ؟ اس سے بڑھ کر اور کیا روشن ثبوت ہوسکتاھے ؟
آئیے ذرا ایک چشم کشا تحریر مزید پڑھئے اور سمجھئے کہ "اھحدیث " کا شجرہ نسب ازکجا تا کجا۔
اھلحدیث " انگیریز وں کے جانثار۔
اشاعتہ السنتہ سے اقتباس پیش خدمت ھے ۔
سر چارلس ایجی سن ۔لارڈ ڈفرن کو جو ایڈریس غیرمقلدین نے پیش کئے ان میں سے بھی لفظ وہابی کی منسوخی اورا ھلحدیث کی الاٹمنٹ پر ہزار زبان سے شکرئیے ادا کئے ( اشاعتہ السنتہ ص253 تا 256 جلد 9 شمارہ 8)
محمد حسین بٹالوی وکیل اہلحدیث ہند ۔مولوی احمداللہ واعظ میونسپل کمشنر امرتسر۔مولوی قطب الدین پیشوائے اھل روپڑ۔مولوی عبداللہ غازی پو،مولوی محمد سعید بنارس ،مولوی سید نظام الدین پیشوائے اھلحدیث مدارس ۔مولوی محمد ابراھیم آراہ ۔ مولوی سید نظام الدین پیشوائے اھل حدیث مدراس۔
(اشاعتہ السنتہ ص40 جلد 11 شمارہ نمبر 2)
قارئین کرام !!!
یہ اھلحدیث کے سرخیل و اکابرین کی تحریر ھے ،جسمیں وہ انگریز سے نیاز مندی و جان نثاری و وفاداری کا اقرار کر رھے ہیں ان لوگوں نے محدیثین کو بدنام کرنے کی خاطر اھلحدیث کا خوشنمالقب اپنے لئے اختیار کیاحالانکہ دراصل یہ لوگ انگریز کے بکے ہوئے غلام اور اسلام کے ازلی دشمن ہیں ،اھل قرآن ہوں یا نام نہاد اھل حدیث یہ ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ،ان کا اولین مقصد حدیث کی مخالفت اور آئمہ مجتہدین پر تبرا بازی ھے۔چونکہ ھمارا مقصد صرف تعارف تھا امید ھے ھمارا قاری اس فرقہ سے علی وجہ البصیرہ متعارف ہوگیا ہوگا۔ ھم اپنے مقدمہ کو انہی اوراق پر ختم کرتے ہیں ۔


اھل حدیث کسے کہتے ہیں

اھل حدیث کہتے ھیں محدثین کو ان کی تین اقسام ھیں
الحافظ الحدیث :
جس کو لگ بھگ ایک لاکھ احادیث متن سند جرح و تعدیل و تاویل کے ساتھ یاد ھوں
جیسے حافظ ابن حجر عسقلانی حافظ ابن کثیر حافظ ذھبی وغیرہ۰
الحجة الحدیث :
جس کو کم و بیش ایک سے چھ لاکھ احادیث متن سند جرح و تعدیل و تاویل کے ساتھ یاد ھوں جیسے امام بخاری و مسلم و غیرہ ۰
الحاکم الحدیث :
جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سب کی سب روایت احادیث متن سند جرح و تعدیل و تاویل کے ساتھ یاد ھوں اسے حاکم الحدیث کہتے ھیں جیسے آئمہ اربعہ و امام یحیی بن معین و غیرہ
یہاں المیہ یہ ھے کہ پان سگرٹ والا اور تانگے کا کوچوان جسے غسل جنابت کے فرائض واجبات سنن مستحبات و مکروھات کا بھی نہیں پتہ پوچھو تو کہتا ھے جی میں اھل حدیث ھوں

سُلطان الہند حضرت خواجئہ خواجگان خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سُلطان الہند حضرت خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جنوبی ایشیاء میں تصوّف کے سب سے بڑے سلسلہء چشتیہ کے بانی ہیں اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیسے عظیم الشان پیرانِ طریقت کے مرشد ہیں۔ غریبوں کی بندہ پروری کرنے کے عوض عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا جو آج بھی زبان زدِ عام ہے۔

آپ 14 رجب 536 ہجری کو جنوبی ایران کےعلاقےسیستان کےایک دولت مند گھرانے میں پیدا ہوئے آپ نسلی اعتبار سےصحیح النسب سید تھےآپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سےامیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سےجاملتا ہے ۔ آپ کےوالد گرامی خواجہ غیاث الدین حسین بہت دولت مند تاجر اور بااثر تھے ۔ حالانکہ کثرت مال و دولت کو قرآن حکیم میں سب سےبڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے ۔ مگر خواجہ غیاث صاحب ثروت ہونےکےساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے ۔ دولت کی فراوانی کےباوجود حضرت معین الدین چشتی بچپن سے ہی بہت قناعت پسند تھے۔

ولادت اور بچپن

جس زمانےمیں آپ کی ولادت ہوئی وہ بڑا پرآشوب دور تھا سیستان اور خراسان لوٹ مار کی زد میں تھےہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ سرسبز و شاداب علاقوں میں آگ بھڑک رہی تھی اور خوبصورت شہر کھنڈروں میں تبدیل ہو رہےتھےملت اسلامیہ میں کئی فرقےپیدا ہو چکےتھےجو بڑی سفاکی اور بےرحمی سےایک دوسرےکاخون بہا رہےتھی۔ ”ملاحدہ“ اور ”باطینوں“ کی جماعت نےپورےملک میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔

یہی وہ خون رنگ اور زہرآلود فضا تھی جس نےخواجہ غیاث الدین حسین کو ترک وطن پر مجبور کر دیا۔ آپ اہل خانہ کو لےخراسان چلےآئی۔ اس وقت حضرت معین الدین چشتی کی عمر مبارک ایک برس تھی۔ خواجہ غیاث الدین حسین کا خیال تھا کہ انہیں ارض خراسان میں کوئی نہ کوئی گوشہ عافیت ضرور مل جائےگا۔ مگر گردش ایاّم کےیہاں بھی وہی تیوڑ تھے جاں گداز فتنےیہاں بھی سر اٹھا رہےتھی۔

549 ھجری میں خونی سیلاب انسانی سروں سےگزر گیا۔ اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی عمر 13 سال تھی۔

طوس اور نیشاپور کےشہروں میں ظالموں نےایسا ظلم کیا اور اس قدر خون بہایا کہ وہاں ایک بھی انسان زندہ نہ بچا۔ ہر طرف لاشوں کےانبار لگےہوئےتھے۔ مسجدوں میں پناہ لینےوالوں کو بھی ظالموں نےنہ چھوڑا۔ نیشاپورکےمظلوموں اور جامہ شہادت نوش کرنےوالوں میں سپاہی اور عوام ہی میں شامل نہ تھےبڑےبڑےعلمائ‘ فضلا‘ اولیاءابرار‘ اتقیا بھی شامل تھی۔ نیشاپور جو ان دنوں علم و فضل کا گہوارہ تھا۔ اسےبھی خاک میں ملا دیا گیا لائبریریوں‘ درسگاہوں اور کتاب گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

انہی پر آشوب حالات اور آفتوں سےلڑتےجھگڑتےحضرت خواجہ معین الدین چشتی نےپرورش پائی۔ اور اپنی آنکھوں سےمسلمانوں کےخون کےدریا بہتےدیکھی۔ کبھی کبھی آپ نہایت رقت آمیز لہجےمیں اپنےوالد خواجہ غیاث الدین حسین سےسوال کرتے۔ بابا! خون مسلم کی یہ ارزانی کب تک جاری رہےگی۔ نوعمر فرزند کا سوال سن کر والد گرامی رونےلگتےاور فرماتےبیٹے! یہ خونی ہوائیں اہل ایمان کیلئےآزمائش ہیں تمہیں صبر سےکام لیتےہوئےاچھےوقت کا انتظار کرنا چاہئے۔

پھر ایک دن صبر کی تلقین کرنےوالا باپ بھی 551 ھجری کو دنیا سےرخصت ہوگیے۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 15 سال تھی۔ آپ اس نازک اور درندگی سےلبریز دور میں ایک شفیق اورمہربان باپ کےسایہ عافیت سےمحروم ہو چکےتھےوالد گرامی کی رحلت پر آپ ہر وقت اداس رہنےلگے۔ ایسےلمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نےبڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑےحوصلےکےساتھ بیٹےکو سمجھایا۔

فرزند! زندگی کےسفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سےگزرنا پڑتا ہےاگر تم ابھی سےاپنی تکلیفوں کا ماتم کرنےبیٹھ گئےتو زندگی کےدشوار گزار راستےکیسےطےکرو گے۔

اٹھو اور پوری توانائی سےاپنی زندگی کا سفر شروع کرو۔ ابھی تمہاری منزل بہت دور ہےیہ والد سےمحبت کا ثبوت نہیں کہ تم دن رات ان کی یاد میں آنسو بہاتےرہو۔ اولاد کی والدین کیلئےحقیقی محبت یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنےہر عمل سےبزرگوں کےخواب کی تعبیر پیش کری۔تمہارےباپ کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کری۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کےحصول کیلئےہی صرف کر دینی چاہئیں۔ مادر گرامی کی تسلیوں سےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سےعلم حاصل کرنےلگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سےایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سےجاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلئےرہ گئے۔

اجمیر شریف میں غریب نواز کا مزار

والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنےوالی چکی آپ کو ورثےمیں ملی۔ والدین کی جدائی کےبعد باغبانی کا پیشہ آپ نےاختیار کیا۔ درختوں کو خود پانی دیتے۔زمین کو ہموار کرتےپودوں کی دیکھ بھال کرتے۔ حتیٰ کہ منڈی میں جا کر خود ہی پھل بھی فروخت کرتے۔ آپ کاروبار میں اس قدر محو ہو گئےکہ آپ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی کہ جس کا بظاہر کوئی علاج ممکن نہ تھا۔ آپ اکثر اوقات اپنی اس محرومی پر غورکرتےجب کوئی حل نظر نہ آتا تو شدید مایوسی کےعالم میں آسمان کی طرف دیکھتےاوررونےلگتے۔ یہ خدا کےحضور بندےکی ایک خاموش التجا تھی۔ ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےباغ میں درختوں کو پانی دےرہےتھےکہ ادھر سےمشہور بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی کاگزر ہوا۔ آپ نےبزرگ کو دیکھا تو دوڑتےہوئےگئےاور حضرت ابراہیم قندوزی کےہاتھوں کو بوسہ دیا۔

حضرت ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کےاس جوش عقیدت سےبہت متاثر ہوئی۔ انہوں نےکمال شفقت سےآپ کےسر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگےجانےلگےتو آپ نےحضرت ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔

حضرت ابراہیم نےمحبت بھرےلہجےمیں پوچھا اےنوجوان! ”آپ کیا چاہتےہیں؟“

حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےعرض کی کہ آپ چند لمحےاور میرےباغ میں قیام فرما لیں۔ کون جانتا ہےکہ یہ سعادت مجھےدوبارہ نصیب ہوتی ہےکہ نہیں۔ آپ کالہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ حضرت ابراہیم سےانکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سےبھرےہوئےدو طباق لئےآپ حضرت ابراہیم کےسامنےرکھ دئیےاور خود دست بستہ کھڑےہو گئے۔

اس نو عمری میں سعادت مندی اورعقیدت مندی کا بےمثال مظاہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیم حیران تھے۔ انہوں نےچند انگور اٹھا کر کھا لئے۔ حضرت ابراہیم کےاس عمل سےآپ کےچہرےپر خوشی کا رنگ ابھر آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم قندوزی نےفرمایا۔ معین الدین بیٹھ جائو!

آپ دوزانوں ہو کر بیٹھ گئے۔ فرزند! تم نےایک فقیر کی خوب مہمان نوازی کی ہی۔ یہ سرسبز شاداب درخت‘ یہ لذیذ پھل یہ ملکیت اورجائیداد سب کچھ فنا ہو جانےوالا ہے۔ آج اگریہاں بہار کا دور دورہ ہےتو کل یہاں خزاں بھی آئےگی۔ یہی گردش روزوشب ہےاور یہی نظام قدرت بھی۔ تیرا یہ باغ وقت کی تیز آندھیوں میں اجڑ جائےگا۔ پھر اللہ تعالیٰ تجھےایک اور باغ عطا فرمائےگا۔ جس کےدرخت قیامت تک گرم ہوائوں سےمحفوظ رہیں گے۔ ان درختوں میں لگےپھلوں کا ذائقہ جو ایک بار چکھ لےگا پھر وہ دنیا کی کسی نعمت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھےگا۔ حضرت ابراہیم قندوزی نےاپنےپیرھن میں ہاتھ ڈال کر جیب سےروٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر حضرت خواجہ کی طرف بڑھا دیا اور فرمایا وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے۔

یہ کہہ کر خشک روٹی کاوہ ٹکڑا حضرت معین الدین چشتی کےمنہ میں ڈال دیا۔ پھر باغ سےنکل کر اپنی منزل کی جانب تیزی سےچل دیئے۔

حضرت ابراہیم کی دی ہوئی روٹی کا ٹکڑا اس قدر سخت اور خشک تھا کہ اس کا چبانا دشوار تھا۔ مگر آپ نےایک بزرگ کا تحفہ سمجھ کر وہ روٹی کا ٹکڑا کھا لیا۔ اس ٹکڑےکا حلق سےنیچےاترنا ہی تھا کہ حضرت معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونےلگا جیسےکائنات کی ہر شےفضول ہی۔ دوسرےہی دن آپ نےاپنی چکی اور باغ فروخت کر دیا اور اس سےحاصل ہونےوالی رقم غریبوں اورمحتاجوں میں بانٹ دی۔ عزیزواقارب آپ کی اس حرکت کو دماغی خلل بھی قرار دےرہےتھےلیکن وہ یہ سمجھنےسےقاصر تھےکہ ذہن و دل کےکس گوشےسےروشنی کی وہ لکیر پھوٹ رہی ہےجس نےدنیا کےتمام اجالوں کو دھندلا کر کےرکھ دیا ہے۔ بعدازاں آپ سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹانےکےبعد تحصیل علم کیلئےخراساں کو خیرباد کہہ کر سمرقند بخارا کا رخ کیا جو اس وقت علوم وفنون کےاہم مراکز تصور کئےجاتےتھے۔ یہاں پہلےآپ نےقرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیر‘ فقہ‘ حدیث اور دوسرےعلوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔ علوم ظاہری کی تکمیل کےبعد آپ نےمرشد کامل کی تلاش میں اورعراق کا رخ کیا۔ راستےمیں اپنےزمانےکےمشہور بزرگ حضرت خواجہ عثمان ہرونیسکونت پذیر تھے۔ حضرت خواجہ کچھ دن تک ایک عام طالب علم کی حیثیت سےحضرت عثمان ہرونی کی خدمت میں حاضر ہوتےرہے۔ مگر شیخ نےکوئی توجہ نہ دی۔ پہلےقدرےمایوس ہوئےبعدازاں ایک موقع پا کر آپ نےدل کی بات شیخ سےکہہ ہی ڈالی کہ میری دلی تمنا ہےکہ آپ مجھےمستقل غلامی کا شرف بخشیں۔ اس پر حضرت عثمان ہرونی نےفرمایا فرزند! مجھ سےاپنا ہی بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔ تمہارا کیسےاٹھائوں گا دراصل شیخ آپ کو ٹالنا چاہتےتھےلیکن آپ مسلسل اصرار فرماتےرہے۔

پھر ایک دن حضرت عثمان ہرونی نےآپ کو اپنےحلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےمرشد کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہے۔ آپ پیرومرشد کی خدمت کیلئےساری ساری رات جاگتےرہتےکہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے۔

پھر ایک دن حضرت خواجہ کو مرشد پاک نےسینےسےلگا کر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیئےاور دعا فرمائی۔ ”اےخدائےذوالجلال!معین الدین کو قبول فرما لے۔ اس نے بےسروسامانی کےباوجود مجھےنہیں چھوڑا تو بھی اسےزمین پرتنہا نہ چھوڑ۔ ابھی دعا کےالفاظ مکمل بھی نہ ہوپائےتھےکہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی بارش نور میں نہا گئے۔ ایک تیز شعاع دل و دماغ کو روشن کرتی چلی گئی۔ اور آپ کی آنکھوں کےسامنےسےتمام حجابات اٹھ گئے۔

معین الدین! اب کیا نظر آتا ہے؟ حضرت عثمان ہرونی نےآپ سےفرمایا۔ آپ کےصدقےمیں عرش سےتحت الثری تک دیکھ رہا ہوں۔ حضرت معین الدین چشتی نےکہا۔ اللہ کا شکر ہےکہ تم سیراب ہو گئے۔ ورنہ عشق کےصحرا میں لوگ ایک بوند کیلئےزندگی بھر ترستےرہتےہیں پھر آپ کےپاس جو شخص بھی نگاہ کرم کی بھیک مانگنےآتا تو آپ فرماتےکہ میرےپاس جو کچھ تھا وہ میں نےمعین الدین کو عطا کر دیا ہے۔

ایک اور روایت کےمطابق حضرت عثمان ہرونی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو لےکر مکہ معظمہ حاضر ہوئی۔ خانہ کعبہ کا طواف کرنےکےبعد آپ نےبلند آواز میں فرمایا۔ الٰہی!معین الدین حاضر ہےاپنےاس عاجز بندےکو شرف قبولیت عطا فرما۔ جواب میں ندائےغیبی سنائی دی۔ ”ہم نےاسےقبول کیا۔ بےشک! یہ معین الدین ہے۔

پھر مکہ معظمہ کےبعد مدینہمنورہ تشریف لےگے۔ پھر جیسےہی سرورِکائنات ا کی قربت حاصل ہوئی حضرت عثمان ہرونی نےخواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔”معین الدین! آقائےکائنات کےحضور اسلام پیش کرو۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےگداز قلب کےساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ ”السلام علیکم یا سید المرسلین۔“ وہاں موجود تمام لوگوں نےسنا۔ روضہ رسول ا سےجواب آیا۔ ”وعلیکم السلام یا سلطان الہند“۔

اس کےبعد مرشد نےحضرت خواجہ کومبارکباد دیتےہوئےفرمایا معین الدین! تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں دونوں مقامات پر قبولیت کی سند عطا ہوئی آئندہ بت خانہ ہند تمہاری سرگرمیوں کامرکز ہو گا۔ اگرچہ وہاں کفر کی گہری تاریکی پھیلی ہوئی ہےلیکن تم وہاں اسلام کی شمع روشن کرنےمیں کامیاب ہو جائو گے۔ اس وسیع و عریض ملک میں صرف تم ہی سلطان کہلائو گےجسےدرباررسالت ا سےتاج سلطانی عطا ہوا ہےوہ ہندوستان کےتمام بادشاہوں پر غالب آکر رہےگا۔

بعدازاں حضرت معین الدین چشتی نےاپنےمرشد کی ہدایت پر طویل عرصےتک شدید ریاضتیں کیں۔ مسلسل سات سات دن کا روزہ رکھتے۔

پھر پیر و مرشد کی اجازت سےآپ تنہا حجاز مقدس پہنچے۔ حج کی سعادت حاصل کی روضہ رسول پر حاضری دینےکےساتھ ساتھ کئی ممالک کا سفر اختیار کیا۔ سفر بغداد کےدوران آپ کی ملاقات حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سےہوئی اولیائےکرام میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ کا مقام بہت بلند ہی۔ حضرت معین الدین چشتی اڑھائی ماہ تک حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ کےہاں قیام پذیر رہےاور ایک عظیم صوفی کی محبتوں سےفیض یاب ہوئے۔

اس کےبعد حضرت معین الدین چشتی بغداد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ پھر آپ تبریز تشریف لےگئےاوروہاں حضرت خواجہ ابو سعید تبریزی سےفیض حاصل کیا۔ حضرت تبریزی کو تصوف کی دنیا میں ہمہ گیر شہرت حاصل ہے۔ چند دن یہاں گزارنےکےبعد آپ اصفحان تشریف لےگئی۔ وہاں مشہور بزرگ حضرت شیخ محمود اصفحانی کی محبت سےفیض یاب ہوئی۔

انہی دنوں وہاں ایک نو عمر لڑکےکو دیکھا جو درویشوں سےنہایت عقیدت رکھتا تھا حضرت معین الدین چشتی کی آمد سےپہلےوہ لڑکا حضرت شیخ محمود اصفحانی کی ذات سےبہت متاثر تھا۔ مگر جب اس نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کو دیکھا تو ارادہ بدل دیا۔ پھر جب آپ اصفحان سے روانہ ہوئےتو وہ نو عمر لڑکا آپ کےساتھ ہی ہولیا۔ یہی نو عمر لڑکا حضرت معین الدین چشتی کی صحبت میں اولیائےہند کا تاجدار بنا۔ جسےدنیا حضرت قطب الدین بختیار کاکی کےنام سےجانتی ہی۔ آپ گنج شکر حضرت بابا فرید کےمرشد اورحضرت نظام الدین اولیاء کےدادا مرشد ہیں۔

بہر کیف حضرت معین الدین چشتی اصفحانسےخرقان تشریف لےآئےیہاں آپ نےدو سال وعظ فرمایا اور ہزاروں انسانوں کو راہِ راست پر لائی۔ پھر ایران کےشہر استرآباد تشریف لےآئےان دنوں وہاں ایک مرد کامل حضرت شیخ ناصر الدین قیام پذیر تھی۔ جن کا دو واسطوں سےسلسلہ حضرت بایزید بسطامی سےجا ملتا ہےچند ماہ یہاں حضرت شیخ ناصرالدین سےروحانی فیض حاصل کیا۔ پھر ہرات کا قصد کیا۔ یہ شہر ایرانی سرحد کےقریب افغانستان میں واقع ہی۔ یہاں حضرت خواجہ عبداللہ انصاری کےمزار مبارک پر آپ کا قیام تھا۔ بہت جلد سارےشہر میں آپ کےچرچےہونےلگے۔ جب بات حد سے بڑھ گئی اور خلق خدا کی ہر لمحےحاضری کی وجہ سےوظائف اور عبادت الٰہی میں فرق پڑنےلگا تو آپ ہرات کو خیرباد کہہ کر سبزوار تشریف لےگئے۔

سبزوار میں آپ کی آمد کو چند دن ہی گزرےتھےکہ مقامی باشندوں کی بہت بڑی تعداد یہاں کےگورنر یادگار محمد کےخلاف درخواست لےکرآپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نےبتایا کہ مقامی گورنر کےجابرانہ روئیےسےتنگ آکر لوگ قبروں میں اتر گئےہیں لیکن حکومتی ظلم و زیادتی کا طوفان تھمنےکا نام نہیں لےرہا۔ لوگوں نےالتجا بھرےلہجےمیں آپ سےدرخواست کی کہ آپ اس ظالم گورنر کےحق میں دعا فرمائیں کہ اللہ اسےہدایت دےدےاور اس کی ظلم سامانیوں سےاہل شہر کو نجات مل جائی۔ آپ نےاہل شہر کی فریاد سنی اور انہیں یقین دلایا کہ خداوند تعالیٰ بہت جلد اس شہر کےرہنےوالوں پر رحم کرےگا۔۔

دوسرےدن آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتی گورنر یادگار محمد کےدربار میں تشریف لےگئے۔ محل کےدروازےپر پہنچ کر آپ نےدربان سےکہا۔ ”اپنےحاکم کوخبر کرو کہ اس سےدرویش معین الدین ملنا چاہتا ہے۔“
دربان نےحاکم سبزوار کواطلاع دی لیکن یادگار محمد کا غرور انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ اس نےغضبناک لہجےمیں دربان کو جواب دیا۔ ”میرےپاس کسی ننگےبھوکےفقیر سےملنےکاوقت نہیں ہے۔“

دربان واپس آیا اور جیسےہی اس نےیادگار محمد کےالفاظ دہرانےکی کوشش کی۔ اس کی زبان گنگ ہوگئی۔ دربان نےگھبرا کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کےچہرہ مبارک کی طرف دیکھا۔ اس کی روح کانپنےلگی‘ ہاتھ سےتلوار چھوٹ گئی اور وہ زمین پر گر کے بیہوش ہو گیا۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی کسی اجازت کےبغیر محل کےدروازےمیں داخل ہو گئے۔ دوسرےدربان کی نظر پڑی تو وہ آپ روکنےکیلئےآگےبڑھا مگر اس کابھی وہی حشر ہوا جو پہلےدربان کا ہو چکا تھا۔ پھر محل میں ایک شور سا برپا ہو گیا۔ اس سےپہلےکہ یادگار محمد صورتحال کو سمجھنےکی کوشش کرتا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس کےکمرےمیں داخل ہو چکےتھے۔ جہاں بیٹھ کر وہ سنگ دل حاکم انسانی تقدیروں کےفیصلےکرتا تھا۔ دربار میں ہلچل سی مچ گئی۔ حضرت خواجہ کےجلال معرفت کا یہ عالم تھا کہ جس پر نظر پڑی‘ اپنےہوش و حواس کھو بیٹھتا۔ یادگار محمد نےآپ کو دیکھا تو خوف و دہشت سےکانپنےلگا۔

”میں وہی بھوکا اورننگا فقیر ہوں جس سےتو نےملنا بھی گوارہ نہیں کیا۔“ گورنر کےدربار میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی بارعب آواز گونجی ”میں یہاں اس لئےنہیں آیا کہ تو مجھےبندگان خدا کےخون میں ڈوبی ہوئی چند روٹیوں کی بھیک دےدےیامخلوق خدا کےجسموں کو برہنہ کر کےچند گز ریشمی کپڑامیرےحوالےکر دی۔ میں تو اس لئےآیا ہوں کہ حجت تمام ہو جائے۔ اس سےپہلےکہ تیرےاقتدار کو زمین نگل لی‘ حق کی نافرمانیوں سےبازآجا تو جن پر ستم ڈھا رہاہے۔ انہیں ان کی مائوں نےآزاد پیدا کیا۔ بساط ہستی پر تیری حیثیت ہی کیاہے؟ تجھ سےپہلےبڑےبڑےستمگریہاں اپنی طاقت آزما چکےہیں۔ انہیں تلاش کر کےوہ کہاں سےآئےتھےاور کدھر گئے؟

گورنر سبزوار کےدربار پر کسی قبرستان سا گمان ہو رہا تھا۔ حاضرین مردوں کی طرح ساکت تھےاور یادرگار محمد اپنی زرگناہ کرسی سےاتر کر نیچےآنا چاہتا تھا مگر اس کا جسم مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

حضرت خواجہ معین چشتی جابر حاکم کےسامنےکلمات حق ادا کر کےواپس جاچکےتھےلیکن آپ کےالفاظ کی گونج ابھی تک باقی تھی۔ آپ کی باتوں سےظالم گورنر پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔

کچھ دن بعد حضرت خواجہ معین الدین چشتی سبزوار سے”حصارِ شادماں“ تشریف لائےتو یادگار محمد بھی آپ کےہمراہ تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنی باقی ماندہ عمر پیرومرشد کی خدمت میں بسر کری۔ مگر پیرومرشد نےآپ کو ”حصارِ شادماں“ میں لوگوں کی رشدو ہدایت کیلئےمقرر کر دیا۔ ”حصارِ شادماں“ سےرخصت ہو کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی بلخ تشریف لائےاورحضرت شیخ احمد خضرویہ کی خانقاہ پر قیام کیا۔ یہاں حکیم ضیاءالدین بلخی نےآپ کےہاتھ پر بیعت کی۔ بلخ کےبعد کچھ عرصےتک آپ نےغزنی میں قیام فرمایا۔ یہاں ایک رات آپ نےخواب میں سرورِکائنات ا کو دیکھا۔ رسول اکرم انےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کو اپنی دعائوں سےسرفراز کیا اور ہندوستان جانےکی ہدایت فرمائی۔ آپ کو دربار رسالت سےسلطان الہند کا خطاب پہلےہی مل چکا تھا لیکن روانگی کاحکم اب ملا تھا آقائےنامدار اکی اجازت پاتےہی آپ 586 ھجری کو لاہور تشریف لائےاور سب سےپہلےحضرت داتا گنج بخش کا فیض حاصل کرنےکےبعد ملتان چلےگئی۔ یہاں آپ نےپانچ سال تک قیام کیا اور سنسکرت زبان سیکھی۔ چونکہ آپ ہندو قوم کےسامنےاسلامی تعلیمات پیش کرنےوالےتھےاس لیےمقامی لوگوں کی زبان جاننا آپ کیلئےاشد ضروری تھا۔ ملتان کےبعد دہلی قیام پذیر ہوئی۔ یہاں سب سےلاڈلےمرید حضرت قطب الدین بختیار کاکیکو چھوڑ کر خود اجمیر شریف کےخطہ زمین کو تبلیغ کیلئےمستقل طور پر منتخب فرمایا۔۔

زمانہ قدیم کی کتابوں میں اجمیر کو جانگیر‘ جیراگ‘ جیمزآدمیر اور جلوپور کےنام سےبھی پکارا گیا۔ اس شہر کو بسانےوالوں میں راجہ اجےپال کانام لیا جاتا ہی۔ لیکن اس وقت اجمیر پر پرتھوی راجہ چوہان کی حکمرانی تھی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر شہر کےنواح میں گھاس پھونس کی ایک جھونپڑی بنائی اس جھونپڑی میں نماز کا مصلی‘ پانی کابرتن اورایک جوڑا لباس شہنشاہ معرفت کا یہ کل اثاثہ تھا۔ شروع شروع میں مقامی لوگ آپ کو جوگی یا سادھو سمجھتےرہےلیکن جب لوگوں نےآپ کو قریب سےدیکھا تو وضع قطع کےاعتبار سےآپ ہندو سنیاسیوں سےمختلف دکھائی دیئے۔ پھر ایک دن کچھ راجپوت آپ کی جھونپڑی میں داخل ہوئےاس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی ذکر الٰہی میںمشغول تھی۔ راجپوت خاموشی بیٹھےرہے۔ یہاں تک کہ آپ نماز و وظائف سےفارغ ہو گئے۔ آپ نےان راجپوتوں سےآنےکی وجہ پوچھی تو راجپوتوں نےکہا کہ ہم کچھ دنوں سےآپ کو جنگل بیابان میں مصروف عبادت دیکھ رہےتھےاس لئےجاننا چاہتےہیں کہ آپ کون ہیں اور کہاں سےآئےہیں۔ اور یہاں آنےکا مقصد کیا ہے۔ آپ نےجواباً فرمایاکہ میں مسلمان ہوں اور تمہیں اللہ کا پیغام پہنچانےآیا ہوں۔ مسلمان کا نام سن کر راجپوت چونک اٹھے۔ کیا تم شہاب الدین غوری کی قوم سےہو؟ ہاں وہ میرا دینی بھائی ہی۔

آپ نےفرمایا۔ غوری تو اپنےہمراہ ایک لشکر جرار لےکر آیا تھا۔ مگر میں تو تمہارےدرمیان تنہا ہوں۔ پھر بھی تمہیں خدا کا پیغام سنائوں گا اور تمہیں وہ پیغام سننا ہو گا۔ اگر تم اپنےکان بند کر لو گےتو تمہاری سماعتوں میں شگاف پڑ جائیں گی۔ وہ پیغام تمہارےذہن و دل کی گہرائیوں میں اتر کر رہےگا۔ جائو اپنےگھروں کےدروازےبند کر لو۔ دل و دماغ پر پہرےبٹھا دو مگر وہ روشنی کی لکیر آہنی دروازوں سےگزر کر بھی تم تک پہنچ جائےگے۔ یہ ایک بڑا دعویٰ تھا جو ایک سرکش قوم کےدرمیان کیا جارہا تھا۔ ایک راجپوت کو آپ کی بات ناگوار گزری اس نےتلخ لہجےمیں کہا کہ ہم اپنی زمین پر یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتے۔ آپ نےفرمایا کہ یہ زمین اللہ کی ہےاگرکسی انسان کی ملکیت ہوتی تو تمہارےباپ دادا موت کاذائقہ نہ چکھتےیا زمین کو اٹھا کر اپنےساتھ لےجاتے۔ آپ کا یہ جواب سن کر راجپوتوں نےکہا کہ ہم کسی اللہ کو نہیں جانتےزمینو آسمان پر ہمارےدیوتائوں کی حکومت ہی۔ یہاں تمہارےرہنےکی ایک ہی صورت ہو سکتی ہےکہ تم دوبارہ اپنی زبان پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لائو گے۔ اس پر آپ نےفرمایا ”میں تو اسی کےنام سےزندہ ہوں اور تمہیں بھی اسی کےنام کی برکت سےزندہ کرنےآیا ہوں۔“ ایک راجپوت نے اللہ کا وہ پیغام سن کی فرمائش کی جسے آپ سنانے کے لئے اجمیر شریف تشریف لائے تھے۔ آپ نے سورۃ اخلاص پڑھ کر اس کا ترجمہ سنسکرت زبان میں سنایا۔ اور فرمایا کہ اللہ کو سب سے ناپسند اپنے ہی ہاتھوں سے بنائےہوئےبتوں کی پرستش ہی۔ مٹی کےجو بت ایک جگہ سےدوسری جگہ خود گردش نہیں کر سکتےوہ تمہاری مدد کیا کریں گے۔ یوں آپ نےاجمیر شریف میں پہلی اذان دےدی تھی۔ آپ کی زبان سےاپنےبتوں کےخلاف ادا ہونےوالےالفاظ سن کر راجپوت غصےمیں لال پیلےہو گئےاورتلواریں بےنیام ہو گئیں۔وہ آپ کو تہہ تیغ کر دینا چاہتےتھےکیونکہ آپ نےان کےروبرو ان کےبتوں کی نفی کی تھی۔ جب حضرت معین الدین چشتی نےپہلی بار جلال بھرےلہجےمیں دیکھا توایک برق سےلدائی اور راجپوتوں کےجسم پرخوف طاری ہو گیا۔ تلواریں ہاتھ سےچھوٹ گئیں پھر وہ لوگ وہاں سےبھاگ کھڑےہوئے۔ جنہوں نےآج تک میدانِ جنگ میں پیٹھ نہیں دکھائی تھی۔ جب شہر میں ایک مسلمان فقیر کی ہیبت کی شہرت سنائی دی تو بڑی تعداد میں راجپوت مسلح ہو کر انتقام کےارادےسےآپ کی جھونپڑی میں آپہنچےاس وقت آپ نماز کی ادائیگی میں مشغول تھی۔ راجپوتوں نےمیان سےتلوار نکال کر نماز کےدوران ہی آپ کو (نعوذ باللہ) قتل کرنا چاہا۔ لیکن تلواروں نےایک بار پھر نیاموں سےنکلنےسےانکار کر دیا۔ ان کےجسموں پر ایک بار پھر لرزا طاری ہو گیا اور وہ راجپوت فرار ہوتےہوئےچیخ رہےتھےکہ یہ تو جادوگر ہے۔

اس کےبعد راجپوتوں کی ایک اور جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ کےپیغام کو سنا اور اپنےآبائواجداد کا مذہب چھوڑ کر ایک ایسےمذہب میں داخل ہو گئےجس کی نگاہ میں اچھوت‘ کھتری‘ شودر‘ راجپوت اور برہمن سب برابر تھے۔ کفر کےقلعےمیں پہلا شگاف پڑ چکا تھا۔ مذہبی اجارہ داروں کی پیشانی پر گہری لکیریں ابھر آئیں۔ نجومیوں اور پنڈتوں نےآسمان کی طرف دیکھا ستاروں کی گردش میں ایک عجیب سا انتشار برپا تھا۔ پراسرار علوم کےجاننےوالےحیرت زدہ تھےاور آسمان کےبروج میں کسی خوفناک انقلاب کی تصویر صاف نمایاں تھے۔ ہندو دھرم کےرکھوالوں نےآپ کےہاتھ پر مسلمان ہونےوالوں کو طلب کیا اورپوچھا ”آخر تمہیں اس اجنبی کےپیغام میں کیا کشش محسوس ہوئی تم نےاس کےخدا کو دیکھا ہے؟

“ دین اسلام میں داخل ہونےوالےنو مسلمانوں نےکہا ہم کچھ نہیںجانتےہمارےدل نےگواہی دی کہ وہ سچ بولتا ہی۔ بس ہم مجبور ہو گئے۔ کچھ ناعاقبت نااندیشوں نےراجہ پرتھوی چوہان کےسامنےیہ تجویز پیش کی کہ باغیوں کی اس مختصر سی تعداد کو قتل کردیا جائےاوراسلام کےخطرےسےہمیشہ کیلئےجان چھڑا لی جائے۔ راجہ پرتھوی نےیہ تجویز قبول نہیں کی کہ مسلمان ہونےوالوں میں بہت سےبااثر ہندو قبائل کےلوگ بھی شامل تھےاس طرح ریاست میں انتشار پھیلنےکا اندیشہ تھا۔ لیکن ان کےمعاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔ چنانچہ وہ نو مسلم افراد حضرت معین الدین چشتی کےقدموں میں آپڑے۔ جاسوسوں نےپرتھوی راج کوخبر دی کہ معتوب راجپوت نیا مذہب قبول کر کےبہت زیادہ خوش ہیں تو وہ آگ بگولا ہو گیا اورمسلمانوں کےخلاف سازشوں کےنئےجال بنےجانےلگے۔ اسی دوران حضرت معین الدین چشتی کا ایک خادم آپ کےوضو کیلئےاناساگر تالاب سےپانی لینےکیلئےگیا تو وہاں خلاف معمول راجہ کےسپاہی تعینات نظر آئےجب خادم نےپانی سےگھڑا بھرنا چاہا تو راجپوت سپاہیوں نےسختی سےمنع کر دیا اور کہا کہ اب تم اچھوت ہو تالاب کےپانی کو گندہ مت کرو۔ خادم نےکہا کہ پانی تو جانوروں پر بھی بند نہیں کیا جاتا۔ ہم تو پھر انسان ہیں اس پر راجپوت سپاہیوں نےکہا کہ تم حیوانوں سےبھی بدتر ہو۔ خادم نےآکر جب آپ کو سارا ماجرا سنایا تو آپ نےفرمایا کہ راجپوت سپاہیوں سےکہو کہ اس مرتبہ ایک گھڑا پانی لےلینےدو پھر ہم اپنا کوئی اور انتظام کرلیں گی۔ آپ کےحکم پر جب خادم دوبارہ تالاب پر پانی لینےگیا تو راجپوت سپاہیوں نےتمسخر اڑاتےہوئےکہا کہ آج گھڑا بھر لو اس کےبعد تمہیں یہاں سےپانی لینےکی اجازت نہیں ہو گی۔ چنانچہ خادم نےمرشد کےحکم کےمطابق وہ گھڑا بھر لیا۔راجپوت سپاہیوں کےساتھ ساتھ مسلمان خادم پر بھی حیرتوں کےپہاڑ ٹوٹ گئےکہ اناساگر تالاب کا سارا پانی ایک چھوٹےسےبرتن میں سمٹ آیا تھا۔ تالاب کےجس پانی پر راجپوت سپاہی تکبر کر رہےتھےوہ پانی سےخالی ہو چکا تھا۔ راجپوتوں کےنزدیک یہ جادوگری کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ یہ دیکھ کر راجپوت سپاہی وہاں سےخوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑےہو گئے۔ آپ کا خادم بھی لرزتےقدموں سےواپس آیا۔ کانپتےلہجےمیں سارا واقعہ سنایا۔ آج اسےپہلی بار اپنےمرشد کی روحانی طاقت کا احساس ہو چکاتھا۔ پورےاجمیر شہر میں ہنگامہ برپا تھا اناساگر تالاب کےخشک ہونےکی خبر سب کیلئےحیران کن تھی۔ پرتھوی راج مسلمانوں کےبڑھتےہوئےاثرورسوخ کو ہر صورت میں روکنا چاہتا تھا۔ مشیروں نےاسےمشورہ دیا کہ اس مسلمان فقیر کا مقابلہ ہندو جادوگر ہی کر سکتےہیں۔۔

لیکن اس سےپہلےشہر اجمیر کےچند معززین اناساگر تالاب کی سابقہ پوزیشن بحال کرنےکی استدعا لےکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئےاور عرض کی کہ اگرتالاب کا پانی اسی طرح خشک رہا تو بہت سارےانسان پانی کےبغیر مر جائیں گے۔ چنانچہ آپ نےاسلام کی رواداری اور صلہ رحمی کا مظاہرہ کرتےہوئےفرمایا۔ یہ تو حق کےنافرمانوں کیلئےایک چھوٹی سی جھلک ہی۔ وگرنہ ہمارا مذہب تو کسی کتےکوبھی پیاس سےتڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ یہ فرما کر آپ نےاپنےخادم کو حکم دیا کہ ”برتن کا پانی تالاب میں واپس ڈال دیا جائے۔“ آپ نےراجپوت قوم کےنمائندوں کو دوبارہ فرمایا قدرت بار بار سرکشوں کو مہلت نہیں دیا کرتی۔ اس سےپہلےکہ تمہارےآبائو اجداد پر زمین تنگ ہو جائےبت پرستی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لےآئو۔ ورنہ دوزخ کی دھکتی آگ کیلئےتیار ہو جائو۔

آپ کےارشادات سن کر بظاہر تو وہ نگاہیں نیچی کر کےخاموش کھڑےرہےلیکن ان کےدل میںنفرتیں کچھ اور بڑھ گئیں اور ان کےسینوں میں سازش اور انتظام کی آگ بھڑ اٹھی۔

جب گھڑےکا پانی آپ کےحکم پرتالاب میں ڈالا گیا تولوگ دیکھ کر حیران رہ گئےکہ تالاب ایک بارپھر پانی سےلبالب بھرا ہوا ہے۔ بت پرستوں کیلئےیہ ایک فقیر کی جانب سےبہت بڑا پیغام تھا۔ جسےسمجھنےاوراس پرعمل کرنےکی بجائےانہوں نےپرتھوی راج کو مشورہ دیا کہ اجمیرشریف کےدراز قد‘ تنومند شادی جادوگر کو اس مسلمان فقیر کےمقابلےپر لایا جائےجو طاقتور جسم اور ساحرانہ کمالات میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔

پرتھوی راج نےساتھیوں کا مشورہ قبول کر کےشادی جادوگر کو اپنےدربار میں طلب کیا اور اسےحکم دیا کہ اپنےجادو کی بےپناہ طاقت سےدیوتائوں کی بستی کو مسلمانوں کےوجود سےپاک کر دے۔ مہاراج کی طرف سےحکم ملتےہی شادی جادوگر نےمسلمان فقیر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طاقت کا اندازہ کرنےکی کوشش کی اور اس نتیجےپر پہنچا کہ اسےآسانی کےساتھ شکست نہیں دی جاسکتی۔ وہ اپنےتابع شیاطین کےسہارےفقیر مسلمان سےمقابلےکی تیاریاں کرنےلگا۔ شادی نےاپنےچیلوں کو نئےمنتر سکھائےاور ساحروں کی فوج لےکر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طرف بڑھا۔ جیسےہی جادوگروں کی یہ جماعت حق پرستوں کےقریب پہنچی تو حلقہ اسلام میں داخل ہونےوالےنئےمسلمان گھبرا گئےانہوں نےآپ کو جادوگروں کی یلغار سےآگاہ کیا۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی یہ کہہ کر دوبارہ اپنی نماز میں مشغول ہوگئے۔ پہلےکی طرح اب بھی ناکامی ہی ان کامقدر ہے۔

جادوگروں کی یہ جماعت اپنےمنتر پڑھتےپڑھتےاچانک ایک جگہ ٹھہر گئی جب شادی جادو گرنےانہیں آگےبڑھنےکا حکم دیا تو انہوں نےصاف جواب دےدیا کہ ان میں آگےبڑھنےکی طاقت نہیں ہے۔

شادی جادوگر اپنےمنتر پڑھتا ہوا آگےبڑھ رہا تھا اس کی آنکھیں آگ برسا رہی تھیں منہ سےبھڑکتےشعلےنکل رہےتھے۔ یہ ایک خوفناک منظر تھا۔ وہ بلند آواز میں یہ کہہ رہا تھا کہ مسلمان سن لیں کہ ان کی موت کا وقت قریب آچکا ہی۔ کیونکہ میری شکتی دیوتائوں کےدشمنوں کو ہلاک کر ڈالےگی۔ یہ کہہ کر اس نےابھی تھوڑا ہی فاصلہ طےکیا تھا کہ اس کی زبان بھی بند ہو گئی۔ اچانک اس کی زبان سےرحیم رحیم کےالفاظ نکلنےلگی۔

جب شادی کےچیلوں نےاپنےگرو کا یہ حال دیکھا تو وہ غصےسےبےقابو ہو گئےاور شدید غصےکےعالم میں اپنےہی گرو کےخلاف نازیبا الفاظ کہنےلگی۔ شادی جادوگر اس دشنام طرازی کو برداشت نہ کر سکا۔ آگےبڑھنےکی بجائےاپنےساتھیوں کی طرف لپکا اور اپنےہی چیلوں پر پتھر برسانےلگا۔ اس طرح شادی جادوگر نےاپنےکئی چیلوں کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جو باقی بچےوہ فرار ہو گئے۔

شادی جادوگر کا جنون بڑھتا جارہاتھا۔ حضرت معین الدین چشتی نےاس بگڑتی صورتحال میں خادم کےہاتھ پانی کا ایک پیالہ بھر کر بھیجا جیسےہی شادی جادوگر نےپیالےکا پانی پیا تو کفر کی ساری تاریکیاں دل و دماغ سےجاتی رہیں اوربڑےعقیدت مندانہ انداز میں حضرت خواجہ کےقدموں میں گر گیا۔ اس طرح خداپرستوں کی صف میں ایک اور کلمہ گو کا اضافہ ہو گیا۔

شجرہ طریقت خواجہ معین الدین چشتی

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا٬ یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلهٔ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا

•    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
•    حضرت علی علیہ السلام
•    حضرت خواجہ حسن بصری
•    حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید
•    حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض
•    حضرت خواجہ ابراھیم بن ادھم البلخیؒ
•    حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی
•    حضرت خواجہ ابو ہبیرہ بصری
•    حضرت خواجہ ممشاد علوی دینوریؒ
•    خواجہ ابو اسحاق شامی رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ ابو احمد ابدال رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ ابو محمد چشتی رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ ابو یوسف چشتی رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ شریف زندنی رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ عثمان ہارون رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمت ﷲ علیہ
•    قطب الدین بختیار کاکی رحمت ﷲ علیہ
•    بابا فرید الدین گنج شکر رحمت ﷲ علیہ
•    خواجہ نظام الدین اولیاء رحمت ﷲ علیہ
•    نصیرالدین چراغ دهلوی رحمت ﷲ علیہ

خواجہ خواجگان حضرت معین الدین اجمیری کے مکتوبات و ملفوظات

آپ کے مکتوبات

یہ تمام مکتوبات طالبان حق کیلئے رہنمائی اور اسرار معرفت کی نقاب کشائی کی روشن میناریں ہیں۔ یہ مکتوب وہ ہیں جنہیں آپ نے اپنے خلیفہء اکبر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو تحریر فرمائے ہیں۔ ان مکتوبات میں تصوف کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ تمام خطوط بزبان فارسی تھے۔ ان کا ترجمہ ء اُردو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

حقائق و معارف سے واقف عشق رب العٰلمین

برادرم خواجہ قطب الدین کو معلوم ہو کہ لوگوں میں عاقل ترین وہ فقراء ہیں جنہوں نے درویشی اختیار کرلی ہے کیونکہ اس میں مُراد نامُرادی ہے اور نامُرادی مراد ہے۔ برخلاف اس کے کہ اہل غفلت نے صحت کو زحمت اور زحمت کو صحت خیال کر رکھا ہے۔ پس دانا وہی ہے جو دنیاوی مراد چھوڑ کر کے فقر نامردای اختیار کرے۔ اور اپنی مراد چھوڑ کر نامردای سے موافقت کرے۔

نامراد بے تونگری بامرادے کے رسی

پس مرد حق تعالٰی سے وابستگی لازم ہے جو ہمیشہ سے ہے۔ اور ہمیشہ رہے گا۔ اگر خدا آنکھ سے تو ہر راہ میں سوا اس کے کچھ نہ دیکھے۔ جہاں میں جسے دیکھے اس میں اس کی حقیقت دیکھے کیونکہ ہر ذرہء خاک جہاں نما ہے۔ اگر دیکھا جائے بجز شوق مواصلت ظاہری اور کیا لکھوں۔ فقیر معین الدین چشتی سنجری

میرے ولی محّب ! میرے قلبی دوسر ! برادم خواجہ قطب الدین دہلوی اللہ تعالٰی آپ کو دونوں جہان کی سعادت عطا فرمائے۔ بندہء مسکین کی طرف سے سلام مسنون کے بعد واضح ہو۔ عزیزمن ! جس نے اللہ تعالٰی کو پہچان لیا وہ کبھی سوال یا خواہش یا آرزو نہیں کرتا جس نے نہیں پہچانا ہے وہ ان کی بات کو نہیں سمجھ سکتا۔

دوسرے حرص و ہوا کو ترک کرنا چاہئیے۔ جس نے حرص و ہوا کو ترک کیا۔ اُس نے مقصود حاصل کیا۔ چنانچہ ایسے شخص کیلئے باری تعالٰی کا ارشاد ہے کہ وننھی النفس عن الھوی ہ فان الجنۃ ھی الماوی۔ جس نے اپنی خواہشات کو روکا اس کا ٹھکانہ جنت ہے، جس دل کو اللہ تعالٰی نے اپنی طرف سے پھیر دیا اسے کثرت شہوات کے کفن میں لپیٹ کر زمین ندامت میں دفن کر دینا چاہئیے۔ ایک دن خواجہ بایزید بسطامی نے فرمایا۔ ایک روز میں دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوا پوچھا بایزیزد کیا چاہتے ہو ؟ عرض کیا جو تو چاہتا ہے۔ خطاب ہوا اچھا جس طرح تو میرا ہے اسی طرح میں تیرا ہوں۔

ہر کہ گردن نہد رضا اورا     مر مراحق نگاہ ہاں باشد

جو تصوف کی ماہیت سے واقف ہونا چاہے وہ اپنے اوپر آسائش کا دروازہ بند کرے۔ پھر زانوئے محبت کے بل بیٹھ جائے۔ اگر یہ کام کر لیا تو سمجھ کہ اہل تصوف ہوگیا۔ طالبانِ حق کو یہ امر دل و جان سے بجا لانا چاہئیے۔ انشاءاللہ تعالٰی وسوسہ شیطانی سے نجات پائے گا اور دونوں جہان کی مُرادیں حاصل کریگا۔

ایک روز میرے شیخ علیہ الرحمۃ نے فرمایا۔ معین الدین کیا تجھے معلوم ہے کہ صاحب حضور کسے کہتے ہیں ؟ صاحب حضور وہ ہے کہ ہر وقت مقام عبودیت میں ہو اور ہر ایک واقعہ کو اللہ کی طرف سے خیال کرے اور چاہے اور اسی پر راضی رہے۔ وہ جہاں کا بادشاہ ہے لوگ اس کے مُحتاج ہیں۔ بعض درویش کہتے کہ جب طالب کمال حاصل کر لیتا ہے گھبراہٹ نہیں رہتی۔ یہ غلط ہے۔ دوسرے جو یہ کہتے ہیں کہ عبادت کرنا بھی اس کے لئے ضروری نہیں ہوتا یہ بھی غلط ہے کیونکہ جناب سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ عبادت، بندگی اور عبودیت میں سر بسجود رہے۔ اور اس کے باوجود عجز کا یہ عالم کہ حضور فرماتے تھے۔ ماعبدناک حق عبادتک۔ میں نے تیری ایسی عبادت نہیں کی جیسا کہ حق تھا۔ یقین جانو کہ جب عارف کمالیت کا درجہ حاصل کرتا ہے تو اس وقت کمال درجہ کی ریاضت جس سے مُراد نماز ہے نہایت صدق دل سے ادا کرتا ہے جب کوئی شخص یہ معلوم کرکے صدق دل سے کام لیتا ہے تو اسے اتنی پیاس محسوس ہوتی ہے گویا اس نے آگ کے کئی پیالے پی رکھے ہیں۔ جوں جوں ایسے پیالے پیتا ہے پیاس غلبہ کرتی ہے۔ اس واسطے کہ جمال لا متنا ہی کی کوئی انتہا نہیں۔ اس وقت اس کا سکون بے سکون اور آرام بے آرام ہو جاتا ہے تاوقتیکہ بقائے الٰہی سے مشرف نہ ہو جائے۔
والسلام فقیر معین الدین چشتی سنجری انیس الارواح
نوٹ فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی اسی لجپال گھرانے کا ایک ادنیٰ غلام ہے اللہ پاک اپنے حبیب ﷺ کے صدقے یہ نسبت قائم رکھے آمین

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...