مصلح اور مفتی کیسا ہونا چاہیے اوصاف و شرائط
محترم قارئین کرام : فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی امتِ مسلمہ کی خدمت میں عرض گذار ہے کہ آج کے پرفتن دور میں ہر شخص مفتی بنا ہوا ہے ۔ ذاکر نائیک ، جاوید غامدی ، محمد علی مرزا جہلمی اور ان جیسے دیگر لوگ بغیر علم کے فتوے جھاڑ رہے ہیں اور امتِ مسلمہ میں انتشار و گمراہی پھیلا رہے ہیں ۔ آیئے پڑھتے ہیں ایک مفتی میں کون کون سے اوصاف ہونا ضروری ہیں ۔
مصلح اور مفتی میں سب چیزیں ہونی چاہئیں ، قرآن بھی ، حدیث بھی ، فقہ بھی ، تصوف بھی پھر ان شاء اللہ ایسا شخص حدود پر رہ سکتا ہے ، جامع نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہو ہی جاتی ہے محقق اورجامع موقع اورمحل کودیکھتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ وہ فقیہ بھی ہو مفسر بھی ہو ۔
کتاب وسنت ، آثار صحابہ رضی اللہ عنہم ، اصول فقہ ، قواعد فقہ اور فقہی جزئیات کے ذخیرہ پر نظر رکھتے ہوئے پیش آمدہ مسائل کو مذکورہ علوم کی روشنی میں حل کرنے کی جو عالم اہلیت رکھتا ہو اسے مفتی کہتے ہیں ۔
علوم دینیہ کا جو شخص حامل ہو وہ عالم دین ہے ، خواہ ادب عربی کا ماہر ہو یا نہ ہو ، چونکہ دینی ادارہ یا دار الافتاء میں افتاء کی اہلیت کے اشخاص پیدا کیے جاتے ہیں ، اس دور میں گھریلو تعلیم میں بظاہر یہ اہلیت ممکن نہیں ، اس لیے یہ قید لگائی جاتی ہے ۔
محض عربی کے ادیب ہونے کی حیثیت سے فتوی دینے کا حق نہیں ، بلکہ مفتی کی اہلیت کا ہونا بھی ضروری ہے ، اسی طرح مفتی کی اہلیت کا ہونا کافی نہیں ہے ، بلکہ فتوی دینے کےلیے تقویٰ کا پایا جا نا ضروری ہے ۔
مفتی کےلیے عملی لحاظ سے قرآن وسنت کا آئینہ دار ہونا چاہیے مزید یہ کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے جو احیاء العلوم میں منجیات والے اعمال ذکر کیے ہیں ان پر مکمل عمل ہو اورجو مہلکات والےاعمال ذکر کیے ہیں ان سے قولاً فعلاً اعراض کرتا ہو ۔ اور علمی لحاظ سے مفتی کےلیے جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں : ⏬
مفتی کےلیے ضروری ہے کہ مسائل شرعیہ اور کتب فقہیہ میں اس کا مطالعہ وسیع ہو، اُصولِ فقہ اور قواعدِ فقہیہ سے واقف ہو، اس کے ساتھ ساتھ قرآنی احکام ، احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اور تفسیر پر بھی اس کی نگاہ ہو، نیز استدلال اور روایت و درایت سے بھی اسے حصہ ملا ہو کیونکہ بغیر علم شریعت فتویٰ لکھنا سراسر جہالت ہے اس لئے ضروری ہے کہ مفتی کو یہ علم حاصل ہو کہ طبقاتِ مسائل کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں نیز طبقات الفقہاء کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں ۔اول ہم مفتی کی تعریف بیان کرتے ہیں ۔
صاحب فتح القدیرشارح ہدایہ فرماتے ہیں : اصولیین مضبوطی کے ساتھ یہ رائے رکھتے ہیں کہ مفتی کا درجہ صرف مجتہدکوحاصل ہوتا ہے۔ جو شخص خود مجتہد نہیں ہے لیکن اسے مجتہد کے اقوال زبانی یاد ہیں وہ مفتی نہیں ہے اس سے جب مسئلہ دریافت کیا جائے تو اسے بطورِ نقل و حکایت کسی مجتہد کا قول جواب میں بتانا چاہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ زمانہ مصنف فتح القدیر میں جو علماء فتویٰ دیتے ہیں حقیقت میں وہ فتویٰ نہیں ہے بلکہ اصل میں کسی مجتہد مفتی کا قول ہے جو نقل کردیا گیا ہے تاکہ مُستَفْتِی اس پر عمل کرے ۔
مفتی مجتہد سے اس کا قول نقل کرنے کے دو نوں طریقوں کا خیال رکھے ہیں : اول یہ کہ یا تو وہ قول اس کے پاس کسی صحیح سند سے پہنچا ہو ۔
دوم یہ کہ اس نے مجتہد کا وہ قول کسی ایسی مشہور کتاب سے لیا ہو جو دیگر علماء کے ہاتھوں میں رہتی ہو جیسے امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی کتابیں اور ایسے ہی دوسری کتب فقہیہ جو اپنی روایت و اسناد کے اعتبار سے خبر متواتر یا خبرمشہور کے درجہ میں ہیں ۔ (ردالمحتار المقدمۃ مطلب رسم المفتی جلد ۱ صفحہ ۱۶۲)(فتح القدیر کتاب أدب القاضی جلد ۶ صفحہ ۳۶۰)
مفتی کےلیے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ علمائے احناف روایات ظاہرہ میں جن مسائل پر متفق ہیں فتویٰ یقیناً انہیں پر ہوگا لیکن اگر روایات ظاہرہ میں ہمارے علماء کا اتفاق نہیں ہے تو واضح یہ ہے کہ فتویٰ علی الاطلاق، امام اعظم علیہ الرحمہ کے قول پر ہوگالیکن اگر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے اس مسئلہ میں کوئی روایت نہ ملے تو پھر فتویٰ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر دیا جائے گا اور اگر ان سے بھی کوئی قول نہ ملے تو پھر فتویٰ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر دیا جائے ۔ (الدرالمختار المقدمۃ جلد ۱ صفحہ ۱۶۲۔۱۶۹،چشتی)
سراجیہ میں ہے : ایک قول یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک جانب اور آپ کے صاحبین دوسری جانب ہوں تو مفتی کو اختیار ہے کہ وہ جس قول کو چاہے اختیار کرے اور اگر مفتی مجتہد نہ ہو تو اول قول اصح ہے ۔ (الفتاوی السراجیۃ کتاب أدب المفتی والتنبیہ علی الجواب صفحہ ۱۵۷.)(فتاوی رضویہ جلد ۱ حصہ الف صفحہ ۱۰۵ تا ۱۰۸)
ان تینوں کے بعد پھر امام زُفر رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر فتویٰ دیاجائے گا اور پھر امام حسن بن زیاد کے قول پر ۔ (الدرالمختار المقدمۃ جلد ۱ صفحہ ۱۶۹)
اور الحاوی القدسی میں اس امر کی تصحیح فرمائی ہے کہ : اگر ان میں سے کسی کے قول کی تائید میں قوۃ مدرکہ یعنی قوی دلیل موجود ہے تو ایسی صورت میں وہ قول اختیار کیا جائے ورنہ یہی ترتیب قائم رکھی جائے گی ۔ (الحاوی القدسی کتاب الحیل فصل إذا اختلف الروایات ۔ إلخ صفحہ ۱۸۱،چشتی)(مجموعۃ رسائل ابن عابدین الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی جلد ۱ صفحہ ۲۶)
مفتی کو اس بات کا خیال بھی رکھنا ہو گا کہ جو سترہ مسائل یا بیس مسائل میں امام زفر کے قول کو ترجیع دی گئی ہے ان مسائل میں فتویٰ امام زفر کے قول پر ہی دے ۔
مفتی کو چاہیے کہ جب کسی مسئلہ میں قیاس ہو اور استحسان ہو تو معدودے چند مسائل کو چھوڑ کر عمل استحسان پر ہوگا ۔
مفتی کےلیے ضروری ہے کہ جب کوئی مسئلہ ظاہر الروایۃ میں مذکور نہ ہو بلکہ کسی دوسری روایت سے ثابت ہو تو اس کا حوالہ دینا چاہے ۔
مفتی کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ حضرت امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے مُسْتَصْفٰی میں بیان فرمایا ہے جب فقہاء کسی مسئلہ میں تین اقوال بیان فرمائیں تو ان میں راجح قول اول ہے یا قول آخر، درمیانی قول راجح نہ ہوگا شرح المنیہ میں ہے کہ اگر روایت درایت کے مطابق ہے تو اس سے عدول نہ کیا جائے ۔ (الحاوی القدسی کتاب الحیل فصل إذا اختلف الروایات صفحہ ۱۷۱،چشتی)
جب فتویٰ ایک قول پر ہو اور تصحیح دوسرے قول کی ، تو اولیٰ یہ ہے کہ وہ قول اختیار کیا جائے جو متون کے موافق ہو ۔ (الدرالمختار و ردالمحتار ا لمقدمۃ مطلب : إذا تعارض التصحیح جلد ۱ صفحہ ۱۷۱)
اور اگر ایک قول شروح میں ہے اور اس کے خلاف دوسرا قول فتاویٰ میں تو وہ قول اختیار کیا جائے جو شروح میں ہے کیونکہ فقہائے کرام کی تصریح ہے کہ متون مقدم ہیں شروح پراور شروح مقدم ہیں فتاوی پر، یہ صورت اسی وقت اختیار کی جائے گی جب ان دونوں اقوال میں سے ہر ایک کی تصحیح کی گئی ہو یا دونوں میں سے کسی کی بھی تصحیح منقول نہ ہو لیکن اگر مسئلہ متون میں ہےاور اس کی تصحیح بالتصریح نہیں کی گئی بلکہ اس کے مقابل کی تصحیح بالتصریح کی گئی ہے تو وہ ہی مسئلہ اختیار کیا جائے جس کی تصحیح بالتصریح کی گئی ہے کیونکہ تصحیح بالتصریح ، تصریح التزامی پر مقدم ہے اگرچہ متون میں یہ التزام کیا گیا ہے کہ وہ مذہب صحیح ہی بیان کریں گے تاہم یہ تصحیح سے کم تر درجہ ہے اور اگر ایک مسئلہ میں دو قول ہیں اور دونوں کی تصحیح کی گئی ہے تو اگر ان میں سے ایک قولِ امام ہے اور دوسرا قول کسی اور مجتہد کا، تو مفتی کو قولِ امام ہی اختیار کرنا چاہے اس لئے کہ دونوں تصحیح متعارض ہو کر ساقط ہوجائیں گی پھر اصل کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اصل یہ ہے کہ قولِ امام مقدم ہے ۔ (ردالمحتار المقدمۃ مطلب : اذا تعارض التصحیح جلد ۱ صفحہ ۱۷۱،چشتی)
مفتی کےلیے ضروری ہے کہ وہ جس فقیہ کے قول کے مطابق فتویٰ دے رہا ہے اس سے کماحَقُّہٗ واقف ہو کہ اس فقیہ کا روایت و درایت میں کیا درجہ اور مقام ہے اور وہ طبقاتِ فقہاء میں سے کس طبقہ سے ہے تاکہ وہ اقوالِ مختلفہ میں سے کسی قول کو علم و بصیرت کی روشنی میں ترجیح دے سکے ۔ (ردالمحتار المقدمۃ مطلب : فی طبقات الفقھاء جلد ۱ صفحہ ۱۸۱)
فتاویٰ خیریہ کے آخر میں ہے کہ مفتی اور قاضی کےلیے راجح و مرجوح اور قوی و ضعیف اقوال کا علم رکھنا ضروری ہے۔ ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مسئلہ کا جواب دینے اور قضیہ کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں ۔ بلکہ حقیقت کی جستجو کریں یعنی تَثَبُّت سے کام لیں ۔ اور اپنے نفس کی خواہش اور اس کی اِتباع پر کسی حلال شے کو حرام اور کسی حرام شے کو حلال نہ بنائیں کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنا سب سے بڑا گناہ ہے ایسا وہی کرسکتا ہے جو عاقبت سے بے خوف ہے اور جاہل و بدبخت ہے ۔ (الفتاوی الخیریۃ مسائل شتی جلد ۲ صفحہ ۲۳۱)
علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ناقابلِ اِعتماد کتابوں سے فتویٰ نہیں لکھنا چاہے ۔ خَواہ اس لیے ناقابل اعتماد ہوں کہ ان کی نقل و کتابت میں اغلاط و خامیاں ہیں یا اس لیے ناقابلِ اِعتماد ہوں کہ ان کے مصنف مُعْتَمَد عَلَیْہنہیں یا اس لیے کہ وہ بے حد پیچیدہ اور ان کا فہم دشوار طلب ہوا ور ان کی عبارات انجلک غیر واضح الدَّلالۃ ہوں کیونکہ ایسی کتابوں کے سمجھنے میں کم علم لوگوں کے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے اور اس سے فتویٰ دینے میں غلطیوں کا قوی امکان ہے ۔ ماضی میں ایسا ہوا ہے اور فتوے غلط ہو گئے ہیں ۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ شرح عقود رسم المفتی میں اس کی کچھ مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں ۔ (مجموعۃ رسائل ابن عابدین الرسالۃ الثانیۃ : شرح عقود رسم المفتی جلد ۱ صفحہ ۱۳،چشتی)
جب امام اعظم اور صاحبین علیہم الرحمہ کسی قول پر متفق ہوں تو پھر بغیر کسی شدید تر ضرورت کے اس سے عدول نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک طرف اور صاحبین علیہما الرحمہ دوسری طرف ہوں ، اس وقت اگر صاحبین کی رائے بھی الگ الگ ہے تو فتویٰ قولِ امام پر ہوگا لیکن اگر صاحبین ایک رائے پر ہیں اور امام اعظم علیہ الرحمہ دوسری رائے پر تو عبداللہ بن مبارک کے نزدیک اس صورت میں بھی فتویٰ قولِ امام پر ہوگا ۔
دیگر علماء کا قول یہ ہے کہ اس صورت میں مفتی کو اختیار ہے کہ جس کے قول پر چاہے فتویٰ دے صاحبین کے قول پر یا امام اعظم کے قول پر ۔ اس اختیار کا مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی مفتی دلیل میں غور کرے اور جو دلیل قوی ہو اس پر فتویٰ دے ۔
الحاوی میں بھی یہی ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہے کیونکہ مفتی کی شان یہی ہے وہ قوتِ دلیل پر نظر رکھے ۔ (الفتاوی السراجیۃ مسائل شتّٰی الجزء الثانی صفحہ ۱۵۷)(الحاوی القدسی کتاب الحیل فصل اذا اختلف الروایات ۔ إلخ صفحہ ۱۸۱)(مزءد تفصیل کےلیے فتاوی رضویہ جلد ۱ حصہ الف صفحہ ۱۰۵ تا ۱۰۸ ملاحظہ فرماٸیں،چشتی)
مجموعہ رسائل ابن عابدین ۱۳۱ پر ہےمفتی کےلیے یہ مناسب نہیں کہ وہ صرف ان ہی امور کو سامنے رکھے جو کہ کتب ظاہر الروایہ میں منقول ہیں اور زمانہ اور اہل زمانہ کے حالات کو نگاہ میں نہ رکھے اگروہ ایسا کرے گا توا س سے بہت سےحقوق ضائع ہو جائیں گے اور اس کا نقصان نفع کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہوگا ۔ (مجموعۃ رسائل ابن عابدین الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی جلد ۱ صفحہ ۴۶ ، ۴۷)
کیونکہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ ایک شخص کبھی اس لئے کوئی حکم شرعی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے تو اگر مفتی اس کو حالات و زمانے کو ملحوظ رکھے بغیر فتویٰ دے گا تو گویا وہ بھی ایک طرح سے اس گناہ میں شریک ہوگیا کیونکہ مفتی کے اس فتوے کی وجہ سے دوسروں کو یہ نقصان اٹھانا پڑا مثلاً ایک شخص اپنی بہن یا بیٹی کو جواس کی ماں یا اس کی بیوی کی پرورش میں ہے چاہتا ہے کہ ان کی مدت حضانت ختم ہوتے ہی وہ اپنی اس بہن یا بیٹی کو اپنی ماں یا بیوی سے لے لے اور اس فعل سے اس کا مقصد اپنی ماں یا بیوی کو اذیت پہنچانا یا اس کے مال پر قبضہ کرنا یا اس کا نکاح کسی دوسرے سے کردینا ہو تو مفتی کو چاہیے کہ جب وہ ای سے حالات کا اندازہ کرلے تو جواب میں اس کا لحاظ رکھے اور مستفتی کو بتلادے کہ اضرار جائز نہیں ہے اگر وہ اپنی اس بہن یا بیٹی کو اپنی ماں یا بیوی سے حاصل کریگا تو گنہ گار ہوگا ۔
محض فقہی مسائل جان لینا ، یا عربی و اردوکتابوں سے مسائل دیکھ کر لوگوں کو بتا دینا مفتی بننے کےلیے کافی نہیں ۔ مفتی وہ ہوتا ہے جو فقہی جزئیات پر گہری اور وسیع نظر رکھتا ہو، فقہ کی کتابوں کا باقاعدہ اور کثرت سے مطالعہ کرتا رہتا ہو اور تفسیر ، حدیث ، اصولِ فقہ اور دیگر ضروری علوم میں مہارت رکھتا ہو ، مزید یہ کہ اس نے کسی ماہر اور مستند مفتی کی نگرانی میں طویل عرصہ تک فتویٰ نویسی کی عملی مشق کی ہو اور پھر وہ اپنی علمی قابلیت اور عملی مہارت کی بنیاد پر اپنے استاد مفتی سے فتویٰ دینے کی باقاعدہ اجازت حاصل کر لے ، تو ایسا شخص مفتی کہلانے کا مستحق ہوتا ہے ۔ آج کل تو ہر بندہ مفتی کہلانے کا شوق رکھتا ہے ایسے لوگوں کےلیے لمحہ فکریہ ہے ۔
عالم کون ہوتا ہے ؟ اس حوالے سے ملفوظات اعلی حضرت میں ایک سوال ہے کہ عالِم کی کیا تعریف ہے ؟
اس کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: عالِم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مُستَقِل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے ۔
مزید سوال ہوا کہ کیا کُتُب بینی (یعنی کتابیں پڑھنے) ہی سے علم حاصل ہوتا ہے ؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : یہی نہیں بلکہ علم اَفواہِ رِجال (یعنی علم والوں سے گفتگو کر کے اور مسائل معلوم کرنے )سے بھی حاصل ہوتا ہے ۔ (ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 58 مکتبۃ المدینہ کراچی)
مفتی کےلیے کتنا علم پڑھنا ضروری ہے اور علوم دینیہ میں کتنی مہارت درکار ہے ؟ اس حوالے سے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں : حدیث و تفسیر و اصول و ادب و قدر حاجت ہیات و ہندسہ و توقیت اور ان میں مہارت کافی اور ذہن صافی اور نظروافی اور فقہ کا کثیر مشغلہ اور اشغال دنیویہ سے فراغ قلب اور توجہ الی اللہ اور نیت لوجہ اللہ اور ان سب کے ساتھ شرط اعظم توفیق من اللہ، جوان شروط کا جامع وہ اس بحر ذخار میں شناوری کرسکتا ہے۔ مہارت اتنی ہو کہ اس کی اصابت اس کی خطا پر غالب ہو اور جب خطا واقع ہو رجوع سے عار نہ رکھے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 18 صفحہ 589 ، 590 رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)
مفتی بننے کےلیے کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں رہ کر ایک عرصے تک افتا کی مشق بھی درکار ہوتی ہے کہ فتوی دینے کا علم صرف پڑھنے سے نہیں آتا ، چنانچہ فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : سند کوئی چیز نہیں ، بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اُن کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سند یافتوں میں نہیں ہوتی ، علم ہونا چاہیے اور علم الفتوٰی پڑھنے سے نہیں آتا جب تک مدتہا (یعنی طویل مدّت تک) کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیا ہو (یعنی ماہر مفتی کی صحبت میں رہ کر فتوے نہ لکھے ہوں) ۔ (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 683 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی مصطفویہ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں : عالم اور خود مدرسے والے یہ سمجھتے ہیں کہ درس نظامیہ کا ہر وہ فارغ التحصیل جس کی کچھ صلاحیت ہو ، وہ فتوی دے سکتا ہے ۔ حالانکہ درسی کتابیں پڑھنے سے علم الفتوی حاصل نہیں ہوتا مگر جس پر اللہ تعالی کا خاص فضل ہو جائے ۔۔۔۔ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ذہین سے ذہین علماء برسہا برس تک مشاقی کرنے اور ماہر فن مفتی سے اصلاح لینے کے بعد اس پر قادر ہوتے ہیں کہ وہ ایک مکمل فتوی لکھیں ۔ (فتاوی مصطفویہ، صفحہ 7 ، 8 شبیر برادرز لاہور،چشتی)
آداب الافتاء کے ان اصول و قواعد اور احکام سے معلوم ہوا کہ فتویٰ دینا اور حکم شریعت قرآن کریم یا احادیث پاک یاکتب فقہ سے بیان کرنا کوئی سہل کام نہیں کہ جس کو ہر عالم یا عامی و جاہل یا کم علم اور قلیل البصیرت انجام دے سکے قرون اولیٰ میں افتاء کے لئے اجتہاد کی شرط تھی غیر مجتہد، مفتی نہ ہوتا تھا نہ کہلایا جاتا تھا اس دور میں جب کہ علم کا زوال اور علماء کمیاب ہیں بے علم لوگ چند احادیث کا ترجمہ یاد کرکے احکام شرعیہ بیان کرنے لگتے ہیں اور ﷲ (عزوجل)کا خوف ان کے دل میں نہیں آتا۔ کچھ لوگ محض اپنی عقل کی بنیاد پر کسی امر کے جائز یا ناجائز ہونے کا حکم کردیتے ہیں ۔ قرآنِ کریم کا ترجمہ پڑھ کر اس کی تفصیل اور اصول و قواعد کا علم حاصل کئے بغیر بڑی بے باکی سے حکم شرعی بیان کردیتے ہیں ای سے لوگوں کو ﷲ واحد قہار(عزوجل) سے خوف کھانا چاہے اور اپنا دین و عاقبت برباد نہیں کرنا چاہیے آج کل کے نو آموز علماء بلا خوف ریا و نفاق خود اپنے قلم سے خود کو مفتی اعظم، شیخ الحدیث، فقیہ العصر اور محدث کبیر و غیرہا اعظم المرتبت الفاظ اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہیں یا لکھواتے ہیں اور اگر ان کے نام کے ساتھ یہ ضخیم الفاظ وہ خطابات نہ لکھے جائیں تو اپنی توہین محسوس کرتے ہیں اور اس کا برا مناتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کی کم علمی اور ظرف کے چھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔ انہیں ﷲ(عزوجل)سے ڈرنا چاہے اور اپنی اصلاح کرنی چاہے اگر وہ صاحبِ علم صحیح ہوتے تو اس آیت کا مصداق ہوتے (اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا) ﷲ (عزوجل) کے بندوں میں علماء ہی کو خوف ِ الٰہی ہوتا ہے ﷲ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے اور بے علم فتوے جھاڑنے والوں کے شر سے بچائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment