Tuesday, 2 June 2020

حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ عظیم محدث امیر المؤمنین فی الحدیث

حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ عظیم محدث امیر المؤمنین فی الحدیث
محترم قارئینِ کرام : حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے ان عظیم علماء کرام میں سے ہیں جن کے علم و بصیرت پر زمانہ ناز کیا کرتا ہے۔ تفسیر قرآن ہوکہ حدیث و اصول حدیث، اسلامی فقہ ہو یا شعر و سخن ، ادب و تاریخ ہو یا ریاضی و سائنسی علوم ہر شعبے میں امام احمد رضا کو مہارت تامہ اور بصیرت کاملہ حاصل تھی ۔ کئی درجن علوم و فنون میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی شاہکار تصانیف یادگار ہیں۔ فتاویٰ رضویہ کے نام سے ۳۲ ضخیم جلدیں آپ رحمۃ اللہ علیہ کا انتہائی شاندار اور بے مثل کارنامہ ہے جسے دیکھ کر فتاویٰ عالمگیری کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جو اورنگزیب کے عہد کے سوسے زیادہ علماء وفقہاء کرام کی مشترکہ کاوش ہے جبکہ فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت کی اکیلی ذات کے علم و فضل کا شاہکار ہے ۔ اس میں شامل احادیث کریمہ کی تعداد 3591 ہے ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی 8 تصانیف میں کہیں ضمناً اور کہیں تفصیلاً حدیث و معرفت حدیث اور مبادیات حدیث ایسی نفیس اور شاندار بحثیں ہیں کہ اگر انہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و مسلم رحمۃ اللہ علیہ بھی دیکھتے تو داد دیئے بغیر نہ رہ سکتے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ یہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ کتاب اللہ کے بعد احادیث کریمہ کی اہمیت مسلم ہے ۔ اس لئے آپ رحمۃ ﷲ علیہ نے کسی مسئلے کو بیان کرنے کےلیے سب سے پہلے قرآن مجید کی آیات پیش کیں پھر احادیث مبارکہ تحریر کیں اور اس کے بعد فقہی جزئیات کے ساتھ ائمہ و فقہاء و علماء کرام کے اقوال پیش کئے ۔ اس طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ہر مسئلے کی تحقیق اور ثبوت میں دلائل کے انبار لگا دیئے اور مسئلہ زیر بحث کے کسی بھی گوشہ کو تشنہ تکمیل نہیں چھوڑا ۔ جہاں ایک حدیث مبارکہ کے ذکر کردینے سے مسئلہ حل ہوجائے وہاں آپ رحمۃ اللہ علیہ کئی کئی احادیث برجستہ و برمحل پیش کرتے ہیں ۔ گویا فقہ کی نہیں بلکہ حدیث کی کتاب لکھنا چاہتے ہوں ۔ اپنی اسی خصوصیت کی بناء پر وہ اپنے معاصر علماء میں ممتاز نظر آتے ہیں۔کتب حدیث کی جتنی بھی اقسام ہیں ، ان تمام کے تمام حوالہ جات آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف میں جابجا ملتے ہیں اور آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تمام اصناف کتب حدیث سے بھرپور استفادہ کیا ہے ۔

علم حدیث کے حوالے سے فن تخریج حدیث کی اہمیت مسلمہ ہے اور اس کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اس بنیادی اور اہم فن حدیث میں بھی اہم خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس سلسلے میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی دو کتب انتہائی اہم ہیں ۔ پہلی ’’اروض البھیج فی آداب التخریج‘‘ اور دوسری ’’النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب‘‘ معرفت حدیث پر تحقیق کے سلسلے میں درج ذیل کتب میں آپ رحمۃ ﷲ علیہ کی بصیرت و مہارت ملاحظہ کی جا سکتی ہیں :

(۱) منیر العین فی حکم تقبیل الالبھامین

(۲) الھاد الکاف لاحادیث الضعاف

(۳) حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین

(۴) مدارج طبقات الحدیث

(۵) الفضل الموہبی فی معنی اذاصح الحدیث فہو مذہبی

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سے زائد کتب حدیث پر حواشی تحریر کئے ہیں جن میں سے صحاح ستہ کے حواشی نہایت جامع اور مفید ہیں۔ ان حواشی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام مصنفین کی طرح عربی و فارسی متون و شروح سے ماخوذ نہیںبلکہ یہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ذاتی واجتہادی افادت و اضافات ہیں ۔ لہٰذا یہ حواشی بذات خود مستقل تصانیف کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

علوم و فنون میں علم اسماء الرجال کو نہایت مشکل اور ادق خیال کیا جاتا ہے، مگر امام احمد رضا رحمۃ ﷲ علیہ کی خداداد صلاحیت اور قابلیت اور علمی سطوت کے مقابل یہ فن اپنی دقت پیچیدگی کے باوجود بھی سہل معلوم ہوتا ہے ۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف اسی فن میں مہارت حاصل کرنے کی زندگی بھر جدوجہد کی ہے لیکن آپ رحمۃ اللہ علیہ کے معمولات زندگی پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ دیگر علوم پر بھی انہوں نے بھرپور توجہ دی ہے ۔

اسی لیے فن اسماء الرجال سے متعلق جتنے بھی علوم و فنون ہیں ان سب پر آپ رحمۃ اللہ علیہ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔ علماء فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی طرح اسماء الرجال کا جاننے والا پچھلے چار سو سال میں پیدا نہیں ہوا ۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف میں جہاں احادیث مبارکہ کا بحر ذخار ملتا ہے وہاں معرفت حدیث ، طرق حدیث اور علل حدیث پر بھی شاندار بحثیں ملتی ہیں جن سے حدیث کے صحیح و ضعیف، حسن و موضوع، معلول و منکروغیرہ ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔

متن حدیث کے ساتھ ساتھ سند حدیث پر بھی جابجا بحثیں ملتی ہیں اور راویوں کے احوال وآثار اور ان کی ثقاہت کی معرفت کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ ﷲ علیہ راوی کی حیثیت پر بھی بحث کرتے ہیں جوکہ قبول روایت حدیث میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔

عموماً یہ مشہور ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ صرف ایک مولوی اور نعت خواں شاعر تھے اور بس ، لیکن درج بالا سطور اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک عظیم محدث بھی تھے جو فن علم حدیث کے جملہ گوشوں پر دسترس رکھتے تھے ۔ وہ فن اصول حدیث ہو یا فن روایت ہو یا فن درایت ، فن جرح و تعدیل ہو یا فن اسماء الرجال ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ہر شعبے میں ایک بے مثال ، ماہر اور فقید المثال محدث نظر آتے ہیں ۔ آپ کی تصانیف جلیلہ سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی علمی عظمت آشکار ہو سکے ۔

جو رضا کے محب ہیں مل بیٹھیں
ختم سارے تنازعات کریں

امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی بحیثیت امیر المؤمنین فی الحدیث : ⏬

یہ عنوان اتنا قدیم اور معروف ہے کہ اس پر کئی جید علماء اور اسلامی اسکالرز نے قلم اٹھایا اور ضخیم مجلدات منظرِ عام پر آئیں۔ برصغیر ہند و پاک کی کئی جامعات میں اس موضوع پر تحقیقی مقالات بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ آج اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ بعض متعصب قلم کار اور نام نہاد مصنفین یہ افواہ اور جھوٹ پھیلاتے ہیں کہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بڑے فقیہ اور مفتی ضرور تھے لیکن انہیں علمِ حدیث پر کامل دسترس نہ تھی اور وہ اس میدان میں قلیل البضاعت تھے ۔ اس دعویٰ کی دلیل کے طور پر سب سے پہلے اس افواہ کو علمی حلقے میں پھیلانے والے مؤرخ مولوی عبد الحی لکھنوی کا ذکر ضروری ہے ۔ وہ اپنی کتاب نزھۃ الخواطر میں لکھتے ہیں : حتى برع في العلم وفاق أقرانه في كثير من الفنون لا سيما الفقه والأصول۔ وألف بعض الرسائل أثناء إقامته بالحرمين، وأجاب عن بعض المسائل التي عرضت على علماء الحرمين، وأعجبوا بغزارة علمه وسعة اطلاعه على المتون الفقهية والمسائل الخلافية وسرعة تحريره وذكائه۔ يندر نظيره في عصره في الاطلاع على الفقه الحنفي وجزئياته، يشهد بذلك مجموع فتاواه۔ وكان راسخاً طويل الباع في العلوم الرياضية والهيئة والنجوم والتوقيت، ملماً بالرمل والجفر، مشاركاً في أكثر العلوم، قليل البضاعة في الحديث والتفسير ۔
اس عربی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ امام احمد رضا خان تمام علوم و فنون میں کامل دسترس رکھتے تھے ، جن میں بالخصوص علمِ فقہ ، علمِ ریاضی ، علمِ ہیئت ، علمِ نجوم ، علمِ توقیت ، علمِ رمل اور علمِ جفر شامل ہیں ۔ لکھنوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ آپ کی خداداد صلاحیت اور فطری استعداد پر علمائے حرم بھی حیران رہ گئے ، مگر علمِ حدیث اور علمِ تفسیر میں آپ قلیل البضاعت تھے ۔

اسی طرح مولوی احمد رضا بجنوری اپنی کتاب انوار الباری کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی بلند پایہ فقیہ تھے لیکن حدیث میں کمزور تھے ۔

مجھے ان دونوں مصنفین پر ترس بھی آتا ہے اور ان کی کم علمی پر افسوس بھی ، کیونکہ ایک طرف یہ حضرات امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کو تسلیم کرتے ہوئے آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں اور دوسری طرف علمِ حدیث میں انہیں کمزور قرار دیتے ہیں ۔ یہ عجیب تضاد ہے کہ ایک چوٹی کا فقیہ ہو مگر حدیث میں ضعیف ہو ۔ یہ اجتماعِ ضدین ہے اور اجتماعِ ضدین محال ہے ، کیونکہ کوئی بھی عالمِ دین اُس وقت تک کامل فقیہ و مفتی نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے علمِ حدیث پر عبور حاصل نہ ہو ۔ فقیہ وہی ہے جس کو قرآن و سنت کے تمام علوم پر گہری نظر ہو ۔

پس یہ بات واضح ہے کہ ان دونوں مصنفین کی یہ آراء حقیقت کے منافی اور تعصب پر مبنی ہیں ۔ خدا ہمیں ایسے مذہبی تعصب سے محفوظ رکھے جس میں انسان سورج کی روشنی کو بھی جھٹلا دے ۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا علمِ حدیث میں مقام کیا تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ امام نے اپنے علم ، تقویٰ اور عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنیاد پر اسلام اور اہلِ سنت کی ایسی بے مثال خدمت انجام دی جس کی نظیر ماضی اور حال میں خال خال ہی ملتی ہے۔ آپ نے سنت و بدعت میں واضح امتیاز قائم کیا اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ہو کر بدعت اور اہلِ بدعت کا قلع قمع فرمایا۔ علمِ حدیث میں آپ کی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ آپ کو "امیر المؤمنین فی الحدیث" کہنا حق بجا ہے ۔

آج کل دو تین حدیثوں کی شرح لکھنے والا خود کو "محدث کبیر" اور "شیخ الحدیث" کے لقب سے نواز دیتا ہے ، مگر امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی شان یہ ہے کہ آپ نے تقریباً تمام مشہور و معروف جوامع ، سنن ، معاجم ، اجزاء اور مسانید پر گراں قدر حاشیے تحریر کیے اور انہیں اپنی نفیس تشریحات سے مزین کیا ۔ مثال کے طور پر : ⏬

حاشیہ صحیح بخاری شریف (عربی)

حاشیہ صحیح مسلم شریف (عربی)

حاشیہ سنن ترمذی (عربی)

حاشیہ سنن نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی (عربی)

حاشیہ مسند امام اعظم ، مسند امام احمد بن حنبل

حاشیہ فتح الباری ، ارشاد الساری ، عمدة القاری

حاشیہ کنز العمال ، نیل الاوطار ، نصب الرایہ ، خصائص کبری ، مرقاة المفاتیح ، اشعۃ اللمعات ۔ وغیرہ ۔

یہ سب احادیثِ نبویہ کی امہات الکتب ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی دیگر کتب پر بھی آپ نے حاشیہ نویسی فرمائی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس قدر وسیع پیمانے پر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے یہ علمی کام اکیلے کیا، وہ ایک پوری جماعت بھی نہ کر سکی ۔

اسی طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خالص حدیثی رنگ میں بھی کئی مستقل کتابیں اور رسائل تصنیف فرمائے جیسے : ⏬

الفضل الموہبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی

حاجز البحرین الواقي عن جمع الصلاتين

مدارج طبقات الحدیث

الروض البہیج فی آداب التخریج

النجوم الثواقب فی تخریج أحادیث الكواكب

الافاضات الرضویة فی اصول الحدیث ۔ وغیرہ ۔

مزید برآں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف مسائل پر درجنوں رسائل تحریر کیے جن میں احادیث کا وافر ذخیرہ جمع کیا مثلاً : ⏬

تجلی الیقین (77 احادیث)

جزاء اللہ عدوہ... (121 احادیث)

شمائم العنبر (45 احادیث)

الہدایۃ المبارکہ فی خلق الملائکہ (24 احادیث)

لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی (56 احادیث)

الحقوق لطرح العقوق (91 احادیث)

الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیہ (70 احادیث)

اسماع الاربعین فی شفاعۃ سید المحبوبین (40 احادیث)

عطایا القدیر فی حکم التصویر (27 احادیث)

الامن والعلی لناعتی المصطفی (120 احادیث)

مزید یہ کہ علامہ محمد عیسیٰ رضوی قادری نے آپ کے فتاویٰ رضویہ کی تمام احادیث کو چھانٹ کر تین جلدوں پر مشتمل الاحادیث النبویہ من التصانیف الرضویة مرتب کی ۔ اسی طرح علامہ محمد حنیف رضوی قادری نے آپ کی تین سو تصانیف سے 3663 احادیث کو آٹھ سال کی محنت سے دس جلدوں میں جمع کیا ۔

یہ سب کچھ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا خان بریلوی کو علمِ حدیث میں کامل دسترس حاصل تھی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کی علمی میراث سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے اور تعصب زدہ اذہان کو ہدایت نصیب کرے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...