Thursday, 8 December 2016

لفظ نبی کا ایک معنیٰ ہے غیب کی خبریں دینے والا

اگر لفظ نبی کو نَبَاءَ سے مشتق سمجھیں تو نبی کا معنی ہے غیب کی خبر دینے والا۔ اگر لفظ نبی بروزنِ فَعِيْلٌ بمعنی فاعل ہو تو اس کا معنی ہوگا کہ : يَکُوْنَ مُخْبِرًا اَمَّا اَطْلَعَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ.

ترجمہ : اللہ تعاليٰ نے اپنے جس غیب پر انہیں مطلع کیا ہے، اس غیب کی خبریں لوگوں کو دینے والا۔

اسی لئے قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ : وَمَا هُوَ عَلَی الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ. (التکوير:24)

ترجمہ : اور وہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) غیب (کے بتانے) پر بالکل بخیل نہیں ہیں (مالکِ عرش نے ان کے لیے کوئی کمی نہیں چھوڑی)۔

’’اَلنَّبُوّات‘‘ میں علامہ ابن تیمیہ نے اس معنی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔اگر لفظِ ’’نبی‘‘ بروزن فَعِيْلٌ بمعنی مَفْعُوْلٌ ہو تو نبی کا مطلب ہے: اَنَّ اللّٰه تَعَالٰی اَطْلَعَهُ غَيْبِهِ فَيَکُوْنُ النَبِيّ.

ترجمہ : اللہ تعاليٰ نے جس ذات کو اپنے غیب پر مطلع کیا ہو، اپنے غیب کی اطلاع دی ہو اس کو نبی کہتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم محترم قارئینِ کرام : جمہور ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے نزدیک  قتل غیرت  دیانۃ جائز ہے ، لیکن قاتل پر ق...