Saturday, 8 November 2025

قیادت و لیڈرشپ کے قرآنی اور نبوی ﷺ اصول

قیادت و لیڈرشپ کے قرآنی اور نبوی ﷺ اصول

محترم قارئینِ کرام : قیادت کا بنیادی مقصد انسانوں کی درست رہنمائی اور ان کے مسائل کا آسان حل فراہم کرنا ہوتا ہے ۔ باشعور ، باصلاحیت اور دیانت دار قیادت نہ صرف انسانی مسائل کے حل میں ہمیشہ مستعد و سرگرم رہتی ہے بلکہ معاشرے کی خوشحالی ، امن اور ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ قیادت متعین مقاصد کے حصول کےلیے عوام کو بلاجبر و اکراہ ایک طے شدہ سمت پر گامزن کرنے کا نام ہے ۔ تاثیر و کردار کے مجموعہ کو قیادت کہتے ہیں ۔ لوگوں کے کسی گروپ ، جماعت ، تنظیم یا ادارے میں تحریک پیدا کر کے آگے بڑھنے کےلیے ان کودرست رہنمائی فراہم کرنا تاکہ وہ طے شدہ منزل کو پاسکیں ، لیڈرشپ یا قیادت کہلاتا ہے ۔ یعنی بصیرت اور وژن کی بنیاد پر لوگوں کو کسی اہم مقصد پر جمع کرکے ان میں تحریک پیدا کرنا اور پھر ان کو منزل کی طرف بڑھانا لیڈرشپ ہے ۔ جوشخص یہ سرگرمی سرانجام دے اسے قائد یا لیڈرکہتے ہیں ۔ قیادت کا بنیادی مقصد لوگوں کودرست رہنمائی فراہم کرنا اور مسائل کے حل میں ان کی مددکرنا ہوتا ہے ۔ لیڈرشپ جب اہل ، باشعور ، با صلاحیت ، باکردار اور دیانتدار ہو تو لوگوں کے انفرادی مسائل اور قوموں کے اجتماعی مسائل آسانی سے حل ہونے لگتے ہیں ۔ قیادت درحقیقت تاثیر اور کردار کے مجموعہ کا نام ہے ۔ اس وقت دنیا میں ہمیں جو قومیں ترقی کرتی نظر آرہی ہیں اس کا بنیادی سبب ان کو باکردار اور باصلاحیت لیڈرشپ کا میسر آنا ہی ہے ۔ اس کے برعکس دنیا کی جو قومیں مسائل کا شکار نظر آ رہی ہیں اس کا بھی ایک اہم اور بنیادی سبب نااہل اور بدکردار لیڈرشپ ہے ۔


لیڈرشپ کی اہمیت کو ظاہر کرنے کےلیے کہا جاتا ہے کہ جب لیڈر شیر ہو اوراس کے پیچھے بھیڑیں بھی چل رہی ہوں تو وہ اپنے آپ کو شیر جیسا محسوس کرتی ہیں اور شیروں جیسا رویہ اپناتی ہیں کیونکہ ان کا لیڈر شیر ہے ۔ اس کے برعکس اگر لیڈر بھیڑ ہو اور پیچھے سارے شیر چل رہے ہوں تو بھی وہ اپنے آپ کو اندر سے بھیڑ ہی محسوس کرتے ہیں اور بھیڑوں جیسا رویہ اپناتے ہیں ، کیونکہ ان کا قائد اور لیڈر بھیڑ ہے ۔ بالکل اسی طرح جب انسانوں کا لیڈر شیر جیسا ہوتا ہے باکردار اور باصلاحیت ہوتا ہے تو وہ اپنی بھیڑوں کو بھی شیر بنا دیتا ہے لیکن اگر لیڈر بھیڑ کی طرح بے ہمت ہو ، حکمت و بصیرت اور شعور سے خالی ہو ، تعیش پسندی اور سستی وکاہلی کا شکار ہو ، اس میں کرداراور صلاحیتوں کا فقدان ہوتو وہ اپنے پیروکاروں کی صلاحیتوں کو بھی ڈبو دیتا ہے لہذا لیڈر شپ بہت اہم چیز ہے ۔


لیڈرز کی تین قسمیں ہوتی ہیں پہلی قسم پیدائشی لیڈرز کی ہوتی ہے ۔ یہ لوگ موروثی طور پر لیڈرشپ کے اوصاف یعنی کردار و تاثیر اپنے ساتھ لے کر پیداہوتے ہیں ۔ یہ زندگی میں کسی بھی مقام پرکھڑے ہوں اور کسی بھی قسم کے حالات سے دوچار ہوں لیکن ان کی فطری لیڈرشپ جھلکتی ہوئی خودبخود سامنے آجاتی ہے ۔ لیڈرشپ ان کی گفتگو سے ، باڈی لینگویج سے اور رویوں یا ایٹی چیوڈ سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ مثلاکوئی ہنگامی صورتحا ل ہو تو ایسے لوگ خود سے سامنے آتے ہیں اور صورتِ حال پر قابوپانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں ۔


دوسری قسم ان لیڈرز کی ہوتی ہے جو فطری طورپر لیڈر تو نہیں ہوتے لیکن زندگی میں اچانک افتاد ان پر ایسی آجاتی ہے یا حالات اچانک کچھ اس طرح پلٹا کھاتے ہیں کہ وہ خودبخود لیڈرشپ کے اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔اب حالات اور مجبوری کی وجہ سے وہ لیڈر کا کردار ادا کرنا شروع کرتے ہیں اور پھر کرتے کرتے لیڈرشپ کے اوصاف سیکھ جاتے ہیں یوں وہ بھی لیڈربن جاتے ہیں ۔ مثلا ایک لڑکا اچانک والد کی وفات کی وجہ سے باپ کی سیٹ سنبھالتا ہےاوروالد کی ساری ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کرتا ہے ۔ اب ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے کرتے وہ بھی لیڈرشپ سیکھ جاتا ہے حالانکہ یہ صفت شاید اس میں پہلے سے موجود نہ ہو ۔


تیسری قسم ان لیڈرز کی ہوتی ہے جو پیدائشی طور پر لیڈرشپ کی صلاحیتوں کے مالک تو نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کو ایسے حالات ملتے ہیں جن سے وہ لیڈرشپ سیکھ سکتے لیکن وہ شعور ی طور پر اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں اور اسے سیکھنے کی باقاعدہ کوشش کرتے ہیں ۔ مثلاً کتابوں کے ذریعے ، کورس ورک سے ، وڈیوز ، ورکشاپس ، پریزنٹیشن سے یاکسی مینٹور سے رہنمائی حاصل کرکے یا خود اپنی پریکٹس سے ۔ اس طرح وہ لیڈرشپ اور اس کے اوصاف کو سیکھ کر پریکٹس کرنا شروع کرتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد لیڈر بن جاتے ہیں ۔ اس عنوان کے تحت ہم لیڈرشپ کے کچھ اوصاف بھی ذکر کریں گےاگر آپ میں یہ اوصاف فی الحال موجود نہیں تو گھبرانے کی قطعاً ضرورت نہیں ۔ آپ کے اندر سیکھنے کا شوق ، محنت کا جذبہ اور مستقل مزاجی کی صفت ہو تو آپ لیڈرشپ سیکھ سکتے ہیں اور کامیاب لیڈربن سکتے ہیں ۔


لیڈر کا تصور ہمارے معاشرے میں بہت ہی محدودمعنی کا حامل ہے عام طور پر سیاسی لیڈرز کو ہی لیڈر سمجھاجاتا ہے اس کے علاوہ لیڈرشپ کا تصور کم ہی پایا جاتا ہے ۔ حالانکہ لیڈرشپ کی تعریف کے مطابق دنیا کے ہرکام کی انجام دہی اور ہر میدان عمل میں قیادت کرنے کو لیڈرشپ کہا جا سکتا ہے ۔ چاہے وہ سیاسی میدان کی قیادت ہو یاتعلیمی میدان کی ، معاشی اور معاشرتی میدان کی قیادت ہو یا مذہبی میدان کی ۔ گھرکے لوگوں کی قیادت ہو یا کسی ادارے کے انتظام انصرام کی قیادت ، کھیلنے والی ٹیم کی قیادت ہو یامیدانِ جنگ میں لڑنے والی فوج کی قیادت ، کسی بزنس و کاروبار کی قیادت ہو یا سڑکوں پر ہونے والے جلسے جلوس کی قیادت ہو یاکسی اور اہم پروجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم کی قیادت ہو ۔ مسجد کی امامت و خطابت ہو یاکسی تعلیمی ادارے میں طلبا کو پڑھانے کی ذمہ داری ہو ، غرض یہ سب قیادت کی مختلف شکلیں ہیں اور ان کاموں کو انجام دینے والے لوگ اپنی اپنی جگہ لیڈر اور قائد کا رول ادا کرتے ہیں اور لیڈر کہلانے کے مستحق ہیں ۔ چشتی ۔


صرف لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر تقریریں کرنے سے لیڈر بنا جا سکتا ہے اور نہ ہی بغیر وژن اور پلاننگ کے بلند بانگ دعوی کرنے سے لیڈر کہلایا جا سکتا ہے ۔ لیڈر کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومنے سے بنا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کے پروجیکٹ پر اپنے نام کی تختی لگانے سے لیڈر بنا جا سکتا ہے ۔ لیڈر کرپشن کامال اکٹھا کرنے سے بنا جا سکتا ہے نہ زندہ باد اور مردہ باد وغیرہ کے نعرے لگوانے سے ۔ لیڈر ٹائی کوٹ پہننے اور مغربی گیٹ اپ اپنانے سے بنا جا سکتا ہے نہ ہی صرف انگریزی بولنے اور اپنے آپ کو لبرل ظاہر کرنے سے بنا جا سکتا ہے ۔ لیڈرشپ گریڈ ، عہدے ، پیسے اور اتھارٹی کی محتاج ہے اورنہ ہی ہائی لیول پروٹول کے ساتھ گھومنے کی محتاج ہے ۔


حقیقی معنی میں لیڈر وہ ہے جس میں کردار اور تاثیر ہو اور وہ اجتماعی مفاد کا پاسبان ہو ۔اس میں ایمان داری اور دیانتداری کے اوصاف ہوں ، جس میں قربانی اور خدمت کا جذبہ ہو ۔جس میں ذاتی مفاد پر طے شدہ ہدف کے حصول کاجذبہ حاوی ہو ۔ جس میں وعدے کی پاسداری ہو ، جس میں منزل کو پانے کی جستجو اور لگن ہو ۔ جس کا اپنا دامن ہر طرح کی آلودگی سے صاف ہو اور وہ لوگوں کےلیے رول ماڈل ہو ۔ وہ ٹیم کا حصہ بن کر رہتا ہو اور عسر و یسر میں اپنی ٹیم کو کبھی مایوس نہ کرتا ہو ۔ وہ وژنری انسان ہو جو حال میں رہتے ہوئے مستقبل سے آشنائی رکھتا ہو ۔ وہ قوم ، وہ ادارہ ، وہ جماعت ، وہ تنظیم اور وہ گروہ خوش قسمت ہے جس کے پاس بہترین قائد ، اچھا رہنما اور حقیقی لیڈر موجود ہو ۔ حقیقی لیڈر جس کمیونٹی کے پاس ہوتا ہے وہ کمیونٹی دنیا میں ضرور ترقی کرتی ہے ، اعلی مقام حاصل کرتی ہے ۔ اور جو کمیونٹی بدقسمتی سے ایسی لیڈرشپ سے محروم ہو وہ دنیا میں مستحکم ہوپاتی ہے نہ آگے بڑھ سکتی ہے ۔ اس کی بے شمار مثالیں ہماری دنیا میں موجود ہیں ۔


کسی بھی اسلامی ریاست کےلیے ایک صالح قومی قیادت و لیڈر شپ لازمی و ابدی امر ہے جو اپنے دائرہ اختیار اور ریاست کی حدود میں حدود اللہ اور حدود العباد کاپوری طرح سے نفاذ ممکن  بناتی ہے ۔ اگر دنیا میں صالح قیادت کے قیام کا اصول اور فرد کے باہمی تعلق کی حدود و قیود واضح کردی جائیں تو انسان کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ معاشرتی، معاشی، مذہبی ظلم و جبر سے نجات پالے ۔


قیادت کا لفظ اردو میں ’’قائد‘‘ سے اخذ شدہ ہے جس کے معنی ’’ فوج کا سردار ، حاکم ، اندھے کی لاٹھی پکڑکے چلنے والا رہنما لیڈر ۔ (فیروز اللغات لاہور فیروز سنز 2008ء صفحہ 944)


قیم ’’ قائم کرنے والا ، نگران ، منتظم ، یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی ہے ۔ (المنجد قدیمی کتب خانہ 1998ء صفحہ 968،چشتی)


قائد سے مراد ایک ایساشخص ہوتا ہے جب اسے کوئی ذمہ داری یا عہدہ عطا کیا جائے تووہ اسے اپنے منصب کے شایان شان انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو-قیادت کوئی آسان اور معمولی کام نہیں ہے کہ جس کی انجام دہی کی ہر کس و ناکس سے توقع کی جائے-قائد  کوہروقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے ۔ ان چیلنجز سے عہدہ برا ہوکر ہی قائد اعتماد، استحکام اور قبولیت کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ گوناں گوں مسائل اور چیلنجز کے باعث قیادت کی باگ ڈور ہمیشہ اہل افراد کے ہاتھوں میں ہونا بے حد ضروری ہے ۔ معاشرے کو درپیش تمام مسائل کا حل ایک فرد واحد سے خواہ وہ کتنی ہی اعلیٰ صلاحیت و کردار کا حامل کیوں نہ ہو ، ممکن نہیں ہے ۔ اکیلے انسان کاقیادت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا بھی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔ آج ہم قیادت کا مطلب کسی فرد واحد کی آمریت کو سمجھ بیٹھے ہیں جو کہ اسلامی تعلیمات اور اصولوں کے عین مغائر ہیں ۔ فکری جمود اور رواجی ذہن کی وجہ سے عوام ایک فرد واحد کو اپنا لیڈر اور نجات دہندہ مان کر اسی سے اپنے مقاصد و مسائل کے حل کی توقعات وابستہ کر تے ہوئے نقصان سے دوچار ہیں ۔ آمریت پسند فرد واحد کی قیادت اپنی ذات کو حقیقی قیادت کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوام کو دھوکا دیتی ہے ۔ دلفریب نعروں سے یہ قیادت اپنے مفادات کے حصول میں جٹی رہتی ہے اور عوام ان نعروں کی گونج میں اجتماعیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شخصیت کے سحر میں گرفتارہوجاتی ہے ۔


مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ ان کا شخصیات کی آڑ اور قوم کی خدمت کے نام پر خوب استحصال ہوا بلکہ کیا جارہاہے لیکن آج تک یہ اپنے استحصال سے بے خبر ہیں ۔ اس منظر نامے کی تبدیلی کےلیے نوجوان نسل کو تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے -طلبہ میں اخلاص ، شعوری اور استعداد پیدا کرتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں حقیقی قائدانہ اوصاف کو فروغ دیا جا سکتا ہے ۔ بلاشبہ قیادت ایک عظیم الشان اور جلیل القدر منصب ہے-قیادت کے احکامات و نظریات کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُم ۔ (سورہ النساء آیت نمبر 59)

 ترجمہ : اے ایمان والوں اﷲ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور اپنے اولو الامر (صاحب امر) کی ۔


مذکورہ آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہی ایک مستقل اطاعت کا درجہ رکھتی ہے ۔ اُوْلِي الْأَمْر کی اطاعت مستقل اطاعت کے درجے میں نہیں آتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (قرآن و سنت کے احکامات) کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے ۔ قیادت (اُوْلِي الْأَمْر) کے احکامات و نظریات قرآن ِ حکیم کی قطعی نصوص و احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متضاد نہ ہوں ۔ صاحبِ امر(قیادت) کے نظریات ، اقوال و اعمال اگر قرآن اور سنت رسول سے ٹکرائیں تب یہ ہرگز لائق اتباع و قابل اطاعت نہیں ہوں گے اور اس کا انکار کرنے والے نہ تو غلطی پر ہوں گے اور نہ باغی ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گویا قیادت مطلق العنان نہ ہو بلکہ احکامات خداوندی ، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں متقی، باشعور اور اہل علم افراد کی مشاورت سے خلق خدا کی درست رہنمائی کے فرائض انجام دیتی ہو ۔ اللہ رب العزت نے انسان کے پیکر خاکی میں قیادت و سیادت ، رہنمائی اور ہدایت کے ظاہری و باطنی بیش بہا قوتیں ودیعت فرمائی ہیں جن سے انسان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوا ہے ۔ انسان اللہ کی عطا کردہ ان خوبیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ابتدائے آفرینش سے قیادت و سیادت کے فرائض انجام دے رہا ہے ۔ اساتذہ اپنے تلامذہ ، اکابر اپنے اصاغر ، راعی اپنی رعیت ،بڑے اپنے چھوٹوں کو زندگی کے راز ہائے سربستہ اور زندگی بسر کرنے کے سلیقے و طریقے سکھاتے آئے ہیں اور یہ علم و فن انسانی زندگی کے آغاز سے ہی نسل در نسل منتقل ہوتا چلاآرہا ہے ۔ قوم و ملت کی قیادت کے فرائض کی انجام دہی کےلیے قیادت کا اولوالعزم ، دوراندیش اور عقابی نگاہ کا حامل ہونا لازمی گردانا گیا ہے ۔ قیادت کے منصب جلیلہ پر فائز ہونے کےلیے قرآن و سنت کی روشنی میں صراحت کردہ شرائط کی تکمیل لازمی ہے ۔ کسی بھی فرد کو اپنا قائد منتخب کرنے سے قبل قرآن و سنت کی بیان کردہ شرائط کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ۔ یہ بات ہمیں ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ قائد بنے بنائے نازل نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کی صورت گری میں تربیت کا بڑا دخل ہوتا ہے ۔ آج انسان کو ایک ایسے قائد و آئیڈیل کی ضرورت ہے جو زندگی کے ہرشعبے میں اس کی رہنمائی و رہبری کر سکے جس کی زندگی میں اعتدال و توازن ہو ۔ قائد کے بیان کردہ اصول و قوانین انسانی فطرت کے عین مطابق ہوں ۔ قیادت و سیادت پر لکھی گئی ہزاروں کتابوں اور دنیا کی نامور شخصیات کے حالات زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اثر کا دائرہ بہت ہی محدودہے لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے اثرکا دائرہ بسیط ہے اور ہر طرح کی زمانی اور مکانی حدود کی قید سے آزادبھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور تعلیم و ہدایت بذات خود ایک زندہ معجزہ ہے ۔ چشتی ۔


قیادت انسانی معاشرے کی ضرورت ہے ۔ قیادت کے درج ذیل مقاصد ہیں : انسان اپنی ذات ، خاندان، معاشرہ ، امت ، مملکت اور انسانیت کی فلاح کیلئے کوشش کرتا ہے اور انسان کے ان مقاصد کاحصول قیادت کی اتباع سے ہی ممکن ہے- قیادت کا مقصد ہے کہ انسان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو اور انسان کے بنیادی حقوق کو شریعت اسلامیہ نے مقاصد شریعہ کانام دیا ہے جو درج ذیل ہیں : ⏬


تحفظ دین، تحفظ جان ، تحفظ عقل ، تحفظ مال اور تحفظ نسل ۔ معاشرہ میں انتظامی امور کی انجام دہی کےلیے قواعد وضوابط کی اتباع اور نفاذ ضروری ہے تاکہ ریاست کے داخلی و خارجی امور منظم طور پر انجام دئیے جائیں ۔ ان تمام امور کی انجام دہی قیادت سے ہی ممکن ہے کیونکہ قیادت کا مقصد اجتماعی مصالح کا تحفظ اور عملداری ہے ۔


مقاصدِ شریعہ کاحصول انتظامی امور بہتر طورپر انجام دینے سے ممکن ہے کیونکہ اگر انتظامی امور بہتر طورپر انجام دئیے جائیں تو نتیجہ امن وامان کی صورت میں برآمد ہوگا ۔ کیونکہ امن و امان کا قیام قیادت کا پہلا بنیادی مقصد ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق کےلیے اخوت کا لازوال رشتہ قائم کیا ۔


قیادت  کا مقصد ملک میں عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے ۔ انصاف ایک ترازو  ہے جس کے قیام سے معاشرے کے تمام فریقوں اور طبقات میں اعتدال پیدا ہوتا ہے اور معاشرہ بحیثیت مجموعی ترقی کرتا ہے ۔ کسی بھی قوم کی ترقی و بقاء کا راز نظامِ عدل کے شفاف اور مؤثر ہونے پر ہی ہے اور نظامِ عدل کے قیام کیلئے معاشرے میں قیادت کا ہونا ضروری ہے ۔


قیادت  کے مستحکم اور مؤثر ہونے سے مملکت میں عدل و انصاف اور امن و امان کا قیام یقینی ہو جاتا ہے جس کی بدولت معاشرے میں عوام وخواص کی زندگی میں بہتری اور خیروبرکت آتی ہے ۔ اس طرح مملکتِ اسلامیہ میں حکمران اور عام افراد کے درمیان عدل و انصاف ، بڑوں اور چھوٹوں کے مابین رحم و محبت ، قوی اور کمزور کے مابین یکساں حقوق سے ملک میں معیارِ زندگی بہتر ہو جاتا ہے ۔ یعنی قیادت انسانی زندگی میں بہتری لانے کا ذریعہ ہے ۔


قیادت کی پہچان ان کی اقدار سے ہوتی ہے ۔ یعنی لوگ قیادت کی صداقت، دیانت، تقویٰ اور انصاف کو مانتے ہوں- لہٰذا ایک قائد، رہبر اور حکمران جو لوگوں کو دنیا اور آخرت کی سعادت دینا چاہتا ہے، ان کی مشکلات کودور کرنا چاہتا ہے ، اس میں چندایک ایسی صفات ہونی چاہئیں جو اس کے عمل کی تصدیق کریں اور لوگوں کا اعتماد اس پر باقی رہے ۔ لہٰذا اس ضمن میں ایک اسلامی ریاست کی حقیقی و صالح قیادت کیلئے لازمی ہے کہ وہ درج ذیل بنیادی اوصاف کی حامل ہو : ⏬


عدل و انصاف : اللہ تعالیٰ عادل ہے اور انصاف کو پسند کرتا ہے- عدل ایمان کی جان اور معاشرے کی روح ہے ۔ عدل پر ہی معاشرتی زندگی کا دار و مدار ہےاور عدل و انصاف ہر شہری کا حق ہے۔ لہٰذا قیادت کا فرض ہے کہ وہ عدل کے قیام کو یقینی بنائے ۔ قائد انصاف پسند صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ اپنے مسلمان بھائی کےلیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَا لا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط اِنَّ اللہ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللہَ کَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا ۔ (سورہ النساء آیت نمبر 58)

 ترجمہ : بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرواور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کروتو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، بے شک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے ، بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے ۔


درج بالا آیتِ مبارکہ میں امت کے ارباب بسط و کشاد اور اسلامی ریاست کے قائدین کو واضح الفاظ میں نصیحت کی گئی ہے-حکومتی عہدوں پر تقرری کےلیے کنبہ پروری اور دوست نوازی کی بجائے صرف اہلیت کو معیارقرار دینا بھی اس حکم کی تعمیل میں داخل ہے-ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جب تم عدالتی کرسی پر بیٹھو اور لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرنے لگو تو عدل و انصاف کے اصولوں کو قطعاً نظر انداز مت کرنا ۔ اس کے ساتھ دوسرا سبق یہ بھی دیا گیا ہے کہ کرسئ عدالت پر صرف ان لوگوں کو بٹھاؤ جو عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں ۔


اسلامی تعلیمات میں مساوات سے مراد دو امور بالکل واضح ہیں:ایک قانونی مساوات اور دوسری معاشرتی مساوات-قانونی مساوات کے حکم کے تحت تمام افراد  کے لئے ایک ہی قانون ہے - چاہے وہ امیر ہو یا غریب، افسر ہو یا ورکر، حاکمِ وقت ہو یا عام فرد، عالم ہو یا جاہل، مرد  ہو یا عورت سب کیلئے قانون کی پابندی یکساں ضروری ہے ۔ اسلامی قوانین کے مطابق قیادت سے لے کر ایک عام فرد تک سب پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی قانون سے بالا ترتصور نہیں کیا جاتا ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا یا نہیں کیا جاتا ۔ اس کو ہم المیہ ہی کہہ سکتے ہیں ۔ جبکہ معاشرتی مساوات سے مراد یہ ہے کہ نشست و برخاست میں ، عبادات اور سماجی تقریبات میں یا عام اجتماعی زندگی میں کسی کو اولیت اور فضیلت حاصل نہیں ہے-فضیلت کا معیار خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بیان فرمادیاہے:


إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ ۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 13)

ترجمہ : یقیناً تم میں سے اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو تم میں سے پرہیزگار ہے ۔


دائرہ اسلام میں شامل تمام افراد اپنے آپ کو غیر مشروط طور پراللہ رب العزت کی منشاء کے آگے جھکا دیتے ہیں اور اس طرح وہ سب مساوی قرار پاتے ہیں اور قیادت پر یہ فرض عائد ہو جاتا ہے کہ وہ یکساں طور پر ریاست کے تمام افراد کیلئے مواقع پیدا کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب میں پایا جانے والا وہ غرور جو وہ اپنے حسب و نسب کی وجہ سے کیا کرتے تھے، جڑ سے اکھاڑ کر مٹا دیا اور ان میں پائے جانے والے تمام اختلافات کو مٹاکر آفاقیت اور انسان دوستی کا درس دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  بنی نوع انسانیت کو ایک ایسی مثالی مساوات کا درس دیا کہ جس زمانے میں لوگ اس تصور سے بالکل ناآشنا تھے ۔


حلم و برداشت : اسلامی ریاست میں قیادت  کے اصولوں میں سے ایک اہم چیز حلم و برداشت ہے- حلم کا مطلب یہ ہے کہ کسی ناگوار بات کو انتقام کی قدرت رکھتے ہوئے بھی برداشت کیا جائے اور کسی طرح کا بغض اپنے دل میں نہ رکھا جائے- حلم وتحمل اعلیٰ درجے کی اخلاقی صفت ہے اور اس صفت کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ط وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْن ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 134)

ترجمہ : اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔


اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو امورِ زندگانی سرانجام دینے کےلیے ہرایک شخص کوغیض وغضب کے وقت میں صبر کرنے ، نادانی و جہالت کے وقت حلم اور بردباری پر قائم رہنے اور برائی کے مقابلے میں عفودرگزر کا حکم دیا ہے-جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے گا ۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کا حکم دے رہا ہے تو قوم کے لئے بطریقِ اولیٰ ا س کا حکم ہے ۔ چشتی ۔


کسی قوم کے نظام کی کمزوری اس وقت شروع ہوجاتی ہے جب اس میں گروہ بندیاں اور فرقے پیدا ہونے لگتے ہیں- یہ تقسیم در حقیقت پوری قوم کو تقسیم اور کمزور کرنے  کا سبب بنتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اصول دیا کہ امت میں فرقے کو پنپنے نہ دیا جائے ۔ اس تفرقے کو غیر اسلامی اور شر قرار دیا گیا –یہی وجہ ہے کہ اُمت کو اس سے سختی سے روکا گیا  ہے ، جیساکہ  ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 105)

ترجمہ : ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا، جنہوں نے فرقہ بندی کی اور واضح آیات آجانے کے بعد اختلاف کیا ۔


ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : إِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۔ (سورہ انعام آیت نمبر 159)

ترجمہ : وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور وہ فرقوں میں بٹ گئے ، تمہارا ان سے کوئی واسطہ نہیں ۔


اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اس تفرقے سے بچنے کا علاج بھی بتادیاہے- ارشادِ ربانی  ہے : وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 103)

ترجمہ : اللہ کے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقے کا شکار مت ہو ۔


اخلاق سے مراد یہ ہے کہ جب انسان اپنے ہم جنسوں اور دوسری مخلوق سے پیش آئے تو اس حیثیت سے کہ وہ کائنات کے مالک کانمائندہ ہے اور ایک نمائندہ کا یہ فرض ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے وہ اپنے اسی رنگ میں پیش کرے جو خود مالک کا رنگ ہے- اس لیے انسان کو اپنے اندر وہ صفات پیداکرنی چاہئیں جومالک کی صفات ہیں ۔ مثلاً رحم ایک صفت ہے جو دراصل اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ بے شک رحمٰن اور رحیم ہے ۔ پھر بندوں کو بھی اللہ تعالیٰ کاحکم ہے کہ وہ اپنے اندر رحم کی صفت پیدا کریں- اسی طرح خطا اور قصور معاف کرنا اور دوسروں کے عیب چھپانا بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے لہٰذا بندوں کو بھی انہی صفات کا حکم ہے- معاشی لین دین ہو یا سماجی برتاؤ، سیاسی معاملات ہوں یا افرادِ خانہ سے سلوک ، اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاقی اصولوں کے مطابق عمل و انجام دینے کی تعلیم دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۔ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 134)

ترجمہ : اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔


خدمت خلق یہ ہے کہ بغیر کسی غرض کے بے لوث ہوکہ کسی کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جائےجواس کے لئے فائدہ مند ہواور یہ برتاؤ عقلاً اور شرعاً صحیح ہو- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:


وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَة ۔ (سورہ الحشر آیت نمبر 9)

ترجمہ : اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو ۔


خدمتِ خلق قیادت کے خواص میں سب سے اہم ہے ۔ ریاست میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور بگاڑ و خود غرضی کو ختم کرنے کےلیے قومی قیادت کو خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہونا پڑے گا- اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا انسانی اخلاق کا نہایت اعلیٰ جوہر ہے ۔ اسی بناء پر اگر قیادت مملکت و ریاست کےلیے بے لوث خدمت گزار بن جائے تو ایسی ریاست میں خوشحالی وکامرانی اور امن وامان کا قیام ایک لازمی ابدی امر ہے ۔


 نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : جب امور نااہل لوگوں کو سونپے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 1631)


دین دار عادل بادشاہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے بادشاہ جو لوگوں کا سربراہ ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 7138،چشتی)


قرآن حکیم نے بار بار نشاندہی کی ہے کہ انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں اور زمین پر اللہ کا کنبہ ہیں، اس اعتبارسے انسان فطرتاً مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے لیکن زمین میں اصلی حاکمیت اللہ تعالیٰ کیلئے ہے۔وہی تنہا اس کائنات کا خالق و مالک اورحاکم ہے اور اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے بندوں کیلئے نظام زندگی تجویز کرے اور ان کےلیے قانون بنائے ۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس پر ایک اسلامی ریاست قائم ہوتی ہے ۔


اسلامی ریاست میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو زمین پر نافذ کرنے کامنصب اولوالامرکے سپرد کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصال مبارک کے بعد یہ ذمہ داری امت کی قیادت یعنی ارباب حل و عقد کی طرف منتقل ہوئی ۔ وہ اس بات کیلئے پابند ٹھہرے کہ وہ اللہ کی زمین میں اس کے احکام و قوانین نافذ کریں ۔ خود بھی ان کی اطاعت کریں اور دوسروں سے بھی اطاعت کرائیں ۔ یہ قائدین درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس وجہ سے ان کی اطاعت واجب ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو ، اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ، اور ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہوں ۔ (سورہ النساء آیت نمبر 59)


اسلام نے اپنے نظام اطاعت میں قائدین کو بلند منصب اس لیے دیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تشریعی حاکمیت کے زمین میں نفاذ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس منصب کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے قانون کی اطاعت کریں اور اس کے بندوں کے اندر اسی کے قانون کو نافذ کریں ۔


اس طرح ان کے منصب کا بدیہی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ نہ تو خود رب کائنات کے قانون کی نافرمانی کریں اور نہ دوسروں کو کسی ایسی بات کا حکم دیں جو رب کائنات کے حکم کے خلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں سے اطاعت کا یہ مطالبہ اس بنیاد پر ہے کہ اس کائنات کا حقیقی حکمران وہی ہے ۔ بندوں کا حقیقی منصب صرف اطاعت کا ہے اور اگر وہ کوئی تصرف کا حق رکھتے ہیں تو صرف اس کے نائب کی حیثیت سے ۔ اس وجہ سے ان کے لیے یہ بات کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اصل حکمران کے حکم کے خلاف حکم دیں اور اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو وہ اپنا وہ درجہ از خود ختم کر دیتے ہیں جو اسلام نے ان کےلیے تسلیم کیا ہے ۔


قائدین کےلیے یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہوں ، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو دینی و قانونی سند مانتے ہوں ۔ اسلام کے احکام و شرائع کے پابند ہوں ۔ تہذیب و معاشرت میں اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ حلال و حرام کے بارے میں اسلام کے مقرر کی ہوئے حدود کے پابند ہوں ۔ اسی لیے ایک خلیفۃ المسلمین ازروئے شریعت اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کو من وعن جاری کرے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے ۔


حضرت شیخ محقق عبدالحق محدیث دہلوی علیہ الرحمہ نے ایک رسالہ بعنوان ’’الجواہر القیادت‘‘ لکھ کر مغل فرمانروا شہاب الدین محمد شاہ جہاں کو غالباً تحفہ بھیجا ۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ احادیثِ مبارکہ بیان کیں جن میں حکمرانی کے بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا اور ساتھ عوام کی بھی رہنمائی کی گئی ۔ ہم اختصار کے ساتھ اسی رسالہ سے چند بنیادی نوعیت کی احادیث نقل کر رہے ہیں :  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، جس نے حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی (صحیح بخاری: 2957،چشتی)(صحیح مسلم: 1835)


حضرت ام الحصین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم پر ایسا ناک اور کان کٹا غلام امیر بنا دیا جائے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمہاری قیادت کرے تو تم اس کا حکم سنو اور اطاعت کرو ۔ (سنن ابن ماجہ : 2861)


حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان پر سننا اور حکم بجا لانا واجب ہے خواہ وہ کام اسے پسند ہو یا نا پسند ، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے ۔ پس جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اسے قبول کرنا لازم ہے نہ اس کی تعمیل ضروری ہے ۔ (صحیح بخاری: 7144،چشتی)(صحیح مسلم: 1839)


حضرت عباد ہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی ، حکم کے سننے اور فرمانبرادی پر تنگی اور فراخی ، خوشی اور ناخوشی میں اور اس صورت میں جب دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور اس بات پر کہ ہم اقتدار کے بارے میں اقتدار کے اہل سے جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق بات کہیں گے ، اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اپنے امیرسے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو صبر کرے ، کیونکہ کہ جو شخص بھی جماعت سے ایک بالشت بھر جدا ہوا ، پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔ 


حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمائیں کہ اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہو جائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمیں ہمارا حق نہ دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہمارے لیے کیا ارشاد ہے ؟ فرمایا : تم سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جس چیز کے وہ مکلف ہیں ، وہ ان کے ذمہ اور تم جس چیز کے مکلف ہو وہ تمہارے ذمہ ۔ 


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیاء کرام علیہم السلام کیا کرتے تھے ، ان میں سے کسی نبی کا وصال ہو جاتا تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہوتے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ، خلفاء ہوں گے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟ فرمایا : پہلے کی بیعت کو پورا کرو اور اس کا حق ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھے گا جس کی نگہبانی پر انہیں مقرر فرمایا تھا ۔


حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم حکومت طلب نہ کرو ، کیونکہ اگر مانگنے پر تمہیں حکومت دی گئی تو تم اس کے سپرد کر دیے جاؤگے اور اگر مانگے بغیر تمہیں حکومت دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ۔


حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حاکم کیوں نہیں بنا دیتے ؟ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا : ابوذر تم کمزور ہو اور حکومت امانت ہے ، وہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت ہے ، سوائے اس شخص کے جس نے اس کے حق کے ساتھ حاصل کیا ، اور اس میں جو ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں وہ ادا کیں ، ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہیں فرمایا : ابو ذر ہم تمہیں کمزور دیکھتے ہیں، اور ہم تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتے ہیں جو ہمیں اپنے لیے پسند ہے ، تم دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور یتیم کے مال کا متولی نہ بننا ۔


حکایت : شیخ عبدالوہاب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ گجرات (ہند ) میں حضرت شیخ علی متقی علیہ کے دل میں یہ بات آئی کہ عدل و انصاف کا ثواب بے شمار ہے، اگر یہ ثواب حاصل ہو جائے تو غنیمت ہے ، اس نیت سے کچھ عرصہ منصب عدالت حاصل کرنا چاہیے ، نیز تجربہ کرنا چاہیے کہ باطن کے حضور اور جمعیت کے ساتھ شغل دنیا جمع ہوتا ہے یا نہیں ، سلطان محمود گجراتی آپ کا بہت ہی معتقد اور تابع فرمان تھا ، اسے یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے اس بات کو کارخانہ حکومت کےلیے غنیمت اور سعادت جانا ، چنانچہ حضرت شیخ نے داروغہ کا منصب اختیار کر لیا اور کچہری میں بیٹھنے لگے ۔ آپ کے کچھ خدام اور حاضر باش لوگوں نے رشوت لینا شروع کر دی ۔ بادشاہ کو اطلاع ملی کہ شیخ اس تقویٰ و دیانت کے باوجود رشوت لیتے ہیں، افراط تفریط سے کام لیتے ہیں۔ بادشاہ نے اس بات پر یقین نہ کیا تو خبر دینے والوں نے کہا کہ وہ جماعت جو ہمیشہ شیخ کے ساتھ ہوتی ہے ، وہ رشوت لیتی ہے ۔ شیخ کو اس کا علم ہے اور وہ اسے برداشت کررہے ہیں ۔ جب شیخ نے سنا کہ بادشاہ کو اس قسم کی اطلاعات پہنچائی گئی ہیں تو پہلے انہوں نے اصلاح کی کوشش کی ، آخر دیکھا کہ معاملہ نہیں سدھرتا ، ایک دن عدالت کے چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اپنا عصا اٹھایا اور وہاں سے تشریف لے گئے ۔وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ دونوں کام جمع نہیں ہوتے خدا کرے عاقبت بخیر ہو ۔


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خبردار ! تم سب راعی ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا،بادشاہ لوگوں کا سربراہ و محافظ ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے ، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ، عورت اپنے شوہر کے گھراور اس کی اولاد کی محافظ ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے ، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ خبردار! تم سب محافظ ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ (صحیح بخاری : 7138)


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو ۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امانتوں کے ضائع ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ فرمایا : جب اْمور نااہل لوگوں کو سونپے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو ۔ (صحیح بخاری:6131،چشتی)


حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص مسلمان رعایا کا والی ہو اور ان کے حق میں خیانت کرتے ہوئے مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام فرما دے گا ۔ 


حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بد ترین حکمران وہ ہیں جو ظلم کرتے ہیں ۔ 


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص دس افراد کا بھی حاکم ہو ، قیامت کے دن اسے اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کی گردن میں طوق ہو گا ، یہاں تک کہ انصاف اسے رہا ئی دلا دے یا ظلم اسے ہلاک کر دے ۔


ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہلاکت ہے حکمرانوں کےلیے ، ہلاکت ہے سرداروں کےلیے ، ہلاکت ہے امانت داروں کےلیے ، قیامت کے دن بہت سے لوگ آرزو کریں گے کہ کاش ان کی پیشانیوں کے بال ثریا ستاروں کے ساتھ بند ھے ہوتے اور وہ زمین و آسمان کے درمیان حرکت کر رہے ہوتے اور انہوں نے کسی کام کی سرداری نہ لی ہوتی ۔


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی باد شاہ کی بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے سچا وزیر عطا فرماتا ہے ، اگر بادشاہ بھول جائے تو وہ اسے یاد دلائے اور اگر یاد کرے تو اس کی مددکرے اور جب اللہ تعالیٰ اس کیلئے بھلائی کے ماسوا کا ارادہ فرمائے تو اسے برا وزیر عطا فرماتا ہے ، اگر باد شاہ بھول جائے تو اسے یاد نہیں دلاتا اور اگر یاد کرے تو اس کی مدد نہیں فرماتا ۔ 


انسان مدنی الطبع ہے ۔ معاشرے کی بنیادی اکائی فرد ہے ۔ وہ خود اپنا راعی بھی ہے اور رعایا بھی ۔ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان ہوتا ہے ، جو اسے نیکی و بدی کی طرف ابھارتا ہے ، انسان کو چاہیے کہ اپنی نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرے تاکہ اس کے تمام معاملات درست رہیں ۔ اسی طرح میاں بیوی ، آقا و غلام ، اہل ثروت ، امرائے ریاست ، ارباب دین، ماہرین علوم و فنون لازم وملزوم ہیں ۔ سربراہ ریاست خدا کا سایہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نائب ہے ۔ دین دار عادل بادشاہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جو غریبوں ، مسکینوں اور مظلوموں کا پشت پناہ اور ڈھال ہے جو ظالموں کی بیخ کنی ہے ۔ 


حکمرانوں ا ور عہدے داروں کے اہل و عیال بھی عوام کے رکھوالے ہوتے ہیں ۔ بدترین امراء وہ ہیں جو عوام اور عورتوں پر ظالم ہیں۔ بدترین عہدیداران وہ ہیں جو عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں۔ میرٹ پر عہدوں کا تعین کیا جائے۔ عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ اگر ان کے ساتھ ناانصافی ہو تو وہ خروج ، بغاوت اور فتنہ انگیزی سے پرہیز کر کے صبر کریں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کریں ساتھ ہی ہجرت (گناہوں کو ترک کرنا) کریں ۔ (الجواہر القیادت صفحہ 11 - 12،چشتی)


خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں قیادت کو درج ذیل امور کی ہمہ وقت پاسداری کرنی چاہییے : ⏬


قیادت ریاست کے عقیدے اور نصب العین کی پاسدار ہو یعنی وہ حاکمیتِ الٰہی کے قیام کو یقینی بنائے ۔


قیادت رنگ و نسل اور دیگر امتیازات کو مٹانے اور معاشرے میں اخوت کو فروغ دینے والی ہو ۔


قیادت امانت اور دیانت کی روش کوفروغ دےتاکہ ریاست کے استحکام اور اس کے نظم و ضبط کے قیام میں آسانی ہو ۔


قیادت عدل و انصاف اور مساوات جیسے معاشرتی عوامل کے قیام کو ممکن بنانے والی ہو ۔


قیادت خود غرضی اور لالچ سے دور رہنے والی ہوتاکہ اجتماعی کوششیں بے اثرہوکر نہ رہ جائیں ۔


قیادت اسلامی وحدت و اخوت کوفروغ دینے والی ہو تاکہ رنگ و نسل ، لسانی ، گروہی ، قومی ، قبائلی اور دیگر عصبیتوں اور امتیازات کاخاتمہ ممکن ہوسکے ۔


قیادت ریاست اور رعایا کی معتمد ہو اور علم ودانش کے ساتھ جذبہ صادقہ سے بھی سرشارہو ۔


قیادت پر لازم ہے کہ وہ معاشرتی برائیوں اور فرسودہ رسومات کو ختم کروائے اور امت کےلیے اسلام پر عمل پیرا ہونے کے ماحول کو سازگار بنائے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Friday, 31 October 2025

اکتیس (31) اکتوبر یومِ شھادت غازی علم دین شہید رحمۃ اللہ علیہ

اکتیس (31) اکتوبر یومِ شھادت غازی علم دین شہید رحمۃ اللہ علیہ

محترم قارئینِ کرام : جناب غازی علم دین شہید رحمتہ اللہ علیہ کی حیات و کارنامہ تاریخ‌ اسلامی کا وہ تابندہ ، روشن اور قابل فخر راہ عمل ہے جس پر جہاں‌ ہر مسلمان کو فخر ہے تو وہیں‌ اس راستے کی وجہ سے گستاخانِ‌ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر ہیبت طاری رہتی ہے ۔


ہندو آریہ سماج تنظیم جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے دل آزار کتابیں شائع کرواتی رہتی تھی، 1923ء کے اواخر میں اس تنظیم کے سرگرم رکن راجپال نے ایک ایسی دل آزار کتاب شائع کی، جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان اقدس میں بے پناہ گستاخیاں کی گئی تھیں ۔ کتاب کی اشاعت سے پورے ملک میں کہرام مچ گیا ۔ مسلمانوں نے احتجاجی جلسے اور جلوس نکالنے شروع کر دیے ۔ ملزم راجپال کے خلاف مقدمہ درج ہوا ۔ پھر راجپال کو 6 ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہوا ۔ بعدازاں ہائی کورٹ نے نہ صرف ملزم کو بری کر دیا ، بلکہ اس کا جرمانہ بھی معاف کر دیا ۔ اس دل آزار کتاب کی اشاعت جا ری رہی ۔


پڑا فلک کو ابھی دل جلوں سے کام نہیں

جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں


چھ اپریل 1929ء کو غازی علم الدین ٹھیک ایک بجے راجپال کی دکان پر پہنچ گئے اور دریافت کیا کہ راجپال کہاں ہے ؟ راجپال نے خود ہی کہا۔ میں ہوں کیا کام ہے؟ غازی صاحب نے چھری نکال کر اس پر بھرپور حملہ کیا۔ پھر پے در پے وار کر کے اسے واصل جہنم کر دیا اور کہا ” یہی کام تھا“ غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ 10 اپریل 1929ء کو سیشن جج کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ 22 مئی 1929ء کو غازی صاحب کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا۔ 30 مئی کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ 15 جولائی کو قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اس مقدمہ کی وکالت کے لیے ہائی کورٹ میں پیش ہوئے، مگر ہائی کورٹ نے اپیل خارج کر دی ۔


اکتیس اکتوبر 1929ء کو علم الدین رحمۃ اللہ علیہ نے حسب معمول تہجد کی نماز پڑھی اور بارگاہِ الٰہی میں دعاگو ہی تھے کہ انھیں کسی کے بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی اور پھر کمرے کے بند دروازے کے سامنے ہی کسی کے رکنے کی آواز کے کھٹکے پر غازی صاحب نے جو ادھر دیکھا تو پھانسی دینے والے عملہ کو اپنا منتظر پایا۔ اس موقع پر داروغہ جیل کی آنکھوں سے شدت جذبات سے آنسو بہہ نکلے… آپ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا تم گواہ رہنا کہ میری آخری آرزو کیا تھی۔ آپ نے معمول سے بھی کم وقت میں نماز ادا کی… اتنی جلدی آخر کس لیے تھی؟ ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کہیں مجسٹریٹ یہ تصور نہ کرے کہ محض زندگی کی آخری گھڑیوں کو طول دینے کے لیے دیر کر رہا ہوں۔ داروغہ جیل نے بند دروازہ کھولا… آپ اٹھے اور مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے۔ دایاں پاؤں کمرے سے باہر رکھتے ہوئے انھوں نے مجسٹریٹ سے کہا ۔ چلیے ! دیر نہ کریں ۔ اس کے ساتھ ہی آپ تیز تیز قدم اٹھاتے تختہٴ دار کی جانب چل پڑے۔ ایک کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے آپ نے ہاتھ اٹھا کر ایک قیدی کو خدا حافظ کہا… جواباً اس نے نعرہٴ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بلند کیا ۔ تب جیل حکام اور مجسٹریٹ کو معلوم ہوا کہ جیل میں سبھی قیدی علم الدین کو مبارک باد دینے کے لیے ساری رات سے جاگ رہے ہیں ۔ کلمہ شہادت کے ورد سے فضا گونج رہی تھی ۔ علم الدین لمحہ بھر کے لیے رکے … مجسٹریٹ اور پولیس کے دستے کی طرف دیکھا ، ان کے لب ہلے اور پھر چل دیے ۔


تختہٴ دار کے قریب متعلقہ حکام کے علاوہ مسلح پولیس کے جوان بھی کھڑے تھے ۔ سب کی نظریں آپ پر جمی ہوئی تھیں ۔ ان کی نظروں نے اس سے پہلے بھی کئی لوگوں کو تختہٴ دار تک پہنچتے دیکھا تھا ، لیکن جس شان اور قوتِ ارادی سے انھوں نے علم الدین کو تختہٴ دار کی جانب بڑھتے دیکھا ، وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ انھیں کیا معلوم تھا کہ جو ”حیات“ علم ا لدین کو نصیب ہونے والی تھی، اس کا تو ہر مسلمان آرزو مند رہتا ہے۔اس وقت آپ کی آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی ہوئی تھی اور آپکو سیاہ رنگ کا لباس پہنا دیا گیا ۔ جب مجسٹریٹ نے آپ سے آپ کی آخری خواہش پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ ”میں پھانسی کا پھندہ چوم کر خود اپنے گلے میں ڈالنا چاہتا ہوں ۔


بعد ازاں غازی علم الدین رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ۔ اس دوران میں آپ نے اردگرد کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”تم گواہ رہو کہ میں نے حرمت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے لیے راجپال کو قتل کیا ہے۔ اور گواہ رہنا کہ میں عشق رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے جان دے رہا ہوں ۔ آپ نے کلمہ شہادت با آوازِ بلند پڑھا اور پھر رسنِ دار کو بوسہ دیا۔ علم الدین حقیقت میں ہر اس شے کو مبارک سمجھتے تھے جو ان کو بارگاہِ حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں پہنچانے کا ذریعہ بن رہی تھی ۔ آپ کے گلے میں رسہ ڈال دیا گیا ۔


مجسٹریٹ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور ایک خفیف اشارے کے ساتھ ہی آپ کے پاؤں کے نیچے سے تختہ کھینچ لیا گیا … چند لمحوں میں ہی آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی … اس نے جسم کو تڑپنے پھڑکنے کی بھی زحمت نہ ہونے دی ۔ گویا حضرت عزرائیل علیہ السّلام نے عاشق رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی جان ان کے جسم سے رسہ لٹکنے سے پہلے ہی قبض کر لی ہو اور پھانسی کی زحمت سے بچا لیا ہو ۔ ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کی اور آپ کے لاشہ کو پھانسی کے تختہ سے اتارا گیا ۔


زینتِ دار بنانا تو کوئی بات نہیں

نعرہٴ حق کی کوئی اور سزا دی جائے


ادھر جیل کے باہر غازی علم الدین رحمۃ اللہ علیہ کے والد طالع مند کے علاوہ سینکڑوں مسلمان اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ حکام لاش ان کے حوالے کریں۔ لیکن اعلیٰ حکام نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ علم الدین کی میت مسلمانوں کے حوالے نہ کی جائے۔ انھیں خطرہ تھا کہ مسلمان جلسے اور جلوس نکالیں گے، جن سے حالات خراب ہوں گے۔غازی علم الدین شہید کی شہادت پر میانوالی میں فرنگی حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی جلوس نکلے، ہڑتالیں ہوئیں، شہید کا سوگ منایا گیا، غم و غصہ کا اظہار ہوا۔ شہیدکے جنازہ میں قیدیوں کے علاوہ کچھ مقامی مسلمانوں نے بھی شرکت کی۔ حکومت وقت نے میانوالی کے کئی افراد کو گرفتار کیا، ان پر مقدمہ چلایا، جس میں ان کو چھ چھ ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ غازی علم الدین شہید کی شہادت کے بعد ناعاقبت اندیش گورنر کی ہدایت کے مطابق غازی شہید کو بے یار و مددگار ایک مردہ اور بے بس قوم کا فرد سمجھ کر اس کی پاک میت کو میانوالی میں قیدیوں کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔


جب یہ خبر لاہور اور ملک کے دوسرے حصوں میں پہنچی تو ہر طرف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ 4 نومبر 1929ء کو مسلمانوں کا ایک وفد جیفری ڈی مونٹ مورنسی گورنر پنجاب سے ملا اور اپنا مطالبہ پیش کیا۔ بالآخر چند شرائط کے تحت مسلمانوں کا مطالبہ منظور کر لیا گیا۔ مسلمانوں کا ایک وفد ”سید مراتب علی شاہ“ اور ”مجسٹریٹ مرزا مہدی حسن“ کی قیادت میں 13 نومبر 1929ء کو میانوالی آیا۔ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر میانوالی راجہ مہدی زمان نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیے۔ میانوالی کے ایک معمار نے بکس تیار کیا اور ضلعی حکام اور معمار نور دین دوسرے روز علی الصباح غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کا جسد خاکی بصد احترام میانوالی میں قیدیوں کے قبرستان سے نکال کر ڈپٹی کمشنر میانوالی کے بنگلے پر لائے ۔


معمار نور دین نے بتایا کہ دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی نعش میں ذرا برابر تعفن نہیں تھا اور نعش سے مسحور کن خوش بو آ رہی تھی ۔ انھوں نے ڈی سی میانوالی کی کوٹھی پر شہیدکی نعش کو بکس میں محفوظ کیا ۔ یہاں سے نعش کو اسٹیشن میانوالی لایا گیا ۔ اور ایک اسپیشل گاڑی کے ذریعے لاہور لایا گیا اور پھر لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کو سپردِ خاک کر دیا گیا ۔


یاد رہے کہ غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کے جنازہ میں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ نمازِ جنازہ 4 بار پڑھائی گئی ۔ پہلی بار نمازِ جنازہ مولانا محمد شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ خطیب مسجد وزیر خان نے پڑھائی ، دوسری بار نمازِ جنازہ حضرت علامہ سید دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ، تیسری بار سید احمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور چوتھی بار حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب امیر ملت رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی ۔ اس وقت انھوں نے اپنی داڑھی مبارک پکڑ کر روتے ہوئے اپنے آپ سے کہا کہ ”تو سید زادہ ہے اورتمہارے ہزاروں مرید ہیں ، لیکن ایک ترکھان کا بیٹا بازی لے گیا ۔“ بعدازاں انھوں نے مزار مبارک کی تعمیر کروائی ۔ جنازے کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا ۔ میت کو ”مولانا سید دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ“ اور حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔ اس موقع پر علامہ اقبال نے غازی علم الدین شہید کا ماتھا چوما اور کہا : اَسی تے گلاں کر دے رہ گئے، تے ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے گیا ۔


غازی علم الدین شہید:شھداء ناموس رسالت کے خوش قسمت افراد میں ایک نام ’’غازی علم دین شہید ‘‘ کا بھی ہے جنہوں نے گستاخِ رسول کو جہنم رسید کرکے وہ کارنامہ انجام دیا جس پر رہتی دنیا کے مسلمان اْن پر نازکرتے رہیں گے۔ علامہ اقبال کو جب معلوم ہوا کہ ایک اکیس سالہ اَن پڑھ‘ مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخِ رسول راجپال کو جرت وبہادری کے ساتھ قتل کردیا ہے تو انہوں نے کہا تھا: ’’اَسی گَلاں اِی کردے رہ گئے تے تَرکھاناں دَا مْنڈا بازی لے گیا ۔ (ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا۔)


علم الدین کو جب معلوم پڑا کہ راجپال نے نبی کی شان میں گستاخی کی ہے تو انہیں رہا نہیں گیااپنے والد سے اس کمینے کا ذکر کیااور بے چینی کے عالم میں سوگئے۔اْس رات انہیں خواب میں ایک بزرگ ملے، انہوں نے کہا: ’’تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی ہورہی ہے اور تم ابھی تک سورہے ہو! اٹھو جلدی کرو۔‘‘ علم دین ہڑبڑا کر اٹھے اور سیدھے شیدے(انکے دوست) کے گھر پہنچے۔ پتا چلا کہ شیدے کو بھی ویسا ہی خواب نظرآیا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے راجپال کا صفایا کرنے کو کہا۔ دونوں میں یہ بحث چلتی رہی کہ کون یہ کام کرے، کیونکہ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے دونوں نے فیصلہ کیا۔ تین مرتبہ علم دین کے نام کی پرچی نکلی تو شیدے کو ہار ماننی پڑی۔ علم دین ہی شاتمِ رسول کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔اور پھر موقع پاکر پلک جھپکتے میں چھری نکالی، ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور راجپال کے جگر پر جالگا۔ چھری کا پھل سینے میں اترچکا تھا۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جاپڑا۔ علم دین الٹے قدموں باہر دوڑے۔ راجپال کے ملازمین نے باہر نکل کر شور مچایا: پکڑو پکڑو۔ مارگیا مارگیا۔ علم دین کے گھر والوں کو علم ہوا تو وہ حیران ضرور ہوئے لیکن انہیں پتا چل گیا کہ ان کے نورِچشم نے کیا زبردست کارنامہ سرانجام دیا ہے اور ان کا سر فخرسے بلندکردیا ہے۔ اس قتل کی سزا کے طور پر 7 جولائی 1929ء4 کو غازی علم دین کو سزائے موت سنادی گئی جس پر 31 اکتوبر1929 ء 4 کو عمل درآمد ہوا ۔ ان کے جسدِ خاکی کو مثالی اور غیرمعمولی اعزاز واکرام کے ساتھ میانی صاحب قبرستان لاہور میں سپردِ خاک کردیا گیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ میں ان کا نام ناموس رسالت پرکٹ مرنے کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔


عشق رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سچے اور پکے مومن اور مسلمان کی معراج ،پہچان اور نشانی ہے۔ غازی علم دین شہید کا شمار بھی ان ہی عاشقان رسول میں ہوتا ہے۔غازی علم دین شہید نے ناموس رسالت پر اپنی جان قربان کرکے خود کو ہمیشہ کے لیے امرکردیا۔اس عظیم عاشق رسول غازی علم دین شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے امت مسلمہ ہرسال ان کی یاد میںشمعیں روشن کرتی ہے۔ غازی علم الدین شہید ؒ کا جرات مندانہ کردار آج تک مسلمانوں میں زندہ ہے۔ملک بھر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے قرآن خوانی ،سیمینارز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عزت و حرمت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گستاخ کی سزا سر تن سے جدا اسلام کا بنیادی دستور وقانون ہے۔جس پر تمام مسلمان ہر لحاظ سے متفق اور اس کوتسلیم بھی کرتے ہیں ۔


علم دین 4 دسمبر 1908 ء میںکوچہ چابک سوارں لاہور میںطالع مند کے گھر پیدا ہونے والا ایک عاشق رسول تھا۔ طالع مند لکڑی کے بہت اچھے کاریگر تھے ۔علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کے ایک مدرسہ سے حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے آبائی پیشہ کو ہی اختیار کیا اور اپنے والد اور بڑے بھائی میاں محمد امین کے ساتھ ہی کام کرنا شروع کر دیا۔علم دین کے والد فرنیچر بنانے کے ہنرمند کاریگر تھے وہ اکثرشہر سے باہر جب بھی کام کے سلسلہ میں جاتے توعلم دین ان کے ساتھ جاتا تھا۔علم دین کا ایک بھائی پڑھ لکھ کر ایک سرکاری نوکری کرنے لگاجبکہ ایک بھائی محمد امین والد اور بھائی علم دین کے ساتھ کام کرتا رہا۔تقسیم ہند سے پہلے ہونے والے ایک واقعہ نے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں ہلچل مچاکر رکھ دی تھی ۔


1923 ء میںلاہور کے ایک ناشر راج پال انتہا پسند ہند و نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں ایک گستاخانہ کتاب ایک فرضی نام سے لکھی ۔ کتاب میں انتہائی نازیبا باتیںلکھی تھیں جنہیں کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ کتاب کے شائع ہونے سے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمان رہنماؤں نے انگریز حکومت سے اس دل آزار کتاب پر فوری پابندی لگانے اور ناشر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جس پر اس ناشر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ سیشن کورٹ کے مجسٹریٹ نے راج پال کو مجرم قرار دیتے ہوئے صرف چھ ماہ قید کی سزا سنادی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل کی گئی ۔ کیس کی سماعت میں مجرم راجپال کو جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے رہا کردیا کہ اس وقت مذہب کے خلاف گستاخی کا کوئی قانون موجود نہ تھا۔جس پر مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا۔ انگریز حکومت کی عدم توجہی پر مایوس ہوکر مسلمانوں نے احتجاجی جلسے جلوس نکالنے شروع کر دئیے۔مسلمانوں نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاجی تحریک شروع کردی۔مگر انگریز حکومت نے روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کرکے الٹا مسلمان رہنماؤں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا۔ مسلمانوں میں یہ احساس بیدار ہونے لگا کہ حکومت وقت ملعون ناشر کو بچانے کی کوشش میںہے اور یہ کہ اس ملعون کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ان کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا ۔ سب سے پہلے لاہور کے ایک غازی خدابخش نے 24 ستمبر 1928ء کو اس گستاخ راج پال کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا تاہم یہ بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ۔ غازی خدابخش کو گرفتاری کے بعد 7 سال کی سزاسنائی گئی۔اس کے بعد افغانستان کے ایک غازی عبدالعزیز نے لاہور آکر اس شاتم رسول کی دکان کا رخ کیا مگر یہ بدبخت دکان میں موجود نہیں تھا، اس کی جگہ اس کا دوست سوامی ستیانند موجود تھا۔ غازی عبدالعزیز نے غلط فہمی میں اس کو راج پال سمجھ کر اس پر حملہ کر کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا۔ غازی عبدالعزیزکو حکومت وقت نے چودہ سال کی سزا سنائی۔ راج پال ان حملوں کے بعد بہت خوفزدہ ہوگیا ۔ حکومت نے اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے دو ہندو سپاہیوں اور ایک سکھ حوالدار کو اس کی حفاظت پر متعین کردیا۔ راج پال کچھ عرصے کے لئے لاہور چھوڑ کر کاشی، ہردوار اور متھرا چلا گیا مگر چند ماہ بعد ہی واپس آگیا اور دوبارہ اپنا کاروبار شروع کردیا۔ علم دین کی غیرت ایمانی نے یہ گوارا نا کیا کہ یہ ملعون اتنی آسانی سے بچ نکلے بالاآخر اس کو اس کے آخری انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کرلیا ۔ علم دین اپنے ایک قریبی دوست رشید کے ساتھ لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان کے سامنے احتجاج میں شامل تھا جو ہندو راجپال کے خلاف نعرے لگارہا تھا۔ جذبات کا ایک سمندر اس ہجوم کے نعروں کی گونج میں امنڈ رہا تھا۔ امام مسجد نے انتہائی درد بھری آواز میں کہا۔ ’’مسلمانوں شیطان راج پال نے اپنی کتاب میں ہمارے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے اور عدالتوں نے اسے رہا کردیا ہے جس سے اسلام دشمنوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ امام مسجد کے یہ الفاظ غازی علم دین کے دل میں اتر گئے اور اس نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ وہ گستاخ رسول کو واصل جہنم کرکے ہی دم لے گا ۔ اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے دوست رشید سے کیاوہ بھی گستاخ راج پال کو مزا چکھانا چاہتا تھا۔ دونوں نے اس مسئلے پر تین بار قرعہ اندازی کی اور تینوں بار علم دین کا نام آیا، آخرکار رشیدعلم دین کے حق میں دستبردار ہوگیا۔ اللہ پاک نے یہ سعادت شائد علم دین کے ہی نصیب میں لکھ رکھی تھی ۔


6 اپریل 1929ء کو علم دین بازار سے ایک چھری لے کر راجپال کی دکان کی طرف چل پڑا۔ راج پا ل ابھی دکان پر نہیں آیا تھا۔ علم دین نے اس کا انتظار کیا اور جیسے ہی راجپال اپنی دکان میں داخل ہوا علم دین نے چھری سے اس پر زوردر وار کیا جو اس کے دل میں پیوست ہوگیا۔راج پال موقع پر ہی ڈھیر ہوگیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرکے اس پر قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ علامہ اقبال کی درخواست پر قائداعظم محمد علی جناح نے علم دین کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ قائداعظم نے ایک موقع پر علم دین سے کہا کہ وہ جرم کا اقرار نہ کرے۔ غازی علم دین نے کہاکہ میں یہ کیسے کہہ دوں کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا،مجھے اس قتل پر ندامت نہیں بلکہ فخر ہے، عدالت نے علم دین کو سزائے موت سنادی۔ قائداعظم محمد علی جناح لبرل تصور کئے جاتے تھے اور اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھے، ہندو اخبارات نے ان پر کڑی تنقید کی لیکن قائداعظم نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ’’مسلمانوں کیلئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذات مبارکہ ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔‘‘31 اکتوبر 1929ء غازی علم دین شہید کی سزائے موت پر عملدرآمد کا دن تھا ۔


سزائے موت سے قبل علم دین سے آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ غازی علم دین کو جب پھانسی گھاٹ پر لایا گیا اور جب پھندا ان کی گردن میں ڈالا گیا تو اس نے وہاں موجود لوگوں سے کہا ’’اے لوگو! گواہ رہنا میں نے راج پال کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی کرنے پر جہنم واصل کیا ہے، آج میں آپ سب کے سامنے کلمہ طیبہ کا ورد کرکے حرمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر اپنی جان نچھاور کررہا ہوں۔‘‘غازی علم دین نے اپنے رشتہ داروں کو جو وصیت فرمائی وہ قابل غور ہے۔ میرے تختہ دار پر چڑھ جانے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے‘ بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰت برابر ادا کریں اور شرعِ محمدی پر قائم رہیں ۔


غازی علم دین شہید کو پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے ان کی میت بغیر نماز جنازہ جیل کے قبرستان میں دفنادی جس پر مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور 4 نومبر 1929 ء کو مسلمان رہنماؤں کے ایک وفد(جن میں سر فہرست شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ، سر محمد شفیع، مولانا عبدالعزیز، مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، خلیفہ شجاع،میاں امیر الدین،مولانا غلام محی الدین قصوری صاحبان شامل تھے) نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور جسد خاکی کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ گورنر نے شرط عائد کی کہ اگر مذکورہ رہنما پرامن تدفین کی ذمہ داری اور کسی گڑبڑ کے نہ ہونے کی یقین دہانی کرائیں تو جسد خاکی مسلمانوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے ۔ مذکورہ وفد نے یہ شرط منظور کرلی ۔


13 نومبر 1929 ء کومسلمانوں کا ایک وفد سید مراتب علی شاہ اور مجسٹریٹ مرزا مہدی حسن کی قیادت میں میانوالی روانہ ہوا اور دوسرے روز جسد خاکی وصول کر لیا گیا۔15 دن بعد جب غازی علم دین شہید کی میت کو قبرسے نکالا گیا تو ان کا جسد خاکی پہلے دن کی طرح تروتازہ تھا۔ جسد خاکی بالکل صحیح وسالم اور اس میں سے خوشبو آرہی تھیں، چہرہ حسن و جمال کا حسین امتزاج تھا، اور ہونٹوں پر مسکراہٹ جھلک رہی تھی ۔


علم دین شہید کے والد طالع مند نے علامہ اقبال سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی جس پر علامہ اقبال نے کہا کہ وہ بہت گناہ گار انسان ہیں، اس لئے اتنے بڑے شہید کی نماز جنازہ وہ نہیں پڑھاسکتے۔نماز جنازہ قاری شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان نے پڑھائی۔‘‘غازی علم دین شہید کی نماز جنازہ لاہور کی تاریخ کی سب سے بڑی نماز جنازہ تھی جس میں6 لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی تھی۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ سچے عاشق رسول غازی علم دین شہیدکے جنازے کو کندھا دے پائے ۔ لاہور میں میانی صاحب قبرستان میں آپ کی آخری آرام گاہ موجود ہے ۔ بغیر چھت مزار کے چہار وں اطراف برآمدہ ہے، مزار کے ساتھ ہی غازی علم دین شہیدکے والد محترم اور والدہ محترمہ کی بھی آخری آرام گاہیں موجود ہیں ۔ لوح مزار پر پنجابی اور اردو کے کئی اشعار کندہ ہیں ۔


علامہ اقبال نے غازی علم دین شہید کی میت کو کندھا دیا اور اپنے ہاتھوں سے انہیں قبر میں اتارا۔ اس موقع پر علامہ اقبال کی آنکھیںنم ہوگئیں انہوں نے کہا۔ کہ ’’ایک ترکھان کا بیٹا آج ہم پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔‘‘ علم دین شہید کی پھانسی کے بعد ایسے حالات پیدا ہوگئے جس کی وجہ سے انگریزوں کو اپنے قوانین میں تبدیلی کرنا پڑی اور کسی بھی مذہب کی توہین کو جرم قرار دیا گیا اور اس طرح ایک علم دین کی شہادت قانون میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔آزادی پاکستان کے بعد توہین رسالت کے قانون کو ’’پاکستان پینل کوڈ‘‘ کا حصہ بنایا گیا اور 1982ء میں اس وقت پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے اس قانون میں ترمیم کرتے ہوئے قرآن کریم کی توہین کی سزا عمر قید جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی توہین کی سزا کم از کم سزا موت قراردے دی ۔


غازی علم دین شہید نے ناموس رسالت پراپنی جان کو قربان کرکے رہتی دنیا تک ایک لازوال مثال قائم کردی ، شہید کا کردار اسلام اور حق و سچ کی سربلندی کے لئے مسلمانوں کے لئے تا قیامت مشعل راہ رہے گا۔گستاخ رسول راجپال کو جہنم رسید کرنے والے سچے عاشق رسول غازی علم دین شہید کے 31 اکتوبر2016ء کو 87 ویںیوم شہادت کے موقع پر ملک بھر میں سیمینارز،قرآن خوانی اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے جس میں غازی علم دین شہید کو خوبصورت الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 28 September 2025

گیارہویں شریف ایصال ثواب ہے اور جواز کا ثبوت

گیارہویں شریف ایصال ثواب ہے اور جواز کا ثبوت

محترم قارئینِ کرام : گیارہویں شریف ایک ایسا نیک عمل ہے کہ صدیوں سے مسلمانوں میں جاری ہے لیکن تحریک وھابیت کے بعد گوناگوں اعتراضات کی زد میں ہے ۔ فقیر نے اس مضمون میں ثابت کیا ہے کہ گیارہویں شریف ایصالِ ثواب کا دوسرا نام ہے اسی لیے اُصولی طور تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ، ہاں جاہلوں کا منہ کون بند کرے ۔ فقیر کے اس مضمون سے ایسے جاہلوں کو دندان شکن جواب دیا جا سکتا ہے ۔ اس سے قبل بھی فقیر یہ مضمون پوسٹ کر چکا ہے اب دوبارہ پیشِ خدمت ہے اللہ عزوجل بطفیل حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و بصدقہ غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فقیر کی اس مساعی کو قبول فرما کر ہم سب کےلیے توشہء راہ آخرت اور مستفیدین کےلیے مشعلِ راہ ہدایت بنائے آمین ۔


مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے عاص بن وائل نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کئے جائیں تو اُس کے بیٹے ھشام نے پچاس غلام آزاد کردئیے ، اس کے دوسرے بیٹے عمروبن العاص رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے چاہا کہ باقی پچاس غلام آزاد کردے ، وہ کہتے ہیں یہاں تک کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ میرے باپ نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی اور ھشام نے پچاس غلام آزاد کر بھی دئیے ہیں اور باقی پچاس غلام رہتے ہیں ، میں وہ آزاد کردوں ؟ تو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہ لوکان مسلم فاعتقتم عنہ ا وصد قتم عنہ او حججتم عنہ بلغہٗ ذالک ۔ رواہ ابوداؤد ۔ (مشکوٰۃ باب الوصایا، مطبوعہ ملتان، صفحہ ۲۶۶)


ترجمہ : اگر وہ مسلمان ہوتا تو پھر تم اُس کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا اُس کی طرف سے کوئی صدقہ کرتے یا اُس کی طرف سے حج کرتے تو اُس کو ثواب (فائدہ) پہنچتا ۔


دوسری حدیث جس کے راوی حضرت جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ہیں ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کل معروفِِ صد قۃٌ رواہ امام احمد ، امام ترمذی ۔ (مشکوٰۃ باب فضل الصد قۃ ، ص۱۶۸) ’’ہر کار خیر صدقہ ہے‘‘ ۔


فرض ، واجب کا ثواب ایصال نہیں ہوسکتا ، صدقات نافلہ کا ثواب ایصال ہوسکتا ہے ، اَب حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سامنے رکھا جائے تو فوت شدگان کی دو قسمیں ہوگئیں ، ایک قسم تو کافروں اور نام نہاد مسلمانوں کی اور دوسری قسم صحیح العقیدہ مسلمانوں کی ، پہلی قسم کو ایصال ثواب کرنا بے کار اور فضول خرچی ہے ا ور اُن کے ورثاء کو اس فضول خرچی سے واقع ہی گریز کرنا چاہئیے اور وہ گریز کرتے بھی ہیں ، جب کہ فوت شدگان کی دوسری قسم کو ہر قسم کے صدقات نافلہ کا ثواب پہنچ سکتا ہے اور اُن کے ورثاء بھی الحمد ﷲ اُن کو ایصال ثواب کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔


راستے میں پڑے ہوئے پتھر یا کانٹوں کو لوگوں کے آرام کی غرض سے ہٹا دینا کہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو اور یہ نیت کرلینا کہ اے ﷲ کریم میرے اس عمل کا ثواب فلاں فوت شدہ کو پہنچے ، تو جائز ہے درست ہے ، ایصال ثواب کے لئے کوئی ایک طریقہ مخصوص سمجھنا نادانی اور جہالت ہے ، یہی وجہ ہے کہ مسلمان ابتداء ہی سے مختلف انداز میں ایصالِ ثواب کا اہتمام کرتے رہے ، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ان شاء اللہ ، موجودہ دور میں ایصالِ ثواب کے پروگرام مختلف ناموں سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں ، جن میں ایک نام ’’گیارھویں‘‘ کا بھی آتا ہے ، حضور غوث اعظم سیّدنا عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ عنہ (غوث اعظم اور رضی ﷲ عنہ کہنے کی وضاحت مضمون کے آخر میں کردی گئی ہے) سے عقیدت ومحبت کی وجہ سے ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو مسلمان آپ کی روح کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں ، گیارہ تاریخ کو ایصال ثواب کرنے کی وجہ سے اس ایصال ثواب کا نام ’’گیارہویں‘‘ مشہور ہوگیا ، اور مہینے کی گیارہ تاریخ کو مقرر کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اپنی سہولت کے لئے اور یہ کہ اس کا اہتمام یاد رہے ، اس کے علاوہ یہ مقصد ہرگز نہیں کہ اس دن کے سوا ثواب پہنچتا ہی نہیں ۔


دوسری وجہ یہ ہے کہ برصغیر پاک وہند میں حضور سیّدنا غوث اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے وصال کی تاریخ گیارہ ربیع الثانی مشہور ہے ، اہل سنت ہر سال گیارہ ربیع الثانی کو آپ کے عرس یعنی یومِ وصال کے دن آپ کی روح کو ایصال ثواب کرتے ہیں ، بعض بزرگوں کے نزدیک آپ کے وصال کی تاریخ نو ربیع الثانی ہے ، برّ صغیر پاک وہند میں ہر اسلامی مہینہ کی گیارہ تاریخ کو آپ کی روح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے، یعنی ایصال ثواب میں کوئی بندش نہیں ہے، چاہے ہرسال ایصال ثواب کیا جائے ، چاہے ہر مہینہ، چاہے ہر روز کیا جائے ، اسلام میں سال کے سارے دنوں میں ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے ۔


فوت شدگان کے لئے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ، نام بدلنے سے کوئی خرابی نہیں آتی ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری زمانہ مبارک میں تعلیم گاہ کا نام’’صُفہ‘‘ تھا ، اب اس کے کئی نام ہیں مثلاً مدرسہ ، مکتب ، اسکول وغیرہ ، گیارھویں کا ایصال ثواب کے علاوہ کوئی اور مطلب ومفہوم نہیں ، باقی ہر قسم کے اعتراضات ، شکوک وشبہات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں ۔


مسلمانانِ اہل سنت اس ایصال ثواب کو فرض، واجب اور سنت نہیں سمجھتے ، نہ ہی اہل سنت کے کسی معتبر و مستند عالم دین کی تحریر میں ایسا ملے گا ، اہل سنت صرف اسے مستحسن یعنی ایک اچھا فعل سمجھتے ہیں ، کسی مسلمان کو ایصال ثواب کرنا اچھا فعل ہی ہے ، بُرا کام نہیں ، باقی جھوٹے الزامات لگا کریا کسی جاہل کے فعل کو دیکھ کر مسلمانوں کے متعلق بدگمانی کرنا اچھا نہیں ۔


حافظ صلاح الدین غیر مقلد، ایڈیٹر ہفت روزہ الاعتصام ، لاہور، اپنی کتاب ’’قبر پرستی‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’گیارہویں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خوشنودی کے لئے کی جاتی ہے اور اس میں یہ عقیدہ کار فرما ہوتا ہے کہ گیارہویں سے حضرت پیر صاحب خوش ہوں گے ، جس سے ہمارے کاروبار میں ترقی ہوگی ، ہماری حاجات پیر صاحب پوری فرمائیں گے اور اگر ہم نے گیارھویں میں کوتاہی کی تو پیر صاحب ناراض ہوں گے ، جس سے ہمارا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا اور ہماری حاجات پوری ہونے سے رہ جائیں گی ۔ ( ہفت روزہ تنظیم اہل حدیث، لاہور، شمارہ ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۸۷ئ،چشتی)( صلاح الدین یوسف، قبر پرستی، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۲ئ، ص۱۴۶)


حافظ صلاح الدین صاحب نے الزام لگاتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ اہل سنت کی فلاں کتاب میں یہ عقیدہ لکھا ہے ، یا فلاں مستند عالم دین یا مفتی نے یہ کہا ہے ، بس یہ غیر مقلدین ایسے ہی بہتان لگا کر اور مفروضے قائم کرکے اہل سنت کے معمولات کا مذاق اُڑاتے رہتے ہیں ، تاکہ مسلمانوں میں انتشار اور تفرقہ بازی ختم نہ ہوسکے ۔


قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رو سے مومن کے حق میں بد گمانی حرام ہے ، قرآن مجید میں ﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یایھاالذ ین امنو اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۔ (سورہ الحجرات: ۱۲)


ترجمہ : اے ایمان والو اکثر گمانوں سے بچو بے شک بعض گمان گناہ ہیں ۔


حدیث شریف میں ہے : ایاکم والظن فان الظن اکذب الحد یث ۔ (بخاری شریف، جلد۲، ص۸۹۶) ترجمہ۔ بدگمانی سے دور رہو بدگمانی بد ترین جھوٹ ہے ۔


دوسری حدیث میں ہے : افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالھا ام لا ۔ (مسلم شریف، جلد۲، ص۳۲۶)


ترجمہ : تونے اس کے دل کو چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے (دل سے کلمہ کہا ہے یا نہیں) ۔


گیارھویں صالحین کی نظر میں


حضرت محقق شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب’’ماثبت من السنۃ‘‘میں لکھتے ہیں کہ : میرے پیرومرشد شیخ عبدالوھاب متّقی مہاجر مکّی رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ نو ربیع الثانی کو حضرت غوث ِ اعظم رضی ﷲ عنہ کا عرس کرتے تھے’’بے شک ہمارے ملک میں آج کل گیارہویں تاریخ مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد ومشائخ میں متعارف ہے ۔ (ماثبت من السنۃ، (اُردو ترجمہ) مطبوعہ اعتقاد پبلشنگ ھائوس دہلی۱۹۸۸ء ، ص۱۶۷،چشتی)


حضرت شیخ محقق عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ اپنی دوسری تصنیف ’’زاد المتقین فی سلوک طریق الیقین‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’حضرت غوث پاک کا عرس نویں ربیع الآخر کو کیا جاتا ہے ، بہجۃ الاسرار کی روایت کے مطابق یہی صحیح تاریخ ہے ، اگرچہ ہمارے دیار میں گیارھویں تاریخ مشہور ہے ‘‘۔ (زادالمتقین فی سلوک طریق الیقین ، اُردو ترجمہ، مطبوعہ الرحیم اکیڈمی لیاقت آباد کراچی۱۹۹۸ئ، ص۱۲۵)


گیارہ ربیع الثانی کو حضور غوث پاک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کاعرس منانا بزرگوں کا معمول رہا ہے ، چنانچہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ اپنی مشہور تصنیف ’’اخبار الاخیار‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : حضرت شیخ امان ﷲ پانی پتی رحمۃ ﷲ علیہ (متوفی۹۹۷ھ) گیارہ ربیع الثانی کو حضرت غوث پاک کاعرس کرتے تھے ۔ (اخبار الاخیار(اُردو ترجمہ) ، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی، ص۴۹۸)


شیخ عبدالحق محدّث دہلوی علیہ الرحمہ غیر مقلدین کی نظر میں نواب صدیق حسن خاں بھوپالوی (متوفی۱۳۰۷ھ/۱۸۹۰ئ) لکھتے ہیں : ’’ہندوستان میں مسلمانوں کی فتوحات کے بعد ہی سے علم حدیث معدوم تھا، یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ نے اس سرزمین میں اپنا فضل واحسان کیا اور یہاں کے بعض علماء جیسے شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ وغیرہ کو اس علم سے نوازا، شیخ ہندوستان میں علمِ حدیث کو لانے اور اس کے باشندوں کو اس کا فیض عام کرنے والے پہلے شخص ہیں‘‘۔ (دوروشن ستارے ، از عبدالرشید عراقی، مطبوعہ لاہور۲۰۰۰ئ، ص۹۰، بحوالہ’’الحطہ فی ذکر صحاح التہ، از نواب صدیق حسن خاں، ص۷۰)


مسعود عالم ندوی (متوفی۱۳۷۴ھ) لکھتے ہیں : ’’ان(شیخ عبدالحق محدّث دہلوی) کی ذات سے شمالی ہند میں علم حدیث کی زندگی ملی اور سنت نبوی کا خزانہ ہر خاص وعام کے لئے عام ہوگیا… ہم آج ان کے شکر گزار ہیں اور علمی خدمات کا دل سے اعتراف کرتے ہیں‘‘۔ (دوروشن ستارے، از عبدالرشید عراقی، مطبوعہ لاہور، بحوالہ الفرقان، لکھنؤ، شاہ ولی ﷲ نمبر، ص۳۷)


غیرمقلد عالم  محمد ابراہیم میر سیالکوٹی (متوفی۱۹۵۶ئ) ، شیخ عبدالحق محدّث دہلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’مجھ عاجز کو آپ کے علم وفضل اور خدمتِ علم حدیث اور صاحبِ کمالات ظاہری وباطنی ہونے کی وجہ سے حُسنِ عقیدت ہے، آپ کی کئی تصانیف میرے پاس موجود ہیں جن سے میں بہت سے علمی فوائد حاصل کرتا رہتا ہوں‘‘۔ (تاریخ اہل حدیث، مطبوعہ مکتبہ الرحمن سرگودھا(پنجاب)، ص۲۷۴)


شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ علماء دیوبند کی نظر میں


حکیم الامتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : ’’بعض اولیاء ﷲ ایسے بھی گزرے ہیں کہ خواب یا حالتِ غیبت میں روزمرہ ان کو دربار نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضری کی دولت نصیب ہوتی تھی ، ایسے حضرات صاحبِ حضوری کہلاتے ہیں ، انہیں میں سے ایک حضرت شیخ عبدالحق محدّث دہلوی ہیں کہ یہ بھی اس دولت سے مشرّف تھے اور صاحبِ حضوری تھے‘‘۔ (عبدالحلیم چشتی فاضل دارالعلوم دیوبند، فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ، مطبوعہنور محمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ کراچی۱۳۸۳ھ/۱۹۶۴ئ، ص۲۲۱۔ بحوالہ الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ، اشرف المطابع، تھانہ بھون(ضلع مظفر نگر، یوپی، بھارت)۱۹۴۱ئ، ج۷، ص۶)


آیۃ ﷲ ، حجۃ ﷲ ، سراج الہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ گیارھویں کے متعلق فرماتے ہیں : ’’ حضرت غوثِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے روضہ مبارکہ پر گیارھویں کو بادشاہ وغیرہ شہر کے اکابر جمع ہوتے ، نماز عصر کے بعد مغرب تک کلام ﷲ کی تلاوت کرتے اور حضرت غوثِ اعظم کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے ، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے ارد گرد مریدین حلقہ بگوش بیٹھ کر ذکر جہر کرتے ، اسی حالت میں بعض پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ، اس کے بعد طعام شیرینی جو نیاز تیار کی ہوتی ، تقسیم کی جاتی اور نماز عشاء پڑھ کر لوگ رخصت ہوجاتے ۔ (ملفوظاتِ عزیزی (فارسی) مطبوعہ میرٹھ، یوپی ۔بھارت، ص۶۲،چشتی)


حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی علیہ الرحمہ علماء دیوبند وغیر مقلدین کی نظر میں نواب صدیق حسن خاں بھوپالی غیرمقلد لکھتے ہیں :’’ شاہ عبدالعزیز بن شیخ اجل ولی ﷲ محدث دہلوی بن شیخ عبدالرحیم عمری رحمہم ﷲ، استاذ الاساتذہ، امام نقاد، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف اور دیارِ ھند کے خاتم المفسرین ومحدثین اور اپنے وقت میں علماء ومشائخ کے مرجع تھے، تمام علومِ متداولہ اور غیر متداولہ میں خواہ فنونِ عقلیہ ہوں یا عقلیہ، ان کو جو دستگاہ حاصل تھی وہ بیان سے باہر ہے‘‘۔ (اتحاف النبلائ، مطبوعہ کانپور ۱۲۷۸ھ، ص۲۹۶)


محمد ابراہیم میر سیالکوٹی غیرمقلد لکھتے ہیں : ’’ بڑے بڑے علماء آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں اور فضلاء آپ کی تصنیف کردہ کتابوں پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں‘‘ ۔ (تاریخ اہل حدیث، مطبوعہ سرگودھا،سن طباعت ندارد، ص۲۸۸)


مولوی سرفراز خاں صفدر دیوبندی (گوجرانوالہ) لکھتے ہیں : ’’بلا شبہ مسلکِ دیوبند سے وابستہ جملہ حضرات شاہ عبدالعزیز صاحب کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں ، بلا شبہ دیوبندی حضرات کے لیے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کا فیصلہ حکم آخر کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔ (اتمام البرھان، حصہ اوّل، مطبوعہ گوجرانوالہ۱۹۸۱ئ، ص۱۳۸)


حضرت شیخ عبدالوھاب متقی مکی رحمۃ ﷲ علیہ ، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ ، حضرت شیخ امان ﷲ پانی پتی رحمۃ ﷲ علیہ ، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ ، یہ تمام بزرگ دیںِ اسلام کے عالم و فاضل تھے اور ان کا شمار صالحین میں ہوتا ہے ، ان بزرگوں نے گیارھویں شریف کا ذکر کرکے کسی قسم کا شرک وبدعت کا فتویٰ نہیں دیا ۔


صلحاء کا طریقہ جائز ہوتا ہےغیر مقلد ین کا فتویٰ اب ہم غیر مقلدین کے مشہور عالم مولوی ثناء ﷲ امرتسری کے فتوے نقل کرتے ہیں جن میں انہوں نے صالحین کے طریقہ کار کو جائز اور درست لکھا ہے ۔


مولوی ثناء ﷲ امرتسری سے سوال کیا گیا کہ چینی کی رکابیوں (پلیٹوں) پر جو لوگ عربی وغیرہ لکھ کر بیماروں کو پلاتے ہیں ، یہ درست ہے یا نہیں ؟


مولوی صاحب جواب میں لکھتے ہیں کہ : ’’آیات قرآنی کو لکھ کر پلانا بعض صلحاء نے جائز لکھا ہے‘‘ ۔ (اخبار اہل حدیث، امرتسر ۲۲؍محرم ۱۳۶۲ھ،چشتی)،(فتاویٰ ثنائیہ، جلد ثانی، باب ہفتم مسائل متفرقہ، مرتبہ، مولانا محمد دائود راز ، مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ ، ۷۔ ایبک روڈ لاہور، ص۶۸)


مولوی صاحب سے ایک سوال کیا گیا کہ : ’’جو لوگ تعویذ وغیرہ لکھ کر باندھتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں ؟ (میر عظمت ﷲ ، مدراس) ۔


مولوی صاحب جواب میں لکھتے ہیں کہ : ’’تعویذ کا مضمون اگر قرآن وحدیث کے مطابق ہو یعنی شرکیہ نہ ہو تو بعض صلحاء بچوں کے گلے میں ڈالنا جائز کہتے ہیں‘‘۔ ﷲ اعلم ۔ (اہل حدیث، ۲۹؍ محرم ۱۳۶۲ھ)(فتاویٰ ثنائیہ، جلد ثانی، باب ہفتم مسائل متفرقہ، مرتبہ، مولانا محمد دائود راز ، مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ ، ۷۔ ایبک روڈ لاہور، ص۶۸)


الحمد للہ ان دونوں فتوؤں سے ثابت ہوا کہ جس کام کو صلحاء یعنی نیک لوگ جائز سمجھیں وہ کام جائز ہے ، شرک وبدعت اور ناجائز نہیں ہے ، حضور غوث اعظم رضی ﷲ عنہ کی گیارھویں یعنی آپ کے لئے ایصال ثواب کو صالحین نے جائز سمجھا ہے ، تو ان کے فیصلہ کو ماننا چاہئیے اور امت مسلمہ پر شرک وبدعت کے فتوے لگا کر تفرقہ بازی سے اجتناب کرنا چاہئیے ۔


ایصال ثواب سے متعلق مولوی ثناء ﷲ غیر مقلد سے ایک سوال کیا گیا کہ : ’’میّت کو ثواب رسانی کی غرض سے بہ ہیئت اجتماعی قرآن خوانی کرنا درست ہے یا نہیں ؟ ‘‘ ۔


مولوی صاحب جواب میں لکھتے ہیں کہ : ’’بہ نیت نیک جائز ہے اگرچہ ہیئت کذائی سنت سے ثابت نہیں ، میّت کے حق میں سب سے مفید تر اور قطعی ثبوت کا طریق استغفار (بخشش مانگنا) ہے ‘‘ ۔ ( فتاویٰ ثنائیہ، جلد ثانی، باب ششم کتاب الجنائز، مرتبہ، مولانا محمد دائود راز ، مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ ، ۷۔ ایبک روڈ لاہور، ص۵۱)


مولوی ثناء ﷲ امرتسری غیر مقلد نے یہ لکھا کہ ’’ بہ نیت نیک جائز ہے اگرچہ ہیئت کذائی سنت سے ثابت نہیں‘‘ اہل سنت حضور غوث اعظم رضی ﷲ عنہ کے لئے جو ایصال ثواب کرتے ہیں وہ نیک نیت سے ہی قرآن خوانی اور صدقہ وخیرات کرتے ہیں ، اور بقول مولوی ثناء ﷲ اگرچہ ایصال ثواب کی یہ شکل سنت سے ثابت نہ ہو پھر بھی جائز ہے ۔


ایصال ثواب کی نیت سے گیارھویں جائز ہے مولوی ثناء ﷲ امرتسری غیر مقلد کا فتویٰ مولوی ثناء ﷲ امرتسری سے سوال کیا گیا کہ : ’’کل یہاں ایک جلسہ بنگلور کے مسلم لائبریری کا ہوا جس میں مولوی حاجی غلام محمد شملوی نے لیکچر دیا، دورانِ تقریر میں گیارھویں اور بارھویں میں برائے ایصالِ ثواب غرباء کو کھانا کھلانا جائز کہا ہے ، آپ اس کے عدم ثبوت کے دلائل پیش کریں‘‘ ۔


مولوی ثناء ﷲ امرتسری غیر مقلد جواب میں کہتے ہیں کہ : ’’ گیارھویں بارھویں کی بابت فریقین میں اختلاف صرف اتنی بات میں ہے کہ مانعین اس کو لغیر ﷲ سمجھ کر مااھل لغیر ﷲ میں داخل کرتے ہیں ، اور قائلین اس کو لغیر ﷲ میں نہیں جانتے ، مولوی غلام محمد صاحب نے دونوں کا اختلاف مٹانے کی کوشش کی ہوگی کہ گیارھویں بارھویں کا کھانا بغرض ایصال ثواب کیا جائے یعنی یہ نیت ہوکہ ان بزرگوں کی روح کو ثواب پہنچے نہ کہ یہ بزرگ خود اس کھانے کو قبول کریں ، اس صورت میں واقعی اختلاف اُٹھ جاتا ہے ، ہاں نام کا جھگڑا باقی رہ جاتا ہے کہ اس قسم کی دعوت کو گیارھویں بارھویں کہیں یا نذر ﷲ کہیں، اس میں شک نہیں کہ شرع شریف میں گیارھویں بارھویں کے ناموں کا ثبوت نہیں ، اس لئے یہ نام نہیں چاہئیے، فقط دعوت ﷲ فی ﷲ کی نیت چاہئیے‘‘۔ (فتاویٰ ثنائیہ، جلد ثانی، باب ہفتم مسائل متفرقہ، ص۷۱، مطبوعہ ادارہ ترجمان السنۃ ، لاہور،چشتی)


الحمد ﷲ اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضور غوث اعظم رضی ﷲ عنہ کی روح کو ایصال ثواب کیا جائے ، منکرین اسے گیارھویں نہ کہیں ، ایصال ثواب کہہ لیں ، لیکن ایصال ثواب کریں تو سہی ، یہ تو ایصال ثواب کرنے والوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں تاکہ فرقہ بندی اور انتشار ختم نہ ہواور پیٹ کا دھندہ چلتا رہے ۔ ا یصال ثواب کی نیت سے گیا رھو یں جا ئز ہے ۔


مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی کا فتویٰ مولوی رشید احمد گنگوھی سے سوال کیا گیا کہ : ’’ایک شخص ہر مہینہ کی گیارہ تاریخ کو گیارہویں کرتا ہے نذر ﷲ اور کھانا پکا کر غرباء اور امراء سب کو کھلاتا ہے اور اپنے دل میں یہ سمجھتا ہے کہ جو چیز نذر لغیرﷲ ہو وہ حرام ہے اور میں جو گیارہویں کرتا ہوں یا توشہ کرتا ہوں کہ جو منسوب ہے بفعل حضرت بڑے پیر صاحب اور حضرت شاہ عبدالحق صاحب (ردولوی) کے ، ہر گز ان حضرات کی نذر نہیں کرتا بلکہ محض نذر ﷲ کرتا ہوں صرف اس غرض سے کہ یہ حضرات کیا کرتے تھے ، ان کے عمل کے موافق عمل کرنا موجب خیروبرکت ہے ، اور جو شخص ان حضرات کی یا اور کسی کی نذر کرے گا سوائے ﷲ جل شانہ ، وہ حرام ہے ، کبھی حلال نہیں ، تو اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے عقیدے والے کو گیارہویں یا توشہ (شاہ عبدالحق ردولوی چشتی) کا کرنا جائز ہے یا نہیں اور موجب برکت بھی ہے یا نہیں اور اس کھانے کو مسلمان دین دار تناول فرمائیں یا نہیں ؟ ‘‘ ۔


مولوی صاحب جواب میں لکھتے ہیں : ’’ ایصال ثواب کی نیت سے گیارہویں کو توشہ کرنا درست ہے ، مگر تعیّن یوم وتعیّن طعام کی بدعت اس کے ساتھ ہوتی ہے ، اگرچہ فاعل اس یقین کو ضروری نہیں جانتا مگر دیگر عوام کو موجب ضلالت ہوتا ہے ، لہذا تبدیل یوم و طعام کیا کرے تو پھر کوئی خدشہ نہیں ‘‘ ۔ (فتاویٰ رشیدیہ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک کراچی، ص۱۶۴)


دیوبندی فرقہ کے امام مولوی رشید احمد گنگوہی نے یہ تسلیم کرلیا کہ ایصال ثواب کی نیت سے گیارہویں کرنا درست ہے ، رہا اعتراض تعیّن یوم اور تعین طعام کا ، تو عرض ہے کہ اہلسنت تو سہولت کے پیشِ نظر دن مقرر کرتے ہیں ، اسے تعین عرفی کہتے ہیں ، اس کے متعلق یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ ایصال ثواب صرف گیارہ تاریخ کو ہی کیا جائے، اس دن کے علاوہ نہ کیا جائے ، اور یہ اعتقاد بھی نہیں رکھتے کہ گیارہ تاریخ سے آگے پیچھے کسی اور تاریخ کو ثواب نہیں پہنچتا ۔


تعیّن شرعی اور تعیّن عرفی تعیّن شرعی اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص ایصال ثواب کے لئے دن مقرر کرلیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس دن کے علاوہ ایصال ثواب نہیں ہوسکتا، یا جو ثواب اس وقت ہے وہ کسی اور وقت میں نہیں ہوسکتا، تو یہ تعین شرعی ہوگا ، اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں، تعین شرعی شارع کی طرف سے ہی ہوسکتا ہے، کسی شخص کو اپنے طور پر مقرر کرنے کا کوئی حق نہیں ۔


تعیّن عرفی اسے کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بعض سہولتوں کے پیش نظر کوئی دن یا وقت ایصال ثواب کے لئے مقرر کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دوسرے اوقات میں بھی ایصال ثواب ہوسکتا ہے اور تمام اوقات میں ثواب یکساں پہنچتا ہے تو یہ تعین عرفی ہے، اسے ناجائز کہنا کسی طرح درست نہیں ۔


حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ نے اپنے وعظ کے لئے جمعرات کا دن مقرر فرمایا تھا ، لوگوں نے عرض کیا کہ آپ روزانہ وعظ فرمایا کیجئے ، فرمایا تم کو تنگی میں ڈالنا مجھ کو پسند نہیں ۔ (مشکوٰۃ، باب العلم)


ہر دن ہر تاریخ کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے ، گیارھویں یعنی ایصال ثواب چاہے دس تاریخ کو کریں،چاہے گیارہ کو ، چاہے بارہ تاریخ کو ، چاہے تیرہ تاریخ کو ، کسی بھی تاریخ کو کرلیں ، کسی دن بھی منع نہیں، دراصل ان لوگوں کو لفظ ’’گیارھویں‘‘ سے چڑ ہوگئی ہے اور کوئی بات نہیں ، اور یہ خواہ مخواہ کی چڑ اور ضد ہے ، اس بے عقلی کا کوئی علاج نہیں ، ﷲ کریم ہی ہدایت فرمائے آمین ۔


رہا تعین طعام تو یہ بھی فضول اعتراض ہے ، آپ جو مرضی ہو پکا لیں یا آپ کچھ نہ پکائیں ، کسی کھانے کا اہتمام نہ کریں ، صرف سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص یا جتنا بھی قرآن کریم پڑھ سکیں ، اس کا ایصال ثواب کردیں ، مگر سچ بات یہ ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے ، صرف اعتراض ہی اعتراض ہے ۔


کسی جائز کام کے لئے دن تاریخ مقرر کرنے کا مقصد محض یہ ہوتا ہے کہ مقرر ہ دن یاد رہے ، دن مقرر ہوگا تو سب لوگ جمع بھی ہوجائیں گے اورمل کر یہ کام کریں گے ، اگر کوئی وقت مقرر نہ ہو تو بخوبی یہ کام نہیں ہوتے ، کوئی کسی دن آئے گا اور دوسرا کسی اور دن آئے گا ، انتظامی امور کے لئے ایسا کام درست طریقہ سے سر انجام نہیں ہو پاتا اور اہتمام کرنے والا بھی پریشان ہوتا ہے ، محض سہولت کے لئے ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ حضور غوث اعظم رضی ﷲ عنہ کو ایصال ثواب کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے ، تاکہ دوست احباب کو ہر ماہ اطلاع نہ کرنی پڑے ، تاریخ مقرر کرنے کا یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ اس تاریخ سے آگے یا پیچھے کسی تاریخ کو یا اس کے علاوہ کسی اور دن کو ثواب نہیں پہنچتا ، یہ عقیدہ نہیں ہوتا ، سال کے سارے دن ثواب کے لئے جائز ہیں ، اکثر جگہ گیارہ تاریخ کے بجائے دوسری تاریخوں میں ایصال ثواب کیا جاتا ہے ، مگر اس ایصال ثواب کو اس دن بھی گیارھویں ہی کہتے ہیں ، مقصد تو ایصال ثواب ہے ۔


تعیّن تاریخ اور علمائے د یوبند


علمائے دیوبند کے پیرومرشد حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں : ’’ رہا تعین تاریخ ، یہ بات تجربے سے معلوم ہوتی ہے کہ جو امر کسی خاص وقت میں معمول ہو تو اس وقت وہ یاد آجاتا ہے اور ضرور ہو رہتا ہے ، اور نہیں تو سالہا سال گزر جاتے ہیں کبھی کبھی خیال بھی نہیں ہوتا ، اسی قسم کی مصلحتیں ہر امر میں ہیں جن کی تفصیل طویل ہے محض بطور نمونہ تھوڑا سا بیان کیا گیا ذہین آدمی غور کرکے سمجھ سکتا ہے اور قطع نظر مصالح مذکور کے ان میں بعض اسرار بھی ہیں ، پس اگر یہی مصالح بنائے تخصیص ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں‘‘ ۔ (فیصلہ ہفت مسئلہ، مطبوعہ مجتبائی کانپور، ص۶،چشتی)


غیر مقلدین کا عقیدہ تعیّن یوم کے بارے میں


غیر مقلدین بھی یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ ﷲ اور رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس بات کا تعین کردیا وہی درست ہے ، اپنی طرف سے کسی کام کے لئے کوئی وقت ، دن اور تعداد مقرر کرنا بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔


اہل سنت اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ تعین شرعی نہیں بلکہ یہ تعین عرفی ہے ، لیکن غیر مقلدین اس وضاحت کو بھی نہیں مانتے ، ﷲ کریم ہدایت دے ، درج ذیل میں غیر مقلدین کے تحریر کردہ ایک عمل کے لئے عرفی طور پر وقت اوردنوں کی تعداد مقرر کرنے کے بارے میں ایک حوالہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے ۔


غیر مقلد عالم محمد ابراہیم صادق میر سیالکوٹی نے اپنی مشہور کتاب’’صلوٰۃ الرسول‘‘ میں آیت کریمہ ’’لا اِلٰہ الا انت سبحٰنک انی کنت من الظالمین ‘‘کے تین عمل درج کئے ہیں ، پہلے عمل کے متعلق لکھتے ہیں : ’’ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہر روز رات کو بعد نماز عشاء ایک ہزار بار پڑھیں ، اوّل آخر تین تین بار درود شریف ، بارہ روز تک پڑھیں (اگر کام نہ ہو تو) چالیس روز پڑھیں ۔


دوسرا طریقہ یہ ہے کہ چالیس روز میں سوا لاکھ بار پڑھیں ، ہر روز تین ہزار ایک سو پچیس بار پڑھیں ۔


تیسرا طریقہ یہ ہے کہ نماز عشاء کے بعد تاریک مکان میں بیٹھ کر ایک پانی کا پیالہ بھر کر آگے رکھ لیں اور دعا تین سو بار پڑھیں، ہر سو بار پڑھنے کے بعد ہاتھ پانی میں ڈال کر منہ اور بدن پر پھیرتے رہیں، جب پڑھ چکیں تو اکتالیس بار درود شریف پڑھیں، اسی طرح اکتا لیس روز تک یہ عمل کریں ‘‘ ۔ (صلوٰۃ الرسول، مطبوعہ نعمانی کتب خانہ، حق سٹریٹ اُردو بازار، لاہور، ص ۴۵۰، ۴۵۱،چشتی)


اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ پڑھنے کے ان تین طریقوں میں وقت، تعداد اور دنوں کا جو تعیّن ہے ، یہ تعین شرعی ہے یا عرفی ہے؟ اور یہ تعین قرآن مجید کی کس آیت سے ثابت ہے؟ اگر قرآن میں نہیں تو حدیث کی کس کتاب میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ طریقہ منقول ہے؟ اور گیارھویں کے ساتھ لفظ ’’شریف‘‘ کہنے پر اعتراض کرنے والوں سے یہ بھی سوال ہے کہ اس عمل میں لفظ دُرود کے ساتھ شریف کا لفظ کس حدیث سے ثابت ہے ؟ ۔


ایک شُبہ کا ازالہ گیارھویں کے متعلق کسی ذہن میں یہ شُبہ آسکتا ہے کہ جب کسی چیز پر غیر ﷲ کا نام آجائے تو وہ حرام ہوجاتی ہے ، کیونکہ قرآن مجید میں ہے ’’ وما اھل بہٖ لغیر ﷲ ‘‘ یعنی جس پر غیر ﷲ کانام پُکارا جائے وہ حرام ہے ، تو جس صدقہ وخیرات کے متعلق یہ کہا جائے کہ حضور غوث پاک کے لئے ہے ، وہ اس آیت کی رو سے حرام ہے ۔


وما اھل بہٖ لغیر ﷲ‘‘ کی تفسیر بعض لوگ اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی ’’تفسیر عزیزی‘‘ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ ایصال ثواب کی خاطرجس جانور کی نسبت کسی بزرگ کی طرف کردی ہو وہ حرام ہے اگرچہ اسے ذبح کرتے وقت ﷲ تعالیٰ کا ہی نام لیا جائے ۔


اس مسئلہ کی وضاحت میں ضیغم اسلام استاذی المکرّم علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمة ﷲ علیہ نے تفسیر عزیزی اور فتاویٰ عزیزی کی داخلی شہادتوں سے ثابت کیا ہے کہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے نزدیک وہی جانور حرام ہے جس کے ذبح کے وقت غیر ﷲ کا نام لیا گیا ہو ، محض کسی بزرگ کی نسبت کردینے سے جانور حرام نہیں ہوجاتا، ذیل میں علامہ کاظمی کے رسالہ مبارکہ’’ تصریح المقال فی حل امر الاہلال‘‘ سے اس بحث کا خلاصہ نقل کیا جاتا ہے ۔


حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیر عزیزی میں انواع شرک کے تحت مشرکین کے چند فرقے شمار کئے ہیں، ان میں چوتھا فرقہ پیر پرستوں کا ہے، اس کے متعلق محدث دہلوی نے فرمایا! چوتھا گروہ پیر پرست ہے، جب کوئی بزرگ کمال ریاضت اور مجاہدہ کی بنا پر ﷲ تعالیٰ کے ہاں مقبول دعائوں اور مقبول شفاعت والا ہوکر اس جہان سے رخصت ہوجاتا ہے تو اس کی روح کو بڑی قوت و وسعت حاصل ہو جاتی ہے، جو شخص اس کے تصور کو واسطہ فیض بنا لے یا اس کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہ یا اس کی قبر پر سجدہ اور تذلل تام کرے (اس جگہ اصل عبارت یہ ہے) ’’ یا در مکان نشست و برخاست او، یا بر گور او سجود و تذلل تام نماید‘‘تو اس بزرگ کی روح وسعت اور اطلاق کے سبب خود بخود اس پر مطلع ہوجاتی ہے اور اس کے حق میں دنیا و آخرت میں شفاعت کرتی ہے ۔ (شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، تفسیر عزیزی: دہلی ،لال کنواں ، س ن ، صفحہ ۱۲۷ سورۃ البقرہ)


یہ گروہ واقعی مشرک تھا جو قبروں پر تذلل تام کے ساتھ سجدہ کرتا تھا، علامہ ابن عابدین شامی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! ’’العبادۃ عبارۃ عن الخضوع والتزلل‘‘ (شامی ، ابن عابدین شامی، ردالمحتار [ج۲] : قاہرہ ، س ن ، ص۲۵۷) ۔ ترجمہ ۔ خضوع اور تذلل تام کو عبادت کہتے ہیں ۔


آج کل کے خوارج کی ستم ظریفی ہے کہ وہ اولیاء ﷲ کے عقیدت مند اہل سنت و جماعت کو پیر پرست کہہ کر مشرک قرار دیتے ہیں، حالانکہ عامۃ المسلمین عبادت اور انتہائی تعظیم صرف ﷲ تعالیٰ کے مانتے ہیں کسی دوسرے کے لئے نہیں ، حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کا روئے سخن اُس گروہ مشرکین کی طرف ہے، ان کا طریقہ یہ تھا کہ جانور کی جان دینے کی نذر شیخ سدّو وغیرہ کے لئے مانتے اور اس کی تشہیر کرتے تھے، پھر اسی نیت کے تحت شیخ سدو وغیرہ کے لئے خون بہانے کی نیت سے اسے ذبح کرتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ ذبح کسی طرح حلال نہیں ہو سکتا، کم فہم لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت شاہ صاحب نے محض کسی بزرگ کی طرف نسبت کرنے کی بنا پر ان جانوروں کو حرام قرار دیا ہے، حالانکہ یہ قطعاً باطل ہے اور شاہ صاحب پر بہتان صریح ہے ۔


شاہ صاحب نے تفسیر عزیزی میں اپنے موقف کی وضاحت کے لئے تین دلیلیں پیش کی ہیں!


پہلی دلیل : یہ حدیث ہے ’’ ملعون من ذبح لغیرﷲ‘‘ ملعون ہے جس نے غیرﷲ کے لئے ذبح کیا، اس حدیث میں صراحتہً لفظ ذبح مذکور ہے۔


دوسری دلیل : عقلی ہے اس میں یہ تصریح ہے’’ وجان ایں جانور ازاں غیر قرار دادہ کشتہ اند‘‘ یعنی اس جانور کی جان غیر کی ملک قرار دے کر اس جانور کو ذبح کیا ہے، اس عبارت میں دو باتیں ہیں۔ ۱۔جانور کی جان غیر کے لئے مملوک قرار دی۔ ۲۔ اس کو ذبح کیا۔


صاف ظاہر ہے کہ اس جانور میں اس لئے خبث پیدا ہوا کہ اسے غیر کے لئے ذبح کیا گیا ہے۔


تیسری دلیل : تفسیر نیشا پوری کی ایک عبارت ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کسی مسلمان نے کوئی جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے غیر ﷲ کا تقرب (بطور عبادت) مقصود ہو تو وہ مرتد ہو گیا اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ ہے۔


اس عبارت میں بھی غیرﷲ کے تقرب کی نیت سے ذبح کا ذکر ہے، ثابت ہوا کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ محض کسی ﷲ تعالیٰ کے بندے کی نسبت کے مشہور کردینے کو حرمت کا سبب قرار نہیں دیتے بلکہ ان کے نزدیک غیرﷲ کے لئے ذبح کرنے سے جانور حرام ہوتا ہے اور یہی تمام امت مسلمہ کا عقیدہ ہے۔


حضرت شاہ صاحب نے ’’اُھل‘‘ کا ترجمہ اگرچہ اصل لغت کے اعتبار سے یہ کیا کہ آواز دی گئی ہو اور شہرت دی گئی ہو، لیکن اس سے ان کی مراد وہی شہرت ہے جس پر ذبح واقع ہو، چنانچہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سورۂ بقرہ میں ’’وما اھل بہٖ لغیرﷲ‘‘میں ’’بہٖ‘‘ لغیر ﷲ سے پہلے ہے، جب کہ سوۂ مائدہ، سورہ ٔانعام اور سورہ ٔ نحل میں ’’لغیرﷲ‘‘ پہلے ہے اور ’’بہٖ‘‘ موخر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’بائ‘‘ فعل کو متعدی کرنے کے لئے ہے اور اصل یہ ہے کہ باء فعل کے ساتھ متصل ہو اور دوسرے متعلقات سے پہلے ہو، اس جگہ تو باء اپنے اصل کے مطابق لائی گئی ہے، دوسری جگہوں میں اس چیز کو پہلے لایا گیا ہے، جو جائے انکار ہے۔ ’’پس ذبح بقصد غیر ﷲ مقدم آمدہ‘‘ترجمہ ۔ لہذا غیرﷲ کے ارادے سے ذبح کرنے کا ذکر پہلے آیا ہے۔(محدّث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز،تفسیر عزیزی: دہلی ،لال کنواں ، س ن ، ص ص۶۱۱)


اب اگر ’’اھل‘‘ سے مراد ذبح نہیں ہے تو یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا کہ سورۂ بقرہ کے علاوہ باقی سورتوں میں غیرﷲ کے ارادے سے ذبح کرنے کا ذکر پہلے ہے حالانکہ باقی سورتوں میں بھی ذبح کا ذکر نہیںہے بلکہ ’’اُھِلَ‘‘ ہی کا ذکر ہے، ثابت ہوا کہ خود شاہ صاحب کے نزدیک لغیرﷲ کا مرادی معنی غیرﷲ کے لئے ذبح کرنا ہی ہے۔


مزید تائید کے لئے شاہ صاحب کی ایک اور تحریر ملاحظہ ہو، سوال یہ ہے کہ حضرت سید احمد کبیر کے لئے نذر مانی ہوئی گائے حلال ہے یا حرام؟۔ اس کے جواب میں شاہ صاحب فرماتے ہیں ! ’’ذبیحہ کی حلّت اور حرمت کا دارومدار ذبح کرنے والے کی نیت پر ہے اگر تقرب الی ﷲ کی نیت سے یا اپنے کھانے کے لئے یا تجارت اور دوسرے جائز کاموں کے لئے ذبح کرے تو حلال ہے ورنہ حرام‘‘۔ (شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی [ج۱] :دہلی ، مطبع مجتبائی ، ۱۳۲۲ھ، ص۲۱،چشتی)


غور فرمائیں کہ حضرت سید احمد کبیر کے لئے نذر مانی ہوئی گائے کو انہوں نے حرام نہیں کہا، اگر محض تشہیر اور نذر لغیرﷲ موجب حرمت ہوتی تو صاف کہہ دیتے کہ حرام ہے، یوں نہ کہتے کہ ذبح کرنے والے کی نیت اور قصد پر دارومدار ہے۔شاہ صاحب اس جواب میں آگے چل کر فرماتے ہیں!’’یعنی ان کی نیت تقرب الیٰ غیرﷲ وقت ذبح تک دائم و مستمر رہتی ہے‘‘۔(شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی [ج۱] :دہلی ، مطبع مجتبائی ، ۱۳۲۲ھ، ص۲۴)


ثابت ہوا کہ صرف نیت تعظیم لغیرﷲ موجب حرمت نہیں، جب تک کہ وہ نیت وقت ذبح تک دائم وباقی رہے۔


اس مسئلہ میں یہی شاہ صاحب اسی فتاویٰ عزیزی میں فرماتے ہیں!’’جب خون بہانا تقرب الیٰ غیرﷲ کے لئے ہو تو ذبیحہ حرام ہو جائے گا، اور جب خون بہانا ﷲ کے لئے ہو اور تقرب الیٰ غیر کھانے اور نفع حاصل کرنے کے ساتھ مقصود ہو تو ذبیحہ حلال ہوجائے گا‘‘۔(شاہ عبدالعزیز، فتاویٰ عزیزی [ج۱] :دہلی ، مطبع مجتبائی ، ۱۳۲۲ھ، ص۴۷،چشتی)


دیکھئے حلت وحرمت ذبیحہ میں کتنا روشن فیصلہ ہے، اس کے باوجود بھی اگر یہ کہا جائے کہ شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمتہ ﷲ علیہ محض تشہیر لغیرﷲ کو جانور کے حرام ہونے کی علّت قرار دیتے ہیں، تو ایسا کہنا یقیناً شاہ صاحب پر افتراء عظیم ہوگا، ان کے نزدیک آیۂ کریمہ’’وما اھل بہ لغیرﷲ‘‘ کے مرادی معنی قطعاً یہی ہیں کہ جس جانور پر’’عندالذ بح اہلال لغیر ﷲ‘‘ کیا جائے۔


آخر میں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ ﷲ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اولیاء کے لئے کوئی جانور نذر مانے ، ان سے کہا جائے کہ اس جانور کی بجائے گوشت لے کر اپنی نذر پوری کردو، اگر وہ راضی ہو جائیں تو وہ اپنے اس قول میں سچے ہیں کہ ہماری نیت غیرﷲ کے لئے خون بہانے کی نہ تھی، ورنہ سمجھ لینا چاہئیے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کی نیت یہی ہے غیر ﷲ کی تعظیم کے لئے خون بہایا جائے، شاہ صاحب رحمتہ ﷲ علیہ کے اس فرمان کے مطابق اس زمانے میں بھی اسی معیار پر جواز و عدم جواز کا حکم لگانا چاہئیے۔


اس شبہ کا ازالہ یہی ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمتہ ﷲ علیہ کا مقرر کردہ معیار مذکور ان لوگوں کے حق میں تو درست ہوسکتا ہے جو قبور کی عبادت کرتے تھے اور خودحضرت شاہ صاحب رحمتہ ﷲ علیہ نے انہیں گروہ مشرکین میں شمار کیا ہے، جیسا کہ اس سے قبل تفسیر عزیزی جلد اول صفحہ ۱۲۷ کی عبارت ہم نقل کرچکے ہیں ،لیکن مسلمانوں کے حق میں یہ معیار کسی طرح درست نہیں ہوسکتا، نہ ہی حضرت شاہ صاحب رحمتہ ﷲ علیہ نے مومنین کے لئے یہ معیار بیان فرمایا ہے، اس لئے مومن از روئے قرآن شریف اس بات پر ایمان رکھتا ہیکہ’’لن تنالو البر حتیٰ تنفقون مما تحبون‘‘(تم ہر گز نیکی نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز ﷲ کی راہ میں خرچ نہ کرو) اور ظاہر ہے کہ پالے ہوئے جانور سے جو محبت ہوتی ہے، وہ خریدے ہوئے جانور یا گوشت سے نہیں ہوسکتی، اس لئے جو نیکی اور ثواب پالے ہوئے جانوروں کو ذبح کرکے ایصال ثواب کرنے سے حاصل ہوگا ، وہ اس کے علاوہ دوسری چیز سے نہیں ہوسکتا۔


علاوہ ازیں اس میں شک نہیں کہ ہر ذبیحہ خواہ وہ اپنے کھانے کے لئے ذبح کیا جائے یا بیچنے کے لئے یا قربانی کے لئے اس کے حلال اور پاک ہونے کی شرط یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ کا نام لے کر اس کا خون خالص ﷲ تعالیٰ کی تعظیم کے لئے بہایا جائے اور ظاہر کہ ﷲ کا ذکر اور اس کی تعظیم کے لئے جو کام کیا جائے وہ نیکی اور اطاعت ہے، لہذا ہر وہ فعل (جس سے تعظیم خداوندی مقصود ہو) نیکی قرار پائے گا، اور ہر مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی نیکی کا ثواب کسی مسلمان کو بخش دے، لہذا صرف گوشت میں محض گوشت کا ثواب اس بزرگ کی روح کو پہنچے گا اور جانور ذبح کرنے میںگوشت کے علاوہ فعلِ ذبح کا جو ثواب ذابح کو ملا وہ بھی اس بزرگ کی روح کو پہنچ سکتا ہے۔


پس اگر ان وجوہات کی بنا پر کوئی مسلمان جانور کے عوض گوشت لینے پر راضی نہ ہو، تو اس سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ یہ مامن معاذﷲ ولی کی تعظیم و تقرب کے لئے جانور کا خون بہانے کی نیت رکھتا ہے، نیت فعل قلب ہے، جب باطن کا حال ہمیں معلوم نہیں تو ہم کس طرح مسلمان پر معصیت کا حکم لگا دیں، مومن کے حق میں بد گمانی کرنا حرام ہے‘‘ ۔


یہ خلاصہ ہے حضرت غزالئی زماں استاذی المکرّم علامہ سید احمد سعید کاظمی امروہوی محدّث ملتانی قدس سرہٗ (متوفی۱۹۸۶ئ) کی تحقیق کا ، یاد رہے کہ یہ گفتگو اس وقت ہے جب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ عبارت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی ہے اور اگر اس عبارت کو الحاقی قرار دیا جائے جیسے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ ﷲ علیہ کے شاگرد حضرت شاہ رئوف احمد رافت نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ نے فرمایا ، تو پھر اس گفتگو کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔


حضرت شاہ رؤف احمد رافتؔ نقشبندی مجددی رحمۃ ﷲ علیہ ۱۴؍محرم ۱۲۰۱ھ/ ۱۷۸۶ء کو رام پور(یوپی۔بھارت) میں پیدا ہوئے،حدیث کی سند مولانا شاہ سراج احمد مجددی علیہ الرحمہ(متوفی ۱۲۳۰ھ/ ۱۸۱۵ئ) سے حاصل کی، بعض اعمال واوراد کی اجازت حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی سے حاصل کی، خرقہ خلافت شاہ غلام علی دہلوی نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ سے پایا، اُردو میں قرآن مجید کی تفسیر رئوفی لکھی، جس کا آغاز ۱۲۳۹ھ میں ہوا اور ۱۲۴۸ھ میں اختتام ہوا، حج کے لئے گئے تو یلملم(میقات) کے قریب ۱۲۴۹ھ/ ۴ ۱۸۳ء میں وصال ہوا، آپ شاہ ابو سعید مجددی دہلوی علیہ الرحمہ (متوفی ۱۲۵۰ھ) کے خالہ زاد بھائی تھے اور حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی قدس سرہٗ کی اولاد میں سے تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور، از حافظ احمد علی شوق(متوفی ۱۹۳۳ئ)، مطبوعہ خدا بخش اورینٹل لائبریری، پٹنہ ، بھارت۱۹۸۶ئ، ص۱۴۳۔ اُردو نثر کے ارتقاء میں علماء کا حصہ، از ڈاکٹر محمد ایوب قادری، مطبوعہ ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور ۱۹۸۸ئ، ص۴۴۵،چشتی)


آپ نے تفسیر عزیزی کی اس عبارت کو الحاقی قرار دیا، لکھتے ہیں : ’’ جاننا چاہئیے کہ تفسیر فتح العزیز میں کسی عدو نے الحاق کردیا ہے اور یوں لکھا کہ اگر کسی بکری کو غیر کے نام سے منسوب کیا ہو تو بسم ﷲ ﷲ اکبر کہہ کر ذبح کرنے سے وہ حلال نہیں ہوتی اور غیر کے نام کی تاثیر اس میں ایسی ہو گئی کہ ﷲ کے نام کا اثر ذبح کے وقت حلال کرنے کے واسطے بالکل نہیں ہوتا، سو یہ بات کسی نے ملادی ہے۔


خود مولانا ومرشدنا حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کبھی ایسا سب مفسرین کے خلاف نہ لکھیں گے اور ان کے مرشد اور استاد اور والد حضرت مولانا شاہ ولی ﷲ صاحب نے فوذ الکبیر فی اصول التفسیر میں مَا اُھِلَّ کا معنی مَاذ ُبِحَ لکھا ہے، یعنی ذبح کرتے وقت جس جانور پر بت کا نام لیوے سو حرام اور مردار کے جیسا ہے اور بسم ﷲ ، ﷲ اکبر کہہ کر ذبح کیا سو کیونکر حرام ہوتا ہے۔


بعضے نادان تو حضرت نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے مولد شریف کی نیاز، حضرت پیرانِ پیر کی نیاز اور ہر ایک شہداء اولیاء کی نیاز فاتحہ کے کھانے کو بھی حرام کہتے ہیں اور یہ آیت دلیل لاتے ہیں کہ غیر خدا کا نام جس پر لیا گیا سو حرام ہے، واہ واہ کیا عقل ہے ایسا کہتے ہیں اور پھر جاکر نیاز فاتحہ کا کھانا بھی کھاتے ہیں ‘‘۔ (شاہ رؤف احمد، تفسیر رئوفی، مطبوعہ بمبئی ۱۳۰۵ھ، جلد۱، ص۱۳۹)


شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی کی تالیفات میں تحریفات بعض لوگوں نے آپ کی زندگی ہی میں آپ کی کتابوں میں تحریف کردی تھی، چنانچہ شاہ ولی ﷲ دہلوی خاندان پر تحقیق میں سند کا درجہ رکھنے والے مشہور اہل علم ، محقق ، حکیم محمود احمد برکاتی لکھتے ہیں! ’’شاہ عبدالعزیز نے ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ کی تالیف ۱۲۰۴ھ/۱۷۹۰ء میں مکمل کی اور اس کی اشاعت ۱۲۱۵ھ/ ۱۷۹۹ء میں کلکتہ سے ہوئی تھی اور اس فوراً بعد تحفہ کی عبارات میں تحریف کے سلسلے کا آغاز ہوگیا، ایک معتقد نے لکھنؤ سے ایک ایسی محرفہ اور خلاف عقیدہ اہل سنت عبارت’’تحفہ‘‘ کے ایک نسخہ میں دیکھ کر شاہ صاحب کی خدمت میں عریضہ لکھ کر خلش دور کرنے کی درخواست کی تو شاہ صاحب نے جواب میں تحریر فرمایا کہ!’’وتعریضات درباب معاویہ رضی ﷲ عنہ ازیں فقیر واقع نشدہ اگر نسخہ از تحفہ اثنا عشریہ یافتہ شد الحاق کسے خواہد بود کہ بنا بر فتنہ انگیزی وکید ومکر کہ بنا مذہب ایشاں یعنی گروہ رفضہ از قدیم برہمیں امور است ایں کار کردہ باشد چنانچہ بسمع فقیر رسیدہ کہ الحاق شروع کردہ اند ﷲ خیر حافظا وایں تعریضات در نسخ معتبرہ التبتہ یافتہ نخواہد شد‘‘۔(برکاتی ،حکیم محمود احمد، شاہ ولی ﷲ اور ان کا خاندان:لاہور، مجلس اشاعت اسلام ،۱۹۷۶ئ، ص۵۷ بحوالہفضائل صحابہ واہل بیت مع مقدمہ پروفیسر محمد ایوب قادری طبع لاہور،چشتی)


ترجمہ ۔ اور حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ پر چوٹیں میں نے نہیں کیں، اگر تحفہ اثنا عشریہ کے کسی نسخے میں ایسی عبارتیں ہیں تو وہ کسی نے اپنی طرف سے بڑھا دی ہوں گی، کیونکہ روافض کے مذہب کے مذہب کی بنیاد ہی شروع ہی سے فتنہ انگیزی اور مکرو قید پر ہے، یہ کام بھی انہوں نے کیا ہوگا، چنانچہ میں نے سنا ہے کہ تحفہ میں بھی انہوں نے الحاق شروع کردیا ہے۔


قاری عبدالرحمن پانی پتی(متوفی ۱۳۱۴ھ/ ۱۸۹۶ئ) شاگرد رشید شاہ محمد اسحاق دہلوی(متوفی۱۲۶۲ھ/ ۱۸۴۵ئ) اپنی کتاب ’’کشف الحجاب‘‘ میں لکھتے ہیں !’’اور ایسا ہی ایک اور جعل( غیر مقلدین) کرتے ہیں کہ سوال کسی مسئلہ کا بنا کر اور اس کا جواب موافق اپنے مطلب کے لکھ کر علمائے سابقین کے نام سے چھپواتے ہیں، چنانچہ بعض مسئلے مولانا شاہ عبدالعزیز کے نام سے اور بعض مسئلے مولوی حیدر علی کے نام سے علی ہذا القیاس چھپواتے ہیں ‘‘۔ (پانی پتی ،قاری عبدالرحمن، کشف الحجاب: لکھنؤ ،۱۲۹۸ھ، ص۹ ، چند سال ہوئے اس رسالہ کو مرکزی جماعت القراء پاکستان، کراچی نے حکیم محمود احمد برکاتی کی تقدیم کے ساتھ شائع کردیا ہے)


علامہ ابوالحسن زید فاروقی دہلوی (متوفی۱۹۹۳ئ) کتاب ’’القول الجلی‘‘ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں ! ’’ افسوس مولوی اسماعیل کے پیروان اس کام میں بہت بڑھ گئے ہیں، حضرت شاہ ولی ﷲ، حضرت شاہ عبدالعزیز کی تحریرات ومکتوبات، حضرت شاہ عبدالقادر کا ترجمہ قرآن اور ان کی کتابیں، حضرت مجدد الف ثانی، ان کی اولاد، حضرت شاہ غلام علی، حضرت شاہ علم ﷲ رائے بریلوی اور دیگر اکابرین کے احوال میں بہت سی تحریفات کرکے محمد بن عبدالوہاب نجدی اور مولوی اسماعیل کا ہمنوا سب کو قرار دیا، ﷲ تعالیٰ اس کتاب’’القول الجلی‘‘ کو ان لوگوں سے محفوظ رکھے اور یہ کتاب بلا کسی تصرف کے چھپے‘‘۔(فاروقی ،شاہ ابوالحسن زید، مقدمہ القول الجلی: دہلی ، شاہ ابوالخیر اکادمی ،۱۹۸۶ئ،ص۵۵۲ )


شاہ ولی ﷲ دہلوی کے خاندان کے ایک فرد اور ان کی تصانیف کے مشہور ناشر ظہیر الدین سید احمد ولی اللّٰہی ، نبیسۂ شاہ رفیع الدین دہلوی ، جنہوں نے شاہ ولی ﷲ دہلوی کی تصانیف کی بڑی تعداد طبع وشائع کرکے وقف عام کی ہے، انہوں نے سب سے پہلے اس کی طرف توجہ دلائی، چنانچہ وہ شاہ ولی ﷲ صاحب کی ایک کتاب’’تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیائ‘‘ کے آخر میں لکھتے ہیں !’’بعد حمدوصلوٰۃ کے بندہ محمد ظہیر الدین عرف سید احمد اوّل گذارشکرتا ہے بیچ خدمت شائقین تصانیف حضرت شاہ ولی ﷲ صاحب ومولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی رحمتہ ﷲ علیہ وغیرہ کا آجکل بعض لوگوں نے بعض تصانیف کو اس خاندان کی طرف منسوب کردیا ہے اور درحقیقت وہ تصانیف اس خاندان میں سے کسی کی نہیں، اور بعض لوگوں نے جو ان کی تصانیف میں اپنے عقیدے کے خلاف بات پائی تو اس پر حاشیہ جڑا اور موقعہ پایا تو عبارت کو تغیّر وتبدیل کردیا، تو میرے اس کہنے سے یہ عرض ہے کہ جو اب تصانیف ان کی چھپیں، اچھی طرح اطمینان کرلیا جائے جب خریدنی چاہیں‘‘۔ (قادری ، محمد ایوب، شاہ ولی ﷲ کی منسوب تصانیف: مشمولہ : الرحیم (ماہنامہ) : حیدرآباد ، شمارہ ،جون ۱۹۶۴ئ، ص۲۰۔بحوالہ ’’تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیائ‘‘ از شاہ ولی ﷲ دہلوی، مطبوعہ مطبع احمدی، کلاں محل متعلق مدرسہ عزیزی دہلی، باہتمام ظہیر الدین ولی اللَّہی،سن طباعت ندارد)


مشہور محقق حکیم محمود احمد برکاتی صاحب لکھتے ہیں! ’’مولوی سید احمد ولی اللّٰہی شاہ عبدالعزیز کے ملفوظات مطبوعہ میرٹھ کو جعلی بتایا ہے۔(انفاس العارفین مطبوعہ مطبع احمدی دہلی، صفحہ آخر) ہماری ناقص رائے میں مولوی سید احمد کی یہ رائے کلیتہً تو صحیح نہیں ہے، ملفوظات شاہ صاحب کے ہی ہیں، مگر ان میں الحاق ضرور ہوا ہے اور بعض فحش اشعار اور فحش واقعات درج کردئیے گئے ہیں‘‘۔ (برکاتی ،حکیم محمود احمد، شاہ ولی ﷲ دہلوی اور ان کا خاندان : لاہور،مرکز اشاعت اسلام،۱۹۷۶ئ، ص۵۷)


اہل سنت ، اولیاء کرام و بزرگانِ دین کے ساتھ محبت وعقیدت رکھتے ہیں، مگر انہیں اِلٰہ نہیں مانتے، کسی قسم کا استقلالِ ذاتی ان کے لئے ثابت نہیں کرتے، نہ انہیں مستحق عبادت جانتے ہیںاور نہ واجب الوجود، محض عباد ﷲ الصالحین سمجھتے ہیں اور جو جانور یا حصہ زراعت یا کوئی چیز از قسم نقد و جنس وغیرہ ان کے لئے مقرر کرتے ہیں، اس کو ان کا ہدیہ جانتے ہیں اور وصال یافتہ بزرگوں کے لئے ایصال ثواب کی نیت کرتے ہیں، اسی قصد ونیت کے ساتھ اگر وہ کسی جانور یا غیر جانور کو بزرگان دین کی طرف منسوب کرکے ان کے نام پر اسے مشہور بھی کردیں، تب بھی جائز ہے اور وہ چیز حلال اور طیّب ہے، اسے ما اھل بہٖ لغیرﷲ کے تحت لا کر حرام قرار دینا باطل محض اور گناہِ عظیم ہے۔


عہدِ رسالت میں صحابہ کرام، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں کھجوروں کے درخت اور دُودھ پینے کے جانور پیش کرتے تھے، جن کا ذکر احادیث صحیحہ میں مفصل موجود ہے، اسی طرح بعد از وفات بھی ایصال ثواب کے طور پر کسی چیز کا مقرر کرنا عہد رسالت میں پایا گیا ہے۔ ’’عَنْ سَعْد بن عَبَادَۃ اَنَّہٗ قَالَ یَا رَسُوْ لَ ﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِنَّ اُمِّ سَعْدِِ مَاتَتْ فَاَیُّ الْصَّدَقَۃِ افضلُ قَالَ الْمَائُ فَحفَرَا بَئرًاوَقَالَ ھٰذِہٖ لِاُمِّ سَعْد‘‘ ۔


حضرت سعدبن عبادہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمِ سعد (سعد کا ماں) کا انتقال ہوگیا ، پس اُن کے لئے کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پانی، پس سعد نے کنواں کھدوایا ، اورکہا یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے ۔ (سنن ابودائود، کتاب الزکوٰۃ ، ج۱، ص۲۳۶۔ مشکوٰۃ، ص۱۶۹،چشتی)


اگر کسی وصال یافتہ بزرگ کے لئے کسی چیز کا نامزد کرنا موجب حرمت قرار دیا جائے تو معاذ ﷲ وہ کنواں جو اُم سعد رضی ﷲ عنہا کے نام سے مشہور ہوا، وہ حرام اور اس کا پانی نجس قرار پائے گا۔


اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جس صدقے کا ثواب کسی فوت شدہ کو پہنچانا مقصود ہو تو اس صدقہ کو اس شخصیت سے منسوب کرنا جائز ہے اور اہل علم پر یہ بات روشن ہے کہ اس نسبت سے مراد نسبتِ عبادت نہیں بلکہ ایصال ثواب کے حوالے سے نسبت کی جاتی ہے، حضرت سعد رضی ﷲ عنہ نے جو کنواں کھوایا اور لوگوں کے لئے بطور صدقہ وقف کیا تو یہ عبادت ﷲ کے لئے ہے اور اس کا ثواب ان کی والدہ کے لئے ہے۔


مولوی ثناء ﷲ امرتسری غیر مقلد کے فتاویٰ ثنائیہ میں بھی حدیث کے الفاظ’’ھذہ لام سعد‘‘ کا معنی یہی کیا گیا ہے کہ ’’ کنویں کا ثواب سعد کی ماں کے لئے‘‘۔ (فتاویٰ ثنائیہ، جلد اوّل،مطبوعہ ادارہ ترجمان السنۃ ،۷؍ ایبک روڈ لاہور، ص۱۰۸)


ایصال ثواب کی چیز پر لفظ نذرو نیاز کا اطلاقبزرگوں کے نام پر جو جانور وغیرہ مشہور کئے جاتے ہیں اگر ان جانوروں پر اولیاء ﷲ کے لئے نذر شرعی مانی جائے جو حقیقتاً عبادت ہے تو ناذر یعنی نذر دینے والامرتد ہے، لیکن اس کے اس شرک کی وجہ سے وہ جانور حرام نہیں ہوگاجب تک کہ وہ اسے بقصد تقرب لغیرﷲ ذبح نہ کرے، اور اگر اولیاء کی نذر محض نذر لغوی یا عرفی بمعنی ہدیہ ، تحفہ اور نذرانہ ہویا وصال یافتہ بزرگ کے لئے بقصد ایصال ثواب کوئی جانور وغیرہ نامزد کردیا اور نذر شرعی ﷲ تعالیٰ کے لئے ہو تو یہ فعل شرعاً جائز اور باعثِ خیروبرکت ہے۔


نذر لغیرﷲ کا مدار ناذر کی نیت پر ہے، اگر ناذر نے تقرب لغیرﷲ کا قصد کیا اور متصرف فی الامور ﷲ تعالیٰ کی بجائے کسی مخلوق کو مانا تو یہ نذر کفروشرک ہے، اور اگر اس کا ارادہ تقرب الی ﷲ ہے اور بزرگان دین کو ثواب پہنچانا مقصود ہے تو ایسی نذر اولیاء کے لئے قطعاً جائز ہے اور اس کا نذر ہونا مجازاً ہے ، کیونکہ نذر حقیقی ﷲ کے لئے خاص ہے۔


جو لوگ نذر اولیاء کو شرک قرار دیتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ اس نذر سے مراد نذر شرعی نہیں بلکہ اسے بربنائے عرف نذر کہا جاتا ہے اور اس ایصال ثواب اور ہدیہ کو نذر کہنا شرعاً جائز ہے۔


حضرت شاہ ولی ﷲ محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ کا مسلکحضرت شاہ ولی ﷲ محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ اپنی کتاب’’انفاس العارفین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں : ’’ حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم) رحمۃ ﷲ علیہ قصبہ ڈاسنہ میں مخدوم ﷲ دیا کی زیارت کو گئے، رات کا وقت تھا، اس جگہ فرمایا کہ مخدوم ہماری ضیافت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کچھ کھا کر جانا، حضرت نے توقف فرمایا، یہاں تک کہ آدمیوں کا نشان منقطع ہوگیا، ساتھی اُکتا گئے، اس وقت ایک عورت اپنے سر پر چاول اور شیرینی کا طبق لئے ہوئے آئی اور کہا میں نے نذر مانی تھی کہ جس وقت میرا خاوند آئے گا اس وقت یہ کھانا پکا کر مخدوم ﷲ دیا رحمۃ ﷲ علیہ کے دربار میں بیٹھنے والوں کو پہنچائوں گی ، وہ اسی وقت آیا تو میں نے اپنی نذر پوری کی‘‘۔ (انفاس العارفین(فارسی،چشتی)، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ کچہری روڈ ملتان۱۹۶۳ء ، ص۴۴)


حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا مسلک حضرت سیدنا علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی نذر نیازحضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! ’’ حضرت امیر و ذریت ورا تمام امت بر مثال پیران و مرشدان می پرستند و امور تکوینیہ را بایشاں وابستہ می دانند وفاتحہ ودرود وصدقات ونذر ومنت بنام ایشاں…رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء ﷲ ہمیں معاملہ است‘‘۔


ترجمہ ۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کی اولاد پاک کو تمام افراد امت پیروں اور مرشدوں کی طرح مانتے ہیں، امور تکوینیہ کو ان کے ساتھ وابستہ جانتے ہیں اور فاتحہ درودوصدقات اور نذر نیاز ان کے نام کی ہمیشہ کرتے ہیں جیسا کہ تمام اولیاء کا یہی طریقہ ومعمول ہے‘‘۔ (محدث دہلوی ، شاہ عبدالعزیز، تحفہ اثناء عشریہ : لاہور ، سہیل اکیڈمی ۱۳۹۵ھ/ ۱۹۷۵ئ،ص۲۱۴ )،(مشہور دیوبندی ناشر نور محمد کارخانۂ تجارت کتب کراچی نے تحفہ اثناء عشریہ کا جو اردو ترجمہ شائع کیا ہے اس میں اس عبارت کا ترجمہ غائب کردیا ہے)۔


حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ اپنے فتویٰ میں فرماتے ہیں ! ’’ نذر اولیاء کہ جس کا بغرض حاجت روائی معمول ہے اور اس کا رسم ودستور ہوگیا ہے، اکثر فقہاء نے اس کو جائز نہیں رکھا ہے، بلکہ ان فقہاء نے یہ خیال کیا کہ جس طرح ﷲ تعالیٰ کو قادر مطلق جان کر اس کی نذر مانی جاتی ہے، اسی طرح عوام جہال ارواح کو قادر مطلق مثل خدا سمجھتے ہیں اور ان ارواح کی نذر مانتے ہیں، اس لحاظ سے ان فقہاء نے حکم دیا ہے کہ جو شخص ایسی نذر مانے وہ مرتد ہے، اور یہ کہا کہ اگر نذر بالاستقلال کسی ولی کے واسطے ہو تو باطل ہے۔


اور اگر نذر خدا کے واسطے ہو اور ولی کا ذکر صرف اس خیال سے ہو کہ مثلاً اس ولی کو ثواب رسانی کی جائے گی یا اس ولی کی قبر کے خدام کے مصرف میں اس نذر کا مال آئے گا، تو یہ نذر جائز ہے، اور حقیقت اس نذر کی یہ ہوگی کہ ﷲ تعالیٰ کی راہ میں کھانا کھلا دیا جائے یا مال بطور خیرات وغیرہ کے دیا جائے اور میت کی روح کو ثواب رسانی کی جائے اور یہ امر مسنون ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔


مثلاً صحیحین میں جو حال اُم سعد وغیرہ کا مذکور ہے، اس سے یہ امر ثابت ہوتا ہے اور ایسی نذر لازم ہوجاتی ہے تو حاصل اس نذر کا یہی ہے کہ یہ نیت کی جائے کہ مثلاً کھانا کھلایا جائے گا یا اس قدر خیرات دی جائے گی اور اس کا ثواب فلاں ولی کی روح کو پہنچایا جائے گا، تو ذکر ولی کا صرف اس غرض سے ہوگا کہ یہ متعین ہوجائے کہ ثواب رسانی فلاں ولی کی روح کو کی جائے گی، اور یہ نیت نہ ہو کہ خاص وہ چیز اس ولی کے مصرف میں آئے گی ، اور ایسا بھی لوگ کرلیتے ہیں کہ وہ نذر اس ولی کے متوسلین کے مصرف میں آئے گی، مچلاً اس ولی کے قرابت مند اور اس کی قبر کے خادم اور اس کے مریدین وغیرہ کے مصرف میں وہ مال آئے گا، اور بلا شُبہ نذر ماننے والوں کو مقصود اکثر ایسا ہی ہوتا ہے اور ایسی نذر کے بارہ میں حکم ہے کہ یہ نذر صحیح ہے، اس کو پورا کرنا واجب ہے، اس واسطے کہ شرع میں یہ قربت معتبرہ ہے، البتہ اس ولی کو یہ سمجھے کہ یہ ولی بالاستقلال حل کنندہ مشکلات ہے، یا یہ عقیدہ رکھے کہ اس کی سفارش سے نعوذ باﷲ من ذالک ضرور ﷲ تعالیٰ مجبور ہوکر حاجت روائی فرمائے گا، تو ایسی نذر میں البتہ شرک وفساد لازم ہے، مگر یہ عقیدہ دوسری چیز ہے اور نذر دوسری چیز ہے، یعنی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مطلقاً نذر منع ہوجائے، بلکہ جائز نذر کی جو صورت اوپر مذکور ہوئی ہے اس طور کی نذر بلا شبہ صحیح ہے اور اس کو پورا کرنا واجب ہے‘‘۔ (فتاویٰ عزیزی، مطبوعہ ایچ۔ ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک کراچی، ص۱۶۰)


حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ جو کہ اہلسنت کے امام اور تمام غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے استاذ الاساتذہ اور ان کے نزدیک حجت اور اتھارٹی ہیں، انصاف پسند کے لئے ان کا فتویٰ اور فیصلہ کافی ہے، مگر اُمت میں تفرقہ پیدا کرنے والے شاید ان کے روشن فیصلہ کو بھی نہ مانیں، کیونکہ یہ لوگ خدا پرستی کو چھوڑ کر اپنی انا، ضد اور خواہش پرستی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم توحید پرست ہیں، حالانکہ معاملہ اس کے اُلٹ ہے، جولوگ عقلِ سلیم رکھتے ہیں وہ اس بات کو خوب سمجھتے ہیں، ان لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی صرف پیٹ پرستی اور فرقہ بندی کو قائم رکھنے کے لئے ہے، لیکن صحیح عقیدہ رکھنے والوں کو فرقہ باز ہونے کا الزام دیتے ہیں، آج تو یہ دھاندلی چل جائے گی مگر روزِ محشر تو جواب دہ ہوں گے جس دن کھوٹا کھرا الگ ہوجائے گا، یقیناً وہ انصاف کادن ہے۔


حضرت شاہ رفیع الدین محدّث دہلوی علیہ الرحمہ کا فیصلہ حضرت شاہ رفیع الدین محدّث دہلوی علیہ الرحمہ ایصال ثواب کی چیز پر نذر ونیاز کے اطلاق کے متعلق اپنے رسالہ’’نذورِ بزرگان‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’آنکہ لفظ نذر کہ آنجا مستعمل مے شود نہ بر معنی شرعی است کہ ایجاب غیر واجب است کہ آنچہ پیش بزرگان مے برندنذر ونیاز می گویند‘‘۔ ترجمہ۔ جو نذر کہ اس جگہ مستعمل ہوتی ہے وہ اپنے شرعی معنی پر نہیں بلکہ معنی عرفی پر ہے، اس لئے کہ جو کچھ بزرگوں کی بارگاہ میں لے جاتے ہیں اس کو نذر ونیاز کہتے ہیں ۔ (مجموعہ رسائل تسعہ، مطبوعہ مطبع احمدی دہلی۱۳۱۴ھ، ص۲۱)


اسماعیل دہلوی کا عقیدہ


اسماعیل دھلوی بھی فوت شدگان کے ایصال ثواب کی چیزوں پر نذرونیاز کا اطلاق جائز سمجھتے ہیں ، وہ اپنی مشہور کتاب’’صراط مستقیم‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’پس در خوبی ایں قدر امر از امور مرسومہ فاتحہا واعراس ونذرونیاز اموات شک وشبہ نیست‘‘ترجمہ۔ رسوم میں فاتحہ پڑھنے، عرس کرنے اور فوت شدگان کی نذر ونیاز کرنے کی رسموں کی خوبی میں شک وشبہ نہیں ‘‘۔ (صراط مستقیم(فارسی)، مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ، شیش محل روڈ، لاہور، ص۵۵)


حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کا عقیدہ


مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : ’’جب مثنوی(مولانا روم) ختم ہوگئی، بعد ختم حکم شربت بنانے کا دیا اور ارشاد ہوا کہ اس پر مولانا روم کی نیاز بھی کی جائے گی، گیارہ گیارہ بار سورہ اخلاص پڑھ کر نیاز کی گئی اور شربت بٹنا شروع ہوا، آپ نے فرمایا کہ نیاز کے دو معنی ہیں، ایک عجز وبندگی اور سوائے خدا کے دوسروں کے واسطے نہیں ہے بلکہ ناجائزوشرک ہے، دوسرے خدا کی نذر اور ثواب خدا کے بندوں کوپہنچانا، یہ جائز ہے، لوگ انکار کرتے ہیں، اس میں کیا خرابی ہے‘‘۔ (شمائم امدادیہ(ملفوظات حاجی امدادﷲ مہاجر مکی)، مطبوعہ کتب خانہ شرف الرشید، شاہ کوٹ، ضلع شیخوپورہ(پنجاب۔پاکستان)، ص۶۸،چشتی)


معترضین کو جب یہ حوالے دکھائے جاتے ہیں تو دیکھا گیا ہے کہ بالکل خاموش ہوجاتے ہیں اور چپ سادھ لیتے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے پھنسائے ہوئے بھولے بھالے کم علم اہل سنت کو ان حوالوں کا علم نہ ہوجائے، اگر کوئی شخص یہ حوالے دکھا کر ان سے جواب پوچھے تو کہتے ہیں کہ جناب ان کتابوں کو چھوڑو، قرآن وحدیث کی بات کرو، ان کا یہ جواب صرف وقت ٹالنے کے لئے ہوتا ہے ورنہ حدیث اُم سعد سے تو اہل سنت کا عقیدہ ثابت ہے، جن علماء کے حوالے دئیے گئے ہیں ، کیا یہ قرآن وحدیث کے علم سے جاہل تھے؟ کبھی کہتے ہیں کہ جناب یہ کتابیں اپنی طرف سے جعلی بنا لی گئی ہیں، بے چارے بھولے بھالے لوگ ان کے دجل وفریب اور جھوٹی باتوں سے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ یہ مولوی صاحب ہیں، قاری صاحب ہیں، حافظ صاحب ہیں، مسجد کے خطیب ہیں، نمازی ہیں، حاجی ہیں، یہ کہاں جھوٹ بولتے ہوں گے، لیکن جن کو ﷲ تعالیٰ نے ہدایت نصب کرنی ہو اور ایمان بچانا ہو تو ان کی آنکھیں فوری کُھل جاتی ہیں اور وہ حیران بھی ہوتے ہیںکہ رہبری کے لباس میں رہزن بھی ہیں، حقیقت میں یہ لوگ اپنے پیٹ کی خدمت کررہے ہیں، دین اسلام کی خدمت نہیں کررہے۔


کبھی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ شاہ ولی ﷲ اور ان کے خاندان والوں کے شروع شروع میں یہ عقائد تھے، بعد میں انہوں نے اپنے عقائد درست کر لئے تھے ۔ (مولوی عبد ﷲ روپڑی، عرس اور گیارھویں، مطبوعہ اسلامی اکادمی ، ۱۷؍ الفضل مارکیٹ اُردو بازار لاہور، ص۳۲)


یہ بھی بہت بڑا جھوٹ ہے، شاہ ولی ﷲ محدّث دہلوی علیہ الرحمہ کے عقائد ومعمولات اور ملفوظات پر مشتمل نایاب کتاب’’القول الجلی فی ذکر آثار ولی‘‘ کا مخطوطہ بھارت کے شہر کاکوری ضلع لکھنٔو(یو۔پی) سے دستیاب ہوگیا ہے، اس کے مصنف شاہ محمد عاشق پھلتی علیہ الرحمہ، شاہ ولی ﷲ کے قریبی عزیز اور شاگرد ہیں اور یہ کتاب انہوں نے شاہ ولی ﷲ کی حیات ہی میں لکھ کر ان سے تصدیق کروائی، اس کتاب کاذکر پرانی کتابوں میں آتا رہا، لیکن دستاب نہیں تھی، اب اس کتاب کے مخطوطے کا عکس دہلی سے شائع ہوگیا ہے اور ۱۹۹۷ء میں کاکوری ضلع لکھنٔو سے اس کا اُردو ترجمہ بھی شائع ہوگیا ہے، پاکستان میں اس کا ترجمہ مسلم کتابوی دربار مارکیٹ ، لاہور نے شائع کردیا ہے، اس کتاب کے شائع ہونے سے حضرت شاہ ولی ﷲ کے عقائد کو غلط طور پر متعارف کرانے والوں کے جھوٹ کا بھانڈا عین چوراہے میں پھوٹ گیا ہے۔


آخرت سے بے خوف ان لوگوں نے حضرت شاہ ولی ﷲ اور ان کے خاندان کی کتابوں میں تحریف بھی کردی ہے اور جعلی کتابیں بھی ان کی طرف منسوب کردی ہیں مثلاً’’بلاغ المبین‘‘ اور ’’تحفۃ المواحدین‘‘ جیسی جعلی کتابیں لکھ کر حضرت شاہ ولی ﷲ کی طرف منسوب کردی ہیں، شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی کی کتابوں میں تحریف کی، شاہ عبدالقادر محدّث دہلوی کے ترجمہ میں تحریف کی ہے، لیکن محققین نے ان خیانتوں پردہ چاک کردیا، جس کی تفصیل شاہ ولی ﷲ محدّث دہلوی کی کتاب’’انفاس العارفین‘‘(اُردوترجمہ) ، مطبوعہ المعارف گنج بخش روڈ، لاہور کے مقدمہ اور ’’القول الجلی‘‘ مطبوعہ لاہور کے مقدمہ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

گیارہویں شریف اکابرینِ امت اور منکرین کے اکابرین کی نظر میں : ⏬

محترم قارئینِ کرام : مسلمانوں کا قدیم طریقہ ہے کہ گیارہ تاریخ کو حضرت غوثِ اعظم رضی اللّٰه تعالٰی عنہ کے ایصالِ ثواب کیلئے نیاز و فاتحہ کی جاتی ہے جس کو گیارھویں شریف کہتے ہیں ۔ جس کا مقصد ایصالِ ثواب ہے جبکہ نجدی کے پیروکار اس عمل کو بدعت اور حرام کہتے ہیں ۔ تو آئیے اس عمل کاثبوت ہم اکابرینِ امت اور منکرین کے گھر سے پیش کرتے ہیں ۔

قدوۃُالواصلین ، زبدۃُالعارفین ، سیدی و سندی ، پیرانِ پیر ، غوث اعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی ﷲ عنہ کے عرس کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب ہے جس میں آپ کے حوالے سے ﷲ و رسول اور وِلایت اولیا کا ذِکر کیا جاتا ہے تاکہ ﷲ پاک اِن اولیا کی محبت لوگوں کے دِلوں میں پیدا فرمائے ، آپ کے عِلمی و عَملی کارناموں سے اُمت آگاہ ہو ۔ اس سے ایک طرف ﷲ تعالیٰ اور نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کی محبت سینوں میں پیدا ہوتی ہے بلکہ اولیاء ﷲ سے بھی اُنس پیدا ہوتا ہے ، ﷲ والوں کی صحبت میسر آتی ہے ، روحانیت ، فیض اور ذہنی آسودگی ملتی ہے ، ﷲ تعالیٰ کی محبت اور اس کی عبادت کی ترغیب ملتی ہے ﷲ والوں کی اتباع و اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اورنیکی کی ترویج اور برائی کے مٹانے میں مدد ملتی ہے ۔ کہنے کو یہ ایک شخص کی تقریب ہوتی ہے مگر در حقیقت یہ ﷲ و رسول صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کی بزم ہوتی ہے جہاں ﷲ و رسول صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کا ذکر ہوتا ہے ۔ نذرانوں کی صورت میں کھانے پینے کی اشیا آتی ہیں جو حاضرین ، زائرین ، بھوکے ، مسافر ، بے بسوں کے کام آتی ہیں ۔ دینے والوں کو ثواب اور کھانے والوں کو سیری و سیرابی ملتی ہے ۔ اس صدقے سے زبانوں اور دِلوں سے نکلتی دعاؤں ، تلاوتوں ، اذکار کا ثواب زائرین ، ان کے آباو و امہات ، ان کے اساتذہ ، مشائخ اور تمام مسلمانانِ عالم ، زندہ مومنین اور بالخصوص اہل قبور و مزارات کو پہنچایاجاتا ہے ، ان دعاؤں کو سننے والا ﷲ تعالیٰ ہے اس کی بارگاہ سے یقین ہے کہ یہ پر خلوص دعائیں قبول کرتاہے ، مشکلات حل ہوتی ہے ، خالی جھولیاں بھرتی ہے، خشک ہونٹوں پر تری آتی ہے ، پریشاں دِلوں کو سکون اور بہتی آنکھوں کو خنکی ملتی ہے ، زخمی دِلوں کو مرہم اور دھتکارے ہُووں کو ٹھکانا مِلتا ہے ۔ ذیل میں گیارہویں شریف کے متعلق اہل علم کے تأ ثرات قلمبند کئے جارہے ہیں ۔

محدث اعظم ہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی

حضرت غوث اعظم رضی ﷲعنہ کے روضۂ مبارک پر گیارہویں تاریخ کو بادشاہ وغیرہ شہر کے اکابر جمع ہوتے ، نماز عصر کے بعد مغرب تک قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور حضرت غوث اعظم رضی ﷲعنہ کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے ، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے اِردگرد مریدین اور حلقہ بگوش بیٹھ کر ذِکر بالجہر (باآوازِ بلندذِکر) کرتے ۔ اسی حالت میں بعض پروجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ۔ اس کے بعد طعام شیرینی جو نیاز تیار کی ہوتی ، تقسیم کی جاتی اور نماز عشا پڑھ کر لوگ رُخصت ہوجاتے ۔ (ملفوظات عزیزی فارسی : صفحہ نمبت ۶۲۔چشتی)

شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ

میرے پیرومرشد حضرت شیخ عبدالوہاب متقی مہاجر مکی (علیہ الرحمہ) ۹ ربیع الثانی کو حضرت غوث اعظم رضی ﷲعنہ کا عرس کرتے تھے ۔ بے شک ہمارے ملک میں آج کل گیارہویں تاریخ مشہورہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد و مشائخ (ہندو پاک) میں متعارف ہے ۔ (ماثبت من السنۃ: ص۱۶۷۔چشتی)

حضرت شیخ امان ﷲ پانی پتی علیہ الرحمۃ المتوفی 997ھ ۱۱ربیع الثانی کو حضرت غوث اعظم کا عرس کرتے تھے ۔ (اخبار الاخیار اردو ترجم: ص۴۹۸)

مرزا مظہرجانِ جاناں علیہ الرحمہ

میں نے خواب میں ایک وسیع چبوترہ دیکھا جس میں بہت سے اولیاے کرام حلقہ باندھ کر مراقبے میں ہیں ۔ اور ان کے درمیان حضرت خواجہ بہاوالدین نقشبند دوزانو اور حضرت جنید بغدادی تکیہ لگا کر بیٹھے ہیں ۔ اِستغنیٰ ماسواء ﷲ اور کیفیاتِ فنا آپ میں جلوہ نما ہیں ۔ پھر یہ سب حضرات کھڑے ہوگئے اور چل دیے ، میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے ؟ تو اُن میں سے کسی نے بتایا کہ امیر المومنین حضرت علی المرتضٰی رضی ﷲ عنہ کے استقبال کے لیے جا رہے ہیں ۔ پس حضرت علی المرتضٰی شیر خدا کرم ﷲ وجہہ الکریم تشریف لائے ۔ آپ کے ساتھ ایک گلیم پوش ہیں جو سر اور پاوں سے برہنہ ذولیدہ بال ہیں ۔ حضرت علی المرتضٰی کرم ﷲ وجہہ الکریم ان کے ہاتھ کو نہایت عزت اور عظمت کے ساتھ اپنے مبارک ہاتھ میں لیے ہوئے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ تو جواب ملا کہ یہ خیرالتابعین حضرت اویس قرنی رضی ﷲ تعالی عنہ ہیں پھر ایک حجرہ شریف ظاہر ہوا جو نہایت ہی صاف تھا اور اس پر نور کی بارش ہو رہی تھی ۔ یہ تمام باکمال بزرگ اس میں داخل ہوگئے ، میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو ایک شخص نے کہا آج حضرت غوث الثقلین سید عبدالقادر جیلانی کا عُرس ہے ۔ ہم سب عرس پاک کی تقریب پر تشریف لے گئے ہیں ۔ (کلمات طیبات ، فارسی: صفحہ۷۷،۷۸)

علامہ فیض عالم بن مُلّا جیون صاحب علیہ الرحمہ

عاشورہ کے روز امامین شہیدین سیدنا شباب اہل الجنۃ ابو محمد حسن اور ابو عبد ﷲ حسین رضی ﷲ تعالی عنہما کے لیے کھانا (نیاز) تیار کرتے ہیں ۔ خدا ے تعالیٰ کی بارگاہ میں اس نیاز کا ثواب ان کی روح کو پہنچاتے ہیں اور اِسی قسم سے گیارہویں شریف کا کھانا ہے جو کہ حضرت غوث الثقلین کریم الطرفین قرۃ العین الحسنین محبوب سبحانی قطب ربانی سیدنا و مولانا فردالافراد ابو محمد شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ تعالی عنہ کا عرس مبارک ہے ۔ دیگر مشائخ کا عرس سال کے بعد ہوتا ہے ۔ حضرت غوث پاک رضی ﷲ تعالی عنہ کا عرس مبارک (ہمارے یہاں) ہر ماہ ہوتا ہے ۔ (وجنیر القراط فارسی، ص۸۲،چشتی)

علامہ برخوردار صاحبِ نبراس علیہ الرحمہ

ممالکِ ہندو سندھ وغیرہ میں آپ کاعرس ۱۱ربیع الثانی کو ہوا کرتا ہے ۔ اس میں انواع و اقسام کے طعام و تحائف کہ حاضرین علما و اہل تصوف ، فقرا درویشاں کو پیش کیے جاتے ہیں ۔ وعظ اور بعض نعتیہ نظمیں بھی بیان ہوتی ہیں ۔ اس عرس شریف میں ارواحِ کاملین کا بھی حضور ہوتاہے خصوصاً آپ کے جد امجد حضرت علی المرتضی کرم ﷲ وجہہ الکریم بھی تشریف لاتے ہیں ۔ کما ثبت عند ارباب المکاشفۃ ۔ (سیرت غوث اعظم: ص۲۷۵۔چشتی)

پیر عبدالرحمٰن نے اس (گیارہویں تاریخ) کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پیرانِ پیر حضرت غوث الاعظم ہر گیارہویں کو نبی اکرم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کا عرس کیا کرتے تھے ۔ (کلیات جدولیہ فی احوال اولیاء ﷲ، المعروف بتحفۃ الابرار، بحوالہ تکملہ ذکرالاصفیاء : ص۲۹)

غوث اعظم چونکہ گیارہویں کرتے ہیں لہٰذا بطریق (تسبیح فاطمہ) گیارہویں حضرت پیرانِ پیر مشہور ہوئی ۔ (حاشیہ سیرت غوث الاعظم: ص۲۷۶)

اکابرینِ علمائے دیوبند کے مُرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ

پس بہیئت مروجہ ایصال ثواب (ایصال ثواب کا موجودہ طریقہ ) کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور گیارہویں حضرت غوث پاک (قدس سرہ) کی ، دسویں ، بیسویں ، چہلم ، ششماہی ، سالانہ وغیرہ اور توشہ حضرت شیخ احمد عبدالحق ردولوی (رحمۃ ﷲ تعالی علیہ) کااور سہ منی (تین ماہ کی) حضرت شاہ بو علی قلندری (رحمۃ ﷲ تعالی علیہ) کی و حلواے شب برات اور دیگر طریق ایصالِ ثواب کے اسی (جواز کے) قاعدے پر مبنی ہیں اور مشرب فقیر (حاجی امداد ﷲ) کا اس مسئلے میں یہ ہے کہ فقیر پابند اس ہیئت (طریقہ، انداز) کا نہیں ہے مگر کرنے والوں کاانکار بھی نہیں کرتا ۔ (کلیاتِ امدادیہ : باب فیصلہ ہفت مسئلہ ، ص۸۲، مطبوعہ:دیوبند)،(فیصلہ ہفت مسئلہ، مسئلہ فاتحہ مروجہ، صفحہ 8، ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل کراچی،چشتی)

لو جی گیارھویں کو بدعت کہنے آئے تھے ان کے پیر صاحب نے گیارھویں سمیت پتہ نہیں کیا کیا جائز ثابت کر دیا ۔ ان میں سے بعض ایصالِ ثواب کے ذرائع و نام میں نے بھی پہلے بار سنے ہیں .. تو کیا فرماتے ہیں علماءِ دیوبند کہ گیارھویں کو جائز کہنے والے پر کیا حُکُم ہے اور ایسے کی بیعت کرنا کیسا ؟

مولوی خر م علی بلہوری دیوبندی

حاضری حضرت عباس کی ، صحنک حضرت فاطمہ کی ، گیارھویں عبدالقادر جیلانی کی ، مالیدہ شاہ مدار کا ، سہ منی بوعلی قلندر کی ، تو شہ شاہ عبدا لحق کا ، اگر مَنّت نہیں ہے صرف ان کی روحوں کو ثواب پہنچانا منظور ہے تو درست (جائز) ہے ۔ اس نیت سے ہر گز منع نہیں ۔ (نصیحۃ المسلمین : چند شرکیہ رسمیں ،ص:۴۱)

اسمعٰیل دہلوی امامُ الوہابیہ و دیابنہ

رسوم میں فاتحہ پڑھنے ، عرس کرنے اور فوت شدگان کی نذر و نیاز کرنے کی رسموں کی خوبی میں شک و شبہ نہیں ۔ (صراطِ مستقیم :فارسی، صفحہ:۵۵۔چشتی)
طالب کو چاہیے کہ پہلے وہ با وضو دو زانوں بطور نماز (التحیات) میں بیٹھ کر اس طریقے کے بزرگوں حضرت معین الدین سجزی اور حضرت قطب الدین بختیار کاکی (علیہما الرحمۃ) وغیرہ حضرات کے نام کا فاتحہ پڑھ کر بارگاہِ خداوندی میں ان بزرگوں کے توسط (واسطے) اوروسیلہ سے التجا کرے ۔ (صراطِ مستقیم :فارسی، ص:۵۵۔چشتی)

پس امورِ مروجہ یعنی اموات کے فاتحوں اور عرسوں اور نذر ونیاز سے اس قدر امر کی خوبی میں کچھ شک وشُبہ نہیں ۔ (صراطِ مستقیم، صفحہ 110، مطبوعہ اسلامی اکیڈمی اردو بازار لاھور)

وھابیہ جس کو بدعت کہے ان کا امام اس کو خوبی کہے ..... پس پتہ چلا کہ خوبی والی بدعت بھی ہوتی ہے ... نذرو نیاز کے علاوہ مولوی اسماعیل دھلوی نے بزرگانِ دین اولیاء کے عرس کو بھی خوبی والے کاموں میں شامل کیا ..... جی آلِ نجد جواب دے کہ بدعات کو خوبی والے امور کہنے والے پر کیا حُکُمِ شرعی ہے ؟؟

قطب العالم دیوبند جناب رشیداحمد گنگوہی صاحب

ایصال ثواب کی نیت سے گیارہویں کو توشہ (نیاز) کرنا درست ہے مگر تعیّن یوم و تعیّن طعام کی بدعت اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اگرچہ فاعل اس یقین کو ضروری نہیں جانتا مگر دیگر عوام کو موجبِ ضلالت ہوتا ہے لہٰذا تبدیل یوم و طعام (نیاز) کیا کرے تو پھر کوئی خدشہ نہیں ۔ (فتاویٰ رشیدیہ، کتاب العلم ،صفحہ 171، مطبوعہ عالمی مجلس تحفظِ اسلام کراچی،چشتی)

گنگوھی نے آگے جو لکھا کہ دن اور کھانا مقرر کرنا بدعت ہے تو اس کا جواب ہم انہی کے پیر ومُرشد کی زبانی دیتے ہیں ۔

چنانچہ حضرتِ حاجی امداد الله مہاجر مکی علیہ الرحمہ جنکو اکابرینِ علماء دیوبند اپنا پیر و مُرشد مانتے ہیں وہ گیارھوں دسواں سوئم چالیسوں کا دن مقرر کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ : رہا تعینِ تاریخ (یعنی گیارھویں کی تاریخ مقرر کرنا) یہ بات تجربے سے معلوم ہوتی ہے کہ جو امر کسی خاص وقت میں معمول ہو تو اس وقت وہ (امر کام) یاد آ جاتا ہے اور ضرور ہوتا رہتا ہے اور (دن وتاریخ مقرر) نہیں تو سالہا سال گزر جاتے ہیں کبھی خیال نہیں ہوتا اسی قِسم کی مصلحتیں ہر امر میں ہیں جنکی تفصیل طویل ہے محض بطورِ نمونہ تھوڑا سا بیان گیا گیا (ہے) زہین آدمی غور کر کے سمجھ سکتا ہے ۔ (فیصلہ ہفت مسئلہ، مسئلہ فاتحہ مروجہ، صفحہ 8، ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل کراچی۔چشتی)

جی جس تاریخ کو مقرر کرنا گنگوھی جی بدعت کہہ رہے ہیں اسی تاریخ کو مقرر کرنے کے فوائد و مصلحتیں گنگوھی جی کے پیر صاحب بیان فرما رہے ہیں ... پیر صاحب کا یہ جملہ نہایت ہی قابلِ غور ہے کہ ” کوئی بھی ذہین آدمی غور کر کے سمجھ سکتا ہے“ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گنگوھی جی اور جو دیوبندی تاریخ مقرر کرنے کو بدعت کہتے ہیں وہ بقول پیر صاحب کُند ذہن ونالائق ہیں کیو نکہ اگر ذہین ہوتے تو پیر صاحب کے بقول سمجھ جاتے ۔

حکیمُ الاُمّتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب

بوقت مجلس جب مثنوی مولانا روم ختم ہوگئی ۔ بعد ختم کہ شربت بنانے کا حکم دیا اور ارشاد ہوا کہ اس (شربت) پر مولانا روم کی نیاز بھی کی جائے گی ۔ گیارہ گیارہ بار سورۂ اخلاص پڑھ کر نیاز کی گئی اور شربت بٹنا شروع ہوا ۔ آپ (حاجی امداد ﷲ صاحب نے فرمایا کہ نیاز کے دو معنی ہیں ، ایک عجز و بندگی اور سوائے خدا کے دوسروں کے واسطے نہیں ہے بلکہ ناجائز و شرک ہے ، دوسری خدا کی نذر اور ثواب خدا کے بندوں کو پہنچانا ۔ یہ جائز ہے لوگ انکار کرتے ہیں ، اس میں کیا خرابی ہے ۔ (شمائم امدادیہ ملفوظات حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی ص:۶۸)
ہر شخص کو اختیار ہے کہ (نیک) عمل کا ثواب مردے کو یا زندہ کو کردے ۔ جس طرح مردے کو ثواب پہنچتا ہے اسی طرح زندہ کو بھی ثواب پہنچ جاتا ہے ۔ (التذکیر: ج۳، ص۵)،(امداد المشتاق، صفحہ 86، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور۔چشتی)،(شمائم امدادیہ، صفحہ 68، کتب خانہ اشرف الرشید شاہ کوٹ)

گنگوھی جی اور ان کے ماننے والے یہاں بھی دیکھ لیں کہ نیاز کیلئے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے شربت کا تعین کیا جبکہ گنگوھی جی اس کو بدعت کہہ رہے ہیں تو پھر بتائیں کہ آپ کے پیر صاحب پر کیا فتویٰ لگے گا ؟
اگر مولانا روم کے ایصالِ ثواب کیلئے نیاز جائز ہے تو سیدی غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے ایصالِ ثواب کیلئے بھی نیاز جائز ہے جسکو گیارھویں کا نام دیا گیا ہے ۔

ثناء ﷲ امرتسری غیر مقلد

نذر و نیاز غیرﷲ کے لیے جائز نہیں ہے ۔ نذر ﷲ کی اور ثواب میں دوسرے کو پہنچانا جائز ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ: باب : عقائد ،ج ۱،ص۱۰۸)

گیارھویں بارھویں ایصالِ ثواب کی نیت سے دُرُست ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد 2، صفحہ 71، مطبوعہ مکتبہ اصحاب الحدیث لاھور)

یقین جان لے اے آلِ نجد کہ ہم غوثِ پاک کی گیارھویں اور حضور سیّدِ عالَم علیہ السلام کی بارھویں ایصالِ ثواب کی نیت سے کرتے ہیں ۔ تو تمہارے امام ثناء الله امرتسری کے فتویٰ کی رُو سے یہ جائز و دُرُست ٹھری لہذا اگر اب اس کو بدعت کہو گے تو آپ کے مناظرِ اعظم رگڑے جائیں گے کیونکہ ان کا ایک بدعت کو جائز کہنا لازم آئے گا لہذا تم بھی اپنے امام کے قول کو چُپ چاپ مان لو ۔

غیرمقلدین وھابیہ کا عظیم محدث مولوی وحید الزمان حیدر آبادی لکھتا ہے : ولایجوز الانکار علي امور مختلفة فیھا بین العلماء....کاالفاتحة المرسومة  ۔
یعنی وہ کام جو علماء میں مختلَف فیہ ہوں ان کا انکار جائز نہیں جیسے مروجہ ایصالِ ثواب ۔ (ھدیة المھدی (عربی) الجزُالاول، صفحہ 118، در مطبع میور پریس دھلی ۱۳۲۵ھ)

اگر مجھے خواتین کے پڑھنے کا لحاظ نہ ہوتا تو میں آگے بھی عبارت نقل کرتا اور بتاتا کہ آگے وھابی مولوی نے کیا گُل کھلایا ہے ۔ بے شرمی کی انتہا کر دی ..... لہذا وھابیہ سمجھ گئے ہونگے کہ میرا اشارہ کس طرف ہے کیونکہ ان کے محدث کی جو کتاب ہے تو وھابیہ نے ضرور پڑھی ہو گی ۔ بہر کیف ہماری دلیل ایصالِ ثواب کی تھی سو دے دی ...... اب ذرا اس کو بدعت کہنے والے بتائیں کہ وحید الزماں پر کیا حُکمِ شرعی ہے ؟

غیرمقلدین وھابیہ کے مولوی عبد الجبار غزنوی نے کہا کہ نواب صدیق حسن خان بھوپالوی ایسے محدث تھے جن کو الله اے ہمکلامی کا شرف حاصل تھا ۔ (استادِ پنجاب صفحہ 122 مسلم پبلیکیشنز گوجرانوالہ،چشتی)
اب وھابیہ کے یہی کلیم الله نواب صدیق حسن خان بھوپالوی غوثِ پاک کے ختم کے متعلق لکھتے ہیں کہ : دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورۃ اخلاص گیارہ بار پھر بعد سلام کے یہ درود ایک سو گیارہ بار پڑھے " اللھم صل علي معدن الجود والکرم و علي آله محمد وبارك وسلم " پھر شیرنی پر فاتحہ شیخِ جیلانی رضی اللہ عنہ پڑھ کر تقسیم کر دے “ ۔ (کتاب الدعاء ولدواء، صفحہ 153، نعمانی کتب خانہ حق سٹریٹ اردو بازاد لاھود)

نجدیو : دیکھ لو تمہارا کلیم اللہ ختمِ غوثیہ کا کیا طریقہ بتا رہا ہے ..... کیا یہ طریقہ قرآن و سنت سے ثابت ہے ؟

کیا اس کو بھی بدعتی کہو گے ؟

الحمد للہ فقیر نے کافی شافی دلائل غوثِ پاک علیہ الرحمہ کی گیارھوں کے آَلِ نجد کے جید اکابرین علماء کی کتب سے پیش کر دیئے ہیں اگر اب بھی آلِ نجد میں نہ مانو کی گردان دھرائیں تو ان کو چاہیئے کہ مذکورہ اپنے اکابرین پر بدعتی اور جہنمی ہونے کا فتویٰ صادر کریں یا پھر گیارھویں پہ بھوکنا چھوڑ دیں .......

وہ قصّے اور ہونگے جنہیں سُن کر نیند آتی ہے
تڑپ اُٹھو گے کانپ جاؤ گے سُن کر داستاں اپنی

اللہ تعالیٰ ان کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ﷲ تعالیٰ تا حیات بزرگوں کے دامن سے وابستہ رکھے آمین ۔ ( طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مجدد کی تعریف و ضرورت اہمیت اور مجدد کی شرائط و پہچان

مجدد کی تعریف و ضرورت اہمیت اور مجدد کی شرائط و پہچان محترم قارئینِ کرام : مجدد اپنی مشہوری خود نہیں کرتا بلکہ اہل علم حضرات اس کی علمی خدما...