سب سے زیادہ جھوٹ روافض کی طرف سے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گھڑے گٸے ہیں اس موضوع پر سنیوں کے لبادے چھپے روافض کے ہمنوالہ و ہم پیالہ محققین کب اپنی تحقیقات پیش کرینگے ؟ : ⏬
حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ، حدثنا علي بن الجعد أخبرني أبو يوسف القاضي عن حصين عن الشعبي قال : ما كذب على أحد من هذه الأمة ما كذب على علي ۔
ترجمہ : امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس امت میں کسی ایک پر بھی اتنا جھوٹ نہیں گھڑا گیا جتنا حضرت علی رضی اللہ عنہ پر گھڑا گیا ہے ۔
دوسرا قول : حدثنا عبد الله ، حدثنا علي ، حدثنا شعبة عن أيوب ، قال : كان ابن سيرين يرى أن عامة ما يروون عن علي باطل ۔
ترجمہ : امام ابن سیرین تابعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عومی طور پر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کردہ بیان کیا جاتا ہے وہ سب باطل ہے ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال جلد 2 صفحہ 451 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)
دونوں روایات میں پہلے راوی : امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ صاحب تصانیف ہیں اور ثقہ و صدوق ہیں ۔
دوسرے راوی علی بن الجعد رحمۃ اللہ علیہ ہیں یہ مسند کوفہ کا درجہ رکھتے تھے اور متفہ علیہ ثقہ ہیں ۔ یہ پہلے رافضیت کی طرف مائل تھے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تکفیر تک کرتے تھے لیکن پھر یہ رافضیت سے توبہ کر کے سنی بن گئے تھے ان کی تصانیف اس کی گواہ ہیں جیسا کہ مسند الجعد میں انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شمار کیا ہے ۔ اور مذکورہ روایت کے یہ راوی ہیں یہ بھی دلیل اس پر دال ہے ۔
تیسرے راوی : امام ابی یوسف القاضی رحمۃ اللہ علیہ صاحب ابی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ہیں مجتہد سید المحدثین و فقھاء اور متفقہ علیہ ثقہ ثبت امام ہیں ۔
چوتھے راوی : امام حصین بن عبد الرحمن السلمی رضی اللہ عنہ تابعی ہیں جو متفقہ علیہ ثقہ ہیں ۔
پانچوے راوی امام شعبی رضی اللہ عنہ جو کبیر تابعی ہیں اور 500 صحابہ رضی اللہ عنہم کے شاگرد ہیں اور بڑی شان والے ہیں ۔
جبکہ دوسری روایت کی سند علی بن الجعد کی ایک جیسی ہے ۔
اگلے راوی امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو امیر المومنین فی حدیث اور کسی تعارف کے محتاج نہیں سید الناقدین ہیں ۔ ان سے اگلے راوی امام ایوب السختیانی رضی اللہ عنہ ہیں جو متفہ علیہ مجتہد ثبت امام اور کبیر تابعی ہیں اور بڑی شان والے ہیں ۔ ان سے اگلے راوی امام ابن سیرین ہیں جو رجال کی معرفت رکھنے والے اور سید الفقھاء اور محدثین اور کثیر صحابہ کے شاگرد خاص ہیں ۔
معلوم ہوا یہ اقوال کبیر اماموں کے طریق سے بیان ہوا ہے ۔ جن میں امت کے امامت کا درجہ رکھنے والے راوی ہیں اب اس اصول کے مطابق یہ ثابت ہوا کہ کثیر روایات فضائل میں بیشک مولا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ہیں لیکن سب سے زیادہ جھوٹ اور موضوع روایات بھی مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گھڑی ہوئی ہیں ۔
اعلی حضرت احمد رضا بریلویؓ لکھتے ہیں فتاویٰ رضویہ میں امام خلیلی کا قول کہ مولا علی کی شان میں شیعہ اور روافض نے تین لاکھ روایات گھڑی ہیں ۔ الحَمْدُ ِلله ہم اہل سنت و جماعت حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں مروی روایات مانتے ہیں لیکن ان ائمہ علیہم الرحمہ کے اقوال کو چسپا کر کے ہم فضائل حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی جملہ روایات کو نہیں جھٹلاتے ۔ البتہ موضوع و منکر روایات کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں اور اہلِ علم کو اس پر توجہ کرنی بھی چاہیے کیونکہ سب سے زیادہ جھوٹ بھی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گھڑے گٸے ہیں ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:
Post a Comment