افضلیتِ ابوبکر بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا منکر اہلسنت سے خارج اور بدعتی گمراہ ہے
محترم قارئینِ کرام : مسلمانوں کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور یہی عقیدۂ اجماعی صحابہ کرام تابعین عظام رضی اللہ عنہم اور امت کے اسلاف علیہم الرحمہ کا ہے ۔ تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد تمام مخلوق میں افضل حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، پھرحضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور یہی عقیدہ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کا ہے اور اس عقیدے پر بکثرت احادیث نبویہ ، آثارِ صحابہ و اقوال ائمہ ، بلکہ خود حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمان موجود ہے اور جمہور اہلسنت کے نزدیک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ جو شخص مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضرات شیخین کریمین صدیق اکبر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے ، وہ شخص اہلسنت سے خارج ہے ۔
افضلیت ابوبکر صدیق کے متعلق آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کا اجماعی فیصلہ : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ابوبکر سے بہتر کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ اس کے بعد حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے روایت میں غلط بیانی کی ہو تو مجھے شفاعت نصیب نہ ہو اور میں تو قیامت کے دین صدیق کی شفاعت کا طلب گار رہونگا ۔ اسی کے ساتھ دوسری روایت ہے کہ ساری امت سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (الریاض النضرہ جلد اول صفحہ 136 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)(الریاض النضرہ مترجم اردو جلد اوّل صفحہ 267 ، 268 مطبوعہ مکتبہ نورِ حسینیہ لاہور)
امام ابومحمد عبد بن حمید رحمۃ اللہ علیہ متوفی 249 ھجری لکھتے ہیں : حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انبیاء کرام علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) سے افضل کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ ایک روایت میں ہے کہ انبیاء و رسل علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر سے زیادہ افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا اللہ کی قسم آپ سے افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ (مسند عبد بن حمید جلد 1 حدیث نمبر 212 صفحہ 332 مطبوعہ داراللو لوة مصر)
حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ما طلعت الشمس ولاغربت علی احد بعدالنبیین والمرسلین أفضل من أبی بکر ۔
ترجمہ : کسی بھی ایسے شخص پر آفتاب طلوع و غروب نہیں ہوا ، جو ابوبکر سے افضل ہو سوائے انبیاء و مرسلین کے ۔ (کنزالعمال رقم الحدیث 32620 تا 32623 جلد 11 صفحہ 556 ، 557 مطبوعہ موسسة الرسالة بیرت)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر خیرالناس الاان یکون نبی ۔
ترجمہ : ابوبکر رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے افضل ہیں ، سوائے نبی علیہ السلام کے ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی رقم الحدیث 1412 جلد 6 صفحہ 484 دارالکتب العلمیہ بیروت)
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان روح القدس جبریل اخبرنی ان خیرأمتک بعدک أبوبکر ۔
ترجمہ : بیشک روح القدس جبریل امین علیہ السلام نے مجھے خبردی کہ آپ کے بعد آپ کی امت میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں ۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث 6448 جلد 6 صفحہ 292 مطبوعہ دارالحرمین قاھرہ،چشتی)
انبیائے کرام علیہم الصلاة و والسلام کے بعد لوگوں میں حضرت ابوبکر ، پھر حضرت عمر پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے افضل ہونے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قال کنا نخیر بین الناس فی زمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فنخیر ابا بکر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ۔
ترجمہ : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں آپس میں فضیلت دیتے تھے ، تو ہم سب سے افضل ابو بکر صدیق ، پھر عمر بن خطاب ،پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو فضیلت دیا کرتے تھے ۔ (صحیح البخاری باب فضل ابی بکر بعدالنبی ﷺ حدیث نمبر 3655 صفحہ 596 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوضیح)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ : کنا نقول و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حی افضل ھذہ الامة بعد نبیھا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ ابوبکر و عمر و عثمان و فیسمع ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاینکرہ ۔
ترجمہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعداس امت میں حضرت ابوبکر ، پھر حضرت عمر ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین افضل ہیں، پس یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتے اور آپ انکار نہ فرماتے ۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث 13132 جلد 10 صفحہ 3228 مطبوعہ موسسة الریان ناشرون،چشتی)
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہما کا بیان ہے : قلت لابی ای الناس خیر بعدالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ قال : ابوبکرقلت ثم من ؟ قال : عمر ۔
ترجمہ : میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں ۔ میں نے کہا پھر کون افضل ہیں ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ افضل ہیں ۔ (صحیح البخاری باب فضل ابی بکر بعدالنبی ﷺ حدیث نمبر 3671 صفحہ 598 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوضیح)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ۔ (صحیح البخاری جلد 5 صفحہ 4 كِتَابٌ : فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ہم گروہ صحابہ زمانۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ابوبکر ،پھر عمر ، پھر عثمان کے برابر کسی کو نہ گنتے ۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ عزوجل کو نا پسند ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زمین پر خطا کرے ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا مَعْشَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ نَقُولُ : أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ ثُمَّ نَسْكُتُ ۔ (زوائد مسندالحارث صفحہ 289 حدیث نمبر 960 ، 963 مطبوعہ دارالطلائع)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم اصحاب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر و بیشتر کہا کرتے : افضل امت بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر صدیق ہیں ، پھرعمر فاروق رضی اللہ عنہم ۔
السنۃ لابی بکر بن الخلال میں ہے : قَالَ : قُلْتُ لِمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عِنْدَكَ أَفْضَلُ أَوْ عَلِيٌّ ؟ قَالَ : فَارْتَعَدَ حَتَّى سَقَطَتْ عَصَاهُ مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَبْقَى إِلَى زَمَانٍ يَعْدِلُ بَيْنَهُمَا ، إِنَّهُمَا كَانَا رَأْسَ الْإِسْلَامِ ، وَرَأْسَ الْجَمَاعَةِ ۔ (السنۃ لابی بکر بن الخلال جلد 1 تا 3 صفحہ 379 رقم : 529 دارالریۃ ریاض)
ترجمہ : حضرت میمون بن مہران رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : شیخین افضل یا علی رضی اللہ عنہم ؟ ، اس کلمہ کے سنتے ہی ان کے بدن پر لرزہ پڑا ، یہاں تک کہ عصا دست مبارک سے گر گیا ، اور فرمایا : مجھے گمان نہ تھا کہ اس زمانے تک زندہ رہوں گا ، جس میں لوگ لوگ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے برابر کسی کو بتائیں گے ۔
تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد تمام مخلوق میں افضل حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، پھرحضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور یہی عقیدہ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کا ہے اور اس عقیدے پر بکثرت احادیث نبویہ ، آثارِ صحابہ و اقوال ائمہ ، بلکہ خود حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمان موجود ہے ۔ (کتاب السنۃ امام احمد بن حنبل الشیبانی علیہ الرحمہ صفحات 638 تا 648)
ان احادیث و روایات سے ظاہر ہوا کہ : زمانہ صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم میں تفضیلِ شیخین رضی اللہ عنہما پر اجماع تھا ، اور اور اس کے خلاف سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے ۔
بلکہ امام شافعی علیہ الرحمہ اکابر ائمہ نے اس عقیدہ پرصحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم کا اجماع نقل کیا ہے ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : ما اختلف أحد من الصحابة والتابعين في تفضيل أبي بكر وعمر و تقديمها على جميع الصحابة ۔ (مناقب الشافعی للبیہقی صفحہ 434 مطبوعہ دارالتراث القاھرہ) (الاعتقاد والھدایۃ الی سبیل الرشاد صفحہ 369 دارالافاق الجدیدۃ بیروت،چشتی)
ترجمہ : صحابہ کرام اور تابعین میں سے کسی نے بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کے افضل ہونے اور باقی تمام صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے مقدم ہونے کے لحاظ سے اختلاف نہیں کیا ۔
حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ تابعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : افضل النا س بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ثم علی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، پھر عمر بن خطاب ، پھرعثمان بن عفان، پھرعلی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین افضل ہیں ۔ (الفقہ الاکبر مترجم صفحہ نمبر 78 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)
امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں : الافضل بعدالانبیاء علیھم الصلوة والسلام ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ وقداطبق السلف علی انہ افضل الامة ۔ حکی الشافعی وغیرہ اجماع الصحابة والتابعین علی ذلک ۔
ترجمہ : انبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افضل ہیں اور سلف نے ان کے افضل الامت ہونے پر اتفاق کیا ۔ امام شافعی وغیرہ نے اس مسئلہ پر صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہ کا اجماع نقل کیا ۔ (ارشاد الساری باب فضل ابی بکر بعدالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلد 8 صفحہ 147 دارالکتب العلمیہ بیروت)
امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وتفضیل أبی بکر و عمر رضی اللہ عنہما متفق علیہ بین اھل السنۃ ، وھذا الترتیب بین عثمان و علی رضی اللہ عنھما ھو ما علیہ أکثر أھل السنة .... والصحیح ما علیہ جمھور أھل السنة ۔
ترجمہ : امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا افضل ہونا اہلسنت کے درمیان متفق ہے اور یہی ترتیب (حضرت عثمان حضرت علی سے افضل ہیں) عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے درمیان ہے ۔ اس مؤقف کے مطابق جس پر جمہور اہلسنت ہیں اور صحیح وہی ہے ، جس پر جمہور اہلسنت ہیں ۔ جان لو تمام روافض اور بعض معتزلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتے ہیں ۔ (شرح فقہ اکبر صفحہ 187 مطبوعہ دارالبشائر الاسلامیہ بیرت بنان)
امام ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینے والے شخص کے بدعتی ہونے کے بارے میں خلاصۃ الفتاوی ، فتح القدیر ، بحرالرائق ، مجمع الانہر ، الاشباہ والنظائر ، ردالمحتار اور غنیۃ المستملی میں ہے : واللفظ لردالمحتار : ان الرافضی اذا کان یسب اشیخین و یلعنہما فھو کافر ، ان کان یفضل علی علیھما فھو مبتدع ، رافضی ، حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر لعن و سب کرتے ہیں پس وہ کافر ہیں ۔ اور اگر کوئی شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے وہ بدعتی ہے ۔ (ردالمحتار مع درمختار جلد 6 صفحہ 377 مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض،چشتی)
عامہ کتب اصول میں اس مسئلہ پر صراحتاً اجماع منقول ہے ، یا کم از کم بلا ذکرِ خلاف اسے مذہب اہل سنت قرار دیا گیا ہے ۔
شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں : اتفق اهل السنة على أن افضلهم ابو بكر، ثم عمر ۔ (شرح صحیح مسلم للنووی جلد 15 صفحہ 148 کتاب فضائل الصحابہ مطبوعہ المطبعة المصریہ بالازھر)
ترجمہ : اہل سنت کا اتفاق ہے کہ افضل صحابہ ابوبکر ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہم ۔
امام ابو منصور بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم میں سے افضل ہیں حضرت ابوبکر صدیق ، پھر حضرت عمر ، پھر عثمان ، پھر علی رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (اصول الدین لابی منصور صفحہ 318 مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت لبنان)
امام ابو منصور بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أصحابنا مجمعون على أن أفضلهم ، الخلفاء الاربعة على الترتيب المذكور ۔ (اصول الدین لابی منصور صفحہ 331 مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت لبنان،چشتی)
ترجمہ : ہمارے اصحاب اجماع کیے ہوئے ہیں کہ افضل صحابہ خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم ہیں ترتیبِ مذکور پر ۔
شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أجمع أهل السنة على أن أفضلهم على الاطلاق أبو بكر ، ثم عمر ۔ (تہذیب الاسماء واللغات للنووی جلد 1 صفحہ 81 فصل فی حقیقۃ الصحابی مطبوعہ دارلفیحاء دمشق)
ترجمہ : اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ مطلقاً سب صحابہ سے افضل ابوبکر ہیں ، پھر عمر رضی اللہ عنہم ۔
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ثم ان أفضلهم علی الاطلاق عند أهل السنة إجماعا أبو بكر ، ثم عمر ۔ (المواہب اللدنیۃ جلد 2 صفحہ 545 الفصل الثالث ذکر محبۃ أصحابہ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
ترجمہ : اہل سنت کے نزدیک مطلقاً بالاجماع افضل الصحابہ ابو بکر ہیں ، پھر عمر رضی اللہ عنہم ۔
مفتی حرم امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : تمام امت کے نزدیک اس امت میں سب سے افضل ابوبکر صدیق اور ان کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں رافضی شیعوں کا عقیدہ باطل ہے ۔ امام مالک علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہیں ، تو آپ نے جواب دیا کہ ابوبکر صدیق اور ان کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہما ۔ پھر ارشاد فرمایا : کیا اس بارے میں کوئی شک ہے ؟ ۔ (الصواعق المحرقۃ صفحہ 179 مطبوعہ مکتبہ فیاض لتجارہ والتوزیع،چشتی)
امام سعد الدین مسعود بن عمر التفتازانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 791 ھجری لکھتے ہیں : : أفضل البشر بعد نبينا ، أبو بكر الصديق ، ثم عمر الفاروق ۔ (شرح العقائد للنسفی صفحہ 137 مبحث أفضل البشر بعد نبینا ابو بکر مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان)
ترجمہ : ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کے بعد افضل بشر حضرت ابوبکر صدیق ، پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں ۔
حضرت شیخ محقق علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : افضلیت خلفاء اربعہ بترتیبِ خلافت ہے سب افضل ابوبکر ہیں ، پھر عمر ہیں ، پھر عثمان ہیں ، پھر علی رضی اللہ عنہم ۔ جمہور ائمہ علیہم الرحمہ اس باب (افضلیتِ صدیق رضی اللہ عنہ) میں اجماع نقل کرتے ہیں ۔ (تکمیل الایمان صفحہ 145 ، 148 باب فضل الصحابہ مطبوعہ الرحیم اکیڈمی لیاقت آباد کراچی)
امام احمد رضا خان قادری ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اہل سنت و جماعت نصرہم اللہ تعالی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکۃ و رسل وانبیائے بشر صلوات اللہ تعالی و تسلیماتہ علیہم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم تمام مخلوقِ الہٰی سے افضل ہیں ، تمام امم اولین و آخرین میں کوئی شخص ان کی بزرگی و عظمت وعزت و وجاہت و قبول و کرامت و قرب و ولایت کو نہیں پہنچتا ۔ (وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ ۔ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ) ، فضل اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا فرمائے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم ، پھر عثمان غنی ، پھر مولی علی صلی اللہ تعالی علی سیدھم ، و مولا ھم وآلہ و علیھم و بارک وسلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد 28 صفحہ 478 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (حضرت صدیق و عمر کی افضلیت پر) جب اجماعِ قطعی ہوا تو اس کے مفاد یعنی تفضیلِ شیخین کی قطعیت میں کیا کلام رہا ؟ ہمارا اور ہمارے مشائخِ طریقت و شریعت کا یہی مذہب ہے ۔ (مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین صفحہ 81)
مسئلہ افضلیت باب عقائد سے ہے : ⏬
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بالجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز بابِ فضائل سے نہیں جس میں ضعاف (ضعیف حدیثیں) سُن سکیں بلکہ مواقف و شرح مواقف میں تو تصریح کی کہ بابِ عقائد سے ہے اور اس میں اٰحاد صحاح (صحیح لیکن خبرِ واحد روایتیں) بھی نامسموع ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 581 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
حضرت صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : بعد انبیا و مرسلین ، تمام مخلوقاتِ الٰہی انس و جن و مَلک سے افضل صدیق اکبر ہیں ، پھر عمر فاروقِ اعظم ، پھر عثمان غنی ، پھر مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (بہار شریعت جلد 1 صفحہ 241 امامت کا بیان مکتبۃ المدینہ)
افضلیت حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شیعہ کتب کی روشنی میں : ⏬
شیعہ حضرات کی کتب سے شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہما سے ان کو افضل کہنے والوں کے لئے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے اور حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے فرمایا ۔ اصل عبارت درج کی جاتی ہے ۔ شیعوں کا محققِ اعظم لکھتا ہے : انہ رای علیا (علیہ السلام) علی منبر بالکوفۃ وہو یقول لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر لا جلدنہ حد المفتری ،،،، وحب ابی بکر و عمر ایمان و بغضہما کفر ۔ ترجمہ : انہوں نے حضرت علی کو کوفہ کے منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو مجھے ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ، حضرت ابو بکر عمر (رضی اللہ عنہما) کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 283 مطبوعہ بیروت لبنان،چشتی)
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ۔ ابوبکر کو سب لوگوں سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز کے ساتھی اور ثانی اثنین ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ظاہری میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا ۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی حدید شیعی، جلد اول صفحہ 332)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ۔ ان خیر ہذہ الامۃ بعد نبیہا ابوبکر و عمر یعنی اس امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر و عمر ہیں ۔ (کتاب الشافی جلد دوم صفحہ 428)
حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر و عمر کے بارے میں فرمایا ۔ انہما اماما الہدی و شیخا الاسلام والمقتدی بہما بعد رسول ﷲ ومن اقتدی بہما عصم یعنی یہ حضرت ابوبکر و عمر دونوں ہدایت کے امام اور شیخ الاسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مقتدیٰ ہیں اور جس نے ان کی پیروی کی، وہ برائی سے بچ گیا ۔ (تلخیص الشافی للطوسی، جلد 2 صفحہ 428،چشتی)
حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ان ابابکر منی بمنزلۃ السمع وان عمر منی بمنزلۃ البصر یعنی بے شک ابوبکر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میرے کان اور عمر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میری آنکھ ۔ (عیون اخبار الرضا لابن بابویہ قمی جلد اول صفحہ 313)(معانی الاخبار قمی صفحہ 110 ، تفسیر حسن عسکری)
حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ کے منبر پر ارشاد فرمایا ۔ لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حد المفتری یعنی اگر ایسا شخص میرے پاس لایا گیاتو جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتا ہوگا تو میں اس پر مفتری کی حد جاری کروں گا ۔ (رجال کشی ترجمہ رقم 257)(معجم الخونی صفحہ 153)
ان تمام تصریحات سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی افضلیت پر صحابہ کرام ، تابعین عظام رضی اللہ عنہم اور اکابر علما علیہم الرحمہ کا اجماع ہے ۔ اب اس اجماعی عقیدہ کا جو انکار کرے وہ ضرور گمراہ و بد مذہب ہوگا ، بلکہ قریب ہے کہ اس کے ایمان میں خطرہ ہو ۔ شرح قصیدہ بدء الامالی میں ہے : من أنکر یوشک أن فی ایمانہ خطرا ۔ (شرح بدء الامالی تحت شعر : 34) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)























































No comments:
Post a Comment