Sunday, 29 September 2019

صحابہ رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں اور صحابۂ کرام کے حقوق

صحابہ رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں اور صحابۂ کرام کے حقوق

محترم قارئینِ کرام : ارشاد باری باری تعالیٰ ہے : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۔
ترجمہ : اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ ۔ (البقرة:2 - آيت:143 )

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ
وسط سے مراد عدل ہے (یعنی متوازن اور افراط و تفریط کے درمیانی راہ چلنے والی امت) ۔ (صحیح بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء)

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی یہ ثابت ہوا کہ یہ امتِ محمدیہ ، امتِ عادلہ ہے ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حوالے سے جو بھی روایات بیان کی ہیں ، اہلِ علم نے ان تمام روایات کو کھنگالا اور پرکھا تو ایک بھی صحابی ایسا نہ ملا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ بولا ہو ۔
حتیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آخری دَور میں جب قدریہ ، نسلِ ابنِ سباء رافضی شیعہ ، ناصبی و خوارج جیسے فرقوں کی بدعات کا دَور شروع ہوا تو کوئی ایک صحابی رضی اللہ عنہ بھی ایسا نہ ملا جو ان اقوام میں شامل ہوا ہو اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت کے لیے ان کا انتخاب فرمایا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رفاقتِ مبارکہ کے لیئے اللہ تعالیٰ کی پسند تھے ۔

جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ ، فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ ، يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ ، فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا ، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ، وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا ، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو ان میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دل کو سب سے بہتر پایا ، اس لیے انہیں اپنے لیے چُن لیا اور انہیں منصبِ رسالت عطا کیا ، اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے دلوں کو سب سے بہتر پایا ، اس لیے انہیں اپنے نبی کے وزراء کا منصب عطا کر دیا جو اس کے دین کا دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ (مسند احمد ، جلد اول،چشتی)

اس بات کا بھی ذکر بہت ضروری ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت سے ان کا معصوم ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اگرچہ اہل سنت و جماعت اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عدالت کے قائل ہیں لیکن ہم انہیں معصوم نہیں سمجھتے کیونکہ وہ پھر بھی بشر ہیں ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بشر ہونے کے ناطے سے غلطی بھی کرتے ہیں اور درستی بھی ، اگرچہ ان کی خطائیں ان کی نیکیوں کے سمندر میں غرق ہو چکی ہیں ۔ (رضی اللہ عنہم)

امام ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وإن كان الصحابة رضى الله عنهم قد كفينا البحث عن أحوالهم لإجماع أهل الحق من المسلمين وهم أهل السنة والجماعة على أنهم كلهم عدول ۔ ترجمہ : مسلمانوں کے اہلِ حق گروہ یعنی اہل سنت و جماعت نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل تھے ۔ (مقدمہ الاستیعاب،چشتی)

امام عراقی ، امام جوینی ، امام ابن صلاح ، امام ابن کثیر نے بھی اس بات پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں ۔

امام ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لله تعالى لهم المطلع على بواطنهم الى تعديل أحد من الخلق له فهو على هذه الصفة الا ان يثبت على أحد ارتكاب ما لا يحتمل الا قصد المعصية والخروج من باب التأويل فيحكم بسقوط العدالة وقد برأهم الله من ذلك ورفع اقدارهم عنه على انه لو لم يرد من الله عز وجل ورسوله فيهم شيء مما ذكرناه لاوجبت الحال التي كانوا عليها من الهجرة والجهاد والنصرة وبذل المهج والاموال وقتل الآباء والاولاد والمناصحة في الدين وقوة الإيمان واليقين القطع على عدالتهم والاعتقاد لنزاهتهم وانهم أفضل من جميع المعدلين والمزكين الذين يجيؤن من بعدهم ابد الآبدين ۔
ترجمہ : اگر اللہ عز و جل اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ان (رضی اللہ عنہم) کے متعلق کوئی چیز بھی ثابت نہ ہوتی تو بھی ، ان کی ہجرت و نصرت ، جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ ، دینِ حق کی خیر خواہی اور اس کی خاطر اپنی اولاد اور ماں باپ سے لڑائی کرنا ، ان کی ایمانی قوت اور یقینِ قطعی جیسی خوبیاں ، اس بات کا اعتقاد رکھنے کے لیے کافی ہیں کہ وہ ہستیاں ، صاف ستھری اور عادل ہیں اور وہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر عادل ہیں جو ابد الاباد تک ان کے بعد آئیں گے ۔ (الكفاية في علم الرواية ، باب ما جاء في تعديل الله ورسوله للصحابة)

سورۃ الفتح کی آیت نمبر 29 میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کئی اوصاف بیان فرمائے ہیں :
1 : وہ کافروں پر سخت ہیں
2 : آپس میں رحم دل ہیں
3 : رکوع و سجود کی حالت میں رہتے ہیں
4 : اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طالب رہتے ہیں
5 : سجدوں کی وجہ سے ان کی پیشانیوں پر ایک نشان نمایاں ہے
6 : ان کے شرف و فضل کے تذکرے پہلی آسمانی کتب میں بھی موجود تھے
7 : ان کی مثال اس کھیتی کے مانند ہے جو پہلے کمزور اور پھر آہستہ آہستہ قوی ہوتی جاتی ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہلے کمزور تھے ، پھر طاقت ور ہو گئے اور ان کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا گیا جس سے کافروں کو چڑ تھی اور وہ غیض و غضب میں مبتلا ہو جاتے تھے ۔

مندرجہ بالا صفات کے حامل اور ایمان اور عملِ صالح کے مجسم صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) سے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے ۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ ، فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ ، يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ ، فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا ، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ، وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا ، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ ” ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو ان میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دل کو سب سے بہتر پایا ، اس لیے انہیں اپنے لیے چُن لیا اور انہیں منصبِ رسالت عطا کیا ، اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے دلوں کو سب سے بہتر پایا ، اس لیے انہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وزراء کا منصب عطا کر دیا جو اس کے دین کا دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ (مسند احمد ، جلد اول)

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ ، أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ ، أَبَّرَهَا قُلُوبًا ، وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا ، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا ، قَوْمٌ اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقْلِ دِينِهِ ، فَتَشَبَّهُوا بِأَخْلاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ فَهُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقِيمِ ۔
ترجمہ : اگر کوئی شخص اقتداء کرنا چاہتا ہو تو وہ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ، وہ امت کے سب سے بہتر لوگ تھے ، وہ سب سے زیادہ پاکیزہ دل والے ، سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی ص کی صحبت کے لیے ، اور آنے والی نسلوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے چُن لیا تھا ، اس لیے تم انہی کے طور طریقوں کو اپناؤ ، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھی تھے اور صراطِ مستقیم پر گامزن تھے ۔ (حلية الأولياء لأبي نعيم)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے حقوق

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تسبوا أصحابي ، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه ۔ (صحيح البخاري : 3673 ، الفضائل / صحيح مسلم : 2541 ، الفضائل )
ترجمہ : حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : میرے صحابہ کی عیب جوئی نہ کرو ، اس لئے کہ اگر تممیں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے تو انکے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ۔

مختصر تشریح : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو اس میں سب سے اچھا دل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دل کو پایا تو انہیں اپنے لئے اور اپنی رسالت کیلئے منتخب کرلیا ، پھر جب نبیوں علیہم السّلام کے دلوں کے بعد اور بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو سب سے بہتر دل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل کو پایا تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وزیر و ساتھی کے طور پر انکا انتخاب کر لیا جو اس کے دین کی بنیاد پر جہاد کئے ہیں تو یہ مسلمان (یعنی صحابہ ) جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ اچھی ہے اور جس چیز کو برا سمجھیں وہ بری ہے ۔ (مسند احمد ، ج : 1 ، ص : 379،چشتی)(شرح السنۃ ، ج : ۱ ص : 214)

صحابی کہتے ہیں اس شخص کو جس نے حالت ایمان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمسے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی پر اس کا انتقال بھی ہوا ہو ، اہل سنت و جماعت کے یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی اہمیت اور ان کے کچھ خاص حقوق ہیں جن کا ادا کرنا ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے ، کیونکہ :

اوّلا : تو وہ لوگ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں ۔

ثانیا : ان کا تعلق دنیا کے سب سے بہتر زمانہ سے ہے ۔

ثالثا : وہ لوگ امت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے درمیان واسطہ ہیں ۔

رابعا : اللہ تبارک و تعالی نے انہیں کے ذریعہ اسلامی فتوحات اور تبلیغ کی ابتدا کی۔

خامسا : وہ لوگ امانت و دیانت اور اچھے خلق کے جس مقام پر فائز تھے کوئی دوسرا وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ (رضوان اللہ عنہم اجمعین)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب “الإصابة في تمييز الصحابة” میں “صحابی” کی تعریفیوں کی ہے : الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم | مؤمنا به ، ومات على الإسلام ۔
ترجمہ : صحابی اسے کہتے ہیں جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی فوت ہوا ۔

پھر درج بالا تعریف کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ مزید کہتے ہیں :
فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ، | ومن روى عنه أو لم يرو ، ومن غزا معه أو لم يغز ، ومن رآه رؤية ولو لم يجالسه ، | ومن لم يره لعارض كالعمى . | ويخرج بقيد الإيمان من لقيه كافرا ولو أسلم بعد ذلك إذا لم يجتمع به مرة أخرى .

اس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کو مانتا تھا ، پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ گئی ۔ خواہ وہ زیادہ عرصہ تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت میں رہا یا کچھ عرصہ کے لیے ، خواہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہو ، خواہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ، خواہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا (بصارت نہ ہونے کے سبب) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا دیدار نہ کر سکا ہو ہر دو صورت میں وہ “صحابئ رسول” شمار ہوگا ۔ اور ایسا شخص “صحابی” متصور نہیں ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 7-8،چشتی)

فضائل اصحاب النبی (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے ضمن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : عن عبد الله بن عمر، قال: من كان مستناً فليسن. ممن قد مات، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوباً، وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم أختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه، فتشبهوا بأخلاقهم وطرائقهم فهم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا على الهدى المستقيم ۔
ترجمہ : اگر کوئی شخص اقتداء کرنا چاہتا ہو تو وہ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ، وہ امت کے سب سے بہتر لوگ تھے ، وہ سب سے زیادہ پاکیزہ دل والے ، سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف کرنے والے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت کے لیے ، اور آنے والی نسلوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے چُن لیا تھا ، اس لیے تم انہی کے طور طریقوں کو اپناؤ ، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھی تھے ، اور صراط مستقیم پر گامزن تھے ۔ (حلية الأولياء لأبي نعيم جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 162)

حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف میں ایک کتاب “الفقہ الاکبر” کو بھی شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کتاب میں آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : نتولاهم جميعا ولا نذكر الصحابة ۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ایک نسخہ میں آخری الفاظ یوں ہیں : ولا نذكر أحداً من اصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم إلالخير ۔
ترجمہ : ہم سب صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے محبت کرتے ہیں اور کسی بھی صحابی کا ذکر بھلائی کے علاوہ نہیں کرتے ۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ اس کی شرح میں مزید لکھتے ہیں :یعنی گو کہ بعض صحابہ سے صورۃ شر صادر ہوا ہے مگر وہ کسی فساد یا عناد کے نتیجہ میں نہ تھا بلکہ اجتہاد کی بنا پر ایسا ہوا اور ان کا شر سے رجوع بہتر انجام کی طرف تھا ، ان سے حسن ظن کا یہی تقاضا ہے ۔ (شرح الفقہ الاکبر صفحہ نمبر 71)

الفقہ الاکبر کے شارح علامہ ابوالمنتہی احمد بن محمد المغنی ساوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اہل سنت و جماعت کا عقیدہیہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی تعظیم و تکریم کی جائے اور ان کی اسی طرح تعریف کی جائے جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کی ہے ۔ (شرح الفقہ الاکبر ، مطبوعہ مجموعۃ الرسائل السبعۃ حیدرآباد دکن – 1948ء،چشتی)

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدہ و عمل کے ترجمان امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب “العقیدہ الطحاویۃ” میں لکھا ہے :
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں ، ان میں سے نہ کسی ایک کی محبت میں افراط کا شکار ہیں اور نہ ہی کسی سے براءت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اور خیر کے علاوہ ان کا ذکر کرتا ہے ہم اس سے بغض رکھتے ہیں اور ہم ان کا ذکر صرف بھلائی سے کرتے ہیں ۔ ان سے محبت دین و ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض کفر و نفاق اور سرکشی ہے ۔ (شرح العقیدہ الطحاویۃ صفحہ نمبر 467)

امام المحدثین و سید الفقہاء حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ (م : 256ھ) نے اپنا عقیدہ بیان کرنے سے پہلے فرمایا ہے کہ : میں نے ایک ہزار سے زائد شیوخ سے ملاقات کی ہے اور ایک ہی بار نہیں بلکہ کئی بار میں نے ان سے ملاقات کی ۔ تمام بلاد اسلامیہ حجاز ، مکہ ، مدینہ ، کوفہ ، بصرہ ، واسط ، بغداد ، شام ، مصر ، جزیرہ میں 46 سال سے زیادہ عرصہ ان سے یکے بعد دیگرے ملتا رہا ہوں ، وہ سب اس عقیدہ پر متفق تھے کہ دین قول و عمل کا نام ہے ، قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں وغیرہ ۔ اور انہی اعتقادی مسائل میں سے ایک یہ بھی کہ :
وما رأيت فيهم أحدا يتناول أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم قالت عائشة أمروا أن يستغفروا لهم ۔ میں نے اپنے ان شیوخ میں سے کسی ایک کو بھی نہیں دیکھا جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہتا ہو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے : لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بخشش کی دعا کریں ۔ امام بخاری نے یہ عقیدہ بیان کرتے ہوئے بلاد اسلامیہ کا ذکر کر کے وہاں کے اپنے بعض مشائخ کا نام بہ نام تذکرہ کیا ہے ۔ (شرح أصول إعتقاد أهل السنة والجماعة – اللالكائى / ص: 173 اور 175 : آن لائن ربط)

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ فتح الباری “ھدی الساری” (ص:479) میں ذکر کیا ہے کہ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ کی تعداد 1080 (ألف وثمانين) ہے ۔ ان تمام کے اسماء کا ذکر یقیناً طویل ہوگا ۔ اس لیے اس ذکر کو نظرانداز کرتے ہوئے عرض ہے کہ ۔۔۔ یہ سب شیوخ کرام اس بات پر متفق تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں ہمیشہ بخشش کی دعا ہی کرنا چاہئے اور انہیں برا کہنے یا ان کی عزت و عصمت کو داغدار کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

بھارت اس وقت دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کے قبضے میں ہے

بھارت اس وقت دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کے قبضے میں ہے

محترم قارئینِ کرام : راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان روابط کے بارے میں ذرہ برابر بھی جو شک تھا تو نریندر مودی نے اسے دور کردیا ہے ۔ اور بھارت اس وقت پوری طرح دہشت گردی اور انتہاء پسند ہندؤوں کے نرغے میں گھر چکا ہے ، اور نچلی سطح سے لے کر حکومتی سطح تک انہی کا طوطی بول رہا ہے ۔ دہشت گرد طاقتیں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے اپنے مذموم انتہاء پسند عزائم کی تکمیل چاہتی ہیں ۔ ان دہشت گردی تنظیموں کی ماں ’’آر ایس ایس‘‘ ہے ۔ یہ تنظیم کیا ہے ؟ اور اس کے ذیلی ادارے اور تنظیمیں کون کون سی ہیں ؟ اور یہ سب کس طرح کام کرتی ہیں ؟ اس بارے میں درج ذیل رپورٹ میں بہت سے حقائق سے پردہ اُٹھایا گیا ہے :

بھارت کے معروف قلمکار اور قانون دان اے جی نورانی نے اپنی کتاب’’ the india menaceto RSSA‘‘ میں آر ایس ایس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے ہیں ۔ انہوں نے یہ بتانے کی سعی کی ہے کہ اس تنظیم کی بنیادی فلاسفی کیا ہے، دنیا بھر میں اس کی کتنی شاخیں ہیں، خصوصاًمسلم ممالک میں اس کے دفتر کیسے کام کرتے ہیں ۔ اور بی جے پی کے اہم فیصلوں میں اس کا کیا رول ہے۔ متعدد تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی کی طاقت کا اصل سرچشمہ اور نکیل ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پاس ہے جو دنیا چند ایک سب سے بڑی خفیہ تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ جس کے مالی و انتظامی معاملات کے بارے میں بہت ہی کم معلومات ابھی تک منظر عام پر آئی ہیں۔ گوکہ آر ایس ایس اپنے آپ کو ایک ثقافتی تنظیم کے طور پر متعارف کرواتی ہے، مگر حال ہی میں اس کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر کہ چونکا دیا کہ ہنگامی صورتحال میں ان کی تنظیم صرف تین دن سے بھی کم وقفہ میں ۲۰ لاکھ سیوم سیکھوں (کارکنوں) کو جمع کر کے میدانِ جنگ میں لا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آر ایس ایس کی تنظیمی صلاحیت اور نظم وضبط فوج سے بدرجہا بہتر ہے۔ اے جی نورانی نے اپنی ۵۰۰ صفحات پر مشتمل ضخیم تصنیف میں بتایا ہے کہ پارٹی لیڈر روز مرہ کے فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتے ہیں۔ مگر اہم فیصلوں کے لیے ان کو آر ایس ایس سے اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بی جے پی میں سب سے طاقتور آرگنائزنگ جنرل سیکرٹری آر ایس ایس کا ہی نمائندہ ہوتا ہے اور اس میں ایک خاص حیثیت کے بعد صرف غیر شادی شدہ کارکنان کو ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے ۔ آر ایس ایس میں شامل ہونے اور پوزیشن حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی اہلیہ جسودھا بین کو شادی کے چند سال بعد ہی چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے آر ایس ایس کی پوری لیڈر شپ غیر شادی شدہ لوگوں پر مشتمل ہے ۔

آر ایس ایس کے سب سے نچلے یونٹ کو شاکھا کہتے ہیں ۔ ایک شہر یا قصبہ میں کئی شاکھائیں ہوسکتی ہیں۔ ہفتہ میں کئی روز دہلی کی پارکوں میں یہ شاکھائیں ڈرل کے ساتھ ساتھ لاٹھی، جوڈو، کراٹے، اور یوگا کی مشق کا اہتمام کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ ورزش کے ساتھ ساتھ یونٹ کا انچارج ذہن سازی کا کام بھی کرتا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ کو سر سنگھ چالک کہتے ہیں اور اس کی مدد کے لیے چار راشٹریہ سبکرواہ یعنی معتمد ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس کے چھ تنظیمی ڈھانچے ہیں۔ جن میں کیندریہ کاریہ منڈل، اکھل بھارتیہ پرتنیدی سبھا، پرانت یا ضلع سنگھ چالک، بر چارک، پرانت یا صلع کاری کاری منڈل اور پرانت پرتیندی سبھا شامل ہیں۔ پرانت پرچارک جو کسی علاقے یا ضلع کا منتظم ہوتا ہے کا غیر شادی شدہ یا خانگی مصروفیات سے آزاد ہونا لازمی ہوتا ہے ۔

بی جے پی کی اعلیٰ لیڈر شپ میں فی الوقت نریندر مودی اور امیت شاہ آر ایس ایس کے کارکنان رہے ہیں۔ اس کے باوجود آر ایس ایس نے اپنے دو سینئر پرانت اچارک رام مادھو اور رام لال کو بی جے پی میں بطور جنرل سیکٹری تعینات کیا ہو ا ہے تاکہ حکومت کے ہر لمحہ کی خبر اس تک پہنچتی رہے۔ نورانی کے بقول اس تنظیم کی فلاسفی ہی فرقہ واریت، جمہوریت مخالف اور فاشزم پر ٹکی ہے۔ ۱۹۵۱ء میں جن سنگھ اور پھر ۱۹۸۰ء میں بی جے پی تشکیل دی۔ بی جے پی پر اس کی گرفت کے حوالے سے نورانی کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی ایما پر اس کے تین نہایت طاقت ور صدور ماؤلی چندراشرما، بلراج مدھوک اور ایل کے ایڈوانی کو برخاست کیا گیا۔ ایڈوانی کا قصور تھا کہ ۲۰۰۵ء میں کراچی میں اس نے بانی پاکستان محمد علی جناح کو ایک عظیم شخصیت قرار دیا تھا ۔

آر ایس ایس کی تقریباً 100 سے زیادہ شاخیں ہیں جو الگ الگ میدانوں میں سر گرم ہیں جیسا کہ سیاسی میدان میں بی جے پی، حفاظت یا سکیورٹی کے لیے دوسرے لفظوں میں غنڈہ گردی کے لیے بجرنگ دل، مزدوروں یا ورکروں کے لیے بھارتیہ مزدور سنگھ، دانشوروں کے لیے وچار منچ، حتیٰ کہ پچھلے کچھ عرصہ سے آر ایس ایس نے مسلمانوں کو اپنے جھانسے میں لانے کے لیے مسلم راشٹریہ منچ اور جماعت علماء نامی دو تنظمیں قائم کیں۔ پچھلے انتخابات کے دوران یہ تنظمیں مقبوضہ کشمیر میں خاصی سر گرم تھیں۔ ان سبھی تنظیموں کے لیے آر ایس ایس کیڈر بنانے کا کام کرتی ہے اور ان کے لیے سکولوں اور کالجوں سے ہی طالب علموں کی مقامی شاکھاؤں کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے۔ اس کی کل شاکھاؤں کی تعداد ۸۴۸۷۷ ہے جو ملک اور بیرون ملک کے مختلف مقامات پر ہندو انتہا پسندی کے لیے کام کر رہی ہے۔ ۲۰ سے ۳۵ سال کی عمر کے تقریباً ۱ لاکھ نوجوانوں نے پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس ہندوستان کے ۸۸ فی صد بلاک میں اپنی شاکھاؤں کے ذریعے رسائی حاصل کر چکا ہے ۔ قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں آر ایس ایس نے ۱۳۴۲۱ تربیت یافتہ سوئم سیوک سنگھ تیار کیے ہیں۔ ہندوستان سے باہر ان کی کل ۳۹ ممالک میں شاکھائیں ہیں ۔ یہ شاکھائیں ہندو سوئم سیوک سنگھ کے نام سے کام کر رہی ہیں۔ ہندوستان سے باہر آر ایس ایس کی سب سے زیادہ شاخیں نیپال میں ہیں۔ اس کے بعد امریکہ میں اس کی شاکھاؤں کی تعداد ۱۴۶ ہے ۔ برطانیہ میں ۸۴ شاکھائیں ہیں ۔ آر ایس ایس کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط حالت میں ہے ۔ کینیا کی شاکھاؤں کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ، یوگانڈا، ماریشش اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے اور وہ ان ممالک پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان کی پانچ شاکھائیں مشرق وسطی کے مسلم ممالک میں بھی ہیں اور وہاں کی شاکھائیں خفیہ طریقے سے گھروں میں مذموم عزائم میں مصروف ہیں۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت اور رام مندر کی تعمیر کے لیے سب سے زیادہ چندہ ان ہی ممالک میں بسنے والے ہندؤں نے بھیجا تھا۔ بیرون ممالک آر ایس ایس کی سرگرمیوں کے انچارج مادھو ہیں، جو اس وقت بی جے پی کے قومی جنرل سیکٹری ہیں ۔ کشمیر امور بھی دیکھتے ہیں ۔ اور وزیر اعظم کے بیرونی دوروں کے دوران بیرون ملک میں مقیم ہندوستانیوں کی تقاریب منعقد کراتے ہیں ۔ آر ایس ایس بنیادی طور پر ایک فرقہ پرست اور اقلیت دشمن تنظیم ہے جس کا مقصد بھارت میں ہندو راشٹر کا قیام ہے، ایسا ہندو راشٹر جس میں اقلیتوں اور نچلی ذاتوں کی حیثیت دوسرے درجے کے شہری کی ہو گی ۔

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ۱۹۲۵ء میں ناگپور میں قائم ہوئی، اس کا بانی کیشورام گیوار تھا۔ برصغیر میں برطانوی عہد میں اس پر پابندی عائد کی گئی تھی اور بھارت میں اس پر تین بار قدغن لگائی جاچکی ہیں۔ بھارت میں دنگے فساد کروانے میں یہ تنظیم سرفہرست ہے۔ ۱۹۲۷ء کا ناگپور فساد اولین اور اہم ترین ہے۔ ۱۹۴۸ء میں اس تنظیم کے ایک رکن نتھورام گوڈسے نے گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ ۱۹۶۹ء میں احمد آبادفساد، ۱۹۷۱ء میں تلشیری فساد اور ۱۹۷۹ء میں بہار کے ضلع جمشید پور کے مسلم کش فسادات میں بھی ملوث تھی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو سنگھ پریوار نے دیگر فرقہ پرست تنظیموں کے ساتھ مل کر بابری مسجد شہید کر دی۔ متعدد تحقیقاتی کمیشنوں نے آر ایس ایس کو گجرات فسادات ۲۰۰۲ء ممبئی فسادات ۱۹۹۲ء بھاگلپور فسادات میں بھی ملوث قرار پایا ۔

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ایک ایسی فرقہ پرست تنظیم ہے جس کے ماتحت بہت سی چھوٹی انتہا پسند تنظیمیں بھی کام کرتی ہیں ۔ سنگھ سے وابستہ رجسٹرڈ تنظیموں کی تعداد چالیس سے اوپر ہے ۔ حالیہ دنوں میں سنگھ پریوار سے منسلک جن نئی جماعتوں کا نام سامنے آیا ہے ان میں دھرم جاگرن بھی ہے یہ جماعت مسلمانوں ، عیسائیوں اور بدھوؤں کو ہندو بنانے کا کام کرتی ہے ۔ اکھل بھارتیہ ، ہندو مہا سبھا قدیم ترین ہندو توا دی تنظیم ہے اس کا باقاعدہ طور پر سنگھ سے الحاق نہیں ہے ۔ مگر نظریاتی طور پر ایک ہیں ۔ نیشنل ہندو مومنٹ کی سر گرمیاں گوا اور مہاراشٹر میں جاری ہیں ۔ راشٹریہ ہندو اندولن مہاراشٹر میں سرگرم ہے ۔ راشٹر وادی سینا، ہندو جن جاگرتی سیمتی، ہندو دھرم سینا اترپردیش میں، ہندو مکل کاچھی تامل ناڈو اور ہندو راشٹر سینا مہاراشٹر اور پونے میں مذموم سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اور اس وقت کی موجودہ مودی حکومت نچلے درجے کے ہندوؤں ، سکھوں ، عیسائیوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں خصوصا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے ۔ دنیا کو اس دھشت گرد ٹولے کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی ۔

آر ایس ایس کی تقریباً 100سے زائد شاخیں ہیں ، جوالگ الگ میدانوں میں سرگرم ہیں۔ جیسا کہ سیاسی میدان میں بی جے پی، حفاظت یا سکیورٹی کے لیے(دوسرے لفظوں میں غنڈہ گردی کے لیے) بجرنگ دل، مزدورں یا ورکروں کے لیےبھارتیہ مزدور سنگھ، دانشوروں کے لیے وچار منچ، غرض کہ سوسائٹی کے ہر طبقہ کی رہنمائی کے لیے کوئی نہ کوئی تنظیم ہے ۔ حتیٰ کہ پچھلے کچھ عرصہ سے آر ایس ایس نے مسلم راشٹریہ منچ اور جماعت علماء نامی دو تنظیمیں قائم کرکے انہیں مسلمانوں میں کام کرنے کے لیے مختص کیا ہے ۔ پچھلے انتخابات کے دوران یہ تنظیمیں کشمیر میں خاصی سرگرم تھیں ۔ ان سبھی تنظیموں کے لیے آر ایس ایس کیڈر بنانے کا کام کرتی ہے ، اور ان کے لئے اسکولوں اور کالجوں سے ہی طالب علموں کی مقامی شاکھاؤں کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے ۔

آج کے دن اس کی کل شاکھاؤں کی تعداد 84877 ہے جو ملک اور بیرون ملک کے مختلف مقامات پر ہندوؤں کو انتہاپسندانہ نظریاتی بنیاد پر جوڑنے کا کام کررہی ہیں ۔ 20 سے 35 سال کی عمر کے تقریباً 1 لاکھ نوجوانوں نے پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس ہندوستان کے 88 فیصد بلاک میں اپنی شاکھاؤں کے ذریعے رسائی حاصل کر چکا ہے ۔ قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک سا ل میں آر ایس ایس نے 113421 تربیت یافتہ سوئم سیوک سنگھ تیار کیے ہیں ۔ ہندوستان سے باہر ان کی کل 39 ممالک میں شاکھائیں ہیں ۔ یہ شاکھائیں ہندو سوئم سیوک سنگھ کے نام سے کام رہی ہیں ۔ ہندوستان سے باہر آر ایس ایس کی سب سے زیادہ شاکھائیں نیپال میں ہیں ۔ اس کے بعد امریکہ میں اس کی شاکھاؤں کی تعداد146 ہے ۔ برطانیہ میں 84 شاکھائیں ہیں ۔ آر ایس ایس کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط حالت میں ہے ۔ کینیا کی شاکھاؤں کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ ‘ یوگانڈا ‘ ماریشش اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے اور وہ ان ممالک کے ہندوؤں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں ۔

دلچسپ بات یہ کہ ان کی پانچ شاکھائیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی ہیں ۔ چوں کہ عرب ممالک میں جماعتی اور گروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے اس لئے وہاں کی شاکھائیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں ۔ بتایا جاتا ہے ، کہ بابری مسجد کی مسماری اور رام مندر کی تعمیر کے لیے سب سے زیادہ چندہ ان ہی ممالک سے آیا تھا ۔ فن لینڈ میں ایک الکٹرانک شاکھا ہے جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے بیس ممالک کے افراد جمع ہوتے ہیں ۔ یہ ممالک وہ ہیں جہاں پر آر ایس ایس کی باضابطہ شاکھا موجود نہیں ہے۔ بیرون ملک آر ایس ایس کی سرگرمیوں کے انچارج رام مادھو ہیں ، جو اس وقت بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری بھی ہیں ۔ کشمیر امور کو بھی دیکھتے ہیں ، او ر وزیر اعظم مودی کے بیرونی دوروں کے دوران بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی تقاریب منعقد کراتے ہیں۔

موجودہ مقبوضہ کشمیر کے حالات میں سکھوں ، مسیحیوں اور آزادی پسند ہندوؤں نے اور کراچی سے خیبر تک ہاکستانی عوام نے ہٹلر کی ناجائز اولاد مودی اور دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں مظالم پر بھارت کے خلاف سراپا احتجاج ہوگئے ، آزاد کشمیر سمیت ملک بھر اور ساری دنیا کے شہروں ، دیہات اور گلی محلوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں ریلیوں اور تقاریب میں کشمیریوں سے بھرپور اظہار یک جہتی کا اظہار کیا گیا ۔ شرکاء نے ہاتھوں میں کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں نعرے درج تھے ، شرکاء نے بازووں پر کالی پٹیاں بھی باندھی ہوئی تھیں ، شرکاء کشمیر بنے گا پاکستان اور ہم لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے لگا تے رہے ۔ پورے پاکستان ، لندن ، امریکہ ، جاپان سمیت دنیا بھر میں ایسے ہی مظاہرے کئے گئے اور کیئے جا رہے ہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

تاریخی و جھوٹی روایات کی پہچان اور معیارِ رد و قبول

تاریخی و جھوٹی روایات کی پہچان اور معیارِ رد و قبول
محترم قارئینِ کرام : دین کی صحیح سمجھ حاصل کرنے اور فکری گمراہی سے بچنے کے لئے تمام مسلمانوں کو کچھ اساسی امور کی تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے ۔ انہی میں سے ایک ضروری علم ، “اصول“ کا بھی ہے جس کے ذریعے سے پتا چلتا ہے کہ ہم تک پہنچنے والی معلومات درست پے یا نہیں ۔ ایک عام مسلمان کو کم از کم علم کی اس شاخ کا بنیادی فھم ضرور ہونا چاہیے ۔ محدثین علیہم الرّحمہ نے اس معاملے میں بہت خدمات انجام دی ہیں اور حدیثیں روایت کرنے والوں کے اوپر مکمل تحقیق کر کے معلوم کیا ہے کہ کس کی بات قابلِ قبول ہے اور کس کی نہیں ۔ اس علم کو علم الرجال کہتے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے حدیث کی سند پر بھی مکمل غور کیا ہے تاکہ صحیح اور ضعیف حدیث کو الگ کیا جا سکے ۔ اس علم کو علم الاسناد کہتے ہیں ۔

تاریخ تو پھر بھی تاریخ ہے محدثین علیہم الرّحمہ نے تویہاں تک لکھا ہے کہ جن احادیث میں بظاہرکسی صحابی رضی اللہ عنہ پراعتراض وارد ہوتا ہے اس کی تاویل کرنا واجب ہے اگرتاویل نہ ہوسکے تووہ روایت قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ کسی حدیث سے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی تنقیص نہیں ہوسکتی ۔ شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وہ احادیث جن میں بظاہرکسی صحابی رضی اللہ عنہ پراعتراض ہوتا ہو اس کی تاویل واجب ہے اوریہ بھی کہا کہ صحیح روایات میں ایسی کوئی بات نہیں جس کی تاویل نہ ہو سکے ۔ (شرح صحیح مسلم شریف جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 278 نووی،چشتی)

اسلاف علیہم الرّحمہ نے یہ تحقیق اور تمیز کا معاملہ صرف حدیث تک ہی نہیں رکھا بلکہ دوسرے علوم کے معاملے میں بھی استعمال کیا (مثلاَ لغات، تاریخ وغیرہ) ۔ حدیث کی کتابوں کی تدوین اور تخریج میں یہ علم مسلمانوں کے لئے مقامِ فخر ہے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحیح حدیثیں ہم تک پہنچانے کا ضریعہ ہے ۔

البتہ تاریخ کی کچھ کتابوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر ضعیف السند معلومات بھی ملتی ہے ۔ لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ تاریخ کی ایسی کتاب چنے کہ جس میں موجود تمام معلومات درست ذرائع سے جمع کی گئی ہو اور تحقیق کے بعد لکھی گئی ہوں ۔ اس سلسلے میں علماَ سے مدد حاصل کرنی چاہیے ۔ (چشتی)

ہمارے لئے یہ باتیں جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج کل کی عیسائی ، ، لبرل ، سبائی اور خارجی مشنریاں ایسی ہی ضعیف معلومات کو اٹھا کر کم علم مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہیں ۔ اس حالت میں سب سے بہتر ردِ عمل ، صحیح علم کی سمجھ حاصل کرنا ہے کہ اس کے ذریعے ہمارا اہنا بھی ایمان مضبوط ہو اور ہم دوسروں کا ایمان مضبوط ہونے کا بھی ذریعہ بنیں ۔

موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کے اختلافات ، انتشار اور فرقوں میں تقسیم کو دیکھتے ہوئے ایک معتدل اور امت کا درد رکھنے والا موٴرخ ضرور تاریخِ اسلامی کی تدوین جدید کی آواز اٹھائے گا ۔ تاریخ کی تدوینِ جدید کے لیے کیا جانے والے مطالعے کے لیے یا جھوٹی روایتوں کی پہچان ، ان کا معیار رد و قبول کے لیے درج ذیل نکات زیادہ مفید موٴثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں :

(1) جو روایت بھی درایت اور عقل کے خلاف ہو ، یا اصولِ شریعت کے مناقض ہو تو جان لیں کہ وہ روایت موضوع ہے اور اس کے راویوں کا کوئی اعتبار نہیں اسی طرح جو روایت حس اور مشاہدہ کے خلاف ہو ، یا قرآن کریم ، سنتِ متواترہ اور اجماعِ قطعی کے مبائن ہو تو وہ روایت بھی قابلِ قبول نہیں ۔

(2) نہایت اعتدال کے ساتھ ان تمام موٴرخین کی کتابوں سے ثقہ اور جھوٹے و کذّاب راویوں کی روایات میں تمیز کی جائے جنہوں نے اپنی کتابوں میں دونوں طرح کی روایات کو جگہ دی ہے ۔

(3) تاریخی روایات کی سند اور متن ہر دو اعتبار سے نقد و تمحیص و تحقیق کے مسلمہ قواعد کی روشنی میں جائزہ لے کر ان پر محتاط و محققانہ کلام کیا جائے ۔

(4) اس بات میں بھی تفریق ضروری ہے کہ موٴلف اور صاحبِ تاریخ خود تو ثقہ ہیں ؛ لیکن اس نے نقل واقعات و روایات میں دروغ گو اور کذّاب راویوں پر اعتماد کیا ہے ، ایسی صورت میں اس موٴرخ کی صرف ثقہ راویوں والی روایات مقبول قرار پائیں گی ، دروغ گو و کذّاب رواة کی روایات مردود سمجھی جائیں گی ۔

(5) اگر صاحبِ تاریخ خود کذّاب و دروغ گو ہو تو پھر اس کی کتاب میں موجود ثقہ لو گوں کی روایات بھی غیر معتبر قراردے دی جائیں گی ۔

(6) اصل ضابطہ تو کذاب راویوں کی روایات کے بارے میں عدمِ قبولیت کا ہے ؛ البتہ اگر ان کی کوئی روایت ، قرآنِ کریم ، سنتِ مبارکہ اور اجماعِ امت کے مخالف نہ ہو تو دیگر ثقہ راویوں کی روایت کی تائید میں قرائن ومرجحات کی موجودگی میں قبول کرنے کی گنجائش ہوگی ۔

(7) دینی امور ، صحابہٴ کرام ، اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم ، ائمہ و سلفِ صالحین علیہم الرّحمہ کے علاوہ دیگر دنیاوی معاملات میں اگر کسی ثقہ راوی کی روایت دستیاب نہ ہو تو بصورت مجبوری دروغ گو راویوں سے منقول روایات نقلِ واقعہ کی غرض سے ذکر کرنے کی گنجائش ہوگی مگر اس سے علمِ یقین حاصل نہ ہو گا۔

(8) تاریخ اور تحقیق کے نام پر محض موٴرخین کی ذکر کردہ روایات سے اخذ کردہ نتائج بھی غیر مقبول شمار ہوں گے ؛ البتہ حقیقی اور مسلمہ اصولوں کے تحت روایت قابل قبول قرار پائے تو اس سے ماخوذ نتائج درست قرار دیے جائیں گے ۔

(9) صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم وائمہ دین علیہم الرّحمہ کی عیب جوئی سے متعلق روایت قابلِ اعتبار نہیں ؛ کیوں کہ روایات وضع کرنے والوں میں بعض لوگ وہ ہیں جنہوں نے حضرات صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور ائمہٴ دین علیہم الرّحمہ کی برائیاں اور عیب بیان کرنے کے لیے ، یا اپنے دیگر مذموم اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے روایات وضع کی ہیں ، ان کا یہ عمل یا تعنت و عناد کی وجہ سے ہے یا تعصب و فساد کی وجہ سے ہے ، پس ان لوگوں کی روایات کا کوئی اعتبار نہیں ؛ جب تک کہ ان کی کوئی سند معتمد نہ پائی جائے ، یا سلفِ صالحین علیہم الرّحمہ میں سے کسی نے اس پر اعتماد نہ کیا ہو ۔ (چشتی)

(10) علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے قاضی عیاض اور علامہ مازری رحمھما اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ہمیں حضراتِ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے اور ہر بری خصلت کی ان سے نفی کا حکم دیا گیا ہے ؛ لہٰذا اگر ان کے بارے میں کسی روایت میں اعتراض پایا جائے اور اس کی صحیح تایل کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس روایت کے راویوں کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں گے ۔(چشتی)
علامہ عبدالعزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اس بارے میں اہلِ سنت کا مذہب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی مناسب تاویل کی جائے اور اگر مناسب تاویل ممکن نہ ہو تو اس روایت کو رد کر کے سکوت اختیار کرنا واجب ہے اور طعن کو بالیقین ترک کرنا ہوگا ؛ اس لیے کہ حق سبحانہ و تعالی نے تمام صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے مغفرت اور جنت کا وعدہ کیا ہے ۔

(11) تاریخ کی بڑی کتابوں کے اردو تراجم میں عام طور پر راوی کا تذکرہ نہیں کیا گیا اس لیے ان راویوں کی روایتوں کو مضمون سے بھی پہچانا جا سکتا ہے ۔ ہر تاریخی روایت جس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف کرپشن ، منافقت ، زبان درازی ، مکاری منسوب کی گئی ہو، وہ ذیادہ تر انہی سبائیوں کی گھڑی ہوئی ہیں ۔ اس لیے ایسی روایت کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کردار مجروح ہو رہا ہو کیونکہ یہ لوگ خود مجروح اور کرپٹ ہیں ۔

(12) اس پورے عمل کے دوران اس بات کا استحضار رہے کہ ہماری تاریخ دروغ گو مکتبہٴ فکر کی اغواکاری کا شکار رہی ہے ، لہٰذا معمولی سی غفلت بھی موجودہ اور آئندہ آنے والی امتِ مسلمہ کی نسلوں میں تشکیک ، تحریف ، تضلیل ، ائمہٴ دین و اسلاف سے بیزاری اور گروہی اختلافات کی آڑ میں ان تاریخی روایات کی بنیاد پرکُشت و خون کی ہولیاں کھیلے جانے کا سبب بن سکتی ہے ۔

روایات کے معیار ردو قبول کا عوام کے لیے ایک بالکل آسان طریقہ : تاریخ کو قبول کرنے کے لیے ہمیں قرآن وحدیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ، اس کی جو روایتیں قرآن وحدیث کی تعلیم کے مطابق ہونگی میں انہیں بڑی محبت سے قبول کریں اور جو روایتیں ، حکایتیں ، رذالتیں ، قباحتیں قرآن وحدیث سے ٹکرائیں گی ہمیں انہیں نہ صرف رد کرنا گا بلکہ اپنے پاؤں میں مسلنا ہوگا ، کیونکہ وہ تاریخ نہیں جھوٹ ہے ، تہمت ہے ، بہتان اور دشنام ہے اور انسانیت سے گری ہوئی باتیں ہیں ، تاریخ کے حوالے دے کر صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبراہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذات گرامی بھی محفوظ نہیں ہے ۔(چشتی)

کیا اس سے بہتر نہیں کہ تاریخ کی اندھی (سبائی و خارجی) عینک سے صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین و اسلاف علیہم الرّحمہ کی عیب چینیوں کی بجائے قرآن وحدیث سے ان کی فضیلتوں اور قدرومنزلت پر نگاہ کی جائے ۔ اگر لوگ قرآن وحدیث کی صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں دی گئی شہادتوں کو پس پشت ڈال کر محض تاریخی روایتوں کے ذریعے ان پر نکتہ چینی جاری رکھتے ہیں تو ایسے نام نہاد 'تاریخ دان' ہمارے نزدیک 'تھوک دان' کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتے ۔ اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ ۔

محترم قارئینِ کرام : تاریخی روایات کی اکثریت غلط اورمنقطع روایت کی ہے تومناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان روایات کوپرکھنے کے اصول بھی لکھ دیے جائیں جن کی روشنی میں ہر روایت کوتنقید کی کسوٹی پر پرکھا جا سکے وہ اصول حسب ذیل ہیں :

(1) ایسی تاریخی روایت معتبر ہوگی جو نص قرآنی کے خلاف نہ ہو ۔

(2) وہ روایت جوسندمتواترہ کے خلاف نہ ہو ۔

(3) وہ روایت جوصحابہ کے اجماع قطعی خلاف نہ ہو ۔

(4) وہ روایت جو مسلمہ اصولوں کے خلاف نہ ہو ۔

(5) وہ روایت جو صحیح اورمقبول حدیث کے خلاف نہ ہو ۔

(6) وہ روایت جو عربی قواعد کے خلاف نہ ہو ۔

(7) وہ روایت ایسی نہ ہوجس میں راوی کسی شخص سے ایسی روایت کرتا ہو جوکسی اورنے نہیں کی اوریہ راوی اس شخص سے نہ ملاہو ۔

(8) روایت ایسی نہ ہوجس کے معنی رقیق یا شا ن نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یا شان صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کے منافی ہو ۔

9) روایت عقل سلیم کے خلاف نہ ہو ۔

(10) روایت میں کوئی ایسامحسوس ومشہورواقعہ بیان ہو کہ اگروقوع میں آتا تواس کوروایت کرنے والے متعدد آدمی ہوتے لیکن اس کے خلاف ایک یا دو راوی ہوں تووہ روایت بھی قبول نہیں ہوگی ۔

یہ دس اصول متن روایت کو پرکھنے کیلئے ہیں باقی سند روایت کے پرکھنے کیلئے حسب ذیل اصول ہیں :

(1) راوی عادل تام الضبط اورثقہ ہو ۔

(3) روایت کتنے طریق سے مروی ہے اورراویوں کی تعداد کتنی ہے ۔

(3) روایت اصل آدمی تک پہنچتی ہے یا درمیان میں ہی رک جاتی ہے اگرروایت اصل آدمی تک پہنچتی ہوگی تومرفوع ہوگی وگرنہ منقطع ہوگی ۔

یہ وہ اصول ہیں جن پرتاریخ کی ہرروایت کے متن اورسند کو پرکھا جاسکتا ہے کہ یہ روایت کس حدتک معتبر ہے ؟ اگران اصولوں کو تاریخی روایات میں اپنایا جائے توغلط اورمنقطع روایات کی کافی حد تک چھان بین ہوسکتی ہے۔ اوراس وقت ایک قاری اورتاریخ کا مطالعہ کرنے والااچھے طریقے سے سمجھ جائے گا کہ غلط روایات کا کس قدرذخیرہ تاریخ کے صفحات میں سمودیا گیا ۔ قرآن وحدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ابنیاء کرام علیہم السّلام کے بعد صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے بعد دنیا کے بہترین انسان اوراللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے ہیں اورقرآن کریم نے تمام صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے بارے میں جنت کا وعدہ فرمایا ہے ۔ وہ فسق وفجور ، جھوٹ ،ظلم ،حسد اورخیانت سے پاک تھے ان کی نیتوں پر شک ہرگز نہیں کیا جاسکتا ، وہ گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتے ۔ وہ اگرچہ معصوم نہیں تھے بشری تقاضوں کی بناپرکبھی کبھار لغزش ہوئی تو ان کی معافی کا اعلان ہوچکا ہے ۔ مقام صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم یہ اللہ تعالیٰ کا خاص مقام ہے جو محنت سے حاصل نہیں ہوسکتا نہ ہی علم وعمل پر موقوف ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے ۔ صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی اس خصوصیت کی وجہ سے امت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ بڑے سے بڑا ولی خواہ وہ غوث ہو، قطب ہویا ابدال ہو یا اس سے بھی بڑے درجے والا ہو ایک ادنی سے صحابی کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا ۔ ان کی عظمت وکردار پرجرح و تنقید کی گنجائش نہیں نکل سکتی واضح رہے کہ صحیح تاریخی روایات صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے بارے بدگمانی کا ساتھ نہیں دیتیں ۔ جن روایات کی بنا پر شکوک وشبہات پیداکیے جاتے ہیں وہ زیادہ ترمن گھڑت ہیں لہٰذا ہرمسلمان کو چاہیے کہ وہ تاریخ کی بڑی کتب کے بجائے قریبی دورکے مستند علمائے اہلِ سنت کی کتب پڑھیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

صحابی کی تعریف ، شرفِ صحابیت اور احترامِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

صحابی کی تعریف ، شرفِ صحابیت اور احترامِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

محترم قارئین : شرفِ صحابیت کا لحاظ لازم ہے خوب یاد رکھیئے صحابیت کا عظیم اعزاز کسی بھی عبادت و ریاضت سے حاصل نہیں ہوسکتا لہٰذا اگر ہمیں کسی مخصوص صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی روایت نہ بھی ملے تب بھی بلاشک و شبہ وہ صحابی محترم و مکرم اورعظمت و فضیلت کے بلند مرتبے پر فائز ہیں کیونکہ کائنات میں مرتبۂ نبوت کے بعد سب سے افضل و اعلیٰ مقام و مرتبہ صحابی ہونا ہے اور اس شرفِ صحابیت میں اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں انہیں اس شرف سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔

صاحبِِ نبراس علّامہ عبدالعزیز پرہاروی چشتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یاد رہے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابَۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کى تعداد سابقہ انبىائے کرام علیہم السّلام کى تعداد کے موافق ( کم و بىش) ایک لاکھ چوبىس ہزار ہے مگر جن کے فضائل مىں احادىث موجود ہىں وہ چند حضرات ہىں اور باقى صحابَۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کى فضىلت مىں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا صحابی ہونا ہی کافی ہے کیونکہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبتِ مبارکہ کی فضیلت عظیمہ کے بارے میں قراٰنِ مجید کی آیات اوراحادیثِ مبارکہ ناطِق ہیں ، پس اگر کسى صحابى کے فضائل مىں احادىث نہ بھی ہوں ىا کم ہوں تو ىہ ان کى فضىلت و عظمت مىں کمى کى دلىل نہىں ہے ۔ (الناھیۃ صفحہ نمبر 38)

صحابی کی تعریف

امام بخاری رحمۃ ﷲ علیہ صحابی کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں : وَمَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم أَوْ رَآهُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ ۔
ترجمہ : مسلمانوں میں سے جس نے بھی نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت اختیار کی ہو یا فقط نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا ہو ، وہ شخص آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا صحابی ہے ۔ (بخاري الصحیح کتاب المناقب باب فضائل أصحاب النبی صلی الله علیه وآله وسلم 3 : 1335 دار ابن کثیر الیمامة، بیروت،چشتی)

خطیب بغدادی اور ابنِ جماعہ علیہما الرّحمہ نے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے صحابی کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے : کُلُّ مَنْ صَحِبَهُ سَنَةً أَوْ شَهْرًا أَوْ یَوْمًا أَوْ سَاعَةً أَوْ رَآهُ، فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ، لَهُ مِنَ الصُّحْبَةُ عَلَی قَدْرِ مَا صَحِبَهُ ۔
ترجمہ : ہر وہ شخص جس نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت اختیار کی ہو ‘ ایک سال یا ایک مہینہ یا ایک دن یا ایک گھڑی یا اُس نے (فقط حالتِ ایمان میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو دیکھا ہو وہ صحابی ہے ۔ اسے اسی قدر شرفِ صحابیت حاصل ہے جس قدر اس نے صحبت اختیار کی (رضی اللہ عنہ) ۔ (خطیب بغدادی، الکفایة في علم الروایة، 1: 51، مدینه منوره، سعودی عرب: المکتبة العلمیة،چشتی)۔(ابن جماعة، المنهل الروی، 1: 111، دمشق شام: دار الفکر)

امام حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ ﷲ علیہ صحابی کی تعریف یوں کی ہے جو بہت جامع ومانع اور اہل علم کے ہاں مقبول اور راجح ہے : وَهُوَ مَنْ لَقِيَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم مُؤمِناً بِهِ، وَمَاتَ عَلَی الْإِسْلَامِ، وَلَوْ تَخَلَّتْ رِدَّةٌ فِي الْأَصَحَّ ۔
ترجمہ : صحابی وہ ہے جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملاقات کی ہو اور وہ اسلام پر ہی فوت ہوا ہو اگرچہ درمیان میں مرتد ہو گیا تھا (مگر وفات سے پہلے مسلمان ہو گیا) ۔

امام حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ ﷲ علیہ مزید لکھتے ہیں : وَالْمُرَادُ بِاللِّقَاءِ: مَا هُوَ أَعمُّ: مِنَ الْمُجَالَسَةِ، وَالْمُمَاشَاةِ، وَ وَصُولِ أَحَدِهِمَا إِلَی الآخَرِ، وَإِنْ لَمْ یُکَالِمْهُ، وَیَدْخُلُ فِیهِ رُؤیَةُ أَحَدِهِمَا الآخَرَ، سَوَاءٌ کَانَ ذَلِکَ بِنَفْسِهِ أَو بِغَیْرِهِ ۔
ترجمہ : لقاء سے مراد (ایسی ملاقات) ہے جو باہم بیٹھنے ، چلنے پھرنے اور دونوں میں سے ایک کے دوسرے تک پہنچنے اگرچہ اس سے مکالمہ بھی نہ کیا ہو، یہ مجلس اس لحاظ سے عام ہے (جس میں صرف کسی مسلمان کا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تک پہنچنا ہی کافی ہے) اور لقاء میں ہی ایک دوسرے کو بنفسہ یا بغیرہ دیکھنا داخل ہے ۔ (نزهَة النظر بشرح نخبة الفکر: 64، قاہرة ، مصر: مکتبة التراث الاسلامي)

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا جس نے حالت ایمان میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کا شرف حاصل کیا اور اس کا خاتمہ بالایمان ہوا تو وہ صحابی کہلاتا ہے ۔

نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد کسی بھی شخص کو حالتِ منام یا بیداری کی حالت میں آپ کے جسمِ حقیقی کی زیارت نہیں ہوئی ۔ جس کو بھی خواب یا بیداری میں زیارت ہوئی ہے اس نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جسمِ مثالی دیکھا ہے ، جسمِ حقیقی نہیں ۔ اس لیے صحابیت کا شرف صرف ان خوش نصیبوں کو ہی حاصل ہے جنہوں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں آپ کی زیارت اور آپ سے ملاقات کی ہے ۔

فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو

حضرت صحابۂ کرام رضي اللہ تعالی عنہم کی زندگی اور ان کا کردار ہمارے لئے مشعل راہ اور نمونہ ہے، اللہ تعالی نے صحابۂ کرام کے ایمان کو معیار اور کسوٹی قرار دیا ،راہ ھدایت پر وہی شخص ہے جس کا ایمان وعقیدہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان وعقیدہ کے موافق رہے ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہدایت کے درخشاں ستارے قرار دیا ارشاد فرمایا : اصحابی کالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم ۔
ترجمہ : میر ے صحابہ ہدایت کے درخشاں ستارے ہیں ،تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پالوگے ۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ نمبر 554)(زجاجۃ المصابیح جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 334)

حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، وَأَبُو الْفَضْلِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَبْعيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ” ، وَقَال : "أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ ” . (الشفا بأحوال المصطفى للقاضي عياض » الْقَسَمَ الثاني : فِيمَا يجب عَلَى الأنام من حقوقه … » الْبَابِ الثالث : فِي تعظيم أمره ووجوب توقيره وبره …، رقم الحديث: 61, الحكم: إسناده حسن،چشتی)
ترجمہ حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میرے بعد ابی بکر و عمر کی پیروی کرنا اور کہا کہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤگے۔
تخریج حدیث قاضی عیاض
اس حدیث کے رجال تمام کے تمام ثقہ ہیں
الْقَاضِي أَبُو عَلِيٍّ الحسين بن محمد الصدفي
ان کے بارے میں امام ذہبی کا کہنا ہے کہ لإمام العلامة الحافظ، برع في الحديث متنا وإسنادا مع حسن امام علامہ الحافظ جن کی حدیث متن و سند کے لحاظ سے حسن ہوتی ہے
أَبُو الْحُسَيْنِ المبارك بن عبد الجبار الطيوري
ان کے بارے میں ابن حجر اور امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ثبت ہیں
وَأَبُو الْفَضْلِ أحمد بن الحسن البغدادي
ان کے بارے میں یحی بن معین السمعانی اور امام ذہبی کہتے ہیں کہ ثقہ حافظ تھے
أَبُو يَعْلَى أحمد بن عبد الواحد البغدادى
خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں حسن تھے
أَبُو عَلِيٍّ السِّنْجِيُّ الحسن بن محمد السنجي
خطیب بغدادی کہتے ہیں یہ بڑے شیخ تھے اور ثقہ تھے
مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ محمد بن أحمد المحبوبی
یہ امام ترمذی کے شاگرد ہیں ان کے بارے میں امام حاکم صاحب مستدرک اور امام ذہبی کا کہنا ہے کہ یہ ثقہ حافظ تھے
لتِّرْمِذِيُّ محمد بن عيسى الترمذی
یہ امام ترمذی ہیں صاحب السنن الترمزی جن کے حفظ ع ثقات میں کوئی شک نہین ہے
الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الواسطی
ان کے بارے میں امام احمد کہتے ہیں کہ ثقہ ہیں سنت کے پیرو ہیں اور ابو حاتم و ابن حجر کہتے ہیں صدوق ہیں
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ
یہ ثقہ و امام ہیں
زائدة بن قدامة الثقفي
ابو حاتم ، امام نسائی ، ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں
عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ
امام ذہبی ، ابو حاتم ، ابن حجر نے اس کی توثیق کی ہے
رَبْعيِّ بْنِ حِرَاشٍ
ابن سعد ، ذہبی ، ابن حجر نے اسے ثقہ کہا ہے
حُذَيْفَةَ رضی اللہ عنہ
یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی عدالت پر شق کرنا ہی نقص ایمان کی نشانی ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم- « اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِى فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِى أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِى وَمَنْ آذَانِى فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ سے ڈرتے رہو ، میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بناؤ ، پس جس کسی نے ان سے محبت کی تو بالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کی بناء پر ان سے بغض رکھاہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہنچائی یقینا اس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقینا اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرمائے ۔ (جامع ترمذی شریف ج 2 ص 225، ابواب المناقب، باب فيمن سب أصحاب النبى - صلى الله عليه وسلم حدیث نمبر:4236،چشتی)

عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - « لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِى ، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ ۔
ترجمہ :حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کو گالی نہ دو تم میں سے اگر کوئي احد پہاڑکے برار سونا خیرات کرے تب بھی وہ صحابہ کے پاؤ سیر جو خیرات کرنے کی برابری نہیں کرسکتا ہے - (صحیح بخاری،کتاب فضائل الصحابة حدیث نمبر:3673)

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظيم وتوقیر کا اللہ تعالی نے حکم فرمایا ہے، صحابۂ کرام نے آپ کے ادب وتعظیم کی ایسی مثالیں پیش کیں کہ جنکی نظیر نہیں ملتی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقۂ تکریم وتعظيم کو دیکھ کر اغیار بھی کہنے لگے : جو قوم اپنے نبی کا اتنا ادب اور تعظیم کرتی ہو اس قوم سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا -

حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ادب وتعظيم کو دیکھا تو اپنی قوم سے کہنے لگے: میں نے دنیا کے بادشاہوں کے دربار دیکھے لیکن کسی بادشاہ کے درباریوں کو اپنے بادشاہ کی اسقدر تعظیم کرتے نہيں دیکھا جس طرح صحابۂ کرام اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہيں ، قسم بخدا آپ جب ناک شریف صاف فرماتے تو وہ مبارک پانی زمین پر پہونچنے سے پہلے صحابہ اپنے ہاتوں میں لے لیتے اور اپنے چہروں اور جسموں پر مل لیتے،جب آپ کلام فرماتے تو وہ اپنی آوازوں کو پست کرلیتے ۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقۂ تکریم کو دیکھ کر دشمن بھی صلح پر آمدہ ہوگئے ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں ہر وقت پیکر ادب بنکر حاضرہوتے اور حددرجہ آپ کی تعظیم کرتے ۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِى عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِى بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّى لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ نَعَمْ . فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلموَالنَّاسُ فِى الصَّلاَةِ ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِى الصَّفِّ ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِى صَلاَتِهِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه يَدَيْهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِى الصَّفِّ ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِى قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّىَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ۔ (صحیح بخاری شریف،کتاب الأذان، باب من دخل ليؤم الناس فجاء الإمام الأول فتأخر الأول أو لم يتأخر جازت صلاته . حدیث نمبر:684) ۔ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ امامت فرما رہے تھے ، پتا چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاچکے ہیں ، فورا پیچھے آگئے ،نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کی اتو عرض گزار ہوئے : ابو قحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہيں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز بھی پڑھ سکے ۔

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِي. فَلَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيْفَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا مت کہو، پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تب بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے سیر بھر یا اس سے آدھے کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (بخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : لو کنت متخذا خليلا، 3 / 1343، الرقم : 3470، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب : (59)، 5 / 695، الرقم : 3861، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في النهي عن سب أصحاب رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، 4 / 214، الرقم : 4658)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لاَ تَسُبُّوْا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ، لَو أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو گالی مت دو، میرے صحابہ گالی مت دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے سیر بھر یا اس سے آدھے کے برابر نہیں پہنچ سکتا ۔ (مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب تحريم سبّ الصحابة، 4 / 1967، الرقم : 2540، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 84، الرقم : 8309، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل أهل بدر، 1 / 57، الرقم : 161،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ ۔
ترجمہ : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سےجو بُرا ( یعنی صحابہ کو بُرا کہتا ) ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے ۔ (ترمذی، باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر ۳۸۶۶)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي ، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ'' ۔
ترجمہ : اللہ سے ڈرو ۔ اللہ سے ڈرو میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں ، ان کو میرے بعد ہدف تنقید نہ بنانا ، پس جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بنا پر ، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی بنا پر ، جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی ، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے ۔ (ترمذی، باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر ۳۶۶۲)

شریعت میں صحابی وہ انسان ہے جو ایمان کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہوا۔(اشعۃ اللمعات،ج 4،ص641)

قرآن و حدیث اور تمام شرعی احکام ہم تک پہنچنے کا واحد ذریعہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی درس گاہ کے صادق و امین اور متقی و پرہیز گار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ، اگر مَعَاذَاللہ ان ہی سے امانت و دیانت اور شرافت و بزرگی کی نفی کر دی جائے تو سارے کا سارا دین بے اعتبار ہو کر رہ جائے گا ، اس لئے اس حدیثِ پاک میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے اپنے صحابہ کی عظمت کو یوں بیان فرمایا کہ ان کی برائی کرنے سے منع فرمایا اور ان کے صدقہ و خیرا ت کی اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبولیت کو بھی ذکر فرمایا چنانچہ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي حدیثِ پاک کے اس حصّے کے تحت فقیہ و محدّث علّامہ ابن الملک رومی حنفی علیہ رحمۃ اللہ علیہ (وفات:854ھ) فرماتے ہیں : اس میں صحابہ کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہے، جمہور(یعنی اکثر علما) فرماتے ہیں:جو کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو بھی بُرا کہے اسے تعزیراً سزا دی جائے گی ۔ (شرح مصابیح السنۃ ،ج6،ص395 ،تحت الحدیث:4699،چشتی)

فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ ۔۔۔ شارحین نے اگرچہ اس کی مختلف وجوہات بیان فرمائی ہیں لیکن شارحِ بخاری امام احمد بن اسماعیل کورانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:893ھ) فرماتے ہیں : سیاقِ کلام سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ مقام نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی صحبت کے شرف کی وجہ سے ملا ہے ۔ (الکوثر الجاری ،ج6،ص442، ،تحت الحدیث:3673)

شارحِ حديث حضر ت علامہ مُظہرالدین حسین زیدانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:727ھ) اسی حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : صحابہ کی فضیلت محض”رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت“اور”وحی کا زمانہ پانے“کی وجہ سے تھی، اگر ہم میں سے کوئی ہزار سال عُمر پائے اور تمام عُمر اللّٰہ پاک کے عطا کردہ احکام کی بَجا آوری کرے اور منع کردہ چیزوں سے بچے بلکہ اپنے وقت کا سب سے بڑا عابد بن جائے تب بھی اس کی عبادت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّمکی صحبت کے ایک لمحہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتی ۔ (المفاتیح فی شرح المصابیح ،ج6،ص286 ،تحت الحدیث:4699)

حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یعنی میرا صحابی قریبًا سوا سیر جَو خیرات کرے اور ان کے علاوہ کوئی مسلمان خواہ غوث و قطب ہو یا عام مسلمان پہاڑ بھر سونا خیرات کرے تو اس کا سونا قربِِ الٰہی اور قبولیت میں صحابی کے سوا سیر کو نہیں پہنچ سکتا،یہ ہی حال روزہ ،نماز اور ساری عبادات کا ہے۔ جب مسجد ِنبوی کی نماز دوسری جگہ کی نمازوں سے پچاس ہزار گُناہے تو جنہوں نے حضورِ اکرم (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا قُرب اور دیدار پایا ان کا کیا پوچھنا اور ان کی عبادات کا کیا کہنا!یہاں قربِِ الٰہی کا ذکر ہے۔مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضراتِ صحابہ کا ذکر ہمیشہ خیر سے ہی کرنا چاہئے کسی صحابی کو ہلکے لفظ سے یاد نہ کرو۔ یہ حضرات وہ ہیں جنہیں رب نے اپنے محبوب کی صحبت کے لئے چُنا،مہربان باپ اپنے بیٹے کو بُروں کی صحبت میں نہیں رہنے دیتا تو مہربان رَبّ نے اپنے نبی کو بُروں کی صحبت میں رہنا کیسے پسند فرمایا ؟ ۔ (مراٰۃ المناجیح،ج8،ص335،چشتی)

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کا انعام حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے والد فرماتے ہیں : میں چالیس ایسے تابعینِ عظام کو ملا جو سب ہمیں صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو میرے تمام صحابہ سے محبت کرے ، ان کی مدد کرے اور ان کے لئے اِسْتغفار کرے تو اللہ پاک اُسے قیامت کے دن جنّت میں میرے صحابہ کی مَعِیَّت(یعنی ہمراہی) نصیب فرمائے گا ۔ (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ،ج2،ص1063، حدیث:2337)

شرفِ صحابیت کا لحاظ لازم ہے خوب یاد رکھئے

صحابیت کا عظیم اعزاز کسی بھی عبادت و ریاضت سے حاصل نہیں ہوسکتا لہٰذا اگر ہمیں کسی مخصوص صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی روایت نہ بھی ملے تب بھی بلاشک و شبہ وہ صحابی محترم و مکرم اورعظمت و فضیلت کے بلند مرتبے پر فائز ہیں کیونکہ کائنات میں مرتبۂ نبوت کے بعد سب سے افضل و اعلیٰ مقام و مرتبہ صحابی ہونا ہے ۔ صاحبِِ نبراس علّامہ عبدالعزیز پرہاروی چشتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یاد رہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کے صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کى تعداد سابقہ انبىائے کرام علیہم السّلام کى تعداد کے موافق ( کم و بىش) ایک لاکھ چوبىس ہزار ہے مگر جن کے فضائل مىں احادىث موجود ہىں وہ چند حضرات ہىں اور باقى صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کى فضىلت مىں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا صحابی ہونا ہی کافی ہےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی صحبتِ مبارکہ کی فضیلت عظیمہ کے بارے میں قراٰنِ مجید کی آیات اوراحادیثِ مبارکہ ناطِق ہیں ، پس اگر کسى صحابى کے فضائل مىں احادىث نہ بھی ہوں ىا کم ہوں تو ىہ ان کى فضىلت و عظمت مىں کمى کى دلىل نہىں ہے ۔ (الناھیۃ صفحہ نمبر 38،چشتی)

سارے صحابہ عادل ہیں صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کیلئے یہ ایک ہی آیت کافی ہے : وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔
ترجمہ : اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہسے راضی اور ان کے لئے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔ (پ11،سورہ التوبۃ :100)

علّامہ ابوحَیّان محمد بن یوسف اندلسی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:745ہجری) فرماتےہیں : وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ سے مراد تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (تفسیرالبحر المحیط،ج 5،ص96، تحت الآیۃ المذکورۃ)

یاد رہے سارے صحابَۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم عادل ہیں ، جنتی ہیں ان میں کوئی گناہ گار اور فاسق نہیں ۔ جو بدبخت کسی تاریخی واقعہ یا روایت کی وجہ سے صحابَۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم میں سے کسی کو فاسق ثابت کرے ، وہ مَردُود ہے کہ اس آیت کے خلاف ہے ۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ درج ذیل حدیثِ پاک کو دل کی نظر سے پڑھ کر عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرے ، چنانچہ حضرت عبدُاللہ بن مُغَفَّل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ (رضی اللہ تعالٰی عنہم) کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ۔ میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو ا س نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بُغض رکھا تو اس نے میرے بُغض کی وجہ سے ان سے بُغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو ایذا دی اور جس نے اللہ پاک کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اس کی پکڑ فرما لے ۔ (ترمذی،ج5،ص463،حدیث:3888)۔(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...