(1)
مجھے امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب میں تمام ممالک کے پڑھے لکھے اور دانشمند لوگوں کو جمع کر سکوں گا اور قرآن کے بتائے ہوے اصولوں کے مطابق ایک ہمہ جہت عالمی نظام حکومت قائم کرلوں گا کہ جو سچائی پر مبنی ہوگا اور انسان کو حقیقی مسرت دے سکے گا.
(نپولین بونا پارٹ – “بوناپارٹ ایٹ اسلام “ ، پیرس -١٩١٤ )
(2)
میرا اس پر یقین پہلے سے بڑھ چکا ہے کہ یہ تلوار نہیں تھی جس کے ذريعے اسلام نے اپنا مقام حاصل کیا بلکہ ایک غیر لچکدار سادگی ، پیغمبر اسلام کی نفس کشی ، اپنے وعدوں کا احترام، اپنے دوستوں اور ماننے والوں کے لیے انتہائی درجہ کی وابستگی ، انکی بہادری اور بے خوفی اور اپنے خدا اور اپنے مشن پر غیر متزلزل اور مطلق ایمان نے انھیں کامیابیاں دلائیں اور اسی سے انہوں نے ہر مشکل پر قابو پایا .
( گاندھی : ینگ انڈیا -١٩٢٤ )
(3)
اگر مقصد کی عظمت ، وسائل کی قلت اور حیرت انگیز نتائج کسی انسان کی غیر معموليت کا معیار ہوں تو کون ہے جو جدید انسانی تاریخ میں محمد کا مقابلہ کر سکے؟. زیادہ مشہور لوگوں نے ہتھیار بنائے ، قوانین بنائے اور سلطنتیں تخلیق کیں اور کچھ پایا تو یہ کہ انکی مادی طاقت انکی آنکھوں کے سامنے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی. اس شخص نے افواج ، قوانین ، سلطنتوں ، عوام اور خواص کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ دنیا میں رہنے والی ایک تہائی آبادی کے کروڑوں انسان ان سے متاثر ہوے بغیر نہ رہ سکے. اور اس بھی زیادہ اس شخص نے مذہبی رسومات کو ، نام نہاد خداؤں کو ، ادیان کو ، خیالات و نظریات کو ، ارواح اور عقائد کو متاثر کیا . جسکا مقصد کبھی بھی بادشاہت نہیں رہا جو کہ صرف ایک عظیم الشان مقصد سے وابستہ رہا کامیابی اور تحمل کے ساتھہ . اسکی بے انتہا عبادات اور اپنے رب سے مکاشفات ، اسکی موت اور بعد از مرگ اسکی کامیابی اسکی وہ خوبیاں ہیں جو کسی مکر و فریب کی بجائے ایمان کی اس بلند ترین حالت کو ثابت کرتی ہے جو قوت دیتی ہے بنیادی عقیدے کو بحال کرنے کی. یہ بنیادی عقیدہ دو اجزا پر مشتمل ہے ایک جز تمام خداؤں کا انکار کرتا ہے تو دوسرا جز بتاتا ہے خدا کیا ہے. ایک جز تلوار کے زور پر جھوٹے خداؤں کو دور کرتا ہے تو دوسرا جز تبلیغ کے زور پر اصل خدا سے تعارف کراتا ہے.
محمد کیا نہیں تھے ؟ ایک فلاسفر ، خطیب ، رسول ، قانون ساز ، جنگجو ، نظریات کو فتح کرنے والے ، ایک عقلی عقیدہ کو بحال کرنے والے ، ٢٠ سرحدوں والی سلطنتوں اور ایک روحانی سلطنت کے خالق…انسانی عظمت کے کسی بھی معیار کو لے لیجئے ، ہم صرف ایک سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی محمد سے عظیم شخص آیا ہے ؟
(لامارٹیں – “تاریخ ترکی” ١٨٥٤ – جلد دوئم صفحہ ٢٧٦-٢٧٧ )
(4)
میرا یقین ہے کہ اگر محمد جیسے شخص کو جدید دنیا کی مطلق العنان حکومت سونپ دی جائے تو وہ اس دنیا کے مسائل اس طرح سے حل کرے گا کہ دنیا حقیقی مسرتوں اور راحتوں سے بھر جائے گی. میں نے انھیں پڑھا ہے وہ کسی بھی طرح کے مکر و فریب سے کوسوں دور ہیں انہیں بجا طور پر انسانیت کا نجات دہندہ کہا جاسکتا ہے. میں نے پیشینگوئی کی تھی کہ محمد کا عقیدہ یورپ کے لئے آنے والے کل میں اتنا ہی قابل قبول ہوگا کہ جتنا آج قابل قبول بننے لگا ہے.
( جارج برنارڈ شا – “حقیقی اسلام ” ١٩٣٦ – جلد ٨ )
(5)
یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آدمی خالی ہاتھہ جنگ و جدل میں مشغول قبائل اور بدوؤں کو اس طرح سے آپس میں جوڑ لے کہ وہ ٢٠ سال کے مختصر عرصہ میں ایک انتہائی طاقتور اور مہذب قوم بن جائیں ؟
جھوٹ اور تہمتیں جو مغربی اقوام نے اس شخص پربڑے جوش و خروش سے لگائی ہیں خود ہمارے لئے شرمندگی کا باعٽ ہیں.یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آدمی خالی ہاتھہ جنگ و جدل میں مشغول قبائل اور بدوؤں کو اس طرح سے آپس میں جوڑ لے کہ وہ دو دہائیوں سے بھی کم کے مختصر عرصہ میں ایک انتہائی طاقتور اور مہذب قوم بن جائیں ؟ ایک تنہا مگر عظیم شخص ایک اولو العزم انسان جسے اس دنیا کو روشن کرنا تھا کیونکہ اسکا حکم اسے اسکے خدا نے دیا تھا
( تھامس کارلائل – ہیروز اینڈ ہیروز ورشپ )
(6)
ہمیں اسکے دین کے فروغ سے زیادہ اسکے دین کی استقامت پر حیرت ہونی چاہیے. وہی خالص اور مکمل احساس جسے اس نے مکّہ اور مدینہ میں کندہ کیا وہی احساس ہمیں ١٢ صدیاں گزرنے کے بعد بھی قرآن کے ماننے والے انڈین ، افریکی اور ترکوں میں نظر آتا ہے. مسلمانوں نے بڑی کامیابی سے ان ترغیبات کا مقابلہ کیا جو انسانوں کی کسی بھی عقیدے سے وابستگی کو کم کر کے انکو انکے نفس کی خواھش پر چھوڑ دیتی ہیں. ” میں اللہ واحد و لاشریک پر ایمان لاتا ہوں اور اس بات پر کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ” یہ ایک سادہ اور نہ قابل ترمیم دینی اعلان ہے.یہاں خدا کے منطقی تصور کو بتوں کے ذريعے گھٹایا نہیں اور نہ ہی رسول کی عظمت کو انسانی حدوں سے بڑھایا گیا.اسکی زندگی نے ایسی مثال قائم کی جس نے اسکے ماننے والوں کو مذہب اور معقولیت کی حدوں میں رکھا
(ایڈورڈ گبن اور سائمن اوکلے – ” تاریخ سلطنت شام و عرب “ – لندن ١٨٧٠ – صفحہ ٥٤ )
(7)
وہ خود میں ایک قیصر اور پوپ تھے پاپائیت سے منسوب الزامات اور دعووں سے مبرّا اور قیصرآنہ فوج اور شان و شوکت، محافظین ، محلات اور آمدنی کے بغیر. اگر کبھی بھی کسی بھی شخص کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اس نے الوہی حکومت کی ہے تو وہ شخص محمد کے علاوہ کوئی اور ہو نہیں سکتا بغیر الوہیت کے، الوہیت کی تمام تر طاقت لئے ھوۓ
( بوس ورتھ اسمتھ – محمد اور محمدی عقیدہ – ١٨٧٤ لندن – صفحہ :٩٢ )
(8)
یہ نا ممکن ہے کسی بھی ایسے شخص کے لئے جس نے عرب کے عظیم پیغمبر کی زندگی اور اسکے کردار کے بارے میں پڑھا ہو . جو یہ جانتا ہو کہ اس پیغمبر نے کیا تعلیم دی اور کیسے زندگی گزاری وہ اس اپنے دل میں اس عظیم پیغمبر کے لئے انتہائی احترام کے علاوہ کچھ اور محسوس کرے. اگرچہ میں انکے بارے میں آپ سے کچھ بھی کہوں، بہت سارے لوگ ایسے بھی ہونگے جن کے نزدیک میری باتیں نئی نہیں ہیں لیکن ابھی تک خود میں جب بھی اس عظیم پیغمبر کے بارے میں پڑھتی ہوں تو اس عظیم استاد کے لئے تعریف و توصیف کی ایک نئی لہر میرے اندر اٹھتی ہے اور احترام کا ایک نیا جذبہ میرے اندر کروٹ لیتا ہے.
( اینی بیسنٹ – ” محمد کی زندگی اور انکی تعلیمات ” – مدراس ١٩٣٢ – صفحہ ٤ )
(9)
اپنے عقیدے کی خاطر کسی بھی قسم کے ظلم اور زیادتی کو برداشت کرنے کی آمادگی ، اسکے ماننے والوں کا بلند اخلاق و کردار ، اسکے ماننے والوں کا رشد و ہدایت کے لئے اسی کی طرف دیکھنا اور اسکی کامیابیوں کی شان و عظمت، یہ سب اسکی ایمانداری اور دیانت داری کی طرف دلالت کرتی ہیں اسی لئے یہ خیال کرنا کہ وہ (معاذ الله ) جھوٹے تھے ، مشکلات کو حل کرنے کی بجائے بڑھا دیتا ہے. مزید برآں مغرب میں کسی بھی عظیم شخص کی ایسی بے توقیری اور قدر ناشناسی نہیں دیکھی گئی ہے جیسا کہ محمد کے لئے کی گئی ہے.
( منٹگمری واٹ – مکّہ والے محمد – آکسفورڈ ١٩٥٣ – صفحہ ٥٢ )
(10)
انسان کامل ، محمد جو ٥٧٠ ء میں ایک ایسے قبیلے میں پیدا ھوۓ جو بتوں کو پوجتا تھا. پیدائشی یتیم تھے. وہ خاص طور پر غریبوں اور ضرورت مندوں، بیواؤں اور یتیموں ، غلاموں اور پسے ہوؤں کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے. بیس سال کی عمر میں وہ ایک کامیاب تاجر بن گئے تھے اور ایک دولتمند بیوہ کے لئے تجارتی منتظم بن گئے تھے. جب پچیس سال کے ھوۓ تو انکی آجر انکی خوبیوں اور صلاحیتوں کو دیکھتے ھوۓ انھیں رشتہ بھیجا.اور باوجود اسکے کہ وہ ان سے ١٥ سال بڑی تھیں ، نا صرف شادی کی بلکہ جب تک زندہ رہیں اپنے آپ کو اپنی بیوی کے لئے وقف رکھا. ”
” ہر بڑے پیغمبر کی طرح وہ بھی خدا کے الفاظ و پیغام کو محض اپنی بشری کمزوریوں کی وجہ سے دہرانے میں متردد تھے. لیکن فرشتہ نے انھیں حکم دیا کہ “پڑھ ” . امی ہونے کے باوجود انہوں نے وہ الفاظ دوہرائے جنہوں نے زمین کے ایک بڑے حصّے میں انقلاب برپا کر دیا ” خدا ایک ہے ” .
” محمد سب سے زیادہ عملیت پسند تھے جب انکے پیارے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا ، تو اسی دن سورج گرہن ہوا جسکو خدا کی طرف سے تعزیت قرار دیا جانے لگا. جس کے رد میں محمد کو یہ کہنا پڑا کہ گرہن لگنا قدرت کا ایک نظام کے تحت ہے. کسی کی زندگی اور موت کو اس سے منسوب کرنا حماقت ہے.”
محمد کی وفات پر جب لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا تو اسکے جانشین نے اس ہسٹیریا کو ایک تاریخی ، انتہائی اعلیٰ و بہترین خطاب سے رفع کیا کہ ” اگر تم میں سے کوئی محمد کی پرستش کرتا تھا تو محمد وفات پا چکے ہیں لیکن اگر تم خدا کی پرستش کرتے ہو تو وہ ہمیشہ رہنے والا ہے.
( جیمز اے مچنر – ” اسلام : ایک غلط سمجھا گیا دین ” – ریڈرز ڈائجسٹ -مئی ١٩٥٥- صفحہ ٦٨-٧٠ )
(11)
ممکن ہے کہ انتہائی متاثر کن شخصیات میں محمد کا شمار سب سے پہلے کرنے پر کچھ لوگ حیران ہوں اور کچھ اعتراض کریں. لیکن یہ وہ واحد تاریخی ہستی ہیں جو کہ مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر یکساں طور پر کامیاب رہے”
” ہم جانتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب فتوحات کے انسانی تاریخ پر اثرات ہنوز موجود ہیں. یہ دینی اور دنیاوی اثرات کا ایسا بینظیر اشتراک ہے جو میرے خیال میں محمد کو انسانی تاریخ میں سب سے متاثر کن شخصیت قرار دینے کا جواز دیتا ہے
( مایکل ایچ ہارٹ – ١٠٠- عظیم آدمی )
(12)
یہ وہ پہلا مذہب ہے جس نے جمہوریت کی تبلیغ اور اسکی ترویج کی . جب مسجد میں پانچ وقت اذان دی جاتی ہے اور نمازی ، نماز کے لئے اکھٹے ہو جاتے ہیں تو اسلامی جمہوریت مجسم ہوجاتی ہے اور کسان اور بادشاہ گھٹنے سے گھٹنا ملائے خدا کی تکبیر بیان کرتے ہیں
( سروجنی نائیڈو – اسلام کے آئیڈیلز – مدراس ١٩١٨ )
(13)
وہ انکا نہایت ایماندار حفاظت کرنے والا تھا جن کی اس نے حفاظت کی ، گفتار میں انتہائی شیریں اور متحمل . جنہوں نے بھی اسے وہ احترام کے جذبے سے مغلوب ھوۓ . جو اسکے قریب آئے اس پر فدا ھوۓ. جنہوں نے بھی اسکے بارے میں کچھ بتانا چاہا ، یہی کہا کہ ” میں نے ان جیسا نا پہلے نا بعد میں کبھی دیکھا ہے ” انکی خاموشی میں بھی انکی عظمت تھی لیکن جب بھی انہوں نے بات کی زور دیکر اور بہت سوچ بچار کر کی اور کوئی بھی انکی کہی ہوئی بات کو بھول نا سکا
( اسٹینلے لینی پول – ٹیبل ٹاک آف دی پرافٹ )
(14)
ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام کو انکی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہیے.اسلام کے بارے میں ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ بہت زیادہ غلط سمجھا گیا دین ہےآپ ہندو مت کو سمجھنے کے لئے ہندو انتہا پسندوں کی طرف نہیں دیکھتے، سکھ مذھب کو سمجھنے کے لئے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور اسکے ساتھیوں کی طرف نہیں دیکھتے اسی طرح آپکو اسلام سمجھنے کے لئے اسکے نام نہاد پیروکاروں کی بجائے پسغمبر اسلام کی تعلیمات کو دیکھنا چاہیے. لوگوں کو ایک بات سمجھنا چاہیے کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا. انڈونیشیا اور ملائشیا میں کبھی اسلامی فوج داخل نہیں ہوئی تھی. لیکن اسکے باوجود وہاں پر ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا. محمد صلی اللہ علیھ وسلم نے ہمیں ایک قادر مطلق خدا کی عبادت کرنا سکھائی.دوسرے مذھب کے برعکس جہاں مختلف کاموں کے لئے مختلف خدا ہیں.
( خشونت سنگھ – مالا پرّم ٹاون ہال – فروری ٢٠١٠ )
(15)
غزوہ احد میں ہر شہید مسلمان نے اپنے پیچھے بیویاں اور بچیاں چھوڑیں جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا .اس غزوہ کے بعد قرانی آیت نازل ہوئیں جن میں چار شادیوں کی اجازت دی گئی تھی. اسلام میں کثیر الازدواجی کی اجازت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے عورت کے مصائب اور تکلیف کا ایک بڑا سبب بتایا جاتا ہے. لیکن جب یہ اجازت دی گئی اس وقت یہ ایک نہایت عمدہ معاشرتی قدم تھا.اسلام سے پہلے مردوں اور عورتوں کو ایک سے زیادہ بیویاں اور شوھر رکھنے کی اجازت تھی. شادی کے بعد عورتیں اپنے میکے میں ہی رہتیں تھیں جہاں انکے شوہر ان سے ملنے آتے.یہ معاشرتی سیٹ اپ ایک قانونی قحبہ گری سے زیادہ کچھ نہ تھا. شوہروں کی زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے بچوں کی ولدیت کا تعین مشکل تھا اور بچے اپنی ماں سے پہچانے جاتے تھے اسی وجہ سے مرد نان و نفقہ اور اولاد کی پرورش سے آزاد رہے.اسلام سے پہلے عورت حق وراثت اور حق ملکیت سے محروم تھی.جو بھی آمدنی اسکی طرف آتی تھی وہ اسکے گھر والوں خاص طور گھر کے مردوں کے پاس چلی جاتی تھی. عورت کے لئے کاروبار چلانا اور جائیداد کا انتظام و انصرام سنبھالنا ایک مضحکہ خیز خیال محسوس ہوتا تھا. عورت کو کوئی انفرادی حقوق حاصل نہیں تھے اور اسکی حثیت مرد کی ملکیت سے زیادہ نہیں تھی.
اسلامی کثیر الازدواجی در حقیقت ایک سماجی قانون سازی ہے. جس میں عورت کو مرد کی خواھش پورا کرنے کا آلہ نہیں بنایا بلکہ کمزور اور بے سہارا خواتین کے لئے گھروں کا اور نگہبانوں کا انتظام کیا ،تمام تر حقوق ،عزت اور احترام کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر وراثت میں وہ حقوق دے جو مغربی خواتین کو ١٩ صدی عیسوی تک میسر ہی نہیں تھے.
( کیرن آرمسٹرانگ – ” محمد : ہمارے عہد کے نبی” )
Saturday, 24 January 2015
حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان غیروں کی نظر میں . او نجدی کے پیروکارو میرے آقا ﷺ کی عظمتوں کے منکرو دیکھو میرے آقا ﷺ کی شانیں تو کافر بھی مانتے ھیں اور تم منکر ھو اپنا فیصلہ کر لو کہ تم کیا ھو ؟ اور منکر کیوں ھو ؟ اور سوچو ان گستاخیوں سے تمھارا انجام کیا ھوگا ؟ ترتیب و پیشکش : ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاھور پاکستان
Thursday, 22 January 2015
درد دل رکھتا ہوں آپ کے سامنے
درد دل رکھتا ہوں آپ کے سامنے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : الحَمْدُ ِلله ہم مسلمان ہیں ۔ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پختہ ایمان رکھتے ہیں ۔ بحیثیت مسلمان زندگی بھر ہمیں تقویٰ اختیار کرنے ، اور اللہ عزوجل کی رسی مضبوطی سے پکڑنے اور آپس میں اختلافات نہ کرنے اور مسلمان مرنے کا حکم ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے سے تم آپس میں بھائی ہوگئے اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا دیا اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاٶ ۔ (سورۂ آل عمران : 103-102/3)
اللہ تعالیٰ نے دیگر احکام کے ساتھ ہمیں یہ حکم بھی دیا کہ ہم دین اسلام کی تبلیغ حکمت ، موعظت حسنہ اور سب سے بہتر گفتگو کے طریقے کے ذریعے کریں ، ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : اپنے رب کی راہ کی طرف بلائو، پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو، بے شک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو ۔ (سورۂ نحل: 125/16)
ہمارا کام ہے نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا تاکہ دارین میں ہم فلاح پاجائیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے ۔ (سورۂ آل عمران: 104/3)
پھر اس کے ساتھ ساتھ ایک اصول بھی عطا فرمایا کہ حق واضح ہونے کے بعد اختلاف میں نہ پڑے رہنا ورنہ بڑے عذاب کے مستحق ٹھہرو گے ، ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں اور ان کےلیے بڑا عذاب ہے ۔ (سورۂ آل عمران: 105-102/3)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں تقویٰ سات قسم کا ہے : ⬇
(1) کفر سے بچنا یہ بفضلہ تعالیٰ ہر مسلمان کو حاصل ہے ۔
(2) بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے ۔
(3) ہر کبیرہ سے بچنا ۔
(4) صغائر سے بھی بچنا ۔
(5) شبہات سے احتراز ۔
(6) شہوات سے بچنا ۔
(7) غیر کی طرف التفات سے بچنا یہ اخص الخواص کا منصب ہے اور قرآن عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ)
مگر ہمارا کردار کیا ہوتا جارہا ہے ۔
تقویٰ کی قسم نمبر تین سے آخری نمبر تک میں سے ہمارا کتنوں پر عمل ہے ؟ پھر کیا ان پر ندامت بھی ہے یا برائے نام ’’تقویٰ‘‘ ہے ؟ ہمارے آپس کے اختلافات کا عالم یہ ہے کہ آپس میں تکفیر و تضلیل اور تفسیق کے فتوئوں کا تبادلہ ۔ آپس میں فروعی معاملات میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ۔ تبلیغ دین میں حکمت کا فقدان ، مستحب و مباحات پر بضد ڈٹے رہنا پہچان اگرچہ اس وقت ان پر عمل نہ کرنا بہتر بلکہ واجب ہو ، بے جا مباحثوں اور مناظروں میں پڑنا باعث فخر ، جبکہ بھائی چارے کی فضا قائم کرنا باعث خسران بنا ہوا ہے ۔ افسوس بالائے افسوس کہ حق واضح ہونے کے باوجود ہمارا اس طرح کا رویہ اختیار کرے رہنا ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حواس خمسہ کے ساتھ عقل کی نعمت بھی بخشی ہے تاکہ ہم حق کو دیکھ سکیں ، سن سکیں اور سمجھ سکیں ۔ اگر ہم یہ حواس ہوتے ہوئے بھی حق نہ دیکھ پائیں ، نہ حق سن سکیں اور نہ اسے سمجھ سکیں تو کیا جانوروں سے بھی بدتر اور مستحق نار نہیں ٹھہریں گے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : اور بے شک ہم نے جہنم کےلیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں ، جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں ۔ (سورۂ اعراف: 179/7)
ہمیں تو حق بات سمجھنے کےلیے قلب سلیم ، حق دیکھنے کےلیے نور بصیرت اور حق سننے کی سماعت عطا کی گئی تھی ۔ مگر کیا ہم حق دیکھتے ہوئے بھی اندھے نہیں ہیں ۔ کیا ہم حق سنتے ہوئے بھی بہرے نہیں ہیں ۔ کیوں شرما شرمی میں حق سمجھنے ، دیکھنے اور سننے سے رکے ہوئے ہیں ۔ امتِ مسلمہ ایک ہے ، ﷲ ایک ، قرآن ایک ، رسول ایک ، دین ایک ، قبلہ ایک ، مگر کیا ہم بھی گزشتہ امتوں کی طرح آپس میں اختلافات کرکے فرقے فرقے نہیں ہو گئے ، کیا ہم میں سے ہر گروہ بس اسی پر اکتفا نہیں کیے بیٹھا جو اس خاص کے گروہ کے پاس ہے ، اگرچہ غلط ہی ہو! ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : اور بے شک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ڈرو ، تو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ۔ ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے ۔ (سورۂ مومنون: 53-52/23)
قرآن کریم مزید وضاحت کرتا ہے کہ اگر یہ گروہ بندی کسی غلط فہمی کی وجہ سے بلاقصد ہو گئی ، تو گناہ نہیں ۔ توبہ کر کے اس سے برأت کرلی جائے ۔ ﷲ تعالیٰ بخش دے گا ۔ لیکن اگر جان بوجھ کر گروہ بندی کی ہے تو یہ بلاشبہ گناہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : اور تم پر اس میں کچھ گناہ جو نادانستہ تم سے صادر ہوا ، وہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اور ﷲ بخشنے والا مہربان ہے ۔ (سورۂ احزاب: 5/33)
لہٰذا ہر سنی صحیح العقیدہ گروہ غور و فکر کرے کہ یہ گروہ بندی و اختلافات دانستہ ہیں یا نادانستہ ۔ استفت قلبک ۔ جب اخلاص کے ساتھ غور و فکر کریں گے تو ﷲ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کےلیے شرح صدر فرما کر نورِ بصیرت عطا کردے گا اور اگر یہ غور و فکر نہ کی بلکہ ہٹ دھرمی رہی تو دل سخت ہو جائے گا اور یہ گمراہی کی علامت ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ : تو کیا وہ جس کا سینہ ﷲ نے اسلام کےلیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے ، اس جیسا ہو جائے گا جو سنگ دل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یاد خدا کی طرف سے سخت ہو گئے ہیں ، وہ کھلی گمراہی میں ہیں ۔ (سورۂ زمر: 22/39)
قرآن و سنت میں بے شمار روشن دلیلیں موجود ہیں ، جن سے بندہ اپنی گمراہی کو جان سکتا ہے ، کیا اپنا حال دنیا بھر میں دیکھنے کے باوجود ہمارے دل نرم نہیں ہوتے، کیا قرآن پڑھ کر بھی نہیں ۔ ﷲ تعالیٰ ایمان والوں سے فرماتا ہے :
ترجمہ : کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں ﷲ کی یاد اور اس حق کےلیے جو اترا اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت فاسق ہیں ۔ (سورۂ حدید: 16/57)
ہم اپنی تقریروں اور تحریروں میں صراحتاً اور کنایتاً ایک دوسرے کے خلاف زبان و قلم استعمال کرتے ہیں ، عیب جوئی کرتے ہیں ، خود ساختہ اصولوں پر سب کو پرکھتے ہیں ، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہو جانے والوں کو بھی نہیں بخشتے ، حالانکہ بحیثیت مسلمان ہماری صفت یہ بتائی گئی تھی کہ : ترجمہ : (وہ لوگ جو اس طرح) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ ، اے رب ! ہمارے بے شک توہی نہایت مہربان رحم والا ہے ۔ (سورۂ حشر: 10/59)
مگر ہم کسی اور سمت چلے گئے ہیں ، اکثریت میں ہونے کے باوجود ، اقلیت کا تاثر دکھائی دیتا ہے، ہمارا دشمن تو ہمیں ایک متحد گروہ سمجھتا ہے ، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا رویہ اس کے برعکس ہے ، کیا ہم اس فرمان الٰہی کی عملی تصویر دکھائی نہیں دیتے ۔ ترجمہ : آپس میں اس کی آنچ سخت ہے (یعنی جب وہ آپس میں لڑیں تو بہت شدت اور قوت والے ہیں) تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں ۔ (سورۂ حشر: 14/59)
کیا یہی حال ہمارا نہیں ہوتا جا رہا کہ بے عقل ہوتے جارہے ہیں ، جس کی وجہ سے دل مختلف ہوتے جا رہے ہیں بلکہ جو کچھ زبانوں پر ہے ، دلوں میں اس سے زیادہ دوسروں کےلیے غبار بھرا ہوا ہے ۔ آج ہمیں اہلسنت و جماعت کا ایک مضبوط مرکز بنانے اور اسے تقویت بخشنے کی ضرورت ہے
دنیائے اہلسنت کے اجزائے ترکیبی افرادی اعتبار سے تین قسم کے ہیں : ⬇
1 ۔ علماء کرام ۔
2 ۔ عوام ۔
3 ۔ امراء یعنی اغنیا ۔
اعلیٰ حضرت ، صاحبِ بصیرت ، امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے اہلسنت و جماعت کو مضبوط کرنے کےلیے تین نکاتی ایجنڈا عطا فرمایا ہے ۔ فرماتے ہیں : آج دنیائے اہلسنت کو خالص اہل سنت و جماعت کی ایک قوت اجتماعی کی ضرور ضرورت ہے ، مگر اس کےلیے تین چیزوں کی سخت حاجت ہے : ⬇
1 ۔ علماء کا اتفاق ۔
2 ۔ تحمل ساق قدر باطلاق ، یعنی : بقدر طاقت مشقت کو برداشت کرنا اور ۔ 3 ۔ امراء کا انفاق لوجہ الخلاق ۔ یعنی : اہلسنت کے مالدار ، رٶسا اور امراء کا ﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا ۔
پھر خود ہی ان نکات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : افسوس یہاں یہ سب باتیں مفقود ہیں ۔ فان ﷲ وانا الیہ راجعون ۔
ہمارے علماء کرام کی حالت
علماء کی یہ حالت ہے کہ :
1 ۔ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں ۔
2 ۔ حمایت دین و مسلک کے نام سے گھبراتے ہیں ۔
3 ۔ جو بندۂ خدا اپنی جان دین و مسلک حق پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں ۔
4 ۔ مداہنت یعنی : سستی ان کے دلوں میں رچی بسی ہوئی ہے ۔
5 ۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ ایام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا ، عبارات ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگادیں اور جب کۂے : حضرت ! لکھ دیجیے ، فرماتے : ’’بھائی لکھوائو نہیں، ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے‘‘ ’’ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گا‘‘ ۔ آج بھی یہی حال ہے ، بند کمرے میں گمراہ کی گمراہی کا حکم ، باہر آکر خاموشی گویا حکم کالعدم ۔
6 ۔ اس میں سے بہت سوں کویہ خیال ہے کہ مفت میں اوکھلی میں سر دے کر موسل کون کھائے ، یعنی : مفت میں اپنی جان کو کیوں خطرے میں ڈالا جائے ، کیونکہ ایسا کیا تو :
ا ۔ بدمذہب دشمن ہو جائیں گے ۔
ب ۔ دانتوں پر رکھ لیں گے ۔
ت ۔ گالیاں پبھتیاں کسیں گے ، اخباروں اور اشتہاروں میں چھاپیں گے ۔
ث ۔ طرح طرح کے بہتان اور افتراء اچھالیں گے ۔ لہٰذا اچھی بھلی جان کو کون جنجال میں ڈالے ۔
7 ۔ بعض کو یہ فکر لاحق کہ حمایت مذہب کی ، تو صلح کلی نہ رہے گی اور ہر دل عزیزی جاکر پلاٶ ، قورمے ، نذرانہ میں فرق آئے گا ۔ یا کم از کم آٶ بھگت تو عام نہ رہے گی ۔ یعنی مفادات پورے نہ ہوں گے ۔
8 ۔ بلا تحقیق حقیقی اپنے طلبہ اور معتقدین کے کان بھرنے سے اکابرین کی مخالفت ، تضلیل و تفسیق بلکہ بعض جری تو تکفیر پر اتر آتے ہیں ۔
9 ۔ کبھی ایک ہی نشست میں جمع بھی ہوجائیں تو موقع ملتے ہی دوسروں پر بے جا تنقید شروع کر دیتے ہیں جس سے عوام اہلسنت پر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔
10 ۔ زیادہ تر ایک ہی قسم کے فروعی مسائل پر ، ایک ہی جیسا مواد جمع کرنا شعاربن گیا ہے ، یقین نہ آئے تو دکانوں پر جاکر دیکھیں : ’’وسیلہ‘‘ ، ’’یارسول ﷲ کہنے کا جواز‘‘ ، ’’اعراس کا ثبوت ‘ج‘، ’’فلاں کا رد‘‘ ، ’’فلاں کی گمراہیاں‘‘ ، ’’میلاد منانے کے دلائل‘‘ وغیرہ جیسے موضوعات پر تقریباً سب ہی طبع آزمائی کر چکے ہیں ۔ ہنوز یہ ’’سلسلہ مبارکہ‘‘ جاری ہے
11 ۔ جن موضوعات پر قلم اٹھانا آج کے دور میں ضروری ہے ۔ ان پر قلم نہیں اٹھاتے ، مثلاً کتب حدیث خصوصاً سنن اربعہ میں سے ان کتب کی اردو شروحات ، جو اب تک لکھی نہیں گئیں ، احناف کے نزدیک اصول حدیث وغیرہ موضوعات ۔
12 ۔ میڈیا چینلز پر آنا تقریبا آج کے دور میں شاید سب ہی چاہتے ہیں ، لیکن جو آتے ہیں ، ان میں ماسوائے چند احکام و مسائل بتانے میں تسامح کا شکار نظر آتے ہیں ۔ ایک صاحب نے میڈیا چینل پر فرمایا : یہ حدیث امام طبرانی علیہ الرحمہ نے ’’معجم کبیر‘‘ کی ’’کتاب الطہارۃ‘‘ میں نقل کی ہے ۔ عقل مند را اشارہ کافی است ۔
علماۓ کرام کے اتفاق کاعالم ۔ اتفاق علماء کا یہ حال ہے کہ :
1 ۔ آپس میں حسد کابازار گرم ہے ۔
2 ۔ اگر ایک کا نام ’’جھوٹ موٹ‘‘ بھی مشہور ہو جائے تو بہت سے سچے مشہور و معروف علماء اس بے چارے کے مخالف ہو جاتے ہیں ، اس کی توہین و تشنیع میں دیگر گمراہوں اور بدمذہبوں کے ہم زبان ہو کر کہتے ہیں کہ ’’ہیں‘‘ لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے ۔ میڈیا چینلز پر اس کی مثالیں باآسانی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا کردار ۔ علماء کرام کےلیے مشعل راہ ہے ۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : فقیر میں لاکھوں عیب ہیں ، مگر میرے رب نے مجھے حسد سے بالکل پاک رکھا ہے ، اپنے سے جسے زیادہ پایا اگر وہ دنیا کے مال و منال میں زیادہ ہے ، تو قلب نے اندر سے اسے حقیر جانا ، پھر حسد کیا حقارت پر ؟ اور اگر دینی شرف و افضال میں زیادہ ہے اس کی دست بوسی و قدم بوسی کو اپنا فخر جانا ، پھر حسد کیا اپنے معظم بابرکت پر ؟ اپنے میں جسے حمایت دین پر دیکھا ، اس کے نشر فضائل اور خلق کو اس کی طرف مائل کرنے میں تحریراً و تقریراً ساعی رہا ۔ اس کےلیے عمدہ القاب وضع کر کے شائع کیے ، جس پر میری کتاب ’’المعتمد المستند‘‘ وغیرہ شاہد ہیں‘‘ ۔
لمحہ فکریہ
کیا ہم دوسروں کے نشر فضائل ، خلق کو مائل کرنے کےلیے کرتے ہیں ۔ کیا تحریراً و تقریراً اس کی کوئی دس مثالیں ہر سنی عالم پیش کر سکتا ہے ۔
حسد کیوں پیدا ہوتا ہے ؟ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ’’حسد شہرت طلبی سے پیدا ہوتا ہے اور میرے رب کریم کے وجہ کریم کےلیے حمد ہے کہ میں نے کبھی اس کےلیے خواہش نہ کی بلکہ ہمیشہ اس سے نفور اور گوشہ نشینی کا دلدادہ رہا‘‘ ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی قابلِ اتباع دو صفات
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : میرا جلسوں اور انجمنوں کے دوروں سے دور رہنا انہی دو وجہ پر تھا ۔ اول : حب خمول یعنی : گمنامی اور دوم زمانہ می نخر و عیب وغیر از نیم نیست
کجا برم خر خود را بایں کساد متاع
عنی : زمانہ عیب دار کو خریدتا نہیں اور میرے پاس اس کے علاوہ نہیں ہے ، اس کھوٹے سامان کے ساتھ اپنے گدھے کوکہاں لے کر جاٶں ۔ اور اب تو سالہا سال سے شدت ہجوم کار وانعدام کجلی فرصت و غلبۂ ضعف و نقاہت نے بالکل ہی بٹھا دیا ہے، جسے میرے احباب نے نازک مزاجی بلکہ بعض حضرات نے غرور و تکبر پر حمل کیا ہے، اور ﷲ اپنے بندہ کی نیت جانتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 599-598،چشتی)
2 : ہمارے کارکنوں کی حالت
ادھر بچارے ہمارے کارکنوں کا حال یہ ہے کہ : ⬇
انہیں وہ چالیں اور وہ جال معلوم نہیں کہ جس سے خارجی ، ناصبی ، رافضی اور بدمذہب فرقے (خذلہم ﷲ تعالیٰ) بندگانِ خدا کو فریب دے کر نہ صرف اپنے ہم مذہبوں بلکہ اپنے ہم مشربوں سے روپیہ اینٹھتے ہیں ۔ اس کام کےلیے ریاکاری و نفاق ، مکر و خداع اور بے حیائی و بے عزتی لازم ہے ، وہ نہ ہم میں ہے نہ ہماری شریعت اس کی اجازت دے ، پھر کام کیوں کر چلے ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے نام پر چندہ
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کوئی ایک نمبری وہابی ایک با اثر صوفی کے یہاں چندہ لینے گیا ، انہوں نے فرمایا : سنا ہے تم احمد رضا کے مخالف ہو ، کہا : ’’حاشا ! میں تو اسی در کا کتا ہوں‘‘ اور کتا بن کر پانچ سو روپے لے آیا ۔
3 : ہمارے امیروں کی حالت
بے چارے ہمارے امیر واغنیاء لوگوں کا حال یہ ہے کہ : ⬇
1 ۔ یہ اغنیاء نام و نمود چاہتے ہیں ۔
2 ۔ معصیت بلکہ صریح گمراہی و ضلالت کے کاموں میں ہزاروں لاکھوں اڑادیں اور خزانوں کے منہ کھول دیں ۔
3 ۔ یونیورسٹی ، کالجز ، اسکولوں ، ریلیف فنڈ ، فیشن شو وغیرہ کاموں کےلیے تو بہت جلد لاکھوں جمع ہو جاتا ہے ۔
4 ۔ کراچی کے ایک مدرسہ و مسجد کو ، جو غیروں کے تصرف میں ہے ، صرف ایک سنی نے دو کروڑ روپے دیے ۔
5 ۔ مگر کیا کسی سنی مدرسہ یا مسجد کو بھی یہ دن نصیب ہوتا ہے ؟ الا ماشاء ﷲ
6 ۔ اول تو یہ لوگ دین و مسلک حق کی تائید کیا کریں گے ۔ یہ تو دین و مسلک حق کا نام لیتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں ۔
7 ۔ اور کہتے ہیں کہ میاں ! یہ تو ان مولویوں کے جھگڑے ہیں ، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ۔
8 ۔ اور اگر شرما شرمی میں کچھ معمولی رقم چندہ بھی مقرر کرلیں تو (جب تک اصرار اور سر پر سوار نہ ہوا جائے ، معمولی رقم بھی ادا کرنے سے جی چراتے ہیں) ۔ (سورۂ نسا ، 75/3)
9 ۔ بلکہ حال یہ ہے کہ اگر ان سے چندے کا تقاضا کرلیا جائے تو بگڑ جاتے ہیں ۔
10 ۔ اور اگر انہیں ڈھیل دے دی جائے تو سوئے رہتے ہیں ۔
11 ۔ ان سب کے علاوہ ایک بڑی کمی ہمارے ان امراء اور مالداروں کی بے توجہی اور لاپرواہی کی بھی ہے ۔
دنیائے اہلسنت سے سوال
اب دل پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ فرمائیں کہ وہ قوم جوکہ اپنے میں سے کسی ’’عالم ذی فضل‘‘ کو ترقی کرتا نہ دیکھ سکے ۔ اپنے ناقصوں کو ’’کامل‘‘ اور اپنے قاصروں کو ’’ذی فضل‘‘ بنانے کی کیا کوشش کرے گی ؟ حاشا یہ کلیہ تو نہیں ہے ، مگر اکثر کا حکم کل کا حکم ہوتا ہے ۔ (ماخوذ : فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 599-598،چشتی)
تبلٕغِ دین کے مشن میں ہمارا ساتھ دیجیے : ⬇
دین کا درد رکھنے والے مسلمان بھائیوں ، بیٹوں اور سبھی احباب سے گذارش ہے کہ : فتنوں کے اس دور میں فتنوں کا مقابلہ کرنے ، دین کی نشر و اشاعت کرنے اور دینی تعلیم عام کرنے میں ہمارا ساتھ دیں ۔ ادارہ کےلیے جگہ کی خریداری و تعمیر ۔ دین کی نشر و اشاعت ، دینی کتب تفاسیر قرآن اور کتب احادیث عربی اردو کی شروحات و دیگر اسلامی کتب کی : آیئے تفاسیر قرآن اور کتب احادیث کی خریداری میں ہمارا ساتھ دیجیے اور مستحق بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم دینے کے اخراجات کے سلسلہ میں صاحب حیثیت مسلمان تعاون فرمائیں جزاکم اللہ خیرا ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : فیض احمد چشتی اکاؤنٹ نمبر 0001957900055503 حبیب بینک کیولری گراؤنڈ برانچ لاہور پاکستان ، موبی کیش اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں ۔ 03009576666 ،03215555970 ، اللہ تعالیٰ آپ سب کو اجرِ عظیم عطاء فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Wednesday, 21 January 2015
دیوبندی مذہب کے باطل عقائد اور قرآن کریم کے تراجم میں خیانتیں
دیوبندی مذہب کے باطل عقائد اور قرآن کریم کے تراجم میں خیانتیں
حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھتا ہے کہ : پھر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب یہ امر ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ایسا علم غیب تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔(حفظ الایمان ص8کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی )
مطلب یہ کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو پاگل ،جانوروں اور بچوں سے ملایا ۔
بانی دیوبند علامہ محمد قاسم نانوتوی اپنی کتاب تحذیر الناس میں لکھتا ہے کہ : اگر بالغرض زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ فرق نہیں آئیگا ۔( تحذیر النّاس ،صفحہ نمبر 34دارالاشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی ، مصنف :قاسم نانوتوی )
مطلب یہ کہ قاسم نانوتوی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین ماننے سے انکار کیا ۔
مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ : شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کاحصّہ ہے شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ۔
فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ۔(براہین قاطعہ صفحہ نمبر 51مطبوعہ بلال ڈھور ،مصنف :مولوی خلیل احمد ابنیٹھوی مصدّقہ ،مولوی رشیداحمد گنگوہی )
مطلب یہ کہ سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک سے شیطان وملک الموت کے علم کو زیادہ بتایا گیا مولوی خلیل احمد کی اس کتاب کی دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی نے تصدیق بھی کی ۔
شاہ اسمعیل دہلوی دیوبندی ، وہابی : نے نماز میں سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال مبارک کے آنے کو جانور وں کے خیالات میں ڈوبنے سے بدتر کہا ۔
(صراطِ مستقیم صفحہ 169،اسلامی اکادمی اردو بازار لاھو رمصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )
حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی کے ایک مرید نے اپنے پیراشرف علی تھانوی کواپنے خواب اور بیداری کا واقعہ لکھا کہ وہ خوا ب میں کلمہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ِ نامی اسمِ گرامی کی جگہ اپنے پیر اشرف علی تھانوی کا نام لیتا ہے یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی جگہ لا الہ الا اللہ اشرف علی رسول اللہ (معاذ اللہ )پڑھتا ہے اور اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے پیر سے معلوم کرتاہے تو جواب میں اشرف علی تھانوی تو بہ و استغفار کا حکم دینے کے بجائے کہتا ہے ۔”اس واقعہ میں تسّلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ یعونہ تعالیٰ متبع سنّت ہے ۔(الا مداد صفحہ 35مطبع امداد المطا بع تھا نہ بھون انڈیا ،مصنف :اشرف علی تھانوی )
مطلب یہ کہ کلمہ کفر کو اشرف علی تھانوی صاحب نے عین اتباع سنت کہا ۔
مولوی حسین علی دیوبندی نے اپنی کتاب بلغۃ الحیران میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط سے گررہے تھے میں نے انہیں بچایا ۔(معاذاللہ )(بلغۃ الحیران صفحہ نمبر 7 )
دیوبندی مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتا ہے کہ رسول کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ۔ (براہین قاطعہ ص55،مصنف :خلیل احمد انبیٹھوی )
دیوبندی وہابی مولوی اسمعیل دہلوی لکھتا ہے کہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا علی رضی اللہ عنہ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ۔(تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ43مطبوعہ :میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ کراچی مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بڑے بھائی کے برابر کرنا چاہئے ۔(معاذ اللہ )
(تقویۃ الایمان ص88:مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )
ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔(معاذاللہ )
(تقویۃالایمان ص 13مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )
اسی مولوی اسمعیل دہلوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء باندھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں ۔(تقویۃ الایمان ص 53)(ترتیب و پیشکش : ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی نے اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 52پر لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت منانا کنھّیا کے جنم دن منانے کی طرح ہے ۔(معاذ اللہ )
مولوی خلیل دیوبندی اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 30 پر لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو زبان علماء دیوبند سے سیکھی ۔(معاذاللہ )
حکیم الامت دیوبند مولوی اشرف علی تھانوی اور مولوی فضل الرحمٰن کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خواب میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے ہم کو اپنے سینے سے چمٹایا ۔(معاذاللہ )
(الاضافات الیومیہ صفحہ 62/37مصنف :مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی )
بانی دیوبند نانوتوی لکھتا ہے : انبیاءکرام اپنی امت میں ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل اس میں بسا اوقات بظاہر امتّی مساوی ہوجاتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں ۔(تحذیرالنّاس ص5،مصنف :مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی )
مطلب یہ کہ عمل اگر اُمتّی زیادہ کرلے تو نبی سے بڑھ جاتا ہے ۔(معاذاللہ )
قطب العالم دیوبند رشید احمد گنگوہی لکھتا ہے : لفظ رحمۃ للعالمین صفت خاصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے اگر (کسی )دوسرے پر اس لفظ کو تباویل بول دیوے تو جائز ہے ۔ (فتاوٰی رشید یہ جلد دوم ص 9،مولوی رشید گنگوہی دیوبندی )
محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے ۔
(فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی ) عقیدہ :قبلہ و کعبہ کسی کو لکھنا جائز نہیں ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص265)
عیدین میں (عیدالفطر و عید الاضحی ) کو معائقہ کرنا (گلے ملنا )بد عت ہے ۔
(فتاوٰی رشیدیہ ص243)(ترتیب و پیشکش : ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
حکیم الامتِ دیوبند اشرف علی تھانوی دیوبندی اپنی فتاوٰی کی کتاب امداد الافتاوٰی جلد دوم صفحہ 29/28میں لکھتا ہے کہ شیعہ سنّی کا نکاح ہوسکتا ہے لہٰذا سب اولاد ثابت النسب ہے اور محبت حلال ہے ۔
عقیدہ :مولوی اشرف علی تھانوی اپنی فتاوٰی کی کتاب امدا د الفتاوٰی کا اختلاف ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے ۔
مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کتاب الاضافات الیومیہ جلد 4ص139پر لکھتا ہے کہ شیعوں اور ہندوؤں کی لڑائی اسلام اور کفر کی لڑائی ہے شیعہ صاحبان کی شکست اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے اسلئے اہلِ تعزیہ کی نصرت (مدد)کرنی چاہئے ۔آپ نے مولوی اسمعیل دہلوی کی گستاخانہ کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں ملاحظہ کیں اس کتاب کے متعلق دیوبندی اکابر ین کیا لکھتے ہیں ملاحظہ کریں ۔
مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی اکابر اپنی فتاوٰی کی کتاب فتاوٰی رشید یہ میں تقویۃ الایمان کے بارے میں لکھتا ہے :
کتاب تقویۃ الایمان نہایت ہی عمدہ کتاب ہے اسکارکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ ص351)
جو تقویۃالایمان کو کفر اور مولوی اسمعیل کو کافر کہے وہ خود کافر اور شیطان ملعون ہے ۔ (فتاوٰی رشید یہ ص252،356)
مولوی اسمعیل دہلوی قطعی جنتّی ہیں ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص252)
نذر و نیاز حرام ہے ، پیر یا استاد کی برسی کرنا خلافِ سنّت و بدعت ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص461)
بروز ختم قرآن شریف مسجد میں روشنی کرنا بد عت ونا جائز ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص 460)
مولوی اسماعیل دہلوی لکھتا ہے : اللہ کے مکر سے ڈرنا چاہئیے ۔(تقویۃ الایمان ص55)
اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے اور ہر انسان نقص و عیب اس کے لئے ممکن ہے ۔ ( رسالہ یک روزی)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کہ یمین اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد دیوبندیوں کے نزدیک مشرک ہیں۔ (فتاویٰ رشیدیہ)
دیوبندیوں کے نزدیک یزید (امیر المومنین جنّتی اور بے قصور )ہے ۔ ( رشید ابن رشید ، حیات سیّدنا یزید )
اصل اختلاف کیا ہے ؟ : اہلسنّت وجماعت اور دیوبندیوں کا اصل اختلاف یہ نہیں ہے کہ اہلسنّت کھڑے ہوکر درود و سلام پڑھتے ،نذر و نیاز کرتے ہیں ،وسیلے کے قائل ہیں ،مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور دیوبندی اس تما م کارِخیر سے محروم ہیں بلکہ اصل اختلاف جس نے اُمت مسلمہ کو دو دھڑوں میں بانٹ دیا وہ اکابر دیوبند یعنی دیو بندیوں کا پیشواؤں کی وہ کفر یہ عبارات ہیں جو ہم نے پیچھے تحریر کیں جن میں کھلم کھلا سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرکے اسلام کی دجیاں بکھیری گئی ہیں ۔دیوبندی ادارے آج بھی ان کفر یہ عبارات کو کتابوں میں شائع کرتے ہیں اس کی تردید بھی نہیں کرتے ،اس کے خلاف بھی کچھ نہیں کہتے ۔
ان میں دارالعلوم دیوبند ،تبلیغی جماعت ،جمعیت علماءاسلام ،جماعتِ اسلامی ،سپاہ صحابہ ،جمعیت علماءہند ،تنظیم اسلامی ،جیشِ محمد ،حزب المجاہدین وغیرہ تمام دیوبندی تنظیمیں ان باطل عقائد پر مشتمل ہیں جو اپنے آپ کو آج کل اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی دیوبند ی مکتبہ فکر کا لیبل لگا کر پیش کرتے ہیں یہ ان کے علماءکفریہ عبارات سے توبہ کرتے ہیں نہ یہ کہتے ہیں کہ ان عبارات کو لکھنے والے ہمارے اکابر ین نہیں ہیں بلکہ ان سب کو اپنا امام مجدّد اور حکیم الامت کہتے ہیں اور مانتے بھی ہیں ۔
اس اختلاف کا حل یہ ہے : اگرآج بھی دیوبندی اپنے ان بڑوں کی کفر یہ عبارات سے توبہ کرکے ان تمام کفر آمیز کتب سے بیزاری کا اظہار کرکے انہیں دریا برد کردیں تو اہلسنّت کا اعلان ہے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں ۔
دیوبندی شاطروں کی چال : علماء دیوبند یا عوامِ دیوبند کبھی بھی اپنے ان عقائد کو آپ پر ظاہر نہیں کریں گے بلکہ ان عبارات کا زبان سے انکار بھی کریں گے تاکہ بھولی بھالی عوام کو دھوکہ دے سکیں یاد رکھئے زہر کھلانے والا کبھی بھی سامنے زہر نہیں دیگا ورنہ کوئی اسے نہیں کھائے گا اس کی چال یہ ہوتی ہے کہ مٹھائی کے اندر ڈال کر دیگا اور کہے گا کہ کھاؤ یہ مٹھائی ہے اس مٹھائی کو دیکھ کر قوم اسے کھائے گی ۔
آج دیوبندی یہ چال چل کر لاکھوں لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں نماز نماز کہہ کر لوگوں کو لے کر جاتے ہیں اس طرح انہوں نے لاکھوں لوگوں کو بد مذہب کردیا ،لاکھوں نوجوانوں کو مفتی بنادیا کہ وہ مسلمان پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگائیں یہی وجہ ہے کہ آج گھر میں یہ ماڑ دھاڑ ہے اولاد والدین پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگاتی ہے خدارا !اپنی نوجوان نسل کا خیال رکھو ان کی تربیت کر و،انہیں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل کرو یہی فلاح و کامرانی کا راستہ ہے ۔
قرآن مجید کے ترجموں میں خیانتیں و کفریہ عبارات،خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں
(1) القرآن :ولما یعلم اللّٰہ الذین جاھد وا منکم۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر142،پارہ 4)
ترجمہ :حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔(فتح محمد جالندھری دیوبندی )
ترجمہ : حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کیاہو۔(اشرفعلی تھانوی دیوبندی)
ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ کو (معاذ اللہ )بے خبر لکھا ہے جو کہ کفر ہے ۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا خان صاحب محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ترجمہ اپنے ترجمہ قرآن کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔ ترجمہ :اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔(امام اہلسنّت )
(2) القرآن :ویمکرون ویمکر اللّٰہ واللّٰہ خیر المٰکرین ۔(سورہ انفال ،پارہ نمبر 9)
ترجمہ :وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔(محمود الحسن دیوبندی )
ترجمہ :اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اوراللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔(شاہ عبدالقادر )
ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ تعالیٰ کو مکرو فریب کرنے والا لکھاہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسے الفاظ کا استعمال کفرنہیں ہے ؟
امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محدث بریلی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
ترجمہ :اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرما تا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔(کنز الایمان)
(3) القرآن :ووجدک ضالا فھدی ۔(سورہ والضحیٰ آیت نمبر 7)
ترجمہ :اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا ۔(عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )
ترجمہ :اور اللہ تعالیٰ نے آپکو شریعت سے بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا رستہ بتلا دیا ۔(اشرف علی تھانوی دیوبندی )
ان دونوں دیوبندی مولویوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے خبر اور بھٹکا ہوالکھا ہے اگر نبی بھولا بھٹکا اور بے خبر ہوگا تو پھر وہ اُمت کو کیا راستہ دکھائے گا نبی تو پیدائشی نبی اور ہدایت یا فتہ ہوتا ہے ۔
امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا ن صاحب محدث بریلوی علیہ الرحمہ اس کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
ترجمہ :اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تواپنی طرف راہ دی ۔
(4) القرآن :ان المنا فقین یخادعون اللّٰہ وھو خاد عھم ۔(سور ہ نساءآیت 142،پارہ 5) ترجمہ :منافقین دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دیگا ۔
(محمود الحسن دیوبندی ، شاہ عبدالقادر )
ان دونوں دیوبندیوں نے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے والا لکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عیب سے پاک اس طرح کی چیز وں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے ۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا خان صاحب محّدث بریلوی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
ترجمہ:بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کرکے ماریگا ۔ (کنز الایمان ترجمہ قرآن)
آپ حضرات نے دیوبندیوں مولویوں کے تراجم کی جھلک ملاحظہ فرمائی آپ حضرات فیصلہ کریں کہ ان لوگوں نے قرآن مجید کے تراجم میں خیانت نہیں کی کیا ایسے لوگ اسلام کے چہرے کو منع نہیں کررہے ؟کیا ان لوگوں کے پیچھے نماز جائز ہوسکتی ہے؟ کیا ان لوگوں کے تراجم ہمیں پڑھنے چاہئیے ؟ کیا ہم ان لوگوں سے کوئی اصلاحی کوششوں کی امید رکھیں ؟ نہیں ہرگز نہیں ان باطل عقائد رکھنے والوں کا اسلام سے دور تک کابھی کوئی واسطہ نہیں ۔
اہم نوٹ : مضمون دیئے گئے حوالہ جات کی اصل کتب ہمارے پاس موجود ہیں جب چاہیں جہاں چاہیں ہم دیکھا سکتے ہیں اور تراجم قرآن بھی ہمارے پاس موجود ہیں ۔ کوئی بھی منکر انہیں غلط ثابت کر کے دیکھائے ۔ (ترتیب و پیشکش : ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
وھابیّت کے بانی 'محمد ابن عبدالوھاب نجدی' اور اس کے عقائد اور وھابی مذھب آج کے نام نھاد اھلحدیثوں کا اصلی چہرہ پہچانیئے ان کو ان شاء اللہ العزیز جو بھی تعصُّب کی عینک اُتار کر یہ تحریر پڑھے گا وہ ضرور باالضرور حق تک پہنچ جائے گا اور میں نہ مانوں کا کوئ علاج نھیں ھے ۔ ترتیب و پیشکش : ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاھور پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمِ اللهِ الرَّ حمٰنِ الرَّ حِیِم
” واذ اقیل لھم اتبعو اما انزل الله، قالو ا: بل نتّبع ما وجدنا علیہ آبائنا،،
”لقد کنتم انتم وآباوٴ کم فی ضلال مبین ،، ) القر آن الحکیم)
” اور جب ان سے کھا گیا کہ خدا نے جو (دین ) نازل کیا ھے اس کی پیروی کرو ( تو ) اُن لوگوں نے جواب دیا کہ ( نھیں ) بلکہ ھم اس ( دین ) کی پےروی کر تے ھیں جس پر ھم نے اپنے بزرگوں کو پایا ھے ،، ” یقینا تم لوگ کھلی ھوئی گمراھی میں ھو اور تمھارے بزرگ بھی کھلی ھوئی گمراھی میں تھے ،، (قرآن کریم (
مسلمان بھائیوں
کیا آپ وھابیت کی حقیقت سے آگاہ ھیں ؟
اور کیا آپ جانتے ھیں کہ وھابی مسلک کو محمد ابن عبدالوھاب نجدی متوفی ۰۶ ۱۲ئہ نے ایجاد کیا ھے ۔ اور اس نے اپنے تمام اصول احمد ابن تیمیہ حرانی کے افکار سے حاصل کئے ھیں ۔؟
اور کیا آپ یہ بھی جانتے ھیں کہ یہ مذ ھب مسلمانوں کے چاروں مذاھب کے خلاف ھے ؟
اور کیا اس سے بھی با خبر ھیں کہ چاروں مذاھب وھابی مسلک کے قائدین اور اس کے پیرو کاروں کو گمراہ اور راہ ایمان سے خارج بتاتے ھیں ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
”ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل الموٴ منین نولّہ ماتولّیٰ ، ونصلہ جھنّم وسائت مصیرا۔ ،، صدق الله العظیم
” اور جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول خدا کی مخالفت کرے اور اھل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر چھوڑ دیں گے اور جھنم میں جلائیں گے اور یہ کتنا برا ٹھکانا ھے ،،۔
اور کیا آپ لوگ جانتے ھیں کہ ھمارے اھل سنّت علماء کی ایک بڑی جماعت نے آپس میں اختلاف مذاھب کے با وجود وھابی مسلک کے مو جد اور اس کے استاد اور امام ، ابن تیمیہ کی رد میں بھت سی کتابیں لکھی ھیں ۔اور وھابی مسلک کو باطل قرار دیا ھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ابن عبدالوھاب نجدی اور اس کے عقائد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ جانتے ھیں ؟کہ علماء مکہ نے محمد ابن عبد الوھاب کے ملحد ھو نے کا فتویٰ دیا ھے اور اسے خبیث ،بے شرم ،بے بصیرت اور گمراہ بتایا ھے۔ اور بتایا ھے کہ یہ شخص جھوٹا تھا ،قرآن و حدیث کے معنی میں تحریف کیا کرتا تھا خدا پر بھتان باندھتا تھااور قرآن کا منکر تھا اُنھوں نے اس پر بارھا لعنت کی ھے ۔
ھاں!یہ تمام باتیں حق کے حامی شاہ فضل رسول قادری نے اپنی کتاب ”سیف الجبار المسلوک علیٰ اعداء الابرار ،،میں لکھی ھیں ۔یہ کتاب ۱۹۷۹ءء میں ایک غیرت مند مسلمان حسین حلمی استانبولی نے تر کیہ میں شائع کی تھی ۔
عراق کی ایک مسلّم ومتفق علیہ عظیم علمی شخصیت شیخ جمیل آفندی زھاوی نے اپنی کتاب ”الفجر الصادق ،،میں صفحھ،۱۷پر محمد ابن عبدالوھاب کے حالات میںتحریر فرمایا ھے :یہ محمد ابن عبد الوھاب شروع میںایک طالب علم تھا ،،علماء سے علم حاصل کرنے کی خاطر مکہ ،مدینہ آتا جاتا رھتا تھا۔مدینہ میںجن علماء سے اس نے تحصیل علم کیاوہ یہ ھیں :شیخ محمد ابن سلیمان کردی ،شیخ محمد حیاةسندی ،یہ دونوں استاد اور دوسرے جن علماء سے یہ پڑھتا تھا،وہ حضرات اس کے اندر گمراھی و الحاد کو بھانپ گئے تھے اور کھتے تھے کہ خدا عنقریب اسے گمراہ کرے گا اور اس کے ذریعہ دوسرے بدنصیب بندے بھی گمراہ ھوںگے چنانچہ ایسا ھی ھوا۔اور اسکے باپ عبد الوھاب جو علماء صالحین میں تھے،انھوںنے بھی اس کی بے دینی کا اندازہ لگا لیا تھا اور لوگوںکو اس سے دور رھنے کا حکم دیتے تھے۔اسی طرح اس کے بھائی شیخ سلیمان بھی اس کے خلاف تھے بلکہ انھوں نے تو محمدابن عبدالوھاب کی ایجاد کردہ بدعتوں اور منحرف عقیدوں کی رد میں ایک کتاب بھی لکھی ۔وہ اسی کتاب کے صفحھ۱۸میں لکھتے ھیں کہ اس(محمد ابن عبدالوھاب )پر خدا کی لعنت ھو یہ اکثر پیغمبر اسلام کی مختلف الفاظ میں توھین کرتا تھا ،ً آپ کو پیغمبر کے بجائے ”طارش،،کھتا تھا جس کا مطلب عوام کی زبان میں وہ شخص ھے جسے کوئی کسی کے پاس بھیجے۔ حالانکہ عوام بھی صاحب عزت وقابل احترام شخصیت کے لئے یہ کلمہ نھیں استعمال کرتے ۔یھاں تک کہ اس کے بعض پیرو پیغمبر کی شان میں کھتے ھیں :”میرا یہ عصا محمد سے بھتر ھے ۔کیونکہ میں اس سے کام لیتا ھوںاور محمد مر گئے ھیں۔اب ان سے کوئی فائدہ حاصل نھیں ھوسکتا۔ محمد ابن عبد الوھاب یہ سب سن کر خاموش رھتا تھا اور اپنی رضا ظاھر کرتا تھا آپ جانتے ھیں یہ بات مذاھب اربعہ میں کفر مانی جاتی ھے۔
اسی طرح یہ پیغمبر اسلام پر درود بھیجنے کو برا سمجھتا اور شب جمعہ میں رسول الله صلی الله علیہ و آلہ و سلّم پر درود پڑھنے سے روکتا تھا ۔منبروں پر بلند آواز سے درود پڑھنے سے منع کرتا اور اگر کوئی شخص ایسا کر تا تو اسے سخت سزا دیتا تھا یھاں تک اس نے ایک نابینا موٴذن کواسی بات پر قتل کردیا تھا کہ اسے اذان کے بعد درود پڑھنے سے منع کیا تھا لیکن وہ باز نھیں آیا تھا ۔
آپ کو جان کر بھی حیرت ھوگی اسماعیل پاشا بغدادی نے ”ھدیةالعا رفین ،،میں جو پھلے استانبول ،ترکیہ میں ۱۹۵۱ئئمیں طبع ھوئی پھر دوبارہ بیروت میں ۱۴۰۲ھئمیں آفسیٹ سے طبع ھوئی ،کی ج۲صفحہ ۳۵۰پرذکر کیا ھے :محمد ابن عبدالوھاب نے ایک کتاب ان مسائل سے متعلق لکھی ھے جس میں اس نے پیغمبر کی مخالفت کی تھی ،اور پیغمبر کی مخالفت کا مطلب آپ سے دشمنی کرنا ھے جس کے متعلق خدا نے فرمایا ھے :”ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل الموٴ منین نولّہ ماتولّیٰ ، ونصلہ جھنّم وسائت مصیرا۔
جوراہ ھدایت روشن ھوجانے کے بعد پیغمبرکی مخالفت کرے اس کا ٹھکانا جھنّم ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھی گئی کتابیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام جانتے ھیں کہ شیخ سلیمان ابن عبدالوھاب ،محمد ابن عبدالوھاب کے حقیقی بھائی نے سب سے پھلے اس بد عت ایجاد کرنے والے کی رد میں کتاب لکھی جس کا نام ” فصل الخطاب فی الرد علیٰ محمد ابن عبدالوھاب ،، رکھا تھا ۔ اس کا اسماعیل پاشا نے ” ایضاح المکنون ج ۲ ص ۱۹۰ طبع بیروت دار الفکر ۱۴۰۲ ئ
اور عمر رضا کحالہ نے ” معجم الموٴ لفین ،، ج ۴ ص ۲۶۹ طبع بیروت ” دارا حیاء الترات العربی ،، میں ذکر کیا ھے
اور محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک شیخ عبدالله بن عیسیٰ صغانی ھیں ۔ انھوں نے جو کتاب لکھی اس کا نام ” السیف الھندی فی ابانة طریقةالشیخ النجدی ،، ھے۔ اس کا ذکر بھی اسماعیل پاشا نے ” ھدیة العارفین ،، ج ۱ ص ۴۸۸ میں کیا ھے
اس کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک سید علوی ابن حداد بھی ھیں جنھوں نے کتاب ”مصباح الانام ،،و ”جلاء الظلام فی رد شبہ البدعی النجدی التی اضلّ بھا العوام،،یہ کتاب مطبع عامر کے توسط سے ۱۳۲۵ھئمیں طبع ھوئی ۔اس کا ابو حامد ابن مرزوق نے اپنی کتاب ”التوسل بالنبی وبالصالحین ،،میںکیا ھے۔ یہ کتاب بھی ابن عبد الوھاب کے عقائد کی رد میں لکھی گئی ھے ۔موصوف نے ایک اور کتاب بھی بنام ”السیف الباتر لعنق المنکر علی الاکابر ،،لکھی ھے اس کا ذکر بھی کتاب ”التوسل بالنبی وبالصالحین ،،صفحھ۲۵۰پر ھے ۔
محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں میںسے ایک احمد ابن علی البصری ھیں جو قبائی کے نام سے مشھورتھے۔ انھوں نے اس کے ایک رسالہ کی رد میں ”فصل الخطاب فی رد ضلا لات ابن عبد الوھاب ،،کے نام سے ایک کتاب لکھی ھے۔ اس کا تذکرہ بھی ابو حامد مرزوق نے” التوسل بالنبی وبالصالحین،،میں صفحھ۲۵۰پرکیا ھے اور اسماعیل پاشا بغدادی نے ”ایضاح المکنون،،میں ج۲صفحھ۱۹۰پراس کتاب کا نام ”فصل الخطاب،، ذکر کیا ھے۔
محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک بزر گوار سید احمد ابن زینی دحلان ،مفتی مکہ مکرّمہ بھی ھیں۔ انھوں نے ”فتوحات اسلامیھ،،کی ج۲طبع مصر ۱۳۵۴ھئمطبع مصطفی محمد میں اس کی رد کی ھے اوراس پر طعن کیا ھے (صفحھ۲۵۱سے ۲۶۹تک دیکھئے )
مر حوم زینی دحلان نے لکھا ھے کہ محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں بھت سی کتابیں اوررسالے لکھے گئے ھیں لیکن موصوف نے ان کتابوں کے نام نھیں ذکر کئے ۔
شیخ یوسف نبھانی نے بھی اس کی رد میں ”شواھدالحق فی التوسل بسید الخلق،،کے نام سے ایک کتاب لکھی ھے جوایک جلد میں طبع ھوئی ھے ۔اس کا ذکر بھی ”التوسل بالنبی وبالصالحین،،صفحھ۲۵۲پر ھے۔ اس کتاب کے ص۱۵۱پر سید احمد ابن دحلان کی کتاب ”خلاصةالکلام فی امراء البلد الحرام ،،سے نقل ھے۔
ان شبھات کا ذکر جن سے وھابیت نے تمسک کیا
مناسب یہ ھے کہ پھلے ان شبھات کا ذکر کریںجن سے محمد ابن عبد الوھاب نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تمسک کیا۔
پھر ان کی رد پیش کریں گے اور یہ بیان کریں گے کہ جن باتوں کو اس نے دلیل بنایا ھے وہ سب جھوٹ ،افتراء اور عوام فریبی ھے ۔
پھر ”شواھد الحق،،کے ص۱۷۶میں لکھاھے۔
محمد ابن عبدالوھاب کے پاس اس کے استاد کردی کا خط
محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والوں میں سے ایک اس کے استاد شیخ محمد ابن سلیمان کردی شافعی ھیں انھوں نے منجملہ ان باتوں کے جو خط میں اس کی رد کرتے ھوئے لکھا تھا یہ باتیں بھی لکھی تھیں :
عبدالوھاب کے بیٹے !سلام ھو اس پر جس نے راہ راست کی پیروی کی، میں تمھیں الله کے لئے نصیحت کرتا ھوں کہ اپنی زبان کو مسلمانوں کی ایذا رسانی سے باز رکھو !
چنانچہ اگر کسی شخص کے بارے میں سنو کہ وہ غیر خدا جس سے مدد مانگی جائے اس کے موثر ھونے کا عقیدہ رکھتا ھے تو اسے حق پھچنواؤ اور دلیل پیش کرو کہ غیر خدا میں تاثیر نھیں ھے ۔ اب اگر وہ انکار کرے تو صرف اسے کافر قرار دو ۔ تمھیں مسلمانوں کے سواد اعظم کو کافر قرار دینے کا کوئی حق نھیں ھے جبکہ تم خود سواد اعظم سے منحرف ھو اور جو شخص سواد اعظم سے منحرف ھو اس طرف کفر کی نسبت دینا زیادہ مناسب ھے ،کیوں کہ اس نے اھل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کی ھے خدا وند عالم نے فرمایا ھے :
” ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدی ویتّبع غیر سبیل المو منین نولّہ ما توّلّیٰ و نصلّہ جھنّم و سائت مصیرا ،،
” کہ جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اھل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر چھوڑ دیں گے اور اسے جھنم میں جلائیں گے اور یہ برا ٹھکانا ھوگا ،، اور بھیڑ یا گلہ سے الگ ھو جانے والی بکری کو ھی کھاتا ھے ۔ انتھیٰ۔
اس کے بعد لکھتے ھیں کہ : مذا ھب اربعہ میں سے جن لوگوں نے اس کی رد کی ھے ۔ خواہ مشرق کے رھنے والے ھوں یا مغرب کے ، بے شمار ھیں ۔ کسی نے مبسوط کتاب کی صورت میں رد لکھی اور کسی نے مختصر اور بعض نے صرف امام احمد ابن جنبل کے نصوص سے اس کی رد کی ھے تاکہ یہ واضح ھو جائے کہ وہ جھوٹا ھے ، اپنے کو امام احمد بن جنبل کے مذ ھب کی طرف نسبت دینے میں فریب دھی سے کام لے رھا ھے اور اپنے کلام کو اس طرح تمام کیا ھے کھ”ھم نے جو کچہ ذکر کیا اس سے وہ تمام باتیں باطل ھو جاتی ھیں جو محمد ابن عبدالوھاب نے گڑھی ھیں اور جن کے ذریعہ مومنین کو دھوکہ دے رھا ھے اور خود اس نے اور اس کے پیروؤںنے ان کی جان ومال کو مباح قرار دے رکھا ھے ،،۔ (خلاصہ کلام سید احمد دحلان )
کچہ اور افراد جنھوں نے اس کی رد میں کتابیں لکھیں
محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں شیخ عطاء مکی بھی ھیں ، انھوں نے ” انصار الھند ی فی عنق النجدی ،، نام کی کتاب لکھی ۔ اس کا تذ کرہ ” التوصل بالنبی و بالصا لحین ،، میںص ۲۵۰ پر ھے
اسی طرح اس کی رد میں لکھنے والوں میں بیت المقدس کے ایک عالم ھیں جنھوں نے ” السیوف الصقال فی اعناق من انکر علی الاو لیا ، بعد الا نتقال ،، لکھی اس کا تذ کرہ بھی ”التوسل بالنّبی و با لصالحین ،،میں ص ۲۵۰ پر ھے ۔ ایک اور بزرگ شیخ ابراھیم حلمی قادری اسکندری نے بھی اس کی رد کی ھے ، انھوں نے جو کتاب لکھی ھے اس کا نام ” جلال الحق فی کشف احوال اشرار لخلق ،، ھے۔ یہ کتاب اسکندریہ میں ۵۵ ۱۳ء ہ میں طبع ھوئی ھے اس کا تذ کرہ ” التوسل بالنبی وبالصالحین ،،میں ص ۲۵۳ پر ھے ۔
شیخ مالکی جزائری نے بھی اس کی رد کی ھے۔ انھوں نے ” اظھار العقوب ممن منع التو سلّ با لنّبی والو لی الصدوق ،، نام کی کتاب لکھی ھے۔ اسے صاحب کتاب ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین ،، نے ص ۲۵۲ پر ذکر کیا ھے ۔شیخ عفیف الدین عبدالله ابن داؤد جنبلی نے بھی اس کی رد میں ” الصّواعق والر عود ،، نام کی کتاب لکھی۔ اس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین ،، کے ص ۲۴۹ پر ھے اور سید علوی ابن احمد حداد کا قول نقل کیا ھے کہ ’ بصرہ ، بغداد ، حلب ، اور احساء کے بزرگ علماء نے بھی اس کتاب کی تائید کی ھے اور اپنی تفریظوں میں بھی اس کی تعریف کی ھے ۔اور اس کی رد لکھنے والوں میں ایک شیخ عبدالله ابن عبد اللطیف شافعی ھیں ۔ انھوں نے ” تجرید الجھاد لمدی الا جتھاد ،، ص ۲۴۹ پر ھے ۔
اس کی رد کرنے والوں میں شیخ محقق محمد ابن الرحمن بن عفالق الحنبلی ھیں انھوں نے کتاب تحکم المقلدین بمن ادّعی تجدید الدین ،،لکھی ۔اس کا ذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںص۲۴۹پرھے اور یہ بھی ذکر ھے کہ انھوں نے ھر اس مسئلہ کی جسے محمد ابن عبد الوھاب نے گڑھا ھے خوب رد کی ھے۔
اسی طرح طائف کے ایک عالم شیخ عبد الله ابن ابراھیم میر غینی ھیں انھوں نے ”تحریض الاغبیاء علی الاستغاثہ بالانبیاء والاولیاء ،،نامی کتاب لکھی ھے اس کا ذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۰ پرھے ۔
شیخ طاھر سنبل حنفی انھوںنے ”الانقصار للاولیاء الابرار ،،نام کی کتاب لکھی اس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۰ پرھے ۔
شیخ مصطفی حمامی مصری نے بھی اس کی رد میں ”غوث العباد ببیان الرشاد ،،نام کی کتاب لکھی جو طبع ھو چکی ھے اس کا ذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۳ پرھے
اس کی رد لکھنے والوں میں علامہ محقق شیخ صالح کواشی تونسی بھی ھیںانھوں نے اس کی ردمیں ”رسالہ مسجعہ محکمة،،لکھا اس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۱ پرھے اور لکھا ھے کہ علامہ موصوف نے اس رسالہ کے ذریعہ ابن عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی رد کی ھے ۔علامہ مذکور کا یہ رسالہ ”سعادة الدار ین فی الرد علی الفریقین ،،کے ضمن میں طبع ھواھے نیز اس کی رد تونس کے شیخ الاسلام اسماعیل تمیمی مالکی نے بھی لکھی ھے ۔انھوں نے رد علی محمد ابن عبدالوھاب کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،صفحھ۲۵۱ پرھے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذکر کیا ھے کہ مذکورہ کتاب کافی محققانہ اور ٹھوس ھے اس کے ذریعہ ابن عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی ردکی گئی ھے یہ کتاب تونس میں شائع ھوئی ھے
علامہ مفتی فاس الشیخ مھدی وزّانی نے بھی اس کی رد کی ھے انھوں نے جواز توسل کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ھے،اس کاذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۲ پرھے ۔
اور ابو حامد ابن مرزوق نے ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،کے صفحھ۱ پرذکر کیا ھے جس کے الفاظ یہ ھیں:ائمہ اربعہ کے بعض پیروٴوں نے اس کی اور اس کے مقلدین کی بھت سی عمدہ تالیفات کے ذریعہ ردکی ھے۔
اور حنبلوں میں اس کی رد کرنے والوں میںسے اس کے بھائی سلیمان ابن عبدالوھاب ھیں اور شام کے حنبلیوں میں سے آل شطیٰ اور شیخ عبداللهقدومی نابلسی ھیں جنھوں نے اپنے سفرنامہ میں اس کی رد لکھی اوریہ سب کتابیں”زیارةالنبّی صلی الله تعالی علیہ وسلم والتوسل بہ وبالصا لحین من امتھ،،کے حاشیہ پر شائع ھوئی ھیں اور کھا کہ محمد ابن عبدالوھاب اپنے مقلدین سمیت خوارج میں سے ھے ۔ جن لوگوں نے اس مطلب پہ نص کی ھے ان میں سے علامہ محقق سیّد محمد امین بن عابدین بھی ھیں جنھوں نے اپنے حاشیہ ” ردالمختار علیٰ الدر المختار ،، میں باغیوں کے باب میں اور شیخ صاوی مصری نے جلالین کے حاشیہ میں صریحاً لکھا ھے کہ یہ اور اس کے مقلدین خوارج میں سے ھیں کیوں کہ یہ ” لاالھٰ الّا الله محمدرسول الله ،،کھنے والوں کو اپنی رائے سے کافر کھتے ھیں اور اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ مسلمانوں کو کافر کھنا خوارج اور دوسرے بدعت کاروں کی علامت ھے جو اھل قبلہ میں سے اپنے مخالفین کو کافر قرار دیتے ھیں ۔
محمد ابن عبدالوھاب اور اس کے ماننے والوں کی بنیادی عقائد فقط چار ھیں ۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق کے مشابہ قرار دینا ، الوھابیت اور ربوبیت دونوں کی توحید کو ایک ماننا ، نبی صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلّم ،کی عزت نہ کرنا ، اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا ، اور یہ ان تمام عقائد میں احمد ابن تیمیہ کا مقلد ھے اور احمد ابن تیمیہ پھلے عقیدہ میں کرامیہ اور مجسمیہ جنبلیہ ( جو خدا کے لئے ھاتہ پاؤں وغیرہ اعضائے جسم کے قائل ھیں ) کا مقلّد ھے اور چوتھے عقیدہ میں ان دونوں فرقوں اور فرقئہ خوارج کا پیرو ھے ۔
اور وھابیوں کے نزدیک نقل دین کے سلسلہ میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد افراد ابن تیمیھ، اس کے شاگرد ابن قیم اور محمد ابن عبدالوھاب ھی ھیں ۔ چنانچہ علماء مسلمین میں سے کسی عالم پر وہ اعتماد نھیں کرتے اور اس کی کوئی قدر نھیں جانتے جب تک کہ اس کے کلام میں کوئی ایسا شبہ نہ پایا جاتا ھو جو ان کی رائے اور خواھش کی تائید کرے چنانچہ یہ وسیع دین اسلام ان کے نزدیک تین مذکورہ بالا افراد میں محصور ھے ۔نیز کتاب التوسل النبّی ص۲۴۹ پراس عنوان کے تحت ”محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والے علماء خواہ اس کے ھم عصر ھوں یا اس کے بعد میں آنے والے ان کی ایک جماعت کا تذکرہ کیا ھے جن میںمندرجہ ذیل نام گنائے ھیں :علامہ عبدالوھاب ابن احمد برکات شافعی احمدی مکّی ،علامہ سید منعمی ،جب محمد ابن عبدالوھاب نے ایک ایسی جماعت کو جنھوں نے اپنے سر نھیں منڈائے تھے قتل کردیا تو موصوف نے ایک قصیدہ کے ذریعہ اس کی رد کی تھی ۔
علامہ سید عبدالرحمن جو احساء کے بزرگ ترین علماء میں سے ھیں ،انھوں نے ایک زور دار قصیدہ کے ذریعہ اس کی رد کی اس قصیدہ میں سرسٹہ (۶۷)اشعار ھیںجس کا مطلع یہ ھے :
بدت فتنة اللیل قدغطّت الافق وشاعت فکادت تبلغ الغرب والشرقا
(فتنہ شب ظاھر ھوا جس نے افق کو اپنی لپیٹ میں لے لیااور پھیلاتو مغرب اور مشرق تک پھونچ گیا۔)
شیخ عبد الله ابن عیسیٰ مویسی ،شیخ احمد مصری احسائی ،شیخ محمد ابن شیخ احمد ابن عبد الطیف احسائی اور ص۱۰۵پر اس عنوان کے تحت کھ” محمد ابن عبدالوھاب پیغمبر پر درود بھیجنے سے منع کرتا تھا ،،لکھا ھے جس کے الفاظ یہ ھیں اور ”صاحب کتاب ”مصباح الانام وجلاء الظلام فی رد شبہ البدعی النجدی التی اضلّ بِھَا الْعَوام ،،سید علوی ابن احمد ابن حسین ابن سید عارف بالله عبد الله ابن علوی حداد نے اپنی کتاب میں اس کا ذکرکیا ھے ،پھرسید احمد بن زینی دحلان نے اپنے رسالہ ”الدررالسنیةفی الرد علی الوھابیة،،میں لکھا ھے کہ محمد ابن عبدالوھاب پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم پرصلوات پڑھنے سے روکتا تھا اور منبروں پر بلند آواز سے صلوات پڑھنے کو روکتا تھا اور ایسا کرنے والے کو اذیّت اور سخت سزا دیتا تھا حتی کہ اس نے ایک نابینا کو جو ایک صالح اور خوش آوازموٴذن تھا قتل کردیا ۔اسے اذان کے بعد منارہ پر صلوات پڑھنے سے روکا تھا لیکن وہ باز نھیں آیا نتیجہ میںاسے جان سے مار ڈالا اور کھا کہ طوائف کے گھر باجہ بجانے والے کا گناہ اس شخص کی بہ نسبت کم ھے جو منارہ پر پیغمبر اسلام پر درود پڑھے۔
اورصفحھ۲۵۰پر لکھا ھے کہ سید علوی ابن احمد حداد نے فرمایا میں نے مذاھب اربعہ کے بے شمار بڑے بڑے علماء کے جوابات دیکھے ھیں یہ علماء حرمین شریفین ،احساء ،بصرہ بغداد ،حلب ،یمن اور دوسرے اسلامی شھروں کے رھنے والے تھے جنھوں نے نثر ونظم دونوں میں جوابات لکھے ۔میرے پاس ابن عبدالرّزاق حنبلی کی اولاد میں سے ایک شخص کا مجموعہ لایا گیا اس میں بھت سے علماء کی جانب سے لکھی گئی رد موجود تھیں ۔
اس کے بعد لکھا ھے :اور میرے پاس شیخ محدث صالح فلانی مغربی ضخیم کتاب لائے جس میں علماء مذاھب اربعہ حنفیہ ،مالکیہ ،شافعیہ ،اور حنبلیہ کے خطوط اور جوابات تھے جو محمد ابن عبدالوھاب کے جواب میں لکھے گئے تھے ۔اورص۲۴۸پر ھے۔ محمد ابن عبدالوھاب کی رد بھت سے علماء نے کی ھے ۔اس کے ھم عصر علماء نے بھی اور بعد میں آنے والے علماء نے بھی اور اب تک علماء اسلام کے اعتراضوں کے تیر اس کو نشانہ بناتے رھتے ھیں ۔
اس کے ھم عصر رد کر نے والوں میں پیش پیش احساء کے حنبلی تھے اور درحقیقت تمام اعتراضات ابن تیمیہ کو نشانہ بنارھے تھے ۔
موٴلف کھتا ھے :ابوالفضل قاسم محجوب مالکی نے بھی ایک رسالہ کے ذریعہ جس کا تذکرہ احمد ابن ضیاف کی کتاب ”اتحاف اھل الزمان باخبار ملوک تونس وعھد الامان ،،میں ملتا ھے ،محمد ابن عبدالوھاب کی رد کی ھے اور اس کے آراء اور فتاوی کو باطل قرار دیا ھے ۔
اس رسالہ کا ایک حصّہ حاج مالک داوٴد کی کتاب ”الحقائق الاسلامیةفی الرد علی المز اعم الوھابیةبادلّةالکتاب والسنة النبویة ،،سے ملحق کرکے ۱۴۰۳ ئمیں طبع ھوا تھا اور دوبارہ آفسٹ سے ترکیہ میں ۱۴۰۵ ئمیں طبع ھوا ۔
جھاںمیری واقفیت میں علماء مذاھب اربعہ کی جانب سے رد اور طعن محمد ابن عبدالوھاب پرکی گئیں وہ میں نے درج کردیں ۔
احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر کئے گئے اعتراضات
محمد ابن عبد الوھاب کے امام ، احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی ھے اور جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں صراط مستقیم سے نہ صرف خود بھٹکا بلکہ اور بھت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ھے اس کے بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ھیں ۔
چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء الا برار،، طبع ترکیہ ۱۹۷۹ءء کے ص ۲۴ پر ھے کہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ھے اور اعلان کیا گیا ھے کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔”کشف الظنون ،،ج۱ ص ۲۲۰ پر ھے کہ علماء نے اس کی رد میں بھت مبالغہ کیا ھے یھاں تک کہ تصریح کی ھے کہ یہ شخص (ابن تیمیہ ) جسے شیخ الاسلام کھا گیا ھے ، کافر ھے ، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۱۴۳۸ پر ھے :ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ” العرش وصفتہ ،، میں ذکر کیا ھے کہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھتا ھے اور ایک جگہ خالی چھوڑ کر رکھی ھے جھاں رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم بیٹھیں گے۔ اس کو ابو حیان نے کتاب ” النھر،، میں قول خدا ”وسع کرسیہ السمٰوات والارض ،،کے ذیل میں لکھا ھے : میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب ” العرش ،، میں اسی طرح پڑھاھے ۔ انتھی
اور اسی کتاب کے ص ۱۰۷۸ پر احمد ابن تیمیہ جنبلی کی ایک کتاب بنام ”الصراط المستقیم والرد علی اھل الجحیم ،، کا ذکر کیا ھے اور اسی میں ایسی باتیں لکھی ھیں جن کا تذکرہ کرنا مناسب نھیں ھے مثلا عبد الله ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی نے اپنی کتاب میں اس کی رد لکھی ھے ۔ جامعہ ا زھر کے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی نے اپنی کتاب ” تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ،،میںص۹ پر ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ھے کہ اس نے اپنی کتاب ”الواسطہ ،، وغیرہ کی تالیف کی تو ایسی باتیں گڑھیں جن سے مسلمانوں کے اجماع کو پارہ کر دیا ۔اس نے کتاب خدا ، صریح سنت اور سلف صالح کی مخالفت کی ھے۔ اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ھے اور جان بوجہ کر گمراہ ھواھے ۔اس کا معبود اس کی ھوائے نفس ھے۔ اسے یہ گمان ھوا ھے کہ جو کچہ اس نے بیان کیا ھے حق ھے حالانکہ وہ حق نھیں ھے بلکہ یہ جھوٹ اور قول منکر ھے ،اور اسی کتاب کے ص۱۳پر ھے :یہ کتاب ابن تیمیہ کی بھت سی من گڑھت باتوں پر مشتمل ھے جوکتاب و سنّت اور جماعت مسلمین کے مخالف ھے ۔
اور صفحھ۱۰ /۱۱پر ھے:وہ برابر اکابر کے پیچھے پڑا رھا یھاں تک کہ اس کے زمانے والے اس کے خلاف مجتمع ھوئے اسے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹھھرایا بلکہ ان میں سے زیا دہ لوگوں نے اسے کافر قرار دیا ۔
اور صفحہ ۱۷پر ھے :اپنے زمانے میں ابن تیمیہ کا وتیرہ ادب اورھر زمانے میں اس کے پیروٴوں کا یھی طریقہ رھا ھے کھ:
”یقولون آمنّا بالله و بالیوم الاخروما ھم بمومنین ،یخادعون اللهوالذین آمنوا وما یخدعون الاانفسھم وما یشعرون ،،یہ لوگ کھتے ھیں کہ ھم الله اور روز قیامت پر ایمان لائے ھیں حالانکہ یہ مومن نھیں ھیں ۔یہ الله کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ھیں حالانکہ یہ خود اپنے کو دھوکہ دے رھے ھیں اور انھیں اس کا احساس نھیں ھے ۔،،
موٴلف کھتا ھے :یہ منافقیں کی صفت ھے جسے خدا وند عالم نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کیا ھے ۔
اور یافعی نے ”مرآةالجنان ،،ج۴/ص۲۴۰طبع حیدرآباد دکن ۱۳۳۹ھئمطبع دائرةالمعارف النظامیہ میں ابن تیمیہ کے بعض مھمل اقوال کا ذکر کیا ھے مثلاًلکھا ھے:خدا حقیقتاًعرش پر بیٹھا ھے اور الفاظ وآواز سے گفتگو کرتا ھے پھرلکھا ھے کہ دمشق میںیہ اعلا ن کردیا گیا کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ھے ۔
اور صفحھ۲۷۸پر۷۲۸ ئکے واقعات کے سلسلہ میں ھے :اس (ابن تیمیہ )کے عجیب وغریب مسائل ھیں جن کے بارے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ھے اورجن کے سبب مذھب اھل سنّت ترک کرنے کی خاطر اسے قید کیا گیا ۔پھر اس کی بھت سی برائیوں کو شمار کراتے ھوئے لکھا ھے کھ:اس کی قبیح ترین برائی یہ تھی کہ اس نے پیغبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے منع کر دیا تھا ۔آپ پر اور دوسرے اولیاء خدا اور اس کے برگزیدہ بندوں پر طعن و تشنیع کی تھی اور اسی طرح مسٴلہ طلاق وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا مسلک اور جھت کے بارے میں اس کا عقیدہ اور اس بارے میں جوباطل اقوال اس سے نقل ھوئے ھیں یہ سب اور اس کے علاوہ اور بھی بھت سی باتیں اس کے قبائح میں سے ھیں ۔
شیخ ابن حجر ھیتمی نے ”تحفہ ،،میں لکھا ھے :خدا کی جسمیت یا اس کے جھت میں ھونے کا دعویٰ ایساھے کہ اگر کوئی اس کا عقیدہ رکھے تو کافر ھے ۔سفینةالراغب ص۴۴ طبع بولاق مصر ۱۲۵۵ ئ
شیخ یوسف نبھانی نے اپنی کتاب ”شواھدالحق ،،کے صفحہ ۱۷۷پر لکھا ھے :چوتھا باب ،ابن تیمیہ کے اوپرعلماء مذاھب اربعہ کے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئے گئے ایرادات اور بعض اھم مسائل جیسے خدا وندعالم کا ایک خاص جھت وسمت میں ھونا ،کے بارے میں اھل سنّت کی مخالفت کے بیان میں ۔پھر ایک جماعت کا ذکر کیا ھے جنھوں نے اس پر طعن کیاھے لکھا ھے :
”انھیں طعن کرنے والوں میں سے امام ابوحیان ھیںجو ابن تیمیہ کے دوست تھے ۔جب اس کی بدعتوں سے با خبر ھوئے تو اس کو بالکل چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس سے دور رھنے کی تاکید کی ۔اور انھیں میں سے امام عزالدین ابن جماعةھیں انھوں نے اس کی رد کی ھے اور اسے برا کھا ھے ۔،،
انھیں میں سے ملا علی قاری حنفی ھیں انھوں نے شفاء کی شرح میں لکھا ھے : حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے افراط سے کام لیا چنانچہ اس نے زیارت نبی کے لئے سفر کرنے کو حرام قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس کے مقابل والے نے بھی افراط سے کام لیا ھے چنانچہ کھا ھے :زیارت کا باعث تقرب خدا ھونا ضرویات دین میں سے ھے اور اس کا انکار کرنے والا کافر ھے ۔اور شاید یہ دوسرا قول حق سے قریب ھے کیونکہ جس کے مستحب ھونے پر اجماع ھو اس کا حرام قراردینا کفر ھوگاکیونکہ یہ مباح متفق علیہ کے حرام قرار دینے سے بڑہ کر ھے۔
اور انھیں میں سے شباب الدین خفاجی حنفی ھیں جن کے کلام کو اس طرح ذکر کیا ھے :ابن تیمیہ نے ایسی خرافات باتیں لکھی ھیں جن کا ذکر کرنا مناسب نھیں کیونکہ یہ باتیں کسی عقلمند انسان کی ھو ھی نھیں سکتیںچہ جائیکہ ایک پڑھے لکھے آدمی کی زبان اورقلم سے صادر ھو ں ۔چنانچہ ابن تیمیہ کا یہ کھنا کہ ”قبر پیغمبر اسلام کی زیارت حرام کام ھے ،،کذب محض،لغو ھے اوربکواس ھے ۔ اس کا یہ کھنا ”اس کے بارے مےں کوئی نقل موجود نھیں ھے ،،باطل ھے کیونکہ امام مالک ،امام احمد ،اور امام شافعی رضی الله عنھم کا مذھب یہ ھے کہ سلام ودعا میں قبر شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ھے اور یہ بات ان بزرگوں کی کتابوںمیں درج ھے۔
اور انھیں میں سے امام محمد زرقانی مالکی ھیں ۔(نبھانی نے ان کے کچہ کلام کو مواھب الدنیہ کی شرح میں نقل کیا ھے جسے ھم یھاںپیش کررھے ھیں:
”لیکن ابن تیمیہ نے اپنے لئے ایک جدید مذھب ایجاد کیا ھے اور وہ ھے قبروں کی تعظیم نہ کرنا ۰۰۰ کیا یہ شخص جس بات کا علم نھیں رکھتا اس کے جھٹلانے سے شرماتاھے ؟اور ابن تیمیہ کی طعن وتشنیع کے سلسلے میں اپنی پھلی والی بات دھرائی ھے ۔
اور انھیں میں سے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی۷۲۷ھئنے کشف الظنون میں ان کی ایک کتاب”الذرةالمضیہ فی الرد علی ابن تیمیہ ،،کا ذکر کیا ھے انھوں نے ان مسائل میں اس سے مناظرہ کیا ھے جن میں وہ مذاھب اربعہ سے منحرف ھوگیا ھے اور ان میں قبیح ترین مسئلہ اس کا انبیاء وصالحین خصوصاًسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت اور آپ کے وسیلہ سے خدا سے مانگنے کو منع کرنا ھے ۔
اور انھیں میں سے امام کبیرشھیر تقی الدین سبکی شافعی ھیں(ابن تیمیہ پر اعتراضات کو ان کی کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر الانام علیہ السلا م سے نقل کیا ھے) اس کتاب میں انھوں نے اسے بدعتی کھا ھے ۔ اور انھیں میں سے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی ھیں(انھوں نے اپنی کتاب فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ھے )اور انھیں میں سے امام عبد الروٴوف منادی شافعی ھیں انھوں نے شرح شمائل میں کھا ھے :اور ابن قیّم کا اپنے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے یہ کھناکہ ”مصطفی صلّی الله علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے پرور دگارکو اپنے دونوں شانوں کے درمیان اپنے ھاتہ رکہ کر دکھائے تو خدااس جگہ کو بالوں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن حجرمکّی نے اس طرح کی بات ان دو نوں (ابن تیمیہ وابن قیم)کی بد ترین گمراھی ھے اور یہ ان دونوں کے اس عقیدہ پر مبنی ھے کہ خدا جھت اور جسم رکھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں کے اس قول سے کھیں بزرگ وبرتر ھے اس کے بعد منادی نے لکھا ھے :اب میں کھتا ھوں ان دونوںکا بدعتیوں میں سے ھونا مسلّم ھے۔
اور انھیں میں سے ھمارے دوست عالم با عمل ،فاضل کامل ، شیخ مصطفی ابن احمد سطی جنبلی دمشقی حفظ الله وجزا ہ الله احسن الجزا ء ھیں ۔ مو صوف نے ایک مخصوص رسالہ تالیف کیا ھے جس کا نام ( النقول الشرعیہ فی الرد علی الو ھابیة ) ھے۔انھیں میں سے امام شھاب الدین احمد بن حجر ھیثمی مکی شافعی ھیں انھوں نے ابن تیمیہ پر بھت سخت ردو تنقید کی ھے ۔
اور نبھانی نے شواھدالحق کے ص ۱۹۱ پر پھلے تو ان لوگوں کے نام نقل کئے ھیں جنھوں نے ابن تیمہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر ابھی گزرا ھے ۔ اس کے بعد کھتے ھیں : لھذا ثابت ھوا اور آفتاب نصف النھار کی طرح روشن ھوا کہ علماء مذ ھب اربعہ نے ابن تیمیہ کی بد عتوں کے رد کرنے پر اتفاق کیا ھے اور کچہ علماء نے اس کی نقل کی صحت پر طعن کیا ھے تو بھلا جن مسائل میں دین سے انحراف کیا ھے اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی ھے خاص کر ان مسائل میں جو سید المر سلین سے متعلق ھیں اس کی کھلی ھوئی غلطی پر سخت طعن وتشنیع کیوں نہ کرتے ۔
حنفیوں میں سے جنھوں نے اس کی نقل کے صحیح ھونے پر طعن کیا ھے شھاب الدین خفاجی شارح الشفا ء ھیں جن کا ذکر گزر چکا ھے ۔ اور مالکیوں میں سے امام زرقانی ھیں شرح مواھب میں ، یہ تذ کرہ بھی گزر چکا ھے ۔ اور شافیوں میں سے امام سبکی ھیں جیسا کہ ان کی کتاب شفاء السقام میں مذ کور ھے اس میں انھوں نے یہ واضح کیا ھے کہ نہ صرف یہ کہ ابن تیمیہ کی رائے غلط ھے بلکہ اس کے نقل کئے ھوئے وہ احکام شرعیہ بھی صحیح نھیں ھیں جس کے ذریعہ اس نے اپنی بدعت کی تقویت پر استدلال کیا ھے اور انھیں مذاھب اربعہ کی طرف منسوب کیا ھے حالانکہ ائمہ مذا ھب اربعہ نے وہ احکام نھیں بیان کئے ھیں ۔اسی طرح اس کے نقل کی عدم صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی نے بھی اس کے اوپر اپنے اعترا ضات میں کیا ھے اور یہ بات پو شیدہ نھیں ھے کہ یہ چیز ایک عالم کے اندر بھت بڑاعیب اور بھت بڑا اخلاقی جرم ھے جو اس پر اعتماد کو ضعیف کر دیتا ھے اور اس کے منقولات کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ھے چاھے وہ احفظ حفاظ اورا علم علماء میں سے ھو اور ابن تیمیہ کے منقو لات کے معتبر نہ ھونے کی تقویت اس قول سے بھی ھوتی ھے جو اس کے بارے میں حافظ عراقی نے کھا ھے۔ کلام نھبانی تمام ھوا ۔شواھد الحق ص ۱۷۷تا ۱۹۱
ابن تیمیہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوؤد حنفی نے بھی اپنی کتاب ( نظرات فی الکتب الخالدة) ص ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۳۹۹ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ھے اور اسے بدعتی قرار دیا ھے اور حاشیہ میں اس کلمہ پر نوٹ لگایا ھے کہ : اکثر علماء اھل سنّت نے اس کے بد عتی ھونے کا قول اختیار کیا ھے رہ گئے صوفیہ تو انھوں نے اس پر اجماع کیا ھے ، امام تقی الدین سبکی اور ابن تیمیہ کے درمیان فقہ وعقیدہ کے اکثر گوشوں کے بارے میں خط وکتابت ھوتی ھے ۔دیکھئے ھماری کتاب (التشریع الا سلامی فی مصر ) انتھی ۔
عبدالغنی حمادہ اپنی کتاب ( فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین ) طبع سوریہ اَدْلَبْ ۹۱ ۱۳ء ص ۲۳ پر اس طرح وھابیت پر طعن کر تے ھیں :
شیخ وھابیت ابن تیمیہ کے بارے میں علامہ مصر علاء الدین بخاری نے لکھاھے کہ : ابن تیمیہ کافر ھے جیسا کہ اس کے زمانے کے بزر گ عالم زین الدین حنبلی نے کھا ھے کہ میرا اعتقاد یہ ھے کہ ابن تیمیہ کافر ھے اور کھتے تھے کہ امام سبکی رضی الله عنہ ابن تیمیہ کی تکفیر سے معذور ھیں کیونکہ اس نے امت اسلامیہ کو کافرقرار دیا ھے اور اسے قول خدا :”اتخذ وااحبار ھم ورھبانھم ار بابا من دون الله ،،کی تفسیر کر تے ھوئے یھودو نصاریٰ سے تشبیہ دی ھے۔ علماء مذاھب نے لکھا ھے کہ : ابن تیمیہ زندیق ھے کیونکہ وہ پیغمبر اسلام اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی توھین کرتا تھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبیہ اور اسے صاحب جسم قرار دینے سے بھری ھوئی ھیں ۔
اور اس کے زمانے کے علامہ ابن حجر رضی الله عنہ نے کھا ھے ۔ ابن تیمیہ ایک ایسا بندہ ھے جسے خدا نے رسوا ، گمراھ، اندھا ، بھرا اور ذلیل کیا ھے ۔اس کے خلاف مذاھب اربعہ میں سے اس کے دور کے علماء اٹہ کھڑے ھوئے اور اکثر نے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ھے ۔علماء نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ نے صحابہ کرام رضی الله عنھم کو کافر قرار دینے میں خوارج کے مذ ھب کا اتباع کیا ھے ۔
اور ائمہ حفاظ نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ خوارج میں سے ھے ،جھوٹا ھے ، شریر ھے ، افترا پر داز ھے ۔”فضل الذا کرین ،،میں لفظ بہ لفظ مو جود ھے ۔
اور ابو حامد مرزوق شامی نے اپنی کتاب ۔” التوسل بالنّبی وبا لصالحین ،،مطبوعہ تر کیہ طبع آفسٹ ۸۴ ۱۹ ءء کے ص ۴ پر لکھا ھے:
” ایک بار ابن تیمیہ نے دمشق کے ممبر پر جانے کے بعد کھا : ” خدا وند عالم اسی طرح عرش سے اتر تا ھے جیسے میں ممبر سے اتر رھا ھوں اور ایک زینہ نیچے اتر کر دکھایا ھے ، ، اس کے بعد ابو حامد نے لکھا ھے کہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں فقیہ سیاح ابن بطوطہ مغری بھی ھیں اور ” التوسل بالنّبی وبالصالحین ،،کے ص ۶ پر ابن تیمیہ سے نقل کیا ھے کہ ابن تیمیہ نے لکھا ھے کھ” خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ،، اور اسی کتاب کے ص ۲۱۶ پر کتاب ” دفع شبہ من شبّہ وتمرّد ،،طبع مصر ۵۰ ۱۳ء ہ مطبع عیسیٰ حلبی ، تصنیف ابو بکر حصنی دمشقی متوفی ۸۲۹ ء سے نقل کر تے ھوئے لکھا ھے کہ مصنف مذکور نے ابن تیمیہ کے بارے میں کھا ھے :” میں نے اس خبیث (ابن تیمیہ ) کے کلام کو دیکھا جس کے دل میں انحراف کا مرض ھے جو فتنہ پیدا کر نے کے لئے متشابہ آیات و احادیث کا اتباع کر تا ھے اور عوام و غیر عوام میں سے ان لوگوں نے اس کی پیروی کی جس کے ھلاک کر نے کا خدا نے ارادہ کیا تھا ، میں نے اس میں ایسی باتیں پائیں جن کو ادا کر نے کی مجھ میں قدرت نھیں ھے اور نہ میری انگلیوں اورقلم میں انھیں تحریر کر نے کی جراٴت ھے کیو نکہ اس نے پر وردگار عالم کی اس بات پر تکذیب کی ھے کہ اس نے کتاب مبین میں اپنے کو منزہ قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس کے بر گزیدہ اور منتخب افراد خلفاء راشدین اور ان کے صالح پیروکاروں کی توھین اور عیب جوئی کی ھے لھذا میں نے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ جانا اور صرف ان باتوں کو ذکر کیا جنھیں ائمہ متقین نے ذکر کیا تھا اور جن پر ان کا اتفاق ھے وہ یہ کی ابن تیمیہ بد عتی اور دین سے خارج ھے ۔
حافظ ابن حجر نے ” الفتاوی الحدیثیہ ،، ص ۸۶ پر لکھا ھے کہ ” ابن تیمیہ ایسا بندہ ھے جسے خدا نے رسوا ، گمراہ ، اندھا ، بھرہ ، اور ذلیل بنا دیا ھے اور اسی بات کی تصریح ان اماموں نے بھی کی ھے جنھوں نے اس کے فاسد ھونے اور اس کی باتوں کو جھوٹ ھونے کا بیان کیا ھے اور جو شخص اسے جاننا چاھتا ھو وہ امام مجتھد ابوالحسن سبکی جن کی ،امامت ، جلالت ، شان اور مرتبہ اجتھاد تک پھنچنے پر اتفاق ھے ان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ امام عزّ بن جماعہ اور شافعیہ ، مالکیہ ، حنفیہ ، میں سے ان کے ھم عصر علماء کے کلام کو ملا حظہ کریں ، ابن تیمیہ نے صرف متاخرین صوفیہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفاء نھیں کی ھے بلکہ عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی الله عنھما ،، جیسے حضرات پر بھی اعتراض کیا ھے۔
خلاصہ یہ کہ اس کے کلام کی کوئی قدرو قیمت نھیں ھے اور چاھئے کہ اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بد عتی گمراہ ،گمراہ کن ، جاھل اور غلو کر نے والا ھے ، خدا اس کے ساتھ اپنے عدل سے معاملہ کرے اور ھمیں اس کے طریقہ ، عقیدہ ، اور عمل سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔
کلام ابن حجر تمام ھوا اسے ھم نے تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ص ۹ طبع مصر ۱۳۱۸ ء ہ تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی سے نقل کیا ھے۔
اس کے بعد کھا کہ وہ خدا کے لئے سمت کا قائل ھے جس کا لازمی نتیجہ یہ ھے کہ وہ خدا کے لئے جسمیت ، محاذات ،اور استقرار کا قائل ھے ۔
کتاب ”التوسل با لنّبی وبا لصالحین ،، میں ابن تیمیہ پر اور بھی بھت سے طعن ھیں جن کو چند عناوین کے تحت ذکر کیا ھے ، جو حسب ذیل ھیں ۔
۰ علّامہ شھاب الدین احمد بن یحییٰ حلبی کی جھت کے بارے میں ابن تیمیہ پر رد۔
۰ ابن تیمیہ کے اس زعم کا ابطال کہ خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ۔
۰ عقیدہ ابن تیمیہ جس کے سبب اس نے جماعت مسلمین سے مخالفت کی ھے اور انھیں برا کھا ھے جسے قر آن میں طعن کر نے والے او باش ملحدین سے حاصل کیا ھے ۔
۰ ابن تیمیہ کی تمام علماء اسلام سے مخالفت ۔
ابن تیمیہ کے فتوٴوں کے نمو نے
عالم کبیر شیخ محمد بخیت حنفی عالم جامعہ ا زھرنے اپنی کتاب ”تطھر الفواد من دنس الا عتقاد ،،طبع مصر مطبو عہ ۱۳۱۸ئکے ص ۱۲ پر اس شخص کے کچہ فتوؤں کا ذکر کیا ھے جن میں سے بعض نمو نے ھم یھاں پر پیش کر رھے ھیں تا کہ ایک غیر جانبدارقاری کو اس کے انحراف ، فاسد عقیدے اور منحرف فتوؤں میں علماء اسلام سے اس کی مخالفت کا زیا دہ سے زیا دہ علم ھو سکے ۔
(۰) ” اگر کو ئی شخص جان بو جہ کر نماز تر ک کر دے تو اس کی قضا وا جب نھیں ھے۔“
(۰) ” حیض والی عورت کے لئے خانہ ء کعبہ کا طواف کرنا جائز ھے اور اس پر کوئی کفارہ نھیں ھے۔“
(۰)” تین طلاق ایک طلاق کی طرف پلٹایا جائے گا“ اور اس بات کا دعویٰ کر نے سے پھلے خود اسی نے نقل کیا ھے کہ اجماع مسلمین اس کے بر خلاف ھے ۔
(۰) ” جس اونٹ کے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں وہ کاٹنے والے کے لئے حلال ھے اور وہ جب تاجروں سے لے لیا جائے تو زکوٰة کے عوض کافی ھے اگر چہ زکوٰة کے نام سے نہ لیا گیا ھو ۔،،
(۰)” بھنے والی چیزوں میں اگر جاندار مثلا چوھا مر جائے تو یہ چیزیں نجس نھیں ھو تیں“
(۰)” جنب کو چاھئے کہ حالت جنا بت میں نافلہ شب پڑھے اور تا خیر نہ کرے کہ فجر سے پھلے غسل کر کے پڑھے گا اگر چہ اپنے ھی شھر میں ھو ۔“
(۰) ” وقف کرنے والے کی شرط کا کوئی اعتبار نھیں ھے بلکہ اگر اس نے شا فعیہ پر وقف کیا ھے تو حنفیہ پر صرف کیا جائے گا اور بر عکس ،اور قاضیوں پر وقف کیا ھے تو صو فیہ پر صرف کیا جائے گا ۔،،
اسی طرح عقائد اور اصول دین کے مسائل میں بھی انحراف کا مر تکب ھوا ھے۔
(۰)” ْ خدا وند عالم محل حوا دث ھے“تعالیٰ عن ذالک علوا کبیرا
(۰)”خدا مرکب ھے اس کی ذات ویسے ھی محتاج ھے جیسے کل اپنے جزء کا محتاج ھوتا ھے ”تَعَا لیٰ عَنْ ذَالِکَ،،
(۰)”خدا جسم رکھتا ھے،وہ خاص سمت میں ھے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھوتا ھے ،وہ ٹھیک عرش کے برابر ھے نہ چھوٹا نہ بڑا“(خدا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور صریحی کفر سے کھیں بالا تر ھے ۔خدا اس کے پیروٴوں کو رسوا کرے اور اس کے معتقدین کا شیرازہ منتشر کرے )
(۰)”جھنم فنا ھوجائے گی ،انبیاء معصوم نھیں ھیں۔“
(۰)”رسول اللهصلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی کوئی وقعت نھیں ھے ۔ان سے توسل نہ کیا جائے۔“
(۰)”پیغمبر اسلام کی زیا رت کے لئے سفر کرنا معصیت ھے اس سفر میں نمازقصر نھیں ھوگی۔“
سمِ اللهِ الرَّ حمٰنِ الرَّ حِیِم
” واذ اقیل لھم اتبعو اما انزل الله، قالو ا: بل نتّبع ما وجدنا علیہ آبائنا،،
”لقد کنتم انتم وآباوٴ کم فی ضلال مبین ،، ) القر آن الحکیم)
” اور جب ان سے کھا گیا کہ خدا نے جو (دین ) نازل کیا ھے اس کی پیروی کرو ( تو ) اُن لوگوں نے جواب دیا کہ ( نھیں ) بلکہ ھم اس ( دین ) کی پےروی کر تے ھیں جس پر ھم نے اپنے بزرگوں کو پایا ھے ،، ” یقینا تم لوگ کھلی ھوئی گمراھی میں ھو اور تمھارے بزرگ بھی کھلی ھوئی گمراھی میں تھے ،، (قرآن کریم (
مسلمان بھائیوں
کیا آپ وھابیت کی حقیقت سے آگاہ ھیں ؟
اور کیا آپ جانتے ھیں کہ وھابی مسلک کو محمد ابن عبدالوھاب نجدی متوفی ۰۶ ۱۲ئہ نے ایجاد کیا ھے ۔ اور اس نے اپنے تمام اصول احمد ابن تیمیہ حرانی کے افکار سے حاصل کئے ھیں ۔؟
اور کیا آپ یہ بھی جانتے ھیں کہ یہ مذ ھب مسلمانوں کے چاروں مذاھب کے خلاف ھے ؟
اور کیا اس سے بھی با خبر ھیں کہ چاروں مذاھب وھابی مسلک کے قائدین اور اس کے پیرو کاروں کو گمراہ اور راہ ایمان سے خارج بتاتے ھیں ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
”ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل الموٴ منین نولّہ ماتولّیٰ ، ونصلہ جھنّم وسائت مصیرا۔ ،، صدق الله العظیم
” اور جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول خدا کی مخالفت کرے اور اھل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر چھوڑ دیں گے اور جھنم میں جلائیں گے اور یہ کتنا برا ٹھکانا ھے ،،۔
اور کیا آپ لوگ جانتے ھیں کہ ھمارے اھل سنّت علماء کی ایک بڑی جماعت نے آپس میں اختلاف مذاھب کے با وجود وھابی مسلک کے مو جد اور اس کے استاد اور امام ، ابن تیمیہ کی رد میں بھت سی کتابیں لکھی ھیں ۔اور وھابی مسلک کو باطل قرار دیا ھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ابن عبدالوھاب نجدی اور اس کے عقائد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ جانتے ھیں ؟کہ علماء مکہ نے محمد ابن عبد الوھاب کے ملحد ھو نے کا فتویٰ دیا ھے اور اسے خبیث ،بے شرم ،بے بصیرت اور گمراہ بتایا ھے۔ اور بتایا ھے کہ یہ شخص جھوٹا تھا ،قرآن و حدیث کے معنی میں تحریف کیا کرتا تھا خدا پر بھتان باندھتا تھااور قرآن کا منکر تھا اُنھوں نے اس پر بارھا لعنت کی ھے ۔
ھاں!یہ تمام باتیں حق کے حامی شاہ فضل رسول قادری نے اپنی کتاب ”سیف الجبار المسلوک علیٰ اعداء الابرار ،،میں لکھی ھیں ۔یہ کتاب ۱۹۷۹ءء میں ایک غیرت مند مسلمان حسین حلمی استانبولی نے تر کیہ میں شائع کی تھی ۔
عراق کی ایک مسلّم ومتفق علیہ عظیم علمی شخصیت شیخ جمیل آفندی زھاوی نے اپنی کتاب ”الفجر الصادق ،،میں صفحھ،۱۷پر محمد ابن عبدالوھاب کے حالات میںتحریر فرمایا ھے :یہ محمد ابن عبد الوھاب شروع میںایک طالب علم تھا ،،علماء سے علم حاصل کرنے کی خاطر مکہ ،مدینہ آتا جاتا رھتا تھا۔مدینہ میںجن علماء سے اس نے تحصیل علم کیاوہ یہ ھیں :شیخ محمد ابن سلیمان کردی ،شیخ محمد حیاةسندی ،یہ دونوں استاد اور دوسرے جن علماء سے یہ پڑھتا تھا،وہ حضرات اس کے اندر گمراھی و الحاد کو بھانپ گئے تھے اور کھتے تھے کہ خدا عنقریب اسے گمراہ کرے گا اور اس کے ذریعہ دوسرے بدنصیب بندے بھی گمراہ ھوںگے چنانچہ ایسا ھی ھوا۔اور اسکے باپ عبد الوھاب جو علماء صالحین میں تھے،انھوںنے بھی اس کی بے دینی کا اندازہ لگا لیا تھا اور لوگوںکو اس سے دور رھنے کا حکم دیتے تھے۔اسی طرح اس کے بھائی شیخ سلیمان بھی اس کے خلاف تھے بلکہ انھوں نے تو محمدابن عبدالوھاب کی ایجاد کردہ بدعتوں اور منحرف عقیدوں کی رد میں ایک کتاب بھی لکھی ۔وہ اسی کتاب کے صفحھ۱۸میں لکھتے ھیں کہ اس(محمد ابن عبدالوھاب )پر خدا کی لعنت ھو یہ اکثر پیغمبر اسلام کی مختلف الفاظ میں توھین کرتا تھا ،ً آپ کو پیغمبر کے بجائے ”طارش،،کھتا تھا جس کا مطلب عوام کی زبان میں وہ شخص ھے جسے کوئی کسی کے پاس بھیجے۔ حالانکہ عوام بھی صاحب عزت وقابل احترام شخصیت کے لئے یہ کلمہ نھیں استعمال کرتے ۔یھاں تک کہ اس کے بعض پیرو پیغمبر کی شان میں کھتے ھیں :”میرا یہ عصا محمد سے بھتر ھے ۔کیونکہ میں اس سے کام لیتا ھوںاور محمد مر گئے ھیں۔اب ان سے کوئی فائدہ حاصل نھیں ھوسکتا۔ محمد ابن عبد الوھاب یہ سب سن کر خاموش رھتا تھا اور اپنی رضا ظاھر کرتا تھا آپ جانتے ھیں یہ بات مذاھب اربعہ میں کفر مانی جاتی ھے۔
اسی طرح یہ پیغمبر اسلام پر درود بھیجنے کو برا سمجھتا اور شب جمعہ میں رسول الله صلی الله علیہ و آلہ و سلّم پر درود پڑھنے سے روکتا تھا ۔منبروں پر بلند آواز سے درود پڑھنے سے منع کرتا اور اگر کوئی شخص ایسا کر تا تو اسے سخت سزا دیتا تھا یھاں تک اس نے ایک نابینا موٴذن کواسی بات پر قتل کردیا تھا کہ اسے اذان کے بعد درود پڑھنے سے منع کیا تھا لیکن وہ باز نھیں آیا تھا ۔
آپ کو جان کر بھی حیرت ھوگی اسماعیل پاشا بغدادی نے ”ھدیةالعا رفین ،،میں جو پھلے استانبول ،ترکیہ میں ۱۹۵۱ئئمیں طبع ھوئی پھر دوبارہ بیروت میں ۱۴۰۲ھئمیں آفسیٹ سے طبع ھوئی ،کی ج۲صفحہ ۳۵۰پرذکر کیا ھے :محمد ابن عبدالوھاب نے ایک کتاب ان مسائل سے متعلق لکھی ھے جس میں اس نے پیغمبر کی مخالفت کی تھی ،اور پیغمبر کی مخالفت کا مطلب آپ سے دشمنی کرنا ھے جس کے متعلق خدا نے فرمایا ھے :”ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل الموٴ منین نولّہ ماتولّیٰ ، ونصلہ جھنّم وسائت مصیرا۔
جوراہ ھدایت روشن ھوجانے کے بعد پیغمبرکی مخالفت کرے اس کا ٹھکانا جھنّم ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھی گئی کتابیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام جانتے ھیں کہ شیخ سلیمان ابن عبدالوھاب ،محمد ابن عبدالوھاب کے حقیقی بھائی نے سب سے پھلے اس بد عت ایجاد کرنے والے کی رد میں کتاب لکھی جس کا نام ” فصل الخطاب فی الرد علیٰ محمد ابن عبدالوھاب ،، رکھا تھا ۔ اس کا اسماعیل پاشا نے ” ایضاح المکنون ج ۲ ص ۱۹۰ طبع بیروت دار الفکر ۱۴۰۲ ئ
اور عمر رضا کحالہ نے ” معجم الموٴ لفین ،، ج ۴ ص ۲۶۹ طبع بیروت ” دارا حیاء الترات العربی ،، میں ذکر کیا ھے
اور محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک شیخ عبدالله بن عیسیٰ صغانی ھیں ۔ انھوں نے جو کتاب لکھی اس کا نام ” السیف الھندی فی ابانة طریقةالشیخ النجدی ،، ھے۔ اس کا ذکر بھی اسماعیل پاشا نے ” ھدیة العارفین ،، ج ۱ ص ۴۸۸ میں کیا ھے
اس کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک سید علوی ابن حداد بھی ھیں جنھوں نے کتاب ”مصباح الانام ،،و ”جلاء الظلام فی رد شبہ البدعی النجدی التی اضلّ بھا العوام،،یہ کتاب مطبع عامر کے توسط سے ۱۳۲۵ھئمیں طبع ھوئی ۔اس کا ابو حامد ابن مرزوق نے اپنی کتاب ”التوسل بالنبی وبالصالحین ،،میںکیا ھے۔ یہ کتاب بھی ابن عبد الوھاب کے عقائد کی رد میں لکھی گئی ھے ۔موصوف نے ایک اور کتاب بھی بنام ”السیف الباتر لعنق المنکر علی الاکابر ،،لکھی ھے اس کا ذکر بھی کتاب ”التوسل بالنبی وبالصالحین ،،صفحھ۲۵۰پر ھے ۔
محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں میںسے ایک احمد ابن علی البصری ھیں جو قبائی کے نام سے مشھورتھے۔ انھوں نے اس کے ایک رسالہ کی رد میں ”فصل الخطاب فی رد ضلا لات ابن عبد الوھاب ،،کے نام سے ایک کتاب لکھی ھے۔ اس کا تذکرہ بھی ابو حامد مرزوق نے” التوسل بالنبی وبالصالحین،،میں صفحھ۲۵۰پرکیا ھے اور اسماعیل پاشا بغدادی نے ”ایضاح المکنون،،میں ج۲صفحھ۱۹۰پراس کتاب کا نام ”فصل الخطاب،، ذکر کیا ھے۔
محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں سے ایک بزر گوار سید احمد ابن زینی دحلان ،مفتی مکہ مکرّمہ بھی ھیں۔ انھوں نے ”فتوحات اسلامیھ،،کی ج۲طبع مصر ۱۳۵۴ھئمطبع مصطفی محمد میں اس کی رد کی ھے اوراس پر طعن کیا ھے (صفحھ۲۵۱سے ۲۶۹تک دیکھئے )
مر حوم زینی دحلان نے لکھا ھے کہ محمد ابن عبد الوھاب کی رد میں بھت سی کتابیں اوررسالے لکھے گئے ھیں لیکن موصوف نے ان کتابوں کے نام نھیں ذکر کئے ۔
شیخ یوسف نبھانی نے بھی اس کی رد میں ”شواھدالحق فی التوسل بسید الخلق،،کے نام سے ایک کتاب لکھی ھے جوایک جلد میں طبع ھوئی ھے ۔اس کا ذکر بھی ”التوسل بالنبی وبالصالحین،،صفحھ۲۵۲پر ھے۔ اس کتاب کے ص۱۵۱پر سید احمد ابن دحلان کی کتاب ”خلاصةالکلام فی امراء البلد الحرام ،،سے نقل ھے۔
ان شبھات کا ذکر جن سے وھابیت نے تمسک کیا
مناسب یہ ھے کہ پھلے ان شبھات کا ذکر کریںجن سے محمد ابن عبد الوھاب نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تمسک کیا۔
پھر ان کی رد پیش کریں گے اور یہ بیان کریں گے کہ جن باتوں کو اس نے دلیل بنایا ھے وہ سب جھوٹ ،افتراء اور عوام فریبی ھے ۔
پھر ”شواھد الحق،،کے ص۱۷۶میں لکھاھے۔
محمد ابن عبدالوھاب کے پاس اس کے استاد کردی کا خط
محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والوں میں سے ایک اس کے استاد شیخ محمد ابن سلیمان کردی شافعی ھیں انھوں نے منجملہ ان باتوں کے جو خط میں اس کی رد کرتے ھوئے لکھا تھا یہ باتیں بھی لکھی تھیں :
عبدالوھاب کے بیٹے !سلام ھو اس پر جس نے راہ راست کی پیروی کی، میں تمھیں الله کے لئے نصیحت کرتا ھوں کہ اپنی زبان کو مسلمانوں کی ایذا رسانی سے باز رکھو !
چنانچہ اگر کسی شخص کے بارے میں سنو کہ وہ غیر خدا جس سے مدد مانگی جائے اس کے موثر ھونے کا عقیدہ رکھتا ھے تو اسے حق پھچنواؤ اور دلیل پیش کرو کہ غیر خدا میں تاثیر نھیں ھے ۔ اب اگر وہ انکار کرے تو صرف اسے کافر قرار دو ۔ تمھیں مسلمانوں کے سواد اعظم کو کافر قرار دینے کا کوئی حق نھیں ھے جبکہ تم خود سواد اعظم سے منحرف ھو اور جو شخص سواد اعظم سے منحرف ھو اس طرف کفر کی نسبت دینا زیادہ مناسب ھے ،کیوں کہ اس نے اھل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کی ھے خدا وند عالم نے فرمایا ھے :
” ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الھدی ویتّبع غیر سبیل المو منین نولّہ ما توّلّیٰ و نصلّہ جھنّم و سائت مصیرا ،،
” کہ جو شخص راہ ھدایت روشن ھو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اھل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کی پیروی کرے تو ھم اسے اس کے باطل راستہ پر چھوڑ دیں گے اور اسے جھنم میں جلائیں گے اور یہ برا ٹھکانا ھوگا ،، اور بھیڑ یا گلہ سے الگ ھو جانے والی بکری کو ھی کھاتا ھے ۔ انتھیٰ۔
اس کے بعد لکھتے ھیں کہ : مذا ھب اربعہ میں سے جن لوگوں نے اس کی رد کی ھے ۔ خواہ مشرق کے رھنے والے ھوں یا مغرب کے ، بے شمار ھیں ۔ کسی نے مبسوط کتاب کی صورت میں رد لکھی اور کسی نے مختصر اور بعض نے صرف امام احمد ابن جنبل کے نصوص سے اس کی رد کی ھے تاکہ یہ واضح ھو جائے کہ وہ جھوٹا ھے ، اپنے کو امام احمد بن جنبل کے مذ ھب کی طرف نسبت دینے میں فریب دھی سے کام لے رھا ھے اور اپنے کلام کو اس طرح تمام کیا ھے کھ”ھم نے جو کچہ ذکر کیا اس سے وہ تمام باتیں باطل ھو جاتی ھیں جو محمد ابن عبدالوھاب نے گڑھی ھیں اور جن کے ذریعہ مومنین کو دھوکہ دے رھا ھے اور خود اس نے اور اس کے پیروؤںنے ان کی جان ومال کو مباح قرار دے رکھا ھے ،،۔ (خلاصہ کلام سید احمد دحلان )
کچہ اور افراد جنھوں نے اس کی رد میں کتابیں لکھیں
محمد ابن عبدالوھاب کی رد میں لکھنے والوں میں شیخ عطاء مکی بھی ھیں ، انھوں نے ” انصار الھند ی فی عنق النجدی ،، نام کی کتاب لکھی ۔ اس کا تذ کرہ ” التوصل بالنبی و بالصا لحین ،، میںص ۲۵۰ پر ھے
اسی طرح اس کی رد میں لکھنے والوں میں بیت المقدس کے ایک عالم ھیں جنھوں نے ” السیوف الصقال فی اعناق من انکر علی الاو لیا ، بعد الا نتقال ،، لکھی اس کا تذ کرہ بھی ”التوسل بالنّبی و با لصالحین ،،میں ص ۲۵۰ پر ھے ۔ ایک اور بزرگ شیخ ابراھیم حلمی قادری اسکندری نے بھی اس کی رد کی ھے ، انھوں نے جو کتاب لکھی ھے اس کا نام ” جلال الحق فی کشف احوال اشرار لخلق ،، ھے۔ یہ کتاب اسکندریہ میں ۵۵ ۱۳ء ہ میں طبع ھوئی ھے اس کا تذ کرہ ” التوسل بالنبی وبالصالحین ،،میں ص ۲۵۳ پر ھے ۔
شیخ مالکی جزائری نے بھی اس کی رد کی ھے۔ انھوں نے ” اظھار العقوب ممن منع التو سلّ با لنّبی والو لی الصدوق ،، نام کی کتاب لکھی ھے۔ اسے صاحب کتاب ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین ،، نے ص ۲۵۲ پر ذکر کیا ھے ۔شیخ عفیف الدین عبدالله ابن داؤد جنبلی نے بھی اس کی رد میں ” الصّواعق والر عود ،، نام کی کتاب لکھی۔ اس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین ،، کے ص ۲۴۹ پر ھے اور سید علوی ابن احمد حداد کا قول نقل کیا ھے کہ ’ بصرہ ، بغداد ، حلب ، اور احساء کے بزرگ علماء نے بھی اس کتاب کی تائید کی ھے اور اپنی تفریظوں میں بھی اس کی تعریف کی ھے ۔اور اس کی رد لکھنے والوں میں ایک شیخ عبدالله ابن عبد اللطیف شافعی ھیں ۔ انھوں نے ” تجرید الجھاد لمدی الا جتھاد ،، ص ۲۴۹ پر ھے ۔
اس کی رد کرنے والوں میں شیخ محقق محمد ابن الرحمن بن عفالق الحنبلی ھیں انھوں نے کتاب تحکم المقلدین بمن ادّعی تجدید الدین ،،لکھی ۔اس کا ذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںص۲۴۹پرھے اور یہ بھی ذکر ھے کہ انھوں نے ھر اس مسئلہ کی جسے محمد ابن عبد الوھاب نے گڑھا ھے خوب رد کی ھے۔
اسی طرح طائف کے ایک عالم شیخ عبد الله ابن ابراھیم میر غینی ھیں انھوں نے ”تحریض الاغبیاء علی الاستغاثہ بالانبیاء والاولیاء ،،نامی کتاب لکھی ھے اس کا ذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۰ پرھے ۔
شیخ طاھر سنبل حنفی انھوںنے ”الانقصار للاولیاء الابرار ،،نام کی کتاب لکھی اس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۰ پرھے ۔
شیخ مصطفی حمامی مصری نے بھی اس کی رد میں ”غوث العباد ببیان الرشاد ،،نام کی کتاب لکھی جو طبع ھو چکی ھے اس کا ذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۳ پرھے
اس کی رد لکھنے والوں میں علامہ محقق شیخ صالح کواشی تونسی بھی ھیںانھوں نے اس کی ردمیں ”رسالہ مسجعہ محکمة،،لکھا اس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۱ پرھے اور لکھا ھے کہ علامہ موصوف نے اس رسالہ کے ذریعہ ابن عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی رد کی ھے ۔علامہ مذکور کا یہ رسالہ ”سعادة الدار ین فی الرد علی الفریقین ،،کے ضمن میں طبع ھواھے نیز اس کی رد تونس کے شیخ الاسلام اسماعیل تمیمی مالکی نے بھی لکھی ھے ۔انھوں نے رد علی محمد ابن عبدالوھاب کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا ذکر ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،صفحھ۲۵۱ پرھے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذکر کیا ھے کہ مذکورہ کتاب کافی محققانہ اور ٹھوس ھے اس کے ذریعہ ابن عبدالوھاب کے ایک رسالہ کی ردکی گئی ھے یہ کتاب تونس میں شائع ھوئی ھے
علامہ مفتی فاس الشیخ مھدی وزّانی نے بھی اس کی رد کی ھے انھوں نے جواز توسل کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ھے،اس کاذکر” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،میںصفحھ۲۵۲ پرھے ۔
اور ابو حامد ابن مرزوق نے ” التوسلّ با لنّبی و با لصالحین،،کے صفحھ۱ پرذکر کیا ھے جس کے الفاظ یہ ھیں:ائمہ اربعہ کے بعض پیروٴوں نے اس کی اور اس کے مقلدین کی بھت سی عمدہ تالیفات کے ذریعہ ردکی ھے۔
اور حنبلوں میں اس کی رد کرنے والوں میںسے اس کے بھائی سلیمان ابن عبدالوھاب ھیں اور شام کے حنبلیوں میں سے آل شطیٰ اور شیخ عبداللهقدومی نابلسی ھیں جنھوں نے اپنے سفرنامہ میں اس کی رد لکھی اوریہ سب کتابیں”زیارةالنبّی صلی الله تعالی علیہ وسلم والتوسل بہ وبالصا لحین من امتھ،،کے حاشیہ پر شائع ھوئی ھیں اور کھا کہ محمد ابن عبدالوھاب اپنے مقلدین سمیت خوارج میں سے ھے ۔ جن لوگوں نے اس مطلب پہ نص کی ھے ان میں سے علامہ محقق سیّد محمد امین بن عابدین بھی ھیں جنھوں نے اپنے حاشیہ ” ردالمختار علیٰ الدر المختار ،، میں باغیوں کے باب میں اور شیخ صاوی مصری نے جلالین کے حاشیہ میں صریحاً لکھا ھے کہ یہ اور اس کے مقلدین خوارج میں سے ھیں کیوں کہ یہ ” لاالھٰ الّا الله محمدرسول الله ،،کھنے والوں کو اپنی رائے سے کافر کھتے ھیں اور اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ مسلمانوں کو کافر کھنا خوارج اور دوسرے بدعت کاروں کی علامت ھے جو اھل قبلہ میں سے اپنے مخالفین کو کافر قرار دیتے ھیں ۔
محمد ابن عبدالوھاب اور اس کے ماننے والوں کی بنیادی عقائد فقط چار ھیں ۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق کے مشابہ قرار دینا ، الوھابیت اور ربوبیت دونوں کی توحید کو ایک ماننا ، نبی صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلّم ،کی عزت نہ کرنا ، اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا ، اور یہ ان تمام عقائد میں احمد ابن تیمیہ کا مقلد ھے اور احمد ابن تیمیہ پھلے عقیدہ میں کرامیہ اور مجسمیہ جنبلیہ ( جو خدا کے لئے ھاتہ پاؤں وغیرہ اعضائے جسم کے قائل ھیں ) کا مقلّد ھے اور چوتھے عقیدہ میں ان دونوں فرقوں اور فرقئہ خوارج کا پیرو ھے ۔
اور وھابیوں کے نزدیک نقل دین کے سلسلہ میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد افراد ابن تیمیھ، اس کے شاگرد ابن قیم اور محمد ابن عبدالوھاب ھی ھیں ۔ چنانچہ علماء مسلمین میں سے کسی عالم پر وہ اعتماد نھیں کرتے اور اس کی کوئی قدر نھیں جانتے جب تک کہ اس کے کلام میں کوئی ایسا شبہ نہ پایا جاتا ھو جو ان کی رائے اور خواھش کی تائید کرے چنانچہ یہ وسیع دین اسلام ان کے نزدیک تین مذکورہ بالا افراد میں محصور ھے ۔نیز کتاب التوسل النبّی ص۲۴۹ پراس عنوان کے تحت ”محمد ابن عبدالوھاب کی رد کر نے والے علماء خواہ اس کے ھم عصر ھوں یا اس کے بعد میں آنے والے ان کی ایک جماعت کا تذکرہ کیا ھے جن میںمندرجہ ذیل نام گنائے ھیں :علامہ عبدالوھاب ابن احمد برکات شافعی احمدی مکّی ،علامہ سید منعمی ،جب محمد ابن عبدالوھاب نے ایک ایسی جماعت کو جنھوں نے اپنے سر نھیں منڈائے تھے قتل کردیا تو موصوف نے ایک قصیدہ کے ذریعہ اس کی رد کی تھی ۔
علامہ سید عبدالرحمن جو احساء کے بزرگ ترین علماء میں سے ھیں ،انھوں نے ایک زور دار قصیدہ کے ذریعہ اس کی رد کی اس قصیدہ میں سرسٹہ (۶۷)اشعار ھیںجس کا مطلع یہ ھے :
بدت فتنة اللیل قدغطّت الافق وشاعت فکادت تبلغ الغرب والشرقا
(فتنہ شب ظاھر ھوا جس نے افق کو اپنی لپیٹ میں لے لیااور پھیلاتو مغرب اور مشرق تک پھونچ گیا۔)
شیخ عبد الله ابن عیسیٰ مویسی ،شیخ احمد مصری احسائی ،شیخ محمد ابن شیخ احمد ابن عبد الطیف احسائی اور ص۱۰۵پر اس عنوان کے تحت کھ” محمد ابن عبدالوھاب پیغمبر پر درود بھیجنے سے منع کرتا تھا ،،لکھا ھے جس کے الفاظ یہ ھیں اور ”صاحب کتاب ”مصباح الانام وجلاء الظلام فی رد شبہ البدعی النجدی التی اضلّ بِھَا الْعَوام ،،سید علوی ابن احمد ابن حسین ابن سید عارف بالله عبد الله ابن علوی حداد نے اپنی کتاب میں اس کا ذکرکیا ھے ،پھرسید احمد بن زینی دحلان نے اپنے رسالہ ”الدررالسنیةفی الرد علی الوھابیة،،میں لکھا ھے کہ محمد ابن عبدالوھاب پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم پرصلوات پڑھنے سے روکتا تھا اور منبروں پر بلند آواز سے صلوات پڑھنے کو روکتا تھا اور ایسا کرنے والے کو اذیّت اور سخت سزا دیتا تھا حتی کہ اس نے ایک نابینا کو جو ایک صالح اور خوش آوازموٴذن تھا قتل کردیا ۔اسے اذان کے بعد منارہ پر صلوات پڑھنے سے روکا تھا لیکن وہ باز نھیں آیا نتیجہ میںاسے جان سے مار ڈالا اور کھا کہ طوائف کے گھر باجہ بجانے والے کا گناہ اس شخص کی بہ نسبت کم ھے جو منارہ پر پیغمبر اسلام پر درود پڑھے۔
اورصفحھ۲۵۰پر لکھا ھے کہ سید علوی ابن احمد حداد نے فرمایا میں نے مذاھب اربعہ کے بے شمار بڑے بڑے علماء کے جوابات دیکھے ھیں یہ علماء حرمین شریفین ،احساء ،بصرہ بغداد ،حلب ،یمن اور دوسرے اسلامی شھروں کے رھنے والے تھے جنھوں نے نثر ونظم دونوں میں جوابات لکھے ۔میرے پاس ابن عبدالرّزاق حنبلی کی اولاد میں سے ایک شخص کا مجموعہ لایا گیا اس میں بھت سے علماء کی جانب سے لکھی گئی رد موجود تھیں ۔
اس کے بعد لکھا ھے :اور میرے پاس شیخ محدث صالح فلانی مغربی ضخیم کتاب لائے جس میں علماء مذاھب اربعہ حنفیہ ،مالکیہ ،شافعیہ ،اور حنبلیہ کے خطوط اور جوابات تھے جو محمد ابن عبدالوھاب کے جواب میں لکھے گئے تھے ۔اورص۲۴۸پر ھے۔ محمد ابن عبدالوھاب کی رد بھت سے علماء نے کی ھے ۔اس کے ھم عصر علماء نے بھی اور بعد میں آنے والے علماء نے بھی اور اب تک علماء اسلام کے اعتراضوں کے تیر اس کو نشانہ بناتے رھتے ھیں ۔
اس کے ھم عصر رد کر نے والوں میں پیش پیش احساء کے حنبلی تھے اور درحقیقت تمام اعتراضات ابن تیمیہ کو نشانہ بنارھے تھے ۔
موٴلف کھتا ھے :ابوالفضل قاسم محجوب مالکی نے بھی ایک رسالہ کے ذریعہ جس کا تذکرہ احمد ابن ضیاف کی کتاب ”اتحاف اھل الزمان باخبار ملوک تونس وعھد الامان ،،میں ملتا ھے ،محمد ابن عبدالوھاب کی رد کی ھے اور اس کے آراء اور فتاوی کو باطل قرار دیا ھے ۔
اس رسالہ کا ایک حصّہ حاج مالک داوٴد کی کتاب ”الحقائق الاسلامیةفی الرد علی المز اعم الوھابیةبادلّةالکتاب والسنة النبویة ،،سے ملحق کرکے ۱۴۰۳ ئمیں طبع ھوا تھا اور دوبارہ آفسٹ سے ترکیہ میں ۱۴۰۵ ئمیں طبع ھوا ۔
جھاںمیری واقفیت میں علماء مذاھب اربعہ کی جانب سے رد اور طعن محمد ابن عبدالوھاب پرکی گئیں وہ میں نے درج کردیں ۔
احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر کئے گئے اعتراضات
محمد ابن عبد الوھاب کے امام ، احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی ھے اور جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں صراط مستقیم سے نہ صرف خود بھٹکا بلکہ اور بھت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ھے اس کے بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ھیں ۔
چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء الا برار،، طبع ترکیہ ۱۹۷۹ءء کے ص ۲۴ پر ھے کہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ھے اور اعلان کیا گیا ھے کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ھے ۔”کشف الظنون ،،ج۱ ص ۲۲۰ پر ھے کہ علماء نے اس کی رد میں بھت مبالغہ کیا ھے یھاں تک کہ تصریح کی ھے کہ یہ شخص (ابن تیمیہ ) جسے شیخ الاسلام کھا گیا ھے ، کافر ھے ، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۱۴۳۸ پر ھے :ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ” العرش وصفتہ ،، میں ذکر کیا ھے کہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھتا ھے اور ایک جگہ خالی چھوڑ کر رکھی ھے جھاں رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم بیٹھیں گے۔ اس کو ابو حیان نے کتاب ” النھر،، میں قول خدا ”وسع کرسیہ السمٰوات والارض ،،کے ذیل میں لکھا ھے : میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب ” العرش ،، میں اسی طرح پڑھاھے ۔ انتھی
اور اسی کتاب کے ص ۱۰۷۸ پر احمد ابن تیمیہ جنبلی کی ایک کتاب بنام ”الصراط المستقیم والرد علی اھل الجحیم ،، کا ذکر کیا ھے اور اسی میں ایسی باتیں لکھی ھیں جن کا تذکرہ کرنا مناسب نھیں ھے مثلا عبد الله ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی نے اپنی کتاب میں اس کی رد لکھی ھے ۔ جامعہ ا زھر کے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی نے اپنی کتاب ” تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ،،میںص۹ پر ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ھے کہ اس نے اپنی کتاب ”الواسطہ ،، وغیرہ کی تالیف کی تو ایسی باتیں گڑھیں جن سے مسلمانوں کے اجماع کو پارہ کر دیا ۔اس نے کتاب خدا ، صریح سنت اور سلف صالح کی مخالفت کی ھے۔ اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ھے اور جان بوجہ کر گمراہ ھواھے ۔اس کا معبود اس کی ھوائے نفس ھے۔ اسے یہ گمان ھوا ھے کہ جو کچہ اس نے بیان کیا ھے حق ھے حالانکہ وہ حق نھیں ھے بلکہ یہ جھوٹ اور قول منکر ھے ،اور اسی کتاب کے ص۱۳پر ھے :یہ کتاب ابن تیمیہ کی بھت سی من گڑھت باتوں پر مشتمل ھے جوکتاب و سنّت اور جماعت مسلمین کے مخالف ھے ۔
اور صفحھ۱۰ /۱۱پر ھے:وہ برابر اکابر کے پیچھے پڑا رھا یھاں تک کہ اس کے زمانے والے اس کے خلاف مجتمع ھوئے اسے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹھھرایا بلکہ ان میں سے زیا دہ لوگوں نے اسے کافر قرار دیا ۔
اور صفحہ ۱۷پر ھے :اپنے زمانے میں ابن تیمیہ کا وتیرہ ادب اورھر زمانے میں اس کے پیروٴوں کا یھی طریقہ رھا ھے کھ:
”یقولون آمنّا بالله و بالیوم الاخروما ھم بمومنین ،یخادعون اللهوالذین آمنوا وما یخدعون الاانفسھم وما یشعرون ،،یہ لوگ کھتے ھیں کہ ھم الله اور روز قیامت پر ایمان لائے ھیں حالانکہ یہ مومن نھیں ھیں ۔یہ الله کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ھیں حالانکہ یہ خود اپنے کو دھوکہ دے رھے ھیں اور انھیں اس کا احساس نھیں ھے ۔،،
موٴلف کھتا ھے :یہ منافقیں کی صفت ھے جسے خدا وند عالم نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کیا ھے ۔
اور یافعی نے ”مرآةالجنان ،،ج۴/ص۲۴۰طبع حیدرآباد دکن ۱۳۳۹ھئمطبع دائرةالمعارف النظامیہ میں ابن تیمیہ کے بعض مھمل اقوال کا ذکر کیا ھے مثلاًلکھا ھے:خدا حقیقتاًعرش پر بیٹھا ھے اور الفاظ وآواز سے گفتگو کرتا ھے پھرلکھا ھے کہ دمشق میںیہ اعلا ن کردیا گیا کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ھے ۔
اور صفحھ۲۷۸پر۷۲۸ ئکے واقعات کے سلسلہ میں ھے :اس (ابن تیمیہ )کے عجیب وغریب مسائل ھیں جن کے بارے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ھے اورجن کے سبب مذھب اھل سنّت ترک کرنے کی خاطر اسے قید کیا گیا ۔پھر اس کی بھت سی برائیوں کو شمار کراتے ھوئے لکھا ھے کھ:اس کی قبیح ترین برائی یہ تھی کہ اس نے پیغبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے منع کر دیا تھا ۔آپ پر اور دوسرے اولیاء خدا اور اس کے برگزیدہ بندوں پر طعن و تشنیع کی تھی اور اسی طرح مسٴلہ طلاق وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا مسلک اور جھت کے بارے میں اس کا عقیدہ اور اس بارے میں جوباطل اقوال اس سے نقل ھوئے ھیں یہ سب اور اس کے علاوہ اور بھی بھت سی باتیں اس کے قبائح میں سے ھیں ۔
شیخ ابن حجر ھیتمی نے ”تحفہ ،،میں لکھا ھے :خدا کی جسمیت یا اس کے جھت میں ھونے کا دعویٰ ایساھے کہ اگر کوئی اس کا عقیدہ رکھے تو کافر ھے ۔سفینةالراغب ص۴۴ طبع بولاق مصر ۱۲۵۵ ئ
شیخ یوسف نبھانی نے اپنی کتاب ”شواھدالحق ،،کے صفحہ ۱۷۷پر لکھا ھے :چوتھا باب ،ابن تیمیہ کے اوپرعلماء مذاھب اربعہ کے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئے گئے ایرادات اور بعض اھم مسائل جیسے خدا وندعالم کا ایک خاص جھت وسمت میں ھونا ،کے بارے میں اھل سنّت کی مخالفت کے بیان میں ۔پھر ایک جماعت کا ذکر کیا ھے جنھوں نے اس پر طعن کیاھے لکھا ھے :
”انھیں طعن کرنے والوں میں سے امام ابوحیان ھیںجو ابن تیمیہ کے دوست تھے ۔جب اس کی بدعتوں سے با خبر ھوئے تو اس کو بالکل چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس سے دور رھنے کی تاکید کی ۔اور انھیں میں سے امام عزالدین ابن جماعةھیں انھوں نے اس کی رد کی ھے اور اسے برا کھا ھے ۔،،
انھیں میں سے ملا علی قاری حنفی ھیں انھوں نے شفاء کی شرح میں لکھا ھے : حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے افراط سے کام لیا چنانچہ اس نے زیارت نبی کے لئے سفر کرنے کو حرام قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس کے مقابل والے نے بھی افراط سے کام لیا ھے چنانچہ کھا ھے :زیارت کا باعث تقرب خدا ھونا ضرویات دین میں سے ھے اور اس کا انکار کرنے والا کافر ھے ۔اور شاید یہ دوسرا قول حق سے قریب ھے کیونکہ جس کے مستحب ھونے پر اجماع ھو اس کا حرام قراردینا کفر ھوگاکیونکہ یہ مباح متفق علیہ کے حرام قرار دینے سے بڑہ کر ھے۔
اور انھیں میں سے شباب الدین خفاجی حنفی ھیں جن کے کلام کو اس طرح ذکر کیا ھے :ابن تیمیہ نے ایسی خرافات باتیں لکھی ھیں جن کا ذکر کرنا مناسب نھیں کیونکہ یہ باتیں کسی عقلمند انسان کی ھو ھی نھیں سکتیںچہ جائیکہ ایک پڑھے لکھے آدمی کی زبان اورقلم سے صادر ھو ں ۔چنانچہ ابن تیمیہ کا یہ کھنا کہ ”قبر پیغمبر اسلام کی زیارت حرام کام ھے ،،کذب محض،لغو ھے اوربکواس ھے ۔ اس کا یہ کھنا ”اس کے بارے مےں کوئی نقل موجود نھیں ھے ،،باطل ھے کیونکہ امام مالک ،امام احمد ،اور امام شافعی رضی الله عنھم کا مذھب یہ ھے کہ سلام ودعا میں قبر شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ھے اور یہ بات ان بزرگوں کی کتابوںمیں درج ھے۔
اور انھیں میں سے امام محمد زرقانی مالکی ھیں ۔(نبھانی نے ان کے کچہ کلام کو مواھب الدنیہ کی شرح میں نقل کیا ھے جسے ھم یھاںپیش کررھے ھیں:
”لیکن ابن تیمیہ نے اپنے لئے ایک جدید مذھب ایجاد کیا ھے اور وہ ھے قبروں کی تعظیم نہ کرنا ۰۰۰ کیا یہ شخص جس بات کا علم نھیں رکھتا اس کے جھٹلانے سے شرماتاھے ؟اور ابن تیمیہ کی طعن وتشنیع کے سلسلے میں اپنی پھلی والی بات دھرائی ھے ۔
اور انھیں میں سے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی۷۲۷ھئنے کشف الظنون میں ان کی ایک کتاب”الذرةالمضیہ فی الرد علی ابن تیمیہ ،،کا ذکر کیا ھے انھوں نے ان مسائل میں اس سے مناظرہ کیا ھے جن میں وہ مذاھب اربعہ سے منحرف ھوگیا ھے اور ان میں قبیح ترین مسئلہ اس کا انبیاء وصالحین خصوصاًسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت اور آپ کے وسیلہ سے خدا سے مانگنے کو منع کرنا ھے ۔
اور انھیں میں سے امام کبیرشھیر تقی الدین سبکی شافعی ھیں(ابن تیمیہ پر اعتراضات کو ان کی کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر الانام علیہ السلا م سے نقل کیا ھے) اس کتاب میں انھوں نے اسے بدعتی کھا ھے ۔ اور انھیں میں سے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی ھیں(انھوں نے اپنی کتاب فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ھے )اور انھیں میں سے امام عبد الروٴوف منادی شافعی ھیں انھوں نے شرح شمائل میں کھا ھے :اور ابن قیّم کا اپنے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے یہ کھناکہ ”مصطفی صلّی الله علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے پرور دگارکو اپنے دونوں شانوں کے درمیان اپنے ھاتہ رکہ کر دکھائے تو خدااس جگہ کو بالوں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن حجرمکّی نے اس طرح کی بات ان دو نوں (ابن تیمیہ وابن قیم)کی بد ترین گمراھی ھے اور یہ ان دونوں کے اس عقیدہ پر مبنی ھے کہ خدا جھت اور جسم رکھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں کے اس قول سے کھیں بزرگ وبرتر ھے اس کے بعد منادی نے لکھا ھے :اب میں کھتا ھوں ان دونوںکا بدعتیوں میں سے ھونا مسلّم ھے۔
اور انھیں میں سے ھمارے دوست عالم با عمل ،فاضل کامل ، شیخ مصطفی ابن احمد سطی جنبلی دمشقی حفظ الله وجزا ہ الله احسن الجزا ء ھیں ۔ مو صوف نے ایک مخصوص رسالہ تالیف کیا ھے جس کا نام ( النقول الشرعیہ فی الرد علی الو ھابیة ) ھے۔انھیں میں سے امام شھاب الدین احمد بن حجر ھیثمی مکی شافعی ھیں انھوں نے ابن تیمیہ پر بھت سخت ردو تنقید کی ھے ۔
اور نبھانی نے شواھدالحق کے ص ۱۹۱ پر پھلے تو ان لوگوں کے نام نقل کئے ھیں جنھوں نے ابن تیمہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر ابھی گزرا ھے ۔ اس کے بعد کھتے ھیں : لھذا ثابت ھوا اور آفتاب نصف النھار کی طرح روشن ھوا کہ علماء مذ ھب اربعہ نے ابن تیمیہ کی بد عتوں کے رد کرنے پر اتفاق کیا ھے اور کچہ علماء نے اس کی نقل کی صحت پر طعن کیا ھے تو بھلا جن مسائل میں دین سے انحراف کیا ھے اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی ھے خاص کر ان مسائل میں جو سید المر سلین سے متعلق ھیں اس کی کھلی ھوئی غلطی پر سخت طعن وتشنیع کیوں نہ کرتے ۔
حنفیوں میں سے جنھوں نے اس کی نقل کے صحیح ھونے پر طعن کیا ھے شھاب الدین خفاجی شارح الشفا ء ھیں جن کا ذکر گزر چکا ھے ۔ اور مالکیوں میں سے امام زرقانی ھیں شرح مواھب میں ، یہ تذ کرہ بھی گزر چکا ھے ۔ اور شافیوں میں سے امام سبکی ھیں جیسا کہ ان کی کتاب شفاء السقام میں مذ کور ھے اس میں انھوں نے یہ واضح کیا ھے کہ نہ صرف یہ کہ ابن تیمیہ کی رائے غلط ھے بلکہ اس کے نقل کئے ھوئے وہ احکام شرعیہ بھی صحیح نھیں ھیں جس کے ذریعہ اس نے اپنی بدعت کی تقویت پر استدلال کیا ھے اور انھیں مذاھب اربعہ کی طرف منسوب کیا ھے حالانکہ ائمہ مذا ھب اربعہ نے وہ احکام نھیں بیان کئے ھیں ۔اسی طرح اس کے نقل کی عدم صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی نے بھی اس کے اوپر اپنے اعترا ضات میں کیا ھے اور یہ بات پو شیدہ نھیں ھے کہ یہ چیز ایک عالم کے اندر بھت بڑاعیب اور بھت بڑا اخلاقی جرم ھے جو اس پر اعتماد کو ضعیف کر دیتا ھے اور اس کے منقولات کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ھے چاھے وہ احفظ حفاظ اورا علم علماء میں سے ھو اور ابن تیمیہ کے منقو لات کے معتبر نہ ھونے کی تقویت اس قول سے بھی ھوتی ھے جو اس کے بارے میں حافظ عراقی نے کھا ھے۔ کلام نھبانی تمام ھوا ۔شواھد الحق ص ۱۷۷تا ۱۹۱
ابن تیمیہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوؤد حنفی نے بھی اپنی کتاب ( نظرات فی الکتب الخالدة) ص ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۳۹۹ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ھے اور اسے بدعتی قرار دیا ھے اور حاشیہ میں اس کلمہ پر نوٹ لگایا ھے کہ : اکثر علماء اھل سنّت نے اس کے بد عتی ھونے کا قول اختیار کیا ھے رہ گئے صوفیہ تو انھوں نے اس پر اجماع کیا ھے ، امام تقی الدین سبکی اور ابن تیمیہ کے درمیان فقہ وعقیدہ کے اکثر گوشوں کے بارے میں خط وکتابت ھوتی ھے ۔دیکھئے ھماری کتاب (التشریع الا سلامی فی مصر ) انتھی ۔
عبدالغنی حمادہ اپنی کتاب ( فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین ) طبع سوریہ اَدْلَبْ ۹۱ ۱۳ء ص ۲۳ پر اس طرح وھابیت پر طعن کر تے ھیں :
شیخ وھابیت ابن تیمیہ کے بارے میں علامہ مصر علاء الدین بخاری نے لکھاھے کہ : ابن تیمیہ کافر ھے جیسا کہ اس کے زمانے کے بزر گ عالم زین الدین حنبلی نے کھا ھے کہ میرا اعتقاد یہ ھے کہ ابن تیمیہ کافر ھے اور کھتے تھے کہ امام سبکی رضی الله عنہ ابن تیمیہ کی تکفیر سے معذور ھیں کیونکہ اس نے امت اسلامیہ کو کافرقرار دیا ھے اور اسے قول خدا :”اتخذ وااحبار ھم ورھبانھم ار بابا من دون الله ،،کی تفسیر کر تے ھوئے یھودو نصاریٰ سے تشبیہ دی ھے۔ علماء مذاھب نے لکھا ھے کہ : ابن تیمیہ زندیق ھے کیونکہ وہ پیغمبر اسلام اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی توھین کرتا تھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبیہ اور اسے صاحب جسم قرار دینے سے بھری ھوئی ھیں ۔
اور اس کے زمانے کے علامہ ابن حجر رضی الله عنہ نے کھا ھے ۔ ابن تیمیہ ایک ایسا بندہ ھے جسے خدا نے رسوا ، گمراھ، اندھا ، بھرا اور ذلیل کیا ھے ۔اس کے خلاف مذاھب اربعہ میں سے اس کے دور کے علماء اٹہ کھڑے ھوئے اور اکثر نے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ھے ۔علماء نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ نے صحابہ کرام رضی الله عنھم کو کافر قرار دینے میں خوارج کے مذ ھب کا اتباع کیا ھے ۔
اور ائمہ حفاظ نے کھا ھے کہ ابن تیمیہ خوارج میں سے ھے ،جھوٹا ھے ، شریر ھے ، افترا پر داز ھے ۔”فضل الذا کرین ،،میں لفظ بہ لفظ مو جود ھے ۔
اور ابو حامد مرزوق شامی نے اپنی کتاب ۔” التوسل بالنّبی وبا لصالحین ،،مطبوعہ تر کیہ طبع آفسٹ ۸۴ ۱۹ ءء کے ص ۴ پر لکھا ھے:
” ایک بار ابن تیمیہ نے دمشق کے ممبر پر جانے کے بعد کھا : ” خدا وند عالم اسی طرح عرش سے اتر تا ھے جیسے میں ممبر سے اتر رھا ھوں اور ایک زینہ نیچے اتر کر دکھایا ھے ، ، اس کے بعد ابو حامد نے لکھا ھے کہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں فقیہ سیاح ابن بطوطہ مغری بھی ھیں اور ” التوسل بالنّبی وبالصالحین ،،کے ص ۶ پر ابن تیمیہ سے نقل کیا ھے کہ ابن تیمیہ نے لکھا ھے کھ” خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ،، اور اسی کتاب کے ص ۲۱۶ پر کتاب ” دفع شبہ من شبّہ وتمرّد ،،طبع مصر ۵۰ ۱۳ء ہ مطبع عیسیٰ حلبی ، تصنیف ابو بکر حصنی دمشقی متوفی ۸۲۹ ء سے نقل کر تے ھوئے لکھا ھے کہ مصنف مذکور نے ابن تیمیہ کے بارے میں کھا ھے :” میں نے اس خبیث (ابن تیمیہ ) کے کلام کو دیکھا جس کے دل میں انحراف کا مرض ھے جو فتنہ پیدا کر نے کے لئے متشابہ آیات و احادیث کا اتباع کر تا ھے اور عوام و غیر عوام میں سے ان لوگوں نے اس کی پیروی کی جس کے ھلاک کر نے کا خدا نے ارادہ کیا تھا ، میں نے اس میں ایسی باتیں پائیں جن کو ادا کر نے کی مجھ میں قدرت نھیں ھے اور نہ میری انگلیوں اورقلم میں انھیں تحریر کر نے کی جراٴت ھے کیو نکہ اس نے پر وردگار عالم کی اس بات پر تکذیب کی ھے کہ اس نے کتاب مبین میں اپنے کو منزہ قرار دیا ھے ۔اسی طرح اس کے بر گزیدہ اور منتخب افراد خلفاء راشدین اور ان کے صالح پیروکاروں کی توھین اور عیب جوئی کی ھے لھذا میں نے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ جانا اور صرف ان باتوں کو ذکر کیا جنھیں ائمہ متقین نے ذکر کیا تھا اور جن پر ان کا اتفاق ھے وہ یہ کی ابن تیمیہ بد عتی اور دین سے خارج ھے ۔
حافظ ابن حجر نے ” الفتاوی الحدیثیہ ،، ص ۸۶ پر لکھا ھے کہ ” ابن تیمیہ ایسا بندہ ھے جسے خدا نے رسوا ، گمراہ ، اندھا ، بھرہ ، اور ذلیل بنا دیا ھے اور اسی بات کی تصریح ان اماموں نے بھی کی ھے جنھوں نے اس کے فاسد ھونے اور اس کی باتوں کو جھوٹ ھونے کا بیان کیا ھے اور جو شخص اسے جاننا چاھتا ھو وہ امام مجتھد ابوالحسن سبکی جن کی ،امامت ، جلالت ، شان اور مرتبہ اجتھاد تک پھنچنے پر اتفاق ھے ان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ امام عزّ بن جماعہ اور شافعیہ ، مالکیہ ، حنفیہ ، میں سے ان کے ھم عصر علماء کے کلام کو ملا حظہ کریں ، ابن تیمیہ نے صرف متاخرین صوفیہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفاء نھیں کی ھے بلکہ عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی الله عنھما ،، جیسے حضرات پر بھی اعتراض کیا ھے۔
خلاصہ یہ کہ اس کے کلام کی کوئی قدرو قیمت نھیں ھے اور چاھئے کہ اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بد عتی گمراہ ،گمراہ کن ، جاھل اور غلو کر نے والا ھے ، خدا اس کے ساتھ اپنے عدل سے معاملہ کرے اور ھمیں اس کے طریقہ ، عقیدہ ، اور عمل سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔
کلام ابن حجر تمام ھوا اسے ھم نے تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ص ۹ طبع مصر ۱۳۱۸ ء ہ تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی سے نقل کیا ھے۔
اس کے بعد کھا کہ وہ خدا کے لئے سمت کا قائل ھے جس کا لازمی نتیجہ یہ ھے کہ وہ خدا کے لئے جسمیت ، محاذات ،اور استقرار کا قائل ھے ۔
کتاب ”التوسل با لنّبی وبا لصالحین ،، میں ابن تیمیہ پر اور بھی بھت سے طعن ھیں جن کو چند عناوین کے تحت ذکر کیا ھے ، جو حسب ذیل ھیں ۔
۰ علّامہ شھاب الدین احمد بن یحییٰ حلبی کی جھت کے بارے میں ابن تیمیہ پر رد۔
۰ ابن تیمیہ کے اس زعم کا ابطال کہ خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ھے ۔
۰ عقیدہ ابن تیمیہ جس کے سبب اس نے جماعت مسلمین سے مخالفت کی ھے اور انھیں برا کھا ھے جسے قر آن میں طعن کر نے والے او باش ملحدین سے حاصل کیا ھے ۔
۰ ابن تیمیہ کی تمام علماء اسلام سے مخالفت ۔
ابن تیمیہ کے فتوٴوں کے نمو نے
عالم کبیر شیخ محمد بخیت حنفی عالم جامعہ ا زھرنے اپنی کتاب ”تطھر الفواد من دنس الا عتقاد ،،طبع مصر مطبو عہ ۱۳۱۸ئکے ص ۱۲ پر اس شخص کے کچہ فتوؤں کا ذکر کیا ھے جن میں سے بعض نمو نے ھم یھاں پر پیش کر رھے ھیں تا کہ ایک غیر جانبدارقاری کو اس کے انحراف ، فاسد عقیدے اور منحرف فتوؤں میں علماء اسلام سے اس کی مخالفت کا زیا دہ سے زیا دہ علم ھو سکے ۔
(۰) ” اگر کو ئی شخص جان بو جہ کر نماز تر ک کر دے تو اس کی قضا وا جب نھیں ھے۔“
(۰) ” حیض والی عورت کے لئے خانہ ء کعبہ کا طواف کرنا جائز ھے اور اس پر کوئی کفارہ نھیں ھے۔“
(۰)” تین طلاق ایک طلاق کی طرف پلٹایا جائے گا“ اور اس بات کا دعویٰ کر نے سے پھلے خود اسی نے نقل کیا ھے کہ اجماع مسلمین اس کے بر خلاف ھے ۔
(۰) ” جس اونٹ کے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں وہ کاٹنے والے کے لئے حلال ھے اور وہ جب تاجروں سے لے لیا جائے تو زکوٰة کے عوض کافی ھے اگر چہ زکوٰة کے نام سے نہ لیا گیا ھو ۔،،
(۰)” بھنے والی چیزوں میں اگر جاندار مثلا چوھا مر جائے تو یہ چیزیں نجس نھیں ھو تیں“
(۰)” جنب کو چاھئے کہ حالت جنا بت میں نافلہ شب پڑھے اور تا خیر نہ کرے کہ فجر سے پھلے غسل کر کے پڑھے گا اگر چہ اپنے ھی شھر میں ھو ۔“
(۰) ” وقف کرنے والے کی شرط کا کوئی اعتبار نھیں ھے بلکہ اگر اس نے شا فعیہ پر وقف کیا ھے تو حنفیہ پر صرف کیا جائے گا اور بر عکس ،اور قاضیوں پر وقف کیا ھے تو صو فیہ پر صرف کیا جائے گا ۔،،
اسی طرح عقائد اور اصول دین کے مسائل میں بھی انحراف کا مر تکب ھوا ھے۔
(۰)” ْ خدا وند عالم محل حوا دث ھے“تعالیٰ عن ذالک علوا کبیرا
(۰)”خدا مرکب ھے اس کی ذات ویسے ھی محتاج ھے جیسے کل اپنے جزء کا محتاج ھوتا ھے ”تَعَا لیٰ عَنْ ذَالِکَ،،
(۰)”خدا جسم رکھتا ھے،وہ خاص سمت میں ھے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھوتا ھے ،وہ ٹھیک عرش کے برابر ھے نہ چھوٹا نہ بڑا“(خدا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور صریحی کفر سے کھیں بالا تر ھے ۔خدا اس کے پیروٴوں کو رسوا کرے اور اس کے معتقدین کا شیرازہ منتشر کرے )
(۰)”جھنم فنا ھوجائے گی ،انبیاء معصوم نھیں ھیں۔“
(۰)”رسول اللهصلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی کوئی وقعت نھیں ھے ۔ان سے توسل نہ کیا جائے۔“
(۰)”پیغمبر اسلام کی زیا رت کے لئے سفر کرنا معصیت ھے اس سفر میں نمازقصر نھیں ھوگی۔“
Sunday, 18 January 2015
تعظیم کے مختلف درجے اورمسلمانوں کو مشرک کہنے والوں کا رد ۔ ترتیب و پیشکش : ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاھور پاکستان
تعظیم کے معنی قول و فعل سے کسی کی بڑائی ظاہر کرنا، تو ہر چھوٹا جو اپنے کو واقعی چھوٹا سمجھتا ہے، وہ اپنے بڑے کی تعظیم کرتا ہے۔ اور ہر لحاظ سے اس کی بڑائی ظاہر کرتا ہے۔ شاگرد اپنے استاد کی۔ مرید اپنے پیر کی۔ اولاد اپنے باپ دادا کی اور نوکر اپنے مالک کی۔ یہاں تک کہ چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی کی تعظیم کرتا ہے۔ اورکیوں نہ کرے کہ سرکار اقدسﷺ نے فرمایا: لیس منا من لم یرحم صغیرنا و لم یوقر کبیرنا (حوالہ ترمذی، مشکوٰۃ 423)
ترجمہ: جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم و توقیر نہ کرے وہ ہمارے راستے پر نہیں ہے۔
عرف عام میں تعظیم کے چار درجے ہیں
1۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجہ تعظیم سجدہ ہے
2۔ دوسرا درجہ تعظیم رکوع ہے
3۔ تیسرا درجہ تعظیم دو زانو بیٹھنا ہے
4۔ چوتھا درجہ تعظیم کھڑا ہونا ہے
سجدہ سے تعظیم
سجدہ سے تعظیم اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کی تعظیم کرنا ہماری شریعت میں حرام ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ہے حدیث مروی ہے کہ آقائے دوجہاںﷺ نے فرمایا:
لوکنت امراحد ان یسجدہ لاحد لامرت المراۃ ان تسجد لزوجہا (مشکوٰۃ شریف 281)
ترجمہ: اگر میں کسی کو کسی مخلوق کے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو ضرورحکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
اس حدیث کے تحت ملا علی قاری رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔
السجدۃ لاتحل لغیر اﷲ (مرقاۃ جلد سوم 467)
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ جائز نہیں ہے۔ اور تحریر فرماتے ہیں شرح فقہ اکبر 230 میں السجدۃ حرام لغیرہ سبحانہ غیر اﷲ کے لئے سجدہ حرام ہے اور فتاویٰ عالمگیر جلد پنجم مصری 231 میں فتویٰ غرائب میں ہے
لایجوز السجود الا اﷲ تعالیٰ غیر اﷲ کے لئے سجدہ جائز نہیں
تعظیم کا دوسرا درجہ
تعظیم کا دوسرا درجہ یعنی بقدر رکوع جھک کر کسی کی تعظیم کرنا یہ بھی ہماری شریعت میں منع ہے۔ فتاویٰ عالمگیر جلد پنجم مصری 321 میں جواہر الاخلاطی سے ہے۔
الانحناء للسلطان او لغیرہ مکروہ لانہ بشبہ فعل المجوس
بادشاہ ہو یا کوئی دوسرا اس کے لئے بقدر رکوع جھکنا منع ہے کہ یہ آتش پرستوں کے فعل کے مشابہ ہے۔ شامی جلد پنجم 246 میں محیط سے ہے۔
یکرہ الانحناء للسلطان وغیرہ بادشاہ ہو یا کوئی دوسرا ہو اس کے لئے بقدر رکوع جھکنا منع ہے
تعظیم کا تیسرا اور چوتھا درجہ
تعظیم کا تیسرا اور چوتھا درجہ کہ کسی کی تعظیم کے لئے دو زانو بیٹھنا یا کھڑا ہونا یہ ہماری شریعت میں جائز ہیں۔ جب ابلیس مردود نبی کے اعلیٰ درجہ تعظیم سے انکار کرنے کے سبب دھتکار دیا گیا۔ مردود کردیا گیا تو جو شخص نبی کی تعظیم میں کھڑا ہونے سے بھی انکار کرے جوکہ تعظیم کا ادنیٰ درجہ ہیں تو وہ شخص بدرجہ اولیٰ مردود بارگاہ الٰہی ہوگا۔
جیسے کوئی بادشاہ اپنے محبوب کی تعظیم کے لئے درباریوںکو سجدہ کرنے کا حکم دے اور کوئی انکار کردے تو بادشاہ اس کو مردود قرار دے کر اپنے دربار سے نکال دے تو جو شخص اس کے محبوب کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونے سے بھی انکار کردے تو وہ بدرجہ اولیٰ بادشاہ کے عتاب کا مستحق ہوگا۔
تعظیم کے مختلف طریقے
تعظیم کے چار درجے بیان کئے گئے ان کے علاوہ تعظیم کے مختلف طریقے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرمایا۔ اﷲ تعالیٰ پارہ 1 رکوع نمبر 5 میں فرماتا ہے۔
واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ
صبر اور نماز سے مدد طلب کرو
صبر کی تین قسمیں ہیں جن کو اسی آیت کے تحت تفسیر صاوی میں بیان کیاگیا ہے۔
(1) مصیبت پر صبر کرنا (2) فرمانبرداریوں کی ہمیشگی پر صبر کرنا (3) گناہوں کے نہ کرنے سے صبر کرنا
فرمانبرداریوں کی ہمیشگی پر صبر کرنا اس میں نماز بھی شامل ہیں تو پھر اﷲ تعالیٰ نے صبر کے بعد صلوٰۃ کا ذکر کیوں فرمایا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے جلالین میں صلوٰۃ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:
افردھا بالذکر تعظیما لشانھا نماز کا الگ ذکر اس کی شان کی تعظیم کے لئے ہے
اسی طرح پارہ دوم رکوع نمبر 9 کی آیت مبارکہ (یاایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ) کیشان نزول میں علامہ سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
نزل فی عبداﷲ بن سلام واصحابہ لما عطموا السبت
یہ آیت عبداﷲ بن سلام اور اس کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئی جب انہوں نے سنیچر (ہفتہ) کے دن کی تعظیم کی۔ یعنی عبداﷲ بن سلام اور اس کے ساتھی پہلے یہودی تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد وہ سنیچر کے دن کی عزت اس طرح کرتے تھے کہ اس روز شکار کو حرام سمجھتے تھے اور یہ اس دن کی تعظیم ہیں۔
اسی طرح پارہ 9 رکوع نمبر 4 میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ذکر فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جادوگر جب میدان میں آئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا۔ اما ان تلقی واما ان تکون نحن الملقین (یا تو آپ علیہ السلام پہلے اپنا عصا ڈالیں یا تو ہم لوگ ڈالیں) تو جادوگروں کا یہ پوچھنا بھی تعظیم بنی تھی، اسی تعظیم کی بدولت وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے تو پتہ چلا کہ نبی کی تعظیم کرنے سے ایمان نہیں جاتا بلکہ کافر ہو تو ایمان والا ہوجاتا ہے اور اگر ایمان والا ہو تو اس کا ایمان جلا پاتا ہے۔
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
اسی طرح مردہ نہلانے کے تخت کو دھونی دینے کی علت بیان کرتے ہوئے شیخ برہان الدین ابو الاحسن علی مرغینانی فرماتے ہیں: لمافیہ من تعظیم المیت دھونی دینے میں میت کی تعظیم ہے۔ (ہدایہ ص 158 ج 1)
فقہائے کرام نے مسجدوں کی آرائش کو مستحب فرمایا۔ اس کی دلیل یہ بیان فرمائی کہ اس میں ان کی تعظیم ہے (شامی جلد اول 4442)
(نوٹ) معلوم ہوا کہ مسجدوں کو سجانا اور ان کو آراستہ کرنا ان کی تعظیم ہے اور یہ مستحب کام ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف کھڑا ہونے کی تعظیم نہیں ہے بلکہ اس کے مختلف طریقے ہیں لہذا کسی کی آمد پر اسٹیشن جانا، اس کے گلے میں ہار ڈالنا، زندہ باد کے نعرے لگانا، اس کے لئے جلوس نکالنا، راستوں میں جھنڈیاں لگانا سب آنے والے کی تعظیم ہے۔ اسی طرح آنے والے کے لئے جگہ خالی کردینا اس کی تعظیم ہے۔ تعظیم نبی کو شرک کہنے والوں کے ہاں بھی غیر اﷲ کی تعظیم و تکریم کے بے شمار طریقے رائج ہیں مگر کسی دارالالفتاء کا کوئی مفتی ان باتوں کو شرک و کفر نہیں قرار دیتا، نہ حرام و ناجائز کہتا ہے لیکن جب اﷲ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺ کی تعظیم کی جاتی ہے تو آگ بگولا ہوجاتا ہے اور شرک وکفر کے گولے برسانے لگتا ہے۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
Subscribe to:
Posts (Atom)
ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب
ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...
-
جن کے بڑے بےحیاء ہوں سوچیئے اُن کے چھوٹے کتنے بڑے بےحیاء ہونگے محترم قارئینِ کرام : بانی دیوبند کہتے ہیں وعظ کہنا دو شخصوں ک...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...