Tuesday, 7 June 2022

بیشک آپ کا دشمن ہی بے نسل ہے حصّہ اوّل

بیشک آپ کا دشمن ہی بے نسل ہے حصّہ اوّل

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ ۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ ۔ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۔ (الكوثر آیت نمبر 1 تا 3)

 ترجمہ : بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے ۔ سو آپ اپنے رب کی رضا کےلیے نماز پڑھتے رہیے اور قربانی کرتے رہیں ۔ بیشک آپ کا دشمن ہی بے نسل ہے ۔


اس آیت کے شروع میں لفظ ” انا “ ہے اور یہ جمع کا لفظ ہے اور اس لفظ سے کبھی جمعیت مراد ہوتی ہے اور کبھی تعظیم مراد ہوتی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ واحد ہے ، اس لیے اس سے جمعیت مردا نہیں ہو سکتی ، تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو جو کوثر عطا فرمائی ہے ، اس میں کئی افردا وسیلہ ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آپ کو اہل مکہ میں رسول بنا کر بھیجنے کی دعا کی : (البقرہ : ١٢٩) ۔ اے ہمارے رب ! ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج ۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی : اے میرے رب ! مجھے امت احمد میں سے بنا دے ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ کی آمد کی بشارت دی : (الصف : ٦) ۔ اور میں اپنے بعد ایک آنے والے رسول کی تم کو بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا ۔


لفظ ” انا “ میں جمع کے لفظ کی دوسری وجہ تعظیم ہے یعنی آپ کو کوثر عطا کرنے والا تمام آسمانوں اور زمینوں کا خالق اور مالک ہے اور جب آپ کو عطا کرنے والا اس قدر عظیم ہے تو اس کا عطیہ بھی بہت عظیم ہوگا ۔


کوثر کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں ، ان سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ اے محبوب !بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں اور کثیر فضائل عنایت کرکے تمہیں تمام مخلوق پر افضل کیا ، آپ کو حسنِ ظاہر بھی دیا حسنِ باطن بھی عطا کیا ، نسبِ عالی بھی ، نبوت بھی ، کتاب بھی ، حکمت بھی ، علم بھی ، شفاعت بھی ، حوضِ کوثر بھی ، مقامِ محمود بھی ، امت کی کثرت بھی ، دین کے دشمنوں پر غلبہ بھی ، فتوحات کی کثرت بھی اور بے شمار نعمتیں اور فضیلتیں عطا کیں جن کی انتہاء نہیں ۔ (تفسیر خازن الکوثر الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۱۳-۴۱۴،چشتی)


اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو کوثر عطا کر دی ہے کیونکہ یہاں یہ نہیں فرمایا گیا کہ ہم آپ کو کوثر عطا کریں گے بلکہ یہ فرمایا کہ بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کر دی ۔


اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر یہ عطا ان کے نبی اور رسول ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ذات کی وجہ سے ہے جو شانِ محبوبِیّت کی صورت ہے کیونکہ یہاں یہ فرمایا ’’اَعْطَیْنٰكَ‘‘  ہم نے آپ کو عطا فرمائی،یہ نہیں  فرمایا کہ ’’اَعْطَیْنَا الرَّسُوْلَ‘‘ یا ’’اَعْطَیْنَا النَّبِیَّ‘‘ ۔


نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر یہ عطا کسی عبادت اور ریاضت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان پر یہ عطا اللّٰہ تعالیٰ کے عظیم فضل اور احسان کی وجہ سے ہے کیونکہ یہاں عطا کا ذکر پہلے ہوا اور عبادت کا ذکر بعد میں ہوا ۔


اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو کوثر کا مالک بنا دیا ہے تو آپ جسے چاہیں جو چاہیں عطا کر سکتے ہیں ۔


نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی مِدحت خود رب تعالیٰ فرماتا ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ⬇


اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ

ساری کثرت پاتے یہ ہیں


ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا

پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں


اور فرماتے ہیں : ⬇


اے رضاؔ خود صاحبِ قرآں ہے مَدّاحِ حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسولُ اللّٰہ کی


اللہ تعالیٰ نے ماضی کے صیغہ سے فرمایا ہے : ہم نے آپ کو کوثر عطا کردی اور مستقبل کے صیغہ سے نہیں فرمایا کہ ہم آپ کو کوثر عطا کریں گے، یہ اس کی دلیل ہے کہ کوثر آپ کو ماضی میں حاصل ہوچکی ہے اور اس میں حسب ذیل فوائد ہیں : ⬇


(١) جس کو ماضی میں بہت عظیم نعمت حاصل ہوچکی ہو، وہ اس سے بہت افضل ہے جس کو مستقبل میں وہ نعمت حاصل ہو، اسی لیے جب نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے پوچھا گیا : آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی ؟ تو آپ نے فرمایا : اس وقت جب حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ (سننت رمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٩،چشتی)

(٢) گویا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا : ہم نے آپ کی ولدات سے پہلے ہی آپ کی سعادت کے اسباب مہیا کردیئے تھے تو ہم آپ کی ولادت اور آپ کی عبادت کے بعد آپ کو کب فراموش کرنے والے ہیں۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کو کوثر عطا کرین کا ذکر کیا، اس کے بعد آپ کو نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو کوثر عطا کرنا محض اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل اور احسان ہے، آپ کسی عبادت اور ریاضت کا معاوضہ نہیں ہے۔

(٤) نیز اس آیت میں فرمایا ہے : ہم نے کوثر آپ کو دی ہے، یوں نہیں فرمایا کہ ہم نے یہ کوثر نبی کو دی ہے یا رسول کو دی ہے کیونکہ اگر فرماتا : یہ کوثر نبی کو دی ہے تو یوں سمجھا جاتا کہ یہ کوثر نبوت کا مقتضیٰ ہے، سو جو بھی نبی ہوگا اس کو یہ کوثر مل گئی ہوگی اور اگر فرماتا : یہ کوثر رسول کو دی ہے تو یوں سمجھا جاتا کہ یہ کوثر رسالت کا تقاضا ہے، سو جو بھی رسول ہوگا اس کو یہ کوثر مل گئی ہوگی اور جب فرمایا : بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے تو پتا چلا کہ یہ کوثر نہ نبوت کا تقاضا ہے نہ رسالت کا تقاضا ہے، یہ کوثر تو صرف آپ کی ذات کات قاضا ہے۔

(٥) عربی میں ” اعطائ “ اور ” ایتائ “ دونوں کا معنی دینا اور نوازنا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ” اعطائ “ کا لفظ فرمایا ” ایتائ “ کا لفظ نہیں فرمایا کیونکہ ” اعطائ “ کا متبادرمعنی ہے : محض اپنے فضل سے دینا، نیز ” اعطائ “ کا معنی ہے، کسی چیز کا مال کبنا دینا اور ” ایتائ “ سے یہ متابدر نہیں ہوتا، پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو کوثر کا مالک بنادیا ہے، آپ جس کو چاہیں اس کو کوثر میں سے دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں، اللہ تعالیٰ نے جب حضرت سلیمان کو ملک عظیم عطا کیا تو فرمایا :

(ص : ٣٩) یہ ہماری عطا ہے، اب آپ کسی پر احسان کر کے اس کو دے دیں یا روک کر رکھیں۔

اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوثر عطا کی تو آپ کو اس کا مالک بنادیا، چاہے آپ کسی کو دیں یا نہ دیں ۔


لفظ ” کوثر “ کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال : ⬇


(١) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا :” الکوثر “ جنت میں نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس میں موتی اور یاقوت جاری ہیں، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔ (سنن ترمذیرقم الحدیث : ٣٣٦١ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے)

(٢) کوثر سے مراد حوض ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرت یہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اچانک آپ کو اونگھ آگئی ، آپ نے مسکراتے ہوئے سربلند کیا اور فرمایا : ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ نے پڑھا :” بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ انا اعطینک الکوثر۔ فضل الربک وانحر۔ ان شائنک ھوالابتر۔ “ پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ عمل ہے، آپ نے فرمایا : یہ وہ نہر ہے جس کا میرے رب عزو جل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اس میں خیر کثیر ہے اور یہ وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت وارد ہوگی، اس کے برتن ستاروں کے عدد کے برابر ہیں، اس پر ان میں سے ایک بندہ وہاں سے نکالا جائے گا، میں کہوں گا : اے میرے رب ! یہ میرا امتی ہے، پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا، آپ از خود نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد دین میں کیا نیا کام نکالا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٠٠)

اس حدیث سے معترضین یہ استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو ” ماکان ومایکون “ کا علم نہیں تھا ورنہ آپ کو از خود معلوم ہوتا کہ یہ شخص آپ کے دین اور آپ کی امت سے نکل چکا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ حضتر انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہر پیر اور جمعرات کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ۔ (الوفا ص 810 مطبوعہ مصر 1369 ھ) سو جس شخص نے دین میں نیا کام نکالا اس کا عمل بھی آپ پر پیش کیا گیا تھا، لہٰذا اس حدیث سے آپ کے علم کی نفی نہیں ہوتی، البتہ اس میں آپ کی توجہ کی نفی ہے۔

کوثر سے مراد حوض ہو یا جنت میں نہر، یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بیان کردہ تفسیر ہے، اس لئے یہ تفسیر تمام اقوال پر راجح اور فائق ہے۔

(٣) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کوثر سے مراد خیر کثیر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر خیر کثیر آپ کو عطا کردی اور اسلام، قرآن، نبوت اور دنیا اور آخرت میں تعریف اور تحسین اور ثناء جمیل خیرات کثیرہ ہیں اور جنت کی سب نعمتیں خیر کثیر ہیں ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث ٤٩٦٦،چشتی)

(٤) عکرمہ نے کہا : کوثر سے مراد نبوت اور کتاب ہے۔

(٥) حسن بصری نے کہا : کوثر سے مراد قرآن ہے۔

(٦) المغیرہ نے کہا : کوثر سے مراد اسلام ہے۔

(٧) الحسین بن الفضل نے کہا : کوثر سے مراد قرآن کو آسان کرنا اور احکام شرعیہ میں تخفیف ہے۔

(٨) ابوبکر بن عیاش نے کہا : کوثر سے مراد آپ کے اصحاب آپ کی امت اور آپ کے متبعین کی کثرت ہے۔

(٩) الماوردی نے کہا : کوثر سے مراد آپ کے ذکر کی بلندی ہے۔

(١٠) الماوردی نے کہا : کوثر سے مراد آپ کے ذکر کی بلندی ہے۔

(١١) ” الکوثر “ سے مراد آپ کے دل کا وہ نور ہے، جس نے آپ کو اللہ کے ماسوا سے سے منقطع کردیا۔

(١٢) کوثر سے مراد شفاعت ہے۔

(١٣) الثعلبی نے کہا : کوثر سے مراد آپ کے معجزات ہیں، جن سے آپ کی امت کو ہدایت حاصل ہوئی۔

(١٤) بلال بن یساف نے کہا : کوثر سے مراد ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ ہے اور ایک قول ہے : کوثر سے مراد دین کی فقہ ہے اور ایک قول ہے : پانچ نمازیں ہیں۔

ان اقوال میں سے صحیح ترین قول اول اور ثانی ہے یعنی کوثر سے مراد جنت میں ایک نہر ہے یا حوض ہے، جو محشر میں قائم ہوگا کیونکہ وہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے ثابت ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص ١٩٤، دارالفکر، بیروت ١٤١٥ ھ)

حوض کوثر کے متعلق یہ ایمان افروز حدیث ہے : حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ باہر نکلے تو آپ نے شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھی، پھر آپ منبر پر گئے، پس فرمایا : میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا، اور بیشک اللہ کی قسم ! میں اپنے حوض کو اب بھی ضرور دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور بیشک اللہ کی قسم ! مجھے تم پر یہ خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم (سب) مشرک ہو جاٶ گے لیکن مجھے تم سے یہ خطرہ ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1344-6590 (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٢٣، مسند حمد ج ٤ ص ١٤٨ ) ۔ (مزید حصہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 6 June 2022

کلمہ طیبہ کا معنیٰ و مفہوم حصّہ دوم

 کلمہ طیبہ کا معنیٰ و مفہوم حصّہ دوم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے جتنے انبیاء و رسل علیہم السّلام مبعوث فرمائے ہیں ان سب نے اپنی قوموں اور مخاطبوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا ۔ وہ لوگوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلاتے تھے اور اللہ کے علاوہ پوجی جانے والی چیزوں اور ہستیوں کا برملا انکار کرتے تھے ۔


کلمۂ طیبہ ’’لاإلٰہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘ کی حقیقت یہی ہے ۔سچے دل سے اس کلمے کو پڑھ کر کوئی بھی انسان اللہ کے دین میں داخل ہو جاتا ہے ۔


’’لاإلٰہ إلا اللہ‘‘ کلمۂ توحید ہے ۔ دینِ اسلام میں اس کلمے کا مقام بے حد بلند اور عظیم ہے ۔ اس کا زبانی اقرار اور تکلم ہر مسلمان کا پہلا فرض ہے ۔ اس لیے جو شخص بھی اسلام قبول کرنا چاہتا ہے اسے اس کلمے کی صداقت وحقانیت تسلیم کرنا ہوگی اور زبان سے اسے بولنا ہوگا ۔


کلمۂ طیبہ اور علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ


خودی کا سر نہاں ، لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ فساں ، لا الہ الا اللہ

مطلب : انسان کی "خودی" ، یعنی مضبوط شخصیت ، کا راز ان الفاظ میں چھپا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ خودی تو ایک کھنڈی تلوار ہے جس کی دھار کو لا الہ الا اللہ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے" کا نعرہ تیز کرتا ہے ۔


یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں ، گماں لا الہ الا اللہ

مطلب : اس زمانے کو ایک ابراہیم جیسے مرد مومن کی تلاش ہے جو انسانی دماغ کے بنائے ہوئے تمام بتوں کو توڑ ڈالے ۔ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے" کا نعرہ ان تمام بتوں کا خاتمہ کر ڈالنے کی طاقت رکھتا ہے ۔


کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا

فریبِ سود زیاں ، لا الہ الا اللہ


مطلب : تو نے دنیاوی مال و دولت کےلیے سودا کیا ہے ۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو غرور سے بھرا ہے ۔ لا الہ الا اللہ کے نعرے کے علاوہ سب کچھ دھوکہ ہے ۔


یہ مال و دولت دنیا ، یہ رشتہ و پیوند

بتانِ وہم گماں ، لا الہ الا اللہ


مطلب : دنیاوی مال و دولت اور دنیاوی دوستیاں اور رشتے ، سب ایک خواب ہیں ، ایک طرح کے وہم و گماں کے بت ہیں ، نعرہ "لا الہ الا اللہ" کے علاوہ سب کچھ کھوکھلا لگتا ہے ۔


خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّاری

نہ ہے زماں نہ مکاں ، لا الہ الا اللہ


مطلب : انسانی دماغ نے زماں و مکاں کا پاک دھاگہ کافرانہ انداز سے اوڑھا ہوا ہے ، وقت، زمانہ اور جگہ اور اشیاء ، سب دھوکہ ہیں ۔ اصل ہے تو نعرہء "لا الہ الا اللہ" ۔


یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں ، لا الہ الا اللہ


مطلب : یہ سریلا نغمہ ، یعنی "لا الہ الا اللہ" کسی خاص زمانے یا موسم کےلیے ہی نہیں ہے چاہے کوئی بھی زمانہ ہو نعرہ "لا الہ الا اللہ" تا قیامت گونجے گا ۔


اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم ازاں ، لا الہ الا اللہ


مطلب : کئی کافرانہ خیالات ابھی تک ہماری زندگی میں کا فرما ہیں ۔ مگر مجھے اللہ کا حکم ہے کہ میں ہمت و مردانگی سے "لا الہ الا اللہ" اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کا نعرہ بلند کروں ۔


جو شخص بھی یہ کلمہ پورے ایقان واذعان کے ساتھ اور باری تعالیٰ کی رضاجوئی کی نیت سے زبانی کہے تو یہ کلمہ آخرت میں جہنم کی آگ سے اس کے بچاٶ کا سبب بنے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے نارِ جہنم پر ہر ایسے شخص کو حرام کیا ہے جو رضائے الٰہی کی خاطر ’’لاإلٰہ إلا اللہ‘‘ کہے ۔ (فإن اللّٰہ حرّم علی النار من قال لا إلٰہ إلا اللّٰہ یبتغی بذالک وجہ اللّٰہ) ۔ (صحیح بخاری :۴۱۵)


جو شخص بھی اس کلمے پر پختہ ایمان رکھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجائے وہ انشاء اللہ جنت میں ضرور داخل ہوگا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جو یہ جانتے ہوئے مرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ، وہ جنت میں جائے گا ۔ من مات وہو یعلم أن لاإلٰہ إلا اللّٰہ دخل الجنۃ ۔ (مسند احمد : ۴۶۴،چشتی)


اسی لیے علمائے دین فرماتے ہیں کہ اس کلمے کی معرفت وادراک سب سے بڑھ کر ضروری اور لازمی امرہے ۔


کلمہ طیبہ


لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔

ترجمہ :  اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔


کلمہ شہادت


اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔

ترجمہ : میں سچے دل سے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ رب العزت کے بغیر کوئی معبود برحق نہیں اور میں سچے دل سے گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے عبدِ مقدس اور رسول ہیں ۔


سوال : ’’اَشْہَدُ‘‘ کا لفظ ضروری ہے کہ نہیں ؟ اگر ضروری ہے تو کلمہ طیبہ میں کیوں نہیں اور اگر ضروری نہیں تو کلمہ شہادت کا کیوں ہے ؟

جواب : شہادت میں شاہد (گواہ) اور شہادت (گواہی) اور مشہود لہ (جس کےلیے گواہی دی گئی) کا ہونا ضروری ہے کیونکہ شہادت ان کے بغیر متصور نہیں ۔ شاہد اور شہید گواہی دینے والے کو کہتے ہیں اور جس امر کی گواہی دی گئی، اسے شہادت کہتے ہیں ۔ ’’لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘‘ میں مشہود لہ کا بیان ہے اور ’’اَشْہَدُ‘‘ میں شاہد اور شہادت کا بیان ہے ۔ مشہود لہ پہلے ہو گا اور شہادت بعد کو ہو گی ۔ جیسے میں کسی کے حق میں جا کر گواہی دوں تو میں گواہ ٹھہروں گا اور میرے بیانات ، شہادت اور جس کے حق میں گواہی دی گئی ، وہ مشہود لہ ہو گا ۔ وہ پہلے ہو گا تو میں اس کے لئے گواہی دوں گا ۔ اگر وہ پہلے نہ ہو گا تو گواہی کس کی دوں گا ۔ مشہود لہ ملزوم ہے اور شہادت اسے لازم ہے اور جملہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ میں مشہود لہ کا بیان ہے اور ’’اَشْہَدُ‘‘ میں شاہد اور شہادت کا۔ ’’الشـہادۃ والشہود‘‘ دونوں مصدر ہیں بمعنی ’’الحضور مع المشاہدۃ اما بالبصرا و بالبصیرۃ‘‘ شہود فقط حضور کو نہیں کہتے بلکہ شہود وہ ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیساتھ مشاہدہ بھی ہو۔ مثلاً ایک آدمی نیند میں تھا اس کو اٹھا کے یہاں لے آئے اور اسے نیند کی حالت میں واپس بھی لے گئے تو اس کو شہود نہیں کہیں گے۔ کیونکہ یہاں مشاہدہ نہیں ہے ۔ (چشتی)


سوال : آپ کہیں گے کہ یہ معنی ’’اَشْہَدُ‘‘ میں متحقق نہیں۔ کیونکہ باری تعالیٰ کا بصر اور بصیرت سے مشاہدہ نہیں کیا جاتا ۔

جواب : یہاں ملزوم بول کر لازم مراد لیا گیا ہے یعنی مشاہدہ بالبصر کو یقینی علم لازم ہے۔ جیسے میں نے یہاں آ کر تمہیں مشاہدہ کیا۔ تو تمہارا علم مجھے یقینی ہو گیا تو معنی یہ ہو گا کہ میں علم یقینی سے کہتا ہوں کہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ مگر فقط علم یقینی کافی نہیں۔ جب تک اس علم یقینی کو ’’اَشْہَدُ‘‘ سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کیونکہ علم یقینی کبھی مجاز میں مستعمل ہوتا ہے مگر ’’اَشْہَدُ‘‘ مجاز کے شبہ سے پاک ہے۔ لفظ ’’محمد‘‘ پر بحث کے لئے جی چاہتا ہے مگر اس کے لئے کافی وقت چاہیے۔ اب سرِ دست عبد کے معنی میں کچھ بحث کرنا چاہتا ہوں ۔


عبد کی قسمیں


عبد تین قسم پر ہے (۱) عبد مملوک (۲) عبد آبق (۳) عبد ماذون


(۱) عبدِ مملوک : عبد مملوک جسے عبد رقیق کہتے ہیں یعنی جس کو مولا کی طرف سے کوئی اختیار نہ ہو اور وہ ہر جہت میں مولا کے ملک میں ہو ۔

(۲) عبدِ آبق : عبد آبق وہ ہے جو باغی ہو کر مولا سے بھاگ گیا ہو، اگرچہ وہ اپنے گمان میں بھی بھاگا ہوا ہو ۔

(۳) عبدِ ماذون : وہ ہے کہ جس کی استعداد کو دیکھ کر مولا ہر جائز اور ممکن امر میں اختیار دے دے۔ اب اس عبد ماذون کا قول و فعل، مولا کا قول و فعل ٹھہرتا ہے۔ ہم عوام عبد مملوک ہیں اور کفار عبد آبق۔ جب عبد آبق کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اپنے خیال میں آبق ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ملک اور قبضہ سے نکلنے کا تصور بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے گمان میں بھاگے ہوئے ہیں اور نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عبد ماذون ہیں کیونکہ آپ کا ہر قول و فعل ’’من حیث النـبوۃ‘‘ اللہ تعالیٰ کا قول و فعل ٹھہرے گا۔ چنانچہ ’’وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی اور اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ اور وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ پر اعتراض حقیقتاً خدا تعالیٰ پر اعتراض ہو گا۔ ہمارے اس بیان کی طرف ’’اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ‘‘ کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو اذن دے، وہ اللہ کی بارگاہ میں عرض کر سکتے ہیں ۔ (چشتی)


شبہ : آپ کہیں گے کہ یہ تو شفاعت کا بیان ہے ۔

شبہ کا ازالہ : تو میں جواباً عرض کروں گا کہ آیت ’’اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ‘‘ کو ذرا غور سے پڑھیں کہ کوثر سے کیا مراد ہے۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ امام مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ’’اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ۔ الخیر الکثیر الخیر کلہ، خیر الدنیا والاخرۃ‘‘ اور کسی نے کہا کہ کوثر سے مراد تو حوضِ کوثر ہے۔ تو آپ نے جواب دیا، ’’ہو ایضا من الخیر الکثیر‘‘ وہ بھی تو خیر کثیر میں شامل ہے اور یہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے خاص شاگردوں میں سے ہیں بلکہ ان کا قول اگر آپ کے اور شاگردوں کے مقابل آئے تو محدثین ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں ۔


شبہ : آپ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قُلْ لَّا اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا ۔ (پ: ۹، س: الاعراف، آیت: ۱۸۸)

ترجمہ : ’’آپ فرما دیجئے، میں خود اپنے نفع اور نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں ۔‘‘

شبہ کا ازالہ : ذرا اس آیت مبارکہ کو آگے بھی پڑھیں کیونکہ تمام قرآن پر ہمارا ایمان ہے۔ فقط آدھی آیت پر ایمان معتبر نہیں، اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ’’اِلَّا مَا شَائَ اللّٰہ‘‘ الا سے قبل جس کی نفی ہوتی ہے۔ اسی کا ’’الا‘‘ کے بعد اثبات بھی ہوتا ہے۔ جیسے کلمہ طیبہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ میں ہے۔ تو اب آیت کا معنی یہ ہو گا کہ میرا نفع و نقصان کا مالک ہونا، اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اذن سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اذن کے بغیر میں مالک نہیں ہوں۔


شبہ : آپ کہیں گے کہ قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے : قُلْ لَّا اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ وَلَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ ۔ (س انعام آیت ۵۰)

شبہ کا ازالہ : آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ ’’لَکُمْ‘‘ کا مخاطب کون ہیں؟ ’’لَکُمْ‘‘ کے مخاطب کفار اور منافقین ہیں، مومنین نہیں ہیں۔ یعنی اے محبوب! آپ کفار سے کہہ دیں کہ میرے پاس خزائن نہیں ہیں کیونکہ کفار اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ انہیں اسرار کی بات بتائی جائے۔ اگر یہ تخاطب مومنین کےلیے ہوتا تو آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے برعکس کیونکر فرمایا، صحیح بخاری میں ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’اعطیت مفاتیح خزائن الارض‘‘ کیا آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن کے خلاف فرمایا؟ جب کفار سامنے آئے ’’لَا اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ‘‘ اور جب مومن سامنے آئے تو فرمایا، ’’اعطیت مفاتیح خزائن الارض‘‘ معلوم ہوا، اس آیت کے مخاطب کفار اور منافقین ہیں اور جملہ ’’وَلَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ‘‘ کا عطف عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ پر ہے اور ’’لَکُمْ‘‘ ساتھ لگے گا۔ تو معنیٰ یہ ہو گا کہ ’’اے کفار! میں تجھے نہیں کہتا کہ غیب جانتا ہوں‘‘ اور مومنین کو فرمایا، صحیح بخاری میں ہے یعنی میں تمام چیزیں اسی مقام پر ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہوں، کوئی چیز مخفی نہیں رہی۔ اور ’’لا‘‘ زائد ہے۔ تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ کیونکہ جب پہلے ’’لَا اَقُوْلُ‘‘ لایا گیا تو اب ’’اَعْلَمُ الْغَیْبَ‘‘ کہنا چاہئے تھا۔ عبارت یوں ہوتی ’’لَا اَقُوْلُ لَکُمْ اَعْلَمُ الْغَیْبَ‘‘ اب عبارت ہے کہ ’’لَا اَقُوْلُ لَکُمْ لَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ‘‘ تو یہ معنی نہیں بنتا۔ اس لئے ابن جریر نے کہا کہ یہ لفظ ’’لا‘‘ تاکید کے لئے زائد ہے اور ’’وَلَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ‘‘ کا عطف اسی جملہ پر ہے اور اس کا معنی ابن جریر نے یوں کیا کہ میں، تجھے یہ نہیں کہتا کہ میں فقط ’’ملک‘‘ ہوں بلکہ ’’ملک‘‘ سے کئی درجہ آگے چلا گیا ہوں، جیسے معراج کی رات والی سیر اس امر پر شاہد ہے۔


شبہ : ’’اعطیت مفاتیح خزائن الارض‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ آقا علیہ الصلوٰۃ السلام فقط زمین کے خزائن کی چابیاں دئیے گئے ہیں۔ آسمان کے خزائن کے مالک نہیں ہیں۔

شبہ کا ازالہ : مسند امام احمد میں آیا ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب معراج پر تشریف لے جا رہے تھے تو حضرت جبریل علیہ السلام حاضر بارگاہ ہوئے اور سبز کپڑا میں موتیوں کی لڑی پیش کی اور عرض کیا کہ زمین کے خزائن کی چابیاں تو آپ زمین پر دئیے گئے اور آسمان کے خزآئن کی چابیاں یہ لے لو۔ پتہ چلا کہ تمام خزائن کی چابیاں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیے گئے ہیں۔


عبد کا مفہوم : عبد کا معنی ہے پامال ہونا، اس لیے عربی میں اس راستہ کو، کہ جس پر لوگ چلیں اور وہ پامال ہو چکا ہو، معبد کہتے ہیں۔ معبد کو عبد اس لئے بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو نہ پائے بلکہ اپنے آپ کو معدوم پائے اور یہ کمال عبدیت ہے جو خواص کو حاصل ہے۔ خاص کر نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو، جو عبد خاص ہیں، وہ کسی نبی کو بھی حاصل نہیں ۔ آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اللہ کی بارگاہ میں جائیں تو عبدیت و فنائیت ہے کہ اس سے فیض لینا ہوتا ہے اور جب کائنات کو فیض دیں تو یہ رسالت ہے۔ لینا پہلے ہوتا ہے اور دینا بعد کو۔ اسی لئے کلمہ شہادت میں عبدیت کا بیان پہلے اور رسالت کا بعد میں ۔ آج لوگوں نے عبدیت کے مقام کو نہیں سمجھا۔ الٹا لفظ عبد کو دیکھ کر دھوکہ میں آ گئے اور اپنی مثل سمجھنے لگ گئے حالانکہ عبدیت ایک کرامت ہے۔ جب بندہ کو کمال عبدیت حاصل ہوتی ہے تو پھر بولنا اس کا، اس کا بولنا نہیں ہوتا اور سننا اس کا، اس کا سننا نہیں ہوتا۔ دیکھنا اس کا، اس کا دیکھنا نہیں ہوتا۔ بس وہ ذاتِ حق میں فنا ہوتا ہے اور اسی ہی کے حسن کے جلوے اس سے ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں۔


باذن اللّٰہ اور من دون اللّٰہ کی وضاحت


یہاں ایک بات ضروری ہے، وہ یہ کہ جہاں ’’اذن‘‘ ہو، وہاں ’’من دون اللّٰہ‘‘ کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ ’’من دون اللّٰہ‘‘ تو کوئی پتا بھی نہیں ہلا سکتا۔ کوئی مکھی کا پر بھی نہیں بنا سکتا۔ مچھر کا پر بھی نہیں ہلا سکتا اور ’’باذن اللّٰہ‘‘ ہو تو مردے بھی زندہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں واضح طور پر فرمایا، ’’وَاُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ‘‘ ہم ’’من دون اللّٰہ‘‘ کو مانتے ہیں، تم ’’باذن اللّٰہ‘‘ کو تو مانو، قرآن نے ’’من دون اللّٰہ‘‘ کی نفی کی اور ’’باذن اللّٰہ‘‘ کا اثبات فرمایا، ہمارا دونوں قسموں کی آیات پر ایمان ہے۔ کیونکہ ہم جمیع آیاتِ قرآنی کو مانتے ہیں۔ فقط ’’من دون اللّٰہ‘‘ والی آیات پڑھ کر ’’باذن اللّٰہ‘‘ کی نفی کر دینا، عظیم جہالت اور وادیٔ ضلالت میں جانا ہے۔ اللہ جل مجدہٗ کے اذن سے اللہ والے سب کچھ کر سکتے ہیں مگر حقیقت میں ان کا کرنا، ان کا کرنا نہیں، خود ذاتِ حق کا فعل ہے جیسے ملائکہ کا فعل، اللہ جل مجدہٗ کا فعل قرار پاتا ہے، اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے افعال بھی اللہ رب العزت کے افعال قرار پاتے ہیں۔


شبہ : جب ہر چیز آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دامن میں ہے اور وہ آقا کے ملک میں ہے تو وہ خدا کے ملک سے نکل گئی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کسی چیز کا مالک نہ رہا۔

شبہ کا ازالہ : پہلے بتاؤ کہ جو چیزیں تمہارے قبضہ و ملک میں ہیں، کیا یہ خدا کے ملک سے نکل گئی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں ’’لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰۃِ وَالْاَرْضِ‘‘ تو حیرت ہے کہ تمہارے ملک میں آ کر اللہ تعالیٰ کے ملک سے یہ چیزیں نہیں نکلیں تو نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ملک میں آ کر، خدا کے ملک سے کیوں کر نکل جائیں گی ؟ ۔ (مقالاتِ کاظمی جلد اوّل) ۔ اللہ عزوجل ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے بچاۓ آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

کلمہ طیبہ کا معنیٰ و مفہوم حصّہ اوّل

کلمہ طیبہ کا معنیٰ و مفہوم حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اسلام کا دار و مدار کلمہ طیب پر ایمان پر ہے ۔ یہ درحقیقت ربّ عالم کے سامنے اس کی عبودیت و غلامی کا اقرار نامہ ہے جس کے ذریعہ ایک مسلمان غیر مسلم سے ممتاز ہو جاتا ہے ، کلمہ طیبہ کو افضل الذکر بھی کہا جاتا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بروایت ترمذی اور ابنِ ماجہ ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یوں بیان کیا ہے : قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفْضَلَ الذِّکْرِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے افضل ذکر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ہے ۔

کلمہ طیب یہ دونوں جہانوں میں سے سب سے بڑی دولت و نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔ یہ پاکیزہ کلمہ دینِ اسلام کا محور ہے، اس کا نام کلمہ طیب بھی اسی لیے ہے کہ یہ نام سب کچھ پاک کر دیتا ہے ۔ اس کے نور سے تمام کفر و شرک کے پردے ہٹ گئے اور دورِ جہالت کی تاریکی سے عالمِ انسانیت کو نجات مل گئی ۔ ان پردوں کے اُٹھ جانے سے ہی بندہ اپنی تخلیق کے مقصد سے آگاہ ہوتا گیا اور اپنے ربّ کو جانتا اور پہچانتا گیا ۔ ایک مسلمان کےلیے ایمان کے حصول کی بنیاد کلمہ طیبہ ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ۔ ہے کیونکہ اسی کلمہ کی برکت و فضیلت سے اس کے آلودہ نفس کا تزکیہ ہوتا ہے ، نفس کے حجاب زائل ہوتے ہیں اور انوارِ الٰہی سے اس کا قلب منور ہو جاتا ہے۔ عرفانِ ذات کا حصول بھی کلمہ طیب کی حقیقت تک پہنچنے یعنی تصدیقِ قلب سے ممکن ہے ۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
ترجمہ : نہیں ہے کوئی معبود اللہ کے سوا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ : توحید : یہ کلمہ طیبہ توحید پر مشتمل ہے ۔ توحید کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو معبود برحق ، وحدہٗ لاشریک لہٗ ماننا اور یہی دین کی بنیاد ہے ۔
الوہیت : استحقاقِ عباد۱ت یا وجوب کو الوہیت کہتے ہیں۔جو ذات مستحق واجب الوجود کےلیے مستحق عبادت ہونا ضروری ہے ۔
مشرکین کی سفاہت ہے کہ وہ اپنے بتوں اور معبودوں کو ممکن الوجود مان کر معبود اور مستحق عبادت سمجھتے ہیں ۔ (چشتی)

عبادت : غایت تعظیم اور انتہاء تذلل کو عبادت کہتے ہیں جس کی اصل یہ ہے کہ عبادت کرنے والا جس کی عبادت کرتا ہے اس کے لیے ذاتی اور مستقل صفت مانتا ہے جس میں کسی کی قدرت و مشیت کو کسی قسم کا کوئی دخل نہ ہو ۔

اصل عبادت اسی اعتقاد کو کہتے ہیں ۔ اس اعتقاد کے ساتھ کسی کی اطاعت و محبت یا اس کےلیے کوئی عمل کرنا اس کی عبادت ہے ۔ بغیر عمل کے کسی کےلیے صرف اعتقاد کا ہونا بھی اس کی عبادت قرار پائے گا ۔

استعانت : الوہیت اور عبادت کے معنی واضح ہونے کے بعد استعانت کے معنی خود بخود سمجھ میں آجاتے ہیں اور وہ یہ کہ کسی کے لیے عون کی ایسی صفت مستقلہ مان کر جو مقہوریت اور مغلوبیت سے بالا تر ہو اس سے طلب عون کو استعانت (حقیقیہ) کہا جاتا ہے ایسی استعانت صرف معبود حقیقی کی شان کے لائق ہے، لہٰذا مستعان وہی ہوسکتا ہے اس کے غیر سے استعانت دراصل اس کی الوہیت و معبودیت کے اعتقاد کے منافی ہے ۔

فائدہ : چوں کہ الوہیت اور معبودیت استقلال ذاتی کے بغیرمتصور نہیں ، اس لیے کسی کو مجازی معبود و الٰہ نہیں کہہ سکتے بخلاف استعانت ، محبت اور اطاعت وغیرہ کے کہ یہاں مستعان مجازی اور محبوب مجازی کہہ سکتے ہیں ۔ کیوں کہ مظاہر کائنات میں خالق حقیقی نے یہ اوصاف پیدا کیے ہیں او رجو چیز پیدا کی ہوئی ہو اس میں استقلال ذاتی ممکن نہیں جس طرح استقلال ذاتی میں حدوث و مکان کا شائبہ نہیں پایا جاتا ۔ لہٰذا الٰہ اور معبود کو مجازی کہنا بالکل ایسا ہوگا جیسے واجب الوجود کو حادث کہہ دیا جائے ۔ (چشتی)

مختصر یہ کہ الوہیت کے مفہوم کا خلاصہ، غلبہ اور استقلال ذاتی ہے جو ذات اس سے متصف ہوگی اس کے لیے استحقاق عبادت و استعانت اور وجوب وجود بداہۃ ضروری ہوگا اور یہ ملازمت و ضرورت کا سلسلہ ایسا ہے کہ معبود برحق کے تمام اوصاف واقعیہ کو اعتقاد کے سامنے لے آتا ہے اور ایک مومن و مصدق اس کی روشنی میں معبودِ حقیقی کے تمام اوصاف کو بلاتامل تسلیم کرلیتا ہے ۔

مثلاً استحقاق عبادت کےلیے ضروری ہے کہ معبود سب سے بڑا اور عظمت والا ہو نیزاس کے لیے واجب الوجود ہونا بھی ضروری ہو کیوں کہ امکان کی صورت میں احتیاج لازم آئے گی اور محتاج غایت تعظیم کا مستحق نہیں ہوسکتا ، اسی طرح واجب الوجود ہونے کے لیے صانع عالم ہونا لازم ہے کیوں کہ سلسلہ ممکنات کا غیر متناہی ہونا محال ہے ، لامحالہ کسی واجب پر ختم ہوگا وہی صانع قرار پائے گا ۔ پھر صانع کا تعدد امکان تمانع کو مستلزم ہے اور امکان تمانع اجتماع نقیضین کو مستلزم ہے اور ظاہر ہے کہ اجتماع نقیضین ممکن نہیں بلکہ محال ہے اور مستلزم محال یقینا محال ہوتا ہے ۔ اس لیے امکان تمانع باطل قرار پائے گا اور تعدد صانع ممتنع ہوگا۔معلوم ہوا کہ صانع کا ایک ہونا ضروری ہے ۔ جب صانع کا وجود ضروری ہو تو اس کےلیے حیات علم و قدرت،سمع و بصر، کلام ارادہ اور حکمت و مشیت تمام اوصاف کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ صانع نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح صانع کے لیے کائنات کا رب ہونا اور ربوبیت کےلیے رحمان و رحیم ہونا سب کچھ ضروریات و لوازمات سے ہے کہ لزوم و ضرورت کا یہ سلسلہ ایسا ہے کہ ایک صفت کے ساتھ دوسری اور دوسری کے ساتھ تیسری اور اسی طرح ہر صفت ملزومہ کے ساتھ صفت لازمہ ثابت ہوتی چلی جائے گی ۔ (چشتی)

شرک : توحید کی نقیض شرک ہے ، چونکہ توحید امر واجب لذاتہٖ کا اعتقاد ہے اور واجب لذاتہٖ کا نقیض ممتنع لذاتہٖ ہے ۔ لہٰذا جب تک کسی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد نہ ہو اس وقت تک شرک مستحق نہ ہوگا ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا مستقلاً بالذات قادر مطلق ہونا واجب لذاتہٖ ہے اور اس کا اعتقاد توحید ہے اور اللہ تعالیٰ کے غیر کا مستقلاً بالذات قادر مطلق ہونا ممتنع لذاتہٖ ہے تو جو شخص غیر خدا کے حق میں ایسا اعتقاد رکھے وہ شرک ہے اور اس کا یہ اعتقاد شرک قطعی ہے ۔خواہ وہ ایسی قدرت بعطاء خداوندی ہی کیوں نہ مانتا ہو ۔کیوں کہ صفت مستقلہ اوصاف الوہیت سے ہے اور وصف الوہیت کی عطاء ممتنعات ذاتیہ سے ہے ۔لہٰذا اعطائے الوہیت کا معتقد بھی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد رکھنے کی وجہ سے مشرک قرار پائے گا لیکن اگر کسی غیر خدا کے حق میں کوئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تمام ممکنات پر غیر مستقل قدرت عطا کردی ہے تو یہ اعتقاد شرک نہ ہوگا کیوں کہ غیر مستقل قدرت عطا کرنا تحت قدرت ہے اور جو چیزتحت قدرت ہو ممکن بالذات ہے اور کسی ممکن بالذات کا ممتنع لذاتہٖ ہونا محال ہے اور جب تک کسی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد نہ ہو مشرک نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا تمام ممکنات پر اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی محبوب کو غیر مستقل قدرت عطا کرنے کا اعتقاد ہر گز شرک نہ ہوگا ۔
قدرت کی طرح علم ، سمع ، بصر کو بھی سمجھ لیجیے ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی محبوب کو تمام مخلوقات کا غیر مستقل یعنی ممکن اورحادث علم عطا کردیا ہے یا دور و نزدیک کی ہر شے اور ہر آواز کے سننے دیکھنے کی غیر مستقل صفت کا عطا کرنا تحت قدرت ہونے کی وجہ سے ممکن ہے اور امر ممکن کا اعتقاد شرک نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا استقلال ذاتی ہی کا عقیدہ شرک ہوگا ۔ کیوں کہ استقلال و الوہیت کی عطا ممتنع لذاتہٖ ہے اور اسی کا اعتقاد شرک ہے ۔ (چشتی)

خلاصہ کلام یہ کہ توحید و الوہیت اور عبادت و شرک کے ان مفاہیم کو ذہن نشین کرلینے کے بعد یہ حقیقت بے غبار ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ الٰہ برحق صرف وہی ذات واجب الوجود ہے جو ہر صفت کمال سےمتصف اور ہر عیب و نقص سے پاک ہو اور اسی ذات مقدسہ کا نام اللہ ہے اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ یہ معنی ہیں لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ کے اور اصل دین بھی یہی ہے ۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ : محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ (تعالیٰ) کے رسول ہیں ۔
محمد : لفظ محمد کا مادہ حمد ہے اور التحمید مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ ہے جس میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام مبارک اور اسمائے مبارکہ میں سے اسم ذات ہے اس کے معنی ہیں بہت زیادہ بار بار حمد کیا ہوا ، بے شمار تعریف کیا ہوا ، مطلقاً سراہا ہوا ۔ (چشتی)

مواہب اللدنیہ میں امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حدیث کا مضمون ارقام فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمانوں میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مشہور نام مبارک احمد ہے اور زمین میں محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ۔

احمد : لفظ "احمد" کا مادہ بھی حمد ہے ۔ احمد مصدر سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت زیادہ حمد کرنے والا ۔ حمد کرنے والا ضرور قابل تعریف ہوتا ہے اور جو قابل تعریف ہو وہ یقیناً مستحق حمد کی تعریف کرتا ہے ۔ لہٰذا حمد ہونے کےلیے محمد ہونا ضروری ہے اور محمد ہونے کے لیے احمد ہونا لازمی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے "احمد و محمد" دونوں کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسماۓ ذاتیہ سے شمار کیا ہے اور بعض نے دونوں کو ہم معنی بھی قرار دیا ہے ۔ (چشتی)

بشارت عیسیٰ علیہ السلام اور ایک شبہ کا ازالہ

قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک بشارت ان الفاظ میں مذکور ہے : وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ ۔
ترجمہ : میں بشارت دیتا ہوا آیا ہوں اس رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہے ۔

اس مقام پر ایک شبہ وارِد ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید میں چار جگہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نامِ مبارک محمد آیا ہے (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ۔اسی طرح اذان، نماز ، کلمہ اور درود سب میں حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا نام مبارک محمد ہی وارد ہے تو ایسی صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسمہٗ احمد کی بجائے اسمہٗ محمد کیوں نہیں فرمایا ۔ لفظ "احمد" کے ساتھ بشارت میں یہ خدشہ لاحق ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے احمد کے آنے کی بشارت دی ہے اور حضور "محمد" ہیں ۔ لہٰذا ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کا مصداق کوئی اور ہو جس کا نام "احمد" ہو ۔
اس کے متعدد جواب ہو سکتے ہیں لیکن سرِدست ہم صرف ایک جواب پر اکتفا کرتے ہیں ۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانی الاصل ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کی تخلیق نفخ جبرئیل علیہ السلام سے ہوئی یعنی اس کے بغیر کہ نفخ جبرائیل علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کےلیے مادہ تسلیم کیا جائے بلکہ محض سبب اولین ہونے کی حیثیت سے اور اس اعتبار سے کہ جبرائیل علیہ السلام کا نفخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت مریم علیہ السلام کے حاملہ ہونے کا ذریعہ بنا ۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی اصل نفخ جبرائیل علیہ السلام قرار پایا اور نفخ جبرائیل ذاتِ جبرائیل علیہ السلام سے متعلق ہے اور ذاتِ جبرائیل علیہ السلام آسمانی ہے ۔ اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانی الاصل قرار پائے ۔ (چشتی)
اور ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام مبارک احمد آسمانی ہے،لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام نے اسی نام پاک کے ساتھ بشارت دی تاکہ اس بشارت سے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانی الاصل ہونے پر روشنی پڑ جائے کیوں کہ بہترین کلام وہی ہوتا ہے جس سے متکلم کی حیثیت نمایاں ہوجائے تو گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لفظ "احمد" کے ساتھ بشارت دے کر بتادیا کہ میں آسمانی الاصل ہوں ۔ اسی لیے آسمانی بولی بول رہا ہوں ۔ جو جہاں کا ہوتا ہے وہیں کی بولی بولتا ہے ۔

اب لفظ "محمد" کی طرف آئیے اور کلمہ طیبہ میں اس کے وارد ہونے پر غور كیجیے ۔ کلمہ طیبہ دراصل دین متین کی بنیاد ہے ۔ اسے پیشِ نظر رکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہاں لفظ "محمد" (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی حیثیت کس قدر عظیم و جلیل ہے ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کلمہ طیبہ کا جزو اول جو توحید اور اللہ تعالیٰ کی الوہیت و معبودیت کے مضمون پر مشتمل ہے ۔ بمنزلہ دعویٰ کے ہے جسے تسلیم کرنے کے لیے ہر انسان دلیل کا محتاج تھا اور وہ دلیل کلمہ طیبہ کا جزوِ ثانی "مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ" ہے ۔ (چشتی)
اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ "محمد" (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے معنی ہیں بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور تعریف ہمیشہ خوبی اور حسن و جمال کی ہوتی ہے۔ عیب کی تعریف نہیں ہوتی بلکہ اس کی مذمت کی جاتی ہے ۔ معلوم ہوا کہ جس ذات پاک کو "محمد" کہا گیا ہے وہ عیب و نقص اور برائی و ذم سے پاک ہے اور مجسمہ حسن و جمال ہے اور یہ اس لیے کہ وہ دلیل ہے دعویٔ توحید کی ، توحید کا دعویٰ بالکل بے عیب ہے اس لیے اس کی دلیل بھی بے عیب ہونی چاہیے ۔ اسی بے عیب دلیل کا نام "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم" ہے ۔(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 4 June 2022

دو قومی نظریہ حصّہ چہارم

دو قومی نظریہ حصّہ چہارم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ ایک مسلّمہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ اس کے قیام کا عظیم اور بلند مقصد و نظریہ ہی اس کے دوام اور بقاء کا بھی جواز فراہم کرتا ہے۔ وہ عظیم نظریہ، دینِ اسلام ہے۔ وہی دینِ حق جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر تشریف لائے ۔ جس میں انسانوں کے حقوق ، عزت و تکریم ، مساوات ، برابری ، امانت و دیانت ، سچائی اور انسانیت کی فلاح و بہبود کی بات ہوتی ہے ۔

نظریہ پاکستان حقیقت میں وہی نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں سب سے زیادہ انسانیت کے حقوق پر توجہ دی جاتی ہے ۔ جو انسان ساز ، انسان دوست اور انسان نواز ہے ۔ جس کی اساس ’’لا اله الا اللّٰه محمد رسول اللّٰه‘‘ ہے ۔ یہی وہ کلمہ طیبہ ہے جس کے اقرار و اعلان سے انسان کے ظاہرو باطن میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ ساتھ تمام معبودانِ باطلہ اور ظالمانہ قوانین اور انسانیت سوز نظام کا انکار بھی ہوتا ہے ۔

برصغیر پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے دن بہ دن طاقت پکڑنے کے سبب مسلمان اخلاقی اور معاشی طور پر کمزور ہوتے گئے ۔ ٹیپو سلطان اور نواب سراج الدولہ جیسے سلاطین نے دکن اور بنگال میں اسلامی تشخص کو سنبھالا دینے کی کوششیں جاری رکھیں لیکن ان کی زندگیوں کے چراغ گل ہوتے ہی مسلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے گئے ۔

انگریزوں نے اورنگزیب عالمگیر کے زمانے سے ہی برعظیم پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں جو قدم جمانا شروع کیے تھے، وہ بالآخر کامیاب ہوئے اور مسلمانوں کے داخلی خلفشار اور معاشی بدحالی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں کی دولت سمیٹنے کے ساتھ ساتھ یہاں کی سیاست اور حکومت پر بھی قبضہ کرلیا ۔

مسلمانوں کی سیاسی موت تو ہوگئی لیکن وہ اسلامی تشخص جو مسلمانوں کی ثقافت سے ظاہر ہوتا تھا وہ کبھی ختم نہ ہوا۔ اس اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے میں ان صوفیاء کرام کا کردار ہے جو سیاست و حکومت سے ماوراء ہوکر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے اور قریہ قریہ، نگر نگر لوگوں کے دلوں کی دنیا تبدیل کرتے رہے اور ان کو ملتِ اسلامیہ کی عظیم برادری میں شامل کرتے رہے ۔ اہلِ طریقت صوفیاء کرام نے اپنے حسنِ اخلاق ، محبت، شفقت، عجز و نیاز، تواضع و انکساری اور جذبہ ایثار سے رنگ و نسل کے امتیاز اور غرور کو توڑا اور جذبۂ اخوت و محبت کو فروغ دیا اور لوگوں کو دینِ اسلام کی لڑی میں پروتے رہے ۔ اسی جذبہ جاوداں نے نظریہ پاکستان کو تقویت دی ۔

مرشدِ کامل حضرت ابوالحسن علی بن عثمان ہجویری ایسے عظیم صوفیاء کرام رحمہم اللہ کے ہر اول دستہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے مملکتِ پاکستان کی بنیاد رکھنے کا اہم فریضہ انجام دیا۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے نزدیک آپ نے سرزمین ہند میں شجرِ اسلام کا بیج بویا : ⬇

سید ہجویر مخدومِ امم
مرقدِ او پیر سنجر را حرم

بندھاہے کوہسار آساں گسیخت
در زمینِ ہند تخم سجدہ ریخت

خاکِ پنجاب از دمِ او زندہ گشت
صبحِ ماز مہرِ او تابندہ گشت

(علامه محمد اقبال کلیات اقبال فارسی صفحہ 51،چشتی)

سید ہجویر نے تبلیغِ اسلام کے راستہ میں اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی سے کامیابیاں حاصل کیں۔ لاہور اور پنجاب میں تبلیغِ دین کے ساتھ ساتھ نظریہ پاکستان کی بھی راہنمائی فرمائی ۔

سید ہجویر کے ساتھ دیگر صوفیاء کرام رحمہم اللہ بھی یہی فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ پھر حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری برصغیر پاک و ہند میں تشریف لائے اور اجمیر کی سرزمین پر بیٹھ کر لاکھوں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ پھر پنجاب میں اہل چشت کے امام حضرت بابا فریدالدین گنج شکر پاکپتن شریف جو کبھی ’’اجودہن‘‘ کہلاتا تھا، میں تشریف لائے اور دین حق کا پیغام پہنچایا ۔

اس طرح صوفیاء کرام کے اسماء کی ایک طویل فہرست ہے جو اس خطے میں آکر اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ بالآخر جب برصغیر پاک و ہند کے لوگ انگریزی غلامی میں گھر گئے تو پھر بھی یہی نظریہ کام آیا جو رفتہ رفتہ ایک تحریک کی صورت اختیار کرگیا اور پھر پاکستان کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوئے ۔

غلامی کے دور میں مختلف مسلم قائدین مسلمانوں کے خاص اسلامی تشخص کو اجاگر کرتے رہے اور اس طرف توجہ دلاتے رہے کہ مسلمان ایک خاص قوم ہیں، جن کا سیاسی، معاشی،معاشرتی اور اخلاقی و سماجی نظام کسی انسان کا وضع کردہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان کردہ ہے۔ جب مسلمانوں میں ایک الگ وطن کا نظریہ پروان چڑھنے لگا تو متحدہ قومیت کے نام پر ’’ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘ کا نعرہ لگایا گیا۔ ہندوئوں نے جس وقت یہ جال پھینکا تو کئی مسلمان قائدین بھی اس سازش کا شکار ہوگئے اور ہندو مسلم اتحاد کی بنیاد جغرافیہ کو قرار دیا اور کہا گیا کہ چونکہ ہماری زمین ایک ہے، زبان ایک ہے، رنگ ایک ہے، لہٰذا ہم ہندو مسلم ایک ہیں۔

نیشنلزم کے اس نعرہ کو حضرت علامہ اقبال نے بڑے مضبوط دلائل سے مسترد کردیا تھا اور وہ صرف اسلامی قومیت کا پرچار کرتے رہے۔ مسلم ہندوستان کا جو تصور علامہ اقبالؒ نے دیا، بعد میں اسے تصورِ پاکستان یا نظریہ پاکستان کہا جانے لگا ۔ (چشتی)

مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی رحلت سے کچھ عرصہ قبل حضرت علامہ محمد اقبال نے ارشاد فرمایا : ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں، ان میں کوئی چیز بھی مشترک نہیں، میں واضح الفاظ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی سیاسی کشمکش کا حل اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہر جماعت کو اپنی اپنی مخصوص قومی اور تہذیبی بنیادوں پر آزادانہ شوریٰ کا حق حاصل ہونا چاہئے ۔

علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد 1930ء اور دیگر خطبات میں اس بات کو بڑی شدو مد سے واضح کیا کہ ’’مسلمان‘‘ ایک قوم کا نام ہے، ان کو علیحدہ ایک وطن کی ضرورت ہے اور پھر ان علاقوں کی بھی نشاندہی فرمائی، جہاں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک آزاد اسلامی ریاست بن سکتی ہے۔

علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد 1930ء میں ارشاد فرمایا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآخر ایک اسلامی ریاست قائم کرنی پڑے گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔ میں صرف ہندوستان میں اسلام کی فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہوں ۔

نظریۂ پاکستان اور قائداعظم
قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں بھی ایک جداگانہ قومیت کے تصور اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک آزاد اسلامی ریاست کا جو خاکہ سامنے آتا ہے ، وہ بھی واضح ہے ۔ (چشتی)

23 مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس جس میں قرار داد لاہور منظور کی گئی تھی، قائداعظم نے فرمایا:
’’اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں بلکہ درحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں۔ چنانچہ اس خواہش کو خواب و خیال ہی کہنا چاہئے کہ ہندو مسلم مل کر ایک مشترکہ قومیت کی تخلیق کرسکیں گے۔ یہ لوگ آپس میں شادی بیاہ نہیں کرتے، نہ ایک دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔ میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ یہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو کہ ایک دوسرے کی ضد اور ایک دوسرے کے متصادم ہیں ۔

اس طرح 19 مارچ 1944ء کو طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا : اسلام ہمارا راہنما ہے اور ہماری زندگی کا مکمل ضابطہ ہے جس میں کسی سرخ یا پیلے پرچم کی ضرورت نہیں اور نہ ہمیں سوشلزم ، کمیونزم ، نیشنلزم یا کسی دوسرے ازم کی ضرورت ہے ۔

قائداعظم نے برصغیر پاک و ہند کے علماء کرام، مشائخ عظام اور مسلمانوں کے جذبات اور نظریات کی تصویر کشی کرتے ہوئے جس پاکستان کا خواب دیکھا اور جس اسلامی ریاست کے قیام میں کامیاب ہوئے، اس کے خدوخال اور نظام کے بارے میں بابائے قوم، بانی پاکستان کے ارشادات تاریخ کا حصہ ہیں ۔

ایک بار پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے خطاب میں قائداعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا : آج کے سائنسی دور میں جبکہ مذہب، انسانی مسائل کے حل میں ناکام ہوچکا ہے، ہندوستان کا ایک سیاسی دانشور، مذہب کے نام پر ایک الگ ریاست بنانے کا مطالبہ کررہا ہے ۔

قائداعظم نے فوراً اس کا جواب دیا : پنڈت نہرو نے درست کہا کیونکہ ہر شخص اپنے بارے میں صحیح جانتا ہے ، ممکن ہے ان کا مذہب ناکام ہو چکا ہو لیکن ہمارے معاملے میں ایسا نہیں ، بلکہ اسلام تمام عصری تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور ہر دور میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح جنہوں نے مسلم قوم کی قیادت کرتے ہوئے شبانہ روز فکری، جسمانی اور ذہنی مشقت برداشت کرتے ہوئے دنیا کی دو منظم ترین اقوام سے چومکھی لڑائی لڑکر اپنی غلام قوم کےلیے جس ایک آزاد وطن کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، اس کے قیام سے بہت ہی پہلے قائداعظم نے اس کے دستور کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں یہ اعلان فرمایا : جب آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ۔ ہم نے تو جمہوریت تیرہ سو سال پہلے ہی سیکھ لی تھی ۔

اس طرح 25 جنوری 1948ء کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے فرمایا : کون کہتا ہے کہ پاکستان کے آئین کی اساس شریعت پر نہیں ہوگی۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ مفسد ہیں۔ ہماری زندگی میں بھی اسلامی اصولوں پر اسی طرح عمل ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو سال پہلے ہوتا تھا۔ اسلام نے جمہوریت کی راہ دکھائی ہے، مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے۔ لہٰذا اسلامی اصول پر عمل کرنے پر ہم ہر ایک کے ساتھ انصاف کرسکیں گے ۔

قائداعظم نے پشاور میں جنوری 1948ء میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمین کا الگ ٹکڑا حاصل کرنے کےلیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے کہ جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ۔ اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت و وفا کشی کا مرجع خدا تعالیٰ کی ذات ہے، جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں۔ قرآن کریم کے احکام ہی ریاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کر سکتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی حکومت قرآنی اصول و احکام کی حکومت ہے ۔

پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں قائداعظم نے یہ خطاب کیا جس میں حلف برداری اور سبکدوش ہونے والے انگریز وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن سے انتقالِ اقتدار کی کارروائی بھی شامل تھی۔ قائداعظم نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں ارشاد فرمایا:حکومت کا پہلا فرض نظم و ضبط قائم رکھنا ہے تاکہ لوگوں کے جان و مال، عزت اور مذہبی عقائد کا تحفظ ہوسکے ۔ اس وقت جو بڑی لعنتیں مسلط ہیں ان میں رشوت خوری اور بے ایمانی بھی شامل ہیں، ہمیں ان کے فولادی پنجے کو توڑنا ہوگا۔ چور بازاری اور نفع خوری ایسی لعنتیں ہیں جو عوام کےلیے سخت مصیبت کا باعث ہیں ۔ آپ کو اس عفریت سے بھی جنگ کرنا ہے۔ یہ معاشرتی جرم ہے ، چور بازاری کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں ملنی چاہئیں ۔ جو چیز میری روح کو سخت تکلیف دیتی ہے وہ ہے بدعنوانی، بددیانتی اور رشوت خوری۔ میں کسی قسم کی رشوت اور بدعنوانی کو برداشت نہیں کر سکتا ۔ (چشتی)

مارچ 1948ء کو قائداعظم مشرقی پاکستان کے دورے پر پہنچے تو وہاں بھی انہوں نے فوجی اور سول افسران کے کئی اجتماعات سے خطاب کیا اور ہر موقع پر مملکت کے ملازمین سے ان کا خطاب امانت و دیانت اور اپنے عوام کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ہی ہوتا کیونکہ ان کی بصیرت انہیں یہ بتا رہی تھی کہ مملکت کے ملازمین کو کنٹرول کرنا اور راہِ راست پہ لانا بے حد ضروری کام ہے تاکہ انتظامیہ بدعنوانی اور نااہلی کے جراثیم سے پاک رہے اور عہد غلامی کی قباحتیں ، افسرانہ کرّوفر اور مملکت کے حقیقی مالکوں، یعنی عوام پر ان کے رعب وغیرہ کی ناروا روایات ختم ہوں ۔

قائدِ اعظم سیاست میں شمولیت سے لے کر اپنی زندگی کی آخری سانس تک اتفاق و اتحاد کی بات کرتے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی آپ ہمیشہ اتحاد کی ہی تلقین کرتے رہے ۔

12 اپریل 1948ء کو اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : یہ نہ بھولیے کہ ہم ایک ایسی مملکت کی تعمیر کررہے ہیں، جسے پوری دنیائے اسلام کی قسمت بننا ہے، لہٰذا ہماری نظر وسیع ہونی چاہیے ۔ ایسی وسیع کہ وہ صوبائی حد بندیوں، محدود قوم پرستی اور نسلی تعصبات سے بالا تر ہو اور اتحاد اس کا مرکزی نقطہ ہو ۔

17 اگست 1948ء کو قوم کے نام عید کے پیغام میں انہوں نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ سات کروڑ انسانوں کی یہ متحد قوم جس عزم و استقلال کی حامل ہے اور جس کی تاریخ تہذیب عالم میں شاندار حیثیت رکھتی ہے، اپنا کام جاری رکھے گی اور کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ ہمیں اپنا یہ قول یاد رکھنا چاہئے۔۔۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم ۔

قائدِ اعظم اپنی فوج کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے تھے۔ دسمبر 1947ء کو کراچی میں پاکستان کی بری ، بحری اور فضائی افواج کے افسران سے خطاب فرمایا : خدا نے ہمیں یہ سنہری موقع عطا فرمایا کہ ہم یہ ثابت کر دکھائیں کہ ہم واقعی ایک نئی مملکت کے معمار ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ خدارا! کہیں لوگ ہمارے متعلق یہ نہ کہیں کہ ہم یہ بار اٹھانے کے قابل ہی نہ تھے۔ آیئے! ہم پاکستان کی تعمیر و ترقی کا عزمِ مصمم کریں، اسے ایک ایسی عظیم مملکت بنائیں جو ہمارے آنے والی نسلوں کے رہنے کے قابل ہو۔ اس شاندار نصب العین کا تقاضا ہے۔۔۔ کام، کام اور بس کام ۔

قائدِ اعظم کے ان ارشادات کی روشنی میں نظریہ پاکستان کی وضاحت کچھ یوں ہوتی ہے کہ نظریہ پاکستان مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے : ⬇

اسلامی تشخص و قومیت کی اساس
جداگانہ تہذیبوں کا تصور
دو قومی نظریہ
قرآنی اصول و احکام کی حکومت
غیر اسلامی نظاموں سے بیزاری
جمہوریت
مساوات اور معاشی انصاف
قومی اتحاد ویکجہتی
مسلمانوں کی ایک طویل جدوجہد اور کوشش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانانِ برعظیم پاک و ہند کو 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی صورت میں ایک نعمتِ عظیم عطا فرمائی۔ جس کے لیے مسلمانوں نے ہر قسم کی قربانیاں دی تھیں۔ تحریک پاکستان کی خون آشام داستان کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے جب ’’لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کیا گیا تو پھر عوام نے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ہمارے عظیم آبائو اجداد نے ہمت نہ ہاری۔ ان کے عزمِ مصمم اور جہدِ مسلسل کا نتیجہ تھا کہ بالآخر قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک آزاد مسلم جمہوری ریاست کا قیام عمل میں آیا ۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں نظریہ پاکستان کا تحفظ کرتے ہوئے اس کی بقاء اور ترقی کےلیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ اس کرۂ ارضی کو تاقیامِ قیامت آباد و شاد رکھے آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

دو قومی نظریہ حصّہ سوم

دو قومی نظریہ حصّہ سوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت مجدد الف ثانی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہما الرّحمہ نے پاکستان اور دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی ۔ امام احمد رضاخاں قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے انگریز حکومت اور ہند و سامراج کے خلاف اسلامیانِ ہند کو دوقومی نظریے سے روشناس کروایا ۔ انہوں نے برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی ایسی رہنمائی کی کہ صرف چند سالوں کی جد و جہد کے بعد پاکستان دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آگیا ۔ امام احمد رضاخاں قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ایک سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور مسلمانوں کے عظیم محسن تھے ۔ انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ایسا چراغ روشن کیا جس کی روشنی آج برصغیر پاک و ہند میں بلخصوص اور پوری دنیا میں با لعموم دکھائی دے رہی ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے علمِ لدّنی سے نوازا تھا انہوں نے مسلمانوں کے لئے آنے والی مشکلات کو کئی دھائیوں پہلے محسوس کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایک علیحدہ سلامی ریاست کے لئے جدوجہد کی راہ دکھائی ۔ امام احمد رضاخاں قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا غلام احمدقادیانی اور گستا خانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خلاف بھر پور علمی وعملی محاسبہ کیا انہوں نے ہزاروں صفحات پر مشتمل فتاوی رضویہ سمیت ہزاروں کتابیں تصنیف کیں جن کے ذریعے بر صغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں عظمت اور محبت کے چراغ روشن ہوئے ۔ وہ اسلام کے سچے مبلغ اور گستاخان رسول کے خلاف ننگی تلوار تھے ۔ (چشتی)

یہ امراظہر من الشمس ہے کہ مسلمان اور غیرمسلم دو الگ الگ قومیں ہیں ۔ دونوں كکے راستے جُدا جُدا ہیں ۔ دونوں کی تہذیب و ثقافت اور تمدن و معاشرت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ مسلمان سب سے پہلے پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سچا پیرو کار ہے جو اسلام کا سرچشمہ ہیں ، یہ دوقومی نظریہ کا بنیادی اصول ہے ۔ دوقومی نظریہ ’’ملّت اسلامیہ‘‘ کا نظریہ ہے ۔ یہی نظریہ تحریک پاکستان کی بنیاد بنا ۔
برطانوی سامراج طویل غاصبانہ قبضے کے بعد جب بر صغیر سے جانے لگا تو ہندو عیار پورے ہندوستان پر اکیلے حکومت کرنے کا خواب دیکھنے لگا ، چناںچہ اس نے اپنی حکمرانی کا راستہ ہموار کرنے کے لیے مسلمانوں کا علیحدہ قومی تشخص ختم کرنے کی ٹھان لی ۔ بس پھر کیا تھا ایک قومی نظریہ کا نعرہ بلند ہوا اور پھر گاندھی نے نہایت ہی منّظم طریقے سے بر صغیر کے بسنے والوں کے لیے صرف ایک ’’ہندوستانی قوم‘‘ بن جانے کی تحریک چلا دی ۔
’’ہندومسلم اتحاد‘‘ کے مظاہرے ہونے لگے ۔ مسلمان اپنا قومی تشخص اپنے ہاتھوں سے مٹانےلگے ۔

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے :
علاقے بہار میں ہندوؤں نے محض گائے کی قربانی روکنے کے لیے ہزار ہا مسلمانوں کو زخمی اور قتل کردیا ۔ مسلمانوں کے متعدد گاؤں اور دو ہزار سات سو مکانات اس بے دردی کے ساتھ لوٹے گئے کہ جن کی تفصیل سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ لاتعداد مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی۔ پانچ عالی شان مسجدیں شہید کردی گئیں۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی۔ بقر عید کے موقع پر کٹا رپور میں ایک دو نہیں تقریباً تیس مسلمانوں کو زندہ آگ میں جلادیا گیا ۔ ان نازک ترین حالات میں بریلی شریف کے مردِ حق آگاہ مجدّد مائتہ حاضرہ امام احمدرضا محدّث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ خاموش نہ رہ سکے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ مجدّدانہ انداز میں آگے بڑھے اور دوقومی نظریہ کی علم برداری کا فریضہ ادا کرنے کی ذمہ داری سنبھالی ۔ آپ نے متحدہ قومیّت کا پرچار کرنے والے گاندھی نواز افراد کا ایسا تعاقب فرمایا کہ ان کے جملہ دلائل کے سارے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے’’انفس الفکر فی قربان البقر‘‘(۱۲۹۸ھ/ ۱۸۸۰ء) کتاب تصنیف فرمائی جس میں قرآن وحدیث سے نفس قربانی اور گائے کی قربانی پر تفصیلی بحث کے بعد تمام شبہات و اعتراضات کا نہایت ہی شافی جواب دیا ، جو دیدنی ہے ، مسلم لیگ ضلع بریلی کے جوائنٹ سیکریٹری سیّد عبدالودود کے ایک استفتاء کے جواب میں فرماتے ہیں : فی الواقع گاؤ کشی ہم مسلمانوں کا مذہبی شعار ہے، جس کا حکم ہماری پاک مبارک کتاب کلام مجید رب الارباب میں متعدد جگہ موجود ہے ۔ اس میں ہندوؤں کی امداد اور اپنے مذہبی معاملات میں کوشش اور قانونی آزادی کی بندش نہ کرے گا ، مگر وہ جو مسلمانوں کا بد خواہ ہے ۔ (چشتی)

’’اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام‘‘ (۱۳۰۶ھ/۱۸۸۸ء) میں ہندوستان کو دارالسّلام قرار دیتے ہوئے آپ نے سود کو حرام اور ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ غاصبانہ قرار دیا ۔ لطف تو یہ ہےکہ دارالحرب قرار دینے والوں نے خود تو ہجرت کا نام تک نہ لیا ، مگر سادہ لوح مسلمانوں کو یہاں سے ہجرت کرجانے کی تلقین کی ، چنانچہ امام احمدرضا محدّث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : الحاصل ہندوستان كکے دارالاسلام ہونے میں شک نہیں، عجب ان سے جو تحلیل ربوٰ کے لیے جس کی حرمت نصوص قرآنیہ سے ثابت اور کیسی کیسی سخت وعیدیں اس پر وارد ، اس ملک کو دارالحرب ٹھہرائیں اور باوجود قدرت و استطاعت ہجرت کا خیال بھی دل میں نہ لائیں ، گویا یہ بلاد اسی دن کےلیے دارالحرب ہوئے تھے کہ مزے سے سود کے لطف اڑائیے اور بآرام تمام وطن مولوف میں بسر فرمائیے ۔‘‘ یہ ہیں اعلیٰ حضرت کے دوقومی نظریے کے حوالے سے وہ افکار ونظریات جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی دینی ،مذہبی و سیاسی رہنمائی کافریضہ انجام دیا ۔آپ نے برصغیر کے مسلمانوں میں یہ روح پھونکی کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں ۔

مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت سے شاید ہی برصغیر پاک و ہند اور دنیائے عرب کا کوئی مذہبی شخص ناواقف ہو گا۔ فقہی،علمی اور مذہبی اعتبار سے آپ جن عبقری صفات کے حامل تھے،مسلکی اختلافات کے باوجود معاصرین سے لے کر دور حاضر کے لوگوں تک سب ہی نے علمی برتری اور شریعت فہمی میں آپ کی نگاہ ثروت کا لوہا مانا ہے۔ آپ ایک جید عالم عبقری فقیہ، صاحب نظر اور عظیم محدث ہیں۔ انفرادیت کا عالم یہ ہے کہ جب آپ کا قلم میدان تحقیق میں فن دکھاتا ہے تو عموماً آخری حدود کو چھو جاتا ہے اور مزید تحقیق کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ہمہ جہت شخصیت

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہمہ صفات تھی ، آپ نے جس میدان میں بھی قدم رکھا ، دنیا نے آپ کو اسی میدان کا شہسوار مانتے ہوئے سمجھا کہ شاید آپ نے اس فن کے حصول کے لیے تمام زندگی صرف کی ہے۔علم ہیئت ، توقیت ، جفر ، فقہ ، حدیث ، منطق ، فلسفہ ، سائنس وغیرہ کے نہ صرف ماہر تھے ، بلکہ ہر فن میں خداداد علمی تحقیقی صلاحیتوں کے مالک تھے اور ہر فن میں ایک نئے انداز وفکر وبیان سے کتاب تحریر فرماکر دنیا سے اپنے قلم کا لوہا منوایا ، اسی طرح نعت گوئی میں بھی آپ امتیازی شان کے مالک تھے ، آپ عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں سرشارتھے ،آپ کی تصانیف میں بھی عشق رسول ومحبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ایمان افروز جلوے نظر آتے ہیں۔اس عشق ومحبت کے جلوؤں کی جھلکیاں آپ کے نعتیہ کلام کا مجموعہ مسمیٰ تاریخی ’’حدائق بخشش‘‘میں بدرجہ کمال پائی جاتی ہیں ، آپ کا کلام فصاحت وبلاغت ، لطائف ونزاکت اور سلاست و روانی کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔ (چشتی)

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اکبر بادشاہ کا دور مسلمانان ہند پہ بہت کڑاوقت تھا ۔ اکبر بادشاہ نے جس نئےدین کی بنیاد ابوالفضل اور فیضی جیسے علماءِ سوء کی مدد سے ڈالی اس کو “دین الہٰی” کانام دیاگیا ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمۃ اللہ علیہ اس دور کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں : تیسرے دور میں دین الہی کا آغاز ہوااور وہ کچھ ہوا کہ جو نا گفتنی ہے ۔ ہروہ کام کیا جانے لگا جو اسلام کے سراسر منافی ہے ۔ مثلا کلمہ طیبہ میں محمدرسول اللہ کے بجائے اکبر خلیفۃ اللہ پڑھا جانے لگا ۔ گائے کی قربانی پہ پابندی لگادی گئی ۔ خنزیر اور کتوں کا احترام کیا جانے لگا ۔ داڑھیاں منڈوادی گئیں شراب جواء عورت کی بے پردگی عام ہوگئی بادشاہ کوسجدہ تعظیمی کیا جانے لگا اور شعائرِ اسلام کا برسرعام مزاق اڑایا جانے لگا - ایسے دور میں کلمہ حق بلند کرنا اتنا مشکل ہو گیا لیکن ایسے دور میں امام ربانی مجدد الف ثانی احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی کی رحلت کے ایک ہزار سال بعد تجدید دین کا کارنامہ سرانجام دیا ۔ چونکہ امام ربانی علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب 29 واسطوں سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک پہنچتاہے تبھی آپ کے علماء مشائخ ، صوفیاء عوام ، بادشاہ کے مقربین کو جو مکتوبات لکھے ان کو پڑھتے وقت ایک ایک جملے سے جلال فاروقی جھلکتا محسوس ہوتاہے ۔

جناب سید شیخ فرید کو بھیجے جانےوالا خط کی تحریر کچھ یوں تھی : اللہ تعالی نے کلام مجیدمیں کافروں کو اپنا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن فرمایاہے ۔ لہذا کفار کےساتھ دوستی اور میل جول بڑاہی گناہ ہوگا-ان کفار کی ہم نشینی اور دوستی کا کم سے کم نقصان یہ ہے کہ احکام شریعت جاری کرنے اور کفرکےنشان مٹانے کی قوت کمزور پڑ جائے گی اور یہ بہت بڑا نقصان ہے ۔
ایک ایمان والا اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت رکھتا ہے ۔ خودسوچیئےجس شخص سے ایمان کی حد تک محبت ہو کیا اس کے دشمن سے محبت ہو گی ؟ کیا اس کی تعظیم اور عزت کی جاسکتی ہے ؟ حاشا و کلا یہ محبت کی توہین ہوگی غیرت ایمانی کے سراسر منافی ہے یہ ہی دوقومی نظریہ ہے جو قرآن و سنت سے بھی ثابت ہے ۔

اکبری دور کے بعد بیسویں صدی کی ابتداءمیں پھر سےاس فتنے نے سراٹھایا-ہندومسلم بھائی بھائی کا نعرہ بلند ہوا - امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے علالت کے باوجود ” المحجۃ الموتمنہ” لکھ کر ہندومسلم اتحاد کےتار پود بکھیر دیئے ۔ قرآن حدیث کی روشنی میں دوقومی نظریہ پوری قوت کےساتھ پیش کیا ۔ کس دردمندی کےساتھ فرماتے ہیں : جب ہندوؤں کی غلامی ٹھہری ، پھر کہاں کی غیرت کہا کی خوداری ؟۔(المحجۃ الموتمنہ،چشتی)

پہلی جنگ عظیم کےبعد جب مسلمانوں کی طرف سےتحریک خلافت کاآغاز ہوا،توحالات نےنیارخ اختیارکیا،اس تحریک میں مولانا محمد علی جوہر،مولانا شوکت علی،حکیم اجمل خاں،ڈاکٹر انصاری،مولانا ظفرعلی،مولانا حسرت موہانی وغیرہم مشاہیرملت شامل تھے.اسی زمانہ میں انڈین نیشنل کانگریس نےمسٹرگاندھی کےایماء پرترک موالات کی تحریک شروع کی_کانگریس کا قیام اگرچہ 1885 میں عمل میں آگیاتھا مگراسکا مقصد صرف یہ تھا کہ حاکم ومحکوم کےتعلقات کواستوارکرےاور بس بعد میں کامل آزادی کامطالبہ کیاگیا ۔
الغرض 1920 میں کانگریس کےقوم پرست ہندو اور مسلمان تحریک خلافت کےداعی اپنے مشترکہ دشمن انگریز کےخلاف متحد ہوگئے،ہرشخص ترک موالات پرتلاہوانظرآتاتھا . مخالفت کی کسی کوجراءت نہ تھی،جوش جنوں میں انگریزوں سےترک مواصلات بلکہ ترک معاملت کرکےکفارومشرکین سےدوستی و محبت کےلیے ہاتھ بڑھایا گیا ۔ ہندومسلم اتحاد کےمؤیداور ہمارے محترم بزرگ مولانا محمد علی ، اور مولانا شوکت علی جب فاضل بریلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی تحریک میں شمولیت کی دعوت دی تو فاضل بریلوی نےصاف صاف فرمادیا : مولانا میری اور آپ کی سیاست میںفرق ہے،آپ ہندومسلم اتحاد کےحامی ہیں میں مخالف ہوں،اس جواب سےعلی برادران ناراض ہوئے تو فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تالیف قلب کےلیے مکررفرمایا : مولانا میں ملکی آزادی کامخالف نہیں ، ہندومسلم اتحاد کا مخالف ہوں ، (اعلی حضرت کی مذہبی وسیاسی خدمات،مطبوعہ عرفات شمارہ اپریل1970،چشتی)

محترم قارئینِ کرام : غور کیجیے جب قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ جیسے مقبول لیڈر کو بھی ترک موالات کے خلاف کچھ کہنے کی جراءت نہ ہوئی ، پورا ملک ہند و مسلم اتحاد کی طوفانی لہروں میں بہہ رہا تھا . ایسے پر فتن ماحول میں جس مرد مجاہد نے ہندومسلم اتحاد کےخلاف آواز اٹھائی اور دوقومی نظریہ پیش کیا وہ ایک عالم ایک مجدد جناب احمدرضاخاں بریلوی قدس سرہ العزیز کی ذات گرامی تھی .اس ہی ضمن میں دو استفتاء کےجواب میں ایک رسالہ “المحجہ الموتمنہ فی آیۃ الممتحنہ 1920/ھ1339 ” کے تاریخی نام سے مولوی حسنین رضاخاں نےمطبع حسنی بریلی سےچھپوا کر شائع کیا تھا . یہ پورارسالہ رئیس احمد جعفری نے اپنی تالیف اوراق گم گشتہ” میں شامل کر دیا ہے ، جو بڑے بڑے سائز کے اسی صفحات پہ پھیلا ہوا ہے ۔

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی انگریزوں سے نفرت

کہا جاتا ہے کہ آپ انگریزوں کے پروردہ تھے انگریز پرست تھے مگر آپ تو انگریز اور ان کی حکومت سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ لفافے پہ ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ میں نے جارج پنجم کا سرنیچا کر دیا ۔ آپ نے کبھی انگریز کی حکمرانی تسلیم ناکی حتی کہ ایک بار ایہ مقدمہ کےسلسلہ میں آپ کو عدالت نے طلب کیا فرمانے لگے کہ میں انگریز کی حکمرانی کو نہیں مانتا تو اس کےنظامِ عدل کو کیونکر مانوں ؟ حتی کے آپ کو گرفتار کرنے کےلیے معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ بات پولیس سے نکل کر فوج تک جا پہنچی مگران کے ہزاروں جانثاروں نے سر پہ کفن باندھ کر ان کے گھر کا پہرہ دیا آخرعدالت کو حکم واپس لینا پڑا ۔ (ہفت روزہ الفتح، 14،21 مئی 1976 ص17)

ایک مرتبہ انگریز کمیشنر نے 35 مربع زمین کی آپ کو پیش کش کی مگر اس مرد قلندر نےفرمایا انگریز اپنی تمام حکومت بھی مجھے دے دے تو بھی میرا ایمان نہیں خرید سکتا ۔ ( ماہنامہ الحبیب اکتوبر1970ء) ۔ (مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

دو قومی نظریہ حصّہ دوم

دو قومی نظریہ حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سوموار 29 دسمبر 1930 علامہ اقبال کا نظریہ پاکستان 29 دسمبر 1930ء کو الہٰ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے اپنا مشہور زمانہ "نظریہ پاکستان" پیش کیا تھا جس میں انہوں نے تجویز کیا تھا کہ : "میری خواہش ہے کہ پنجاب ، سندھ ، شمال مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ہی ریاست میں مدغم کر دیا جائے ۔ مجھے تو ایسا نظر آتاہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں سلطنت برطانیہ کے اندر یا اس کے باہر حکومت خود اختیاری اور شمالی مغربی متحدہ مسلم ریاست آخر کار مسلمانوں کا مقدر ہے ۔

ابتداء میں نظریہ پاکستان کے بارے میں خاصا ابہام رہا۔ علامہ اقبالؒ اور 'پاکستان' نام کے خالق چوہدری رحمت علی نے بھی جس آزاد اسلامی مملکت کا خیال پیش کیا تھا اس میں بنگال شامل نہیں تھا حالانکہ وہ بھی ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھا۔ 23 مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور میں بھی مسلمانوں کے لیے ہندوستانی حدود میں رہتے ہوئے آزاد ریاستوں کی بات کی گئی تھی لیکن 9 اپریل 1946ء کی قرارداد دہلی میں پہلی بار "نظریہ پاکستان" پر ایک واضح پالیسی اختیار کی گئی تھی اور "دو قومی نظریہ" کے علاوہ ایک الگ وطن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا جو ہندوستانی آئین کے ماتحت نہ ہو ۔

نظریہ پاکستان کیا تھا ؟

قرار دہلی 1946ء کے مطابق نظریہ پاکستان کی یہ تشریح کی گئی تھی : ہندوستان کے دس کروڑ مسلمان ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں کہ جو ان کی زندگی کے ہر شعبہ بشمول تعلیم ، سماج ، معیشت اور سیاست پر حاوی ہے اور جس دین کا ضابطہ روحانی عقائد ، ایمان اور رسم و رواج تک محدود نہیں ہے۔ یہ دین ، اس ہندو دھرم اور فلاسفی سے متصادم ہے جس نے ہزاروں سالوں سے ذات پات کے تنگ نظر نظام کو قائم کیا اور جس کے نتیجے میں ہندوستان کے کروڑوں انسان پس ماندہ ہو کر اچھوت بن کررہ گئے ہیں اور انسانوں کے درمیان غیر فطری دیواریں حائل ہوگئی ہیں۔ اس ملک کے باشندوں کی بڑی تعداد پر سماجی اور معاشی عدم مساوات کے توہمات مسلط ہوگئے ہیں جس سے مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ معاشرتی اور معاشی حیثیت سے ایسی غلامی میں مبتلا ہو جائیں گے جس سے نجات ممکن نہیں ہوگی ۔ ہندوؤں کا ذات پات کا نظام براہِ راست قومیت ، مساوات ، جمہوریت اور اسلام کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے ۔ (چشتی)

تاریخی پس منظر ، روایات ، ثقافت ، سماجی اور معاشی نظاموں کے اختلاف نے ایک ہندوستانی قوم کی تشکیل کو ناممکن بنا دیا ہے ۔ اس کے لیے مشترک تمنائیں اور تصورات ہی موجود نہیں ہیں ۔ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں ۔

ہندوستان میں برطانوی پالیسی کے مطابق مغربی جمہوریت کی روشنی میں اکثریت کے اصول پر مبنی سیاسی ادارے قائم کیے گئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک قوم کی اکثریت کی رائے دوسری قوم پر اس کی مخالفت کے باوجود مسلط کردی جائے گی ۔ جیسا کہ ہندو اکثریت رکھنے والے صوبوں میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے آئین کے تحت کانگرسی حکومتوں کے ڈھائی سالہ دور سے اچھی طرح ظاہر ہوگیا ہے ۔ جب مسلمانوں پر ناقابل بیان مصائب ڈھائے گئے اور جس کے نتیجے میں انھیں یقین ہوگیا کہ ایکٹ اور گورنروں کے ہدایت ناموں میں نام نہاد تحفظات فضول اور بے اثر ہیں۔ متحدہ وفاق میں مسلم اکثریت والے صوبوں کے مسلمانوں کا انجام بھی بہتر نہیں ہوگا اور مرکز میں ہندوؤں کی اکثریت کی وجہ سے مسلمانوں کے حقوق اور مفاد ات کا تحفظ نہیں ہوسکے گا ۔

مسلمانوں کو یقین کامل ہے کہ مسلم ہند کو ہندوؤں کے تسلط سے بچانے کے لیے اور انہیں اپنی قابلیت کے مطابق ترقی کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ضرورت ہے ایک آزاد اور بااختیار ریاست قائم کی جائے ۔ (چشتی)

پاکستان اور ہندوستان کی اقلیتوں کو اس طریقہ پر تحفظات دئیے جائیں جو آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940ء کو لاہور کی قرارداد میں پیش کیے تھے۔ مرکزی عبوری حکومت میں مسلم لیگ کے تعاون اور اس کی شرکت کے لیے یہ شرط لازم ہے کہ مسلم لیگ کا پاکستان کا مطالبہ منظور کیا جائے اور بلا تاخیر نفاذ کی ذمے داری لی جائے ۔

23 مارچ 1940ء کی "قرارداد لاہور" یا "قرارداد پاکستان" میں مسلم لیگ کے رہنما پاکستان کے بارے میں واضح اور یکسو نہیں تھے اس لیے "قرارداد لاہور" میں ایک ریاست کی بجائے ’’ریاستوں‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ 1946ء کی متفقہ قرارداد میں پہلی بار ایک الگ ریاست پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ (چشتی)

قرارداد دہلی ، برصغیر کے مسلمانوں سے دھوکہ؟
ناقدین کی رائے میں قرارداد دہلی ، برصغیر کے مسلمانوں کے مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ تھا کیونکہ اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے متحدہ ہندوستان کی حدود میں رہتے ہوئے آزاد اور خودمختار مسلم ریاستوں کو وؤٹ دیا تھا نہ کہ ایک الگ تھلگ اور بھارت دشمن پاکستان کے لیے۔ ان کی رائے میں بھارت کے مسلمان ، "نظریہ پاکستان" کو وؤٹ دینے کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے بھارتی مسلمان ، قائداعظمؒ کو اچھے نام سے یاد نہیں کرتے اور انھیں تحریک آزادی کے رہنماؤں میں شامل نہیں کرتے ۔ اس کنونشن میں متحدہ ہندوستان کی 11 صوبائی اسمبلیوں کے 56 مسلم اراکین ، مرکزی اسمبلی کے 10 اراکین اور کونسل آف سٹیٹ کے 13ممبروں نے نے پاکستان سے وفاداری کا حلف اُٹھایا تھا ۔ (روزنامہ انقلاب یکم جولاٸی 1937 لاہور)

دو قومی نظریہ قائد اعظم اور علامہ اقبال علیہما الرّحمہ کے افکار کی روشنی میں

یہ عجیب اتفاق ہے کہ اسلام کے نام پر اسلامیانِ ہند کی بے نظیر جدوجہد کے نتیجے میں بننے والی ریاست ’’پاکستان‘‘ کا وجود آج سوالیہ نشان بنایا جارہا ہے۔ سیکولر فکر کے نمائندہ خواتین و حضرات کچھ عرصہ سے نظریہ پاکستان کی اصطلاح کا سرے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اقبال اور قائداعظم نے تحریک پاکستان کے دوران یہ لفظ استعمال نہیں کیا تو بعد میں اس کی رٹ کیوں لگائی جارہی ہے؟ ذیل میں ہم اسی بنیادی غلط فہمی کا ازالہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ثانیاً اس حقیقت کو واضح کرنا مقصود ہے کہ نظریہ پاکستان کی اساس اسلام کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ پاکستان محض زمین کے ٹکڑے کے طور پر حاصل نہیں کیا گیا تھا بلکہ بانیانِ پاکستان نے اسے اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا ۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام ایک نظریے کے تحت عمل میں آیا ۔ نظریہ پاکستان کی سی حیثیت پاکستان کے وجود میں روح کی ہے جس کے بغیر پاکستان کے قیام کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانان ہند شعوری طور پر ایک نظریے کے تحت آزاد مسلمان مملکت کے قیام کی جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ آج ہمارے تعلیمی نظام کی بے ثمریت، ریاستی و ادارتی بے مقصدیت اور قومی سطح کی بے شعوری کے باعث قیام پاکستان کے تقریباًپون صدی بعد نظریہ پاکستان پر تنازعہ کھڑا کر دیا گیا ہے اور یہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نظریہ پاکستان کو تلاش کریں، اس کی تعریف متعین کریں اور یہ فیصلہ کریں کہ کیا نظریہ پاکستان کی کوئی حقیقت بھی ہے ؟

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور نظریہ پاکستان

قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں فکر اقبال کی مرکزی حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ہر بڑی تحریک کا ایک مفکر ہوتا ہے، ہماری تحریک کا مفکر اقبال ہے ۔ اقبال نے زندگی کے ہر مرحلے پر عملی اور فکری دونوں لحاظ سے نہ صرف جاندار کردار ادا کیا بلکہ قوم کی واضح رہنمائی بھی کی۔ اقبال کا دسمبر 1930ء کاخطبہء الہ آباد ہماری تحریک آزادی کا میگناکارٹا قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس خطبہ میں جہاں اقبال نے مسلمانانِ ہند کے مستقبل کے مقدر کے حوالے سے بصیرت افروز گفتگو کی وہاں اس نظریاتی اساس کو بھی متعین کر دیا جس پر آگے چل کر مسلمانانِ ہند کی جدوجہدِ آزادی استوار ہوئی اور سترہ سال کے عرصے میں انہوں نے پاکستان کی منزل کو پا لیا ۔ خطبہ الہ آباد بیک وقت فکری و نظریاتی اور عملی و دستوری پہلووں کا احاطہ کرتا ہے ۔ آئیے اس خطبہ میں موجود اہم نکات پر ایک نظر ڈالتے ہیں : ⬇

1۔ سیاسی راہ عمل۔۔ اسلام

علامہ نے مسلمانان ہند کے مستقبل کے لیے راہ عمل متعین کرتے ہوئے فرمایا:

’’میں زندگی بھر کے مطالعے کے بعد اسلام کو بطور ایک عالمگیر حقیقت کے دیکھنے کی استعداد حاصل کر چکا ہوں۔ لہذا جب بھی مسلمانانِ ہند کے لیے کوئی سیاسی راہ عمل متعین کروں گا تو وہ اسلام ہی کے اصولوں سے ماخوذ اور مستنبط ہو گی۔ میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام، اس کے نظام سیاست و قانون، اس کی ثقافت، اس کی تاریخ اور اس کے ادب کے مطالعہ میں صرف کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ روح اسلام کے ساتھ مسلسل تعلق کی بدولت جس کا اظہار وقت کے ساتھ ہورہا ہے، میرے اندر اسلام کو ایک اہم عالم گیر حقیقت کی حیثیت سے دیکھنے کی بصیرت پیدا ہوگئی ہے۔ چنانچہ یہ فرض کرتے ہوئے کہ ہندوستان کے مسلمان اسلام کی روح سے اپنی وابستگی برقرار رکھیں گے، میں اپنی اس بصیرت کی روشنی میں، جس کی قدر و قیمت خواہ کچھ ہو، آپ کے فیصلوں میں آپ کی راہ نمائی کرنے کا دعویٰ تو نہیں کرتا تاہم آپ کے دل میں اس بنیادی اصول کا احساس پیدا کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش کروں گا جس پر میرے خیال میں ان تمام فیصلوں کا عموماً انحصار ہونا چاہیے ۔

2۔ اسلام ہی نظریہ پاکستان کی اساس کیوں ؟

اسلام کو اساس بنانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ نے فرمایا : وہ اسلام کو ایک ایسی زندہ قوت سمجھتے ہیں جس کے مستقبل سے وہ قطعاً مایوس نہیں بلکہ وہ اسے ایک ایسی تقدیر کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جس کا فیصلہ کوئی دوسری تقدیر نہیں کر سکتی۔ آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی صدارت کے لیے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو اس امر سے مایوس نہیں ہے کہ اسلام اب بھی ایک زندہ قوت ہے جو انسان کے تصور کو جغرافیائی حدود سے آزاد کرا سکتی ہے؟ جس کا یہ عقیدہ ہے کہ مذہب کو فرد اور ریاست کی زندگی میں بے انتہا اہمیت حاصل ہے اور جس کا ایمان ہے کہ اسلام بجائے خود تقدیر ہے اسے کسی دوسری تقدیر کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا شخص مجبور ہے کہ معاملات کو خود اپنے ہی نقطہ نگاہ سے دیکھے۔ یہ خیال نہ کریں کہ جس مسئلے کی طرف میں اشارہ کررہا ہوں وہ محض ایک نظری مسئلہ ہے۔ یہ ایک زندہ اور عملی مسئلہ ہے جس سے اسلام کے دستور حیات اور نظام عمل کے تار و پود متاثر ہوسکتے ہیں ۔ ہندوستان میں ایک ممتاز ثقافت وحدت کی حیثیت سے صرف اس مسئلے کے صحیح حل پر آپ کے مستقبل کا انحصار ہے۔ ہماری تاریخ میں اسلام پر آزمایش کا ایسا سخت دور کبھی نہیں آیا تھا جیسا کہ آج درپیش ہے۔ ایک قوم کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ اپنے معاشرتی ڈھانچے کے بنیادی اُصولوں میں ترمیم کرے یا ان میں نئے معنی تلاش کرے یا انھیں بالکل مسترد کردے، لیکن نئے تجربات کرنے سے پہلے واضح طور پر یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ میں نہیں چاہتا کہ جس انداز سے میں اس اہم مسئلے کو دیکھ رہا ہوں، اس سے یہ خیال پیدا ہو کہ جن حضرات کی سوچ میری سوچ سے مختلف ہے، میں ان سے جھگڑا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کا اجتماع مسلمانوں کا اجتماع ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ اسلام کے مقاصد اور اس کی روح سے وفادار رہنے کے خواہش مند ہیں۔ میرا واحد مقصد یہ ہے کہ موجودہ صورت حال کے بارے میں جو میری دیانت دارانہ رائے ہے اس کا صاف صاف اظہار کردوں۔ میرے خیال میں صرف یہی ایک صورت ہے کہ میں آپ کے سیاسی عمل کی راہوں کو اپنے عقائد کی روشنی سے منور کرسکوں‘‘۔

3۔ اسلام اور وحدتِ انسانیت

خطبہ الہ آباد اسلام کے تہذیبی، معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی پہلووں کو جس طرح بیان کرتا ہے وہ ہماری تاریخ میں اسلام کے تہذیبی جوہر کو منکشف کرنے کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ علامہ نے اسلام کے مزاج اور اسلام کی نگاہ میں انسانیت کی وحدت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’اسلام انسان کی وحدت کو مادے اور روح کی متضاد دوئی میں تقسیم نہیں کرتا۔ اسلام میں خدا اور کائنات، روح اور مادہ، کلیسا اور ریاست ایک کل کے مختلف اجزاء ہیں۔ انسان کسی ناپاک دنیا کا باشندہ نہیں ہے جسے کسی ایسی دنیا کی خاطر ترک کرے جو کہیں اور واقع ہے۔ اسلام کے نزدیک مادہ روح کی وہ شکل ہے جو زماں و مکاں میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یورپ نے غالباً مانویت کے زیر اثر روح اور مادے کی دوئی کو بلاغور و فکر قبول کرلیا ہے۔ اس کے بہترین مفکر اس ابتدائی غلطی کو آج محسوس کررہے ہیں، لیکن اس کے سیاست دان بالواسطہ دنیا کو مجبور کررہے ہیں کہ اسے ناقابل انکار عقیدے کے طور پر تسلیم کرلیں۔ دراصل روحانی اور دنیاوی زندگی میں امتیاز کرنے کا یہی غلط اصول ہے جس سے یورپ کا مذہبی اور سیاسی فکر زیادہ طور پر متاثر ہوا ہے، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یورپ کی ریاستوں سے عیسائیت عملی طور پر بالکل بے دخل ہوچکی ہے۔ اس سے مختلف بے ربط ریاستیں قائم ہوگئی ہیں جن میں انسانی جذبے کی بجائے قومی اغراض کی بالادستی ہے ۔ (چشتی)

4۔ اسلامی نظامِ سیاست

چونکہ علامہ مسلمانوں کے مستقبل کی سیاسی جدوجہد اور راہ عمل کا تعین اسلام کے دیئے ہوئے اصولوں کی روشنی میں کر رہے تھے۔ سو انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ اسلام ایک ایسے نظامِ سیاست کا حامل ہے جس کی بنیاد وحی ہے۔ وحی سے تشکیل پانے والا نظامِ سیاست بیک وقت مذہبی اور معاشرتی نصب العین کی وحدت کا حامل ہے جس میں ایک کو اختیار اور دوسرے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک نصب العین کو مسترد یا نظر انداز کیا جائے گا تو دوسرا نصب العین خود بخود مسترد ہو جائے گا ۔ علامہ نے فرمایا : اس (وحی) کا فوری نتیجہ ایک ایسے نظامِ سیاست کے بنیادی اصولوں کی صورت میں ظاہر ہوا جس میں قانونی تصورات مضمر تھے اور جس کی معاشرتی اہمیت کو محض اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی بنیاد وحی و الہام پر ہے۔ اس لیے اسلام کا مذہبی نصب العین اس کے معاشرتی نظام سے مربوط و منسلک ہے جو خود اس کا اپنا پیدا کردہ ہے۔ اگر ایک کو رد کیا گیا تو دوسرے خود بخود مسترد ہوجائے گا اس لیے ایک مسلمان اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ نظامِ سیاست کو ایسے قومی خطوط پر مرتب کیا جائے جس سے اسلام کے اصول اتحاد کی نفی ہوجائے‘‘۔ (چشتی)

5۔ نظامِ سیاست و ریاست کے احیاء کی ضرورت

سو جب ملت اسلامیہ وحی سے حاصل ہونے والے عالمگیر نظامِ ریاست و سیاست کی امین ہے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اس نظامِ سیاست و ریاست کی دور نو کے مطابق از سر نو تشکیل اور تدوین کرے ۔ علامہ نے فرمایا : دنیائے اسلام میں ایک عالم گیر نظام ریاست موجود ہے جس کے بنیادی نکات وحی و تنزیل کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں لیکن ہمارے فقہا جدید دنیا سے بے تعلق رہے ہیں، اس لیے موجودہ زمانے میں انھیں از سر نو مرتب کرکے مستحکم کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

یہ وہ اعلیٰ و ارفع مقاصد تھے جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے علامہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے خطبہ صدارت میں مسلمانوں کے مستقبل کی راہ عمل متعین فرما رہے تھے۔ یہ علامہ کی بصیرت تھی کہ انہوں نے تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا : اگر ملت اسلامیہ نے اسلام کے دیئے گئے عالمگیر نظامِ ریاست و سیاست کی تشکیل نو کرنی ہے تو اس کےلیے سب سے مناسب ترین خطہ ہندوستان ہے۔ کیونکہ ہندوستان ہی وہ ملک ہے جہاں اسلام ایک بہترین انسانیت ساز قوت کی حیثیت سے ظہورپذیر ہوا ہے۔ حقیقت میں یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ دنیا بھر میں شاید ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں اسلام ایک بہترین مردم ساز قوت کی حیثیت سے جلوہ گر ہوا ہے‘‘۔

علامہ نے برصغیر کی تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مسلمانانِ ہند کی قومی زندگی میں اسلام بطور اخلاقی نصب العین اور سیاسی نظام کے ایک اہم جزو رہا ہے۔ لہذا جب بھی دورِ نو کے تقاضوں کے مطابق اسلام کے نظامِ سیاست و ریاست کی تشکیل نو کرنی ہو گی تو ہندوستان کے خطے اور یہاں کے باسیوں کے کردار کو پیش نظر رکھنا ہو گا ۔ علامہ فرماتے ہیں : یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام بطور ایک اخلاقی نصب العین اور سیاسی نظام مسلمانانِ ہند کی تاریخ کا اہم ترین جزو ترکیبی رہا ہے۔ اس اصطلاح سے میری مراد ایک ایسا معاشرتی ڈھانچہ ہے جس کا نظم و ضبط ایک مخصوص اخلاقی نصب العین اور نظام قانون کے تحت عمل میں آتا ہے‘‘۔

6۔ نظریہ قومیت

وہ اعلیٰ مقاصد جن کا علامہ یہاں ذکر فرما رہے ہیں اگر اسلام واقعی ان مقاصد کے حصول کو اپنا ہدف قرار دیتا ہے اور ملت اسلامیہ اپنے مستقبل کو ان مقاصد کے حصول کے ساتھ منسلک اور ان کے لیے وقف کرتی ہے تو اس کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہو گی وہ نظریہ قومیت ہے جس کا اس وقت جس کا پرچار کیا جا رہا تھا ۔ علامہ نے فرمایا : اس وقت قومیت کے نظریے نے مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کو نسل پرستی سے آلودہ کردیا ہے اور اس طرح (یہ نظریہ) اسلام کے انسانیت پرور مقاصد میں بری طرح حائل ہورہا ہے۔ ممکن ہے کہ نسل پرستی کے احساسات کی ترقی ایسے معیاروں کا محرک ہو جو اسلام کے معیار سے مختلف بلکہ متضاد ہو‘‘۔

اس مرحلے پر علامہ نے مسلمانانِ ہند کو اس بنیادی نکتے کی طرف متوجہ کیا کہ اگروہ دورِ جدید کے نظریہ قومیت کواختیار کریں گے تو اسلام کو بطور ایک اخلاقی نصب العین کے کبھی بھی جاری نہیں رکھ سکیں گے ۔ آپ نے فرمایا : کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اسلام کو بطور ایک اخلاقی نصب العین تو باقی رکھیں لیکن اس کے نظام سیاست کو رد کرکے نظریہ قومیت کی بنیاد پر سیاسی نظامات اختیار کرلیں جن میں مذہبی رجحان کو کوئی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی؟ ہندوستان میں یہ سوال خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مسلمان یہاں اقلیت میں ہیں‘‘۔

7۔ جداگانہ تشخص کا شعور

یہی وہ بنیادی اہداف تھے جن کی بنیاد پر علامہ نے برصغیر کے مسئلے کے مستقل تصفیے کے لیے ہندوستان کی تقسیم کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا : مسلمانان ہند کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلے کے مستقل تصفیے کے لیے برطانوی ہندوستان کی از سر نو تقسیم کی جائے‘‘۔

ماضی میں بر صغیر کی مسلمان قیادت نے ایسے وہ تمام فیصلے جو مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کی قربانی دیتے ہوئے کیے علامہ نے ان کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ ان دونوں نمایاں فیصلوں یعنی میثاقِ لکھنو اور تجاویز دہلی کو ایسے سیاسی گڑھوں سے تعبیر کیا کہ اگر مسلمان ان میں گھِرے رہے تو مستقبل میں ان کے لیے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کا کوئی بھی موقع باقی نہیں بچے گا۔ علامہ نے اس جانب متوجہ کرتے ہوئے فرمایا : مسلمان سیاسی لیڈر دو گڑھوں میں گر چکے ہیں ۔ پہلا گڑھا مسترد شدہ ’’میثاق لکھنو‘‘ تھا جو ہندوستان قومیت کے غلط تصور کی پیداوار تھا۔ اس سے مسلمان ہندوستان میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے تمام مواقع سے محروم ہو گئے ۔ دوسرا گڑھا پنجاب کی نام نہاد دیہاتی آبادی کی خاطر اسلامی اتحاد کی عاقبت نااندیشانہ قربانی تھی جس کا اظہار ایک ایسی تجویز میں ہوا جس سے پنجاب کے مسلمان اقلیت میں رہ جاتے ہیں۔ مسلم لیگ کا فرض ہے کہ وہ میثاق اور تجویز دونوں کی مذمت کرے‘‘۔

8۔ علیحدہ ریاست کی ضرورت کیوں ؟

علامہ نے فرمایا : مسلمان اگر اسلام کو بطور ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ کسی بھی وقتی یا محدود مفاد کو حاصل کرنے کےلیے اپنے اجتماعی اہداف کی قربانی دینے کی بجائے ہندوستان کے کسی ایک مخصوص علاقے میں اپنی حکومت بنائیں ۔

آپ نے فرمایا : ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے ۔ اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرسکے‘‘۔

پھر اس بات کو مزید بڑھاتے ہوئے علامہ نے پیغمبرانہ آہنگ سے ہندوستان کے مستقبل کے حوالے سے وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو 14 اگست 1947ء کو ایک حقیقت بن گئے : میں ذاتی طور پر ان مطالبات سے بھی ایک قدم آگے جانا چاہتا ہوں جو اس قرارداد میں پیش کیے گئے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ریاست بنا دیا جائے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مربوط مسلم ریاست، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر خود اختیاری حاصل کرے یا اس کے باہر، ہندوستان کے شمالی مغربی مسلمانوں کا آخرکار مقدر ہے‘‘۔

علامہ جب ہندوستان میں مسلمانوں کےلیے خود مختاری کا مطالبہ فرما رہے تھے تو ان کے پیش نظر ہندوستان اور اسلام دونوں کا مفاد تھا۔ ہندوستان کا مفاد بایں معنی کہ اس سے توازنِ طاقت پیدا ہو اور اسلام کا مفاد بایں معنی کہ صدیوں سے اسلام پر جو عرب شہنشاہیت کے اثرات مسلط ہو چکے تھے، جن کے باعث اسلام کی اصل روح منکشف ہونے سے عاری رہی تھی ہندوستان میں مسلمانوں کی آزاد اور خود اختیاری حکومتوں کے قیام سے اسلام کو اس عربی ملوکیت اور شہنشاہیت کے اثرات سے نکلنے کا موقع ملے گا ۔ آپ نے فرمایا : میں ہندوستان اور اسلام کی فلاح و بہبود کےلیے ایک متحدہ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں ۔ اس سے ہندوستان کے اندر توازن قوت کی بدولت امن و امان قائم ہوجائے گا اور اسلام کے لیے ایک مواقع فراہم کرے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہوجائے جو عربی شہنشاہیت (Arabian Imperialism) نے اس پر ڈال دیے تھے اور اپنے قوانین، اپنی تعلیم اور اپنی ثقافت کو حرکت میں لاکر ان کی اصل روح اور عصر جدید کی روح سے رابطہ قائم کرسکے‘‘۔

9۔ اسلامی ریاست اور اقلیتوں کے حقوق

جب علامہ نے ایک الگ اور خود اختیار حکومت کے حامل خطے کا مطالبہ کیا تو لازمی تھا کہ دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں کچھ خطرات پیدا ہوتے ۔

علامہ نے اس کا ازالہ کرنے کےلیے اسلام کی بنیادی تعلیمات کا ذکر فرمایا۔ اسلام ہمیں اقلیتوں کے تمام اصول، قوانین، شعائر، مذہبی اداروں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : جو فرقہ دوسرے فرقوں کی طرف بدخواہی کے جذبات رکھتا ہو وہ نیچ اور ذلیل ہے ۔ میں دوسری قوموں کے رسوم، قوانین، معاشرتی اور مذہبی اداروں کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ یہی نہیں بلکہ قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق ضرورت پڑے تو ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت بھی میرا فرض ہے۔ اس کے باوجود مجھے اس جماعت سے محبت ہے جو میری حیات اور میرے اوضاع و اطوار کا سرچشمہ ہے اور جس نے مجھے اپنا مذہب، اپنا ادب، اپنی فکر اور اپنی ثقافت دے کر میری تشکیل اس صورت میں کی ہے کہ جیسا میں ہوں اور اس پر میرے ماضی کو ازسر نو زندہ کرکے وہ میرے شعور کا ایک زندہ و فعال عنصر بن چکی ہے‘‘۔ (چشتی)

بلکہ وہ اقلیتیں جنہیں قرآن مجید نے اہل کتاب کہا ہے ایسی ملت ہیں جن کے ساتھ نکتہ اشتراک پر اتحاد و یگانگت کی دعوت خود قرآن حکیم نے دی ہے ۔ اقبال فرماتے ہیں : وہاں کی اقلیتیں قرآن کے الفاظ میں ’’اہل کتاب‘‘ میں سے ہیں۔ کسی یہودی، عیسائی یا زرتشتی کے چھونے سے مسلمان کا کھانا ناپاک نہیں ہوتا اور اسلامی قانون اہل کتاب کے ساتھ مناکحت کی اجازت دیتا ہے۔ حقیقت میں اسلام نے پہلا قدم انسانیت کے اتحاد کی طرف اٹھایا، وہ یہی تھا کہ جن لوگوں کو اخلاقی نصب العین ایک سا تھ انھیں اتحاد و اتفاق کی دعوت دی۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے:ياَهْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَةٍ سَوَآءٍ م بَيْنَنَا وَبَيْنَکُمْ.(آل عمران:64)
’’اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے‘‘۔

اسلام کی وہ تعلیم جو صدیوں سے یورپ اور مسلم دنیا اور عیسائیوں کے درمیان ہونے والے تنازعوںکے باعث پس منظر میں جا چکی ہے اب موقع ہے کہ اس تعلیم کے لامحدود معنی کو عملی صورت دی جائے۔ اس حوالے سے علامہ نے فرمایا : مسلمانوں اور عیسائیوں کی جنگوں اور اس کے بعد مختلف صورتوں سے یورپ کی جارحیت کے باعث دنیائے اسلام میں اس آیت کے لامحدود معنوں میں عمل نہ ہو سکا۔ آج بلاد اسلامیہ میں یہ مقصد مسلم قومیت کی شکل میں بتدریج پورا ہو رہا ہے‘‘۔

اسی طرح علامہ نے ہندوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ خود مختار مسلم ریاستوں کے قیام سے ہندو یہ مت سمجھیں کہ اس طرح مذہبی حکومتیں قائم ہوجائیں گی جہاں کسی دوسرے مذہب کو کسی طرح کی آزادی، تحفظ کا تقدس حاصل نہ گا بلکہ یہ تو خود اسلام کی بنیادی تعلیم کے خلاف ہے : ہندوؤں کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کہ خودمختار مسلم ریاستوں کے قیام سے ایک طرح کی مذہبی حکومتیں (Religious Rule) قائم ہوجائیں گی۔ اس سے پہلے میں بتا چکا ہوں کہ اسلام میں مذہب کا مفہوم کیا ہے۔ حقیقتاً اسلام میں کلیسیائی نظام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جس کا اظہار روسو سے بھی بہت پہلے معاہدہ عمرانی کی صورت میں ہوچکا تھا۔ اس کے پیچھے ایک اخلاقی نصب العین ہے جو انسان کو کسی خاص علاقے کی سرزمین سے وابستہ نہیں سمجھتا بلکہ وہ ایک روحانی ہستی ہے جو ایک اجتماعی معاشرتی نظام کا زندہ و متحرک جزو اور چند حقوق و فرائض کا حامل ہے‘‘۔

10۔ منظم کاملیت اور اجتماعی خودی کی ناگزیریت

علامہ نے خطبے کا اختتام کرتے ہوئے جو آفاقی اور ابدی اہمیت کے حامل الفاظ ارشاد فرمائے وہ قرآن حکیم ہی کی ایک آیہ مبارکہ کی تفسیر ہیں اور وہ آج بھی ہمارے لیے ایک روشن راهِ عمل ہیں ۔ علامہ نے فرمایا : موجودہ بحران سے نمٹنے کےلیے ہماری ملت کو مستقبل قریب میں ایک آزادانہ راہ عمل اختیار کرنی پڑے گی اور آزادانہ سیاسی راہ عمل ایک مقصد پر مرکوز ہو۔ کیا آپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ متحدہ عزم کے لیے منظم کا ملیت حاصل کر لیں؟ بے شک یہ ممکن ہے۔ فرقہ بندی اور نفسانیت کی قیود سے آزاد ہو جائیے۔ اپنے انفرادی اور اجتماعی اعمال کی قدر و قیمت کا اندازہ کیجیے خواہ وہ مادی اغراض ہی سے متعلق کیوں نہ ہوں۔ اس نصب العین کی روشنی میں، جس کی آپ نمایندگی کر رہے ہیں، مادہ سے گزر کر روحانیت کی طرف آئیے۔ مادہ کثرت ہے۔ روح نور ہے، حیات ہے، وحدت ہے، مسلمانوں کی تاریخ سے میں نے ایک سبق سیکھا ہے کہ آڑے وقتوں میں مسلمانوں کو اسلام نے بچایا ہے، مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہیں کی۔ اگر آج آپ اپنی نظریں اسلام پر جما دیں اور اس کے زندگی بخش تخیل سے متاثر ہوں تو آپ اپنی پراگندہ قوتوں کو از سر نو جمع کر لیں گے اور اپنی صلابت کردار کو دوبارہ حاصل کر لیں گے۔ اس طرح آپ اپنے آپ کو مکمل تباہی سے بچا لیں گے۔ قرآن مجید کی ایک نہایت معنی خیز آیت یہ ہے کہ پوری انسانیت کی موت و حیات بھی فرد واحد کی موت و حیات کی طرح ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ آپ جو سب سے پہلے انسانیت کے اس بلند وارفع تصور پر عمل پیرا ہوئے، اسی اصول پر جئیں اور آگے بڑھیں اور اپنے آپ کو ایک نفس واحد کی طرح رکھیں۔ میں جب یہ کہتا ہوں کہ ہندوستان کی حالت وہ نہیں جو بظاہر نظر آتی ہے تو میرا مقصد کسی کو حیرت میں ڈالنا نہیں ہے۔ بہرحال اس کے صحیح معنی آپ پر اس وقت آشکار ہو جائیں گے جب آپ ان کے مشاہدے کےلیے ایک صحیح اجتماعی خودی پیدا کر لیں گے ۔ قرآن کے الفاظ میں : عَلَيْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا يَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۔
’’تم اپنی جانوں کی فکر کرو، تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر تم ہدایت یافتہ ہو چکے ہو‘‘۔ (سورہ المائدة:105)

قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ اور نظریہ پاکستان

تحریک پاکستان کے دوران تحریک آزادی کے قائدین اس امر سے آگاہ تھے کہ وہ جس وطن کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں اس کامقصد ا ورہدف کیا ہے، اور کس نظریے کی بنیاد پر وہ اس جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

علامہ اقبال کے نظریات و افکار سے آگاہی کے بعد قائداعظم کے افکار کا مطالعہ کرتے ہیں کہ وہ کس مقصد کے حصول کے لئے تگ و دو کررہے تھے، آیئے اُنہی کی زبانی سنتے ہیں : ⬇

1۔ حقانیتِ اسلام

قائد اعظم نے یکم فروری 1943ء کو اسماعیل کالج بمبئی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام صرف مذہب کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات (Complete Code of Life) ہے۔ انہوں نے فرمایا :
Islam means peace with God and peace with man

یکم جنوری 1938ء کو گیا کے مسلمانوں کی طرف سے دیئے گئے استقبالیے کے جواب میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ : مسلم لیگ کا پرچم اسلام کا پرچم ہے۔ مسلم لیگ کو اسلام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم سیاست میں مذہب کو داخل کر رہے ہیں۔ بلکہ اسلام تو مکمل ضابطہ حیات (Complete Code of Life) ہے۔ یہ صرف مذہب نہیں بلکہ قانون، فلسفہ اور سیاست بھی ہے۔ اسلام ہر اس تفصیل پر مشتمل ہے جو ہماری شب و روز کی زندگی سے متعلق ہے۔ جب ہم اسلام کہتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہی کل اسلام ہے۔ اسلامی نظام حیات کی اساس آزادی (Liberty)، مساوات (Equality)، اور اخوت (Fraternity) ہے۔ (چشتی)

Beverley Nichols کے مسلم قوم کی تعریف کے سوال کے جواب میں قائد اعظم نے فرمایا : اسلام صرف ایک مذہبی عقیدے کا نام نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی اور عملی ضابطہ حیات (realistic and practical Code of Conduct) کا نام ہے‘‘۔

2۔ اسلام اور پاکستان

قائد اعظم نے اسلام اور پاکستان کو کبھی بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھا۔ آیئے اُن کے چند خطابات کے اقتباسات کا مطالعہ کرتے ہیں : اپنے ایک خطاب میں فرمایا کہ قیام پاکستان کے بغیر یہاں اسلام کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔
4 فروری 1935ء کو مرکزی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ہندوستان میں اپنے مذہب، زبان اور کلچر کا تحفظ چاہیے۔
19 دسمبر 1946ء کو قاہرہ میں ایک تقریر میں فرمایا کہ اگر ہندوستان میں ہندو اقتدار قائم ہو گیا تو اس کا مطلب ہو گا ہندوستان میں اسلام کا خاتمہ بلکہ دوسرے مسلمان ممالک میں بھی۔
10 مارچ 1941ء کو مسلم یونیورسٹی یونین علی گڑھ سے خطاب میں فرمایا کہ پاکستان نہ صرف قابل حصول منزل ہے بلکہ اگر ہم ہندوستان میں اسلام کو مکمل فنائیت سے بچانا چاہتے ہیں تو ہماری یہی واحد منزل ہے ۔
2 مارچ 1941ء کو پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور کے اجلاس سے خطاب میں فرمایا کہ مسلمانان ہند کے مسئلے کا واحد حل ہندوستان کی تقسیم ہے۔ تاکہ ہندو اورمسلم دونوں اپنے معاشی، معاشرتی و سماجی، ثقافتی اور سیاسی معیارات کے مطابق ترقی کر سکیں۔ ہماری جدوجہد کا مقصد صرف مادی ترقی نہیں بلکہ مسلم قوم کی روح کی بقا اور تحفظ ہے ۔ (چشتی)

قائد اعظم کے نزدیک اسلام اور پاکستان کے تعلق کی نوعیت کیا تھی، اس کی وضاحت بھی ان کے مختلف بیانات اور تقاریر سے ہوتی ہے۔ ان میں سے چند ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں : ⬇

یکم فروری 1943ء کو ہی اسماعیل کالج بمبئی کے طلباء خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ : اسلام مسلمانوں کی زندگی بشمول سماجی و معاشرتی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی پہلووں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی صورت میں ہم ایک ایسی ریاست قائم کریں گے جو اسلام کے اصولوںکے مطابق چلائی جائے گی۔ اس کے ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی نظام کی بنیاد اسلام کے اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس تصور سے غیرمسلموں کو خائف نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وہ دور حاضر کے نام نہاد جمہوری پارلیمانی نظام حکومت کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوں گے۔ ہمیں مغربی طرز کی پارلیمانی یا کانگرس طرز کی حکومت نہیں چاہیے بلکہ ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں جو اسلام کے مطابق ہو‘‘۔

یہاں قائد اعظم کے اس بیان میں اقبال کے روحانی جمہوریت کے تصور کی جھلک نظر آتی ہے۔

اس سے بھی بہت پہلے 30 دسمبر 1916ء کو لکھنؤ میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا کہ مسلمان دنیا کی ہر قوم سے زیادہ جمہوری قوم ہیں حتی کہ اپنے مذہبی معاملات میں بھی۔

3۔ قائداعظم اور لفظِ ’’نظریہ‘‘ کا استعمال

قائد اعظم نے اپنی تقاریر اور بیانات میں آئیڈیالوجی کا لفظ کئی بار استعمال کیا۔

13 دسمبر 1946ء کو بی بی سی اور امریکی براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے نشر ہونے والے پیغام میں قائد اعظم نے فرمایا کہ ہندوستان کی تقسیم سے ہماری مراد دونوں قوموں کو اپنے اپنے کلچر اور آئیڈیالوجی کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
    24 نومبر 1945ء کو مردان میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان کے قیام کا مطلب ایسی آزاد مسلم ریاست قائم کرنا ہے جہاں مسلمان مسلم آئیڈیالوجی کو نافذ کر سکیں ۔ (چشتی)
15 جون 1945ء کو فرنٹئیر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام پیغام میں فرمایا کہ پاکستان کا مطلب صرف آزادی اور خودمختاری نہیں بلکہ اس مطلب مسلم آئیڈیالوجی کا تحفظ ہے کا مطلب صرف آزادی اور خودمختاری نہیں بلکہ اس مطلب مسلم آئیڈیالوجی کا تحفظ ہے۔
26 مارچ 1948ء کو چٹاگانگ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم پاکستان میں ہی انسانی ترقی کے عظیم آئیڈیلز، سماجی انصاف، مساوات اور اخوات کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ جو ایک طرف تو پاکستان کی تخلیق کے بنیادی مقاصد ہیں اور دوسری طرف ہماری نوزائیدہ ریاست کامثالی سماجی نظام تشکیل دینے کے لیے لامتناہی امکانات کے حامل بھی ہیں۔ پاکستان اس لیے قائم کیاگیا کہ ذات پات پر مبنی معاشرے میں انسانی روح کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے‘‘۔

قیام پاکستان کے مقاصد جو اس کی آئیڈیالوجی کے بنیادی عناصر ہیں، صرف تقاریر یا بیانات تک ہی محدود نہ تھے۔آل انڈیا مسلم لیگ نے جو Manifesto تیار کیا تھا وہ بھی ا سکا عملی مظھر تھا۔ آل انڈیامسلم لیگ کی کونسل اور منشور کمیٹی کے رکن راغب احسن نے 28 اگست 1945ء کو لیاقت علی خان کو منشور کا جو مسودہ ارسال کیا وہ 3 حصوں، 16 ابواب اور 118 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کی تلخیص 38 صفحات میں کی گئی تھی۔ اس منشور کے حصہ اول کا عنوان تھا:

Basic Aims & Objectives: Ideals & Ideology

اس منشور کو تیار کرنے والے کس Visionاور بصیرت کے حامل تھے اس کا اندازہ اس کے چند عنوانات سے ہوتا ہے:

    Third world war will end humanity-

    Islam is the only escape for mankind

    New world order

    Islam and Muslims

    Socio- Economic Ideals of the Millat & the Muslim League

    Crash of Civilization & the Role of Pakistan

محترمہ فاطمہ جناح نے مارچ 1954ء میں ڈھاکہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ لوگ جرات اور ہمت سے کام لیں اور سراپا جدوجہد بن جائیں توا س ملک کو صحیح اسلامی آئیڈیالوجی پر استوار کر سکتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی آئیڈیالوجی کیا ہے، اس کا مطلب ہے جمہوریت، اخوت، سچائی اور انصاف۔ یہ اسلام کے ستون ہیں ۔

الغرض اسلامی آئیڈیالوجی جو نظریہ پاکستان ہی ہے تحریک پاکستان کے دوران تحریک آزادی کے قائدین کے لیے کبھی بھی کوئی اجنبی حقیقت نہیں رہا۔زندہ قومیں اپنی نظریاتی اساس کو مستحکم کرتی ہیں اور اس کے اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بندی کرتی اور اپنی توانائیاں وقف کر تی ہیں۔جبکہ ہم ایک واضح نظریاتی اساس کے باوجود اسے متنازعہ بنا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف اپنی نظریاتی اساس سے آگاہ ہوں بلکہ اس کے مقاصد کے حصول کو قومی زندگی کا مقصد قرار دیں جو قائد اعظم کے الفاظ میں حریت، مساوات اور اخوت ہیں۔یہی اقدار ہمارے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی نظام کی اساس ہونی چاہئیں تا کہ ہم اس ملک میں ایسا نظام تشکیل دے سکیں جو اقبال اور قائد اعظم کے الفاظ میں ’’روح انسانی کی بقا کا ضامن ‘‘ہو ۔ (مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Friday, 3 June 2022

دو قومی نظریہ حصّہ اوّل

دو قومی نظریہ حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : دو قومی نظریہ دراصل قیام پاکستان کی بنیاد ہے اور یہ نظریہ سو فیصد درست ہے ، قیام پاکستان کے پسِ منظر میں جھانکیں تو ہمیں دو قومی نظریے کی تفصیل، تعریف ، صحیح معنوں میں افادیت جھلکتی نظر آتی ہے ، دو قومی نظریے ہی دراصل نظریہ پاکستان ہے ۔

نظریہ پاکستان وہ مطمح نظر ہے جس کی بنیاد ایک مخصوص نظریے یعنی اسلام پر رکھی گئی ہے جو اپنی تہذیب و ثقافت ، اقدار و روایات اور اپنا سیاسی و معاشی نظام فکر رکھتاہے برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو اپنی شناخت اور پھر دو قومی نظریے کی بنیاد پر جداگانہ ریاست کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ ان کے ساتھ موجود ایک دوسرے نظریے کے حامل افرادجومسلمانوں کے توحید اور انسانی مساوات کے نظریہ حیات کے برعکس بت پرستی اور ذات پات کے قائل تھے ، انہیں اپنے اندر جذب کر کیاپنے نظامِ فکر و عمل کا حصہ بنانا چاہتے تھے ، لیکن اس کے برعکس اس خطے میں بسنے والی ملتِ اسلامیہ اپنے قومی تشخص اور علیحدہ شناخت کو چھوڑنے کیلئے کسی صورت تیار نہ تھی ، یہ ملت اسلامیہ اپنے نظام فکر کو قائم رکھنا چاہتی تھی بلکہ عملی طور پر اس کے ظہور کی قائل تھی دونوں قوموں کے درمیان یہی امتیازی خصوصیات دو قومی نظریے کی بنیاد ہیں جو محض نظریہ ہی نہیں بلکہ روز مرہ پیش آنے والی حقیقت ہے ، یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں نے ایسے علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا ، جن میں مسلمان اکثریت میں تھے ۔

ظاہر ہے کہ جب مسلمان اپنی جداگانہ تہذیب و اقدار اور مذہب و روایات کے لحاظ سے ایک مختلف تشخص کے حامل تھے تو انہیں اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ آئے دن کے نظریاتی ، مذہبی، معاشرتی اور اقتصادی تصادم سے نجات حاصل کریں ، یہی علیحدہ تشخص کی خواہش دو قومی نظریے کی اصل ہے ۔ (چشتی)

یعنی برصغیر جنوبی ایشیاء میں مسلمان ہر لحاظ سے ایک علیحدہ شناخت اور پہچان کی حامل قوم ہے جس کا کوئی انگ، رنگ، ڈھنگ ہندووں سے مشابہت نہیں رکھتا ، اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں نے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا،
افراد کا ایسا گروہ جس کا کوئی مقصد ہو ، قوم کہلاتا ہے اور مسلمان ایک ایسی قوم تھے اور ہیں جن کا ایک واضح مقصد ہے یعنی اللہ کے نظام کی برتری ،اور اسی نظام کے تحت اپنی زندگیاں گزارنا، اور یہ تبھی ممکن تھا جب مسلمانوں کے پاس اپنا ایک الگ وطن ہو، پس دو قومی نظریہ کی بنیاد ہی یہ ہے ۔ (چشتی)

سیدنا آدم علیہ السّلام سے لے کر اب تک دنیا میں دو قسم کے انسانوں کے گروہ ہمیشہ سے موجود رہے ، ایک وہ جو دنیا میں امن و سلامتی اور استحکام کا خواہاں رہا اور دوسرا وہ جو شر اورتباہی چاہتا رہا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ’’ الکفر ملۃ واحدہ‘‘ یعنی کافر ایک ملت ہیں ، وہ جہاں بھی ہوں گے اسلام کے نظام اور نظریات کی مخالفت کریں گے ، اسی طرح مسلمان اپنے مشترکہ نظریات کی وجہ سے ملت واحد ہیں گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے بھی روئے زمین پہ بسنے والوں کو دو گروں اور قوموں میں تقسیم کر دیا ، (1) ملت اسلام (2) ملت کفر ۔

اسلام کی عظمت، آفاقیت اور حیران کن جاذبیت سے ملت کفر ہمیشہ خائف رہی ، اسلام سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے تحریکیں چلیں ، کتابیں ، قصے، اور فلمیں بنائی جاتی رہیں ، لیکن اسلام کی جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لے رکھا ہے ، کافروں کے پنجہ استبداد سے محفوظ رہا ۔ (چشتی)

ہندوستان کے مسلمانوں کی زندگی میں 1761میں ایک اہممور آیا جس سے ان کی بقا اور سلامتی کو شدید خطرلاحق ہوگیا ،اسلامی حکومتوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرہٹے، جاٹ اور سکھوں نے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا، بر صغیر کے مسلمانوں میں مرکزیت ختم ہونے کے سبب ان کی سیاسی حالت نا گفتہ بہ ہو گئی تھی، روہیل کھنڈ ، جنوبی ہند، حیدر آباد، بنگال ، اڑیسہ اور پنجاب میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں ، مرکزی حکومت کا دائرہ عمل صرف دہلی کے لال قلعے تک محدود تھا ۔

ان حالات میں ایک مردِ خدا حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے مسلمانوں کی راہنمائی کا بیڑا اٹھایا ، آپ نے ملکی حالات کا جائزہ لیا اور یہاں کا حکمرانون میں جہاد کی صلاحیت نہ پا کر احمد شاہ ابدالی کو مسلمانوں کی مدد پر آمادہ کیا، احمد شاہ ابدالی ہر قسم کے مالی فوائد سے بے نیاز ہو کر صرف جذبہ جہاد کے تحت 1761میں پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے، پانی پت کی تیسری جنگ میں اگرچہ مسلمانوں کو عظیم فتح حاصل ہوئی لیکن برصغیر کے مسلم حکمرانوں نے اس سے کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھایا اوت نہ ہی باہمی یگانگت اور اتحاد و سلامتی کی کوئی مربوط کوشش کی گئی ، مسلمانوں کے اس دور زوال میں بہت سے مجاہدین نے مسلمانوں کی حالت کو سنبھالا دینے کی کوشش کی ۔ (چشتی)

دوسری طرف نواب سراج الدولہ 1757اور سلطان ٹیپو شہید نے1799 میں غیر ملکی و غیر مسلم سامراج کے خلاف داد شجاعت دی ۔اس عزم جہاد نے ثابت کیا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور اپنا قومی تشخص ان کو جان سے پیارا ہے ۔

مغلوں کے زوال کے بعد اصلاحی تحریکوں اور مسلم ریاستوں کے نوابوں نے مشرکین سے جہاد کیا اس سے ملت اسلامیہ کے تصور قومیت اور اتحاد کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ یہی وہ محرکات تھے جو جداگانہ اسلامی تشخص سے ارتقائی سفر کرتے ہوئے جداگانہ اسلامی ریاست کے لئے مشعل راہ بنے ۔ (چشتی)

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کا تصور بہت پرانا ہے ،، دو قومی نظریہ کی روشنی میں برصغیر کی تقسیم کے مبلغین میں نہ صرف مسلمان بلکہ خود ہندو اور انگریز بھی پیش پیش رہے ۔

سلطان شہاب الدین محمد غوری نے مسلم ہندو اختلافات کوہمیشہ کے لئے طے کرنے کا ایک حل نکالا اور ہندو راجہ پرتھوی راج کو تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ : برصغیر میں مسلمانوں اور ہندووں کی باہمی معرکہ آرائی کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ برصغیر کو دریائے جمنا کو حدِ فاصل بنا کر اس طرح تقسیم کر دیا جائے کہ مشرقی ہندوستان پر ہندووں اور مغربی ہندوستان پر مسلمانوں کو تصرف ہوجائے تاکہ دونوں قومیں امن و امان سے زندگی گزار سکیں ۔

مسٹر جان برائٹ 1817-1898 مسٹر جان برائٹ نے 1858میں حکومت برطانیہ کو تجویز پیش کی کہ ہندوستان کو متعدد خود مختار صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے جو بظاہر علیحدہ ہوں لیکن تاجِ برطانیہ کی زیر نگرانی ہوں اوریہ برطانوی اقتدار ختم ہونے پر آزاد اور خود مختار ہوسکیں ۔

یاد رہے کہ جان برائٹ کی اس تجویز کی اہمیت کے پیش نظر قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے بھی 31مارچ1944کو فارمین کرسچئین کالج کے طلبہ کے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے اس کا حوالہ دیاتھا۔

عقیدے اور مذہب کی حیثیت سے ہندو مذہب مبہم اور غیرمعین پہلو رکھتا ہے ،ہندو ، دنیا کی پست ہمت اور عسکری روایات سے محروم واحد قوم ہے جس میں شجاعت و بہادری کی بجائے تعصب ، کینہ پروری اور تنگ نظری کے جذبات پائے جاتے ہیں اگرچہ اہلِ ہند کو حکمرانی کے بہت سے مواقع ملے مگر سازگار ماحول کے باوجود وہ کوئی اچگا تاثر قائم نہ کر سکے ،صدیوں کی غلامی نے ان کا قومی کردار ہی تباہ کر دیا تھا، گائے کے تقدس اور دوسرے جانوروں کی حرمت کے غیر فطری جذبات نے ان کی ترقی کی راہیں مسدود کر دی تھیں ، برصغیر میں مسلمانوں نے اپنی آمد کے بعد گروہی اور طبقاتی تقسیم ختم کرکے برصغیر کو ایک وحدت میں بدلنے کا فریضہ انجام دیا ۔

ہندوستان میں دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان بنا کہ ہندو معاشرے کی گندی رسومات ، رواجات اور ثقافت اسلام سے متصادم تھی اور ہے ۔ جس معاشرے میں انسان کے درجات قبائل کی بنیاد پر ہوں ، جہاں کا نظام طبقاتی ہو، جہاں شوہر کے مر جانے کی صورت میں اس کے بھائی کے ساتھ شادی کو مذہبی حیثیت حاصل ہو، سائنسی ترقی اور علمی عروج کے دور میں بھی اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا کی جاتی ہو، گائے کا پیشاب برکت کا باعث ہو، مرتے وقت گاؤ موتر بطور شفأ و آسانیِ نزع کے لئیے استعمال ہو، گنگا جمنا میں مرد و زن کے مخلوط اجتماع میں نہایا جائے، جو اپنے مُردوں کو اس لئیے جلا دے کہ اسے بعدِ مرگ حساب نہ چکانا پڑے ، جہاں درخت مقدسات میں شامل ہوں ، جنم کنڈلیوں پر زندگی ترتیب دی جائے، کسی مخصوص جگہ رشتہ کرنا مقصود ہو تو اس کی نحوست زائل کرنے کے لئیے بندر، کتا اور درخت سے حفاظتی شادیا ں کی جائیں ، جہاں مذہبی رسوم کے رہنما ننگے بیٹھے ہوئے پنڈت خوبرو خواتین پر جنسی غلاظت نکالیں اور جہاں زندگی کا ہر ہر کام وہم اور خیالات پر مبنی ہو وہاں اسلام اور مسلمان نہیں رہ سکتا ۔ (چشتی)

اسلام اپنے قوانین ، شریعت اور ثقافت کے ساتھ دنیا میں موجود ہے ۔ دو قومی نظریہ ایک آفاقی نظریہ ہے ۔ اسلام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ چکا ہے ۔ اہل کتاب مشرکین ضرور ہیں مگر ان پر شریعتیں آئیں اور انبیأ بھی تشریف لائے ، انہوں نے انبیأ کا انکار کیا ، کتب میں ترمین کی مگر وہ اہلِ شریعت ضرور ٹھہرے ۔ پوری دنیا میں ایک ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں آج تک بتوّں کی پوجا ہو رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب اس خطے میں موجود ہر بت پاش پاش ہو جائے گا اور پھر کلہاڑی بڑے بت کے کندھے پر رکھ دی جائے گا ۔۔۔۔ وہی دن دو قومی نظریہ کی تکمیل کا دن ہو گا ۔۔۔ ان شاء اللہ ۔۔۔۔ دو قومی نظریہ ہر مسلمان کے دل و دماغ میں موجود ہے ، کفر و شرک اور اور ان کی ثقافت سے بیزاری و نفرت اس نظریہ پر عمل کا بہترین ثبوت ہے ۔ دو قومی نظریہ ہر اس جگہ موجود ہے جہاں مسلمان موجود ہے ۔ آفاقی نظریہ پورے آفاق میں سفر کر ہا ہے ۔۔۔ مسلمان بد عمل ہو سکتا ہے ۔۔۔ سست، غافل ہو سکتا ہے ۔۔۔ مگر بے غیرت نہیں ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ اس نظریہ کی خاطر ہم نے مدینہِ اور حبشہ کی ہجرت کی ۔۔۔ اس نظریہ کی خاطر تاریخِ انسانیت کی سب سے بڑی ہجرت ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہوئی ۔۔۔ اس نظریہ کی بقا کے لئیے آج تک لاکھوں ماؤں کی گود خالی ہوئی ، سہاگ اجڑے ، بچے یتیم ہوئے ، املاک لٹ گئیں ، پورے پورے خاندان اجڑ گئے ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے جگر پارے حسین ابن علی رضی اللہ عنہم نے کربلا پر ڈیرے ڈالے اور ۔۔۔ آخر میں یہ بھی یاد رکھئیے کہ اسی نظریہ کو بچانے کے لئیے 1947 میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی چھاتیاں کاٹی گئیں ، انہیں زبردستی حاملہ کیا گیا اور آج ان عصمت و عزت والی ماؤں کے بطن سے پیدا ہونے والے سینکڑوں ہزاروں بچوں کے نام ہندو اور سکھ ولدیت کے ساتھ شنکر ، رام ، دیپک ، کلونت، پرکاش، ونود، اتم اور سنگھ سے موسوم ہیں ۔ اس دو قومی نظریہ پر مہر حق اس وقت ثبت ہو جاتی ہے جب ہم دنیا میں آنے والے اپنے ہر بچے کے کان میں محبت سے سرگوشی کرتے ہوئے اسے اشہد الا الٰہ الا اللہ و اشہد انّ محمد الرسول اللہ کا کلمہ حق سنا کر باطل کے سینے میں خنجر گھونپ دیتے ہیں ۔ یہ نظریہ صبحِ قیامت تک زندہ رہے گا اور ہم اس نظریہ کی حفاظت کے لئیے سر بکفن ہیں ۔ ان شاء اللہ ۔

دو قومی نظریہ تحریک پاکستان کی روح اور قیام پاکستان کی بنیاد ہے ۔ دو قومی نظریہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا ، اگر ہم تحقیقی جائزہ لیں تو کشمیر، فلسطین اور افریقی ممالک کا حل صرف اسی دو قومی نظریے کی روح کو سمجھنے سے ہو سکتا ہے ، اور دو قومی نظریہ ہی مسلمانو ں کی ترقی کا ضامن ہے ۔ (مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...