Tuesday, 1 February 2022

بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ پنجم

 بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ پنجم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ

 

(1) شریعت ۔ (2) طریقت ۔ (3) حقیقت ۔ (4) معرفت


شریعت : قرآن و سنت کے ظاہری احکام کو ’’شریعت‘‘ کہا جاتا ہے ۔

 

طریقت : ان کے باطن کا نام ہے

مثال کے طور پر طہارتِ شرعی یہ ہے کہ بدن کو پاک کرلیا جائے لیکن 

’’ طریقت‘‘   کی طہارت یہ ہے کہ دل کو تمام برائیوں سے پاک کیا جائے ۔


حقیقت : یہ ہے کہ شریعت کے احکام پر عمل کرنے سے جو اثرات ذہن و قلب پر مکمل طور پر چھا جائیں اور یقین کی دولت حاصل ہو جائے تو اِسے ’’حقیقت‘‘ کہا جاتا ہے ۔


معرفت : سے مراد ہے ,, اللہ تعالیٰ کی پہچان ,,  اس کا دوسرا نام ’’عرفان‘‘ ہے۔ جب صوفی پر حقائق کھلتے ہیں تو وہ حق الیقین کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔یہی عرفان ہے اور یہی معرفت ہے ۔


حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ فرماتے ہیں کہ : جب سالک سے کوئی غلَطی ہو جاتی ہے تو ’’معرفت‘‘ سے ’’حقیقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے ۔ جب حقیقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے وہ ’’طریقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے ۔ جب طریقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے تو’’شریعت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔اس لئے ’’شریعت‘‘ کی پابندی ضروری ہے ۔ (فوائد الفواد)


اعلی حضرت ، امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حاشا نہ شریعت و طریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہو سکتے ہیں ۔ علامہ مناوی شرح جامع صغیر  پھر عارف باللہ سیدی عبدالفنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں , امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے ، امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا ۔ (فتاوی رضویہ جلد 21  صفحہ 530،چشتی)


اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں : شریعت ، طریقت ، حقیقت معرفت میں باہم اصلا کوئی اختلاف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ ، بد دین ۔ شریعت ، حضور اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال ہیں ، اور طریقت ، حضور کے افعال ، اور حقیقت ، حضور کے احوال ، اور معرفت ، حضور کے علوم بے مثال . (فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 460)


سوال : بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو باطنی علم اور معرفت حاصل ہے ۔ اس لیے ہمیں شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ۔ آپ فرمایئے کہ کیا طریقت شریعت سے جدا کوئی راستہ ہے ۔


جواب : اعلیٰ حضرت مجدد برحق امام احمد رضا خاں قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف مقال عرفاء باعزاز شرع و علماء میں فرماتے ہیں کہ ’’شریعت منبع ہے اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایک دریا‘ عموما کسی منبع سے دریا بہتا ہو تو اسے زمینوں کو سیراب کرنے میں منبع کی حاجت نہیں ہوتی لیکن شریعت وہ منبع ہے کہ اسے سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر آن اس کی حاجت ہے ۔ اگر شریعت کے منبع سے طریقت کے دریا کا تعلق ٹوٹ جائے تو صرف یہی نہیں کہ آئندہ کے لیے اس میں پانی نہیں آئے گا بلکہ یہ تعلق ٹوٹتے ہی دریائے طریقت فورا فنا ہوجائے گا ۔ پھر فرماتے ہیں کہ شریعت و طریقت تو منبع و دریا کی مثال سے بھی اعلیٰ ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعت مطہرہ ربانی نور کا ایک فانوس ہے کہ دین کی دنیا میں اس کے سوا کوئی روشنی نہیں اور اس کی روشنی بڑھنے کی کوئی حد نہیں ۔ اس روشنی کی زیادتی و افزائش چاہنے کا نام طریقت ہے یہ روشنی بڑھ کر صبح اور پھر آفتاب اور پھر اس سے بھی غیر متناہی درجوں تک ترقی کرتی ہے‘ جس سے حقائق اشیاء کا انکشاف ہوتا ہے اور نور الٰہی تجلی فرماتا ہے ۔ یہ مرتبہ علم میں معرفت اور مرتبہ تحقیق میں حقیقت ہے درحقیقت شریعت ہی ہے کہ مختلف مراتب کے لحاظ سے اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ جب یہ نور بڑھ کر صبح روشن کی مثل ہوجاتا ہے تو ابلیس لعین خیر خواہ بن کر آتا ہے اور اس سے کہتا ہے‘ چراغ بجھا دے اب تو صبح خوب روشن ہوگئی ہے۔ آدمی دھوکے میں نہ آئے اور نور بڑھ کر دن کی مثل ہوجائے تو شیطان پھر کہتا ہے دن اتنا روشن ہے کیا اب بھی چراغ نہیں بجھائے گا ۔ ﷲ تعالیٰ بندہ کی مدد فرمائے تو بندہ لاحول پڑھتا ہے اور کہتا ہے اے لعین! یہ اس فانوس ہی کا تو نور ہے‘ اسے بجھا دیا تو روشنی کہاں سے آئے گی پس وہ ملعون دفع ہوجاتا ہے اور بندہ نور حقیقی تک پہنچ جاتا ہے جیسا کہ سورہ نور میں فرمایا گیا ہے۔ نور علی نور یعنی ’’نور پر نور‘‘ ہے ۔ ﷲ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے ۔ (سورہ النور ۳۵)

اگر آدمی شیطان کے دھوکے میں آگیا اور سمجھا کہ دن تو ہوگیا اب مجھے چراغ کی کیا حاجت‘ پھر جیسے ہی اس نے چراغ بجھایا‘ گھپ اندھیرا ہوگیا کہ ہاتھ سے ہاتھ سوجھائی نہیں دیتا جیسا کہ قرآن عظیم میں ارشاد ہوا ’’ایک پر ایک اندھیرے ہیں‘ جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ سوجھائی دے اور جسے ﷲ نور نہ دے اس کےلیے کہیں نور نہیں ۔ (النور ۴۰)

یہ ہیں وہ کہ طریقت بلکہ حقیقت تک پہنچ کر اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھے اور ابلیس کے فریب میں آکر اس ربانی فانوس کو بجھا بیٹھے۔ کاش ان کو اس کی خبر ہوتی تو شاید توبہ کرتے لیکن ستم تو یہ ہے کہ شیطان ملعون نے جہاں فانوس بجھوایا۔ اس کے ساتھ ہی فورا اپنی سازشی بتی جلا کر ان کے ہاتھ میں دے دی۔ یہ اسے نور سمجھ رہے ہیں اور وہ حقیقتا نار ہے ۔ یہ مگن ہیں کہ شریعت والوں کے پاس کیا ہے ۔ ایک چراغ ہے ہمارا نور تو آفتاب کو شرما رہا ہے لیکن انہیں خبر نہیں کہ اہل شریعت کے پاس ہی اصل نور ہے اور ان کے پاس صرف دھوکا ۔

مزید فرمایا : شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس ایک ایک پل ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ کہ راہ جس قدر باریک اسی قدر ہادی کی زیادہ حاجت ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ’’بغیر فقہ کے عبادت کرنے والا ایسا ہے جیسا چکی کھینچنے والا گدھا کہ مشقت جھیلے اور نفع کچھ نہیں ۔ (ابو نعیم فی الحلیہ)


 پھر عارف باﷲ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ طریقت و شریعت کے درمیان تعلق کو ایک اور مثال کے ذریعے یوں واضح کرتے ہیں کہ شریعت ایک عمارت ہے اس کا اعتقاد بنیاد اور عمل چنائی ہے پھر ظاہری اعمال وہ دیوار ہیں کہ اس بنیاد پر ہوا میں چنے گئے اور جب یہ تعمیر اوپر بڑھ کر آسمان تک پہنچی وہ طریقت ہے ۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی نیو (یعنی بنیاد) کی زیادہ محتاج ہوگی اور نہ صرف بنیاد بلکہ اعلیٰ حصہ نچلے حصے کا بھی محتاج ہے اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے اوپر سے بھی گر پڑے گی۔ احمق وہ ہے جس پر شیطان نے نظربندی کر کے اس کی چنائی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں ڈالا کہ اب تو ہم زمین کے دائرے سے اونچے گزر گئے ۔ ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے ۔ پس بنیاد سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن عظیم نے فرمایا کہ ’’اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں گر پڑی‘‘ اسی لیے اولیاء کرام فرماتے ہیں ’’جاہل صوفی شیطان کا مسخرہ ہے‘‘ اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان عالی شان ہے کہ ’’ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے‘‘ ۔ (ترمذی ابن ماجہ)

امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس تصنیف میں چالیس اولیاء کرام علیہم الرحمہ کے اسی ۸۰ ارشادات عالیہ بھی بیان فرمائے ہیں جن میں سے چند اقوال پیش خدمت ہیں تاکہ اس مسئلہ میں اولیاء کرام کا مسلک واضح ہو جائے ۔ 


امام مالک رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’علم باطن نہ جانے گا مگر وہ علم ظاہر جانتا ہے‘‘ 


امام شافعی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’ﷲ تعالیٰ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا‘‘ 

یعنی ولی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا ۔ اس کے بعد ولی کیا ۔ 


حضور غوث اعظم قطب الاقطاب سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’اگر حدود شریعت میں سے کسی حد میں خلل آئے تو جان لے کہ تو فتنہ میں مبتلا ہے (طریقت میں نہیں) بے شک شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے تو فورا حکم شریعت کی طرف پلٹ آ اور اس سے لپٹ جا اور اپنی نفسانی خواہش چھوڑ اس لیے کہ جس حقیقت کی شریعت تصدیق نہ فرمائے وہ حقیقت باطل ہے‘‘ ۔ (طبقات اولیاء از امام شعرانی،چشتی)


حضرت جنید بغدادی رضی ﷲ عنہ سے عرض کی گئی کہ کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ احکام شریعت تو وصول کا وسیلہ تھے اور ہم واصل ہوگئے یعنی اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت ؟

 فرمایا ‘ وہ سچ کہتے ہیں وہ واصل ضرور ہوئے مگر کہاں تک جہنم تک ۔ چور اور زانی ایسے برے عقیدے والوں سے بہتر ہیں ۔ میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض و واجبات تو بڑی چیز ہیں جو نوافل و مستحباب مقرر کرلئے ہیں بے عذر شرعی ان میں سے کچھ کم نہ کروں ۔ (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر)


حضرت با یزید بسطامی رضی ﷲ عنہ ایک شخص سے ملنے گئے جو زہد و ولایت کا مدعی تھا

 آپ کے سامنے اس نے قبلہ کی طرف تھوکا آپ اس سے ملے بغیر واپس آگئے اور فرمایا ’’یہ شخص شریعت کے ایک ادب پر تو امین ہے نہیں اسرار الٰہی پر کیونکر امین ہوگا‘‘ ۔ (رسالہ قشیریہ)


حضرت ابو قاسم نصرآبادی فرماتے ہیں ‘ تصوف کی جڑ یہ ہے کہ کتاب و سنت کو لازم پکڑے رہے ۔ (طبقات کبریٰ) 


شیخ شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں: جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے ۔ (عوارف المعارف)


امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ فرماتے ہیں ’’تصوف کیا ہے بس احکام شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے‘‘

 مزید فرمایا ’’علم تصوف شریعت کے چشمہ سے نکلی ہوئی جھیل ہے‘‘ ۔ (طبقات کبریٰ)


ان دلائل سے ثابت ہوگیا کہ : شریعت اور طریقت لازم و ملزوم ہیں ۔ آج کل بعض جہلا طریقت کو شریعت سے الگ راہ اس لیے بتاتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے عقیدت مندوں کو اپنے غیر اسلامی افعال کے جواز کا اطمینان دلاسکیں ۔


حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رضی ﷲ عنہ کشف المحجوب میں تصوف کے باب میں فرماتے ہیں کہ ’’صحابہ کرام رضی ﷲ عنہم اور سلف رحمہم ﷲ کے زمانے میں تصوف کا نام نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی جو سب پر طاری تھی ۔ 


آج کل صرف نام باقی ہے اور حقیقت غائب ۔ یعنی پہلے معاملہ معروف تھا اور ظاہر داری غائب اور اب معاملہ یعنی تصوف کی حقیقت غائب ہے اور ظاہر داری معروف ۔


مزید فرمایا کہ جب عام لوگ ظاہر پرستوں کو ناچتے گاتے دیکھتے ہیں جوکہ صوفیہ ہونے کے مدعی ہیں تو وہ تمام اولیاء سے بدظن ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’یہ ہے تصوف اور اس کے اصول ؟ پہلے زمانے کے صوفیا بھی اسی قسم کے ہوں گے‘‘ حالانکہ ان کہنے والوں نے یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ وقت فتنہ ہے اور فتنوں کی کثرت ہے ۔

 

حرص بادشاہ کو ظلم پرآمادہ کرتا ہے ۔ لالچ عالم کو بدکاری میں مبتلا کردیتا ہے ۔ اور ریاکاری زاہد کو منافقت کی طرف لے جاتی ہے ۔


 اسی طرح ہوائے نفس اور لالچ بعض صوفیا کو رقص و سرور میں مبتلا کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسے اہل طریقت برباد ہوجاتے ہیں طریقت برباد نہیں ہوتی ۔ اسی طرح اگر کچھ لوگ لغویات و خرافات کو پاک و صاف چیزوں میں شامل کردیں تو پاک و صاف چیزیں خرافات نہیں بن جاتیں البتہ ایسے لوگ ضرور دنیاوآخرت میں نقصان اٹھاتے ہیں ۔


اب میں اس تمام گفتگو کاخلاصہ امام مالک رضی ﷲ عنہ کے الفاظ میں پیش کردیتا ہوں جسے محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں بیان کیا ہے وہ فرماتے ہیں : جس نے علم فقہ حاصل کیا اور تصوف کو نظر انداز کردیا وہ فاسق ہوا اور جس نے تصوف کو اپنالیا مگر فقہ کو چھوڑ دیا وہ زندیق ہوا اور جس نے شریعت و تصوف دونوں کو جمع کیا اس نے حق کو پالیا ۔ (مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ چہارم

 بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ چہارم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : صوفیائے کرام اور اولیائے عظام علیہم الرّحمہ نے خود بھی قرآن پاک اور سنت نبوی پر عمل کیا اور اپنے حلقۂ عقیدت میں داخل ہونے والوں کو بھی کتاب و سنت کی پیروی کی تاکید فرمائی ۔ ”کشف المحجوب” حضرت شیخ علی ہجویری معروف بہ داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ” کی تصنیف ہے۔ جس میں آپ نے طریقت و شریعت کے مباحث پر استدلال کیا ہے۔ کشف المحجوب میں جس طرح حضرت داتا گنج بخش نے قرآن و حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف علوم باطنہ کے ماہر تھے بلکہ آپ علوم شر یعت کے بھی غواص تھے اور علم تفسیر و حدیث پر آپ کو مکمل عبور حاصل تھا اور یہ سب کچھ آپ کے مرشد کامل کا فیضان تھا۔ جس کے بارے میں حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ خود ، فرماتے ہیں کہ میرے مرشد شیخ ابوالفضل محمد بن حسن الختلی رحمة اللہ علیہ ہیں جو علم تفسیر و حدیث کے عالم تھے ۔” وہ مسلک تصوف میں حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ علیہ کا مذہب رکھتے تھے۔ جب حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ لاہور میں تشریف لائے تو آپ کے قیام کے دوران ہزاروں لوگوں نے آپ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ لاہور میں قیام کے دوران اپنا تمام وقت تبلیغ اسلام اور تصنیف و تالیف میں صرف فرمایا۔ آپ کے سلسلہ تصوف میں قدم رکھنے سے پہلے تصوف نظری شکل میں موجود تھا۔ پھر جب تصوف نے علم کی دنیامیں قدم رکھا تو رموز طریقت اور اسرار حقیقت پر بھی قلم اٹھایا گیا۔ ابتداء میں تصوف کے بارے میں تذکرہ کرنے والی ساری کتب عربی زبان میں تحریر کی گئی تھیں ۔ پھر آہستہ آہستہ اسے دیگر زبانوں میں منتقل کیا گیا۔ حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کی مادری زبان فارسی تھی ۔ اس لیئے آپ نے عوام کے افادہ کے لیے کشف المحجوب کو فارسی زبان میں تصنیف فرمایا۔ جبکہ اس کے علاوہ آپ نے اکثر کتب عربی زبان میں تحریر کیں ۔ جس میں سے اکثر کتابیں معدوم ہو چکی ہیں ۔ کشف المحجوب اپنے موضوع اور مباحث کے اعتبار سے جس قدر بلند پایہ کتاب ہے وہ تعریف و توصیف سے ارفع ہے۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمة اللہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے ”اگر کسی کا پیر نہ ہو۔ تو ایسا شخص جب اس کتاب کا مطالعہ کرے گا۔ تو اس کو پیر کامل مل جائے گا ۔


حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ اور حصول علم شریعت


قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت علی ہجویری حصول علم شریعت قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے غزنی کے مختلف مدارس سے اس دور کے مروجہ علوم یعنی عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد علم فقہ‘ علم حدیث وتفسیر‘ علم منطق اور فلسفہ پر عبور حاصل کیا۔ اس طرح آپ کو علم شریعت میں پوری طرح مہارت حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد مختلف شہروں میں علوم ظاہری و باطنی کی سعی کی۔ علمی پختگی حاصل کرنے کے لئے آپ نے جن اساتذہ سے فیض حاصل کیا ان کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے ۔

شیخ ابوالقاسم‘ عبدالکریم بن ہوازن القشیری، ابوالفضل محمد بن الحسن الختلی، امام ابوالعباس بن محمد اشفانی، شیخ ابوسعید ابوالخیر، خواجہ احمد مظفر بن احمد بن حمدان، ابوالعباس بن محمد قصاب‘ ابو جعفر محمدبن مصباح صدلانی باب فرغانی‘ حضرت ابوعبداللہ بن علی الداغستانی‘ حضرت شیخ ابوالقاسم بن علی بن عبداللہ گرگانی علیہم الرّحمہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔


کشف المحجوب ایک ایسا علمی شاہکار ہے، جس کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں صحیح اسلامی تصوف نے فروغ پایا۔ اسی وصف خاص کی بدولت آج بھی کشف المحجوب کی قدر و منزلت اتنی ہے جتنی آج سے نو سو برس پہلے تھی ۔


اس کتاب میں تصوف کے طریقے کی تحقیق، اہل تصوف کے مقامات کی حقیقت و کیفیت، ان کے اقوال اور رموزو اشارات کو بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں صاحب کشف المحجوب جس مسئلہ یا رمز طریقت پر قلم اٹھاتے ہیں اولاً وہ قرآن حکیم اورارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سند لاتے ہیں پھر اس کا استدلال آثار و اخبار سے کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ کتاب آپ کے بعد کے بزرگان طریقت اور ارباب تصوف کے لیے ہمیشہ مآخذ کا کام دیتی رہی ہے۔

کشف المحجوب نام تحریر کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”اے طالبان حق تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اولیاء اللہ اور محبوب بارگاہ ایزدی کے سوا سارا عالم لطیفۂ تحقیق سے محجوب و مستور ہے۔ چونکہ یہ کتاب راہ حق کے بیان، کلمات تحقیق کی شرح اور حجاب بشریت کے کشف میں ہے۔ لامحالہ اس کتاب کے لیے اس کے سوا کوئی نام موزوں نہیں ہو سکتا۔ چونکہ حقیقت کا منکشف ہونا مستور اشیاء کے لیے فنا و ناپید ہونے کا سبب بنتا ہے۔ جس طرح موجود و حاضر کے لیے پردہ حجاب میں ہونا موجب ہلاکت ہے۔ یعنی قرب جس طرح بُعد کی طاقت نہیں رکھتا اس طرح بُعد بھی قرب کی برداشت نہیں رکھتا۔ اسی طرح حقائق اشیاء کے معانی و مطالب اسی پر کھلتے اور منکشف ہوتے ہیں جس کو خاص اسی لیے پیدا کیا گیا ہو۔ ان کے سوائے دوسروں کے لیے یہ ممکن نہیں۔


امام العارفین سید مخدوم علی ہجویری المعروف بہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے کشف المحجوب شریف میں بڑی اعلیٰ و ارفع بات فرمائی ہے ۔ ”تمام مشائخ اس بات پر متفق ہےں کہ جب بندہ مقامات کی قید سے خلاصی حاصل کر لیتا ہے اسے احوال کی کثافتوں سے رہائی نصیب ہو جاتی ہے وہ دنیا کے تغیر و تبدل سے بے نیاز ہو جاتا ہے تمام حالتوں میں پسندیدہ اوصاف کا مالک بن جاتا ہے اس وقت وہ اپنے تمام اوصاف حمیدہ سے جدا ہو جاتا ہے یعنی اپنی کسی بھی صفت کا خیال بھی دل مےں نہیں لاتا، نہ اسے دیکھتا اور نہ اس پر فخر کرتا ہے تاکہ اس کا مقام عقل کی رسائی سے بلند اور حال وہم و گمان کی دسترس سے بلند ہو جائے ۔

اسی پہلو کی مزید وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : جب سالک اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو دنیا و آخرت کے لئے فنا ہو جاتا ہے اور اس وقت وہ انسانی جسم مےں روح ربانی ہوتا ہے اس کی نگاہ میں سونا اور مٹی برابر ہو جاتے ہیں، اس وقت اس کے لئے احکام شریعت کی ادائیگی نہایت سہل اور آسان ہو جاتی ہے، جو دوسروں کے لئے مشکل ہوتی ہے۔

محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم وہی کام کریں اور وہی بات کریں محبوب خدا نے جس کا حکم فرمایا ہو لیکن ہماری محبت کی ابتری کا یہ عالم ہے کہ سنت مطہرہ کی پیروی مےں شرم محسوس کرتے ہیں۔ شعوری اور غیر شعوری طور پر دشمنان مصطفی کے شعار کو اپناتے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں بالکل شرم محسوس نہیں ہوتی۔ سبحان اللہ! جو بات عزت و افتخار کی ہے وہاں شرم محسوس ہوتی ہے اور جو بات ذلت و رسوائی کی ہے وہاں فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اسی لیے شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ دربار رسالت میں اس طرح عرض رساں ہیں :

نعشش پیش طبیباں بردہ ام

درحضور مصطفی آوردہ ام

اور اس طرح عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کی درخواست کرتے ہیں :

اے کہ از احسان تو ناکس، کس است

یک دعایت مزد گفتارم بس است ۔ انسان کی بہتری کےلئے مزید فرماتے ہیں، کیونکہ انہیں رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دلی محبت تھی۔ ہاں دیکھنا ان اللہ کے پیاروں کے پاس بیٹھنا جن کی صحبت میں آتش عشق بھڑکتی ہے، خبردار! ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا جن کی صحبت دل کے ہنگامے سرد کر دیا کرتی ہے۔

شریک حلقہ رندان بادہ پیما باش

حذر زبیعت پیرے کہ مرد غوغا نیست

دامن رسالت سے اس وابستگی اور پیوستگی کی وجہ سے شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو دابستگان دامن رسالت مآب سے بھی بے پناہ عقیدت و محبت تھی۔ وہ اس جھوٹی محبت کے قائل نہیں جو صرف محبوب کو چاہے اور اس کے چاہنے والوں کو نہ چاہے۔ اسی نسبت کی وجہ سے وہ اہل بیت کی محبت و الفت کو اپنی زندگی سمجھتے ہےں، وہ فرماتے ہےں کہ میں اس خاندان عالی القدر کی محبت سے زندہ ہوں، نہ صرف زندہ ہوں بلکہ عالم مےں مثل گوہر تابندہ ہوں۔

مسلم اول شہ مرداں علی

عشق را سرمایہ ایمان علی

از ولائے دوز مانش زند ام

درجہاں مثل گوہر تابندہ ام

کلیات اقبال، مطبوعہ ایران (اسرار خودی) میں ایک اور مقام پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی عظمت و شوکت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

زیر پائیش ایں جاشکوہ خیبر است

دست او آں جا قسیم کوثر است

از خود آگاہی یداللٰہی کند

از یداللٰہی شہنشاہی کند

دراصل حقیقی شہنشاہ وہ ہے جو یداللہ ہے، اور ید اللہ وہ ہے جو خود آگاہ ہے، شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ یہ اوصاف حمیدہ بیان کر کے امت مسلمہ کو نصیحت کرنا چاہتے ہےں اور یہ بتانا چاہتے ہےں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قوت و شوکت کس طرح حاصل کی تھی، وہی خوبی ہم بھی اگر پیدا کر لیں تو ان کے در سے فیض یاب ہوسکتے ہےں وہ کسی کو ناامید نہیں کرتے، سب کے دامن بھرتے ہےں۔ ان کے مولیٰ نے ان کو بہت کچھ دیا ہے۔


شریعت اور حقیقت کشف المحجوب شریف کی روشنی میں


امام العارفین سید مخدوم علی ہجویری المعروف بہ حضرت داتا گنج بخش نے شریعت اور حقیقت اور ان کے باہمی ربط اور فرق و امتیاز کو کیا احسن طریق واضح کیا ہے، فرماتے ہیں : پس حقیقت ایسے معنی کی تعبیر ہوتی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر قیامت تک اس کی حیثیت ایک جیسی رہتی ہے جیسے معرفت خداوندی اور خاص نیت پر مبنی اعمال شریعت سے مراد وہ معنی ہیں جن میں تغیر و تبدل جائز ہے، جسے احکام و اوامر۔ پس شریعت انسانی فعل ہے اور حقیقت اللہ تعالیٰ کی نگہداشت اس کی طرف سے حفظ و عصمت۔ حقیقت کے باوجود بغیر شریعت مطہرہ کا قائم کرنا مشکل ترین ہے اسی طرح حقیقت کا قیام شریعت کی حفاظت کے بغیر ناممکن ترین ہے مثال کے طور پر یہ ہے کہ جسم میں جان موجود ہے تو انسان زندہ ہے۔ جان نکل جائے تو تن مردہ ہے اور جان (روح) ہوا ہے جسم و جان کی اہمیت باہم ملاپ سے ہے اسی طرح شریعت، حقیقت کے بغیر ریا اور حقیقت بغیر شریعت کے منافقت ہے، ارشاد خداوندی ہے : والدین جاھد و افینا لنھدینھم سبانا (سورة عنکبوت: ۹۲)

ترجمہ : جنہوں نے ہماری راہ مےں جدوجہد کی، ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے ۔ مجاہدہ شریعت ہے اور ہدایت اس کی حقیقت۔ شریعت بندہ کے لئے ظاہری احکام کی حفاظت اور حقیقت بندہ کے باطنی احوال کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ شریعت کا تعلق انسانی کسب سے ہے اور حقیقت کا واسطہ لطف خداوندی سے لہٰذا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی اور دونوں کے درمیان فرق خودبخود واضح ہوگیا ۔ (کشف المحجوب،چشتی)


اولیائے کرام و عظام علیہم الرّحمہ چونکہ ہدایت ربانی اور شریعت مطہرہ پر پورے اخلاص سے عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اس لیئے وہ شریعت مطہرہ اور حقیقت خداوندی ہر دو کا حسین ترین امتزاج بن جاتے ہےں اور ان کی مثال ایک ایسے مہکتے ہوئے پھول کی ہوتی ہے کہ ان کی صحبت مےں بیٹھنے والا اپنے روح و قلب مےں ایک سکون، اطمینان اور خوشگوار پن محسوس کرتا ہے ۔


ایک انگریز، مفکر نے کیا ہی خوب کہا ہے


(یعنی عظیم لوگوں کی زندگی ہمیں یاد دلاتی اور دعوت فکر و عمل دیتی ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کی تعمیر کر کے شاہراہ ترقی پر گامزن ہو سکتے ہیں ۔ عظیم لوگوں کی زندگی زمانے کی شاہراہ پر اپنے نقوش قدم چھوڑ جاتی ہیں تاکہ سالکین راہ، ان پر چل کر اپنی منزل مقصود کو پا لیں) اور یہ ایک امر مسلمہ ہے کہ حضور قبلہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی پاکیزہ زندگی مےں ان کے مرشد کامل حضرت ابوالفضل الختلی کی حیات مبارکہ کا عکس پوری تابانیوں کے ساتھ جھلکتا ہے۔

حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اسی لیے کیا خوب فرماتے ہیں :

صحبت صالح ترا صالح کند

صحبت طالح ترا طالح کند

کسی مغربی مفکر و دانشور نے سادگی کی عظمت و تعریف بیان کرتے ہوئے ایک جگہ اس نے سادگی کی صفت سے خود متصف ہونے کی شدید آرزو کا اظہار کیا ہے۔ کسی نے اس بارے میں کیا بے مثال کہا ہے : میں سادہ ہوں تو کیا ہے، سادگی ہی عین فطرت ہے ، ہزاروں رنگ مٹتے ہیں اک سادہ حقیقت پر بناوٹ کفر ہے اور سادگی نور خدا وندی نماز عشق بھاری ہے دکھاوے کی عبادت پر حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا نصیحت آموز قول فرماتے ہیں : یعنی ہمارا ٹھکانا فانی ہے، ہمارے احوال عارضی ہےں ہمارے سانس گنے ہوئے ہیں اور ہماری سستی نمایاں ہے ۔

اس قول کی وضاحت کرتے ہوئے سید ہجویر حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : فانی گھر کی تعمیر جہالت ہے عارضی احوال پر اعتماد بےوقوفی ہے گنتی کے سانوں پر دل لگانا غفلت ہے اور کاہلی و سستی کو دین سمجھنا خیانت ہے کیونکہ جو چیز عاریة لی گئی ہے وہ واپس جائے گی جو چیز فانی ہے وہ نہ رہے گی، جو شے گنتی مےں آتی ہے وہ ضرور ختم ہوگی اور کاہلی و سستی کا کوئی علاج نہیں، گویا ہمیں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے متنبہ فرمایا کہ دنیا اور اسباب دنیا اس قابل نہیں کہ ان سے دل لگایا جائے ۔ (کشف المحجوب شریف ترجمہ سید محمد فاروق القادری صفحہ نمبر ۱۸۱،چشتی)

امام شریعت و طریقت ، دانائے حقیقت و معرفت ، سرتاج الاولیاءو اصفیا حضرت السید مخدوم علی ہجویری المعروف بہ حضرت داتا گنج بخش لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ کی گداگدی فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی عرصہ 25 سال سے کر رہا ہے ۔ یہ سرکار داتا رحمۃ اللہ علیہ کے کرم کی انتہا ہے کہ مجھ جیسے سیاہ کار کو اپنی آغوش رحمت میں پناہ دے رکھی ہے ۔ رب کائنات سے دست بادعا ہوں کہ سید ہجویر کے صدقہ میں راقم کو نسبت حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ پر زندگی اور موت عطا فرمائے ۔ (آمین بحرمة سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم)

اولیاءکاملین و اکملین کا فیض ان کی حیات طیبہ اور بعد ازوصال یکساں جاری و ساری رہتا ہے، ولی اللہ جب اس دارفانی سے داربقا کی طرف منتقل ہوتے ہیں تو ان کا فیض کئی گنا بڑھ جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی حین حیات میں خداوند قدوس کو یاد کرتے ہیں اور بعداز وصال صد ملال خداوند قدوس مخلوق خدا کی زبان سے ان کو یاد کرتا ہے اور ان کا مزار پر انوار انوار و تجلیات کا مرکز بن جاتا ہے ۔

قولہ تعالیٰ فاذکرونی اذکرکم یعنی تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

خوا ہم کہ ہمیشہ در ہوائے تو زیم

خاکے شوم وزیر پائے تو زیم

مقصود من بندہ زکونین توئی

بہر تو یرم وزبرائے تو زیم

ترجمہ : میری سنای ہے کہ اے دوست تیرے قدموں مےں رہوں، سراپا خاک ہو جاﺅں اور تیرے قدموں تلے روندا جاﺅں کیونکہ میرا مطلوب دوجہاں مےں تیرے سوا کچھ نہیں۔ تیرے لئے زندہ ہوں اور تیرے ہی لیے مرتا ہوں کیونکہ ۔

پیر کامل صورت ظل الٰہ

یعنی دیدہ پیر دیدہ کبریا

چونکہ ذات پیر را کر دی قبول

ہم خدا در ذاتش آمد ہم رسول

گرجدا بینی زحق تو خواجہ را

گم کنی ہم متن وہم دیباچہ را

ترجمہ: اگر آپ اطاعت پیر مےں درجہ کمال پیدا کرے تو اسی مےں تمہیں قرب خداوند تعالیٰ اور عشق رسول مقبول حاصل ہوگا۔ اگر تم اطاعت شیخ کو شرک سمجھتے رہے تو کتاب توحید کے مطلب و معنی سے کورے رہ جاﺅ گے ۔

بزرگوں نے فرمایا ہے :

پیر رہ کبریت احمر آمد است

سینہ او بحر اخضر آمد است

یعنی شیخ طریقت کبریت احمر سرخ گندھک یا کیمیا ہے جو اس کے ساتھ لگا سونا ہوگیا۔ پیر کا سینہ وہ چشمہ آب حیات ہے جہاں مردہ قلوب کو زندگی (جاودانی) ملتی ہے ۔


حضرت سیدنا ابوسعید ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے رفیق تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیدنا داتا علی ہجویری کی بارگا ہ میں ان اُمورسے متعلق استفسار فرمایا :


(1) طریقِ تصوف کی حقیقت


(2) مقامات ِ صوفیہ کی کیفیت


(3) صوفیہ کے عقائد کی وضاحت


(4) صوفیہ کے رُموز و اِشارات


(5) دلوں میں محبتِ الٰہی کے ظہور کی کیفیت


(6) محبتِ الٰہی کی معرفت میں رکاوٹ بننے والے عقلی اور نفسانی حجابات


(7) ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے طریقے


چنانچہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان تمام باتوں کا تفصیلی جواب دینے کے لیے” کشف المحجوب “ کے نام سے عظیم الشان کتا ب تصنیف فرمائی ۔ (سید ہجویر صفحہ نمبر ۱۶۶،چشتی)


تحصیلِ علم ضروری کیوں ؟


علم کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تحریر فرماتے ہیں : تصوف کی جڑ قوی اور شاخ میوہ دار ہے مگر اس جڑ کو علم کے چشمے سے پانی ملنا چاہیے اس لیے کہ سب بزرگا نِ تصوف اہل علم ہی ہوئے ہیں ۔ (کشف المحجوب،باب اثبات العلم صفحہ نمبر ۱۱،چشتی)


حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں : خدا وند عزوجل نے ہمیں اس زمانے میں پیدا فرمایا ہے کہ جس میں لوگوں نے نفسانی خواھشات کا نام شریعت ، طلب جاہ ، حب دنیا اور تکبر کا نام عزت و علم ، مخلوق کے سامنے ریاکاری کا نام خوف خدا ، کینہ کو دل میں پوشیدہ رکھنے کا نام برد باری ، فضول جھگڑے کو مناظرہ ، آپس میں جنگ و جدال کا نام بزرگی ، منافقت کا نام زہد ، جھوٹھی آرزو کا نام ارادت، طبعی ہذیان کا نام معرفت ، دلی حرکتوں اور وسوسہ کا نام محبت الہی ، الحاد کا نام فکر ، انکار حق کا نام بزرگی ، بے دینی کا نام فنا ، پیغمبر کی شریعت کے طرق کا نام طریقت ، اور زمانہ والوں کی آفت کا نام مجاہدہ رکھ لیا ہے.یہاں تک کہ معنی اور مطالب کے جاننے والے ان سے بلکل الگ ہو گئے ہیں .


داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات


حضرت اداتاعلی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ چونکہ تصوُّف کے اعلیٰ مرتبے پر فائز عشقِ حقیقی سے سرشار فنافی اللہ بُزرگ تھے لہٰذا آپ کی گفتگو کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی ،مسلمانوں کی خیرخواہی اور عقائد و اعمال کی اصلاح سےمتعلق مہکتے پھول نظر آتے ہیں آئیے۔ ان میں سے چند اقوال ملاحظہ کیجئے۔


1. کرامت ولی کی صداقت کی علامت ہوتی ہے اور اس کا ظہورجھوٹے انسان سے نہیں ہوسکتا۔


2. ایمان ومعرفت کی انتہا عشق ومحبت ہے اور محبت کی علامت بندگی (عبادت) ہے ۔


3. کھانے کے آداب میں سےہےکہ تنہا نہ کھائے اور جو لوگ مل کرکھائیں وہ ایک دوسرے پر ایثار کریں۔


4. مسلسل عبادت سے مقامِ کشف ومشاہدہ ملتا ہے ۔


5. غافل امراء ،کاہل (سُست)فقیر اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے ۔


6. سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے ۔حکمران جب بے علم ہوں،علماء جب بے عمل ہوں اور فقیرجب بے توکل ہوں۔


7. رضاکی دوقسمیں ہیں : (1) خداکا بندے سے راضی ہونا ۔ (2)بندے کا خدا سے راضی ہونا ۔


8. دنیاسرائے فساق وفجار (گنہگاروں کا مقام)ہے اور صوفی کا سرمایہ زندگی محبتِ الٰہی ہے ۔(کشف المحجوب مترجم صفحہ نمبر ۱۰۴،چشتی)


9. بھوک کو بڑا شرف حاصل ہے اورتمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہےاس لیئےکہ بھوکے کا دل ذکی (ذہین)ہوتاہے ، طبیعت مہذب ہوتی ہےاور تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص کھانے کے ساتھ ساتھ پانی پینے میں بھی کمی کردے تو وہ ریاضت میں اپنے آپ کو بہت زیادہ آراستہ کر لیتا ہے ۔ (کشف المحجوب مترجم صفحہ نمبر ۵۱۹) (مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ سوم

 بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ سوم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : طریقت و تصوّف کیا ہے اور اس کی حقیقت ؟ ، طریقت یا تصوف سے کیا مراد ہے ؟ : قرآن و حدیث اور صوفیا کرام علیہم الرّحمہ کے ارشادات کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں : سورہ بقرہ میں ﷲ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان عالی شان ہے‘ ’’جیسا ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا‘‘ ۔ (آیت ۱۵۱)


اس آیت مقدسہ میں ﷲ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پانچ فرائض نبوت کا ذکر فرمایا ہے۔

۱۔ ﷲ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرنا

۲۔ کتاب ﷲ کی تعلیم دینا

۳۔ حکمت کی تعلیم دینا

۴۔ مومنوں کو پاک کرنا

۵۔ باطنی علم سکھانا

ایک بات جو اس آیت مبارکہ سے بالکل واضح ہے وہ یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری و باطنی علوم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو پاک کرنے کا اختیار بھی عطا فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ پاک کرنے والا ان کی مثل کیسے ہوسکتا ہے جو پاک نہیں ہیں ؟ علم سکھانے والا ان کی مثل کیونکر ہوسکتا ہے جو کچھ نہیں جانتے۔ پس ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے مثل بشر ہیں ۔


اب ہم اس آیت مقدسہ کے ترجمہ پر غور کرتے ہیں‘ تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت کے متعلق تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ اس سے مراد قرآن پاک اور شریعت مطہرہ کی مکمل تعلیم ہے۔ تزکیہ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لوگوں کے قلوب کو روحانی پاکیزگی عطا کرنا ہے ۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ الامن واعلیٰ میں تفسیر بیضاوی اور تفسیر معالم التنزیل کے حوالے سے سورہ جمعہ آیت ۳ کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عطا فرمانا‘ گناہوں سے پاک کرنا‘ ستھرا بنانا صرف صحابہ کرام علیہم الرضوان سے خاص نہیں بلکہ قیامت قائم ہونے تک تمام امت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکی عطا فرماتے ہیں‘‘ ولی کامل مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں :


چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

میرا دل بھی چمکادے چمکانے والے

تو زندہ ہے وﷲ تو زندہ ہے وﷲ

میرے چشم عالم سے چھپ جانے والے


آخر الذکر کے متعلق قاضی ثناء ﷲ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں ’’یعلم کا فعل دوبارہ ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تعلیم‘ کتاب و حکمت کی تعلیم سے جدا نوعیت کی ہے‘ شاید اس سے مراد علم لدنی ہے جو قرآن کے باطن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارکہ سے حاصل ہوتا ہے اور اس کا حصول صرف انعکاس کے ذریعہ ممکن ہے‘‘ یعنی یہ علم کتابوں سے نہیں ملتا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ پرانوار سے علم لدنی کے تجلیات و انوار‘ اولیائے کرام کے قلوب پر منعکس ہوتے ہیں اور پھر سینہ بہ سینہ یہ اسرار و معارف اہل ﷲ حاصل کرکے تشنگان معرفت کے دلوں پر نقش کرتے ہیں۔ اسی باطنی علم کو علم لدنی یا علم طریقت و تصوف کہا جاتا ہے ۔

سورہ کہف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور اسے (یعنی خضر علیہ السلام کو) اپنا علم لدنی عطا کیا‘‘ (آیت ۶۵)

مفسرین فرماتے ہیں کہ علم لدنی سے مراد وہ باطنی علم ہے جو بغیر الفاظ و عبارت کے محض ﷲ تعالیٰ کی تعلیم سے (بطریق الہام جس کو وحی خفی) بھی کہا جاتا ہے) حاصل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے پاس حکم الٰہی سے تشریف لے گئے تو انہوں نے فرمایا ’’اے موسیٰ! میں ﷲ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم میں سے ایک علم پر ہوں جو اس نے مجھے سکھایا ہے۔ اس علم کو آپ نہیں جانتے اور آپ ﷲ تعالیٰ کے عطا کردہ ایسے علم پر ہیں جو اس نے آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا‘‘

اور سورہ کہف میں یوں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ’’آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا عنقریب ﷲ چاہے تو تم مجھے صابر پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا (حضرت خضر علیہ السلام نے) کہا اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں ۔

صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر خزائن العرفان میں فرماتے ہیں ’’مفسرین و محدثین کہتے ہیں کہ جو علم حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے لئے خاص فرمایا وہ علم باطن و مکاشفہ ہے اور یہ اہل کمال کے لئے باعث فضل ہے۔‘‘ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام ایک کشتی میں سوار ہوئے تو آپ نے اس کا تختہ توڑ کر شگاف کردیا لیکن اس کے باوجود کشتی میں پانی نہ آیا۔ پھر آپ نے ایک بستی میں ایک لڑکے کو قتل کردیا پھر آپ ایک گائوں پہنچے وہاں کے لوگوں نے آپ کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے باوجود آپ نے وہاں ایک دیوار کی مرمت کی جوکہ گرنے کے قریب تھی۔ ان تینوں کاموں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعتراضات کئے ۔ آخرکار حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ اب ہمیں جدا ہونا پڑے گا ۔ البتہ میں آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں جنہیں بظاہر شرع دیکھ کر آپ نے اعتراضات کئے۔ میں نے وہ کشتی میں اس لیے عیب دار کردی کہ دریا کے پار ایک ظالم بادشاہ صحیح سلامت کشتیاں چھین لیتا تھا اس طرح ان غریبوں کی کشتی ظالم بادشاہ سے محفوظ رہ گئی ۔ وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا‘ کافر تھا اور اس کے والدین مسلمان ۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر یہ زندہ رہا تو اس کے والدین اس کی محبت میں کافر نہ ہوجائیں۔ اس کے عوض ﷲ تعالیٰ انہیں نیک اولاد عطا کرے گا ۔ پھر آپ نے فرمایا ’’رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں‘ آپ کے رب کی رحمت سے‘ اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا۔ یہ بھید ہے ان باتوں کا جن پرآپ سے صبر نہ ہوسکا‘‘ ۔ (کہف ۸۲)

اس واقعہ سے مفسرین نے جو نکات اخذ کئے‘ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ :

۱۔ ہر خوبی اور کمال کو محض ﷲ تعالیٰ کی عطا سمجھنا چاہئے۔

۲۔ ہر عیب کی نسبت اپنی طرف کرنی چاہئے رب تعالیٰ کی طرف نہیں۔

۳۔ حصول علم کے لئے سفر کرنا انبیاء کرام علیہم السّلام کی سنت ہے۔

۴۔ کتنا ہی علم حاصل ہوجائے مزید علم کی جستجو کرنی چاہئے۔

۵۔ اپنے سے کم مرتبہ والے سے بھی علم سیکھنے میں مضائقہ نہیں۔

۶۔ علم سیکھنے کے لئے استاد کے پاس جانا چاہئے۔

۷۔ کامل شیخ یا استاد کا ادب اور خدمت ضرور کرنی چاہئے۔

۸۔ مرشد یا استاد کے افعال پر اعتراض کرنا بے ادبی ہے۔ منتظر رہے کہ وہ خود ہی اس کی حکمت ظاہر فرمائیں۔

۹۔ مرشد کامل یا استاد پر اعتراض کرنے سے اکتساب فیض کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔

۱۰۔ باطنی علم کامل شیخ کی محبت اور اس کی نگاہ کیمیا گر سے حاصل ہوتا ہے۔

۱۱۔ بعض اولیاء کرام کو لوگوں کے باطن اور ان کے انجام کی بھی خبر ہوتی ہے۔

۱۲۔ اہل ﷲ کی توجہ سے سوراخ والی کشتی بھی ڈوبنے سے بچ جاتی ہے۔

۱۳۔ ﷲ تعالیٰ بندے کی نیکی سے اس کی اولاد‘ خاندان اور اہل محلہ کو حفاظت میں رکھتا ہے۔

۱۴۔ تقدیر پر راضی رہنے میں ہی انسان کی بھلائی ہے۔

۱۵۔ سورہ کہف کی آیت نمبر ۸۲ سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کا نیک ہونا اس کی میراث کی حفاظت کا وسیلہ بن گیا۔ اگر باغ فدک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث ہوتا تو یقینا ﷲ تعالیٰ اسے حقداروں تک پہنچانے کے لئے انتظام فرماتا ۔ ثابت ہوا کہ باغ فدک میراث نہیں بلکہ وقف تھا ۔


دین و شریعت کے دو بنیادی جزو ہیں


(1) ظاہری احکام جو آگے چل کر فقہ کے نام سے مدون ہوئے ۔


(2) روحانی و باطنی احکام جو دوسری صدی ہجری میں زہد و رقائق اور تصوف و طریقت کے نام سے معنون ہوئے ۔


تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفوس اور حدیث کی اصطلاح میںاحسان کہتے ہیں۔ تصوف کے اجزائے ترکیبی عہدِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دورِ صحابہ میں عملاً موجود تھے کیونکہ یہ سب قرآن و سنت کی ابدی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ تصوف اِسلام کی روحانی اور باطنی کیفیات اور روحانی اقدار و اطوار کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ دینِ اِسلام کی علمی، فکری، عملی، معاشرتی اور تہذیبی و عمرانی و غیرہم تمام جہتوں میں اخلاص و احسان کا رنگ دیکھناچاہتا ہے۔ یہ اِنسان کے جسم و رُوح اور اِس کے وجود کی تمام پرتوں پر جاری و ساری ہے ۔ تصوف کی تمام تر اصطلاحات قرآن و حدیث سے ماخوذ و مستنبط ہیں ۔


ائمہ تصوف نے اپنے تمام معتقدات، تصورات اور معمولات کی بنیاد قرآن و سنت کو ٹھہرایا ہے، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایں راہ کسے باید کہ کتاب بر دست راست گرفتہ باشد و سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردستِ چپ، و در روشنائی ایں دو شمع مے رود، تانہ در مغاک شبہت اُفتد نہ در ظلمت بدعت . ترجمہ : یہ راہ یعنی تصوف صرف وہی پا سکتا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں قرآنِ حکیم اور بائیں ہاتھ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو اور وہ اِن دو چراغوں کی روشنی میں راستہ طے کرے تاکہ نہ شک و شبہ کے گڑھوں میں گرے اور نہ ہی بدعت کے اندھیروں میں پھنسے ۔ (تذکرة الأولياء صفحہ نمبر 9،چشتی)


سلسلہ عالیہ چشتیہ کے نامور شیخ حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی فرماتے ہیں : مشربِ پیر ۔ حجت نمی شود ۔ دلیل از کتاب و حدیث مے باید ۔

ترجمہ : شیخ طریقت کا مسلک حجت نہیں ہے دلیل قرآن و حدیث سے ہونی چاہئے ۔ (اخبار الاخيار صفحہ نمبر 81)


تمام اکابر مشائخ و اولیاء کے نزدیک شیخِ طریقت ایسا ہونا چاہئے جو شریعت، طریقت اور حقیقت کے احکام و آداب و شرائط کا عالم ہو کیونکہ اگر وہ عالم ہوگا تو خود کسی ناجائز چیز کے بارے میں نہیں کہے گا ۔


روحانیت قال سے نہیں حال سے عبارت ہے ۔ یہ علمی نظریہ کا نام نہیں بلکہ عملی تجربے کی چیز ہے اور یہ تجربہ بھی مادی نہیں سراسر باطنی ہے۔ روحانیت عقل و خرد اور دید شُنید سے حاصل ہونے والی چیز نہیں۔ یہ احساس، وجدان اور قلب و باطن کی راہ سے نصیب ہوتی ہے۔ یہ خارج سے نہیں، باطن سے پھوٹتی ہے۔ یہ تقریر و ابلاغ کے حسی و مادی تاروں سے نہیں ، گرمی انفاس کی پاکیزہ موجوں سے پھیلتی ہے ۔ یہ الفاظ کے قالب میں نہیں سماتی بلکہ احساس کی گہرائیوں میں اُترتی ہے ۔ روحانیت کہنے سننے کی چیز نہیں، سیکھنے اور برتنے کی چیز ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جو اِنسان بطریقِ سلوک و تصوف پا لیتا ہے اور شکوک و شبہات سے محفوظ و مامون ہو جاتا ہے۔ یہ تزکیہ نفس ، تصفیہ باطن اور پاکیزگی نفس کا الوہی طریقہ اور وصول الی اللہ کا باطنی و پوشیدہ راستہ ہے ۔(چشتی)


شریعت و طریقت کا باہمی ربط و تعلق : یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ دینِ اسلام میں اصل شریعت ہے اور اِس کی فرع طریقت ہے۔ شریعت سرچشمہ و منبع ہے اور طریقت اِس سے نکلا ہوا دریا ہے۔ طریقت کو شریعت سے جدا تصور کرنا غلط ہے۔ شریعت پر طریقت کا دار و مدار ہے۔ شریعت ہی معیار ہے۔ طریقت میں جو فیض ہے اور جو کچھ منکشف و مکشوف ہوتا ہے وہ شریعت ہی کے اِتباع کا صدقہ ہے۔ پس جو شخص طریقت، معرفت، حقیقت، سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شریعت مطہرہ کو جھٹلائے، مخالفت کرے اور رد کرے وہ بے دین ہے۔ اس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس طریقت میں شریعت کا پاس و لحاظ نہ ہو وہ بے دینی ہے اور جس شریعت کے ساتھ طریقت و معرفت نہ ہو وہ بھی ناقص اور ادھوری ہے۔ ظاہری اعمال کے ساتھ باطنی پاکیزگی کا حسین امتزاج ہی ہمارا نکتۂِ امتیاز ہے ۔


اہل اللہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کرنا مسنون و مستحب ہے لیکن اِسی پر اکتفا کر لینا اور اوامر و نواہی کی پابندی نہ کرنا قطعاً درست نہیں۔ اصلاحِ باطن کے لئے بیعت کرنا مسنون ہے لیکن فرائض و واجبات اور سنن پر عمل دین کی بنیادی ضرورت ہے۔ بیعت کے لئے ضروری نہیں کہ رسماً کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جائے بلکہ بیعت کا اصل مقصد دین پر استقلال کے ساتھ کاربند رہنے کا عہد ہے۔ شیخِ کامل کی معاونت اور رہنمائی سے نفس و شیطان کے خطرناک حملوں کا مؤثر دفاع اور عبادت و ریاضت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قربت و محبت کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ یہ مقاصد اگر کسی اجتماعی نظم میں آکر حاصل ہو جائیں تو باطن کی اصلاح کا یہ طریقہ بھی اختیار کرنا درست ہے۔ اس سے مقصود اصلاحِ نفس اور تزکیہ باطن ہے جس کا حصول اُستاد سے حاصل ہو ، باپ سے ، شیخ سے یا کسی اجتماعی نظم سے جملہ ذرائع درست ہیں، لیکن بیعت کو رسم و رواج یا عادت بنا لینا مقصودِ طریقت نہیں۔ کسی بھی سلسلۂ طریقت کو اختیار کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ مندرجہ بالا مقاصد حاصل ہوں ورنہ تصوف و طریقت کے نام پر آج کل بے شمار کاروباری قسم کے لوگ اپنی اپنی دکانیں کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔ بے عملی، بے ادبی اور حرصِ جاہ و مال سے بچ کر ہی اصلاحِ نفس ممکن ہے ۔(چشتی)


خانقاہی نظام اور عہدِ جدید


دینِ اِسلام کی ترویج و اشاعت کا کارنامہ بیشتر ممالک میں صوفیائے کرام ہی کی تبلیغی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہی کی مساعی جمیلہ سے ہر سُو اِسلام پھیلتا چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اولیاء اللہ اور اربابِ طریقت کی والہانہ عقیدت و محبت اور اکرام و احترام کا جذبہ بغائت درجہ موج زن ہے۔ خانقاہی نظام ایک ایسا ادارہ ہے جہاں اِنسان کو مخلص، متقی، خدا ترس اور مخلوقِ خدا کا حقیقی اور سچا خیر خواہ بنانے کی تربیت دی جاتی تھی اِس نے برصغیر پاک و ہند کی تہذیبی، سماجی، معاشرتی، سیاسی ، معاشی اور اخلاقی اقدار پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔ یہ خانقاہی نظام ایک عرصہ تک اپنی انہی معیاری بنیادوں پر اُستوار رہا جن پر اِسے قائم کیا گیا تھا لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تعلیم و تربیت کا یہ معیاری نظام رُو بہ تنزل ہوتا چلا گیا ۔


یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ کوئی ادارہ اور نظام کتنا ہی مثالی کیوں نہ ہو بتمام و کمال عروج پر قائم نہیں رہ سکتا ۔ زمانہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اُسے کچل کر رکھ دیتا ہے۔ یہی حال خانقاہی نظام کے ساتھ بھی ہوا۔ شریعت اور طریقت کے مابین تفریق، شطحیات و انحرافات، ترکِ دنیا، مجاز پرستی کے ذریعے کئی خرافات اور سنت کے خلاف کئی اُمور ’’روحانیت‘‘ کے نام پر اِس میں در آئے جس کے باعث اس میں پہلے جیسا اخلاص ، تقویٰ ، اطاعت ، خوفِ خدا اور بندگی الٰہی کی روایت برقرار نہ رہی ۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ خود خانقاہوں کے اکابر شیوخِ طریقت نے اِن تمام اُمور کا سختی کے ساتھ نوٹس لیا اور اِس کی اصلاح و تجدید کی کوششیں شروع کر دیں ۔


یہ مساعی جمیلہ جارحانہ کی بجائے خیر خواہانہ تھیں۔ تنقیح و تصریح اور تجدید و احیاء کی مؤثر آواز بلند ہوتی رہنی چاہیے تاکہ اِس نظام کو مثبت انداز کی تعمیری تنقید کے ذریعے خرافات سے پاک کیا جاتا رہے۔ لیکن چند ایک خرابیوں اور خلافِ سنت اُمور کو آڑ بنا کر پورے نظام کو فاسد اور باطل بنا دینا کہاں کی دانشمندی اور دین پروری ہے۔ یہ مسلمہ امر ہے کہ اِن خلافِ شرع اُمور کو کبھی بھی مسلمہ اربابِ طریقت کی تائید اور تحسین حاصل نہیں ہوئی۔ ہم بھی نظامِ خانقاہی کے احیاء کے بھرپور حامی ہونے کے ساتھ اس کی اصلاح کے داعی اور منکرات کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ (مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ دوم

 بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ دوم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ : بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے ۔ (الفتح، آیت نمبر 18)


اس آیہ کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی معاملہ پر بیعت کرنا سنتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے ۔ اور عرب میں یہ رواج ہے کہ جب وعدہ لیا جاتا جاتا ہے تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے مضبوط کیا جاتا ہے ۔ انگریزوں میں رائج ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر تالی بجاتے ہیں ۔


پس جب آج بھی غلامانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے مکمل بیزاری کا اظہار اور تہیہ کسی ولی کامل "یعنی اللہ عزوجل کا قرب رکھنے والے نیک و صالح" بندے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر "بطریق عرب" وعدہ کرتے ہیں ۔


بطریق عرب اس لیے کہ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے روز و شب علاوہ عرش و زماں مکہ و مدینہ میں بسر فرمائے اس لئے بطریق عرب کہا۔ حقیقت میں بطریقِ حق تعالی عزوجل ہے ۔ یعنی یہ طریقہ اللہ عزوجل نے سکھایا جس کا بیان قرآنِ کریم میں یوں آتا ہے : ترجمہ : وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں، وہ تو اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ۔ (سورۃ الفتح، آیت 10)


اب واپس آتے ہیں آیت نمبر 18 پر کہ ترجمہ : بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے ۔ (سورۃ الفتح، آیت نمبر 18)


پس ثابت ہوا کہ گناہوں سے برائی سے کنارہ کش ہونے کے لئے بیعت ہونا ضروری ہے ۔ اور فرمایا ایمان والے ہی بیعت کرتے ہیں اور بے ایمان کیا کرتے ہیں ؟

اس کا جواب اسی سورہ مبارک "الفتح" میں بیان ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عمرہ کرنے کا قصد فرمایا تو کچھ لوگ "جنہیں پیچھے رہ جانے والوں کا لقب ملا" حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ قریش کے خوف سے روانہ نہ ہوئے ۔ تو اس پر اللہ عزوجل نے وحی نازل فرمائی : ترجمہ : اب تم سے کہیں گے جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے جانے سےمشغول رکھا اب حضور ہماری مغفرت چاہیں ۔ (سورۃ الفتح آیت نمبر 11)


یعنی جو ایمان والے نہیں اور جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت بجا نہیں لاتے اور جو بیعت نہیں کرتے وہ صرف حیلہ بہانہ بناتے ہیں جیسا کے اور کی آیت میں بیان ہوا پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ : اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں" یعنی جھوٹ بولتے ہیں ۔

آیت نمبر 12: بلکہ تم "پیچھے رہ جانے والے" تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے ۔

اس آیت میں اللہ عزوجل حیلہ بہانے بنانے والوں کے جھوٹ کو افشاء فرماتا ہے اور ان کے دلوں کی بات کو سب پر واضح فرما دیاتا ہے ۔

تو واضح ہو گیا کہ مومنین، طریق و اتباعِ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر عمل پیرا ہیں اور کفار کے پیروکار ہمیشہ کہ طرح حیلے بہانے بنانے میں مصروف ہیں ۔


آئیے اب پڑھیں بیعتِ رضوان کے بارے میں جس کی وضاحت سورہ الفتح کی آیت 18 کی تفسیر میں درج ہے : ترجمہ : بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے ۔


مختصر تفسیر : حدیبیہ میں چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اس لئے اس بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں ، اس بیعت کے سبب باسبابِ ظاہر یہ پیش آیا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اشرافِ قریش کے پاس مکّہ مکرّمہ بھیجا کہ انہیں خبر دیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیت اللہ کی زیارت کے لئے بقصدِعمرہ تشریف لائے ہیں ، آپ کا ارادہ جنگ کا نہیں ہے اور یہ بھی فرمادیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلادیں کہ مکّہ مکرّمہ عنقریب فتح ہوگا اور اللہ تعالٰی اپنے دِین کو غالب فرمائے گا ، قریش اس بات پر متفق رہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ معظّمہ کا طواف کرنا چاہیں تو کریں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں بغیر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طواف کروں یہاں مسلمانوں نے کہا کہ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ بڑے خوش نصیب ہیں جو کعبہ معظّمہ پہنچے اور طواف سے مشرف ہوئے ، حضور نے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے ، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مکّہ مکرّ مہ کے ضعیف مسلمانوں کو حسبِ حکم فتح کی بشارت بھی پہنچائی ، پھر قریش نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو روک لیا ، یہاں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید کردیئے گئے ، اس پر مسلمانوں کو بہت جوش آیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ سے کفّار کے مقابل جہاد میں ثابت رہنے پر بیعت لی ، یہ بیعت ایک بڑے خار دار درخت کے نیچے ہوئی ، جس کو عرب میں سَمُرَہ کہتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا بایاں دستِ مبارک داہنے دستِ اقدس میں لیا اور فرمایا کہ یہ عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیعت ہے اور فرمایا یا رب عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ تیرے اور تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کام میں ہیں ۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نورِ نبوّت سے معلوم تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید نہیں ہوئے جبھی تو ان کی بیعت لی ، مشرکین اس بیعت کا حال سن کر خائف ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھیج دیا ۔


حدیث شریف میں ہے


حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يدخل النار احد ممن بايع تحت الشجرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح ۔

ترجمہ : حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اُن میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا ۔ (ترمذی کتاب المناقب باب فی فضل من بایع تحت الشجرۃ، ۵ / ۴۶۲، الحدیث: ۳۸۸۶)(سنن ابی داود السنة 9 4853)،(تحفة الأشراف: 2918، چشتی)(مسند احمد بن حنبل 3/350)


بیعت کیوں ضروری ہے ؟


بیعت کی لغوی معنیٰ حوالے کرنا ، سپرد کرنا ، فروخت کرنا ہیں . تصوف میں مرید کا اپنے شیخ کامل کے ہاتھ پر اپنے نفس کو سپرد کرنے اور فروخت کرنے کا نام بیعت ہے ۔ یعنی اپنے تمام تر ارادوں و اختیارات اور خواہشات نفسانی کو ختم کرکے خود کو شیخ کامل کے حوالے کردے اور راہ سلوک میں اس کی رضا و منشا کے خلاف کوئی بھی قدم نہ اٹھائے ۔


بیعت کی ضرورت


خوش نصیب تھے وہ لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا , آپ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کیا, آپ سے علم و عمل سیکھا اور آپ کی صحبت میں زندگیاں گزاریں . آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت و صحبت ہی کافی تھی صحابہ کے دلوں کو روشن کرنے کے لیے. بیشتر صحابہ سے کرامات اور صاحب کشف ہونا ثابت ہے . پھر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ظاہری دنیا سے پردہ فرما گئے اور وہ نور باطن جو آپ کے سینہ انور سے صحابہ کو براہ راست منتقل ہوتا تھا, اس کی فیض رسانی کا ظاہری سلسلہ منقطع ہو گیا . تابعین نے صحابہ سے نور باطن حاصل کیا اور بعد میں آنے والوں نے تابعین سے . لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہ نور باطن ماند پڑتا گیا اور سینے خالی ہوتے چلے گئے . اس نور کے خلاء کو پر کرنے کے لئے بزرگ حضرات نے کلام پاک سے کچھ وظائف ترتیب دیے , تزکیہ نفس کے کچھ مجاہدے تشکیل دیے اور اپنے شاگردوں کو ان کے ذریعے تربیت دینی شروع کی . ساتھ اپنے منور سینوں سے شاگردوں کے سینوں کو روشن کرنا شروع کیا . تزکیہ نفس , مجاہدہ اور کلام پاک کے وظائف سے جب شاگرد پاک قلب اور نفس کے ذریعے استاد کے سینے سے نور باطن حاصل کرتے رہتے تو ایک وقت یہ آتا جب ان کا کنیکشن نورِ نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قائم ہو جاتا . اور نور اللہ سے . جس کی نسبت سے شاگرد بھی صاحب کرامت و کشف ہو جاتے جسے اسلام نے مومن کہا ہے .


نماز مومن کی معراج ہے (مطلب مومن نماز میں اللہ سے ملاقات کرتا ہے) ، مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے . مطلب اللہ سے ملاقات اور اللہ کے نور سے دیکھنے کے لیے بیعت کی جاتی ہے . تصوف میں بیعت کرنے والے اور جس کی بیعت کی جارھی ھے دونوں کی طرف سے ایک معاھدہ ھے ، جس کے معنی یہ ھيں کہ بیعت کرنے والا بیعت لینے والے کی اطاعت اور پیروی کرے گا . تصوف میں استاد کو مرشد اور شاگرد کو مرید کہتے ہیں . مطلب یہ استاد شاگرد کا رشتہ ہے کوئ نئی چیز نہیں ہے . اور تصوف کی تعلیم مسلمان سے مومن بننے کی تعلیم ہے, کوئ الگ چیز نہیں بلکہ عین دین ہے . جس طرح اسلام میں علم حدیث ایک علم ہے جس کا مقصد حدیث کی تعلیم دینا ہے, علم فقہ ایک علم ہے جس کا مقصد فقہ کی تعلیم دینا ہے بلکل اسی طرح علم تصوف ( احادیث میں تصوف کے لیے "علم احسان" کا لفظ آیا ہے) بھی اسلام کا یہ ایک شعبہ ہے جس کا مقصد مسلمان کو مومن بننے کی تعلیم و تربیت دینا ہے .


بیعت کا فائدہ


صاحب عوارف المعارف رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ بیعت فلاح باطنی کے لیے ہے جس سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ اپنے اندر کو خراب و پلید چیزوں سے پاک کرکے اسے روشن کیا جائے اور اپنے دل سے شرک خفی کو نکالا جائے ۔ تو جب بھی کوئی مرید نیت صحیحہ و اخلاص کے ساتھ اپنے شیخ کامل کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور اس کی صحبت میں رہ کر تمام آداب کو بجا لاتا ہے تو شیخ کامل کی باطنی نظر سے روحانی فیوض و برکات اس مرید کے قلب و باطن میں سرایت کرجاتے ہیں اور مرید کا باطن روشن و منور ہوجاتا ہے۔ اس روحانی و باطنی انوار و تجلیات کا حصول شیخ کامل کی محبت و صحبت پر ہی منحصر ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب مرید شیخ کامل کی خدمت و صحبت میں حاضری کے وقت اپنے قلب و روح کو تمام تر توجہ کے ساتھ پیر کی طرف مرکوز رکھے تاکہ شیخ کامل کی پاکیزہ فطرت و وظائف باطنی کے تناسب سے مرید کے اندر بھی روحانی ربط و ضبط بڑھتا رہے اور وہ عروج حاصل کرتا ہوا خدا کا قرب حاصل کرلے ۔ مگر سالک ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ ان تمام منازل روحانی کا دار و مدار شیخ کامل کی بیعت و صحبت میں ہی منحصر ہے ۔


بیعت ہونے کی دیگر وجوہات


بیعت کا اصل مقصد اور فائدہ تو اوپر بیان ہو چکا ہے . لیکن ہمارے ہاں اکثر لوگ ان مقاصد کے لیے بھی بیعت ہوتے ہیں :


(1) دنیاوی زندگی میں برکت اور مسائل کے حل کے لیے . بےشک کامل ولی کے ہاتھ پر بیعت ہونے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے دولت, رزق, صحت علم غرض ہر چیز میں برکت ہوتی ہے .


(2) اللہ کی رحمت میں آنے کے لیے ۔ اللہ کے قرب والوں کی صحبت اور بیعت سے اللہ کی رحمت ملتی ہے .


(3) شیطان سے پناہ کے لیے . شریعت کی پابندی اور تزکیہ نفس کے ساتھ صاحب کشف و کرامات ولی اللہ کے حکم سے شیطان کو آپ کی راہ میں آنے سے روک سکتا ہے .


(4) آخرت میں بخشش کے لیے . اولیاء اللہ کی صحبت سے دنیا میں بھی نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے جو جنت میں لے کر جارے ہیں. اور اولیاء اللہ روزِ محشر بھی اللہ کے حضور شفاعت فرمائیں گے . (بخاری, کتاب الادب, جلد 5, صفحہ 2236, رقم 5654)(مسلم, کتاب التوبہ جلد 4, صفحہ 2108, رقم 2752)


ان سب فوائد کےلیے مرشد کا پابند شریعت اور کامل ہونا اور مرید کا شریعت اور مرشد کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ (مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعاگو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ اوّل

 بیعتِ مرشد و شرائطِ مرشد اور جہلاء و کاروباری پیر حصّہ اوّل

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : کسی جامع شرائط مرشد کی بیعت بھی ایک مستحب اور بابرکت کام ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے مرشد کامل کی چار شرائط ارشاد فرمائی ہیں ان کے بغیر اس کا بیعت لینا جائز نہیں ۔ صحیح العقیدہ مسلمان ہو یعنی اہل سنت و جماعت سے وابستہ ہو ، بد عقیدہ اور بد مذہب نہ ہو ۔ عقائد کے دلائل اور تمام احکام شرعیہ کا عالم ہو حتی کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل بیان کر سکتا ہو (یعنی مفتی ہو) ۔ علم کے مطابق عمل کرتا ہو ۔ فرائض ، واجبات ، سنن اور مستحبات پر دائمی عمل پیرا ہو اور تمام محرمات و مکروہات سے بچتا ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک اس کی نسبت متصل ہو، یعنی اس کے مشائخ کا سلسلہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ ہمارے زمانے میں بعض بے علم لوگ وعظ و تبلیغ کرتے ہیں اور جب کچھ حلقہ بن جاتا ہے تو لوگوں سے بیعت لینا بھی شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی بے علمی کا عیب چھپانے کے لئے علماء کی تنقیص کرتے ہیں ، ان کو منافق اور بے عمل کہتے ہیں ۔ ساتھ ہی خود کو اہل اللہ کا محب کہتے ہوئے اولیاء اللہ کی صف میں شمار کروانے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ سادہ لوح عوام علماء کو چھوڑ کر ایسے بے علم واعظین اور بے عمل ’’مرشدین‘‘ کے حلقہ ارادت میں کثرت کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں ۔ ہم اس جہالت اور تعصب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔ (فتاویٰ افریقہ صفحہ نمبر 147۔ 146 مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی،چشتی)


پوری ایک مُشت داڑھی رکھنا واجب ہے اور منڈانا یا ایک مٹھی سے کم کروانا دونوں حرام و گناہ ہیں اور ایسا کرنے والا فاسقِ مُعلِن ہے اور فاسقِ مُعلِن  کوامام بنانا یا اس کے پیچھے نماز پڑھنامکروہ تحریمی یعنی پڑھنا گناہ ہے اوراگرپڑھ لی ہوتواس کااعادہ واجب ہے ۔ غُنیۃمیں ہے : لَوْقَدَّمُوْافَاسِقاً یَأثِمُوْنَ بِنَاءً عَلٰی أَنَّ کَرَاھَۃَ تَقْدِیْمِہٖ کَرَاھَۃٌ تحریمٌ ۔ یعنی اگرکسی فاسق کو مقدم کیا تو وہ گناہ گار ہوں گےاس بناء پر کہ فاسق کو مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ (غنیۃالمستملی صفحہ نمبر 513)


فتاویٰ رضویہ میں ہے : داڑھی منڈانا اور کُتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام و فسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسقِ مُعلِن کی امامت   ممنوع و گناہ ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 6،ص505)


مذکورہ شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے اگر موجودہ پاکستانی معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر طرف ایسے کاروباری پیروں کی فوج ظفر موج نظر آئے گی جن میں مذکورہ شرائط کا دور دور تک پتہ نہیں ہو گا ۔ کسی کا عقیدہ خراب ہے تو کسی کا سلسلہ غیر متصل ۔۔۔ کوئی پابند سنت نہیں ہے تو کوئی اعلانیہ فاسق و فاجر ۔۔۔ علم کی شرط ملاحظہ کریں تو اس پر پورے ملک میں معدودے چند پیر صاحبان ہی بمشکل پورے اترتے نظر آئیں گے ۔ جعلی پیروں کا بہت بڑا لشکر نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث اور فقہ و کلام سے بے خبر ہے بلکہ وہ علم اور علماء کا سخت دشمن بھی ہے ۔ کیونکہ جس طرح سرمایہ دار، جاگیردار اور سیاستدان کی خیر اسی میں ہے کہ قوم جاہل مطلق رہے اسی طرح جھوٹے پیروں کی شان و شوکت کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ قوم علم و عمل سے بے گانہ رہے ۔ کیونکہ ان پڑھ لوگ ان کو جس طرح چومتے چاٹتے ہیں اس طرح پڑھے لکھے لوگ نہیں کرتے۔ کسی بھی پیر کے ملاقاتیوں کو ملاحظہ کر لیجئے آپ کو ان پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں کے اندر ملاقات میں نمایاں فرق نظر آئے گا ۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صورت مستفسرہ میں زید کے ہاتھ پر بیعت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ جان بوجھ کر نماز چھوڑنا،داڑھی نہ رکھنا اور غیر محارم سے پاؤں دبوانا یہ سب گناہ کبیرہ ہیں اور ان  کو علانیہ کرنے والا فاسق معلن ہے اور فاسق کے ہاتھ پر بیعت کرنا جائز نہیں ہے اگر کر لی ہو تو فسخ کرنا لازم ۔

مزید فرماتے ہیں :  فاسق کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں ۔ اگر کرلی ہو فسخ کر کے کسی پیر متقی ، سنی ، صحیح العقیدہ ، عالم دین ، متصل السلسلہ کے ہاتھ پر بیعت کرے ۔

 مزید فرماتے ہیں : ایسے شخص سے بیعت کا حکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو اول سنی صحیح العقیدہ ہو ۔ دوم علم دین رکھتاہو۔ سوم فاسق نہ ہو ۔ چہارم اس کا سلسلہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك متصل ہو ، اگر ان میں سے ایك بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد نمبر ٢١ صفحہ نمبر ٦٠٣،چشتی)


داڑھی چھوٹی کر ڈالنا کسی کے نزدیک حلال نہیں


اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فتاوٰی رضویہ  جلد 22 صَفْحَہ652 پر ’’دُرِّمختار‘‘، ’’فتح القدیر‘‘، ’’البحرالرّائق‘‘ وغیرہ معتبر کتبِ فِقہ کے حوالے سے نَقل فرماتے ہیں کہ : جب تک داڑھی ایک مُٹّھی سے کم ہے اس میں سے کچھ لینا جس طرح کہ بعض مغرِبی مُخَنَّث کرتے ہیں یہ کسی کے  نزدیک حلال نہیں ۔ اورسب لے لینا (یعنی بالکل ہی مُنڈوا دینا) آتَش پرستوں ، یہودیوں ، ہندوؤں اور بعض فرنگیوں (یعنی انگریزوں) کا فعل ہے ۔ (غنیۃ ذوی الاحکام الجز الاول ص۲۰۸ باب المدینہ کراچی، البحر الرائق ج۲ ص۴۹۰ م کوئٹہ، فتح القدیر ج۲ ص۲۷۰  کوئٹہ)


داڑھیاں کتروانے والے بد نصیب        


داڑھی کو چھوٹی کروا دینے والے بلکہ صاف کروا دینے والے لوگ  فُقَہائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ علیہم کے مذکورہ ارشاد سے عبرت حاصل کریں ۔ بلکہ عبرت بالائے عبرت تو یہ ہے ، جیسا کہ امام اَحمد رضا خان رحمة اللہ علیہ نے رسالہ، ’’ لَمعَۃُ الضُّحیٰ‘ ‘میں حضرت کعب اَحبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْ ہوغیرہ کا قول نقل کیا ہے  : آخِر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے کہ داڑِھیاں کتریں گے ، وہ نِرے بے نصیب ہیں ۔ یعنی ان کے لئے دین میں حصّہ نہیں ، آخِرت میں بَہرہ (یعنی حصہ) نہیں  ۔ (فتاویٰ رضویہ ج۲۲ ص۶۵۱)


دیکھا آپ نے ؟ گویا داڑھی کو کتروا کر ایک مُٹّھی سے کم کر دینے والے دین و دنیا اور آخِرت میں بدنصیب ہیں ۔ 


انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس طرح کے تمام جعلی ، بناوٹی اور کاروباری پیر اپنے آپ کو مسلک حق اہل سنت و جماعت سے منسوب کرکے اس کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں ۔ نیز وہ علماء سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی نام نہاد بزرگی پر مہر تصدیق ثبت کریں ۔ یہ ننگِ ملت ، ننگ دیں ، ننگ وطن لوگ ایسے زہریلے ہیں کہ انہوں نے اپنی شہوت کاریوں سے مسلک حق کو اَدھ موا کرکے رکھ دیا ہے ۔ ان میں سے کچھ لوگ نامور بزرگوں کی گدیوں سے منسوب ہیں ۔ عمل صالح اور شریعت کی پابندی تو کجا وہ کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں رسہ گیروں سے ان کی دوستیاں ہیں ۔ الیکشن میں مسلک کے نام کو استعمال کرتے ہوئے یہ لوگ ممبر اسمبلی بنتے ہیں اور پھر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر انہی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس تمام خرابی کی بنیاد درحقیقت ان کاروباری مولویوں نے فراہم کی ہے جو انہیں (معمولی خدمت کے عوض) لوگوں کے سامنے غوث زماں ، قطب عالم ، شہنشاہ ولایت وغیرہ بنا کر پیش کرتے ہیں ۔


ان حضرات کی سیرت و کردار کو قریب سے دیکھیں تو ان کے فرعونی لہجے ، شیطانی عادات و اطوار ، یزیدی رسوم و رواج ۔۔۔ غنڈوں اور بدمعاشوں کی سرپرستی ، چوروں اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی ۔۔۔ باطل اعمال اور عقیدے ، اعراس کے نام پر اسلام کش میلے ٹھیلے ۔۔۔ کتوں اور ریچھوں کے مقابلے ، قبروں اور مزاروں کی تجارت ۔۔۔ صالحین کی تعلیمات پر عمل کی بجائے تعمیرات سے ولایت کی پیمائش ۔۔۔ علماء کے خلاف سینوں میں بھڑکتی آگ ، جہالت و رعونت میں اپنی مثال آپ ۔۔۔ دین و شریعت کی بات پر منہ سے نکلتے انگارے ۔۔۔ نماز روزے کا وقت آنے پر مرض اسہال ، زکوۃ و جہاد کا نام سنتے ہی پیٹ میں درد قولنج ۔ ۔ ۔ غیر محرم عورتوں کو بے پردہ مرید کرنا اور ان سے ٹانگیں دبوانا ۔۔۔ یہ ہیں وہ کالے کرتوت جو ان ’’پیروں‘‘ کے نامہ اعمال میں درج ہیں ۔


اگر آپ ان کے کفریہ و شرکیہ اور مبالغہ آمیز اشعار پر مصنوعی طور پر بدمست ہو کر جھومنے اور ناچنے والے جاہل مریدوں کو دیکھیں تو گویا انہیں ذبح کیا جا رہا ہے ۔۔۔ ان کے تعویذوں اور وظیفوں کو دیکھیں تو شیاطین سے استغاثہ پر مبنی جادو ٹونے کے پلندے معلوم ہوں ۔۔۔ ان کی ’’مقدس مسندوں‘‘ کو دیکھیں تو ان پر کسی نیک سے نیک آدمی کا بیٹھ جانا یا صرف پاؤں لگ جانا بھی اعلیٰ درجے کی گستاخی شمار ہو ۔


پھر پیران عظام کی ان گدیوں میں بھی مال و جائیداد کی طرح وراثت چل نکلی ہے (کیونکہ یہ بھی اب ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے) باپ کی گدی پر اولاد ہی بیٹھے گی خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو ۔ کسی مرید کی کیا مجال کہ وہ پیر مغاں کی سجادگی کا حقدار ٹھہرے خواہ وہ کیسا ہی رازی و غزالی کیوں نہ ہو اور یہی نااہلی اور وراثت سب سے بڑا سبب ہیں خانقاہی نظام کی تباہی کا ۔


جہلاء پیر اور ان کے آستانے


فقیر کے استاذ بھاٸی استاذ العملاء شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے راستے کی ایک بہت بڑی رُکاوٹ (دو نمبر،جاہل) پیروں کے آستانے ہیں ، خانقاہیں ہیں ، جن کے گلوں میں سادہ دل لوگ اپنی جیبیں خالی کر آتے ہیں ، زیب سجادہ فلاں و فلاں بزرگ ہیں جن میں سے بعض تقدس مآب مشائخ کی تو شکلیں بھی غیر شرعی ہیں ، جن کے دن مریدوں سے نذرانے وصول کرنے اور راتیں عیاشیوں میں گزرتی ہیں ، جو تعویذ گنڈوں کے کاروبار سے غربا کو لوٹتے ہیں ، جو علم سے قلاش اور عمل سے مفلس ہیں ، جن کی زبان میں فرشتوں کی پاکیزگی اور قلب میں ابلیس کی روسیاہی ہے ، جن کی گفتار رشکِ جبرائیل اور کردار ننگِ اِنسانیت ہے ، کوئی گھوڑے شاہ ہے جس کے مزار پر گھوڑوں کے بُت چڑھائے جاتے ہیں ، کوئی کتوں والی سرکار ہے جہاں کتوں کو تقدس حاصل ہے ، کوئی بلی والی سرکار ہے ، کوئی کیا ہے اور کوئی کیا ہے ، وہ جن کے مرید فاقہ کش ہیں اور پیر لاکھوں کے کتے خرید کر ہزاروں کی شرط پر لڑاتے ہیں ، کسی کو کتے خریدنے کا شوق ہے، کوئی باز خریدنے کا رسیا ہے، کوئی سور کے شکار کے شوقین ہیں ، کوئی کاروں کی خریداری میں بازی لے جانا چاہتا ہے اور یہ تمام شوق مریدین کے جیب خالی کرنے سے پورے ہوتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ توحید کے تقاضے پورے کر رہے ہیں ؟ کیا اِن نمائشی اور نام نہاد پیروں کو دیکھ کر لوگ اصلی صلحا اور اولیاء اللہ سے بدگمانی کے خطرے میں مبتلا نہیں ہوں گے ۔ (معاشرے کے ناسور صفحہ نمبر 11 ، 12 مطبوعہ فرید بک سٹال اردو بازار  لاہور،چشتی)


پیری مریدی اور آج کل کے جعلی پیروں کی تربیت کے عجیب کرشمے


محترم قارئینِ کرام : بیعت کے معنی بیچنے کے ہیں ۔ درحقیقت مرید اپنی مرضی کومرشد صالح کے ہاتھ بیچ دیتاہے اسی وجہ سے اس عمل کو بیعت کہتے ہیں ۔


مقصد بیعت  : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں کہ دل ایک ایسے پر کی مثل ہے جسے ہوا الٹتی پلٹتی رہتی ہے ۔ (مشکوۃ کتاب الایمان بالقدر)


یعنی دل کو خواہشات کی ہوائیں یہاں سے وہاں پھیرتی رہتی ہیں تو ضروری ہے کہ کسی کا دست تو انا اس پر رکھ دیا جائے تا کہ وہ الٹنے پلٹنے سے محفوظ ہوجائے ۔


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حدیبیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے درخت کے نیچے بیعت کی تو اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوااور ارشاد فرمایا : لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ ۔ (سورۃ الفتح ،آیت۱۸)

ترجمہ :  بے شک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ تم سے بیعت کرتے ہیں درخت کے نیچے ۔


اور حدیث میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیعت کے وقت نہ تھے ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کے قائم مقام کیا اور دوسرے ہاتھ کو دست قدرت کا نائب بنایا اور فرمایاـ’’یہ اللہ کا دست قدرت ہے اوریہ عثمان کا ہاتھ ہے ،تو آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور بیعت کی ۔ (صحیح بخاری،چشتی)


پس قرآن و حدیث سے جہاں بیعت کا ثبوت ہواوہاں ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ بیعت کے لئے سامنے ہونا ضروری نہیں بلکہ غیر حاضری میں بھی بیعت کرنا جائز ہے ۔پیری مریدی کے اثبات میں یہ مستحکم اور قطعی اصل ہے اور وہ بنیاد ہے جسے مضبوط اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہا جاسکتا ہے ۔اس میں کسی منکر کو انکار کی گنجائش نہیں اور آج تک کسی مجتہد نے اس سے انکار نہیں کیا اور جو بیعت سے انکار کرے وہ کم عقل اور گمراہ ہے ۔


اگر پیر نہ ہو تو ؟


شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے ۔ ( عوارف المعارف)


امام ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب رسالہ قشیری میں بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو نقل کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ : بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس کا پیر کوئی نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے ۔ (رسالۂ قشیریہ)


میر سیّد عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سبع سنابل میں فرماتے ہیں کہ : اے جوان تو کب تک چاہے گا کہ بغیر پیر کے رہے اس لیے کہ مہلت دینے اور ٹالتے رہنے میں مصیبت ہی مصیبت ہے ۔ اگر تیرا کوئی پیر نہیں ہے توشیطان تیراپیر ہے جو دین کے راستوں میں دھوکہ اور چالوں سے ڈاکہ ڈالتا ہے ۔شیطان نے اگر چہ تیرے لیے جال لگا دیے ہیں لیکن تو اس کے دانہ اور پانی سے ذرہ برابر نہ لے اور بہت جلد کسی پیر کا ہاتھ پکڑلے ۔بغیر پیر کے مرجانامردار موت کے مانند ہے ۔اپنا وسیلہ آیہ وا بتغو ا کے ماتحت تلاش کر اور ماننے والوں سے پوچھ اور فسئلوا کو پڑھ ۔ ہمارا سرتاپا وجود گناہ ہے اور مرید ہوجانا ہر گناہ کےلیے پناہ گاہ ۔ مریدی دین و ایمان کی چار دیواری ہے اور ہر مسلمان کو اپنے دین کی فکر رہتی ہے ۔ (سبع سنابل)


جناب رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں : مرید کو یقین کے ساتھ یہ جاننا چاہیے کہ شیخ کی روح کسی خاص مقیدومحدود نہیں پس مرید جہاں بھی ہو گا خواہ قریب ہو یا بعید تو گو شیخ کے جسم سے دور ہے لیکن اس کی روحانیت سے دور نہیں ۔ (امداد السلوک صفحہ نمبر ۶۷ ، ادارۂ اسلامیات،چشتی)


ذرا غور کریں ایسے ایسے جید عالموں اور خود دیوبندیوں کا امام کہتا ہے کہ پیر کے بغیر ہمارا ایمان نہیں بچ سکتا اور اس کی روح سے مرید کو فیض پہنچتا رہتا ہے ۔ تو پتہ چلا مرشد کا دست مرید کے سر پر ہونا ضروری ہے ۔


اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا مرتبہ بہت اعلی و افضل ہے ۔ غوث اپنے دور میں تمام اولیاء کاسردار ہوتا ہے ۔ لیکن حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری تک تمام عالم کے غوث اور سب غوثوں کے غوث ہیں اور سب اولیاء اللہ کے سردار ہیں اوران سب کی گردن پر ان کا قدم ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد نمبر ۲۶، صفحہ نمبر ۵۵۸،چشتی)


پیر یا شیطان ؟


یاد رکھئیے  پیر وہی ہے جو شریعت کا تابعدارہو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کبھی بھی بیعت کے وقت کسی اجنبی عورت کا ہاتھ اپنے دستِ اقدس میں نہ لیا ۔ آج کل پیروں کو دیکھیں :


(1) عورتوں کے ماتھوں کو ، ہاتھوں کو چھوتے رہتے ہیں ۔


(2) ہاتھوں میں ایک سے زائد انگوٹھیاں پہنتے ہیں ۔


(3) اپنے بالوں کو شانوں سے بھی لمبا کرتے ہیں ۔


(4)  نمازکی بالکل پرواہ نہیں کرتے ۔


ایسے پیر ہرگز ہرگز قابل بیعت نہیں نہ ان کی ارادت جائز اور نہ ہی ان سے فیض کا حصول ، جو اَیسوں کے پاس اپنی عورتوں کو بھیجے وہ حدیث کے مطابق دیُّوث (بے غیرت) ہے ۔ ہم نے آپ کے سامنے پیری مریدی کی شرعی حیثیت رکھ دی اور فیصلہ آپ کے ضمیر پر چھوڑ دیا ۔


جعلی پیروں کی تربیت کے عجیب کرشمے


ان پیروں کے ذریعے مریدوں کی جس طرح تربیت ہو رہی ہے وہ بھی انتہائی اذیت ناک ہے ، چند ایک تربیتی مناظر ملاحظہ ہوں :


پیر صاحب جونہی اپنے دولت خانہ کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہیں تو دروازے پر نظریں گاڑے مریدین پر گویا نزع کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ ہاؤ ہو کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، کوئی شوں شوں کی آواز نکالتا ہے کوئی تالیاں بجاتا ہے ، کوئی درود و سلام پڑھتا ہے ، کوئی نعرے لگاتا ہے کوئی جوتے اتارتا ہے ۔ کوئی کچھ کرتا ہے اور کوئی کچھ کرتا ہے ۔


اب ملاقات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ، پیر صاحب مریدوں کے جراثیم سے بچنے کے لئے ہاتھوں پہ دستانے چڑھا لیتے ہیں ، کوئی مرید قدموں میں گرا ہوا ہے ، کسی نے گھٹنے تھام رکھے ہیں ، کوئی کندھوں کو بوسے دے رہا ہے ، کوئی پشت سے چمٹا ہوا ہے ، کوئی ہاتھ چومنے کے چکر میں ہے ۔


غرضیکہ ایک ہنگامہ بپا ہے اور دھکم پیل ہو رہی ہے ۔ (حالانکہ ایک مسلمان کو نماز کے لئے بھی دھکم پیل اور بھاگ دوڑ کی اجازت نہیں ہے) جبکہ پیر صاحب نے بڑی شان بے نیازی سے ہاتھ آگے کیا ہوا ہے کسی کو ایک ہاتھ ملاتے ہیں تو کسی کے لئے سر ہلاتے ہیں ، کسی کو ایک انگلی تھماتے ہیں تو کسی کو دو انگلیاں ۔ پیر صاحب کی آمد و رفت پر بار بار کی اٹھک بیٹھک ہوتی ہے۔ ہاتھ جوڑ جوڑ کر بات کی جاتی ہے جان کی امان طلب کی جاتی ہے ۔ کوئی حالت قیام میں ہے تو کوئی حالت رکوع میں ، کوئی سجدہ کر رہا ہے تو کوئی التحیات میں بیٹھا ہوا ہے ۔


اگر خدانخواستہ آپ نے پیر صاحب کے ہاتھ چومنے میں ذرا سی کوتاہی کر لی تو بس ! پیر صاحب کا غیظ و غضب دیکھنے والا ہوتا ہے ، آنکھیں شعلہ بار ہو جاتی ہیں اور جسم تھر تھرانے لگتا ہے ۔ آپ ایک نظر کی جنبش میں مریدین سے مرتدین کی صف میں شامل کر لیے جاتے ہیں ۔ اسی طرح اگر آپ نے کسی مجبوری کے تحت نذرانہ کی ادائیگی میں کچھ پس و پیش کی ہے تو آپ ہمیشہ کے لئے پیر صاحب کی نظروں میں کھٹک جاتے ہیں ، توجہات و تصرفات سے محرومی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ، زمین و آسمان کی تمام آفات و بلیات آپ کے گھر کا مقدر ٹھہرتی ہیں ۔ ایسے مرید کے گھر میں قدم رکھنا گویا پیر صاحب کےلیے جہنم میں جانے کے برابر ہوتا ہے ۔


پیر صاحب کی اولاد کے لئے شاہانہ القاب اور مریدوں کے لئے انسانیت سے بھی گرے ہوئے القاب استعمال کئے جاتے ہیں ۔ کئی پیروں سے اتنا استغاثہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بھی اتنا نہیں کیا جاتا ۔ کئی پیر بڑے تجسس پھیلانے والے (Suspense creative) ہوتے ہیں ۔ ہمیشہ نظریں جھکا کے رکھتے ہیں ۔ جاہل مرید اپنے پیر کی صرف ایک نظر کرم کے لئے تڑپتے پھڑکتے رہتے ہیں مگر پیر بھی ایسا پکا ہوتا ہے کہ لمحہ بھر کے لئے دیکھنا گوارا نہیں کرتا ۔ اگر کوئی مرید اپنے پیر کے بغیر کعبۃ اللہ کا طواف کر لے تو پیر صاحب اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر قیاس کر کے اس پر ہمیشہ کےلیے ناراض ہو جاتے ہیں ۔ (مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی مٹی سے بناۓ گۓ

 ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی مٹی سے بناۓ گۓ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئین کرام الله عزوجل فرماتا ہے : منھا خلقنکم و فیھا نعیدکم و منھا نخرجکم تارة اخری ۔

ترجمہ : زمین ہی سے ہم نے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے ۔


محدث خطیب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں اور ابوبکر وعمر ایک ہی (پاک) مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور اسی ایک ہی مٹی میں دفن ہوں گے ۔ (کتاب المتفق و المفترق)


حضرت امام ابن سیرین تابعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر میں قسم کھا کر یہ بات کہوں تو بلا شک و شُبہ سچی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو ایک ہی مٹی سے پیدا کیا  پھر اسی کی طرف لوٹا دیا ۔ (وفاء الوفا باخبار دارالمصطفی  جلد 1 صفحہ 78)


کتاب المتفق و المفترق میں عبد الله بن مسعود سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مامن مولودالا وفی سر ته من تربته التي خلقا منھا حتی یدفن فیھا و انا وابو بکر و عمر وخلقنا من تربته واحدہ فیھا ندفن ۔

ترجمہ : ہر مولود کے ناف میں اس کے قبر کی مٹی ہوتی ہے جس سے اسے پیدا کیا اور اسی میں وہ دفن ہوتا ہے میں اور ابو بکر اور عمر ایک مٹی سے بنے اسی میں دفن ہوں گے ۔ (فتاوی افریقہ صفحہ نمبر 82 مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد)


شرح مناسک میں علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : علماء نے لکھا ہے کہ آدمی جس جگہ دفن ہوتا ہے اسی جگہ کی مٹی سے ابتدا میں وہ پیدا کیا جاتا ہے تو گویا حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن مبارک بھی اسی مٹی سے بنا ہے ۔ (فضائل حج صفحہ 170 زکریا کاندھلوی دیوبندی)


علامہ سمہوردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اذ کل نفس انما خلقت من تربته التی يدفن فيها بعد الموت ۔

ترجمہ : چونکہ ہر نفس کو اس مٹی سے تخلیق کیا جاتا ہے جس میں بعد از وفات اسے دفن کیا جاتا ہے ۔ (وفاء الوفا باخبار دار المصطفی. 1: 32، مصر: مطبعة السعاده)


عن أبی سعيد الخدری قال مر النبی صلی الله عليه وآله وسلم بجنازة عند قبر فقال قبر من هذا فقالوا فلان الحبشی يا رسول الله فقال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لا اله الا الله سيق من أرضه وسمائه الی تربته التی منها خلق ۔

ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کے بعد ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا: یہ کس کی قبر ہے ؟ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! فلاں حبشی کی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لا الہ الا اللہ پڑھ کر فرمایا: اسے اس کی زمین اور آسمان سے اس مٹی میں لایا گیا ، جس سے اس کی تخلیق کی گئی تھی ۔ (حاکم المستدرک علی الصحيحين 1 : 521 رقم : 1356 دارالکتب العلمية، بيروت)(البيهقی شعب الايمان، 7 : 173، رقم 9891، دار الکتب العلمية بيروت)


امام عبد الرزاق اپنی مصنف میں نقل کرتے ہیں : عن عکرمة مولی ابن عباس انه قال يدفن کل انسان فی التربة التی خلق منها ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ (عبد الرزاق، المصنف 3 : 515 رقم : 6531، المکتب الاسلامی بيروت)


ابو نعیم نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں

مامن مولودالا وقد ذر علیه من تراب حفر ته ۔

ترجمہ : کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا جس پر اس کے قبر کی مٹی نہ چھڑکی ہو ۔


لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں معلوم ہوا جو جو انسان جہاں کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے وہیں دفن ہوگا ۔


حضرت آدم علیہ السلام کے مزار پاک کے متعلق ائمہ تفسیر مورخین کا شدت سے اختلاف ہے کہ وہ کہاں ہے ۔


(1)مکہ معظمہ سے تین میل فاصلے پر ٬ مقام منٰی میں جہاں کہ حاجی لوگ قربانیاں کرتے ہیں ـ اسی جگہ پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کی تھی ـ یہیں مسجد خیف سے متصل آپ کی قبر شریف ہے ۔ (تفسیر نعیمی جلد اول صفحہ 332)


(2) آپ کی قبر شریف کوہ سرا ندیپ میں ہے ۔ (مقدمہ معراج النبوۃ صفحہ 46 حاشیہ 4 جلالين شريف صفحہ 131)


(3) آپ کی قبر شریف اس پہاڑ میں ہے جس پر آپ جنت سے اترے تھے ۔


(4) بعض نے کہا آپ کی قبر انور غار جبل ابو قبیس میں ہے ، جسے ، غار الکبر ،کہتے ہیں ـ


(5) ابن جریر کہتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے موقع پر آ پ کے اور حوا علیہما السلام کے تابوت شریف کو بیت المقدس میں لا کر دفن فرمایا ۔ (الکامل فی التاریخ جلد اول صفحہ نمبر 22)


(6 ) ابن عساکر نے کہا ہے آپکا سر اقدس مسجد ابراہیم کے پاس اور پاؤں مبارک صحرۂ بیت المقدس کے پاس ہے ۔ (البدایہ جلد اول صفحہ نمبر 98)


انسان جہاں کی مٹی سے بنایا جاتا ہے مرنے کے بعد انسان زمین کے اسی حصے میں دفن ہوتا ہے جس حصے سے مٹی لیکر انسان کو بنایا گیا ہے جیسا کہ علامہ سمہوردی تحریر فرماتے ہیں کہ " اذ کل نفس انما خلقت من تربته التی يدفن فيها بعد الموت " یعنی چونکہ ہر نفس کو اس مٹی سے تخلیق کیا جاتا ہے جس میں بعد از وفات اسے دفن کیا جاتا ہے ۔ (وفاء الوفا باخبار دار المصطفی جلد 1 صفحہ 32 مطبعة السعاده مصر،چشتی)


اور احادیث مبارکہ میں بھی اس حوالے سے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ عن أبی سعيد الخدری قال مر النبی صلی الله عليه وآله وسلم بجنازة عند قبر فقال قبر من هذا فقالوا فلان الحبشی يا رسول الله فقال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لا اله الا الله سيق من أرضه وسمائه الی تربته التی منها خلق " یعنی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کے بعد ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے دریافت فرمایا : یہ کس کی قبر ہے ؟ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! فلاں حبشی کی ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لا الہ الا اللہ پڑھ کر فرمایا : اسے اس کی زمین اور آسمان سے اس مٹی میں لایا گیا ، جس سے اس کی تخلیق کی گئی تھی ۔ (المستدرک علی الصحيحين جلد 1 صفحہ 521 رقم : 1356 : دار الکتب العلمية بيروت،چشتی)(البيهقی شعب الايمان جلد 7 صفحہ 173 رقم 9891 : دارالکتب العلميةبيروت)


اور امام عبد الرزاق اپنی مصنفہ میں نقل کرتے ہیں کہ " عن عکرمة مولی ابن عباس انه قال يدفن کل انسان فی التربة التی خلق منها " یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ (المصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 515 رقم : 6531 المکتب الاسلامی بيروت،چشتی)


اس حقیقت کے پیش نظر حضرات شیخین رضی ﷲ عنہا کی رفعت شان و عظمت مقام کی کوئی حدو انتہا نہیں رہی ، کیونکہ جس مقدس مٹی سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود اقدس تیار کیا گیا ہے ۔ اسی خاکِ پا سے حضرات شیخین رضی ﷲ عنہم کا خمیر اٹھا یا گیا ہے ۔ تو ان کی طینت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طینت میں وحدت و یگانگت پیدا ہوگئی ۔ ﷲ ﷲ اپنی صناعی اور صفت تخلیق کا بہترین مظاہرہ کرنے کےلیے چشمِ قدرت نے جس مقدس جگہ کا انتخاب کیا اور دست قدرت نے جہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجود پاک کےلیے پاک مٹی اٹھائی اس مبارک و مقدس مقام کا نام ہے روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔


اس پاک مقام کی پاک مٹی سے صانع حقیقی نے اپنی صنعت کے تین مثالی نمونے اپنی قدرت کاملہ کے تین بے نظیر مظہر ، اپنی قوت تخلیق کے تین بے مثال شاہکار اور حسن عمل وجمال سیرت کے تین بے مثل پیکر تیار فرمائے ان میں سے ایک کا نام نامی اسم گرامی رکھا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، دوسرے کا نام ابوبکر صدیق اور تیسرے کا عمر رضی اللہ عنہما ۔ اس پاک مقام کی پاک مٹی سے ان تینوں حضرات کا خمیر اٹھایا گیا اور اسی مقدس جگہ میں پھر تینوں حضرات کو قیامت تک ساتھ آرام فرما ہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

سخاوت حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

 سخاوت حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : اللہ عزوجل نے جس ہستی کو اپنے محبو ب کا سب سے قریبی رفیق اور یار غار بنانا تھا اسے تمام اوصاف حسنہ کا جامع بنایا ۔ اللہ رب العزت نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جہاں دیگر اوصاف میں نمایاں مقام عطا فرمایا وہاں وصف سخاوت میں بھی اعلیٰ و ارفع مرتبے سے نوازا ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام کے دامن سے وابستہ ہوتے ساتھ ہی اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرنا شروع کردیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک مال دار تاجرتھے ۔ جس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے جبکہ ہجرت کے وقت صرف پانچ ہزار درہم باقی رہ گئے ۔ پانچ ہزار درہم کےعلاوہ باقی سارے پیسے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں صرف کردیے ۔ سخاوت اورمالی قربانی میں بھی آپ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے بڑھ کرہیں ۔ جس دن آپ آغوش اسلام میں آئے آپ کے پاس چالیس ہزاردرہم کاسرمایہ تھا اُس میں سے پینتیس (35) ہزار درہم تومکہ مکرمہ میں اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت و حمایت پرخرچ کر دیا ۔ باقی پانچ ہزاردرہم کی رقم لے کر ہجرت کی اوریہ ساری رقم بھی مدینہ شریف پہنچ کر حضور احمد مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں پر نثار کر دی ۔ ایک مرتبہ اپناسارامال یہاں تک کہ اپنے بدن کے کپڑوں کوبھی راہِ خدامیں خیرات کر دیا اور خود ایک کملی پہن کراس میں بٹن کی جگہ ببول کا کانٹا لگائے ہوئے اپنے گھرکے اندربیٹھ رہے اُس دن حضرت جبرائیل علیہ السلام جب وحی لے کرنازل ہوئے تووہ بھی ایک کملی اُوڑھے ہوئے تھے جس میں بٹن کی جگہ ببول کے کانٹے لگے ہوئے تھے حضوررحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ جبرائیل ! آج تم اس نئے لباس میں کیوں آئے ہو ؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کوحکم دے دیاہے کہ آج سب فرشتے آسمان میں وہی لباس پہن لیں ، جولباس میرے محبوب کے یارِغارنے زمین پرپہن رکھاہے ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 39)


آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد سات ایسے غلاموں کوخرید کوآزاد کیاجنھیں صرف ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاتا تھا ۔ 


ان غلاموں میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو ایک بھاری رقم پانچ اوقیہ (تقریبا 32 تولہ) سونےکےبدلے میں خریدا۔جب آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو اتنی بھاری رقم کے بدلے خرید کر آزاد کیا تو کفار آپ رضی اللہ عنہ کی اس سخاوت پر یہ اعتراض کرنے لگے کہ شایہ آپ رضی اللہ عنہ پر حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا پہلے کوئی احسان ہے جس کا بدلہ آپ رضی اللہ عنہ نےانہیں آزاد کر کے چکا یا ہے ۔ جب کفار نے یہ اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نےآپ کے اخلاص کی گواہی میں قرآن کی آیات نازل فرمادیں ۔ ارشاد فرمایا : اور جو سب سے بڑا متقی ہے وہ اس (جہنم)سے دور رکھا جائے گا ۔جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو ۔اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اتارتا ہو بلکہ وہ تو اپنے بلند رب کی رضا کے حصول کے لیےدیتا ہے اور عنقریب وہ راضی ہو جائے گا ۔(سورہ الیل :17 تا 21)


ان آیات سے واضح ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کارب کی راہ میں مال خرچ کرنا اور جود سخا کا مظاہرہ کرنا اللہ عزوجل کو کتنا پسند ہے ۔ آپ کی للٰہیت اور خلوص پر اعتراض کفار نے کیا اور آپ کی طرف سے جواب خود رب کریم نے دیا اور واضح فرما دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا آپ رضی اللہ عنہ نے بدلہ اتارا ہو بلکہ یہ ساری سخاوت تو آپ رضی اللہ عنہ حصول رضائے الٰہی کےلیے کرتے ہیں ۔ اس ہستی کی عظمت و مقام کا اندازہ کون لگا سکتا ہے کہ خالق کائنات جس کے اخلاص کی گواہی بھی دے اور اس کی طرف سے کفار کوجواب بھی دے ۔


جب غزوۂ تبوک کےموقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو راہ خدا میں مال پیش کرنے کا حکم دیا تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے حسبِ توفیق اسلامی لشکر کی مالی معاونت کی ۔ اس موقع حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جس طرح سے سخاوت وفیاضی کا مظاہرہ کیا اس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی ۔آئیے سخاوت صدیقی کا واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبانی پڑھتے ہیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ دینے کا حکم دیا ۔ اس حکم کی تعمیل کےلیے میرے پاس کافی مال تھا ۔ میں نے اپنے آپ سے کہاکہ اگر میں ابوبکر صدیق سےکبھی سبقت لے جا سکتا ہوں تو آج کا دن ہی وہ دن ہے جس میں میں سبقت لے جا سکتا ہوں ۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنا نصف مال لے کر حاضرخدمت ہوا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے گھر والوں کےلیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : جتنا لے آیا ہوں اتنا ہی ان کےلیے چھوڑ آیا ہوں ۔ اتنے میں یار غار رسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب کچھ لے کر حاضرخدمت ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اے ابوبکر ! اپنے گھر والوں کےلیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : میں ان کےلیے ﷲ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑ آیا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس دن خود سے کہاکہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کسی معاملے میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔(جامع ترمذی حدیث : 3675)


عن ابن عمر قال اسلم أبوبکر يوم اسلم و في منزله أربعون الف درهم فخرج إلي المدينة من مکة في الهجرة و ماله غير خمسة آلاف کل ذلک ينفق في الرقاب و العون علي الإسلام ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو اس وقت ان کے پاس گھر میں چالیس ہزار (40000) درہم موجود تھے ، لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے تو اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس صرف پانچ ہزار (5000) درہم رہ گئے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کثیر رقم غلاموں کو آزاد کرانے اور اسلام کی خدمت پر خرچ کر دی۔ (ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 30 : 68)(مناوي، فيض القدير، 4 : 18،چشتی)(عسقلاني، الاصابه، 4 : 171)(ابن عبدالبر نے ’الاستیعاب (3 : 966) ، میں ہشام بن عروہ سے باختلاف لفظ روایت کیا ہے ۔ نووی نے ’تہذیب الاسماء (2 : 480)‘ میں ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے ۔ محب طبری، الریاض النضرہ، 2 : 21 (ھشام بن عروہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ۔


عن زيد بن اسلم قال کان ابوبکر معروفا بالتجارة لقد بعث النبي صلي الله عليه وآله وسلم و عنده أربعون ألف درهم فکان يعتق منها و يقوي المسلمين حتي قدم المدينة القدرة آلاف درهم ثم کان يفعل فيها ما کان يفعل بمکة ۔

ترجمہ : حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق مشہور تاجر تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ کے پاس چالیس ہزار درہم موجود تھے آپ اس رقم سے غلاموں کو آزاد کرواتے اور مسلمانوں کو تقویت پہنچاتے تھے یہانتک کہ آپ ہجرت کرکے ہزاروں دراہم کے ساتھ مدینہ طیبہ آگئے ۔ یہاں بھی آپ مکہ معظمہ کی طرح دل کھول کر اسلام پر خرچ کرتے رہے ۔ (ابن سعد الطبقات الکبري، 3 : 172)(ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 30 : 68)(عسقلاني، الاصابه، 4 : 172)(الترتب الاداريه، 2 : 24)


عن أبي هريرة قال : قال رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’ما لأحد عندنا يد إلّا وقد کافيناه ما خلا أبابکر فانّ له عندنا يدا يکافئه ﷲ به يوم القيامة ۔

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی کا بھی ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جس کا ہم نے بدلہ چکا نہ دیا ہو، سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کے۔ بیشک اُن کے ہمارے اوپر احسان ہیں جن کا بدلہ ﷲ رب العزت قیامت کے دن چُکائے گا ۔ (ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 609، ابواب المناقب، رقم : 3661)(ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 4 : 104 رقم : 6328،چشتی)(نووي تهذيب الأسماء، 2 : 478)(محب طبري، الرياض النضرة، 2 : 18)(عسقلاني فتح الباري، 7 : 13)


عن علي قال قال رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم رحم ﷲ أبابکر زوجني ابنته و حملني إلي دارالهجرة و أعتق بلا لا من ما له ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے انہوں نے مجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا ، مجھے اٹھا کر دارالہجرت (مدینہ) لے گئے اور اپنے مال سے بلال کو آزاد کروایا ۔ (ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 633، رقم : 3714)(ابويعلي، المسند، 1 : 418، رقم : 550)(بزار، المسند، 3 : 52)(طبراني، المعجم الاوسط، 6 : 95، رقم : 5906،چشتی)(ابن ابي عاصم، السنة، 2 : 577، رقم : 1232)(قيسراني، تذکرة الحفاظ، 3 : 844)(ذهبي، سير أعلام النبلاء، 15 : 278)(مزي، تهذيب الکمال، 10 : 402

9. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 243)


عن ابن عمر، قال : کنت عند النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم وعنده أبوبکر الصّدّيق، وعليه عباء ة قد خلّها في صدره بخلال فنزل عليه جبريل فقال : يا محمّد مالي أرٰي أبابکر عليه عباء ة قد خلّها في صدره؟ فقال : يا جبريل أنفق ما له عليّ قبل الفتح، قال : فإنّ ﷲد يقرأ عليک السّلا م ويقول قل لّه : ’’أراض أنت عنّي في فقرک هٰذا أم ساخط؟‘‘ فقال : رسول ﷲ : يا أبابکر! إنّ ﷲ عزوجل يقرأ عليک السّلام و يقول لک ’’أراض أنت عنّي في فقرک هٰذا أم ساخط؟‘‘ فقال أبوبکر عليه السّلا م أسخط علٰي ربّي؟ أنا عن رّبّي راض، أنا عن رّبّي راض، أنا عن رّبّي راض ۔

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس حال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے عباء (لباس جو سامنے سے کُھلا ہوا ہو اور اُس کو کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے) پہنی ہوئی تھی جس کو اپنے سینے پر خِلال (لکڑی کا ٹکڑا، جس سے سوراخ کیا جاتا ہے) سے جوڑا ہوا تھا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا : ’’اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عباء پہن کر اُسے اپنے سینے پر ٹانکا ہوا ہے؟‘‘ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے جبرئیل علیہ السلام! انہوں نے اپنا سارا مال مجھ پر خرچ کر ڈالا ہے۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے کہا : ’’ﷲ رب العزت آپ کو سلام فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں، کیا تم اپنے اِس فقر میں مجھ سے راضی ہو یا ناراض؟‘‘ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ! ﷲ رب العزت تم پر سلام فرماتے ہیں اور تمہیں ارشاد فرماتے ہیں، ’’کیا تم اپنے اس فقر میں مجھ سے راضی ہو یا ناراض؟‘‘ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی۔ ’’میں اپنے ربِ کریم پر ناراض ہوں گا ؟ میں تو اپنے رب سے (ہر حال میں) راضی ہوں میں اپنے ربِ کریم سے راضی ہوں ۔ میں اپنے ربِ کریم سے راضی ہوں ۔ (ابن جوزي، صفة الصفوة، 1 : 250)(ابو نعيم، حلية الاولياء، 7 : 105،چشتی)(ابن کثير تفسيرالقرآن العظيم، 4 : 308)(محب طبري، الرياض النضره، 2 : 20)(خطيب بغدادي، موضح أدهام الجمع والتفريق، 2 : 441)


دنیا میں بڑے بڑے سخی گزرے ہیں لیکن تاریخ عالم میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا سخی نہیں ملے گا جس نے اپنے محبوب کے ایک حکم پر اپنا متاعِ کل محبوب کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ۔ جب زندگی کا مقصد و منشا ہی محبوب کی رضا ہو تو پھر محب صادق اپنا تن من دھن سب کچھ اپنےمحبوب پر قربان کرنا اپنی بہت بڑی سعادت اور خوش قسمتی سمجھتا ہے ۔ علامہ اقبال نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اسی لیے کہا تھا :

پروانے کو چراغ ہے اور بلبل کو پھول بس

صدیق کےلیے ہے خدا کارسول بس


آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتنی خدمت کی کہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےآپ کے مال کو اپنے لیے سب سے زیادہ منفعت بخش قراد دیا اورارشاد فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے دیاہے ۔ (ترمذی 3661)

اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدیق اکبر ؓکے مال کو اپنے لیے سب سے زیادہ منفعت بخش قرار دے کر صدیق اکبر کی بے مثل سخاوت اور فیاضی پر مہر استناد لگادی ۔


ایک موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجھ پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا احسان ہے ، مال کا بھی اور رفاقت کا بھی ۔ (بخاري :3454) بھلا اس سے بڑا سخی کون ہو سکتا ہے جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے زیادہ مالی احسان ہے ۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کےلیے یہ بھی بہت بڑا اعزاز ہے کہ ان کے مال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مال کی طرح تصرف فرمایا کرتے تھے ۔الریاض النضرہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مال میں اسی طرح تصرف فرماتے تھے جس طرح اپنے ذاتی مال میں فرماتے تھے ۔ ( الرياض النضره جلد 2 صفحہ 17،چشتی)


سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور مالی قربانیاں رب کریم کی بارگاہ میں کتنی مقبول اور پسندیدہ ہیں اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رب کریم خود آپ رضی اللہ عنہ کے نام سلام بھیجتا ہے اور استفسار فرماتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ رب سے راضی ہیں یا نہیں ۔ حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ٹاٹ کا لباس پہنے ہوئے بیٹھے تھے ۔ اتنے میں جبرئیل امین علیہ السلام نازل ہوئے اور کہنے لگے : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ابوبکر نے ایسا لباس کیوں پہنا ہوا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے جبرئیل اس نے اپنا سارا مال مجھ پر خرچ کر ڈالا ہے ۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا : ﷲ رب العزت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے اور ارشاد فرماتا ہےکہ ابوبکر سے کہیں کہ کیا تم اپنے اس فقر میں مجھ سے راضی ہو یا ناراض ؟ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سےفرمایا : اے ابوبکر ! ﷲ رب العزت تم پر سلام بھیجتا ہے اور تم سے پوچھتا ہےکہ کیا تم اپنے اس فقر میں مجھ سے راضی ہو یا ناراض؟’’حضرت ابوبکر ؓیہ سن کر عرض گزار ہوئے : بھلامیں اپنے رب کریم سے کیسے ناراض ہو سکتا ہوں؟ میں تو اپنے رب سے ہر حال میں راضی ہوں ۔ میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ میں اپنے رب سے راضی ہوں ۔ (الرياض النضره جلد 2 صفحہ 20،چشتی)


اپنے مال سے اسلام ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ خدمت کرنے والی ہستی اور امت مسلمہ میں سب سے بڑھ کر جود و سخا کا مظاہرہ کرنے والی شخصیت امیر المومنین ظاہری و باطنی خلیفہ بلا فصل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

خارجی اور ناصبی

خارجی اور ناصبی وہ لوگ تھے جو حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مرید و معتقد تھے جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ...