Sunday, 2 September 2018
جنگ یمامہ میں مسلمانوں کا نشانِ امتیاز تھا یا محمداہ اللہ صلی اللہ علیہ و ٓلہ وسلّم
جنگ یمامہ میں مسلمانوں کا نشانِ امتیاز تھا یا محمداہ اللہ صلی اللہ علیہ و ٓلہ وسلّم
جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار تھی. جبکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی. مقابلہ بہت سخت تھا. ایک وقت نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑنے لگے. حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ سپہ سالار تھے. انہوں نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے مسلمانوں کی علامت کے ساتھ ندا کی . یا محمداہ اور جنگ کا پانسہ پلٹ گیا. (البدایہ والنہایہ حصہ ششم صفحہ نمبر 601)
علامہ ابن کثیر حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کے کے زمانہ خلافت کے احوال لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اس زمانہ کا شعار یا محمداہ تھا . (البدایہ والنہایہ جلد 6 ص 324 مطبوعہ دارلفکر بیروت)
حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حضرت کعب بن ضمرہ رضی اللّٰہ عنہما کو ایک ہزار کا لشکر دے کر حلب کی طرف روانہ کیا. جب وہ حلب پہنچے تو یوقنا پانچ ہزار افراد کے ساتھ حملہ آور ہوا. مسلمان جم کر لڑے اتنے میں پانچ ہزار اورں نےحملہ کر دیا. اس خطرناک صورتحال میں حضرت کعب بن جمرہ نے جھنڈا تھامے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگایا یا محمد! یا محمد یا نصراللہ انزل. یا محمد یا محمد اے اللہ کی مدد نزول فرما. مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے اور کمال ثابت قدمی سے لڑے اور فتح پائی. (فتوح الشام, جلد 1 ص 96). ایسے ہی فتح بہسنا میں ایک دن رات بھر لڑائ ہوتی رہی اور مسلمانوں کا شعار تھا یا محمد یا محمد جا نصر اللہ انزل پکارنا تھا. (فتوح الشام جلد 2 صفحہ 218)
یا محمد صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کہنا احادیث مبارکہ کی روشنی میں
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، مَا لِرِجْلِکَ؟ قَالَ : اجْتَمَعَ عَصَبُهَا مِنْ هَاهُنَا. فَقُلْتُ : اُدْعُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، فَانْبَسَطَتْ.رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ وَابْنُ السُّنِّيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ.
ترجمہ : حضرت عبد الرحمن بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ تھے کہ ان کا پاؤں سن ہوگیا تو میں نے ان سے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن! آپ کے پاؤں کو کیا ہوا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا : یہاں سے میرے پٹھے کھینچ گئے ہیں تو میں نے عرض کیا : تمام لوگوں میں سے جو ہستی آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اس کا ذکر کریں، تو انہوں نے یا محمد (صلی اﷲ علیک وسلم) کا نعرہ بلند کیا (راوی بیان کرتے ہیں کہ) اسی وقت ان کے اعصاب کھل گئے ۔ اِس حدیث کو امام بخاری نے الآدب المفرد میں اور ابن السنی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
وفي رواية : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ أَمْشِي مَعْ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدَاه، فَقَامَ فَمَشٰی. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.
ترجمہ : ایک روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا کہ اُن کی ٹانگ سن ہو گئی اور وہ بیٹھ گئے، پھر اُنہیں کسی نے کہا کہ لوگوں میں سے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو. تو انہوں نے کہا : یا محمداہ! (اے محمد صلی اﷲ علیک وسلم!) اُن کا یہ کہنا تھا کہ وہ (ٹھیک ہو گئے اور) اُٹھ کر چلنے لگ گئے ۔ اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے ۔ (بخاري في الأدب المفرد / 335، الرقم : 964، وابن الجعد في المسند، 1 / 369، الرقم : 2539، وابن سعد في الطبقات الکبری، 4 / 154، وابن السني في عمل اليوم والليلة / 141.142، الرقم : 168.170 ،172،چشتی)
وفي رواية : خَدِرَتْ رِجْلُ رَجُلٍ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : مُحَّمَدٌ صلی الله عليه وآله وسلم، فَذَهَبَ خَدِرُهُ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.
وفي رواية : عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حَنَشٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ صلی اﷲ عليک وسلم، فَقَالَ : فَقَامَ فَکَأَنَّمَا نُشِّطَ مِنْ عِقَالٍ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.
ترجمہ : ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے پاس بیٹھے کسی شخص کی ٹانگ سن ہو گئی تو اُنہوں نے اس شخص سے فرمایا : لوگوں میں سے جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو، تو اُس شخص نے یا محمد (صلی اﷲ علیک وسلم) کا نعرہ لگایا تو اُسی وقت اُس کے پاؤں کا سن ہونا جاتا رہا ۔اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے۔
اور ایک روایت میں حضرت ہیثم بن حنش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اُنہوں نے بیان کیا کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے پاس تھے کہ ایک آدمی کی ٹانگ سن ہوگئی، تو اس سے کسی شخص نے کہا : لوگوں میں سے جو شخص تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کر، تو اس نے کہا : یا محمد صلی اﷲ علیک وسلم. راوی بیان کرتے ہیں : پس وہ شخص یوں اُٹھ کھڑا ہوا گویا باندھی ہوئی رسی سے آزاد ہو کر مستعد ہو گیا ہو.‘‘ اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے ۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُـلًا کَانَ يَخْتَلِفُ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی الله عنه فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَکَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ، وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ، فَشَکٰی ذَالِکَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ فِيْهِ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِکَ إِلٰی رَبِّي، فَتَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتَذَکَّرْ حَاجَتَکَ، وَرُحْ حَتّٰی أَرُوْحَ مَعَکَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتٰی بَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ص، فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتّٰی أَخَذَ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلَهُ عَلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ص، فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَی الطُّنْفُسَةِ، فَقَالَ : حَاجَتُکَ؟ فَذَکَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : مَا ذَکَرْتَ حَاجَتَکَ، حَتّٰی کَانَ السَّاعَةَ وَقَالَ : مَا کَانَتْ لَکَ مِنْ حَاجَةٍ فَاذْکُرْهَا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ، فَقَالَ لَهُ : جَزَاکَ اﷲُ خَيْرًا، مَا کَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي، وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتّٰی کَلَّمْتَهُ فِيَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : وَاﷲِ مَا کَلَّمْتُهُ، وَلٰـکِنِّي شَهِدْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَأَتَاهُ ضَرِيْرٌ، فَشَکٰی إِلَيْهِ ذِهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : فَتَصْبِرُ. فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، لَيْسَ لِي قَاءِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ، فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ اُدْعُ بِهٰذِهِ الدَّعَوَاتِ. قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ : فَوَاﷲِ، مَا تَفَرَّقْنَا، وَطَالَ بِنَا الْحَدِيْثُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ کَأَنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِهِ ضَرٌّ قَطُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ : وَالْحَدِيْثُ صَحِيْحٌ.
ترجمہ : حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے چچا حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس کسی ضرورت سے آتا رہا لیکن حضرت عثمان صاُس کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور اس کی حاجت پر غور نہ فرماتے تھے۔ وہ شخص (عثمان) بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنے مسئلہ کی بابت شکایت کی۔ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : لوٹا لاؤ اور وضو کرو، اس کے بعد مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھو، پھر (یہ دعا) پڑھو : اے اﷲ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں اور آپ کی طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی رحمت کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ میری یہ حاجت پوری فرما دے۔ اور پھر اپنی حاجت کو یاد کرو۔ (اور یہ دعا پڑھ کر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ) یہاں تک کہ میں بھی تمہارے ساتھ آ جاؤں۔ پس وہ آدمی گیا اور اس نے وہی کیا جو اسے کہا گیا تھا۔ پھر وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا تو دربان نے اس کا ہاتھ تھاما اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ حضرت عثمان صنے اسے اپنے پاس چٹائی پر بٹھایا اور پوچھا : تیری کیا حاجت ہے؟ تو اس نے اپنی حاجت بیان کی اور انہوں نے اسے پورا کر دیا۔ پھر اُنہوں نے اُس سے کہا : تو نے اپنی اس حاجت کے بارے میں آج تک بتایا کیوں نہیں؟ آئندہ تمہاری جو بھی ضرورت ہو مجھے بیان کرو۔ پھر وہ آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چلا گیا اور حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اور ان سے کہا : اﷲ تعالیٰ آپ کو جزاے خیر عطا فرمائے، اگر آپ میرے مسئلہ کے بارے میں حضرت عثمان سے بات نہ کرتے تو وہ میری حاجت پر غور کرتے نہ میری طرف متوجہ ہوتے۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : بخدا میں نے ان سے تمہارے بارے میں بات نہیں کی۔ بلکہ میں نے اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ایک نابینا آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بینائی ختم ہو جانے کا شکوہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : تو صبر کر. اس نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرا کوئی خادم نہیں اور مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوٹا لے کر آؤ اور وضو کرو (اور اسے یہی عمل تلقین فرمایا)، حضرت ابن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : خدا کی قسم! ہم لوگ نہ تو ابھی مجلس سے دور ہوئے اور نہ ہی ہمارے درمیان لمبی گفتگو ہوئی، حتی کہ وہ آدمی ہمارے پاس (اس حالت میں) آیا کہ گویا اُسے کبھی اندھا پن تھا ہی نہیں ۔ اِس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ (طبراني في المعجم الکبير، 9 / 30، الرقم : 8311، وأيضًا في المعجم الصغير، 1 / 183، الرقم : 508، وأيضًا في الدعائ / 320، الرقم : 1050، والبيهقي في دلائل النبوة، 6 / 167، والمنذري في الترغيب والترهيب،1 / 32، 274، الرقم : 1018، والسبکي في شفاء السقام / 125، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 279، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 201،چشتی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه … وَحَمَلَ خَالِدُ بْنُ وَلِيْدٍ رضی الله عنه حَتّٰی جَاوَزَهُمْ وَسَارَ لِجِبَالِ مُسَيْلَمَةَ وَجَعَلَ يَتَرَقَّبُ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ فَيَقْتُلَهُ ثُمَّ رَجَعَ ثُمَّ وَقَفَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ وَدَعَا الْبِرَازَ. وَقاَلَ : أَنَا ابْنُ الْوَلِيْدِ الْعُوْدِ، أَنَا ابْنُ عَامِرٍ وَزَيْدٍ. ثُمَّ نَادٰی بِشِعَارِ الْمُسْلِمِيْنَ، وَکَانَ شِعَارُهُم يُوْمَءِذٍ ’’يَا مُحَمَّدَاه‘‘. رَوَاهُ الطَّبَرِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ.
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (طویل روایت میں) بیان کرتے ہیں کہ ’’(جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد) حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے (اسلامی لشکر کا) عَلم سنبھالا اور لشکر سے گزر کر مسیلمہ کذاب کے مستقر پہاڑ کی طرف چل دیئے اور وہ اِس انتظار میں تھے کہ مسیلمہ تک پہنچ کر اُسے قتل کر دیں. پھر وہ لوٹ آئے اور دونوں لشکروں کے درمیان کھڑے ہو کر دعوتِ مبارزت دی اور بلند آواز سے پکارا : میں ولید کا بیٹا ہوں، میں عامر و زید کا بیٹا ہوں. پھر اُنہوں نےمسلمانوں کا مروجہ نعرہ بلند کیا اور اُن دنوں اُن کا جنگی نعرہ ’’یا محمداہ صلی اﷲ علیک وسلم‘( یا محمد! مدد فرمائیے) تھا ۔ اِس حدیث کو امام طبری اور ابن کثیر نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ (طبري في تاريخ الأمم والملوک، 2 / 281، وابن کثير في البداية والنهاية، 6 / 324) ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہنے کے مستند دلائل اور منکرین کی گواہیاں
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہنے کے مستند دلائل اور منکرین کی گواہیاں
محترم قارئین کرام : قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بغیر قید زمان و مکاں ہر وقت ہر جگہ لفظ یا سے پکارنا ، ندا کرنا ، یا رسول اللہ ، یا حبیب اللہ کہنا جائز و مستحب ہے ۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے : یا ایھا النبی 'یا ایھا الرسول یا ایھا المزمل'یا ایھا المدثر ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لا تجعلوادعاء الرسول بینکم کدعا ء بعضکم بعضا ۔
ترجمہ : رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔ (سورۃ النور آیت نمبر ٦٣)
حدیث شریف : ینا د و ن یا محمد یا ر سو ل اللہ ۔ (صحیح مسلم شریف صفحہ ٤١٩ جلد ٢)
امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد فرمایا '' دو موتیں نہ آئیں گی ، یعنی آپ نے موت کا ذائقہ چکھا وہ ہو گیا اس کے بعد حیات ہے ۔ حیات کے بعد پھر موت نہیں آئے گی جیسا کہ خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا فنبی اللہ حی ۔ اللہ کے نبی زندہ ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ صفحہ ١١٩ ، جلاء الافہام ابن قیم)
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انورپر حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اپنی اُمت کےلیے بارش طلب فرمائیں ۔ تحقیق وہ ہلاک ہو گئے ۔ اس کے بعد حضورنبی ئ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو خواب میں زیارت عطا فرمائی اور فرمایا کہ عمر کو میرا سلام کہنا اور خوشخبری دو بارش ہو گی ۔ مصنف ابن ابی شیبہ (از: امام محدث ابوبکر عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ' اُستاذ امام مسلم و بخاری) جلد نمبر ١٢ صفحہ ٣٢ کتاب الفضائل ، فتح الباری شرح بخاری جلد ٢ صفحہ ٤٩٥ نیز فرمایا اس کی سند صحیح ہے ۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ روضہ مبارک پر لے جا کر رکھ دیا گیا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی ''السلام علیک یا رسول اللہ '' یہ ابوبکر صدیق ہیں اجازت چاہتے ہیں ۔ (آپ کے پاس دفن ہونے کی) پھر اس کے بعد دروازہ مبارک کھل گیا اور آواز آئی ا د خلو ا لحبیب ا لی حبیبہ ۔ (خصائص الکبریٰ محدث جلال الدین سیوطی ، تفسیر کبیر صفحہ ٤٧٨ جلد ٥،چشتی)
حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سیدنا عبد اللہ بن سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کا پاؤں سن ہوا تو انہوں نے پکارا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت سیدنا خالد بن ولید نے مسیلمہ کذاب سے جنگ کے وقت فرمایا : بشعار المسلمین یا محمداہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
فتوح الشام صفحہ ١٦٠ جلد ١ ، ابن کثیر نے البدایہ صفحہ ٣٢٤ جلد ٦ میں لکھا ہے : کان شعا ر ھم یو مئذ یا محمد اہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
حضرت عبیدہ بن الجراح کی قیادت میں حلب میں لڑنے والے اسلامی لشکر نے کہا ''یا محمد یا محمد یا نصر اللہ انزل ۔ (تاریخ فتوح الشام ، ج١،چشتی)
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے : السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ ا للہ و برکا تہ ۔ (الشفاء شریف جلد دوم صفحہ ٥٣)
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کا قدم مبارک سن ہوا تو انہوں نے پکارا '' یا محمد'' صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (تحفۃ الذاکرین صفحہ ٢٠٢ شوکانی ، الداء والدواء صفحہ ٤٧ ، صدیق حسن خان غیر مقلد وہابی)
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لفظ یا سے ندا کرنا ' دور سے یا نزدیک سے پکارنا جائز ہے ' ان کی ظاہر ی زندگی میں بھی اوروصال کے بعد بھی' ہر طرح جائز اور باعث برکت ہے۔قرآن و حدیث عمل صحابہ اور ہر نمازی کا نماز میں سلام عرض کرنا یہ روشن دلیلیں موجود ہیں ۔ بدعقیدہ لوگ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہنے والے کو مشرک کہتے ہیں ۔ لفظ یا سے پکارنے والے پر شرک کا فتویٰ لگتاہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یا سے ندا فرماتا ہے' صحابہ کرام آپ کی ظاہری زندگی میں بھی اور وصال کے بعد بھی یا سے پکارتے رہے ۔ ان کے بارے میں بدمذہبوں کا کیا عقیدہ ہے ۔ ان پر کیا فتویٰ لگے گا ۔
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یا رسول اللہ ﷺ کی کثرت کیجیے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رضي اللہ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، مَا لِرِجْلِکَ؟ قَالَ : اجْتَمَعَ عَصَبُهَا مِنْ هَاهُنَا. فَقُلْتُ : اُدْعُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، فَانْبَسَطَتْ.رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ وَابْنُ السُّنِّيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ ۔
ترجمہ : حضرت عبد الرحمن بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے کہ ان کا پاؤں سن ہوگیا تو میں نے ان سے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن! آپ کے پاؤں کو کیا ہوا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا : یہاں سے میرے پٹھے کھینچ گئے ہیں تو میں نے عرض کیا : تمام لوگوں میں سے جو ہستی آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اس کا ذکر کریں، تو انہوں نے یا محمد (صلی اللہ علیک وسلم) کا نعرہ بلند کیا (راوی بیان کرتے ہیں کہ) اسی وقت ان کے اعصاب کھل گئے ۔ اِس حدیث کو امام بخاری نے الآدب المفرد میں اور ابن السنی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد / 335، الرقم : 964، وابن الجعد في المسند، 1 / 369، الرقم : 2539، وابن سعد في الطبقات الکبری، 4 / 154، وابن السني في عمل اليوم والليلة / 141.142، الرقم : 168. 170 ،172،چشتی)
وفي رواية : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ أَمْشِي مَعْ ابْنِ عُمَرَ رضي اللہ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدَاه، فَقَامَ فَمَشٰی. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ ۔
ترجمہ : ایک روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا کہ اُن کی ٹانگ سن ہو گئی اور وہ بیٹھ گئے، پھر اُنہیں کسی نے کہا کہ لوگوں میں سے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو. تو انہوں نے کہا : یا محمداہ ! (اے محمد صلی اللہ علیک وسلم) اُن کا یہ کہنا تھا کہ وہ (ٹھیک ہو گئے اور) اُٹھ کر چلنے لگ گئے ۔ اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے ۔
وفي رواية : خَدِرَتْ رِجْلُ رَجُلٍ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنهما، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنهما : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : مُحَّمَدٌ صلی الله عليه وآله وسلم، فَذَهَبَ خَدِرُهُ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.
وفي رواية : عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حَنَشٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللہ بْنِ عُمَرَ رضي اللہ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ صلی اللہ عليک وسلم، فَقَالَ : فَقَامَ فَکَأَنَّمَا نُشِّطَ مِنْ عِقَالٍ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ ۔
ترجمہ : ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے کسی شخص کی ٹانگ سن ہو گئی تو اُنہوں نے اس شخص سے فرمایا : لوگوں میں سے جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو، تو اُس شخص نے یا محمد (صلی اللہ علیک وسلم) کا نعرہ لگایا تو اُسی وقت اُس کے پاؤں کا سن ہونا جاتا رہا ۔ اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے ۔
اور ایک روایت میں حضرت ہیثم بن حنش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اُنہوں نے بیان کیا کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ ایک آدمی کی ٹانگ سن ہوگئی، تو اس سے کسی شخص نے کہا : لوگوں میں سے جو شخص تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کر، تو اس نے کہا : یا محمد صلی اللہ علیک وسلم. راوی بیان کرتے ہیں : پس وہ شخص یوں اُٹھ کھڑا ہوا گویا باندھی ہوئی رسی سے آزاد ہو کر مستعد ہو گیا ہو ۔ اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے ۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُـلًا کَانَ يَخْتَلِفُ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی الله عنه فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَکَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ، وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ، فَشَکٰی ذَالِکَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ فِيْهِ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِکَ إِلٰی رَبِّي، فَتَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتَذَکَّرْ حَاجَتَکَ، وَرُحْ حَتّٰی أَرُوْحَ مَعَکَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتٰی بَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ص، فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتّٰی أَخَذَ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلَهُ عَلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ص، فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَی الطُّنْفُسَةِ، فَقَالَ : حَاجَتُکَ؟ فَذَکَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : مَا ذَکَرْتَ حَاجَتَکَ، حَتّٰی کَانَ السَّاعَةَ وَقَالَ : مَا کَانَتْ لَکَ مِنْ حَاجَةٍ فَاذْکُرْهَا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ، فَقَالَ لَهُ : جَزَاکَ اللہ خَيْرًا، مَا کَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي، وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتّٰی کَلَّمْتَهُ فِيَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : وَاللہ مَا کَلَّمْتُهُ، وَلٰـکِنِّي شَهِدْتُ رَسُوْلَ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم، وَأَتَاهُ ضَرِيْرٌ، فَشَکٰی إِلَيْهِ ذِهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : فَتَصْبِرُ. فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللہ، لَيْسَ لِي قَاءِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ، فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ اُدْعُ بِهٰذِهِ الدَّعَوَاتِ. قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ : فَوَاللہ، مَا تَفَرَّقْنَا، وَطَالَ بِنَا الْحَدِيْثُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ کَأَنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِهِ ضَرٌّ قَطُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ : وَالْحَدِيْثُ صَحِيْحٌ ۔
ترجمہ : حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے چچا حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس کسی ضرورت سے آتا رہا لیکن حضرت عثمان صاُس کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور اس کی حاجت پر غور نہ فرماتے تھے۔ وہ شخص (عثمان) بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنے مسئلہ کی بابت شکایت کی۔ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : لوٹا لاؤ اور وضو کرو، اس کے بعد مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھو، پھر (یہ دعا) پڑھو : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں اور آپ کی طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی رحمت کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ میری یہ حاجت پوری فرما دے۔ اور پھر اپنی حاجت کو یاد کرو۔ (اور یہ دعا پڑھ کر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ) یہاں تک کہ میں بھی تمہارے ساتھ آ جاؤں۔ پس وہ آدمی گیا اور اس نے وہی کیا جو اسے کہا گیا تھا۔ پھر وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا تو دربان نے اس کا ہاتھ تھاما اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ حضرت عثمان صنے اسے اپنے پاس چٹائی پر بٹھایا اور پوچھا : تیری کیا حاجت ہے؟ تو اس نے اپنی حاجت بیان کی اور انہوں نے اسے پورا کر دیا۔ پھر اُنہوں نے اُس سے کہا : تو نے اپنی اس حاجت کے بارے میں آج تک بتایا کیوں نہیں؟ آئندہ تمہاری جو بھی ضرورت ہو مجھے بیان کرو۔ پھر وہ آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چلا گیا اور حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اور ان سے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو جزاے خیر عطا فرمائے، اگر آپ میرے مسئلہ کے بارے میں حضرت عثمان سے بات نہ کرتے تو وہ میری حاجت پر غور کرتے نہ میری طرف متوجہ ہوتے۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : بخدا میں نے ان سے تمہارے بارے میں بات نہیں کی۔ بلکہ میں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ایک نابینا آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بینائی ختم ہو جانے کا شکوہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : تو صبر کر. اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا کوئی خادم نہیں اور مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوٹا لے کر آؤ اور وضو کرو (اور اسے یہی عمل تلقین فرمایا)، حضرت ابن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : خدا کی قسم! ہم لوگ نہ تو ابھی مجلس سے دور ہوئے اور نہ ہی ہمارے درمیان لمبی گفتگو ہوئی، حتی کہ وہ آدمی ہمارے پاس (اس حالت میں) آیا کہ گویا اُسے کبھی اندھا پن تھا ہی نہیں۔اِس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے۔(أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 9 / 30، الرقم : 8311، وأيضًا في المعجم الصغير، 1 / 183، الرقم : 508، وأيضًا في الدعائ / 320، الرقم : 1050، والبيهقي في دلائل النبوة، 6 / 167، والمنذري في الترغيب والترهيب،1 / 32، 274، الرقم : 1018، والسبکي في شفاء السقام / 125، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 279، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 201،چشتی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه … وَحَمَلَ خَالِدُ بْنُ وَلِيْدٍ رضی الله عنه حَتّٰی جَاوَزَهُمْ وَسَارَ لِجِبَالِ مُسَيْلَمَةَ وَجَعَلَ يَتَرَقَّبُ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ فَيَقْتُلَهُ ثُمَّ رَجَعَ ثُمَّ وَقَفَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ وَدَعَا الْبِرَازَ. وَقاَلَ : أَنَا ابْنُ الْوَلِيْدِ الْعُوْدِ، أَنَا ابْنُ عَامِرٍ وَزَيْدٍ. ثُمَّ نَادٰی بِشِعَارِ الْمُسْلِمِيْنَ، وَکَانَ شِعَارُهُم يُوْمَءِذٍ ’’يَا مُحَمَّدَاه‘‘. رَوَاهُ الطَّبَرِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (طویل روایت میں) بیان کرتے ہیں کہ ’’(جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد) حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے (اسلامی لشکر کا) عَلم سنبھالا اور لشکر سے گزر کر مسیلمہ کذاب کے مستقر پہاڑ کی طرف چل دیئے اور وہ اِس انتظار میں تھے کہ مسیلمہ تک پہنچ کر اُسے قتل کر دیں ۔ پھر وہ لوٹ آئے اور دونوں لشکروں کے درمیان کھڑے ہو کر دعوتِ مبارزت دی اور بلند آواز سے پکارا : میں ولید کا بیٹا ہوں، میں عامر و زید کا بیٹا ہوں. پھر اُنہوں نے مسلمانوں کا مروجہ نعرہ بلند کیا اور اُن دنوں اُن کا جنگی نعرہ ’’یا محمداہ صلی اللہ علیک وسلم‘‘ ( یا محمد! مدد فرمائیے) تھا۔اِس حدیث کو امام طبری اور ابن کثیر نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔(أخرجه الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 2 / 281، وابن کثير في البداية والنهاية، 6 / 324)
حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں آیا ہے '' یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی '' یعنی یا محمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ بیہقی اور جزری نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ ( ہدیۃ المہدی ص ٢٤ (عربی) ، نشر الطیب ص ٢٧٦ ) ، ایک روایت میں ہے یا رسول اللہ انی توجہت بک الی ربی یعنی یا رسول اللہ ! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ (ہدیۃ المہدی عربی صفحہ ٢٤ مولوی وحید الزمان وہابی)
حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آسمان سے میں نے یہ آواز سنی ''یا محمداہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ( الشمامۃ العنبریہ صفحہ ١١٣ صدیق حسن بھوپالوی غیر مقلد وہابی)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مناسک میں لکھا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ تو اتنا ہی کہتے تھے ''السلام علیک یا رسول اللہ السلام علیک یا ابابکر ، السلام علیک یا ابتاہ ۔ (فضائل حج صفحہ ٩١٧ زکریا سہارنپوری دیوبندی)
جو عوام الناس کہتے ہیں یعنی یا رسول اللہ، یا علی ، یا غوث تو اکیلی نداء سے ان پر شرک کا حکم نہیں دیا جائے گا اور کیسے دیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ حضور ؐ نے بدر کے مقتولوں کو فلاں بن فلاں کہتے ہوئے پکارا تھا ۔ اور حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ بھی آئے ہیں اور ایک حدیث میں یا رسول اللہ کا لفظ بھی ہے ۔ (ہدیۃ المہدی (اُردو) صفحہ ٥١ ، ٥٠)
صلوٰۃ و سلام کے الفاظ میں تنگی نہیں ہے ادب شرط ہے ۔ چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے قبر شریف پر سلام اس طرح پڑھاہے ''السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا نبی اللہ ، السلام علیک یا حبیب اللہ ، السلام علیک یا احمد ؐ ، السلام علیک یا محمد ۔ (الصلوٰ ۃ والسلام صفحہ ١٢٦ ، فردوس شاہ قصوری وہابی)
تفسیر ابن کثیر و مدارک میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کے بعد ایک اعرابی آیا اور اپنے کو روتے اور سر پر خاک ڈالتے ہوئے قبر شریف پر گرا دیا اور کہا ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں ۔ قبر مبارک سے آواز آئی '' کہ تجھ کو بخش دیا گیا ہے ۔ (نشر الطیب صفحہ ٢٧٩ ، فضائل حج صفحہ ٢٥٣،چشتی)
(اشرف علی تھانوی نے کہا) اس بندہ نے آپ کو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مستغیث ہو کر اور اُمید کی چیزوں کا اُمید وار ہو کر پکارا ہے ۔ (نشر الطیب صفحہ نمبر ٢٧٩ )
جب روم کے بادشاہ نے مجاہدین اسلام کو عیسائیت کی ترغیب دی تو انہوں نے بوقت شہادت ''یا محمداہ'' صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ لگایا جیسا کہ ہمارے اصحاب میں سے ابن جوزی نے روایت کیا ۔ (ہدیۃ المہدی ، نواب وحید الزمان حیدر آبادی غیر مقلد وہابی)
غوث پاک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد ١٠٠ مرتبہ درود غوثیہ پڑھ کر ١١ بار یہ درود و سلام پڑھو اغثنی یا ر سو ل ا للہ علیک ا لصلو ٰۃ و ا لسلام ۔ (کتاب غوث اعظم صفحہ ٣٢ احتشام الحسن کاندھلوی دیوبندی)
صحابہ رضی اللہ عنہم سے ان کا قول ''السلام علیک ایھا النبی '' بغیر کسی اعتراض کے ثابت ہے اور حضور ؐ کا یہ قول ''یا ابراہیم اپنے مردہ فرزند کو ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور حضرت حسان کا فرمان '' و جا ہک یا ر سو ل اللہ جا ہ ''(یا حرف محبت صفحہ ٩٤)
حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ (علیہم السلام ) نے آپ کو بایں الفاظ سلام کیا : ا لسلام علیک یا ا وّل ، ا لسلام علیک یا آخر ، السلام علیک یا حا شر ''۔ ( کتاب معراج مصطفےٰ صفحہ ١٢ مولوی محمد علی جانباز وہابی)
فضائل اعمال میں لکھا ہے : زمہجوری برآمد جان عالم تراحم یا نبی اللہ تراحم
آپ کے فراق سے کائنات عالم کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے ۔ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نگاہ کرم فرمائیے اے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم رحم فرمائیے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
قیامت کے دن کی کارروائی کا آغاز ندائے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلّم سے ہو گا
قیامت کے دن کی کارروائی کا آغاز ندائے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلّم سے ہو گا
قیامت کی کارروائی کا آغاز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم پاک سے ہو گا ۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خصوصی کلماتِ حمد عطا فرمائے گا جو اس سے قبل کسی اور نبی کو عطا نہیں کیے گئے ہوں گے۔ روزِ قیامت جس مقام پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر یہ کلمات ادا فرمائیں گے اُس کو مقامِ محمود کہا جائے گا :
وقال حذيفة : يجمع اﷲ النّاس في صعيد واحد حيث يسمعهم الداعي، وينفذهم البصر، حفاة کما خلقوا، سکوتا لا تکلم نفس إلّا بإذنه، فينادي محمد فيقول : لبيک وسعديک، والخير في يديک، ولک وإليک، لا ملجأ ولا منجی منک إلّا إليک، تبارکت وتعاليت، سبحان رب البيت، قال : فذلک المقام المحمود الّذي ذکر اﷲ.( حاکم، المستدرک، 2 : 395، رقم : 3384)
ترجمہ : حضرت حدیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ روزِ آخرت لوگوں کو ایک ہموار میدان میں اکٹھا فرمائے گا۔ جہاں پکارنے والے کی آواز کو سب سن سکیں گے اور سب نظر آتے ہوں گے۔ لوگ اسی طرح ننگے ہوں گے جس طرح پیدا ہوئے تھے اور سب خاموش ہوں گے اذنِ الٰہی کے بغیر کسی کو بولنے کی جرات نہیں ہوگی۔ (اللہ رب العزت) آواز دے گا : محمد! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرض کریں گے : اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ ساری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، بھلائی تیرے لئے اور تیری طرف ہے۔ تیرا بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہے۔ میں تیرے ہی لئے ہوں اور میری دوڑ تیری ہی جانب ہے۔ تیری بارگاہ کے سوا کوئی پناہ گا ہ اور جائے نجات نہیں۔ تیری ذات بابرکات، بلند اور پاک ہے۔ اے بیت اللہ کے رب! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (جس جگہ کھڑے ہو کر آپ یہ حمد بیان کریں گے) وہی مقام محمود ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے۔( حاکم، المستدرک، 2 : 395، رقم : 3384) ۔ (طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
قسطوں پر کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
قسطوں پر کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
قسطوں پر خرید و فرخت جائز ہے ۔ یہ تجارت کی ایک جائز قسم ہے جس کے ناجائز ہونے کی کوئی شرعی وجہ نہیں۔ اصل میں ایک ہی سودا ہے جو نقد کی صورت میں کم قیمت پر اور قسط کی صورت میں قدرے زائد قیمت پر فروخت کنندہ اور خریدار کے ایجاب و قبول سے طے پاتا ہے۔ دونوں صورتیں چونکہ الگ الگ ہیں اور ایک میں دوسری صورت بطور شرط یا جزء شامل نہیں، لہٰذا یہ اُسی طرح جائز ہے جیسے ایک ہی منڈی کی مختلف دکانوں پر کسی شے کی قیمت میں فرق ہو سکتا ہے۔ یونہی منڈی، بازار اور پرچون کی دکان پر قیمت میں فرق ہوتا ہے ، لیکن کوئی ایک سودا دوسرے سے منسلک نہیں ہوتا ہے بلکہ ہر سودا مستقل اور الگ الگ ہے تو گویا یہ جائز ہے ۔
ایک اشکال حدیث پاک ہے : عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ نَهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ۔ ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا۔‘‘
(احمد بن حنبل، المسند، 2: 174، رقم: 6628، موسسة قرطبة مصر)(ابوداود، السنن، 3: 274، رقم: 3461، دار الفکر)(ترمذي، السنن، 3: 533، رقم: 1231، دار احياء التراث العربي بيروت)(مالک، الموطا، 2: 663، رقم: 1342، دار احياء التراث العربي مصر)(نسائي، السنن الکبری، 4: 43، رقم: 6228، دار الکتب العلمية بيروت،چشتی)
اس ارشاد مبارکہ میں ’ایک بیع میں دو سودے‘ کرنے سے مراد بسا اوقات یہ لیا جاتا ہے کہ نقد فروخت پر ایک قیمت اور اُدھار فروخت پر دوسری قیمت لینا ہے اور اس کو جواز بنا کر قسطوں پر خرید و فروخت کا عدمِ جواز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر امام ترمذی رحمہ اﷲ علیہ نے اس فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے : حَدِيثُ اَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ اَهْلِ الْعِلْمِ وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ اَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ اَنْ يَقُولَ اَبِيعُکَ هَذَا الثَّوْبَ بِنَقْدٍ بِعَشَرَةٍ وَبِنَسِيئَةٍ بِعِشْرِينَ وَلَا يُفَارِقُهُ عَلَی اَحَدِ الْبَيْعَيْنِ فَإِذَا فَارَقَهُ عَلَی اَحَدِهِمَا فَلَا بَاْسَ إِذَا کَانَتِ الْعُقْدَهُ عَلَی اَحَدٍ مِنْهُمَا.
قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمِنْ مَعْنَی نَهْيِ النَّبِيِّ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ اَنْ يَقُولَ اَبِيعُکَ دَارِي هَذِهِ بِکَذَا عَلَی اَنْ تَبِيعَنِي غُلَامَکَ بِکَذَا فَإِذَا وَجَبَ لِي غُلَامُکَ وَجَبَت لَکَ دَارِي وَهَذَا يُفَارِقُ عَنْ بَيْعٍ بِغَيْرِ ثَمَنٍ مَعْلُومٍ وَلَا يَدْرِي کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَی مَا وَقَعَتْ عَلَيْهِ صَفْقَتُهُ.
ترجمہ : حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ حسن صحیح ہے، علماء کا اس پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ کوئی شخص کہے میں آپ کے ہاتھ پہ یہ کپڑا نقد دس روپے میں اور ادھار بیس روپے میں بیچتا ہوں اور کسی ایک سودے کو متعین کر کے جدا نہ ہو۔ اگر ایک سودے کا فیصلہ کر کے جدا ہو تو کوئی حرج نہیں۔
امام شافعی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیع میں دو سودوں سے جو منع فرمایا اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کہے میں اپنا یہ مکان تیرے ہاتھ پر اتنے روپے میں اس شرط پر بیچتا ہوں کہ تو مجھے اپنا غلام اتنی قیمت میں فروخت کرے۔ جب تیرا غلام مجھے مل جائے گا، میرا مکان تیرا ہو جائے گا۔ یہ ایسی بیع پر علیحدگی ہے جس کی قیمت معلوم نہیں اور دو میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں میرا سودا کتنے پر طے ہوا ہے ۔ (ترمذی، السنن، 3: 533،چشتی)
امام کاسانی اس ارشاد نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فقہی مؤقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ان رسول اﷲ صلیٰ الله عليه وآله وسلم نهی عن بيعين في بيع وکذا إذا قال بعتک هٰذا العبد بالف درهم إلی سنة او بالف وخمس مائة إلی سنتين لان الثمن مجهول وقيل هو الشرطان في بيع.
وقد روي ان رسول اﷲ صلیٰ الله عليه وآله وسلم نهی عن شرطين في بيع ولو باع شيئا بربح ده باز ده ولم يعلم المشتري راس ماله فالبيع فاسد حتی يعلم فيختار او يدع هکذا روي ابن رستم عن محمد لانه لم يعلم راس ماله کان ثمنه مجهولا وجهالة الثمن تمنع صحة البيع فاذا علم ورضي به جاز البيع لان المانع من الجواز وهو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس.
ترجمہ : بے شک رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودے منع فرمائے۔ یونہی جب یہ کہا میں نے تیرے ہاتھ یہ غلام سال تک ایک ہزار یا دو سال کے لئے ڈیڑھ ہزار میں بیچا کیونکہ قیمت نامعلوم ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے ایک سودے میں دو شرطیں لگانا۔
اور روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سودے میں دو شرطوں سے منع فرمایا ہے۔ اور اگر کوئی چیز یہ کہہ کر فروخت کی کہ دس پھر دس کے منافع کے ساتھ اور خریدار کو اصل قیمت کا پتہ ہی نہیں تو یہ بیع فاسد ہے۔ جب تک قیمت معلوم کر کے اسے اختیار نہ کرے یا چھوڑ دے۔ ابن رستم نے امام محمد رحمہ اﷲ سے یہی مفہوم روایت کیا ہے۔ کیونکہ اصل قیمت کا علم ہی نہیں تو مال کی مقدار معلوم نہ قیمت اور قیمت کی جہالت سودا جائز ہونے میں رکاوٹ ہے۔ جب خریدار کو مال اور قیمت دونوں کا علم ہو گیا اور وہ اس پر راضی ہو گیا تو بیع جائز ہے۔ کیونکہ اس سودے کے جواز میں سودا کرتے وقت یہی جہالت تھی جو اسی مجلس میں ختم ہو گئی ۔ (علاء الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 5: 158، بيروت، لبنان: دار الکتاب العربي،چشتی)
اس تفصیل سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو گئی کہ نقد اور اُدھار کے لیے دو علیحدہ علیحدہ قیمتیں مقرر کرنے سے اس حدیث کی مخالفت نہیں ہوتی جس میں نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع سے منع فرمایا ہے۔ جب خریدار اور فروخت کنندہ، نقد اور ادھار کی وضاحت کر کے جدا ہو جائیں اور کسی ایک صورت کا تعین نہ کریں تو اس صورت میں سودا کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں نہ قیمت کا تعین ہوا نہ مبیع کا، تو دونوں کی لاعلمی جھگڑے کا سبب بنے گی۔ قسطوں کی تجارت میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں بیع، قیمت اور مدت، ہر ایک کا تعین بروقت ہو جاتا ہے۔ کسی قسم کی جہالت باقی نہیں رہتی۔ اس طرح جب قیمت کا تعین ہو گیا، قسطیں اور ان کی شرح بھی متعین ہو گئی تو بیع ایک ہی ہے، دو نہ ہوئے اور ممانعت ایک بیع میں دو سودے کی ہے ایک کی نہیں ۔
نقد اور ادھار میں فرق کے بارے میں علامہ علاؤ الدین کاسانی فرماتے ہیں : لامساواة بين النقد والنسيئة لان العين خير من الدين والمعجّل اکثر قيمة من الموجل.
ترجمہ : نقد اور ادھار برابر نہیں، کیونکہ معین و مقرر چیز قرض سے بہتر ہے اور قیمت کی فوری ادائیگی میعادی قرض والی سے بہتر ہے ۔ (علاء الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 5: 187،چشتی)
اُدھار بیچنے کی وجہ صورت میں اصل قیمت میں زیادتی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : لوشتری شيئا نسيئة لم يبعه مرابحة حتی يبيّن لان للاجل شبهة المبيع وإن لم يکن مبيعا حقيقة لانه مرغوب فيه الاتری ان الثمن قد يزاد لمکان الاجل . ترجمہ : اگر ایک چیز قرض پر خریدی، اسے فائدہ لے کر، اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس کی وضاحت نہ کر دے کیونکہ مدت، مبیع (بکاؤ مال) کے مشابہ ہے، گو حقیقت میں مبیع نہیں، اس لئے مدت کی رعایت بھی رغبت کا باعث ہوتی ہے، دیکھتے نہیں کہ مدت مقررہ کی وجہ سے کبھی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ (علاء الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 5: 224)
یعنی اُدھار بیچنے کی صورت میں شے کی اصل قیمت میں زیادتی کرنا جائز ہے، یہ سود نہیں، تاہم ادائیگی میں تاخیر پر جرمانہ عائد کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے۔ بیع التقسیط (قسطوں پر خرید و فروخت) کے لیے ضروری ہے کہ ایک ہی مجلس میں یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ خریدار نقد لے گا یا اُدھار قسطوں پر، تاکہ اسی کے حساب سے قیمت مقرّر کی جائے۔ اس شرط کے ساتھ قسطوں پر اشیاء کی تجارت کرنا اور اس تجارت میں کسی کی معاونت کرنا شرعاً جائز ہے ۔
قسطوں پر گاڑی خریدنے کے متعلق ایک سوال کا جواب
سوال : کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ: ہمارے معاشرے میں بعض چیزیں دکاندار اگر نقد دیتے ہیں تو کم ریٹ لگاتے ہیں اور اگر قسطوں پر دیتے ہیں تو زیادہ ریٹ لگاتے ہیں، مثلاً رکشہ نقد بیچتے ہیں تو (1,80,000) ایک لاکھ اسّی ہزار روپے ریٹ لگاتے ہیں اور جب یہی رکشہ قسطوں پر بیچتے ہیں تو (2,40,000) دو لاکھ چالیس ہزار روپے ریٹ وصول کرتے ہیں۔ ماہانہ آٹھ سے دس ہزار روپے قسط ہوتی ہے اور کسی مجبوری کی وجہ سے وہ خریدنے والا قسط ادا نہ کرسکے تو دکاندار مطلوبہ رقم سے زیادہ وصولی نہیں کرتا ، بلکہ رکشے کے کاغذات ضبط کرلیتا ہے اور قسط ادا کرنے کی صورت میں کاغذات واپس کردیتا ہے۔ کیا یہ صورت شریعت کی روسے جائز ہے یا ناجائز ہے؟ کیا یہ سود تو نہیں ہے ؟ وضاحت : دوسری قسط میں تاخیر ہوجانے پر گاڑی ضبط کرلیتے ہیں ، پھر اگر وہ دوماہ قسطیں نہ دے سکا تو گاڑی بھی ضبط اورجو قسطیں اس نے بھری ہیں وہ بھی ضبط ہوجاتی ہیں ؟
جواب باسمہٖ تعالٰی صورتِ مسؤلہ میں قسطوں پر خرید وفروخت کی پہلی صورت جس میں مقررہ قسط کی متعینہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں اضافی رقم وصول نہیں کی جاتی، صرف کاغذات ضبط کرلیے جاتے ہیں، جو کہ قسط کی ادائیگی پر واپس بھی کردیئے جاتے ہیں، یہ معاملہ جائز ہے، بشرطیکہ نقد واُدھار کی دونوں قیمتیں خرید وفروخت کی مجلس میں ذکر ہوکر ادھار پر معاملہ کرنا طے ہوچکا ہو۔ جبکہ مؤخر الذکر صورت جس میں قسط ادا نہ کرسکنے کی نوبت آنے پر گاڑی اور ادا شدہ رقم ضبط کرلی جاتی ہے،یہ شرعاً ناجائز ہے۔ اگر کوئی شخص مجبوری کی بنا پر قسطیں ادا نہ کرسکے تو ادائیگی میں مہلت دے دینا کارِ ثواب ہے۔ اگر کسی مجبور شخص کو مہلت دینا کسی وجہ سے مفید نہ ہو تو بیع کالعدم قرار دی جائے اور اداشدہ رقم واپس کردی جائے۔ اگر خریدار شخص محض ٹال مٹول سے کام لے رہا ہو تو ایسے شخص پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس پر فروخت شدہ گاڑی یا اس کی کوئی اور قیمتی چیز اپنی قیمت کی وصولی کے لیے محض قبضہ میں لی جاسکتی ہے، مگر اس چیز کو مالک(خریدار) شخص کی مرضی یا عدالت کی مداخلت کے بغیر بیچنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر جائز طریقہ سے بیچنے کی نوبت آجائے تو ایسی صورت میں خریدار کے ذمہ واجب الاداء رقم وصول کرکے بلاکم وکاست بقیہ رقم خریدار کے حوالہ کرنا شرعاً لازم ہوگا۔ المبسوط للسرخسی میں ہے: ’’وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل بکذا وبالنقد بکذا أو (قال) إلی شہر بکذا وإلی شہرین بکذا فہو فاسد لأنہ لم یعاملہ علی ثمن معلوم ولنہی النبی a یوجب شرطین فی بیع وہذا ہو تفسیر الشرطین فی البیع ومطلق النہی یوجب الفساد فی العقد الشرعیۃ وہذا إذا افترقا علی ہذا ۔۔۔۔۔۔ فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا حتی قاطعہٗ علی ثمن معلوم وأتما العقدَ فہو جائز لأنہما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحۃ العقد الخ۔‘‘ (المبسوط للسرخسی،ج:۸،ص:۱۳) بدائع الصنائع میں ہے: ’’وکذا إذا قال: بعتک ہذا العبد بألف درہم إلی سنۃ أو بألف وخمسمأۃ إلی سنتین لأن الثمن مجہول ۔۔۔۔۔۔ فإذا علم ورضی بہ جاز البیع لأن المانع من الجواز ہو الجہالۃ عند العقد وقد زالت فی المجلس ولہٗ حکم حالۃ العقد، فصار کأنہ کان معلوما عند العقد وإن لم یعلم بہٖ حتی إذا افترقا تقرر الفساد۔‘‘ (بدائع الصنائع ،ج:۵،ص:۱۵۸) فتاویٰ شامی میں ہے: ’’ وفی شرح الآثار التعزیر بأخذ المال کان فی ابتداء الإسلام ثم نسخ۔ والحاصل أن المذہب عدم التعزیر بأخذ المال‘‘۔ (فتاویٰ شامی، ج:۳، ص:۶۱-۶۲،ط:سعید) ’’ والقاضی یحبس الحر المدیون لیبیع مالہ لدینہ وقضی دراہم دینہ من دراہمہ یعنی بلاأمرہ ، وکذا لوکان دنانیر وباع دنانیرہ بدراہم دینہ وبالعکس استحسانًا لاتحادہما فی الثمنیۃ لایبیع القاضی عرضہ ولاعقارہ للدین خلافًا لہما وبہ أی بقولہما ببیعہما للدین یفتی اختیار۔ وصححہ فی تصحیح القدوری ویبیع کل مالایحتاجہ فی الحال‘‘۔ قال العلامۃ الشامی رحمہ اللّٰہ: ’’أقول: رأیت فی الحظر والإباحۃ من المجتبٰی رامزًا مانصہٗ وجد دنانیر مدیونہ ولہ علیہ درہم لہ أن یأخذ لاتحادہما جنسًا فی الثمنیۃ ۔۔۔۔۔ تنبیہ:قال الحموی فی شرح الکنز نقلاً عن العلامۃ المقدسی عن جدہٖ الأشقر عن شرح القدوری للأخصب: إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس کان فی زمانہم لمطاوعتہم فی الحقوق والفتوی الیوم علٰی جواز الأخذ عند القدرۃ من أی مال کان لاسیما فی دیارنا لمداومتہم العقوق ‘‘۔ (فتاویٰ شامی، ج:۶، ص:۱۵۰-۱۵۱،ط:سعید)
قرآرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’وَإِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلٰی مَیْسَرَۃٍ الخ ‘‘۔ (البقرۃ:۲۸۰) ۔ ترجمہ : اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک، اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Saturday, 1 September 2018
ہندوؤں کی دیوالی کا کھانا و پیاؤ کا پانی پینے میں حرج نہیں
دیوبندیوں کے نزدیک : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر و آپ کے نام کی
سبیل سب بدعت و حرام ہیں اولیاء اللہ علیہم الرحمہ کا لنگر ناجایز ہے
فتاویٰ رشیدیہ صفحہ نمبر ۱۴۹ ، اور صفحہ نمبر ۵۷۵ پر لکھا کہ ہندوؤں کی
دیوالی کا کھانا و پیاؤ کا پانی پینے میں حرج نہیں ۔ ایسا کیوں ؟؟؟ دوسرے
چھاپے کے اسکن بھی ساتھ شامل ہیں اِدھر اُدھر کے کمنٹس کرنے والے اس تضاد
کا جواب دیں اسے کیا کہیں گے ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اردو دارالعلوم دیوبند سے سیکھی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اردو دارالعلوم دیوبند سے سیکھی
مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی لکھتا ہے : ایک صالح نے خواب میں دیکھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اردو میں بات کر رہے ہیں پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اردو کہاں سے آگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو عربی ہیں فرمایا جب سے دارالعلوم دیوبند سے واسطہ ہوا ۔ (بُراہین قاطعہ ٦۳ دارالکتاب دیوبند ، بُراہین قاطعہ صفحہ نمبر ۲۶ قدیم ، براہین قاطعہ صفحہ ۳۰ دارالاشاعت)
دیوبندیو اب یہ نہ کہہ دینا کہ یہ خواب کا واقعہ ہے ظالمو عام لوگوں کے متعلق خواب کا حکم الگ ہے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھنا حقیقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنا ہے پڑھو احادیث مبارکہ اور اپنی گستاخانہ سوچ سے توبہ کرو اب بھی وقت ہے : عن أبي ھریرہ رضی اللہ عنہ قال : قال الرسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من رآنی فی المنام فقد رآنی فان الشیطان لا یتمثل بی ۔ (صحیح بخاری : ۱۱۰ العمل ، صحیح مسلم : ۲۲۶۶ الرؤیا،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ، اس لیے کہ شیطان میری مثال نہیں بنا سکتا میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔
جب یہ حقیقت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھنا حقیقت میں دیکھنا ہے تو مفتیانِ دیوبند کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اردو دارالعلوم دیوبند سے سیکھی یہ گستاخی و بے ادبی نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیوبندیوں نے اپنا شاگرد بنا ڈالا ۔ اس پر کیا فتویٰ لگے گا ؟ ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام
کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پ...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
جن کے بڑے بےحیاء ہوں سوچیئے اُن کے چھوٹے کتنے بڑے بےحیاء ہونگے محترم قارئینِ کرام : بانی دیوبند کہتے ہیں وعظ کہنا دو شخصوں ک...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...














