تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ہیں جس نے اپنی رحمت و کرم سے ہم پر یہ احسانِ عظیم فرمایا کہ ہمیں اپنے محبوب کی امت میں پیدا کیا جس کا امتی بننے کے لئے انبیائ کرام بھی دعائیں مانگتے گئے اور تمام تعریفیں اس مالکِ حقیقی کی ہیں جس نے انسان کو اپنی نیابت عطا فرمائی یعنی اس کو خلافتِ الٰہیہ کا تاج پہنایا اور تمام تعریفیں اس ذات وحدہ ، لاشریک کی ہیں کہ جس نے اپنا جلوہ ظاہر کرنے کے لئے اور ہمیں اپنی معرفت و پہچان کے لئے اس کمرہ امتحان یعنی اس عالم ِ رنگ و بو میں اتارا ۔
اور کروڑوں ، اربوں درود ہوں اس محبوبِ ذاتِ حق پر کہ جس کا مقام ہر کسی کی سوچ اور ہر کسی کے علم و عقل ہر کسی کے خرد و فہم سے بہت بالا تر ہے اور اربوں ، کھربوں سلام ہوں انکی ذات پر جس کے روئے والضحیٰ میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا ظہور فرما کر اس کائناتِ ارض و سمائ کے درمیان ہی نہیں بلکہ کائناتِ الٰہی کی جہاں جہان تک وسعت ہے ۔ اس جگہ کو ان کے رخِ انور سے منور فرمایا اورکائنات کی تمام خوبصورتیاں کائنات کے تمام حسن اور کائنات کے تمام خزانے فداہوں ان پائے اقدس پر کہ جن کے اس کائنات لگتے ہی ظلمت و تاریکی کی یہ نگری خالصتاً اللہ تعالیٰ کے انوارو تجلیات سے جگمگا اٹھی کیوں کہ اس ذات محبوب میں خود ذاتِ باری تعالیٰ عیاں ہے
یوں تو اس دنیا میں علم کی کوئی کمی نہیں ہے جابجا تعلیمی مراکز ﴿چاہے کسی بھی شعبہ کی تعلیم﴾ کھل چکے ہیں لیکن جو چیز انسان کی روح کو تقویت پہنچاتی ہے اس دنیا میں ۔ دیکھنا یہ ہے میں اِسی طرف آپ کی توجہ کرانے کی کوشش کروں گا کہ وہ تعلیم ہم کو کہاں سے مل رہی ہے اور آج امت ِ مسلمہ کے زوال کا سبب کیا چیز بن رہی ہے اور کس چیز کی کمی ہے اس کو پورا کیسے کیا جائے ۔
ج۔ جے رب ناتیاں دھوتیاں ملدا تاں ملدا ڈڈواں مچھیاں ھو
جے رب لمبیاں والاں ملدا تاں ملدا بھیڈاں سسیاں ھو
جے رب راتیں جاگیاں ملدا تاں ملدا کال کڑچھیاں ھو
جے رب جتیاں ستیاں ملدا تاں ملدا دانداں خسیاں ھو
رب تنہاں نوں ملدا یا حضرت باھو(رح) نیتاں جہناں دیاں ہچھیاں ھو
اگر آج وقت کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھا جائے تو امت ِ مسلمہ کو ایک قیادت کی ضرورت ہے جو ہرلحاظ سے ’’الشیخ فی قومہ کنبی فی امۃ‘‘ ﴿مرشد اپنی قوم میں ایسے ہوتا ہے جیسے نبی اپنی امت میںہوتا ہے ﴾کی مصداق ہو اور وہ ہستی ’’ا.ل.م‘‘ کے مقام پر فائز ہستی ہو جس کی ایک ایک ادا ایسے ہو جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی ایک ایک ادا کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک زندہ تاریخ بنا کر بتایا ۔ اس کی بھی ایک ایک ادا دنیا میں تو ایک زندہ اور مستند تاریخ کی حیثیت رکھتی ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے انوار وتجلیات کا مرکز بھی اس ہستی اکمل کا چہرہ ہو ۔ جس کے بارے میں آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا’’ من نظر الیہ فکا نما ینظر الی اللّٰہ‘‘ ﴿جس نے ان کو دیکھا اس نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ﴾ کیونکہ وہ مرشد اکمل ہستی اللہ تعالیٰ کا شیشہ ہوتا ہے اور اس کے چہرے پر یعنی اللہ تعالیٰ کے اس شیشے میں تجلی بھی اللہ تعالیٰ کی ظاہر ہو چکی ہوتی ہے جس کو دیکھنا اللہ تعالیٰ کا دیکھنا ہے ۔ ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم بسوز صدیق(رض) ، چشم ِ عمر (رض) ، علم حیدر ، فقر فاطمہ (رض) ﴿خاتون جنت(رض) ﴾ ، صبر حسین (رض) ، سیف خالد (رض)، عشق بلال (رض) ،المختصر لسان پیر دستگیر ، باہو (رض) جیسے اوصاف و کمالات کی حامل ہو وہ ہستی اگر اس دور میں اس قوم کی کشتی کو چلائے تو کسی کنارے کی امید رکھی جا سکتی ہے ورنہ عام حالات جو کہ پہلے چلتے رہے ہیں یا چل رہے ہیں ان حالات میںکشتی کو بھنور سے نکالنا تو عام کسی پیر کا کام ہے نہ کسی عالم کا نہ کسی دوسرے راہنما کا کشتی کو بھنور سے نکال لانے کے لئے وہی ہستی تلاش کرناپڑے گی کیونکہ ہمیں اپنے آقا کی ’’وما ینطق عن الھویٰ‘‘ کی زبان پر اعتماد کامل ، ایمان مکمل اور یقین ِ اکمل ہے کہ دنیا میں کوئی دیوار بھی ایسی نہیں بچے گے جس پر اللہ تعالیٰ کے دین کا پرچم نہ لہرارہا ہو۔
معزز قارئین ِ کرام! اگر ہم آج دیکھیں کہ کیا کہیں ایسا کوئی چہرہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انورو تجلیات ’’ اظھر من الشمس ‘‘ ہوں جس کے اوپر’’فواہ الذی یعقل بہ‘‘ کا دعویٰ کیا جا سکے جس کے ہاتھوں کو ’’یدہ التی یبطش بھا‘‘ کا مصداق ٹھہرایا جا سکے ۔ جس کے کانوں کو ’’سمعہ یسمع بہ‘‘ کا حامل قرار دیا جا سکے ، جس کی زبان کو ’’لسانہ التی یتکلمبھا‘‘ کی زبان کہنا گوارہ کیا جا سکے جس کے پاؤں کو ’’رجلہ التی یمشی بھا ‘‘ کے پاؤں تسلیم کیا جا سکے۔ جس کی آنکھ کو ’’بصرہ الذی یبصر بہ‘‘ کی آنکھ مانا جا سکے ۔
میرے مسلمان دوستو ، بھائیو، بزرگو! آج ہم اگر ایک نگاہ اٹھا کر بھی مشائخ کی طرف دیکھیں تو ہماری نگاہ علامہ اقبال(رح) کی اس بات کے مطابق اتنی نیچی ہو جاتی ہے کہ پھر راستے کو دیکھ کر چلنا بھی محال ہو جاتا ہے ۔ دورِ حاضر کے مشائخ کے بارے میں علامہ اقبال صاحب (رح) فرماتے ہیں
ہو تم آباد قبروں کی تجارت کر کے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے
’’یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود ‘‘
عصرِ حاضر کے جو مشائخ ہیں انہوں نے ایک پاک اور لطیف شعبہ جو کہ اسلام کی بنیاد ہے جسے ہر دور میں مضبوط رکھنا ضروری تھا ، اور ہے ، اور ہو گا ، وہ تھا تصوف اور روحانیت کا شعبہ ۔ اس کو انہوں نے اتنا ضعیف کر دیا ہے کہ اب اس کا تصور ہی تبدیل ہو گیا ہے اور اس کی پاکی کو اتنی غلاظتوں میں ڈال دیا ہے کہ اب منشیات کے بڑے اڈے بھی درگاہوں اور خانقاہوں کو سمجھا جاتا ہے اور اس لطیف شعبے کو اتنی بے چینی اور بے سکونی میں ڈال دیا ہے ۔ لوگ اس میں آکر بھی افیم، چرس بالخصوص سبز پانی یعنی بھنگ تلاش کرتے پھر رہے ہیں ۔اب مشائخ اپنے آپ کو معالج شعبدے باز اور شیطانی عملیات پر کامل ، مکمل اور اکمل ظاہر کر رہے ہیں ۔ معالج شعبدے باز اور شیطانی عملیات پر عبور سے کیا مراد ہے ۔ جب کہ مندرجہ بالا سے کوئی بھی چیز پیر یا مرشد میں نہیں ہونی چاہئے اگر ہوتو جان بس وہ مرشد ناقص و نا مکمل اور راہزن ہے ۔
معالج:
اب جو مرشدوں نے اپنا کام بنایا ہوا ہے یعنی جومعالج جو بنے ہوئے ہیں اتنے تھرڈ کلاس اور گھٹیا معالج بنے ہیں کہ سن کر بھی شرم کے طوطے مر جائیں یعنی ایک مرید آتا ہے پیر کے پاس کہ پیر صاحب میری گائے دودھ نہیں دیتی ۔ آپ دعا کریں یا تو جہ کریں تاکہ میری گائے دودھ دینے لگ جائے تو پیر صاحب نے اپنی پیری کا ڈھنڈورا پھیلانے کے لئے کوئی نہ کوئی چیز دم کر کے دیتے ہیں تاکہ یہ گائے دودھ دینے لگ جائے ایک اور مرید آتا ہے کہتا کہ پیر صاحب میری بھینس کو حمل نہیں ٹھہرتا ہے آپ مہربانی کریں تاکہ میری بھینس کو حمل ٹھہر جائے ۔ تو پیر صاحب اپنی پیری کا لوہا منوانے کے لئے کوئی نہ کوئی چیز دم کر دیتے ہیں تاکہ اس کی بھینس کو حمل ٹھہر جائے ۔ ایک اور مرید آتا ہے پیر صاحب میری بکری کے بچے مر جاتے ہیں آپ کوئی چیز دیں تاکہ میری بکری کے بچے نہ مریں تو پیر صاحب اپنی پیری کی دھاک بٹھانے کے لئے کوئی نہ کوئی چیز دم کر کے دیتے ہیں تا کہ اس بکری کے بچے نہ مریں ۔ ایک اور مرید آتا ہے کہ پیر صاحب مرغی انڈے نہیں دیتی کوئی چیز دم کر دیں تاکہ میری مرغی انڈے دینے لگ جائے تو پیر صاحب اپنی پیری کو مزید اوج ثریا پر لیجانے کے لئے کوئی نہ کوئی چیز دم کر دیتے ہیں تاکہ یہ مرغی انڈے دینے لگ جائے ایک اور چیلا آجاتا ہے کہ پیر صاحب میرا بٹیر صحیح نہیں لڑتا کوئی چیز دم کر دیں تاکہ میرا بٹیر صحیح لڑے تو پیر صاحب اپنی پیری کو چار چاند لگانے لئے اسے کوئی چیز دم کر دیتے ہیں تا کہ اس کا بٹیر صحیح لڑنے لگ جائے تو اب یہ تمام عمل ہوگئے تو مرید بڑے اکڑ کر چلیں گے اور اپنے پیر کی پیری کو چمکانے کے لئے وہ پورے علاقے میں ایسی باتیں بتائیں گے کہ میری گائے دودھ نہیں دیتی تھی یامیری بھینس کو حمل نہیں ٹھہرتا تھا یا میری بکری کے بچے مر جاتے تھے میری مرغی انڈے نہیں دیتے تھی یا میرا بٹیر نہیں لڑتا تھا میں نے اپنے پیر صاحب سے دم کروایا تھا تو اب ہر چیزٹھیک ہے سینہ تان کر تڑیاں لگا لگا کر بتاتے ہیں جیسے ان کے پیر صاحب نے چاند توڑ کر ان کو تحفے میں دے دیا ہو ۔
معزز قارئین ! آپ ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ کیا پیر کا کام گائے کا دودھ نکلوانا یا بھینس کو حمل ٹھہرانا یا مرغیوں سے انڈے لینا رہ گیا ہے کہ کیا پیروں کا کام اتنا گٹھیا ہے حالانکہ ہماری جان اورا یمان کے مالک محبوب خداوند تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ’’ میری امت میں جو مرشد ہوں گے وہ ایسے ہوں گے جیسے نبی اپنی امت میں ہوتا ہے ‘‘ تو یہی اب کام رہ گیا ہے مرشد کامل کا کہ وہ دو نمبر معالج بن کر پھرتا ہے ، نہیں ! نہیں ! یہ کام مرشد کا نہیں ہے۔
شعبدے باز :
یہ دوسرا کام ہے جو لوگ اپنا کر اپنی روزی کما رہے ہیں اور اسلام کی روح پر پاش پاش کر دینے والے حملے کر رہے ہیں ۔ اسلامی طور طریقوں سے بھی امت ِ مسلمہ کو محروم کھلی گمراہی میں ڈال کر ان 72 گروہوں میں شامل کرنے کے خواہاں بن چکے ہیں کہ جن کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم نے فرمایا کہ ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کے 71 فرقے تھے جن میں ایک نجات والا تھا اور باقی 70 گمراہ ہو گئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے 72 فرقے تھے جن میں ایک نجات والا تھا اور باقی 71گمراہ ہو گئے فرما یاکہ میری امت کے 73فرقے ہوں گے جن میں ایک نجات والا ہوگا اور باقی 72 فرقے گمراہ ہوں گے ۔ ‘‘
یہ لوگ پیری کا روپ دھار کر لوگوں کو صراطِ مستقیم سے روک رہے تھے ۔ حالانکہ حقیقی معنوں میں مرشد کاکام بھی صراطِ مستقیم پر چلنا اور چلانا ہے کیونکہ مرشد خلیفۃ اللہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی نیابت کا حامل ہوتا ہے ۔ اس کا ہر قول اور ہر فعل اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ میرا قول اور فعل ہوتا ہے اگر دیکھا جائے تو پہلے جو اللہ کے خلیفے﴿ نائب﴾ تھے وہ انبیائ کرام علیہ السلام تھے اور جب آخری نبی ہمارے نبی ایسے نبی جو اپنی پیدائش سے لاکھوں سال پہلے بھی نبی تھے جو اللہ تعالیٰ کی نیابت کے حامل رہے ہیں اور اب بھی مرشد کی جو تعریف قرآن سے ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ’’مرشد تمام تر پلیدیوں سے اور ناپاکیوں سے نکال کر بحر معرفت میں ڈال دے ۔ جہاں پر مرید اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات کا بلا حجاب مشاہدہ کرتا ہے ۔‘‘ لیکن شعبدے باز پیر اس کام سے روکتے پھر رہے ہوتے ہیں اور پیسوں کے بھاؤ اپنی پیری کو دن دگنی اور رات چگنی ترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے ایسی طرف گامزن کر دیتے ہیں کہ پیسے دو اور خلافت لو ۔ جن کو یہ پتہ ہی نہیں کہ مرشد کیا ہے ؟ اور مرید کیا ہے ؟ اپنے آپ کو مرشد اعظم کہلواتے پھر رہے ہیں اور اپنے کرتب کا مظاہرہ کر کے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان پر تیزاب پھینک کر مسلسل مسخ کر رہے ہیں مثلاً کئی پیر یہ کہتے ہیں کہ آنکھیں بند کرو تمہیں مدینہ نظرآئے گا ، تمہیں خدا نظر آئے گا ، تم اس مقام پر پہنچ جاؤ گے ، تم فلاںمقام تک پہنچ جاؤ گے حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوتا وہ صرف یہ تاثر دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم اتنے بڑے پیر ہیں اگر کوئی مرید یہ کہہ دے کہ پیر صاحب مجھے کچھ بھی نظر نہیں آیا تو فقط یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ تمہارا وضو ٹھیک نہیں تھا یا تمہارا عقیدہ ٹھیک نہیں ہے اور کئی لوگ اور طریقے بھی اپناتے ہیں یعنی کوئی مرید بے چارہ جو تبخیر کا مریض ہو کہہ دیتے ہیں کہ اس پر جنات کا سایہ ہے اور اس غریب کی پٹائی شروع ہو جاتی ہے ایک اور طریقہ یہ بھی اپنی پیری بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ مرید کو حکم ہوتا ہے کہ تم فلاں وظیفہ کرو تمہارے پاس اتنے پیسے آئیں گے ۔ یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا ۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بندہ تو پہلے ہی دنیا میں اتنا غرق ہے کہ ان مرشدوں کے پاس آتا ہے کہ اسے اللہ کی ذات سے وصل نصیب ہو جائے ۔ مرشد الٹا اس کو ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے کہ وہ دور ہی دور ہو جاتا ہے ۔ آخر ایک دن وہ آ جاتا ہے جب وہ پیروں کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے ۔ شعبدے بازی کی پیری کے متعلق حضور حضرت سخی سلطان باہو (رح) صاحب فرماتے ہیں ’’ اگر ایک آدمی ہو ا میں اڑ رہا ہے کہ میں پیر ہوں تو جان لو کہ وہ پیر نہیں ہے ۔ وہ مکھی ہے جو ہوا میں اڑ رہی ہے اور وہ راہزن ہے اگر ایک آدمی سمندر کی سطح پر مصلیٰ بچھا کر نماز پڑھ رہا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں پیر ہوں تو جان لو کہ وہ پیر نہیں وہ تنکا ہے جو پانی کی سطح پر قائم ہے ۔ اگر ایک آدمی آگ کھا رہا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں پیر ہوں وہ مٹی کا بنا ہوا تندور ہے جو اپنے پیٹ میں آگ کو لئے ہوئے ہے وہ راہزن ہے بلکہ پیر وہ ہے جو اپنے مرید کو بغیر کسی چلہ ، وظیفہ اور بغیر کسی عبادت و ریاضت کے پہلے ہی ساعت میں اس کا ہاتھ جب اپنے ہاتھ میں لے تو اسے ’’موتو قبل ان تموتو ‘‘ اور ’’اذا اتم الفقر فھو اللہ‘‘ کے مقام پر پہنچا دے ۔
محترم قارئین! پیر کی صحیح اصطلاح اور تشریح بھی یہی ہے جو حضور حضرت سخی سلطان باہو (رح) صاحب نے کر دی ہے آپ اپنے پنجابی کلام میں ارشاد فرماتے ہیں ۔
نہیں فقیری جھلیاں مارن ستے لوگ جگاون ھو
نہیں فقیری واندھی ندی سکیاں پار لگاون ھو
نہیں فقیری وچ دریا دے مصلّہ پا ٹھہراون ھو
نام فقیر تنہاں دا یا حضرت باہو (رض) جہیڑے دل وچ یار ٹکاون ھو
حضور حضرت سخی سلطان باہو صاحب (رح) کی تعلیمات سے قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں وہ درس ایمانی و سبق سلطانی نصیب ہوتا ہے ۔ وہ بھی یہی ہے بلکہ آپ اپنی تصنیف میں ارشاد فرماتے ہیں ’’فقیر باہو‘‘ کہتا ہے کہ راہِ فقر میں استقامت کی ضرورت ہے نہ کہ ہوائے نفس و کرامات کی ضرورت ہے کیونکہ استقامت مرتبہ خاص ہے اور کرامت مرتبہ حیض و نفاس ہے ۔ سن اے یار طالب اللہ کا کیا کام حیض و نفاس سے ۔ ‘‘ ﴿عین الفقر﴾
اب ہم پر یہ حقیقت بنور آفتاب واضح ہو گئی کہ تمام شعبدے بازیوں سے ہٹ کر اور شعبدے باز مرشد کی بجائے ایسا مرشد تلاش کرنا چاہئے کہ جو اپنی نظر کے ساتھ اپنے مرید کو استقامت عطا فرمائے ۔
<شیطانی عملیات کے حامل پیر : align="justify">شیطانی عملیات کے حامل پیر :
آئے روز اخبارات کے اندر ، دیواروں پر لکھی گئی عبارات سے اور مختلف پمفلٹ اور چھوٹے چھوٹے کتابچوں سے ان جعلی پیروں کی مشہوری ہو رہی ہوتی ہے ۔ اشتہار بازی ہو رہی ہوتی ہے صرف ایک رات کے عمل سے ہر مسئلے کا حل ، جو چاہو سوپوچھو ، سنگدل محبوب آپ کے قدموں میں ، ستاروں کی چال کے ماہر ، علم ِ نجوم کے بے تاج بادشاہ ، بنگال کا کالا جادو، افریقہ کا کالا جادو، شوہر کو راہِ راست پر لانا ، چار دن کی چاندی پھر اندھیری رات، 5لاکھ نقد انعام اس عامل کو جو میرے عمل کی کاٹ کرے ، کا لے اور سفلی عمل کی کاٹ کے ماہر جناب عامل نجومی فلاں فلاں ، یورپ میں شہرت کے بعد اب آپ کے شہر میں ۔
ایسے ناقص اور جاہل مرشد جو کہ صرف عملیات کر کے اپنے مریدین سے پیسے بٹور رہے ہیں اوراپنا اُلو سیدھا کر رہے ہیں اور دروازے کے باہر ریٹ لسٹ آویزاں کر کے اپنی کمائی کے لئے اپنا بھی اور عوام الناس کا بھی ایمان پاؤں تلے روند رہے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی زبانِ گوہرفشاں سے ارشاد فرمایا ۔
الشیطان الانسان اشد من الشیطان الجن
ترجمہ: ’’ انسان شیطان، جن شیطان سے زیادہ سخت ہے ‘‘
مسلمانو!
فقط آج ہم یہ سوچیں کہ ہماری اپنی ملت یعنی ملت ِ اسلامیہ کیوں کھلی گمراہی میں جا رہی ہے اور لوگ کیوں جوق در جوق سامنے نظر آنے والی گمراہی کی آگ کی طرف کھنچے جا رہے ہیں اور بڑھ چڑھ کر اپنے آپ کو سب سے بڑا گمراہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر ایک نظر ہم ملکی و بین الاقوامی فرقہ پرستی کی طرف اٹھائیں تو باقی مذاہب کو ہم اگر اس میں ملوث کرنے کی بجائے مستثنیٰ کر دیں ۔ صرف اسلام کے اوپر نظر پھیریں تو بے شمار لوگ ، بے شمار باتیں اور بے شمار فرقوں کی صورت میں امت ِ مسلمہ میں انگریز کا باقاعدہ منصوبہ بندی سے چلا گیا مشن بڑا کھل کر سامنے آتا ہے جو کہ اس نے نجد سے ایک فتنہ کو اپنے ایجنٹ ہمفر ے کے ذریعے ہم مسلمانوں کے اندر تحلیل کیا وہ چند نظریات تھے جو اس نے قرآن و حدیث سے سراسر کھلے اختلافات اور اعتراضات بنا کر قوم کو ایک ڈرامہ دکھانے کے لئے بنا دیئے اور کچھ لوگ ایسے بھی پیدا کئے جو بجائے اس کے کہ فرقہ پرستی پر کنٹرول کرتے اور الٹی سیدھی من گھڑت کہانیوں کو علم و عقل و فہم کے ذریعہ ختم کرتے۔الٹا ہی ملک کو ایک فساد عظیم میں مبتلا کر کے اپنے مقاصد نکالنے میں کامیاب ہو گئے اور خانقاہوں پر طرح طرح کے جملے کسے جانے لگے اور اسلامی ثقافت جو کہ قرآن و حدیث نے اسلام کی بنیاد قرار دیا ہے اس کو مسلسل مجروح سے مجروح تر کیا جانے لگا ہے میں یہ کہوں گا کہ جولوگ یہ باتیں کرتے ہیں بے شک وہ کھلی گمراہی میں تو ہیں ہی لیکن اس جرم بے پایاں میں وہ لوگ سب سے زیادہ جواب دہ اور ملوث ہیں ۔ جن لوگوں نے خانقاہوں کو اور آستانوں کو شدید نقصان اپنے ملنگوں یعنی منشیات کے عادی لوگوں اور بھنگ بکثرت استعمال کرنے والوںکو چارج دے کر پہنچایا اور ان کے ساتھ ساتھ میں اپنی پوری قوم کو اس میں ملوث سمجھوں گا جنہوں نے ایسے ڈبے پیروں کو آگے لا کر یہ تباہی پھیلانے کا موقع دیا اگر آج بھی ہم یہ تہیہ کر لیں کہ ہم نے اپنی فلاح کی طرف جانا ہے ۔ اپنی منزل یعنی اپنے مقصد ِ حیات کو پانا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ’’ فخلقت الخلق لا عرف‘‘ میں نے مخلوق کو اپنی پہچان کے لئے پیدا فرمایا ہے ‘‘ تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر ہماری پلک بعد میں جھپکیں گے لیکن اس گوہر مقصود تک پہلے پہنچ جائیں گے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ من طلبنی فقد وجدنی ’’ جو مجھے طلب کرتا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے ‘‘ من وجدنی فقد عرفنی’’ جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے ۔‘‘
لیکن میرے محترم مسلمانو! اپنے آقا کے غلامو، یہ بات کہیں چھپی ہوئی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو پانے کے لئے وسیلہ ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وابتغو الیہ الوسیلہ’’ میری طرف وسیلہ تلاش کرو‘‘ اور اس وسیلہ سے مراد اولیائے کرام نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا ہے کہ وہ وسیلہ مرشد کامل کی ذات بابرکت ہے لیکن اب ہمارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ ہم وہ مرشد کیسے تلاش کریں جب کہ اینٹ اٹھائیں تو نیا پیر نیا مرشد نکل آتا ہے مرشد کی کیا نشانی ہے ؟ اور مرشد کیا ہوتا ہے ؟ مرید کو کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ یہ مرشد کامل یا اکمل یا مکمل ہستی ہے ؟ تو میرے دوستوآؤ! آج ہم اس بات کو مالک کی توفیق سے معلوم کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حدیث ِ قدسی میں ارشاد فرمایا ولکن یسعنی فی قلب عبد المومن ’’ میں اگر سماتا ہوں تو مومن کامل کے دل میں سماتا ہوں ‘‘ اس حدیث ِ قدسی سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی ذات اگر ہمیں مل سکتی ہے تو فقط اور فقط مرشد کامل کی بارگاہ سے ہی مل سکتی ہے کیونکہ مرشد کے اندر اللہ تعالیٰ کا نور اس طرح بھر جاتا ہے کہ اس کے ایک ایک بال ، جسم کے ہر ایک حصہ پر اللہ تعالیٰ کا نور چمک رہا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے بندے کے دل میں سماتا ہوں تو پورے وجود کو جو خون مہیا کر رہا ہے ، وہ یہی دل ہے جب دل میں اللہ کا نور آجائے تو دل وہی خون پورے وجود کے اندر چلا تا ہے تو وہ نور اس طرح پورے وجود میں پھیل جاتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ان فی الجسد مضغۃ صلحت صلح الجسد کلہ فسدت فسد الجسد کلہ الیٰ وھی القلب‘‘ کہ تمہارے وجود میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہے تو سارا وجود ٹھیک ہے اگر اس میں خرابی ہے تو پورے وجود میں خرابی ہوگی ۔ تو جان لو وہ دل ہے ‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر ارشاد فرمایا ’’ اللّٰہ نور السموات والارض مثل نورہ کمشکوۃ فیھا مصباح‘‘
ترجمہ: ’’ اللہ تعالیٰ نور ہے آسمانوں کا اور زمینوں کا اس کے نور کی مثال ایک برتن کی ہے جس میں ایک چراغ ہے ۔‘‘ علامہ محمود آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی اور علامہ ثنائ اللہ پانی پتی (رح) نے تفسیر مظہری کے اندر مشکواۃ یعنی برتن اور مصباح یعنی چراغ کی تفسیر کرتے ہوئے عبارت کچھ اس طرح درج کی ہے ’’ المشکوۃ حینئذ مثال القلب المومن و المصباح شبیہ یتجلی لقلب المومن ۔ ‘‘
ترجمہ : مشکوٰۃ﴿برتن﴾ سے مراد مومن کا مل کا دل اور مصباح ﴿چراغ﴾ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کے جو تجلی یا انوار یا عکس عین اس کی ذات نور علیٰ نور موجود ہوتی ہے وہ ہے ‘‘ تو اب ان عبارات سے ہمیں اتنا یقین ضرور ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بغیر تلاش مرشد یا بغیر وسیلہ اولیائے کاملین کے نہیں مل سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا اگر مجھے تلاش کرنا چاہتے ہو تو میں تجھے اپنے کسی پیارے کے وسیلے سے ہی مل سکتا ہوں ۔ جیسا کہ شہبازِ عارفاں حضور حضرت سخی سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رضی اللہ عنہ ورضو عنہ اپنے پنجابی کلام میں ارشاد فرماتے ہیں ۔
د۔ دل گولیں جے توں رب لوڑیں اللہ دل اندر ڈیرہ لاوندا ای
ہزار کعبے کولوںھک دِل بہتر صوفی فتویٰ علیہ فرماوندا ای
لا یسعنی ارضی ولا سمائی او ھور کسے جا نہ سماوندا ای
سلطان محمد بہادر علی شاہ مراد ہے دل مرشد ظاہر عارف اللہ کہاوندا ای
اور جیسا کہ مولانا روم فرماتے ہیں ۔
دل بدست آور کہ حج اکبر است
از ہزار کعبہ یک دل بہتر است
کیونکہ دل کے اندر اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے جسے دیکھنا حج اکبر ہے اور جب دل کے اندر اللہ تعالیٰ کی ذات آجاتی ہے دل اللہ تعالیٰ کی ذات کی قیام گاہ بن جاتا ہے اور دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈیرہ بن جاتا ہے ۔ تو پھر اللہ تعالیٰ اس میں سے یعنی اس بندے کی صورت سے اپنی ذات کا ظہور فرما کر اپنے طالبوں کو عین عیاں بلا حجاب جلوہ دکھاتا ہے جس کا اظہار حضرت ابو ہریرہ (رض) نے اپنی زبان میں مدینے کی گلیوں میں دوڑ دوڑ کر یوں کہا کہ ’’ رایت ربی فی سیکک المدینہ‘‘ یعنی میں نے مدینہ کی گلیوں میں رب العزۃ کو چلتے ہوئے دیکھا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا انی مرأۃ الرحمان من رانی فقد رای الحق ’’ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا شیشہ ہوں اور جس نے مجھے دیکھا اس نے اللہ کو دیکھا ‘‘تو اس سے مرادیہ ہر گز نہیں کہ نبی یا ولی نعوذ باللہ اللہ بن جاتا ہے بلکہ وہ تو اللہ کا شیشہ بن جاتا ہے اور اس شیشے میں اللہ کے عکس کود یکھنا ہے تو ادھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے اللہ تعالیٰ کو جس صورت میں دیکھا تو اظہار بھی وہی کیا کہ میں نے اللہ کو اس صورت میں دیکھا ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینے کی گلیوں میں اللہ کو چلتے ہوئے دیکھا تو رب کسے کہتے ہیں ۔ رب کے معنی ہیں پالنے والا ۔ ایک مختصر سی بات عرض کرتا ہوں کہ حضور سلطان العارفین سلطان الفقر پنجم حضرت سخی سلطان باہو صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو سب سے پہلے اپنے نور سے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم بنایا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے نور سے 18ہزار عالم کی ارواح کو پیدا فرمایا ۔ اور پھر اپنے نور کا اسم اللہ ذات کی صورت میں اظہار فرمایا اور ان روحوں کو چار ہزار سال اپنے نور کا اسم اللہ ذات کی صورت میں دیدار کروایا تو پھر ان تمام کو مقام الست پر اکٹھا فرمایا اور پھر ان سے یوں فرمایا کہ ’’الست بربکم ‘‘ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ تمام روحوں نے عرض کی قالو بلی شھدناہاں یا اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب ہے ۔ ادھر سلطان العارفین صاحب (رح) فرماتے ہیں ’’کہ اس وقت ہر چیز کی روح موجود تھی لیکن کسی بھی چیز کا وجود نہیں تھا خوراک کی کسی چیز کا وجود نہیںتھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں تمہارا پالنے والاہوں ۔ تو روحوں نے اقرار کیا کہ تو ہی تو ہمارا پروردگار ہمارا پالنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ادھر اپنی صفت ربوبیت کا اظہار کیوں فرمایا اس لئے کہ اس وقت تمام روحیں اللہ تعالیٰ کے دیدار میں پل رہی تھیں یعنی اسم اللہ ذات کی صورت کو دیکھ کر پل رہی تھیں توجب حضرت ابو ہریرہ (رض) کو وہی اسم اللہ ذات کا جلوہ یعنی اللہ کی ذات کا جلوہ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی صورت مبارک چہرہ اطہر پر نظر آیا تو بغیر کسی تکلف کے اظہار کر دیا ۔ کہ یہی ہمارا رب ہے تو اب معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام (رض) کو بھی اللہ کا دیدار اسم اللہ ذات کی صور ت میں ہوا جو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے چہرہ انور پر تھا اور انہوں نے اسکو پہچانا اور پوری دنیا میں اس کی منادی کی کہ ہم نے اپنے رب کو پہچان لیا جو کہ ہماری زندگی کا مقصد تھا ۔ ہم اسی ہستی پاک کے نشان کف پا اور اس ہستی کے پیغام پر ہی مر مٹیں گے نہیں بلکہ ہم ہمیشہ کے لئے زندہ بھی رہیں گے اور ایک زندہ تاریخ بھی بن جائیں گے تو میرے دوستو! میں بھی یہ عرض کرنا چاہتا تھا اور کرتا رہوں گا کہ اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کو پہچاننا ہے ایک ایسامرد اکمل پکڑیں جس کے چہرے پر وہی صورت ہو جو حضرت ابو ہریرہ (رض) نے بیان کی ۔ وہ صورت پہلے بھی بیان ہو چکی ہے ۔ وہ اسم اللہ ذات کی صورت ہے وہی مرشد ، مرشد اکمل ہے اور ایسے ہی مرشد کے ہاتھ پر بیعت جائز اور حلال ہے اور ایسے ہی مرشد کے بارے میں مولانا روم (رح) فرماتے ہیں ۔
بشکل شیخ دیدم مصطفےٰ را
نہ دیدم مصطفےٰ را بل خدا را
تو اے عالم اسلام کے مسلمانو ! اگر ایسی صورت کے متلاشی ہو تو اس کا اظہار بہت پہلے ہو چکا ہے کہ جس کے چہرۂ اقدس پر صورتِ اسم اللہ ذات کا ظہور ہے مگر یہ بھی مشروط بات ہے کہ
آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدۂ کو ر کو کیا آئے نظر اور کیا دیکھے
راہِ طلب میں جذبۂ کامل ہو جن کے پاس
خود ان کو ڈھونڈ لیتی ہے منزل کبھی کبھی
خرد نے کہہ بھی دیا لا اِلہٰ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو
تیرا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی
عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب ِ لولاک نہیں ہے
واعظ کمالِ ترک سے ملتی ہے یاں مُراد
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
﴿علامہ اقبال (رح) ﴾
Wednesday, 2 September 2015
مفاسد زبان اور آج کے مسلمان پڑھئیے اور سوچئیے ؟
کوئی بھی انسان جب اپنی زبان کو بے قابو چھوڑتا ہے تو ہر لمحہ اس کے مفاسد اور اس کی خرابیاں وجود میں آتی رہتی ہیں۔ اِس مضمون میں ہم زبان کے چند جرائم اور مفاسد پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ کسی حد تک ہم ان مفاسد سے بچنے کی کوشش کرسکیں اور اس کے نتیجے میں ایک صالح اور روشن معاشرہ وجود میں آسکے۔
گالی
گالی دینا یا کسی کو برا بھلا کہنا اخلاق رزیلہ میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا میں بہت سارے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیںجو بات بات پر اپنی زبانوں کو گالیوں سے گندا کرتے ہیں۔ مگر ایک باوقار اور بردبار شخص ہمیشہ اس سے اپنی زبان کو محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے منافق کی علامات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِذَا خَاصَمَ فَجَرَ‘‘جب لڑائی کرے تو فوراً گالی پر اتر آئے’’
گالی دراصل اپنے مخالف کو کمزور کرنے اور کبھی کبھی اشتعال دلانے کے لیے دی جاتی ہے۔ مگر ایک بندۂ مومن اس برے ہتھیار کاکسی بھی صورت میں استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے۔ حالاںکہ ردّعمل میں اگر وہ بھی کوئی سخت رویّہ اختیارکرلے اور برابری کی حد تک کوئی اقدام کرلے تو اس سے مواخذہ نہیںہوگا۔قرآن میں ہے:
لاَّ یُحِبُّ اللّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوٓئ ِ مِنَ الْقَوْلِ ِٓلاَّ مَن ظُلِمَ وَکَانَ اللّہُ سَمِیْعاً عَلِیْماً۔ِٓن تُبْدُواْ خَیْْراً أَوْ تُخْفُوہُ أَوْ تَعْفُواْ عَن سُوْٓئٍ فَاِنَّ اللّہَ کَانَ عَفُوّاً قَدِیْرا۔ ﴿النساء: ۱۴۹،۱۴۸﴾
‘‘اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ سب کچھ سننے او ر جاننے والا ہے۔ ﴿مظلوم ہونے کی صورت میں اگرچہ تم کو بدگوئی کا حق ہے﴾ لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جائو، یا کم از کم برائی سے درگزر کرو تو اللہ ﴿کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ﴾ بڑا معاف کرنے والا ہے، ﴿حالاں کہ سزا دینے پر﴾ پوری قدرت رکھتا ہے۔’‘
اسی بات کو اللہ کے رسول ﷺ نے ایک حدیث میںدوسرے انداز میں فرمایا:
اِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحْدِکُمْ فَلَا یَرْفُثْ وَلَا یَصْخَبْ،فَاِنْ سَابَّہُ أَحْدٌ أَوْ قَاتَلَہُ فَلْیَقُلْ:اِنِّيْ اِمْرَؤٌ صَائِمٌ ﴿بخاری، کتاب الصوم، باب ھل یقول انی صائم اذا شتم﴾
‘‘جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ گندی گفتگو کرے، نہ لڑائی جھگڑا کرے، اگر اسے کوئی گالی دے یا لڑائی کرے، تو وہ جواب میں کہے میں روزے سے ہوں۔’‘
اس حدیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ مومن بندہ بھی جواب دے سکتا ہے مگر اعلیٰ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ مومن کسی بھی طرح بلندی سے پستی کی طرف نہ آئے۔ بل کہ اس کے اور اُس زبان دراز یا گالی دینے والے کے درمیان واضح فرق نظر آنا چاہیے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؒ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہ’‘ کُفْرٌ’‘ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق اور قتل کرنا کفر ہے’‘
ایک حدیث میں آپﷺ نے گالی گلوچ کو کبائر میں شمار کیا ہے۔
عَنْ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال:َ مِنَ الْکَبَائِرَ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَھَلْ یَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ، نَعَمْ یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُّبُ أَبَاہُ وَیَسُبُّ أُمَّہ، فَیَسُبُّ أُمَّہ،۔
﴿مسلم،کتاب الایمان باب الکبائر وأکبرھا، بخاری، کتاب الادب،باب لا یسب الرجل والدہ﴾
‘‘حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو سب وشتم کرنا بڑے گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے ، آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ ﴿وہ اس طرح کہ﴾ وہ کسی کے والد کو گالی دیتا ہے جواب میں وہ بھی اس کے والد کو گالی دیتا ہے۔وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ بھی اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ﴿تو سمجھا جائے گا کہ اس نے خود اپنے والدین کو گالی دے دی﴾ ۔ ‘‘
کسی پر تہمت لگانا
قرآن مجیدمیں تہمت کے لیے رمی کا لفظ اور حدیث میں قذف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تہمت دراصل ایک ایسی بات کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی دوسرے شخص کو کسی ایسے جرم اور گناہ کا مجرم قرار دیا جائے جس کا ارتکاب اس نے نہ کیا ہو۔ شریعت میں یہ ایک گھناؤنی حرکت ہے اور اس عمل کے ذریعے ایک انسان دنیا میں اللہ کی طرف سے ذلت اور رسوائی کا اور آخرت میں عذاب الیم کا مستحق قرار پاتا ہے۔ تہمت لگانے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعے قاذف ﴿تہمت لگانے والا﴾ مقذوف ﴿جس پر تہمت لگائی گئی ہو﴾ کو معاشرے کے اندر رسوا اور ذلیل کرنا چاہتا ہے اور اس کی عزت کو مٹی میں ملانا چاہتا ہے۔ اس عمل کی شدت ِکراہت ہی کی وجہ سے اللہ نے قرآن مجیدمیں ایک سخت قانون وضع کیا ہے۔ تاکہ اس عمل کے مرتکب کو سزا دے کر معاشرے کو اس کے ذریعے سے پیدا ہونے والے فسادات سے محفوظ رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَداً وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون۔ ﴿النور:۴﴾
‘‘اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، تو ان کو اسی﴿۰۸﴾ کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔’‘
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تہمت تو بہ ہرحال ایک جرم ہے چاہے کسی پر بھی لگائی جائے، مگر اس کی شدت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب یہ پاک دامن عورتوں پر لگائی جائے۔
ایک اور پرجگہ اللہ تعالیٰ نے قاذف کے لیے دنیا اور آخرت کی دونوں سزائوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ ﴿النور: ۳۲﴾
‘‘جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔’‘
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
وَمَن یَکْسِبْ خَطْٓیئَۃً أَوْ اِثْماً ثُمَّ یَرْمِ بِہِ بَرِٓیْئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَاناً وَّاِثْماً مُّبِیْناً﴿النساء: ۱۱۲﴾
‘‘اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بے گناہ پر تھوپ دیا، اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔’‘
اللہ کے رسولﷺ نے ایک حدیث میںسات ہلاکت خیز چیزوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ان میں ایک یہ بھی ہے کہ کسی پاک دامن مومن اور بے خبر عورت پر تہمت لگائی جائے۔ ﴿مسلم، کتاب الایمان، باب الکبائر واکبرھا﴾
تہمت کا اطلاق خاص طور پر زنا اور بدکاری کے الزام پر ہوتا ہے۔ لیکن اگر دوسرے جرائم اور گناہوں کا الزام لگایا جائے تو وہ بھی اس میں شامل ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَھُوَ کَقَتْلِہِ ﴿ بخاری،کتاب الادب،ترمذی،ابواب الایمان﴾
‘‘جس نے کسی مومن کو کفر کی تہمت لگائی یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اس کو قتل کر دیا’‘
ایک اور حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃؒ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوْکَہ، وَھُوَ بَرِیئٌ مِمَا قَالَ جُلِدَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ۔ ﴿بخاری، کتاب المحاربین، باب قذف العبید۔ ترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب النھی عن ضرب الحذام و شتم﴾
‘‘حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ میں نے ابا القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالاں کہ وہ اس تہمت سے بری ہو تو قیامت کے روز اس﴿آقا﴾ پر کوڑے مارے جائیں گے الا یہ کہ ایسا ہی ہو جیسا اس نے کہا۔’‘
غرض تہمت زبان کا ایک ایسا جرم ہے کہ اگر بالفرض دنیا میں اس کی سز ا سے انسان بچ بھی جائے، تو قیامت کے روز اس کی سزا جہنم کی صورت میں اس کو ضرورملے گی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
قَذْفُ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِأَۃِ سَنَۃٍ ﴿عن حذیفہ، تفسیر ابن کثیر ج۳ سورۃ النور، بحوالہ ابن ابی حاتم﴾
‘‘پاک دامن عورت پر تہمت لگانا ایک سو سال کی عبادت کو ضائع کر دیتا ہے۔’‘
غیبت
کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی اس طرح بیان کرنا، جس سے اس کی اصلاح مقصود نہ ہو، جس کے نتیجے میں اس کی ذلت و رسوائی ہورہی ہو، اِسے غیبت کہتے ہیں۔شریعت میں غیبت کو ایک بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ غیبت کی تعریف اللہ کے رسولﷺ نے اس طرح بیان فرمائی ہے:
أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِیْبَۃِ؟ قَالُوْا، اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہ، أَعْلَمُ، قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ، قِیْلَ أَفَرَأَیْتَ اِنْ کَانَ فِيْ مَا اَقُوْلُ؟ قَالَ اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقَُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہ، وَاِنْ لَمْ یَکُنْ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَھَتَّہ،۔ ﴿مسلم، کتاب البر، باب تحریم الغیبۃ، ترمذی،ا بواب البر والصلۃ، باب ما جائ فی الغیبۃ﴾
‘‘نبی ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسولﷺزیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر کر ے ایسے ڈھنگ سے کروجو وہ ناپسند کرتا ہو، پھر آپﷺ سے پوچھا گیا، اگر وہ بات ﴿عیب﴾ جو میں کہہ رہا ہوں میرے بھائی کے اندر پائی جاتی ہوتو آپﷺ نے فرمایا اگر وہ بات جو تو کہتا ہے اس کے اندر موجود ہو تو یہ غیبت ہوئی اور اگر اس کے اندر وہ بات ﴿عیب﴾ نہیں ہے تو تونے اس پر بہتان لگایا۔’‘
اس حدیث سے غیبت اور تہمت کے درمیان واضح فرق معلوم ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کو اپنے مردہ بھائی کاگوشت کھانے سے تشبیہہ دی ہے۔ اس لیے کہ جس طرح کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے اور اس کا مردہ بھائی اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اسی طرح جس کی غیبت کی جاتی ہے وہ بھی اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَن یَأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْْتاً فَکَرِہْتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ اِنَّ اللَّہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۔ ﴿الحجرات:۱۲﴾
‘‘اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔’‘
ایک حدیث میں غیبت کو زنا سے زیادہ سنگین قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا گیا:
‘‘غیبت زنا سے سخت تر گناہ ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺغیبت زنا سے سخت گناہ کیوں کر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ آدمی زنا کرتا ہے تو پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کرے گا جب تک کہ وہ شخص اس کو معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہے۔’‘ ﴿راہ عمل،ص: ۱۶۶﴾
چغلی
چغلی کھانا بھی زبان کا ایک بدترین اور قبیح عیب ہے، جس کی وجہ سے ایک صحیح سالم معاشرے کے افراد ایک دوسرے سے بدظن ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے پرسے اعتماد اٹھتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے کی اخلاقی ترقی رک جاتی ہے۔چغلی یہ ہے کہ کسی کی ایسی بات کو دوسرے ایسے شخص کے ہاں پہنچانا جس کو سن کر وہ اس اسے بدگمان اور ناراض ہو جائے اور ان کے باہمی تعلقات خراب ہو جائیں۔ جب کہ اسلام صلح و صفائی اور آپس میں مضبوط رشتے کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے:
عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ یَقُوْلُ: لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ ﴿بخاری،کتاب الادب، باب ما یکرہ من النمیمۃ﴾
‘‘حضرت حذیفہؒ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا۔’‘
روایات میں آیا ہے کہ دو اشخاص کو محض عذاب قبر میں مبتلا ہونا پڑا کہ ان میں ایک آدمی پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھااور دوسرا لوگوں کے سامنے دوسروں کی چغلی کھاتا تھا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رشتوں کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعٌ۔ ﴿بخاری، کتاب الادب، باب اثم القاطع﴾
‘‘رشتوں کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔’‘
جھوٹ
حقیقت کے خلاف کوئی کلام کرنا جھوٹ کہلاتا ہے۔ یہ منافقانہ صفت ہے اور ایک سچا مومن اس خصلت سے اپنے آپ کو ہمیشہ دور رکھتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا:
عَنْ أَبِيْ أَمَامَۃَؒ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَطْبَعُ المُؤْمِنُ عَلَی الْخِلَالِ کُلِّھَا الَّا الْخِیَانَۃِ وَالْکِذْبِ۔﴿مسنداحمد﴾
‘‘ابو امامہؒ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’‘ مومن کی طبیعت میں ہر عادت وخصلت کا امکان ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔’‘
اور یہ منافق کی علامت بتائی گئی:
اذَا حَدَثَ کَذِبَ، وَاِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔
‘‘جب وہ بولے تو جھوٹ بولے اور اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔’‘
طنز اور عیب جوئی
طنز اور عیب جوئی کرنا بھی ایک بدترین لسانی خرابی ہے۔ اس لیے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ حتی المقدور دوسروں پر طنز کرنے اور ان کے عیب ٹٹول کر بیان کرنے سے باز رہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی تمام نیکیاں برباد کر کے اسے جہنم کے اندر گرا دے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ہلاکت کی بشارت دیتا ہے:
وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔﴿الھمزۃ:۱﴾
‘‘تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں پر طنز اور برائیوں کا خوگر ہے۔’‘
اللہ کے رسولﷺکو ان تمام لوگوں کی اطاعت سے منع فرمایا گیا جن کے اندر یہ اوصاف ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ہَمَّازٍ مَّشَّائ بِنَمِیْمٍ۔مَنَّاعٍ لِّلْخَیْْرِ مُعْتَدٍ أَثِیْمٍ۔عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ۔ ﴿القلم:۱۰،۱۳﴾
‘‘ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا، بے وقعت آدمی ہے، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے، ظلم وزیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہوتا ہے، سخت بداعمال ہے، جفا کار ہے، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔’‘
اللہ کے رسولﷺ نے ایک موقعے پر اہل نفاق مسلمانوں کو بلند آواز سے خطاب فرمایا:
یَا مَعْشَرَ مَنْ اَسْلَمَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَفْضُ الْ۱ِیْمَانُ اِلَی قَلْبِہ لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تُعَیِّرُوْھُمْ وَلَا تَتَبِّعُوْا عَوْرَاتِھِمْ فَاَّہ، مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَۃَ أَخِیْہ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللّٰہُ عَوْرَتَہ، وَمَنْ یَتَبَّعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہ، یَفْضَحْہُ وَلَوْ فِيْ جَوْفِ رَحْلِہِ۔ ﴿ترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجائ فی تعظیم المومن، عن ابن عمر﴾
‘‘اے افراد جماعت! جو زبان سے مسلم ہو اور ایمان دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کو ایذا نہ دو، ان پر طنز نہ کرو اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی تلاش میںرہے گا اللہ تعالیٰ اس کا بھانڈا پھوڑ دے گا، اللہ تعالیٰ جس کی برائیوں کا پردہ چاک کرتا ہے، اسے بے عزت اور رسوا کرتا ہے، چاہے وہ اپنے گھر کے اندر ﴿خلوت میں﴾ برائی کر رہا ہو۔’‘
قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے ایک آیت میں مختلف لسانی عیوب کی نشان دہی فرما کر مومنوں کو ان سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:
یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْْراً مِّنْہُمْ وَلَا نِسَائ مِّن نِّسَائ عَسَی أَن یَکُنَّ خَیْْراً مِّنْہُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْاْمَانِ وَمَن لَّمْ یَتُبْ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ۔ ﴿الحجرات:۱۱﴾
‘‘اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو، ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنابہت بری بات ہے۔جو لوگ اس روش سے بازنہ آجائیں، وہ ظالم ہیں۔’‘
مندرجہ بالا آیت کریمہ میں تمام لسانی عیوب کو گنا کر آخر میں فرمایا گیا کہ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام عیوب ایک فاسق شخص کے اندر ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے کہ ایمان کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ مومن کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلم محفوظ اور مامون رہیں ۔
گالی
گالی دینا یا کسی کو برا بھلا کہنا اخلاق رزیلہ میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا میں بہت سارے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیںجو بات بات پر اپنی زبانوں کو گالیوں سے گندا کرتے ہیں۔ مگر ایک باوقار اور بردبار شخص ہمیشہ اس سے اپنی زبان کو محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے منافق کی علامات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِذَا خَاصَمَ فَجَرَ‘‘جب لڑائی کرے تو فوراً گالی پر اتر آئے’’
گالی دراصل اپنے مخالف کو کمزور کرنے اور کبھی کبھی اشتعال دلانے کے لیے دی جاتی ہے۔ مگر ایک بندۂ مومن اس برے ہتھیار کاکسی بھی صورت میں استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے۔ حالاںکہ ردّعمل میں اگر وہ بھی کوئی سخت رویّہ اختیارکرلے اور برابری کی حد تک کوئی اقدام کرلے تو اس سے مواخذہ نہیںہوگا۔قرآن میں ہے:
لاَّ یُحِبُّ اللّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوٓئ ِ مِنَ الْقَوْلِ ِٓلاَّ مَن ظُلِمَ وَکَانَ اللّہُ سَمِیْعاً عَلِیْماً۔ِٓن تُبْدُواْ خَیْْراً أَوْ تُخْفُوہُ أَوْ تَعْفُواْ عَن سُوْٓئٍ فَاِنَّ اللّہَ کَانَ عَفُوّاً قَدِیْرا۔ ﴿النساء: ۱۴۹،۱۴۸﴾
‘‘اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ سب کچھ سننے او ر جاننے والا ہے۔ ﴿مظلوم ہونے کی صورت میں اگرچہ تم کو بدگوئی کا حق ہے﴾ لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جائو، یا کم از کم برائی سے درگزر کرو تو اللہ ﴿کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ﴾ بڑا معاف کرنے والا ہے، ﴿حالاں کہ سزا دینے پر﴾ پوری قدرت رکھتا ہے۔’‘
اسی بات کو اللہ کے رسول ﷺ نے ایک حدیث میںدوسرے انداز میں فرمایا:
اِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحْدِکُمْ فَلَا یَرْفُثْ وَلَا یَصْخَبْ،فَاِنْ سَابَّہُ أَحْدٌ أَوْ قَاتَلَہُ فَلْیَقُلْ:اِنِّيْ اِمْرَؤٌ صَائِمٌ ﴿بخاری، کتاب الصوم، باب ھل یقول انی صائم اذا شتم﴾
‘‘جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ گندی گفتگو کرے، نہ لڑائی جھگڑا کرے، اگر اسے کوئی گالی دے یا لڑائی کرے، تو وہ جواب میں کہے میں روزے سے ہوں۔’‘
اس حدیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ مومن بندہ بھی جواب دے سکتا ہے مگر اعلیٰ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ مومن کسی بھی طرح بلندی سے پستی کی طرف نہ آئے۔ بل کہ اس کے اور اُس زبان دراز یا گالی دینے والے کے درمیان واضح فرق نظر آنا چاہیے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؒ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہ’‘ کُفْرٌ’‘ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق اور قتل کرنا کفر ہے’‘
ایک حدیث میں آپﷺ نے گالی گلوچ کو کبائر میں شمار کیا ہے۔
عَنْ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال:َ مِنَ الْکَبَائِرَ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَھَلْ یَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ، نَعَمْ یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُّبُ أَبَاہُ وَیَسُبُّ أُمَّہ، فَیَسُبُّ أُمَّہ،۔
﴿مسلم،کتاب الایمان باب الکبائر وأکبرھا، بخاری، کتاب الادب،باب لا یسب الرجل والدہ﴾
‘‘حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو سب وشتم کرنا بڑے گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے ، آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ ﴿وہ اس طرح کہ﴾ وہ کسی کے والد کو گالی دیتا ہے جواب میں وہ بھی اس کے والد کو گالی دیتا ہے۔وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ بھی اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ﴿تو سمجھا جائے گا کہ اس نے خود اپنے والدین کو گالی دے دی﴾ ۔ ‘‘
کسی پر تہمت لگانا
قرآن مجیدمیں تہمت کے لیے رمی کا لفظ اور حدیث میں قذف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تہمت دراصل ایک ایسی بات کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی دوسرے شخص کو کسی ایسے جرم اور گناہ کا مجرم قرار دیا جائے جس کا ارتکاب اس نے نہ کیا ہو۔ شریعت میں یہ ایک گھناؤنی حرکت ہے اور اس عمل کے ذریعے ایک انسان دنیا میں اللہ کی طرف سے ذلت اور رسوائی کا اور آخرت میں عذاب الیم کا مستحق قرار پاتا ہے۔ تہمت لگانے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعے قاذف ﴿تہمت لگانے والا﴾ مقذوف ﴿جس پر تہمت لگائی گئی ہو﴾ کو معاشرے کے اندر رسوا اور ذلیل کرنا چاہتا ہے اور اس کی عزت کو مٹی میں ملانا چاہتا ہے۔ اس عمل کی شدت ِکراہت ہی کی وجہ سے اللہ نے قرآن مجیدمیں ایک سخت قانون وضع کیا ہے۔ تاکہ اس عمل کے مرتکب کو سزا دے کر معاشرے کو اس کے ذریعے سے پیدا ہونے والے فسادات سے محفوظ رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَداً وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون۔ ﴿النور:۴﴾
‘‘اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، تو ان کو اسی﴿۰۸﴾ کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔’‘
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تہمت تو بہ ہرحال ایک جرم ہے چاہے کسی پر بھی لگائی جائے، مگر اس کی شدت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب یہ پاک دامن عورتوں پر لگائی جائے۔
ایک اور پرجگہ اللہ تعالیٰ نے قاذف کے لیے دنیا اور آخرت کی دونوں سزائوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ ﴿النور: ۳۲﴾
‘‘جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔’‘
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
وَمَن یَکْسِبْ خَطْٓیئَۃً أَوْ اِثْماً ثُمَّ یَرْمِ بِہِ بَرِٓیْئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَاناً وَّاِثْماً مُّبِیْناً﴿النساء: ۱۱۲﴾
‘‘اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بے گناہ پر تھوپ دیا، اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔’‘
اللہ کے رسولﷺ نے ایک حدیث میںسات ہلاکت خیز چیزوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ان میں ایک یہ بھی ہے کہ کسی پاک دامن مومن اور بے خبر عورت پر تہمت لگائی جائے۔ ﴿مسلم، کتاب الایمان، باب الکبائر واکبرھا﴾
تہمت کا اطلاق خاص طور پر زنا اور بدکاری کے الزام پر ہوتا ہے۔ لیکن اگر دوسرے جرائم اور گناہوں کا الزام لگایا جائے تو وہ بھی اس میں شامل ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَھُوَ کَقَتْلِہِ ﴿ بخاری،کتاب الادب،ترمذی،ابواب الایمان﴾
‘‘جس نے کسی مومن کو کفر کی تہمت لگائی یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اس کو قتل کر دیا’‘
ایک اور حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃؒ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوْکَہ، وَھُوَ بَرِیئٌ مِمَا قَالَ جُلِدَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ۔ ﴿بخاری، کتاب المحاربین، باب قذف العبید۔ ترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب النھی عن ضرب الحذام و شتم﴾
‘‘حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ میں نے ابا القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالاں کہ وہ اس تہمت سے بری ہو تو قیامت کے روز اس﴿آقا﴾ پر کوڑے مارے جائیں گے الا یہ کہ ایسا ہی ہو جیسا اس نے کہا۔’‘
غرض تہمت زبان کا ایک ایسا جرم ہے کہ اگر بالفرض دنیا میں اس کی سز ا سے انسان بچ بھی جائے، تو قیامت کے روز اس کی سزا جہنم کی صورت میں اس کو ضرورملے گی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
قَذْفُ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِأَۃِ سَنَۃٍ ﴿عن حذیفہ، تفسیر ابن کثیر ج۳ سورۃ النور، بحوالہ ابن ابی حاتم﴾
‘‘پاک دامن عورت پر تہمت لگانا ایک سو سال کی عبادت کو ضائع کر دیتا ہے۔’‘
غیبت
کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی اس طرح بیان کرنا، جس سے اس کی اصلاح مقصود نہ ہو، جس کے نتیجے میں اس کی ذلت و رسوائی ہورہی ہو، اِسے غیبت کہتے ہیں۔شریعت میں غیبت کو ایک بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ غیبت کی تعریف اللہ کے رسولﷺ نے اس طرح بیان فرمائی ہے:
أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِیْبَۃِ؟ قَالُوْا، اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہ، أَعْلَمُ، قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ، قِیْلَ أَفَرَأَیْتَ اِنْ کَانَ فِيْ مَا اَقُوْلُ؟ قَالَ اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقَُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہ، وَاِنْ لَمْ یَکُنْ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَھَتَّہ،۔ ﴿مسلم، کتاب البر، باب تحریم الغیبۃ، ترمذی،ا بواب البر والصلۃ، باب ما جائ فی الغیبۃ﴾
‘‘نبی ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسولﷺزیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر کر ے ایسے ڈھنگ سے کروجو وہ ناپسند کرتا ہو، پھر آپﷺ سے پوچھا گیا، اگر وہ بات ﴿عیب﴾ جو میں کہہ رہا ہوں میرے بھائی کے اندر پائی جاتی ہوتو آپﷺ نے فرمایا اگر وہ بات جو تو کہتا ہے اس کے اندر موجود ہو تو یہ غیبت ہوئی اور اگر اس کے اندر وہ بات ﴿عیب﴾ نہیں ہے تو تونے اس پر بہتان لگایا۔’‘
اس حدیث سے غیبت اور تہمت کے درمیان واضح فرق معلوم ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کو اپنے مردہ بھائی کاگوشت کھانے سے تشبیہہ دی ہے۔ اس لیے کہ جس طرح کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے اور اس کا مردہ بھائی اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اسی طرح جس کی غیبت کی جاتی ہے وہ بھی اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَن یَأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْْتاً فَکَرِہْتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ اِنَّ اللَّہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۔ ﴿الحجرات:۱۲﴾
‘‘اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔’‘
ایک حدیث میں غیبت کو زنا سے زیادہ سنگین قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا گیا:
‘‘غیبت زنا سے سخت تر گناہ ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺغیبت زنا سے سخت گناہ کیوں کر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ آدمی زنا کرتا ہے تو پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کرے گا جب تک کہ وہ شخص اس کو معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہے۔’‘ ﴿راہ عمل،ص: ۱۶۶﴾
چغلی
چغلی کھانا بھی زبان کا ایک بدترین اور قبیح عیب ہے، جس کی وجہ سے ایک صحیح سالم معاشرے کے افراد ایک دوسرے سے بدظن ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے پرسے اعتماد اٹھتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے کی اخلاقی ترقی رک جاتی ہے۔چغلی یہ ہے کہ کسی کی ایسی بات کو دوسرے ایسے شخص کے ہاں پہنچانا جس کو سن کر وہ اس اسے بدگمان اور ناراض ہو جائے اور ان کے باہمی تعلقات خراب ہو جائیں۔ جب کہ اسلام صلح و صفائی اور آپس میں مضبوط رشتے کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے:
عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ یَقُوْلُ: لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ ﴿بخاری،کتاب الادب، باب ما یکرہ من النمیمۃ﴾
‘‘حضرت حذیفہؒ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا۔’‘
روایات میں آیا ہے کہ دو اشخاص کو محض عذاب قبر میں مبتلا ہونا پڑا کہ ان میں ایک آدمی پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھااور دوسرا لوگوں کے سامنے دوسروں کی چغلی کھاتا تھا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رشتوں کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعٌ۔ ﴿بخاری، کتاب الادب، باب اثم القاطع﴾
‘‘رشتوں کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔’‘
جھوٹ
حقیقت کے خلاف کوئی کلام کرنا جھوٹ کہلاتا ہے۔ یہ منافقانہ صفت ہے اور ایک سچا مومن اس خصلت سے اپنے آپ کو ہمیشہ دور رکھتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا:
عَنْ أَبِيْ أَمَامَۃَؒ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَطْبَعُ المُؤْمِنُ عَلَی الْخِلَالِ کُلِّھَا الَّا الْخِیَانَۃِ وَالْکِذْبِ۔﴿مسنداحمد﴾
‘‘ابو امامہؒ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’‘ مومن کی طبیعت میں ہر عادت وخصلت کا امکان ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔’‘
اور یہ منافق کی علامت بتائی گئی:
اذَا حَدَثَ کَذِبَ، وَاِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔
‘‘جب وہ بولے تو جھوٹ بولے اور اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔’‘
طنز اور عیب جوئی
طنز اور عیب جوئی کرنا بھی ایک بدترین لسانی خرابی ہے۔ اس لیے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ حتی المقدور دوسروں پر طنز کرنے اور ان کے عیب ٹٹول کر بیان کرنے سے باز رہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی تمام نیکیاں برباد کر کے اسے جہنم کے اندر گرا دے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ہلاکت کی بشارت دیتا ہے:
وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔﴿الھمزۃ:۱﴾
‘‘تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں پر طنز اور برائیوں کا خوگر ہے۔’‘
اللہ کے رسولﷺکو ان تمام لوگوں کی اطاعت سے منع فرمایا گیا جن کے اندر یہ اوصاف ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ہَمَّازٍ مَّشَّائ بِنَمِیْمٍ۔مَنَّاعٍ لِّلْخَیْْرِ مُعْتَدٍ أَثِیْمٍ۔عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ۔ ﴿القلم:۱۰،۱۳﴾
‘‘ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا، بے وقعت آدمی ہے، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے، ظلم وزیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہوتا ہے، سخت بداعمال ہے، جفا کار ہے، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔’‘
اللہ کے رسولﷺ نے ایک موقعے پر اہل نفاق مسلمانوں کو بلند آواز سے خطاب فرمایا:
یَا مَعْشَرَ مَنْ اَسْلَمَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَفْضُ الْ۱ِیْمَانُ اِلَی قَلْبِہ لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تُعَیِّرُوْھُمْ وَلَا تَتَبِّعُوْا عَوْرَاتِھِمْ فَاَّہ، مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَۃَ أَخِیْہ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللّٰہُ عَوْرَتَہ، وَمَنْ یَتَبَّعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہ، یَفْضَحْہُ وَلَوْ فِيْ جَوْفِ رَحْلِہِ۔ ﴿ترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجائ فی تعظیم المومن، عن ابن عمر﴾
‘‘اے افراد جماعت! جو زبان سے مسلم ہو اور ایمان دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کو ایذا نہ دو، ان پر طنز نہ کرو اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی تلاش میںرہے گا اللہ تعالیٰ اس کا بھانڈا پھوڑ دے گا، اللہ تعالیٰ جس کی برائیوں کا پردہ چاک کرتا ہے، اسے بے عزت اور رسوا کرتا ہے، چاہے وہ اپنے گھر کے اندر ﴿خلوت میں﴾ برائی کر رہا ہو۔’‘
قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے ایک آیت میں مختلف لسانی عیوب کی نشان دہی فرما کر مومنوں کو ان سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:
یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْْراً مِّنْہُمْ وَلَا نِسَائ مِّن نِّسَائ عَسَی أَن یَکُنَّ خَیْْراً مِّنْہُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْاْمَانِ وَمَن لَّمْ یَتُبْ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ۔ ﴿الحجرات:۱۱﴾
‘‘اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو، ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنابہت بری بات ہے۔جو لوگ اس روش سے بازنہ آجائیں، وہ ظالم ہیں۔’‘
مندرجہ بالا آیت کریمہ میں تمام لسانی عیوب کو گنا کر آخر میں فرمایا گیا کہ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام عیوب ایک فاسق شخص کے اندر ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے کہ ایمان کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ مومن کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلم محفوظ اور مامون رہیں ۔
فرمان مصطفیٰ ﷺ الفقر و فخری ۔ فقر کسے کہتے ہیں ؟
فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی' غربت' مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں ''فقر'' سے وہ راہ یا وہ طریق مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ''فقر'' دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ جو اولیاء کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے لیکن دورِ جدید کے علمائے کرام اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہریت پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال و عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی اس لفظ ''فقر'' اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم ۔حالانکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر کو اپنا فخر فرمایا ہے اور اسے بطور خاص اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد پاک ہے:
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا۔ صدق پر نہ عدل پر' نہ تقویٰ و صبر پر' نہ سخاوت پر نہ شجاعت پر' نہ ترک نہ توکل پر' نہ فصاحت و بلاغت پر' نہ حسن پر' نہ صادق و امین ہونے پر اور نہ نسب پر حتیٰ کہ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر فخر نہیں۔'' آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صرف اور صرف فقر پر فخر فرمایا۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام علومِ دین کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔ قرآن و حدیث' فقہ' تمام بنیادی عقائد و عبادات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی اُمت کو حاصل ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی علم کو اپنی ذات سے منسوب نہ فرمایا سوائے فقر کے۔
''فقر'' یعنی روح کے اللہ تعالیٰ سے قرب کی وہ انتہا جہاں روح اللہ کا دیدار اور اللہ سے وصال کی تکمیل پاتی ہے' معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تحفتاً مانگ لیا۔ چنانچہ ظاہری پاکیزگی کے لیے نماز اور روزوں کا تحفہ ملا اور باطنی پاکیزگی کے لیے فقر کا نور عطا کر کے دیدارِ الٰہی کی راہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر کھول دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے جب بھی کسی نبی نے دیدارِ الٰہی کی التجا کی تو انہیں '''' یعنی ''تو ہرگز نہیں دیکھ سکتا ''کی صدا سننا پڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے وسیلے سے اُن کی اُمت کو اپنے دیدار کی نعمت عطا کی جو اس کائنات کی سب سے اعلیٰ نعمت ہے اور اس لذتِ دیدار سے بڑھ کر اور کوئی لذت نہیں۔ اسی نعمت کے حصول کی خاطر تمام انبیاء نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت میں شامل ہونے کی دعا کی تھی اور اللہ کی اسی عنایتِ خاص کی وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام انبیاء پر اور اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام امتوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے:
ترجمہ : فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے ۔ اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔(عین الفقر)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فقر لوگوں کی نگاہ میں معیوب و حقیر ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بے حد گراں قدر چیز ہوگی''۔
ایک اور حدیث پاک میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر دنیا میں مومن کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) تحفہ ہے۔'' (مکاشفۃ القلوب، باب فضیلتِ فقراء از امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ)
مزید فرمایا کہ ۔ترجمہ:''فقر اس کے اہل کے لیے موجبِ عزت ہے''۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیدارِ الٰہی کی نعمتِ فقر کو اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا کیونکہ اس خزانے کو حاصل کرنے والا دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں' آسائشوں اور خزانوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جسے تمام خزانوں کا مالک ( اللہ) مل جائے اسے باقی خزانوں کی کیا ضرورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔
فقر کا یہ خزانہ روح کی معراج پر بصورتِ وصالِ حق تعالیٰ بندے کو عطا ہوتا ہے۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب و وصال کی انتہا کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
ترجمہ: پھر( اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان) صرف دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم۔
(اس سے بھی کم فاصلہ) کی تفصیل کوئی نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان قرب کی انتہا کیا تھی البتہ معراج کے بعد نازل ہونے والی کچھ آیات اس قرب و وصال کی انتہائی صورت یعنی یکتائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ترجمہ: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (میدان جنگ میں) دشمنوں کو جو کنکریاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ماریں وہ دراصل (آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں بلکہ) اللہ نے ماریں تھیں۔
ترجمہ: جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے (درحقیقت) اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
ترجمہ: وہ (نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے۔
ایک حدیث قدسی میں بھی بندے کے اللہ سے وصال کی اسی صورت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
''جب بندہ زائد عبادات سے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے دیکھتا ہے میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے سنتا ہے' میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے پکڑتا ہے' میں اس کی زبان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے بولتا ہے' میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں وہ مجھ سے چلتا ہے۔''
فقر دراصل روحانیت کی وہ معراج اور کمال ہے جب روح نورانیت اور پاکیزگی کی اس انتہا کو چھو لیتی ہے جہاں وہ اپنے پاک ربّ سے یوں وصال پالیتی ہے جیسے قطرہ سمندر سے مل کر خود سمندر ہو جاتا ہے۔ فقر کی انتہا خود کو اپنے رب کی ذات میں یوں گم کر دینا ہے کہ انسان کا اپنا وجود ختم ہو جائے اور باقی رہے وہ ذات جسے دائمی بقا ہے۔ فقر کے اسی انتہائی مقام پر پہنچ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ذاتِ الٰہی کے کامل مظہر بن گئے۔ جیسا کہ مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
ترجمہ: مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے چہرے کا آئینہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہر صفت ان میں منعکس(ظاہر) ہے۔
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فقر (دیدار و وصال الٰہی) مجھ سے ہے۔'' یعنی میری ذات ہی 'فقر' ہے۔
ترجمہ:''جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق کو دیکھا۔''
یعنی جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت کو پہچانا اس نے اللہ کو پہچانا ۔ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کر لیا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی ہوگئے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر کی یہ نعمت فقر کی پہلی سلطان حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حاصل کی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فاطمہؓ مجھ سے ہے۔'' پھر بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات میں فنا ہو کر حقیقتِ فقر کو پاگئے تو فرمایا ''علیؓ مجھ سے ہیں۔'' پھر حسنین کریمین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو یہ خزانہ عطا ہوا تو فرمایا: ''حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مجھ سے ہیں۔'' پھر یہ خزانۂ فقر سینہ بہ سینہ اُمت کو منتقل ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر اُمتی جو اُن سے سچا عشق رکھتا ہے اور اُن کے واسطے سے اپنے ربّ سے ملاقات کا خواہاں ہے' اس خزانۂ فقر کا وارث ہے۔جیسا کہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :
ترجمہ: فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث ہے اور ہم اس کے وارث ہیں۔
ترجمہ: فقر اور شاہی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے وارد اور عطا ہوتے ہیں یہ سب ان کی پاک ذات کی تجلیات ہیں۔
ہر اُمتی اپنی اپنی استعداد اور توفیق کے مطابق راہِ فقر اختیار کر کے روحانیت کی وہ معراج پاسکتا ہے جہاں وہ اپنے رب کا دیدار کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''نماز مومن کی معراج ہے'' میں ہر مومن کو معراج کی خوشخبری سنا دی گئی ہے البتہ خواہش اور کوشش اُس کے اپنے ذمہ ہے۔
راہِ فقر ان تمام مومنین کی راہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام نازل کیا اور جن کی راہ اختیار کرنے کی ہم سورۃ فاتحہ میں دعا مانگتے ہیں۔ فقر ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو بندے کو سیدھا اس کے رب سے ملاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
ترجمہ:''جو اہلِ بیت سے محبت کرے اسے جامۂ فقر پہننے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے''۔ (نہج البلاغہ)
حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو جب اللہ تک معراج نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا:
''اے غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے اصحاب اور احباب سے کہہ دو اگر میری صحبت چاہتے ہیں تو فقر اختیار کریں۔ جب اُن کا فقر پورا ہوجائے تو وہ نہیں رہتے بجز میرے۔ (رسالۃ الغوثیہ) پھر فرمایا ''اے غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ! جب تم کسی فقیر (وہ انسان جو فقر کی انتہا تک پہنچ جائے) کو اس حال میں دیکھو کہ وہ فقر کی آگ میں جل گیا ہے اور فاقہ کے اثر سے شکستہ حال ہے تو اس کے قریب ہو جاؤ کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔'' (رسالۃ الغوثیہ)
حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنی تصنیف سرّ الاسرار میں فقر کی تعریف بڑے جامع انداز میں فرماتے ہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں:
''حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''فقر میرا فخر ہے اور میرے لیے باعث افتخار ہے'' میں 'فقر' سے مراد وہ فقیری (غربت و افلاس) نہیں جو عوام میں مشہور ہے بلکہ یہاں حقیقی فقر مراد ہے' جس کا مفہوم اللہ کے علاوہ کسی بھی اور کا محتاج نہ ہونا اور اس ذاتِ کریم کے علاوہ تمام لذات و نعم کا بجان و دل ترک کر دینا ہے۔ جب انسان اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے تو یہی مقام فنا فی اللہ ہے کہ اس ذات وحدہٗ لاشریک کے سوا انسان کے وجود میں کسی اور کا تصور تک باقی نہ رہے اور اس کے دل میں ذات خداوندی کے علاوہ کسی اور کا بسیرا نہ ہو۔''
فقر کے متعلق آپؓ مزید فرماتے ہیں:
شانِ فقر موٹے کپڑے پہننے اور بے مزہ کھانا کھانے میں نہیں۔ شانِ فقر تو تیرے دل کے زُہد اختیار کرنے میں ہے۔ (الفتح الربانی)
فقر و تصوف جدوجہد کا نام ہے اس میں کسی بیہودہ چیز کی آمیزش نہ کر۔ اللہ ہمیں ا ور تمہیں اس کی توفیق کی ارزانی کرے۔ (فتوح الغیب)
حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
فقر ایسی صفت ہے کہ اللہ کی خاص مخلوق کے لیے زیبا ہے۔ (کشف المحجوب)
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقر دنیا میں آخرت کے غنا کی چابی ہے۔
حضرت شیخ ابراہیم الخواص رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقر شرف اور بزرگی کی چادر، مرسلین علیہم السلام کا لباس اور صالحین کے اوڑھنے کی چادر ہے۔
فقر حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیمات کو نہ تو تصوف اور نہ ہی طریقت کا بلکہ 'فقر' کا نام دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر تعلیمات راہِ فقر اور اس سے منسلک مقامات اور افکار سے متعلق ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حقیقتِ فقر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
جو شخص اللہ اور اس کا دیدار چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ (عین الفقر)
فقر عین ذات پاک ہے۔ (عین الفقر)
فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ (عین الفقر)
جس نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ کو اختیار کیا' اس نے فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنا رفیق بنا لیا۔ فقر سے بلند تر اور فخر والا کوئی دوسرا مرتبہ نہیں اور نہ کوئی ہو سکتا ہے۔ فقر ہمیشہ کی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
فقر کے پاس تمام الٰہی خزانے ہوتے ہیں۔ دنیاوی خزانے کو زوال ہے اور دنیا خواب و خیال ہے۔ فقر کا خزانہ معرفت اور توحیدِ لازوال ہے۔ جو بعینہٖ وصال ہے۔ دنیاوی لذت چند روزہ ہے۔ آخر معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہی پڑتا ہے۔ (توفیق الہدایت)
ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو خدا کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہان سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ کے مدِّ نظر رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)
راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ (عین الفقر)
جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر مجھ سے ہے'' راہِ فقر اختیار کرنے والا جب روحانی و باطنی پاکیزگی کی انتہا کو پہنچتا ہے تو اسے روحانی طور پر دیدارِ الٰہی سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری نصیب ہوتی ہے۔ جہاں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اس کی رہنمائی اور تربیت فرماتے ہیں۔ وہ ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدِّنظر رہتا ہے اور ان کی مجلس جہاں اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور عارفین کی ارواح موجود ہیں' سے باطنی طور پر بلاواسطہ فیض یاب ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہیں جہاں دین کی بنیاد کی تکمیل ہوتی ہے۔ باطن میں ان سے اعلیٰ اور کوئی مقام نہیں۔ جب بندے کا دین ان ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوگا اور وہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے رہنمائی حاصل کرے گا تو اس کے دین کی عمارت بھی مضبوط اور مکمل ہوگی۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک رسائی کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس مقام تک رسائی کے بغیر دین بے بنیاد اور کھوکھلا ہے۔
ترجمہ: تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (کی مجلس) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابولہب کا دین ہے۔(اقبالؒ )
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام براق پر سوار ہوئے، جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آگے آگے پا پیادہ دوڑے، عرش سے فرش تک دونوں جہان آراستہ کیے گئے، اٹھارہ ہزار عالم کو پیراستہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے لایاگیا اور جبرائیل ں آگے بڑھنے سے رُک گئے، اس سارے اہتمام کے باوجود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے اپنی نگاہ ذاتِ حق تعالیٰ سے نہ ہٹائی چنانچہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے
(بہکی نہیں آپ کی نگاہ نہ حد سے بڑھی)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس تمام اہتمام پر توجہ نہیں دی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو وہاں صورتِ فقر کا مشاہدہ کیا اور مراتبِ سلطان الفقر کی لذّت سے لطف اندوز ہوئے، فقرِ نورِ الٰہی سے باطن کو معمور فرمایا اور قابَ قوسین کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال سے مشرف ہو کر ذاتِ حق تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے پھر اس سے آگے بڑھ کر مقامِ فقر فنافی اللہ میں داخل ہوئے، ملاقاتِ فقر سے غرق فنا فی اللہ مع اللہ ذات ہو کر رفیقِ فقر ہوئے اور محبت ، معرفت، عشق، شوق، ذوق، علم، حلم، جود و کرم اور خُلق سے متخلّق ہوئے جیسا کہ فرما یا گیا ہے (اپنے اندر اخلاقِ الٰہیہ پیدا کرو ) اس طرح کمالِ فقر پر پہنچ کر جب سارا دریائے توحید آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وجود میں جمع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زبانِ دُرّ فشاں سے اِس کا اظہا ر کرتے ہوئے فرمایا''فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے'' ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجلسِ صحابہث میں پہنچے اور دریائے فقر سے حقیقتِ فقر موجزن ہوئی تو فقرِ ِ معرفت کے احوال سن کر صحابہ اکرامؓ کی ایک کثیر تعداد فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلبگار ہوئی جس پر اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا '' اے محمد( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) آپ ہر وقت ان فقراء پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور ان سے اپنی نگاہیں نہ ہٹائیں کہ یہ ہر وقت ذکر اللہ میں غرق رہنے والے لوگ ہیں۔'' اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : ! اب ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل سے دم بھر کے لیے بھی فارغ نہیں ہوں گے۔ (محک الفقر کلاں)
جان لے کہ فقر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلب ہے۔ صحابہ اکرامؓ کی طلب ہے اور اولیاء اللہ کی طلب ہے۔(محک الفقر کلاں)
فقر کی تین اقسام ہیں۔''اوّل فقر فنائے'''' ہے''۔ دوم ''فقر بقائے'''' ہے''۔ اور سوم''فقر انتہائے '' 'ہے''۔ جو راہنما ہے۔ فقر اللہ سے یگانہ اور غیر اللہ سے بیگانہ ہے یگانگی اور بیگانگی کا کوئی جوڑ نہیں جب تک فنا حاصل نہ ہو جائے بقا تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ (عین الفقر)
ترجمہ: فقر کی نظر بھی خزانہ ہوتی ہے اور اس کے قدموں میں بھی خزانہ ہوتا ہے لیکن فقر اس کے باوجود لا یحتاج رہتا ہے۔
فقر کی کامل تعریف یہ ہے کہ فقر جملہ مراتبِ خاص سے بہت آگے کا مرتبہ ہے۔
جان لے کہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور معرفتِ توحید الٰہی سراسر اطاعت و بندگی ہے جبکہ مراتبِ عزّ وجاہِ دُنیا سراسر مُردار گندگی ہے اور فقیری و درویشی سنتِ انبیا علیہم السلام ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
ترجمہ: اے باھو رحمتہ اللہ علیہ ! فقر کو تُو کیا سمجھتا ہے؟ فقر ہردم لاھوت میں رہنے کا مقام ہے اور اس کے لیے دائمی سکوت چاہیے۔
ترجمہ : راہ فقر فیضِ ربّانی ہے بلکہ فیضِ عام ہے جبکہ راہِ دنیا سراسر مطلق شرک ہے راہِ دنیا کو ترک کر راہِ فقر اختیار کر لے کہ راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔ (محک الفقر کلاں)
ترجمہ: فقر وحدت کا راز ہے فقر کی نظر ہمیشہ حق پر رہتی ہے خاص الخاص فقر وہ ہے جو ذاتِ حق سے باخبر ہو۔
فقر فیض و فضل اور جود و کرم کا دریا ہے فقر رات دن ذاتِ حق کے سامنے سر بسجود رہتا ہے ۔
اے باھُو( رحمتہ اللہ علیہ )! برکاتِ فقر کو ذاتِ حق میں تلاش کر جس چیز کا تعلق غیر حق سے ہو اسے اپنے دل سے نکال دو۔ (محک الفقر)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ فقر جہادِ اکبر ہے کہ یہ نفس کے خلاف جہاد ہے یہ جو کفار کے ساتھ جہاد ہے چھوٹا جہاد ہے اور ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہا د کی طرف آ رہے ہیں ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے '' ہر نبی کا ایک حرفہ (پیشہ، ہنر، کسب) ہے اور میرے دو حرفے ہیں ایک حرفہ فقر کا اور دوسرا جہاد کا جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھااس نے مجھ سے بغض رکھا۔'' (محک الفقر کلاں)
فقر کیا چیز ہے؟ فقر کسے کہتے ہیں؟ اور کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ فقر نورِ الٰہی سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ تمام عالم کا ظہور نورِ فقر سے ہوا ہے فقر ہدایت ہے، فقر نورِ حق کی ایک صورت ہے جو اس درجہ خوبصورت ہے کہ دونوں عالم اس کے شیدا اور اس پر فریفتہ ہیں مگر فقر کسی پر توجہ نہیں کرتا مگر حکمِ الٰہی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اجازت سے ۔ (توفیق الہدایت)
فقر فیض و فضل ہے ۔ فقر رحمتِ روح ہے۔ فقر لطف ہے، فقر ہدایت ہے، فقر ولایت ہے۔ فقر عنایت ہے، فقر فنا ہے ، فقر لقاء ہے، فقر رضا ہے، فقر قضا ہے، فقر قدرت ہے،فقر جمعیت ہے، فقر جمال ہے، فقر جلال ہے، فقر علم ہے، فقر سِرِّ اسرا ر ہے ، فقر نورِ حضور ہے، فقر عقلِ کُل ہے، فقر مالک الملک مقربِ رحمٰن ملک سلیمانی کی بادشاہی ہے، فقر گنجِ کیمیا ء کا تصرف ہے، فقر حیات و ممات ہے۔ (کشف الاسرار)
جو شخص فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خالی جانتا ہے وہ جہان سے خالی جاتا ہے ۔ (امیر الکونین)
جان لے کہ فقر میں ثابت قدم وہ شخص رہتا ہے جس کی نظر میں اللہ تعالیٰ سے غیبی خزائن کی قدرو قیمت بادشاہِ دنیا کے خزانوں سے کہیں بڑھ کر ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
اے عزیز! راہِ فقر میں اللہ کے سوا تجھے جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ تیرے لیے راہزن ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
فقر سے رو گردانی وہ شخص کر تا ہے جس کے دِل کو زَر کی زردی نے خجل و خوار کر رکھا ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
فقر جاودانی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
فقر خدا کا سِرّ ہے ۔ (محبت الاسرار)
ترجمہ: فقر رحمت ہے اور وحدت کا راز ہے اللہ کا نور ہے فقیر (صاحبِ فقر) کے پاؤ ں کے نیچے زمین و آسمان کا ہر طبق ہے۔
ترجمہ: جو فقر کے مقام کودیکھ لیتا ہے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے فقر سے ہی فقیر کو وحدت حاصل ہو تی ہے۔
ترجمہ: فقر اس نظر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف ہو ۔ فقر اس بات کا نام ہے جو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان سے نکلی ہو ۔ (مفتاح العارفین)
''راہِ فقر بہت دور ہے اور اس کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی ۔ جہاں پر فقر کی تکمیل ہو تی ہے نہ تو وہاں پر علم اور تعلیم ہے اور نہ ہی مسائل ، قصے کہانیاں ہیں۔ یہ تو بت پرستی کی دنیا ہے۔(فقیری نہ تو عالمانہ گفتگو میں ہے اور نہ تو مسئلہ مسائل اور قصہ خوانی میں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق اور غرق فی التوحید ہونے میں ہے) اور فقر کی حقیقت سے وہی واقف ہوتا ہے جس نے فقر اختیار کیا ہو' اس کی لذّت چکھی ہو یا سلطان الفقرکو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو''۔
فقرِ اضطراری اور فقرِ اختیاری
کچھ لوگ فقر مجبوری کی حالت میں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ زندگی میں کچھ حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی زندگی کے کسی شعبہ میں کامیاب ہو سکتے ہیں اس لیے ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے کسی صاحبِ فقر کی بار گاہ میں پہنچ کر فقر کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ مقصد ان کا دیدارِ الٰہی نہیں، دنیا ہو تا ہے یا کسی دنیوی پریشانی تکلیف اور بیماری سے گھبرا کر یا جذباتی ہو کر فقر کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ یا کسی ولئ کامل (صاحبِ فقر) کی وفات کے بعد اس کی خانقاہ کی گدی نشینی اختیار کرنے والے لوگ ہیں عموماً یہ لوگ صاحبِ مزار کی اولاد میں سے ہوتے ہیں ان کو فقر کی ہوا بھی نہیں لگتی مقصدِ زندگی صرف مزار کی آمدنی تک یا صاحبِ مزار کے مریدوں کے نذرانے تک محدود ہوتا ہے یا پھر مشائخ بن کر مقامِ عزّو جا ہ مقصود ہوتا ہے ۔ ایسے فقر کو'' فقرِ اضطراری'' کہتے ہیں۔
وہ طالبانِ حق خواہ وہ بادشاہ ، امیر، حاکم ، دولت مند، دنیا میں معروف، غیر معروف یا غریب ہوں لیکن صرف دیدارِ الٰہی کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر فقر اختیا ر کرتے ہیں اور ان کی طلب دیدارِ الٰہی ہوتا ہے سارا عالم چھوڑ کر کوئے یا ر کو اپنا بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں '' ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے'' وہ اللہ سے اللہ کو ہی مانگتے ہیں اس مقصد کے لیے وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور فقیر ہوتے ہیں انہی کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ'' اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو۔ '' یہ فقرِ اختیاری ہے۔ فقرِ اختیاری کے لیے دِل کو دنیا ، خواہشاتِ دنیا سے بے رغبت کرنا ضروری ہے ۔ فقرِ اختیاری اور فقرِ اضطراری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فقرِ اضطراری روح کی موت کا باعث بنتا ہے جبکہ فقرِ اختیاری سے روح کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ فقرِ اضطراری والا انسان ذلیل و خوار ہوتا ہے مگر فقرِ اختیاری انسان کو وہ شوکت و قوت عطا کرتا ہے کہ پوری کائنات اس کے تصّرف میں دے دی جاتی ہے حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے اسی فقر کو اپنا فخر قرار دیا ہے۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
واضح رہے کہ فقر دو قسم کا ہے ایک اختیاری دوسرا اضطراری۔ فقرِ اختیاری
(فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے) ہے ا س کے دو مراتب ہیں ایک خانہ دِل کا تصرّف اور عنایت اور تمام دنیاوی خزانوں کا تصرّف دوسرے ہدایت، معرفت اور قربِ الٰہی ۔ فقرِ اضطراری والا در بدر بھیک مانگتا پھرتا ہے(اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی بجائے لوگوں سے مال اکٹھا کر تا ہے) اور عنایتِ حق سے محروم رہتاہے فقرِ اضطراری ہی فقرِ مُکبّ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے
(ترجمہ: میں منہ کے بل گرانے والے فقر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) فقرِ ِ اختیاری اسم ذات اور قربِ حضور پر مبنی ہے۔ (امیر الکونین)
فقیر (صاحبِ فقر ) دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جنہوں نے شہوت و ہوا کو مار رکھا ہے اور وہ مقرّ بِ رحمٰن ہو چکے ہیں یہ لوگ اتنے عظیم الشان مرتبے کے مالک ہیں کہ جس کی شرح بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس قسم کے فقیر کو فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاصل ہوتا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فخر ہے ۔یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہم مجلس، ہم دم اور ہم قدم ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو کسی سے آرام کا سوال کرتے ہیں اورنہ کسی سے روپے پیسے کی امید رکھتے ہیں۔ کیونکہ اُن کے پاس فقر کی نورانیت کا سرمایہ ہوتا ہے ایسے فقیر راہِ خدا کے مشکل کشا اور راہنما ہوتے ہیں۔ دوسری قسم کے فقیر (صاحبِ فقر) مطلق مردُود ہوتے ہیں سر اور داڑھی منڈواتے ہیں وہ بے حیا ہیں اور معرفتِ خدا سے محروم ہیں۔اِسے فقرِ مُکِبّ (منہ کے بل گرانے والا فقر) یعنی فقرِ اضطراری کہتے ہیں کیونکہ ایسے فقیر شرع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قدمِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوا ختیار نہیں کرتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:
ترجمہ: میں فقرِ مُکِبّ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
فقرِ مُکِبّ(فقرِ اضطراری) اسے کہتے ہیں جو دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ ہر وقت دولتِ دنیا کی باتیں کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ بخیل ہوتا ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کا دشمن ہوتا ہے یا پھر خدا سے مفلسی اور تنگدستی کی شکایت کرتا رہتا ہے۔ جو شخص فقرِ مُکِبّ کو چھوڑ دیتا ہے وہ فقرِ مُحبّ کو پا لیتا ہے۔فقرِ مُحب کسے کہتے ہیں؟ فقرِ محب احکامِ الٰہی کی تعظیم، خلقِ خدا پر شفقت اور اپنے اندر اخلاق الٰہیہ (صفاتِ الٰہیہ یعنی مقامِ بقا تک رسائی) پیدا کرنے کا نام ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)
حاصلِ بحث یہ کہ فقر دینِ اسلام کا انتہائی اہم اور بنیادی حصہ ہے جس میں انسان اللہ کا دیدار کر کے اس کی پہچان اور معرفت حاصل کرتا ہے اور باطنی طور پر اپنے محبوب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ۔
اسلام صرف حقوق العباد اور حقوق اللہ کے نام پر صرف نماز روزے کا نام نہیں۔ معرفتِ الٰہی کا حصول بھی دین کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے لیکن عام مسلمانوں نے اسے دین سے بالا کوئی شے سمجھ کر اسے صرف ایک طبقے (اولیاء اللہ) تک محدود کر دیا اور خود کو اس سے مبرّا سمجھ لیا حالانکہ قرآن کا مخاطب ہر وہ انسان ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو فقر ہی اصل دین ہے کیونکہ دین کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہ مقصد راہِ فقر پر چل کر ہی پورا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
موجودہ دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو سوائے فتنہ' فساد اور انتشار کے کچھ نظر نہیں آتا اور جب اپنے اندر جھانکتے ہیں' تو بے سکونی' خوف اور فرسٹریشن ہماری حسیات پر غالب نظر آتی ہے۔ اسلام یعنی سلامتی والے دین کے پیروکار ہوتے ہوئے بھی ہر جگہ سے سلامتی اور سکون مفقود ہے۔ محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو دین لائے ہیں' وہ ہر انسان کی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی بہتری کا دین ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں اس انفرادی و اجتماعی فلاح کی گواہی تمام تاریخ دیتی ہے لیکن آج اسی دین کی پیروی کرنے کے باوجود مسلمانوں میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین کی ادھوری پیروی کر رہے ہیں اور اسلام میں پورے داخل نہیں ہو رہے۔ صرف ظاہری عبادات اور عقائد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر کے دین کی اصل روح یعنی معرفتِ الٰہی کو مجروح کر رہے ہیں۔ معرفتِ الٰہی حاصل کیے بغیر عبادات کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ بے روح عبادات بے سود اور بے کار ہیں' ان سے وہ مطلوبہ نتائج کبھی حاصل نہیں کیے جاسکتے جو دین اسلام کا مقصد ہیں یعنی روحانی ترقی اور ظاہری فلاح و بہبود ۔
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا۔ صدق پر نہ عدل پر' نہ تقویٰ و صبر پر' نہ سخاوت پر نہ شجاعت پر' نہ ترک نہ توکل پر' نہ فصاحت و بلاغت پر' نہ حسن پر' نہ صادق و امین ہونے پر اور نہ نسب پر حتیٰ کہ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر فخر نہیں۔'' آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صرف اور صرف فقر پر فخر فرمایا۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام علومِ دین کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔ قرآن و حدیث' فقہ' تمام بنیادی عقائد و عبادات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی اُمت کو حاصل ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی علم کو اپنی ذات سے منسوب نہ فرمایا سوائے فقر کے۔
''فقر'' یعنی روح کے اللہ تعالیٰ سے قرب کی وہ انتہا جہاں روح اللہ کا دیدار اور اللہ سے وصال کی تکمیل پاتی ہے' معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تحفتاً مانگ لیا۔ چنانچہ ظاہری پاکیزگی کے لیے نماز اور روزوں کا تحفہ ملا اور باطنی پاکیزگی کے لیے فقر کا نور عطا کر کے دیدارِ الٰہی کی راہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر کھول دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے جب بھی کسی نبی نے دیدارِ الٰہی کی التجا کی تو انہیں '''' یعنی ''تو ہرگز نہیں دیکھ سکتا ''کی صدا سننا پڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے وسیلے سے اُن کی اُمت کو اپنے دیدار کی نعمت عطا کی جو اس کائنات کی سب سے اعلیٰ نعمت ہے اور اس لذتِ دیدار سے بڑھ کر اور کوئی لذت نہیں۔ اسی نعمت کے حصول کی خاطر تمام انبیاء نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت میں شامل ہونے کی دعا کی تھی اور اللہ کی اسی عنایتِ خاص کی وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام انبیاء پر اور اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام امتوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے:
ترجمہ : فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے ۔ اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔(عین الفقر)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فقر لوگوں کی نگاہ میں معیوب و حقیر ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بے حد گراں قدر چیز ہوگی''۔
ایک اور حدیث پاک میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر دنیا میں مومن کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) تحفہ ہے۔'' (مکاشفۃ القلوب، باب فضیلتِ فقراء از امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ)
مزید فرمایا کہ ۔ترجمہ:''فقر اس کے اہل کے لیے موجبِ عزت ہے''۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیدارِ الٰہی کی نعمتِ فقر کو اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا کیونکہ اس خزانے کو حاصل کرنے والا دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں' آسائشوں اور خزانوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جسے تمام خزانوں کا مالک ( اللہ) مل جائے اسے باقی خزانوں کی کیا ضرورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔
فقر کا یہ خزانہ روح کی معراج پر بصورتِ وصالِ حق تعالیٰ بندے کو عطا ہوتا ہے۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب و وصال کی انتہا کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
ترجمہ: پھر( اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان) صرف دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم۔
(اس سے بھی کم فاصلہ) کی تفصیل کوئی نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان قرب کی انتہا کیا تھی البتہ معراج کے بعد نازل ہونے والی کچھ آیات اس قرب و وصال کی انتہائی صورت یعنی یکتائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ترجمہ: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (میدان جنگ میں) دشمنوں کو جو کنکریاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ماریں وہ دراصل (آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں بلکہ) اللہ نے ماریں تھیں۔
ترجمہ: جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے (درحقیقت) اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
ترجمہ: وہ (نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے۔
ایک حدیث قدسی میں بھی بندے کے اللہ سے وصال کی اسی صورت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
''جب بندہ زائد عبادات سے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے دیکھتا ہے میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے سنتا ہے' میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے پکڑتا ہے' میں اس کی زبان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے بولتا ہے' میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں وہ مجھ سے چلتا ہے۔''
فقر دراصل روحانیت کی وہ معراج اور کمال ہے جب روح نورانیت اور پاکیزگی کی اس انتہا کو چھو لیتی ہے جہاں وہ اپنے پاک ربّ سے یوں وصال پالیتی ہے جیسے قطرہ سمندر سے مل کر خود سمندر ہو جاتا ہے۔ فقر کی انتہا خود کو اپنے رب کی ذات میں یوں گم کر دینا ہے کہ انسان کا اپنا وجود ختم ہو جائے اور باقی رہے وہ ذات جسے دائمی بقا ہے۔ فقر کے اسی انتہائی مقام پر پہنچ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ذاتِ الٰہی کے کامل مظہر بن گئے۔ جیسا کہ مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
ترجمہ: مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے چہرے کا آئینہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہر صفت ان میں منعکس(ظاہر) ہے۔
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فقر (دیدار و وصال الٰہی) مجھ سے ہے۔'' یعنی میری ذات ہی 'فقر' ہے۔
ترجمہ:''جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق کو دیکھا۔''
یعنی جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت کو پہچانا اس نے اللہ کو پہچانا ۔ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کر لیا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی ہوگئے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر کی یہ نعمت فقر کی پہلی سلطان حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حاصل کی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''فاطمہؓ مجھ سے ہے۔'' پھر بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات میں فنا ہو کر حقیقتِ فقر کو پاگئے تو فرمایا ''علیؓ مجھ سے ہیں۔'' پھر حسنین کریمین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو یہ خزانہ عطا ہوا تو فرمایا: ''حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مجھ سے ہیں۔'' پھر یہ خزانۂ فقر سینہ بہ سینہ اُمت کو منتقل ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر اُمتی جو اُن سے سچا عشق رکھتا ہے اور اُن کے واسطے سے اپنے ربّ سے ملاقات کا خواہاں ہے' اس خزانۂ فقر کا وارث ہے۔جیسا کہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :
ترجمہ: فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث ہے اور ہم اس کے وارث ہیں۔
ترجمہ: فقر اور شاہی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے وارد اور عطا ہوتے ہیں یہ سب ان کی پاک ذات کی تجلیات ہیں۔
ہر اُمتی اپنی اپنی استعداد اور توفیق کے مطابق راہِ فقر اختیار کر کے روحانیت کی وہ معراج پاسکتا ہے جہاں وہ اپنے رب کا دیدار کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''نماز مومن کی معراج ہے'' میں ہر مومن کو معراج کی خوشخبری سنا دی گئی ہے البتہ خواہش اور کوشش اُس کے اپنے ذمہ ہے۔
راہِ فقر ان تمام مومنین کی راہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام نازل کیا اور جن کی راہ اختیار کرنے کی ہم سورۃ فاتحہ میں دعا مانگتے ہیں۔ فقر ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو بندے کو سیدھا اس کے رب سے ملاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
ترجمہ:''جو اہلِ بیت سے محبت کرے اسے جامۂ فقر پہننے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے''۔ (نہج البلاغہ)
حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو جب اللہ تک معراج نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا:
''اے غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے اصحاب اور احباب سے کہہ دو اگر میری صحبت چاہتے ہیں تو فقر اختیار کریں۔ جب اُن کا فقر پورا ہوجائے تو وہ نہیں رہتے بجز میرے۔ (رسالۃ الغوثیہ) پھر فرمایا ''اے غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ! جب تم کسی فقیر (وہ انسان جو فقر کی انتہا تک پہنچ جائے) کو اس حال میں دیکھو کہ وہ فقر کی آگ میں جل گیا ہے اور فاقہ کے اثر سے شکستہ حال ہے تو اس کے قریب ہو جاؤ کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔'' (رسالۃ الغوثیہ)
حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنی تصنیف سرّ الاسرار میں فقر کی تعریف بڑے جامع انداز میں فرماتے ہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں:
''حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''فقر میرا فخر ہے اور میرے لیے باعث افتخار ہے'' میں 'فقر' سے مراد وہ فقیری (غربت و افلاس) نہیں جو عوام میں مشہور ہے بلکہ یہاں حقیقی فقر مراد ہے' جس کا مفہوم اللہ کے علاوہ کسی بھی اور کا محتاج نہ ہونا اور اس ذاتِ کریم کے علاوہ تمام لذات و نعم کا بجان و دل ترک کر دینا ہے۔ جب انسان اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے تو یہی مقام فنا فی اللہ ہے کہ اس ذات وحدہٗ لاشریک کے سوا انسان کے وجود میں کسی اور کا تصور تک باقی نہ رہے اور اس کے دل میں ذات خداوندی کے علاوہ کسی اور کا بسیرا نہ ہو۔''
فقر کے متعلق آپؓ مزید فرماتے ہیں:
شانِ فقر موٹے کپڑے پہننے اور بے مزہ کھانا کھانے میں نہیں۔ شانِ فقر تو تیرے دل کے زُہد اختیار کرنے میں ہے۔ (الفتح الربانی)
فقر و تصوف جدوجہد کا نام ہے اس میں کسی بیہودہ چیز کی آمیزش نہ کر۔ اللہ ہمیں ا ور تمہیں اس کی توفیق کی ارزانی کرے۔ (فتوح الغیب)
حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
فقر ایسی صفت ہے کہ اللہ کی خاص مخلوق کے لیے زیبا ہے۔ (کشف المحجوب)
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقر دنیا میں آخرت کے غنا کی چابی ہے۔
حضرت شیخ ابراہیم الخواص رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقر شرف اور بزرگی کی چادر، مرسلین علیہم السلام کا لباس اور صالحین کے اوڑھنے کی چادر ہے۔
فقر حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیمات کو نہ تو تصوف اور نہ ہی طریقت کا بلکہ 'فقر' کا نام دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر تعلیمات راہِ فقر اور اس سے منسلک مقامات اور افکار سے متعلق ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حقیقتِ فقر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
جو شخص اللہ اور اس کا دیدار چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ (عین الفقر)
فقر عین ذات پاک ہے۔ (عین الفقر)
فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ (عین الفقر)
جس نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ کو اختیار کیا' اس نے فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنا رفیق بنا لیا۔ فقر سے بلند تر اور فخر والا کوئی دوسرا مرتبہ نہیں اور نہ کوئی ہو سکتا ہے۔ فقر ہمیشہ کی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
فقر کے پاس تمام الٰہی خزانے ہوتے ہیں۔ دنیاوی خزانے کو زوال ہے اور دنیا خواب و خیال ہے۔ فقر کا خزانہ معرفت اور توحیدِ لازوال ہے۔ جو بعینہٖ وصال ہے۔ دنیاوی لذت چند روزہ ہے۔ آخر معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہی پڑتا ہے۔ (توفیق الہدایت)
ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو خدا کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہان سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ کے مدِّ نظر رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)
راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ (عین الفقر)
جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر مجھ سے ہے'' راہِ فقر اختیار کرنے والا جب روحانی و باطنی پاکیزگی کی انتہا کو پہنچتا ہے تو اسے روحانی طور پر دیدارِ الٰہی سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری نصیب ہوتی ہے۔ جہاں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اس کی رہنمائی اور تربیت فرماتے ہیں۔ وہ ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدِّنظر رہتا ہے اور ان کی مجلس جہاں اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور عارفین کی ارواح موجود ہیں' سے باطنی طور پر بلاواسطہ فیض یاب ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہیں جہاں دین کی بنیاد کی تکمیل ہوتی ہے۔ باطن میں ان سے اعلیٰ اور کوئی مقام نہیں۔ جب بندے کا دین ان ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوگا اور وہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے رہنمائی حاصل کرے گا تو اس کے دین کی عمارت بھی مضبوط اور مکمل ہوگی۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک رسائی کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس مقام تک رسائی کے بغیر دین بے بنیاد اور کھوکھلا ہے۔
ترجمہ: تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (کی مجلس) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابولہب کا دین ہے۔(اقبالؒ )
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام براق پر سوار ہوئے، جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آگے آگے پا پیادہ دوڑے، عرش سے فرش تک دونوں جہان آراستہ کیے گئے، اٹھارہ ہزار عالم کو پیراستہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے لایاگیا اور جبرائیل ں آگے بڑھنے سے رُک گئے، اس سارے اہتمام کے باوجود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے اپنی نگاہ ذاتِ حق تعالیٰ سے نہ ہٹائی چنانچہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے
(بہکی نہیں آپ کی نگاہ نہ حد سے بڑھی)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس تمام اہتمام پر توجہ نہیں دی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو وہاں صورتِ فقر کا مشاہدہ کیا اور مراتبِ سلطان الفقر کی لذّت سے لطف اندوز ہوئے، فقرِ نورِ الٰہی سے باطن کو معمور فرمایا اور قابَ قوسین کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال سے مشرف ہو کر ذاتِ حق تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے پھر اس سے آگے بڑھ کر مقامِ فقر فنافی اللہ میں داخل ہوئے، ملاقاتِ فقر سے غرق فنا فی اللہ مع اللہ ذات ہو کر رفیقِ فقر ہوئے اور محبت ، معرفت، عشق، شوق، ذوق، علم، حلم، جود و کرم اور خُلق سے متخلّق ہوئے جیسا کہ فرما یا گیا ہے (اپنے اندر اخلاقِ الٰہیہ پیدا کرو ) اس طرح کمالِ فقر پر پہنچ کر جب سارا دریائے توحید آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وجود میں جمع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زبانِ دُرّ فشاں سے اِس کا اظہا ر کرتے ہوئے فرمایا''فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے'' ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجلسِ صحابہث میں پہنچے اور دریائے فقر سے حقیقتِ فقر موجزن ہوئی تو فقرِ ِ معرفت کے احوال سن کر صحابہ اکرامؓ کی ایک کثیر تعداد فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلبگار ہوئی جس پر اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا '' اے محمد( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) آپ ہر وقت ان فقراء پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور ان سے اپنی نگاہیں نہ ہٹائیں کہ یہ ہر وقت ذکر اللہ میں غرق رہنے والے لوگ ہیں۔'' اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : ! اب ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل سے دم بھر کے لیے بھی فارغ نہیں ہوں گے۔ (محک الفقر کلاں)
جان لے کہ فقر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلب ہے۔ صحابہ اکرامؓ کی طلب ہے اور اولیاء اللہ کی طلب ہے۔(محک الفقر کلاں)
فقر کی تین اقسام ہیں۔''اوّل فقر فنائے'''' ہے''۔ دوم ''فقر بقائے'''' ہے''۔ اور سوم''فقر انتہائے '' 'ہے''۔ جو راہنما ہے۔ فقر اللہ سے یگانہ اور غیر اللہ سے بیگانہ ہے یگانگی اور بیگانگی کا کوئی جوڑ نہیں جب تک فنا حاصل نہ ہو جائے بقا تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ (عین الفقر)
ترجمہ: فقر کی نظر بھی خزانہ ہوتی ہے اور اس کے قدموں میں بھی خزانہ ہوتا ہے لیکن فقر اس کے باوجود لا یحتاج رہتا ہے۔
فقر کی کامل تعریف یہ ہے کہ فقر جملہ مراتبِ خاص سے بہت آگے کا مرتبہ ہے۔
جان لے کہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور معرفتِ توحید الٰہی سراسر اطاعت و بندگی ہے جبکہ مراتبِ عزّ وجاہِ دُنیا سراسر مُردار گندگی ہے اور فقیری و درویشی سنتِ انبیا علیہم السلام ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
ترجمہ: اے باھو رحمتہ اللہ علیہ ! فقر کو تُو کیا سمجھتا ہے؟ فقر ہردم لاھوت میں رہنے کا مقام ہے اور اس کے لیے دائمی سکوت چاہیے۔
ترجمہ : راہ فقر فیضِ ربّانی ہے بلکہ فیضِ عام ہے جبکہ راہِ دنیا سراسر مطلق شرک ہے راہِ دنیا کو ترک کر راہِ فقر اختیار کر لے کہ راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔ (محک الفقر کلاں)
ترجمہ: فقر وحدت کا راز ہے فقر کی نظر ہمیشہ حق پر رہتی ہے خاص الخاص فقر وہ ہے جو ذاتِ حق سے باخبر ہو۔
فقر فیض و فضل اور جود و کرم کا دریا ہے فقر رات دن ذاتِ حق کے سامنے سر بسجود رہتا ہے ۔
اے باھُو( رحمتہ اللہ علیہ )! برکاتِ فقر کو ذاتِ حق میں تلاش کر جس چیز کا تعلق غیر حق سے ہو اسے اپنے دل سے نکال دو۔ (محک الفقر)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ فقر جہادِ اکبر ہے کہ یہ نفس کے خلاف جہاد ہے یہ جو کفار کے ساتھ جہاد ہے چھوٹا جہاد ہے اور ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہا د کی طرف آ رہے ہیں ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے '' ہر نبی کا ایک حرفہ (پیشہ، ہنر، کسب) ہے اور میرے دو حرفے ہیں ایک حرفہ فقر کا اور دوسرا جہاد کا جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھااس نے مجھ سے بغض رکھا۔'' (محک الفقر کلاں)
فقر کیا چیز ہے؟ فقر کسے کہتے ہیں؟ اور کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ فقر نورِ الٰہی سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ تمام عالم کا ظہور نورِ فقر سے ہوا ہے فقر ہدایت ہے، فقر نورِ حق کی ایک صورت ہے جو اس درجہ خوبصورت ہے کہ دونوں عالم اس کے شیدا اور اس پر فریفتہ ہیں مگر فقر کسی پر توجہ نہیں کرتا مگر حکمِ الٰہی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اجازت سے ۔ (توفیق الہدایت)
فقر فیض و فضل ہے ۔ فقر رحمتِ روح ہے۔ فقر لطف ہے، فقر ہدایت ہے، فقر ولایت ہے۔ فقر عنایت ہے، فقر فنا ہے ، فقر لقاء ہے، فقر رضا ہے، فقر قضا ہے، فقر قدرت ہے،فقر جمعیت ہے، فقر جمال ہے، فقر جلال ہے، فقر علم ہے، فقر سِرِّ اسرا ر ہے ، فقر نورِ حضور ہے، فقر عقلِ کُل ہے، فقر مالک الملک مقربِ رحمٰن ملک سلیمانی کی بادشاہی ہے، فقر گنجِ کیمیا ء کا تصرف ہے، فقر حیات و ممات ہے۔ (کشف الاسرار)
جو شخص فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خالی جانتا ہے وہ جہان سے خالی جاتا ہے ۔ (امیر الکونین)
جان لے کہ فقر میں ثابت قدم وہ شخص رہتا ہے جس کی نظر میں اللہ تعالیٰ سے غیبی خزائن کی قدرو قیمت بادشاہِ دنیا کے خزانوں سے کہیں بڑھ کر ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
اے عزیز! راہِ فقر میں اللہ کے سوا تجھے جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ تیرے لیے راہزن ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
فقر سے رو گردانی وہ شخص کر تا ہے جس کے دِل کو زَر کی زردی نے خجل و خوار کر رکھا ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
فقر جاودانی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
فقر خدا کا سِرّ ہے ۔ (محبت الاسرار)
ترجمہ: فقر رحمت ہے اور وحدت کا راز ہے اللہ کا نور ہے فقیر (صاحبِ فقر) کے پاؤ ں کے نیچے زمین و آسمان کا ہر طبق ہے۔
ترجمہ: جو فقر کے مقام کودیکھ لیتا ہے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے فقر سے ہی فقیر کو وحدت حاصل ہو تی ہے۔
ترجمہ: فقر اس نظر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف ہو ۔ فقر اس بات کا نام ہے جو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان سے نکلی ہو ۔ (مفتاح العارفین)
''راہِ فقر بہت دور ہے اور اس کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی ۔ جہاں پر فقر کی تکمیل ہو تی ہے نہ تو وہاں پر علم اور تعلیم ہے اور نہ ہی مسائل ، قصے کہانیاں ہیں۔ یہ تو بت پرستی کی دنیا ہے۔(فقیری نہ تو عالمانہ گفتگو میں ہے اور نہ تو مسئلہ مسائل اور قصہ خوانی میں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق اور غرق فی التوحید ہونے میں ہے) اور فقر کی حقیقت سے وہی واقف ہوتا ہے جس نے فقر اختیار کیا ہو' اس کی لذّت چکھی ہو یا سلطان الفقرکو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو''۔
فقرِ اضطراری اور فقرِ اختیاری
کچھ لوگ فقر مجبوری کی حالت میں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ زندگی میں کچھ حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی زندگی کے کسی شعبہ میں کامیاب ہو سکتے ہیں اس لیے ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے کسی صاحبِ فقر کی بار گاہ میں پہنچ کر فقر کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ مقصد ان کا دیدارِ الٰہی نہیں، دنیا ہو تا ہے یا کسی دنیوی پریشانی تکلیف اور بیماری سے گھبرا کر یا جذباتی ہو کر فقر کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ یا کسی ولئ کامل (صاحبِ فقر) کی وفات کے بعد اس کی خانقاہ کی گدی نشینی اختیار کرنے والے لوگ ہیں عموماً یہ لوگ صاحبِ مزار کی اولاد میں سے ہوتے ہیں ان کو فقر کی ہوا بھی نہیں لگتی مقصدِ زندگی صرف مزار کی آمدنی تک یا صاحبِ مزار کے مریدوں کے نذرانے تک محدود ہوتا ہے یا پھر مشائخ بن کر مقامِ عزّو جا ہ مقصود ہوتا ہے ۔ ایسے فقر کو'' فقرِ اضطراری'' کہتے ہیں۔
وہ طالبانِ حق خواہ وہ بادشاہ ، امیر، حاکم ، دولت مند، دنیا میں معروف، غیر معروف یا غریب ہوں لیکن صرف دیدارِ الٰہی کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر فقر اختیا ر کرتے ہیں اور ان کی طلب دیدارِ الٰہی ہوتا ہے سارا عالم چھوڑ کر کوئے یا ر کو اپنا بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں '' ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے'' وہ اللہ سے اللہ کو ہی مانگتے ہیں اس مقصد کے لیے وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور فقیر ہوتے ہیں انہی کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ'' اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو۔ '' یہ فقرِ اختیاری ہے۔ فقرِ اختیاری کے لیے دِل کو دنیا ، خواہشاتِ دنیا سے بے رغبت کرنا ضروری ہے ۔ فقرِ اختیاری اور فقرِ اضطراری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فقرِ اضطراری روح کی موت کا باعث بنتا ہے جبکہ فقرِ اختیاری سے روح کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ فقرِ اضطراری والا انسان ذلیل و خوار ہوتا ہے مگر فقرِ اختیاری انسان کو وہ شوکت و قوت عطا کرتا ہے کہ پوری کائنات اس کے تصّرف میں دے دی جاتی ہے حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے اسی فقر کو اپنا فخر قرار دیا ہے۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
واضح رہے کہ فقر دو قسم کا ہے ایک اختیاری دوسرا اضطراری۔ فقرِ اختیاری
(فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے) ہے ا س کے دو مراتب ہیں ایک خانہ دِل کا تصرّف اور عنایت اور تمام دنیاوی خزانوں کا تصرّف دوسرے ہدایت، معرفت اور قربِ الٰہی ۔ فقرِ اضطراری والا در بدر بھیک مانگتا پھرتا ہے(اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی بجائے لوگوں سے مال اکٹھا کر تا ہے) اور عنایتِ حق سے محروم رہتاہے فقرِ اضطراری ہی فقرِ مُکبّ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے
(ترجمہ: میں منہ کے بل گرانے والے فقر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) فقرِ ِ اختیاری اسم ذات اور قربِ حضور پر مبنی ہے۔ (امیر الکونین)
فقیر (صاحبِ فقر ) دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جنہوں نے شہوت و ہوا کو مار رکھا ہے اور وہ مقرّ بِ رحمٰن ہو چکے ہیں یہ لوگ اتنے عظیم الشان مرتبے کے مالک ہیں کہ جس کی شرح بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس قسم کے فقیر کو فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاصل ہوتا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فخر ہے ۔یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہم مجلس، ہم دم اور ہم قدم ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو کسی سے آرام کا سوال کرتے ہیں اورنہ کسی سے روپے پیسے کی امید رکھتے ہیں۔ کیونکہ اُن کے پاس فقر کی نورانیت کا سرمایہ ہوتا ہے ایسے فقیر راہِ خدا کے مشکل کشا اور راہنما ہوتے ہیں۔ دوسری قسم کے فقیر (صاحبِ فقر) مطلق مردُود ہوتے ہیں سر اور داڑھی منڈواتے ہیں وہ بے حیا ہیں اور معرفتِ خدا سے محروم ہیں۔اِسے فقرِ مُکِبّ (منہ کے بل گرانے والا فقر) یعنی فقرِ اضطراری کہتے ہیں کیونکہ ایسے فقیر شرع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قدمِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوا ختیار نہیں کرتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:
ترجمہ: میں فقرِ مُکِبّ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
فقرِ مُکِبّ(فقرِ اضطراری) اسے کہتے ہیں جو دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ ہر وقت دولتِ دنیا کی باتیں کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ بخیل ہوتا ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کا دشمن ہوتا ہے یا پھر خدا سے مفلسی اور تنگدستی کی شکایت کرتا رہتا ہے۔ جو شخص فقرِ مُکِبّ کو چھوڑ دیتا ہے وہ فقرِ مُحبّ کو پا لیتا ہے۔فقرِ مُحب کسے کہتے ہیں؟ فقرِ محب احکامِ الٰہی کی تعظیم، خلقِ خدا پر شفقت اور اپنے اندر اخلاق الٰہیہ (صفاتِ الٰہیہ یعنی مقامِ بقا تک رسائی) پیدا کرنے کا نام ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)
حاصلِ بحث یہ کہ فقر دینِ اسلام کا انتہائی اہم اور بنیادی حصہ ہے جس میں انسان اللہ کا دیدار کر کے اس کی پہچان اور معرفت حاصل کرتا ہے اور باطنی طور پر اپنے محبوب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ۔
اسلام صرف حقوق العباد اور حقوق اللہ کے نام پر صرف نماز روزے کا نام نہیں۔ معرفتِ الٰہی کا حصول بھی دین کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے لیکن عام مسلمانوں نے اسے دین سے بالا کوئی شے سمجھ کر اسے صرف ایک طبقے (اولیاء اللہ) تک محدود کر دیا اور خود کو اس سے مبرّا سمجھ لیا حالانکہ قرآن کا مخاطب ہر وہ انسان ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو فقر ہی اصل دین ہے کیونکہ دین کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہ مقصد راہِ فقر پر چل کر ہی پورا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
موجودہ دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو سوائے فتنہ' فساد اور انتشار کے کچھ نظر نہیں آتا اور جب اپنے اندر جھانکتے ہیں' تو بے سکونی' خوف اور فرسٹریشن ہماری حسیات پر غالب نظر آتی ہے۔ اسلام یعنی سلامتی والے دین کے پیروکار ہوتے ہوئے بھی ہر جگہ سے سلامتی اور سکون مفقود ہے۔ محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو دین لائے ہیں' وہ ہر انسان کی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی بہتری کا دین ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں اس انفرادی و اجتماعی فلاح کی گواہی تمام تاریخ دیتی ہے لیکن آج اسی دین کی پیروی کرنے کے باوجود مسلمانوں میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین کی ادھوری پیروی کر رہے ہیں اور اسلام میں پورے داخل نہیں ہو رہے۔ صرف ظاہری عبادات اور عقائد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر کے دین کی اصل روح یعنی معرفتِ الٰہی کو مجروح کر رہے ہیں۔ معرفتِ الٰہی حاصل کیے بغیر عبادات کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ بے روح عبادات بے سود اور بے کار ہیں' ان سے وہ مطلوبہ نتائج کبھی حاصل نہیں کیے جاسکتے جو دین اسلام کا مقصد ہیں یعنی روحانی ترقی اور ظاہری فلاح و بہبود ۔
جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اللہ کو پہچان لیا ۔ میں کون ہوں ؟
محترم قارئین کرام : ۔ جب سے انسان نے اس سیارہ جسے زمین کہتے ہیں پر قدم رکھا ہے ۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ ایسے سوالات جنم لیتے رہتے ہیں۔
میں کون ہوں؟
میری ابتداء کیا ہے؟
میری انتہا کیا ہے؟
میری حقیقت کیا ہے؟
میری پہچان کیا ہے؟
اگر مجھے تخلیق کرنے والا خالق کوئی ہے تو وہ کون ہے؟ اس کی پہچان کیا ہے؟
میرا مقصدِ حیات کیا ہے؟
ان جوابات کی تلاش کے لیے انسان نے جب بھی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی راہنمائی کے لیے ہر دور میں اور اس زمین کے ہر خطہ میں اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ جو انسان کو ان سوالات کے جوابات سے مطلع فرماتے رہے۔حتیٰ کہ وہ زمانہ آپہنچا جب روئے زمین کے انسان ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ دنیا کے ایک سرے پر بیٹھا ہواا نسان دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھے ہوئے انسان سے باخبر رہنے لگا۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب، باعثِ تخلیقِ کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مبعوث فرما کر بنی نوع انسان پر اپنی راہنمائی کی حجت تمام کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پوری نسلِ انسانی کے لیے تا قیامِ قیامت ہادی ہیں۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے قرآنِ مجید کی صورت میں مکمل ضابطہ حیات عطا ہوا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ'' آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے ۔''تو قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ احادیثِ قدسی اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صورت میں یہ ضابطہ حیات قیامت تک کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ جس خوش قسمت نے اس ضابطہ حیات سے رجوع کیا اُسے راہنمائی ملی اور اس نے اپنا مقصدِ حیات حاصل کر لیا ۔
اللہ تعالیٰ نے اس حدیثِ قدسی میں انسان کی تخلیق کا مقصد بیان فرمایا ہے:
ترجمہ:''میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا'' اس حدیثِ قدسی سے واضح ہو گیا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کیسے حاصل ہو گی۔تو اللہ کی پہچان کا طریقہ اس حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے:
ترجمہ:'' جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناًاپنے ربّ کو پہچانا۔''
اسکی شرح اس طرح سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو عالمِ لاھوت میں روحِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پیدا فرمایا اس مقام پر روح کو ''روحِ قدسی'' کا نام دیا جاتا ہے اور یہی روح کی وہ حالت ہے' جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ''انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔'' اس مقام پر ارواح اللہ تعالیٰ کے دیدار میں محوہیں۔ اور اسی عالم میں انسانی ارواح سے ''وعدہ '' لیا گیا۔ سورہ الاعراف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں)
تمام ارواح نے جواب دیا :
(ہاں تو ہی ہمارا رب ہے۔)
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
ترجمہ: آواز کس کے ناز کی خلوت سے بلند ہوئی اور ''' کا نغمہ کس کے ساز کے سُر سے بلند ہوا؟
عالمِ لاھوت وہ عالم ہے جہاں پر انسان (انسانی روح) کے سوا تمام مخلوق کا داخلہ ممنوع ہے۔ اسی عالم کی سرحد پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے معراج کی رات فرمایا تھا کہ میں اگر اس مقام سے ذرا سا بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے روح کو عالمِ جبروت میں اتارا اور اسے جبروتی لباس پہنایا کیونکہ روح جس جہان میں بھیجی جائے گی' اُسے اس جہان کے لباس کی ضرورت ہوگی۔ یہاں پر روح کا نام ''روحِ سلطانی'' ہوا پھر اُسے عالمِ ملکوت میں اتارا گیا اور اُسے ملکوتی لباس پہنایا گیا۔ یہاں پر روح کا نام ''روح نورانی'' ہوا اور پھر اسے بشری جسم میں داخل کیا گیا اور لباسِ بشر پہنایا گیا' جہاں پر روح کا نام ''روح جسمانی یا حیوانی'' ہوا۔ اس لیے فرمایا ''روح امرِ ربی ہے ''اور اسی لیے کہا گیا ہے کہ ''ہر بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے۔'' یعنی اس کی روح پاکیزہ اور نور سے منور ہوتی ہے اور لذتِ دنیا اور آلائشات دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوئی ہوتی۔ اب انسانی عروج یہ ہے کہ وہ روحانی طور پر ترقی کرتا ہوا اپنے اصلی وطن عالم لاھُوت کو لوٹ جائے اور اپنی اصل روح یعنی روحِ قدسی کو حاصل کرلے ، اسی مقام پر انسان کو عرفانِ نفس حاصل ہوجاتا ہے۔ اور یہی عروج انسان کا مقصدِ حیات ہے۔روحِ قدسی کو مختلف ناموں سے موسوم کیا گیا ہے:
بعض صوفیاء کرام نے انسان کے اس روحانی وجود کو ''باطن''، ''اندر کا انسان'' ،روحانی انسان یا انسان کا باطنی وجود کا نام دیا ہے۔
بعض احادیث میں، اور صوفیاء کرام نے بھی' روح کو قلب' دل یا من کا نام دیا ہے۔ دل' قلب یا من گوشت کا وہ لوتھڑا نہیں ہے' جو سینے کے اندر بائیں جانب رکھا ہوا ہے۔ گوشت کا یہ لوتھڑا تو جانوروں اور مُردوں کے سینے میں بھی موجود ہوتا ہے اور ظاہری آنکھ سے اسے دیکھا بھی جاسکتا ہے اور جس چیز کو ظاہری آنکھ دیکھ سکے اور اس کا تعلق ظاہری دنیا سے ہو اور جسے فنا بھی ہونا ہو اُسے عالمِ باطن کی کیا خبر ہوسکتی ہے۔ روح کو یہ نام اصطلاحی طور پر دیا گیا ہے۔
علاّمہ اقبال نے اسے ''خودی'' کا نام دیا ہے اور ''عرفانِ نفس'' کو آپ رحمتہ اللہ علیہ ''خودی کی پہچان'' کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اقبالؒ کے زیادہ تر مفسروں نے ''خودی'' کو ''روح'' سمجھنے کی بجائے ''اَنا'' سمجھ کر بہت بڑی زیادتی اور غلطی کی ہے۔ انہیں شاید یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ''اَنا'' سے انسان خدا تعالیٰ سے دور اور ''رُوح'' سے قریب ہوتا ہے۔ویسے علامہ اقبالؒ نے من، دِل اور روح کی اصطلاحیں بھی استعمال کی ہیں۔
عام انسان اسے ضمیر کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ جب انسان کوئی گناہ یا غلط کام کرتا ہے' تو روح ہی اسے ملامت کرتی ہے' کیونکہ گناہ اس کی فطرت میں نہیں۔ انسان کہتا ہے کہ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے۔ روح کی پہچان کو ہی اصل میں عرفانِ نفس کہا جاتاہے اور یہی دین ہے۔
'' دین'' کے معنی ہیں ''جو ہرِ انسان '' یعنی روح کی شناخت اور اس کی تکمیل'' یعنی مرتبہ انسان کی پہچان اور اس کے حصول کا نام دین ہے۔ دوسرے الفاظ میں خود شناسی وخودبینی وخود بانی کا نام دین ہے اور خود شناسی یہ ہے کہ انسان کی تخلیق دو چیزوں سے عمل میں لائی گئی ہے۔ ایک تو ظاہری وجود ہے جسے جسم یا تن بھی کہتے ہیں اور جسے آنکھ سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اور دوسری چیز باطن ہے جسے روح' باطن یا دل کہتے ہیں۔ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اسے نہ تو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے او رنہ ہی ظاہری ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اسے صرف باطن ہی کی آنکھ سے دیکھا بھالا جاسکتا ہے۔ عارفوں کی اصطلاح میں انسان کے اس باطنی اور اصلی وجود کو دل، قلب، من یا روح کہتے ہیں۔ اور اس کا تعلق اس ظاہری جہان سے ہرگز نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمِ غیب سے ہے۔ اس سے یہ ظاہری جسم چھن بھی جائے تو اس کو قائم رہنا ہے کہ اسے فنا نہیں ہے۔ معرفتِ الٰہی اور جمالِ خداوندی کا مشاہدہ اس کی خاص صفت ہے۔ عبادت کا حکم اسی کو ہے' ثواب وعذاب اسی کے لئے ہے' سعادت وشقاوت اسی کا مقدر ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہی معرفتِ الٰہی کی چابی ہے اور یہی دین کی حقیقت ہے۔
موجودہ دور میں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جب علمِ باطن کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ان قرآنی آیات کو جن میں علمِ باطن کے متعلق واضح اور روشن ہدایات موجود ہیں کچھ لوگ متشابہات کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ اور آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ''باطن'' کو فراموش کردیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ اور یہی ہماری گمراہی کا سبب ہے کہ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ''آفاق'' اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔
قرآنِ مجید میں بھی باربار انسان کے باطن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:
ترجمہ:اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔
ترجمہ: اور ہم تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔(سورۃ ق۔16)
ترجمہ۔ (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ نے ایسے شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو ا لہٰ (معبود) بنا لیا ہے ۔(الجاثیہ۔23)
ترجمہ : کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے ۔ (سورہ الروم۔8)
حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے باطن کی طرف متوجہ کیا ہے:
ترجمہ: نہ میں زمین میں سماتا ہوں اور نہ آسمانوں میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سماجاتا ہوں۔
احادیثِ نبوی میں بھی باطن کی طرف اشارہ موجود ہے:
بے شک اﷲ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے اورنہ تمہارے اعمال کو بلکہ وہ تمہاری نیتوں اوردلوں کو دیکھتا ہے۔
ترجمہ : عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
ترجمہ: مومن کادل اﷲ تعالیٰ کا عرش ہے۔
ایسی بے شمار آیات و احادیث موجود ہیں جن میں قلب و باطن کی طرف بندہ کی توجہ دلائی گئی ہے جو تخیل و تصور کا مرکزہے اوراسی قلب وباطن میں ایمان ٹھہرایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: ان کے دلوں پر ایمان لکھا۔(سورۃ المجادلۃ۔22)
شیطان لعین بھی اسی باطن میں وسوسے چھوڑ تا ہے۔
ترجمہ: وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ (الناس۔5)
دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی شنا سائے حقیقت' راز پنہاں سے واقف ہستی یا کوئی مفکر پیدا ہوا ہے۔ اس نے اس حقیقت کا پردہ ضرور فاش کیا ہے کہ عرفانِ نفس سے ہی اصل آگہی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس قرآنی حقیقت سے ضرور پردہ اٹھایا ہے کہ نہ صرف خدا اور اس کا تخلیق کردہ یہ عالم ہی بلکہ پوری کائنات (یعنی تمام عالمین) انسانی قلب میں لطیف صورت میں موجود ہے ۔یہ کوئی محض فلسفیانہ اصول نہیں جو ذہنی لطف یا دماغی کسرت کی تشفی کے لیے گھڑا گیا ہو یہ زندگی کی وہ حقیقت ہے جو قرآن و حدیث انبیاء کرام اور فقرائے کاملین کی تعلیمات اور تجربے کی مضبوط بنیاد پر کھڑی ہے۔
مولانا روم ؒ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے انسان سے فرماتے ہیں کہ شکل سے تو جہانِ صغیر ہے مگر حقیقت میں تو جہانِ کبیر ہے۔
آپؒ مزید فرماتے ہیں:
ترجمہ: انسان جسمانی حواس کے نظریہ سے حقیر و ہیچ ہے مگر باطن میں'' عالمِ عظیم'' ہے۔
خواجہ حافظ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ترجمہ: اے حافظ! یار دن رات ہمارے ساتھ ہے جیسے زندگی ہماری رگ وپے میں ہے۔
حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ترجمہ: یار تیرے اندر ہے تو کیوں بے خبر ہے۔
امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کی شرح میں فرماتے ہیں:
اے انسان! تجھ سے قریب ترین اگر کوئی چیز ہے تو تیری اپنی ہی ذات ہے اس لیے اگر تو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا تو کسی دوسرے کوکیوں کر پہچان سکے گا؟ فقط یہ جان لینا کہ ''یہ میرے ہاتھ ہیں یہ میرے پاؤں ہیں، یہ میری ہڈیاں ہیں اور یہ میرا جسم ہے'' اپنی ذات کی شناخت تو نہیں ہے' اتنی شناخت تو اپنے لیے دیگر جانور بھی رکھتے ہیں۔ یا فقط یہ جان لینا کہ بھوک لگے تو کچھ کھالینا چاہئے غصہ آجائے تو جھگڑا کر لینا چاہئے۔ شہوت کا غلبہ ہوجائے تو جماع کر لینا چاہئے یہ تمام باتیں تو جانوروں میں بھی تیرے برابر ہیں پھر تو ان سے اشرف و افضل کیوں کر ہوا؟ تیری اپنی ذات کی معرفت و پہچان کا تقاضا یہ ہے کہ تو جانے کہ تو خود کیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا؟ اور جو تو آیا ہے تو کس کام کے لئے آیا ہے؟ تجھے پیدا کیا گیا ہے تو کس غرض کے لئے پیدا کیا گیا؟ تیری نیک بختی و سعادت کیا ہے؟ اور کس چیز میں ہے؟ تیری بدبختی وشقاوت کیا ہے اور کس چیز میں ہے؟ اور یہ صفات جو تیرے اندر جمع کردی گئی ہیں اور ان میں سے بعض صفات حیوانی ہیں' بعض وحشی درندوں کی، بعض شیطانی بعض جناتی اوربعض ملکوتی ہیں' تو ذرا غور تو کر کہ تو ان میں سے کون سی صفات کا حامل ہے؟ تو ان میں سے کون ہے؟ تیری حقیقت ان میں سے کس کے قریب تر ہے؟ اور وہ کون کون سی صفات ہیں جن کی حیثیت تیرے باطن میں غریب واجنبی اور عارضی ہے؟ جب تک تو ان حقائق کو نہیں پہچانے گااپنی ذات کی شناخت سے محروم رہے گا۔اور اپنی نیک بختی وسعادت کا طلب گار نہیں بنے گا کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی غذا علیحدہ علیحدہ ہے اورسعادت بھی الگ الگ ہے۔چوپایوں کی غذا اور سعادت یہ ہے کہ کھائیں ' پئیں' سوئیں اور مجامعت میں مشغول رہیں۔ اگرتو بھی یہی کچھ ہے تودن رات اسی کوشش میں لگارہ کہ تیرا پیٹ بھرتا رہے اور تیری شہوت کی تسکین ہوتی رہے۔ درندوں کی غذا اور سعادت لڑنے بھڑنے مرنے مارنے اور غیظ وغضب میں ہے' شیطانوں کی غذا اور سعادت شر انگیزی اور مکروحیلہ سازی میں ہے اگر تو ان میں سے ہے تو ان ہی جیسے مشاغل اختیار کرلے تاکہ تو اپنی مطلوبہ راحت ونیک بختی حاصل کرلے۔ فرشتوں کی غذا اور سعادت ذکر وتسبیح وطواف میں ہے جب کہ انسان کی غذا اور سعادت قربِ الٰہی میں اﷲ تعالیٰ کے انوارِ جمال کا مشاہدہ ہے۔ اگر تو انسان ہے تو کوشش کر کہ تو ذاتِ باری تعالیٰ کو پہچان سکے اور اس کے انوار و جمال کا مشاہدہ کر سکے اور اپنے آپ کو غصہ او ر شہوت کے ہاتھ سے رہائی دلاسکے اور تو طلب کرے تو اس ذات یکتا کو کرے تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ تیرے اندران حیوانی وبہیمی صفات کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ اور تجھ پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوجائے کہ پیدا کرنے والے نے ان صفات کو تیرے اندر جو پیدا کیا ہے تو کیا اس لیے کہ وہ تجھے اپنا اسیر بنالیں اور تجھ پر غلبہ حاصل کرکے خود فاتح بن جائیں؟یا اس لیے کہ تو ان کو اپنا اسیرو مسخر بنالے اور خود ان پر غالب آجائے او راپنے ان اسیروں اور مفتوحین میں سے کسی کو اپنے سفر کا گھوڑا بنالے اور کسی کو اپنا اسلحہ بنالے تاکہ یہ چند دن جو تجھے اس منزل گاہ فانی میں گزارنا ہیں۔ ان میں سے اپنے ان غلاموں سے کام لے کر اپنی سعادت کا بیج حاصل کرسکے اور جب سعادت کا بیج تیرے ہاتھ آجائے تو تو ان کو اپنے پاؤں تلے روندتا ہوا اپنی اس قرار گاہِ سعادت میں داخل ہوسکے جسے خواص کی زبان میں ''حضورِ حق ٗ' کہا جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں تیرے جاننے کی ہیں۔ جس نے ان کو نہ جانا وہ راہ دین سے دور رہا اور لامحالہ دین کی حقیقت سے حجاب میں رہا''۔ (کیمیائے سعادت )
شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
''اے طالب تو پہچان اپنی ذات کو اور کون ہے تو اور کیا ہے حقیقت تیری اور کیا ہے تیری نسبت حق تعالیٰ کی طرف اورکس وجہ سے تو حق ہے اورکس وجہ سے تو عالم (جہان) ہے۔(شرح فصوص الحکم والایقان)
حضرت سخی سلطان باھوؒ حقیقت اور انسان
تمام عارفین اور فقراء کی طرح حضرت سخی سلطان باھوؒ بھی انسان کو اپنے من میں جھانکنے اور اپنی ذات پر غور کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ چونکہ صوفیاء کرام میں عظیم مرتبہ کے حامل اور سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں اس لئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا انداز بھی سب سے منفرد اور جداگانہ ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر تعلیمات خواہ نثر کی شکل میں ہوں یا شاعری کی شکل میں قرآن وحدیث کی خوبصورت شرح ہیں۔ آپؒ قرآن پاک کی اس آیت کہ' اﷲ شہ رگ سے نزدیک ہے ،کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ اس ہستی کی تلاش کے لئے پہلے اپنے اندررسائی ضروری ہے۔ اپنے باطن کے اندر اﷲ پاک کی موجودگی پرزور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کے لئے لفظ نزدیک کا استعمال بھی موزوں نہیں ہے کیونکہ یہ لفظ بھی علیحدگی اور دوئی کا مظہر ہے بلکہ وہ ہی تو ہماری ہستی ہماری حقیقت ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ترجمہ: اﷲ پاک کی ذات شہ رگ سے بھی قریب ہے مگر تو اندھا ہے اور لقائے خدا تیرا مقدر نہیں ہے۔(دیوانِ باھُو)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی شرح میں فرماتے ہیں: جان لے کہ نفسِ امارہ کی قوت وغذا گناہ و معصیت ہے ،بلکہ یوں کہیے کہ نفسِ امارہ کا تو پیشہ ہی گناہ و معصیت ہے۔ اگر آدمی رات دِن نماز و روزہ جیسی طاعت و بندگی میں مشغول رہے اور ہمیشہ قائم اللّیل و صائم الدہر رہے تو اِس کے باوجود بھی نفسِ امارہ گناہ سے باز نہیں آتا کہ اُس کی تو خصلت ہی گمراہی ہے۔ آدمی چاہے رات دِن مسائلِ فقہ کے مطالعہ میں مشغول رہے یا ریاضتِ تقویٰ و تلاوتِ قرآن اور نص و حدیث کے مطالعہ میں مصروف رہے نفسِ امارہ گناہوں سے باز نہیں آتا کہ اُس کا یار انہ نفس و شیاطین سے ہے۔آدمی چاہے خانہ کعبہ کا طواف و حج کرتا رہے یا میدانِ جنگ میں جہاد و قتال کرتا رہے یا ذکر فکر مراقبہ محاسبہ مکاشفہ کشف القلوب و کشف القبور کے مراتب حاصل کرکے غوث و قطب بن جائے نفسِ امارہ گناہوں سے باز نہیں آتا بلکہ ہر وقت گناہوں کی طرف مائل رہتا ہے کہ اُس کی نظر ہمیشہ مردارِ گناہ پر لگی رہتی ہے ۔لیکن جب تصورِ اسمِ ذات سے اُس کے دِل میں قرب و وصالِ الٰہی کی تجلّیات کا شعلہ بھڑکتا ہے تو وہ وحدانیتِ نُور حضور کے دریا میں غرق ہو کر عارف باللہ فنا فی اللہ کے انتہائی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ اِس مقام پر نفسِ امارہ عاجز ہو کر گناہوں سے رک جاتا ہے اور اُسے قدرتِ الٰہی کی طرف سے بے کام و بے زبان الہامات کے ذریعے حکم ہوتا ہے کہ''اے نفسِ امارہ ! حیا کر اور باادب ہو جا۔ ''قدرتِ الٰہی کے اِن الہامات کو سن کر نفسِ امارہ تائب ہو جاتا ہے اور مسلمان ہو کر صحیح اقرار و قلبی تصدیق کے ساتھ کلمہ طیب '''' پڑھ لیتا ہے اور گناہوں سے توبہ کرکے نفسِ مطۂنہ بن جاتا ہے۔ پھر وہ طلبِ راستی میں دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قبول کرکے منتہی ولی اللہ بن جاتا ہے۔ معرفتِ الٰہی کے اس انتہائی مقام پر جب وہکا مصداق بن کر اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے تو اُسے اپنے ربّ کی پہچان اس علامت سے ہو جاتی ہے کہ اُس کے نفس پر الہاماتِ ربانی کا نزول شروع ہو جاتا ہے کیونکہ مقامِ معرفت پر پہنچ کر نفس میں کوئی نفسانی و شیطانی باقی نہیں رہتی ۔ اس کے بعد اگر تمام حورو قصور ،نعمت ہائے بہشت و تمام زینتِ دنیا نفس کے گرد جمع ہو جائیں تو وہ اُسے اختیار نہیں کرتا۔(محک الفقر کلاں)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
(جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا بے شک اُس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا)
اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ خطاب اِس لیے کیا گیا ہے کہ اِس سے آدمی کے احوال اُس کے سامنے آجاتے ہیں۔ پھر اُس کا نفس ہوا (نفسانی خواہشات) سے اور دِل گناہوں سے مطلق بیزار ہو جاتا ہے۔ بندے کو بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، بندگی کے بغیر بندے کی ساری عمر محض شرمندگی ہے ۔(محک الفقر کلاں)
دل انسانی جسم میں ایک وسیع اور عظیم الشان نوری جوہر اور آئینہ حق نما ہے جو اﷲ تعالیٰ کے ذاتی نور سے منور ہوتا ہے اور تمام کائنات اس میں رائی کے دانے کے برابر نظر آتی ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کا نکتہ نظر یہ ہے کہ دل میں معرفتِ الٰہی سے ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس سے دونوں جہان کی کل کیفیات دل میں سما جاتی ہیں اور صاحبِ نظر دل کی آنکھوں سے اس کا صاف نظارہ کرتا ہے اور عاشقِ الٰہی تو ہمیشہ ہی اپنے دل کی جانب متوجہ رہتا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
قلب ایک نہایت وسیع ولایت اور ملکِ عظیم ہے دونوں جہان اورتمام مخلوق اس میں سما سکتے ہیں لیکن قلب دونوں جہانوں میں نہیں سما سکتا۔(فضل اللقاء)
ترجمہ: ہر کتاب کتابِ دِل کا ایک نقطہ ہے کہ کتابِ دِل نے بے شمار دفاترِ حق کا احاطہ کر رکھا ہے۔(محک الفقر کلاں)
حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ شرح دِل اور حقیقتِ دِل کے بارے میں فرماتے ہیں:
دِل کسے کہتے ہیں اور قلب کسے سمجھا جاتا ہے؟ جان لے کہ زمین کی وسعت آسمان کی وسعت کے مقابلے میں محض ایک قطرہ ہے، جملہ آسمان بلندی و فراخئ لوح کے مقابلے میں ایک قطرہ ہیں، لوح قلم کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے۔عرشِ اکبر کے بے شمار کنگرے ہیں،ہر کنگرے پر کلمہ طیب '' '' لکھا ہو اہے، ہر کنگرے پر ایک قندیل لٹکی ہوئی ہے، ہر قندیل میں قدرتِ الٰہی سے زمین و آسمان کے چودہ طبق تہہ در تہہ رکھے ہوئے ہیں، ہر طبق میں اٹھارہ ہزار عالَم کی مخلوق آباد ہے، ہر مخلوق اپنی اپنی زبان سے کلمہ طیب '' ''کا ذکر کر رہی ہے۔ عرشِ اکبر اور تمام قندیلیں دِل کے مقابلے میں اسپند کے دانے کے برابر ایک قطرہ ہیں۔سن اے عزیز! ہو شمند ! جب کوئی آدمی اہلِ اسلام عارف باللہ کے دِل کو ٹھیس پہنچاتا ہے تو اٹھارہ ہزار عالم کی جملہ مخلوق بلکہ عرش و کرسی کی تمام مخلوق میں تہلکہ مچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے حاملانِ عرش و کرسی ! تم اِس طرح جنبش میں کیوں ہو؟وہ عرض کرتے ہیں کہ ایک مومن کا دِل کسی نے دکھایا ہے اور وہ جلالیت میں آکر جنبش کر رہا ہے۔ اِس پر اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب دکھ دینے والے پر نازل ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔(محک الفقر کلاں)
جان لے کہ ذکر فکر ، مراقبہ محاسبہ مکاشفہ اور خلوتِ حجرہ سے اکتساب کرنا خام و ناقص لوگوں کا مرتبہ ہے کہ حجرہ و خلوتِ دِل بہتر ہے حجرہ و خلوتِ خاک سے کہ حجرہِ خاک دِل کے حجرے سے کمتر ہے۔ جس نے بھی رازِ حق کو پایا دِل ہی سے پایا اور جس نے دِل سے راز حق کو پا لیا اُس نے خود کو حجرہ و خلوتِ خاک سے آزاد کرالیا۔ (محک الفقر کلاں)
جو قلب ایک دفعہ بیدار ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ روئیت الٰہی میں مستغرق ہونے کے لئے مشتاق، عاشق دیوانہ ، اور متوجہ رہتاہے۔(قربِ دیدار)
حقیقت تک پہنچنے کا راستہ انسانی قلب میں ہے اور انسانی جسم میںیہی وہ جگہ ہے جہاں ذاتِ الٰہی کے جلوے نظر آتے ہیں اور اگر قلبِ انسان پر سے زنگ اتر جائے اورحجابات کے دور ہونے کے بعد یہ صاف ہوجائے تو فطرتِ انسانی قلب کے واسطہ سے وجدانِ حقیقی تک جا پہنچتی ہے گویا قلب انسان کی روحانی کیفیات کا مرکز ہے۔ اگر یہ درست ہے تو جو اعمال بھی سرزد ہوں گے وہ درست ہوں گے اور اگر یہ مرکز سیاہ ہوجائے او راپنی جگہ سے ہل جائے تو روحانی اقدار تباہ ہوجاتی ہیں ۔انسانی جسم کے اندر دل ہی ہے جس میں ذاتِ حق جلوہ گر ہے۔ اور وہ ذات انسان میں پوشیدہ ہے جیسا کہ حدیثِ قدسی میں اِرشاد باری تعالیٰ ہے۔
(انسان میرا بھید ہے اور میں انسان کا بھید ہوں)۔
اِس حقیقت سے واقفانِ حقیقت یا طالبِ صادق ہی واقف ہوتے ہیں۔
''عقل بیدار'' میں حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ دل کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
میں نے اپنے دل میں قبلہ دیکھا اور حق کا دیدار کیا اور پھر خدا کے سامنے سربسجود ہو گیا۔
دل وجود کے اندر اﷲ کا ایک خزانہ ہے۔ اہل دل محمود ہیں اور اس کی نمود بھی محمود سے ہی ہے۔
خطرات کے باعث دل شیطان کا گھر بن جاتا ہے اور اہلِ معرفت کا دل پرنور ہوتا ہے۔
دل ایک لطیفہ ہے اور اپنی لطافت کے باعث خدا سے ملتا ہے اور دل وحدت اور حق کی بقاء کا ایک راز ہے۔
دنیا کے طالب اہلِ دل نہیں ہوتے وہ سراسر بے حیا' روسیاہ اور شرمندہ ہوتے ہیں۔
باھوؒ اس شخص کا دل دم اور روح ایک ہو جاتے ہیں جو ایک اﷲ کا سجدہ اور نماز صبح شام ادا کرتا ہے۔
آدمی کا دِل گہرے سمندر کی مثل ہے اوراس کاجسم حباب کی مثل ۔(نور الہدیٰ)
جان لے کہ دِل جب سِرِّ اسرار کے خزانے سے ، انوارِ الٰہی کے مشاہدے سے ، ذکر سے اور معرفتِ الٰہی سے زندہ ہو جاتا ہے اور جب دِل کے حواسِ خمسہ کھل جاتے ہیں تو ظاہری نفسانی وجود کے حواسِ خمسہ بند ہوجاتے ہیں۔(مجالستہ النبیؐ)
آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے ابیات میں فرماتے ہیں:
ترجمہ:اے دِل تو زندہ ہونے کی کوشش کیوں نہیں کرتا تو یہ میٹھا شربت (زندگی دِل) کیوں نہیں پیتا۔ دِل جب زندہ ہوجائے تو پھر یہ مرتا نہیں اور جب بیدار ہو جائے تو سوتا نہیں۔(مجالستہ النبیؐ)
ترجمہ: دِل کی آنکھ کے سامنے ظاہری آنکھ کو بند کرلے اور مٹی کے جسم میں دیدار کو اچھی طرح دیکھ۔(تیغِ برہنہ)
قلب کے تین حروف ہیں ''ق۔ل۔ب۔'' حرف ''ق'' سے مراد قُربِ الٰہی اور حرف''ل'' سے مراد لقائے الٰہی ، حرف ''ب'' سے مراد بقا باللہ۔ جو شخص اِن صفات سے متصف ہے وہ صاحبِ قلب ہے ورنہ وہ اہلِ کلب (کتا ) ہے۔(قربِ دیدار)
ترجمہ: تیرا دِل کعبہ اعظم ہے اسے بتوں (غیر اللہ) سے پاک کر۔ تیرا دِل بیت المقدس ہے اسے بُت گروں کی دکان مت بنا۔(عین الفقر باب ہفتم)
آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:
آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تیرا دل اﷲ پاک کی قیام گاہ ہے تو اپنے دِل کے اندر جھانک کر تو دیکھ اور اس خضر علیہ السلام کا محتاج نہ بن جس نے آبِ حیات پی کر حیاتِ جاودانی حاصل کر لی ہے بلکہ تیرے اندر تو عشقِ الٰہی کا آبِ حیات موجود ہے۔ اپنے دل کے اندر عشق کا چراغ روشن کر شاید تجھے کھوئی ہوئی امانتِ حقیقی مل جائے جو تیرے دِل کے اندر ازل سے پوشیدہ ہے۔ جنہوں نے اس راز کو پا لیا وہ موت سے پہلے مر گئے یعنی انہوں نے حیاتِ جاودانی حاصل کر لی۔
جب سے ''باطن'' کی حقیقت ہم پر ظاہر ہوئی ہے کہ میرا دل تو اﷲ پاک کا گھر ہے میری خوشی اورمسرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ میرے اندر ہی کوزے ہیں کہ ان سے دل کی طہارت اور پاکیزگی کا وضو کر کے اور تزکیہ نفس کے مصلے پر کھڑے ہو کر جب محبوبِ حقیقی (اس بیت میں کعبہ قبلہ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے) کے سامنے سجدہ ریز ہوا تو مجھ پر (اثبات) کی حقیت آشکارہوئی کہ کائنات میں سوائے اﷲ تعالیٰ کے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ مجھے اپنے مرشد کامل سے نصیب ہوا ہے اور میرا مرشد آئندہ بھی میرا نگہبان اور محافظ ہے۔
تمام فقراء اور اولیاء کرام نے انسانوں کو اپنی ذات کی پہچان کادرس دیا ہے کیونکہ جب انسان اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے تو اسی راستہ سے اللہ تعالیٰ کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کو دوسرے اولیاء کرام سے ممتاز کرتی ہے کہ دوسرے اولیاء کرام انسان کو روح، قلب ، من، دِل ، باطن ، خودی اور ضمیر کی پہچان اور نورِ بصیرت حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن اس کی ''کلید'' کا ذکر نہیں کرتے جس سے باطن کے اندر کا سفر کیا جاسکے۔لیکن حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنی تمام تصانیف میں اس کلید اور اس کے فوائد ، اسرار و رموز کا ذکر کیا ہے اور انسان کی روح ، قلب ،من، باطن ، خودی اور ضمیر کا قفل کھولنے والی اور نورِ بصیرت حاصل کرنے والی وہ کلید ذکر و تصوراسمِذات ہے بشرطیکہ یہ کسی مرشدِ کامل اکمل صاحبِ مسمّٰی اسمِ ذات سے حاصل ہوئی ہو۔
میں کون ہوں؟
میری ابتداء کیا ہے؟
میری انتہا کیا ہے؟
میری حقیقت کیا ہے؟
میری پہچان کیا ہے؟
اگر مجھے تخلیق کرنے والا خالق کوئی ہے تو وہ کون ہے؟ اس کی پہچان کیا ہے؟
میرا مقصدِ حیات کیا ہے؟
ان جوابات کی تلاش کے لیے انسان نے جب بھی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی راہنمائی کے لیے ہر دور میں اور اس زمین کے ہر خطہ میں اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ جو انسان کو ان سوالات کے جوابات سے مطلع فرماتے رہے۔حتیٰ کہ وہ زمانہ آپہنچا جب روئے زمین کے انسان ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ دنیا کے ایک سرے پر بیٹھا ہواا نسان دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھے ہوئے انسان سے باخبر رہنے لگا۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب، باعثِ تخلیقِ کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مبعوث فرما کر بنی نوع انسان پر اپنی راہنمائی کی حجت تمام کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پوری نسلِ انسانی کے لیے تا قیامِ قیامت ہادی ہیں۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے قرآنِ مجید کی صورت میں مکمل ضابطہ حیات عطا ہوا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ'' آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے ۔''تو قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ احادیثِ قدسی اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صورت میں یہ ضابطہ حیات قیامت تک کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ جس خوش قسمت نے اس ضابطہ حیات سے رجوع کیا اُسے راہنمائی ملی اور اس نے اپنا مقصدِ حیات حاصل کر لیا ۔
اللہ تعالیٰ نے اس حدیثِ قدسی میں انسان کی تخلیق کا مقصد بیان فرمایا ہے:
ترجمہ:''میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا'' اس حدیثِ قدسی سے واضح ہو گیا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کیسے حاصل ہو گی۔تو اللہ کی پہچان کا طریقہ اس حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے:
ترجمہ:'' جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناًاپنے ربّ کو پہچانا۔''
اسکی شرح اس طرح سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو عالمِ لاھوت میں روحِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پیدا فرمایا اس مقام پر روح کو ''روحِ قدسی'' کا نام دیا جاتا ہے اور یہی روح کی وہ حالت ہے' جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ''انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔'' اس مقام پر ارواح اللہ تعالیٰ کے دیدار میں محوہیں۔ اور اسی عالم میں انسانی ارواح سے ''وعدہ '' لیا گیا۔ سورہ الاعراف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں)
تمام ارواح نے جواب دیا :
(ہاں تو ہی ہمارا رب ہے۔)
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
ترجمہ: آواز کس کے ناز کی خلوت سے بلند ہوئی اور ''' کا نغمہ کس کے ساز کے سُر سے بلند ہوا؟
عالمِ لاھوت وہ عالم ہے جہاں پر انسان (انسانی روح) کے سوا تمام مخلوق کا داخلہ ممنوع ہے۔ اسی عالم کی سرحد پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے معراج کی رات فرمایا تھا کہ میں اگر اس مقام سے ذرا سا بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے روح کو عالمِ جبروت میں اتارا اور اسے جبروتی لباس پہنایا کیونکہ روح جس جہان میں بھیجی جائے گی' اُسے اس جہان کے لباس کی ضرورت ہوگی۔ یہاں پر روح کا نام ''روحِ سلطانی'' ہوا پھر اُسے عالمِ ملکوت میں اتارا گیا اور اُسے ملکوتی لباس پہنایا گیا۔ یہاں پر روح کا نام ''روح نورانی'' ہوا اور پھر اسے بشری جسم میں داخل کیا گیا اور لباسِ بشر پہنایا گیا' جہاں پر روح کا نام ''روح جسمانی یا حیوانی'' ہوا۔ اس لیے فرمایا ''روح امرِ ربی ہے ''اور اسی لیے کہا گیا ہے کہ ''ہر بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے۔'' یعنی اس کی روح پاکیزہ اور نور سے منور ہوتی ہے اور لذتِ دنیا اور آلائشات دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوئی ہوتی۔ اب انسانی عروج یہ ہے کہ وہ روحانی طور پر ترقی کرتا ہوا اپنے اصلی وطن عالم لاھُوت کو لوٹ جائے اور اپنی اصل روح یعنی روحِ قدسی کو حاصل کرلے ، اسی مقام پر انسان کو عرفانِ نفس حاصل ہوجاتا ہے۔ اور یہی عروج انسان کا مقصدِ حیات ہے۔روحِ قدسی کو مختلف ناموں سے موسوم کیا گیا ہے:
بعض صوفیاء کرام نے انسان کے اس روحانی وجود کو ''باطن''، ''اندر کا انسان'' ،روحانی انسان یا انسان کا باطنی وجود کا نام دیا ہے۔
بعض احادیث میں، اور صوفیاء کرام نے بھی' روح کو قلب' دل یا من کا نام دیا ہے۔ دل' قلب یا من گوشت کا وہ لوتھڑا نہیں ہے' جو سینے کے اندر بائیں جانب رکھا ہوا ہے۔ گوشت کا یہ لوتھڑا تو جانوروں اور مُردوں کے سینے میں بھی موجود ہوتا ہے اور ظاہری آنکھ سے اسے دیکھا بھی جاسکتا ہے اور جس چیز کو ظاہری آنکھ دیکھ سکے اور اس کا تعلق ظاہری دنیا سے ہو اور جسے فنا بھی ہونا ہو اُسے عالمِ باطن کی کیا خبر ہوسکتی ہے۔ روح کو یہ نام اصطلاحی طور پر دیا گیا ہے۔
علاّمہ اقبال نے اسے ''خودی'' کا نام دیا ہے اور ''عرفانِ نفس'' کو آپ رحمتہ اللہ علیہ ''خودی کی پہچان'' کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اقبالؒ کے زیادہ تر مفسروں نے ''خودی'' کو ''روح'' سمجھنے کی بجائے ''اَنا'' سمجھ کر بہت بڑی زیادتی اور غلطی کی ہے۔ انہیں شاید یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ''اَنا'' سے انسان خدا تعالیٰ سے دور اور ''رُوح'' سے قریب ہوتا ہے۔ویسے علامہ اقبالؒ نے من، دِل اور روح کی اصطلاحیں بھی استعمال کی ہیں۔
عام انسان اسے ضمیر کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ جب انسان کوئی گناہ یا غلط کام کرتا ہے' تو روح ہی اسے ملامت کرتی ہے' کیونکہ گناہ اس کی فطرت میں نہیں۔ انسان کہتا ہے کہ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے۔ روح کی پہچان کو ہی اصل میں عرفانِ نفس کہا جاتاہے اور یہی دین ہے۔
'' دین'' کے معنی ہیں ''جو ہرِ انسان '' یعنی روح کی شناخت اور اس کی تکمیل'' یعنی مرتبہ انسان کی پہچان اور اس کے حصول کا نام دین ہے۔ دوسرے الفاظ میں خود شناسی وخودبینی وخود بانی کا نام دین ہے اور خود شناسی یہ ہے کہ انسان کی تخلیق دو چیزوں سے عمل میں لائی گئی ہے۔ ایک تو ظاہری وجود ہے جسے جسم یا تن بھی کہتے ہیں اور جسے آنکھ سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اور دوسری چیز باطن ہے جسے روح' باطن یا دل کہتے ہیں۔ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اسے نہ تو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے او رنہ ہی ظاہری ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اسے صرف باطن ہی کی آنکھ سے دیکھا بھالا جاسکتا ہے۔ عارفوں کی اصطلاح میں انسان کے اس باطنی اور اصلی وجود کو دل، قلب، من یا روح کہتے ہیں۔ اور اس کا تعلق اس ظاہری جہان سے ہرگز نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمِ غیب سے ہے۔ اس سے یہ ظاہری جسم چھن بھی جائے تو اس کو قائم رہنا ہے کہ اسے فنا نہیں ہے۔ معرفتِ الٰہی اور جمالِ خداوندی کا مشاہدہ اس کی خاص صفت ہے۔ عبادت کا حکم اسی کو ہے' ثواب وعذاب اسی کے لئے ہے' سعادت وشقاوت اسی کا مقدر ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہی معرفتِ الٰہی کی چابی ہے اور یہی دین کی حقیقت ہے۔
موجودہ دور میں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جب علمِ باطن کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ان قرآنی آیات کو جن میں علمِ باطن کے متعلق واضح اور روشن ہدایات موجود ہیں کچھ لوگ متشابہات کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ اور آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ''باطن'' کو فراموش کردیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ اور یہی ہماری گمراہی کا سبب ہے کہ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ''آفاق'' اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔
قرآنِ مجید میں بھی باربار انسان کے باطن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:
ترجمہ:اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔
ترجمہ: اور ہم تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔(سورۃ ق۔16)
ترجمہ۔ (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ نے ایسے شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو ا لہٰ (معبود) بنا لیا ہے ۔(الجاثیہ۔23)
ترجمہ : کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے ۔ (سورہ الروم۔8)
حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے باطن کی طرف متوجہ کیا ہے:
ترجمہ: نہ میں زمین میں سماتا ہوں اور نہ آسمانوں میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سماجاتا ہوں۔
احادیثِ نبوی میں بھی باطن کی طرف اشارہ موجود ہے:
بے شک اﷲ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے اورنہ تمہارے اعمال کو بلکہ وہ تمہاری نیتوں اوردلوں کو دیکھتا ہے۔
ترجمہ : عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
ترجمہ: مومن کادل اﷲ تعالیٰ کا عرش ہے۔
ایسی بے شمار آیات و احادیث موجود ہیں جن میں قلب و باطن کی طرف بندہ کی توجہ دلائی گئی ہے جو تخیل و تصور کا مرکزہے اوراسی قلب وباطن میں ایمان ٹھہرایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: ان کے دلوں پر ایمان لکھا۔(سورۃ المجادلۃ۔22)
شیطان لعین بھی اسی باطن میں وسوسے چھوڑ تا ہے۔
ترجمہ: وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ (الناس۔5)
دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی شنا سائے حقیقت' راز پنہاں سے واقف ہستی یا کوئی مفکر پیدا ہوا ہے۔ اس نے اس حقیقت کا پردہ ضرور فاش کیا ہے کہ عرفانِ نفس سے ہی اصل آگہی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس قرآنی حقیقت سے ضرور پردہ اٹھایا ہے کہ نہ صرف خدا اور اس کا تخلیق کردہ یہ عالم ہی بلکہ پوری کائنات (یعنی تمام عالمین) انسانی قلب میں لطیف صورت میں موجود ہے ۔یہ کوئی محض فلسفیانہ اصول نہیں جو ذہنی لطف یا دماغی کسرت کی تشفی کے لیے گھڑا گیا ہو یہ زندگی کی وہ حقیقت ہے جو قرآن و حدیث انبیاء کرام اور فقرائے کاملین کی تعلیمات اور تجربے کی مضبوط بنیاد پر کھڑی ہے۔
مولانا روم ؒ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے انسان سے فرماتے ہیں کہ شکل سے تو جہانِ صغیر ہے مگر حقیقت میں تو جہانِ کبیر ہے۔
آپؒ مزید فرماتے ہیں:
ترجمہ: انسان جسمانی حواس کے نظریہ سے حقیر و ہیچ ہے مگر باطن میں'' عالمِ عظیم'' ہے۔
خواجہ حافظ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ترجمہ: اے حافظ! یار دن رات ہمارے ساتھ ہے جیسے زندگی ہماری رگ وپے میں ہے۔
حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ترجمہ: یار تیرے اندر ہے تو کیوں بے خبر ہے۔
امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کی شرح میں فرماتے ہیں:
اے انسان! تجھ سے قریب ترین اگر کوئی چیز ہے تو تیری اپنی ہی ذات ہے اس لیے اگر تو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا تو کسی دوسرے کوکیوں کر پہچان سکے گا؟ فقط یہ جان لینا کہ ''یہ میرے ہاتھ ہیں یہ میرے پاؤں ہیں، یہ میری ہڈیاں ہیں اور یہ میرا جسم ہے'' اپنی ذات کی شناخت تو نہیں ہے' اتنی شناخت تو اپنے لیے دیگر جانور بھی رکھتے ہیں۔ یا فقط یہ جان لینا کہ بھوک لگے تو کچھ کھالینا چاہئے غصہ آجائے تو جھگڑا کر لینا چاہئے۔ شہوت کا غلبہ ہوجائے تو جماع کر لینا چاہئے یہ تمام باتیں تو جانوروں میں بھی تیرے برابر ہیں پھر تو ان سے اشرف و افضل کیوں کر ہوا؟ تیری اپنی ذات کی معرفت و پہچان کا تقاضا یہ ہے کہ تو جانے کہ تو خود کیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا؟ اور جو تو آیا ہے تو کس کام کے لئے آیا ہے؟ تجھے پیدا کیا گیا ہے تو کس غرض کے لئے پیدا کیا گیا؟ تیری نیک بختی و سعادت کیا ہے؟ اور کس چیز میں ہے؟ تیری بدبختی وشقاوت کیا ہے اور کس چیز میں ہے؟ اور یہ صفات جو تیرے اندر جمع کردی گئی ہیں اور ان میں سے بعض صفات حیوانی ہیں' بعض وحشی درندوں کی، بعض شیطانی بعض جناتی اوربعض ملکوتی ہیں' تو ذرا غور تو کر کہ تو ان میں سے کون سی صفات کا حامل ہے؟ تو ان میں سے کون ہے؟ تیری حقیقت ان میں سے کس کے قریب تر ہے؟ اور وہ کون کون سی صفات ہیں جن کی حیثیت تیرے باطن میں غریب واجنبی اور عارضی ہے؟ جب تک تو ان حقائق کو نہیں پہچانے گااپنی ذات کی شناخت سے محروم رہے گا۔اور اپنی نیک بختی وسعادت کا طلب گار نہیں بنے گا کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی غذا علیحدہ علیحدہ ہے اورسعادت بھی الگ الگ ہے۔چوپایوں کی غذا اور سعادت یہ ہے کہ کھائیں ' پئیں' سوئیں اور مجامعت میں مشغول رہیں۔ اگرتو بھی یہی کچھ ہے تودن رات اسی کوشش میں لگارہ کہ تیرا پیٹ بھرتا رہے اور تیری شہوت کی تسکین ہوتی رہے۔ درندوں کی غذا اور سعادت لڑنے بھڑنے مرنے مارنے اور غیظ وغضب میں ہے' شیطانوں کی غذا اور سعادت شر انگیزی اور مکروحیلہ سازی میں ہے اگر تو ان میں سے ہے تو ان ہی جیسے مشاغل اختیار کرلے تاکہ تو اپنی مطلوبہ راحت ونیک بختی حاصل کرلے۔ فرشتوں کی غذا اور سعادت ذکر وتسبیح وطواف میں ہے جب کہ انسان کی غذا اور سعادت قربِ الٰہی میں اﷲ تعالیٰ کے انوارِ جمال کا مشاہدہ ہے۔ اگر تو انسان ہے تو کوشش کر کہ تو ذاتِ باری تعالیٰ کو پہچان سکے اور اس کے انوار و جمال کا مشاہدہ کر سکے اور اپنے آپ کو غصہ او ر شہوت کے ہاتھ سے رہائی دلاسکے اور تو طلب کرے تو اس ذات یکتا کو کرے تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ تیرے اندران حیوانی وبہیمی صفات کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ اور تجھ پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوجائے کہ پیدا کرنے والے نے ان صفات کو تیرے اندر جو پیدا کیا ہے تو کیا اس لیے کہ وہ تجھے اپنا اسیر بنالیں اور تجھ پر غلبہ حاصل کرکے خود فاتح بن جائیں؟یا اس لیے کہ تو ان کو اپنا اسیرو مسخر بنالے اور خود ان پر غالب آجائے او راپنے ان اسیروں اور مفتوحین میں سے کسی کو اپنے سفر کا گھوڑا بنالے اور کسی کو اپنا اسلحہ بنالے تاکہ یہ چند دن جو تجھے اس منزل گاہ فانی میں گزارنا ہیں۔ ان میں سے اپنے ان غلاموں سے کام لے کر اپنی سعادت کا بیج حاصل کرسکے اور جب سعادت کا بیج تیرے ہاتھ آجائے تو تو ان کو اپنے پاؤں تلے روندتا ہوا اپنی اس قرار گاہِ سعادت میں داخل ہوسکے جسے خواص کی زبان میں ''حضورِ حق ٗ' کہا جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں تیرے جاننے کی ہیں۔ جس نے ان کو نہ جانا وہ راہ دین سے دور رہا اور لامحالہ دین کی حقیقت سے حجاب میں رہا''۔ (کیمیائے سعادت )
شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
''اے طالب تو پہچان اپنی ذات کو اور کون ہے تو اور کیا ہے حقیقت تیری اور کیا ہے تیری نسبت حق تعالیٰ کی طرف اورکس وجہ سے تو حق ہے اورکس وجہ سے تو عالم (جہان) ہے۔(شرح فصوص الحکم والایقان)
حضرت سخی سلطان باھوؒ حقیقت اور انسان
تمام عارفین اور فقراء کی طرح حضرت سخی سلطان باھوؒ بھی انسان کو اپنے من میں جھانکنے اور اپنی ذات پر غور کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ چونکہ صوفیاء کرام میں عظیم مرتبہ کے حامل اور سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں اس لئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا انداز بھی سب سے منفرد اور جداگانہ ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر تعلیمات خواہ نثر کی شکل میں ہوں یا شاعری کی شکل میں قرآن وحدیث کی خوبصورت شرح ہیں۔ آپؒ قرآن پاک کی اس آیت کہ' اﷲ شہ رگ سے نزدیک ہے ،کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ اس ہستی کی تلاش کے لئے پہلے اپنے اندررسائی ضروری ہے۔ اپنے باطن کے اندر اﷲ پاک کی موجودگی پرزور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کے لئے لفظ نزدیک کا استعمال بھی موزوں نہیں ہے کیونکہ یہ لفظ بھی علیحدگی اور دوئی کا مظہر ہے بلکہ وہ ہی تو ہماری ہستی ہماری حقیقت ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ترجمہ: اﷲ پاک کی ذات شہ رگ سے بھی قریب ہے مگر تو اندھا ہے اور لقائے خدا تیرا مقدر نہیں ہے۔(دیوانِ باھُو)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی شرح میں فرماتے ہیں: جان لے کہ نفسِ امارہ کی قوت وغذا گناہ و معصیت ہے ،بلکہ یوں کہیے کہ نفسِ امارہ کا تو پیشہ ہی گناہ و معصیت ہے۔ اگر آدمی رات دِن نماز و روزہ جیسی طاعت و بندگی میں مشغول رہے اور ہمیشہ قائم اللّیل و صائم الدہر رہے تو اِس کے باوجود بھی نفسِ امارہ گناہ سے باز نہیں آتا کہ اُس کی تو خصلت ہی گمراہی ہے۔ آدمی چاہے رات دِن مسائلِ فقہ کے مطالعہ میں مشغول رہے یا ریاضتِ تقویٰ و تلاوتِ قرآن اور نص و حدیث کے مطالعہ میں مصروف رہے نفسِ امارہ گناہوں سے باز نہیں آتا کہ اُس کا یار انہ نفس و شیاطین سے ہے۔آدمی چاہے خانہ کعبہ کا طواف و حج کرتا رہے یا میدانِ جنگ میں جہاد و قتال کرتا رہے یا ذکر فکر مراقبہ محاسبہ مکاشفہ کشف القلوب و کشف القبور کے مراتب حاصل کرکے غوث و قطب بن جائے نفسِ امارہ گناہوں سے باز نہیں آتا بلکہ ہر وقت گناہوں کی طرف مائل رہتا ہے کہ اُس کی نظر ہمیشہ مردارِ گناہ پر لگی رہتی ہے ۔لیکن جب تصورِ اسمِ ذات سے اُس کے دِل میں قرب و وصالِ الٰہی کی تجلّیات کا شعلہ بھڑکتا ہے تو وہ وحدانیتِ نُور حضور کے دریا میں غرق ہو کر عارف باللہ فنا فی اللہ کے انتہائی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ اِس مقام پر نفسِ امارہ عاجز ہو کر گناہوں سے رک جاتا ہے اور اُسے قدرتِ الٰہی کی طرف سے بے کام و بے زبان الہامات کے ذریعے حکم ہوتا ہے کہ''اے نفسِ امارہ ! حیا کر اور باادب ہو جا۔ ''قدرتِ الٰہی کے اِن الہامات کو سن کر نفسِ امارہ تائب ہو جاتا ہے اور مسلمان ہو کر صحیح اقرار و قلبی تصدیق کے ساتھ کلمہ طیب '''' پڑھ لیتا ہے اور گناہوں سے توبہ کرکے نفسِ مطۂنہ بن جاتا ہے۔ پھر وہ طلبِ راستی میں دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قبول کرکے منتہی ولی اللہ بن جاتا ہے۔ معرفتِ الٰہی کے اس انتہائی مقام پر جب وہکا مصداق بن کر اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے تو اُسے اپنے ربّ کی پہچان اس علامت سے ہو جاتی ہے کہ اُس کے نفس پر الہاماتِ ربانی کا نزول شروع ہو جاتا ہے کیونکہ مقامِ معرفت پر پہنچ کر نفس میں کوئی نفسانی و شیطانی باقی نہیں رہتی ۔ اس کے بعد اگر تمام حورو قصور ،نعمت ہائے بہشت و تمام زینتِ دنیا نفس کے گرد جمع ہو جائیں تو وہ اُسے اختیار نہیں کرتا۔(محک الفقر کلاں)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
(جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا بے شک اُس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا)
اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ خطاب اِس لیے کیا گیا ہے کہ اِس سے آدمی کے احوال اُس کے سامنے آجاتے ہیں۔ پھر اُس کا نفس ہوا (نفسانی خواہشات) سے اور دِل گناہوں سے مطلق بیزار ہو جاتا ہے۔ بندے کو بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، بندگی کے بغیر بندے کی ساری عمر محض شرمندگی ہے ۔(محک الفقر کلاں)
دل انسانی جسم میں ایک وسیع اور عظیم الشان نوری جوہر اور آئینہ حق نما ہے جو اﷲ تعالیٰ کے ذاتی نور سے منور ہوتا ہے اور تمام کائنات اس میں رائی کے دانے کے برابر نظر آتی ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کا نکتہ نظر یہ ہے کہ دل میں معرفتِ الٰہی سے ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس سے دونوں جہان کی کل کیفیات دل میں سما جاتی ہیں اور صاحبِ نظر دل کی آنکھوں سے اس کا صاف نظارہ کرتا ہے اور عاشقِ الٰہی تو ہمیشہ ہی اپنے دل کی جانب متوجہ رہتا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
قلب ایک نہایت وسیع ولایت اور ملکِ عظیم ہے دونوں جہان اورتمام مخلوق اس میں سما سکتے ہیں لیکن قلب دونوں جہانوں میں نہیں سما سکتا۔(فضل اللقاء)
ترجمہ: ہر کتاب کتابِ دِل کا ایک نقطہ ہے کہ کتابِ دِل نے بے شمار دفاترِ حق کا احاطہ کر رکھا ہے۔(محک الفقر کلاں)
حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ شرح دِل اور حقیقتِ دِل کے بارے میں فرماتے ہیں:
دِل کسے کہتے ہیں اور قلب کسے سمجھا جاتا ہے؟ جان لے کہ زمین کی وسعت آسمان کی وسعت کے مقابلے میں محض ایک قطرہ ہے، جملہ آسمان بلندی و فراخئ لوح کے مقابلے میں ایک قطرہ ہیں، لوح قلم کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے۔عرشِ اکبر کے بے شمار کنگرے ہیں،ہر کنگرے پر کلمہ طیب '' '' لکھا ہو اہے، ہر کنگرے پر ایک قندیل لٹکی ہوئی ہے، ہر قندیل میں قدرتِ الٰہی سے زمین و آسمان کے چودہ طبق تہہ در تہہ رکھے ہوئے ہیں، ہر طبق میں اٹھارہ ہزار عالَم کی مخلوق آباد ہے، ہر مخلوق اپنی اپنی زبان سے کلمہ طیب '' ''کا ذکر کر رہی ہے۔ عرشِ اکبر اور تمام قندیلیں دِل کے مقابلے میں اسپند کے دانے کے برابر ایک قطرہ ہیں۔سن اے عزیز! ہو شمند ! جب کوئی آدمی اہلِ اسلام عارف باللہ کے دِل کو ٹھیس پہنچاتا ہے تو اٹھارہ ہزار عالم کی جملہ مخلوق بلکہ عرش و کرسی کی تمام مخلوق میں تہلکہ مچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے حاملانِ عرش و کرسی ! تم اِس طرح جنبش میں کیوں ہو؟وہ عرض کرتے ہیں کہ ایک مومن کا دِل کسی نے دکھایا ہے اور وہ جلالیت میں آکر جنبش کر رہا ہے۔ اِس پر اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب دکھ دینے والے پر نازل ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔(محک الفقر کلاں)
جان لے کہ ذکر فکر ، مراقبہ محاسبہ مکاشفہ اور خلوتِ حجرہ سے اکتساب کرنا خام و ناقص لوگوں کا مرتبہ ہے کہ حجرہ و خلوتِ دِل بہتر ہے حجرہ و خلوتِ خاک سے کہ حجرہِ خاک دِل کے حجرے سے کمتر ہے۔ جس نے بھی رازِ حق کو پایا دِل ہی سے پایا اور جس نے دِل سے راز حق کو پا لیا اُس نے خود کو حجرہ و خلوتِ خاک سے آزاد کرالیا۔ (محک الفقر کلاں)
جو قلب ایک دفعہ بیدار ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ روئیت الٰہی میں مستغرق ہونے کے لئے مشتاق، عاشق دیوانہ ، اور متوجہ رہتاہے۔(قربِ دیدار)
حقیقت تک پہنچنے کا راستہ انسانی قلب میں ہے اور انسانی جسم میںیہی وہ جگہ ہے جہاں ذاتِ الٰہی کے جلوے نظر آتے ہیں اور اگر قلبِ انسان پر سے زنگ اتر جائے اورحجابات کے دور ہونے کے بعد یہ صاف ہوجائے تو فطرتِ انسانی قلب کے واسطہ سے وجدانِ حقیقی تک جا پہنچتی ہے گویا قلب انسان کی روحانی کیفیات کا مرکز ہے۔ اگر یہ درست ہے تو جو اعمال بھی سرزد ہوں گے وہ درست ہوں گے اور اگر یہ مرکز سیاہ ہوجائے او راپنی جگہ سے ہل جائے تو روحانی اقدار تباہ ہوجاتی ہیں ۔انسانی جسم کے اندر دل ہی ہے جس میں ذاتِ حق جلوہ گر ہے۔ اور وہ ذات انسان میں پوشیدہ ہے جیسا کہ حدیثِ قدسی میں اِرشاد باری تعالیٰ ہے۔
(انسان میرا بھید ہے اور میں انسان کا بھید ہوں)۔
اِس حقیقت سے واقفانِ حقیقت یا طالبِ صادق ہی واقف ہوتے ہیں۔
''عقل بیدار'' میں حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ دل کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
میں نے اپنے دل میں قبلہ دیکھا اور حق کا دیدار کیا اور پھر خدا کے سامنے سربسجود ہو گیا۔
دل وجود کے اندر اﷲ کا ایک خزانہ ہے۔ اہل دل محمود ہیں اور اس کی نمود بھی محمود سے ہی ہے۔
خطرات کے باعث دل شیطان کا گھر بن جاتا ہے اور اہلِ معرفت کا دل پرنور ہوتا ہے۔
دل ایک لطیفہ ہے اور اپنی لطافت کے باعث خدا سے ملتا ہے اور دل وحدت اور حق کی بقاء کا ایک راز ہے۔
دنیا کے طالب اہلِ دل نہیں ہوتے وہ سراسر بے حیا' روسیاہ اور شرمندہ ہوتے ہیں۔
باھوؒ اس شخص کا دل دم اور روح ایک ہو جاتے ہیں جو ایک اﷲ کا سجدہ اور نماز صبح شام ادا کرتا ہے۔
آدمی کا دِل گہرے سمندر کی مثل ہے اوراس کاجسم حباب کی مثل ۔(نور الہدیٰ)
جان لے کہ دِل جب سِرِّ اسرار کے خزانے سے ، انوارِ الٰہی کے مشاہدے سے ، ذکر سے اور معرفتِ الٰہی سے زندہ ہو جاتا ہے اور جب دِل کے حواسِ خمسہ کھل جاتے ہیں تو ظاہری نفسانی وجود کے حواسِ خمسہ بند ہوجاتے ہیں۔(مجالستہ النبیؐ)
آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے ابیات میں فرماتے ہیں:
ترجمہ:اے دِل تو زندہ ہونے کی کوشش کیوں نہیں کرتا تو یہ میٹھا شربت (زندگی دِل) کیوں نہیں پیتا۔ دِل جب زندہ ہوجائے تو پھر یہ مرتا نہیں اور جب بیدار ہو جائے تو سوتا نہیں۔(مجالستہ النبیؐ)
ترجمہ: دِل کی آنکھ کے سامنے ظاہری آنکھ کو بند کرلے اور مٹی کے جسم میں دیدار کو اچھی طرح دیکھ۔(تیغِ برہنہ)
قلب کے تین حروف ہیں ''ق۔ل۔ب۔'' حرف ''ق'' سے مراد قُربِ الٰہی اور حرف''ل'' سے مراد لقائے الٰہی ، حرف ''ب'' سے مراد بقا باللہ۔ جو شخص اِن صفات سے متصف ہے وہ صاحبِ قلب ہے ورنہ وہ اہلِ کلب (کتا ) ہے۔(قربِ دیدار)
ترجمہ: تیرا دِل کعبہ اعظم ہے اسے بتوں (غیر اللہ) سے پاک کر۔ تیرا دِل بیت المقدس ہے اسے بُت گروں کی دکان مت بنا۔(عین الفقر باب ہفتم)
آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:
آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تیرا دل اﷲ پاک کی قیام گاہ ہے تو اپنے دِل کے اندر جھانک کر تو دیکھ اور اس خضر علیہ السلام کا محتاج نہ بن جس نے آبِ حیات پی کر حیاتِ جاودانی حاصل کر لی ہے بلکہ تیرے اندر تو عشقِ الٰہی کا آبِ حیات موجود ہے۔ اپنے دل کے اندر عشق کا چراغ روشن کر شاید تجھے کھوئی ہوئی امانتِ حقیقی مل جائے جو تیرے دِل کے اندر ازل سے پوشیدہ ہے۔ جنہوں نے اس راز کو پا لیا وہ موت سے پہلے مر گئے یعنی انہوں نے حیاتِ جاودانی حاصل کر لی۔
جب سے ''باطن'' کی حقیقت ہم پر ظاہر ہوئی ہے کہ میرا دل تو اﷲ پاک کا گھر ہے میری خوشی اورمسرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ میرے اندر ہی کوزے ہیں کہ ان سے دل کی طہارت اور پاکیزگی کا وضو کر کے اور تزکیہ نفس کے مصلے پر کھڑے ہو کر جب محبوبِ حقیقی (اس بیت میں کعبہ قبلہ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے) کے سامنے سجدہ ریز ہوا تو مجھ پر (اثبات) کی حقیت آشکارہوئی کہ کائنات میں سوائے اﷲ تعالیٰ کے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ مجھے اپنے مرشد کامل سے نصیب ہوا ہے اور میرا مرشد آئندہ بھی میرا نگہبان اور محافظ ہے۔
تمام فقراء اور اولیاء کرام نے انسانوں کو اپنی ذات کی پہچان کادرس دیا ہے کیونکہ جب انسان اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے تو اسی راستہ سے اللہ تعالیٰ کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کو دوسرے اولیاء کرام سے ممتاز کرتی ہے کہ دوسرے اولیاء کرام انسان کو روح، قلب ، من، دِل ، باطن ، خودی اور ضمیر کی پہچان اور نورِ بصیرت حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن اس کی ''کلید'' کا ذکر نہیں کرتے جس سے باطن کے اندر کا سفر کیا جاسکے۔لیکن حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنی تمام تصانیف میں اس کلید اور اس کے فوائد ، اسرار و رموز کا ذکر کیا ہے اور انسان کی روح ، قلب ،من، باطن ، خودی اور ضمیر کا قفل کھولنے والی اور نورِ بصیرت حاصل کرنے والی وہ کلید ذکر و تصوراسمِذات ہے بشرطیکہ یہ کسی مرشدِ کامل اکمل صاحبِ مسمّٰی اسمِ ذات سے حاصل ہوئی ہو۔
مسلمان کسے کہتے ؟
اسلام کے کیا معانی ہیں اور جب کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔لغت کی رو سے اسلام کے معانی:اسلام کا مادہ یا روٹ سَلِمَ ہے (المنجد)سَلِمَ۔ سَلَامَۃً وَ سَلَامًا کے معانی ہیں کسی عیب سے یا آفت سے نجات پانا۔ چھٹکارا پانا۔ بری ہونا۔سَلَّمَ بِالْاَمْرِ۔ راضی ہونا۔ فرمانبردار ہونا۔ کسی کا کسی کو کوئی شئے سپرد کرنا اور اس کا اس کو قبول کر لینا۔
سَالَمَہُ۔ مصالحت کرنا۔ اَسْلَمَ: مطیع و فرمانبردار ہونا۔ مذہب اسلام قبول کرنا ۔
اَسْلَمَ الْعَدُوَّ۔ دشمن کو چھوڑ دینا۔ اَمْرَہٗ اِلَی اللّٰہِ۔ معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دینا۔
تَسَالَمَ الْقَوْمُ۔ مصالحت کرنا۔ آپس میں اتفاق و اتحاد کرنا۔
اِسْتَسْلَمَ۔ تابعدار ہونا۔ اَلسِّلْمُ: سلامتی، تابعداری۔ دَارُالسَّلَامِ۔ جنت۔ اَلسَّلَامَۃُ: عیوب و آفات سے پاکی اور بریت۔
یہ تمام معانی لغت کی مشہور کتاب المنجد سے لئے گئے ہیں۔ (زیر لفظ سلم صفحہ488)
لغت کی رو سے اسلام کے معانی یہ بنے جو اپنے آپ کو بیچ دے۔ کسی کے سپرد کر دے۔ تابعدار اور فرمانبردار بن جائے، صلح آتشی، دشمن کو چھوڑ دے۔ آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنے والے کو اور مصالحت کرنے اور کرانے والے کو مسلمان کہیں گے یا جانیں گے۔ اور یہ سارے معانی اسلام قبول کر لینے کے بعد ہر مسلمان کہلانے والے میں پائے جانے ضروری ہیں۔ وہ امن پیدا کرنے والا ہو، امن مہیا کرنے والا ہو، امن دینے والا ہو، صلح و آتشی سے رہنے والا ہو، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنے والا ہو اور جب اس کے اختیار میں ہو تو اپنے دشمن کو بھی چھوڑ دینے والا ہو۔ جس طرح ایک جنگ میں حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے ایک دشمن کو زیر کر لیا اور قریب تھا کہ آپ اسے قتل کر دیتے اس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا آپ نے اسی وقت اسے چھوڑ دیا۔ اور فرمایا کہ اب اگر میں تجھے قتل کرتا ہوں تو اس میں مرا نفس شامل ہو جائے گا اور خدا کی رضا ختم ہو جائے گی۔
نبی کریم ﷺ کے نزدیک ایک مسلمان کی تعریف
1۔ حضرت جبریل علیہ السلام آدمی کے بھیس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور ﷺ سے پوچھا:۔
کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اسلام کے بارے میں مطلع فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس شخص نے کہا کہ حضورب ﷺ نے بجا فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب آیا کہ سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے پوچھا کہ مجھے ایمان کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ پر ایمان لائیں۔ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں پر ایمان لائیں۔ نیز یومِ آخر پر ایمان لائیں اور قضاء و قدر کے بارے میں خیرو شر پر بھی ایمان لائیں۔ اس شخص نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان )
2۔ اہلِ نجد میں سے ایک شخص پراگندہ بالوں والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنتے تھے مگر اس کی باتوں کو نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ وہ شخص زیادہ قریب ہو گیا تو معلوم ہوا کہ وہ حضورؐ سے اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ ان پانچ کے علاوہ اور بھی نمازیں ہیں؟ حضورؐ نے فرمایا کہ نہیں بجز اس کے کہ تم بطور نفل ادا کرنا چاہو۔ حضور نے پھر فرمایا کہ رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے پوچھا کہ رمضان کے روزوں کے علاوہ اور بھی روزے فرض ہیں؟ حضور نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل رکھنا چاہو۔ پھر حضور ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی اور ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل زیادہ ادا کرنا چاہو ۔ وہ شخص مجلس سے اٹھ کر چل پڑا اور یہ کہہ رہا تھا کہ بخدا میں ان احکام پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایاکہ اگر یہ اپنے اس قول میں سچا ثابت ہوا تو ضرور کامیاب ہو جائے گا ۔
(صحیح بخاری کتاب الایمان )
3۔ جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں ۔ اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذمے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو ۔
(بخاری باب فضل استقبال القبلۃ)
سَالَمَہُ۔ مصالحت کرنا۔ اَسْلَمَ: مطیع و فرمانبردار ہونا۔ مذہب اسلام قبول کرنا ۔
اَسْلَمَ الْعَدُوَّ۔ دشمن کو چھوڑ دینا۔ اَمْرَہٗ اِلَی اللّٰہِ۔ معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دینا۔
تَسَالَمَ الْقَوْمُ۔ مصالحت کرنا۔ آپس میں اتفاق و اتحاد کرنا۔
اِسْتَسْلَمَ۔ تابعدار ہونا۔ اَلسِّلْمُ: سلامتی، تابعداری۔ دَارُالسَّلَامِ۔ جنت۔ اَلسَّلَامَۃُ: عیوب و آفات سے پاکی اور بریت۔
یہ تمام معانی لغت کی مشہور کتاب المنجد سے لئے گئے ہیں۔ (زیر لفظ سلم صفحہ488)
لغت کی رو سے اسلام کے معانی یہ بنے جو اپنے آپ کو بیچ دے۔ کسی کے سپرد کر دے۔ تابعدار اور فرمانبردار بن جائے، صلح آتشی، دشمن کو چھوڑ دے۔ آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنے والے کو اور مصالحت کرنے اور کرانے والے کو مسلمان کہیں گے یا جانیں گے۔ اور یہ سارے معانی اسلام قبول کر لینے کے بعد ہر مسلمان کہلانے والے میں پائے جانے ضروری ہیں۔ وہ امن پیدا کرنے والا ہو، امن مہیا کرنے والا ہو، امن دینے والا ہو، صلح و آتشی سے رہنے والا ہو، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنے والا ہو اور جب اس کے اختیار میں ہو تو اپنے دشمن کو بھی چھوڑ دینے والا ہو۔ جس طرح ایک جنگ میں حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے ایک دشمن کو زیر کر لیا اور قریب تھا کہ آپ اسے قتل کر دیتے اس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا آپ نے اسی وقت اسے چھوڑ دیا۔ اور فرمایا کہ اب اگر میں تجھے قتل کرتا ہوں تو اس میں مرا نفس شامل ہو جائے گا اور خدا کی رضا ختم ہو جائے گی۔
نبی کریم ﷺ کے نزدیک ایک مسلمان کی تعریف
1۔ حضرت جبریل علیہ السلام آدمی کے بھیس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور ﷺ سے پوچھا:۔
کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اسلام کے بارے میں مطلع فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس شخص نے کہا کہ حضورب ﷺ نے بجا فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب آیا کہ سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے پوچھا کہ مجھے ایمان کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ پر ایمان لائیں۔ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں پر ایمان لائیں۔ نیز یومِ آخر پر ایمان لائیں اور قضاء و قدر کے بارے میں خیرو شر پر بھی ایمان لائیں۔ اس شخص نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان )
2۔ اہلِ نجد میں سے ایک شخص پراگندہ بالوں والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنتے تھے مگر اس کی باتوں کو نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ وہ شخص زیادہ قریب ہو گیا تو معلوم ہوا کہ وہ حضورؐ سے اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ ان پانچ کے علاوہ اور بھی نمازیں ہیں؟ حضورؐ نے فرمایا کہ نہیں بجز اس کے کہ تم بطور نفل ادا کرنا چاہو۔ حضور نے پھر فرمایا کہ رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے پوچھا کہ رمضان کے روزوں کے علاوہ اور بھی روزے فرض ہیں؟ حضور نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل رکھنا چاہو۔ پھر حضور ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی اور ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل زیادہ ادا کرنا چاہو ۔ وہ شخص مجلس سے اٹھ کر چل پڑا اور یہ کہہ رہا تھا کہ بخدا میں ان احکام پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایاکہ اگر یہ اپنے اس قول میں سچا ثابت ہوا تو ضرور کامیاب ہو جائے گا ۔
(صحیح بخاری کتاب الایمان )
3۔ جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں ۔ اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذمے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو ۔
(بخاری باب فضل استقبال القبلۃ)
بات بات پر مسلمانوں کو مشرک کہنے والو مکمّل قرآن پر ایمان لے آؤ؟
اللہ تعالیٰ کی کچھ صفات جو صفات عامہ کہلاتی ہیں مخلوق میں پائی جاتی ہیں، جب ان کا ذکر اللہ تعالیٰ کے لئے ہو گا تو وہ حقیقی معنی میں استعمال ہوں گی اور شان خالقیت و الوہیت کے مطابق ہوں گی اور جب مخلوق کے لئے ہو گا تو ان کا استعمال مجازی اور عطائی معنی میں ہو گا کیونکہ مخلوق میں جو صفات پائی جاتی ہیں وہ اللہ کی صفات سے اصلاً مشابہ نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہوتی ہیں۔ یہ صفات مخلوق کو اس لیے عطا کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ صفات کو جہاں تک ممکن ہو معلوم کرنے میں مدد مل سکے گویا یہ صفات الٰہیہ کی معرفت کا ذریعہ اور واسطہ بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں وہ اس طرح کی ہیں :
صفاتِ حقیقی بمعنی صفات ذاتی صفات مجازی بمعنی صفات عطائی
1. اِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُO
الإسراء، 17 : 1
’’بیشک وہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًاO
الدهر، 76 : 2
’’پھر ہم اس کو سننے والا اور دیکھنے والا (انسان) بنا دیتے ہیں۔‘‘
2. إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌO
البقرة، 2 : 143
’’بیشک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔‘‘
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌO
التوبة، 9 : 128
’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول تشریف لائے، تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق، بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘
3. إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌO
الحج، 22 : 17
’’بیشک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے۔‘‘
3. وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا.
البقرة، 2 : 143
’’اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول تم پر گواہ ہو۔‘‘
4. کَلَّمَ اﷲُ مُوْسٰی تکْلِيْمًاO
النساء، 4 : 164
’’اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے (بلاواسطہ) گفتگو (بھی) فرمائی۔‘‘
4۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے کلام کیا۔
5. أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًاO
النساء، 4 : 139
’’کیا یہ ان (کافروں) کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس عزت تو ساری اللہ کے لئے ہے۔‘‘
5. وَِﷲِ الْعِزَّة وَ لِرَسُوْلِه وَ لِلْمُوْمِنِيْنَ... O
المنافقون، 63 : 8
’’عزت اللہ کیلئے، اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے ہے۔‘‘
6. أَنَّ الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً.
البقرة، 2 : 165
’’ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے۔‘‘
6۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے استفسار پر آپ کے درباریوں نے یہ جواب دیا :
نَحْنُ أُوْلُوا قُوَّةٍ وَأُولُوا بَأْسٍ شَدِيدٍ.
النمل، 27 : 33
’’ہم طاقتور اور سخت جنگجو ہیں۔‘‘
7. بِيَدِكَ الْخَيْرُ.
آل عمران، 3 : 26
’’ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے۔‘‘
8. أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ.
الاعراف، 7 : 54
’’خبردار ہر چیز کی تخلیق اور حکم و تدبیر کا نظام چلانا اسی کا کام ہے۔‘‘
7. وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا.
البقرة، 2 : 269
’’جسے (حکمت و) دانائی عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی نصیب ہو گئی۔
8۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے :
أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ... O
آل عمران، 3 : 49
’’میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں۔‘‘
صفاتِ حقیقی بمعنی صفات ذاتی صفات مجازی بمعنی صفات عطائی
1. اِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُO
الإسراء، 17 : 1
’’بیشک وہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًاO
الدهر، 76 : 2
’’پھر ہم اس کو سننے والا اور دیکھنے والا (انسان) بنا دیتے ہیں۔‘‘
2. إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌO
البقرة، 2 : 143
’’بیشک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔‘‘
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌO
التوبة، 9 : 128
’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول تشریف لائے، تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق، بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘
3. إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌO
الحج، 22 : 17
’’بیشک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے۔‘‘
3. وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا.
البقرة، 2 : 143
’’اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول تم پر گواہ ہو۔‘‘
4. کَلَّمَ اﷲُ مُوْسٰی تکْلِيْمًاO
النساء، 4 : 164
’’اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے (بلاواسطہ) گفتگو (بھی) فرمائی۔‘‘
4۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے کلام کیا۔
5. أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًاO
النساء، 4 : 139
’’کیا یہ ان (کافروں) کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس عزت تو ساری اللہ کے لئے ہے۔‘‘
5. وَِﷲِ الْعِزَّة وَ لِرَسُوْلِه وَ لِلْمُوْمِنِيْنَ... O
المنافقون، 63 : 8
’’عزت اللہ کیلئے، اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے ہے۔‘‘
6. أَنَّ الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً.
البقرة، 2 : 165
’’ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے۔‘‘
6۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے استفسار پر آپ کے درباریوں نے یہ جواب دیا :
نَحْنُ أُوْلُوا قُوَّةٍ وَأُولُوا بَأْسٍ شَدِيدٍ.
النمل، 27 : 33
’’ہم طاقتور اور سخت جنگجو ہیں۔‘‘
7. بِيَدِكَ الْخَيْرُ.
آل عمران، 3 : 26
’’ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے۔‘‘
8. أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ.
الاعراف، 7 : 54
’’خبردار ہر چیز کی تخلیق اور حکم و تدبیر کا نظام چلانا اسی کا کام ہے۔‘‘
7. وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا.
البقرة، 2 : 269
’’جسے (حکمت و) دانائی عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی نصیب ہو گئی۔
8۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے :
أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ... O
آل عمران، 3 : 49
’’میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں۔‘‘
Tuesday, 1 September 2015
اولیائے امت اورقادیانیت کا بھیانک چہرہ
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمتہ اﷲ علیہ کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا حکم حجاز کے مبارک سفر مکہ مکرمہ میں حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ سے ملاقات ہوئی جو ایک صحیح صاحب کشف انسان تھے۔ جب ان کو میری آزاد اور بے باک طبیعت کا علم ہوا تو شدید اصرار اور تاکید سے حکم دیا کہ چونکہ عنقریب ہندوستان میں ایک فتنہ (قادیانی) ظاہر ہونے والا ہے لہذا تم وطن واپس چلے جائو اگر تم بالفرض خاموش بھی رہوگے تو بھی یہ فتنہ ترقی نہیں کرسکے گااور اس طرح ملک میں آرام رہے گا چنانچہ میں پورے وثوق کے ساتھ حاجی صاحب کے اس کشف کو مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتا ہوں اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی خواب میں مجھے حکم دیا ہے کہ یہ مرزا قادیانی غلط تاویل کی قینچی سے میری احادیث کے ٹکڑے ٹکڑے کررہا ہے اور تو خاموش ہے۔ اس کے بعد جو کچھ لکھا گیا وہ عام لوگوں کی خیر خواہی کے لئے لکھا گیا۔ اس لئے کہ فساد عقائد لوگوں کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کتاب و سنت ائمہ کرام اور امت مرحومہ کے علماء کے صحیح عقائد کی بنیاد پر اس کی حقیقت کو آشکار کیا (ملفوظات طیبہ ۔ ص 127-126)
پیر سید مہر علی شاہ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے حجرے میں آنکھیں بند کیں اور دیکھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم قعدے کی حالت میں جلو فرما ہیں۔ حضور علیہ السلام سے چار بالشت کے فاصلے پر پیر صاحب باادب بیٹھے ہیں لیکن مرزا غلام احمد اس جگہ سے دور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کئے بیٹھا ہے (تحریک ختم نبوت ص 50 ‘ آغا شورش کاشمیری)
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمتہ اﷲ علیہ کا پانچ نکاتی بیان
1۔ سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا‘ اس کا علم لدنی ہوتا ہے۔ وہ روح قدس سے تعلیم پاتا ہے۔ بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند قدس سے ہوتی ہے۔ جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے۔
2۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم اپنے رب العالمین مخلوق سے روبرو دعویٰ نبوت کردیتا ہے۔ اور بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجہ نبوت ملتا ہے وہ نبی ہوتا ہے۔ وہ پیدائش سے نبی ہوتا ہے جھوٹا نبی برخلاف اس کے آہستہ آہستہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پہلے محدث مجرد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
3۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم الانبیاء تک جتنے نبی ہوئے تمام کے نام منفرد تھے‘ کسی سچے نبی کا نام مرکب نہ تھا۔ برعکس اس کے جھوٹے نبی کا نام مرکب تھا۔
4۔ سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا ہے اور جھوٹا نبی ترکہ چھوڑ کر مرتا ہے اور اولاد کو محروم الارث کرتا ہے۔
5۔ مرزائی جو مرزا غلام احمد کے پیرو ہیں‘ وہ ختم نبوت کے قائل نہیں اور حضور علیہ السلام کی رسالت و نبوت میں کمی کرنے والے ہیں اور حضور علیہ الصلواۃ و السلام کے مدارج کو مرزا غلام احمد کے لئے مانتے ہیں (بحوالہ ماہنامہ انوار الصوفیہ قصور‘ اپریل‘مئی 1941ء ص 33)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا فتویٰ
آپ فرماتے ہیں کہ قادیانی مرتد و منافق ہیں۔ مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرنا یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے۔ اس کا ذبیح محض نجس مردار حرام قطعی ہے۔ مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانیوں کو مظلوم سمجھنے والا اور جس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم اور ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے‘ وہ بھی کافر ہے (احکام شریعت)
اور فرمایا کہ اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت و حیات کے سب علاقے اس سے قطع کرلیں۔ بیمار پڑنے پر پوچھنے کو جانا حرام‘ مرجائے تو جنازے پر جانا حرام ہے۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے‘ اس کی قبر پر جانا حرام ہے (فتاویٰ رضویہ شریف)
نگاہ ولایت اور قادیانی کذاب کا دعویٰ نبوت
مرزا غلام احمد قادیانی ایک روز مولانا پیر سید حسن شاہ صاحب قادری رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے اسے ہدایت فرمائی کہ عقیدہ اہل سنت و جماعت پر ثابت قدم رہے اور خواہشات نفسانیہ اور ہوائے شیطانیہ کا غلام نہ بن جائے۔ جب یہ کلام حافظ عبدالوہاب صاحب (جو حضرت کے شاگرد اور مرید اور یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے‘ نے سنا تو عرض کیا حضور آپ نے اسے اس طرح ہدایت فرمائی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا کچھ مدت بعد اس شخص (غلام احمد) کادماغ خراب ہوجائے گا اور یہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ کیونکہ مجھے اﷲ تعالیٰ کی عطا سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان سے قرن شیطان کا ظہور ہوگا اور وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا (ارشاد… ص 161)
اس پیشن گوئی کے چھتیس سال بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیحیت و نبوت کا دعویٰ اگل دیا (ضیائے حرم‘ دسمبر 74ئ)
راولپنڈی میں منعقدہ مشائخ کانفرنس کے موقع پر شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمتہ اﷲ علیہ کے خطاب سے اقتباس قادیانی مسئلہ:
کہا جاتا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دو۔ اقلیت تو ذمیوں کو کہا جاتا ہے جو شخص اسلام کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرے وہ کافر نہیں‘ وہ مرتد ہے اور مرتد کی سزا شریعت میں قتل ہے۔ اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہوتی تو میں قادیانیوں کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرتا جس کی نظیر سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے قائم کی تھی (ضیاء حرم‘ دسمبر 74ئ)
امیر شریعت جانشین شیخ الاسلام خواجہ محمد حمید الدین سیالوی مدظلہ صدر مرکز الدعوۃ الاسلامیہ نے پہلی سالانہ عظمت تاجدار ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر فرمایا۔
قادیانیت عالم اسلام کے اتحاد میں زبردست رکاوٹ ہے۔ اس کا قلع قمع کئے بغیر ملت اسلامیہ کا وجود خطرے میں ہے۔ قادیانیت اسلام دشمن طاقتوں کی گہری سازش ہے اس بدترین ناسور کے خلاف جہاد مسلمانوں کا اہم ترین فریضہ ہے
جسٹس پیر کرم شاہ الازہری رحمتہ اﷲ علیہ:
قادیانیت‘ منکرین ختم نبوت کا ایسا گروہ ہے جسے انگریز نے عالم اسلام کی بیخ کنی کے لئے خود کاشت کیا اور پھر اس کے تمام مفادات کا تحفظ کیا۔ یہ لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے باعث دن رات پوری امت مسلمہ اسلام اور وطن عزیز کے خلاف تباہ کن ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ یہ مار آستین ہیں۔ یہ لوگ بیرونی ممالک میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام دشمن طاقتوں کی جاسوسی‘ اسلام کے تخریب اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ عالم اسلام کے اول دشمن اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ان کا مشن پوری سرگرمی سے کام کررہا ہے۔ اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ قادیانی موجود ہیں۔ ان حالات میں اس فتنہ کے تدارک کی ذمہ داری امت محمدیہﷺ کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ قادیانیت کے خلاف خواص و عوام میں ایک نیا شعور پیدا ہورہا ہے جس سے قادیانیت کی زہرناکیوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف نفرت کا احساس عام ہورہا ہے۔(سابقہ جج سپریم کورٹ آف پاکستان سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیرہ شریف سرگودھا)
شیخ الحدیث حضرت علامہ سید محمود احمد رضوی رحمتہ اﷲ علیہ:
خاتم النبین
الیوم اکملت لکم دینکم:
آج ہم نے تمہارا دین مکمل کردیا۔
اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کیا (سورہ مائدہ) یہ آیت 9ذی الحجہ 01ھ کو نازل ہوئی۔ اس بشارت میں یہ اشارہ تھا کہ دین کی عمارت میں کسی نہ کسی اینٹ کی ضرورت تھی جو حضورﷺ کے وجود سے کامل و مکمل ہوگئی۔ ایسی کہ اب اس میں کوئی جگہ باقی نہ رہی۔
ولکن رسول اﷲ وخاتم النبین (احزاب)
کہ حضورﷺ نبیوں کے خاتم ہیں۔ حضور علیہ السلام نے خاتم کی معنی خود متعدد احادیث میں بیان فرمادیئے۔
انا خاتم النبین لانبی بعدی
میں انبیاء کا خاتم ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تکمیل دین اور ختم نبوت کو بطور تمثیل بیان کرتے ہوئے حضورﷺ نے فرمایا۔ میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کوئی عمدہ محل بنایا‘ جسے دیکھ کر لوگ اس کی عمدگی خوبصورتی کی تعریف کریں لیکن اس محل کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو جسے دیکھ کر لوگ یہ کہیں اگر اس جگہ کو بھی پورا کردیا جاتا تو خوب ہوتا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا۔
تو میں وہی آخری اینٹ ہوں
وانا خاتم النبین
میں پیغمبر کا خاتم ہوں
فختمت لانبیاء
تو پیغمبری کا سلسلہ ختم ہوگیا (بخاری‘ مسلم)
حضورﷺ نے دیگر انبیاء کے مقابلے میں اپنے مخصوص فضائل میں ختم نبوت کا ذکر نمایاں طور پر فرمایا ہے۔ نبوت مجھے پر ختم کردی گئی (مسلم) میں پیغمبروں کا اس وقت بھی خاتم تھا جبکہ آدم پانی اور مٹی میں پڑے ہوئے تھے (کنزالعمال ص 104 ج 6)
لفظ خاتم کے معنی آپ نے خود فرمادیئے (آخری نبی) اور حضورﷺ کے بعد نبی کے پیدا ہونے کے امکان کو خود حضورﷺ نے ختم فرمادیا۔ اے علی تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میں اور مجھ میں وہ نسبت ہے جو ہارون اور موسیٰ میں تھی۔
الا انہ لیس نبی بعدی (بخاری)
مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضور ﷺخاتم النبین نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کی نگرانی اور سیاست انبیاء کرتے تھے‘ جب ایک نبی وصال فرماتا تو دوسرا نبی پیدا ہوجاتا اور… میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوسکتے تھے۔ اس حدیث میں لوکان کا لفظ ہے۔ لو امر محال کے لئے آتا ہے جس سے واضح ہوا کہ حضورﷺ کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا محال ہے۔ میرے پانچ نام ہیں۔ محمد‘ احمد‘ ماحی‘ خدا میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ حاشر‘ خدا میرے جھنڈے تلے بروز حشر ساری مخلوق کو جمع فرمائے گا اور میں عاقب ہوں۔
الذی لیس بعدہ نبی (آخری) ہوں جس کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
رسالت و نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ میرے بعد نہ کوئی رسول نہ کوئی نبی۔ اس لئے جو شخص بھی حضورﷺ کے بعد کسی بھی تاویل سے نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جیسے مرزا قادیانی۔ اور اسے نبی کو مانے والے۔ جیسے احمدی اور اس کے مسیح بزرگ یا مسلمان ماننے والے۔ جیسے لاہوری مرزائی یہ سب کافر‘ مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان سے میل جول سلام‘ کلام‘ محبت‘ نکاح وغیرہ سخت حرام ہے۔ ان کا ذبح کیا ہوا جانور مردار ہے۔ معاذ اﷲ کسی لڑکی کا مرزائی سے نکاح خالص زنا ہے۔ اسی طرح مرزائی لڑکی سے کسی مسلمان لڑکے کا نکاح فاسد و باطل ہے۔ مرزائی احمدی ہوں یا لاہوری ان کے ہوٹلوں میں پکا ہوا گوشت مردار حرام ناپاک ہے اور گوشت کے علاوہ دیگر اشیاء مکروہ ہیں۔
(دین مصطفی ص 58-56)
امام احمد رضا اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت
برصغیر پاک و ہند میں امام احمد رضا فاضل بریلوی کے خانوادے نے منکرین ختم نبوت اور قادیانیت کا رد کیا۔ امام احمد رضا محدث بریلوی نے مرزا قادیانی کو صرف کافر ہی نہیں قرار دیا بلکہ اس کو مزید منافق بھی کہا ہے اور اپنے فتوئوں میں اس کو اس کے اصلی نام کے غلام قادیانی کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ مرتد و منافق وہ شخص ہے جو کلمہ اسلام پڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ یا رسول اﷲﷺ یا کسی نبی یا رسول کی توہین کرتا ہے‘ یا ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہے۔ اس کے احکام کافر سے بھی سخت تر ہیں۔ امام صاحب نے مرزا غلام قادیانی اور منکرین ختم نبوت کو رد ابطال میںمتعدد فتویٰ کے علاوہ جو مستقل رسائل تصنیف کئے ہیں‘ ان کے نام یہ ہیں۔
1۔ جزاء اﷲ عدو بآباہ ختم النبوۃ: یہ رسالہ 1317ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں عقیدہ ختم نبوت پر 120 حدیثیں اور منکرین کی تکفیر پر جلیل القدر ائمہ کرام کی تیس تصریحات پیش کی گئی ہیں۔
2۔ السوء والعقاب علی المسیح الکذاب: یہ رسالہ 1320ھ میں اس سوال کے جواب میں تحریر ہوا کہ اگر ایک مسلمان مرزائی ہوجائے تو کیا اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی؟ امام احمد رضا نے دس وجوہات سے مرزا غلام قادیانی کا کفر ثابت کرکے احادیث کے نصوص اور دلائل شرعیہ سے ثابت کیا کہ سنی مسلمہ عورت کا نکاح باطل ہوگیا۔ وہ اپنے کافر مرتد شوہر سے فورا علیحدہ ہوجائے۔
3۔قہرالدیان علی فرقہ بقادیان: یہ رسالہ 1323ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں جھوٹے مسیح قادیان کے شیطانی الہاموں‘ اس کی کتابوں کے کفریہ اقوال سیدنا عیسٰی علیہ الصلواۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پاک و طہارت اور ان کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
4۔ المبین ختم النبین: یہ رسالہ 1326ھ میں اس سوال کے جواب میں تصنیف ہوا کہ ’’خاتم النبین میں لفظ النبین پر جو الف لام ہے‘ وہ مستغرق کا ہے۔ یہ عہد خارجی کا ہے۔ امام احمد رضا نے دلائل کثیرہ واضح سے ثابت کیا ہے کہ اس پر الف لام استغراق کا ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔
5۔ الجزار الدیان علی المرتد القادیان: یہ رسالہ 3محرم الحرام 1340ھ کو ایک استثنیٰ کے جواب میں لکھا گیا اور اس سال 25صفر المظفر 1340ھ کو آپ کا وصال ہوا۔
6۔ المعتقد: امام احمد رضا کے مستند افتاء سے ہندوستان میں جو سب سے پہلا رسالہ قادیانیت کی رد میں شامل ہوا‘ وہ ان کے صاحبزادے مولانا مفتی حامد رضا خان نے 1315ئ/1896ء الصارم الربانی علی اسراف القادیانی کی نام سے تحریر کیا تھا جس میں مسئلہ حیات عیسٰی علیہ السلام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور غلام قادیانی کذاب کی مثیل مسیح ہونے کازبردست رد کیا گیا ہے۔ امام احمد رضا نے خود اس رسالے کو سراہا ہے۔مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منکرین نبوت اور قادیانیوں کی رد میں امام احمد رضا کس قدر سرگرم‘ مستعد متحرک اور فعال تھے۔ وہ اس فتنے کے ظہور ہوتے ہی اس کی سرکوبی کے درپے تھے۔ اس فتنے کی رد میں امام احمد رضا کی مساعی جمیلہ اس قدر قابل ستائش اور قابل توجہ ہے کہ ہر موافق و مخالف نے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
(روزنامہ جنگ ہفتہ 28جمادی الثانی 1423ھ ‘ 7دسمبر 2002ئ)
عقیدہ ختم نبوت کے عظیم مجاہد
حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ
1۔ جنہوں نے 1952ء سے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ کام شروع کیا۔
2۔ مرزائیوں کے خلاف آل پاکستان مسلم پارٹیز کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔
3۔ 1953ء میں آرام باغ کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو آپ پیش پیش تھے۔ گرفتاریاں دینے کے لئے نوجوانوںکے جتھے تیار کئے۔
4۔ 15اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی۔
5۔ 30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
6۔ بیرونی ممالک نیروبی‘ ماریشس‘ لاطینی امریکہ‘ سرینام‘ برٹش‘ گیانا ٹرینی ڈاڈ میں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ یہ مناظرے بند کمروں میں نہیں‘ مجمع عام میں ہوئے اور قادیانیوں کو مکمل شکست دی۔ اس کے علاوہ ٹرینی ڈاڈ اور جنوبی امریکہ اور نیروبی میں مرزائی مناظر ذلیل ہوکر کتابیں لے کر بھاگ گئے۔
7۔ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر الدین کو قومی اسمبلی میں شکست دی۔ بالاخر آپ کی کوششوں سے آپ کی پیش کردہ قرارداد پر 7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
8۔ آپ کے مناظروں کو دیکھ کر 400قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ قادیانیوں کے خلاف ننگی تلوار تھے۔
پیر سید مہر علی شاہ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے حجرے میں آنکھیں بند کیں اور دیکھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم قعدے کی حالت میں جلو فرما ہیں۔ حضور علیہ السلام سے چار بالشت کے فاصلے پر پیر صاحب باادب بیٹھے ہیں لیکن مرزا غلام احمد اس جگہ سے دور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کئے بیٹھا ہے (تحریک ختم نبوت ص 50 ‘ آغا شورش کاشمیری)
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمتہ اﷲ علیہ کا پانچ نکاتی بیان
1۔ سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا‘ اس کا علم لدنی ہوتا ہے۔ وہ روح قدس سے تعلیم پاتا ہے۔ بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند قدس سے ہوتی ہے۔ جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے۔
2۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم اپنے رب العالمین مخلوق سے روبرو دعویٰ نبوت کردیتا ہے۔ اور بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجہ نبوت ملتا ہے وہ نبی ہوتا ہے۔ وہ پیدائش سے نبی ہوتا ہے جھوٹا نبی برخلاف اس کے آہستہ آہستہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پہلے محدث مجرد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
3۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم الانبیاء تک جتنے نبی ہوئے تمام کے نام منفرد تھے‘ کسی سچے نبی کا نام مرکب نہ تھا۔ برعکس اس کے جھوٹے نبی کا نام مرکب تھا۔
4۔ سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا ہے اور جھوٹا نبی ترکہ چھوڑ کر مرتا ہے اور اولاد کو محروم الارث کرتا ہے۔
5۔ مرزائی جو مرزا غلام احمد کے پیرو ہیں‘ وہ ختم نبوت کے قائل نہیں اور حضور علیہ السلام کی رسالت و نبوت میں کمی کرنے والے ہیں اور حضور علیہ الصلواۃ و السلام کے مدارج کو مرزا غلام احمد کے لئے مانتے ہیں (بحوالہ ماہنامہ انوار الصوفیہ قصور‘ اپریل‘مئی 1941ء ص 33)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا فتویٰ
آپ فرماتے ہیں کہ قادیانی مرتد و منافق ہیں۔ مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرنا یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے۔ اس کا ذبیح محض نجس مردار حرام قطعی ہے۔ مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانیوں کو مظلوم سمجھنے والا اور جس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم اور ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے‘ وہ بھی کافر ہے (احکام شریعت)
اور فرمایا کہ اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت و حیات کے سب علاقے اس سے قطع کرلیں۔ بیمار پڑنے پر پوچھنے کو جانا حرام‘ مرجائے تو جنازے پر جانا حرام ہے۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے‘ اس کی قبر پر جانا حرام ہے (فتاویٰ رضویہ شریف)
نگاہ ولایت اور قادیانی کذاب کا دعویٰ نبوت
مرزا غلام احمد قادیانی ایک روز مولانا پیر سید حسن شاہ صاحب قادری رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے اسے ہدایت فرمائی کہ عقیدہ اہل سنت و جماعت پر ثابت قدم رہے اور خواہشات نفسانیہ اور ہوائے شیطانیہ کا غلام نہ بن جائے۔ جب یہ کلام حافظ عبدالوہاب صاحب (جو حضرت کے شاگرد اور مرید اور یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے‘ نے سنا تو عرض کیا حضور آپ نے اسے اس طرح ہدایت فرمائی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا کچھ مدت بعد اس شخص (غلام احمد) کادماغ خراب ہوجائے گا اور یہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ کیونکہ مجھے اﷲ تعالیٰ کی عطا سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان سے قرن شیطان کا ظہور ہوگا اور وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا (ارشاد… ص 161)
اس پیشن گوئی کے چھتیس سال بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیحیت و نبوت کا دعویٰ اگل دیا (ضیائے حرم‘ دسمبر 74ئ)
راولپنڈی میں منعقدہ مشائخ کانفرنس کے موقع پر شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمتہ اﷲ علیہ کے خطاب سے اقتباس قادیانی مسئلہ:
کہا جاتا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دو۔ اقلیت تو ذمیوں کو کہا جاتا ہے جو شخص اسلام کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرے وہ کافر نہیں‘ وہ مرتد ہے اور مرتد کی سزا شریعت میں قتل ہے۔ اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہوتی تو میں قادیانیوں کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرتا جس کی نظیر سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے قائم کی تھی (ضیاء حرم‘ دسمبر 74ئ)
امیر شریعت جانشین شیخ الاسلام خواجہ محمد حمید الدین سیالوی مدظلہ صدر مرکز الدعوۃ الاسلامیہ نے پہلی سالانہ عظمت تاجدار ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر فرمایا۔
قادیانیت عالم اسلام کے اتحاد میں زبردست رکاوٹ ہے۔ اس کا قلع قمع کئے بغیر ملت اسلامیہ کا وجود خطرے میں ہے۔ قادیانیت اسلام دشمن طاقتوں کی گہری سازش ہے اس بدترین ناسور کے خلاف جہاد مسلمانوں کا اہم ترین فریضہ ہے
جسٹس پیر کرم شاہ الازہری رحمتہ اﷲ علیہ:
قادیانیت‘ منکرین ختم نبوت کا ایسا گروہ ہے جسے انگریز نے عالم اسلام کی بیخ کنی کے لئے خود کاشت کیا اور پھر اس کے تمام مفادات کا تحفظ کیا۔ یہ لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے باعث دن رات پوری امت مسلمہ اسلام اور وطن عزیز کے خلاف تباہ کن ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ یہ مار آستین ہیں۔ یہ لوگ بیرونی ممالک میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام دشمن طاقتوں کی جاسوسی‘ اسلام کے تخریب اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ عالم اسلام کے اول دشمن اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ان کا مشن پوری سرگرمی سے کام کررہا ہے۔ اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ قادیانی موجود ہیں۔ ان حالات میں اس فتنہ کے تدارک کی ذمہ داری امت محمدیہﷺ کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ قادیانیت کے خلاف خواص و عوام میں ایک نیا شعور پیدا ہورہا ہے جس سے قادیانیت کی زہرناکیوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف نفرت کا احساس عام ہورہا ہے۔(سابقہ جج سپریم کورٹ آف پاکستان سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیرہ شریف سرگودھا)
شیخ الحدیث حضرت علامہ سید محمود احمد رضوی رحمتہ اﷲ علیہ:
خاتم النبین
الیوم اکملت لکم دینکم:
آج ہم نے تمہارا دین مکمل کردیا۔
اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کیا (سورہ مائدہ) یہ آیت 9ذی الحجہ 01ھ کو نازل ہوئی۔ اس بشارت میں یہ اشارہ تھا کہ دین کی عمارت میں کسی نہ کسی اینٹ کی ضرورت تھی جو حضورﷺ کے وجود سے کامل و مکمل ہوگئی۔ ایسی کہ اب اس میں کوئی جگہ باقی نہ رہی۔
ولکن رسول اﷲ وخاتم النبین (احزاب)
کہ حضورﷺ نبیوں کے خاتم ہیں۔ حضور علیہ السلام نے خاتم کی معنی خود متعدد احادیث میں بیان فرمادیئے۔
انا خاتم النبین لانبی بعدی
میں انبیاء کا خاتم ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تکمیل دین اور ختم نبوت کو بطور تمثیل بیان کرتے ہوئے حضورﷺ نے فرمایا۔ میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کوئی عمدہ محل بنایا‘ جسے دیکھ کر لوگ اس کی عمدگی خوبصورتی کی تعریف کریں لیکن اس محل کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو جسے دیکھ کر لوگ یہ کہیں اگر اس جگہ کو بھی پورا کردیا جاتا تو خوب ہوتا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا۔
تو میں وہی آخری اینٹ ہوں
وانا خاتم النبین
میں پیغمبر کا خاتم ہوں
فختمت لانبیاء
تو پیغمبری کا سلسلہ ختم ہوگیا (بخاری‘ مسلم)
حضورﷺ نے دیگر انبیاء کے مقابلے میں اپنے مخصوص فضائل میں ختم نبوت کا ذکر نمایاں طور پر فرمایا ہے۔ نبوت مجھے پر ختم کردی گئی (مسلم) میں پیغمبروں کا اس وقت بھی خاتم تھا جبکہ آدم پانی اور مٹی میں پڑے ہوئے تھے (کنزالعمال ص 104 ج 6)
لفظ خاتم کے معنی آپ نے خود فرمادیئے (آخری نبی) اور حضورﷺ کے بعد نبی کے پیدا ہونے کے امکان کو خود حضورﷺ نے ختم فرمادیا۔ اے علی تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میں اور مجھ میں وہ نسبت ہے جو ہارون اور موسیٰ میں تھی۔
الا انہ لیس نبی بعدی (بخاری)
مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضور ﷺخاتم النبین نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کی نگرانی اور سیاست انبیاء کرتے تھے‘ جب ایک نبی وصال فرماتا تو دوسرا نبی پیدا ہوجاتا اور… میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوسکتے تھے۔ اس حدیث میں لوکان کا لفظ ہے۔ لو امر محال کے لئے آتا ہے جس سے واضح ہوا کہ حضورﷺ کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا محال ہے۔ میرے پانچ نام ہیں۔ محمد‘ احمد‘ ماحی‘ خدا میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ حاشر‘ خدا میرے جھنڈے تلے بروز حشر ساری مخلوق کو جمع فرمائے گا اور میں عاقب ہوں۔
الذی لیس بعدہ نبی (آخری) ہوں جس کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
رسالت و نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ میرے بعد نہ کوئی رسول نہ کوئی نبی۔ اس لئے جو شخص بھی حضورﷺ کے بعد کسی بھی تاویل سے نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جیسے مرزا قادیانی۔ اور اسے نبی کو مانے والے۔ جیسے احمدی اور اس کے مسیح بزرگ یا مسلمان ماننے والے۔ جیسے لاہوری مرزائی یہ سب کافر‘ مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان سے میل جول سلام‘ کلام‘ محبت‘ نکاح وغیرہ سخت حرام ہے۔ ان کا ذبح کیا ہوا جانور مردار ہے۔ معاذ اﷲ کسی لڑکی کا مرزائی سے نکاح خالص زنا ہے۔ اسی طرح مرزائی لڑکی سے کسی مسلمان لڑکے کا نکاح فاسد و باطل ہے۔ مرزائی احمدی ہوں یا لاہوری ان کے ہوٹلوں میں پکا ہوا گوشت مردار حرام ناپاک ہے اور گوشت کے علاوہ دیگر اشیاء مکروہ ہیں۔
(دین مصطفی ص 58-56)
امام احمد رضا اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت
برصغیر پاک و ہند میں امام احمد رضا فاضل بریلوی کے خانوادے نے منکرین ختم نبوت اور قادیانیت کا رد کیا۔ امام احمد رضا محدث بریلوی نے مرزا قادیانی کو صرف کافر ہی نہیں قرار دیا بلکہ اس کو مزید منافق بھی کہا ہے اور اپنے فتوئوں میں اس کو اس کے اصلی نام کے غلام قادیانی کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ مرتد و منافق وہ شخص ہے جو کلمہ اسلام پڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ یا رسول اﷲﷺ یا کسی نبی یا رسول کی توہین کرتا ہے‘ یا ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہے۔ اس کے احکام کافر سے بھی سخت تر ہیں۔ امام صاحب نے مرزا غلام قادیانی اور منکرین ختم نبوت کو رد ابطال میںمتعدد فتویٰ کے علاوہ جو مستقل رسائل تصنیف کئے ہیں‘ ان کے نام یہ ہیں۔
1۔ جزاء اﷲ عدو بآباہ ختم النبوۃ: یہ رسالہ 1317ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں عقیدہ ختم نبوت پر 120 حدیثیں اور منکرین کی تکفیر پر جلیل القدر ائمہ کرام کی تیس تصریحات پیش کی گئی ہیں۔
2۔ السوء والعقاب علی المسیح الکذاب: یہ رسالہ 1320ھ میں اس سوال کے جواب میں تحریر ہوا کہ اگر ایک مسلمان مرزائی ہوجائے تو کیا اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی؟ امام احمد رضا نے دس وجوہات سے مرزا غلام قادیانی کا کفر ثابت کرکے احادیث کے نصوص اور دلائل شرعیہ سے ثابت کیا کہ سنی مسلمہ عورت کا نکاح باطل ہوگیا۔ وہ اپنے کافر مرتد شوہر سے فورا علیحدہ ہوجائے۔
3۔قہرالدیان علی فرقہ بقادیان: یہ رسالہ 1323ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں جھوٹے مسیح قادیان کے شیطانی الہاموں‘ اس کی کتابوں کے کفریہ اقوال سیدنا عیسٰی علیہ الصلواۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پاک و طہارت اور ان کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
4۔ المبین ختم النبین: یہ رسالہ 1326ھ میں اس سوال کے جواب میں تصنیف ہوا کہ ’’خاتم النبین میں لفظ النبین پر جو الف لام ہے‘ وہ مستغرق کا ہے۔ یہ عہد خارجی کا ہے۔ امام احمد رضا نے دلائل کثیرہ واضح سے ثابت کیا ہے کہ اس پر الف لام استغراق کا ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔
5۔ الجزار الدیان علی المرتد القادیان: یہ رسالہ 3محرم الحرام 1340ھ کو ایک استثنیٰ کے جواب میں لکھا گیا اور اس سال 25صفر المظفر 1340ھ کو آپ کا وصال ہوا۔
6۔ المعتقد: امام احمد رضا کے مستند افتاء سے ہندوستان میں جو سب سے پہلا رسالہ قادیانیت کی رد میں شامل ہوا‘ وہ ان کے صاحبزادے مولانا مفتی حامد رضا خان نے 1315ئ/1896ء الصارم الربانی علی اسراف القادیانی کی نام سے تحریر کیا تھا جس میں مسئلہ حیات عیسٰی علیہ السلام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور غلام قادیانی کذاب کی مثیل مسیح ہونے کازبردست رد کیا گیا ہے۔ امام احمد رضا نے خود اس رسالے کو سراہا ہے۔مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منکرین نبوت اور قادیانیوں کی رد میں امام احمد رضا کس قدر سرگرم‘ مستعد متحرک اور فعال تھے۔ وہ اس فتنے کے ظہور ہوتے ہی اس کی سرکوبی کے درپے تھے۔ اس فتنے کی رد میں امام احمد رضا کی مساعی جمیلہ اس قدر قابل ستائش اور قابل توجہ ہے کہ ہر موافق و مخالف نے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
(روزنامہ جنگ ہفتہ 28جمادی الثانی 1423ھ ‘ 7دسمبر 2002ئ)
عقیدہ ختم نبوت کے عظیم مجاہد
حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ
1۔ جنہوں نے 1952ء سے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ کام شروع کیا۔
2۔ مرزائیوں کے خلاف آل پاکستان مسلم پارٹیز کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔
3۔ 1953ء میں آرام باغ کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو آپ پیش پیش تھے۔ گرفتاریاں دینے کے لئے نوجوانوںکے جتھے تیار کئے۔
4۔ 15اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی۔
5۔ 30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
6۔ بیرونی ممالک نیروبی‘ ماریشس‘ لاطینی امریکہ‘ سرینام‘ برٹش‘ گیانا ٹرینی ڈاڈ میں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ یہ مناظرے بند کمروں میں نہیں‘ مجمع عام میں ہوئے اور قادیانیوں کو مکمل شکست دی۔ اس کے علاوہ ٹرینی ڈاڈ اور جنوبی امریکہ اور نیروبی میں مرزائی مناظر ذلیل ہوکر کتابیں لے کر بھاگ گئے۔
7۔ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر الدین کو قومی اسمبلی میں شکست دی۔ بالاخر آپ کی کوششوں سے آپ کی پیش کردہ قرارداد پر 7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
8۔ آپ کے مناظروں کو دیکھ کر 400قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ قادیانیوں کے خلاف ننگی تلوار تھے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب
ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...
-
جن کے بڑے بےحیاء ہوں سوچیئے اُن کے چھوٹے کتنے بڑے بےحیاء ہونگے محترم قارئینِ کرام : بانی دیوبند کہتے ہیں وعظ کہنا دو شخصوں ک...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...