Monday, 15 June 2026

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟ : ⏬







ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کا لقب امت نے دیا ، جبکہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کو یہ لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ (ثابت ہے یا نہیں ، یہ الگ بحث ہے) ۔ اس لیے صدیق اکبر حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہیں ۔ (ویسے اتنے ادب سے یہ سوال کر تے نہیں ، بس ہم سے ان کی طرح روکھا سوکھا لکھا نہیں جاتا)
اس سوال کے جواب میں حدیث شریف سے ایک مثال ملاحظہ فرمائیں اور ان کے استدلال کی کمزوری دیکھیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، شہداء کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابۃ جلد 3 صفحہ 215 رقم الحدیث 4884 دار الکتب العلمیۃ بیروتی)(سیر السلف الصالحین جلد 2 صفحہ 360 دار الرایۃ للنشر والتوزیع الریاض،چشتی)(سیر السلف الصالحین صفحہ 360 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(الترغیب والترہیب کتاب الحدود جلد 3 صفحہ 158 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے ۔ (الامالی المطلقة صفحہ 197 المکتب الاسلامی بیروت) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ  المتوفی : 852 ھ لکھتے ہیں : ثَبَتَ فِي حَدِيثٍ مَرْفُوْعٍ اَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيْقِ الْاَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، ایک مرفوع حدیث میں ثابت ہے جسے طبرانی نے اصبغ بن نباتہ کی سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شہداء کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری جلد 7 صفحہ 425 طبع امیر سلطان) ۔ امام حاکم رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس حدیث کو  صحیح کہا ہے ۔

اب سوال یہ ہے : حضرت سیدنا امامِ عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب امت نے دیا اور اس لقب کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوٸٸی فرمان آپ کے متعلق نہیں ہے ۔ پھر بھی پوری امت آپ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کے لقب سے یاد کرتی ہے ۔ کسی کو بھی اعتراض نہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہی ان شاء اللہ ہوگا ۔ اور حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟ ۔ بالکل بھی نہیں ۔ جس طرح یہ کہنا درست نہیں ، اسی طرح صدیق اکبر والا استدلال بھی درست نہیں ۔ اہل سنت و جماعت کے جو نظریات متفقہ طور پر صدیوں سے علامت و شعار چلے آ رہے ہیں انہیں چھیڑ کر خواہ مخواہ امت میں فتنہ و فساد کی فضا نہیں بنانی چاہیے اور اسلاف کے طریقہ پر ہی چلنے میں عافیت ہے ۔ بشکریہ علامہ ابو ذہیب محمد ظفر علی سیالوی صاحب ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:

Post a Comment

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں ...