Monday, 24 January 2022
انا مدینۃ العلم وابوبکر اساسھا ، وعمر حیطانھا ، وعثمان سقفھا ، وعلی بابھا کی تحقیق
حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی تاریخِ ولادت
حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی تاریخِ ولادت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : خاتون جنت حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی ولادت کے سال میں اختلاف ہے تو تاریخِ ولادت کا پتہ چلنا مشکل ہے ۔ فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کی پیداٸش کے سال میں اختلاف ہے بعض لوگوں نےکہا کہ جب نبی کریم علیہ افضل الصلوات واکمل التسلیم کی عمر شریف اکتالیس برس کی تھی آپ پیداہوٸیں اور کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ اعلان نبوت سے ایک سال قبل ان کی ولادت ہوٸی ۔ اور علامہ ابن جوزی نے تحریر فرمایا ہے کہ اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے جبکہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہورہی تھی تب آپ پیداہوٸیں ۔ (خطبات محرم صفحہ 263 مطبوعہ کتب خانہ امجدیہ)
کچھ حضرات حضرت سیدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کے یوم پیدائش 20 جمادی الثانی کے حوالے سے دو کتابوں *عقداللول* اور انھا *فاطمہ الزہرا* کو حوالے کے طور پر پیش کر رہے ہیں ۔ ان پر فرض ہے کہ پہلے ان مصنفین کا تعارف مکمل پیش کریں کہ اہل سنت کے ہاں انکی ویلیو کیا ہے ؟ اور انہوں نے 20 جمادی الثانی سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا کی تاریخ ولادت کس قدیمی سنی معتبر ماخذ سے نقل کی ہے ؟ ۔ یا ذاکروں کی طرح انہیں آواز آئی ہے ؟
اگر ان وہ ان دو کتابوں کے مصنفین کو اہل سنت ثابت نہ کر سکیں ۔ اور نہ ہی 20 جمادی الثانی کو اہل سنت کے کسی معتبر مآخذ میں دیکھا سکیں تو شرم سے ڈوب کر مر جانا چاہیے کہ کس طرح بد دیانتی و بے شرمی سے اہل سنت قوم کو ذکر اہل بیت کے دھوکے میں روافض دشمن صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کے پیچھے چلایا جا رہا ہے ۔ اور سنی ہونے کا دعویٰ بھی ہے ۔ نعوذباللہ من شرکم ۔
بعض لوگ 20 جمادی الآخرۃ کو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یومِ ولادت قرار دے رہے ہیں ۔ چوں کہ یہ 14 سو سال پہلے کی تاریخ ہے اس لیے ان لوگوں سے کسی قدیم اور معتبر سنی کتابِ سیرت یا تاریخ کا حوالہ طلب کیا گیا ۔ مگر کوئی حوالہ وہ نہیں پیش کر سکے ۔ اب کسی طرح تلاش کر بطور حوالہ دو معاصر اہلِ علم کی کتابیں پیش کر رہے ہیں ۔ پہلی ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی کی "اِنھا فاطمۃ الزھراء" اور دوسری شیخ محمد بن حسن بن علوی الحداد کی "عقد اللول"۔ یہ دونوں حضرات (یعنی ڈاکٹر عبدہ یمانی اور شیخ محمد بن حسن بن علوی الحداد) آج کے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدہ یمانی کا چند سال قبل وصال ہوا ہے اور شیخ محمد بن حسن بن علوی الحداد کے بارے میں مجھے یہ معلوم نہیں کہ ان کا وصال ہو چکا ہے یا ابھی باحیات ہیں ۔ بمشکل صرف اتنا معلوم ہو سکا ہے کہ ان کی ولادت تقریبا 75 سال قبل 1365ھ کے آس پاس ہوئی ، اور یمن سے ہجرت کرکے یہ مکہ مکرمہ میں رہنے لگے تھے ۔ غرض ، یہ دونوں ہمارے معاصر ہیں اور انہوں نے خود بلاحوالہ لکھا ہے ۔ اور معاصرین کے بلاحوالہ دعوے قابلِ توجہ نہیں ہوتے ۔
گزارش ہے کہ کسی قدیم سنی ماخذ (تاریخ و سیرت) کا کوئی حوالہ اگر ہو تو ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں ۔ ورنہ غیر متعلق باتوں میں اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع نہ فرمائیں ۔
خاتون جنت والدہ حسنین کریمین جگر گوشہ بتول سیدہ طیبہ طاھرہ عابدہ زاھدہ حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہم کی تاریخ پیدائش کے متعلق مدارج النبوۃ مترجم میں ہے : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چوتھی صاحبزادی سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہیں سیدہ فاطمہ کی پیدائش ولادت نبوی کے اکتالیسویں سال میں ہوئی اہل سیر کہتے ہیں کہ یہ قول ابو بکر رازی علیہ الرحمہ کا ہے اور یہ قول اس کے مخالف ہے جسے ابن اسحاق علیہ الرحمہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کے بارے میں بیان کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اولاد اظہار نبوت سے قبل پیدا ہوئی ہیں بجز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس لیے کہ اس قول کے بموجب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت بعد از نبوت ایک سال بعد میں ہوئی ہے ۔
ابن جوزی نے کہا ہے کہ سیدہ فاطمہ کی ولادت اظہار نبوت سے پانچ سال پہلے ہے مشہور تر روایت یہی ہے ۔ (مدارج النبوہ جلد 2 صفحہ 534 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے ۔ امام ابوجعفر باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر ۳۵ سال تھی اور کعبہ زیر تعمیر تھا ۔ جب حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئی اور عبید اللہ بن محمد بن سلیمان بن جعفر ہاشمی کا قول ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر ٣١ سال تھی جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت ہوئی ۔ بعثت سے ایک سال یا کچھ زیادہ عرصہ پہلے ولادت ہوئی ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے قریباً پانچ سال بڑی تھیں ۔ ۲ ھجری اوائل محرم میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح ہوا ۔ اور تاریخ وفات بقول واقدی منگل کی رات ۳ رمضان المبارک ۱۱ ہجری ہے ۔ (الاصابة لابن حجر جلد نمبر ۴ صفحہ نمبر ۳۶۵،چشتی)
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت مشہور روایت کے مطابق ’’بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سال بعد بروز جمعۃ المبارک بمقام مکہ مکرمہ ہوئی ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر باب باب ذكر بنيه وبناته عليه الصلاة و السلام و أزواجه)
سیرت نگاروں کے نزدیک حضرت سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا بنت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کے سن ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض حضرات لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں قریشِ مکہ کعبہ شریف کی بنا کر رہے تھے اس زمانہ میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کی ولادت باسعادت حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی ﷲ عنہا کے بطن مبارک سے ہوئی اور اس وقت نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال کو پہنچ چکی تھی ۔ یہ واقعہ نبوت سے قریباً پانچ برس پہلے کا ہے ۔ (طبقات ابن سعد صفحہ ۱۱ جلد ۸ تحت ذکر فاطمہ رضی ﷲ عنہا طبع لیڈن)(الاصابہ لابن حجر صفحہ ۳۶۵ جلد ۴ تحت ذکر فاطمہ رضی ﷲ عنہا)(تفسیر القرطبی ص:۲۴۱،ج:۱۴، تحت آیت قل لازواجک وبنا تک ۔ الخ سورۃ احزاب)
بعض علماء کے نزدیک ان کی ولادت بعثت نبوی صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوئی اور نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک اس وقت اکتالیس سال تھی ۔ اسی طرح مزید اقوال بھی اس مقام میں منقول ہیں ۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر صفحہ ۳۶۵ جلد ۴ تحت تذکرہ فاطمۃ الزہرہ رضی ﷲ عنہا) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Sunday, 23 January 2022
شیعوں کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخیاں
شیعوں کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخیاں
محترم قارئینِ کرام : پیر صاحبان ، شعلہ بیان خطیب صاحبان ، پیسے کےلیے ناچنے والے نوٹ خوان و نقیبان حضرات اور دیگر سنی مسلم علماء و اکابرین اور عوام جنابِ ایک نظر اِدھر بھی فرما دیجیے ۔ گلشن اُجڑ رہا ہے ، نشیمن جل رہا ہے اور آپ کہتے ہیں گرج چمک کے ساتھ بادل ہی بادل ہیں ۔ فافہم ۔
شیعہ ایسا غلیظ گستاخ گروہ ہے جس نے تمام مقدس ہستیوں کی شانوں میں گستاخیاں کی ہیں اور کرتے رہتے ہیں ۔ یہ غلیظ گروہ اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کی آڑ میں گستاخیاں کرتا ہے ۔ اس سے قبل ہم عرض کر چکے ہیں کہ اس غلیظ گروہ نے کس طرح حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں اب آئیے اس مضمون میں اس غلیظ گروہ کی طرف سے سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی شان میں کی گئی گستاخیوں کو پڑھتے ہیں انہیں کی کتابوں سے پھر فیصلہ اہلِ ایمان پر چھوڑتے ہیں : ⏬
حضرت فاطمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہما سے کہا تم ذلیل لوگوں کی طرح بھاگ آئے : شیعہ کا بہت بڑا مجتہد ملاّں باقر مجلسی اپنی کتاب حق الیقین میں باغ فدک پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے : پھر سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا گھر واپس آئیں حضرت علی علیہ السلام ان کی واپسی کے منتظر تھے جب گھر تشریف لائیں تو مصلحت کے تحت حضرت علی سید الاوصیاء سے نہایت دلیرانہ گفتگو کی کے تم بچہ کی طرح شکم مادر میں پردہ نشین ہو گئے اور ذلیل لوگوں کی طرح بھاگ آئے تم نے زمانہ کے بہادروں کو پچھاڑا لیکن ان نامرادوں سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ (حق الیقین صفحہ نمبر 127 احتجاج حضرت زہرا با ابوبکر در امر فدک مطبوعہ تہران،چشتی)،(امالی طوسی جلد 2 صفحہ 296 مطبوعہ قم مجلسی یوم جمعہ)
رافضیوں اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضیوں سے سوال : رافضی شیعہ ملاّں باقر مجلسی مجلسی نے حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لئے جو الفاظ استعمال کیے ہیں یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے جو الفاظ استعمال کیے کے تم بچے کی طرح شکم مادر میں پردہ نشین ہو گئے ہو اور تم ذلیل لوگوں کی طرح بھاگ آئے اپنے دل کے مفتی سے فتوی لے کر بتائیں کیا جگر گوشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ایسی زبان استعمال کرسکتی ہیں اور وہ بھی حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کے لیے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی پیاری بیٹی تو جنت کی عورتوں کی سردار ہے اس کو یہ تربیت دی تھی معاذاللہ ۔
حضرت فاطمہ الزہرا کا حضرت علی رضی اللہ عنہما سے نکاح پر رونا : ⏬
قال : فقلت : أخبرني أبي، عن أبيه، عن جده، قال: كنا قعودا عند النبي (صلى الله عليه وآله)، إذا جاءت فاطمة (عليها السلام) تبكي بكاء شديدا، فقال لها رسول الله (صلى الله عليه وآله): ما يبكيك، يا فاطمة؟ قالت: يا أبه، عيرتني نساء القريش، وقلن: إن أباك زوجك من معدم لا مال له. فقال لها النبي (صلى الله عليه وآله): لا تبكي، فوالله ما زوجتك حتى زوجك الله من فوق عرشه، وأشهد بذلك جبرئيل وميكائيل، وإن الله عزوجل اطلع على أهل الدنيا فاختار من الخلائق أباك فبعثه نبيا، ثم اطلع الثانية فاختار من الخلائق عليا، فزوجك إياه ۔
ترجمہ : امالی صدوق میں ہے راوی کہتا ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت فاطمہ الزھراء سخت روتی ہوئی تشریف لائیں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ تمہیں کس نے رلایا عرض کیا بابا جان قریشی عورتوں نے مجھے طعنہ دیا ہے کہ تمہارے والد نے تمہاری شادی ایسے شخص سے کی ہے جس کے پاس کچھ مال نہیں تو آپ نے فرمایا بیٹی مت رو اللہ کی قسم میں نے تیری شادی اس وقت کی جب اللہ نے تیری شادی عرش پر کردی تھی اور اس پر حضرت جبرائیل اور میکائیل گواہ بنے تھے ۔ (امالی صدوق صفحہ 263،چشتی)(بحار الانوار جلد 10 صفحہ 46)
حضرت فاطمہ زہرا نے حضرت علی رضی اللہ عنہما کو غصے سے مارا : ⏬
قالت فاطمة : أناجائعة، وابناي جائعان، ولا أشك إلا وأنك مثلنا في الجوع، لم يكن لنا منه درهم! وأخذت بطرف ثوب علي (عليه السلام)، فقال علي: يا فاطمة، خليني. فقالت: لا والله، أو يحكم بيني وبينك أبي. فهبط جبرئيل (عليه السلام) على رسول الله (صلى الله عليه وآله) فقال: يا محمد السلام يقرئك السلام ويقول: اقرأ عليا مني السلام وقل لفاطمة: ليس لك أن تضربي على يديه ولا تلمزي بثوبه. فلما أتى رسول الله (صلى الله عليه وآله) منزل علي (عليه السلام) وجد فاطمة ملازمة لعلي (عليه السلام)، فقال لها: يا بنية، ما لك ملازمة لعلي؟ قالت: يا أبه، باع الحائط الذي غرسته له باثني عشر ألف درهم ولم يحبس لنا منه درهما نشتري به طعاما. فقال: يا بنية، إن جبرئيل يقرئني من ربي السلام، ويقول: أقرئ عليا من ربه السلام، وأمرني أن أقول لك: ليس لك أن تضربي على يديه ۔
ترجمہ : حدیث میں وارد ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے سلمان فارسی کو بلایا اور فرمایا کہ وہ باغ جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لگایا تھا بازار میں جاکر تجار حضرات کے پاس فروخت کردو چناچہ سلمان فارسی نے بارہ ہزار درہم پر اسے فروخت کردیا اور یہ رقم حضرت علی علیہ السلام کو پیش کر دی وہاں ایک اعرابی تھا اس نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے اس رقم میں سے چار ہزار چالیس درہم اس کو عطا کر دیے تو یہ خبر مدینہ شریف میں پھیل گئی لہذا تمام لوگ جمع ہوں گے اور ایک آدمی انصار میں سے سیدہ فاطمہ کے پاس گیا اور اس نے آپ کو مذکورہ واقعہ کی خبر دی تو آپ نے اس کو دعا دی اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے وہیں بیٹھے ہوئے بقایا تمام رقم لوگوں میں تقسیم کر دی یہاں تک کہ ایک درہم بھی باقی نہ رکھا اس کے بعد سیدہ فاطمہ نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ نے میرے باپ کے باغ کو فروخت کردیا تو حضرت علی نے جواب دیا ہاں میں نے فروخت کر دیا سیدہ فاطمہ نے سوال کیا رقم کہاں ہے تو آپ نے فرمایا میں نے وہ اللہ کے راستہ میں تقسیم کردی ہے اس کے جواب میں پھر حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ میں بھوکی ہوں ہمارے بیٹے بھوکے ہیں اور آپ بھی ہماری مثل بھوکے ہیں اور ہمارے پاس ایک درہم بھی نہیں ہے اور یہ کہہ کر حضرت فاطمہ نے علی کے دامن کو پکڑ لیا حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا اے فاطمہ مجھے چھوڑ دے تو سجدہ فاطمہ نے فرمایا کہ میں خدا کی قسم ہرگز آپ کو نہیں چھوڑوں گی یہاں تک کہ میرے اور آپ کے درمیان میرے ابا جان فیصلہ فرمائیے پس جبرئیل نازل ھوئے اور فرمایا اے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اور علی کو اللہ تعالی سلام فرماتا ہے ۔ قل لفاطمتہ لیس لک ان تضربی علی یدیہ و تلزمی بثوبہ ۔ یعنی فاطمہ کو فرمادیجئے کہ تیرے لیے یہ جائز نہیں کہ تو حضرت علی کے ہاتھوں پر مارے اور ان کے دامن کو نہ چھوڑے لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ کے گھر آئے تو فاطمہ کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی کا دامن پکڑا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے دامن کو کیوں پکڑا ہوا ہے سیدہ فاطمہ نے مذکورہ بالا واقعہ سنایا تو اس پر آپ نے فرمایا ہے بیٹی میرے پاس جبریل تشریف لائے اور مجھے اور حضرت علی کو اللہ کا سلام پہنچایا اور فرمایا ہے کہ فاطمہ کو فرمادیجئے کہ تیرے لیے جائز نہیں ہے کہ تو حضرت علی کے ہاتھوں پر مارے لہذا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ نے چھوڑ دیا اور معافی مانگی ہے ۔ (الأمالي نویسنده : الشيخ الصدوق جلد : 1 صفحه : 555 مطبوعہ الدراسات الاسلامية - مؤسسة البعثة،چشتی)(جلاء العیون جلد 1 صفحہ 194 زندگانی فاطمہ)(انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 58)
کہاں مر گئے ہیں رافضی اب اپنے بڑوں کو گالیاں کیوں نہیں دیتے کیا یہ اتنی بڑی بڑی سیدہ کائنات کی گستاخیان کو نظر نہیں آتی ۔ کہاں مر گئے ہیں یہ دو نمبر سنی تفصیلی رافضیوں کی مجلس میں پڑھنے والے شیعوں سے بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے اگر تمہارے اندر سیدہ کائنات رضی اللہ تعالی عنہا کی محبت ہوتی اگر آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوڑا سا بھی ادب و احترام تمہارے دل کے اندر ہوتا تو تم جا کر شیعوں کے چرنوں میں بیٹھتے ان کی مجلسیں نہ پڑتے ۔ ان کے خلاف کیوں نہیں بولتے کہاں مر گئے ہیں شیعہ سنی بھائی بھائی کا نعرہ لگانے والے جو سیدہ کائناترضی اللہ عنہا کا اتنا بدترین گستاخ ہے کیا وہ تمہارا بھائی ہے ۔
شیعہ رافضہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی : ⏬
یاد رہے کہ شیعہ کتاب میں بقول حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے کہ : ہم اھل البیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نہ تو گھروں کی چھتیں ہوتیں ہیں اور نہ ہی دروازے سوائے اس کے جو جرائد (کھجور کے پتے سے بنا ہوا) یا اس سے مشابہ کے بنے ہوئے ہوں ۔ (بحار الأنوار - العلامة المجلسي جلد ٣٨ صفحہ 175)
شیعوں سے سوال : ہمیشہ شیعہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو بزدل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھر کا دروازہ جلایا اور دروازہ وزنی تھا جس میں کیل لگے ہوئے تھے اور وہ کیل حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لگے اور حمل بھی گر گیا تو جب دروازہ ہی لکڑی کا نہیں تھا تو یہ پھر جھوٹ کیسا ؟
حضرت فاطمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہما کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہوسلم سے کی : ⏬
امام باقر علیہ السلام سے کشف الغمہ میں روایت ہے کہ ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور کی خدمت میں حضرت علی کی شکایت کی کہ انہیں جو کچھ ملتا ہے وہ فقراء و مساکین میں تقسیم کر دیتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ مجھے غصہ دلانا چاہتی ہوں وہ میرا بھائی ہے اور چچا زاد ہے اس کو ناراض کرنا مجھے ناراض کرنا اور میری ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے تو حضرت فاطمہ نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتی ہیں ۔ (جلاء العیون جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 194 زندگانی فاطمہ زہراء علیہا السلام مطبوعہ تہران،چشتی)
حضرت فاطمہ حضرت علی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ اپنے نکاح کے بارے میں ناخوش تھی : ⏬
ابن يعقوب ، عن أبي مريم الأنصاري، عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: كان صداق فاطمة (عليهاالسلام) جرد برد حبرة ودرع حطمية وكان فراشها أهاب كبش يلقيانه ويفرشانه وينامان عليه ۔ عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد بن خالد، عن علي بن أسباط، عن داود، عن يعقوب بن شعيب قال: لما زوج رسول الله (صلى الله عليه وآله) عليا فاطمة (عليهما السلام) دخل عليها وهي تبكي فقال لها: ما يبكيك فوالله لو كان في أهلي خير منه ما زوجتكه وما أنا زوجته ولكن الله زوجك وأصدق عنك الخمس ما دامت السماوات والأرض ۔
ترجمہ : یعقوب بن شعیب کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ اور حضرت علی کا رشتہ کیا تو آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس گئے اس وقت وہ رو رہی تھیں آپ نے فرمایا کیوں رو رہی ہو اللہ کی قسم اگر میرے خاندان میں علی سے کوئی بہتر ہوتا تو میں تیرا نکاح علی سے نہ کرتا میں نے تو اس سے تیرا نہیں کیا بلکہ یہ نکاح اللہ نے کیا ہے اور خمس کو تیرا مہر مقرر کیا ہے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ (الفروع من الكافي الشيخ الكليني جلد 5 صفحه 378 مطبوعہ دار الكتب الإسلامية طهران ردمك ملاحظات،چشتی)
سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک غیر مرد کا گریبان پکڑ کر کھینچا اور انہیں برا بھلا کہا : ⏬
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وأَبِي عَبْدِ اللهِ عليهماالسلام ، قَالَا : « إِنَّ فَاطِمَةَ عليهاالسلام لَمَّا أَنْ كَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا كَانَ ، أَخَذَتْ بِتَلَابِيبِ عُمَرَ ، فَجَذَبَتْهُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : أَمَا واللهِ ، يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، لَوْ لَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُصِيبَ الْبَلَاءُ مَنْ لَاذَنْبَ لَهُ ، لَعَلِمْتَ أَنِّي سَأُقْسِمُ عَلَى اللهِ ثُمَّ أَجِدُهُ سَرِيعَ الْإِجَابَةِ۔
ترجمہ : امام باقر اور امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ان کی طرف سے جو ہوا سو ہوا تو جناب فاطمہ نے عمر کا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور کہا خدا کی قسم اے ابن خطاب اگر مجھے بے گناہ(شیر خوار) کا مصیبت میں پڑھنا نہ روکتا تو تو جان لیں تاکہ میں اللہ کو قسم دے دیتی اور وہ بہت جلد اسے قبول فرما لیتا ۔ (الکافی طبع دار الحدیث الشيخ الكليني جلد 2 صفحه 495 مطبوعہ دار الحديث للطباعة والنشر المطبعة دار الحديث)
حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا ایک جائز اور مشروع کام پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے غضبناک ہو کر میکے چلی گئی : ⏬
کتاب علل الشرائع و بشارة مصطفی و خوازمی میں حضرت ابن عباس اور ابو ذر سے روایت ہے کہ جب جعفر طیار حبشہ میں تھے تو ان کےلیے ایک لونڈی ہدیہ کے طور پر بھیجی گئی جس کی قیمت چار ہزار درہم تھی جب جعفر مدینہ آئے تو وہی بطور ہدیہ حضرت علی کو دے دیں اس نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت کی ایک دن حضرت فاطمہ زہرا کا گھر آئی تو دیکھا کے حضرت علی کا سر اس لونڈی کے دامن میں رکھا ہوا ہے یہ حالت دیکھ کر غصہ آیا تو پوچھا کیا کچھ کام بھی کیا ہے حضرت علی نے کہا اے پیغمبر خدا کی بیٹی خدا کی قسم کچھ نہیں کیا اب تم جو کچھ کہنا چاہتی ہو کہو کہا مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے والد بزرگوار کے گھر جاؤں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اجازت دے دی حضرت فاطمہ نے چادر کا پردہ کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر روانہ ہو گئیں ان کے پہنچنے سے پہلے جبریل آئے اور اللہ کا سلام دیا اور کہا کہ ابھی فاطمہ آپ کے پاس پہنچنا ہی چاہتی ہے اور علی کی شکایت کرے گی اس کی کوئی بات نہ قبول کرنا ۔ (جلاء العیون جلد 1 صفحہ 196 زندگانی فاطمہ الزہرہ مطبوعۃ تہران)
سیدہ رضی اللہ عنہا کی شب زفاف کو ستر ہزار فرشتوں نے تکبیر کہی : ⏬
جب شب زفاف آئی جبرائیل و میکائیل و اسرافیل مع ستر ہزار فرشتوں کے زمین پر آئے اور دلدل جناب فاطمہ کے لیے لائے جبرائیل نے لگام اس کی پکڑی اور اسرافیل نے رکاب تھامی اور میکائیل پہلو دال میں تھے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامہاے فاطمہ دست مبارک سے تھامے ہوئے تھے پس جبرائیل و میکائیل و اسرافیل و جمیع ملائکہ نے تکبیر کہی اور تکبیر کہنا سنت شب زفاف ہوا ۔ (جلاءالعیون جلد 1 صفحہ 193 شرح شب زفآف و نثار بہشتی مطبوعہ تہران)(جلاء العیون ترجمہ اردو جلد 1 صفحہ 250 مطبوعہ شیعہ جنرل بک ایجنسی)
شب زفاف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کو اپنے آنے سے پہلے مخصوص کام کرنے سے منع کر دیا : ⏬
ایضا بسند حسن جناب صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ حلال چیز بیان کرنے میں غیرت نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب زفاف حضرت علی اور حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آؤں کام نہ کرنا ۔ (جلاءالعیون جلد 1 صفحہ 194 مطبوعہ تہران زندگانی فاطمہ زہراء علیہا السلام)۔(جلاءالعیون اردو ترجمہ جلد 1 صفحہ 251 مطبوعہ شیعہ جنرل بک ایجنسی،چشتی)
شیعہ محقق لکھتا ہے : پس جب ارادہ تزویج فاطمہ ہمراہ علی رضی اللہ عنہما ہوا، جناب فاطمہ سے پنہاں حضرت نے بیان کیا ، جناب فاطمہ نے کہا کہ میرا آپ کو اختیار ہے ، لیکن زنان قریش کہتی ہیں کہ علی بزرگ شکم اور بلند دست ہے اور بند ہائے استخوان پراگندہ ہیں ، آگے سر کے بال نہیں آنکھیں بڑی اور ہمیشی خندہ دہاں اور مفلس ہیں ۔ (جلال العیون صفحہ 130،چشتی)(بحار الانوار جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 131)
سوچنے کی بات یہ ہے کیا واقعی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایسی بازاری گفتگو کر سکتی ہیں؟ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اللہ عزوجل نے جسمانی طور پر بدنما بنایا تھا ؟ معاذاللہ ثم معاذاللہ ۔
اس سے بڑھ کر بھی حضرت سیدہ بتول اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی توہین ہو سکتی ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ ایسی نام نہاد محبت سے خدا کی پناہ : ⏬
ترااژدھا گر بود یار غار
ازاں بہ کہ جاہل بودو غم گسار
یہ ہے شیعہ کے دعوٶں کی حقیقت کہ ہم لوگ محبان اہل بیت ہیں اور ثقلین ( قرآن اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ماننے والے ہیں ۔
آپ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حضرت علی کو جماع کرنے کی نصیحت یعنی سسر کی داماد کو جماع کرنے کی نصیحت : ⬇
1 ۔ ياعلی شب دو شنبہ کو جماع کرنا اگر بچہ پیدا ہوا تو قرآن کا حافظ اور خدا کی نعمتوں پر راضی و شاکر ہوگا ۔
2 ۔ یاعلی اگر تم شب سہ شنبہ کو جماع کیا اور جو بچہ پیدا ہوگا وہ اسلام کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ رتبہ شہادت بھی پائے گا منہ سے اس کے خوشبو آتی ہوگی دل اس کا رحم سے پر ہوگا ہاتھ کا وہ سخی ہوگا اور زبان اس کی غیبت وافترام و بہتان سے پاک ہوگی ۔
3 ۔ یا علی اگر تم شب پنجشنبہ جماع کرو گے تو جو بچہ پیدا ہوگا حاکم شریعت ہوگا یا عالم ۔
4 ۔ اور اگر روز پنجشنبہ ٹھیک دوپیر کے وقت جماع کرو گے تو آخری دم تک شیطان اس کے پاس نہ بھٹکے گا اور خدا اس کو دین و دنیاں کی سلامتی عطا فرمائے گا ۔
5 ۔ یاعلی اگر تم نے شب جمعہ کو جماع کیا تو بچہ پیدا ہوگا وہ فصاحت بیانی اور شیریں زبان میں مشہور ہوگا اور کوئی خطیب اس کی ہمسری نہ کر سکے گا ۔
6 ۔ اور اگر روز جمعہ بعد نماز عصر جماع کیا تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ عقلائے زمانہ میں شمار ہوگا ۔
7 ۔ اگر شب جمعہ بعد نمازے عشاء جماع کیا تو امید ہے جو بچہ پیدا ہوا وہ ابدال میں شمار ہو ۔
8 ۔ یاعلی شب کی پہلی ساعت میں جماع نا کرنا کیونکہ اگر بچہ پیدا ہوا تو شاید جادوگر ہو اور دنیاں کو آخرت پر اختیار کرے ،
یا علی یہ وصیتیں مجھ سے سیکھ لو جس طرح میں نے جبرائیل سے سیکھی ہیں ۔ (تہذیب الاسلام ملا باقر مجلسی صفحہ نمبر 133 تا 134)
بسند حسن جناب صادق سے روایت کی ہے کہ حلال چیز بیان کرنے میں کوئی غیرت نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شب زفاف جناب علی رض اور جناب فاطمہ رض سے فرمایا جب تک میں نہ آلوں کام نہ کرنا جب حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے دونوں پاؤں دونوں صاحبوں کے رخت خواب میں درانہ فرمائے ۔ (جلاء العيون العلامة المجلسي جلد نمبر ١ صفحہ نمبر ٢١١،چشتی)
کیا کوئی باپ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسے کر سکتا ہے ؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں ایسی بات کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے ؟
رافضہ کی متعدد کتب میں یہ روایت موجود ہے : نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سیدہ فاطمہ کے چہرے یا “نعوذ باللہ” ان کے دونوں پستانوں کے درمیان پیار نہ کر لیتے ۔ (بحار الانوار جلد 43 صفحہ 78)
یہ ہے ان لوگوں کی اہل بیت سے محبت، شیعوں کی حالت مشرکین مکہ سے کم نہیں جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا لیکن جب اپنے گھر بیٹی ہوتی تو موت پڑ جاتی ، ایسے ہی یہ بھی ہیں متعہ کی بات اور اس کی فضیلت میں ان کی رالیں ٹپکتی ہیں لیکن کوئی ان کی بیٹی مانگے تو جو تھوڑا غیرت مند ہو گا وہ تھوڑا جھجکے گا ضرور اور ایسے ہی کوئی رافضی کوشش تو کرے اپنی بیٹی کو اس جگہ پیار کرنے کی ۔ جس طرح ان بدبختوں نے لخت جگر پیمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف اس قسم کی باتیں منسوب کر رکھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ اسلام کو شیعہ رفضہ کے گستاخانہ عقاٸد و شر سے بچاۓ آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
شیعوں کی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں
شیعوں کی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : شیعہ وہ ناپاک مخلوق ہیں جو عام مسلمانوں کو دھوکا دینے کےلیے ہر وقت علی علی اور دیگر اہلبیت رضی اللہ عنہم کا دم بھرتے ہیں مگر درحقیقت ان کا سینہ بغضِ اہلبیت رضی اللہ عنہم سے بھرا ہوا ہے ۔ ایک طرف تو یہ شیعہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اتنا غلو کرجاتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بلکہ اللہ عزوجل سے بھی بڑھا دیتے ہیں جبکہ خود اہلبیت پاک رضی اللہ عنہم کی گستاخیوں سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ہم شیعوں کی معتبر تفاسیر و دیگر کتب سے ان کی ان گستاخیوں کو پیش کر رہے ہیں پڑھیں اور فیصلہ خود کریں : ⬇
پہلے یہ پڑھیں کہ کس طرح شیعہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بڑا درجہ دے رہے ہیں ۔
شیعوں کا مشہور عالم ملا باقر مجلسی لکھتا ہے " رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی سے کہا اے علی! تم کچھ ایسی فضیلتوں کے مالک ہو جن سے میں محروم ہوں۔ مثلا فاطمہ تمہاری بیوی ہے جبکہ میں ایسی بیوی سے محروم ہوں، تمہارے دو بیٹے حسن اور حسین ہیں جبکہ میں ایسے مقام و مرتبے والے بیٹوں سے محروم ہوں، خدیجہ تمہاری ساس ہے جبکہ میری ایسی کوئ ساس نہیں اور میں تمہارا سسر ہوں جبکہ میرا ایسا کوئ سسر نہیں، جعفر تمہارا بھائ ہے جبکہ میرا ایسا کوئ بھائ نہیں، فاطمہ ہاشمیہ تمہاری ماں ہے جبکہ میری ماں کا مقام انکے مثل نہیں ۔ (بحار الانوار جلد 39، ص 89، طبع ایران)
دیکھا آپ نے کس طرح اس شیعہ عالم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پاک پر بہتان باندھ کر مولا علی کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے افضل دکھانے کی ناپاک کوشش کی ہے ۔ معاذ اللہ
آئیے اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ شیعہ حضرات کس طرح مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا بغض اپنے سینوں میں سموۓ ہوۓ ہیں ۔ شیعوں کی ایک معتبر تفسیر "تفسیر القمی" میں درج ہے کہ : شیعوں کا کہنا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا مولا علی رضی اللہ عنہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں اور انہوں نے اس رشتے سے انکار کر دیا تھا اور وجہ یوں بتائ تھی کہ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فاطمہ کی شادی علی سے کرنے کا ارادہ کیا تو فاطمہ کو بتایا تو فاطمہ کہنے لگیں : آپ کو اپنی مرضی کا زیادہ حق ہے لیکن قریش کی عورتوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ توند (بڑے پیٹ) والے ، لمبی لمبی کہنیوں والے ، کنپٹی پر سے گنجے ہیں ۔ بدن پر چربی چڑھی ہوئی ہے ، آنکھیں ابھری ہوئی ہیں ، اونٹ کی طرح ان کے مونڈھے لٹکے ہوۓ ہیں ، دانت باہر نکلے ہوۓ ہیں اور دار و درم سے بالکل خالی ہیں ۔ (تفسیر القمی، جلد 2، صفحہ نمبر 336)
دیکھا آپ نے ان ناپاک لوگوں نے کیسے جنابِ خاتونِ جنت پر بہتان باندھا ہے کہ وہ مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما میں عیب نکالتی تھیں ۔ فیصلہ آپ کا کہ کیا وہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں پرورش پائی ہو ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پسند میں عیب نکال سکتی ہے ؟ ۔ معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے تو مولا علی رضی اللہ عنہ میں کوئی عیب نہ نکالا بلکہ یہ خود شیعوں کا بغض ہے جو جناب حیدر کرار رضی اللہ عنہ میں عیب و نقائص تلاش کر رہے ہیں ۔
اب ذرا یہ ملاحظہ کیجۓ کہ شیعہ علماء نے کس طرح مولا علی رضی اللہ عنہ کو بزدل ثابت کیا ہے چنانچہ مجلسی کی روایت ہے کہ : جب حضرت فاطمہ نے صدیق و فاروق سے فدک کا مطالبہ کیا اور اس سلسلے میں ان سے سخت گفتگو کی تو حضرت علی نے اس سلسلے میں انکی کوئ مدد نہیں کی ۔ اس پر حضرت فاطمہ نے کہا : اے ابنِ ابی طالب ! تو نے یوں اپنے آپ کو چھپا لیا جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ ، پیٹ کے بچے کی طرح تو بیٹھا رہا ، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا ۔ (حق الیقین، صفحہ 403،چشتی)(الامالی ص 295)
کلینی لکھتا ہے کہ : علی اپنی بیٹی ام کلثوم کی شادی عمر سے نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن آپ سے ڈرتے تھے اس لیے اپنے چچا عباس کو وکیل بنایا کہ وہ ام کلثوم کی شادی عمر سے کردیں ۔ (حدیقة الشیعة از المقدس اردبیلی، صفحہ نمبر 277)
قارئین کرام ذرا توجہ فرمائیں کہ وہ علی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کا شیر کہیں، وہ علی جو ایک ہاتھ سے خیبر کا دروازہ اکھاڑ دیں، وہ علی جس کے نام سے آج بھی خیبر کے قلعوں میں زلزلہ آجاتا ہے۔ اس علی کے بارے میں شیعہ کہتے ہیں کہ وہ بزدل تھے ۔
اب ذرا ملاحظہ ہو کہ خود مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ شیعوں کے بارے میں کیا راۓ رکھتے تھے ۔ ⬇
ایک موقع پر حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اہلِ عراق (شیعوں) کو مخاطب کرکے کہا : میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یہ دشمن قوم تم پر غالب آجاۓ گی، اسلۓ نہیں کہ وہ تم سے زیادہ حق پرست ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے باطل پر تم سے زیادہ تیز گام ہے اور تم میرے حق میں سست گام اور کوتاہ خرام ہو۔ قومیں اپنے حکام کے ظلم سے ڈرتی ہیں اور میرا حال یہ ہے کہ اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں، میں نے جہاد پر تم کو ابھارا مگر تم اپنی جگہ سے ہلے نہیں، تمہیں رازدارانہ انداز میں بلایا، اعلانیہ دعوت دی مگر تم میں ذرا حرکت نہیں ہوئ، نصیحتیں کیں مگر تمہارے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ (مسند علی ابن ابی طالب)
یہ تھی شیعہ قوم جو مولا علی سے محبت کا دعوی تو کرتے، جنگ و جدل میں جینے مرنے کی باتیں کرتے مگر جب جنگ کا موقع آتا تو حیلے بہانے تراش کر مولا علی کا ساتھ چھوڑ دیتے ۔ مزید مکمل عبارات کےساتھ پڑھیں : ⬇
وعنه، عن ابن علوان، عن جعفر، عن أبيه، عن علي عليه السلام: إنه كان إذا أراد أن يبتاع الجارية يكشف عن ساقيها فينظر إليها ۔
ترجمہ : امام باقر عليه السلام سے مروی ہے کہ حضرت علی عليه السلام جب بھی کسی کنیز کو خریدنے کا ارادہ کرتے تھے تو وہ کنیز کی ٹانگوں کو ظاہر کرتے اور اس کا معائنہ کرتے ۔ (شیعہ کتاب قرب الاسناد الحميري القمي الصفحة ١٠٣،چشتی)
محمد بن الحسين بن أبي الخطاب، عن محمد بن سنان، عن عمار بن مروان، عن المنخل ابن جميل، عن جابر بن يزيد، عن أبي جعفر عليه السلام قال: يا جابر ألك حمار يسير بك فيبلغ بك من المشرق إلى المغرب في يوم واحد؟ فقلت: جعلت فداك يا أبا جعفر وأني لي هذا ؟ فقال أبو جعفر عليه السلام: ذاك أمير المؤمنين ۔
ترجمہ : امام باقر عليه السلام سے روایت ہے کہا اے جابر کیا تمہارے پاس ایسا گدھا ہے جو تمہین مشرق سے مغرب تک صرف ایک دن میں لے جائے؟ جابر نے کہا نہیں ابو جعفر عليه السلام آپ پر قربان جاؤں ایسا گدھا کہاں سے ملے گا؟ امام باقر عليه السلام نے کہا وہ امیر المومنین علی عليه السلام ہیں ۔ (شیعہ کتاب الاختصاص الشيخ المفيد الصفحة ٣٠٣) ۔ یہی روایت علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں بھی بیان کی ہے : الاختصاص : ابن أبي الخطاب عن محمد بن سنان عن عمار بن مروان عن المنخل بن جميل عن جابر بن يزيد عن أبي جعفر عليه السلام قال: قال: يا جابر ألك حمار يسير بك فيبلغ بك من المشرق إلى المغرب في يوم واحد؟ فقلت: جعلت فداك يا با جعفر وأنى لي هذا؟ فقال أبو جعفر: ذاك أمير المؤمنين عليه السلام ۔ (شیعہ کتاب بحار الأنوار العلامة المجلسي ج ٢٥ الصفحة ٢٣٠،٢٢٩)
ان الله لا يستحيي ان يضرب مثلا ما بعوضة فما فوقها” کی آیت کے تحت علامہ قمی اپنی تفسیر قمی میں لکھتے ہیں : قال وحدثني أبي عن النضر بن سويد عن القسم بن سليمان عن المعلى بن خنيس عن أبي عبد الله عليه السلام ان هذا المثل ضربه الله لأمير المؤمنين عليه السلام فالبعوضة أمير المؤمنين عليه السلام وما فوقها رسول الله صلى الله عليه وآله ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا اس مثال میں الله نے امیر المومنین علی عليه السلام کی مثال بیان کی ہے پس بعوضة یعنی مچھر سے مراد امیر المومنین علی عليه السلام ہیں اور مافوقھا یعنی حقارت میں مچھر سے زیادہ سے مراد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ (شیعہ کتاب تفسير القمي علي بن إبراهيم القمي ج ١ الصفحة ٦٢،چشتی)
علامہ سید الخوئی کے نزدیک علی بن ابراہیم قمی کی نقل کی ہوئی سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور تفسیر قمی کی تمام روایات صحیح ہیں ۔ ولذا نحكم بوثاقة جميع مشايخ علي بن إبراهيم الذين روى عنهم في تفسيره مع انتهاء السند إلى أحد المعصومين عليهم السلام. فقد قال في مقدمة تفسيره ۔ (ونحن ذاكرون ومخبرون بما ينتهي إلينا، ورواه مشايخنا وثقاتنا عن الذين فرض الله طاعتهم..) فإن في هذا الكلام دلالة ظاهرة على أنه لا يروي في كتابه هذا إلا عن ثقة، بل استفاد صاحب الوسائل في الفائدة السادسة في كتابه في ذكر شهادة جمع كثير من علماءنا بصحة الكتب المذكورة وأمثالها وتواترها وثبوتها عن مؤلفيها وثبوت أحاديثها عن أهل بيت العصمة عليهم السلام أن كل من وقع في إسناد روايات تفسير علي بن إبراهيم المنتهية إلى المعصومين عليهم السلام، قد شهد علي بن إبراهيم بوثاقته، حيث قال: (وشهد علي بن إبراهيم أيضا بثبوت أحاديث تفسيره وأنها مروية عن الثقات عن الأئمة عليهم السلام ۔ (شیعہ کتاب معجم رجال الحديث العلامة الخوئي جلد نمبر ١ صفحہ نمبر ٤٩،چشتی)
علي بن إبراهيم، عن هارون بن مسلم، عن مسعدة بن صدقة قال: قيل لأبي عبد الله (عليه السلام): إن الناس يروون أن عليا (عليه السلام) قال على منبر الكوفة: أيها الناس إنكم ستدعون إلى سبي فسبوني، ثم تدعون إلى البراءة مني فلا تبرؤوا مني، فقال: ما أكثر ما يكذب الناس على علي (عليه السلام)، ثم قال: إنما قال: إنكم ستدعون إلى سبي فسبوني، ثم ستدعون إلى البراءة مني وإني لعلى دين محمد، ولم يقل: لا تبرؤوا مني ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق عليه السلام سے کہا گیا کہ لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام نے منبر کوفہ پر کہا لوگوں عنقریب تم سے کہا جائے گا کہ مجھے گالی دو تو تم مجھے گالی دے دینا اور اگر مجھ سے براءت ظاہر کرنے کو کہیں تو نہ کرنا امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا لوگوں نے حضرت علی عليه السلام پر کیسا جھوٹ بولا ہے پھر فرمایا حضرت علی عليه السلام نے تو یہ فرمایا ہے کہ تم سے مجھے گالی دینے کو کہا جائے تو تم مجھے گالی دے دینا اور اگر مجھ سے برءات کو کہا جائے تو میں دین محمد پر ہوں یہ نہیں فرمایا کہ تم مجھ سے اظہار برءات نہ کرنا ۔ (کتاب الكافي الشيخ الكليني ج ٢ الصفحة ١٣٤)
علة الصلع في رأس أمير المؤمنين ” ع “، والعلة التي من أجلها سمى الأنزع البطين ۔
حدثنا أبي ومحمد بن الحسن رضي الله عنهما قالا: حدثنا أحمد بن إدريس ومحمد بن يحيى العطار جميعا عن محمد بن أحمد بن يحيى بن عمران الأشعري باسناد متصل لم احفظه، ان أمير المؤمنين ” ع ” قال: إذ أراد الله بعبد خيرا رماه بالصلع فتحات الشعر عن رأسه وها أنا ذا ۔
حدثنا محمد بن إبراهيم بن إسحاق الطالقاني رضي الله عنه قال: حدثنا الحسن بن علي العدوي، عن عباد بن صهيب، عن أبيه، عن جده، عن جعفر بن محمد ” ع ” قال: سأل رجل أمير المؤمنين ” ع ” فقال: أسألك عن ثلاث هن فيك أسألك عن قصر خلقك، وكبر بطنك، وعن صلع رأسك؟ فقال أمير المؤمنين ” ع ” ان الله تبارك وتعالى لم يخلقني طويلا ولم يخلقني قصيرا ولكن خلقني معتدلا أضرب القصير فأقده وأضرب الطويل فأقطه، وأما كبر بطني فان رسول الله صلى الله عليه وآله علمني بابا من العلم ففتح ذلك الباب الف باب فازدحم في بطني فنفخت عن ضلوعي ۔
ترجمہ : کیا وجہ ہے کہ امیر المومنین علی عليه السلام کے سر کے اگلے حصہ پر بال نہ تھے اور کیا وجہ ہے کہ ان کو الانزع البطین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
امیر المومنین علی عليه السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب الله کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سر کے بال اڑا دیتا ہے اور یہ دیکھو میں ایسا ہی ہوں ۔
ایک شخص نے حضرت علی عليه السلام سے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں جو آپ میں موجود ہیں یہ بتایے آپ کا قد کیوں چھوٹا ہے؟ اور پیٹ کیوں بڑا ہے؟ اور سر کے سامنے کے بال کیوں نہیں ہیں؟ حضرت علی عليه السلام نے جواب دیا الله نے نہ مجھے بہت طویل بنایا اور نہ بہت فقیر بلکہ میرے قد کو مستدل بنایا تاکہ میں اپنے سے پستہ قد کے دو ٹکڑے لمبائی میں کر دوں اور اپنے سے دراز قد کی ٹانگوں پر قطا لگا دوں اب سوال یہ ہے کہ میرا پیٹ کیوں بڑا ہے تو سن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے علم کے بہت سے باب تعلیم کیے اور ہر باب سے مجھ پر علم کے ہزار باب کھل گئے اور سینے میں گنجائش نہ پا کر پیٹ میں اتر آئے ۔ (شیعہ کتاب علل الشرائع الشيخ الصدوق ج ١ الصفحة ١٥٩،چشتی)
اسی طرح کی بات علامہ مجلسی شیعہ نے اپنی کتاب بحار الالنوار میں بھی لکھی ہے : جناب فاطمہ زہرا عليه السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کی رائے سب سے اولی ہے لیکن قریش کی عورتیں تو علی عليه السلام کے متعلق طرح طرح کی باتیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کا پیٹ نکلا ہوا ہے ہاتھ لمبے ہیں ان کے جوڑوں کی ہڈیاں بہت چوڑی ہیں سر کے اگلے حصہ کے بال بھی نہیں ہیں آنکھیں بڑی بڑی ہیں شیروں اور درندوں جیسے ہاتھ پاؤں ہیں ہر وقت ہنستے رہتے ہیں پھر ان کے پاس نہ مال ہے نہ دولت و حشمت بالکل مفلس اور فقیر ہیں ۔ (کتاب بحار الأنوار العلامة المجلسي ج ٣ الصفحة ١٣١)
اللہ تعالیٰ مسلک حق اہلِسنت پر رہتے ہوۓ تمام صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی غلامی میں ہمیں موت عطا کرے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Saturday, 22 January 2022
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ
درسِ قرآن موضوع آیت : وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ ۔ (سورہ الانفال آیت نمبر 33)
ترجمہ : اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب آپ ان میں تشریف فرما ہیں ۔
ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ جس عذاب کا کفار نے سوال کیا وہ عذاب انہیں دے جب تک اے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان میں تشریف فرما ہیں ، کیونکہ آپ رحمۃٌ لِلعالَمین بنا کر بھیجے گئے ہیں اور سنتِ اِلٰہیہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا کہ جس سے سب کے سب ہلاک ہوجائیں اور کوئی نہ بچے ۔ (تفسیر جلالین الانفال الآیۃ ۳۳، صفحہ ۱۵۰)(تفسیر مدارک الانفال الآیۃ ۳۳ صفحہ ۴۱۲)
مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے ۔ پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو اِستغفار کیا کرتے تھے تو ’’وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ‘‘ جب تک استغفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا ۔ نازل ہوئی ۔ پھر جب وہ حضرات بھی مدینہ طیبہ کو روانہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے فتحِ مکہ کا اذن دیا اور یہ عذابِ مَوعود آگیا جس کی نسبت اگلی آیت میں فرمایا ’’وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ‘‘۔ حضرت محمد بن اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے فرمایا کہ ’’وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ‘‘ بھی کفار کا مقولہ ہے جو ان سے حکایۃً ذکرکیا گیا ،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُن کی جہالت کا ذکر فرمایا کہ اس قدر احمق ہیں کہ آپ ہی تو یہ کہتے ہیں کہ یارب اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر نازل کر اور آپ ہی یہ کہتے ہیں کہ اے محمد (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) جب تک آپ ہیں عذاب نازل نہ ہوگا کیونکہ کوئی اُمت اپنے نبی کی موجودگی میں ہلاک نہیں کی جاتی۔ (تفسیر خازن الانفال الآیۃ ۳۳، ۲ / ۱۹۳)
امام احمد رضا خان قادری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ⬇
اَنْتَ فِیْهِمْ نے عَدُوْ کو بھی لیا دامن میں
عیشِ جاوید مبارک تجھے شیدائی دوست
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس شبہ کا جواب دیا ہے کہ اگر قرآن حق ہے اور وہ اس کے منکر ہیں تو ان پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے اور کوئی عذاب کیوں نہیں آتا ۔ اس کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے کہ جب تک (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے درمیان موجود ہیں ان پر عذاب نہیں آئے گا اور یہ آپ کی تعظیم کی وجہ سے ہے اور تمام انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہی عادت جاریہ رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی بستی والوں پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجا جب تک کہ اپنے نبی کو وہاں سے نکال نہیں لیا ۔ جیسا کہ حضرت ھود ، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں سے باہر بھیج دیا ، اس کے بعد ان کی بستیوں پر عذاب نازل فرمایا ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) کا ان کے درمیان موجود ہونا نزول عذاب سے مانع ہے تو پھر انبیاء (علیہم السلام) کے ہوتے ہوئے ان کے خلاف جہاد اور قتال کیوں مشروع کیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مسلسل کفر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہانت کی بناء پر آسمان سے عذاب کا نزول اور چیز ہے جس سے کافروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ، اور ایمان کی دعوت کو مسترد کرنے کے نتیجہ میں ان سے قتال اور جہاد کرنا اور چیز ہے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت عذاب نہیں دیتا جب اس کے نبی اس قوم میں موجود ہوں ، وہ اپنے نبیوں کو ان کے درمیان سے نکال لاتا ہے پھر ان پر عذاب نازل فرماتا ہے اور جو ان میں سے پہلے ایمان لا چکے ہوں ان پر بھی عذاب نازل نہیں فرماتا ، اور مجاہد نے کہا جب وہ نماز پڑھ رہے ہوں تو ان پر عذاب نازل نہیں فرماتا ۔ امام ابن جریر نے کہا ان اقوال میں اولیٰ یہ ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ان کو عذاب دے جب کہ آپ ان میں موجود ہیں ، حتیٰ کہ اللہ آپ کو ان کے درمیان سے باہر لے آئے کیونکہ وہ کسی بستی کو اس وقت ہلاک نہیں کرتا جب ان میں ان کا نبی موجود ہو ۔ اور نہ اللہ اس وقت ان پر عذاب نازل فرماتا ہے جب وہ اپنے کفر اور گناہوں پر استغفار کر رہے ہوں ۔ لیکن وہ اپنے کفر سے توبہ نہیں کرتے بلکہ وہ اس پر اصرار کرتے ہیں پھر فرمایا اور اللہ انہیں کیوں عذاب نہیں دے گا حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں اور وہ اس (مسجد حرام) کے متولی نہیں ہیں اور اس کے متولی تو متقی مسلمان ہی ہوتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے ، اور اللہ تعالیٰ نے مکہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے بعد ان کو میدان بدر میں تلوار کے عذاب سے دوچار کیا ۔ بعض علماء نے کہا یہ دوسری آیت پہلی آیت کے لیے ناسخ ہے ، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ان دونوں ایوں میں خبر دی گئی ہے اور نسخ خبر میں نہیں امر اور نہی میں واقع ہوتا ہے ۔
اس آیت میں جو فرمایا ہے مسجد حرام کے ولی تو صرف متقی مسلمان ہیں یعنی جو مسلمان اللہ کے فرائض کو ادا کرتے ہیں اور گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (جامع البیان جز 9 صفحہ 309 ۔ 316 مطبوعہ دار الفکر بیروت 1415 ھ،چشتی)
حضرت موسیٰ کَلیمُ اللّٰہ عَلَیْہِ وَالسَّلام کی قوم میں ایک شخص اِنْتہائی گُنہگار تھا اس نے اپنی ساری زِندگی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانیوں میں بَسر کی ، جب وہ مرگیا تو بنی اسرئیل نے اسے یُونہی بے گور و کَفَن گَندگی کے ڈھیر پر ڈال دیا ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی طرف وَحْی بھیجی کہ ہمارا ایک دوست فوت ہوگیا ہے اور لوگوں نے اسے گَندگی پر پھینک دیا ۔ تم اُس کو اُٹھاؤ اور عِزَّت واِحْتِرام کے ساتھ اس کی تَجْہِیْز و تَکْفِیْن کرو اور اس کا جَنازہ پڑھادو ۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص تھا ، آپ کو حیر ت تو بہت ہوئی لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حُکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپ عَلَیْہِ السَّلام نے نہایت اِعزاز و اِکرام کیساتھ اس شخص کی تَجْہِیْز و تَکْفِیْن کی اور نمازِ جنازہ پڑھا کر دَفنا دیا ۔ بعد میں آپ عَلَیْہِ السَّلام نے دَربارِالہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی : ، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! یہ شخص تو بڑا مُجرم و خَطا کار تھا ، ایسے اِعزاز کا حَقْدار کیسے ہو گیا ؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : اے موسیٰ ! تھا تو یہ واقعی بہت گُنہگار اور سخت سزا کا حَقْدار مگر اس کی یہ عادت تھی کہ جب کبھی توریت کھولتا : وَنَظَرَاِلٰی اِسْمِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَبَّلَہٗ وَوَضَعَہٗ عَلٰی عَیْنَیْہِ وَ صَلّٰی عَلَیْہ ، اور محمدِ عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامِ پاک کو دیکھتا تو فرطِ مَحَبَّت سے اس نامِ پاک کو چومتا ، اسے آنکھوں سے لگاتا اور آپ کی ذاتِ طیبہ پر دُرُودِ پاک کے پھول نچھاور کرتا تھا ، ’’فَشَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ وَغَفَرْتُ ذُنُوْبَہٗ وَزَوَّجْتُہٗ سَبْعِیْنَ حَوْرَاءَ ، پس میں نے (اسی عمل کی وجہ سے) اسے قدر و منزلت عطا کی اس کے گُناہوں کومُعاف کردیا اور ستَّر حُوریں اس کے نِکاح میں دیں ۔ (حلیۃ الاولیاء وہب بن منبہ ۴/۴۵ حدیث : ۴۶۹۵ )
جو شخص اِنتہائی گُنہگار اور لوگوں کی نظر میں حَقیر تھا ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامِ نامی اسمِ گرامی کی تَعْظِیم و تَوقِیر کرنے ، اس کو چوم کر آنکھوں سے لگانے اور آپ کی ذاتِ اَقدس پر دُرُودِپاک پڑھنے کی بَرَکت سے اس کے تمام گُناہ مُعاف فرمادئیے اور اس کایہ عمل اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اس قَدر پسند آیا کہ اسے مقبولِ بارگاہ بنا لیا ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب بھی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا مُبارک نام پڑھیں یا سنیں تو تَعْظِیم کی نِیَّت سے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا ئیں اور آپ کی ذاتِ پاک پر دُرُودِپاک پڑھیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَعیَّت میں داخلِ جَنَّت ہونگے ۔
حضرت ابو لبابہ بن عبدا لمنذر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے غزوۂ بنو قریظہ کے موقع پر ایک خطا سرزد ہو گئی تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اس قدر نادم ہوئے کہ خود کو ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کہا : جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں فرمائے گا تب تک نہ میں کچھ کھاؤں گا ، نہ پیوں گا ،نہ کوئی چیز چکھوں گا ، یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جب ان کے بارے میں پتا چلا تو ارشاد فرمایا : اگر یہ میرے پاس آ جاتا تو میں اس کے لئے مغفرت طلب کرتا لیکن اب اس نے خود کو باندھ لیا ہے تو جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ فرمائے گا ، میں نہیں کھولوں گا ۔ سات دن تک حضرت ابو لبابہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے نہ کوئی چیز کھائی ، نہ پی ، نہ چکھی ، حتّٰی کہ ان پر غشی طاری ہو گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی ، جب انہیں توبہ کی قبولیت کے بارے میں بتایا گیا تو فرمایا : خدا کی قسم! میں اس وقت تک خود کو نہیں کھولوں گا جب تک کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لا کر اپنے دستِ اقدس سے مجھے نہیں کھولتے ۔ چنانچہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے اور اپنے پیارے صحابی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو بندشوں سے آزاد فرما دیا ۔ (دلائل النبوہ للبیہقی باب مرجع النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ من الاحزاب ومخرجہ الی بنی قریظۃ ۔ الخ، ۴ / ۱۳-۱۴،چشتی)(تفسیر خازن الانفال الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں توبہ و رُجوع کی ایک دوسری روایت ملاحظہ فرمائیں ، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ عَنْہا فرماتی ہیں : میں نے ایک ایسا بستر خریدا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور گھر میں داخل نہ ہوئے ، میں نے آپ کے روئے انور پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض گزار ہوئی : یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، مجھ سے جو نافرمانی ہوئی میں اس سے اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں ۔ ارشاد فرمایا: یہ گدا یہاں کیوں ہے ؟ عرض کی : میں نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےلیے خریدا تھا تاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس سے ٹیک لگائیں ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ان تصویروں (کو بنانے) والے قیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : جو تم نے بنایا انہیں زندہ کرو۔‘‘ اور ارشاد فرمایا : ’’جس گھر میں تصویریں ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔ (صحیح بخاری کتاب البیوع باب التجارۃ فیما یکرہ لبسہ للرجال والنساء، ۲ / ۲۱، الحدیث: ۲۱۰۵)
حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ چالیس صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا بھی تھے جمع ہوکر جَبر و قَدر میں بحث کرنے لگے تو روحُ الْاَمین حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ باہر اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں انہوں نے ایک نیا کام شروع کر دیا ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ غصہ سے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چہرہ مبارک سرخی میں اس طرح نمایاں تھا جیسے سرخ انار کا دانہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رخسار مبارک پر نچوڑا گیا ہو ۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اس کیفیت کو دیکھ کر کھلے بازو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے استقبال کےلیے آگے بڑھے اور ان کا حال یہ تھا کہ ان کے ہاتھ اور بازو کانپ رہے تھے اور عرض کی ’’ تُبْنَا اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ‘‘ ہم نے اللہ تعالیٰ اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار میں توبہ پیش کی ۔ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قریب تھا کہ تم اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیتے ، میرے پاس جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام تشریف لائے اور عرض کی کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باہر امت کے پاس تشریف لے جائیں ، انہوں نے نیا کام شروع کردیا ہے ۔ (معجم الکبیر ثوبان مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۲ / ۵۹، الحدیث: ۱۴۲۳،چشتی)
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضری کا یہ طریقہ صرف آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں نہ تھا بلکہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ مبارک کے بعد بھی یہ عرض و معروض باقی رہی اور آج تک ساری امت میں چلتی آرہی ہے ۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے دورِ خلافت میں قحط پڑ گیا تو صحابی رسول حضرت بلال بن حارث المزنی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کی : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی امت کےلیے بارش کی دعا فرما دیجئے وہ ہلاک ہو رہی ہے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا : تم حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس جا کر میرا سلام کہو اور بشارت دے دو کہ بارش ہو گی اور یہ بھی کہہ دو کہ وہ نرمی اختیار کریں ۔ حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوئے اور خبر دے دی ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یہ سن کر رونے لگے ، پھر فرمایا : یا رب عَزَّوَجَلَّ ، میں کوتاہی نہیں کرتا مگر اسی چیز میں کہ جس سے میں عاجز ہوں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، ۷ / ۴۸۲، الحدیث: ۳۵)(وفاء الوفا الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الفصل الثالث، ۲ / ۱۳۷۴، الجزء الرابع)
ایک مرتبہ مدینۂ منورہ میں شدید قحط پڑا اہلِ مدینہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ عَنْہا کی بارگاہ میں اس کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبرِ انور دیکھو اور چھت میں ایک روشندان بناؤ حتّٰی کہ روضۂ منور اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ رہے ، اہلِ مدینہ نے جیسے ہی روشندان بنایا تو اتنی کثیر بارش ہوئی کہ سبز گھاس اُگ آئی اور اونٹ موٹے ہو گئے یہاں تک کہ گوشت سے بھر گئے ۔ (سنن دارمی، باب ما اکرم اللہ تعالی نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ، ۱ / ۵۶، الحدیث: ۹۲،چشتی)
بادشاہ ابو جعفر منصور نے حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ سے مسجدِ نبوی شریف میں مناظرہ کیا ، دورانِ مناظرہ ابو جعفر کی آواز کچھ بلند ہوئی تو امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے اسے ( ڈانٹتے ہوئے) کہا : اے امیرُ المؤمنین ! اس مسجد میں اپنی آواز اونچی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک جماعت کو ادب سکھایا کہ ’’ تم اپنی آوازوں کو نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آواز سے بلند مت کرو ۔ ‘‘اور دوسری جماعت کی تعریف فرمائی کہ’’ بے شک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں پَست کرتے ہیں ۔‘‘ اور ایک قوم کی مذمت بیان کی کہ’’ بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ۔‘‘ بے شک آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت و حرمت اب بھی اسی طرح ہے جس طرح آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری حیات میں تھی ۔ یہ سن کر ابو جعفر خاموش ہو گیا ، پھر دریافت کیا : اے ابو عبداللہ! میں قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف متوجہ ہو کر ؟ فرمایا : تم کیوں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے منہ پھیرتے ہو حالانکہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہارے اور تمہارے والد حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں بلکہ تم حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کی طرف متوجہ ہو کر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے شفاعت مانگو پھر اللہ تعالیٰ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت قبول فرمائے گا ۔ (شفا شریف القسم الثانی الباب الثالث فصل واعلم انّ حرمۃ النبی ۔ الخ، صفحہ ۴۱، الجزء الثانی،چشتی)
مروان نے اپنے زمانۂ تَسَلُّط میں ایک صاحب کو دیکھا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبر انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہیں ، مروان نے (ان کی گردن مبارک پکڑ کر) کہا : جانتے ہو کیا کر رہے ہو ؟ (جیسے آج کل آلِ سعود نجدی وہابی کہتے ہیں) اس پر ان صاحب نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ہاں ، میں کسی اینٹ پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں ، میں تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حضور حاضر ہوا ہوں ۔ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : دین پر نہ روؤ جب اس کا اہل اس پر والی ہو ، ہاں اس وقت دین پر روؤ جبکہ نا اہل والی ہو۔ یہ صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ ا للہُ عَنْہُ تھے ۔ (مسند امام احمد، حدیث ابی ایوب الانصاری، ۹ / ۱۴۸، الحدیث: ۲۳۶۴۶،چشتی)
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضۂ اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ انور کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جو آپ نے فرمایا ، ہم نے سنا اور جو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہوا ، اس میں یہ آیت بھی ہے’’وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا‘‘ میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا ہوں تو میرے رب عَزَّوَجَلَّ سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے ۔ اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تجھے بخش دیا گیا ۔ (تفسیر مدارک النساء الآیۃ ۶۴ صفحہ ۲۳۶)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اہلِ جنت کے سردار
ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اہلِ جنت کے سردار
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حدثنا هشام بن عمار ، حدثنا سفيان ، عن الحسن بن عمارة ، عن فراس ، عن الشعبي ، عن الحارث ، عن علي ، قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم : ابو بكر ، و عمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين ، والآخرين ، إلا النبيين ، والمرسلين، لا تخبرهما يا علي ما داما حيين ۔
ترجمہ : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نبیوں اور رسولوں علیہم السلام کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے ، علی رضی اللہ عنہ جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا ۔ (سنن ابن ماجه حدیث نمبر 95 باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)(سنن الترمذی/ المنا قب 16 3666)(تحفة الأشراف: 10035)(مسند احمد 1/80،چشتی)(جامع ترمذی 5 / 376 حدیث : 3686)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ , لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ ۔ قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ۔
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کیلیے فرمایا ’’ اولین اور آخرین میں انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کو چھوڑ کر یہ دونوں جنت کے اڈھیر عمر یا بوڑھوں کے سردار ہیں ۔ اے علی رضی اللہ عنہ ان دونوں کو یہ نہ بتانا ۔ ابو عیسٰی ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (جامع الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ أبوابُ الْمَنَاقِبِ بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ رقم الحديث 3626)
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْيَمَامِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ شَبَابِهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ ۔
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا پس ابوبکر اور عمر تشریف لائے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ’’ ائے علی یہ دونوں انبیاء اور مرسلین کے بعد جنت کے بوڑھوں اور اُس کے جوانوں کے سردار ہیں ۔ (مسند أحمد بن حنبل مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ وَمِنْ مُسْنَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ رقم الحديث: 588)
عن انس قال : قال رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : لأبي بکر وّ عمر : هذان سيّدا کهول أهل الجنّة من الأوّلين والاٰخرين إلّا النّبيّين والمرسلين ۔
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ۔ یہ دونوں انبیاء و مرسلین کے علاوہ اولین و آخرین میں سے تمام عمر رسیدہ جنتیوں کے سردار ہیں ۔ (ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 610، رقم : 3664)(طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 68، رقم : 6873،چشتی)(طبراني، المعجم الصغير، 2 : 173، رقم : 976)(مقدسي، الأحاديث المختارة، 6 : 244، رقم : 2260)(احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 148، رقم : 129)(ذهبي، سير أعلام النبلا، 7 : 133)(خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 5 : 307)(نووي، تهذيب الأسماء، 2 : 478)
عن عليّ رضي الله عنه عن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم قال، قال رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أبوبکر وّعمر سيّدا کهول أهل الجنّة من الأوّلين والاٰخرين إلّا النّبيّين والمرسلين ، لا تخبرهما يا عليّ ماداما حيّين ۔
ترجمہ : حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ انبیاء و مرسلین کے علاوہ اولین و آخرین میں تمام عمر رسیدہ جنتیوں کے سردار ہیں۔ اے علی رضی اللہ عنہ ! جب تک وہ دونوں زندہ ہیں انہیں یہ خبر نہ دینا ۔ (ابن ماجه، السنن، 1 : 36، مقدمه، رقم : 95)(ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 611، رقم : 3665)(ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 611، رقم : 3666)(احمد، المسند، 1 : 80، رقم : 602)(ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 350، رقم : 31941)(ابويعلي، المسند، 1 : 405، رقم : 533)(بزار، المسند، 3 : 69 رقم : 833)(بزار، المسند، 3 : 67، رقم : 831)(طبراني، المعجم الاوسط، 2 : 91، رقم : 1348،چشتی)(ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 1 : 437، رقم : 1781)(مقدسي، الاحاديث المختاره، 2 : 167، رقم : 545)(احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 123، رقم : 93)(ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 617، رقم : 1419)(ذهبي، سير اعلام النبلاء، 15 : 343)(عسقلاني، تهذيب التهذيب، 12 : 393)(مزي، تهذيب الکمال، 13 : 386)(محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 324)(خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 5 : 15)
عن عون ابن أبي جحيفة عن أبيه قال : قال رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أبوبکر وّ عمر سيّدا کهول أهل الجنّة من الأوّلين والاٰخرين إلّا النّبيّين والمرسلين ۔
ترجمہ : حضرت عون رضی اللہ عنہ بن ابو جحیفہ اپنے والد ابو جحیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ انبیاء اور مرسلین کے علاوہ اولین و آخرین کے تمام عمر رسیدہ جنتیوں کے سردار ہیں ۔ (ابن ماجه، السنن، 1 : 38، مقدمه، رقم : 100)(ابن حبان، الصحيح، 15 : 330، رقم : 6904)(طبراني، المعجم الکبير، 22 : 104، رقم : 257،چشتی)(طبراني، المعجم الاوسط، 4 : 272، رقم : 4174)(هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 538، رقم : 2192)(کناني، مصباح الزجاجه، 1 : 16، رقم : 36)
عن أبي سعيد الخدري قال ، قال رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لأبي بکر و عمر هذان سيدا کهول اهل الجنة من الأولين والآخرين ۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کے لیے فرمایا : یہ دونوں عمر رسیدہ اہل جنت کے سردار ہیں ۔ (طبراني، المعجم الاوسط، 4 : 359، رقم : 4431)(هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 53)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و آلہ و سلم : أبو بكر وعمر سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين ۔ رواه الترمذي ورواه ابن ماجه عن علي رضي الله عنه ۔
ترجمہ : اور حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جنت میں جتنے بھی ادھیڑ عمر والے ہوں ، خواہ وہ اگلوں میں کے ہوں یا پچھلوں میں کے ، ان سب کے سردار ابوبکر و عمر ہوں گے ۔ سوائے نبیوں اور رسولوں کے (ترمذی ) ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ (مشکوۃ شریف جلد پنجم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے مناقب کا بیان حدیث نمبر 669،چشتی)
عن علی رضی اللّٰہ عنہ قال : کنت عند النبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم فأقبل أبوبکر و عمر رضی اللّٰہ عنہما، فقال : یا علی ہذان سیدا کہول أہل الجنة و شبابہا بعد النبیین و المرسلین ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ : میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھا کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نظر آئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! یہ دونوں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد اہلِ جنت کے بوڑھوں اور جوانوں کے سردار ہیں ۔ (رواہ الترمذی ابن ماجة ، مسند أحمد ، مسند البزار ، صحیح ابن حبان ، مسند أبی یعلی، المعجم الکبیر للطبرانی، المعجم الاوسط للطبرانی، المعجم الصغیر للطبرانی، الاحکام الشرعیة للاشبیلی، شرح السنة للبغوی، شرح مشکل الآثار للطحاوی، مصنف ابن ابی شیبة، معجم الصحابة لابن قانع، السنة لابن ابی عاصم، اللطیف لشرح مذاہب أہل السنة و معرفة شرائع الدین و التمسک بالسنن لابن شاہین، الکنی و الاسماء للدولابی، فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل، کتاب الفوائد لابی بکر الشافعی، مکارم الاخلاق للخرائطی،چشتی)
یہ روایت نہایت کثرت سے محدثین علیہم الرحمہ نے اپنی کتابوں میں درج کی ہے ۔ اس کی اسانید بھی زیادہ ہیں ، جو ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں ۔ امام ترمذی اور شیخ البانی اس حدیث کو صحیح قرار دیتے ہیں ۔
یعنی مجھ سے پہلے نہ بتانا تاکہ میرے بتانے سے انہیں زیادہ خوشی حاصل ہو ۔ (فیض القدیر 1 / 117 ، تحت الحدیث : 68)
بعض شارحین نے اس کا معنی بیان کیا : علی رضی اللہ عنہ ! تم انہیں نہ بتانا‘ میں خود انہیں بشارت سناٶں گا ؛ چنانچہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : ⬇
فرماتے ہیں ، یہ دونوں ہیں سردارِ دوجہاں
اے مرتضیٰ ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
ادھیڑ عمر والے جنتیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ادھیڑ عمر ہو کر مرے ہیں کیونکہ جنت میں کوئی ادھیڑ عمر کا نہیں ہو گا سب جوان ہوں گے ، «كهول» جمع ہے «كهل» کی ، اور «كهل» مردوں میں وہ ہے جس کی عمر تیس سے متجاوز ہو گئی ہو ، اور بعضوں نے کہا چالیس سے اور بعضوں نے تینتیس سے پچپن تک ، اور اس سے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان اس عمر تک پہنچ کر انتقال کر گئے ہیں یہ دونوں یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جنت میں ان کے سردار ہوں گے ، یا کہولت سے کنایہ کیا عقل و شعور اور فہم و فراست کی پختگی پر یعنی جو دانا اور فہمیدہ لوگ جنت میں ہوں گے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ان کے سردار ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر نبی، نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا اور انبیاء کے بعد شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) سب سے افضل ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر نبی معصوم نہیں ہو سکتا اور معلوم ہوا کہ نبی کے بعد خلافت کے مستحق یہی ہیں اس لئے کہ جب جنت میں یہ سردار ہوں گے تو دنیا کی سرداری میں کیا شک رہا ، مگر واقع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں جنتیوں کا سردار فرمایا ہے ، جہنمیوں کا نہیں ، اس لیے گمراہ اور جاہل ان کی سرداری کا انکار کرتے ہیں ۔
ظاہر ہے جنت میں تو کوئی بھی ادھیڑ عمر کا نہیں ہوگا سب " جوان " ہوں گے اس لئے " ادھیڑ عمر والوں " سے مراد وہ لوگ ہیں جو ادھیڑ عمر میں اس دینا سے رخصت ہوں گے ۔" " اگلوں " سے مراد گزشتہ امتوں کے لوگ مراد ہیں جن میں اصحاب کہف ، آل فرعون کے اہل ایمان اور حضرت خضر بھی شامل ہیں بشرطیکہ وہ قول صحیح ہو جس کے مطابق حضرت خضر ، نبی نہیں ولی ہیں ، اور پچھلوں سے مراد اس امت کے لوگ ہیں جن میں تمام اولیاء اللہ اور شہداء بھی شامل ہیں ۔ سوائے نبیوں اور رسولوں کے " کی قید سے حضرت عیسیٰ اور دوسرے نبیوں رسولوں علیہم السلام کا بھی استثناء ہوگیا اور ان حضرات کے مطابق حضرت خضر بھی مستثنیٰ ہوگئے جن کا کہنا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں ۔
جنّتی جوانوں کے سردار کا جواب
حکیم الامت حضرت علامہ مفتی یار احمد خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : جنتی جوانوں سے مراد وہ جنتی ہیں جو جوانی میں وفات پا جائیں انہیں کے آپ سردار ہیں ، کوئی پیغمبر دنیا سے جوانی میں نہ گئے اور نہ صدیق اکبر و فاروق اعظم و مولی علی رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین لہٰذا یہ حضرات اس حکم سے خارج ہیں
۔ (اسرار الاحکام صفحہ ۲۱۱) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Wednesday, 19 January 2022
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دوازدہم
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دوازدہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مسئلہ باغ فدک اور حدیث بخاری کا صحیح مفہوم شیعہ کتب کی روشنی میں محترم قارئینِ کرام : امام بخاری رحمة اللہ علیہ صحیح بخاری میں حدیث پیش کرتے ہیں : حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا هشام أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السلام أتيا أبا بکر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلی الله عليه وسلم وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدک وسهمهما من خيبر فقال لهما أبو بکر سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول لا نورث ما ترکنا صدقة إنما يأکل آل محمد من هذا المال قال أبو بکر والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته قال فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت ۔(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1645 ،- فرائض کی تعلیم کا بیان )
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رسول اللہ کے (ترکہ میں سے) اپنے میراث مانگنے آئے اور وہ دونوں اس وقت فدک کی زمین اور خیبر کی زمین سے اپنا حصہ وصول کر رہے تھے تو ان دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے صرف اس مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھائیں گے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کو نہیں چھوڑتا ہوں چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے گفتگو چھوڑ دی یہاں تک کہ وفات پاگئیں ۔
منکرین حدیث اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو ماننےسے انکار کیوں کیا ؟ اور ساتھ ہی یہ اعتراض بھی نقل کرتے ہیں کہ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شان پر بھی چوٹ پڑتی ہے ۔ کیونکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مرتے دم تک ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اور نہ ہی ملاقات کی ۔
جواب : دراصل یہاں صرف اور صرف مغالطوں سے کام لینے کی کوشش کی جارہی ہے،کیونکہ اگر تمام طرق احادیث اسی مسئلہ پر جمع کیے جائیں تو یہ سارے اعتراضات کا لعدم ہوجاتے ہیں۔رہی بات اس مسئلے کی کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ حدیث مانے سے انکار کیوں کیا ؟ تو اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک یہ حدیث نہ پہنچی تھی یا اس وقت ان کے ذہن میں نہ تھی، تب تو انہوں نے وراثت مانگی لیکن جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کبھی بھی وراثت کا سوال نہیں کیا۔اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں موجود ہے کہ انہوں نے حدیث سننے کے بعد حدیث کی مخالفت کی ہو۔لہذا یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماں رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل طور پر عاملہ تھیں۔
جن احادیث میں یہ ذکر ہو ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا نے کبھی بھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگواس امر پر محمل ہے کہ وراثت کے مسئلے کے لیے گفتگو نہ فرمائی لیکن ملاقات ترک نہ کی اور نہ اس کی کوئی واضح دلیل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : فھجرتہ فاطمۃ فلم تکلمہ حتیٰ ماتت} ووقع عندبن شبۃ من وجہ اٰخر عن معمر(فلمہ تکلمہ فی ذالک المال}فتح الباری ،ج 6 ،ص164)
ترجمہ : حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ترک کی اور مرتے دم تک ان سے گفتگو نہ کی}معمر سے بطریق یہ روایت ہے کہ {جس روایت میں یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگو نہ کی اس سے مراد یہ ہے کہ} فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے وراثت کے مال کے بارے میں گفتگو نہ کی۔
یعنی وراثت کے مسئلے پر گفتگو نہ کی لہذا اگر کوئی ان باتوں سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطلق ناراضگی مرادلے گا تو یہ غلط ہے۔کیونکہ دوسری روایت اس بات پر شاہد ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو بھی فرمائی اور ان سے ملاقات بھی کی ۔
امام بیہقی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب السنن الکبری میں زکر فرماتے ہیں : امام مرضت فاطمۃ رضی اللہ عنہا اتاھا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ فاستاذن علیھا فقال علیٰ : یافاطمۃ ؛ ھزا ابوبکر یستاذن علیک فقالت : اتحب ان اذن لہ قال نعم فاذنت لہ فدخل علیھا یترضاھا(السنن الکبری ، ج 6 ،ص 491 ،رقم 12735, چشتی)
ترجمہ : جب فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور آنے کی اجازت طلب کی تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فاطمہ ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے ہیں آپ سے ملنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا آپ ان سے ملاقات کی اجازت دیں گے ؟ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں پس وہ تشریف لائے اور ان کو راضی کیا ۔
سبحان اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تمام اعمال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لیے ہوا کرتے تھے ۔ الحمدللہ اس حدیث نے واضح کردیا کہ ان میں کو ئی بھی ایک دوسرے سے خفا نہیں تھا اور نہ ہی ناراضی تھی بلکہ احا دیث ہی پر عمل پیرا ہوتے تھے اور اپنی دنیا اور آخرت کی نجات بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اتباع میں ہی سمجھتے تھے ۔
مسلہ باغ فدک شیعہ کتب کی روشنی
باغ فدک کیا ہے ؟ فدک خیبر کا ایک قصبہ ہے (وہاں ایک باغ ہے جسے باغ فدک کہا جاتا ہے) اور یہ بھی کہا گیا کہ حجاز کا ایک کنارہ ہے جس میں چشمےاور کھجوروں کے درخت ہیں یہ اللہ سبحانہ و تعالی نےاپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عطا کیا تھا ۔ (لسان العرب جلد2، صفحہ 473)
حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی حدیث سنائی کہ انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں علم ہے اور یہ بتایا کہ اس جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم اہلبیت کو دیا کرتے تھے وہ میں بھی جاری رکونگا تو حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے اپنے مطالبے سے رجوع کر لیا اور پھر ساری عمراس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی بلکہ شیعوں کی اپنی کتاب میں ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ اس پر راضی ہو گئیں۔اس مسلے کو ہم کتب شیعہ سے لکھ رہے شاید کسی کو ہدایت نصیب ہوجائے اور وہ گستاخیاں چھوڑ دے یاد رہے اس مسلے کو بعض متعصب شیعہ علماء نے من گھڑت کہانیوں کے ذریعے اچھالا آیئے حقائق پڑھتے ہیں ۔
مشہور شیعہ مصنف اس کا نام کمال الدین میثم بن علی میثم البحرانی ہے۔ ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہوا۔ ’’عالمِ ربانی، فلسفی، محقق، صاحبِ حکمت اور نہج البلاغۃ کی شرح کا مصنف ہے۔ محقق طوسی سے روایت کرتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ خواجہ نصیر الدین طوسی نے فقہ کمال الدین میثم سے اور میثم نے حکمت خواجہ سے پڑھی تھی ۔ ۶۷۹ھ میں وفات پائی اور ماحوذ کے قریب ایک بستی ہلتا میں دفن ہوا ۔ (الکنی والالقاب جلد ۱ ، صفحہ ۴۱۹) ۔ اسی نے کہا تھا ۔ میں نے علوم و فنون اس لیے چاہے تھے کہ اس سے برتری حاصل کروں‘‘’’مجھے بس اسی قدر ملا کہ اسی تھوڑے سے میں بلند ہوگیا‘‘ ’’مجھے معلوم ہوگیا کہ سب کے سب محاسنفرع ہیں اور حقیقت میں مال ہی اصل ہے‘‘ ’’اس کی ایسی ایسی عجیب تصنیفات ہیں جن کے بارے میں زمانے میں سے کسی نے بھی نہیں سنا اور نہ ہی بڑے بڑوں میں سے کوئی اُسے پاسکا ہے ۔ (روضات الجنات ج ۲ ص ۲۱۸ اور مابعد)
شیعہ ابن میثم نہج البلاغہ کی شرح میں یہ روایت لکھتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا جو آپ کے والد محترم کا تھا وہ آپ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فدک میں سے آپ کےلیے کچھ رکھ لیا کرتے تھے باقی اللہ سبحانہ وتعالی کے راستے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم میں آپ کے ساتھ ویسا ہی کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا کرتے تھے یہ سُن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں اور اس بات کا آپ سے عہدلے لیا ۔ (شرح نہج البلاغہ جلد 5 صفحہ 7 از ابن میثم البحرانی مطبوعہ تہران)
اسی جیسی ایک روایت شیعہ دنبلی نے اپنی شرح ’’الدرۃ النجفیہ صفحہ 331،332 مطبوعہ ایران‘‘ میں بیان کی ہے۔ (شرح نہج البلاغۃ جلد5 ،صفحہ 331،332ایران)
شیعہ ابن میثم،دنبلی،ابنِ ابی الحدید، اور معاصر شیعہ مصنف فیض الاسلام علی نقی نے یہ روایت نقل کی ہے : ابوبکر رضی اللہ عنہ باغِ فدک کے غلہ میں سے اتنا حصہ اہلِ بیت کو دے دیا کرتے تھے جو ان کی ضروریات کےلیے کافی ہوتا ۔ باقی سب تقسیم کردیا کرتے، آپ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے، عثمان رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے اور ان کے بعد علی رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ (شرح نہج البلاغۃ لابنِ ابی الحدید جلد 4 صفحہ 44)(شرح نہج البلاغۃ لابنِ میثم البحرانی جلد 5، صفحہ 107،چشتی)(الدرۃ النجفیۃ‘‘ صفحہ 332)(شرح النہج البلاغہ،جلد 5،صفحہ 960، فارسی لعلی نقی ،مطبوعہ تہران)
شیعہ کتب گواہ ہں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ویسا ہی کیا جیسا خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم نے کیا تو یہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر کیا فتوی لگائیں گے ؟
نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں ہے اس روایت کو متعصب شیعہ جھٹلاتے ہیں جبکہ یہ روایت خود شیعوں کی اپنی کتب میں موجود ہے، ان کی اپنی کتاب (کافی) میں جسےشیعہ سب سے صحیح کتاب کہتے ہیں اسی کتاب (کافی) میں شیعہ کلینی نےحماد بن عیسی سےاور حماد بن عیسی نےقداح سےجعفر ابو عبداللہ کی روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’جو علم کو تلاش کرتے ہوئے علم کے راستے پر چلے، اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے ، اور عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے، جیسے چودھویں کا چاند سارے ستاروں سے افضل ہے۔ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں جو دینار و درہم وراثت میں نہیں چھوڑتے لیکن علم کی میراث چھوڑتے ہیں، جو اس میں سے کچھ حاصل کرلے اس نے بہت کچھ حاصل کرلیا ۔ (الاصول من الکافی کتاب فضل العلم، باب ثواب العالم والمتعلم جلد 1،صفحہ 34)
جعفر ابوعبد اللہ نےایسی ہی ایک اور روایت میں کہا ہے: علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور ان کا مالِ میراث درہم و دینار نہیں ہوتا، انہیں انبیاء علیہم السلام کی احادیث میراث میں ملتی ہیں ۔ (الاصول من الکافی باب صفۃ العلم وفضلہ وفضل العلماء جلد 1، صفحہ 32)
مزید دو روایتیں پیش خدمت ہیں جن سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے، ان روایات کو بھی اس نے روایت کیا ہے جسے شیعہ قوم ’’صدوق‘‘ کے نام سے پکارتی ہے ۔
(1) براہیم بن علی رافعی نے اپنے باپ سے، اس نے اپنی دادی بنت ابی رافع سے روایت کیا ہے وہ کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں، ان کو اپنی کچھ میراث دے دیجیے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ حسن رضی اللہ عنہ کے لیے میری ہیبت اور بزرگی ہے اور حسین رضی اللہ عنہ کے لیے میری جرأت اور میری سخاوت۔( کتاب الخصال‘‘ از قمی صدوق، صفحہ 77،چشتی)
(2) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے دو بیٹے ہیں، انہیں کچھ عطا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن رضی اللہ عنہ کو میں نے اپنا رعب اور بزرگی دی اور حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی سخاوت اور شجاعت۔(کتاب الخصال“ از قمی صفحہ 77)
بعض متعصب شیعہ حضرات یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے باغِ فدک آپ کو اس لیئے نہیں دیا تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو مفلس و قلاش کردینا چاہتے تھے تاکہ لوگ مال و دولت کے لالچ میں ان کی طرف راغب نہ ہو جائیں ۔ ہمیں ان پر اور ان کی عقلوں پر افسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو اس آخری زمانے کے حکمرانوں جیسا سمجھتے ہیں جو دولت کے بل بوتے پر مال اور رشوت دے کر بڑے بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں۔ اگر بالفرض یہ بات بھی تھی تو مال کی وافر مقدار ان کے پاس موجود تھی، دیکھئے شیعہ عالم کلینی اس کا ذکر کرتا ہے۔ دسویں امام ابو الحسن سے روایت ہے کہ سات باغات فاطمہ علیہا السلام کے لیے وقف تھے۔ وہ باغات یہ ہیں:(۱)دلال (۲) عوف(۳) حسنی (۴) صافیہ (۵) مالامِ ابراہیم (۶) مثیب (۷) برقہ ۔ (الفروع من الکافی‘‘ ،کتاب الوصایا ،جلد ۷ ،صفحہ ۴۷، ۴۸)
اب یہ بتا ئیں جو سات باغات کا مالک ہو اس کے پاس دولت کی کمی ہوگی ؟
محترم قارئین قابلِ غوریہ بات ہے کہ : اگر باغ فدک اور اس کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تھی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اکیلی ہی اس کی وارث تو نہ تھیں، ابوبکر صدیق اور فاروق رضی اللہ عنہما کی بیٹیاں بھی اس کی وراثت میں شریک تھیں، اگر ابوبکر صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس وراثت سے محروم رکھا تو اپنی بیٹیوں کو بھی تو محروم رکھا۔ آخر اُن کی بات کوئی کیوں نہیں کرتا،ان کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ بھی زندہ تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثاء میں وہ بھی شامل تھے۔
یاد رہے یہ اعتراض کرنے والے شیعہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کے مذہب میں عورت کو غیر منقولہ جائداد اور زمین کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔ ان کے محدثین نے اس مسئلہ کو مستقل ابواب و عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔ دیکھیے کلینی نے ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے: ’’عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا‘‘ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں۔چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ : انہوں نے کہا: ’’عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔(الفروع من الکافی‘‘ کتاب المواریث ،جلد7،صفحہ 137)
ابنِ بابویہ قمی صدوق نے اپنی صحیح ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں یہ روایت بیان کی ہے : ابو عبداللہ جعفر کی روایت ان کے پانچویں امام کی روایت میسر نے بیان کی ہے کہ میں نے آپ سے (یعنی جعفر سے) عورتوں کی میراث کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے کہا: جہاں تک زمین اور غیر منقولہ جائداد کا تعلق ہے، اس میں عورتوں کی میراث نہیں۔(من لا یحضرہ الفقیہ““،کتاب الفرائض والمیراث جلد۴ ،صفحہ ۳۴۷،چشتی)
اسی طرح اور بہت سی روایات بھی بیان کی گئی ہیں جن کی بناء پر اُن کے علماء نے اتفاق کیا ہے کہ زمین اور غیر منقولہ جائداد میں عورتوں کو میراث نہیں دی جاتی ۔
اگر عورتوں کو زمین اور باغات وغیرہ کی جائیداد نہیں دی جاتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بقول ان کے کس طرح فدک کا مطالبہ کیا تھا۔ کوئی کوڑھ مغز بھی اس سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ یقینا فدک غیر منقولہ جائداد تھی۔
کیا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسلہ پر ناراض تھیں کا جواب شیعوں کے سب سے بڑے متعصب عالم مجلسی کے قلم سے پڑھیئے ، باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ:سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے: میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کے لیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا۔(حق الیقین‘‘ ،صفحہ ۲۰۱، ۲۰۲ ،ترجمہ فارسی)
مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اقتدار پر فائز ہوتے ہی ابن سباء کی نسل کی اس سازش پر ضربِ کاری لگائی ۔ امامِ شیعہ، سید مرتضیٰ علم الہدیٰ لکھتا ہے:جب فدک کے انکار کا معاملہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو آپ نے کہا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس چیز کو دے ڈالوں جس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روک لیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی حال میں برقرار رکھا۔ (الشافی‘‘ للمرتضیٰ صفحہ ۲۳۱ )( شرح نہج البلاغۃ لابنِ ابی الحدید“، جلد ۴)
حضرت امام ابوجعفر محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں کثیر النوال نے پوچھا: ’’میں آپ پر قربان جاؤں۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا حق روک کر آپ پر ظلم کیا ہے؟‘‘ یا ان الفاظ میں کہا کہ: ’’آپ کا کچھ حق تلف کیا ہے؟‘‘ آپ نے کہا: ’’ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے اپنے اس بندے پر قرآن نازل کیا جو سارے جہانوں کے لیے نذیر (ڈرانے والے) ہیں ، ہم پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔‘‘ میں نے کہا: ’’قربان جاؤں کیا میں بھی ان دونوں سے محبت رکھوں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہاں تیرا ستیاناس! تو ان دونوں سے محبت رکھ، پھر اگر کوئی تکلیف تجھے پہنچے تو وہ میرے ذمے۔(شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
ہم نے شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں شیعہ جنہیں اپنا امام مانتے ہیں (آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم) اور دیگر شیعہ نے صاف صاف یہ کہا کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےاُن پر کوئی ظلم نہیں کیا پھر یہ اجہل متعصب شیعہ کیوں ان مقدس ہستیوں پرتہمتیں لگاتے ہیں ۔؟ یا تو صآف لکھیں شیعہ مذھب کے تمام امام جھوٹے ہیں یا یہ شیعہ خود جھوٹے ہیں فیصلہ خود کیجیئے۔
امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے بھی فدک کے مسئلے میں وہی کچھ فرمایا جو آپ کے دادا مولا علی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا پڑھیئے شیعہ مذھب کی معتبر کتاب کے حوالے سے : بحتری بن حسان کے پوچھنے پر حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تحقیر و توہین کے طور پر میں نے زید بن علی علیہ السلام سے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک فاطمہ رضی اللہ عنہا سے چھین لیا، یہ سن کر آپ کہنے لگے: ابوبکر رضی اللہ عنہ مہربان آدمی تھے، وہ ناپسند کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے کسی کام میں تغیر و تبدل کریں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدک دیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟ آپ علی رضی اللہ عنہ کو لے آئیں ، انہوں نے اس بات کی گواہی دی۔ ان کے بعد ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: کیا تم دونوں گواہی نہیں دیتے کہ میں اہلِ جنت میں سے ہوں، دونوں کہنے لگے کیوں نہیں، ابو زید نے کہا: یعنی انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک ان (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو دیا تھا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور آدمی یا عورت کو بھی اس جھگڑے میں فیصلہ کرنے کا حق دار سمجھتی ہیں، اس پر ابو زید کہنے لگے: اللہ کی قسم اگر فیصلہ میرے پاس آتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔(شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲)
الحمد للہ فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے مسلہ باغ فدک کے متعلق شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں سے اس مسلہ کو علمی اور مہذب انداز میں پیش کر دیا ہے جو کچھ آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم نے فرمایا اور جو کچھ شیعہ مذھب کے معتبر علماء نے لکھا یہی اہلسنت و جماعت کا مؤقف ہے مجھے حیرت ہوتی اجہل قسم کے شیعہ ذاکرین اور سننے پڑھنے والے شیعہ حضرات آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات و ارشادات کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں اس کی وجہ صاف ہے کہ یہ جھوٹی محبت کے دعویدار ہیں صرف امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پھیلانا ان کا کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اہل اسلام کو ابن سباء یہودی کے پھیلائے ہوئے اس فتنہ و شر سے محفوظ فرمائے اور حق کو قبول کرنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔
باغِ فَدَک اور حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کا فیصلہ
محترم قارئینِ کرام : یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام کتب تواریخ اس پر شاہد ہیں کہ فدک زمانہ علوی میں بھی اسی طرح رہا جیسے صدیق و فاروق و عثمان رضی ﷲ عنہما کے دور خلافت میں تھا اور حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے بھی فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو صدیق اکبررضی ﷲ عنہ نے جاری رکھا تھا ۔
آیئے پہلے اس کے متعلق پڑھتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی طرح فدک کو استعمال میں لائے :
شیعہ عالم الدکتور سعید السَّامرّائی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی بن ابی طالب علیہ السّلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ اللہ عنہما) نے نہی کیا ۔ (شیعہ کتاب : حجج النّھج صفحہ نمبر 277)
شیعہ محقق مرتضی علی موسوی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی علیہ السّلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام شیرخدا سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : الشافی فی الامامت صفحہ نمبر 76،چشتی)
شیعہ عالم الدکتور سعید السَّامرّائی لکھتا ہے : یہ سن کر سیدہ فاطمہ علیہا السّلام نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی علیہ السّلام اور ام ایمن بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہ) بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ اے بنت پیغمبر توں نے بھی سچ کہا اے علی علیہ السّلام تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ علیہا السّلام تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرمادیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے راضی ہوگئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے عہد لیا ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) فدک کا غلہ وصول کرتے اور اہلبیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) بھی فدک کواسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان (رضی اللہ عنہ) بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی علیہ السّلام بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 266،چشتی)
شیعہ محقق لکھتا ہے : جب امر خلافت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ سے فدک کو اہلبیت رضی اللہ عنہم کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : شرح نھج البلاغہ ابن حدید جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۲)
اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے اپنے دور حکومت میں فدک غصب کرلیا تھا تو جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا فرض تھا کہ وہ فدک کو تقسیم کرتے اور اس وقت جو اس کے وارث موجود تھے ، ان کو دے دیتے اور جو ناجائز بات چلی آرہی تھی اور جو ظلم روا رکھا گیا تھا ، اس کو اپنے دور خلافت میں ختم کردیتے کیونکہ خود حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے میں کہ امام کے لئے پانچ امر ضروری ہیں :
(1) خوب وعظ کہنا ۔
(2) لوگوں کی خیر خواہی میں خوب قوت صرف کرنا ۔
(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت کو زندہ کرنا ۔
(4) سزاؤں کے حق داروں کو سزا دینا ۔
(5) حق داروں کو ان کے حقوق واپس لوٹا دینا ۔ (نہج البلاغہ مصری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 202)
اسی طرح شیعہ مذھب کی مشہور کتاب رجال کشی میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد مذکور ہے : انی اذا بصرت شیئا منکراً او قدت نارا و دعوت قنبراً ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 199،چشتی)
ترجمہ : جب میں خلافِ شریعت کام دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور قنبر کو بلاتا ہوں ۔
اسی بناء پر آپ نے ان لوگوں کو آگ میں جلا دیا تھا ۔ جو آپ کو خدا کہنے لگ گئے تھے پھر فرماتے ہیں : ولا المعطل للسنۃ فیہلک الامۃ ۔ (نہج البلاغہ صفحہ 398)
ترجمہ : امام ایسا نہیں ہونا چاہئے جو پیغمبرکے طریقے کو چھوڑ دے، ورنہ امت ہلاک ہوجائے گی ۔
لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کا تھا یہ اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے نزدیک باغِ فَدک میں صدیقی طرز عمل حق و صواب تھا اور حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ صدیقی طرز عمل کو بالکل شریعت اسلامیہ کے مطابق جانتے تھے ۔
حقیقت یہ ہے کہ شیعہ حضرات کا صدیقی خلافت میں غصبِ فَدک کا قول کرنا حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی امامت و خلافت پر شرمناک حملہ ہے ۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے باغِ فَدک غصب کرلیا تھا تو حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ پر بھی یہ الزام قائم ہوگا ۔ کہ انہوں نے فدک کو صدیقی خلافت کے دستو رپر جاری رکھ کر امت و خلافت کا حق ادا نہیں کیا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ اگر غاصب فدک ثابت ہونگے تو حضرت مولا علی مرتضیٰ رضی ﷲ عنہ غصب کے برقرار رکھنے والے ثابت ہونگے ۔ سوچئے کہ غصب کرنے والا زیادہ مجرم ہے یا غصب کو برقرار رکھنے والا ۔ اور غاصبوں کے طرز عمل کی حکومت و سلطنت کے با وجود حمایت کرنے والا ۔ (معاذ ﷲ) ۔ غرضیکہ قضیہ فدک میں جناب حضرت مولا علی الممرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا طرز عمل دنیائے شیعیت پر بہت بھاری حجت ہے ۔ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر اعتراض ہوگا تو حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر بھی حرف آئے گا ۔ پس جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ کا اراضی فدک کو اسی دستور پر رکھنا جس پر کہ جناب صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے رکھا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی حقانیت اور ان کے طرز عمل کی صحت پر دلیل قاہر ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہؑ کو باغِ فَدَک دینے سے انکار فرمادیا تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانُ ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ عُمَرُ : يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلَافَةَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ ، وَتُوُفِّيَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُ مِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْ بَقِيَ لَكَانَ أَقَلَّ . (سنن ابی داؤد الجزء الثالث حدیث نمبر 2972 صفحہ نمبر 253،چشتی)
ترجمہ اردو : مغیرہ کہتے ہیں` عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے (اہل و عیال، فقراء و مساکین پر) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر احسان فرماتے تھے، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدک مانگا تو آپ نے انہیں دینے سے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاطمہ علیہا السلام کو دینے سے منع کر دیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا (یعنی میں نے پھر وقف کر دیا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزخلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو (گھٹ کر) چار سو دینار ہو گئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی ۔
ترجمہ انگلش :
Narrated Umar ibn Abdul Aziz: Al-Mughirah (ibn Shubah) said: Umar ibn Abdul Aziz gathered the family of Marwan when he was made caliph, and he said: Fadak belonged to the Messenger of Allah ﷺ, and he made contributions from it, showing repeated kindness to the poor of the Banu Hashim from it, and supplying from it the cost of marriage for those who were unmarried. Fatimah asked him to give it to her, but he refused. That is how matters stood during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ till he passed on (i. e. died). When Abu Bakr was made ruler he administered it as the Prophet ﷺ had done in his lifetime till he passed on. Then when Umar ibn al-Khattab was made ruler he administered it as they had done till he passed on. Then it was given to Marwan as a fief, and it afterwards came to Umar ibn Abdul Aziz. Umar ibn Abdul Aziz said: I consider I have no right to something which the Messenger of Allah ﷺ refused to Fatimah, and I call you to witness that I have restored it to its former condition; meaning in the time of the Messenger of Allah ﷺ. Abu Dawud said: When Umar bin Abd al-Aziz was made caliph its revenue was forty thousand dinars, and when he died its revenue was four hundred dinars. Had he remained alive, it would have been less than it.(Chishti)
عَن المغيرةِ قَالَ: إِنَّ عمَرَ بنَ عبد العزيزِ جَمَعَ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لسبيلِه فَلَمَّا وُلّيَ أَبُو بكرٍ علم فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ثُمَّ اقْتَطَعَهَا مَرْوَانُ ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ. يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وعمَرَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد ۔ (حدیث مشکوٰۃ)
ترجمہ : روایت ہے حضرت مغیرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے مروان کی اولاد کو جمع فرمایا ۲؎ جب آپ خلیفہ ہوئے پھر فرمایا کہ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تھا جس سے آپ خرچ فرماتے تھے اور اس سے بنی ہاشم کے بچوں پر لوٹاتے تھے اسی میں سے اور اسی سے ان کی بیوگان کا نکاح کرتے تھے۳؎ اور حضرت فاطمہ نے آپ سے سوال کیا تھا کہ یہ انہیں دے دیں تو انکار فرمادیا تھا ۴؎ پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی شریف میں اسی طرح رہا حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی راہ تشریف لے گئے پھر جب ابوبکر صدیق خلیفہ بنائے گئے تو آپ نے اس میں وہ ہی عمل کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی زندگی شریف میں کرتے تھے حتی کہ آپ بھی اپنی راہ گئے پھر جب حضرت عمر ابن خطاب خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے اس میں وہ ہی کام کیے جو ان دونوں بزرگوں نے کیے تھے ۵؎ حتی کہ وہ بھی اپنی راہ گئے پھر اسے مروان نے بانٹ لیا ۶؎ پھر وہ عمر ابن عبدالعزیز کے پاس پہنچا تو میں سمجھتا ہوں کہ جس چیز کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جناب فاطمہ کو نہ دیا اس میں میرا حق نہیں کہ تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اسے اسی حال کی طرف لوٹاتا ہوں جہاں پر وہ تھا یعنی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ابوبکروعمر کے زمانہ میں ۷؎ (ابوداؤد،چشتی)۔(تاریخ الخلفاء مترجم اردو صفحہ نمبر 466 مطبوعہ پرودریسو بکس اردو بازار لاہور)
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ۱؎ خیال رہے کہ مغیرہ تین ہیں : ایک صحابی،دو تابعی مغیرہ ابن شعبہ صحابی ہیں جن کے حالات بارہا بیان ہوچکے اور اکثر صرف مغیرہ کہنے سے یہ ہی مراد ہوتے ہیں۔دوسرے مغیرہ ابن زید موصلی یہ تابعی ہیں۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ منکرالحدیث ہیں۔تیسرے مغیرہ ابن مقسم کوفی نابینا تھے،فقہی ومتقی تھے،۱۳۳ھ میں ان کی وفات ہوئی۔یہاں یہ تیسرے مغیرہ مراد ہیں نہ کہ مغیرہ ابن شعبہ صحابی کیونکہ حضرت مغیرہ صحابی کا انتقال ۵۰ھ پچاس ہجری میں ہوا اور عمر ابن عبدالعزیز ۹۹ ننانوے ہجری میں والی بنے تو یہ واقعہ حضرت مغیرہ صحابی کیسے بیان کرسکتے ہیں۔(مرقات)مگر حضرت شیخ کو یہاں سخت دھوکا لگا کہ وہ مغیرہ ابن شعبہ فرماگئے،یہاں تیسرے مغیرہ یعنی ابن مقسم کوفی مراد ہیں۔
۲؎ آپ عمر ابن عبدالعزیز ابن مروان ابن حکم ہیں،قرشی ہیں،اموی ہیں،تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابوحفص ہے،آپ کی والدہ لیلی بنت عاصم ابن عمرابن خطاب ہیں یعنی حضرت عمرفاروق کی پوتی،سلیمان ابن عبدالملک کے بعد خلیفہ ہوئے، ۹۹ھ میں اور ۱۰۱ ایک سو ایک میں وفات پائی،مدت خلافت کل دو سال پانچ مہینہ،عمر شریف چالیس سال ہوئی یا اس سے بھی چند ماہ کم،متقی زاہد شب بیدار،بہت ہی خوفِ خدا رکھنے والے بزرگ تھے،جب آپ کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے آپ کے زمانہ خلافت کے حالات پوچھے گئے تو فرمانے لگیں کہ خلیفہ بننے کے بعد کبھی غسل جنابت نہ کیا،رات کا اکثر حصہ آہ وزاری میں گزارتے تھے۔
۳؎ یعنی باغ فدک کی آمدنی سے حضور انور یہ کام کرتے تھے اولًا اپنے گھر بار پر خرچ،پھر فقراءواقارب پر خرچ فرماتے۔یعود کے معنی ہیں باربار ان پر خرچ فرمانا یہ فرق ہے عائدہ اور فائدہ کے درمیان،فائدہ ایک بارنفی اور عائدہ بار بارنفی۔
۴؎ یعنی حضرت فاطمہ زہرا نے حضور کی زندگی پاک میں باغ فدک حضور سے مانگا۔آپ نے تملیک سے انکار فرمادیا،حضور چاہتے تھے کہ باغ میرے بعد وقف رہے کیونکہ حضرات انبیاء کرام کا متروک مال وقف ہوتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا حتی کہ حضرت علی نے بھی اسے اپنی خلافت میں تقسیم نہ فرمایا۔
۵؎ یعنی حضرت ابوبکرصدیق اور عمر فاروق نے صرف متولی ہونے کی حیثیت سے اس باغ کی آمدنی کا انتظام فرمایا،کسی نے اسے اپنی ملکیت قرار نہ دیا۔حضرات امہات المؤمنین نے عثمان غنی کو حضرت صدیق اکبر کے پاس طلب میراث کے لیے بھیجنا چاہا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے منع فرمادیا وہ حدیث سنا کر کہ حضرات انبیاءکرام کی میراث تقسیم نہیں ہوتی۔(دیکھو اشعۃ اللمعات میں اس حدیث کی شرح)جناب فاطمہ زہرا نے صدیق اکبر سے میراث مانگی تو آپ نے وہ ہی حدیث سناکر تقسیم میراث سے انکار فرمادیا جسے حضرت زہرا نے قبول فرمایا اور اس کے متعلق کبھی ذکر تک نہ کیا ، کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ سرکار فرمان مصطفی سن کر ناراض ہوتیں۔فغضبت کے معنی ہیں کچھ اور ہیں جو ان شاءاﷲ اپنے مقام پر بیان ہوں گے بہرحال یہ باغ وقف رہا ۔
۶؎ یعنی مروان ابن حکم نے اپنے دور حکومت میں باغ فدک پر اپنے آپ میں تقسیم کرلیا کہ کچھ حصہ اپنے پاس رکھا کچھ اپنے عزیزوں کو دیا یہ ہی صحیح ہے۔مرقات نے فرمایا کہ مروان کی یہ تقسیم خلافت عثمانی میں ہوئی محض غلط ہے۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت عثمان و علی زندہ ہوں اور مروان کی یہ حرکت دیکھ کر خاموش رہیں اور حضرت علی اپنے دور حکومت میں اس کی یہ تقسیم قائم رکھیں مرقات نے یہ سخت غلطی کی ہے۔اشعۃ اللمعات نے یہ ہی فرمایا کہ مروان کی یہ حرکت اپنے دور حکومت میں تھی۔خیال رہے کہ مروان ابن حکم حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دادا ہے،یہ زمانہ نبوی میں پیدا تو ہوا مگر حضور کے دیدار سے محروم رہا کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کے باپ حکم کو مدینہ سے طائف نکال دیا تھا،یہ اس وقت بہت کم سن تھا خلافت عثمان میں یہ مدینہ منورہ آیا لہذا مروان صحابی نہیں ۔
8۷؎ یعنی اس باغ میں میرا کچھ حصہ نہیں یہ اسی طرح وقف رہے گا جیسے ان حضرات کے زمانہ میں وقف تھا۔چنانچہ آپ نے تمام بنی امیہ سے وہ باغ واپس لے کر ویسے ہی وقف قرار دے دیا۔یہ عدل و انصاف آپ کے انتہائی تقویٰ،طہارت خوفِ خدا کی دلیل ہے۔ خیال رہے کہ حضرت عمر نے اپنی خلافت میں باغ فدک حضرت علی و عباس کی تولیت میں دے دیا تھا ، یہ دونوں حضرات متولی تھے نہ کہ مالک ، پھر ان دونوں نے اس کی تقسیم چاہی تو جناب فاروق نے فرمایا کہ تقسیم کیسی یہ تمہاری ملکیت نہیں صرف تولیت ہے ، یہ قصہ بخاری شریف وغیرہ میں بہت تفصیل سے مذکور ہے ۔ خیال رہے کہ حضرت علی و عباس نے ملکیت کی تقسیم نہ چاہی تھی بلکہ تولیت کی تقسیم کی خواہش کی تھی حضرت عمر نے اس کو بھی قبول نہ فرمایا تاکہ آگے چل کر یہ تقسیم ملکیت کا ذریعہ نہ بن جائے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا متروکہ مال سارے مسلمانوں کے نفع پر خرچ ہوگا مگر اس کا انتظام یا بادشاہ کرے گا یا جسے بادشاہ اسلام مقرر فرمادے ۔ (مراۃ شرح مشکوٰۃ جلد نمبر 5 حدیث نمبر 4063)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
خارجی اور ناصبی
خارجی اور ناصبی وہ لوگ تھے جو حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مرید و معتقد تھے جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
-
شاہ است حسین بادشاہ است حسین شعر پر تحقیقی نظر محترم قارئینِ کرام : اس رباعی کو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا...

