Wednesday, 29 August 2018

گستاخ رسول مسلمان ہوکر بھی کافر اور گستاخِ رسول کی سزا صرف موت ہے

























توہین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم میں قائل کی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا

توہین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم میں قائل کی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا

ناظرین کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ توہینی عبارات پڑھتے ہوئے یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں کہ قائل کی نیت توہین کی ہے یا نہیں؟ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی شان میں توہین آمیز الفاظ بولتے وقت نیت کا اعتبار نہیں ہوتا اور کلمۂ توہین بہرصورت توہین ہی قرار پاتا ہے بشرطیکہ قائل کو یہ علم نہ ہو جائے کہ یہ کلمہ کلمۂ توہین ہے یا یہ کلمہ توہین کا سبب ہو سکتا ہے تو ایسی صورت میں بغیر نیت توہین کے بھی اس کلمے کا بولنا یقینا موجب توہین ہو گا۔ دیکھئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کو بہ نیت تعظیم راعنا کہہ کر خطاب کیا کرتے تھے لیکن یہودی چونکہ اس کلمہ کو حضور کے حق میں بہ نیت توہین استعمال کرتے تھے یا ادنیٰ تصرف سے اس کو کلمۂ توہین بنا لیتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو راعنا کہنے سے منع کر دیا اور اس حکم کے بعد اس کلمہ کا حضور کے حق میں بولنا توہین اور موجب عذاب الیم قرار دے دیا۔ معلوم ہوا کہ ابنائے زمانہ کی رکیک تاویلوں سے ساخت نبوت بہت بلند و بالا ہے اور مؤولین کی من گھڑت تاویلات ان کو توہین کے جرم عظیم سے بچا نہیں سکتیں ۔

توہین کا دارو مدار واقعیت پر نہیں ہوتا : بعض لوگ توہین کو واقعیت پر موقوف کرتے ہیں حالانکہ توہین و تنقیص کا تعلق الفاظ و عبارات سے ہوتا ہے۔ بسا اوقات کسی واقعہ کو اجمال کے ساتھ کہنا موجب توہین نہیں ہوتا لیکن اسی امر واقعہ میں بعض تفصیلات کا آ جانا توہین کا سبب ہو جاتا ہے اگرچہ ان تفصیلات کا بیان واقعہ کے مطابق بھی کیوں نہ ہو۔ ملاحظہ فرمایئے شرح فقہ اکبر مطبوعہ مجتبائی ص ۶۴ بار سوم ۱۹۰۷ء میں ہے

عالم میں کوئی شے ایسی نہیں جس کے ساتھ ارادہ الٰہیہ متعلق نہ ہو اور اس بناء پر اگر یہ کہہ دیا جائے کہ تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی مراد (یعنی ارادہ کی ہوئی) ہے تو اس میں کوئی توہین نہیں لیکن اگر اسی واقعہ کو اس تفصیل سے کہا جائے کہ ظلم، چوری، شراب خوری اللہ تعالیٰ کی مراد ہے تو اگرچہ یہ کلام واقعہ کے مطابق ہے لیکن ظلم و فسق وغیرہ کی تفصیلات میں آ جانے کے باعث خلافِ ادب اور توہین آمیز ہو گا۔ اسی طرح بدلیل آیۂ قرآنیہ ’’اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ‘‘ یہ کہنا بالکل جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا خالق ہے لیکن ’’اَللّٰہُ خَالِقُ الْقَاذُ وْ رَاتٍ وَغَیْرِہَا‘‘ (اللہ تعالیٰ گندگیوں اور دوسری بری چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے) کہنا جائز نہیں کہ ذلیل اور رذیل اشیاء کی تفصیل ابہام کفر کی وجہ سے یقینا موجب توہین ہے۔ (ملخصاً شرح فقہ اکبر مطبوعہ مجتبائی ص ۶۴ بار سوم ۱۹۰۷ء )(ماخوذ : الحق المبین استاذی المکرّم غزالئ زماں قبلہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)


ہولو کاسٹ ڈرامہ یا حقیقت ؟ مظلوم مسلمان اور تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم


ہولو کاسٹ ڈرامہ یا حقیقت ؟ مظلوم مسلمان اور تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم

1933 میں یورپ میں یہودیوں کی آبادی 90 لاکھ سے زائد تھی۔ یورپ کے بیشتر یہودی ایسے ملکوں میں رہتے تھے جن پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی نے یا تو قبضہ کر لیا یا پھر اُنہیں اپنے زیرِ اثر کر لیا۔ جرمنوں اور اُن کے اتحادیوں نے 1945 تک یورپ کے ہر تین میں سے تقریباً دو یہودیوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ اقدام یورپی یہودیوں کے قتلِ عام پر مبنی نازی پالیسی کا حصہ تھا جسے اُنہوں نے فائنل سولیوشن یعنی "حتمی حل" سے موسوم کیا تھا۔

1933 میں یورپ میں یہودیوں کی آبادی 90 لاکھ سے زائد تھی۔ یورپ کے بیشتر یہودی ایسے ملکوں میں رہتے تھے جن پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی نے یا تو قبضہ کر لیا یا پھر اُنہیں اپنے زیرِ اثر کر لیا۔ جرمنوں اور اُن کے اتحادیوں نے 1945 تک یورپ کے ہر تین میں سے تقریباً دو یہودیوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ اقدام یورپی یہودیوں کے قتلِ عام پر مبنی نازی پالیسی کا حصہ تھا جسے اُنہوں نے فائنل سولیوشن یعنی "حتمی حل" سے موسوم کیا تھا۔ اگرچہ نازیوں نے یہودیوں کو جرمنی کیلئے سب سے بڑا خطرہ تصور کیا تھا اور وہ نازی نسلی امتیاز کا بنیادی نشانہ بنے مگر نشانہ بننے والے دوسرے افراد میں دو لاکھ کے لگ بھگ روما خانہ بدوش بھی تھے۔ جرمن نسل سے تعلق رکھنے والے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور کم از کم دو لاکھ افراد بھی جو اداروں کی طرز پر قائم مراکز میں رہائش پزیر تھے، یوتھینیسیا پروگرام یا "رحمدلانہ موت" کے نام پر ہلاک کردئے گئے۔

ہولوکاسٹ یہودیوں سے متعلق دوسری جنگ عظیم کے دوران سبق آموزواقعات کاایک مجموعہ ہے۔ یہودی وہ قوم ہیں جن کے بارے میں دنیا کے کسی کونے میں کوئی اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔ شیکسپئر جیسے ڈرامہ نگار نے بھی ’’شائلاک‘‘نامی سود خور اور ننگ انسانیت کردارکو یہودی مذہب کا پیراہن پہنایاہے۔ قرآن مجید نے یہودیوں پرجوسب سے بڑا الزام دھرا ہے کہ وہ قاتلین انبیاء علیھم السلام ہیں اور حد تو یہ کہ ان یہودیوں نے محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادہ قتل سے بھی دریغ نہ کیا۔ دنیاپرمسلمانوں کے ایک ہزارسالہ دور اقتدارمیں یہودی بہت عافیت میں رہے اوریہ دور ختم ہوتے ہی انہوں نے اپنی سازشوں کانشانہ مسلمانوں کو ہی بنایااور فلسطینیوں کی کمرمیں چھرا جاگھونپا۔ دنیا کی ہرقوم ان کی پس پردہ ذہنیت سے خائف ہے اور انہیں اپنے سے دور رکھنا چاہتی ہے اسی لیے مغربی اقوام نے انہیں اپنے ہاں جگہ دینے کی بجائے مسلمانوں کے سر پر لا تھونپاہے۔ ان کی ذہنیت، انکی تاریخ، انکے عقائد اور انکا انجام اس قرآنی آیت کا مصداق ہیں کہ ’’ہم نے ان پر ذلت اور مسکنت مسلط کردی ہے‘‘۔ ’’ہولوکاست‘‘ یونانی الفاظ سے ماخوذایک مرکب ہے جس کا مطلب ’’مکمل طورپرنذرآتش کردینا‘‘ہے۔ اس سے مرادیہودیوں کا یہ دعوی ہے کہ کم و بیش ساٹھ لاکھ یورپی بنی اسرائیلوں کودوسری جنگ عظیم کے دوران قتل کیا گیاجس کا الزام نسل کشی کے ضمن میں نازی جرمنوں پر لگایا جاتا ہے۔ کچھ محققین کے نزدیک ’’ہالوکاسٹ‘‘سے مراد صرف یہودی مقتولین نہیں ہیں بلکہ وہ تمام مقتولین جنگ عظیم ثانی ہیں جو اتفاقی قتل نہیں ہوئے بلکہ جنہیں نازیوں نے کسی پروگرام کے تحت باقائدہ سے قتل کیا ہے جن میں دوسری اقوام کے چیدہ چیدہ لوگ، مذہبی راہنما، جنگی قیدی، ہم جنسیت کے دوران معذورہونے والے مرداور دیگر عسکری و سیاسی مخالفین بھی شامل ہیں ۔ اس تعریف کے تحت ہولوکاسٹ کے مقتولین کی تعداد ایک کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔ ان دونوں آرا میں کون سی قرین قیاس ہے ؟یہودی سچ بولتے ہیں یا دیگر محققین؟اور کیا یہودیوں نے دنیا کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے دوسرے مقتولین کو بھی اپنا تو نہیں بنا لیا؟ یہ اﷲ تعالی ہی بہتر جانتا ہے ۔ ،چشتی،
صہیونیوں کے مطابق جنگ عظیم دوم کے سالوں قبل سے یہودیوں کو سول سوسائٹی سے نابود کرنے کی منصوبہ بندیاں ہو رہی تھیں ۔ 1930کی دھائی میں ایسے ایسے قوانین بنائے گئے کہ آہستہ آہستہ یہودیوں کے معاشی، معاشرتی اور قانونی حقوق ماند پڑنے لگے اور انہیں جرمن یورپی معاشرے میں تنہاکیاجانے لگا۔ ان قوانین کا مقصدیورپ کو غیریورپیوں سے پاک کرنا تھا۔ 1933میں قوانین کا ایک مجموعہ منظور کیا گیا جن کے مطابق اہم علاقے اور اہم مناصب یہودیوں سے خالی کرالیے گئے۔ چنانچہ زرعی فارموں میں یہودی مزارعین سے لے کر کچہریوں میں یہودی وکلاء اور یہودی ججوں تک کو باہر نکال دیا گیا اور انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا۔ سکولوں ، کالجوں اور اخبارات کے دفاتر اور مختلف انجمنوں سے بھی انہیں قوانین کے تحت یہودیوں کا اخراج عمل میں آیا۔ 1935میں ہٹلر نے ایک تقریر کے ذریعے یہودیوں کو رہے سہے تمام سول حقوق سے بھی محروم کردیا۔ یہودیوں کے خلاف نازیوں کایہ آغاز انجام تھا۔ اس مقصد کی خاطرایسے کیمپس بنائے گئے جہاں یہودیوں کو غلام بناکرلے جایا جاتا اور ان سے اتنی مشقت کرائی جاتی کہ وہ تھکا کر مار دیے جاتے یا پھر بیمار ہو کر اور بھوکے رہ رہ کر مار دیے جاتے۔ بچ جانے والوں پر طبی تجربات کر کر کے انہیں معذورکردیاجاتااور پھر انہیں موت کی آغوش میں پہنچادیاجاتا۔ اس سب کے باوجود بھی اگر کچھ لوگ بچ جاتے تو نازی جرمن انہیں گیس چیمبروں میں ڈال کرہلاک کر دیتے۔ یورپ کے بعض عجائب گھروں میں نازی جرمنوں کے گیس چیمبروں کی باقیات اب بھی زائرین کے لیے رکھی گئی ہیں ۔

جنگ عظیم دوم کے دوران جرمن نازیوں نے ہالو کاسٹ کے لیے جو اصطلاح استعمال کی اس سے مراد ’’یہودیوں کے مسئلے کا آخری حل‘‘تھا، یہ اصطلاح جرمن زبان سے متعلق تھی۔ صہیونی تاریخ دانوں کے مطابق جرمنی کا ہر ادارہ یہودیوں کے اتنے بڑے قتل کے پروگرام میں ملوث تھا جرمن وزارت داخلہ اورمسیحی چرچس نے یہودیوں کا پیدائشی ریکارڈ دیا اور اس بات کی تعیین کی کہ کوکون کون سی بستی میں کون کون یہودی ہے، جرمن محکمہ ڈاک نے وہ خطوط متعلقہ حکام تک پہنچائے، جرمن وزارت خزانہ نے یہویوں کی جائدادوں کی تفصیلات مہیا کیں ، جرمن کاروباری اداروں نے یہودی تاجروں ، یہودی ملازموں اوریہودی مزدوروں کے بارے میں جامع معلومات فراہم کیں ، جرمن محکمہ مواصلات نے یہودیوں کو انکے ہلاکتی کیمپوں میں لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور ریل گاڑیاں مہیا کیں ۔ یہاں تک کہ جرمن جامعات تک نے یہودی طلبہ کو داخلہ دینے سے انکار کر دیا اور یہودی تعلیمیات واسرائیلی لٹریچرکونذرآتش کر دیا۔ یہودیوں کا قتل عام اس تمام علاقے میں ہواجو نازی جرمنوں کے زیرقبضہ تھے، جہاں اب کم و بیش 35 یورپی ممالک کی سلطنتیں قائم ہیں ۔ اس سے قبل یہاں یہودیوں کی بستیاں آباد تھیں اور 1939میں سات ملین یہودی نفوس یہاں ہنستے بستے گھروں میں آبادتھے، جن میں پانچ ملین کو یہاں قتل کردیاگیا۔ پولینڈ اورروس میں قتل ہونے والے یہودیوں کی تعداداس کے علاوہ ہے۔ دیگرافراد اگر اپنا مذہب یا رائے تبدیل کر لیتے تو انہیں قتل بچالیاجاتا تھا لیکن یہودیوں کے لیے یہ رعایت بھی نہیں تھی۔ یہودیوں کے قتل میں عورتوں ، بوڑھوں اور بچوں کے لیے بھی کوئی تخصیص نہیں تھی، قبائل کے قبائل کو قتل کردیاجاتااور انکے بچوں پر طبی تجربات کر کے توانہیں بھی موت کی وادی میں دھکیل دیاجاتا۔
اس دوران فری میسنریزکو بھی گرفتارکر کر کے ہلاکتی کیمپوں میں بھیجاگیا۔ ہٹلرکاپختہ نظریہ تھا کہ فری میسنریزبھی یہودیوں میں سے ہیں چنانچہ ان کیمپوں میں انہیں زبردستی سرخ کپڑے پہنائے جاتے اور ایک لاکھ سے دولاکھ تک کی تعدادمیں انہیں ان ہلاکتی کیمپوں میں نازیوں نے قتل کیا۔ نازی جرمن جن جن علاقوں کو فتح کرتے وہاں وہاں سے یہودیوں کو ختم کرتے جاتے یہاں تک کہ جب پولینڈ کو فتح کیاتو اتنی بڑی تعداد کے پول یہودیوں کو قتل کرنا آسان نہ تھاچنانچہ طویل غوروحوض کے بعد کم وقت اور کم لاگت میں قتل کرنے کے لیے زہریلی گیس استعمال کی گئی۔ پولینڈ کی سرزمین قتل یہود کی بہت بڑی امین ہے۔ چھ ہلاکتی کیمپوں سے شروع ہونے والاہولوکاسٹ کے پولینڈ سمیت مقبوضہ ممالک میں پندرہ ہزارسے زیادہ کیمپ بن گئے۔ ان کیمپوں میں یہود سے بدترین مشقت لی جاتی اور پھر ضرورت ختم ہونے پر انہیں قتل کردیاجاتاجبکہ بے شمار یہود دوران مشقت ہی دم توڑ دیتے۔ شروع میں یہ کیمپس شہروں سے باہر تھے لیکن ٹرانسپورٹ کے وسیع اخراجات کے باعث بعد میں ان کیمپوں کویہودی آبادیوں کے قریب ہی منتقل کردیاگیا۔ اس سے شدید ترحالات روس کے مفتوحہ علاقوں میں بھی پیش آئے۔ یہاں یہودیوں کو زندہ بھی جلایا گیااور جب گولی مارنے اور زندہ جلانے کا سامان میسر نہ آیا یا اسے مہیاکرنا مہنگاتصور کرلیاگیاتو لاکھوں یہودیوں کو روس کے شدیدترین ٹھنڈے علاقوں میں بے آب و گیاہ تنہاچھوڑ دیاگیااور یہ لوگ یخ بستہ اورجان لیواٹھنڈی ہواؤں سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس سب کے باوجود1941ء کے آخر تک روس کے صرف 15%یہودی مارے گئے تھے، اس رفتار کو تیزکرنے کے لیے ایک بار پھر وسیع پیمانے پر زہریلی گیسوں کا تجربہ کیا گیااور ظاہر ہے یہ تجربہ شہری علاقوں میں ممکن نہ تھا چنانچہ اس کے لیے شہر سے باہر بہت بڑی بڑی جگہیں بنائی گئیں جہاں یہودی نسل کو نیست و نابود کرنے کا عمل سالوں تک دہرایاجاتا رہا۔
یہودیوں نے اس سارے ظلم و ستم کے خلاف آواز بھی بلند کی لیکن بے سود۔ کچھ کیمپوں میں نوجوان یہودیوں نے ہتھیارتک بھی اٹھائے لیکن ظاہر ہے نازی جرمن اس وقت پوری دنیاسے کنٹرول نہ ہونے والاطاقت کاطوفان تھاتو یہود اس سے کیسے جان چھڑاسکتے تھے۔ پھر ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیاکے کسی کونے سے اس وقت اورآج بھی یہودیوں کے حق میں کوئی آواز بلند نہ ہوئی۔ اس قوم نے جس برتن میں کھایا اسی میں سوراخ کیا، ہرقوم کو ڈسنے کی کوشش کی، ہرگروہ کو بلیک میل کیا، دولت کی خاطرانسانیت کو داؤ پر لگایا۔ دوسری جنگ عظیم کے اس المناک پہلو کا دوسرا تاریک ترین رخ یہ ہے کہ جنگ عظیم کے دونوں متحارب فریقوں کو سرمایافراہم کرنے والی بہت بڑی فرم یہودیوں کی ہی ملکیت تھی۔ کیااپنے ہم مذہب بلکہ ہم نسل رشتہ داروں پر اتنا بے پناہ ظلم ہونے دیکھ کر وہ سرمائے کی فراہمی بند نہیں کر سکتے تھے؟ قریب تھا کہ یہودیوں کی نسل ہی اس دنیا سے اس کرہ ارض سے نابود ہو جاتی لیکن اﷲ تعالی نے قتل انبیاء علیھم السلام، ناشکری، ذلت و مسکنت اورعبرت کے اس نشان کو قیامت تک باقی رکھناہے۔ شاید اسی حکمت کے تحت مشیت ایزدی نے انہیں فلسطین میں عارضی جگہ دی تاکہ ان کی نسل قیامت تک باقی رہے۔ اگر ان میں تھوڑی سی عقل ہوتی تواس جگہ کو غنیمت سمجھ کر امن اور سکون سے رہ لیتے، فلسطینیوں نے انہیں کھاتو نہیں جانا تھالیکن تف ہے ان کی دانش پر کہ اپنے میزبانوں پر آج بھی انہوں نے عرصہ حیات تنگ کر رکھاہے ۔

مغرب کی تاریخ کے مطابق ۔۔ ہولو کاسٹ Holocaust ۔دراصل دوسری جنگ عظیم کے دوران قتلِ عام کا شکار ہونے والے60 لاکھ یہودیوں کی جرمنی کے چانسلر ہٹلر کی نازی افواج کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت سے منسوب ہے۔
اس کو یہودیوں کی نسل کشی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ہالوکاسٹ دراصل یونانی لفظ ὁλόκαυστον سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں “مکمل جلادینا“۔
اس طرح سے لاکھوں یہودی مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے علاوہ، پولینڈ کے مشترکہ قومیت کے حامل باشندوں، غلاموں، معذوروں، ہم جنس پرستوں، سیاسی اور مذہبی اقلیتوں کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔

یہ انسانیت سوز مظالم و نسل کشی کی مہم مرحلہ وار انجام دی گئی۔ یہودیوں کو مہذب معاشرے سے الگ کردینے کی قانون سازی دوسری جنگِ عظیم سے کئی سال پہلے کی جا چکی تھی۔ خصوصی توجیہی کیمپس میں قیدیوں سے اُس وقت تک غلاموں کی طرح کام لیا جاتا تھا جب تک وہ تھکن یا بیماری کا شکار ہوکر موت کی آغوش میں نہ چلے جاتے۔ جب نازی فتوحات کا سلسلہ مشرقی یورپ میں پہنچا تو اینساٹزگروپین (جرمنی کی خصوصی ٹاسک فورس) کو یہ ہدف دیا گیا کہ یہودیوں اور سیاسی حریفوں کو بے دریغ قتل کر دیا جائے۔

یہودیوں اور رومانیوں کو سینکڑروں میل دور بنائے گئے، مقتل گاہوں پر جانوروں کی طرح کی ریل گاڑیوں میں ٹھونس کر گھیتو (قید خانہ) منتقل کردیا گیا، جہاں زندہ پہنچ جانے کی صورت میں اُنہیں گیس چیمبر کے ذریعے موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا۔ جرمنی کے تمام افسرِ شاہی اس عظیم نسل کشی میں پیش پیش تھے، جس نے اس ملک کو “نسل کشی کے اڈے“ میں تبدیل کردیا۔

یہ تو تھی مغرب کی تاریخ جس کو یہودیوں کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے بنایا گیا۔ جبکہ بہت سے تاریخ دان اس کو ایک افسانے سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ اس کا انداز ہ ذرا اس بات سے لگائیں۔

کہ آپ یورپین ممالک اور امریکہ کینڈا میں ہولوکاسٹ پر تحقیق نہیں کرسکتے۔ اور اس پر زبان درازی کرنا آپ کو جیل میں بھی بھیج سکتا ہے۔

متعدد یورپین صحافی، مصنف اور کالم نگار ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی جانب سے بیان کردہ تعداد کو صرف غلط کہنے کی پاداش میں جیلوں میں بند کردیے گئے تھے۔ ہولوکاسٹ کے خلاف زبان کھولنے والے دانشوروں کے صرف ملکی ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ حالانکہ تحقیق کا دروازہ کبھی اور کسی ملک میں بند نہیں ہوتا، لیکن ہولوکاسٹ پر تحقیق کرنا اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرنا بھی قابل تعزیر جرم قرار پائے ہیں۔

بہت سے ممالک میں ہولوکاسٹ پر زبان بندی کے حوالے سے سخت قانون سازی کی گئی، صرف یورپ کے تقریباً تین درجن ممالک میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، جن کے تحت اس بارے میں ہر نوعیت کا منفی اظہار رائے جرم ہے، جس پر قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔

برطانیہ کی لبرل پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ نے اپنے بلاگ میں صرف یہ لکھ دیا تھا کہ ’’میں ہولوکاسٹ کے دور میں یہودیوں کے لیے پیش آئے" ناقابل یقین "واقعات پڑھ کر غم زدہ ہوجاتا ہوں، لیکن یہودی جنھوں نے یہ مصائب و آلام برداشت کیے ہیں، وہ کیونکر فلسطینیوں کے خلاف مظالم ڈھا رہے ہیں۔‘‘
اس بلاگ کے بعد ڈیوڈ وارڈ پر اس قدر دباؤ بڑھا کہ اسے مجبوراً معافی مانگنا پڑی ۔
دوسری جانب ہولوکاسٹ کے حوالے سے اسرائیل کی پارلیمنٹ حکومت کو یہ اختیار دے چکی ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی،کسی بھی جگہ کوئی شخص اگر 60 لاکھ کی تعداد کو کم بتانے کی کوشش کرے،اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس ملک سے اسے نفرت پھیلانے کے جرم میں Hate Criminal کے طور پر مانگ سکتی ہے، گرفتار کرسکتی ہے،اور سزا بھی دے سکتی ہے۔

عالمی برادری نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے بغیر تحقیق کیے سخت سے سخت تر قوانین بنا دیے، لیکن کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ کیا دوسری جنگ عظیم کے وقت جرمنی میں ساٹھ لاکھ یہودی آباد بھی تھے یا نہیں ؟
اور جو آباد بھی تھے ان میں سے بیشتر کو ہٹلرکے حکم پر جنگ عظیم کے شروع ہونے سے پہلے ہی ملک بدر نہیں کردیا گیا تھا ؟
عالمی برادری کی ناانصافی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک طرف یہودیوں کے ’’افسانوی واقعہ‘‘ ہولوکاسٹ کے حوالے سے تقریباً پون صدی بعد بھی سخت قوانین نافذ ہیں، لیکن دوسری جانب اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے انھی یہودیوں کے ہاتھوں گزشتہ 66 سالوں سے مظلوم فلسطینیوں کا ہولوکاسٹ جاری ہے،انھیں تہہ و تیغ کیا جا رہا ہے، بمباری کرکے بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا جارہا ہے، ان کے گھروں کو مسمار اور ان کی زمینیں ہتھیائی جارہی ہیں، اس سب کچھ کے بعد بھی عالمی برادری کی زبانیں گنگ ہیں، آخر کیوں؟
یک طویل عرصے سے فلسطین پر قابض اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے،لیکن عالمی برادری نے اپنے لب سی لیے ہیں، آخر کیوں؟
عالمی برادری کہاں ہے؟
یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے حوالے سے قوانین بنانے والے ممالک کیا اسرائیل سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ فلسطینیوں پر کس جرم کی پاداش میں بربریت کی تاریخ رقم کی جارہی ہے؟

فلسطینیوں کے سفاکانہ قتل عام پر اسرائیل کو نہ عالمی برادری کی کسی کارروائی کا خدشہ ہوتا ہے، نہ بڑی طاقتوں کی طرف سے کسی روک ٹوک کا اندیشہ ہوتا ہے،کیونکہ اسرائیل مغرب کا سرکش و مغرور بچہ بنا ہوا ہے، اسرائیل کو ظالمانہ کارروائیوں میں امریکا اور مغرب کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے، مغرب" صہیونیت" کے دفاع میں ہمہ وقت تیار رہتا ہے، اسی لیے مظلوم فلسطینیوں پر مظالم ڈھاتے ہوئے اسرائیل کو نہ کسی عالمی برادری کے دباؤ کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی کسی عالمی قانون کا پاس ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کا تمام قوانین سے آزاد خیال کرتے ہوئے فلسطینیوں کا قتل عام کرتا ہے۔
اور مغربی کی دو رنگی میں ایک بات یہ بھی شامل ہے کہ ہولو کاسٹ پر بات کرنا تو جرم ہے مگر ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے نبی محتشم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کی توہین کا سلسلہ مغربی ممالک نے آزادی اظہار راے کے نام پر جاری رکھا ہوا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مغربی ممالک اس گھناؤنے کھیل سے باز آجایں اس سے پہلے کہ دنیا آتشکدہ بن جاے مسلمان ہر چیز برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کی توہین ہر گز برداشت نہیں کر سکتے ۔

جـو جان مانِگو تو جان دینگے جـو مال مانگو تــو مال دینگے
مگر نا ھـوگا یہ ھم سے ھــرگز کــہ نبــی کا جاہ وجلال دینگے

ہم چڑھتے ہوئے سورج کے پیچھے اس دن کو ان آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ سرزمین فلسطین ایک بار پھر اپنے حقیقی وارثوں کے قبضہ قدرت میں ہو گی مسلمان تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم پھر متحد ہو کر بیدار ہونگے اور یہوداپنی بداعمالیوں کے باعث ایک بار پھردنیامیں ذلت و مسکنت کانشان عبرت ہوں گے ان شاء اﷲ تعالی ۔

اے اللہ مسلم امہ کے اندر اتحاد و اتفا ق پیدا کر۔ اور یہودیوں کی سازشوں سے مسلمانوں اور بالخصوص فلسطینیوں کی حفاظت فرما ۔آمین . (طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 28 August 2018

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ہولو کاسٹ

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ہولو کاسٹ

اے میرے مسلمان بھای ، بہنو اور بیٹے و بیٹیو اس تحریر کو ایک بار ضرور غور سے پڑھنا اور دیگر مسلمانوں تک پہنچانا : کئی سال سے مغربی جرائد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع ہو رہے ہیں۔ ٹیری جونز نے قرآن کریم کو جلایا۔ ایسے اقدامات پر پورے عالم اسلام میں شدید ردعمل کا اظہار ہوا ۔ اس سے توہین اسلام کرنے والوں نے کوئی اثر نہیں لیا ۔ اب انوسنس آف مسلمز کے نام سے ٹیری جونز کے تعاون سے نیکولا باسیلے نیکولا نے ایک انتہائی توہین آمیز فلم بنا ڈالی ۔ اس پر مسلمانوں میں آج پھر شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ عالم اسلام میں مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ کہیں کہیں اشتعال میں آکر مظاہرین تشدد پر بھی اتر آتے ہیں ۔ لیبیا میں تو ہجوم نے امریکی سفیر بھی مار ڈالا‘ جمعہ 21 ستمبر کو پاکستان میں بھی جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ہوئے۔ بجائے اس کے کہ مغرب‘ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے گستاخانہ فلم کی نمائش پر پابندی لگاتا اور تہذیبوں کو تصادم کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کو نکیل ڈالتا۔ اس نے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بننے والے اقدام کو آزادی اظہار کا نام دے دیا۔ بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی فلم کے خلاف ابھی احتجاج جاری ہے کہ فرانس کے جریدے چارلی ہیبڈو نے نبی پاک کے خاکے بنانے کی جسارت کی اور ساتھ ہی سپین میں بھی یہی عمل دہرایا گیا۔ ڈنمارک اور سویڈن میں چند سال قبل خاکے بنائے گئے 2004ءمیں ڈینش فلمساز میتھیو وان جوگ نے اپنی فلم میں حضور کا مذاق اڑایا۔ اس ملعون کو اس کے ہم وطن مسلمان نے جہنم واصل کر دیا تھا۔ مولی نورس نے 2010ءمیں ”محمد کے خاکے بناے دن“ منایا۔ ٹیری جونز کی قرآن جلانے کے حوالے سے خباثت بھی سامنے ہے۔ ان واقعات سمیت دیگر توہین آمیز اور گستاخانہ واقعات و اقدامات کے خلاف اہل اسلام نے ممکنہ حد تک شدید احتجاج کیا لیکن مغرب اور اس کے گستاخوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ حسب سابق انوسنس آف مسلمز کے خلاف ہمارا احتجاج اور اشتعال وقت گزرنے کے ساتھ ماند پڑتا چلا جائے گا۔ ایسی پھر کوئی جسارت ہوئی تو ہم پھر سڑکوں پر ہوں گے ۔ اس کا کوئی مستقل حل بھی ہے کہ گستاخوں کی زباں بندی کی جا سکے ؟ ہاں بالکل ہے ذرا غور سے پڑھیے گا : عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دعویداروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتباع رسول بھی کریں۔ اتباع کے بغیر عشق کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ آج مسلمانوں کو تین محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ جس طرح کا احتجاج ہم کرتے ہیں اس کا گستاخوں پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ مغرب کی بنائی ہوئیں 70 فیصد کاسمیٹکس عرب ممالک کی خواتین استعمال کرتی ہیں ہمارے ہاں مغربی مشروبات و ملبوسات اور دیگر اشیاءکا استعمال عام ہے۔ ان کا بائیکاٹ کر دیں تو مغرب کی معیشت ہل کر رہ جائے گی ۔ پھر وہ آزادی اظہار کے دوہرے معیار پر نظرثانی کے لئے بھی مجبور ہو جائیں گے ۔ 57 اسلامی ممالک کے سربراہان عالمی برادری پر مذہب اور مذہبی رہنماؤں کی توہین کو جرم قرار دینے کے لئے دباؤ ڈالیں ۔ اسرائیل نے 13 مغربی ممالک میں ہولو کاسٹ پر تحقیق اور اس پر اظہار کو جرم قرار دلوا لیا حالانکہ پوری دنیا میں یہودیوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ نہیں جبکہ مسلمان ڈیڑھ سو کروڑ ہیں ۔ 57 اسلامی ممالک متحد ہو کر انفرادی طور پر ہر ملک پر دباؤ ڈالیں تو ممکن نہیں کہ وہ توہین رسالت کو جرم قرار نہ دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے علماءاور دانشوروں کو دلائل کے ساتھ مغرب کو قائل کرنے کے لئے کمربستہ ہونا چاہئے ۔ علماء و فضلا کے دلائل کا اثر اسلام کے لئے خبث رکھنے والوں پر تو نہیں ہونے والا‘ البتہ ایسے غیر مسلم جن تک اسلام کی تعلیمات نہیں پہنچ پائیں وہ یقیناً ایسی کاوش سے مستفید و مستفیض ہو سکتے ہیں ۔(چشتی)

تحقیقات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے لیکن ہولو کاسٹ پر تحقیقات کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ آسٹریا بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے 1992ءمیں ہولو کاسٹ پر قانون سازی کی۔ برطانوی مصنف ڈیوڈ ارونگ نے 1989ءمیں ہولو کاسٹ کو افسانہ قرار دیا تھا۔ وہ 2006ءمیں آسٹریا گیا تو اسے تین سال کی سزا سنا دی گئی ۔ بدبخت نیکولا باسلے نیکولا نے ڈیڑھ سو کروڑ مسلمانوں کے دل جلائے اور دکھائے‘ اس پر اس سے کوئی بازپرس نہیں ہوئی اس نے اپنا نام تبدیل کیا لیکن امریکی حکومت کو نہ بتانے پر اسے جیل بھجوا دیا گیا ۔

ہولوکاسٹ (HoloCaust) کی اصطلاح دراصل یونانی لفظ (holókauston) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب “مکمل جلادینا“ یا راہِ خدا میں جان قربان کردینا ہے۔یہودی کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوجیوں نے تقریبا "ایک کروڑ" یہودیوں کو زندہ جلادیا تھا۔اور وہ اس کو ہولوکاسٹ (HoloCaust) کہتے ہیں ۔ یہودیوں نے قانون بنوادیا ہے،جس کی وجہ سے مغرب ميں اگر کوئي شخص ہولو کاسٹ کي ماہيت پر بولنے اور اس پر تحقيق کرنے کي کوشش کرتا ہے تو اس پر عدالتي کاروائي ہوتي ہے اور نتيجے ميں نقد جرمانہ يا پھر قيد کي سزا بھي اس کو بھگتنا پڑتي ہے ۔ اس وقت يورپ کے بہت سے ملکوں ميں ہولو کاسٹ کے انکار يا اس کو مبالغہ آميز قرار ديئےجانے کو ايک جرم سمجھا جاتا ہے ۔

آسٹريا ، بلجيم ، جمہوريہ چک، فرانس ، جرمني ، ليتھوانيا ، پولينڈ ، رومانيہ ، سلواکيہ اور سوئزرلينڈ وہ يورپي ممالک ہيں جن ميں ہولو کاسٹ کے انکار کو جرم سمجھا جاتا ہے ۔اسي لئے اب تک ان ملکوں ميں بہت سي علمي سياسي اور سماجي شخصيات کو ہولوکاسٹ پر تنقيد کرنے کي وجہ سے سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ سن دوہزار چھے ميں بھي برطانيہ کے مورخ ڈيوڈ ارونگ کو ہولو کاسٹ پر تنقيد کرنے کے جرم ميں تين سال قيد کي سزا سنائي گئي تھي ۔
اسي طرح فرانسيسي محقق راجر گارودي کو بھي ہولو کاسٹ پر تنيقد کرنے کي بنا پر سزائے قيد کا سامنا کرنا پڑا ۔ جبکہ سوئيس مورخ يورگن گراف بھي اسي جرم ميں قيد کي سزاکے مستحق قرار پائے مگر وہ سوئزرلينڈ سے فرار ہو گئے ۔ ہولو کاسٹ نازی حکومت اور اس کے حلیفوں کی طرف سے تقریبا چھ ملین یہودیوں کاایک منظم ، نوکرشاہی اور ریاست کی طرف سے کیا جانے والا ظلم و ستم اور قتل عام ہے ۔

لفظ "ہولو کاسٹ" ایک یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب "آگ سے قربانی" ہے۔ جنوری 1933 میں اقتدار میں آنے والی نازی پارٹی یہ سمجھتی تھی کہ جرمن "نسلی طور پر اعلی" ہیں اور یہ کہ یہودی، جنہیں "کمتر" سمجھا جاتا تھا، جرمن نسلی حلقوں کے لئے خطرہ پیش کرتے تھے۔ جرمن حکام نے "نسلی کمتری" کی وجہ سے دوسرے گروپوں کو بھی اپنا ہدف بنایا: روما (خانہ بدوش), معذور اشخاص اور کچھ دوسرے سلاویک افراد(پولش, روسی اور دوسرے)۔ دوسرے گروپوں کو سیاسی، نظریاتی اور طرز عمل کی بنیادوں پر اذیت دی گئی۔ ان افراد میں کمیونسٹ، شوشلسٹ، یہوا کے گواہ اور ہم جنس پرست شامل تھے ۔ نازی حکومت کے ابتدائی سالوں میں نیشنل سوشلسٹ حکومت نے اصلی اور مفروضہ سیاسی اور نظریاتی مخالفین کو نظربند کرنے کے لئے حراستی کیمپ قائم کیا۔ جون 1941 میں سوویت یونین کے حملے کے بعد آئن سیٹزگروپن (موبائل قاتل یونٹ) جرمن لائنز کے پیچھے یہودی، روما، سوویت اور کمیونسٹ افسران کو وسیع پیمانے پر مارنے کے لئے متحرک رہے۔ جرمن ایس ایس، پولیس اور فوجی یونٹوں نے ایک ملین سے زیادہ یہودی مردوں، عورتوں، بچوں اور دوسرے لاکھوں افراد کو قتل کیا۔ 1941 اور 1944 کے درمیان جرمن نازی حکام نے جرمنی، مقبوضہ علاقہ جات اور اپنے ایکسز کے کئی حامی ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں یہودیوں کو ملک بدر کر کے یہودی بستیوں اور مراکز قتل میں بھیج دیا جنہیں قلع قمع کے کیمپ بھی کہا جاتا تھا، جہاں انہیں خصوصی طور پر تیار کردہ زہریلی گیس کی سہولتوں میں ہلاک کر دیا گیا۔ 1933 میں یورپ میں یہودی تعداد نوے لاکھ سے زیادہ تھی. 1945 تک جرمنوں اور ان کے اتحادیوں نے یورپ کے یہودیوں کو قتل کرنے کے "حتمی حل" کے لئے ہر تین میں سے دو یورپی یہودیوں کو مار ڈالا تھا ۔(چشتی)

کیا ہمارا مذہب ان کے ہاں اتنا سستا اور بے وقار ہے ؟ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اب ہمارے پاس قطع تعلق یعنی بائیکاٹ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ۔ ان کے بنائے ہوئے لباس‘ کاسمیٹکس‘ بوتلوں اور فاسٹ فوڈ سمیت ہر چیز کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی پرامن احتجاج بھی جاری رہنا چاہئے ۔ عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہونے کے دعویدار دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ وہ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے پر تیار ہیں؟ جواب ہاں میں ہے تو یقیناً آپ نے تحفظ ناموس رسالت کے لئے اپنا کردار ادا کر دیا اور سچے عاشق رسول بھی ثابت ہو گئے ۔ لیجئے آج سے اور ابھی سے بسم اللہ کیجئے ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

کیا اہل سنت نے امام اہل سنت کو خدا کہا ہے

کیا اہل سنت نے امام اہل سنت کو خدا کہا ہے

معاذاللہ جھوٹوں پر اللہ کی کروڑوں لعنت تفصیلی جواب ملاحظہ کریں

اسلام دشمن عناصر اہل بدعت وہابیہ نجدیہ اہل سنت اور ان کے زرخرید غلام اہل سنت پر اعتراض کرتے ہیں کہ معاذ اللہ سنیوں نے اعلی حضرت کو خدا کہا ہے جو کہ بہت بڑا جھوٹ بہتان عظیم ہے جن اشعار پر وہ اعتراض کرتے ہیں اس میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں شاعر تو کہہ رہا ہے یہ دعا یہ دعا یہ دعا ہے …تیرا ور سب کا خدا احمد رضا..تیری نسل پاک سے پیدا کرئے…کوئی ہم رتبہ تیرا احمد رضا شاعر امام اہل سنت امام احمدرضا کو مخاطب ہوکر کہہ رہا ہے اللہ تعالی سے دعا کر رہا ہے ائے احمد رضا جو تیرا اور سب کا خدا ہے وہ تیری نسل پاک سے کوئی تجھ جیسا ہم رتبہ شخص پیدا کرئے۔ اس دعا کو جاہلوں نے نہ سمجھا اگر اردو اتنی ہی کمزور ہے تو آو بریلی شریف ہم تمہیں عقیدہ اور اردو دونوں سیکھادیں گے اہل سنت کے دشمنوں کو ثاہئے تھا کہ وہ پہلے اپنے گھر کی خبر لیتے حسین احمد ٹانڈوی کے مر کر ٘مٹی میں ملنے کے بعد دیوبندیوں نے اسے خدا مانا ہے اور مولوی ذکریا کی کتاب میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے حوالے سے دو شعر لکھے گئے ہیں جو اُنۃوں نے اپنے پیر کے مزار پر کتبہ کروایا تھا لکھا ہے جس کو ہوئے شوق خدا۔۔ ان کے مرقد کی زیارت کو جا دیکھتے ہی اس کے مجھ کو ہے یقین۔۔۔ اس کو ہو دیدار رب العالمین اب دیوبندی ہمت کریں اور اپنے ان بزرگوں پر فتوی لگائیں ۔









دیوبند کے معنیٰ خوراک ان ہی کی زبانی

دیوبند کے معنیٰ خوراک ان ہی کی زبانی

دائرہ المعارف الاسلامیہ کےمطابق یہاں درختوں کے ایک جھنڈ کے درمیان گھرا ہوا ایک دیوی کا مندر ہے۔جس کے پیش نظر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دیوبند کو دیوی بن (دیوی کا جنگل) کی بگڑی ہوئی شکل تصور کرنا چاہیے۔(دائرہ المعارف الاسلامیہ،جلد 9،طبع پنجاب یونیورسٹی لاہور)

اس بستی کا پرانا نام دیہی بن یعنی دیوی کا جنگل تھا۔(اترپردیش اتحاس،جلد1)

فیروزاللغات (فارسی قدیم) میں ہے کہ ’’دیوبند‘‘ کا لفظ سب سے پہلے قارون کےلیے استعمال ہوا یہ اسکا لقب تھا اور ایران کے بادشاہ جمشید کےلیے بھی یہ لقب پکارا گیا اور ’’دیو‘‘ شیطان کےلیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔(فیروز اللغات، فارسی قدیم)

محترم قارئین : دیوبند تاریخی اعتبار سے شیطانوں اور دیوؤوں کا ٹھکانہ تھا۔جس کو دیوبندی اکابر نے بسروچشم قبول کرلیا۔دیوبندی حضرات بڑےفخریہ طور پر کہتے ہیں کہ ہمارا مسلک دیوبند ہے تو مطلب تو واضح ہے کہ یو لوگ اپنا انتساب کھلے الفاظ میں شیطانوں سےکرتے ہیں ۔


دیو کے معنی شیطان

بند کے معنی قیدی

تو دیوبند کا معنیٰ ہوا شیطان کے قیدی

شیطان کے قیدی کی خوراک کی کہانی خود ان کے بانی کی کتاب کی زبانی کتاب کا نام
ملفوظات حکیم الامت مصنف کا نام حکیم الامت دیوبندعلامہ اشرف علی تھانوی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 322) ۔ ایک آدمی پاخانہ کھایا کرتا تھا منع کرنے سے کہتا ہے جب یہ میرے ہی اندر تھا اب اندر چلا جاوے تو کیا ہرج ہے تھانوی کہتا ہے یہ عمل بھی عقلیات میں ہو سکتا ہے ۔

(معاذاللہ)

فتاوا دارالعلوم دیوبند افادات مفتی عزیزالرحمن عثمانی حسب ہدایت قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند
ترتیب وتخریج مولانا محمد ظفیرالدین جلدنمبر 6 مسائل متفرقات صفحہ نمبر 409 سوال نمبر /268 کسی رنڈی یا ہندو کی بھیجی ہو افطاری سے روزہ افطار کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : مولوی زامن علی جلال آبادی کی رنڈیاں مرید تھیں تو رنڈی عورت کا پکا کھانا جائز ہے اور ہندوں سے مولانا تھانوی کو پیسے ملتے تھے تو ہندو عورت کا پکا کھانا جائز چاہے وہ ذمی ہو یا غیر ذمی

کتاب کا نام اکابر دیوبند کے ایمان افروز واقعات صفحہ نمبر 124 مصنف کا نام مولانا انور بن اختر کاشمیری
ہمارے مولانا الیاس کاشمیری سابقہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند مرنے کے بعد مولانا کاشمیری کے منہ مبارک سے دودھ نکل پڑا کفن دینے کے بعد ہم نے پیا تو ایسے لگ رہا تھا جیسے بھینس کا تازہ دودھ نکل رہا ہے ۔

مردے کے منہ کی جھاگ پینے والو

جس قوم کو دودھ اور جھاگ کے فرق کا پتا نہیں
اس کے منہ میں گیارویں کی کھیر کیسے جاۓ گی

کوا دیوبندیوں کی اہم خوراک ہے

قطب العالم دیوبند علامہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں مجھے کیا معلوم کوا کھانے میں اللہ نے اتنا اجر رکھا ہے ۔ (تذکرۃ الرشید جلد دوم صفحہ 64 )

قطب العالم دیوبند نے کوا کھانا حلال ہے کا فتویٰ دیا جب مخالفت میں فتوے آئے تو کہا مجھ کو کیا معلوم اللہ نے کوا کھانے میں اتنا اجر رکھا ہے ۔ (تذکرۃ الرشید حصّہ اوّل صفحہ 64 قدیم)

میلاد و شب برات کے کے حلوہ کا مذاق اڑانے والو حلوہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی پسند ہے جب اس کا مذاق اڑاؤ گے تو یہ کوے ہی کھانے نصیب ہونگے

اہم بات قطب العالم دیوبند نے اللہ پر بہتان باندھا کہ کوا کھانے میں اللہ نے اجر رکھا ہے دیوبندیوں کو چیلنج قرآن و حدیث میں کہا اللہ نے کوا کھانے پر اجر بیان فرمایا ہے ؟

امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :یہ کوّے کہ ہمارے دیار میں پائے جاتے ہیں اور اُلّو یہ سب حرام ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 320 جدید) ۔ (طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 27 August 2018

دیوبندیوں کا حاجت روا ، غوث اعظم ، دستگیر اور دیوبندی مولوی کے وسیلہ سے دعا


دیوبندیوں کا حاجت روا ، غوث اعظم ، دستگیر اور دیوبندی مولوی کے وسیلہ سے دعا

ایصال ثواب جائز،دیوبندی پیروں کے وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز، دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔ ( فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)

قطب العالم دیوبند غوث اعظم ہے (سب سے بڑا فریاد رس) قطب العام دیوبند نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ثانی ہے ہے ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 4 از قلم شیخ الہند دیوبند محمود حسن )
دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء:اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات روحانی و جسمانی گیا۔(مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136) کیوں جی یہ شرک نہیں ہے ؟؟
ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز۔ تذکرۃ الرشید جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 2) کیوں جی دیوبندیو یہاں شرک ہوا کہ نہیں ؟
اگر یہی الفاظ مسلمانان اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اور اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کےلیئے استعمال کرتے ہیں تو شرک کے فتوے مگر اہنے مردہ مٹی میں مل جانے اور گل سڑ جانے والے مولوی کےلیئے یہ سب کچھ جائز ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟ اور اب تک کسی دیوبندی عالم اور پر جوش موحد نے اس کتاب پر اور لکھنے والے پر نہ کوئی فتویٰ لگایا اور نہ ہی رد لکھا آخر یہ دہرا معیار کیوں جناب اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر وہی افعال خود اپنا کر منافقت دیکھا کر تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے آخر کیوں ؟ اصل اسکن پیش خدمت ہیں فیصلہ اہل ایمان خود کریں مسلمانان اہلسنت یہ نظریات رکھیں اور کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی خود سب کچھ کریں تو جائز آخر یہ دہرا معیار و منافقت اپنا کر امت مسلمہ میں تفرقہ و انتشارکیوں پھیلایاجاتا ہے؟(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)




خارجی اور ناصبی

خارجی اور ناصبی وہ لوگ تھے جو حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مرید و معتقد تھے جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ...