Friday, 4 October 2019

معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھوتو قتل کردو کا جواب

معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھوتو قتل کردو کا جواب

محترم قارئینِ کرام : رافضی شیعہ اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی تاریخ کے حوالے سے ایک من گھڑت روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہ جھوٹ پھیلاتے ہیں کہ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھوتو قتل کردو ۔ اس طرح عظیمُ المرتبت صحابی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کی جاتی ہے ۔ رافضی شیعہ اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی روایت نقل کرتے ہیں جس کا متن اس طرح سے ہے : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم : اذا رایتم معاویہ علی منبر فاقتلوہ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان ہے جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دینا ۔

جبکہ علماء و محدثین علیہم الرّحمہ نے ان کتابوں میں اس روایت کو جھوٹی اور من گھڑت لکھا ہے اسى جھوٹ کو واضح کرنے کے لئے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
اس روایت کے متعلق محدثین و محققین علیہم الرّحمہ کا حکم دیکھیں آپ کو اس کے کذب و وضع کا اندازہ ہوجائے گا ۔

(1) ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا یہ کذب ہے ۔ (تهذيب التهذيب:8/74)

(2) عقیلی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے منکر قرار دیا ہے ۔ (تهذيب التهذيب: 2/428)

(3) ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اس کی سند میں حکم بن ظہیرنام کا راوی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینے والا ہے اور ثقہ راویوں سے گھڑی ہوئی چیزیں بیان کرتا ہے ۔ ( المجروحين:1/304،چشتی)

(4) ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے غیرمحفوظ قرار دیا ہے ۔ (الكامل في الضعفاء:2/491)

(5) ابن القیسرانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اس میں حکم بن ظہیرالفزاری ہے جو حدیثیں وضع کرنے والا ہے اس سے یہ بات عباد بن یعقوب الرواجنی نے چوری کی ہے جو غالی قسم کا رافضی ہے ۔ (معرفة التذكرة:92)

(6) ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے ۔ ( وضوعات ابن الجوزي: 2/266)

(7) امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اس میں حکم بن ظہیر پر کلام ہے ۔ (ميزان الاعتدال :1/572)

(8) علامہ ابن کثیر نے کہا یہ بلاشک جھوٹ ہے ۔ ( البداية والنهاية: 8/135)

ان کے علاوہ بے شمار اہل علم نے اس روایت کو جھوٹی قرار دیا ہے ۔ اس لئے کسی مسلمان کے لئے روا نہیں کہ اس جھوٹی بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی طرف منسوب کرے ۔ حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کتابت وحی پر امین بنایا تھا ، اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوسکتی ہے ، ان کے متعلق یہ رافضی شیعیوں کا دجل وفریب اور کذب و افتراء ہے ۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ضرور قتل کردئے گئے ہوتے ۔
ایک طرف شیعہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور بیجا حد تک اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت میں غلو کرتے ہیں اور دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مشق ستم بناتے ہیں ، لعن و طعن اور سب وشتم کرتے ہیں ۔ یہ کیسی ستم ظریقی ہے ۔
کیا آپ نے سوچا کہ رافضی شیعہ اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں کیوں دیتے ہیں ؟ اس سے متعلق امام مالک رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ شیعہ ایسی قوم ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر طعن کرنے کی کوشش کی مگر اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن وتشنیع کرنے لگے تاکہ کہنے والا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے متعلق یہ کہے برا آدمی تھا ان کے ساتھی بھی برے تھے ، اگر اچھے آدمی ہوتے تو ان کے ساتھی بھی اچھے ہوتے ۔ (صواعق المحرقہ صفحہ نمبر 1405)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رقافت نصیب ہوئی ہے ان پر طعن کرنا در اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر طعن کرنا ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِي. فَلَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيْفَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا مت کہو، پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تب بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے سیر بھر یا اس سے آدھے کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (بخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : لو کنت متخذا خليلا، 3 / 1343، الرقم : 3470،چشتی)(والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب : (59)، 5 / 695، الرقم : 3861)(وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في النهي عن سب أصحاب رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، 4 / 214، الرقم : 4658)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لاَ تَسُبُّوْا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ، لَو أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو گالی مت دو، میرے صحابہ گالی مت دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے سیر بھر یا اس سے آدھے کے برابر نہیں پہنچ سکتا ۔ (مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب تحريم سبّ الصحابة، 4 / 1967، الرقم : 2540)(والنسائي في السنن الکبری، 5 / 84، الرقم : 8309، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل أهل بدر، 1 / 57، الرقم : 161،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ ۔
ترجمہ : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سےجو بُرا ( یعنی صحابہ کو بُرا کہتا ) ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے ۔ (ترمذی، باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر ۳۸۶۶)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي ، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ'' ۔
ترجمہ : اللہ سے ڈرو ۔ اللہ سے ڈرو میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں ، ان کو میرے بعد ہدف تنقید نہ بنانا ، پس جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بنا پر ، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی بنا پر ، جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی ، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے ۔ (ترمذی، باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر ۳۶۶۲)

شریعت میں صحابی وہ انسان ہے جو ایمان کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہوا۔(اشعۃ اللمعات،ج 4،ص641)

قرآن و حدیث اور تمام شرعی احکام ہم تک پہنچنے کا واحد ذریعہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی درس گاہ کے صادق و امین اور متقی و پرہیز گار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ، اگر مَعَاذَاللہ ان ہی سے امانت و دیانت اور شرافت و بزرگی کی نفی کر دی جائے تو سارے کا سارا دین بے اعتبار ہو کر رہ جائے گا ، اس لئے اس حدیثِ پاک میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے اپنے صحابہ کی عظمت کو یوں بیان فرمایا کہ ان کی برائی کرنے سے منع فرمایا اور ان کے صدقہ و خیرا ت کی اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبولیت کو بھی ذکر فرمایا چنانچہ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي حدیثِ پاک کے اس حصّے کے تحت فقیہ و محدّث علّامہ ابن الملک رومی حنفی علیہ رحمۃ اللہ علیہ (وفات:854ھ) فرماتے ہیں : اس میں صحابہ کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہے، جمہور(یعنی اکثر علما) فرماتے ہیں:جو کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو بھی بُرا کہے اسے تعزیراً سزا دی جائے گی ۔ (شرح مصابیح السنۃ ،ج6،ص395 ،تحت الحدیث:4699،چشتی)

فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ ۔۔۔ شارحین نے اگرچہ اس کی مختلف وجوہات بیان فرمائی ہیں لیکن شارحِ بخاری امام احمد بن اسماعیل کورانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:893ھ) فرماتے ہیں : سیاقِ کلام سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ مقام نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی صحبت کے شرف کی وجہ سے ملا ہے ۔ (الکوثر الجاری ،ج6،ص442، ،تحت الحدیث:3673)

شارحِ حديث حضر ت علامہ مُظہرالدین حسین زیدانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:727ھ) اسی حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : صحابہ کی فضیلت محض”رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت“اور”وحی کا زمانہ پانے“کی وجہ سے تھی، اگر ہم میں سے کوئی ہزار سال عُمر پائے اور تمام عُمر اللّٰہ پاک کے عطا کردہ احکام کی بَجا آوری کرے اور منع کردہ چیزوں سے بچے بلکہ اپنے وقت کا سب سے بڑا عابد بن جائے تب بھی اس کی عبادت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّمکی صحبت کے ایک لمحہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتی ۔ (المفاتیح فی شرح المصابیح ،ج6،ص286 ،تحت الحدیث:4699)

حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یعنی میرا صحابی قریبًا سوا سیر جَو خیرات کرے اور ان کے علاوہ کوئی مسلمان خواہ غوث و قطب ہو یا عام مسلمان پہاڑ بھر سونا خیرات کرے تو اس کا سونا قربِِ الٰہی اور قبولیت میں صحابی کے سوا سیر کو نہیں پہنچ سکتا،یہ ہی حال روزہ ،نماز اور ساری عبادات کا ہے۔ جب مسجد ِنبوی کی نماز دوسری جگہ کی نمازوں سے پچاس ہزار گُناہے تو جنہوں نے حضورِ اکرم (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا قُرب اور دیدار پایا ان کا کیا پوچھنا اور ان کی عبادات کا کیا کہنا!یہاں قربِِ الٰہی کا ذکر ہے۔مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضراتِ صحابہ کا ذکر ہمیشہ خیر سے ہی کرنا چاہئے کسی صحابی کو ہلکے لفظ سے یاد نہ کرو۔ یہ حضرات وہ ہیں جنہیں رب نے اپنے محبوب کی صحبت کے لئے چُنا،مہربان باپ اپنے بیٹے کو بُروں کی صحبت میں نہیں رہنے دیتا تو مہربان رَبّ نے اپنے نبی کو بُروں کی صحبت میں رہنا کیسے پسند فرمایا ؟ ۔ (مراٰۃ المناجیح،ج8،ص335،چشتی)

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کا انعام حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے والد فرماتے ہیں : میں چالیس ایسے تابعینِ عظام کو ملا جو سب ہمیں صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو میرے تمام صحابہ سے محبت کرے ، ان کی مدد کرے اور ان کے لئے اِسْتغفار کرے تو اللہ پاک اُسے قیامت کے دن جنّت میں میرے صحابہ کی مَعِیَّت(یعنی ہمراہی) نصیب فرمائے گا ۔ (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ،ج2،ص1063، حدیث:2337)

شرفِ صحابیت کا لحاظ لازم ہے خوب یاد رکھئے

صحابیت کا عظیم اعزاز کسی بھی عبادت و ریاضت سے حاصل نہیں ہوسکتا لہٰذا اگر ہمیں کسی مخصوص صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی روایت نہ بھی ملے تب بھی بلاشک و شبہ وہ صحابی محترم و مکرم اورعظمت و فضیلت کے بلند مرتبے پر فائز ہیں کیونکہ کائنات میں مرتبۂ نبوت کے بعد سب سے افضل و اعلیٰ مقام و مرتبہ صحابی ہونا ہے ۔ صاحبِِ نبراس علّامہ عبدالعزیز پرہاروی چشتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یاد رہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کے صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کى تعداد سابقہ انبىائے کرام علیہم السّلام کى تعداد کے موافق ( کم و بىش) ایک لاکھ چوبىس ہزار ہے مگر جن کے فضائل مىں احادىث موجود ہىں وہ چند حضرات ہىں اور باقى صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کى فضىلت مىں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا صحابی ہونا ہی کافی ہےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم کی صحبتِ مبارکہ کی فضیلت عظیمہ کے بارے میں قراٰنِ مجید کی آیات اوراحادیثِ مبارکہ ناطِق ہیں ، پس اگر کسى صحابى کے فضائل مىں احادىث نہ بھی ہوں ىا کم ہوں تو ىہ ان کى فضىلت و عظمت مىں کمى کى دلىل نہىں ہے ۔ (الناھیۃ صفحہ نمبر 38،چشتی)

سارے صحابہ عادل ہیں صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کیلئے یہ ایک ہی آیت کافی ہے : وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔
ترجمہ : اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہسے راضی اور ان کے لئے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔ (پ11،سورہ التوبۃ :100)

علّامہ ابوحَیّان محمد بن یوسف اندلسی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:745ہجری) فرماتےہیں : وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ سے مراد تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (تفسیرالبحر المحیط،ج 5،ص96، تحت الآیۃ المذکورۃ)

یاد رہے سارے صحابَۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم عادل ہیں ، جنتی ہیں ان میں کوئی گناہ گار اور فاسق نہیں ۔ جو بدبخت کسی تاریخی واقعہ یا روایت کی وجہ سے صحابَۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم میں سے کسی کو فاسق ثابت کرے ، وہ مَردُود ہے کہ اس آیت کے خلاف ہے ۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ درج ذیل حدیثِ پاک کو دل کی نظر سے پڑھ کر عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔

حضرت عبدُ اللہ بن مُغَفَّل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ۔ میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو ا س نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بُغض رکھا تو اس نے میرے بُغض کی وجہ سے ان سے بُغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو ایذا دی اور جس نے اللہ پاک کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اس کی پکڑ فرما لے ۔ (ترمذی ،ج5،ص463،حدیث:3888)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 3 October 2019

حضراتِ امام حسن و حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح و شرائط صلح

حضراتِ امام حسن و حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح و شرائط صلح

محترم قارئین : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت بابرکت نصیب ہوئی ہے اور آپ کی فضیلت وشرافت احادیث شریفہ میں مذکور ہے ، زبان رسالت سے آپ رضی اللہ عنہ کےلئے ھادی ومھدی ہونے کی دعاء جاری ہوئی چنانچہ جامع ترمذی شریف میں ہے ؛ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔
ترجمہ : اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔ ﴿جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213﴾

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان الفت ومحبت بڑی گہری تھی ، فرمان نبوی کے مطابق خلافتِ نبوت کے 30 سال حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی چھ ماہی خلافت پر تکمیل کو پہنچے ، مسلمانوں کی خون خرابے سے بچانے کیلئے آپ نے دستبرداری حاصل کی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی جس کے نتیجہ میں بہت بڑی جنگ ٹل گئی ، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :

عن الحسن سمع أبا بكرة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر والحسن إلى جنبه ينظر إلى الناس مرة وإليه مرة ويقول " ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔
ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکرة رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم منبر شریف پر جلوہ افروز تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کبھی آپ کی طرف دیکھتے اور کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سردار ہے اور اللہ تعالی ان کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ (صحیح بخاری شریف ،کتاب فضائل الصحابة ، باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، حدیث نمبر؛ 3536،چشتی)

تاجِ صحابیت نے بڑھائی ہے اُن کی شان
سونپی حَسَن نے اُن کو خلافت کی آن بان
ہوگا نہ کم کسی سے وقارِ معاویہ (رضی اللہ عنہما)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اہل مدینہ نے خلیفہ بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سبائیوں اور فسادیوں کے دباؤ کے باوجود جنگ و جدل سے گریز کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 6 ماہ بعد آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا ۔ اللہ کے فضل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ثابت ھو گئے ،، ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔

اس طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ملت اسلامیہ کے متفقہ خلیفہ بن گئے ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ کی ایک حدیث ہے : عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔ ترجمہ : اے اللہ معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔ ﴿جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213،چشتی﴾

اس صلح کی برکت سے مسلم امہ میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور جہاد اور فتوحات کا جو سفررک گیا تھا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے دوبارہ سے شروع کیا ۔ اور برق رفتاری سے جاری رکھا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دو رخلافت میں قلات ، قندھار ، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ ، شمالی افریقہ ، جزیرہ روڈس ، جزیرہ اروڈ ، کابل ، صقلیہ (سسلی) سمیت 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔

اس صلح میں کئی معاہدے طئے کئے گئے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹے گی ۔ لیکن آپ کا وصال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہوگیا ۔ جیسا کہ ابو الحسن علی بن اثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : فارسل الی معاویة یبذل لی تسلیم الامر الیہ علی ان تکون لہ الخلافة بعدہ وعلی ان لایطلب احدا من اہل المدینة والحجاز والعراق بشیٴ مما کان ایام ابیہ وغیرذلک من القواعد فاجابہ معاویة الی ما طلب ۔ ﴿اسد الغابہ، الحسن بن علی﴾

امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت اور اس سے دست برداری

حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے ۔ چالیس ہزار اہالیان کوفہ نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی ۔ آپ چھ ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے اس کے بعد جب حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ آپ کے پاس کوفہ آئے تو مندرجہ ذیل تین شرطوں کے ساتھ آپ نے خلافت ان کے سپرد کرنا منظور فرمایا ۔

(1) بر وقت امیر معاویہ خلیفہ بنائے جاتے ہیں لیکن ان کے انتقال کے بعد امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین ہوں گے ۔

(2) مدینہ شریف اور حجاز و عراق وغیرہ کے لوگوں سے حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کے زمانہ کے متعلق کوئی مواخذہ اور مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔

(3) حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ کے ذمہ جو ہے ان سب کی ادائیگی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کریں گے ۔

ان تمام شرطوں کو حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے قبول کیا تو آپ میں صلح ہو گئی اور ﷲ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا وہ معجزہ ظاہر ہوا جو آپ نے فرمایا تھا کہ میر ایہ فرزند ارجمند مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔

حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ نے اس صلح کے بعد تخت خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لئے خالی کر دیا ۔ دستبرداری کا یہ واقعہ ربیع الاول ۔ 41ھ میں ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء)

خلافت سے دستبردار ہونا آپ کے بہت سے ہم نواؤں کو ناگوار ہوا انہوں نے طر ح طرح سے آپ پر ناراضگی کا اظہار کیا یہانتک کہ بعض لوگ آپ کو ’’عار المسلمین ‘‘ کہہ کر پکارتے تو آپ ان سے فرماتے ۔ العار خیر من النار ۔ عارنا ر سے بہتر ہے ۔

امر خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو سپرد کرنے کے بعد آپ کوفہ سے مدینہ طیبہ چلے گئے اور وہیں قیام پذیر رہے ۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ سے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں آپ پھر خلافت کے خواستگار ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت عربوں کے سر میرے ہاتھوں میں تھے یعنی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے وہ مجھ سے بیعت کر چکے تھے اس زمانہ میں ہم جس سے چاہتے ان کو لڑا دیتے لیکن میں اس وقت محض ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے خلافت سے دستبردار ہو گیا اور امت محمدیہ کا خون نہیں بہنے دیا ۔ تو جس خلافت سے میں صرف ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے دست بردار ہو گیا ہوں اب لوگوں کی خوشی کے لئے میں اسے دوبارہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ (تاریخ الخلفاء،چشتی)

کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شرائطِ صلح سے انحراف کیا تھا ؟

محترم قارئینِ کرام : شیعہ رافضی اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اس معاہدے کی مخالفت کی جوان کے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوا تھا ، جس کی ایک شق یہ تھی کہ : حضرت امیرمعاویہ اپنے بعد کسی کو خلافت نہیں سونپیں گے ، بلکہ امت مسلمہ کی طرف یہ معاملہ پھیریں گے ۔

اس بات سے قطع نظر کہ کیا حضرت امیر معاویہ حضرت حسن رضی اللہ عنہما جیسی شخصیت کے ساتھ سر عام ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں ، جنہوں نے رومیوں کے ساتھ عین جہاد کے موقع پر حضرت عمرو بن عبسہ کی زبانی ایک معاہدے کی یاد دہانی پر نہ صرف جنگ روک دی بلکہ مفتوحہ علاقہ بھی دشمن کے حوالے کیا ،نیز اس با ت سے بھی قطع نظر کہ اس وقت کی غالب اکثریت جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے سے متفق ہوگئی ، تو امت کی اکثریت کا اس رائے میں شامل ہونا خلافت کے معاملے کو امت کی طرف پھیرنا نہیں کہلائے گا ، نیز اس بات سے بھی قطع نظر کہ جن چار بنیادی صحابہ نے اس فیصلے پر اپنی اختلافی رائے دی ، انہوں نے کسی بھی موقع پر حتی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ یزید کو ولی عہد بنانا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔

ان سب باتوں سے قطع نظر معاہدے کی جس شق کو معترض اعتراض کی بنیاد بنا رہے ہیں ، یہ شق تاریخ کی بنیادی مصادر تاریخ میں ہی نہیں ہے ، حالانکہ اس میں معاہدے کی دیگر شقوں کا تذکرہ ہے ، خواہ مسعودی کی مروج الذہب ہو ، امام طبری کی تاریخ طبری ، ابن کثیر کی البدایہ ہو یا ابن اثیر کی الکامل ، ابن خلدون کی تاریخ ابن خلدون ہو یا ابن جوزی کی المنتظم ، ان میں سے کسی میں بھی یہ شق نہیں ہے ۔

یہ شق بلاذری کی انساب الاشراف میں بلا سند ذکر ہے ، اور وہاں سے مصنف الصواعق نے لیا ہے ۔

طرفہ تماشا یہ کہ اس شق کو کچھ معترضین نے متواتر کہا ، جبکہ اس کی ایک بھی صحیح سند نہیں ہے ، بلکہ اساسی مصادر میں سے ایک دو کتب میں نقل ہوئی ہے ۔ یا للعجب ۔

اس پر مستزاد یہ کہ شیعہ مصادر اور ابن عبد البر کی استیعاب نے ایک اور شق کا ذکر کیا ہے جو معترضین کی ذکر کردہ شق سے صراحتا معارض ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ اگر جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو خلافت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے گی ۔

طرفہ تماشا یہ کہ یہ شق بھی اسی شق کی طرح اوپر ذکر کردہ کسی اساسی مصدر میں شروط صلح کے ضمن میں مذکور نہیں ہے ۔ جس کا ذکر اور مختصر جواب ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں ۔

تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ دونوں متعارض شقیں سنی و شیعہ غالین کی وضع کردہ ہیں ۔ پہلی شق سے اہلسنت مناظرین اہل تشیع کو الزام دیتے ہیں کہ اگر امامت منصوص ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت میں شوری کی شرط کیوں لگائی ؟

اگر امامت اہل بیت رضی اللہ عنہم کا حق نہیں ہے اور شوری پر مبنی ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے جناب امیر رضی اللہ عنہ کے بعد اپنے لئے خلافت کو مختص کیوں کیا ؟

اس لئے غالین کی وضع کردہ بلا سند شروط سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاک دامن کو داغدار نہ کیا جائے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم شیعی مورخ ابوحنیفہ الدینوری کی کتاب ” الاخبار الطوال” میں بھی مذکورہ شرائط ندارد ۔
بلکہ انہیں کے بقول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے ساتھ جو شرائط طے کی تھیں ان میں کوئی کمی نہ کی ۔

کیا معاویہ رضی اللہ عنہ موروثی نظام حکومت کے بانی تھے اور کیا یزید کا استخلاف غیر شورائی تھا ؟

ڈاکٹر حامد محمد الخلیفہ اس ضمن میں لکھتے ہیں : رہے وہ نام نہاد اہل سنت جو اس بات کا پروپیگنڈا کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام میں ’’موروثی نظام حکومت‘‘ کے موسئسِ اول سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنھما تھے تو دراصل ان لوگوں نے حالات و واقعات کا صرف ایک زاویہ نگاہ سے جائزہ لیا ہے ، اسی یک طرفہ جائزے نے انہیں ایک ایسے صحابی رسول پر یہ تہمت لگانے پر ابھارا جن کی سیاست نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ روئے زمین کے سب سے ذہین ترین آدمی تھے اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے بعد سیاسی تدبر وشعور میں سب سے زیادہ قوت ومہارت اور دسترس رکھتے تھے ۔ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کو امر وراثت گمان کیا ہوتا تو انہیں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور دوسرے لوگوں کو اپنی رائے میں شریک کرنے کی کیا ضرورت تھی اور انہوں نے ان اکابر کے غصہ اور سختی کو کیوں برداشت کیا اور آخر یہ سب سہنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟
پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اکیلے ہی یزید کی نامزدگی کو کیوں کافی نہ سمجھا ؟ اور کیا یہی نظامِ وراثت نہیں ہوتا ؟ کہ والی کسی سے مشورہ یا رائے لیے بغیر اکیلے ہی اپنے ورثاء میں سے کسی کو اپنے بعد کے امر کا وارث قرار دے دیتا ہے ۔
پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات کے شدید متمنی کیوں تھے کہ عام قبائل عرب اور امت کے اکابر کو بھی یزید کی بیعت میں شریک کریں ؟
اور انہوں نے ہر خاص وعام ، قریب اور دُور کے آدمی سے اس بارے میں مشاورت کیوں کی ؟
کیا اس بات کو ہوا دیکر دراصل امت مسلمہ کے اکابر کی بابت بدگمانی کے زہر کو عام کرکے اعدائے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں کومضبوط کرنا مقصود ہے ؟
یوں اس شوروغوغا کا بدترین نتیجہ یہ نکلا کہ ہر بے اوقات ، جاہل ، عقل سے عاری اٹھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف محاکمہ کرنے اور ان کے خلاف عدالت قائم کرنے بیٹھ گیا اور اس کی جرأت بیجا اس حد تک جا پہنچی کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے تئیں صحیح بات کی فہمائش کرنے لگا ، حالانکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو ان عظیم ترین ہستیوں میں سے ہیں جن کے اقوال وافعال کو آج تک مشعل راہ بنایا جاتا ہے اور تاقیامت بنایا جاتا رہے گا ۔
پھر ان لوگوں کے لہجوں کی رعونت دیکھ کر یوں گمان ہونے لگتا ہے کہ غزوہ قسطنطینہ کے اصل بہادر اور شہ سوار یہی لوگ ہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مبارک دور خلافت میں لڑی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اونچے جلیل القدر کردار پر انگلیاں اٹھانے والے اور شوریٰ شوریٰ کا نام لیکر ٹسوے بہانے والے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ غل مچانے والے کہ انہوں نے شوریٰ کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا تھا ، خود کو یوں ظاہر اور پیش کرتے ہیں جیسے امت کی شیرازہ بندی کا سہرا انہی کے سر ہے اور جیسے روم کی سرکشی اور خودسری کو کچل کر خاک میں ملانے والے اور خون آشام جنگوں کے شہسوار یہی جغادری ہیں ۔۔۔
افسوس یہ حضرات یہ بات یکسر بھول جاتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو سب سے زیادہ شوریٰ پر عمل کرنے والے تھے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت شوریٰ سے ہی تعبیر تھا لیکن کوئی سچ بولنا اور انصاف کا دامن تھامنا بھی چاہے تو تب نا !! کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے انتخاب کی بابت کس کس سے مشورہ نہ کیا ؟ کس کس کے دروازے پر دستک نہ دی ؟ کیا ہر قبیلہ کی طرف وفود نہ بھیجے ؟ کیا لوگوں سے رائے نہ لی گئی اور انہوں نے اپنی آراء پیش نہ کیں ؟ کیا اقالیم و قبائل کے وفود نے آ آ کر اس مسئلہ میں شرکت نہ کی اور اپنی رضا کا اظہار کرکے برکت کی دعائیں نہ دی تھیں ؟ تاریخ کی کتابیں ان کے ذکر سے معمور ہیں ۔ ان واقعات کے تناظر میں برملا کہا جا سکتا ہے کہ یزید کا استخلاف شوریٰ سے تھا جس میں اغلبیت کی رائے ثابت ہے گو اجماعِ تام نہیں ملتا ۔۔۔ـ (سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے (مترجِم) تالیف : ڈاکٹر محمد الصلابی ڈاکٹرحامد محمد الخلیفہ ، مترجَم پروفیسر جار اللہ ضیاء صفحہ نمبرز 300 ، 301 ، 312 ، 313 مکتبہ الفرقان خان گڑھ)

نوٹ : اس موضوع پر ہم الگ سے لکھ چکے ہیں جسے اس لنک میں احباب تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید پلید کی ولی عہدی

محترم قارئینِ کرام : ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد کیوں مقرر کردیا تھا ۔

جواب : ہاں بے شک انہوں نے یزید کو ولی عہد مقرر کیا تھا اس لئے نہیں کہ خلافت ، مملکت اور حکومت کو اپنے خاندان میں بند کردیں ۔ یہ بدگمانی ہم نہیں کرسکتے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابہ کے حق میں مومن کو حسن ظن سے کام لینا چاہئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حکم ہے کہ : مومن کے حق میں خیر کا گمان کرو ۔ (مشکوۃ المصابیح)

معاذ اللہ یا تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تم کافر کہو اور اگر مومن کہتے ہو تو قرآن کریم کہتا ہے کہ مومن کے حق میں بدگمانی مت کرو میں کہتا ہوں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مومن ہیں لہٰذا ہم ان کے حق میں بدگمانی نہیں کریں گے اور جب بدگمانی نہیں کریں گے تو لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ انہوں نے اپنے خیال میں وہ بہتر سمجھ کرکیا اگرچہ اس کا نتیجہ بہتر نہیں نکلا ۔

بعض حضرات یزید کی ولی عہدی کے معاملے کو لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آڑ میں یزید کی ایسی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا قتل کوئی ظلم تھا ہی نہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اگر یزید ایسا ہی برا تھا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی برائیاں کیوں نہ دکھائی دیں ، پس ماننا پڑے گا کہ یزید بہت اچھا ہوگا اور اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہوگا ۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یزید کی ولی عہدی کے بعد واقعہ کربلا و حرا وغیرہ رونما ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ ان کا انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے کہ امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان پر یزید اور اس کی حکومت کو ڈسکاؤنٹ دینا بھی جائز نہیں کہ ان معاملات کو طاقت کے یوں اندھا دھن استعمال کے بغیر بھی حل کرنا ممکن تھا ۔ مزید تفصیل اس لنک میں دیئے گئے مکمل مضمون میں پڑھیں : https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/09/blog-post_20.html

آج نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی یہ صلح و فضیلت پسند نہیں ہے یہ نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام خود کو حضرت امام حسن علیہ السّلام سے بڑا محقق و مفتی و عالم سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں ہدایت و عقلِ سلیم عطاء فرمائے اور ہمیں صحابہ کرام و اہلبیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی بے ادبی سے بچائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے شہید نہیں کروایا کا جواب

امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے شہید نہیں کروایا کا جواب

محترم قارئینِ کرام : آج کل یزید لعین کے وکیلوں اور دلاّلوں نے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے اور یزید پلید کا محبّ بنانے کےلیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے اُن کے بھونڈے دلائل میں سے ایک مضبوط ترین دلیل یہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے شہید نہیں کروایا اور نہ اس کا حکم دیا آیئے یزید پلید و ذلیل کے ان وکیلوں کی منافقت کو دلائل کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں کے نام تک سے امت کو آگاہ فرما دیا تھا ۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : يُقْتَلُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رضی الله عنهما عَلٰی رَأْسِ سِتِّيْنَ مِنْ مُهَاجَرَتِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَزَادَ فِيْهِ: حِيْنَ يَعْلُو الْقَتِيْرُ، الْقَتِيْرُ: الشَّيْبُ ۔
ترجمہ : حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو میری ہجرت کے ساٹھویں سال کے آغاز پر شہید کر دیا جائے گا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی اور دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ امام دیلمی نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : جب ایک (اَوباش) نوجوان ان پر چڑھائی کرے گا ۔ (طبراني، المعجم الکبير، 3: 105، رقم: 2807، الموصل: مکتبة الزهراء)

ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي قَائِمًا بِالْقِسْطِ. حَتّٰی يَکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ يَثْلِمُهُ. رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَةَ. يُقَالُ لَهُ يَزِيْدُ ۔
ترجمہ : میری امت دین و انصاف کی قدریں قائم رہیں گی ، حتیٰ کہ ایک شخص اقتدار پر آئے گا۔ یہ پہلا شخص جو میرے دین کی قدروں کو پامال کردے گا۔ وہ شخص بنو امیہ میں سے ہوگا۔ اُس کا نام یزید ہوگا ۔ (أبو يعلی، المسند، 2: 176، رقم: 871، دمشق: دار المأمون للتراث)،(تاریخ دمشق، جلد نمبر 65 صفحہ نمبر 249-250، طبع دار الفکر،چشتی)

نام نہاد اہلحدیثوں غیر مقلد وہابیوں یزید کے وکیلوں کے محدث العصر حافظ زبیر علی زئی نے اس روایت کی سند کو حسن کہا ہے ۔ (تحقیقی، اصطلاحی اور علمی مقالات جات جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 356-357 طبع الکتاب انٹرنیشنل دہلی انڈیا)

مشہور اہلحدیث غیر مقلد محقق ابو جابر عبد اللہ دامانوی لکھتے ہیں : ناصبی حضرات نے یزید کو جنّتی ثابت کرنے کےلیئے نئی تحقیق کا نام دے کر یزید کو بے گناہ و جنّتی ثابت کرنے کی کوشش کی اور ان کی اس نئی تحقیق کے نام پر بعض اہلحدیث گمراہ ہوئے جبکہ یزید قاتل اہلبیت و صحابہ رضی اللہ عنہم ہے ۔ (یزید بن معاویہ اور جیش مغفور صفحہ 8 مشہور اہلحدیث غیر مقلد محقق ابو جابر عبد اللہ دامانوی)

مام الناقدین امام شمس الدین ذہبی رحمۃ اللّٰہ علیہ ، یزید پلید کے بارے لکھتے ہیں : وكان ناصبيّاً ، فظاً غليظاً ، جلفاً ، يتناول المسكر ، ويفعل المنكر ، افتتح دولته بمقتل الشهيد الحسين (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ، واختتمها بواقعة الحرّة ، فمقته الناس ، ولمْ يبارك في عمره ، وخرج عليه غير واحد بعد الحسين (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) كأهل المدينة .
ترجمہ : یزید ناصبی ، سنگدل بد زبان ، غلیظ ، جفاء کار مئے نوش ، بدکار ، تھا اس نے اپنی حکومت کا افتتاح امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کے قتل سے کیا ، اور واقعہ حرّہ (مدینہ پر حملہ) پر اس کا احتتام کیا ، اسی لئے لوگوں نے اس پر پھٹکار بھیجی ، اور اس کی عمر میں برکت نہ ہو سکی ، امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد بہت سے حضرات نے محض فی سبیل اللہ خروج کیا جیسے حضرات اہلِ مدینہ ۔ (سیر اعلام النبلاء، جلد 4، صفحہ37، 38، مطبوعہ موسسة الرسالة بیروت،چشتی)

ابن عثم کوفی نقل کرتے ہیں کہ یزید نے والی مدینہ کو خط لکھ کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو شھید کرنے کا حکم دیا تھا : وليكن مع جوابك إليّ رأس الحسين بن عليّ، فإن فعلت ذلك فقد جعلت لك أعنّة الخيل، ولك عندي الجائزةّ والحظّ الأوفرّ والنعمة واحدة والسلام ۔
ترجمہ : اس خط کے جواب کے ساتھ حسین رضی اللہ عنہ کا سر بھی ہونا چاہیے اگر تم نے ایسا کر دیا تو ہماری طرف سے بڑے انعام کے حقدار بنو گے والسلام ۔ (الفتوح ، ج 3، جزء 5، ص 18)

علامہ ابن اثیر جزری رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ عبید الله ابن زیاد نے اتنا بڑا ظلم ( قتل امام حسین رضی اللہ عنہ) کیوں کیا ، اسی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : أما قتلي الحسين فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي فاخترت قتله ۔
ترجمہ : مجھ کو یزید نے میرے قتل ہونے اور حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کے درمیان اختیار دیا تھا (یا مجھ عبید اللہ بن زیاد کا قتل ہو گا یا حسین کا) اور میں نے ان دونوں میں سے حسین کے قتل کا انتخاب کیا ۔ (أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم الشيباني الوفاة: 630هـ ، الكامل في التاريخ ج 3 ، ص 474 ، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1415هـ ، الطبعة: ط2 ، تحقيق: عبد الله القاضي)

علاّمہ قرمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یزید نے عبید الله ابن زياد کو حکم دیا تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے : و بلغ الخبر الي يزيد فولي العراق عبيد الله بن زياد و امره بقتال الحسين .
ترجمہ : یزید نے والی عراق عبید اللہ ابن زیاد کو حکم دیا تھا کہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کو قتل کر دے ۔ (القرماني، احمد بن يوسف، المتوفي:‌ 1019، اخبار الدول و آثار الاُوَل في التاريخ، ج 1، ص 320، تحقيق: احمد حطيط – فهمي سعد، ناشر: عالم الكتب)

ابن اعثم كوفی نے بھی اس واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : فكتب عبيد الله بن زياد إلى الحسين: أما بعد يا حسين ! فقد بلغني نزولك بكربلاء ، وقد كتب إلي أمير المؤمنين يزيد بن معاوية أن لا أتوسد الوثير ولا أشبع من الخبز ، أو ألحقك باللطيف الخبير أو ترجع إلى حكمي وحكم يزيد بن معاوية – والسلام ۔
ترجمہ : عبيد الله ابن زياد نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا : اما بعد ، اے حسین مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کربلا میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ یزید ابن معاویہ نے مجھے لکھا ہے کہ میں آرام سے نہ بیٹھوں اور سیر ہو کے کھانا نہ کھاؤں (اس بات سے کنایہ ہے کہ آپ کے بارے میں جلد از جلد فیصلہ کروں) یہاں تک کہ آپ کو رضی اللہ عنہ خدا سے ملحق کر دوں یا پھر میرے اور یزید کے حکم کو تسلیم کر لیں والسلام ۔(الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 84- 85،چشتی)(مطالب السؤول في مناقب آل الرسول (رضی اللہ عنہم) - محمد بن طلحة الشافعي - ص 400)

یہ کہنا کہ یزید نے امام حسین کے قتل کا حکم نہیں دیا مردود اور باطل ہے

حضرت شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک طبقہ کی رائے ہے کہ یزید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا نہ ہی وہ آپ کی شہادت پر رضامند تھا ۔ ہمارے نزدیک یہ رائے مردود اور باطل ہے ۔
مزید لکھتے ہیں : ایک طبقہ کی رائے یہ ہے کہ قتلِ حسین رضی اللہ عنہ گناہِ کبیرہ ہے ۔ کیونکہ ناحق قتلِ مومن کفر نہیں گناہِ کبیرہ ہے اور لعنت تو کافروں کے لئے مخصوص ہے ۔ ایسی رائے رکھنے والوں پر افسوس ہے ۔ وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے کلام سے بھی بے خبر ہیں ۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا اور ان کی اولاد سے بغض و عداوت اور ان کی تکلیف و توہین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عداوت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ایذا کا سبب بھی ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ حضرات یزید کے متعلق کیا فیصلہ کریں گے ؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی توہین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عداوت کفر و لعنت کا سبب نہیں ؟ کیا یہ بات جہنمی ہونے کے لئے کافی نہیں ؟ ۔ (تکمیل الایمان فارسی شیخ محقق مطبوعہ الرحیم اکیڈمی کراچی صفحہ نمبر 172 ، 173)

علاّمہ ابن کثیر لکھتے ہیں : یزید پلید نے حکم دیا کہ اگرحضرت امام حسین اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم بیعت نہ کریں تو انہیں قتل کردو ۔ (البدایہ ولنہایہ جلد ہشتم صفحہ نمبر 191 مترجم اردو مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)

یزید نے کوفہ کے گورنر کو لکھا تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے تیرے شہر میں آنے کو منتخب کیا ہے ، اب یہ تیرے اوپر منحصر ہے کہ تو آزاد زندگی گذارنا چاہتا ہے یا غلامی کی زندگی ، اور کوفہ کے گورنر ملعون ابن زیاد نے اپنی زندگی گذارنے کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو قتل (شہید) کرکے سر یزید کے پاس بھیج دیا ۔

یزید کا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر فخر ومباہات کرنا

علاّمہ ابن اثیر رحمۃ اللہ لکھتے ہیں : واقعہ کربلا کے بعد جب یزید نے عمومی ملاقات کی اجازت دی اور لوگ مجلس میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اقدس اس کے سامنے رکھا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہے کہ جس کےساتھ وہ امام رضی اللہ عنہ کے گلے کی بے حرمتی کر رہا ہے اور کچھ اشعار کو گنگنا رہا تھا کہ جو امام رضی اللہ عنہ کے قتل پر فخر و مباہات پر دلالت کر رہے تھے ۔ (کامل ابن اثیر، ج3 ص 298)

اسی مطلب کو امام سیوطی ، سبط ابن جوزی علیہما الرّحمہ نے بھی نقل کیا ہے کہ: یزید امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی توہین کرتے ہوئے ابن زبعری کے اشعار کو گنگنا رہا تھا جن کا مضمون کچھ یوں تھا کہ : ہم نے بنی ہاشم کے بزرگان کو بدر کے مقتولین کے بدلے کے طور پر قتل کیا ہے ۔ (تذکرۃ الخواص، ص 235)

یزید لعین کے کفریہ اشعار

محترم قارئینِ کرام : یزید نے اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کو دربار میں اسیروں کی حالت میں حاضر کر کے کفر آمیز اشعار کہ کر واقعہ کربلا کو اپنے لیے افتخار شمار کیا ہے :

ليت أشياخي ببدر شهدوا ۔۔۔۔ جزع الخزرج من وقع الاسل

قد قتلنا الكثير من أشياخهم ۔۔۔۔ وعد لناه ببدر فاعتدل

لست من خندف إن لم أنتقم ۔۔۔۔ من بنی أحمد ما كان فعل

لعبت هاشم بالملك فلا ۔۔۔۔ خبر جاء ولا وحی نزل

ترجمہ اشعار : اے کاش ہمارے وہ آباء و اجداد (کفّار) جو بدر میں مارے گئے ، وہ زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ آل احمد سے ہم نے کیسے انتقام لیا ۔ ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کر کے بدر کا بدلہ چکا دیا ہے ۔ اگر آل احمد سے بدلہ نہ لیا ، تو میں بنی خندف سے نہیں ہوں ، بنی ہاشم نے حکومت کے ساتھ کھیل کھیلا ہے ان پر نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ کوئی فرشتہ اتر آیا ہے ۔ (ابن جوزی، المنتظم ،ج 2،ص 199)(ابو الفرج اصبہانی، مقاتل الطالبيين ،ج 1 ،ص 34)(ابن المطهر ،البدء والتاريخ ،ج 1،ص 331)(الدولة الأموية للصلابي ،ج 2،ص 256)(البداية والنهاية ،ج 8،ص 192)(تاريخ الطبري ،ج 8،ص 187)(تاريخ الطبري - ،ج 8 ،ص 188)

یزید کے وکلیو اور یزید کے دلاّلو اب بھی وقت ہے یزید کی وکالت و حمایت سے توبہ کر لو ایسے بدبخت کی حمایت کرتے ہو قاتلِ اہلبیت رضی اللہ عنہم اور مدینۃ المنورہ کی بے حرمتی کرنے والے خبیث پلید کی حمایت کرتے ہو کچھ شرم و حیاء کرو جن کا کملہ پڑھتے ہو انہیں کی آل کے قاتل کی حمایت کرتے ہو ۔

مہتمم دارالعلوم دیوبند جناب قاری محمد طیب دیوبندی صاحب کی گواہی یزید فاسق و فاجر تھا اور امام حسین و اہلبیت رضی اللہ عنہم کا قتل اسی کے حکم پر ہوا اور وہ اس پر راضی تھا ۔ (شہید کربلا صفحہ 126 قاری محمد طیب دیوبند مہتمم دیوبند)

یزید کے سگے بیٹے کی گواہی یزید شرابی اور قاتلِ اہلبیت تھا

یزید کے بیٹے نے چند دن حکومت میں رہ کر حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ : إن هذه الخلافة حبل الله وإن جدي معاوية نازع الامر أهله ومن هو أحق به منه علي بن أبي طالب وركب بكم ما تعلمون حتی أتته منيته فصار في قبره رهينا بذنوبه ثم قلد أبي الامر وكان غير أهل له ونازع ابن بنت رسول الله ثم بكی وقال إن من أعظم الامور علينا علمنا بسوء مصرعه وبئيس منقلبه وقد قتل عترة رسول الله وأباح الحرم وخرب الكعبة ۔
ترجمہ : میرے باپ یزید نے حکومت سنبھالی حالانکہ وہ اس قابل نہ تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام حسین سے اس نے جنگ کی اور اس کی عمر کم ہوگئی ، اور وہ اپنے گناہوں کو لیکر قبر میں جا پھنسا ، پھر یزید کا بیٹا روپڑ ا، کہا ہمارے لئے بڑ ا صدمہ یزید کے برے انجام کا ہے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قتل کیا ، شراب کو حلال کیا ، کعبہ کو تباہ کیا ۔ (الصواعق المحرقہ عربی صفحہ نمبر 642 اور مترجم کے صفحات نمبرز 740 ، 741)
یزید پلید کے وکیل آج بھی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ امیر یزید بن معاویہ بے گناہ ہے ، وہ قتل حسین میں ملوّث نہیں ۔ جبکہ محدثین کرام علیہم الرّحمہ لکھتے آرہے ہیں کہ یزید پلید ہی نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے اور ان کے ساتھ لڑائی کے احکامات جاری کیے تھے ۔

یزید نے کوفہ کے گورنر کو لکھا تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے تیرے شہر میں آنے کو منتخب کیا ہے ، اب یہ تیرے اوپر منحصر ہے کہ تو آزاد زندگی گذارنا چاہتا ہے یا غلامی کی زندگی ، اور کوفہ کے گورنر ملعون ابن زیاد نے اپنی زندگی گذارنے کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو قتل (شہید) کرکے سر یزید کے پاس بھیج دیا ۔

امام ذهبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : خرج الحسين إلي الكوفة، فكتب يزيد إلي واليه بالعراق عبيد الله بن زياد: إن حسينا صائر إلي الكوفة، وقد ابتلي به زمانك من بين الأزمان، وبلدك من بين البلدان، وأنت من بين العمال، وعندها تعتق أو تعود عبدا. فقتله ابن زياد وبعث برأسه إليه ۔
ترجمہ : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جب کوفے کی طرف حرکت کی تو یزید نے والی عراق عبيد الله بن زياد کو لکھا کہ حسین کوفے کی طرف جا رہا ہے اس نے دوسرے شہروں کی بجائے آنے کے لیے تمہارے شہر کا انتخاب کیا ہے تم میرے قابل اعتماد ہو پس تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے آزاد رہ کر زندگی گزارنی ہے یا غلام بن کر۔ اس پر ابن زیاد نے حسین کو قتل کیا اور اس کے سر کو یزید کے لیے بھیجا ۔ (شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي الوفاة: 748هـ ، تاريخ الإسلام ج 5 ص 10 دار النشر : دار الكتاب العربي - الطبعة : الأولى ، تحقيق : د. عمر عبد السلام تدمرى محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748 ، سير أعلام النبلاء ج 3 ص 305 دار النشر : مؤسسة الرسالة - بيروت - التاسعة ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي،چشتی) ، یہی بات امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل ہے ہے : تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614)

علامہ امام جلال الدین سيوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں : فكتب يزيد إلي واليه بالعراق، عبيد الله بن زياد بقتاله ۔
ترجمہ : يزيد نے عبيد الله بن زياد کہ جو والی عراق تھا کو امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ (تاريخ الخلفاء، ص 193، چاپ دار الفكر سال 1394 هـ. بيروت)

ابن زياد نے مسافر بن شريح يشكری کو لکھا کہ : أما قتلي الحسين، فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي، فاخترت قتله ۔
ترجمہ : میں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو اس لیے قتل کیا ہے کہ مجھے حسین (رضی اللہ عنہ) کے قتل کرنے یا خود مجھے قتل ہونے کے درمیان اختیار دیا گیا تھا اور میں نے ان دونوں میں سے حسین (رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے کو انتخاب کیا ۔ (الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324. لابن اثیر)

ابن زياد نے امام حسين (رضی اللہ عنہ) کو خط لکھا کہ : قد بلغني نزولك كربلاء، وقد كتب إلي أمير المؤمنين يزيد: أن لا أتوسد الوثير، ولا أشبع من الخمير، أو ألحقك باللطيف الخبير، أو تنزل علي حكمي، وحكم يزيد، والسلام ۔
ترجمہ : مجھے خبر ملی ہے کہ تم کربلا میں پہنچ گئے ہو اور یزید نے مجھے کہا ہے کہ بستر پر آرام سے نہ سوؤں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں مگر یہ کہ یا تم کو خدا کے پاس روانہ کر دوں یا تم کو یزید کی بیعت کرنے پر راضی کروں ۔ (الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324. لابن اثیر،چشتی)

قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق یزید شرابی و کافر ہے اور اس پر لعنت کرنا جائز ہے ۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1225 ھ) جو کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے اورحضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے "اپنے دور کا بیہقی" ہونے کا لقب دیا، اپنی کتاب تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں : یزید اور اس کے ساتھیوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اہل ِبیت کی دشمنی کا جھنڈا انہوں نے بلند کیا اور حضرت حسین کو انہوں نے ظلماً شہید کردیا اور یزید نے دین ِمحمدی کا ہی انکار کردیا اور حضرت حسین کو شہید کرچکا تو چند اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ تھا کہ آج میرے اسلاف ہوتے تو دیکھتے کہ میں نے آل ِمحمد اور بنی ہاشم سے ان کا کیسا بدلہ لیا ۔ یزید نے جو اشعار کہے تھی ان میں آخری شعر یہ تھا : احمد نے جو کچھ (ہمارے بزرگوں کے ساتھ بدر میں) کیا اگر اولاد سے میں نے اس کا انتقام نہ لیا تو میں بنی جندب سے نہیں ہوں ۔
یزید نے شراب کو بھی حلال قرار دے دیا تھا۔ شراب کی تعریف میں چند شعر کہنے کے بعد آخری شعر میں اس نے کہا تھا : اگر شراب دین ِاحمد میں حرام ہیں تو (ہونے دو) مسیح بن مریم کے دین (یعنی عیسایت) کے مطابق تم اس کو(حلال سمجھ کر) لے لو ۔ یزید اور اس کے ساتھیوں اور جانشینوں کے یہ مزے ایک ہزار مہینے تک رہے، اس کے بعد ان میں سے کوئی نہ بچا ۔ (تفسیر مظہری عربی ، ج 5 ص 271 سورہ 14 آیت 29)،(تفسیر مظہری جلد پنجم صفحہ نمبر 327،چشتی)

قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یزید بد بخت نے امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کروایا اور اسے بدر والے مقتول کفار کا بدلہ قرار دیا،یزید شرابی کو حلال جنات،حرمت کعبۃ اللہ و مدینۃ المنوّرہ پامال کی غرض کونسا جرم ہے جو اس نے نہ کیا ۔ (تفسیر مظری پنجم ص 645)

ہمیشہ کی طرح دیوبندیوں نے دارالاشاعت کراچی کے ترجمہ میں ڈنڈی مار ہے اور یزید کے اشعار جو قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیئے ہیں وہ مکمل طور پر نقل نہیں کئے ۔

سورہ نمبر 24 آیت 55 کی تفسیر میں بھی قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت "ومن كفر بعد ذلك" میں یزید بن معاویہ کی طرف اشارہ ہو۔ یزید نے رسول اللہ کے نواسے کو اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کیا۔ یہ ساتھی خاندان ِنبوت کے ارکان تھے، عزت ِرسول کی بےعزتی کی اور اس پر فخر کیا اور کہنے لگا آج بدر کے دن کا انتقام ہوگیا، اسی نے مدینۃ الرسول پر لشکر کشی کی اوت حرہ کے واقع میں مدینہ کو غارت کیا اور وہ مسجد میں جس کی بناء تقویٰ پر قائم کی گئی تھی اور جس کے جنت کو باغوں میں سے ایک باغ کہا گیا ہے اس کی بے حرمتی کی، اس نے بیت اللہ پر سنگباری کے لئے منجیقیں نصب کرایئں اور اس نے اول خلیفہ رسول حضرت ابو بکر کے نواسے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرایا اور ایسی ایسی نازیبا حرکتیں کیں کہ آخر اللہ کے دین کا منکر ہوگیا اور اللہ کی حرام کی ہوئی شراب کو حلال کردیا ۔ (تفسیر مظہری، ج 8 ص 268،چشتی)

قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ السّیف المسلول میں فرماتے ہیں : یزید پر لعنت کرنا جائز ہے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن سے ثابت کیا ہے اور جو اللہ کو مانتا ہے وہ یزید سے دوستی نہیں کرے علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید پر لعنت ہے ، اور یزید کا کفرِ صریح یہ ہے کہ اس نے سرِ امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین کی اور کفریہ اشعار پڑھےایسوں پر اللہ ، تمام فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو ۔ (السیّف المسلول 488تا490)

قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک خط میں تحریر کیا : غرض یہ کہ یزید کافر معتبر روایت سے ثابت ہے۔ پس وہ مستحق ِلعنت ہے اگرچہ لعنت کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن الحب فی اللہ البغض فی اللہ اس کا متقاضی ہے ۔ (المکتوبات، ص 203)

نوٹ : قضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کو دیوبندی اپنا رہنما کہتے ہیں اب بعض دیوبندی جو یزید کی حمایت کرتے ہیں ان کےلیئے لمحہ فکریہ جو اسے تابعی ثات کرنا چاہتے ہیں ان کےلیئے جواب ہے کہ جب کفر کرلیا یزید نے تو تابیعت کیا فائدہ دے گی اسے کیا اس کفر کے بعد بھی اس کی تابیعت باقی رہی ؟ ۔

امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یزید بد تمیز، ناصبی ، نشہ کرنے والا ، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاتل اور مدینۃُ المنورہ کی بے حرمتی کرنے والا تھا ۔ (سیر اعلام النبلاء صفحہ 37 ، 38)

یزید پلید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا خون خود کے لئے جائز سمجھا

حضرت شیخ شرف الدین بو علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ (متوفیٰ 724 ہجری) فرماتے ہیں :

بہر دنیا آن یزید نا خلف
دین خود کردہ برائے او تلف

ترجمہ : اس نالائق یزید نے دنیا کےلیئے اپنے دین کو اس کےلیئے برباد کیا ۔

زال دنیا چون درآمد در نکاح
کرد بر خود خونِ آں سید مباح

ترجمہ : جب یزید نے بوڑھی خاتون دنیا سے نکاح کیا تو امام حسین رضی اللہ عنہ کا خون خود کے لئے جائز سمجھا ۔ (مثنوی بو علی شاہ قلندر (رحمۃ اللہ علیہ) مترجم مطبوعہ ملک دین محمد کشمیری بازار لاہور صفحہ نمبر 16،چشتی)

تاریخ ، علم ، نقل اور عقل اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ امامِ حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے ہی شہید کرایا ۔ واقعہ کربلا کوئی اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں تھا ۔ ملوکیت کی سوچ کو پروان چڑھانے اور دین کی اقدار کو پامال کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ سازی کی گئی تھی ، جس میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کر دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اقتدار کے حصول کے لیے خون بہانے سے بھی دریغ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو حاکم کی نگاہ میں کھٹکنے والے چند افراد میں امام حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ اسی سوچ نے واقعہ کربلا کی بربریت کو جنم دیا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہلِ بیتِ رسول علیہم السّلام کے دشمن اور یزید کے حامی روزِ اوّل ہی سے یزید کو معصوم ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے حیلے تلاش کرتے رہے ہیں ۔ وہ اہلِ بیت کے خونِ ناحق کا بدنما دھبہ یزید کے دامن سے دھونا چاہتے ہیں ۔ اس لیے وہ واقعہ کربلا کی روایت کو مشکوک بناتے ہیں ۔ مگر یہ کوششیں نہ کبھی پہلے بارآور ہوئی ہیں اور نہ ہی اب ان سے کسی فائدے کی امید ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)














ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...