Saturday, 27 August 2016

قرآن و حدیث کی روشنی میں فلسفہ قربانی

قربانی وہ چیز جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، اصطلاح شرع میں یہ قربانی جانور ذبح کرنے کا نام ہے‘‘۔

(المفردات للراغب ص 408 طبع مصر)

قربانی کے لئے قرآن کریم میں عموماً تین لفظ استعمال ہوتے ہیں۔
1۔ قربانی : اذقربا قربانا۔ جب دونوں نے قربانی کی۔
2۔ منسک : وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ.
(الحج، 22 : 34)
اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں، اس کے دیئے ہوئے بے ز بان چوپائیوں پر۔

3۔ نحر : إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَO فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْO إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُO
(الکوثر، 108 : 1 - 3)
’’اے محبوب! بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ تو تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربان کرو۔ بے شک تمہارا دشمن ہی ہر بھلائی سے محروم ہے‘‘۔

ان المراد هوانحر البدن.
(تفسیر کبیر، 32 : 129)
’’مراد جانور کی قربانی ہے‘‘۔























No comments:

Post a Comment

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف ...