Sunday, 26 February 2023

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 8

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 8

آج کل کے یزیدی سادہ لوح مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ واقعہ کربلا دو شہزادوں کی جنگ تھی آئیے واقعہ کربلا کی حقیقت کو تعصب کی عینک اتار کر حقائق و دلائل کی روشنی میں سمجھیں : عام نظریہ یہ ہے کہ کربلائے معلی میں امام حسین رضی اللہ عنہ اور یزیدیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی جنگ ہی نہیں تھی کیونکہ جنگ کےلیے جس طرح کی سر و سامانی ، قوت و طاقت اور فوج کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ ایک طرف تو تھی مگر امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف ان کے اہل وعیال کے علاوہ چند وفا پیشہ جاں نثار رفقاء تھے ، کیا کوئی شوق میں اپنی اہل وعیال کو قتل کے بھینٹ چڑھانا گوارا کرے گا ؟ در اصل کربلا کی تاریخ کا پورا پس منظر اس محور پر گردش کررہا ہے کہ دور یزید میں ایک ناقابل درست نظریہ (یعنی بیعت یزید) کو امام حسین رضی اللہ عنہ پر تھوپنے کی کوشش کی گئی اور امام نے اس نظریہ کا سختی سے انکار کیا اور ہر موقع پر دانش مندی کا مظاہرہ کیا ۔ اس لئے کربلا کے حادثے کو فکر و نظر کی جنگ کا نتیجہ تو کہا جا سکتا ہے مگر اسے حقیقی جنگ نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ چنانچہ جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور امارت میں والی مدینہ مروان بن حکم کو اہل مدینہ سے یزید کی ولی عہد کی بیعت لینے کا حکم دیا تو امام حسین ، عبد اللہ بن زبیر ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے یزید کی ولی عہدی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس موقع پر عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے مروان کو ایسا کرارا جواب دیا کہ بھاگ دوڑ تک نوبت پہنچ چکی تھی ۔ (البدایۃ والنہایۃ، لابن کثیر، جلد 48/8، دارالحدیث القاہرہ 1998،چشتی)

جب مروان کی دال نہیں گلی تو حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے شام ، مصر ، عراق اور دیگر شہروں میں یزید کی ولی عہدی کی زمین ہموار کرنے کےلیے امراء کو خفیہ احکام جاری فرمائے اور تقریبا ہر طرف سے زمین ہموار ہوچکی ۔ لے دے کر حجاز مقدس کی زمین بچی ہوئی تھی ، یہاں اسلام کی مقتدر ہستیاں تشریف فرما تھیں ۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ خود مدینہ آئے اور مدینہ کے باہر امام حسین ، عبد ﷲ بن عمر ، عبدﷲ بن زبیر اور حضرت عبدالرحمن رضی ﷲ عنہم کو بلوایا ، لیکن امیر معاویہ اور صحابہ کرام میں سخت کلامی ہوگئی اور یزید کی ولی عہد کا معاملہ حل نہ ہوسکا اور یہ چاروں حضرات دل برداشتہ ہوکر مدینہ چھوڑ کر مکہ آگئے ۔ کچھ دنوں بعد پھر حضرت امیر معاویہ مکہ آئے ۔ یہاں معاملہ بالکل برعکس نکلا ، حضرت امیر معاویہ نے ان چاروں صحابہ کرام کے ساتھ انتہائی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا ۔ سب کو تنہائی میں بلاکر امیر معاویہ نے فرمایا تم بیعت کرلو ۔ عبد ﷲ بن زبیر رضی ﷲ عنہ نے تین تجویز رکھیں ، مگر کوئی بھی منظور نہ ہوسکی ۔ یہاں سے یہ بات بھی صاف طور پر واضح ہوگئی کہ یزید کی خلافت و امارت کے استصواب پر اکابر صحابہ کا اختلاف تھا ، اس لیے یزید کی امارت متفق علیہ نہیں تھی ۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کا سیاسی اور دینی تدبر

ساٹھ (60) ھجری میں جب یزید تخت نشین ہوا تو اس نے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے کہا ! انہیں بیعت پر مجبور کرو اور پوری سختی کرو ، ولید نے حکم پورا کیا مگر اسے اپنے منہ کی کھانی پڑی ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے دانش مندی اور سیاسی تدبر سے جواب دیا کہ میرے ایسے شخص کی بیعت کو کافی نہ سمجھو گے ، جب یہ معاملہ مجمع عام میں رکھو گے تو مجھ سے مطالبہ کرنا (الطبری 188/6، الکامل 264/3، بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب صفحہ 326/8۔چشتی)

دوسرے دن امام حسین رضی اللہ عنہ مدینہ سے مکہ تشریف لائے ، مکے میں عبد ﷲ بن زبیر رضی ﷲ عنہ کا اثر و رسوخ ہونے کے باوجود لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس اکھٹا ہوگیا ۔ حتی کہ لوگوں نے بیعت کے لئے پیشکش بھی کی مگر امام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ کیونکہ وہ امت میں فساد نہیں چاہتے تھے ۔ اگر آپ بیعت کرلیتے تو حضرت عبد ﷲ بن زبیر کی جانب سے ردعمل سامنے آسکتا تھا ۔ اس لیے آپ نے یہاں بھی حسن تدبیر سے کام لیا اور خاموشی میں بہتری سمجھی ۔ (البدایہ جلد  8 صفحہ 143،چشتی)

دوسری جانب کوفے میں یزید کے خلاف بدامنی پھیل گئی ۔ اہل کوفہ کی جانب سے پیہم خطوط آنا شروع ہوگئے ۔ انہوں نے آپ کو اپنا قائد ، امام تسلیم کرنے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ امام حسین کے سامنے یہاں کئی چیزیں تھیں ، ایک طرف قوم خود بخود ظالم و جابر حکمران کے ظلم و زیادتی سے تنگ آکر دوسری قیادت و خلافت کا مطالبہ کررہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف کوفیوں کی سابقہ بدعہدی اور بے وفائی کی داستان بھی امام کے پیش نظر تھی ۔ اور ان کی بے وفائی کی وجہ سے صحابہ کرام بھی شدت کے ساتھ منع کر رہے تھے ۔ اس دوراہے پر امام حسین نے جس دانش مندی ، دوربینی اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے ، دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کو نہ سیاسی اقتدار کی خواہش تھی اور نہ خلافت و بیعت کا شوق تھا ، ورنہ آپ مکے ہی میں لوگوں کی پیشکش قبول کرچکے ہوتے مگر ایسا نہیں کیا ۔ لیکن جب آپ کو یقین ہوگیا کہ امت فساد کا شکار ہوچکی ہے ، ان پر ظلم و زیادتی کی ایسی انتہا ہو چکی ہے کہ اب وہ بہ زبان خود دوسری قیادت کا مطالبہ کر رہی ہے ، اس لیے اس وقت امت کو شر و فساد سے محفوظ کرنے کے لئے کھڑا ہونا گویا واجب ہوچکا تھا اور تیسری طرف یزید کا کیا عالم تھا، مندرجہ ذیل تصریحات پڑھیے : ⬇

ظہر فسق یزید عندالکافۃ من اہل عصرہ ۔ (مقدمہ ابن خلدون صفحہ 180)
ترجمہ : یزید کا فسق وفجور تمام اہل زمانہ پر آشکارا ہوگیا ۔

یعنی مروی ہے کہ یزید سرور ونغمہ ، شراب نوشی اور سیروشکار کے لئے مشہور تھا ۔ نوعمر لڑکوں ، گانے والیوں اور کتوں کو اپنے گرد جمع رکھتا تھا ۔ لڑاکا مینڈھوں ، سانڈھوں اور بندروں کے درمیان لڑائی کا مقابلہ کرواتا تھا ۔ ہر دن صبح کے وقت مخمور رہتا تھا ۔ زین کسے ہوئے گھوڑوں پر بندروں کو اسی سے بندھوا دیتا تھا اور ادھر ادھر پھرواتا تھا ، بندروں اور نوخیز لڑکوں کو سونے کی ٹوپیاں پہناتا تھا ، گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرواتا تھا اور جب کوئی بندر مرجاتا تو اس کا سوگ مناتا تھا ۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر)

ابن کثیر مزید فرماتے ہیں

یزید کے اندر شہوتوں کی طرف میلان بھی زیادہ تھا اور بعض نمازیں ترک کرنے اور اکثر اوقات انہیں نذر غفلت کردینے کا عادی تھا۔ایسی رستہ خیز اور قیامت آشوب دور میں امام حسین کے لئے امت کو ایسی قیادت فراہم کرنا واجب ہوگیا تھا جو یزیدی عہد حکومت کے مفاسد کی اصلاح اور ملت کی تطہیر کا فریضہ انجام دیتی اور سلطان جائر (یزید) کے سامنے کلمہ حق کی آواز بلند کرتی اور اس قیادت کی سب سے زیادہ اہلیت آپ کے اندر تھی۔ابن کثیر لکھتے ہیں : لانہ السید الکبیر، وابن بنت رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فلیس علی وجہ الارض یومئذ احد یسامیہ ولایساویہ، ولکن الدولۃ الیزیدیۃ کانت کلھا تناوئہ ۔ (البدایۃ 144/8۔چشتی)(ابن خلدون رقم طراز ہیں : فاما الاہلیۃ فکانت کماظن وزیادۃ ابن خلدون / مقدمہ 180)

یعنی جہاں تک اہلیت و صلاحیت کا تعلق ہے تو وہ بلاشک و شبہ ان میں تھی جیسا کہ ان کا گمان بلکہ اس سے بھی زیادہ تھی ۔ خود امام حسین رضی اللہ عنہ نے قادسیہ کے راستے سے کربلا کی طرف پلٹتے وقت جو تاریخی خطبہ دیا ہے ، اقدام کا پس منظر سمجھنے کےلیے خطبے کا حرف حرف ضمانت ہے : لوگو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم بادشاہ کو دیکھے کہ اس نے خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا ہے ۔ پیمانہ الٰہی کو توڑ رہا ہے ، سنت نبوی کی مخالفت کر رہا ہے ، ﷲ کے بندوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرتا ہے ، ایسی صورت حال میں بھی وہ اپنے قول و عمل سے شر کو نہ مٹائے تو ﷲ کا حق ہے کہ وہ اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچادے ۔ (ابن اثیر الکامل فی التاریخ 40/4)

خبردار ہو جاؤ ! ان لوگوں (یزیدیوں) نے اپنے اوپر شیطان کی پیروی لازم کرلی ہے۔ خدا کی عبادت ترک کردی ہے ، ہر طرف فساد برپا کر دیا ہے ، شرعی حدود کو معطل کردیا ہے ، سرکاری مال اپنے مفاد پر خرچ کررہے ہیں اور ﷲ کے حرام کو حلال اور اس کے حلال کوحرام کردیا ہے اور سن لو ! ان مفاسد اور شر کو مٹانے کا میں سب سے زیادہ حق دار ہوں ۔ گویا امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے پہلے نکتے کے تحت دوسری قیادت فراہم کرنے کے سارے شرعی و عصری تقاضے فراہم ہوچکے تھے، مگر دوسری طرف کوفے والوں کی بدعہدی بھی ایک زمینی حقیقت تھی، اسی وجہ سے صحابہ کرام منع بھی کر رہے تھے اور بہت سے ان میں مجتہد بھی تھے ۔ چنانچہ امام حسین نے اسی پورے معاملے کی انکوائری کرنے کے تجرباتی طور پر مسلم بن عقیل کو اپنا نائب بنا کر کوفہ روانہ کیا تاکہ صحابہ کا گمان بھی غلط نہ ہو اور اقدام کےلیے اتمام حجت بھی ہوجائے ۔ چنانچہ امام مسلم بن عقیل کوفہ روانہ ہوگئے اور تقریبا 18 ہزار کوفیوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ، اس کے بعد امام مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہما نے کوفہ والوں کی وفائی کا توثیق نامہ لکھ کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو تشریف لانے کی دعوت دی ۔ (البدایہ والنہایہ 144/8،چشتی)

امام مسلم رضی اللہ عنہ کے خط سے گویا صحابہ کرام کو ظاہری اطمینان بھی ہوگیا اور حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ نے تجرباتی طور پر اتمام حجت بھی کرلی ، اس لیے خط ملتے ہی آپ اہل وعیال کے ساتھ کوچ کر گئے ۔ حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے پاس اہلیت تو تھی ہی ساتھ ہی طاقت و شوکت بھی ان کے پاس تھی ، یہاں امام طبری نے ایک نہایت کچی بات کی ہے کہ حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے پاس دنیاوی شوکت نہیں تھی ۔

حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ سے شرعی لغزش تو نہیں ہوئی ، جہاں تک قوت و شوکت کا تعلق ہے ، تو اس کے سمجھنے میں غلطی ہوئی ، ﷲ ان پر رحم فرمائے ۔ (مقدمہ ابن خلدون صفحہ 181)

امام طبری کی بات کی ناپختگی کی وجہ یہ ہے کہ جن کوفیوں نے امام مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی انہوں نے تو دراصل حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور وہ پوری فوج امام کی فوج تھی ۔ امام کے حکم پر کچھ بھی کرسکتی تھی، اس لئے امام کو دنیاوی شوکت بھی حاصل تھی ۔ ممکن ہے طبری کو یہ غلط فہمی اس وجہ سے ہوئی ہو کہ جس وقت حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ خروج کر رہے تھے ، ان کے پاس کوئی دنیاوی شوکت و طاقت نہیں تھی تو پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ کسی جنگ کے ارادے سے نکل ہی نہیں رہے تھے کہ ان کے پاس لشکر جرار ہونا ضروری تھا ورنہ ان کے ساتھ چند نفوس قدسیہ مع اہل خانہ نہیں ہوتے اور تاریخ یہ ثبوت پیش کرنے سے بھی قاصر ہے کہ انہوں نے مکے اور مدینے والوں میں کسی فرد کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی اور اگر مان لیا جائے کہ یزید کی طرف سے ان سے جنگ بھی ہوسکتی تھی، تو امام حسین کے 18 ہزار کوفی وفادار دفاع کرنے کے لئے کافی تھے۔ گویا امام کو اپنی دنیاوی شوکت کا بھرپور اندازہ تھا ۔ یہاں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جنگ کے لئے قائد کا بذات خود وہاں موجود ہونا ضروری نہیں ۔ صرف اس کا حکم ہونا ضروری ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری فوجی طاقت تو دراصل قائد کی ہی ہوتی ہے ۔ ان نکات کو پیش نظر رکھ کر امام طبری کے نظریئے کا تجزیہ کیجیے اور بے لاگ ہوکر فیصلہ کیجیے ۔

فریب ہی فریب

امام عالی مقام رضی اللہ عنہم مکہ سے کوفے کے لیے نکلے تھے مگر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قادسیہ کے آگے مقام ذوحشم میں حر بن یزید نے امام کو محاصرہ میں لے لیا اور کوفے کی بجائے کربلا تک پہنچادیا ۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 328/8)

مقام ذو حشم میں امام نے حر وغیرہ کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ میں تمہارے دعوتی خطوط پر آیا ہوں ، مجھے تمہارے قول و قرار پر یقین ہے ، اس لئے اطاعت کرلو ، ورنہ میں جہاں سے آیا ہوں مجھے جانے دو ، لیکن مجھے بیعت یزید ہرگز قبول نہیں ۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 328/8،چشتی)

اسی طرح کربلا تک لوگوں سے ملاقات رہی ، لوگوں نے سوالات کئے مگر امام نے یہی جواب دیا کہ میں تمہارے دعوتی خطوط کی بنیاد پر آیا ہوں ۔ جب آپ میدان کربلا پہنچے تو کوفے کا سارا نقشہ بدل چکا تھا، جنہوں نے حسینی ہونے اور اپنی وفاداری کی قسمیں کھائی تھیں، اب وہ اپنے قسموں کے پیمانے توڑ چکے تھے اور سامنے یزیدیوں کا ایک لشکر جرار موجود تھا ، عمر بن سعد کو ابن زیاد نے حکم دے دیا تھا کہ یا تو حسین سے بیعت کرلو یا انہیں قتل کردو ۔ امام حسین کو صرف کربلا ہی میں نہیں راستے ہی میں یقین ہوچکا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، لیکن آپ نے ہر موقع پر امت کو یزید کے ظلم و جور سے بچانے کے لئے ان کے عہد ناموں کی یاد دہانی کرائی اور عزیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں تشریف لائے مگر قوم نے ساتھ نہ دیا ۔ جب کربلا میں یہ امر واضح ہوگیا کہ ان پر جنگ مسلط کی جاچکی ہے اور عمرو بن سعد جبراً بیعت لینا چاہتا ہے تو آپ نے اولا بیعت سے انکار کیا اور پھر اصولِ جنگ کے مطابق دو بنیادی تجویزیں پیش کیں : ⬇

(1) یا تو وہ جہاں سے آئے ہیں وہیں جانے دیا جائے ۔

(2) یا انہیں چھوڑ دیا جائے کہ وہ وسیع و عریض زمین میں جہاں چاہیں نکل جائیں ۔(البدایہ 166/8،چشتی)

مگر ان کی کوئی تجویز منظور نہیں کی گئی اور یہ جبر و اکراہ جنگ پر مجبور کیا گیا ۔ بعض مورخین نے یہاں امام حسین کی تیسری تجویز یہ نقل کی ہے کہ آپ نے یہ کہا کہ مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے ، تاکہ میں اس کے ہاتھ پر بیعت کرلوں ، اس تجویز کی تردید و تضعیف کےلیے کربلا کے واقعات کے عینی شاہد ، امام عالی مقام کے رفیقِ سفر اور تمام مورخین کے مستند راوی عقبہ بن سمعان کا صرف یہ قول نقل کردینا کافی ہے : لقد صحبت الحسین من مکۃ الی حین قتل ، وﷲ مامن کلمۃ قالہا فی موطن الاوقد سمعتہا ، وانہ لم یسال ان یذہب الی یزید فیضع یدہ الی یدہ ولا ان یذہب الی ثغرمن الشغور ، ولکن طلب منہم احد امرین ، امام ان یرجع من حیث جائ، وامام ان یدعوہ ، یذہب فی الارض العریضۃ حتی ینظر یایصیر امر الناس الیہ ۔ (البدایۃ لابن کثیر 166/8، دارالحدیث القاہرہ 1998۔چشتی)

کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ امام نے ہمیشہ سے جن نظریے کی تردید کی ہو ، وہ کربلا میں جاکر اسی کو گلے لگا لیا ؟ اگر یہ تجویز سامنے آچکی تھی تو یزیدیوں کا جنگ کےلیے تیار ہونا ، چہ معنی دارد ؟ کیوں کہ وہ تو اسی کےلیے لڑنے آئے تھے ۔

آپ دور حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے آغاز سے لے کر شہادت امام عالی مقام تک نظر ڈالیں تو فکر و نظر کی کشمکش ہر جگہ نظر آتی ہے ، مگر امیر معاویہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے نظریاتی کشمکش صحیح و درست تھے کیونکہ وہ خود مجتہد تھے ۔ اس لیے ان کا اجتہاد بھی درست تھا مگر یزیدی دور میں یزید صالح و طاہر آدمی نہیں تھا بلکہ وہ فاسق معلن تھا اور امام عالی مقام کو اسی ظالم و جابر کی بیعت لینے پر مجبور کیا جاتا رہا ، مگر انہوں نے بھی اس باطل نظریئے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیوں کیا ؟ گفتگو ہوچکی ہے اور اس نظریئے کے لئے وہ آخر تک جدوجہد کرتے رہے ، اس کے لئے انہوں نے وفا پیشہ جاں نثاروں سمیت ریگزار کربلا پر اپنا آخری سجدہ کرنا گوارا تو کرلیا مگر ایک نادرست اور غیر اسلامی نظریئے کو باطل کے سامنے سجدہ ریز ہونے نہیں دیا ۔ امام حسین کی یہ نظریاتی جیت دراصل اسلام، ایمان اور یقین کی ایک فکری جیت تھی اور باطل فکرکی ایک ناقابلِ تردید شکست فاش ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے آپ کے کان میں اذان دی ۔ منہ میں لعاب دہن ڈالا اور پھر آپ کے لئے بارگاہ خداوندی میں دعا فرمائی ۔ ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور اسی دن عقیقہ کیا ۔ آپ کی کنیت ’’ابوعبدﷲ‘‘ اور لقب ’’سبط الرسول‘‘ اور ’’ریحانتہ الرسول‘‘ ہے۔ آپ کی صحابیت پر امت کا اجماع ہے، اسی وجہ سے امام بخاری سمیت دیگر جمہور محدثین نے صحابیت کے لئے بلوغ کی قید کو مردود قرار دیا ہے، کیونکہ حسنین رضی ﷲ عنہما کی صحابیت مسلمات سے ہے اور دلیل و حجت مسلمات سے ہی قائم کی جاتی ہے۔

حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ نے جس گھر اور جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی، وہ گھرانہ علم وحکمت کا مخزن، فضل و کمال کا سرچشمہ اور پورا ماحول انوار نبوت سے روشن تھا۔ جہاں ہر وقت قال ﷲ وقال رسول ﷲ کی صدائیں بلند ہوئی تھیں، جہاں گرتوں کو اٹھانے ، محتاجوں کی دستگیری کرنے اور دنیا سے غلامی کے خاتمے کا درس بھی دیا جاتا تھا اور اس کو عملی جامہ بھی پہنایا جاتا تھا اور پھر امام حسین تو اہل بیت نبوت کے خاص جوہر تھے، جن پر فیضان نبوت کی ہمیشہ بارش ہوا کرتی تھی ، بیک وقت کئی پاکیزہ نفوس کی صحبت نے آپ کے ظاہر وباطن کو ایسا شفاف آئینہ بنادیا تھا کہ اس پر میل و کچیل تو کجا گردوغبار کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا تھا ۔ امام حسین رضی ﷲ عنہ کی پاکیزہ ذات و صفات کے لئے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ’’حسین منی وانا من الحسین، احب ﷲ من احب حسینا ، حسین سبط من الاسباط ۔ (ترمذی ج 2،ص 218، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۔چشتی)
ترجمہ : حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو حسین کو محبوب رکھتا ہو وہ ﷲ کو محبوب رکھتا ہے ، حسین فرزندوں میں ایک فرزند ہیں ۔

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، حضرت فاطمہ زہرا رضی ﷲ عنہا کے گھر تشریف لائے اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسین کریمین رضی ﷲ عنہم سب کو چادر میں لے کر فرمایا ۔ اللھم ہؤلاء اہل بیتی، اللھم اذہب عنہم الرجس وطہرم تطہیرا اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئیانما یرید ﷲ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا ۔ (سورہ احزاب 33)
ترجمہ : ﷲ تو یہی چاہتا ہے اے (رسول کے) گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں خوب خوب کرکے صاف ستھرا رکھے ۔

یہ آیت اہل بیت نبوت کے فضائل کا منبع ہے اور آیت میں متعدد کلمات حصر سے پتا چلتا ہے کہ اس سے معمولی طہارت مراد نہیں، بلکہ سب سے عہدہ اور نہایت اعلیٰ اور غیر معمولی قسم کی پاکیزگی مراد ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت کو ﷲ تعالیٰ نے ہر طرح کی اعتقادی عملی، اخلاقی اور دیگر ناپاکیوں اور برائیوں سے پاک و منزہ فرماکر ان کے ظاہر و باطن کو وہ عظیم مقام عطا فرمایا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز اور فائق ہیں، لہذا اس آیت قرآنی پر ایمان رکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کا قلب مبارک حبُ جاہ و مال اور ہوس اقتدار اور تمام رذائل دنیا سے پاک اور مبرا تھا ۔ (امام پاک اور یزید پلید صفحہ 236،چشتی)

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر گفتگو کے لئے نجران کے وفد کے پاس مباہلے کے لئے حضرت حسنین کریمین حضرت فاطمہ ، حضرت علی رضی ﷲ عنہم کو لے کر باہر تشریف لارہے تھے ، یہ نورانی صورتیں دیکھ کر لاٹ پادری نے کہا! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو ان کی جگہ سے سرکا سکتی ہے۔ ان سے مباہلہ کرکے ہلاک نہ ہو ، چنانچہ یہودیوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا ۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8)

امام حسین قرآن کریم کے مطالب اور رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی احادیث بیان فرماتے تھے ۔ عبادت و ریاضت آپ کا معمول تھا، بہ کثرت نوافل پڑھتے تھے ، قیام اللیل آپ کا عام دستور تھا ۔ روزے بہ کثرت رکھا کرتے تھے اور سادہ غذا سے افطار کیا کرتے تھے، پچیس حج کئے ۔ رمضان المبارک میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن مجید ضرور ختم کرتے ۔ (سیر اعلام النبلا للذہبی 196/3 بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8، دانش گاہ، پنجاب لاہور۔چشتی)

حضرت جابر بن عبد ﷲ فرماتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع میں عرفہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ناقہ قصواء پر خطبہ فرماتے ہوئے سنا کہ : یاایھا الناس انی ترکت فیکم ما ان اخدتم بہ لن تضلوا کتاب ﷲ وعترتی اہل بیتی ۔ (ترمذی باب مناقب الحسن والحسین ج 218/2)
ترجمہ : اے لوگو! بے شک میں نے تم میں دو چیز چھوڑی ہے اگر اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو گی تو گمراہ نہیں ہوگے ۔ وہ کتاب ﷲ (قرآن مجید) اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں ۔

حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت علی ، فاطمہ ، حسن و حسین رضی ﷲ عنہم کے متعلق فرمایا : انا حرب لمن حاربہم وسلم لمن سالہم ۔
ترجمہ : جو ان سے لڑے ، میں ان سے لڑنے والا ہوں اور جو ان سے صلح رکھے ، میں ان سے صلح رکھنے والا ہوں ۔

حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : من سرہ ان ینظر الی رجل من اہل الجنۃ فی لفظ الی سید شباب اہل الجنۃ فلینظر الی الحسین بن علی ۔ (ابن عساکر)
ترجمہ : جو کسی جنتی مرد کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے ، اور ایک روایت کے الفاظ میں ہیں ، جو کسی جنتی نوجوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہو تو وہ حسین بن علی کو دیکھ لے ۔

ﷲ عزّ و جل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ارشادات سے ثابت ہوا کہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اجمعین کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے ، امام حسین رضی ﷲ عنہ ﷲ عزّ و جل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے محبوب و مقبول اور جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔ آپ سے محبت گویا ایمان کی پہچان ہے اور آپ سے بغض گمرہی کی نشانی ۔ آپ کے فضائل و مناقب خیالی ہی نہیں بلکہ حقیقی ہیں ، جن کے تذکرے سے اہلِ ایمان کے دلوں کو جلا اور روح کو تازگی ملتی ہے ۔ (مزید حصّہ نمبر 9 میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 7

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 7

یزید پلید نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا تھا : یزید پلید نے حکم دیا کہ اگرحضرت امام حسین اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم بیعت نہ کریں تو انہیں قتل کردو ۔ (البدایہ ولنہایہ جلد ہشتم صفحہ نمبر 191 مترجم اردو مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)

یزید پلید کے وکیل آج بھی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ امیر یزید بن معاویہ بے گناہ ہے ، وہ قتل حسین میں ملوّث نہیں ۔ جبکہ محدثین کرام علیہم الرّحمہ لکھتے آرہے ہیں کہ یزید پلید ہی نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے اور ان کے ساتھ لڑائی کے احکامات جاری کیے تھے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں کے نام تک سے امت کو آگاہ فرما دیا تھا ۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : يُقْتَلُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رضی الله عنهما عَلٰی رَأْسِ سِتِّيْنَ مِنْ مُهَاجَرَتِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَزَادَ فِيْهِ: حِيْنَ يَعْلُو الْقَتِيْرُ، الْقَتِيْرُ: الشَّيْبُ ۔
ترجمہ : حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو میری ہجرت کے ساٹھویں سال کے آغاز پر شہید کر دیا جائے گا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی اور دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ امام دیلمی نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : جب ایک (اَوباش) نوجوان ان پر چڑھائی کرے گا ۔ (طبراني، المعجم الکبير، 3: 105، رقم: 2807، الموصل: مکتبة الزهراء)

ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي قَائِمًا بِالْقِسْطِ. حَتّٰی يَکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ يَثْلِمُهُ. رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَةَ. يُقَالُ لَهُ يَزِيْدُ ۔
ترجمہ : میری امت دین و انصاف کی قدریں قائم رہیں گی ، حتیٰ کہ ایک شخص اقتدار پر آئے گا۔ یہ پہلا شخص جو میرے دین کی قدروں کو پامال کردے گا۔ وہ شخص بنو امیہ میں سے ہوگا۔ اُس کا نام یزید ہوگا ۔ (أبو يعلی، المسند، 2: 176، رقم: 871، دمشق: دار المأمون للتراث)،(تاریخ دمشق، جلد نمبر 65 صفحہ نمبر 249-250، طبع دار الفکر،چشتی)

نام نہاد اہلحدیثوں غیر مقلد وہابیوں یزید کے وکیلوں کے محدث العصر حافظ زبیر علی زئی نے اس روایت کی سند کو حسن کہا ہے ۔ (تحقیقی، اصطلاحی اور علمی مقالات جات جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 356-357 طبع الکتاب انٹرنیشنل دہلی انڈیا)

مشہور اہلحدیث غیر مقلد محقق ابو جابر عبد اللہ دامانوی لکھتے ہیں : ناصبی حضرات نے یزید کو جنّتی ثابت کرنے کےلیئے نئی تحقیق کا نام دے کر یزید کو بے گناہ و جنّتی ثابت کرنے کی کوشش کی اور ان کی اس نئی تحقیق کے نام پر بعض اہلحدیث گمراہ ہوئے جبکہ یزید قاتل اہلبیت و صحابہ رضی اللہ عنہم ہے ۔ (یزید بن معاویہ اور جیش مغفور صفحہ 8 مشہور اہلحدیث غیر مقلد محقق ابو جابر عبد اللہ دامانوی)

مام الناقدین امام شمس الدین ذہبی رحمۃ اللّٰہ علیہ ، یزید پلید کے بارے لکھتے ہیں : وكان ناصبيّاً ، فظاً غليظاً ، جلفاً ، يتناول المسكر ، ويفعل المنكر ، افتتح دولته بمقتل الشهيد الحسين (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ، واختتمها بواقعة الحرّة ، فمقته الناس ، ولمْ يبارك في عمره ، وخرج عليه غير واحد بعد الحسين (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) كأهل المدينة ۔
ترجمہ : یزید ناصبی ، سنگدل بد زبان ، غلیظ ، جفاء کار مئے نوش ، بدکار ، تھا اس نے اپنی حکومت کا افتتاح امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کے قتل سے کیا ، اور واقعہ حرّہ (مدینہ پر حملہ) پر اس کا احتتام کیا ، اسی لئے لوگوں نے اس پر پھٹکار بھیجی ، اور اس کی عمر میں برکت نہ ہو سکی ، امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد بہت سے حضرات نے محض فی سبیل اللہ خروج کیا جیسے حضرات اہلِ مدینہ ۔ (سیر اعلام النبلاء، جلد 4، صفحہ37، 38، مطبوعہ موسسة الرسالة بیروت،چشتی)

ابن عثم کوفی نقل کرتے ہیں کہ یزید نے والی مدینہ کو خط لکھ کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو شھید کرنے کا حکم دیا تھا : وليكن مع جوابك إليّ رأس الحسين بن عليّ، فإن فعلت ذلك فقد جعلت لك أعنّة الخيل، ولك عندي الجائزةّ والحظّ الأوفرّ والنعمة واحدة والسلام ۔
ترجمہ : اس خط کے جواب کے ساتھ حسین رضی اللہ عنہ کا سر بھی ہونا چاہیے اگر تم نے ایسا کر دیا تو ہماری طرف سے بڑے انعام کے حقدار بنو گے والسلام ۔ (الفتوح ، ج 3، جزء 5، ص 18)

علامہ ابن اثیر جزری رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ عبید الله ابن زیاد نے اتنا بڑا ظلم ( قتل امام حسین رضی اللہ عنہ) کیوں کیا ، اسی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : أما قتلي الحسين فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي فاخترت قتله ۔
ترجمہ : مجھ کو یزید نے میرے قتل ہونے اور حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کے درمیان اختیار دیا تھا (یا مجھ عبید اللہ بن زیاد کا قتل ہو گا یا حسین کا) اور میں نے ان دونوں میں سے حسین کے قتل کا انتخاب کیا ۔ (أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم الشيباني الوفاة: 630هـ ، الكامل في التاريخ ج 3 ، ص 474 ، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1415هـ ، الطبعة: ط2 ، تحقيق: عبد الله القاضي)

علاّمہ قرمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یزید نے عبید الله ابن زياد کو حکم دیا تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے : و بلغ الخبر الي يزيد فولي العراق عبيد الله بن زياد و امره بقتال الحسين ۔
ترجمہ : یزید نے والی عراق عبید اللہ ابن زیاد کو حکم دیا تھا کہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کو قتل کر دے ۔ (القرماني، احمد بن يوسف، المتوفي:‌ 1019، اخبار الدول و آثار الاُوَل في التاريخ، ج 1، ص 320، تحقيق: احمد حطيط – فهمي سعد، ناشر: عالم الكتب)

ابن اعثم كوفی نے بھی اس واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : فكتب عبيد الله بن زياد إلى الحسين: أما بعد يا حسين ! فقد بلغني نزولك بكربلاء ، وقد كتب إلي أمير المؤمنين يزيد بن معاوية أن لا أتوسد الوثير ولا أشبع من الخبز ، أو ألحقك باللطيف الخبير أو ترجع إلى حكمي وحكم يزيد بن معاوية – والسلام ۔
ترجمہ : عبيد الله ابن زياد نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا : اما بعد ، اے حسین مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کربلا میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ یزید ابن معاویہ نے مجھے لکھا ہے کہ میں آرام سے نہ بیٹھوں اور سیر ہو کے کھانا نہ کھاؤں (اس بات سے کنایہ ہے کہ آپ کے بارے میں جلد از جلد فیصلہ کروں) یہاں تک کہ آپ کو رضی اللہ عنہ خدا سے ملحق کر دوں یا پھر میرے اور یزید کے حکم کو تسلیم کر لیں والسلام ۔(الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 84- 85،چشتی)(مطالب السؤول في مناقب آل الرسول (رضی اللہ عنہم) - محمد بن طلحة الشافعي صفحہ 400)

یزید کا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر فخر و مباہات کرنا

علاّمہ ابن اثیر رحمۃ اللہ لکھتے ہیں : واقعہ کربلا کے بعد جب یزید نے عمومی ملاقات کی اجازت دی اور لوگ مجلس میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اقدس اس کے سامنے رکھا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہے کہ جس کےساتھ وہ امام رضی اللہ عنہ کے گلے کی بے حرمتی کر رہا ہے اور کچھ اشعار کو گنگنا رہا تھا کہ جو امام رضی اللہ عنہ کے قتل پر فخر و مباہات پر دلالت کر رہے تھے ۔ (کامل ابن اثیر، ج 3 ص 298)

اسی مطلب کو امام سیوطی ، سبط ابن جوزی علیہما الرّحمہ نے بھی نقل کیا ہے کہ: یزید امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی توہین کرتے ہوئے ابن زبعری کے اشعار کو گنگنا رہا تھا جن کا مضمون کچھ یوں تھا کہ : ہم نے بنی ہاشم کے بزرگان کو بدر کے مقتولین کے بدلے کے طور پر قتل کیا ہے ۔ (تذکرۃ الخواص، ص 235)

یزید لعین کے کفریہ اشعار

محترم قارئینِ کرام : یزید نے اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کو دربار میں اسیروں کی حالت میں حاضر کر کے کفر آمیز اشعار کہ کر واقعہ کربلا کو اپنے لیے افتخار شمار کیا ہے :

ليت أشياخي ببدر شهدوا
جزع الخزرج من وقع الاسل

قد قتلنا الكثير من أشياخهم
وعد لناه ببدر فاعتدل

لست من خندف إن لم أنتقم
من بنی أحمد ما كان فعل

لعبت هاشم بالملك فلا
خبر جاء ولا وحی نزل

ترجمہ اشعار : اے کاش ہمارے وہ آباء و اجداد (کفّار) جو بدر میں مارے گئے ، وہ زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ آل احمد سے ہم نے کیسے انتقام لیا ۔ ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کر کے بدر کا بدلہ چکا دیا ہے ۔ اگر آل احمد سے بدلہ نہ لیا ، تو میں بنی خندف سے نہیں ہوں ، بنی ہاشم نے حکومت کے ساتھ کھیل کھیلا ہے ان پر نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ کوئی فرشتہ اتر آیا ہے ۔ (ابن جوزی، المنتظم ،ج 2،ص 199)(ابو الفرج اصبہانی، مقاتل الطالبيين ،ج 1 ،ص 34،چشتی)(ابن المطهر ،البدء والتاريخ ،ج 1،ص 331)(الدولة الأموية للصلابي ،ج 2،ص 256)(البداية والنهاية ،ج 8،ص 192)(تاريخ الطبري ،ج 8،ص 187)(تاريخ الطبري - ،ج 8 ،ص 188)

یزید کے وکلیو اور یزید کے دلاّلو اب بھی وقت ہے یزید کی وکالت و حمایت سے توبہ کر لو ایسے بدبخت کی حمایت کرتے ہو قاتلِ اہلبیت رضی اللہ عنہم اور مدینۃ المنورہ کی بے حرمتی کرنے والے خبیث پلید کی حمایت کرتے ہو کچھ شرم و حیاء کرو جن کا کملہ پڑھتے ہو انہیں کی آل کے قاتل کی حمایت کرتے ہو ۔

مہتمم دارالعلوم دیوبند جناب قاری محمد طیب دیوبندی صاحب کی گواہی یزید فاسق و فاجر تھا اور امام حسین و اہلبیت رضی اللہ عنہم کا قتل اسی کے حکم پر ہوا اور وہ اس پر راضی تھا ۔ (شہید کربلا صفحہ 126 قاری محمد طیب دیوبند مہتمم دیوبند)

یزید کے سگے بیٹے کی گواہی یزید شرابی اور قاتلِ اہلبیت تھا

یزید کے بیٹے نے چند دن حکومت میں رہ کر حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ : إن هذه الخلافة حبل الله وإن جدي معاوية نازع الامر أهله ومن هو أحق به منه علي بن أبي طالب وركب بكم ما تعلمون حتی أتته منيته فصار في قبره رهينا بذنوبه ثم قلد أبي الامر وكان غير أهل له ونازع ابن بنت رسول الله ثم بكی وقال إن من أعظم الامور علينا علمنا بسوء مصرعه وبئيس منقلبه وقد قتل عترة رسول الله وأباح الحرم وخرب الكعبة ۔
ترجمہ : میرے باپ یزید نے حکومت سنبھالی حالانکہ وہ اس قابل نہ تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام حسین سے اس نے جنگ کی اور اس کی عمر کم ہوگئی ، اور وہ اپنے گناہوں کو لیکر قبر میں جا پھنسا ، پھر یزید کا بیٹا روپڑ ا، کہا ہمارے لئے بڑ ا صدمہ یزید کے برے انجام کا ہے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قتل کیا ، شراب کو حلال کیا ، کعبہ کو تباہ کیا ۔ (الصواعق المحرقہ عربی صفحہ نمبر 642 اور مترجم کے صفحات نمبرز 740 ، 741،چشتی)

یزید پلید کے وکیل آج بھی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ امیر یزید بن معاویہ بے گناہ ہے ، وہ قتل حسین میں ملوّث نہیں ۔ جبکہ محدثین کرام علیہم الرّحمہ لکھتے آرہے ہیں کہ یزید پلید ہی نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے اور ان کے ساتھ لڑائی کے احکامات جاری کیے تھے ۔

یزید نے کوفہ کے گورنر کو لکھا تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے تیرے شہر میں آنے کو منتخب کیا ہے ، اب یہ تیرے اوپر منحصر ہے کہ تو آزاد زندگی گذارنا چاہتا ہے یا غلامی کی زندگی ، اور کوفہ کے گورنر ملعون ابن زیاد نے اپنی زندگی گذارنے کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو قتل (شہید) کرکے سر یزید کے پاس بھیج دیا ۔

امام ذهبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : خرج الحسين إلي الكوفة، فكتب يزيد إلي واليه بالعراق عبيد الله بن زياد: إن حسينا صائر إلي الكوفة، وقد ابتلي به زمانك من بين الأزمان، وبلدك من بين البلدان، وأنت من بين العمال، وعندها تعتق أو تعود عبدا. فقتله ابن زياد وبعث برأسه إليه ۔
ترجمہ : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جب کوفے کی طرف حرکت کی تو یزید نے والی عراق عبيد الله بن زياد کو لکھا کہ حسین کوفے کی طرف جا رہا ہے اس نے دوسرے شہروں کی بجائے آنے کے لیے تمہارے شہر کا انتخاب کیا ہے تم میرے قابل اعتماد ہو پس تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے آزاد رہ کر زندگی گزارنی ہے یا غلام بن کر۔ اس پر ابن زیاد نے حسین کو قتل کیا اور اس کے سر کو یزید کے لیے بھیجا ۔ (شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي الوفاة: 748هـ ، تاريخ الإسلام ج 5 ص 10 دار النشر : دار الكتاب العربي - الطبعة : الأولى ، تحقيق : د. عمر عبد السلام تدمرى محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748 ، سير أعلام النبلاء ج 3 ص 305 دار النشر : مؤسسة الرسالة - بيروت - التاسعة ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي،چشتی) ، یہی بات امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل ہے ہے : تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614)

علامہ امام جلال الدین سيوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں : فكتب يزيد إلي واليه بالعراق، عبيد الله بن زياد بقتاله ۔
ترجمہ : يزيد نے عبيد الله بن زياد کہ جو والی عراق تھا کو امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ (تاريخ الخلفاء، ص 193، چاپ دار الفكر سال 1394 هـ. بيروت)

ابن زياد نے مسافر بن شريح يشكری کو لکھا کہ : أما قتلي الحسين، فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي، فاخترت قتله ۔
ترجمہ : میں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو اس لیے قتل کیا ہے کہ مجھے حسین (رضی اللہ عنہ) کے قتل کرنے یا خود مجھے قتل ہونے کے درمیان اختیار دیا گیا تھا اور میں نے ان دونوں میں سے حسین (رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے کو انتخاب کیا ۔ (الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324. لابن اثیر)

ابن زياد نے امام حسين (رضی اللہ عنہ) کو خط لکھا کہ : قد بلغني نزولك كربلاء، وقد كتب إلي أمير المؤمنين يزيد: أن لا أتوسد الوثير، ولا أشبع من الخمير، أو ألحقك باللطيف الخبير، أو تنزل علي حكمي، وحكم يزيد، والسلام ۔
ترجمہ : مجھے خبر ملی ہے کہ تم کربلا میں پہنچ گئے ہو اور یزید نے مجھے کہا ہے کہ بستر پر آرام سے نہ سوؤں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں مگر یہ کہ یا تم کو خدا کے پاس روانہ کر دوں یا تم کو یزید کی بیعت کرنے پر راضی کروں ۔ (الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324. لابن اثیر،چشتی)

یزید نے کوفہ کے گورنر کو لکھا تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے تیرے شہر میں آنے کو منتخب کیا ہے ، اب یہ تیرے اوپر منحصر ہے کہ تو آزاد زندگی گذارنا چاہتا ہے یا غلامی کی زندگی ، اور کوفہ کے گورنر ملعون ابن زیاد نے اپنی زندگی گذارنے کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو قتل (شہید) کرکے سر یزید کے پاس بھیج دیا ۔

امام ذهبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : خرج الحسين إلي الكوفة، فكتب يزيد إلي واليه بالعراق عبيد الله بن زياد: إن حسينا صائر إلي الكوفة، وقد ابتلي به زمانك من بين الأزمان، وبلدك من بين البلدان، وأنت من بين العمال، وعندها تعتق أو تعود عبدا. فقتله ابن زياد وبعث برأسه إليه ۔
ترجمہ : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جب کوفے کی طرف حرکت کی تو یزید نے والی عراق عبيد الله بن زياد کو لکھا کہ حسین کوفے کی طرف جا رہا ہے اس نے دوسرے شہروں کی بجائے آنے کے لیے تمہارے شہر کا انتخاب کیا ہے تم میرے قابل اعتماد ہو پس تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے آزاد رہ کر زندگی گزارنی ہے یا غلام بن کر۔ اس پر ابن زیاد نے حسین کو قتل کیا اور اس کے سر کو یزید کے لیے بھیجا ۔ (شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي الوفاة: 748هـ ، تاريخ الإسلام ج 5 ص 10 دار النشر : دار الكتاب العربي - الطبعة : الأولى ، تحقيق : د. عمر عبد السلام تدمرى محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748 ، سير أعلام النبلاء ج 3 ص 305 دار النشر : مؤسسة الرسالة - بيروت - التاسعة ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي،چشتی) ، یہی بات امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل ہے ہے : تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614)

علامہ امام جلال الدین سيوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں : فكتب يزيد إلي واليه بالعراق، عبيد الله بن زياد بقتاله ۔
ترجمہ : يزيد نے عبيد الله بن زياد کہ جو والی عراق تھا کو امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ (تاريخ الخلفاء، ص 193، چاپ دار الفكر سال 1394 هـ. بيروت)

ابن زياد نے مسافر بن شريح يشكری کو لکھا کہ : أما قتلي الحسين، فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي ، فاخترت قتله ۔
ترجمہ : میں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو اس لیے قتل کیا ہے کہ مجھے حسین (رضی اللہ عنہ) کے قتل کرنے یا خود مجھے قتل ہونے کے درمیان اختیار دیا گیا تھا اور میں نے ان دونوں میں سے حسین (رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے کو انتخاب کیا ۔ (الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324. لابن اثیر)

ابن زياد نے امام حسين رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ : قد بلغني نزولك كربلاء، وقد كتب إلي أمير المؤمنين يزيد: أن لا أتوسد الوثير، ولا أشبع من الخمير، أو ألحقك باللطيف الخبير، أو تنزل علي حكمي، وحكم يزيد، والسلام ۔
ترجمہ : مجھے خبر ملی ہے کہ تم کربلا میں پہنچ گئے ہو اور یزید نے مجھے کہا ہے کہ بستر پر آرام سے نہ سوؤں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں مگر یہ کہ یا تم کو خدا کے پاس روانہ کر دوں یا تم کو یزید کی بیعت کرنے پر راضی کروں ۔ (الكامل في التاريخ، جلد 3 صفحہ 324 لابن اثیر،چشتی)

قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق یزید شرابی و کافر ہے اور اس پر لعنت کرنا جائز ہے : ⬇

قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1225 ھ) جو کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے اورحضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے "اپنے دور کا بیہقی" ہونے کا لقب دیا، اپنی کتاب تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں : یزید اور اس کے ساتھیوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اہل ِبیت کی دشمنی کا جھنڈا انہوں نے بلند کیا اور حضرت حسین کو انہوں نے ظلماً شہید کردیا اور یزید نے دینِ محمدی کا ہی انکار کردیا اور حضرت حسین کو شہید کرچکا تو چند اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ تھا کہ آج میرے اسلاف ہوتے تو دیکھتے کہ میں نے آلِ محمد اور بنی ہاشم سے ان کا کیسا بدلہ لیا ۔ یزید نے جو اشعار کہے تھی ان میں آخری شعر یہ تھا : احمد نے جو کچھ (ہمارے بزرگوں کے ساتھ بدر میں) کیا اگر اولاد سے میں نے اس کا انتقام نہ لیا تو میں بنی جندب سے نہیں ہوں ۔

یزید نے شراب کو بھی حلال قرار دے دیا تھا ۔ شراب کی تعریف میں چند شعر کہنے کے بعد آخری شعر میں اس نے کہا تھا : اگر شراب دین ِاحمد میں حرام ہیں تو (ہونے دو) مسیح بن مریم کے دین (یعنی عیسایت) کے مطابق تم اس کو (حلال سمجھ کر) لے لو ۔ یزید اور اس کے ساتھیوں اور جانشینوں کے یہ مزے ایک ہزار مہینے تک رہے، اس کے بعد ان میں سے کوئی نہ بچا ۔ (تفسیر مظہری عربی ، ج 5 ص 271 سورہ 14 آیت 29)،(تفسیر مظہری جلد پنجم صفحہ نمبر 327،چشتی)

قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں : یزید بد بخت نے امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کروایا اور اسے بدر والے مقتول کفار کا بدلہ قرار دیا،یزید شرابی کو حلال جانا ، حرمت کعبۃ اللہ و مدینۃ المنوّرہ پامال کی غرض کونسا جرم ہے جو اس نے نہ کیا ۔ (تفسیر مظری پنجم صفحہ 645،چشتی)

ہمیشہ کی طرح دیوبندیوں نے دارالاشاعت کراچی کے ترجمہ میں ڈنڈی مار ہے اور یزید کے اشعار جو قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیے ہیں وہ مکمل طور پر نقل نہیں کیے ۔

سورہ نمبر 24 آیت 55 کی تفسیر میں بھی قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت "ومن كفر بعد ذلك" میں یزید بن معاویہ کی طرف اشارہ ہو۔ یزید نے رسول اللہ کے نواسے کو اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کیا ۔ یہ ساتھی خاندانِ نبوت کے ارکان تھے ، عزت ِرسول کی بےعزتی کی اور اس پر فخر کیا اور کہنے لگا آج بدر کے دن کا انتقام ہو گیا ، اسی نے مدینۃ الرسول پر لشکر کشی کی اوت حرہ کے واقع میں مدینہ کو غارت کیا اور وہ مسجد میں جس کی بناء تقویٰ پر قائم کی گئی تھی اور جس کے جنت کو باغوں میں سے ایک باغ کہا گیا ہے اس کی بے حرمتی کی ، اس نے بیت اللہ پر سنگباری کےلیے منجیقیں نصب کرایئں اور اس نے اول خلیفہ رسول حضرت ابو بکر کے نواسے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کرایا اور ایسی ایسی نازیبا حرکتیں کیں کہ آخر اللہ کے دین کا منکر ہوگیا اور اللہ کی حرام کی ہوئی شراب کو حلال کردیا ۔ (تفسیر مظہری جلد 8 صفحہ 268،چشتی)

قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ السّیف المسلول میں فرماتے ہیں : یزید پر لعنت کرنا جائز ہے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن سے ثابت کیا ہے اور جو اللہ کو مانتا ہے وہ یزید سے دوستی نہیں کرے علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید پر لعنت ہے ، اور یزید کا کفرِ صریح یہ ہے کہ اس نے سرِ امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین کی اور کفریہ اشعار پڑھےایسوں پر اللہ ، تمام فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو ۔ (السیّف المسلول صفحہ نمبر 488 تا 490)

قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک خط میں تحریر کیا : غرض یہ کہ یزید کافر معتبر روایت سے ثابت ہے۔ پس وہ مستحق ِلعنت ہے اگرچہ لعنت کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن الحب فی اللہ البغض فی اللہ اس کا متقاضی ہے ۔ (المکتوبات صفحہ 203)

نوٹ : قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کو دیوبندی اپنا رہنما کہتے ہیں اب بعض دیوبندی جو یزید کی حمایت کرتے ہیں ان کےلیے لمحہ فکریہ جو اسے تابعی ثات کرنا چاہتے ہیں ان کےلیے جواب ہے کہ جب کفر کرلیا یزید نے تو تابیعت کیا فائدہ دے گی اسے کیا اس کفر کے بعد بھی اس کی تابیعت باقی رہی ؟ ۔

امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یزید بد تمیز ، ناصبی ، نشہ کرنے والا ، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاتل اور مدینۃُ المنورہ کی بے حرمتی کرنے والا تھا ۔ (سیر اعلام النبلاء صفحہ نمبر 37 ، 38)

اب کیا کہتے ہیں یزید کے وکیل کہ یزید نے قتل کا حکم نہیں دیا ؟ یزید کے وکیلو اب بھی وقت ہے یزید کی وکالت و حمایت سے توبہ کر لو ایسے بدبخت کی حمایت کرتے ہو قاتلِ اہلبیت رضی اللہ عنہم اور مدینۃ المنورہ کی بے حرمتی کرنے والے خبیث پلید کی حمایت کرتے ہو کچھ شرم و حیاء کرو جن کا کملہ پڑھتے ہو انہیں کی آل کے قاتل کی حمایت کرتے ہو ۔ (مزید حصّہ نمبر 8 میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 6

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 6
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ واقعہ کربلا اور پیغامِ کربلا ۔ واقعہ کربلا کو ہوئے صدیاں گذر چکی ہیں مگر یہ ایک ایسا المناک اور دل فگار (غمزدہ) سانحہ ہے کہ پورے ملت اسلامیہ کے دل سے محو (زائل) نہ ہو سکا ۔ یہ واقعہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے وابستہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نواسے ، حضرت علی کّرم اللہ وجہہ ‘ اور حضرت  بی بی فاطمۃ الزّہرا رضی اللہ عنہا کے لخت جگر تھے ۔ اسلامی تاریخ میں دورِ خلافت کے بعد یہ واقعہ اسلام کی دینی ، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوا ہے ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے اس عظیم واقعہ پر بلا شک و شبہہ اور بلا مبالغہ دنیا کے کسی بھی دیگر حادثہ پر نسلِ انسان کے اس قدرآنسو نہ بہے ہونگے۔ بلکہ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک سے جس قدر خون دشتِ کربلا میں بہا تھا اس کے بدلے پوری ملتِ اسلامیہ ایک ایک قطرہ کے عوض اشک ہائے رنج و غم کا ایک سیلاب بہا چکی ہے اور لگاتار بہا رہی ہے اور بہاتی رہے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے واقعہ کربلا کو ہمیشہ کےلیے زندہ و جاویدہ بنا دیا تاکہ انسان اور خصوصاً ایمان والے اس سے عبرت حاصل کرتے رہیں ۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارکہ 5 شعبان 04 ؁ھ کو مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے آپ کے کان میں آذان دی ، منھ میں لعابِ دہن ڈالا اور آپ کے لئے دعاء فرمائی پھر ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور عقیقہ کیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ اور لقب ’’ سبط رسول ‘‘ تھا وریحانۂ رسول ہے۔ حدیث شریف میں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر و شبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا انہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا ۔ (صواعق محرقہ، صفحہ 118،چشتی)

اس لئے حسنین کریمین کو شبیر اور شبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سریانی زبان میں شبیر و شبر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔

ایک حدیث پاک میں ہے کہ اَلْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ اِسْمَانِ مَنْ اَھْلِِ الْجَنَّۃ ۔
ترجمہ حسن اور حسین جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں ۔ (صواعق محرقہ، صفحہ 1186)

ابن الا عرابی حضرت مفضل سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نام مخفی (پوشیدہ) رکھے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے نواسوں کا نام حسن اور حسین رکھا ۔ (اشرف المؤید، صفحہ 70)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بہت حدیثیں وارد ہوئی ہیں ۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے حضرت یعلیٰ بن مرہّ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا حُسَیْنُ مِنِّی وَ اَنَا مِنَ الْحُسَیْن حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔یعنی حسین رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حسین رضی اللہ عنہ سے انتہائی قرب ہے ۔ گویا کہ دونوں ایک ہیں۔ حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ذکر ہے ۔ حسین رضی اللہ عنہ سے دوستی حضور سے دوستی ہے ۔ حسین رضی اللہ عنہ سے دشمنی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دشمنی ہے اور حسین رضی اللہ عنہ سے لڑائی کرنا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے لڑائی کرنا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں اَ حَبَّ اللّٰہُ مَنْ اَ حَبَّ حُسَیْنَا جس نے حسین سے محبت کی اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 571)

اس لئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے محبت کرنا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے محبت کرنا اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ہے ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ صفحہ نمبر 605)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا جسے پسند ہو کہ کسی جنتی جوانوں کے سردار کو دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھے ۔ (نور الابصار صفحہ 114،چشتی)

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا چھوٹا بچہ کہاں ہے ؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گود میں بیٹھ گئے اوراپنی انگلیاں داڑھی مبارک میں داخل کر دیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کا منہ کھول کر بوسہ لیا اور فرمایا۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُحِبُّہُ فَاَحِبَّہُ وَ اَحِبَّ مَنْ یُّحِبُّہ‘ ’’ اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اُس سے بھی فرما جو اس سے محبت کرے(نور الابصار صفحہ 114،چشتی)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے صرف دنیا والوں ہی سے نہیں چاہا کہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کریں بلکہ خدائے تعالیٰ سے بھی عرض کیا کہ تو بھی اس سے محبت فرما ۔ اور بلکہ یہ بھی عرض کیا کہ حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا کہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لعابِ دہن (رال ، تھوک) کو اس طرح چوستے ہیں جیسے کہ آدمی کھجور چوستا ہے ۔ یَمْتَصُّ لُعَابَالْحُسَیْن کَمَا یَمْتَصُ الرَّجُلُ التَّمَرَۃَ ۔ (نور الابصار صفحہ نمبر 114)

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما کعبہ شریف کے سایہ میں تشریف فرما تھے انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو تشریف لاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ۔ ھَذَا اَحَبُّ اَھْلِ الْاَرْضِ اِلیٰ اَھْلِ السَّمَآ ءِ الْیَوْمَ ۔ آج یہ آسمان والوں کے نزدیک تمام زمین والوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔ (اشرف المؤبد صفحہ 65)

حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا۔ اَلَحَسَنَُ وَ الْحُسَیْنُ سَیَّدَ شَبَابِ اَھْلِ الْجَنّۃَ حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (مشکوٰۃ شریف صفحہ 570)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا۔اِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنُ ھُمٰا رُ یُحَانِیْ مِنَ الدُنْیَا حسن اور حسین دنیا کے میرے دو پھول ہیں ۔ (مشکوٰۃ شریف صفحہ 570)

اس حدیث پاک کی ترجمانی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے بڑے پیارے انداز میں فرمائی ہے :

کیا بات ہے رضا اس چمنستان کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اورحسن پھول

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ کے ایک کندھے پر حضرت حسن کو اور دوسرے کندھے پر حضرت حسین کو اُٹھائے ہوئے تھے یہاں تک کہ ہمارے قریب تشریف لے آئے اور فرمایا ھَذَانِ اِبْنَا یَ وَ اِبْنَا اِبْنَتِی یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں ۔ اور پھر فرمایا اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُحِبُّہمَاُ فَاَحِبَّہمَاُ وَ اَحِبَّ مَنْ یُّحِبُّہمَا ۔ اے اللہ ! میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی ان کو محبوب رکھ اور جو ان سے محبت کرتا ہے ان کو بھی محبوب رکھ ۔ (مشکوٰۃ شریف صفحہ 570)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ایک کندھے پر حضرت حسن کو اور دوسرے کندھے پر حضرت حسین کو اٹھائے ہوئے تھے یہان تک کہ ہمارے قریب تشریف لے آئے اور فرمایا مَنْ اَ حَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَبْغَضُھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ جس نے ان دونوں سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ۔ (اشرف المؤبد صفحہ 71،چشتی)

ایک دن نبی کریم علیہ السلام اپنی بیٹی حضرت خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لائے تو سیدہ کونین نے عرض کی ابا جان آج صبح سے میرے دونوں شہزادے حسن و حسین گم ہیں اور مجھے کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ابھی حضور علیہ السلام نے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام فوراً حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی ۔ یا رسول علیہ السلام انھما فی مکانٍ کدا وکدا و قد وکل بھما ملک یحفظھما ۔ یعنی دونوں شہزادے فلاں مقام پر لٹیے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لئے ایک فرشتہ مقرر کر دیا ۔ حضرت زہرا ء سے فرما دو کہ وہ پریشان نہ ہووے ۔ پس حضور علیہ السلام اس مقام پر گئے تو دونوں شہزادے آرام کر رہے تھے اور فرشتے نے ایک پر نیچے اور دوسرا اوپر رکھا ہوا تھا ۔ ( نزہۃالمجالس جلد 2صفحہ 233)،(مشکٰوۃ شریف صفحہ 570،چشتی)،(ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 218)

یتیموں سے اور مسکینوں سے حسن سلوک اور شفقت و محبت کا معاملہ رکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کےلیے جنت کی بشارت دی ہے جو بہت بڑا انعام و اکرام ہے ۔ ربِ کائنات کا ارشاد گرامی ہے (پارہ 29 رکوع 19) اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر (یعنی ایسی حالت میں جب کہ خود انہیں کھانے کی حاجت و خواہش ہو) مسکین اور یتیم اور قیدی کو ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لئے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گذاری نہیں مانگتے ۔ بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی ۔

ان آیات کریمہ کا شانِ نزول یہ ہے حضرت حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ایک موقع سے بیمار پڑگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی کنیز فَضّہ نے ان کی صحت کےلیے تین روزوں کی منت مانی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت دی اور نذر (منت) کی وفا کا وقت آیا تو سب نے روزے رکھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک یہودی سے تین صاع جو لائے ۔ حضرت خاتونِ جنت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کا وقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھی گئیں تو پہلے روز مسکین دوسرے روز یتیم اور تیسرے روز قیدی نے آکر سوال کر دیا تو تینوں روز ساری روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں تو پہلے روز صرف پانی سے افطار کر کے اگلا روزہ رکھ لیا گیا تو ان کا یہ عمل ربِ کائنات کی بارگاہ میں اس قدر مقبول ہوا کہ یہ آیات کریمہ ان کی شان و عظمت اور ان کے حق میں نازل ہوئیں جن میں انہیں بڑے انعام و اکرام اور جنت کی بشارت دی گئی ہے تو یہ آیات کریمہ اگر چہ مخصوص لوگوں کے حق میں نازل ہوئیں جن میں انہیں بڑے انعام و اکرام اور جنت کی بشارت دی گئی ہے لیکن ان میں عام مومنوں کےلیے تعلیم ہے کہ اگر وہ بھی مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں سے حسن سلوک اور شفقت و محبت کریں تو انہیں بھی طرح طرح کے انعام و اکرام اور جنت سے سرفراز کیا جائے گا اور رب کائنات انہیں بھی آخرت کی پریشانیوں سے محفوظ اور جنت کی راحتوں سے لبریزکرے گا ۔ (تفسیر طبری،تفسیر کبیر،تفسیر روح البیان)

آپ کی شہادت کی شہرت

سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت بھی شہرتِ عام ہو گئی۔ حضرت علی ، حضرت فاطمہ زہرا اور دیگر صحابہِ کبار و اہلِ بیت کے جان نثار رضی اللہ عنہما سبھی لوگ آپ کے زما نۂ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور ان کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ جیسا کہ ان احادیث کریمہ سے ثابت ہے جو آپ کی شہادت کے بارے میں وارد ہیں۔حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گود میں دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ اِنَّ اُمَّتِیْ سَتَقْتُلْ اِبْنِی میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی حضرت اُم الفضل فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! کیا اس فرزند کو شہید کرے گی! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ہاں پھر حضرت جبرئیل میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سرخ مٹّی بھی لائے ۔ (مشکوٰۃ صفحہ 572،چشتی)

اور ابن سعد اور طبرانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اِنَّ اِبْنِیْ اَلْحُسَیْنُ یُقْتَلْ بَعْدِ بِاَرْضِ الطَّفِ میرا بیٹا میرے بعد ارضِ طِف میں قتل کیا جائے گا ۔ اور جبرائیل میرے پاس وہاں کی مٹی بھی لائے اور مجھ سے کہا کہ یہ حسین کی خوابگاہ (متقل) کی مٹی ہے ۔ (صواعق محرقہ، صفحہ 118،چشتی)

طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں ۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضری دینے کے لئے اللہ سے اجازت طلب کی جب وہ فرشتہ اجازت ملنے پر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ ان کو چومنے اور پیار کرنے لگے۔ فرشتے نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! کیا آپ حسین سے پیار کرتے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ہاں ۔ اس نے کہا اِنَّ اُمَّتَکَ سَتَقْتُلْہ‘ آپ کی امت حسین کو قتل کر دے گی ۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان کی قتل گاہ کی (مٹی) آپ کو دکھا دوں ۔ پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے میں لے لیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے ام سلمہ ! جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس مٹی کو ایک شیشی میں بند کر لیا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن خون ہو جائے گی ۔ (صواعق محرقہ، صفحہ 118)

اور ابن سعدحضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے موقع پر کربلا سے گذر رہے تھے کہ ٹھہر گئے اور اس زمین کا نام پوچھا لوگوں نے کہا اس زمین کا نام کربلا ہے کربلا کا نام سنتے ہی آپ اس قدر روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہو گئی ۔ پھر فرمایا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں ایک روز حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم رو رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا ابھی میرے پاس جبرائیل آئے تھے ا نہوں نے مجھے خبر دی اِنَّ وَلَدِیْ الْحُسَیْنَ یُقْتَلْ بِشَاطِیَّ الْفُرٰتِ بِمَوْ ضِعٍ یْقَالُ لَہ‘ کَرْبَلَاءِ میرا بیٹا حسین دریائے فرات کے کنارے اس جگہ شہید کیا جائے گا جس کو کربلا کہتے ہیں۔ اور ابونعیم اصبغ بن نباتہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر گاہ سے گذرے تو آپ نے فرمایا یہ شہیدوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے اور اس مقام پر کجاوے رکھے جائیں گے اور یہاں ان کے خون بہائے جائیں گے۔ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بہت سے جوان اسی میدان میں شہید کئے جائیں گے اور زمین و آسمان ان پر روئیں گے۔(مشکواۃ شریف صفحہ 572)(خصائص کبریٰ جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 126،چشتی)

آپ کی فضیلت کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ امام الانبیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں اسی دنیا میں نہ صرف جنَّتی ہونے کی بشارت دی بلکہ نوجوان جنَّتیوں کا سردار قرار دیا۔ اور ان کی محبت کو ایمان کا حصّہ بتاتے ہوئے یہ فرمایا کہ ’’ اے خدا میں حسین سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو کوئی حسن و حسین سے محبت رکھے ان سے تو بھی محبت فرما ‘‘ بے شک ہر مسلمان ان سے محبت رکھتا ہے اور محبت کی سب سے بڑی علامت ( نشانی) یہی ہے کہ ہر نماز میں درود شریف میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ ان کے آل و اولاد پر بھی درود بھیجتا ہے ۔

معرکہ حق وباطل اور حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت سے معرکہ حق و باطل جو کربلا میں رونما ہوا اس نے ساری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد 56 ہجری میں یزید ولی عہد مقرر ہوا اس کے خلیفہ بنتے ہی طوائف الملوکی شروع ہو گئی اور اسلامی خلافت کے بجائے بادشاہیت و آمریت نے پنجہ گاڑنا شروع کر دیا۔ تو افضل الجہاد کی نظیر پیش کرتے ہوئے کہ ظالم و جابر کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے اسکی عملی تصویر بن کر امام حسین رضی اللہ عنہ دین اسلام کی سر بلندی کی خاطر اُٹھ کھڑے ہوئے کہ دین حق دین اسلام اس طریقہ کا داعی نہیں یہ اسلامی روح کے خلاف ہے اور یہ پیغام دیا کہ مومن حکومت و سلطنت ظلم و جبر اور طاقت و قوت کے آگے ہتھیار نہیں ڈال سکتا ہے اور یزیدکی امارت و بیعت کا انکار کرتے ہوئے اس کی اطاعت قبول نہ فرمائی اس کی بیعت کو ٹھکرا دیا۔اور یہ اعلان کر دیا کہ :

مرد حق باطل سے ہرگز خوف کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں

آپ کو یزیدی لشکر کے خطرناک عزائم کا انکشاف ہوا تو حُرمت کعبہ کی خاطر وہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا اسی درمیان کوفیوں کے ہزاروں عقیدت بھرے خطوط ملے مگر آپ ان پر کیسے بھروسہ کرتے چونکہ ان ہی لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کیاتھا۔ اسلئے تحقیق کے خاطر اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو وہاں بھیجا انکے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار لوگوں نے ( ایک روایت میں 27000 لوگ) بیعت کئے اس کو دیکھ کر حضرت مسلم نے حضرت امام حسین کو آنے کے لئے اجازت (خط لکھ دیا) دی تو آپ کوفہ کے لئے عازمِ سفر ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ و حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ودیگر صحابہ نے آپ کو کوفہ جانے سے منع فرمایا لیکن آپ نے دین حق کی خاطر جان کی قربانی کیلئے بھی ذرا سی لرزش نہ دیکھائی، یزید کے گورنر عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل کیلئے زمین تنگ کر دی اور انہیں بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ خبر امام حسین رضی اللہ عنہ کو ملی یہ ایک اندوہناک خبر تھی آپ کو زبردست صدمہ پہنچا واپسی پر نظر ثانی کیا بھی جا سکتا تھا۔ مگر حضرت مسلم ان کے خویش و اقارب جو وہاں موجود تھے انہیں یہ گوارا نہیں تھا۔ اس لئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی واپسی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے خود ہی اپنے قافلہ کے لوگوں کو یہ اجازت دے دی تھی کہ جسے واپس جانا ہے وہ چلا جائے۔ یہ سن کر صرف دو حضرات چھوڑ کر چلے گئے۔ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ حربن یزید نے ایک لشکر جرار کے ساتھ آپ کو محصور کر لیا تاکہ والی عراق عبداللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا جائے ۔ اسی دوران نماز ظہر کا وقت ہو گیا ۔ آپ نے نماز ادا فرمائی بعد نماز حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ کے ذریعہ حر اور اسکے ساتھیوں (فوج) کے سامنے پوری بات رکھی۔ خطوط اور قاصدوں کا حوالہ دیا۔ حر حیران ضرور ہوا مگر اس نے خطوط کے متعلق لا علمی ظاہر کی اور اس نے آپ کے قافلہ کو روک لیا۔ یہاں بھی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ دیا جو تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہے : (ترجمہ) اے لوگو ! رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ جو کوئی بھی ایسے حاکم کو دیکھے کہ ظلم کرتا ہے ۔ خدا کے حدود کو توڑتا ہے۔ سنتِ نبوی کی مخالفت کرتاہے اور سر کشی سے حکومت کرتا ہے اور اسے دیکھنے پر بھی کوئی مخالفت نہیں کرتا ہے اور نہ اسے روکتا ہے تو ایسے آدمی کا اچھا ٹھکانہ نہیں ہے۔ دیکھو ! یہ لوگ شیطان کے پیرو کار ہیں ۔ رحمٰن سے بے سروکار ہیں حدود الٰہی معطل ہے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرایاجارہا ہے۔ میں ان کی سر کشی کو حق اور عدل سے بدل دینا چاہتا ہوں اور اس کے لئے میں سب سے زیادہ حقدار بھی ہوں۔ اگر تم اپنی بیعت پر قائم رہو تو تمہارے لئے ہدایت ہے ورنہ عہد شکنی عظیم گناہ ہے۔ میں حسین ہوں۔ ابن علی، ابن فاطمہ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا جگر گوشہ مجھے اپنا قائد بناؤ مجھ سے منھ نہ موڑو، میرا راستہ نہ چھوڑو، یہ صراطِ مستقیم کا راستہ ہے اس حقیقت افروز خطبہ کا لوگوں پر کافی اثر ہوا لیکن لالچ اور خوف کی و جہ کر چپ رہے۔ 9 محرم الحرام کی رات کا وقت تھا آپ رات بھر عبادت میں مشغول رہے صبح دس محرم کی تاریخ آگئی دونوں اطراف میں صف آرائی ہو رہی تھی ۔ نماز فجرکے بعد عمرو بن سعد اپنی فوج لے کر نکلا، ادھر امام حسین رضی اللہ عنہ بھی اپنے احباب کے ساتھ تیار تھے۔ آپ کے ساتھ 72 نفوس قدسیہ جس میں بچے بوڑھے خواتین بھی شامل تھیں دوسری جانب 90 ہزار کا لشکر جرار تمام حرب و ہتھیار سے لیس تھے۔ آپ نے جس جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ جس طرف رخ کرتے یزیدی فوج بھیڑیوں کی مانند بھاگ کھڑی ہوتی۔ معاملہ بہت طویل ہوگیا۔ معصوم اورشیر خوار بچے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے لگے ، خیمے جلا دیئے گئے ، بھوکے پیاسے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میدان کربلا میں صبر کا پہاڑ بن کر جمے رہے، یزیدی دور سے تیر برساتے رہے اور پھر ایک مرحلہ آیا کہ بدبخت شمر ذی الجوشن جب قریب آیا تو آپ پہچان گئے کہ یہی سفید داغ والا وہی بدبخت ہے جس کے بارے میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اپنے اہل بیت کے خون سے اس کے منہ کو رنگتا دیکھتا ہوں ۔ اور وہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی شمرلعین کے لئے بدبختی ہمیشہ کے لئے مقدر بن گئی ادھر امام حسین رضی اللہ عنہ سجدہ میں گئے اورشمر کی تلوار نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی گردن مبارک کو تن سے جدا کر دیا وہ یومِ عاشورہ جمعہ کا دن تھا ماہِ محرم الحرام 61 ؁ ھ میں یہ واقعہ پیش آیاآیا اس وقت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک 55 سال کے قریب تھی ۔

پیغامِ شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

سید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں کئی پیغام دیتی ہے اول یہ کہ ایمان والا اپنے خون کے آخری قطرہ تک حق پر صداقت پر جما رہے باطل کی قوت سے مرعوب نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ امام حسین رضی اللہ عنہ یزید کی جن خرابیوں کے باعث مخالفت کیا ویسے لوگوں سے اپنے آپ کو الگ کرے اور فسق و فجور والا کام نہ کرے اور نہ ویسے لوگوں کا ساتھ دے نیز یہ بھی پیغام ملا کہ ظاہری قوت کے آگے بسا اوقات نیک لوگ ظاہری طور پر مات کھا جاتے ہیں مگر جو حق ہے وہ سچائی ہے وہ کبھی ماند نہیں پڑتی مات نہیں کھاتی اور وہ ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لاتی ہے۔ یہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کا سرمایہ حیات یزیدیت نہیں بلکہ شبیریت حسینیت ہے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہادت امتِ مسلمہ کے لئے کئی پہلو سے عملی نمونہ ہے ، جس پر انسان عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو اسلامی طرز پر قائم رکھے اسلامی زندگی اسلامی رنگ و روپ کی بحالی کےلیے صداقت حقانیت جہد مسلسل اور عمل پیہم میں حسینی کردار اور حسینی جذبہ ایثار و قربانی سے سرشار ہو۔ اقتدار کی طاقت جان تو لے سکتی ہے ایمان نہیں۔ اگر ایمانی طاقت کارفرما ہو تو اسکے عزم و استقلال کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ لندن کے مشہور مفکر ’’ لارڈ ہیڈلے ‘‘ کے بقول ’’ اگر حسین میں سچا اسلامی جذبہ کارفرما نہ ہوتا تو اپنی زندگی کے اخری لمحات میں رحم و کرم، صبر و استقلال اور ہمت و جوانمردی ہرگز عمل میں آ ہی نہیں سکتی تھی جو آج صفحہ ہستی پر ثبت ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت سیّدنا اما م حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حقیقی فلسفہ و حقیقت اور مقصد کو سمجھا جائے اور اس سے ہمیں جو سبق اورپیغام ملتا ہے اسے دنیا میں عام کیا جائے کیونکہ پنڈت جواہر لا ل نہرو کے بقول ’’ حسین کی قربانی ہر قوم کے لئے مشعلِ راہ و ہدایت ہے ‘‘ اور جیسا کہ مولانا محمد علی جوہر نے شہادت حسین پہ کہا ہے کہ : ⬇

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اور کسی شاعر نے بہت پیاری بات کہی ہے : ⬇

نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ وہ ظلم ابن زیاد کا
جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق ہے اور یزید باطل ہے اور دین کی بقا کےلیے ہر دور میں شبیری کردار درکارہے کہ مرورِ وقت کے باوجود خونِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرخی اور زیادہ بڑھتی جا رہی ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس عظیم الشان قربانی سے اس داستانِ حرم کی تکمیل ہوئی جو سیّدنا اسماعیل علیہ السّلام سے شروع ہوئی تھی اور حق وباطل ، کفر واسلام ، نیکی و بدی اورخیر و شر کے درمیان تمیز ہو گئی اور حد فاصل قائم ہوگئی ۔ یزیدیت مذموم ٹھہری اور یزید کا نام قیامت تک کےلیے گالی بن کر رہ گیا ۔

حضرت سیّدنا امام سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں : ⬇

کسی کو نصیحت کرنا یا اسے اچھی بات بتانا گویا کہ اس پر احسان کرنا ہے ، قراٰنِ حکیم میں کئی جگہ نصیحت کی گئی ہے جس سے نصیحت کی اہمیت و افادیت معلوم ہوتی ہے ، نصیحت کی ضرورت و اہمیت کے پیشِ نظر  بزرگانِ دین  رحمۃ اللہ علیہم  نے بھی لوگوں کو بہترین نصیحتیں فرمائی ہیں ۔ حضرت امام حسین   رضی اللہ عنہ بھی لوگوں میں وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے ۔ راکبِ دوشِ مصطَفٰے ، جگر گوشۂ مُرتضیٰ ، دِل بندِ فاطِمہ ، سلطانِ کربلا ، سیّدُالشّہَداء ، امامِ عالی مقام ، حضرت سیّدنا امامِ حسین   رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں اور اپنی مبارک حیات کے دیگر مواقع پر جو خُطبات اور نصیحت آموز اَشعار ارشاد فرمائے ان میں سے چند منتخب نصیحتیں ملاحظہ کیجئے : ⬇

(1) اے لوگو! اچھے اَخلاق میں رغبت کرو ، نیک اعمال میں جلدی کرو ، جس نے کسی پر احسان کیا ہواور وہ اس کا شکر ادا نہ کرے تو احسان کرنے والے کو اللہ پاک عوض عطافرماتا ہے۔ یقین کرو نیک کام میں تعریف ہوتی ہے اور ثواب ملتا ہے ، اگر تم نیکی کو کسی مرد کی صورت میں دیکھ سکتے تو اسے بہت حسین و جمیل دیکھتے جو دیکھنے والے کو بَھلا لگتا اور اگر تم مَلامت اور بَدی کودیکھ سکتے تو بدترین منظر دیکھتے جس سے دل نفرت کرتے اور نظریں نیچی  ہوجاتی ہیں۔ اے لوگو! جو سخاوت کرتا ہے وہ سردار ہوتا ہے اور جو بُخل کرتا ہے وہ ذلیل و رُسوا ہوتا ہے۔ زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس شخص پر سخاوت کرے جسے اس کی اُمید نہ ہو۔ زیادہ پاک دامن اور بہادُر وہ شخص ہے جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود مُعاف کردے ، زیادہ صِلۂ رحمی کرنے والاشخص وہ ہے جو قَطْع تعلق کرنے والے رشتے داروں سے تعلق جوڑے۔ جو شخص اپنے بھائی پر احسان کرکے اللہ کی رضا چاہے اللہ پاک مشکل وقت میں اس کا بدلہ دیتا ہے اور اس سے سخت مصیبت ٹال دیتا ہے ۔ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی سے دنیوی مصیبت دور کی اللہ پاک اس سے اُخرَوی مصیبت دور کرتا ہے اور جو کسی پر احسان کرے اللہ کریم اس پر احسان فرماتا ہے اور احسان کرنے والے اللہ کے پیارے ہیں ۔

(2) اگرچہ دنیا اچھی اور نفیس سمجھی جاتی ہے مگر اللہ کا ثواب بہت زیادہ اور نفیس ہے ۔

(3) رزق تقدیر میں تقسیم ہوچکے ہیں لیکن کَسْب میں انسان کا حرص نہ کرنا اچھا ہے ۔

(4) مال دنیا میں چھوڑ کر ہی جانا ہے تو پھر انسان مال میں بُخل کیوں کرتا ہے ؟

(5) جب اذیت دینے کےلیے کوئی شخص کسی سے مدد چاہے تو اس کی مدد کرنے والے اور ذلیل و رُسوا لوگ سب برابر ہیں ۔ (نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار صفحہ 152 ، 153)

اللہ کریم ہمیں ان نصیحتوں کواپنے دل میں جگہ دینے اور ان پر عمل کی سعادت عطا فرمائے اور اللہ ہم لوگوں کو شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ سے سبق لینے اور حق پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (مزید حصّہ نمبر 7 میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 5

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 5
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ جب حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا ، میرا بیٹا مجھے دکھاٶ ، آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، میں نے عرض کیا ”حرب“ نام رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”حرب“ نہیں بلکہ اِس کا نام ”حسن“ ہے ۔ پھر جب اِمام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، مجھے میرا بیٹا دکھاٶ آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا ”حرب“ نام رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں‘ اِس کا نام ”حسین“ رکھو ۔ جب تیسرے شہزادے پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاٶ ، آپ نے اِس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا ”حرب“ نام رکھا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”حرب“ نہیں بلکہ اِس کا نام ”محسن“ ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” میں نے اِن کے نام (حضرت) ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام پر رکھے ہیں ۔ اُن کے نام شبر ، شبیر اور مبشر تھے ۔ رضی اللہ عنہم ۔ (الادب المفرد کنزالعمال تہذیب تاریخ دمشق لا بن عساکر)

اِسی لیے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو شبر و شبیر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ سُریانی زبان میں شبر و شبیر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ۔ حدیث میں ہے کہ ” حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں ۔“ عرب کے زمانہ جاہلیت میں یہ دونوں نام نہیں تھے ۔ (صواعق محرقہ صفحہ 118،چشتی)

حضور نبی کریم نے واشگاف الفاظ میں خبر غیب سے اُمّت کو حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی جنت کے جوانوں کی سرداری کی نوید سے نوازا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم نے فرمایا ”بے شک (حضرت) حسن اور (حضرت) حسین رضی اللہ عنہما دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔ (بخاری، فتح الباری ، عمدة القاری ، مشکوٰة ، مسند احمد)

واقعۂ کربلا کا غم ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے اور یہ اہل بیت سے محبت کی علامت ہے ۔ مگر شریعت محمدی ہمیں صبر کا درس دیتی ہے لہٰذا اس غم کا اظہار مرثیہ وماتم اور چیخیں مار کر رونے کی صورت وغیرہ میں نہیں ہونا چاہیے ۔ جسے اس واقعۂ کربلا کا غم نہیں اس کی محبت اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ناقص اور جس کی محبتِ اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ناقص ہے اس کا ایمان ناقص ہے ۔

مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اپنی مصیبت یا مصائب اہل بیت کو یاد کرکے ماتم کرنا یعنی ہائے ہائے ، واویلا کرنا ، چہرے یا سینے پر طمانچے مارنا ، کپڑے پھاڑنا ، بدن کو زخمی کرنا ، نوحہ و جزع فزع کرنا ، یہ باتیں خلاف صبر اور ناجائز و حرام ہیں ۔ جب خود بخود دل پر رقت طاری ہوکر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں اور گریہ آجائے تو یہ رونا نہ صرف جائز بلکہ موجب رحمت و ثواب ہوگا ۔ ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل ﷲ اموات بل احیاء ولٰکن لاتشعرون ۔ ترجمہ : اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں ، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔ (سورۃ البقرہ آیت 154)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اذیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔ یحیٰ بن ابوکثیر روایت کرتے ہیں : خَرَجَ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم مِنْ بَيْتٍ عَائشةَ فَمَرَّ عَلَی فَاطِمَةَ فَسَمِعَ حُسَيْنًا يُبْکِيْ رضی الله عنه فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِيْ اَنَّ بَکَاءَ هُ يُؤْذِيْنِيْ.(طبرانی، المعجم الکبير، 3، 116، رقم : 2847،چشتی)
ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے ، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا (کے گھر کے پاس سے) گزرے تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : فاطمہ کیا تو نہیں جانتی کہ مجھے اس کا رونا تکلیف دیتا ہے ۔

جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا رونا آج برداشت نہیں کرسکتے تو کربلا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کی تکلیف کب برداشت کی ہوگی ۔ اور کیسے برداشت کی ہوگی ؟ یہی وجہ تھی کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا مولیٰ علی المرتضی بھی شہید ہوئے ۔ سب شہادتیں اکبر و اعظم ہیں مگر کسی کی شہادت کے دن اس کے مشہد پر خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نہیں تشریف لے گئے ۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ میری شہادت سے ایک رات قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عثمان آج روزہ رکھ لینا اور افطار میرے پاس آ کر کرلینا جو شہید ہوا وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں خود پہنچا اور دوسری طرف یہ عالم کہ کربلا کا دن ہے۔ ادھر شہادتیں ہورہی ہیں اور ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بنفس نفیس صبح سے آخری شہادت تک میدان کربلا میں خود موجود ہیں ۔ مشہدِ حسین رضی اللہ عنہ اور میدانِ کربلا میں خود موجود رہنا یہ شرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کسی اور کو نہیں دیا ۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ۔ ام المومنین حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کو مٹی دی اور فرمایا کہ جب یہ سرخ ہوجائے تو سمجھ لینا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں حتی کہ میدان کربلا اور سن شہادت کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ، کتب حدیث میں کثرت سے اس پر احادیث موجود ہیں ۔ صحیح بخاری کتاب العلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دو طرح کی خبریں اور علم سیکھے ۔ ایک قسم اس علم کی ہے جو میں مجمع عام میں ہرکس و ناکس کے سامنے بیان کرتا رہتا ہوں۔ وہ علم احکام شریعت اور احکام طریقت کا ہے ۔ دوسرا علم ایسے حقائق و واقعات اور خبریں ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے بیان کردوں تو میری گردن حلق سے کاٹ دی جائے ۔ صحیح بخاری کی یہ حدیث کتاب العلم میں ہے اس پر امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ وہ علم جو سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیکھا اور جسے عوام الناس کے سامنے بیان کرتے کتراتے اور خواص کے سامنے بیان کرتے تھے اس علم میں سے یہ بھی تھا کہ جب دس ہجری کا سن قریب آگیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھا لینا ۔

امام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں : یزید کے حکومت پر بیٹھنے سے ایک سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول کی اور انہیں اپنے پاس بلالیا ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اس علم میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں مروان بن حکم سے خطاب فرمایا : اے مروان! میں نے صادق المصدوق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان ، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی ۔ گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پوری امت کی ہلاکت قرار دیا ہے ۔ اس وقت تو مروان نے یہ سن کر کہا کہ ان لونڈوں پر خدا کی لعنت ہو لیکن اسے خبر نہ تھی کہ اس کے ہی خاندان کے لونڈوں کی بات ہورہی ہے ۔ امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قریش کے وہ بیوقوف لونڈے جنہوں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دین کو تباہ کیا تھا ان میں سے پہلا لونڈا یزید تھا ۔ صحیح ترمذی میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خواب دیکھا کہ بنو امیہ کے لوگ میری قبر پر کھیل رہے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قلب اطہر مغموم ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم لیٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکوثر اور سورۃ القدر نازل کی اور فرمایا کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینے سے افضل ہے ۔ یعنی میدان کربلا میں جو اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم نے ایک رات گزاری وہ مثل لیلۃ القدر تھی ۔

حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا عبرتناک انجام

بد بخت قاتلانِ حسین کے حالات ان لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہوں گے جنہوں نے کتبِ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے قتل حسین میں شریک تھا یا اس پر راضی اور خوش تھا ۔عذاب اخروی جس کا وہ مستحق ٹھہرا،سے قطعِ نظر اس دنیائے ناپائیدار میں بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا ۔

ہر وہ شخص جو معرکۂ کربلا میں حضرت سید الشہداء کے مقابلہ کی غرض سے آیا تھا اس دنیا سے عذاب دیکھے بغیر اور اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہیں گیا۔بعض قتل کر دیے گئے۔کچھ نابینا ہو گئے ، بعض کا چہرہ سیاہ ہو گیا ،کچھ شدت پیاس سے ہلاک ہوئے اوربعض کی دولت و حکومت قلیل مدت میں جاتی رہی۔بعض دیگر عقوبات میں مبتلا ہوئے ۔

حضرت علامہ ابن جوزی نے سدّی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی دعوت کی مجلس میں یہ ذکر چلاکہ حضرت حسینؓ کے قتل میں جوبھی شریک ہوااس کو دنیا ہی میں جلد سزا مل گئی اس شخص نے کہاکہ بالکل غلط ہے میں خود ان کے قتل میں شریک تھا میرا کچھ بھی نہیں ہوا،اتنا کہہ کریہ شخص مجلس سے اٹھ کر گھرگیا جاتے ہی چراغ کی بتی درست کرنے لگا اتنے میں اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اوروہیں جل بھن کررہ گیا ۔ سدّی کہتے ہیں کہ میں نے خود اس کو صبح دیکھا تو کوئلہ ہو چکا تھا ۔ (اسوۂ حسینی صفحہ ۱۰۱ ، ۱۰۲،چشتی)

قہرِ الہٰی کی بھڑکائی ہوئی آگ

روایت ہے کہ ایک جماعت آپس میں گفتگو کر رہی تھی کہ دشمنانِ حسین میں سے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اس دنیا سے مصیبت و بلاء میں مبتلاء ہوئے بغیر چلا گیا ہو۔اس جماعت میں سے ایک بوڑھے نے کہا کہ میں بھی قتلِ حسین بن علی میں شریک تھا۔مجھ پر تو ابھی تک کوئی مصیبت نازل نہیں ہوئی۔ابھی یہ بات کر رہی رہا تھا کہ چراغ کے فتیلہ کو درست کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھا ۔اچانک شعلۂ چراغ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس بری طرح سے جلا کہ اچھلتا کودتا واپس آیا اور چلانے لگا:میں جل گیا ۔میں جل گیا۔یہاں تک کہ اس کی یہ سوزش اس درجہ بڑھی کہ اس نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔مگریہ آگ تو قہرِ الہٰی نے بھڑکائی تھی دریا اسے کیا ٹھنڈا کرتا؟وہ تو اس کے لیے تیل کا کام کر گیا اور وہ اس انداز سے جلا کہ اس کا وجود جہنم کا ایندھن بن گیا ۔ )تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

ایک پری چہرہ سیاہ رو ہو گیا

مزید روایت ہے کہ ابن زیاد کے لشکریوں میں سے ایک شخص جس نے امام عالی مقام کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا خوبصورتی کے اعتبار سے بہت زیادہ شہرت یافتہ تھا۔بعد میں جب اسے دیکھا گیا تو اس کا چہرہ سیاہ ہو چکاتھا۔اس سے پوچھا گیا :تو تو بڑا خوب رو اور صاحبِ حسن و جمال تھا۔ کیا وجہ ہے کہ تیرے چہرے پرسیاہی اور کالک نے ڈیرہ جما لیا ہے۔کہنے لگا: جس روز میں نے حسین کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا اسی دن سے روزانہ دو آدمی آتے ہیں مجھے دونوں بازؤں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے آگ کے پاس لے جاتے ہیں اور پھر مجھے اس آگ پر الٹا لٹکا دیتے ہیںبعد ازاں اتار لاتے ہیں۔اس دن سے میرا چہرہ سیاہ اور حال تباہ ہے۔یہ شخص اسی عذاب میں مبتلا رہایہاں تک کہ راہی جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی

واقدی سے منقول ہے:مقتلِ حسین کے حاضرین میں سے ایک بوڑھا آدمی نابینا ہو گیاتھا۔جب اس سے نابینا ہونے کا سبب پوچھا گیاتو کہنے لگا : میں نے خواب میں رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا : انہوں نے بازو تک آستین چڑھائی ہوئی تھی اور دستِ مبارک میں ننگی تلوار تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رو بروزمین پر فرش بچھایا گیا تھا یہ فرش دس قاتلانِ حسین کو ذبح کر کے ان کے سروں پر بچھایا گیا تھا۔جوں ہی آں جناب کی نظرمجھ پر پڑی ۔آپ نے مجھے نفرین کی اور میری آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی جس کے سببمیں اندھا ہوگیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

ڈاڑھی خنزیر کی دم بن گئی

کہتے ہیں شام میں ایک شخص تھا جو قتلِ حسین میں شریک تھا اس کی داڑھی خنزیر کی دم بن کر لوگوں کےلیے نشانِ عبرت بن گئی تھی ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

سینے میں آتش جہنم

روایت ہے کہ وہ شخص جس نے حضرت عبداللہ علی اصغرؑ کے تشنہ حلقوم پر تیر چلایا تھاایک ایسے مرض میں مبتلا ہوگیا جس سے اس کے سینہ میں حرارت اور گرمی جب کہ پشت میں ٹھنڈک پیدا ہو گئی۔ہر چند کہ اس کے سامنے پنکھا جھلتے تھے اور اس کی پشت کی جانب آگ روشن کرتے تھے وہ واویلا کرتا تھا۔نہ تو اس کی آتشِ سینہ سرد ہوتی اور نہ ہی پشت کی ٹھنڈک کو افاقہ ہوتا تھا۔پیاس کی شدت اس درجہ بڑھ گئی کہ مٹکوں کے مٹکے پانی پی لیتا تھا اور پھر بھی ۔ العطش ۔ العطش ۔ کی صدائیں بلند کرتا۔یہاں تک کہ اس کا پیٹ پانی پی پی کر پھول گیا اور بالآخر پھٹ گیا ۔ اسی عقوبت کی وجہ سے واصل جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

یہ تھی ان لوگوں کے حالات کی مختصر سی جھلک جو معرکۂ کربلا میں حاضر تھے۔اس کے بعدہم چند خواص جن میں ابن زیاد بد نہاد،ابن سعد ، شمرذی الجوشن وغیرہ شامل ہیں کا مختصراً ذکر کرتے ہیں ۔

ابن سعدکا انجام

جب مختار ثقفی (یہ وہی مختار ثقفی ہے جو بعد میں دعویٰ نبوت کر کےمرتد ہو گیا تھا ۔ تاریخ الخلفا) نے کوفہ پر اپنے تسلط کو مضبوط کر لیا تو اس نے فرمان جاری کیا کہ وہ تمام لوگ جو ابن سعد کے لشکر میں شامل تھے اور حسین رضی اللہ عنہ کے قتال میں شریک تھے ان کو ایک ایک کر کے میرے پاس لایا جائے چناں چہ چند سو لوگ لائے گئے جن تمام کی گردن مار کر انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا ۔

مختار ثقفی نے اپنے خاص غلام کو حکم دیا کہ وہ ابن سعد کو حاضر کرے ۔ حفص بن سعد حاضر ہوا ۔ مختار نے پوچھا تمہارا باپ کہاں ہے ۔ بولا گھر میں بیٹھا ہے ۔ مختار نے کہا : ’’اب وہ ’’رے‘‘ کی حکومت اور اس کے اختیارات سے دست بردار ہو کر کس طرح اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے ۔ اس نے قتلِ حسین کے دن خانہ نشینی کیوں اختیار نہ کی‘‘ یہ کہہ کر حکم دیا کہ ابن سعد کا سر کاٹ لیا جائے اور اس کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا جائے ۔

شمر ذی الجوشنکی گردن زدنی
پھر شمر کو طلب کیا اور اس کی گردن زدنی کا حکم جاری کیا ۔
اس کے بعد مختارثقفی نے ان ملعونوں کے سروں کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیا اور حکم دیا کہ معرکہ ٔکربلا میں ابن سعد کے ساتھ شریک ہونے والے باقی ماندہ لوگوں میں سے جس کو بھی پائیں قتل کر دیں۔جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ مختارثقفی امام عالی مقام کا قصاص لے رہا ہے تو انہوں نے بصرہ بھاگ جانے کا ارادہ کر لیا۔لیکن مختار ثقفی کے لشکریوں نے ان کا تعاقب کیا اور جو جو دستیاب ہوتے انہیں قتل کر کے لاشوں کو جلا دیا جاتا اور ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

خولی بن یزید کا انجام

جب خولی بن یزید کو اسیر کر کے مختار ثقفی کے سامنے لایا گیاتو اس نے حکم جاری کیا:پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور پھر اسے سولی پر چڑھا دیا جائے۔اس کے بعد اسے آگ میں جلادیا گیا۔اسی طرح دوسرے لشکریانِ ابن زیاد جو دستیاب ہوئے انہیں دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

قتل ابن زیادبدنہاد کی مزید تفصیلات

مختصر یہ کہ جب مختار ثقفی ابن سعد، شمراور خولی بن یزید علیہم اللعنۃ کے قتل سے فارغ ہو کر مطمئن ہوا تو ابن زیاد کے قتل کے درپے ہوا۔چناں چہ ابراہیم بن مالک اشتر کو سپاہیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ابن زیاد کے مقابلہ کے لیے بھیجا ۔ جوں ہی ابراہیم موصل کی سرحد پر پہنچے ابن زیاد موصل سے پانچ فرسنگ کے فاصلے پر واقع ایک دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کے لیے تیار ہوگیا۔صبح کے وقت طرفین میں مقابلہ کا آغاز ہوا۔شام کے قریب ابراہیم بن مالک اشتر نے ابن زیاد کے لشکر کو شکست دی ۔ابن زیاد کی شکست خوردہ فوج نے راہِ فرار اختیار کی ۔ابراہیم اپنی فوج کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور حکم جاری کیا کہ مخالف فوج میں سے کسی کو بھی پائیں تو زندہ نہ چھوڑیں۔چناں چہ ابن زیاد کے بہت سے ہم راہی جان سے گئے اور ابن زیاد بھی قتل کر دیا گیا۔اس کا سر کاٹ کر ابراہیم بن مالک اشتر کے سامنے پیش کیا گیا اور ابراہیم نے اسے مختار ثقفی کے پاس کوفہ بھیج دیا۔ ابن زیاد کا سرجب کوفہ پہنچا تو اسی وقت مختار ثقفی نے دارالامارۃ میں اہلیانِ کوفہ کو جمع کر کے ایک بزم آراستہ کی اور حکم جاری کیا کہ ابن زیاد کا سر پیش کیا جائے۔جب ابن زیاد کا سر پیش کیا گیا تو مختار ثقفی نے کہا : یہ ابن زیاد کا سر ہے۔اے کوفہ کے لوگو! دیکھ لو کہ خونِ حسین کے قصاص نے ابن زیاد کو زندہ نہ چھوڑا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

مختار ثقفی نے قصاص میں ستر ہزار افراد کو قتل کیا

مفتاح النجاء میں منقول ہے کہ مختار ثقفی کے واقعہ میں اہل شام کے ستر ہزار افراد قتل کیے گئے اور یہ واقعہ دس محرم ۶۷ ہجری (واقعۂ کربلا کے ۶ سال بعد) رونما ہوا ۔

ابن زیاد کے نتھنوں میں تین بار سانپ کا گھسنا

روایاتِ صحیحہ میں مروی ہے کہ جب ابن زیاد اور اس کے دوسرے سرداروں کے سر مختار ثقفی کے سامنے لائے گئے تو اچانک ایک سانپ ظاہر ہوا اور سروں کے درمیان سے گزرتا ہواابن زیاد کے سر کے قریب آیا اور اس کے ناک کے سوراخ میں داخل ہو گیا۔کچھ دیر سر کے اندر رہا اور پھر منہ کے راستے باہر نکل آیااور غائب ہوگیا۔کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ سانپ تین مرتبہ ظاہر ہوا اور ناک کے سوراخ سے داخل ہو کر منہ کے راستے باہر نکلا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

دیگر اعیانِ یزیدپلید کا عبرتناک انجام

بالجملہ ابن زیاد، ابن سعد، شمر ذی الجوشن، عمر بن الحجاج،قیس بن اشعث کندی، خولی بن یزید، سنان بن انس نخعی، عبداللہ بن قیس، حکم بن طفیل اور یزید بن مالک کے علاوہ دیگر اعیان یزیدکو طرح طرح کے عذاب دے کر ہلاک کیا گیااور ان کے لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے۔یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں چور چور ہو گئیں ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

قاتلان حسین مختار ثقفی کے ہاتھوں انجام کو پہنچے
مخفی نہ رہے کہ کتب تاریخ میں اختلاف ہے ۔بعض کتب میں ابن سعد اور شمر کا قتل ابن زیاد کی ہلاکت سے پہلے مذکور ہے اور بعض کتب میں ابن زیاد کے بعد ذکر کیا گیا ہے ۔ اور جیسا کہ منتقم حقیقی کا وعدہ تھا جس کا ذکر واقعہ کربلا سے متعلق روایات کے ضمن میں بہ روایت حاکم مذکور ہو چکا ہے پورا ہوا اور قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ مختار ثقفی کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے ۔ گو کہ آخر کار مختار ثقفی کے اعتقادات میں بھی شقاوتِ ازلی کا ظہور ہوا یعنی اس نے ساتھ ساتھ دعویٰ نبوت بھی کر لیا ۔ جس کی تفصیل کتبِ تاریخ میں مسطور ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

ماتم تو ہے ہی حرام ، تین دن سے زیادہ سوگ کی بھی اجازت نہیں ہے حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ جو عورت ﷲ اور آخرت پر ایمان لائی ہو، اس کےلیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ کرے ۔ البتہ اپنے خاوند کی (موت پر) چار ماہ دس دن سوگ کرے ۔ (بخاری حدیث 299، الکتاب الجنائز)(مسلم حدیث 935)(مشکوٰۃ حدیث 3471کتاب الجنائز،چشتی)

حضرت امام جعفر صادق رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں : لیس لاحد ان یعداً اکثر من ثلاثۃ ایام الا المراۃ علی زوجہا حتی تنقضی عدتہا ۔
ترجمہ : کسی مسلمان کو کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا سوائے عورت کے کہ وہ عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی موت پر سوگ کرسکتی ہے ۔ (من لایحضرہ الفقیہ جلد 1)

اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو ہر سال حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کا سوگ مناتے ہیں اور دس دن سینہ کوبی کرتی ہیں۔ چارپائی پر نہیں سوتے، اچھا لباس نہیں پہنتے اور کالے کپڑے پہنتے ہیں۔ ہاں ایصال ثواب کرنا ان کی یاد منانا اور ذکر اذکار جائز ہے، یہ سوگ نہیں ہے ۔

شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : کون ساسنی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلا کا غم نہیں یا اس کی یاد سے اس کا دل محزون اور آنکھ پرنم نہیں ، ہاں مصائب میں ہم کو صبر کاحکم فرمایا ہے ، جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے ، اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہارِغم ریاء ہے اور قصداً غم آوری وغم پروری خلافِ رضاہے ۔ جسے اس کاغم نہ ہو اسے بیغم نہ رہنا چاہئے بلکہ اس غم نہ ہونے کا غم چاہئے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کاایمان ناقص ۔ (فتاوى رضویہ، جلد 24، صفحہ 500، 501، رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)

شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں ۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے ۔ (عرفان شریعت ، حصہ اول، صفحہ: 15)

شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : غرض عشرۂ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا ، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا ۔ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خودساختہ تصویریں بعینہٖ حضرات شہداء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں ۔

کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کر دیے۔ یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم دو وبال جداگانہ ہیں۔ اب تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کا نام ہے۔ قطعاً بدعت و ناجائز حرام ہے ۔ تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے۔ اگر نیاز دے کر چڑھائیں، یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں ۔ (رسالہ تعزیہ داری)

تعزیہ بنانا کیسا ؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا ؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)

تعزیہ پر منت ماننا کیسا ؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)

تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا ؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

محرم الحرام میں ناجائز رسومات

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24،رضا فاؤنڈیشن، لاہور،چشتی)

محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا دس محرم الحرام) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں، سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے۔ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، لہذا مسلمانوںکو اس سے بچنا چاہئے ۔ (احکام شریعت)

عاشورہ کا میلہ

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے ۔ یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتا ہے ، نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنیٰ ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

دشمنانِ صحابہ کی مجالس میں جانا

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ رافضیوں (دشمنانِ صحابہ) کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ (نوحہ) سننا حرام ہے۔ ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے، ان کی نیاز، نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی۔ کم از کم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے علامتِ سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ خصوصاً سیاہ (لباس) کا شعار رافضیاں لیام ہے۔ (فتویٰ رضویہ جدید، 756/23 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مسلمانوں کو چاہیے کہ محرام الحرام میں خرافات سے بچیں ۔ سبیلوں اور دوکانوں پر نوحہ اور مرثیہ کی کیسٹیں ہرگز نہ بجائیں ۔ (مزید حصّہ نمبر 6 میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 4

فضائل و مناقب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ نمبر 4

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر دے دی تھی اور آپ کی شہادت پر صدمہ ہوا اور بوقت شہادت کربلا میں موجود تھے سابقہ مضامین میں مختصراً عرض کیا گیا تھا مکمل و مفصّل حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں : اہلحدیث حضرات کے محقق علماء لکھتے ہیں : شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دی تھی اور بوقت شہادت امام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کربلا میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صدمہ ہوا ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 104 تحقیق حافظ زبیر علی زئی غیر مقلد اہلحدیث وہابی)

عن ام سلمة قالت قال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقتل حسين بن علي علي رأس سيتن من المهاجري ۔ (مجمع جلد 9 صفحہ 190 بحواله طبراني في الاوسط)
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حسین بن علی کو ساٹھ ہجری کے اختتام پر شہید کر دیا جائے گا ۔

غیب کی خبریں بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کی نشاندہی کردی کہ یہ عراق کا میدان کربلا ہوگا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ یہ عظیم سانحہ 61 ہجری کے اختتام پر رونما ہوگا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر دعا فرمایا کرتے : اللهم انی اعوذبک من رائس الستين وامارة الصبيان ۔
ترجمہ : اے اللہ میں ساٹھ ہجری کی ابتدا اور (گنوار) لڑکوں کی حکومت سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ (الصواعق الحرقه صفحہ 221)

ساٹھ (60) ہجری کی ابتدا میں ملوکیت کی طرف قدم بڑھایا جا چکا تھا اور یہی ملوکیت وجہ نزاع بنی ۔ اور اصولوں کی پاسداری اور اسلامی امارت کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خاطر نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا کے میدان میں حق کا پرچم بلند کرتے ہوئے اپنی اور اپنے جان نثاروں کی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ اہلِ حق کٹ تو سکتے ہیں کسی یزید کے دست پلید پر بیعت کرکے باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ وہ نیزے کی انی پر چڑھ کر بھی قرآن سناتے ہیں ۔ ان کے بے گور و کفن لاشوں پر گھوڑے تو دوڑائے جاسکتے ہیں لیکن انہیں باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا ، یہی لوگ تاریخ کے چہرے کی تابندگی کہلاتے ہیں اور محکوم و مظلوم اقوام کی جدوجہد آزادی انہی نابغان عصر کے عظیم کارناموں کی روشنی میں جاری رکھتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 60 ہجری کی ابتدا سے پناہ مانگتے تھے کہ خلفائے راشدین کے نقش قدم سے انحراف کی راہ نکالی جا رہی تھی ، لڑکوں کے ہاتھ میں عنان اقتدار دے کر اسلامی ریاست کو تماشا بنایا جا رہا تھا ۔ کہ اب سنجیدگی کی جگہ لا ابالی پن نے لے لی تھی ۔

حضرت یحیٰ حضرمی کا ارشاد ہے کہ سفر صفین میں مجھے شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔ جب ہم نینوا کے قریب پہنچے تو داماد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو عبداللہ! فرات کے کنارے صبر کرنا میں نے عرض کیا ’’یہ کیا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبرئیل نے خبر دی ہے : ان الحسين يقتل بشط الفرات و اراني قبضة من تربته ۔
ترجمہ : حسین رضی اللہ عنہ فرات کے کنارے قتل ہوگا اور مجھے وہاں کی مٹی بھی دکھائی ۔ (الخصائص الکبریٰ 2 : 12،چشتی)

حضرمی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی شیر خدا رک کر اس زمین کو دیکھنے لگے تو اچانک بلند آواز میں گویا ہوئے۔ ابو عبداللہ! حسین رضی اللہ عنہ بر کرنا۔ ہم سہم گئے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے، آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ اس میدان کربلا میں میرا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگا ۔

حضرت اصبغ بن بنانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اتينا مع علي موضع قبر الحسين فقال ههنا مناخ رکابهم و موضع رحالهم و مهراق دمائهم فئة من ال محمد صلي الله عليه وآله وسلم يقتلون بهذه العرصة تبکی عليهم السماء والارض ۔
ترجمہ : ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبر حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ان کے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ اور یہ ان کے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ان کے خون بہنے کا مقام ہے۔ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک گروہ اس میدان میں شہید ہوگا جس پر زمین و آسمان روئیں گے ۔ (الخصائص الکبری، 2 : 126،چشتی)(سر الشهادتين : 13)

گویا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کا پورا نقشہ کھینچ دیا کہ یہاں پر وہ شہادت کے درجہ پر فائز ہوگا اور یہاں خاندان رسول ہاشمی کا خون بہے گا ۔

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا ذکر پہلے ہوچکا ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسین کو عراق میں قتل کردیا جائے۔ اور یہ کہ جبرئیل نے کربلا کی مٹی لاکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : يا ام سلمه اذا تحولت هذه الترته دما فاعلمي ان ابني قد قتل فجعلتها ام سلمة في قارورة ثم جعلت تنظر اليها کل يوم و تقول ان يوما تحولين دما ليوم عظيم ۔
ترجمہ : اے ام سلمہ رضی اللہ عنہاجب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو جان لینا کہ میرا یہ بیٹا قتل ہوگیا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے اس مٹی کو بوتل میں رکھ دیا تھا اور وہ ہرروز اس کو دیکھتیں اور فرماتیں اے مٹی! جس دن تو خون ہوجائے گی وہ دن عظیم ہوگا ۔ (الخصائص الکبری، 2 : 125،چشتی)۔(سر الشهادتين، 28)۔( المعجم الکبير للطبرانی، 3 : 108)

حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ و زاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی اکرم صلی الله عليه وآله وسلم کی زیارت کی ہے۔ آپ صلی الله عليه وآله وسلم کا سر انور اور ریش مبارک گرد آلود تھی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم ، آپ صلی الله عليه وآله وسلم کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ آپ صلی الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ابھی ابھی حُسین (رضی اللہ عنہ) کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ حدیث ان کتب میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں ۔ (جامع ترمذی صفحہ نمبر 1028 حدیث نمبر3771 باب مناقب حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) طبع الاولیٰٰ 1426ھ، دار الکتب العربی بیروت،چشتی)۔(مستدرک امام حاکم تلخیص :علامہ ذہبی جلد 4 صفحہ 387 حدیث نمبر 6895 باب ذکر ام المومنین ام سلمہ //طبع قدیمی کتب خانہ پاکستان ، جز :5 ،چشتی)(تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی جلد 2 صفحہ 356 طبع الاولی ھند)(البدایہ والنھایہ ابن کثیر محقق : عبد المحسن ترکی جلد 11 صفحہ 574 طبع الاولیٰٰ 1418 ھ، جز:21 الھجر بیروت)

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ صلی الله عليه وآله وسلم غبار آلود دوپہر کے وقت خون سے بھری ہوئی ایک شیشی لیے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم فداک ابی و امی، یہ کیا ہے ؟ آپ صلی الله عليه وآله وسلم نے فرمایا، یہ حسین (رضی اللہ عنہما) اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے جسے میں آج صبح سے اکٹھا کر رہاہوں ۔ عمار کہتے ہیں کہ ہم نے حساب لگایا تو ٹھیک وہی دن شہادت امام حسینؑ کا روز تھا ۔ علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس روایت کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد قوی ہیں۔ (البدایۃ والنھایۃ)

ابن ابی الدنیا نے عبداللہ بن محمد بن ہانی ابو عبد الرحمن نحوی سے، انہوں نے مہدی بن سلیمان سے اور انہوں نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس سو کر اٹھے تو “انا للہ و انا الیہ راجعون ” کہا اور کہنے لگے اللہ کی قسم امام حسین شہید کر دیے گئے ہیں۔ ان کے اصحاب نے پوچھا کہ اے ابن عباس ! کیوں کر؟ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم کو خون کی ایک شیشی لیے ہوئے خواب میں دیکھا ہے ۔ آپ صلی الله عليه وآله وسلم نے فرمایا کہ اے ابن عباس ! کیا تم جانتے ہو کہ میرے بعد میری امت کے اشقیاء نے کیا کیا؟ انہوں نے امام حسینؑ نے شہید کر دیا ہے۔ اور یہ اس کا اور اس کے اصحاب کا خون ہے جسے میں اللہ تعالی کے حضور پیش کروں گا۔ چنانچہ وہ دن اور گھڑی لکھ لی گئی۔ اس کے بعد چوبیس دن بعد مدینہ شریف میں یہ خبر آئی کہ امام حسین کو اسی دن اور اسی وقت میں شہید کیا گیا ۔ حمزہ بن زیارت نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ دونوں پیغمبر امام حسینؑ کے روضہ پر نماز پڑھ رہے ہیں۔ شیخ ابو نصر نے بالاسناد حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا کہ حضرت حسین ؑ کی شہادت کے بعد آپ کی قبر انور پر ستر ہزار فرشتے اترے اور قیامت تک آپ کے کے لیے اشکباری کرتے رہیں گے۔ (البدایۃ والنھایۃ،چشتی)

عن ام سلمه قالت قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أخبرني جبرئيل ان ابني الحسين يقتل بأرض العراق فقلت لجبرئيل ارني تربة الارض التي يقتل فيها، فجاء فهذه تربتها ۔ (البدايه والنهايه، 8 : 196 - 200)۔(کنز العمال، 12 : 126، ح : 34313)
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے جبرئیل امین نے (عالم بیداری میں) بتایا کہ میرا یہ بیٹا حسین عراق کی سرزمین میں قتل کر دیا جائیگا میں نے کہا جبرئیل مجھے اس زمین کی مٹی لا کر دکھا دو جہاں حسین کو قتل کر دیا جائے گا پس جبرئیل گئے اور مٹی لا کر دکھا دی کہ یہ اس کے مقتل کی مٹی ہے۔

عن عائشة عنه انه قال أخبرنی جبرئيل ان ابني الحسين يقتل بعدي بأرض الطف ۔
ترجمہ : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل امین نے مجھے خبر دی کہ میرا یہ بیٹا حسین میرے بعد مقام طف میں قتل کر دیا جائے گا ۔ (المعجم الکبير، 3 : 107، حدیث نمبر 2814)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی روایت بھی کم و بیش وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے، یہ بھی قتل حسین رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہے۔ یہ روح فرسا اطلاع پا کر قلب اطہر پر کیا گزری ہوگی اس کا تصور بھی روح کے در و بام کو ہلا دیتا ہے، پلکوں پر آنسوؤں کی کناری سجنے لگتی ہے اور گلشن فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تباہی کا دلخراش منظر دیکھ کر چشم تصور بھی اپنی پلکیں جھکا لیتی ہے ۔

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ آقا علیہ السلام کے چشمان مقدس سے آنسو رواں تھے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج کیا بات ہے چشمان مقدس سے آنسو رواں ہیں ؟ فرمایا کہ مجھے ابھی ابھی جبرئیل خبر دے گیا ہے کہ : ⬇

ان امتک ستقتل هذا بأرض يقال لها کربلاء ۔
ترجمہ : آپ کی امت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس بیٹے حسین کو اس سر زمین پر قتل کر دے گی جس کو کربلا کہا جاتا ہے ۔ (المعجم الکبير، 3 : 109، ح : 2819)

اہل بیتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نواسہ رسول سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی عظیم شخصیات صرف اہل اسلام کے عوام و خواص ہی نہیں ، غیر مسلموں کے نزدیک بھی چنداں محتاجِ تعارف نہیں ۔ انہیں یہ عظمت و رفعت اور چہار دانگ عالم میں شہرت محض وہبی فضائل و مناقب (مثلاً اہل بیت رسول میں پیدا ہونا ، براہ راست حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ ہونا ، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حد درجہ محبت و شفقت کا ملنا ، سیدۃ النساء اہل الجنۃ سیدۃ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا لخت جگر اور حیدر کرار سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا نورِ نظر ہونا ، شکل و شباہت اور چال ڈھال میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہونا ، قریش اور سادات میں سے ہونا ، مدینہ منورہ میں پیدا ہونا وغیرہ) کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے کسی کمالات مثلاً اخلاقی پاکیزگی ، مکارم اخلاق ، خدمت اسلام اور راہِ خدا میں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی شہادت اور منفرد ایثار و قربانی وغیرہ کی بدولت ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ملا کر انہیں گھٹی ڈالی اور خود زبان نبوت سے ان کے کان میں اذان (اللہ اکبر ، اللہ اکبر) کہی ۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدان کربلا میں جس طرح اس اذان اور لعاب نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوش کرنے اور نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی لاج رکھی اور اس موقع پر راہ عزیمت اختیار کرتے ہوئے جس جرأت و ہمت کا مظاہرہ کیا ، جس انداز میں اسلامی نظام خلافت کے احیاء کی خاطر قربانی دینے اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی مثال قائم کی اور شدید مصائب برداشت کیے ، اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی ۔ میدان کربلا میں آپ کی، آپ کے اہل خانہ کی اور آپ کے جملہ اعوان و انصار کی اسی غیر معمولی ثابت قدمی ، جوان مردی ، وفا شعاری ، شدائد و مصائب اور انتہائی مظلومیت کی شہادت نے مورخین ، تذکرہ نگاروں اور سوانح نگاروں کی زیادہ تر توجہ کو آپ کی مظلومانہ شہادت اور کربلا میں پیش آنے والے افسوس ناک بلکہ الم ناک واقعات اور مصائب کی طرف مبذول کیے رکھا ۔ اسی پس منظر میں زبان نبوت سے بیان ہونے والی آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت ، شفقت و محبت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور وہبی کمالات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی مگر آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے اخلاقی امور ، معاشرتی پہلو اور دیگر معاملات کو بہت کم اُجاگر کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ کبار مؤرخین مثلاً صاحب اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، صاحب الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب، صاحب الاصابہ فی تمییز الصحابہ اور ابن کثیر وغیرہ کے ہاں بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی کے علمی، اخلاقی و معاشرتی پہلو پر بہت کم مواد ملتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا یہ گوشہ تشنہ سا لگتا ہے۔ مشہور مورخ شاہ معین الدین احمد ندوی نے اس کمی کا شکوہ یوں کیا ہے : تمام ارباب سیر آپ رضی اللہ عنہ کے کمالاتِ علمی کے معترف ہیں۔ علامہ ابن عبدالبر، امام نووی، علامہ ابن اثیر اور دیگر ارباب سیّر اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ بڑے فاضل تھے لیکن افسوس اس اجمالی سند کے علاوہ واقعات کی صورت میں ان کمالات کو کسی سیرت نگار نے قلم بند نہیں کیا ۔ (سیرالصحابہ طبع دوم 1951ء 6 / 243،چشتی)

بالکل یہی حال ان کی اخلاقی عظمت و پاکیزگی اور حسن اخلاق کا ہے۔ سیرت حسین رضی اللہ عنہ کا یہ پہلو جس تفصیل و تشریح کا متقاضی تھا وہ عام تذکروں میں نہیں پائی جاتی جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شہادت کے وقت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً چھپن سال کی ہوچکی تھی۔ چھپن سال کا یہ عرصہ آپ نے خیرالقرون میں اسلامی بلکہ انسانی تاریخ کے سب سے بہترین معاشرے میں گزارا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت بھی صاحبِ خلق عظیم علیہ التحیۃ والتسلیم نے خود فرمائی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے جس عظیم ماں کی گود میں پرورش پائی اس کی پاک دامنی اور طہارت پر قرآن و حدیث گواہ ہیں، نانا جان علیہ التحیۃ والسلام کے وصال کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ کی تعلیم و تربیت اس باپ نے فرمائی جو علم و عمل کا مجمع البحرین تھے اور جس کے علمی و عملی کمالات اور فضائل و محاسن پر قرآن و حدیث کے علاوہ تاریخ اسلام کی گواہی ثبت ہے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعلیم و تربیت کے درج بالا خدائی انتظامات اور خود قرآن و سنت پر عبور حاصل ہونے کے بعد کیسے ممکن تھا کہ آپ ایک عظیم اور اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرتی اخلاق و آداب کی حامل شخصیت کا درجہ نہ پاتے۔ چنانچہ آپ کی اخلاقی عظمت و رفعت کے حوالے سے بعض ایمان افروز چیزیں، شروح حدیث، تذکرہ، تاریخ اور سوانح وغیرہ کی کتابوں میں جستہ جستہ مل جاتی ہیں۔ اس لیے آئندہ سطور میں ہم آپ کے عمومی فضائل و مناقب، ذوق عبادت، علمی فضائل و کمال، سوانح حیات، الم ناک شہادت اور واقعات کربلا (جن پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے) کی بجائے آپ رضی اللہ عنہ کی اخلاقی عظمت کی چند ایمان افروز جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کریں گے : ⬇

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی عملی اور معاشرتی زندگی میں جن مکارم اخلاق یا جس بلند اخلاقی اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا اس میں جہاں ان کی خاندانی شرافت و نجابت، حسب و نسب، پاکیزہ گھریلو ماحول، خانوادہ نبوت کی تعلیم و تربیت، صحبت صحابہ اور مدینہ منورہ کے عمومی پاکیزہ ماحول کا عمل دخل تھا وہاں ان کی اخلاقی پاکیزگی میں خصوصی دعاء نبوی بھی کار فرما تھی ۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلْمَۃَ رَبِیْبِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم {إِنَّمَا یُرِیْدُ اللهُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا} ]الأحزاب، 33:33[ فِي بَیْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ فَدَعَا فَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَیْنًا، فَجَلَّلَهُمْ بِکِسَاءٍ، وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِکِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ، هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَیْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْهُمْ تَطْهِیْرًا ۔ (أخرجہ الترمذی فی السنن، کتاب: تفسیر القرآن عن رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم، باب: ومن سورة الأحزاب، 5/351، الرقم: 3205،چشتی)
ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ حضرت عمر بن ابی سلمہص فرماتے ہیں کہ جب اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی الله عنہا کے گھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت ’’اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔‘‘ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام الله علیہمکو بلایا اور انہیں ایک کملی میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی ص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا: اے الله ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے ۔

مذکورہ بالا روایت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ بیت اطہار سے جس ’’الرجس‘‘ (پلیدی) دور کیے جانے کی بطور خاص دعا فرمائی تو اس لفظ کے معنی پر ایک نظر ڈال لینا بے جانہ ہوگا تاکہ اس کی وسعت کا کچھ اندازہ ہوجائے۔ الفاظ قرآن مجید کے لغوی معانی کے لیے مستند ترین ماخذ ’’المفردات فی غریب القرآن‘‘ میں علامہ راغب اصفہانی نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : الرجس الشئی القذر۔۔۔ والرجس یکون علی اربعة اوجه اما من حیث الطبع واما من جهة العقل واما من جهة الشرع واما من کل ذالک کالمیتة ۔ (راغب اصفهانی، المفردات فی غریب القرآن صفحہ 187)
ترجمہ : رجس گندی، پلید، میلی اور قابل نفرت چیز کو کہتے ہیں۔۔۔ اب کسی چیز کا گندہ یا پلید ہونا چار وجہ سے ہوسکتا ہے یا تو طبعی اعتبار سے وہ چیز گندی ہوگی یا عقل کی جہت سے یا شرعی اعتبار سے یا اس کا گندا ہونا ان ساری وجوہ کی بنیاد پر ہوگا جیسے مردار کا گند اور قابل نفرت ہونا ۔

جبکہ مشہور شارح حدیث علامہ نووی نے لفظ ’’الرجس‘‘ کا معنی یہ بتایا ہے کہ : الرجس قیل ھو الشک وقیل العذاب وقیل الاثم قال الازهری الرجس اسم لکل مستقذر من عمل ۔ (نووی، شرف الدین یحییٰ، شرح صحیح مسلم مع الصحیح، کتاب و باب مذکور، 2/ 283،چشتی)
ترجمہ : رجس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ شک ہے اس کا معنی عذاب اور گناہ بھی کیا گیا ہے اور علامہ ازہری کہتے ہیں کہ رجس کا اطلاق ہر گندے اور ناپاک عمل پر ہوتا ہے ۔

اور ملا علی قاری نے ’’الرجس‘‘ کا معنی الاثم وکل ما مستقذر مرواہ بتایا ہے ۔ (ملا علی قاری، مرقاة المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، باب مناقب اهل بیت النبی صلی الله علیه وآله وسلم، 11/ 370)

یعنی ہر ظاہری و باطنی گناہ اور ہر وہ عمل جو انسانی مروت کے خلاف ہو ۔

اس دعائے نبوی کا فیض تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اخلاقی عظمت کے اعتبار سے اسی بلند درجہ پر فائز تھے جو آپ کے شایان شان تھا۔ چنانچہ نامور تذکرہ نگار ابن الاثیر نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے عمومی اخلاق و عادات اور خصائل کی طرف اجمالی طور پر یوں اشارہ کیا ہے : و کان الحسین رضی الله عنه فاضلا کثیر الصوم والصلوة والحج والصدقة و افعال الخیر جمیعا ۔ (ابن الاثیر اسدالغابہ جلد 2 ژفحہ 23،چشتی)
ترجمہ : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بڑی فضیلت کے مالک، کثرت سے روزہ، نماز، حج ادا کرنے والے، صدقہ دینے والے اور تمام افعال خیر سرانجام دینے والے تھے ۔

اب ذیل میں ان کے معاشرتی اخلاق و آداب اور حسن اخلاق کے حوالے سے درج بالا اجمال کی ایمان افروز تفصیل ملاحظہ ہو : ⬇

بڑے بھائی کا ادب و احترام

اسلامی اخلاق و آداب کی رو سے چھوٹے بھائیوں پر اپنے بڑے بھائی کا ادب و احترام اسی طرح لازم ہے جس طرح والد محترم کا احترام لازم ہوتا ہے۔ چھوٹے بھائیوں کے سامنے بڑے بھائی کا مرتبہ و مقام شرعی نقطہ نظر سے والد کے برابر ہے چنانچہ اس چیز کی وضاحت اور تعلیم امت کی خاطر معلم اخلاق اور صاحب خلق عظیم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعید بن العاص سے مروی ایک حدیث میں فرمایا : حق کبیر الاخوة علی صغیرهم حق الوالد علی ولده ۔ (مشکوۃ المصابیح کتاب الآداب باب البر والصلة، ص: 421)

تمام بھائیوں میں بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائیوں پر اُس حق کے برابر ہے جو والد کو اپنی اولاد پر حاصل ہے ۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا جان علیہ التحیۃ والسلام کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کس طرح اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا دل کی گہرائیوں سے احترام کیا، اس کا نمونہ ملاحظہ ہو : ⬇

بڑا بھائی چھوٹے بھائی کے سامنے بنفس نفیس موجود ہو تو حیاء کا تقاضا ہوتا ہے کہ چھوٹا بڑے کا احترام کرے جبکہ سامنے موجود نہ ہونے کی صوت میں عموماً اس چیز کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا مگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے بھائی جان حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ادب و احترام کو غائبانہ طور پر بھی ملحوظ رکھا۔ چنانچہ مشہور مورخ ابن قتیبہ نے یہ ایمان افروز اور سبق آموز واقعہ لکھا ہے کہ ایک آدمی نے حضرت حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس آکر سوال کیا (بھیک مانگی) تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: دیکھو بھیک مانگنا جائز نہیں سوائے بہت زیادہ مقروض یا محتاج بنادینے والے فقر یا بہت زیادہ تاوان کی شکل میں، تو اس آدمی نے عرض کیا: میں اسی قسم کا ایک مسئلہ درپیش ہونے کی صورت میں آپ کے پاس آیا ہوں ۔

اس پر آپ نے اسے سو دینار دینے کا حکم فرمایا۔ پھر وہ آدمی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے بھی سوال کیا۔ آپ نے بھی بھیک کے معاملے میں اس سے وہی بات فرمائی جو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمائی تھی ۔ اس نے وہی جواب دیا جو وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دے چکا تھا تو آپ نے پوچھا: انہوں نے تجھے کتنی رقم دی؟ اس نے بتایا سو دینار۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک دینار کم کرتے ہوئے (ننانوے) دینار اسے دے دیے اور اس بات کو پسند نہ فرمایا کہ بڑے بھائی کے ساتھ اس معاملے میں برابری کریں۔ پھر اس آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر سوال کیا۔ انہوں نے بغیر کچھ پوچھے اسے سات دینار دے دیے۔ اس پر اُس نے کہا: میں حضرت امام حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تھا اور ان سے پیش آنے والا سارا مذکورہ واقعہ بیان کیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ویحک وانی تجعلنی مثلھما انهما غراء العلم غرا المال ۔ (ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، 7/ 126،چشتی)
ترجمہ : تیرے اوپر تعجب ہے تو مجھے اُن کی مثل کیسے بنا رہا ہے۔ بے شک وہ دونوں بھائی علم اور مال کا دریا ہیں ۔

کسی بھلائی کے عمل اور کار خیر میں باہمی مسابقت اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا شریعت میں ایک پسندیدہ اور مطلوب امر ہے مگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے بڑے بھائی امام حسن رضی اللہ عنہ کے احترام میں یہ بات بھی پسند نہ تھی۔ چنانچہ مشور صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ : لا یحل المسلم ان یهجر اخاه فوق ثلث لیال والسابق السابق الی الجنة ۔
ترجمہ : کسی مسلمان کےلیے جائز نہیں کہ تین راتوں سے زیادہ اپنے بھائی سے ملاقات اور بات چیت چھوڑے رکھے اور اس معاملے (گفتگو اور ملاقات) میں پہل کرنے والا جنت میں پہلے جانے والا ہوگا) ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں بھائیوں کے درمیان باہمی کوئی جھگڑا اور بات چیت بند ہے تو میں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا : لوگ تم دونوں بھائیوں کو اپنا مقتدا سمجھتے ہیں اور تم آپس میں قطعی تعلقی کرکے بیٹھے ہو لہذا آپ اٹھیے اور اپنے بھائی کے پاس جاکر ان سے بات چیت کیجیے کیونکہ آپ ان سے عمر میں چھوٹے ہیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی کہ السابق السابق الی الجنۃ (بول چال میں سبقت کرنے والا جنت میں بھی سبقت لینے والا ہوگا) تو میں ضرور ان کی خدمت میں حاضر ہوتا مگر میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ میں ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے یہ مخلصانہ جذبات سن کر میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں مذکورہ بات چیت سے آگاہ کیا تو انہوں نے فرمایا: صدق اخی (میرے بھائی نے سچ کہا) اس کے بعد کھڑے ہوگئے اور اپنے بھائی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آکر ان سے گفتگو کی اور یوں دونوں بھائیوں کے درمیان صلح ہوگئی ۔ (محب الدین الطبری، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی باب ذکر ماجاء مختصاً بالحسن علیہ السلام)

کسی بھی قسم کی مذہبی، نسلی، علاقائی اور لسانی تمیز و تفریق کے بغیر تمام خلقِ خدا اور انسانیت کی خدمت، ان کی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے اور ان کے کام آنے کا اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی رو سے کیا مرتبہ ہے ؟ اسلام نے اس سلسلے میں اپنے ماننے والوں کو کتنی تاکید کی ہے ؟ پھر اس حوالے سے خود پیغمبرِ اسلام کی رحمۃ للعالمین اور روف رحیم ذات اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سمیت دیگر اکابر صحابہ کا طرز عمل کیا تھا ؟ (جن کی تفصیل ایک الگ مستقل مضمون کی متقاضی ہے) یہ سب چیزیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے تھیں ۔ علاوہ ازیں فیاضی و سخاوت اور ایثار جیسی خوبیاں آپ کو ورثے میںملی تھیں۔ اس لیے کمال فیاضی اور ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے خلقِ خدا کی حاجات کو پورا کرنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا عام معمول تھا ۔

چنانچہ حافظ ابن عساکر نے ابو ہشام القناد البصری کی زبانی یہ چشم دید گواہی نقل کی ہے کہ میں (ابو ہشام) حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے پاس بصرہ سے سامان (متاع) فروخت کے لیے لایا کرتا تھا۔ آپ اس میں جھگڑ کر مجھ سے قیمت کم کراتے پھر میرے وہاں سے اٹھنے سے پہلے پہلے اس سامان کا زیادہ تر حصہ لوگوں کو عنایت فرمایا کرتے۔ میں نے عرض کیا اے رسول اللہ کے بیٹے! میں آپ کے پاس بصرہ سے سامان لاتا ہوں آپ باقاعدہ اصرار کرکے اور جھگڑا کرکے اس میں قیمت کم کراتے ہیں اور پھر میرے اٹھنے سے پہلے پہلے اس کا زیادہ تر حصہ لوگوں میں تقسیم بھی کردیتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا: میرے والد گرامی نے مجھے یہ مرفوع حدیث سنائی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : المخبون لا محمود ولا ماجور ۔ (ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، 7/115،چشتی)
ترجمہ : جو آدمی سودے یا لین دین میں دھوکا کھا جائے وہ قابلِ ستائش ہے نہ قابل اجر ۔

اب ذیل میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے اس انتہائی عمدہ وصف اور انتہائی خوبی کی چند ایمان افروز اور سبق آموز جھلکیاں ملاحظہ ہوں : ⬇

ایک مرتبہ ایک سائل مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھومتے ہوئے آپ کے دروازے پر پہنچا۔ دستک دی اور اپنی حاجت کا درج ذیل اشعار کی صورت میں یوں اظہار کیا : ⬇

لم یخب الیوم من رجاک ومن
حرک من خلف بابک الحلقه

وانت جود وانت معدنة
ابوک ما کان قاتل الفسقه

ترجمہ : آج آدمی نامراد واپس نہیں جائے گا جو آپ کے پاس امید لے کر آیا ہے اور جس نے آپ کے دروازے کا حلقہ کھٹکھٹایا ہے آپ سراپا بخشش اور جود و کرم کی کان ہیں ۔ آپ کا باپ وہ عظیم شخص تھا جس نے فاسقوں سے جنگ فرمائی تھی ۔

حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اس وقت نماز میں مصروف تھے دروازے کی دستک اور سائل کی حاجت انہوں نے نماز میں سن لی ۔ نماز میں تخفیف کی اور باہر تشریف لائے ۔ دیکھا کہ سائل کے چہرہ پر واقعی فقر و فاقہ کے آثار ہیں ۔ آپ نے واپس آکر اپنے غلام کو بلایا اور فرمایا کہ ہمارے نفقہ میں سے تمہارے پاس کچھ ہے ؟ اس نے کہا کہ دو سو درہم ہیں۔ جن کے متعلق آپ کی ہدایت ہے کہ انہیں آپ کے اہل خانہ پر خرچ کردوں ۔ آپ نے فرمایا : وہ سب درہم لاؤ کیونکہ ان سے زیادہ حق دار آدمی آگیا ہے ۔ پھر ان دراہم کو پکڑکر باہر نکلے اور انہیں اس اعرابی (سائل) کو دیتے ہوئے فی البدیہہ یہ اشعار کہے : ⬇

خذھا فانی الیک معتذر
واعلم بانی علیک ذوشفقہ

لو کان فی سیرنا عصاتمہ اذا
کانت سمانا علیک مند فقہ

لکن ریب المنون ذونکد
والکف منا قلیلۃ النفقہ

(ابن سطور، مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر)

خلق خدا کی حاجت براری سے متعلق حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ایک اور ایمان افروز اور انتہائی ایثار و ہمدردی پر مبنی واقعہ نامور صوفی حضور داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ نے کشف المحجوب میں یوں نقل کیا ہے کہ ایک دن ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے رسول خدا عزوجل کے فرزند! میں ایک درویش اور بال بچے دار آدمی ہوں۔ اس لیے آج رات آپ سے کھانے اور مدد کا طلب گار ہوں ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ، ہمارا وظیفہ (شام سے) آرہا ہے ۔ چنانچہ کچھ دیر کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے پانچ تھیلیاں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئیں ۔ ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار (سونے کی اشرفی) موجود تھا ۔ لانے والے اہلکاروں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ سے معذرت کر رہے تھے اور فرماتے تھے کہ ان دیناروں کو خرچ فرمایئے بعد میں مزید بھیج دیئے جائیں گے ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے مذکورہ درویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہل خانہ سے فرمایا کہ یہ تمام تھیلیاں اسے دے دی جائیں پھر اس درویش سے معذرت بھی چاہی کہ میں نے تجھے اتنی دیر تک بٹھائے رکھا۔ اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ یہ رقم اتنی تھوڑی ہوگی تو تجھے انتظار نہ کراتے۔ اس لیے ہمیں معذور سمجھو کہ ہم اہل آزمائش میں سے ہیں اور دنیا کی ہر راحت سے باز آگئے ہیں اور اپنی دنیا کی تمام مرادیں ہم نے گم کردی ہیں اور اپنی زندگی دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وقف کردی ہیں ۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خاندانی عظمت و شرافت اور ذاتی فضائل و مناقب کے پیش نظر حضرت ابوبکر و عمر اور حضرت عثمان غنیl جیسے کبار صحابہ ان کی تعظیم و تکریم فرماتے اور ان کا حد درجہ احترام فرماتے تھے ۔ (ابن کثیر، البدایه والنهایه،چشتی)

مگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا اپنا طرز عمل اور سوچ یہ تھی کہ اس تعظیم میں کہیں اسلامی اخلاق و آداب کے خلاف کوئی کام واقع نہ ہوجائے۔ اس عظیم سوچ اور بلند اخلاقی پر مبنی ایک سبق آموز واقعہ ملاحظہ ہو: جیسے مشہور محدث علامہ نور الدین ہیثمی نے امام محمد باقر بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ کی زبانی یوں نقل کیا ہے کہ : ایک مرتبہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے باہر مقام حرہ کے قریب واقع اپنی زمین کی طرف جانے کے لیے نکلے تو راستے میں مشہور صحابی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے انہیں پالیا وہ اپنی سواری (خچر) پر سوار تھے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو پیدل چلتے دیکھ کر سواری سے اتر پڑے اور سواری کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قریب کرتے ہوئے عرض کیا : اے عبداللہ! آپ اس پر سوار ہوجایئے ۔ مگر آپ نے سواری پر بیٹھنے کو ناپسند فرمایا۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے اصرار کے باوجود جب آپ سوار نہ ہوئے تو انہوں نے قسم اٹھا لی کہ آپ کو ہر قیمت پر سوار ہونا ہوگا ۔ اب سوار ہونے کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا، تاہم فرمایا: تم نے قسم اٹھا کر مجھے تکلیف میں ڈال دیا۔ اب یوں کیجیے کہ آپ سواری کے آگے بیٹھیں میں آپ کے پیچھے بیٹھوں گا ۔ کیونکہ میں نے اپنی جان (سیدہ فاطمۃ الزہرا بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو یہ حدیث نقل کرتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : الرجل احق بصدرد ابته وصدر فراشه والصلوة فی منزله الا ما یجمع الناس علیه ۔
ترجمہ : آدمی اپنے چوپائے (سواری) کے اگلے حصے پر بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔ اسی طرح بستر کے اگلے حصے پر بیٹھنے کا زیادہ حق دار صاحب فراش ہے جبکہ گھر میں باجماعت نماز پڑھنے کی صورت میں صاحب خانہ امامت کرانے کا زیادہ حق دار ہے ۔

اس پر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی نے بالکل سچ فرمایا ہے میں نے اپنے باپ بشیر کو بھی اسی طرح کہتے سنا ہے جیسا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ الا من اذن مگر وہ آدمی جس کو مالک اجازت دے۔ یہ سن کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوگئے ۔ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد کتاب الادب باب صاحب الدابۃ احق بصدرہا)

درج بالا قسم کی اخلاقی عظمت کا ایک اور ایمان افروز واقعہ محب الدین الطبری نے یوں نقل کیا ہے : حضرت امام علی بن موسیٰ سے مروی ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ایک دفعہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے، غلام ساتھ تھا۔ راستے میں گرا ہوا کھانے کا ایک لقمہ پایا تو اسے اٹھا کر غلام کو پکڑایا اور فرمایا: واپسی پر مجھے یاد دلانا۔ مگر غلام نے وہ لقمہ کھا لیا۔ قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آئے تو غلام سے اس لقمہ کے بارے میں پوچھا۔ اس نے عرض کیا: میرے مولا! میں نے وہ لقمہ کھا لیا ہے۔ فرمایا جا تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ پھر فرمایا : سمعت جدی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یقول من وجد لقمة ملقاة فمسح او غسل ثم اکلها اعتقه الله من النار ۔
ترجمہ : میں نے اپنے جد امجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات فرماتے سنا ہے کہ جس آدمی نے کوئی گرا پڑا لقمہ پایا پھر اسے صاف کرکے یا دھوکر کھالیا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا ۔ تو اس فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق جس آدمی کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے تو میں کیونکر اسے غلام بنا سکتا ہوں ۔ (محب الدین الطبری، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی (اذکار تتضمن فضائل واخبار اتختص بالحسین علیہ السلام)

اسلامی اخلاق و آداب اور اوصاف میں تواضع و انکساری کو جو اہمیت حاصل ہے نیز اسلامی تعلیمات میں اس کی جتنی تاکید آئی اور اس سلسلے میں خود پیغمبر اسلام علیہ السلام نے جو مثالی نمونہ چھوڑا ہے ، یہ سب چیزیں سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے مخفی نہیں تھیں، اس لیے خاندانی معاشرتی، سماجی اور مذہبی و روحانی اعتبار سے انتہائی بلند مرتبہ و مقام حاصل ہونے کے باوجود آنجناب کے اندر کمال درجے کی تواضع و انکساری پائی جاتی تھی ۔ چنانچہ نامور مورخ و محدث حافظ ابن عساکر نے اس کی ایک سبق آموز مثال یوں درج کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا گزر چند مساکین کے پاس سے ہوا جو (مسجد نبوی کے ساتھ) صفہ میں کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے آپ کو دیکھ کر عرض کیا آیئے کھانا تناول فرمایئے۔ آپ بیٹھ گئے اور فرمایا : ان الله لایحب المتکبرین ۔ ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔
ان مساکین کے ساتھ کھانا تناول فرمایا ، پھر ان سے فرمایا : میں نے تمہاری دعوت قبول کی ، اب تم لوگ میری دعوت قبول کرو۔ سب نے کہا : نعم : ہاں ٹھیک ہے ۔ چنانچہ آپ انہیں اپنے دولت کدہ پر لے گئے اور اپنی اہلیہ محترمہ حضرت رباب سے فرمایا کہ جو کچھ کھانے کو تمہارے پاس موجود ہے وہ لے آؤ ۔ (ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، 7/ 129،چشتی)

انسانی فطرت ہے کہ انسان مشکل اور آزمائش کے وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مدد اور تعاون کا خواہاں ہوتا ہے۔ مگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایسے موقعہ پر بھی کسی کو آزمائش اور مشکل میں ڈالنا پسند نہیں فرمایا، اس بلند سوچ کی ایک جھلک ذیل میں ملاحظہ ہو : ⬇

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عاشوراء کی رات اپنے تمام اصحاب کو جمع کیا پھر (اس مشکل ترین اور آزمائش کی گھڑی میں بھی) اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : میں یہی محسوس کررہا ہوں کہ یہ لوگ (یزیدی فوج) بہر صورت کل تمہارے ساتھ جنگ کریں گے ۔ اس صورت حال میں تم سب کو (بخوشی) اجازت دیتا ہوں۔ تم سب میری طرف سے آزاد ہو اور اب رات کے اندھیرے نے تمہیں ڈھانپ لیا ہے ۔ پس جس آدمی کے پاس ہمت ہو وہ میرے اہل بیت میں سے کسی آدمی کو ساتھ ملا لے اور تم سب رات کے اندھیرے میں یہاں سے نکل جاؤ ۔ ان لوگوں (یزیدی فوج) کو تو صرف میری تلاش ہے ، کل جب یہ مجھے دیکھیں گے تو تمہاری تلاش بھول جائیں گے اس مخلصانہ پیش کش پر آپ کے اہل بیت نے کہا : لا ابقانا الله بعدک والله لانفار قک وقال اصحابه کذالک ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ آپ کے بعد ہمیں زندہ نہ رکھے ۔ قسم بخدا ہم آپ کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور آپ کے دوسرے ساتھیوں نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا ۔ (الذهبی سیراعلام النببلاء ، 3/ 301) ۔ (مزید حصّہ نمبر 5 میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...