Monday, 28 February 2022

شب معراج کے اعمال و عبادات

 شب معراج کے اعمال و عبادات

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : اس متبرک رات امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کو نماز کا تحفہ دیا گیا ‘ لہذا یہ عمل نہایت موزوں ہے کہ اہل اسلام اس رات قضاء عمری ‘صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا اہتمام کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں ۔ اللہ رب العزت نے سال کے بارہ (12) مہینوں میں مختلف دنوں اور راتوں کی خاص اہمیت و فضیلت بیان کر کے ان کی خاص برکات و خصوصیات بیان فرمائی ہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۔ (سورہ التوبہ:۳۶)

ترجمہ : بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کےنزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں ۔


ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ رجب ہے جس کے بارے میں امام محمد غزالی رحمة اللہ علیہ ’’مکاشفۃ القلوب‘‘میں فرماتے ہیں  کہ ’’رجب‘‘ دراصل ترجیب سے نکلا ہے جس کے معنیٰ ہے تعظیم کرنا ۔ اسے ’’الاحسب‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں  تیز بہاؤ ، اس لیے کہ اس ماہ مبارک میں توبہ کرنے والوں پر رحمت کا بہاؤتیز ہو جاتا ہے اور عبادت گزاروں  پرانوار  قبولیت کا   فیضان ہوتا ہے ۔ اس بنا پر  اسے  ’’اصم ‘‘ بھی کہتے ہیں چونکہ اس  مہینہ میں جنگ وقتال   کی آواز  نہیں  سنی جاتی ۔ اس لیے اس مہینہ کو ’’اصب‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و مغفرت اُنڈیلتا ہے اس میں عبادتیں مقبول اور دعائیں مستجاب ہوتیں ہیں اسے رجب کہتے ہیں- رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید،شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ، اس کا پانی اُس کا مقدر ہوگا جو رجب میں روزے رکھے گا ۔ اسی مہینہ کی یکم تاریخ کو سیدنا حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے ، اسی ماہ کی چار (۴) تاریخ کو جنگِ صفین کا واقعہ پیش آیا ، اسی ماہ کی ستائیسویں (۲۷) کی رات کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معراج شریف کی ہے جس میں آسمانی سیر اور جنت و دوزخ کا ملاحظہ کرنا اور دیدار الٰہی سے مشرف ہونا تھا ۔ صوفیائے کرام علیہم الرحمہ کا فرمان ہے کہ رجب میں تین (۳) حروف ہیں : ’’ر‘‘،’’ج‘‘ اور ’’ب‘‘ ۔

’’ر‘‘ سے مراد اللہ کی رحمت ہے ۔

’’ج‘‘ سے مراد بندے کا جرم ہے ۔

’’ب‘‘ سے مراد اللہ کی بَر یعنی بھلائی مراد ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی یعنی بخشش کے درمیان کردو ۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۰۲)


اس لیے کہ اس ماہ کی نسبت بھی  اللہ پاک کی طرف ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رجب شھر اللہ وشعبان شھری و رمضان شھر امتی ۔

ترجمہ : رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (جامع الاحادیث جلد ۴ صفحہ ۴۰۹،چشتی)

 

ایک اور حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فضل شهر رجب على الشهور كفضل القرآن على سائر الكلام ۔

ترجمہ : رجب کی فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسی قرآن پاک کی فضیلت باقی تمام کلاموں(صحیفوں) پر ہے ۔ (مقاصد الحسنہ صفحہ ۳۰۶،چشتی)


حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں اپنی سند کے ساتھ احادیث شریفہ روایت کی ہیں : عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه و آلہ وسلم قال من صام يوم السابع و العشرين من رجب کتب له ثواب صيام ستين شهرا ۔

ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں  آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے ستائیسویں  رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے ساٹھ(60) مہینے روزہ رکھنے کا ثواب ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182)


عن ابي هريرة و سلمان  رضي الله عنهما قالا قال رسول الله صلي الله عليه و آلہ وسلم إن في رجب يوما و ليلة من صام ذلک اليوم و قام تلک الليلة کان له من الأجر کمن صام مائة سنة و قام لياليها ۔

ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ و سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب میں ایک ایسا دن اور ایسی رات ہے جو شخص اس دن روزہ رکھتا ہے اور اس رات قیام (نماز کا اہتمام) کرتا ہے اس کےلیے اس شخص کے برابر ثواب ہے جس نے سو سال روزہ رکھا اور سو سال کی راتیں  عبادت میں گزاری ۔ پھر آپ نے اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : وهي لثلاثة يبقين من رجب ۔ ترجمہ : وہ رجب کی ستائیسویں تاریخ ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182,183،چشتی)


رجب المرجب کے مہینے میں روزے رکھنا بہت بڑا ثواب ہے ، جیسا کہ اس بارے میں فرمانِ مصطفےٰ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ : رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا اس نے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا کو واجب کر لیا ۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۰۳)


اِسی طرح ایک اور مقام پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : رجب شهرعظيم يضاعف الله فيه الحسنات فمن صام يوما من رجب فكانما صام سنة ومن صام منه سبعة أيام غلقت عنه سبعة أبواب جهنم ومن صام منه ثمانية أيام فتحت له ثمانية أبواب الجنة ومن صام منه عشرة أيام لم يسال الله شيئا إلا أعطاه إياه ومن صام منه خمسة عشريوما نادى مناد في السماء قد غفر لك ما مضى فاستانف العمل ومن زاد زاده الله عزوجل ۔

ترجمہ : رجب ایک عظیم الشان مہینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کو دگنا کرتا ہے جو آدمی رجب کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے اور جو شخص رجب کے سات (۷) دن کے روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند کیے جائیں گے جو اس کے آٹھ (۸) دن کے روزے رکھے تو اس کے لیے جنت کےآٹھ (۸) دروازے کھل جائیں گے اور جو آدمی رجب کے دس دن کے روزے رکھے تواللہ تبارک و تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرے گا وہ اسے دے گا اور جو رجب کے پندرہ دن روزے رکھےتو آسمان سے ایک منادی پکارے گا کہ تیرے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے پس نئے سرے سے عمل کر   اور جو آدمی زیادہ روزے رکھے گا اسے اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ دے گا ۔ (جامع الاحادیث جلد ۴ صفحہ ۴۰۹)


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : من صام يوم سبع وعشرين من رجب كتب الله له صيام ستين شهرا ۔

ترجمہ : جو شخص رجب کی ستائیسویں (۲۷) تاریخ کو روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے ساٹھ (۶۰)مہینوں کے روزوں کا ثواب عطا فرمائےگا ۔ (احیاء علوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۹،چشتی)


رجب المرجب شریف کی ستائیسویں (۲۷) شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علِم بیداری میں اور جسم انور کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر وہاں سے آسمانوں پرآسمانوں سے بھی اوپر سدرۃ المنتہی تک اور پھر سدرۃ المنتہی سے بھی آگے وہاں تشریف لے گئے جہاں کسی کا وہم و گمان بھی نہیں جا سکتا توایسی رات جس کو یہ شرف حاصل ہو کہ اس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج ہوئی ہو اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوبِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خصائص نعم (نعمتوں) سے نوازا ہو اوراپنے دیدار کی نعمت کبرٰی سے سرفراز کیا ہو وہ رات کتنی افضل و بزرگ ہوگی ! تو اسی شب کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : للعامل في هذه الليلة حسنات مائة سنة ‘‘فمن صلى في هذه الليلة اثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة من القرآن ويتشهد في كل ركعتين ويسلم في آخرهن ثم يقول ’’سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر مائة مرة ثم يستغفر الله مائة مرة ويصلي على النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مائة مرة ويدعو لنفسه بما شاء من أمر دنياه وآخرته ويصبح صائماً فإن الله يستجيب دعاءه كله إلا أن يدعو في معصية ۔

ترجمہ : رجب کی ستائیسویں (۲۷) رات میں عبادت کرنے والوں کو سو (۱۰۰) سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے جواس رات میں بارہ (۱۲) رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتح پڑھ کر قرآن کریم کی کوئی سورۃ پڑھے اور دو رکعت پر تشہد (التحیات للہ آخر تک) پڑھ کر (بعد درود) سلام پھیرے اوربارہ (۱۲) رکعتیں پڑھنے کے بعد سو (۱۰۰) مرتبہ یہ تسبیح پڑھے ’’سبحان اللہ والحمد اللہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر‘‘ ۔ پھر سو (۱۰۰) مرتبہ استغفراللہ اور سو (۱۰۰) مرتبہ درود شریف پڑھے تو دنیا و آخرت کے امور کے متعلق جو چاہے دعا کرے اور صبح میں روزہ رکھے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعاؤں کو قبول فرمائے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسی دعا نہ کرے جو گناہ میں شمار ہوتی ہو کیونکہ ایسی دعا قبول نہ ہوگی ۔ (احیاءعلوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۸،چشتی)


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ : وَمَا تَقَرَّبَ إِلَىَّ عَبْدِى بِشَىْءٍ أَحَبَّ إِلَىَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِى يَتَقَرَّبُ إِلَىَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِى يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِى يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِى يَبْطُشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِى يَمْشِى بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِى لأُعْطِيَنَّهُ ۔

ترجمہ :  اور میرا بندہ کسی ایسی عبادت سے میرا قر ب حاصل نہیں کرتا جو مجھے ان عبادات سے زیادہ پسندیدہ ہو جو مَیں نے اس پر فرض کی اور میرا بندہ نوافل کے ساتھ مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ، پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو میں اس کے وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سُنتاہے ، میں اس کی وہ آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، مَیں اس کے وہ ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، مَیں اس کے وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو مَیں ضرور اسے عطا کرتا ہوں ۔ (صحیح بخاری صفحہ ۱۵۹۷)


حضرت حمید بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ : قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم افضل الصلاۃ بعد الفریضۃ قیام اللیل ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ فرائض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے ۔ (سنن النسائی جلد ۳ صفحہ ۱۴۵،چشتی)


مزید  نوافل کی اہمیت  کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان اول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ صلاتہ فان و جدت تامۃ کتبت تامۃو ان کان انتقص منھا شیئی قال انظر و اھل تجدون لہ من تطوع یکمل لہ ما ضیع من فریضۃ من تطوعۃ ثم سائر الاعمال تجری علی حسب ذلک ۔

ترجمہ : قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے اس کی نمازوں کا حساب لیا جائے گا اگر وہ پوری پائی گئیں تو پوری لکھ لی جائیں گی اور اگر ان میں کچھ کمی پائی گئی تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نوافل بھی ہیں؟چنانچہ فرض نمازوں کی کمی نوافل سے پوری کی جائیگی، اسی طرح سارے اعمال  کے بارے میں ہوگا ۔ (سنن نسائی صفحہ ۳۴۶،چشتی)


ابن المنکدر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیاکی صرف تین (۳)  لذتیں باقی رہنے والی ہیں : 1 ۔ رات کو جاگنے والے کی لذت ۔ 2 ۔ بھائیوں سے ملاقات کی لذت ۔ 3 باجماعت نماز ادا کرنے کی لذت ۔

بعض عارف باللہ فرماتے ہیں کہ سحر کے وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے قلوب کی طرف توجہ فرماتا ہے جنہوں نے تمام رات عبادت کی اور انہیں نور سے بھر دیتا ہے ۔ پھر ان پاک باز بندوں کا نور غافلوں کے دلوں پر منتقل ہوجاتا ہے ۔ بعض پہلے  علماء میں کسی عالم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنقل کیا ہے کہ میرے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں مَیں محبوب رکھتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ میرے مشتاق ہیں مَیں ان کا مشتاق ہوں، وہ میرا ذکر کرتے ہیں اور مَیں ان کا ذکر کرتا ہوں،وہ میری طرف دیکھتے ہیں اور مَیں ان کی طرف دیکھتا ہوں ، اگر تو ان کے طریقے کے مطابق عمل کرے گا تو مَیں تجھ کو دوست رکھوں گا اور اگر تو ان سے انحراف کرے گا تو مَیں تجھ سے ناراض رہوں گا، ان بندوں کی علامت یہ ہے کہ وہ دن کو اس طرح سایہ پر نظر رکھتے ہیں جس طرح چرواہا اپنی بکریوں پر نظر رکھتا ہے اور غروبِ آفتاب کے بعداس طرح رات کے دامن میں پناہ لیتے ہیں جس طرح پرندے اپنے گھونسلوں میں چھپ جاتے ہیں ۔ پھر جب رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے تو حبیب اپنے محبوب کے ساتھ خلوت میں چلے جاتے ہیں تو وہ میرے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں اور میری خاطر اپنے چہرے زمین پر رکھتے ہیں مجھ سے مناجات کرتے ہیں ، میرے انعامات کا تذکرہ کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ، کوئی روتا ہے ، کوئی چیختا ہے ، کوئی آہ بھرتا ہے وہ لوگ جس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں وہ میری نگاہوں کے سامنے ہیں ۔ میری محبت میں وہ جو  کچھ شکوے شکایت کرتے ہیں مَیں ان سے واقف ہوں ، میرا ان لوگوں پر سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ مَیں اپنا کچھ نور ان کے دلوں میں ڈال دیتا ہوں ۔

دوسرا انعام یہ کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں، ان نیک بندوں کے مقابلے میں لائی جائیں تو مَیں انہیں (یعنی اپنے بندوں کو ) ترجیح دوں ۔

تیسرا انعام یہ ہے کہ مَیں اپنے چہرے سے ان کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ جن لوگوں کی طرف مَیں اس طرح متوجہ ہوتا ہوں انہیں کیا دینا چاہتا ہوں؟ مالک ابن دینار رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قریب آجاتے ہیں ۔ ان قدسی صفت انسانوں کے دلوں میں سوز و گداز اور رقت کی یہ کیفیت اس لیے پیدا ہوتی تھی کہ انہیں باری تعالیٰ کا قرب میسر تھا ۔ (احیاء علوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۵)


حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : إن من الليل ساعة لا يوافقها عبد مسلم يسأل الله خيرا إلا أعطاه إياه ۔

ترجمہ : رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ اسے پاتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کی درخواست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے ۔ (مسلم شریف صفحہ ۳۵۰)

یعنی تمام رات کی عبادت کا مقصد صرف اور صرف اس گھڑی کا پانا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ تمام دعاؤں کو قبول  فرماتا ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رات کی اُس گھڑی میں عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احد چشتی)

فضائل و مناقب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

 فضائل و مناقب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : صحابی ابنِ صحابی حضرت سیّدُنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل جاتا ہے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ 6 ہجری میں صلحِ حُدیبیہ کے بعد دولتِ ایمان سے مالامال ہوئے مگر اپنا اسلام ظاہر نہ کیا۔ پھر فتحِ مکّہ کے عظمت والے دن والدِ ماجد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہوکر اس کا اظہار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرحبا فرمایا ۔(طبقاتِ ابن سعد،ج 7،ص285)


حلیہ مبارکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ گورے رنگ اور لمبے قد والے تھے ، چہرہ نہایت وجیہ اور رعب و دبدبے والا تھا ۔ زرد خِضاب استعمال فرمانے کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا کہ داڑھی مبارک سونے کی ہے ۔ (تاریخ الاسلام للذھبی جلد  4 صفحہ 308)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاارشاد ہے کہ (اول جیش من أمتي یغزون البحر قد أو جبوا) میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان (مجاہدین) کےلیے (جنت) واجب ہے ۔ (صحیح البخاری: ۲۹۲۴)

یہ جہاد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی خلافت) کے زمانے میں ہوا تھا ۔ (صحیح بخاری: ۶۲۸۲، ۶۲۸۳)

اور اس جہاد میں سیدنا معاویہ ضی اللہ عنہ شامل تھے ۔ (صحیح بخاری: ۲۷۹۹، ۲۸۰۰)


سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے ۔ میں یہ سمجھا کہ آپ میرے لیے تشریف لائے ہیں لہٰذا میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری کمر پر تھپکی دے کر فرمایا : (اذھب فادع لي معاویۃ) وکان یکتب الوحي ۔ إلخجاؤاور معاویہ کو بُلا لاؤ، وہ (معاویہ رضی اللہ عنہ) وحی لکھتے تھے ۔ إلخ ۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ۲۴۳/۲ و سندہ حسن)


حافظ ابن عساکر علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : خال المؤمنین و کاتب وحي رب العالمین ، أسلم یوم الفتح“ ۔ مومنوں کے ماموں اور رب العالمین کی وحی لکھنے والے ، آپ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے ۔ (تاریخ دمشق ۳۸/۶۲)


جلیل القدر تابعی عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ المکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : معاویہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھا ، پھر ابن عباس(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا : “أصاب إنہ فقیہ” انہوں نے صحیح کیا ہے ، وہ فقیہ ہیں ۔ (صحیح بخاری: ۳۷۶۵)


صحابی عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معاویہ (رضی اللہ عنہ) کےلیے فرما یا : (اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیاً واھد بہ) اے اللہ ! اسے ہادی مہدی بنا دے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (سنن الترمذی : ۳۸۴۲ وقال : ھٰذا حدیث حسن غریب” التاریخ الکبیر للبخاری: ۲۴۰/۵ ، طبقات ابن سعد ۴۸۷/۷ ، الآحادو المثانی لابن ابی عاصم ۳۵۸/۲ ح ۱۱۲۹، مسند احمد ۲۱۶/۴ ح ۱۷۸۹۵، وھو حدیث صحیح)


اُم علقمہ سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) مدینہ تشریف لائے تو (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر اور بال مانگا ۔ پھر انہوں نے چادر اوڑھ لی اور بال پانی میں ڈبو کر وہ پانی پیا اور اپنے جسم پر بھی ڈالا ۔ (تاریخ دمشق ۱۰۶/۶۲ و سندہ حسن، مرجانہ و ثقھا العجلی وابن حبان)


مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک وفد کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے پاس گئے تو انہوں (معاویہ) نے ان (مسور) کی ضرورت پوری کی پھر تخلیے میں بلا کر کہا : تمہارا حکمرانوں پر طعن کرنا کیا ہوا ؟ مسور رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ چھوڑیں اور سلوک کریں جو ہم پہلے بھیج چکے ہیں ۔ معاویہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! تمہیں اپنے بارے میں بتانا پڑے گا اور تم مجھ پر جو تنقید کرتے ہو ۔ مسور نے کہا : میں نے ان کی تمام قابلِ عیب باتیں (غلطیاں) انہیں بتا دیں ۔ معاویہ نے کہا : کوئی بھی گناہ سے بری نہیں ہے ۔ اے مسور ! کیا تمہیں پتا ہے کہ میں نے عوام کی اصلاح کی کتنی کوشش کی ہے ، ایک نیکی کا اجر دس نیکیوں کے برابر ملے گا ۔ یا تم گناہ ہی گنتے رہتے ہو اور نیکیاں چھوڑ دیتے ہو ؟ مسور نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! ہم تو انہی گناہوں کا ذکر کرتے ہیں جو ہم دیکھتےہیں ۔ معاویہ نےکہا : ہم اپنے ہر گناہ کو اللہ کے سامنے تسلیم کرتے ہیں ۔ اے مسور ! کیا تمہارے ایسے گناہ ہیں جن کے بارے میں تمہیں یہ خوف ہے کہ اگر بخشے نہ گئے تو تم ہلاک ہو جاؤ گے ؟ مسور نےکہا : جی ہاں ! ۔ معاویہ نے کہا : کس بات نے تمہیں اپنے بارے میں بخشش کا مستحق بنا دیا ہے اور میرے بارے میں تم یہ امید نہیں رکھتے ؟ اللہ کی قسم ! میں تم سے زیادہ اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم ! دو باتوں میں صرف ایک ہی بات کو اختیار کرتا ہوں ۔ اللہ اور غیر اللہ کے درمیان صرف اللہ کو ہی چنتا ہوں ۔ میں اس دین پر ہوں جس میں اللہ عمل قبول فرماتا ہے ، وہ نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ دیتا ہے سوائے اس کے کہ وہ جسے معاف کر دے۔ میں ہر نیکی کے بدلے یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ مجھے کئی گنا اجر عطا فرمائے گا ۔ میں ان عظیم امور کا سامنا کر رہا ہوں جنہیں میں اور تم دونوں گن نہیں سکتے ۔ میں نے اقامتِ صلوٰۃ کا نظام ،جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کے نازل کردہ احکامات کا نظام قائم کر رکھا ہے اور ایسے بھی کام ہیں اگر میں انہیں تمہیں بتادوں تو تم انہیں شمار نہیں کر سکتے ، اس بارے میں فکر کرو ۔ مسور فرماتے ہیں کہ میں جا ن گیا کہ معاویہ مجھ پر اس گفتگو میں غالب ہو گئے ۔ عروہ بن الزبیر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی نہیں سنا گیا کہ مسور (رضی اللہ عنہ) نے معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی کبھی مذمت کی ہو۔ وہ تو ان کے لیے دعائے مغفرت ہی کیا کرتے تھے ۔ (تاریخ بغداد ج ۱ص ۲۰۸، ۲۰۹ ت ۴۹ و سندہ صحیح،چشتی)


امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ نے “قاسم بن محمد  قال قال معاویۃ بن أبي سفیان رضی اللہ عنہم” کی سند سے ایک حدیث بیان کی ہے جس میں آیا ہے کہ قاسم بن محمد (بن ابی بکر) نے فرمایا : “فتعجب الناس من صدق معاویۃ“ ۔ پس لوگوں کو معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی سچائی پر بڑا تعجب ہوا ۔ (تاریخ دمشق ۱۱۵/۶۲ و سندہ حسن)


اس روایت سے معلوم ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے نزدیک سچے تھے ۔


سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : “ما رأیت رجلاً کان أخلق یعني للملک من معاویۃ” ۔ میں نے معاویہ سے زیادہ حکومت کےلیے مناسب (خلفائے راشدین کے بعد) کوئی نہیں دیکھا ۔ (تاریخ دمشق ۱۲۱/۶۲ و سندہ صحیح،چشتی)(مصنف عبدالرزاق ۴۵۳/۱۱ ح ۲۰۹۸۵)


عرباض بن ساریہ السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللھم علّم معاویۃ الکتاب و الحساب ، وقہ العذاب ۔ اےمیرے اللہ ! معاویہ کو کتاب و حساب سکھا اور اسے عذاب سے بچا ۔(مسند احمد ۱۲۷/۴ ح ۱۷۱۵۲، و سندہ حسن ، صحیح ابن خزیمہ : ۱۹۳۸)

(حارث بن زیاد و یونس بن سیف صدوقان لا ینزل حدیثہما عن درجۃ الحسن و الجرح فیہما مردود)


امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے فرمایا : جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا کہتا ہے تو اس کے اسلام پر تہمت لگاؤ ۔ (مناقب احمد لابن الجوزی صفحہ ۱۶۰ و سندہ صحیح، تاریخ دمشق ۱۴۴/۶۲)


امام معافی بن عمران الموصلی علیہ الرحمہ (متوفی ۱۸۵؁ھ) سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ کسی کو بھی برابر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ، ام المؤمنین ام حبیبہؓ کے بھائی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب اور اللہ کی وحی (لکھنے) کے امین ہیں ۔ (تاریخ بغداد ۲۰۹/۱ و سندہ صحیح ، الحدیث: ۱۹ ص ۵۷،چشتی)(تاریخ دمشق: ۱۴۳/۶۲)


امام احمد بن حنبل علیہ ارحمہ نے فرمایا :“من تنقص أحداً من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فلا ینطوی إلا علیٰ بلیۃ، ولہ خبیئۃ سوء إذا قصد إلیٰ خیر الناس وھم أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم” ۔ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی ایک کی تنقیص کرے تو وہ اپنے اندر مصیبت چھپائے ہوئے ہے ۔ اس کے دل میں برائی ہے جس کی وجہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ پر حملہ کرتا ہے حالانکہ وہ (انبیاء کرام علیہ السلام کے بعد) لوگوں میں سب سے بہترین تھے ۔ (السنۃ للخلال ۴۷۷/۲ ح ۷۵۸ وقال المحقق: إسنادہ صحیح،چشتی)


ابراہیم بن میسرہ الطائفی علیہ الرحمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے کسی انسان کو نہیں مارا سوائے ایک انسان کے جس نے معاویہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو گالیاں دی تھیں ، انہوں نے اسے کئی کوڑے مارے ۔ (تاریخ دمشق ۱۴۵/۶۲ و سندہ صحیح،چشتی)


مسند بقی بن مخلد میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ایک سو تریسٹھ (۱۶۳) حدیثیں موجود ہیں ۔ (سیر اعلام النبلاء ۱۶۲/۳)


امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے جریر بن عبداللہ البجلی ، السائب بن یزید الکندی ، عبداللہ بن عباس، معاویہ بن حدیج اور ابوسعید الخدری وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینابو الشعثاء جابر بن زید، حسن بصری، سعید بن المسیب ، سعید المقبری، عطاء بن ابی رباح، محمد بن سیرین، محمد بن علی بن ابی طالب المعروف بابن الحنفیہ، ہمام بن منبہ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف وغیرہ تابعین رحمہم اللہ نے روایت بیان کی ہے ۔ (تہذیب الکمال ۲۰۲،۲۰۱/۱۸)


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کارنامے اور فضائل و مناقب کتبِ احادیث و سِیَر اور تواریخِ اسلام کے روشن اوراق پر نور کی کِرنیں بکھیر رہے ہیں ۔ آپ کو کتابتِ وحی کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خُطوط تحریر کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی ۔ (معجم کبیر جلد 5 صفحہ 108 حدیث نمبر 4748)


دعائے مصطفے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کئی بار نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاؤں سے نوازا کبھی علم و حِلم کی یوں دعا دی : اے اللہ معاویہ کو علم اور حلم (بردباری) سے بھر دے ۔ (تاریخ کبیر جلد 8 صفحہ 68 حدیث نمبر 2624)


کبھی ہدایت کا روشن ستارہ یوں بنایا : یااللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا ، ہدایت پر قائم رہنے والا اور لوگوں کےلیے ذریعۂ ہدایت بنا ۔ (ترمذی جلد 5 صفحہ 455 حدیث نمبر 3868)


کبھی نوازشوں کی بارش کو یوں برسایا : اے اللہ! معاویہ کو حساب و کتاب کا عِلم عطا فرما اور اس سے عذاب کو دور فرما ۔ (مسند احمد جلد 6 صفحہ 85 حدیث نمبر 17152)


کبھی خاص مجلس میں ان کی عظمت پر یوں مہر لگائی : معاویہ کو بلاؤ اور یہ معاملہ ان کے سامنے رکھو ، وہ قَوی اور امین ہیں ۔ (مسند بزار جلد 8 صفحہ 433 حدیث نمبر 3507)


کبھی سفر میں خدمت کا شرف بخشا اور وضو کرتے ہوئے نصیحت فرمائی : معاویہ اگر تم کو حکمران بنایا جائے تو اللہ پاک سے ڈرنا اور عدل و انصاف کا دامن تھام کر رکھنا ۔ (مسند احمد جلد 6 صفحہ 32 حدیث: 16931)


اوصافِ مبارکہ حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اخلاص اور عہد و وفا، علم و فضل اور فقہ و اجتہاد، حسن ِسلوک، سخاوت، تقریر و خطابت، مہمان نوازی، تحمل و بُردباری، غریب پروری، خدمتِ خَلق، اطاعتِ الٰہی، اتّباعِ سنّت، تقویٰ اور پرہیز گاری جیسے عمدہ اوصاف سے مُتَّصِف تھے۔ بُردباری ایک مرتبہ ایک آدمی نے آپ رضیَ اللہُ عنہسے سخت کلامی کی مگر آپ نے خاموشی اختیار فرمائی، یہ دیکھ کر کسی نے کہا: اگر آپ چاہیں تو اسے عبرت ناک سزا دے سکتے ہیں، فرمایا:مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میری رِعایا میں سے کسی کی غلطی کی وجہ سے میرا حِلم (یعنی قوت برداشت) کم ہو ۔ (حلم معاویہ لابن ابی الدنیا، صفحہ 22)


اصلاحِ نفس کا جذبہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے کام کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کا جذبہ بھی رکھتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہا کو مکتوب روانہ کیا کہ مجھے وہ باتیں لکھ دیں جن میں میرے لیے نصیحت ہو ۔ (ترمذی،ج4،ص186، حدیث: 2422)


حضرت امیرُ المؤمنین حضرت مولا علیُّ رضی اللہ عنہ نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا : معاویہ کی حکومت کو ناپسند نہ کرو کہ اگر وہ تم میں نہ رہے تو تم سَروں کو کندھوں سے ایسے ڈھلکتے ہوئے دیکھو گے جیسےاندرائن (پھل) ۔ (یعنی تم اپنے دشمن کے سامنے نہیں ٹھہر سکو گے)۔(مصنف ابن ابی شیبہ،ج 8،ص724، رقم: 18)


شیرِ خدا سے مَحبّت حضرت سیّدُنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سُن کر آپ نے حضرت ضرار رضی اللہ عنہ سے فرمایا : میرے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ الْکریم کے اوصاف بیان کریں ۔ جب حضرت ضرار رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اوصاف بیان کیے تو آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بھر آئیں اور داڑھی مبارک آنسوؤں سے تَر ہو گئی ، حاضرین بھی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور رونے لگے ۔ (حلیۃ الاولیاء جلد 1 صفحہ 126)


اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی خدمت حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کو بیش قیمت نذرانے پیش کرنے کے باوجود آپ ان سے مَعْذِرَت کرتے اور کہتے : فی الحال آپ کی صحیح خدمت نہیں کرسکا آئندہ مزید نذرانہ پیش کروں گا ۔ (کشف المحجوب صفحہ 77)


کعبہ میں نماز جب آپ رضی اللہ عنہ مکۂ مُکرّمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبدُاللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم نے کعبہ میں کس جگہ نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے کہا : دیوار سے دو یا تین ہاتھ کا فاصلہ رکھ کر نماز پڑھ لیجیے ۔ (اخبارِ مکۃ للازرقی جلد 1 صفحہ 378،چشتی)


موئے مبارک کا دھووَن پیا ایک بار آپ رضی اللہ عنہ مدینۂ مُنوّرہ تشریف لائے تو حضرت عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمتِ عالیہ میں آدمی بھیجا کہ آپ کے پاس نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رِدا (یعنی چادر) مُقدّسہ اور موئے مبارک ہیں ، میں ان کی زیارت کرناچاہتا ہوں ، حضرت عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہا نے وہ دونوں مُتبرّک چیزیں بھجوادیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حصولِ بَرَکت کےلیے چادر مبارک کو اوڑھ لیا پھر ایک برتن میں موئے مبارک کو غسل دیا اور اس غَسالَہ کو پینے کے بعد باقی پانی اپنے جسم پر مَل لیا ۔ (تاریخ ابنِ عساکر،ج 59،ص153)


وصالِ مبارک آپ رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تَبرّکات میں سے اِزار (تہبند) شریف ، ردائے اقدس ، قمیصِ اطہر ، موئے مبارک اور ناخنِ بابرکت کے مقدّس تراشے تھے ، تَبرّکات سے برکات حاصل کرنے اور اہلِ بیت و صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کی خدمت کا سلسلہ جاری و ساری تھا کہ وقت نے سفرِِ زندگی کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کردیا چنانچہ بَوقتِ انتقال وصیّت کی کہ مجھے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اِزار شریف و ردائے اقدس و قمیصِ اطہر میں کفن دینا ، ناک اور منہ پر موئے مبارک اور ناخنِ بابرکت کے تراشے رکھ دینا اور پھر مجھے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن کے رحم پر چھوڑ دینا ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 59،ص229تا231)


کاتبِ وحی ، جلیلُ القدر صحابیِ رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے 22رجب المرجب 60ھ میں 78سال کی عمر میں داعیِ اَجل کو لبیک کہا ۔ (معجم کبیر جلد 19 صفحہ 305 رقم: 679)(استیعاب جلد 3 صفحہ472)


حضرت ضَحّاک بن قَیس رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھانے کا شرف حاصل کیا جبکہ دِمَشْق کے بابُ الصغیر کو آخری آرام گاہ ہونے کا اعزاز بخشا گیا ۔ (الثقات لابن حبان،ج1،ص436)


بدگوئی سے توبہ شمسُ الائمہ امام سَرْخَسی رحمۃُ اللہِ علیہ (سالِ وفات:483ھ) نے مبسوط میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ پہلے پہل امامِ جلیل محمد بن فضل الکماری رحمۃُ اللہِ علیہ (سالِ وفات : 381ھ) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بدگوئی اور عیب جوئی میں مبتلا ہوگئے تھے پھر ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ ان کے منہ سے لمبے لمبے بال نکل کر پاؤں تک لٹک گئے ہیں اور وہ ان بالوں کو اپنے پاؤں میں روندتے چلے جارہے ہیں جبکہ زبان سے خون جاری ہے جس سے ان کو سخت تکلیف اور اذیت ہورہی ہے، بیدار ہونے کے بعد انہوں نے تعبیر بتانے والے سے اس کی تعبیر پوچھی تو اس نے کہا : آپ کِبار صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی صحابی کی بدگوئی اور ان پر طعن کرتے ہیں ، اس فعل سے بچئے اور اجتناب کیجئے۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس سے فوراً تائب ہو گئے ۔ (المبسوط،جز:24 جلد 12 صفحہ 57،چشتی)


اہل سنت و جماعت کے نزدیک تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل (روایت میں سچے) ہیں ۔ (اختصار علوم الحدیث لابن کثیر ۴۹۸/۲)


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اجتہادی اختلافات اور جنگیں ہوئی ہیں ، ان میں وہ معذور و ماجور ہیں اور ہمیں اس بارے میں مکمل سکوت کرنا چاہیے ۔ یا اللہ ہمار ے دلوں کو تمام صحابہ و اہلبییت رضی اللہ عنہم کی محبت سے بھر دے اور ان کی توہین و تنقیص سے بچا ۔ آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 27 February 2022

امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

 امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی بغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں دن میں سورج نظر نہیں آرہا ایک پوسٹ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی دیکھنے میں آئی حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں یہ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دے رہا ہے جبکہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں کم و بیش ایک ہزار سال کا فرق ہے حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 215 ہجری میں اور وفات 303 ہجری میں ہوئی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1159 ہجری اور وفات 1239 ہجری میں ہوئی نہ جانے رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ کیسے مل گیا کہنا پڑے گا یہ بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی مکاریاں ہیں جو عوامِ اہل سنت کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جب حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی بات آ ہی گئی ہے تو حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے عقیدہ بھی ملاحظہ کر لیجیے حضرت امام المزی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں : سئل أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ النَّسَائي عَنْ معاوية بْن أَبي سفيان صاحب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ: إنما الإسلام كدار لها باب، فباب الإسلام الصحابة، فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الدار، قال: فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة ۔

ترجمہ : حضرت ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا معاویہ بن سفیان صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اسلام کے دروازے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں پس جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اذیت دی گویا اس نے اسلام کو اذیت دینے کا ارادہ کیا کیونکہ جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے پس جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے ۔ (تہذیب الکمال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 339 ، 349 مؤسسۃ الرسالہ)


حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کے منہ پر جوتا لگایا ہے لہٰذا رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو اب امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے غلط بیانی کرنے سے باز آجانا چاہیے اور کسی گندی نالی میں ڈوب کر مرجانا چاہیے ۔


معلوم ہوا صحابی رسول حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوء اعتقاد رکھنے والا صرف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی تنقیص پر نہیں رکتا ہے بلکہ وہ جمیع اصحاب نبوی رضی اللہ عنہم پر تبراء سے بھی پھر باز نہیں آتا ہے جس کا بالکل آج کل مشاہدہ ہو رہا ہے ۔


یہ بھی معلوم ہوا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھتے تھے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے واقعہ سے غلط مفھوم گھڑ کر جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں وہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو آنکھیں کھول کر پڑھیں شائد اگر ضمیر زندہ ہو تو توبہ رجوع کی توفیق مل جائے اللہ تعالی ہم سب کو آل و اصحاب کا ادب نصیب فرمائے آمین ۔


حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امام نسائی کی شہادت کی جھوٹی داستان


محترم قارئینِ کرام : بعض لوگ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرنے کےلیے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے قصے سے دلیل لیتے ہیں ، جس میں مذکور ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی نفی کی لیکن یہ واقعہ باسند صحیح ثابت نہیں اس کی سند میں مجہول اور غیر معتبر راوی موجود ہیں لہٰذا ایسی بے سروپا روایات کا کوئی اعتبار نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں کچھ بھی ثابت نہیں ۔ (تاريخ دمشق لابن عساكر : 105/59، سير أعلام النبلاء للذهبي : 132/3) ، اس بات کو ذکر کرنے کے بعد حافظ جمال الدین مزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں یہ بات امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق سوءِ اعتقاد پر دلالت نہیں کرتی بلکہ ان کے متعلق برائی سے روکنے پر دلالت کرتی ہے ۔


یہ قول ثابت نہیں ہو سکا کیونکہ اس کی سند میں ابوالعباس اصم کے والد یعقوب بن یوسف بن معقل ، ابوفضل ، نیشاپوری کی توثیق نہیں ملی ۔ بعض کتب میں اس سند سے ابوالعباس اصم کے والد کا واسطہ گر گیا ہے ۔


حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا انکارکرنے کے لیے چھپے رافضی اور کھلے رافضی جھوٹ اور ھٹ دھرمی دیکھاتے ہیں اور انہیں ہم باربار بتا چکے ہیں کہ جوروایات آپ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ بے سند ہیں ، ضعیف ہیں اگر ثابت بھی ہیں تو ان کا وہ مطلب نہیں ہے جو آپ لوگ نکالنا چاہتے ہیں لیکن چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کی ہٹ دھرمی کی انتہاء ہے کہ وہی بے سند روایات بار بار بیان کرتے ہیں جیسا کہ : امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کی جھوٹی داستان ، چھپے رافضی اور کھلے رافضی کہتے ہیں کہ : امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ دمشق میں گئےوہاں لوگ تین سوسال گزرنے کے بعد منبروں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہتے تھے ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کو بڑا غصہ آیا ، انہوں نے ارادہ کیا کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے فضائل پر کتاب لکھوں تو وہاں لوگوں نے کہا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بھی کوئی حدیث بیان کریں تو انہوں نے میرے والی بات کہ میری زبان بند ہی رہنے دوتو وہاں کے لوگوں نے اصرار کیا کہ آپ بتائیں تو امام صاحب نے فرمایا کہ اللہ معاویہ کو صحابی ہونے کی وجہ سے چھوڑ دے تو تمہارے لیے کافی نہیں ؟ اور پھر کہا کہ مجھے تو معاویہ کے بارے میں صرف ایک صحیح حدیث کا پتہ ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے کہ اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے ، پس اتنی بات تھی کہ ناصبی ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو اتنا مارا کہ ان کی شرمگاہ پر بھی زخم بن گئےحتی کہ وہ قریب المرگ ہوگئے پھر ان کو ان کی خواہش کے مطابق مکہ لے کر جایا گیا اور وہاں ہی ان کو دفن کردیاگیا ۔


امام نسائی یعنی ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر النسائی رحمۃ اللہ علیہ (م303ھ) کا شمار حدیث کے مشہور اماموں علیہم الرحمہ میں ہوتا ہے اور ان کی کتاب : ’’سنن نسائی‘‘ کتب ستہ میں شامل ہے ۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں عوام و خواص میں یہ قصہ مشہور ہے کہ انہیں شام کے ناصبیوں نے بہت مارا تھا اور وہ اسی مار کی وجہ سے شہید ہوگئے تھے ۔


اس من گھڑت قصے کی روایات کا مختصر اور جامع جائزہ درج ذیل ہے :


حاکم نیشاپوری نے فرمایا : فحدثني محمد بن إسحاق الأصبھاني قال: سمعت مشایخنا بمصر یذکرون أن أبا عبدالرحمٰن فارق مصر في آخر عمرہ و خرج إلٰی دمشق فسئل بھا عن معاویۃ بن أبي سفیان و ما روي في فضائلہ فقال : لا یرضی معاویۃ رأسًا برأس حتی یفضل ؟ قال : فمازالوا یدفعون في حضنیہ حتی أخرج من المسجد ثم حمل إلٰی مکۃ و مات بھا سنۃ ثلاث و ثلاثمائۃ وھو مدفون بمکۃ ۔

ترجمہ : پس مجھ سے محمد بن اسحاق (بن محمد بن یحییٰ بن مندہ) الاصبہانی نے بیان کیا: میں نے مصر میں اپنے استادوں کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابو عبدالرحمٰن (النسائی) نے آخری عمر میں مصر کو الوداع کہا اور دمشق کی طرف چلے گئے تو وہاں اُن سے معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں پوچھا گیا اور ان کے فضائل کی روایات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا : کیا معاویہ اس پر راضی نہیں کہ ان کا معاملہ برابر برابر ہو جائے ؟ چہ جائے کہ انھیں فضیلت دی جائے ؟ کہا : لوگ انھیں سینے (یا خصیوں) پر مارتے رہے حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکال دیئے گئے پھر انہیں اٹھا کر مکہ لے جایا گیا اور وہ وہیں 303 ھجری میں فوت ہوئے اور مکہ میں دفن ہوئے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص 83 ح 182، و عنہ ابن نقطۃ فی التقیید 1/ 154،چشتی)


اس روایت کی سند میں ’’مشائخنا‘‘ سارے مشائخ مجہول ہیں ، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے اور اس پر حافظ ابن عساکر کا حاشیہ ۔ (تہذیب الکمال 1/ 45) بے فائدہ ہے ۔


اس روایت کو حافظ ذہبی نے بغیر کسی سند کے ابن مندہ عن حمزہ العقبی المصری وغیرہ سے نقل کیا ہے ۔ (سیر اعلام النبلاء 14/ 132) یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔


کہا جاتا ہے کہ حاکم نے امام ابو الحسن علی بن عمر الدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا : کان أبو عبدالرحمٰن أفقہ مشایخ مصر في عصرہ و أعرفھم بالصحیح والسقیم من الآثار و أعلمھم بالرجال فلما بلغ ھذا المبلغ حسدوہ فخرج إلی الرملۃ فسئل عن فضائل معاویۃ فأمسک عنہ فضربوہ فی الجامع فقال: أخرجوني إلٰی مکۃ فأخرجوہ إلٰی مکۃ وھو علیل و توفي بھا مقتولاً شھیدًا ۔

ترجمہ : ابو عبدالرحمٰن النسائی اپنے دور کے اساتذۂ مصر میں سب سے بڑے فقیہ ، صحیح اور ضعیف روایات کو سب سے زیادہ جاننے والے اور اسماء الرجال کے سب سے بڑے ماہر تھے ، پھر جب وہ اس مقام پر پہنچے تو لوگوں نے ان سے حسد کیا ، پھر وہ رملہ تشریف لے گئے تو ان سے معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے فضائل کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ چپ رہے پھر لوگوں نے انہیں جامع مسجد میں مارا تو آپ نے فرمایا : مجھے مکہ لے جاؤ ۔ پھر وہ آپ کو مکہ لے گئے اور آپ بیمار تھے اور مکہ میں شہادت نصیب ہوئی ۔ (تہذہب الکمال للمزی 1/ 45)(واختصرہ الذہبی فی سیر اعلام النبلاء 14/ 133)


اگر یہ روایت حاکم یا امام دارقطنی سے باسند صحیح ثابت ہو جائے تو عرض ہے کہ امام دارقطنی 306 ھ یا 305 ھ میں پیدا ہوئے تھے اور امام نسائی علیہم الرحمہ 303ھ میں فوت ہو گئے تھے لہٰذا یہ روایت منقطع و مردود ہے ۔


یہ وہ روایات ہیں جنہیں رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی مزلے لے لے کر بیان کرتے ہیں ۔


مثلاً شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے امام نسائی کے بارے میں لکھا ہے : ان کی موت کا واقعہ یہ ہے کہ جب آپ مناقب مرتضوی (کتاب الخصائص) کی تصنیف سے فارغ ہوئے تو انہوں نے چاہا کہ اس کتاب کو دمشق کی جامع مسجد میں پڑھ کر سنائیں تاکہ بنی امیہ کی سلطنت کے اثر سے عوام میں ناصبیت کی طرف جو رجحان پیدا ہو گیا تھا اس کی اصلاح ہو جائے، ابھی اس کا تھوڑا سا حصہ ہی پڑھنے پائے تھے کہ ایک شخص نے پوچھا : امیر المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کے متعلق بھی آپ نے کچھ لکھا ہے ؟ تو نسائی نے جواب دیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے یہی کافی ہے کہ برابر برابر چھوٹ جائیں ، ان کے مناقب کہاں ہیں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کلمہ بھی کہا تھا کہ مجھے ان کے مناقب میں سوائے اس حدیث ’لاَ اَشْبَعَ اللہُ بَطنَہ‘ کے اور کوئی صحیح حدیث نہیں ملی ۔ پھر کیا تھا، لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور شیعہ شیعہ کہہ کر مارنا پیٹنا شروع کیا ۔ ان کے خصیتین میں چند شدید ضربیں ایسی پہنچیں کہ نیم جان ہو گئے خادم انھیں اٹھا کر گھر لے آئے ۔ پھر فرمایا کہ مجھے ابھی مکہ معظمہ پہنچا دو تاکہ میرا انتقال مکہ یا اس کے راستے میں ہو ۔ کہتے ہیں کہ آپ کی وفات مکہ معظمہ پہنچنے پر ہوئی اور وہاں صفا و مروہ کے درمیان دفن کئے گئے ۔ بعض کا قول یہ بھی ہے کہ مکہ جاتے ہوئے راستہ میں رملہ (فلسطین) میں انتقال ہوا۔ پھر وہاں سے آپ کی نعش مکہ معظمہ پہنچائی گئی ۔ (بستان المحدثین ص 267۔268)


یہ سارا بیان زیبِ داستان ہے اور باسند صحیح ہر گز ثابت نہیں ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ امام نسائی کی وفات کہاں ہوئی تھی ؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ابن یونس المصری (مورخ) نے لکھا ہے : وکان خروجہ من مصر في ذی القعدۃ سنۃ اثنتین و ثلاثمائۃ و توفي بفلسطین یوم الاثنین لثلاث عشرۃ خلت من صفر سنۃ ثلاث و ثلاثمائۃ ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ذوالقعدہ 302ھ کو مصر سے روانہ ہوئے اور 13/ صفر 303ھ بروز سوموار فوت ہوئے ۔ (سیر اعلام النبلاء 14/ 133، المستفاد من ذیل تاریخ بغداد 19/ 49، تاریخ ابن یونس المصری 2/ 24 ت 55،چشتی) ۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول کو ’’أصح‘‘ قرار دیا ہے ۔ (النبلاء 14/ 133)


سوال یہ ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور مورخِ تاریخ مصر نے اتنے اہم واقعے کا ذکر کیوں نہیں کیا (بشرطیکہ) اگر ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا تھا ؟


امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے بغیر کسی سند کے وزیر ابن حنزابہ (جعفر بن الفضل) سے نقل کیا ہے کہ میں نے محمد بن موسیٰ (بن یعقوب بن مامون) المامونی (الہاشمی ، وثقہ الذہبی فی تاریخ الاسلام) صاحب النسائی سے سنا : ابو عبدالرحمٰن النسائی رحمۃ اللہ علیہ نے علی رضی اللہ عنہ کے خصائص (مناقب) پر جو کتاب لکھی ، میں نے کچھ لوگوں کو اس کا انکار کرتے ہوئے سنا اور فضائلِ شیخین پر کتاب نہ لکھنے کا انکار کرتے ہوئے سنا تو میں نے اس بات کا ان (نسائی) سے ذکر کیا ۔ پھر انھوں نے فرمایا : میں دمشق میں داخل ہوا ، اور وہاں علی (رضی اللہ عنہ) کے مخالفین بہت زیادہ تھے تو میں نے کتاب الخصائص لکھی ، مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کتاب کے ذریعے سے ہدایت دے گا ۔ پھر اس کے بعد انہوں نے صحابہ کے فضائل پر کتاب لکھی تو میرے سامنے انہیں کہا گیا : آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل نہیں لکھتے ؟ تو انھوں نے کہا : ان کےلیے میں کیا لکھوں ؟ کیا وہ حدیث جس میں آیا ہے : ’’اللھم! لا تشبع بطنہ‘‘ اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر نہ کرنا ؟ تو وہ سائل خاموش ہو گیا ۔ (النبلاء 14/ 129) ۔ یہ من گھڑت قصہ بھی بے سند ہے اور اگر کہیں ثابت بھی ہو جائے تو کسی قسم کی مارکٹائی کا اس قصے میں نام و نشان تک نہیں ۔ اگر کوئی رافضی و نیم رافضی کہے کہ ان قصوں میں صحیح یا حسن سند کا ہونا ضروری نہیں تو عرض ہے کہ یہ اصول غلط ہے ۔


فقیر کہتا ہے کہ یہ جھوٹی روایت ہے ، چھپے رافضی اور کھلے رافضی خود کہتے ہیں کہ تاریخ کی جھوٹی روایات کھوٹے سکوں کی مانند ہیں تو ہم پوچھتے ہیں کہ یہ کھوٹے سکے آپ کیوں بیان کرتے ہیں ؟ ہم پہلے بھی کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کا واقعہ ثابت نہیں ہے پھر چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں نے ایک ڈھونگ بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ ” ان کی شہادت کا واقعہ توتواتر کے ساتھ ساری کتابوں میں نقل ہورہا ہے ۔


واہ چھپے رافضیو اور کھلے رافضیو ہم نے اس پر ایک مضمون لکھا تھا ”ضعیف روایات اور متواتر کا ڈھونگ” اس میں ہم نے بتایا تھا کہ جو روایت ضعیف ہو اور وہ چھپے رافضی اور کھلے رافضیوں کے حق میں ہواس کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ متواتر ہوگئی ہےاور کچھ روایتیں بہت ساری کتابوں میں موجود ہوتی ہیں لیکن ان کو ماننا نہیں ہوتا تو صاف انکار کر دیتے ہیں ۔


ہم نے اس وقت بھی پوچھا تھا کہ اگر آپ اسےمتواتر کہتے ہیں تو متواتر کی شرطیں کیا ہیں ؟ متواتر تو تب ہوگی جب اس کو ہردور مین اتنی بڑی تعداد بیان کرے کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھا ہونا ناممکن ہو ۔


چھپے رافضی اور کھلے رافضیو سب کو چھوڑیں ، چھپے رافضیو اور کھلے رافضیو صرف سات ثقہ ایسے بندے پیش کر دیں جو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں ، سات کو چھوڑیں چھپے رافضی اور کھلے رافضیو صر ف تین بندے ہی پیش کردو جو اس واقعہ کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں بیان کرتے ہوں ، تین کو بھی چھوڑیں ، چھپے رافضی اور کھلے رافضیو صر ف دو بندے ہی ایسے پیش کردو جو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے دور میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوں ، تاقیامت اس کا جواب دینا چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں پر فرض بھی ہے اور قرض بھی ، ہم چھپے رافضیوں اور کھلے رافضیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ آپ اس واقعہ میں متواتر کی شرطیں ثابت کریں یا پھر اس کے ضعیف ہونے پر علی الاعلان توبہ کریں اور اس سے رجوع کریں ، اللہ آپ لوگوں کو توفیق عطافرمائے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 26 February 2022

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زندہ باد اکابرینِ اُمّت

 حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زندہ باد اکابرینِ اُمّت

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : حضرت پیر سید محمد مقصود علی شاہ بخاری رحمة الله علیہ  متوفٰی ١٩٨٨ء کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب " جمال مقصود " میں درج ہے کہ : ایک مرتبہ آپ رحمة الله علیہ کی مجلس عالیہ میں جنگ جمل کا تذکرہ ہوا آپ نے فرمایا : کہ میرا گزر اس میدان سے ہوا جہاں یہ جنگ لڑی گئی ۔ دوسرے لوگوں کی طرح میرے دل میں بھی خیال آیا کہ یہ جنگ کیوں اور کیسے لڑی گئی؟ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک بڑی گرج دار آواز مجھے سنائی دی کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے " خبر دار اس بارے میں دوبارہ نہ سوچنا ورنہ ایمان کی دولت سے محروم ہو جاؤ گے ۔ (جمال مقصود ، صاحںزادہ سید محمد عبد الرزاق شاہ بخاری ، باب چھارم ، تحت " جنگ جمل ، ص 237 ، مطبوعة دار الکتب مقصودیہ غوثیہ ، کوٹ گلہ شریف تلہ گنگ ضلع چکوال ، طبع اول ۱٤٣٧ه‍/٢٠١٦ء)


حضرت امام ابو اسحاق ابراھیم بن علی بن یوسف بن عبد الله فیروز آبادی الشیرازی رحمة الله علیہ متوفٰی٤٧٦ه‍ ایک سوال کا جواب دیتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⬇


سوال : اگر کہا جائے کہ حضرت علی المرتضی اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما کے درمیان جو اختلاف و نزاع ہوا اس میں حق ان کے ساتھ تھا جو ان دونوں سے تعلق رکھتے تھے ؟


جواب : ان کو جواب دیا جائے گا کہ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے ۔ پس کچھ کہتے ہیں کہ حق حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کے ساتھ تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : علی حق پر ہیں اور حق علی کے ساتھ جہاں پھریں ۔ کچھ علماء فرماتے ہیں : کہ ان دونوں میں سے ہر ایک مجتہد مصیب تھا اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہر مجتہد مصیب ہے ۔ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما کا اختلاف اصول میں نہ تھا ۔ بلکہ ان کا اختلاف فروع میں تھا ۔جیسے امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہما الله کا اختلاف تھا ۔ لوگ اس  مسئلہ میں دو قول پر ہیں ۔ کچھ کہتے ہیں کہ حق ایک جہت میں تھا ۔ اور اس جہت میں مخالف مخطئ تھا جس کیلئے ایک اجر تھا مگر اس کی خطا اسے کفرو فسق تک نہ لے جانے والی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص (کسی مسئلہ میں) اجتہاد کرے اور صحیح فیصلہ تک پہنچ جائے تو اس کیلئے دو اجر ہیں اور جو اجتہاد کرے اور صحیح فیصلے تک نہ پہنچے چوک جائے تو اس کیلئے ایک اجر ہے ان ائمہ میں سے بعض کہتے ہیں کہ دونوں میں سے ہر ایک خیر پر ہونے کے باعث مصیب تھا انہوں نے حضرت علی المرتضی اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما کے معاملہ کو اس پر محمول کیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ خلیفہ تھے اور وہ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے چچا زاد تھے ۔ انہیں ظلم سے قتل کیا گیا ان کے بعد خلافت کی زمام کار حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم کے ہاتھ آئی پس حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ان کے پاس خون عثمان کا مطالبہ لے کر آئے ۔ تو حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ  نے پوچھا کس نے عثمان کو قتل کیا ۔ تو پیچھے رہ جانے والے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوئے پس ان کا اجتہاد اس وقت قاتلین کو اس وقت  ترک کرنے (یعنی کچھ نہ کہنے) کا ہوا کیونکہ ان سب سے لڑنا ممکن نہ تھا حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کو خدشہ ہوا کہ خود انہیں نہ قتل کر دیں ۔جیسے انہوں نے عثمان کو قتل کیا ۔ پس جب ان سے تعرض نہ کیا تو حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں نے گمان کیا کہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں نے امامت کی شرطوں میں سے ایک شرط ترک کی ۔ کیونکہ امامت کی شرط اہل حق کیلے حقوق کا کامل حصول ہے ۔ پھر جب حقوق پورے نہ لئے تو شروط امامت میں سے ایک شرط ترک کر دی اور امامت باطل ہو گئی ۔ جب کہ فی الوقت امام و حاکم کا ہونا ضروری ہے پس اس اجتہاد سے انہوں نے معاویہ کو حاکم بنایا ۔ پس ان میں سے ہر ایک مجتہد اپنے اجتہاد میں مصیب تھا اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کے درمیان ایسا معاملہ نہ ہوا جو کفر و فسق پر منتج ہو ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی الله عنہ جب کافروں سے قتال فرماتے تو خوشی مسرت کا اظہار فرماتے ۔ جب کہ معاویہ کے ساتھ پیکار میں دکھ اورغم کا ظہور ہوا یہاں تک کہ جاں بلب ہو گئے ۔ ابو الحسن علی المرتضی رضی الله عنہ فرماتے ہیں : یہ سب ہمارے درمیان ہوا میں اپنے دکھ اور پریشانی کا شکوہ بارگاہ خداوندی میں کرتا ہوں کاش میں بیس سال پہلے جام موت پی لیتا ۔ آپ اپنے ساتھیوں سے فرماتے : پیٹھ دینے والے کا تعاقب نہ کیا جائے زخمی کو قتل نہ کیا جائے ۔ اگر محاربین سے کوئی بات کفر و فسق تک پہنچانے والی بات پاتے تو اپنے ساتھیوں کو اس کا حکم نہ دیتے ۔ ہمارے اصحاب فرماتے ہیں : حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ مجتہد مصیب تھے ان کیلئے دو اجر ہیں جب کہ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ مجتہد مخطئ تھے ان کیلئے ایک اجر ہے ۔ اس مسئلہ میں واجب یہ ہے کہ ان کے درمیان وقوع پذیر اختلافات میں زبان روکی جائے اور ان کےمحاسن یعنی خوبیوں کا ذکر کیا جائے ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : عنقریب میرے اصحاب کے درمیان خرابی پیدا ہوگی ۔ جسے الله تعالی ان کی سابقہ نیکیوں کے سبب معاف فرما دے گا ۔ پس تم ان کے اختلافات میں نہ پڑو ۔ بخدا تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا راہ خدا میں خرچ کرے تو ان کے ایک یا نصف مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ۔ (الإشارة الى مذهب اهل الحق لامام ابى اسحاق الشيرازى تحت " ترتیب الصحابة فی الفضل صفحہ 184 تا 188 ، مطبوعة المجلس الاعلى للشئون الاسلامية وزارة الاوقاف،چشتی)


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمة الله علیہ متوفی ۱۰۵۲ھ فرماتے ہیں : تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قطعی طور پر جنتی ہیں اس (یعنی ان کو جہنمی کہنے) سے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان لازم آتی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پوری انسانیت کی طرف مبعوث فرمایا گیا ان کی راہنمائی فرمانا اور انہیں کفر و ضلالت سے نکالنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا مقصد ہے ، اس سے یہ لازم آئے گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام میں چھ یا سات کے علاوہ سب کے سب ہدایت نہ پا سکے اور نہ ان کا ایمان ہے خاتمہ ہوا ، ایسے کلمات ادا کرنے سے ہم الله تعالی کی پناہ مانگتے ہیں ۔ اس لیے اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہ کرام کا تزکیہ کرے ان کو عادل قرار دے ، ان کو برا بھلا کہنے اور ان پر طعن کرنے سے باز رہے اور ان کی مدح و ستائش کرے ، کیونکہ الله تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو عادل قرار دیا ہے ان کا تزکیہ کیا اور ان کی تعریف بیان فرمائی ۔ اور اسی کی مثل حضرت شہاب الدین عمر سہروردی رحمة الله علیہ نے اپنی کتاب " اعلام الہدی " میں فرمایا : اے خواہش نفس اور تعصب سے پاک لوگو! یہ بات ذہن نشین رکھو کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم پاکیزہ نفسی اور صاف دلی کے باوجود انسان تھے ۔ ان کے بھی نفس تھے اور نفسوں کی کچھ صفات ایسی ہیں جو ظاہر ہوتی ہیں ۔ اس لیے اگر ان کے نفسوں سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوتی جو دلوں کےلیے ناگوار ہوتی تو وہ دلوں کی طرف رجوع کر کے ان کا فیصلہ مانتے اور نفسانی خواہشات سے کنارہ کشی کرتے ۔ (لمعات التنقیح فى شرح مشكاة المصابيح ، العلامة المحدث عبد الحق الده‍لوى ، کتاب المناقب ، تحت " باب مناقب الصحابة ،  ، جلد 9 صفحہ 579 ، مطبوعة دار النوادر ، طبع اول ١٤٣۵ھ/۲٠١٤ء)


حضرت امام اكمل الدين محمد بن محمد البابرتى رحمة الله عليہ  متوفٰی۷۸٦ھ فرماتے ہیں : ہم رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور ان میں کسی ایک کی محبت میں افراط نہیں کرتے ، نہ ہی ان میں کسی سے بیزاری کرتے ہیں ۔ ہم ان سے بغض رکھتے ہیں جو ان سے بغض رکھے اور ان کے بارے میں برا ذکر کرے ۔ ہم ان کا ذکر صرف خیر کے ساتھ کرتے ہیں ۔ ان کی محبت دین ہے ، ایمان ہے اور احسان ہے اور ان کے ساتھ بغض کفر ہے نفاق ہے اور سرکشی ہے ۔ ہم ان سے محبت اس لیے کرتے ہیں کہ الله ان سے راضی وہ الله سے راضی ہیں ۔ اور ان کی شان تورات ، انجیل اور قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمائی : محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الله کے رسول ہیں ، جو ان کے اصحاب ہیں ، کفار پر بہت سخت ہیں ، آپس میں نرم دل ہیں (اے مخاطب) تو ان کو رکوع کرتے ہوئے ، سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے ، وہ الله کا فضل اور اس کی رضا طلب کرتے ہیں ، سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر نشانی ہے ، ان کی یہ صفات تورات میں ہیں ۔ صحابہ کرام نے غلبہ دین اور اعلائے کلمة الله کےلیے پوری کوششیں کیں محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  میں وطن چھوڑے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ٹھکانہ دیا آپ کی نصرت و حمایت کی اور آپ کے سامنے جانبازی کی پس ان کی محبت واجب ہوئی ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کے معاملہ میں الله سے ڈرو میرے بعد انہیں ہدف تنقید نہ بنانا ، جس نے ان سے محبت کی ، تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان ایذاء پہنچائی ، اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، جس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، گویا اس نے الله تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی اور جس نے الله تعالی کو ایذاء پہنچائی تو وہ دوزخ کا زیادہ حق دار ہے ۔ یہ کہ ہم اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے کسی کی محبت میں افراط و غلو نہیں کرتے ۔ کیونکہ کسی چیز میں افراط فساد اور دوسروں کیلئے بغض و عداوت کا موجب ہوتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ روافض نے سیدنا علی رضی الله عنہ کی محبت میں افراط و غلو کیا تو حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی الله عنہم کی تنقیص و عداوت میں پڑ گئے الله تعالی ہمیں اس سے پناہ عطا فرمائے ۔ ان روافض نے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی شان میں الوہیت و نبوت کا دعویٰ کیا ۔ جیسا کہ غالی روافض کا عقیدہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ سے فرمایا : تیری وجہ سے دو جماعتیں ہلاک ہوں گی ایک وہ جو بغض میں افراط سے کام لے گی دوسری جو تیری محبت میں غلو کرے گی ۔ اور جیسا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھی فرمان ہے بیشک خوارج آپ کے بغض میں افراط سے کام لے کر ہلاک ہوں گے جیسا کہ روافض آپ کی محبت میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ۔ جہاں تک ان سے برآت یعنی بیزاری کا تعلق  ہے تو یہ کجروی اور گمراہی ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی الله عنہم منہج قویم اور دین مستقیم (پختہ اور سیدھے راستے اور دین) پر تھے ہدایت ان کی اقتداء سے وابستہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سلسلہ میں فرمایا : میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں جس کی اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔ لہذا ان سے تبری اور بیزاری عدم اھتداء ہے اور یہی گمراہی ہے ہم ان بدبختوں سے عداوت رکھتے ہیں جو ان سے کینہ اور بغض رکھتے ہیں ۔ دراصل صحابہ کرام سے بغض ان کے دین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو الله تعالی نے ان کیلئے پسند فرمایا اور منتخب کیا ہے ۔ الله تعالی نے فرمایا : اور میں نے اسلام بطور دین تمہارے لئے پسند فرمایا ۔ صحابہ کرام سے بغض ، خبث عقیدہ کی دلیل ہے اور نفاق و فساد کا نتیجہ ہے پس ان لوگوں سے عداوت رکھنا اور برائی سے ان کا ذکر کرنا واجب ہے جو صحابہ کرام سے عداوت رکھتے ہیں ۔ ہم صحابہ کرام رضی الله عنہم کے باہمی اختلافات و مشاجرات میں نہیں پڑتے ان اختلافات کو ہم اجتہاد ہر محمول کرتے ہیں اور ان کاذکر صرف بھلائی سے کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہ دین کے اصول یعنی جڑیں ہیں ۔ پس ان میں طعن دراصل دین میں طعن ہے اور ان کی محبت دین ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض اور کینہ کفر نفاق اور طغیان ہے اور یہ سب ضروریات شرع سے ظاہر ہے ۔ (شرح عقيدة اهل السنة و الجماعة ، لامام اكمل الدين محمد بن محمد البابرتى ، تحت " القول في حب أصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، صفحہ نمبر 141 تا 142 ، مطبوعة وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية سلسلة الرسائل التراثية ، طبع اول ١٤٠٩ه‍/١٩٨٩ء،چشتی)


حضرت امام شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی رحمة الله علیہ متوفی ۷٤٨ه‍ فرماتے : صحیحین میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : الله تعالی فرماتا ہے : جو شخص میرے کسی دوست سے دشمنی کرتا ہے میں اسے لڑائی کا چیلنج کرتا ہوں ۔ اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان میں سے ایک مد اور اس کے نصف کو نہیں پہنچ سکتا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا پس جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ، اور جس نے ان کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ، اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے الله تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی جس نے الله تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی عنقریب اس کی گرفت فرمائے گا ۔ اس حدیث اور اس جیسی دوسری احادیث میں ان لوگوں کی حالت بیان کی گئی ہے جنہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام کو نشانہ بنایا ان کو گالیاں دی ان پر جھوٹ باندھا ، ان کو عیب لگایا ان کو خلافت قرار دیا اور ان پر جرأت کا مظاہرہ کیا ۔ کلمہ " الله الله " ڈرانے کے لیے جس طرح اس شخص کو ڈرایا جاتا ہے کہا جاتا ہے " السار " یعنی آگ سے بچو اور ڈرو ۔ لا تتخذوهم غرضاً بعدي " تک یہ عبارت صحابہ کرام کے فضائل مناقب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ صحابہ کرام سے محبت کی بنیاد یہ ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ ہیں ۔ انہوں نے آپ کی مدد کی ، آپ پر ایمان لائے ، آپ کی تعظیم کی اور جان و مال کے ذریعے آپ کی غمخواری کی ۔ پس جس نے ان سے محبت کی اس نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کی تو صحابہ کرام کی محبت  ، رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا عنوان ہے اور ان سے بغض رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض کا عنوان ہے صحیح حدیث میں ہے : انصار سے محبت ایمان ہے اور ان سے بغض منافقت سے ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایمان میں سبقت کی اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے الله تعالی کے دشمنوں سے جہاد کیا ۔ اسی طرح حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی محبت ایمان اور ان سے بغض منافقت کی علامت ہے ۔ صحابہ کرام کے فضائل کا علم اس طرح حاصل ہوگا کہ ان کے احول ، سیرتوں اور آثار کا مطالعہ کیا جائے ان میں غور و فکر کیا جائے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہوں یا آپ کے بعد ۔ ان لوگوں نے ایمان میں سبقت کی اسی طرح کفار سے جہاد کیا ، اشاعت اسلام ، شعائر اسلام کے اظہار ، الله تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلمہ کو بلند کرنے ، آپ کے بتائے ہوئے فرائض و سنن کی تعلیم میں سبقت کی ۔ اگر یہ نفوس قدسیہ نہ ہوتے تو ہمارے پاس دین کی اصل اور فرع کچھ بھی نہ پہنچتا ، اور ہمیں فرائض و سنن میں سے کسی فرض اور سنت کا علم نہ ہوتا اور نہ ہی ہم احادیث و اخبار علم حاصل کر سکتے ۔ پس جو شخص ان پاکیزہ ذاتوں پر طعن کرے یا ان کو گالی گلوچ کرے تو وہ دین سے نکل گیا اور مسلمانوں کی ملت سے بھی خارج ہوگیا ۔ کیونکہ طعن کی وجہ سے ان کے بارے میں بر عقیدہ رکھنا اور دل میں کینہ رکھنا ہے نیز الله تعالی نے اپنی کتب میں ان کی تعریف میں جو کچھ فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے فضائل و مناقب اور ن سے محبت کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا انکار کرنا ہے ۔ علاوہ ازیں جو کچھ ہم تک منتقل ہوا ، اس کا سب سے عمدہ وسیلہ صحابہ کرام رضی الله عنہم ہیں اور وسائل میں طعن ، اصل میں طعن ہوتا ہے اور نقل کرنے والے کو حقیر جاننا منقول کو معمولی سمجھنا ہے ۔ یہ بات غور و فکر کرنے والوں کے لیے ظاہر ہے اور اس طرح منافقت اور بے دینی سے بچ سکتا ہے اور تمہارے لیے وہی بات کافی ہے جو احادیث میں آتی ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : الله تعالی نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لیے صحابہ کرام کو پسند فرمایا پس میرے لیے ان کو وزیر ، مددگار اور سسرالی بنائے ، پس جو ان کو گالی دے اس پر الله تعالی ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن الله تعالی اس کے کسی فرض اور نفل کو قبول نہیں فرمائے گا ۔ حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں گالی دی جاتی ہے تو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر الله تعالی ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔ اور انہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بے شک الله تعالی نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لیے میرے صحابہ کو پسند فرمایا اور میرے صحابہ ، بھائی اور سسرال والے بنائے اور عنقریب ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو ان میں عیب نکالیں گے اور ان کی توہین کریں گے ۔ نہ ان کے ساتھ کھانا اور نہ پینا اور نہ ہی ان کے ساتھ نکاح کرنا ، ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا اور ان کے ساتھ مل کر نماز بھی نہ پڑھنا ۔ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو خاموش رہو جب ستاروں کا ذکر ہو تو خاموش رہو اور جب تقدیر کا ذکر ہو تو خاموش رہو ۔ علماء کرام فرماتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مخلوق کے بارے میں تقدیر کے راز پر بحث کو تو خاموش رہو کیونکہ یہ خاموشی ایمان کی علامت ہے اور الله تعالی کے حکم کو تسلیم کرنا ہے ۔ یہی حال ستاروں کا ہے جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ وہ خود عمل کرنے والے ہیں یا ان ستاروں میں ارادۂ خداوندی کے بغیر تاثیر ہے تو وہ مشرک ہے ۔ اسی طرح جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام کی کسی طرح برائی بیان کرے ، ان کی خامیاں تلاش کرے اور عیب بیان کرے اور ان عیبوں کو ان کی ذواتِ قدسیہ کی طرف منسوب کرے وہ منافق ہے ۔ بلکہ مسلمانوں پر الله تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت واجب ہے ۔ وہ جو کچھ لائے ہیں اور جس حکم کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے ، اس سے محبت کرنا نیز آپ کی سیرت و سنت پر عمل کرنے والے ، آپ کی آل ، صحابہ کرام ، آپ کی ازواج مطہرات ، اولاد ، غلاموں اور خادموں سے محبت کرنا بھی ضروری ہے ۔ جو لوگ ان شخصیات سے محبت کرتے ہیں ، ان سے محبت کرنا اور جو ان سے بغض رکھتے ہیں ، ان سے بغض رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ ایمان کی مضبوط رسی الله تعالی کے لیے محبت اور الله تعالی کے لیے بغض ہے ۔ حضرت ابو ایوب سختیانی رضی الله عنہ فرماتے ہیں : جس نے حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ سے محبت کی اس نے دین کا مینار کھڑا کیا ، جس نے حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ سے محبت کی اس نے راستہ واضح کیا ، جس نے حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ سے محبت کی وہ الله تعالی کے نور سے روشن ہوا اور کس نے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ سے محبت کی اس نے مضبوط رسی کو تھاما اور جا نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کے بارے میں اچھی بات کہی ، وہ منافقت سے بری ہوگیا ۔ (الکبائر ، لامام شمس الدين محمد بن احمد بن عثمان الذهبي ، تحت " الکبیرة السبعون : سب أحد من الصحابة رضوان الله عليهم ، ص 236 تا 239 ، مطبوعة دار الندوة الجديدة،چشتی)(الکبائر ، لامام شمس الدين محمد بن احمد بن عثمان الذهبي ، تحت " الکبیرة السبعون : سب أحد من الصحابة رضوان الله عليهم ، ص 236 تا 239 ، مطبوعة دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع بيروت) 

 

حضرت شیخ اکبر امام ابو بکر محی الدین محمد بن علی المعروف ابن عربی رحمة الله علیہ متوفٰی٦٣٨ه‍ فرماتے ہیں : کاتبین رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلیے (وحی و دیگر امور کی) کتابت کرنے والے اصحاب رضی الله عنہم حسب ذیل ہیں : 1 ۔ حضرت عثمان  2 ۔ حضرت علی 3 ۔ حضرت ابی بن کعب 4 ۔ حضرت زید بن ثابت 5 ۔حضرت معاویہ 6 ۔ حضرت خالد ابن سعید بن العاص 7 ۔ حضرت ابان بن سعید 8 ۔ حضرت علاء بن الحضرمی 9 ۔ حضرت حنظلہ بن الربیع 10 ۔ حضرت عبد الله بن سعید بن ابی سرح ، حضرت عثمان کے رضاعی بھائی یہ سب اصحاب رضی الله عنہم وحی کے کاتبین تھے ۔ (دیگر امور کے کاتبین کی تفصیل اس طرح ہے) حضرت زبیر بن عوام اور حضرت جہم بن صلت رضی الله عنہما صدقات کے اموال (کا ریکارڈ) تحریر فرماتے تھے ۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کھجوروں کے حوض لکھ کر شمار فرماتے تھے ، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت حصین بن نمیر رضی الله عنہما مداینات و معاملات تحریر میں لاتے تھے ۔ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی الله عنہ بادشاہوں کے نام خطوط لکھتے تھے حضرت ابو بکر رضی الله عنہ نے سفر ہجرت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلیے تحریر کی ۔ (تحت كتابه صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفحہ 47 تا 48،چشتی)

خلافت حضرت معاویہ بن ابی سفیان  رضی الله عنہما : معاویہ بن سفیان ابن صخر ابن امیہ بن عبد الشمس ابن عبد مناف یہاں رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ان کی والدہ ھند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد الشمس ابن عبد مناف سے شجرہ مل جاتا ہے ۔ صلح امام حسن رضی الله عنہ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کیلئے بیعت ٢۵ ربیع الاول سنہ اکتالیس ھجری کو ہوئی ۔ ان کی مہر و انگوٹھی کا نقش تھا " رب اغفرلی " ان کا کاتب (منشی) عبد الله بن اوس الغسانی تھا ۔ جب کہ حاجب ان کا مولی زیاد بن نوف اور قاضی فضالہ بن عبد الله الانصاری تھا ۔ رجب سنہ ساٹھ ہجری میں وفات پائی ، نماز جنازہ ان کے بیٹے یزید نے پڑھائی ۔ ایک اور قول ہے کہ ضحاک بن قیس نے پڑھائی ۔ دمشق شہر میں باب الجابیہ اور باب الصغیر کے درمیان دفن ہوئے ، بوقت وصال ان کی عمر اٹھتر سال ایک دن کم نو مہینے تھی ۔ بیعت خلافت سے پہلے بیس سال سے زائد شام کے گورنر رہے ۔ (محاضرة الابرار و مسامرة الاخيار الشيخ الاكبر محى الدين ابن عربي ذكر الخلفاء و تاريخ مدتهم خاصة تحت خلافة معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، جلد 1 صفحہ 66 مطبوعة دار اليقظة العربيعة طبع عام ١٣٢٤ه‍،چشتی)


حضرت امام شهاب الدين احمد بن محمد بن على بن حجر الهيتمى الشافعى رحمة الله علیہ متوفی۹۷٤ھ فرماتے ہیں : حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله عنہ سے حضرت علی المرتضی و حضرت امیر معاويہ اور مقتولین صفین رضی الله عنہم کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : مجھے خوف معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالی کے پاس ایسا جواب لے کر جاؤں جس کے بارے میں مجھ سے سوال ہو اور اگر خاموش رہتا ہوں تو اس سے سوال نہ ہوگا تو جس کیساتھ میں مکلف ہوں اس میں مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے ۔ (الخيرات الحسان فى مناقب الامام الاعظم ابى حنيفة النعمان ، لامام شهاب الدين احمد بن محمد بن على بن حجر الهيتمى الشافعى الفصل السادس و العشرون و السابع و العشرون فى شيء من حكمه و آدابه صفحہ 140 مطبوعة دار الهدى و الرشاد طبع اول ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٧ء،چشتی)


حضرت امام بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمة الله علیہ متوفٰی۸۵۵ھ فرماتے ہیں : 

اہل سنت کا برحق موقف یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم کے اختلافات سے کنارہ کشی اختیار کی جائے ، ان سے حسن ظن رکھا جائے اور ان کے لیے عذر تلاش کیا جائے ، اور یہ کہ وہ لوگ مجتہد اور تاويل کرنے والے تھے ، انہوں نے نہ ہی کسی معصیت کا قصد کیا اور نہ ہی دنیا داری کا ۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ، لامام بدر الدين ابى محمد محمود بن احمد العينى ، كتاب الإيمان ، تحت " باب " وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ۚ ، جلد 1 ، ص 335 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢١ه‍/٢٠٠١ء،چشتی)


درست جواب یہ ہے کہ وہ سب صحابہ مجتھد تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ وہ سب جنت کی طرف بلانے والے ہیں اگرچہ نفس الامر میں اس سے خلاف ہو ۔ ان کے اپنے گمان پر فیصلے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے اگر توں یہ اعتراض کرے کہ مجتھد جب درست فتوی دے تو دو ثواب جب غلطی کرے تو ایک یہاں کیسے یہ ہو سکتا ہے؟ میں کہتا ہوں : یہ جواب کافی ہے اس پر گزارا کروں کہ صحابہ کے حق میں اس کے خلاف بات ذکر کرنا اچھی بات نہیں کیونکہ ان کی تعریفیں تو رب تعالیٰ نے کی ہیں اور ان کی فضیلتوں کی گواہی دی ہے ۔ فرمایا : تم لوگوں میں نکلنے والی بہترین امت ہو ۔ مفسرین کرام فرماتے : اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی الله عنہم ہیں ۔

(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ، لامام بدر الدين ابى محمد محمود بن احمد العينى ، كتاب الصلوة ، تحت " باب التعاون فى بناء المسجد ، جلد 4 ، ص 308 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢١ه‍/٢٠٠١ء)


حضرت امام شمس الدین ابو عبد الله محمد بن احمد بن عثمان الشافعی رحمة الله علیہ  متوفی٧٤٨ھ فرماتے ہیں : حضرت قتادہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں : اگر تم حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ جیسے کام کرنے لگو تو لوگ پکار اٹھیں گے یہ مہدی ہے ۔ احمد بن حواس کہتے ہیں ۔ مجھے ابو ہریرہ المکتب نے بتایا کہ اعمش کے ہاں حضرت عمر بن عبد العزیز رضی الله عنہ اور ان کے عدل و انصاف کا ذکر چل پڑا تو اعمش نے کہا : اگر تم حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کا عہد خلافت دیکھ لیتے تو پھر کیا ہوتا ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیا آپ حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کی بردباری کے بارے میں فرما رہے ہیں ؟ اعمش نے فرمایا : نہیں الله کی قسم! میں حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کے عدل کی بات کر رہا ہوں ۔ ابو اسحاق سبعیی حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کی شان میں فرماتے ہیں ۔ اگر تم حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کو دیکھ لیتے تو کہہ اٹھتے کہ یہی امام مہدی ہیں ۔ ابو بکر بن عیاش ، ابو اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ۔ میں نے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کے بعد ان کا ثانی نہیں دیکھا ۔ امام بغوی رحمة الله علیہ ، ابو قیس سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ نے ہر قبیلہ میں ایک آدمی مقرر فرما رکھا تھا جو اس کے حالات سے ان کو باخبر رکھتا تھا ، ایک شخص جس کی کنیت ابو یحیی تھی ہر صبح ہر مجلس میں جا کر پوچھتا کیا تمہارے ہاں شبِ گزشتہ کوئی بچہ پیدا ہوا یا کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے یا کوئی مہمان باہر سے آیا ہے ؟ لوگ بتایا کرتے کہ ہاں اہل یمن میں سے فلاں آدمی اپنے کنبہ میں آیا ہے ، وہ اس شخص اور اس کے قبیلہ کا نام ذکر کر دیا کرتے تھے ۔ قبائل سے فارغ ہو کر وہ دفتر میں آتا اور وہاں ان کے نام تحریر کیا کرتا تھا ۔ عطیہ بں قیس کہتے ہیں کہ ميں نے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : تنخواہ تقسیم کرنے کے بعد بیت المال میں کچھ مال بچ گیا ہے اب وہ تقسیم کرنا چاہتا ہوں ۔ اگر آئندہ سال بھی حسب دستور کچھ مال بچ گیا تو تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا ورنہ مجھے معتوب نہ کریں ۔ اس لیے کہ یہ میرا نہیں ، بلکہ یہ الله تعالی کا مال ہے جس نے تمہیں یہ عطا فرمایا ۔ سیرت و کردار اور عدل و احسان کے اعتبار سے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کا دامن ایسے فضائل و مناقب سے پر ہے ۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے عرض کیا ۔ امیر المؤمنین حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں ۔ اس مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی الله عنہ نے فرمایا : حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ نے ٹھیک کیا وہ فقیہ ہیں ۔ حضرت ابو درداء رضی الله عنہ کا فرمان ہے کہ میں نے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ سے بڑھ کر کسی شخص کو نہیں دیکھا جس کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہو ۔ یہ ہے حضرات صحابہ کرام رضی الله عنہم کی شہادت حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کے تدوین و تفقہ کے بارے میں فقاہت امیر معاويہ رضی الله عنہ کے گواہ حضرت ابن عباس رضی الله عنہ ہیں ، اور حسن صلوة کی گواہی دینے والے حضرت ابو درداء رضی الله عنہ دونوں جس پایہ کے صحابی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ، اس کے مؤید آثار اور بھی بہت ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ سابقین اولین صحابہ میں شمار نہیں ہوتے ۔ بخلاف ازیں کہا گیا ہے آپ فتح مکہ کے موقع پر مشرف باسلام ہوئے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے ۔ حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ خود اس بات کے معترف تھے کہ وہ فضلاء صحابہ میں شامل نہیں ہیں ، اس کے باوجود آپ کثیر اوصاف کے حامل تھے ۔ آپ کی سلطنت حدود خراسان سے لے کر مغرب میں بلاد افریقہ اور قبرص سے لیکر یمن تک پھیلی ہوئی تھی ، اس بات پر سب مسلمانوں کا اجماع ہے کہ حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما تو درکنار عظمت و فضیلت میں حضرت عثمان غنی و حضرت علی المرتضی رضی الله عنہما کے قریب بھی نہ تھے ۔ پھر کسی اور بادشاہ کو ان کے مشابہ کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے ؟ نیز مسلم سلاطین میں سے کوئی مسلم سلطان سیرت و کردار کے اعتبار سے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کا حریف کیسے ہو سکتا ہے ؟ ۔ (المنتقى من منهاج الاعتدال ، لامام ابى عبد الله محمد بن عثمان الذهبى ، تحت " ثناء الأئمة الاعلام على معاوية و حكمه و سيرته و انه خير ولاة المسلمين بعد الراشدين ، ص 402 تا 403 ، مطبوعة الرئاسة العامة لإدارة البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد السعودية ، طبع ثالث ١٤١٣ه‍،چشتی)


حضرت امام ابو اسحاق جمال الدين محمد بن ابراهيم بن يحيى الكتبى المعروف بالوطواط رحمة الله علیہ  متوفٰی ۷۱۸ھ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما بہت زیادہ سخی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  میں سے تھے حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ سے زیادہ سخی نہیں دیکھا ۔ آپ رضی الله عنہ پہلے شخص ہیں جس نے صلہ (انعام) میں لاکھوں دیے ، آپ رضی الله عنہ امام حسن مجتبی ، امام حسین اور حضرت عبد الله بن جعفر رضی الله تعالی عنہم کو عطا کرتے تھے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کی اس عطا (داد و دہش) کی چمکتی حکایت ہے کہ آپ رضی الله عنہ نے حج کیا پھر جب مدینہ منورہ سے لوٹے تو حضرت امام حسین بن علی رضی الله نے اپنے بھائی حضرت امام حسن مجتبی رضی الله عنہ سے فرمایا : معاویہ (رضی الله عنہ) سے جا کر نہ ملیں اور نہ سلام پیش کریں ۔ فرمایا : میں زیر بارِ قرض ہوں ان کے پاس جانا ضروری ہے پس سوار ہو کر حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے پیچھے چلے یہاں تک ان سے جا ملے ٬ سلام کیا اور اپنے قرض سے آگاہ کیا ۔ جب دونوں باہم گفتگو میں مشغول تھے کہ ایک بختی اونٹ گزرا جو بوجھ کی گرانی سے درماندہ تھا لوگ اسے گھسیٹ کر لے جا رہے تھے تاکہ اسے باربردار اونٹوں سے ملا دیں ۔ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ نے پوچھا : اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ تو حاضرین نے بتایا کہ لدے ہوئے مال کے بوجھ سے درماندہ ہے ۔ فرمایا : اس پر کتنا بوجھ ہے؟ حاضرین نے بتایا کہ (80) اسی ہزار دینار ہیں ۔ فرمایا : اسے پھیر کر ابو محمد ( امام حسن بن علی رضی الله عنہما ) کو دے دو ۔ (غرر الخصائص الواضحة و عرر النقائص الفاضحة ، لامام ابى اسحاق جمال الدين محمد بن ابراهيم بن يحيى الكتبى المعروف بالوطواط ، الباب التاسع في السخاه ، ص 313 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٩ه‍/٢٠٠٨ء،چشتی)


حضرت امام محمد بن احمد بن سالم بن سليمان السفارينى الحنبلى رحمة الله عليہ متوفٰی ۱۱۸۸ھ فرماتے ہیں : ناظم رضی الله عنہ فرماتے ہیں : و خالنا معاویہ ، ہمارے ماموں حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما : حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کو خال المؤمنین کے نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کے بھائی ہیں اس لیے آپ پر خال المومنین کا اطلاق کیا کیونکہ ماں کا بھائی اس کے بیٹے کےلیے ماموں ہوتا ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی الله عنہا کا نام رملہ تھا ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام ہند تھا ۔ مگر زیادہ صحیح یہی ہے کہ ان کا نام رملہ بنت ابی سفیان خواہر معاویہ تھا ابو سفیان کا نام صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی الاموی ان کا نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عبد مناف میں مل جاتا ہے امیر المومنین حضرت امیر معاویہ اور ان کے والد ابو سفیان رضی الله عنہما فتح مکہ کے مسلمانوں میں سے تھے ۔ اور مؤلفة القلوب میں سے تھے پھر اسلام میں حسن و کمال پیدا ہو گیا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کی ماں کا نام ھند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف تھا وہ بھی فتح مکہ کے بعد اپنے شوہر کے اسلام لانے کے بعد مشرف باسلام ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کو سابقہ نکاح پر باقی رکھا ۔ وہ فصاحت عقل اور رزانت وقار و سنجیدگی کی مالک تھیں ۔ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ابو عبد الرحمن کنیت کرتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے کاتب تھے ایک قول یہ ہے کہ صرف مکاتیب کی کتابت کرتے تھے وحی نہیں لکھتے تھے ۔ ترمذی میں بحکم تحسین مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےحضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کیلئے دعا فرمائی : اے الله معاویہ کو ہادی مہدی بنا ۔ مسند امام احمد میں حضرت عرباض رضی الله عنہ کی حدیث میں ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ نے دعا فرمائی : اے الله معاویہ کو حساب و کتاب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا ۔ طبرانی معجم کبیر میں عبد المک بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ نے فرمایا : میں نے جب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان اقدس سے سنا کہ آپ نے فرمایا : معاویہ! جب تو مالک حکومت بنو تو لطف و احسان سے کام لینا تو خلافت کا خیال دل میں رہا ۔ (لوائح الأنوار السنية ولواقع الأفكار السنية ، لامام محمد بن احمد بن سالم بن سلیمان السفارینی الحنبلی ، تحت " ترجمة معاوية رضي الله عنه ، جلد 2 ص 74 تا 75 ، مطبوعة مكتبة الرشد الرياض ، طبع اول ١٤١۵ھ/۱۹۹٤ء،چشتی)


حضرت امام جمال الدين ابو زكريا يحيى بن يوسف بن یحیی بن منصور الانصاری الصرصری الحنبلی رحمة الله علیہ  متوفٰی ٦۵٦ھ فرماتے ہیں : یہ بھی فضیلت کی دلیل ہے ، کہ میرے عقیدہ کے مطابق ، حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کا ردیفِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہونا بھی باعثِ فضیلت ہے اس کی فضیلت ضائع نہ جائے گی ۔ وہ کاتبِ وحی تھے صاحبِ حلم تھے اور ان کی بہن مصطفےٰ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جاوداں جنت میں ثمرات جنت سے لطف ہو رہی ہیں ۔ ہر صحابی کےلیے فضیلت ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دیدار کیا اور اس کی یہ فضیلت دوسروں پر کامیابی و نعمت کے لحاظ سے ایسی ہے کہ اس کی طمع نہیں کی جاسکتی ۔ اور اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان ہونے والے اختلافات و مشاجرات کی تفتیش کا خواہش مند وہی ہوگا جو نامراد گمراہ اور طعنہ باز ہے ۔ (منظومة فى مدح النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و بيان عقيدة أهل السنة و الجماعة ، لامام ابى زكريا يحيى بن يوسف الأنصاري الصرصري ، ص 61 تا 62 ، نثر : 211 تا 214 ، مطبوعة بيت الأفكار الدولة ، طبع اول ١٤٢٧ه‍/٢٠٠٦ء)


حضرت امام ابو القاسم محمد بن احمد بن جُزَیّ الكلبى الغرناطی المالکی رحمة الله علیہ متوفٰی ۷٤١ھ فرماتے ہیں : جہاں تک حضرت علی المرتضی و حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما اور دونوں میں سے ہر ایک کا ساتھ دینے والے اصحاب رضی الله عنہم کے درمیان مشاجرت و اختلاف کا تعلق ہے تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس نزاع کے ذکر سے زبان کو روکا جائے اور ان صحابہ کرام رضی الله عنہم کا ذکر کلمات خیر سے کیا جائے اور ان کیلئے عمدہ تاویل تلاش کی جائے کیونکہ یہ معاملہ اجتہادی تھا اس میں حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ اور ان کے ساتھی حق پر تھے کیونکہ انہوں نے اجتہاد کیا اور صحیح فیصلے پر پہنچے اور ماجور ہوئے ۔ جہاں تک حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے انہوں نے اجتہاد کیا اور اجتہاد میں خطا کی پس وہ اس میں معذور ٹھہرے ۔ ان کی عزت و توقیر ضروری ہے نیز دیگر تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم کی بھی توقیر و محبت لازم ہے کیونکہ قرآن حکیم میں ان کی مدح و ثناء آئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نشینی اور صحبت کی وجہ سے بھی ان کی تعظیم و توقیر واجب ہے ۔ پس تحقیق رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کے معاملہ میں الله سے ڈرو میرے بعد انہیں ہدف تنقید نہ بنانا ، جس نے ان سے محبت کی ، تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی ، اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، جس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، تحقیق اس نے الله تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی ۔ (القوانين الفقهية ، لامام محمد بن احمد بن جُزَيّ الغرناطى المالكى ، تحت " الباب الثامن في الإمامة ، ص 39 تا 40 ، مطبوعة دار ابن حزم ، طبع اول ١٤٣٤ه‍/٢٠١٣ء)


اس میں روافض کا رد ہے وہ اپنی بدگمانی و بد اعتقادی کے سبب اہل سنت کے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں ۔ یہ اُن کی بد گمانی ہے اہل حق (یعنی اہل سنت و جماعت) تمام صحابہ اور تمام اہل بیت رضی اللہ عنہم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہیں ۔ خوارج کی طرح نہیں ہیں جو اہل بیتِ نبوت کے دشمن ہیں اور روافض کی طرح بھی نہیں جو جمہور صحابہ کرام اور اکابر امت سے عداوت رکھتے ہیں ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، لامام ابى الحسن على بن سلطان محمد القاري الحنفي ، كتاب المناقب ، تحت " باب مناقب القريش و ذكر القبائل ، جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 135 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٢ه‍/٢٠٠١ء،چشتی)


حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ عادل ، فاضل اور بہترین صحابہ میں سے تھے وہ جنگیں جو ان کے درمیان ہوئیں ان میں سے ہر ایک گروہ شبہہ پر تھا جس کے سبب وہ اپنے آپ کو صواب پر ہونے کا اعتقاد رکھتا تھا ۔ اور یہ تمام اپنی جنگوں میں تاویل کرنے والے تھے اس سبب ان میں سے کوئی عدالت سے خارج نہیں ہوا اس لیے کہ یہ تمام مجتہد تھے ۔ اور انہوں نے مسائل میں اختلاف کیا جیسا کہ ان کے بعد آنے والے مجتہدین نے مسائل میں اختلاف کیا ۔ اور ان میں سے کسی کے حق میں بھی اس سبب سے تنقیص کرنا لازم نہیں آتا ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، لامام ابى الحسن على بن سلطان محمد القاري الحنفي ، كتاب المناقب ، تحت " باب مناقب الصحابة رضي الله عنهم جلد 11 صفحہ 151 مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٢ه‍/٢٠٠١ء)


بہر حال صحابہ کرام رضی الله عنہم کی ایک جماعت کا حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی مدد نہ کرنا آپ کے ساتھ جنگ پر نکلنے سے رکنا اور ان میں سے ایک گروہ کا آپ رضی الله عنہ کے ساتھ جنگ کرنے کا جو واقعہ پیش آیا ۔ جیسا کہ جنگ جمل و صفین تو یہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی خلافت کی عدم صحت پر دلالت نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کی حکومت میں آپ سے مخالفت کرنے والوں کی گمراہی پر دلالت کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ نزاع حقیقتاً حکومت کے لیے نہیں تھا بلکہ ان کے اجتہاد کی وجہ سے تھا جیسا کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینے پر حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ پر انکار کیا ۔ بلکہ ان میں سے بعض نے تو یہ گمان کیا کہ آپ رضی الله عنہ قتلِ عثمان کی طرف مائل تھے ۔ اور معتمد قول کے مطابق اجتہاد میں خطا کرنے والے کی نہ تضلیل کی جاتی ہے نہ تسفیق کی جاتی ہے ۔ (منح الروض الازھر فى شرح فقه الاكبر ، للملا علی بن سلطان محمد القاری ، أفضل الناس بعده عليه الصلاة السلام الخلفاء الأربعة على ترتيب خلافتهم صفحہ 191 تا 192 ، مطبوعة دار البشائر الاسلامية ، طبع اول ١٤١٩ه‍/١٩٩٨ء،چشتی)


ہم رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر ایک صحابی کا ذکر خیر کیساتھ ہی کرتے ہیں ۔ یعنی اگرچہ ان میں سے بعض سے بعض سے وہ کام صادر ہوئے جو صورتا شر ہیں ، کیونکہ یہ امور ان سے اجتہاد کی بنیاد پر صادر ہوئے نہ کہ اصرار و عناد کے سبب فساد کی وجہ سے ۔ ان سے حسن ظن کی بنیاد پر ان تمام کا مقصود بہترین انجام کی طرف تھا ۔ (منح الروض الازھر فى شرح فقه الاكبر ، للملا علی بن سلطان محمد القاری ، أفضل الناس بعده عليه الصلاة السلام الخلفاء الأربعة على ترتيب خلافتهم ، ص 209 ، مطبوعة دار البشائر الاسلامية ، طبع اول ١٤١٩ه‍/١٩٩٨ء،چشتی)


جو صحابہ کرام رضی الله عنہم میں کسی کو بھی برا کہتے وہ بلاجماع فاسق ، بدعتی ہے جب کہ اس کا اعتقاد یہ ہو کہ برا کہنا مباح ہے ۔ (شم العوارض فى ذم الروافض ، للملا على بن سلطان بن القارى ، تحت " مسألة من اعتقد ان سب الصحابة مباح فهو كافر ، ص 28 ، مطبوعة مركز الفرقان ، طبع اول ١٤٢۵ھ/٢٠٠٤ء)


وہ احادیث بھی جن میں حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ ، حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ اور بنی امیہ کی مزمت اور منصور و سفاح کی تعریف پائی جاتی ہے اور اسی طرح یزید ، ولید اور مروان بن حکم کی مزمت پائی جاتی ہے وہ بھی موضوعات میں سے ہیں ۔ (الاسرار المرفوعة و اخبار الموضوعة ، للملا على بن سلطان بن القارى ، فصول في الأدلة على وضع الحديث ، تحت " أحاديث الفضائل و المثالب صفحہ 455 ، مطبوعة المكتب الاسلامي ، طبع ثانى ١٤٠٦ه‍/١٩٨٦ء)


حضرت امام ابو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائی الطبری الشافعى رحمة الله علیہ متوفٰی ٤١٨ه‍ فرماتے ہیں : انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ۔ میں نے کہا : یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کس چیز نے آپ کو ہنسایا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری (جہاز) پر سوار تھے ، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں ، میں نے کہا : الله تعالی سے دعا فرما دیجیے کہ الله تعالی مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے ، آپ نے فرمایا : تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو ، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی ، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ الله تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو ۔ آپ نے فرمایا : تم (سوار ہونے والوں کے) پہلے دستے میں ہو گی ۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے شادی کی اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا ، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور ان کا انتقال ہو گیا) ۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا سعید بن عمرو بن سعید بن عاص کو بیان کرتے سنا کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌الله ‌عنہ پانی کا برتن لے کر رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جایا کرتے تھے ، جب وہ بیمار پڑے تو ان کے بعد حضرت امیر معاویہ ‌رضی ‌الله ‌عنہ اس برتن کو اٹھاتے اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کی طرف دیکھا ، پھر فرمایا : اے معاویہ! اگر تو والئ حکومت بنا تو الله سے ڈرنا اور عدل و انصاف سے کام لینا ۔ فرماتے ہیں کہ میں جان گیا کہ میں آزمایا جاؤں گا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ۔ عبد الله بن بسر سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے گھر میں حضرت ابو بکر اور  حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما سے مشورہ طلب کیا ۔ تو انہوں نے عرض کیا الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیادہ جانتے ہیں ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : معاویہ (رضی الله عنہ) کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ اس سے حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما کو خفگی ہوئی ۔ انہوں نے عرض کیا : یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا جو حکم پاتے ہیں کیا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قریش کے ان   بزرگوں میں اس کا نمونہ نہیں پاتے ۔ تو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : معاویہ کو بلا لاؤ ۔ چنانچہ جب معاویہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ۔ فرمایا : اپنا معاملہ معاویہ (رضی الله عنہ) کے سپرد کرو کیونکہ وہ قوی اور امین ہے ۔

حضرت حارث بن زیاد رضی الله عنہ جو کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں ان سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : اے الله! اس کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا ۔

حضرت عبد الرحمن بن ابی عمیرہ المزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے سعید کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : اے الله! اس کو ہادی (یعنی ہدایت والا) اور مہدی (یعنی ہدایت یافتہ بنا) اس کو ہدایت عطا فرما اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔

جبلہ بن سحیم روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی الله عنہ نے فرمایا : میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ جیسا سردار کوئی نہیں دیکھا ۔

امام جعفر صادق بن امام محمد باقر اپنے والد گرامی رضی الله عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی الله عنہما حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے عطیے قبول فرماتے تھے ۔

مصعب زبیری سے مروی ہے ۔ دراوردی نے ہم سے بیان کیا کہ جعفر بن محمد رحمة الله علیہ آئے اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سلام پیش کیا پھر تعریف کرنے کرنے کے بعد حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما پر سلام کیا پھر مجھے حالت تعجب میں دیکھ کر فرمایا : مجھے اچھا لگا (یعنی مجھے اس سے خوشی ہوئی) راوی بیان کرتے ہیں پھر فرمایا : بخدا یہ دین ہے جس پر میں عمل پیرا ہوں بخدا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کےلیے بددعا کرتے ہوئے کہوں کہ الله اسے رسوا کرے یا اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے ۔ اور (مجھے اس کے بدلے) دنیا ملے ۔

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم قریش سے محبت کرو بیشک جس نے ان سے محبت رکھی الله تعالی اس سے محبت فرمائے گا ۔

ریاح بن جراح الموصلی سے روایت ہے کہ میں نے ایک شخص کو حضرت معافی بن عمران رحمة الله عليہ سے سوال کرتے ہوئے سنا عرض کیا : اے ابو مسعود! امیر معاویہ رضی الله عنہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة الله عليہ کے مقابلے میں کیسے ہیں؟ اس کی یہ بات سن کر آپ رحمة الله عليہ کو اتنہائی شدید غصہ آیا اور فرمایا : رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی صحابی پر کسی (غیر صحابی) کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ، سسرالی رشتہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب اور وحی الہی  پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے امین ہیں بے شک رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے اصحاب اور میرے سسرال والوں سے درگزر کرو ۔ جس نے ان میں سے کسی کی بھی بدگوئی کی اس پر الله تعالی اس کے فرشتوں اور تمام دنیا کے انسانوں کی لعنت ہو ۔

عبد الملک بن عبد الحمید المیمونی رحمة الله عليہ فرماتے  ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمة الله عليہ سے عرض کی کہ : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا : ہر سسرالی و نسبی رشتہ قیامت کے دن منقطع ہو جاۓ گا مگر میرا سسرالی و نسبی رشتہ (منقطع نہیں ہوگا) ؟ حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے فرمایا : کیوں نہیں ، ایسا ہی ہے . عبد الملک بن عبد الحمید فرماتے ہیں میں نے عرض کی : کیا یہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بھی ہے ؟ آپ رحمة الله عليہ نے فرمایا : ہاں ، (حضور کے سسرال و نسب کے لیے ہے)

ابو علی الحسین بن خلیل العنزی سے  مروی ہے میں لکھاریوں کی ایک جماعت کے پاس بیٹھا تھا ۔ انہوں معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ پر تنقید کی تو میں غصے سے کھڑا ہو گیا جب رات ہوئی تو خواب میں سرکارٍ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ۔ آپ فرما رہے تھے : تم ام حبیبہ! کا مقام میرے ہاں جانتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : ہاں یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  ۔ فرمایا : جس نے ام حبیبہ ( رضی الله عنہا ) کو اسکے بھائی کے بارے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کو خط لکھا اور اس میں عرض کرتے ہیں کہ مجھے وصیت کریں اور زیادہ نہ کریں ۔ آپ نے انہیں لکھا کہ تم پر سلام ہو بعد اس کے کہتی ہوں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا : کہ جو الله تعالی کی خوشنودی لوگوں کی ناراضی سے کفایت کرے گا الله اسے لوگوں کی مصیبت سے بچائے گا ۔ اور جو کوئی خوشنودی الله کی ناراضی سے تلاش کرے گا تو الله اسے لوگوں کے حوالے کر دے گا ، و السلام ۔

جعفر بن برقان سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کو دیر کرنے پر عتاب کرتے ہوئے لکھا ۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا : بھلائی کے کام میں غور و فکر سے کام لینا زیادتی اور راست روی کا باعث ہے ۔ دراصل راشد اور راست رو وہی ہے جو عجلت کی بجائے معاملہ فہمی اختیار کرتا ہے اور مضبوطی سے قدم رکھنے والا حق تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔ اور عجلت باز خطا کرتا ہے یا قریب ہے کہ خطا میں مبتلا ہو ۔ جس شخص کو نرمی فائدہ نہ دے اسے بے عقلی نقصان دیتی ہے جسے تجربات فائدہ نہ دیں وہ مقاصد حاصل نہیں کر پاتا ۔ اور نصب العین تک نہیں پہنچتا ۔ یہاں تک کہ اس کی جہالت اس کے علم پر اور اس کی شہوت پر غالب آ جاتی ہے وہ مقاصد تک صرف حلم سے پہنچ سکتا ہے ۔

امام شعبی رحمة الله علیہ کا ارشاد مروی ہے کہ زیرک مدبر چار آدمی ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے اور حلم میں ، حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ مدبر ہونے اور جنگی حکمت عملی میں ۔ حضرت مغیرہ رضی الله عنہ سخت اور پیچیدہ معاملات کے حل میں ۔ (كاشف الغمة فى شرح اعتقاد أهل السنة و الجماعة ، لامام ابى القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائي الطبري ، تحت باب ذكر فضائل ابى عبد الرحمن معاوية بن ابى سفيان رضي الله عنه ، ص 453 تا 457 ، مطبوعة مكتبة الطبري للنشر و التوزيع ، طبع اول ١٤٣٠ه‍/٢٠٠٩ء)(شرح اصول اعتقاد اھل السنة و الجماعة ، لامام ابى القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائي الطبري ، تحت " ما روي عن النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم في فضائل ابى عبد الرحمن معاوية بن ابى سفيان رضي الله عنه ، جلد 8 صفحہ 1524 تا 1534 ، مطبوعة دار الطيبة)


حضرت امام ابو طالب محمد بن علی بن عطیہ المکی الحارثی رحمة الله علیہ متوفٰی ۳٨٦ھ فرماتے ہیں : حضرت امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہ کا عبید الله بن موسی عبسی کے ہاں بہت زیادہ آنا جانا تھا پھر آپ کو اس کا بدعتی ہونا معلوم ہوا مثلاً آپ سے عرض کی گئی کہ وہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ سے افضل مانتا ہے اور یہ بھی عرض کیا گیا کہ اس نے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کا تذکرہ غیر موزوں الفاظ میں کیا تو امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہ نے اس کے پاس نہ صرف آنا جانا چھوڑ دیا بلکہ اس سے جتنی احادیث حاصل کی تھیں سارہ مسوّدہ چاک کر دیا اور اس سے کوئی حدیث روایت نہ کی ۔ (قوت القلوب فى معاملة المحبوب ، لامام ابى طالب محمد بن على بن عطية المکی الحارثی ، الفصل الحادي و الثلاثون : فيه كتاب العلم و تفضيله ، و أوصاف العلماء ، تحت " ذكر تفصيل العلوم : معروفها و منكرها ، قديمها و محدثها ، جلد 1 صفحہ 463 تا 464 ، مطبوعة مكتبة دار التراث ، طبع اول ١٤٢٢ه‍/٢٠٠١ء) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے

 نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے معاویہ توں مجھ سے ہے اور میں تم سے ہوں تم مجھے جنت کے دروازے پر ان دو انگلیوں کی طرح ملو گے : امام ابوبکر بن خلال رحمۃ اللہ علیہ السنہ میں حدیث نقل فرماتے ہیں : أَخْبَرَنِي حَرْبٌ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاوِيَةُ، أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، لَتُزَاحِمَنِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے معاویہ (رضی اللہ عنہ) توں مجھ سے ہے اور میں تم سے ہوں تم مجھے جنت کے دروازے پر ان دو انگلیوں کی طرح ملو گے ۔ (السنة لابن خلال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 454 حدیث نمبر 704)،(مسند الفردوس ، باب الیا 5/393حدیث 8530،چشتی)،(الشریعہ جلد 23 کتاب فضائل معاویہ) ، (لسان المیزان 4/379ح5211) ، (تاریخ دمشق 59/98)


اس روایت پر تحقیقی نظر


 پهلا راوی


173 - حرب بن إسماعيل الكرماني الفقيه،

اما م احمد بن حنبل كے ساتھی اور امام ابكركے استاد تھے

قال أبو بكر الخلال : كان رجلا جليلا، یہ ایک عظیم مرد تھے ۔

تاریخ اسلام جلد 6 صفحہ 310 ۔ نیزامام ذہبی فرماتے ہیں : وَمَا عَلِمْتُ بِهِ بَأْساً میں اس میں ہرج نہیں دیکھتا ۔سیر اعلام النبلاء جلد 13 صفحہ 245

ہاں ! بعض اجہل کہتے ہیں اس راوی کے والد کا پتا نہیں چلا مجھے ۔۔ بالکل ایسی چول وہی مار سکتا ہے جس کو اپنے نسب میں بھی تشکیک ہو ۔


دوسرا راوی


الاسم : محمد بن مصفى بن بهلول القرشى ، أبو عبد الله الحمصى

رتبته عند ابن حجر : صدوق له أوهام و كان يدلس  ، رتبته عند الذهبي : ثقة يغرب

ابو داود ، ابن ماجہ نسائی نے روایت لی ۔صدوق اور ثقہ ہیں لیکن مدلس بھی ہیں۔


تیسرا راوی


عبد العزیز بن عمر بن عبدالعزیز : حافظ ابن حجر کے نزیدک صدوق ہیں ہاں خطا کرتے ہیں ۔ اور امام ذہبی کےنزدیک ثقہ ہیں ۔ وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْعُلَمَاءِ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ۔ (تاریخ اسلام جلد 3 صفحہ 917،چشتی)


چوتهے راوی


الاسم : إسماعيل بن عياش بن سليم العنسى ، أبو عتبة الحمصى

رتبته عند ابن حجر : صدوق فى روايته عن أهل بلده ، مخلط فى غيرهم

اپنے شہر سے روایت کرنے میں صدوق ہے اس کے علاوہ میں مخلط ہے ۔

رتبته عند الذهبي : عالم الشاميين ، قال يزيد بن هارون ما رأيت أحفظ منه ، و قال دحيم هو فى الشاميين غاية و خلط عن المدنيين ،

امام ذہبی کے نزدیک:شامی عالم ہے ،یزید بن ہارون کہتے اس سے بڑا حافظ نہیں دیکھا ۔دحیم کہتے ہیں شامیوں میں ہو تو ۔حد۔۔بندہ ہے ۔اور مدنیوں میں ہو تو مختلط۔


پانچواں راوی


عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار القرشى العدوى ، المدنى ، مولى عبد الله بن عمر بن الخطاب

رتبته عند الذهبي : قال أبو حاتم : فيه لين

کبار تبع تابعین میں سے ہے امام بخاری ،ابوداود ،ترمذی اور نسائی نے ان سے حدیث لی ۔امام ابن حجر کے نزیدک صدوق ہیں لیکن خطا کرتے ہیں ۔

چھٹے راوی کی بحث کی حا جت نہیں ۔


مذکورہ بالا حدیث اس سند کے اعتبار سے محض ضعیف قرار پائے گی کوئی ایک راوی بھی نہ کذاب ہے اور نہ ہی وضاع پھر بھی اس حدیث کو موضوع کہنے والا منکر حدیث چکڑالوی رافضی ہی ہو سکتا ہے ۔


سند دوم


أخبرنا أبو منصور عبد الرحمن بن محمد بن عبد الواحد أنا أبو بكر الخطيب أنا أبو الحسن بن رزقويه أنا أبو الخير فاتن (1) بن عبد الله مولى أمير المؤمنين المطيع لله أنا أبو مروان عبد الملك بن محمد بن عبد الملك بن سلام ببيت المقدس نا أبو محمد جعفر بن محمد البردعي نا محمد بن عبيد الهاشمي عن عبد العزيز بن بحر نا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبيه عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يطلع عليكم من هذا الباب رجل من أهل الجنة فطلع معاوية فلما كان من الغد قال مثل ذلك فطلع معاوية فلما كان بعد الغد قال مثل ذلك فطلع معاوية قال رجل هو هذا قال نعم هو هذا ثم قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يا معاوية أنت مني وأنا منك لتزاحمني على باب الجنة كهاتين ۔

قال الخطيب عبد العزيز بن بحر (1) ضعيف ومن دونه مجهولون ۔ (تاریخ ابن عساكر جلد 59 صفحه 99،چشتی)


اس پر كلام سے پهلے میں یه عرض كرتا چلوں ۔ علم حدیث كے پاس سے گزر جانے والے بچے كو بھی پتا هے جب علماء محققین كسی بھی حدیث پرصحیح ، ضعیف یا موضوع کا حکم لگاتے ہیں وہ خاص ایک سند پر ہوتا ہے ۔سند اول میں کوئی بھی راوی کذاب و وضاع نہیں جس بنا پر یہ حدیث موضوع قرار دی جائے ۔۔امام ذہبی نے جو اس پر کلام کیا ہے وہ سند دوم سے تعلق رکھتا ہے سند اول میں اس نام کا بندہ ہی موجود نہیں ۔پھر بھی ۔۔موضوع موضوع کی گردان پڑنا ہٹ دھرمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔


اول : یہ سند اسماعیل بن عیاش پر جا کر اول سے مل جاتی ہے۔اس سے کے بعد مصنف، خطیب کا قول نقل کر رہے ہیں

عبد العزیز بن بحر ضعیف ہے اور اس کے علاوہ نچلے راوی مجہول ہیں گویا کہ خطیب نے حکم بھی بتا دیا کہ روایت محض ضعیف ہے ۔


دوم : امام ابن جوزی جیسے موضوع احادیث میں شدت کرنے والوں کے نزدیک بھی یہ حدیث موضوع نہیں بلکہ صرف اور صرف ضعیف ہے اسی لیے آپ نے اپنی ضعفاء کی کتاب میں اس کو ذکر کیا اگر موضوع ہوتی تو اس میں ذکر کرتے ۔


عبد العزيز بن بحر المروزي .

عن إسماعيل بن عياش بخبر باطل وقد طعن فيه.عباس الدوري، واللفظ له، وعبد الله بن أحمد، وغيرهما ۔

امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ خبر باطل لے کر آیا اور اس میں طعن بھی کیا گیا ہے ۔۔۔۔عباس دوری کہتے ہیں اور عبداللہ بن احمد کہتے ہیں۔ اور یہ الفاظ انھی کہ ہیں (اس کے بعد مذکورہ حدیث ذکر کی) ۔ (میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 623،چشتی)

یہی تفسیقیوں کی کل کائنات بن گئی ۔لیکن امام ذہبی نے دوسری جگہ کیا فرمایا وہ ہپ ہپ کر گئے ۔


امام ذہبی رحمہ اللہ کا تلخیص العل المتناہیہ میں مذکور کلام ملاحظہ کیجیے:

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : فیہ : عبد العزیز بن یحیی المودب ۔۔۔مجھول ۔۔عن اسماعیل بن عیاش عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار عن ابیہ عن ابن عمر ۔۔اخرجہ ابن عدی ۔

اس حدیث میں عبداللہ بن یحیی (بحر ہونا چاہیے کاتب کی غلطی ہے غالباً) المودب ہے جو کہ مجہول راوی ہے ۔جو روایت کرتے ہیں اسماعیل بن عیاش سے اور وہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار سے وہ اپنے والد اور وہ عبد اللہ بن عمر سے ۔ا ابن عدی نے اسے نقل کیا ہے ۔


امام ذہبی فرماتے ہیں : قال عباس دوری حدثنا عبدالعزیز بن بحر المروزی ۔۔مشھور ۔۔۔حدثنا اسماعیل ، فذکرہ وزاد فیہ انت منی و انا منک ۔۔۔الحدیث ۔۔۔

و راوہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل عن عبد العزیز مختصراً (کالاوفی(بلکہ صحیح اولی ہے))و مارایت احد ضعف عبد العزیز بل اسماعیل صاحب عجائب عن الحجازیین ۔۔

(تلخیص اللعل المتانہیہ صفحہ 95۔۔96)

عباس دوری کہتے ہیں ہمیں عبد العزیز بن بحر المروزی ۔۔جوکہ مشھور ہے نے خبر دی ۔۔ہمیں بتایا اسماعیل نے الخ۔۔

(امام ذہبی فرماتے ہیں۔۔۔تفسیقی آنکھیں کھول کر دیکھے) ،اس کو امام احمد کے بیٹے نے عبدالعزیز سے مختصرا بھی روایت کیا ہے(پہلی روایت کی طرح) اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی ایک نے بھی عبد العزیز کو ضعیف کہا ہو ہاں اسماعیل حجاز والوں سے عجیب روایات لے کر آتا ہے ۔


یہی امام ذہبی تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں :


257 - عَبْد العزيز بْن بحر الْمَرْوَزِيّ المؤدِّب. [الوفاة: 231 - 240 ه]

نزيل بغداد .

عَنْ: سُلَيْمَان بْن أرقم، وعطّاف بْن خَالِد، وإسماعيل بْن عيّاش.

وَعَنْهُ: عبد الله ابن أبي سعد الوَرَّاق، وابن أبي الدنيا، ومحمد بن سويد الطحان، وآخرون.

لم يضعف .

اس کو ضعیف نہیں کہا گیا ۔۔۔ (تاریخ اسلام جلد 5 صفحہ 872)


یہ ہے تناقض : ایک جگہ فرمایا یہ خبر باطل لے کر آیا ہے ۔

دوسری جگہ فرمایا عبد العزیز بن یحیی(بحر) المودب مجہول ہے ۔

تیسری جگہ فرمایا:عباس دوری کہتے ہیں عبدالعزیز مشہور ہے کسی ایک نے بھی سے ضعیف نہیں کہا ۔

چوتھی جگہ فرمایا : اس کو ضعیف نہیں کہا گیا ۔

نوٹ: امام ذہبی کے اس تناقض کو ابن عراق نے تنزیہیہ الشریعہ میں ذکر کیا ہے جس کو طوالت کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں ۔


اب تفسیقی امام ذهبی كے كس قول كو ترجیح دیں گے اور كیوں !!!

الزامی جواب : امام ذهبی كے متضاد قول میں سے ایك كو تو آپ نے بلا چوں چڑاں مان لیا تو كیا انا مدینه العلم و علی بابھا پر امام ذهبی كے اس قول كو مان لیں گے ؟؟؟

فَقُلْتُ: بَلْ مَوْضُوعٌ، ثُمَّ قَالَ: وَأَبُو الصَّلْتِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، قُلْتُ: كَلا وَاللَّهِ بَلْ رَافِضِيٌّ غَيْرُ ثِقَةٍ،

میں کہتا ہوں یہ روایت موضوع ہے اور حاکم نے کہا ابو الصلت ثقہ مامون ہے میں کہتا ہوں خدا کی قسم وہ رافضی اور غیر ثقہ ہے ۔ (موضوعات المستدرك للذهبي صفحه 4)

لیجیے ۔۔۔ قبول کیجیے قولِ ذہبی ۔ خلاصہ : یا معاویہ انت منی و انامنک حدیث قطعاً موضوع نہیں ہے صرف ضعیف ہے ۔


حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ : اللہ کے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : کہ اے معاویہ رضی اللہ عنہ تم مجھ سے ہو اور میں تجھ سے ہوں اور تم جنت کے دروازے پر میرے ساتھ اس طرح ہو گے جس طرح  یہ دو انگلیاں ہیں ۔ (کتاب السنہ للخلال جلد 2 حدیث نمبر 704)۔(الشریعہ للآجری جلدسوم حدیث نمبر1983،چشتی)۔(شرح اصول اعتقاداھل السنہ والجماعہ ج8ح2779)۔(موجبات الجنہ لابن فاخرج1ح396)


احوال الروات : 


امام ابوبکرالخلال ؛ الامام العلامہ الحافظ الفقیہ ۔ (سیراعلام النبلاء 4/297) 


حرب بن اسماعیل ؛ الامام العلامہ الفقیہ ۔ (سیراعلام النبلاء 13/344) 


محمدبن مصفی ، قال ابوحاتم صدوق ۔ (تاریخ اسلام ذہبی  5/1246) 


عبدالعزیزبن عمر ؛ قال ابن معین ثقہ ۔ (تاریخ ابن معین بروایت الدوری 4/426) 


اسماعیل بن عیاش ؛ ثقہ فی الشامیین ۔ عبدالرحمن بن عبداللہ ؛

ذکرروایتہ البخاری فی صحیحہ ۔

(صحیح البخاری رقم:173) 


عبداللہ بن دینار ؛ مدنی تابعی ثقہ 

۔ (تاریخ الثقات للعجلی 2/26) 


عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ؛

جلیل القدر صحابی ۔ 


تنبیہ : نوح بن یزیدنے اسماعیل بن عیاش کی متابعت کی ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر 59/100،چشتی)


نوح بن یزید ثقہ راوی ہے ۔ (تاریخ اسلام 5/716) 


معلوم ہوا کہ اس کی سند حسن ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Friday, 25 February 2022

نمازِ عشاء کی رکعتوں کی تعداد

نمازِ عشاء کی رکعتوں کی تعداد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : نمازِ عشاء کی رکعتوں کی کل تعداد سترہ (17) ہے جس کی ترتیب اس طرح ہے : چار (4) سنت غیرمؤکدہ ۔ چار (4) فرض ۔ دو (2) سنت مؤکدہ ۔ دو (2) نفل ۔ تین (3) وتر ( واجب) ۔ دو (2) نفل ۔

عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ رضی اللہ عنہما کَانُوْا یَسْتَحِبُّوْنَ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ قَبْلَ الْعِشَائِ الْاٰخِرَۃِ۔(مختصر قیام اللیل للمروزی ص85 یصلی بین المغرب والعشاء اربع رکعات)
ترجمہ : حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز سے پہلے چار رکعت پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے ۔

عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفٰی رضی اللہ عنہما اَنَّ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا سُئِلَتْ عَنْ صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَقَالَتْ کَانَ یُصَلِّیْ صَلٰوۃَ الْعِشَائِ فِیْ جَمَاعَۃٍ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی اَھْلِہٖ فَیَرْکَعُ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ ثُمَّ یَأوِیْ اِلٰی فِرَاشِہٖ۔(سنن ابی داؤد جلد 1 صفحہ 197 باب فی صلوۃ اللیل،چشتی)
ترجمہ : حضرت زرارہ بن اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی درمیانِ رات والی نماز کے متعلق پوچھا گیا ، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ کر گھر تشریف لاتے تو چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آرام فرماتے ۔

عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہااَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کَانَ یُؤْتِرُبِثَلَاثٍ یَقْرَئُ فِیْ اَوَّلِ رَکْعَۃٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی وَفِی الثَّانِیَۃِ قُلْ یَااَیُّھَاالْکَافِرُوْنَ وَفِی الثَّالِثَۃِ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ وَالْمُعَوَّذَتَیْنِ ۔ (شرح معانی الآثار جلد 1 صفحہ 200 باب الوتر،چشتی)(صحیح ابن حبان صفحہ 718 ذکر الاباحۃ للمرء ان یضم قراء ۃ المعوذتین الخ رقم الحدیث 2448)(مصنف عبد الرزاق ج 2ص404 باب ما یقرء فی الوتر الخ، رقم الحدیث 1257)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے پہلی رکعت میں’’سبح اسم ربک الاعلیٰ‘‘ پڑھتے، دوسری رکعت میں’’قل یا ایھا الکافرون‘‘ اور تیسری رکعت میں’’ قل ھو اللہ احد‘‘ اور معوذتین پڑھتے تھے ۔

عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ رضی اللہ عنہما قَالَ سَاَلْتُ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا عَنْ صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فَقَالَتْ کَانَ یُصَلِّیْ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً یُصَلِّیْ ثَمَانَ رَکْعَاتٍ ثُمَّ یُوْتِرُ ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ ۔ (صحیح مسلم جلد 1 صفخحہ 254 باب صلوۃ اللیل و عدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل)(صحیح البخاری جلد 1 صفحہ 155 باب المداومۃ علی رکعتی الفجر،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۔ پہلے آٹھ رکعت (تہجد) پڑھتے ، پھر وتر پڑھتے ، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے ۔

عَنْ اُمِّ سَلْمَۃَ رضی اللہ عنہا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّیْ بَعْدَ الْوِتْرِ رَکْعَتَیْنِ ۔ (جامع الترمذی جلد 1 صفحہ 108 باب ماجاء لا وتران فی لیلۃ)(سنن ابن ماجۃ جلد 1 صفحہ 83 باب ما جاء فی الرکعتین بعد الوتر جالساً)
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔

نمازِ عشاء کی نذکورہ رکعات پڑھنے کا صحابہ کرام ضی اللہ عنہم کے یہاں معمول تھا ، اور ظاہر سی بات ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہوگا ، چناں جہ ”قیام اللیل للامام المروزی“ میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے : عن سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کانوا یستحبون أربع رکعات قبل العشاء الآخرة ۔ (قیام اللیل لمحمد نصر المروزي: ۱/۸۸، ط: فیصل آباد، پاکستان)

نیز ”الاختیار لتعللہ المختار“ جو فقہ حنفی کی معتبر کتاب ہے ، اس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت نقل کی گئی ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ معمول بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے اورعشاء کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھتے تھے ، پھر آرام فرماتے ۔ عن عائشة أنہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کان یصلي قبل العشاء أربعا ثم یصلي بعدہا أربعًا ثم یضطجع ۔ (۱/۶۶ الاختیار لتعلیل المختار، ط: بیروت،چشتی)

بخاری 1180،  مسلم 1699 اور بخاری 697 میں دو سنت موکدہ اور دو نفل یعنی چار رکعت عشاء کے بعد ادا کرنے کا ثبوت ملتا ہے ۔ 

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، فرماتے ہیں : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی پھر گھر آئے تو چار رکعتیں ادا کیں , پھر سو گئے ۔ (صحیح البخاری : 697،چشتی)

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا بَعْدَ الْعِشَاءِ كُنَّ كَقَدْرِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۔
ترجمہ : جس نے عشاء کے بعد چار رکعتیں ادا کیں , تو وہ لیلۃ القدر میں ان ہی جیسی رکعتوں کے برابر ہو جائیں گی ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ : 7273)

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : أَرْبَعٌ بَعْدَ الْعِشَاءِ يَعْدِلْنَ بِمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۔
ترجمہ : عشاء کے بعد چار رکعتیں لیلۃ القدر میں ان ہی جیسی رکعتوں کے برابر ہیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ : 7274،چشتی)

حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا بَعْدَ الْعِشَاءِ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ، عَدَلْنَ بِمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۔
ترجمہ : جس نے عشاء کے بعد ایک سلام سے چار رکعتیں ادا کیں , تو وہ لیلۃ القدر میں ان ہی جیسی رکعتوں کے برابر ہو جائیں گی ۔ ( مصنف ابن ابی شیبۃ :7275) 

غیر مقلد وہابی نام نہاد اہلحدیث حضرات کہتے ہیں عشاء کی پہلی چار سنت غیرمٶکدہ حدیث کی کس کتاب سے ثابت نہیں اور نہ ہی فقہ حنفی کےعلاوہ کسی اور فقہ میں یہ چار رکعت ہے ۔ سوچنے کی بات ہے نہ تو دنیا کی کسی حدیث سے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑھی ہوں ۔ اور نہ ہی کسی صحابی سے ثابت ۔ تو یہ سنت کیسے بن گئیں دنیا کا کوئی حنفی عالم ان چار رکعت کو سنت ثابت نہیں کر سکتا ۔ غیر مقلد وہابی نام نہاد اہلحدیث حضرات کہتے ہیں کہ فقہ حنفی قرآن و حدیث سے نہیں بلکہ مرضی سے گھڑی گئی فقہ ہے جس میں نماز کی رکعتیں بھی گھر سے گھڑ لی جاتی ہیں ۔

جواب : پہلے فقہ حنفی سے اصل مسلہ سمجھیے : يُسْتَحَبُّ أَنْ يُصَلِّيَ قَبْلَ الْعِشَاءِ أَرْبَعًا وَقِيلَ رَكْعَتَيْنِ ۔ عشاء سے پہلے چار رکعت اور کہا گیا ہے کہ دو رکعت مستحب ہیں یعنی سنت غیر موکدہ ہیں ۔ (رد المحتار ,2/13)

وَالْأَرْبَعُ قَبْلَ الْعِشَاء وَقِيلَ أَرْبَعًا عِنْدَهُ وَرَكْعَتَيْنِ عِنْدَهُمَا كَمَا فِي النِّهَايَة ۔ عشاء سے پہلے چار رکعت مستحب ہیں سنت غیر موکدہ ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ امام اعظم کے نزدیک چار سنت غیر مؤکدہ ہیں اور صاحبین کے نزدیک دو رکعت سنت غیر موکدہ ہیں جیسے کہ نھایہ میں ہے ۔ (مجمع الأنهر,1/131بحذف یسییر،چشتی)

غیر مقلد وہابی نام نہاد اہلحدیث حضرات جو کہتے ہیں کہ کسی اور فقہ میں نہیں ہیں تو یہ صاف جھوٹ ، عدمِ توجہ یا کم علمی ہے : قَالَ فِي الْمَجْمُوعِ وَرَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعِشَاءِ) أَيْ فَأَكْثَرُ؛ إذْ عِبَارَتُهُ ۔
(فَرْعٌ) يُسْتَحَبُّ أَنْ يُصَلِّيَ قَبْلَ الْعِشَاءِ الْأَخِيرَةِ رَكْعَتَيْنِ فَصَاعِدًا انْتَهَتْ اهـ حَلَبِيٌّ..وَعِبَارَةُ الشَّوْبَرِيِّ قَالَ الشَّيْخُ وَفِي شَرْحِ الْمُهَذَّبِ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُصَلِّيَ قَبْلَ الْعِشَاءِ الْأَخِيرَةِ رَكْعَتَيْنِ فَصَاعِدًا ثُمَّ اسْتَدَلَّ بِحَدِيثِ الصَّحِيحَيْنِ ۔
فقہ شافعی کی کتاب المجموع میں ہے کہ عشاء سے پہلے دو رکعت یا دو رکعت سے زیادہ سنت غیر موکدہ ہیں، المجموع کی عبارت یوں ہے کہ مستحب ہے یعنی سنت غیر موکدہ ہے کہ عشاء سے پہلے دو رکعتیں اور دو سے زیادہ رکعتیں پڑھے …الشوبری کی عبارت یوں ہے کہ شیخ نے فرمایا کہ (فقہ شافعی کی کتاب) شَرْحِ الْمُهَذَّبِ میں ہے کہ مستحب ہے سنت غیر موکدہ ہے کہ عشاء سے پہلے دو رکعت یا دو رکعت سے زیادہ پڑھے اس مسئلے پر صحیحین کی حدیث سے دلیل پکڑی (صحیحین کی حدیث نیچے آ رہی ہے)(حاشية الجمل على شرح المنهج فتوحات الوهاب بتوضيح شرح منهج الطلاب1/481،چشتی)

بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ»، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ : لِمَنْ شَاء ۔ نبی کرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا ہے ۔۔۔ اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا ہے پھر تیسری مرتبہ فرمایا جو چاہے پڑھے ۔ (صحيح البخاري جلد 1 صفحہ 128 حدیث نمبر 627)

اس حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے کہ ہر اذان اور اقامت کے درمیان سنت نماز ہے ۔۔۔ لہٰذا عشاء کی اذان کے بعد اور اقامت سے پہلے نماز پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہوگیا اور اس بات میں کوئی تخصیص نہیں ہے کہ دو رکعت ہو یا چار رکعت یا اس سے زیادہ لھٰذا چار بھی ثابت ہوگئ ۔

فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز(سنت غیرموکدہ) پڑھتے رہے عشاء کے فرض تک ۔ (أحمد بن حنبل ,مسند أحمد ط الرسالة ,38/430،چشتی)

مسند احمد کےحاشیہ میں اس حدیث پاک کا حکم و تخریج یوں ہے کہ : إسناده صحيح. إسرائيل: هو ابن يونس السبيعي، والمنهال: هو ابن عمرو الأسدي مولاهم. وأخرجه ابن أبي شيبة 12/96، والنسائي في “الكبرى” (380) و (381) و (8365) ، وابن خزيمة (1194،چشتی) ، وابن حبان (6960) ، والحاكم 1/312-313، والبيهقي في “دلائل النبوة” 7/78 من طريق زيد بن الحباب، بهذا الإسناد. وبعضهم يرويه مطولاً بنحو الرواية السالفة برقم (23329)

اس حدیث مبارکہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز سے پہلے بہت سارے سنت غیر موکدہ پڑھے ۔ لھٰذا عشاء سے پہلے دو رکعت سنتیں غیر موکدہ بھی ثابت ہو گئیں عشاء سے پہلے چار رکعت سنت غیر مؤکدہ بھی ثابت ہوگئیں اور عشاء سے پہلے چار سے زیادہ بھی سنت غیر موکدہ ثابت ہوگئیں ۔

فَفِي سنَن سعيد بن مَنْصُور من حَدِيث الْبَراء رَفعه من صَلَّى قبل الْعشَاء أَرْبعا كَانَ كَأَنَّمَا تهجد من ليلته ۔
سنَن سعيد بن مَنْصُور میں حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھے گویا کہ اس نے اس رات کی تہجد نماز پڑھ لی ۔ (ابن حجر الدراية في تخريج أحاديث الهداية1/198،چشتی)

ندب أربع قبل “العشاء” لما روي عن عائشة رضي الله عنها أنه عليه السلام كان يصلي قبل العشاء أربعا ۔
ترمہ : عشاء سے پہلے چار رکعت سنت غیر موکدہ ہیں کیونکہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ۔ (مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح صفحہ 146)

نماز وتر جس کا ثبوت ابو داٶد 1419 اور 1416میں موجود ہے ، اس لیے بخاری 541 کے مطابق وتر عشاء کی نماز کے ساتھ ، سونے سے پہلے ، سونے کے بعد ، فجر کی اذان سے پہلے ادا کرنے کا ثبوت ملتا ہے ۔ وتر کی نماز واجب ہے اگر نمازِ وتر چھوٹ جائے تو قضا کی جائے گی ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

خارجی اور ناصبی

خارجی اور ناصبی وہ لوگ تھے جو حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مرید و معتقد تھے جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ...