Thursday, 3 March 2022

شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ سوم

 شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ سوم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو شب برأت کہا جاتا ہے ۔ شب کے معنی ’’رات‘‘ اور برأت کے معنی نجات کے ہیں۔ یعنی اس رات کو ’’نجات کی رات‘‘ کہا جاتا ہے چونکہ اس رات کو مسلمان عبادت و ریاضت میں گزار کر جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں ۔ اس لیے اس رات کو شب برأت کہا جاتا ہے ۔


ارشادِ باری تعالیٰ ہے : قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا ہے ، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں ، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام ۔ (سورۃ الدخان 2/4)


سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان تو ایسا مہینہ تھا جس کے روزے فرض تھے، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا کا پورا مہینہ روزے رکھتے لیکن بقیہ گیارہ مہینوں میں سب سے زیادہ روزوں کا اہتمام آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں فرماتے تھے۔ آخر کار کوئی سبب اور وجہ تو ہوگی اور کوئی تو خیر اور برکت کا پہلو ایسا ہوگا جو ماہِ شعبان کو ایسی فضیلت و بزرگی عطا کی گئی ۔


اس مہینے کی فضیلت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسی ماہِ مبارک میں وہ مبارک رات بھی آتی ہے جسے ’’شب برات‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ امام بیہقی ’شعب الایمان‘ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : أَتَانِي جِبْرِيْلُ فَقَالَ: هٰذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَ ِﷲِ فِيْهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُوْرِ غَنَمِ کَلْبٍ ۔

ترجمہ : جبریل  علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے کہا : (یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم!) یہ رات، پندرھویں شعبان کی رات ہے اور اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے ۔ (بيهقی، شعب الايمان، رقم : 3837،چشتی)


اللہ رب العزت نے بعض دنوں کو بعض پرفضیلت دی ہے، یوم جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر، ماہ رمضان کو تمام مہینوںپر، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر اور شب برات کو دیگر راتوں پر۔ اَحادیث مبارکہ سے اس بابرکت رات کی فضیلت و خصوصیت ثابت ہے جس سے مسلمانوں کے اندر اتباع و اطاعت اور کثرت عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ترغیب ملتی ہے ۔


اس فضیلت و بزرگی والی رات کے کئی نام ہیں : ⬇


لیلۃ المبارکۃ : برکتوں والی رات ۔


لیلۃ البراء ۃ : دوزخ سے آزادی ملنے کی رات ۔


لیلۃ الصَّک : دستاویز والی رات ۔


لیلۃ الرحمۃ : رحمت خاصہ کے نزول کی رات ۔ (زمخشری، الکشاف، 4/ 272)


عرفِ عام میں اسے شبِ برات یعنی دوزخ سے نجات اور آزادی کی رات بھی کہتے ہیں۔ لفظ ’’شبِ برات‘‘ اَحادیث مبارکہ کے الفاظ عتقاء من النار کا بامحاورہ اُردو ترجمہ ہے ۔ اس رات کو یہ نام خود رسول ﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا کیوں کہ اس رات رحمتِ خداوندی کے طفیل لاتعداد انسان دوزخ سے نجات پاتے ہیں ۔


ابن جریر طبری (م 310ھ) ’جامع البیان‘ میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے فرمان : فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِيْمٍ ۔ ’’اس شب میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔‘‘ (سورہ الدخان) کی تفسیر میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : قَالَ : فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يُبْرَمُ فِيْهِ أَمْرُ السَّنَةِ وَتُنْسَخُ الأَحْيَاءُ مِنَ الأَمْوَاتِ وَيُکْتَبُ الْحَاجُّ فَـلَا يُزَادُ فِيْهِمْ أَحَدٌ وَلاَ يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ۔ فرمایا : یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے ، اس میں ایک سال کا حال لکھ دیا جاتا ہے۔ اور زندوں کا نام مردوں میں بدل دیا جاتا ہے اور حج کرنے والوں کا نام لکھ دیا جاتا ہے پھر (سال بھر) اس میں کمی ہوتی ہے نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے ۔ (ابن جرير طبری، جامع البيان، 25/ 109،چشتی)


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ایک آدمی لوگوں کے درمیان چل رہا ہوتا ہے، حالانکہ وہ مردوں میں درج کیا ہوا ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ o فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْم o ۔

ترجمہ : بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتاہے ۔ (سورہ الدخان: 3، 4)

پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس رات میں ایک سال سے دوسرے سال تک دنیا کے معاملات کی تقسیم کی جاتی ہے ۔ (طبری، جامع البيان، 25/ 109)


اللہ تعالیٰ کا دنیا پر نزولِ اجلال

شب برات رحمتِ خداوندی کے طفیل لا تعداد انسان دوزخ سے نجات پاتے ہیں ۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔


اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں : ایک رات میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (خواب گاہ میں) نہ پایا تو میں (آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں) نکلی ۔ میں نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت البقیع میں مسلمان مردوں ، عورتوں اور شہداء کےلیے استغفار کرتے پایا ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تجھے خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ نا انصافی کریں گے ؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے سوچا شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ ﷲَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ ۔

ترجمہ : اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات کو (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 6/ 238، رقم: 26060،چشتی)


دوسری روایت میں ہے کہ : بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں پہ نگاہِ التفات فرماتا ہے تو بخشش طلب کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے، اور بغض و کینہ رکھنے والوں کو ویسا ہی رہنے دیتا ہے (ان کی حالت کو نہیں بدلتا) ۔


اس مبارک مہینہ میں پائی جانے والی اس بابرکت رات کی فضیلت اس حدیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوتی ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : هَلْ تَدْرِيْنَ مَا فِي هٰذِهِ اللَّيْلَةِ ؟ قَالَتْ: مَا فِيْهَا يَا رَسُوْلَ ﷲِ ؟ فَقَالَ: فِيْهَا أَنْ يُکْتَبَ کُلُّ مَوْلُوْدٍ مِنْ مَوْلُوْدِ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ، وَفِيْهَا أَنْ يُکْتَبَ کُلُّ هَالِکٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هٰذِهِ السَّنَةِ، وَفِيْهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ، وَفِيْهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ ۔

ترجمہ : اے عائشہ ! تمھیں معلوم ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے عرض کیا: (یارسول اللہ!) اس رات میں کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس رات سال میں جتنے بھی لوگ پیدا ہونے والے ہیں سب کے نام لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ فوت ہونے والے ہیں ان سب کے نام بھی لکھ دیے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کے (سارے سال کے) اَعمال اٹھالیے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی روزی مقرر کی جاتی ہے ۔ (بيهقی الدعوات الکبير 2/ 145)


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں : يَفْتَحُ ﷲُ الْخَيْرَ فِي أَرْبَعِ لَيَالٍ : لَيْلَة الْأَضْحٰی، وَالْفِطْرِ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يُنْسَخُ فِيْهَا الْآجَالُ وَالأَرْزَاقُ وَيُکْتَبُ فِيْهَا الْحَاجُّ وَفِي لَيْلَةِ عَرَفَةَ إِلَی الْأَذَانِ ۔

ترجمہ : ﷲ تعالیٰ چار راتوں میں (خصوصی طور پر) بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 1۔ عید الاضحیٰ کی رات، 2۔ عید الفطر کی رات، 3۔ شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ 4۔ عرَفہ (نو ذو الحجہ) کی رات اذانِ فجر تک ۔ (سيوطی، الدرالمنثور، 7/ 402،چشتی)


اَحادیث مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں کہ جن سے توبہ نہ کرنے والوں کی اس رات بھی بخشش و مغفرت نہیں ہوتی، حالانکہ اس رات اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دریا اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے اور اس کی جود و عطا بہت عام ہوتی ہے اور غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک اس کی رحمت کی برسات ہوتی رہتی ہے ۔ احادیث مبارکہ میں اس رات بھی درج ذیل طبقات کو مغفرت سے محروم قرار دیا گیا : ⬇


شرک کرنے والا


بغض و کینہ اور حسد رکھنے والا


ناحق قتل کرنے والا


شراب نوشی کرنے والا


والدین کا نافرمان


عادی زانی


قطع رحمی والا


توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے !

مذکورہ اَعمالِ سیئہ کے ارتکاب کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بندہ اِن ہی ظلمات میں بڑھتا رہے اور اپنے رب سے مایوس ہو جائے بلکہ وہ سچے دل سے ﷲ تعالیٰ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو اور توبہ کا خواست گار ہو۔ تو اس کی رحمت اور مغفرت کے دروازے ہر دَم کھلے ہیں : ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا لا اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ۔

ترجمہ : پھر بے شک آپ کا رب ان لوگوں کےلیے جنہوں نے نادانی سے غلطیاں کیں پھر اس کے بعد تائب ہوگئے اور (اپنی) حالت درست کر لی تو بے شک آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔ (سورہ النحل، 16: 19)

نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہاں تک سچے دل سے توبہ کرنے والے بندے کو امید دلائی کہ فرمایا : التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ ۔

ترجمہ : (سچے دل سے) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب الزهد، رقم: 4250،چشتی)


لہٰذا شبِ برات میں گناہ گاروں اور سیاہ کاروں کو بھی رَب کی رحمت، کرم اور بخشش کے خزانوں سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ وہ عجز و نیاز سے اپنے خالق و مالک اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے رب کی بارگاہ میں سچے دل سے تائب ہوں تو وہ بھی ان خزانوں سے اپنی جھولیاں بھر سکتے ہیں ۔


حضرت مولا علی  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا کَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا، فَإِنَّ ﷲَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلٰی سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُوْلُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَه،  أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَه ، أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَه ، أَلَا کَذَا أَلَا کَذَا حَتّٰی يَطْلُعَ الْفَجْرُ ۔

ترجمہ : جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو اس رات کو قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات سورج غروب ہوتے ہی (اپنی شان کے لائق) آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور فرماتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا نہیں کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کیا کوئی مجھ سے رزق طلب کرنے والا نہیں کہ میں اسے رزق دوں ؟ کیا کوئی مبتلائے مصیبت نہیں کہ میں اُسے عافیت عطا کر دوں ؟ کیا کوئی ایسا نہیں ؟ کوئی ایسا نہیں ؟ (اسی طرح ارشاد ہوتا رہتا ہے) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔ (بيهقی شعب الايمان، رقم: 3822)


برات کے معنی ہیں : نجات ، شبِ برات کا معنی ہے : ’’گناہوں سے نجات کی رات‘‘ اور گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے ۔ سو اس رات میں اللہ تعالیٰ، سے بہت زیادہ توبہ اور استغفار کرنا چاہیے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر بھی توبہ کریں اور اپنے والدین اساتذہ و رشتہ داروں کے لیے بھی اِستغفار کریں۔

شعبان کی پندرہویں شب کے بارے میں وارد ہونے والی اَحادیث مبارکہ کے مطالعہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس مقدس رات قبرستان جانا، کثرت سے اِستغفار کرنا، شب بیداری اور کثرت سے نوافل ادا کرنا اور اس دن روزہ رکھنا رسول ﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولاتِ مبارکہ میں سے تھا ۔


جب انسان گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے تو برے اعمال کے باعث اس کے دل کے اندر نیک اعمال و عبادات سے عدم دل چسپی جنم لیتی ہے ۔ اگر بندہ اپنی اصلاح نہ کرے تو عبادات سے یہ محرومی بڑھتے بڑھتے توفیق کے سلب کیے جانے پر منتج ہوتی ہے۔ اس مقام پر اس کا قلب گناہوں کے اصرار کے باعث حلاوت ایمان سے محروم ہو کر تاریک و سیاہ ہو جاتا ہے جو دائمی بدبختی کی علامت ہے ۔


اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے بے پناہ محبت ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے نار جہنم کا ایندھن بنیں۔ چنانچہ ذاتِ حق تعالیٰ نے انہیں اس انجام بد سے بچانے کےلیے اپنی مغفرت و بخشش کو عام کرتے ہوئے دروازہ توبہ کھولنے کا اعلان کیا کہ جو کوئی توبہ کی راہ کو اختیار کرے گا تو وہ اسے ایسے معاف کرے گا گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیںبلکہ اس کو درجہ محبوبیت میں رکھے گا ۔


حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ لَزِمَ الْاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ ﷲُ لَہٗ مِنْ ضِيْقٍ مَخْرَجًا وَمِنْ کُلِّ ھَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَہٗ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۔

ترجمہ : جو شخص پابندی کے ساتھ استغفار کرتا ہے ، ﷲ تعالیٰ اس کےلیے ہر غم سے نجات اور ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کے وہم و خیال میں بھی نہ ہو ۔ (ابودائود، السنن، کتاب الصلاۃ، باب فی الاستغفار، 2/85، رقم 1518،چشتی)


نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَا اَصْبَحْتُ غَدَاةً قَطُّ إِلَّا اسْتَغْفَرْتُ ﷲَ فِيْهَا مِائَةَ مَرَّةٍ ۔

ترجمہ : کوئی صبح طلوع نہیں ہوتی مگر میں اس میں سو مرتبہ اِستغفار کرتا ہوں ۔(ابن ابی شيبة المصنف 7/ 172، رقم: 35075)


جب نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہونے کے باوجود اپنے ربّ کے حضور اس قدر عجز و نیاز اور گریہ و زاری فرمائیں، تو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ اور جب رحمت الٰہی کا سمندر طغیانی پہ ہو تو ہمیں بھی خلوص دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے کیوں کہ اس وقت رحمت الٰہی پکار پکار کر کہہ رہی ہوتی ہے : کوئی ہے بخشش مانگنے والا کہ اسے بخش دوں، کوئی ہے رزق کا طلب گار کہ میں اس کا دامن مراد بھردوں ۔


امام ابن ماجہ ’’السنن‘‘ میں حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہترین دعا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا يَا غَفُوْرُ ۔ ’’اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ۔ پس اے بخشنے والے! ہمیں بھی بخش دے ۔‘‘


یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ شبِ برات کی اس قدر فضیلت و اہمیت اور برکت وسعادت کے باوجود ہم یہ مقدس رات بھی توہمات اور فضول ہندوانہ رسومات کی نذر کر دیتے ہیں اور اس رات میں بھی افراط و تفریط کا شکار ہو کر اسے کھیل کود اور آتش بازی میں گزار دیتے ہیں۔ من حیث القوم آج ہم جس ذلت و رسوائی، بے حسی، بدامنی، خوف و دہشت گردی اور بے برکتی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اس سے چھٹکارے اور نجات کی فقط ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ کہ ساری قوم اجتماعی طور پر ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرے اور اس رات کو شبِ توبہ اور شبِ دعا کے طور پر منائے ۔


آئیے اس غفار ، رحمن اور رحیم ربّ کی بارگاہ میں ندامت کے آنسو بہائیں اور خلوصِ دل سے توبہ کریں، حسب توفیق تلاوت کلام پاک کریں ، رسول ﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں ہدیہ درود و سلام پیش کریں، نوافل ادا کریں خصوصاً صلاۃ التوبہ پڑھیں، اِستغفار اور دیگر مسنون اَذکار کے ساتھ دلوں کی زمین میں بوئی جانے والی فصل تیار کریں اور پھر اسے آنسوئوں کی نہروں سے سیراب کریں تاکہ رمضان المبارک میں معرفت و محبت الٰہی کی کھیتی اچھی طرح نشوونما پاکر تیار ہو سکے ۔


قیام اللیل اور روزوں کی کثرت ہی ہمارے دل کی زمین پر اُگی خود رَو جھاڑیوں کو جو پورا سال دنیاوی معاملات میں غرق رہنے کی وجہ سے حسد، بغض، لالچ، نفرت، تکبر، خودغرضی، ناشکری اور بے صبری کی شکل میں موجود رہتی ہیں ۔ اُکھاڑ سکے گی اور ہمارے دل کے اندر ماہ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں کو سمیٹنے کےلیے قبولیت اور انجذاب کا مادہ پیدا ہو گا ۔


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کی یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ فرمایئے ۔ ارشاد ہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں ۔ وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں ، وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اور رات میں لوگوں کے (سال بھر کے) اعمال اٹھا لیے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتا ہے ۔ (مشکوٰۃ شریف، جلد اول صفحہ 277،چشتی)


اِس شب میں اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کی مغفرت کردیتے ہیں ، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ اِرشاد نقل فرماتی ہیں کہ بے شک اللہ شعبان کے پندہویں شب میں آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) نزول فرماتے ہیں اورقبیلہ ”کلب“ کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ۔(ترمذی:739)

قبیلہ” بنو کلب “ عرب ایک قبیلہ جو بکریاں کثرت سے رکھنے میں مشہور تھا، اور بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ مغفرت کرنے کے دو مطلب ذکر کیے گئے ہیں :

(پہلا مطلب یہ ہے کہ اِس سے گناہ گار مراد ہیں ، یعنی اِس قدر کثیر گناہ گاروں کی مغفرت کی جاتی ہے کہ جن کی تعداد اُن بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔اور اِس کا حاصل یہ ہے کہ بے شمار لوگوں کی مغفرت ہوتی ہے ۔

دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اِس سے گناہ گار نہیں بلکہ گناہ مراد ہیں، یعنی اگر کسی کے گناہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ ہوںتو اللہ تعالٰ اپنے فضل سے معاف فرمادیتے ہیں ۔


یہ رات دعاؤں کی قبولیت والی رات ہے ، اس میں اللہ تعالیٰ سے مانگنے والا محروم نہیں ہوتا ، بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے صدا لگائی جاتی ہے کہ کوئی مجھ سے مانگے میں اُس کی مانگ پوری کروں ، جیسا کہ حدیث میں آتاہے، حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں : جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اُس کی رات میں قیام (عبادت)کرواور اُس کے دن میں روزہ رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ اِس رات میں غروبِ شمس سے ہی آسمانِ دنیا میں (اپنی شان کے مطابق)نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں : کیا کوئی مجھ سے مغفرت چاہنے والا نہیں کہ میں اُس کی مغفرت کروں ؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا نہیں کہ میں اُسے رزق عطاء کروں ؟ کیا کوئی مصیبت و پریشانی میں مبتلاء شخص نہیں کہ میں اُسے عافیت عطاء کروں؟کیا فلاں اور فلاں شخص نہیں ……الخ یہاں تک کہ (اِسی طرح صدا لگتے لگتے)صبح صادق طلوع ہوجاتی ہے۔إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ۔(ابن ماجہ : 1388)

اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ عطاء اور بخشش کی صدا روزانہ رات کو لگتی ہے اوربعض روایات میں رات کے ایک تہائی حصے کے گزرجانے کے بعد صبح تک لگتی ہے اور بعض روایات میں رات کے آخری پہر یعنی آخری تہائی حصہ میں لگائی جاتی ہے جیسا کہ ترمذی شریف:446) کی روایت میں اِس کا ذکر ہے ،لیکن اِس شبِ براءت کی عظمت کا کیا کہنا !! کہ اِس رات میں شروع ہی سے یعنی آفتاب کے غروب ہونے سے لے کر صبح صادق تک یہ صدا لگائی جاتی ہے ، لہٰذا اِن قبولیت کی گھڑیوں میں غفلت اختیار کرنا بڑی نادانی اور حماقت کی بات ہے ، اِس لئے اِس رات میں فضولیات اور لایعنی کاموں میں لگنے یا خواب غفلت میں سوئے پڑے رہنےسے بچنا چاہیئے اور اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کرتے ہوئے شوق و ذوق کا اِظہار کرنا چاہیئے ۔

واضح رہے کہ دعاؤں کی قبولیت والی اِس رات میں دعاؤں کی قبولیت کو حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ دعاء کی قبولیت کی شرائط کا اچھی طرح لحاظ رکھیں ورنہ دعاء قبول نہیں ہوگی ۔


دعاء کی قبولیت کی چندبنیادیں شرطیں ہیں ، دعاء مانگتے ہوئے ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے : ⬇


پہلی شرط : حرام سے اجتناب :

حدیث کے مطابق جس کا کھانا پینااور لِباس وغیرہ حرام کا ہو اُس کی دعاء قبول نہیں ہوتی ، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ایک شخص کا تذکرہ کیا جوطویل سفر کرتاہے اور اُس کی وجہ سے وہ پراگندہ اور غبار آلود ہوجاتا ہے اور اِس پراگندگی کی حالت میں اپنے ہاتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے پھیلاکر کہتا ہے : اے میرے پر وردگار ! اےمیرے پروردگار! حالآنکہ اُس کا کھانا ، اُس کا پینا ، اُس کا لِباس سب حرام ہو اور اُس کی پرورش حرام مال سے کی گئی ہو تو اُس کی دعاء کیسے قبول کی جاسکتی ہے ۔ وَذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ، يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ۔(ترمذی:2989،چشتی)


دوسری شرط : توجہ سے دعاء کرنا : یعنی دل کی توجہ سے اللہ تعالیٰ سے دعاء کرنا ، ایسا نہ ہو کہ غفلت میں صرف رٹے رٹائے دعائیہ کلمات زبان سے اداء کیے جائیں اور دل حاضر نہ ہو ، کیونکہ حدیث کے مطابق ایسی غفلت کے ساتھ مانگی جانے والی دعاء قابلِ قبول نہیں ہوتی ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعاء مانگا کرواور جان لو!کہ اللہ تعالیٰ غفلت اور لاپرواہی میں پڑے ہوئے دل کے ساتھ دعاء قبول نہیں فرماتے۔ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ ۔(ترمذی:3479)


تیسری شرط : ایک دوسرے کو امر بالمعروف اور نہی عن المُنکَر کرتے رہنا : نیکی کا حکم دینا اور گناہوں سے روکنا اِسلام کے اہم فرائض اور ذمّہ داریوں میں سے ہے ، جب لوگ اِس میں غفلت بَرتنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب مختلف شکلوں میں نازل ہوتا ہے جس کی لپیٹ میں صرف بُرے لوگ ہی نہیں بلکہ اُن کو نہ روکنے والے بھی آجاتے ہیں ، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اِرشاد فرماتے ہیں : ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾(الأنفال:25) اور ڈرو اُس وَبال سے جو تم میں سے صرف اُن لوگوں پر نہیں پڑے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کاعذاب بڑا سخت ہے۔

اور جب اِس امر بالمعروف اور نہی عن المُنکَر کو ترک کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب آتا ہے تو دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں ، حضرت حُذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں : قسم اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم لوگ ضرور نیکی کا حکم دیتے اور بُرائیوں سے منع کرتے رہو ، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی جانب سے ایک ایسا عذاب بھیجیں گے کہ تم اُس سے دعاء کروگے لیکن تمہاری دعاء قبول نہیں کیا جائے گی ۔ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ المُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ۔(ترمذی:2169) ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ لوگ جب امر بالمعروف اور نہی عن المُنکر کو ترک کردیتے ہیں تو دعائیں قبول ہونا بند ہوجاتی ہیں ۔


اِس رات کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑی کثرت سے جہنم سے لوگوں کو آزاد کرتے ہیں ، چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ شعبان کی پندرہویں شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یہ شعبان کی پندرہویں شب ہےاور اِس رات میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر جہنّم سے لوگوں کو آزاد کیا جاتا ہے ۔هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلَّهِ فِيهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُورِ غَنَمِ كَلْبٍ۔(شعب الایمان :3556)


اِس رات کی ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ اِس میں سال بھر کے فیصلے کیے جاتے ہیں کہ کِس نے پیدا ہونا اور کِس نے مَرنا ہے ،کِس کو کتنا رزق دیا جائے گا اور کِس کے ساتھ کیا کچھ پیش آئے گا ، سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تم جانتی ہو کہ اِس پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اِرشاد فرمایا : بنی آدام میں سے ہر وہ شخص جو اِس سال پیدا ہونے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھ دیا جاتا ہے ، اور بنی آدم میں سے ہر وہ شخص جو اِس سال مَرنے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھ دیا جاتا ہے ، اور اس رات میں بندوں کے اعمال اُٹھالیے جاتے ہیں اور اِسی رات میں بندوں کے رزق اُترتے ہیں ۔فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ۔(مشکوۃ المصابیح:1305)

ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ اِرشاد منقول ہے :ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک عمریں لکھی جاتی ہیں ، یہاں تک کہ کوئی شخص نکاح کرتا ہے اور اُس کی اولاد بھی ہوتی ہے لیکن(اُسےمعلوم تک نہیں ہوتا کہ ) اُس کا نام مُردوں میں نکل چکا ہوتا ہے۔تُقْطَعُ الْآجَالُ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى شَعْبَانَ،حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْكِحُ، وَيُولَدُ لَهُ وَقَدْ خَرَجَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى ۔ (فضائل رمضان لابن ابی الدنیا:30،چشتی)۔(شعب الایمان :3558)

لہٰذا فیصلے کی اِس رات میں غفلت میں پڑے رہنا کوئی دانشمندی نہیں ، عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے اور اپنے لیے ، اپنے گھروالوں کےلیے بلکہ ساری اُمّت کےلیے اچھے فیصلوں کی خوب دعائیں کی جائیں ۔ (مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 2 March 2022

شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ دوم

 شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ دوم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شعبان کا چاند دیکھنے کے بعد قرآن کریم کی تلاوت میں لگ جاتے ، اپنے مالوں کی زکوۃ نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین لوگ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے پر قادر ہوسکیں ، حکمران قیدیوں کو بلاکر اگر حد کے نفاذ کا مسئلہ ہوتا تو حد نافذ کر دیتے ورنہ اُن کو آزاد کر دیتے ، تاجر حضرات اپنے حساب و کتاب اور لین کی ادائیگی سے فارغ ہونے کی کوشش میں لگ جاتے تاکہ ہلالِ رمضان دیکھ کر اپنے آپ کو عبادت کےلیے وقف کرسکیں ۔ (غنیۃ الطالبین :1/341)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اِس مہینے کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے ، چنانچہ فرمایا : شعبان میرا مہینہ اور رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ شَعْبَانُ شَهْرِيْ وَرَمَضَانُ شَهْرُ اللهِ ۔ (کنز العمّال :35172،چشتی)

اِس کے بابرکت ہونے کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ دعاء ہی کافی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعاء مانگی ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء پڑھا کرتے تھے : اَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ۔
ترجمہ : اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرمااور اور ہمیں (بخیر و عافیت) رمضان المبارک تک پہنچا دیجئے ۔(شعب الایمان :3534)
شعبان گناہوں سے پاک ہونے کا مہینہ ہے : اِرشادِ نبوی ہے : رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کا اور شعبان کا مہینہ میرا مہینہ ہے ، شعبان کا مہینہ پاک کرنے والا اور رمضان کا مہینہ گناہوں کو مٹانے والا ہے ۔ شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِيْ ، وَشَعْبَانُ الْمُطَهِّر ، وَ رَمَضَانُ الْمُكَفِّرُ ۔ (أخرجہ ابن عساکر فی التاریخ:72/155)

شعبان کے مہینے میں روزہ دار کے لیے خیرِ کثیرہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : شعبان کو ”شعبان“ اِس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں روزہ رکھنے والےکے لئے بہت سی خیریں اور بھلائیاں (شاخوں کی طرح) پھوٹتی ہیں ، یہاں تک کہ وہ جنت میں جاپہنچتا ہے ۔ إِنَّمَا سُمِّيَ شَعْبَانُ لِأَنَّه يَتَشَعَّبُ فِيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ لِلصَّائِمِ فِيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ۔( کنز العمّال :35173،چشتی)

شعبان کے مہینے میں اعمال کی پیشی : اِس مہینے میں اعمال کی پیشی ہوتی ہے ، چنانچہ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اِرشاد فرماتے ہیں: رجب اور رمضان کے درمیان جو شعبان کا مہینہ ہے ، (عام طور پر) لوگ اُس سے غفلت کا شکار ہ ہوتے ہیں ، حالآنکہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ۔ شَعْبَانُ بَيْنَ رَجَبٍ وَشَهْرِ رَمَضَانَ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، يُرْفَعُ فِيهِ أَعْمَالُ الْعِبَاد ۔ (شعب الایمان :3540)

ماہِ شعبان کے اعمال اس مہینے سے متعلق دو طرح کے کام ہیں :

(1) قابلِ عمل یعنی کرنے کے کام ۔

(2) قابلِ ترک یعنی چھوڑنے کے کام ۔

قابلِ عمل کام : یعنی وہ کام جن کو اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور وہ سنت سے ثابت ہیں ۔ ایسے کام درج ذیل ہیں : ⬇

شعبان کے مہینے کا چاند دیکھنے کا اہتمام : اِسلامی مہینوں کی حفاظت اور اُن کی صحیح تاریخوں کا یاد رکھنا فرض کفایہ ہے ، کیونکہ اُن پر بہت سے شرعی احکام موقوف ہیں ، چنانچہ حج کا صحیح تاریخوں میں اداء کرنا ، رمضان المبارک کے روزوں اور زکوۃ کی ادائیگی اور اس کے علاوہ کئی شرعی امور قمری تاریخوں پر موقوف ہیں ، لہٰذا مسلمانوں کو قمری مہینوں کو یاد رکھنا چاہیئے اور چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیئے ، اور شعبان کے بعد چونکہ رمضان المبارک کا عظیم مہینہ آرہا ہوتا ہے اِس لئے ہلالِ شعبان کو اور بھی زیادہ اہتمام اور شوق سے دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے ، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شعبان کا چاند بڑے اہتمام سے دیکھا کرتے تھے، چنانچہ روایت میں آتا ہے،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہلالِ شعبان کی جتنی حفاظت کرتے تھے اتنی کسی اور مہینے کی نہ کرتے تھے۔كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ۔(دار قطنی:2149)

شعبان کے مہینے میں برکت کی دعاء : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء پڑھا کرتے تھے : ”اَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ“ اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرمااور اور ہمیں (بخیر و عافیت) رمضان المبارک تک پہنچادیجئے ۔ (شعب الایمان :3534،چشتی)

شعبان کے مہینے میں روزوں کی کثرت : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روزہ رکھنے کے لئے تمام مہینوں میں شعبان کا مہینہ سب سے زیادہ محبوب تھا، آپ یہ چاہتے تھے کہ روزہ رکھتے رکھتے اُسے رمضان کے ساتھ ملادیں۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ:كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شَعْبَانُ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ۔(سنن ابوداؤد:2431)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ مَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ۔(مسلم:1156)۔(بخاری :1969)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوائے چند قلیل ایام کے شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے ۔ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا۔(مسلم:1156،چشتی)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے۔لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ۔(مسلم:1156)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ رمضان المبارک کے بعد کون سا روزہ افضل ہے ؟ آپ نے اِرشاد فرمایا : وہ روزہ جو رمضان کی تعظیم میں شعبان کے مہینے میں رکھا جائے۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ: «شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ»۔(ترمذی:663)
ایک حدیث میں رمضان کے بعد محرم کے روزے کو سب سے افضل کہا گیا ہے ۔ (ترمذی:438)
دونوں میں کوئی تعارض نہیں ، اِس لیے کہ رمضان کے بعد مرتبہ کے اعتبار سے مطلقاً دیکھا جائے تو حدیث کے مطابق محرّم ہی کا روزہ افضل ہے ، لیکن جب اِستقبالِ رمضان کی تعظیم کا اعتبار کیا جائے تو شعبان سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔ اور رمضان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے آنے سے قبل ہی روزہ رکھ کر نفس کو بھوک و پیاس برداشت کرنے کا عادی بنایا جائے تاکہ اچانک سے ماہِ رمضان شروع ہوجانے سے طبیعت پر بوجھ نہ ہو اور کوئی بات خلافِ ادب سرزد نہ ہو ۔

شعبان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت روزے رکھنے کی وجہ : اِس کی وجہ یہ تھی ، جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ اِس مہینے میں اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کی پیشی ہوتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ روزے کی حالت میں اعمال کی پیشی ہو۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان کے مہینے میں مَیں آپ کو اتنے روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں جتنا کہ کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا ، اِس کی کیا وجہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : رجب اور رمضان کے درمیان جو شعبان کا مہینہ ہے ،(عام طور پر) لوگ اُس سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں ، حالآنکہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کےحضور پیش کیے جاتے ہیں ، تو مَیں یہ چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اِس حالت میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزے سے ہوں۔عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرَاكَ تَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا لَا أَرَاكَ تَصُومُ فِي شَهْرٍ مثل مَا تَصُومُ فِيهِ، قَالَ:أَيُّ شَهْرٍ؟، قُلْتُ: شَعْبَانُ، قَالَ:شَعْبَانُ بَيْنَ رَجَبٍ وَشُهِرِ رَمَضَانَ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، يَرْفَعُ فِيهِ أَعْمَالَ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لَا يُرْفَعَ عَمَلِي إِلَّا وَأَنَا صَائِمٌ ۔ (شعب الایمان :3540،چشتی)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے خطبہ دیتے اور فرماتے : تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے پس تم اُس کے لئے تیاری کرواور اُس میں اپنی نیتوں کو درست کرلو ۔كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ رَمَضَانَ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: أَتَاكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ فَشَمِّرُوْا لَهُ وَأَحْسِنُوْا نِيَّاتِكُمْ فِيْهِ۔(کنز العمال عن الدّیلمی: 24269)
ہر چیز کی تیاری اُس کے آنے سے پہلے ہوتی ہے ، مثلاً مہمان کی آمد ہو تو اُس کے آنے بعد نہیں ، آنے سے پہلے تیاری ہوتی ہے ، اِسی طرح رمضان بھی مؤمن کے لئے ایک بہت ہی اہم اور معزز مہمان ہے ، اُس کی قدر دانی کے لئے بھی پہلے سے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہونا چاہیے ۔
رمضان المبارک کی تیاری میں دوچیزیں ہیں : (1) دنیاوی اعتبار سے ۔ (2) دینی اعتبار سے ۔
دنیاوی اعتبار سے : اِس طرح کہ دنیاوی مشاغل و مصروفیات سے اپنے آپ کو جس قدر بھی فارغ کرسکتے ہوں کرلیں ، تاکہ رمضان المبارک کا مہینہ مکمل یکسوئی کے ساتھ عبادت اور رجوع الی اللہ میں گزارا جاسکے۔اِس کےلیے چند اہم تجاویز ذکر کی جارہی ہیں ، اِن کی مدد سے ان شاء اللہ اپنے آپ کو رمضان کے لئے فارغ کیا جا سکتا ہے : عید کی تمام شاپنگ شعبان المعظم میں ہی کرکے فارغ ہوجائیں ، کیونکہ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو شاپنگ مال اور مارکیٹس کے نذر کرنا ، بالخصوص جبکہ اُس کی وجہ سے روزہ ،نمازیں اور تراویح کی نماز متاثر ہوتی ہو یہ رمضان جیسے عظیم اور بابرکت کی بڑی ناقدری ہے ، جس میں عوام و خواص بہت سے لوگ مبتلاء نظر آتے ہیں ۔
راشن اور گھر کا دیگر سودا سلف جو روز مرّہ کے معمولات میں خریدا جاتا ہے ، وہ رمضان المبارک ہی میں جہاں تک ممکن ہو ایک ساتھ ہی خرید کر فارغ ہوجائیں تاکہ رمضان المبارک میں یکسوئی حاصل ہوسکے ۔
جو کام رمضان المبارک میں موقوف کیے جاسکتے ہوں اُنہیں موقوف کردیجئے ۔ہم اگر اپنے کاموں کا جائزہ لیں تو بہت سے ایسے کام نظر آئیں گے جنہیں اگر ایک مہینے تک ہم نہ کریں تو کوئی حرج لازم نہیں آئے گا ، مثلاً اخبار بینی ، دوستوں کے ساتھ گپ شپ ، ٹی وی دیکھنے اور انٹر نیٹ استعمال کرنے کی مصروفیت ، سیل فونز پر کی جانے والی بہت سی فضول اور لا یعنی مشغولیت، آؤٹنگ کے نام پر کی جانے والی پکنک اورتفریحات ، ویک اینڈ منانے کےلیے فوڈز پوائنٹ پر جانا ، یہ اور اِس جیسے اور بھی بہت سے ایسے کام ہیں جن میں بہت سے فضول اور لغو ہیں اور بہت سے گناہ کے زمرے میں آتے ہیں ، ان سب سے بچنا ضروری ہے اور رمضان المبارک میں ایسے کاموں سے اجتناب کرنااور بھی ضروری ہے ۔
سال بھر میں دفتر اور ملازمت سے ملنے والی ایسی چھٹیاں جن کو آپ کسی بھی استعمال کرسکتے ہوں اُن کو اِستعمال کرنے کے لئے رمضان المبارک کے مہینے سے بہتر کوئی وقت نہیں ، ایسی چھٹیوں کو رمضان میں استعمال کیجئے تاکہ خوب یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ صرف ایک کام یعنی عبادت اور رجوع الی اللہ کیا جا سکے ۔
دینی اعتبار سے : رمضان کی تیاری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شعبان المعظم کے مہینے میں ہی اپنے دن اور رات کے معمولات کو کچھ اِس طرح ترتیب دیجئے کہ فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کا بھی خوب اہتمام ہونا شروع ہوجائے،پانچوں فرض نمازوں کو جماعت کے ساتھ مسجد میں اداء کیجیے ، قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کریں ، نفلی نمازیں : اِشراق ، چاشت ، اوّابین اور تہجد وغیرہ کا اہتمام شروع کردیں اور خوب دعائیں مانگنے کی کوشش کریں ۔
یاد رکھیے ! دینی اور دنیاوی اعتبار سے رمضان کی تیاری کا مطلب شعبان میں ہی تیاری کرنا ہے کیو نکہ ہلالِ رمضان کے نکلنے کے بعد تیاری کرتے کرتے کافی وقت لگ جاتا ہے ، اور پھر اُن معمولات کی عادت بنتے بنتے بھی دیر لگتی ہےاور اِسی میں رمضان المبارک کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے ، اِس لیے جو بھی تیاری کرنی ہے وہ آمدِ رمضان سے قبل ہی کرکے فارغ ہوجائیں ۔ (مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل

 شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں ۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے ۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کےلیے کھلے رہتے ہیں ۔ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضاٶں میں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے ۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے ۔ ان خاص لمحوں ، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماہِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے ۔


اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب ، شعبان ، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے ۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا ۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں ، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں ۔ اسی لیے شعبان کو ’اَلْمُکَفِّر‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے ۔


حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لیے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کےلیے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ 141)(فضائل الایام والشہور صفحہ 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ)


شعبان المعظّم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے


(1) اس مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی ۔


(2) اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارک ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے ۔


(3) اسی مبارک مہینہ میں مسجد ضرار کو نذرِآتش کیاگیا ۔


(4) اسی مبارک مہینہ میں جھوٹامدعی نبوت مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا ۔


(5) اسی مبارک مہینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔


(6) اسی مبارک مہینہ میں قرآنِ مجید کے نزول کا فیصلہ ہوا ۔


(7) اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا ۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا ۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ ﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے ۔ (عجائب المخلوقات صفحہ نمبر 47،چشتی)(فضائل الایام والشہور ، صفحہ نمبر 405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ (الجامع الصغیر حدیث 4889 صفحہ 301)


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں ۔


’غنیۃ الطالبین‘ میں ہے : لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے : {ش، ع، ب، الف اور ن} ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اُلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے ۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے ، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے ۔


آیت درود و سلام کا شانِ نزول

امام قسطلانی نے ’المواہب اللدنیہ‘ میں ایک لطیف بات کہی ہے فرماتے ہیں : إِنَّ شَهْرَ شَعْبَان شَهْرُ الصَّلَاةِ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم، لِاَنَّ آيَةَ الصَّلَاةِ يَعْنِي: اِنَّ اﷲَ وَمَلٰئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ۔ (الأحزاب، 33/ 56) نَزَلَتْ فِيْهِ ۔

ترجمہ : بے شک شعبان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر درود و سلام بھیجنے کا مہینہ بھی ہے ، اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت نازل ہوئی ۔ (قسطلانی المواهب اللدنية 2/ 650،چشتی)


یہ آیت ماہِ شعبان میں نازل ہوئی تو شعبان کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے درود و سلام کے ساتھ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش و مغفرت اور توبہ کے ساتھ بھی ہے لہٰذا اس ماہ اور شب برات کی عبادت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ سے بھی قربت نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی قرب نصیب ہوتا ہے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیا اور اس ماہ کی حرمت و تعظیم کو اپنی حرمت و تعظیم قرار دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے اور دیگر اَعمال صالحہ بجالاتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ ۔

ترجمہ : ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے ، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے ۔ (کنزالعمال، 8/ 217، رقم: 23685،چشتی)


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماہِ رجب کی آمد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یوں فرمایا کرتے : اَللّٰهُمَّ، بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبٍ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ۔

ترجمہ : اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں نازل فرما اور رمضان ہمیں نصیب فرما ۔ (المعجم الاوسط، رقم 3939)


اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ماہِ شعبان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کثرت سے روزے رکھتے ۔ کَانَ اَحَبُّ الشُّهُورِ إِلٰی رَسُوْلِ ﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم اَنْ يَصُوْمَهُ شَعْبَانَ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 6/ 188، رقم: 25589،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے افضل روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : صَوْمُ شَعْبَانَ تَعْظِيْمًا لِرَمَضَانَ ۔

ترجمہ : شعبان کے روزے رمضان کی تعظیم و قدر کیلیے ہیں ۔(بيهقی، السنن الکبری، 4/ 305، رقم: 8300)


ماہِ شعبان کی اہمیت و فضیلت کا اس امر سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مہینے میں بندوں کے اَعمال ﷲ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ۔


حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں ۔ (اس کی کیا وجہ ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ذٰلِکَ شَهْرٌ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيْهِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِيْنَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ ۔

ترجمہ : یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں ۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں اَعمال رب العالمین کے حضور لے جائے جاتے ہیں ۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں ۔ (نسائی، السنن، کتاب الصيام، 4/ 201، رقم: 2357،چشتی)


اس حدیث مبارکہ میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس ماہ کی فضیلت کا ایک راز یہ بتا دیا کہ شعبان میں ہمارے اَعمال ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ۔ جو شخص اس مہینے میں جتنے زیادہ اعمال صالحہ بجا لاتا ہے، زیادہ عبادات کرتا ہے ، روزے رکھتا ہے ، صدقات و خیرات کرتا ہے ۔ اسے اتنی ہی ﷲ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت نصیب ہوتی ہے اور اسی قدر بارگاہِ الٰہی سے قرب اور مقبولیت نصیب ہوتی ہے ۔ (مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 1 March 2022

کاتبِ وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حصّہ دوم

 کاتبِ وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حصّہ دوم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کو جلیل المرتبت محدثین اور علماء ربانیین و اولیاء کاملین علیہم الرحمہ نے عظیم المرتبت صحابی اور کاتب وحی لکھا ہے جیسا کہ حصّہ اوّل میں ہم لکھ چکے ہیں ۔ مزید حوالہ جات درج ذیل ہیں : ⬇

امام بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمة الله عليہ (متوفٰی ۸۵۵ھ) ۔ (عمدة القارى شرح صحيح البخاري ، کتاب العلم ، تحت " باب من یرد الله به خيرا یفقهه فى الدين ، جلد 2 ص 73 ، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢١ه‍/٢٠٠١ء)

امام تقى الدين محمد بن احمد الحسنى الفاسى المكى رحمة الله علیہ (متوفٰی ۸٣٤ه‍) ۔ (العقد الثمين في تاريخ البلد الامين ، لامام تقى الدين محمد بن احمد الحسنى الفاسى المكى ، الباب الأربعون ، تحت " فصل في كتابه ﷺ ، جلد 1 ص 417 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤١٩ه‍/١٩٩٨ء)

امام ابو الحسن علی بن بسام الشنترینی رحمة الله عليہ (متوفٰى ٥٤٢ه‍) ۔ (الذخیرة في محاسن أهل الجزيرة ، لامام أبى الحسن علي بن بسام الشنترينى ، تحت " فصل في ذكر الوزير الكاتب أبى حفص بن برد … ، جلد 1 ص 110 ، مطبوعه دار الثقافة ، بيروت ، لبنان ، طبع اول ١٤١٧ه‍/١٩٩٧ء)

امام ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی رحمة الله عليہ (متوفٰى ٥٩٧ه‍) ۔ (كشف المشكل من حديث الصحيحين ، لامام ابی الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی ، کشف المشکل من مسند زید بن ثابت ، جلد 2 ص 96 ، رقم : 42 ، مطبوعه دار الوطن ، طبع اول ١٤١٨ه‍/١٩٩٧ء)

امام ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی رحمة الله عليہ (متوفٰى ٥٩٧ه‍) ۔ (تلقيح فهوم أهل الاثر ، لامام ابی الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی ، تحت " تسمیة الكتاب ، ص 333 ، مطبوعه شرکة دار الارقم بن ابي الارقم ، بيروت ، طبع اول ١٤۱۸ھ/۱۹۹۷ء)

امام ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی رحمة الله عليہ (متوفٰى ٥٩٧ه‍) ۔ (المنتظم فی تاريخ الامم و الملوك ، لامام ابی الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی ، تحت " باب ذکر خلافة معاوية ، جلد 5 ص 185 ، مطبوعة دار الکتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤١٢ه‍/١٩٩٢ء )

امام ابو عمر خليفہ بن خياط بن ابی ہیبرہ العصفری رحمة الله عليہ (متوفٰى ٢٤٠ه‍) ۔ (تاریخ خلیفة بن خياط ، تحت " تسمية من كتب له صلى الله عليه وسلم ، ص 99 ، مطبوعه دار الطيبة للنشر والتوزيع الرياض ، طبع ثانى ١٤٠٥ه‍/١٩٨٥ء)

امام ابو محمد علی بن احمد بن سعید ابن حزم الاندلسی (متوفٰی ٤۵٦ھ) ۔ (جوامع السيرة النبوية ، لامام ابى علي بن احمد بن سعيد ابن حزم الاندلسي ، تحت " کتابه ﷺ ، ص 22 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٤ه‍/٢٠٠٣ء)

امام محب الدین احمد بن عبد الله بن ابی بکر الطبری المکی رحمة الله عليہ (متوفٰی٦٩٤ھ) ۔ (خلاصة سير سيد البشر ، لامام محب الدین احمد بن عبد الله بن ابی بکر الطبری المکی ، الفصل الثامن عشر فی کتابه ﷺ ، ص 142 تا 143 ، مطبوعه دار المودة و النشر للتوزيع ، طبع اول ١٤٣٢ه‍/٢٠١١ء)

امام ابو الفداء اسماعیل بن کثیر رحمة الله عليہ (متوفٰی ۷۷٤ه‍) ۔(الفصول فی اختصار سیرة الرسول ﷺ ، لامام ابى الفداء اسماعيل بن كثير ، الجزء الثاني احواله و شمائله و خصائصه ، تحت فصل : كتاب الوحي ، ص 272 تا 274 ، مطبوعة دار النوادر الكويت ، طبع خامس ١٤٣١ه‍/٢٠١٠ء)

امام احمد بن على بن حجر العسقلانى رحمة الله علیہ (متوفٰی ٨٥٢ه‍) ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة ، لامام أحمد بن علي بن حجر العسقلاني ، حرف المیم ، تحت " معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، جلد 6 ص 120 ، رقم : 8087 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع أول ١٤١٥ه‍/١٩٩٥ء)

امام جمال الدين يوسف بن حسن بن عبد الهادى المقدسى (ابن المبرد) رحمة الله عليہ (متوفٰی ٩٠٩ه‍) ۔ (الشجرة النبوية فى نسب خير البرية ﷺ ، لامام جمال الدين يوسف بن حسن بن عبد الهادى المقدسى ( ابن المبرد ) ، تحت " كتاب النبي ﷺ ، ص 151 تا 152 ، مطبوعة دار الكلم الطيب ، بيروت ، طبع اول ١٩٩٧ء )

امام زین الدین عبد الرحیم بن الحسین العراقی رحمة الله علیہ (متوفٰی۸۰٦ه‍) ۔ (الفية السيرة النبوية المسماة نظم الدرر السنية فى السيرة الزكية ، لامام زين الدين عبد الرحيم بن الحسين العراقى ، ذكر كتابه ، ص 123 ، مطبوعة دار المنهاج للنشر و التوضیع ، طبع اول ١٤٢٦ه‍/٢٠٠۵ء)

شیخ اکبر امام ابو بکر محی الدین محمد بن علی المعروف ابن عربی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٦٣٨ه‍) ۔ (الفتوحات المكية ، لامام ابی بکر محی الدین محمد بن علی المعروف ابن عربی ، الباب التاسع و الستون فى معرفة اسرار الصلاة و عمومها ، جلد 2 ص 207 ، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٠ه‍/١٩٩٩ء)

امام قوام السنہ ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن فضل التمیمی الاصبه‍اني رحمة الله علیہ (متوفٰی ٥٣٥ه‍) ۔ (الحجة فى بيان المحجة و شرح عقیدة اه‍ل السنة ، لامام اسماعيل ابن محمد بن الفضل التميمي الاصبه‍اني ، جلد 2 ص 527 ، مطبوعه دار الرایة للنشر و التوزیع ، طبع اول ١٤١١ه‍ /١٩٩٠ء)

امام ابو فتوح محمد بن محمد بن علی الطائی الہمذانی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۵۵۵ھ) ۔ (الاربعين فى ارشاد السائرين الى منازل المتقين ، لامام ابى الفتوح محمد بن محمد بن على الطائى الهمذانى ، تحت " الحديث التاسع و العشرون ، ص 149 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، )

امام ابو حفص عمر بن علی بن احمد الانصاری المعروف ابن ملقن رحمة الله علیہ (متوفی ٨٠٤ھ) ۔ (التوضیح لشرح الجامع الصحیح ، لامام ابی حفص عمر بن علی بن احمد الانصاری المعروف ابن ملقن ، کتاب العلم ، تحت الباب " من یرد الله به خیرا یفقهه فى الدين ، جلد 3 ص 343 ، مطبوعه وزارة الاوقاف والشؤون الاسلامية دولة القطر ، طبع اول ١٤٢٩ه‍/٢٠٠٨ء)

مولانا محمد الہی بخش قادری ضیائی رحمة الله عليہ لاہور ۔ (خطبات قادریہ ضیائیہ ، مولانا محمد الہی بخش قادری ضیائی ، تحت " محرم الحرام ، جلد 1 ص 64 ، ناشر : انجمن رضائے رسول الہی پاکستان ، طبع ١٤٢١ه‍/٢٠٠٠ء)

امام ابو الحسن علی بن بسام الشنترینی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۵٤٢ھ) ۔ (الذخیرة في محاسن أهل الجزيرة ، لامام أبى الحسن علي بن بسام الشنترينى ، تحت " فصل في ذكر الوزير الكاتب أبى حفص بن برد … ، جلد 1 ص 110 ، مطبوعه دار الثقافة ، بيروت ، لبنان ، ١٤١٧ه‍/١٩٩٧ء)

مفتی محمد خلیل خاں برکاتی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤٠۵ھ) ۔ (العقیدة الحسنة المعروف بہ عقائد الاسلام ، شاہ ولی الله محدث دہلوی ، شارح : مفتی محمد خلیل خاں برکاتی ، تحت " مشاجرات صحابہ ، ص 292 ، مطبوعه فرید بک سٹال لاھور،چشتی)

امام ابو اسحاق ابراھیم بن موسی الشاطبی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۷۹۰ھ) ۔ (الاعتصام ، لامام ابی اسحاق ابراھیم بن موسی الشاطبی ، الباب الثالث : فی ان ذم البدع و المحدثات … ، تحت " کتاب الوحي ، جلد 1 ص 318 تا 319 ، مطبوعه دار ابن الجوزي ، طبع اول ١٤٢٩ه‍/٢٠٠٨ء)

امام ابو طاھر حسین بن منصور بن محمد بن يعقوب ۔ (تاریخ مدینة دمشق ، لابن عساکر ، تحت " معاوية بن صخر أبي سفيان ، جلد 59 ، ص 212 ، مطبوعه دار الفكر ، طبع اول ١٤١٨ه‍/١٩٩٧ء)

امام عز الدین محمد ابن جماعة رحمة الله علیہ (متوفٰی ۸۱۹ھ) ۔
(الغرر و الدرر فی سیرة خير البشر ، لامام عز الدین جماعة ، تحت : کتابه ﷺ ، ص 77 تا 78 رقم : 32 ، مطبوعه دار النوادر ، طبع اول ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٧ء)

علامه پیر سید ظہور شاہ قادری رحمة الله علیہ (متوفٰی١٩٥٣ء) ۔
(نور ھدایت ، علامه پیر سید ظہور شاہ قادری ، ص 51 ، طبع قدیم ۱۳٤٨ه‍)

امام ابو عبد الله عبید الله بن محمد ابن بطه العكبری الحنبلى رحمة الله علیہ (متوفٰى٣٨٧ه‍) ۔
(الشرح و الإبانة على اصول السنة و الدیانة ، لامام ابی عبد الله عبید الله بن محمد ابن بطه العكبري الحنبلي ، تحت " فضائل الصحابة " ، معاوية بن ابی سفیان رضی الله عنهما ، ص 300 ، مطبوعه مکتبة العلوم و الحكم ، طبع اول ١٤٢٣ه‍/٢٠٠٢ء)

علامه مہر محمد خان ہمدم نقشبندی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٩٨٣ء) ۔ (شاہ زمن المعروف به شان حسن رضی الله عنہ ، مہر محمد خان ہمدم نقشبندی ، تحت فضائل امیر معاویہ رضی الله عنہ ، ص 47 تا 50 ، مطبوعه مکتبه ہمدم منڈی چھانگا مانگا تحصیل چونیاں ضلع لاھور ، طبع سوم ۱۹٦٢ء)

امام برهان الدين ابراهيم بن محمد بن كمال الدين المعروف ابن حمزه الحسينى رحمة الله عليہ (متوفٰی ١١٢٠ه‍) ۔ (البیان و التعریف فی أسباب الورود الحدیث الشریف ، لامام برهان الدين ابراهيم بن محمد بن كمال الدين الشهير بابن حمزة الحسيني ، جلد 1 ص 177 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت)

امام ابو بکر احمد بن حسین البیہقی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٤٥٨ه‍) ۔ (دلائل النبوة للبیھقی ، امام ابو بکر احمد بن حسین البیه‍قی ، تحت الباب : ما جآء فی دعائه ﷺ علی من اکل بشماله و دعائه علی من کان یختلج بوجه‍ه… الخ ، جلد 6 ص 242 تا 243 ، مطبوعه دار الکتب العلمیه بیروت ، طبع أول ١٤٠٥ه‍/١٩٨٥ء)

امام اسماعیل حقی بن مصطفى الحنفى الخلوتى البروسوى رحمة الله علیہ (متوفٰی ١١٢٧ه‍) ۔ (روح البیان في تفسير القرآن ، لامام اسماعیل حقی بن مصطفى الحنفي الخلوتي البروسوي ، تحت الآیه " وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡ …الآخر ، پارہ ۲ ، سورة البقره : ٨٩ ، جلد 1 ص 182 ، مطبوعه دار الكتب العلمية بیروت ، طبع رابع ١٤٣٩ه‍/٢٠١٨ء)

حضرت شمس الآئمہ محمد بن احمد بن أبي سهل السرخسی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٤٨٣ه‍) ۔
(المبسوط للسرخسی ، لامام محمد بن احمد السرخسی ، کتاب الاکراہ جلد 24 ص 47 ، مطبوعه دار المعرفة بيروت ، طبع أول١٤٠٩ه‍/١٩٨٩ء)

امام ابو محمد موفق الدین ابن قدامه المقدسی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٦٢٠ه‍) ۔ (لمعة الاعتقاد الھادی الی سبیل الرشاد ، لامام أبي محمد موفق الدین ابن قدامه المقدسی ، تحت الفصل : حقوق النبی ﷺ و اصحابه ، ص 155 ، رقم : 89 مطبوعه اضواء السلف ، طبع الثالث ۱٤١٥ھ/۱۹۹۵ء)

پیر محمد کرم شاہ الازھری (متوفٰی ١٤١٨ه‍) ۔ (ضیاء النبی ﷺ ، پیر محمد کرم شاہ الازھری ، تحت العنوان " صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم… ، جلد 5 ص 992 ، مطبوعه ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاھور ، طبع دوم ۱٤٢٠ھ)

مخدوم پیر سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٨٢٨ه‍) ۔ (لطائفِ اشرفی ، مترجم ، ملفوظاتِ مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمة الله علیه ، پروفیسر ایس-ایم لطیف الله ، تحت العنوان " آپ ﷺ کے لکھنے والوں کا ذکر ، لطیفہ ۵۲ ، جلد 3 ص 502 ، ناشر : نذرِ اشرف شیخ محمد ہاشم رضا اشرفی)

حافظ ابو عبد الله حسین بن ابراھیم بن حسين بن جعفر الجورقانی الھمذانی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٥٤٣ه‍) ۔ (الاباطیل و والمناکیر و الصحاح و المشاه‍ير ، لامام أبي عبد الله حسین بن ابراھیم الجوزقانی الھمذانی ، کتاب الفضائل ، تحت الباب خلافة معاوية رضي الله عنه ، ص 112 ، مطبوعه دار ابن حزم ، طبع اول ١٤٢٤ه‍/٢٠٠٤ء)

مولانا ابو الافضل پیر غلام دستگیر نامی بن حامد شاه رحمة الله علیہ (متوفٰی١٣٨١ه‍) ۔ (رساله اجاله نافعه حضرت امیر معاویه رضی الله عنه ، مولانا پیر غلام دستگیر نامی ، تحت عنوان حضرت معاویه رضی الله عنه کے ابتدائی حالات ، ص 30 ، مطبوعه مکتبه الفاروق سلطان پورہ روڑ لاھور،چشتی)

ابو البرکات سید احمد شاہ قادری محدث لاهورى رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٩٧٨ء) ۔ (رسائل و مناظرے ابو البرکات ، محمد نعیم الله خاں قادری ، تحت مناظرہ معین الدین پور ، ص 406 ، مطبوعه فیضان مدینہ پبلی کیشنز کامونکے،چشتی)

مفتی غلام سرور قادری رحمة الله علیہ ۔ (افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی الله عنه ، مفتی غلام سرور قادری ، تحت " فضائل حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه ، ص 124 تا 125 ، مطبوعه سنی فاؤنڈیشن UK ، طبع٢٠١٢ء)

مفتی سید شجاعت علی قادری صاحب رحمة الله علیہ ۔ (رجب کی فاتحہ جائز ہے ، مفتی سید شجاعت علی قادری ، صفحہ 17 ، مطبوعه جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان ، کراچی،چشتی)

علامه مفتی عبد المنان اعظمی قادرى بركاتى رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤٣٤ه‍) ۔ (فتاوی بحر العلوم ، مفتی عبد المنان اعظمی ، کتاب الشتی ، جلد 6 ، ص 430 ، مطبوعه شبیر برادرذ لاھور ، طبع ۱٤٣١ھ/۲۰۱۰ء)

علامه محمد عبد الرشید جھنگوی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٢٠١١ء) ۔
(رسائل فی فضال معاویہ ، تحت رسالہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں کیے گئے چند سوالات کے جوابات از علامه محمد عبد الرشید جھنگوی صفحہ 72 تا 73 ، مطبوعه دار الاسلام ، لاھور،چشتی)

علامه قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٣٦٥ه‍) ۔
(آفتاب ھدایت رد رفض و بدعت مع مناظراتِ ثلاثہ ، مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر ، تحت حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ، صفحہ 287 ، مطبوعه ادارہ تحفظ عقائدِ اہلسنت پاکستان)

قاضی غلام محمود ہزاروی رحمة الله عليہ ۔ (فضائل حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ، قاضی غلام محمود ہزاروی ، صفحہ 14 تا 19 ، مطبوعه مرکزی مجلس رضا ، لاھور ، طبع ١٤٣٨ه‍/٢٠١٦ء)

استاذ محترم علامه عطاء محمد چشتی بندیالوی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤١٩ه‍) ۔ (صراط الاعتزال مجتنباً عن الرفض و الاعتزال ٬ مولانا عطاء محمد چشتی بندیالوی صفحہ 64 ، مطبوعه استاد العلماء اکیڈمی خوشاب ، طبع اول ١٤٤١ه‍/٢٠٢٠ء،چشتی)

علامه سید دیدار علی شاہ الوری رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٣٥٤ه‍) ۔
(شان امیر معاویہ رضی الله عنہ و ممانعت تصویر جاندار ، مولانا ابو محمد دیدار علی شاہ الوری ، تحت حضرت ابو سفیان اور حضرت امیر معاویہ رضی الله تعالی عنہما کی شان میں بد زبانی سے بچیں ، صفحہ 33 تا 36 ، مطبوعه رضا اکیڈمی لاھور اشاعت ۱٤٤٥ھ/٢٠٠٥ء)

علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمة الله عليہ (متوفٰی ١٤٣٨ه‍) ۔
(فضائل صحابہ و اہل بیت سید شاہ تراب الحق قادری ، تحت امیر معاویہ رضی الله عنہ ، صفحہ 239 مطبوعه زاویہ پبلیشرز لاھور)

مفتی نظام الدین ملتانی قادری رحمة الله عليہ ۔ (جامع الفتاوی المعروف انوار شریعت ، مفتی نظام الدین ملتانی قادری ، جلد 2 حصہ چہار دھم ، صفحہ 309 ، مطبوعه سنی دار الاشاعت علویہ رضویہ فیصل آباد ، طبع ٢٠٠٧ء)

مفتی فیض احمد اویسی رحمة الله عليہ (متوفٰى ١٤٣١ه‍) ۔ (صرف العنان عن مطاعن معاوية بن ابی سفیان رضی الله تعالی عنه‍ما " یعنی امیر معاویہ پر اعتراضات کے جوابات ، مفتی محمد فیض احمد اویسی صفحہ 6 مطبوعه سیرانی کتب خانہ بہاولپور،چشتی)

امام ابو الفرج نور الدين علی بن ابراهيم بن احمد الحلبی الشافعى رحمة الله علیہ (متوفٰى١٠٤٤ه‍) ۔ (سیرت حلبیہ ، مترجم ، لامام أبي الفرج نور الدين علی بن إبراهيم بن أحمد الحلبی الشافعي ، جلد 5 ص 289 تا 290 ، مطبوعه دار الاشاعت ، کراچی)

امام عبد الله بن حجازى بن ابراهيم الشافعى الأزهرى رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٢٢٧ه‍) ۔ (فتح المبدي بشرح مختصر الزبیدي ، لامام عبد الله بن حجازى بن ابراهيم الشافعي ، تحت " كتاب العلم ، جلد 1 صفحہ 161 مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت)

مفتی عبد الواجد قادری رحمة الله عليہ ۔ (فتاوی یورپ ، مفتی عبد الواجد قادری ، تحت کتاب العقائد ، صفحہ 89 ، مسئلہ : 798 مطبوعه شبیر برادرذ لاھور طبع ٢٠٠٦ء،چشتی)

علامه عبد المصطفی اعظمی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤٠٦ه‍) ۔ (کرامات صحابہ ، علامه عبد المصطفی اعظمی ، تحت حضرت امیر معاویہ رضی الله تعالی عنہ ، ص 247 ، رقم : 53 ، مطبوعه مکتبة المدینه باب المدینه کراچی ، طبع اول ١٤٢٩ه‍/٢٠٠٨ء)

مولانا سید محمود احمد رضوی محدث لاھوری صاحب رحمة الله علیہ ۔ (شان صحابہ رضی الله عنہم ، سید محمود احمد رضوی ، ص 49 ، مطبوعه رضوان کتب خانہ گنج بخش روڑ لاھور،چشتی)

شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی قادری رحمة الله عليہ (متوفٰی ١٤٢١ه‍) ۔ (فتاوی شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی کتاب العقائد تحت عقائد متعلقہ صحابہ کرام جلد 2 صفحہ 33 مطبوعه مکتبه برکات المدینه کراچی،چشتی)

علامہ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن عمر ابن کثیر الدمشقی الشافعی (متوفٰی٧٧٤ه‍) ۔ (البداية و النهاية ، مترجم ، لامام عماد الدین أبي الفداء اسماعيل بن عمر ابن کثیر الدمشقي الشافعي ، تحت " فضل معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، جلد 11 صفحہ 146 ، مطبوعه هجر للطباعة و النشر و التوزيع ، طبع اول ١٤١٨ه‍/١٩٩٨ء)

فقیہہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤٢٢ه‍) ۔ (خطبات محرم ، مفتی جلال الدین احمد امجدی ، تحت حضرت امير معاویہ رضی الله عنہ صفحہ 275 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور طبع ٢٠٠٣ء)

امام شمس الدين ابو عبد الله محمد بن محمد بن احمد بن سيد الناس رحمة الله علیہ (متوفٰی ٧٣٤ه‍) ۔ (نور العيون في تلخيص سيرة الأمين المأمون ﷺ ، لامام شمس الدين أبي عبد الله محمد بن محمد بن أحمد بن سيد الناس ، تحت " كتابه ﷺ صفحہ 101 ، مطبوعة دار المنهاج للنشر و التوزيع ، طبع رابع ١٤٣١ه‍/٢٠١٠ء)

شارح بخاری علامه غلام رسول رضوی صاحب رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤٢٢ه‍) ۔ (تفہیم البخاری شرح صحیح بخاری ، علامه غلام رسول رضوی ، کتاب المناقب ، تحت الباب ذکر معاویہ رضی الله عنه جلد 5 صفحہ 736 تا 737 مطبوعه تفھیم البخاری پبلیکیشنز فیصل آباد)

مفسرِ قرآن حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفى گجراتی رحمۃ الله علیہ (متوفٰی ١٣٩١ه‍) ۔ (فتاویٰ نعیمیہ ، مفتی احمد یار خاں نعیمی ، فتویٰ : 32 ، صفحہ 41 ، مکتبہ اسلامیہ ارود بازار لاہور،چشتی)

حضرت پیر سید مہر علی شاہ گیلانی رحمة الله عليہ (متوفٰی ١٣٥٦ه‍) ۔ (سیرت نبویہ از افادات مہریہ ، افادات پیر سید مہر علی شاہ گیلانی رحمة الله علیہ ، مترجم مولانا قاری فیض احمد ، تحت " در اسامی نویسندگانِ آنحضرت ﷺ صفحہ 29 ، مطبوعة کتب خانہ درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف ، طبع دوم ١٤٣٠ه‍/٢٠٠٩ء)

امام حسين بن محمد بن حسن الديار بكرى رحمة الله علیہ (متوفٰی ٩٦٦ه‍) ۔ (تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس ، لامام حسين بن محمد بن الحسن الديار بكري ، الفصل الثاني من خاتمة في ذكر الخلفاء الراشدين و خلفاء بنى أمية و العباسيين ، تحت " ذكر خلافة الحسن بن علي رضي الله عنه ، جلد 3 ص 345 ، مطبوعة دار الکتب العلمية بيروت،چشتی)

محمد بن سعید الشوسی المرغتی المراکشی رحمة الله علیہ (متوفٰى ۱۰۸۹ھ) ۔ (مختصر السيرة النبوية لابن سيد الناس ، لامام محمد بن سعيد الشوسى المرغتى المراكشى تحت " كتابه ﷺ ، ص 37 تا 38 ، مطبوعة دار ابن حزم بيروت ، طبع اول ١٤٣٠ه‍/٢٠٠٩ء)

امام عبد العزيز بن محمد بن ابراهيم بن سعد بن ابن جماعة رحمة الله عليہ (متوفٰى ٧٦٧ه‍) ۔
(المختصر الصغير في سيرة البشير النذير ، لامام عبد العزيز بن محمد بن ابراهيم بن سعد بن ابن جماعة ، كتابه ﷺ ، ص 118 ، مطبوعة عام الكتب ، طبع اول ١٤٠٨ه‍/١٩٨٨ء)

امام سيد عبد الهادى نجا ابن العلامة رضوان الابيارى الشافعى رحمة الله عليه (متوفٰی١٣٠۵ھ) ۔
(سعود المطالع فيما تضمنه الالغاز فى اسم حضرة و الى مصر من العلوم اللوامع ، لامام السيد عبد الهادى نجا ابن العلامة رضوان الابيارى الشافعى ، تحت الفن التاسع و الثلاثون فن السير ، جلد 2 ص 301 ، 302 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت،چشتی)

امام ابو فرج عبد الواحد بن محمد بن علی الشیرازی الحنبلی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٤٨٦ه‍) ۔ (التبصرة فى اصول الدين ، لامام ابى الفرج عبد الواحد بن محمد بن علي الشيرازى ، ص 164 ، مطبوعة دار المأثور ، طلع ١٤٢٢ه‍/٢٠١٣ء)

امام مصطفى بن عبد الله القسطنطيني العثماني المعروف بـكاتب جلبي و بـحاجي خليفة رحمة الله عليہ (متوفٰى ١٠٦٧ھ)
(سلم الوصول الى طبقات الفحول ، لامام مصطفى بن عبد الله القسطنطيني العثماني المعروف بـكاتب جلبي ، تحت باب المیم ، جلد 3 ص 343 تا 344 ، رقم : 5017 ، مطبوعة منظمة المؤتمر الاسلامي مركز الابحاث للتاريخ و الافنون و الثقافة الاسلامية باستانبول،چشتی)

فضيلة الشيخ ڈاکٹر سراج بن عمر بن محمد سعيد خوندنه رحمة الله عليہ ۔ (مختصر السيرة الذاتية لخير البرية ﷺ ترجمہ سیرت خیر الورٰی کے انوار و تجلیات ، فضيلة الشيخ ڈاکٹر سراج بن عمر صفحہ 98 مطبوعة نظامیہ کتاب گھر لاھور طبع اول ۲۰۱۵ء)

امام ابو جعفر أحمد بن محمد بن صابر بن محمد بن صابر القيسى الاندلسی رحمة الله عليہ (متوفٰى ٦٦٢ه‍) ۔ (الذيل و التكملة لكتابى الموصول و الصلة ، لامام ابى عبد الله محمد بن محمد بن عبد الملك الانصاري ، تحت أحمد بن محمد بن صابر بن محمد بن صابر القيسى ، جلد 1 صفحہ 605 ، رقم : 652 ، مطبوعة دار الغرب الاسلامي ، طبع اول ٢٠١٢)

امام ابو بکر محمد بن حسین الآجری البغدادی رحمة الله علیہ (متوفی ۳٦٠ه‍) ۔ (الشريعة ، لامام ابی بکر محمد بن حسین الآجری ، تحت فضائل معاوية بن ابى سفيان رضي الله عنهما صفحہ 781 مطبوعة دار الصديق ، السعودية ، طبع رابع ١٤٣٦ه‍/٢٠١۵ء)

امام سراج الدين ابو حفص عمر بن على بن احمد الانصارى الشافعى المعروف ابن ملقن رحمة الله علیہ (متوفٰی ٨٠٤ه‍) ۔ (البدر المنير في تخريج الأحاديث و الآثار الواقعة في الشرح الكبير ، لامام سراج الدين أبي حفص عمر بن علي بن أحمد الأنصاري الشافعي المعروف ابن الملقن ، كتاب القضاء ، تحت " الحديث الخامس ، جلد 9 صفحہ 563 تا 564 ، مطبوعة دار الهجرة للنشر و التوزيع ، طبع اول ١٤٢٥ه‍/٢٠٠٤ء،چشتی)

امام ابو الحسن علي بن محمد بن أحمد بن موسى ابن مسعود الخزاعى رحمة الله عليہ (متوفٰى ٧٨٩ه‍) ۔ (تخريج الدلالات السمعيات ، لامام ابى الحسن علي بن محمد بن أحمد بن موسى ابن مسعود الخزاعى ، الجزء الثالث فى العمالات الكتابية ، الباب الاول فى كتاب الوحى ، الفصل الثانی فی ذکر انسابهم و اخبارهم رضي الله تعالى عنهم ص 172 ، مطبوعة دار الغرب الاسلامي بيروت ، طبع اول ١٤٠۵ھ/۱۹۸۵ء،چشتی)

امام موفق الدین ابو محمد عبد الله بن احمد بن محمد بن قدامه المقدسى رحمة الله علیہ (متوفی ٦۲۰ھ) ۔ (التبيين فى انساب القرشيين ، لامام موفق الدين ابى محمد عبد الله بن احمد بن محمد بن قدامه المقدسى ، تحت " تسمية كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ص 75 ، مطبوعة المجمع العلمي العراقي)

علامہ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن عمر ابن کثیر الدمشقی الشافعی (متوفٰی ٧٧٤ه‍) ۔ (جامع المسانيد و السنن الهادي لأقوم سنن ، لامام عماد الدین أبي الفداء اسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي الشافعي ، تحت " مسند معاوية بن أبي سفيان الأموي رضي الله عنه ، جلد 11 ص 3283 ، رقم : 1797 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت)

امام محمد بن احمد بن سالم بن سليمان السفارينى الحنبلى رحمة الله عليہ (متوفٰی ۱۱۸۸ھ) ۔ (لوائح الأنوار السنية ولواقع الأفكار السنية ، لامام محمد بن احمد بن سالم بن سلیمان السفارینی الحنبلی ، تحت " ترجمة معاوية رضي الله عنه ، جلد 2 ص 75 ، مطبوعة مكتبة الرشد الرياض ، طبع اول ١٤١۵ھ/۱۹۹٤ء)

امام جمال الدين ابو زكريا يحيى بن يوسف بن یحیی بن منصور الانصاری الصرصری الحنبلی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٦۵٦ه‍)۔(منظومة فى مدح النبي ﷺ و بيان عقيدة أهل السنة و الجماعة ، لامام ابى زكريا يحيى بن يوسف الأنصاري الصرصري ، صفحہ 61 نثر : 212 ، مطبوعة بيت الأفكار الدولة ، طبع اول ١٤٢٧ه‍/٢٠٠٦ء،چشتی)

امام ابو الحسن على بن بسام الشنترينى رحمة الله علیہ (متوفٰی ۵٤٢ه‍) ۔ (الذخيرة فى محاسن أهل الجزيرة ، لامام ابى الحسن على بن بسام الشنترينى ، تحت " فصل في ذكر وزير الكاتب ابى حفص بن برد الاكبر و اثبات جملة ۔ القسم الاول جلد 1 صفحہ 110 ، مطبوعة دار الثقافة بيروت ، طبع ١٤١٧ه‍/١٩٩٧ء)

امام زین الدین عمر بن مظفر بن محمد ابن الوردی الشافعی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٧٤٩ھ) ۔ (تاريخ ابن الوردي ، لامام زين العابدين عمر بن مظفر الشهير بابن الوردي ، تحت أخبار معاوية ، سنة ٦٠ ، جلد 1 صفحہ 131 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤١٧ه‍/١٩٩٦ء،چشتی)

امام صارم الدین ابراھیم بن محمد بن ایدمر العلائی المعروف ابن دقماق رحمة الله علیہ (متوفٰى ٨٠٩ه‍) ۔ (الجوهر الثمين في سير الملوك و السلاطين ، لابن دقماق ، جلد 1 صفحہ 63 ، دولة بنى أمية ، تحت " معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه مطبوعة عالم الكتب طبع اول ١٤٠۵ھ/۱۹۸۵ء)

امام ابو محمد طيب بن عبد الله بن احمد بن علی بامخرمة الحضرمی الشافعی رحمة الله علیہ (متوفٰی٩٤٧ه‍) ۔ (قلادة النحر في وفيات أعيان الدهر ، لامام ابى محمد الطيب بن عبد الله بن احمد بن علي بامخرمة الهجراني الحضرمي الشافعي ، طبقات المئة الاولى ، جلد 1 ص 379 ، مطبوعة دار المنهاج للنشر و التوزيع ، طبع اول ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٨ء)

امام تقی الدین محمد بن احمد الحسنی الفاسی المکی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۸۳۲ھ) ۔ (العقد الثمين فى تاريخ البلد الامین ، لامام تقی الدین محمد بن احمد الحسنی الفاسی ، تحت " فصل فی کتابه ﷺ ، جلد 1 صفحہ 417 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤١٩ه‍/١٩٩٨ء)

امام شهاب الدين ابو الفلاح عبد الحی بن احمد بن محمد العكری الحنبلى رحمة الله علیہ (متوفٰى  ١٠٨٩ه‍) ۔ (شذرات الذهب في أخبار من ذهب ، لامام شهاب الدين ابى الفلاح عبد الحي بن احمد بن محمد العكري الحنبلى ، تحت " سنة ستين ، وفاة معاوية بن ابى سفيان ، جلد 1 صفحہ 270 ، مطبوعة دار ابن كثير بيروت ، طبع اول ١٤٠٦ه‍/١٩٨٦ء،چشتی)

امام شہاب الدين ابو العباس احمد بن محمد المقری المالكی الاشعری رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٠٤١ه‍) ۔
(وصف نعال النبى المسمّٰى بفتح المتعال فى مدح النعال ، لامام ابى العباس احمد بن محمد بن يحيى المقرى المالكى ، خاتمة ، في ذكر زبدة ما يتعلق بالنعل و المثال ، ص 558 ، مطبوعة دار القاضى عياض للتراث ، طبع اول ١٤١٧ه‍/١٩٩٧ء)

امام عبد الله بن حجازي بن ابراهيم الشافعي الازهري رحمة الله علیہ (متوفٰى ١٢٢٦ه‍) ۔ (فتح المبدي بشرح مختصر الزبيدي ، لامام عبد الله بن حجازي بن ابراهيم الشافعي الازهري ، تحت " كتاب العلم ، جلد 1 صفحہ 92 مطبوعة دار احياء الكتب العربية)

امام جلال الدین محمد بن اسعد الدوانی الصدیقی الشافعی (متوفٰى ۹۲۸ھ) ۔ (الحجج الباهرة ، للعلامة جلال الدين الدوانى الصديقى ، خلافة علي بن أبي طالب رضي الله عنه ، تحت " وقعة صفين ، 132 ، مطبوعة مكتبة الإمام البخاري ، طبع اول١٤٢٠ه‍/٢٠٠٠ء)

علامہ ملک احمد بن ملک پیر محمد گجراتی الفاروقی رحمة الله علیہ ۔ (زاد الأحباب في مناقب الأصحاب ، للشيخ العلامة ملك أحمد بن الملك الفاروقي الفجراتي ، الباب الرابع في أصحاب النبي ﷺ ، الفصل الخامس في دفع المطاعن عنه رضي الله عنه ، صفحہ 474 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت/ المجمع الاسلامي مبارك فور الهند ، طبع اول ١٤٣٤ه‍/٢٠١٣ء)

امام ابو الفضل محمد بن طاهر بن على بن احمد ابن القيسرانى المقدسى رحمة الله علیہ (متوفٰى ۵۰۷ھ) ۔ (مسند الحجة على تارك المحجة ، لامام ابى الفضل محمد بن طاهر المقدسي ، الجزء السادس ، بيت : 85 تا 87 ، ص 171 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ٢٠١٧ء)

امام محمد بن محمد بن شهاب بن يوسف الكردى البريقينى الحنفی المعروف بزازی رحمة الله علیہ (متوفٰى ٨٢٧ه‍) ۔ (الفتاوى البزازية ، لامام محمد بن محمد بن شهاب بن يوسف الكردى البريقينى الحنفي الشهير بالبزازي ، کتاب ألفاظ تكون إسلاما أو كفرا أو خطأ ، تحت " الحادي عشر فيما يكون خطا ، جلد 2 ص 463 ، مطبوعة دار الكتاب العلمية بيروت ، طبع اول ٢٠٠٩ء)

امام محمود بن سليمان الكفوى الحنفى رحمة الله علیہ (متوفٰى  ٩٩٠ه‍) ۔ (أعلام الأخيار من فقهاء مذهب النعمان المختار ، لامام محمود بن سليمان الكفوي الحنفي ، كنية أعلام الأخيار من أصحاب النبي ﷺ المختار ، تحت " أمير المؤمنين معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، جلد 1 صفحہ 92 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول١٤٤٠ه‍/٢٠١٩ء)

امام ابو القاسم حسن بن محمد بن حبيب النيسابوری الشافعی رحمة الله علیہ (متوفٰى ٤٠٦ه‍) ۔ (عقلاء المجانين ، لامام ابى القاسم الحسن بن محمد بن حبيب النيسابوري ، تحت " الأعرابي و الحجاج ، ص 156 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٠۵ھ/۱۹۸۵ء)

امام شرف الدين ابو الفضل عدي بن مسافر الاموى الهكارى رحمة الله علیہ (متوفٰى ۵۵۵ھ) ۔ (الروض الزاهر في مناقب الشيخ عبد القادر ، تحت " النور السافر في مناقب سيدي عدي بن مسافر ، لامام نصر بن عبد الله بن نصر العسقلاني ، عقيدة الشيخ عدي بن مسافر ، صفحہ 211 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٩ه‍/٢٠٠٨ء)

امام ابو عبد الله محمد بن سعد بن منيع المعرف ابن سعد رحمة الله علیہ (متوفٰى ۲۳۰ھ) ۔ (الطبقات الكبرى ، لامام محمد بن سعد بن منيع الهاشمى المعروف بابن سعد ، تسمية من نزل الشام من أصحاب رسول الله ، تحت " معاوية بن ابى سفيان بن حرب ، جلد 7 ص 285 ، رقم : 3718 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤١٠ه‍/١٩٩٠ء،چشتی)

امام ابو یعلی محمد بن حسین بن محمد بن خلف بن احمد الفراء البغدادی الحنبلی رحمة الله علیہ (متوفٰى ٤۵۸ھ) ۔ (المعتمد في أصول الدين ، لامام ابى يعلى محمد بن الحسين بن محمد بن خلف الفراء الحنبلي ، كتاب الإمامة ، تحت " فصول من الكلام على الغلاة من الرافضة ، صفحہ 235 مطبوعة دار المشرق بيروت)

امام ابو الحسن زين العابدين على بن حسين بن على بن ابى طالب رضى الله عنه (متوفٰى ۹۵ھ) ۔ (ذكر الإمام الحافظ ابى عبد الله بن منده ، تحت " ذكر من سمعت منه من اهل بيت ابى عبد الله بن منده ، ص 101 ، مطبوعة دار البشائر الإسلامية ، طبع اول ١٤۲۵ھ/۲۰۰٤ء)

امام ابو الفیض سید محمد مرتضٰی بن محمد الحسینی الزبیدی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۱۲۰۵ھ) ۔ (اتحاف السادة المتقين بشرح احياء علوم الدين ، لامام السید محمد بن محمد الحسینی الزبیدی الشهير بمرتضٰى ، كتاب أسرار الصلاة و مهماتها ، القسم الثالث : ما يتكرر بتكرر السنين ، و هي أربع : صلاة العيدين و التراويح و صلاة رجب و شعبان ، جلد 3 صفحہ 659 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت،چشتی)

امام ابو مروان عبد الملك بن حَبِيب بن حبيب بن سليمان بن هارون السلمی القرطبى رحمة الله عليہ (متوفٰى ٢٣٨ه‍) ۔ (ادب النساء الموسوم بكتاب الغاية و النهاية ، لامام عبد الملك بن حبيب القرطبى ، تحت " معاویة بن أبي سفيان ، صفحہ 383 ، مطبوعة دار الغرب الاسلامي ، طبع اول ١٤١٢ه‍/١٩٩٢ء)

مفتی محمد رمضان گُلتر چشتی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤٣٨ه‍) ۔ (محک الحق و الباطل ، عبد النبی انور محمد رمضان گلتر چشتی صفحہ 39 ناظم دار الاشاعت مدرس جامع مسجد غلہ منڈی میاں چنوں ضلع ملتان)

مولانا محمد الہی بخش قادری ضیائی رحمة الله عليہ ۔ (خطبات قادریہ ضیائیہ ، مولانا محمد الہی بخش قادری ضیائی ، تحت " محرم الحرام ، جلد 1 ص 64 ، ناشر : انجمن رضائے رسول الہی پاکستان ، طبع ١٤٢١ه‍/٢٠٠٠ء)

امام محمد بن طاھر بن على پٹنی گجراتی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٩٨٤ه‍) ۔ (مجمع بحار الانوار في غرائب التنزیل و لطائف الاخبار ، امام محمد بن طاھر بن علی پٹنی گجراتی ، باب فضل الآئمة ، تحت معاوية ، جلد 5 ص 221 ، مطبوعه مجلس دائرة المعارف النعمانیة حیدر آباد دکن ، طبع ۱۳۹۰ھ/ ۱۹۷۰ء)

امام ابو القاسم على بن حسن بن هبة الله بن عبد الله الشافعى المعروف ابن عساكر رحمة الله علیہ (متوفٰی ٥٧١ه‍) ۔ (تاریخ مدینة دمشق ، لامام أبي القاسم على بن الحسن بن هبة الله بن عبد الله الشافعي ، تحت " معاوية بن صخر أبي سفيان جلد 59 ص 55 ، رقم : 7510 ، مطبوعة دار الفكر للطباعة و النشر و التوزيع ، طبع اول١٤١٨ه‍/١٩٩٧ء)

امام ابو عبد الرحمن عبد العزیز بن احمد بن حامد القرشی الملتانی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٢٣٩ه‍) ۔ (الناھیة عن طعن امیر المؤمنين معاویة رضی الله عنه ، لامام ابى عبد الرحمن عبد العزيز بن أحمد بن حامد القرشي الفريهاري الملتاني الهندي ، تحت " فصل في فضائل معاوية رضي الله عنه ، صفحہ 41 مطبوعة غراس الكويت طبع أول ١٤٢٢ه‍)

محمد بن علوی المالکی الحسنی رحمة الله علیہ (متوفٰى ١٤٢۵ھ)
۔ (الذخائر المحمدية ، لامام محمد بن علوى المالكي الحسني ، تحت " كتابه ﷺ ، ص 36 ، مطبوعة دار جوامع الكلم القاهرة)

امام صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٧٦٤ه‍) ۔ (الوافي بالوفيات ، لامام صلاح الدين خليل بن أيبك الصفدي ، حرف الميم ، تحت " معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، جلد 20 صفحہ 9 ، رقم : 12488 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت،چشتی)

امام ابو الحسن على بن أبي عبد الله محمد بن أبي السرور بن عبد العزيز الروحى (علماء قرن السابع الهجري) ۔ (بلغة الظرفاء في تاريخ الخلفاء ، لامام أبي الحسن على بن أبي عبد الله محمد بن أبي السرور بن عبد العزيز الروحي ، سيدنا محمد ﷺ ، تحت " كتاب الوحي وغيره ، ص 62 تا 63 ، مطبوعة books publishers , كتاب ناشرون ، بيروت)

امام شهاب الدين ابو العباس احمد بن محمد القسطلانى الشافعى رحمة الله علیہ (متوفٰی ٩٢٣ه‍) ۔
(ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ، لامام شهاب الدين أبي العباس أحمد بن محمد القسطلاني الشافعي ، كتاب العلم ، تحت " باب من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين ، جلد 1 صفحہ 251 ، رقم : 13 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤١٦ه‍/١٩٩٦ء )

امام عبد الملک بن حسین بن عبد الملک الشافعی العاصمی المکی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۱۱۱۱ھ) ۔ (سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل و التوالي ، لامام عبد الملك بن حسين بن عبد الملك الشافعي ، المقصد الرابع ، الباب الاول في الدولة الأموية ، تحت " صفة معاوية و ذكر مناقبه رضي الله عنه جلد 3 صفحی 155 مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت طبع اول ١٤١٩ه‍/١٩٩٨ء)

امام شهاب الدين احمد بن على بن حجر العسقلانى الشافعى رحمة الله علیہ (متوفٰی ٨٥٢ه‍) ۔ (تقريب التهذيب ، لامام احمد بن على بن حجر العسقلاني ، حرف الميم ، تحت معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، ص 470 ، رقم : 6758 ، مطبوعة مؤسسة الرسالة ناشرون ، طبع اول١٤٢٠ه‍/١٩٩٩ء،چشتی)

امام شهاب الدين محمد بن عبد الله الالوسى رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٢٧٠ه‍) ۔ (الاجوبة العراقية على الاسئلة اللاهورية ، لامام شهاب الدين محمد بن عبد الله بن عبد الله الالوسي ، الفصل الثالث في بيان حكم سب الصحابة رضي الله عنهم ، تحت " الكلام في خصوص سب معاویة رضي الله عنه ، ص 157 ، مطبوعه دار ابن القيم ، طبع ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٧ء)

علامہ تقی الدین ابو العباس احمد بن علی حسینی المقریزی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٨٤٥ه‍) ۔ (امتاع الاسماع بما لنبی من الاحوال و الاموال و الحفدة و المتاع ، لامام تقى الدين أبي العباس أحمد بن علي بن عبد القادر المقريزي ، تحت " و أما إجابة الله دعوة الرسول ﷺ على معاوية بن أبي سفيان ، جلد 12 صفحہ 113 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٠ه‍/١٩٩٩ء)

مفسرِ قرآن شارح صحیح مسلم شریف علامہ غلام رسول سعیدی صاحب رحمة الله علیہ (متوفٰی ٢٠٠٧ء) ۔ (مقالات سعیدی ، علامہ غلام رسول سعیدی ، تحت " حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله عنہ صفحہ 229 ، مطبوعة ضياء القرآن پبلی کیشنز ، طبع اول ٢٠١٤ء)

مفتی بدر الدین احمد صدیقی رحمة الله علیہ ۔ (فتاوی بدر العلماء ، مفتی بدر الدین صدیقی ، تحت " کتاب العقائد صفحہ 115 مطبوعة شبیر برادرز لاھور)

پیر سید شبیر شاہ حسينى نقوى حافظ آبادی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٢٠١٠ء) ۔ (شرح احادیثِ بخاری فی فضائلِ محبوب باری ﷺ ، سید شبیر حسین نقوی حافظہ آبادی ، تحت علم غیب مصطفے ﷺ ، صفحہ 160 ، مطبوعه مکتبة الحسنین حافظ آباد ، طبع ١٤٣٠ه‍/٢٠٠٩ء)

مفتی عبد الرزاق بھترالوی حطاروی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٤٤٢ه‍) ۔ (نجوم التحقیق ، علامہ عبد الرزاق بھترالوی حطاروى ، ص 112 ، مطبوعة مكتبة امام احمد رضا راولپنڈی،چشتی)

امام محمد طاهر بن محمد بن محمد طاهر بن عاشور التونسی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٣٩٣ه‍) ۔
(تفسیر التحبیر و التنویر ، ابن عاشور ، تحت " مقدمة الثامنة ، جلد 1 صفحہ 73 ، مطبوعة دار التونسية للنشر)

امام جلال الدین ابو عبد الرحمن بن ابو بکر محمد بن سابق الدین الخضیری السیوطی الشافعی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٩١١ه‍) ۔ (تاریخ الخلفاء ، لامام جلال الدين أبي عبد الرحمن بن أبي بكر محمد بن سابق الدين السيوطي ، الخلفاء الأمويون ، تحت " معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، صفحہ 155 ، مطبوعة دار ابن حزم بيروت ، طبع اول ١٤٢٤ه‍/٢٠٠٣ء)

امام احمد رضا بن نقی علی خان الهندي الحنفي القادرى رحمة الله علیہ (متوفٰی ١٣٤٠ه‍) ۔ (العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة ، امام أحمد رضا بن نقى على الهندي الحنفي القادري ، تحت مسئلة : 263 ، جلد 26 صفحہ 492 تا 493 ، مطبوعة رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور،چشتی)

امام ابو الحسین محمد بن محمد ابن ابی یعلی الفراء الحنبلی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۵٢٦ه‍) ۔ (الاعتقاد لابن ابی یعلی الفراء الحنبلی ، تحت " الاعتقاد فی الصحابة ، صفحہ 43 ، مطبوعه دار اطلس الخضراء ، طبع اول ١٤٢٣ه‍/٢٠٠٢ء)

مفتی اقتدار احمد خان نعیمی رحمة الله علیہ (متوفٰی١٤٢٦ه‍) ۔ (العطایا الاحمدیه فی فتاوی نعیمیه ، مفتی اقتدار احمد خان نعیمی قادری ، جلد 5 صفحہ 16 ، مطبوعه نعیمی کتب خانہ گجرات)

امام عمر بن علی بن سمرہ الجعدی رحمة الله علیہ (متوفٰی ۵۸٦ھ) ۔ (طبقات الفقهاء اليمن ، لامام عمر بن علی بن سمرة الجعدى ، تحت الفصل " معاوية بن أبى سفيان ، صفحہ 47 مطبوعه دار القلم بیروت طبع اول)

امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد قسطلانی المصری الشافعی رحمة الله علیہ (متوفٰی ٩٢٣ه‍) ۔ (المواھب اللدنیة بالمنح المحمدية ، لامام شهاب الدين أبي العباس أحمد بن محمد القسطلاني الشافعي ، تحت " الفصل السادس كتابه ﷺ ، جلد 2 صفحہ 128 ، مطبوعة المكتب الاسلامي ، طبع دوم ١٤٢٥ه‍/٢٠٠٤ء)

حضرت پیر سید مہر علی شاہ گیلانی رحمة الله عليہ (متوفٰی ١٣٥٦ه‍) ۔ (تحقیق الحق فی کلمة الحق ، پیر سید مہر علی شاہ گیلانی رحمة الله علیہ ، مترجم مولانا عبد الرحمن بنگوی و مولانا فیض احمد ، ص 159 ، کتب خانہ درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف)

امام محمد زرقانی بن عبد الباقی بن یوسف بن احمد بن علوان المالکی المعروف زرقانی رحمة الله علیہ (متوفٰی ١١٢٢ه‍) ۔ (شرح العلامة الزرقاني علي المواھب اللدنیة بالمنح المحمدية ، لامام تحت " الفصل السادس كتابه ﷺ ، جلد 4 صفحہ 553 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤١٧ه‍/١٩٩٦ء)

ابو منصور احمد بن على بن ابى طالب الطبرسى شيعى (متوفٰی ٦٢٠ه‍) ۔ (احتجاج طبرسی ، أبو منصور أحمد بن علي بن أبي طالب الطبرسي ، تحت " احتجاجه علي معاوية في جواب كتاب كتبه … ، جلد 1 صفحہ 239 ، مطبوعة انتشارات الشريف الرضي ، طبع اول ١٣٨٠ه‍،چشتی)

ابو جعفر الصدوق محمد بن على بن حسين بن بابوية شيعہ (متوفٰی ٣٨١ه‍) ۔ (معانى الأخبار ، أبو جعفر الصدوق محمد بن علي بن الحسين بن بابوية ، تحت " باب معنى استعانة النبي ﷺ بمعاوية في كتابة الوحي ، جلد 2 صفحہ 244 ، مطبوعة الشؤون الفكرية و الثقافية العتبة الحسينية المقدسية ، طبع اول ١٤٣٥ه‍/٢٠١٤ء)

احمد بن ابو يعقوب بن جعفر بن وهب المعروف يعقوبى شيعہ (متوفٰی٢٩٢ه‍) ۔ (تاریخ یعقوبی ، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر بن وهب المعروف باليعقوبي ، تحت " کتاب النبی ﷺ ، جلد 1 صفحہ 402 ، مطبوعة شركة الأعلمي للمطبوعات بيروت ، طبع اول ١٤١٣ه‍/٢٠١٠ء)

محترم قارٸینِ کرام : ہم نے اس مضمون کے حصّہ اوّل دوم میں کتبِ شیعہ کے ساتھ ساتھ تقریباً ڈیڑھ سو (150) سے زیادہ آٸمہ ۔ محدثین اور علماۓ اہلسنت کے حوالہ جات پیش کیے ہیں جنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو عظیم المرتبت اور جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ کاتبِ وحی بھی لکھا اب کوٸی بدبخت ہی ایسے جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کر سکتا ہے کوٸی مسلمان گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے و گستاخیوں سے محفوظ رکھے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاہور پاکستان)

شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا

 شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کو چاٹنا اور چوسنا کا شرعی حکم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : انسان کا چہرہ ودہن محترم ومکرم اعضاء ہیں ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : إذا قاتل أحدکم أخاہ فلیتجنب الوجہ فإن اللہ خلق آدم علی صورتہ ۔

ترجمہ : خلق آدم علی صورتہ“ میں چہرہ کی جو تشریف ہے ، اہلِِ دانش پر مخفی نہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ دہن بھی چہرہ ہی کا بعض ہے لہٰذا مکرم ومعظم ٹھہرا ۔ پس مناسب نہیں کہ دہن کو اور بالخصوص دہنِ مسلم ، جو تسبیح و تہلیل ودرود وسلام میں مصروف رہنا چاہیے ، ایسے ذی شرف عضو کو ایسے اعضاء کے ساتھ مس کیا جائے جو ناپاکیوں اور نجاستوں کی گزرگاہیں ہیں ۔ (صحیح مسلم حدیث رقم ۲۱۶۲، مسند احمد حدیث رقم ۴۱۴۷)


نبی کرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے دائیں دستِ اقدس تک کو ان اعضاء سے دور رکھا کرتے تھے ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں : ان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ وثیابہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک ۔ (سنن ابی داود حدیث رقم ۲۳)


حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : کانت ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الیمنی لطہورہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وماکان من اذی ۔

(سنن ابی داود حدیث رقم ۳۳، ۴۳)


بلکہ اگر کوئی شخص اپنے آلہ مردمی کو چھو لے توحدیث میں اس کےلیے ہاتھ دھونے کا حکم استحبابی وارد ہوا ہے ۔ بسرۃ بنت صفوان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا : من مس ذکرہ فلیتوضأ ۔ (سنن ابی داود حدیث رقم ۱۸۱، جامع الترمذی حدیث رقم ۲۸ قال الترمذی:حسن صحیح،چشتی)(سنن النسائی حدیث رقم ۷۴۴)


جمع بین الاحادیث کےلیے وضوء کے معنی ہاتھ دھونے کے کیے گئے جیسا کہ اپنے محل میں مفصل مذکور ہے۔اور علامہ علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : لا ینقضہ مس ذکر لکن یغسل یدہ ندبا ۔ (در مختار جلد ۱ صفحہ ۵۰۴)


جب بلا حاجت ہاتھ سے چھونا مناسب نہیں تو چہرہ و دہن تو زیادہ لائق ہیں کہ انہیں مجاری نجاسات سے دور رکھا جائے ۔


ہاں اگر یہ بوسہ ایسی حالت میں ہوکہ مذی کا نہ نکلنا یقینی ہے ۔یعنی ایسی حالت میں کہ نہ تو شوہر وبیوی کا اکٹھا ہونا جماع کے ارادے سے ہو اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ مصروفِ ملاعبت ہوں بلکہ عمومی حالات میں ہوں یا کم از کم جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جا رہا ہے وہ عام حالت میں ہو ، پھر عام ہے کہ بوسہ بلا حائل ہو یا بیچ میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل ہو بشرطیکہ مخرجِِ بول و مجری حیض سے ہٹ کر ہو تو یہ بوسہ محض خلافِ ادب اور مکارمِ اخلاق کے منافی ہے ، اسے مکروہ وحرام کہنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی ۔ بلکہ حنابلہ نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے ۔ ابو الحسن علی بن سلیمان المرداوی الحنبلی ”الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف“ میں لکھتے ہیں : قال القاضی فی الجامع یجوز تقبیل فرج المرأۃ قبل الجماع ویکرہ بعدہ وذکرہ عن عطاء ۔

پھر فرمایا : ولہا لمسہ وتقبیلہ بشہوۃ وجزم بہ فی الرعایۃ وتبعہ فی الفروع وصرح بہ ابن عقیل ۔ (الانصاف فی معررفۃ الراجح من الخلاف جلد ۸ صفحہ ۷۲،چشتی)


اور ظاہر یہ ہے کہ اگر حالت وہ ہو جو ہم نے اوپر ذکر کی تو ہمارے نزدیک بھی حکم ایسا ہی ہے ۔


اور اگر بوسہ مخرجِِ بول و مجری حیض سے ہٹ کر ہو لیکن جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جا رہا ہے وہ شہوت کی حالت میں ہے ، تو چونکہ ایسی حالت میں مذی کا خروج غالب ہے جو بعض اوقات غیر محسوس بھی ہوتا ہے ۔ لہٰذا اب اس فعل سے اجتناب پہلی صورت کی نسبت زیادہ مؤکد ہے ، کیونکہ اب دہن کے نجاست سے آلودہ ہونے کا اندیشہ ہے جو کسی صورت مناسب نہیں ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیشاب کرتے ہوئے دائیں ہاتھ سے آلہ مردمی کو چھونے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت ابو قتادۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اذا بال احدکم فلایأخذن ذکرہ بیمینہ ولایستنجی بیمینہ ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۴۵۱، ۰۳۶۵، صحیح مسلم حدیث رقم ۶۳۶،چشتی)


اور بعض روایات میں دائیں ہاتھ سے مس ذکر کی نھی حالتِ بول کی قید سے مطلق ہے ، جیسا کہ حضرت ابو قتادۃ ہی سے مروی ہے، فرمایا : أن النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نھی ان یتنفس فی الاناء وأن یمس ذکرہ بیمینہ وأن یستطیب بیمینہ ۔ (صحیح مسلم حدیث رقم ۸۳۶)(جامع الترمذی حدیث رقم ۵۱)(سنن النسائی حدیث رقم ۸۴،چشتی)


اور بعض روایات میں ہے : واذا اتی الخلاء فلا یمس ذکرہ بیمینہ ولایتمسح بیمینہ ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۳۵۱، صحیح مسلم حدیث رقم ۷۳۶)


ان کلماتِ مبارکہ میں دائیں ہاتھ سے آلہ مردمی کو چھونے سے منع کیا جا رہا ہے۔نھی کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ عینی رحمة اللہ علیہ تحریر فرما ہیں : قولہ فلا یمس ذکرہ بیمینہ النہی فیہ تنزیہ لہا عن مبشارۃ العضو الذی یکون فیہ الأذی والحدث وکان النبی یجعل یمناہ لطعامہ وشرابہ ولباسہ مصونۃ عن مباشرۃ الثفل ومماسۃ الأعضاء التی ہی مجاری الأثفال والنجاسات ویسراہ لخدمۃ أسافل بدنہ وإماطۃ ما ہناک من القاذورات وتنظیف ما یحدث فیہا من الأدناس ۔ (عمدۃ القاری جلد ۴ صفحہ ۷۶۱)


بعد ازاں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ یہ نہی حالتِ بول کے ساتھ مقید ہے یا مطلق ، علامہ عینی تحریر فرما ہیں : فإن قلت الحدیث یقتضی النہی عن مس الذکر بالیمین حالۃ البول وکیف الحکم فی غیر ہذہ الحالۃ قلت روی أبو داود بسند صحیح من حدیث عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کانت ید رسول اللہ الیمنی لطہورہ وطعامہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وما کان من أذی وأخرجہ بقیۃ الجماعۃ أیضا وروی أیضا من حدیث حفصۃ زوج النبی علیہ الصلاۃ والسلام قالت کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ ولباسہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک وظاہر ہذا یدل علی عموم الحکم علی أنہ قد روی النہی عن مسہ بالیمین مطلقا غیر مقید بحالۃ البول فمن الناس من أخذ بہذا المطلق ومنہم من حملہ علی الخاص بعد أن ینظر فی الروایتین ہل ہما حدیثان أو حدیث واحد فإن کانا حدیثا واحدا مخرجہ واحد واختلفت فیہ الرواۃ فینبغی حمل المطلق علی المقید لأنہا تکون زیادۃ من عدل فی حدیث واحد فتقبل وإن کانا حدیثین فالأمر فی حکم الإطلاق والتقیید علی ما ذکر۔(عمدۃ القاری جلد ۴ صفحہ ۷۶۱،چشتی)


البنایۃ میں فرمایا : قولہ:لا یمس ذکرہ، ہذا إذا کان فی الخلاء، وعلی الإطلاق ما روی عن عثمان رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أنہ قال:ما تعنیت ولا تمنیت ولا مسست ذکری بیمینی منذ بایعت رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہذا إکرام الیمین وإجلال النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہو من باب الآداب عند الفقہاء۔(البنایۃ جلد ۱ صفحہ ۰۶۷)


حاصلِ کلام یہ ہے کہ : حالتِ غیرِ بول میں اگرچہ علماء کے مابین اختلاف ہے لیکن حالتِ بول سے متعلق علماء متفق ہیں کہ دائیں ہاتھ کے شرف کے باعث اسے آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیے ۔


اہلِ فہم پہ مخفی نہیں کہ حالتِ بول کی قید محض اس لیے ہے کہ بول نجاست ہے۔پس کلامِ بالا کے معنی یہ ہوئے کہ نجاست کے خروج کی حالت میں دائیں ہاتھ کو آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیئے۔


اور جس طرح بول نجاست ہے یوں ہی ”مذی“ بھی نجاست ہے۔حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ نے حضرت مقداد کے توسط سے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مذی سے متعلق پچھوایا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : فیہ الوضوء ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۲۳۱، ۸۷۱)

مذی کے خروج سے وضوء کاجانا مذی کی نجاست کی دلیل بین ہے ۔اور محض نجاست نہیں بلکہ بول کی طرح نجاستِ غلیظہ ہے۔البحر الرائق میں ہے : کل ما یخرج من بدن الإنسان مما یوجب خروجہ الوضوء أو الغسل فہو مغلظ کالغائط والبول والمنی والمذی والودی والقیح والصدید والقیء إذا ملأ الفم۔(البحر الرائق ج۱ص۲۴۲)


پس کلامِ بالا سے ہمیں دو مقدمے حاصل ہوئے : (1) : مذی نجاست ہے۔ (2) : نجاست کے آلۂ تناسل سے خروج کے وقت دائیں ہاتھ سے اسے چھونا منع ہے ۔


ان دونوں کے ضم سے اس امر کا حصول بدیہی ہے کہ : مزی کے خروج کے وقت آلۂ تناسل کو چھونا منع ہے ۔


اور اس نتیجہ سے بطورِ دلالت ثابت کہ مذی کے خروج کے وقت مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کا بوسہ لینا منع ہے۔کیونکہ انسان کا دہن شرف و کرامت میں دائیں ہاتھ کے شرف سے کہیں زیادہ ہے ۔


ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم مذکورہ بالا حالت میں مرد اور عورت کے ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کے بوسہ کو حرام نہیں کہتے ۔ کیونکہ حالتِ بول میں آلہ تناسل کو دائیں ہاتھ سے چھونا جمہور کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے اگرچہ اہلِ ظاہر کے ہاں مکروہ تحریمی ہے ۔ عمدۃ القاری پھر طحطاوی علی المراقی میں ہے : فإن قلت النہی فیہ تنزیہ أو تحریم قلت للتنزیہ عند الجمہور لأن النہی فیہ لمعنیین أحدہما لرفع قدر الیمین والآخر أنہ لو باشر النجاسۃ بہا یتذکر عند تناولہ الطعام ما باشرت یمینہ من النجاسۃ فینفر طبعہ من ذلک وحملہ اہل الظاہر علی التحریم۔(عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱،)(حاشیۃ الطحطاوی صفحہ ۳۳،چشتی)


لہٰذا مذکورہ بالا حالت میں بوسہ بھی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی ہونا چاہیئے۔لیکن چونکہ دہن کا شرف دائیں ہاتھ کے شرف سے زیادہ ہے لہذا اس بوسہ کی کراہت حالتِ بول میں دائیں ہاتھ سے آلہ تناسل چھونے کی کراہت سے مؤکد ہونی چاہیے ۔


رہی یہ صورت کہ مرد اور عورت شہوت کی حالت میں، جبکہ مذی خارج ہو رہی ہو اور وہ دونوں ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں اور مخرجِِ بول ومجری حیض سے اجتناب نہ کریں تو یہ بوسہ سخت منع ومکروہ تحریمی ہے اوراس فعلِ بد سے بچنا واجب ہے اور اس کی دلیل آگے آ رہی ہے ۔


اللہ کریم جل مجدہ نے نکاح سے عورت کومرد کے لیے حلال فرمایا ہے اور مرد اپنی عورت کے پاس جیسے چاہے آسکتا ہے جیسا کہ اللہ کریم سبحانہ وتعالی نے فرمایا : نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم ۔

ترجمہ : تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو تم تمہاری کھیتی کوجیسے چاہو آؤ ۔ (سورہ البقرۃ۳۲۲)


لیکن یہ اطلاق کیفیتِ اتیان میں ہے یعنی مرد اپنی بیوی کے پاس جیسے چاہے آ سکتا ہے ، کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے ، آگے کھڑے ہوکر ، پیچھے کھڑے ہو کر ، وغیرہ وغیرہ ۔ رہا محلِ اتیان تو اس میں اطلاق نہیں ، یعنی مرد کو یہ چھوٹ نہیں کہ عورت کے کسی بھی سوراخ میں اپنا آلہئئ مردمی داخل کرے ۔ بلکہ سوراخوں میں سے ایک ہی سوراخ مرد کے لیے متعین ہے اور وہ ہے عورت کا اگلا مقام ۔


اسی بات کو بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ، حضرت عبد اللہ بن عباس راوی کہ حبیب رب العالمین نے فرمایا : ائتھا مقبلۃ ومدبرۃ اذا کان ذلک فی الفرج ۔(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۸۰۸۲۱)(المعجم الاوسط لہ حدیث رقم ۳۸۲۳،چشتی)(شرح مشکل الآثار للطحاوی حدیث رقم ۸۲۱۶)(شرح معانی الآثار حدیث رقم ۱۰۴۴)


حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : مقبلۃ ومدبرۃ ماکان فی الفرج ۔ (شرح معانی الآثار حدیث رقم ۲۹۳۴)


سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : یأتیھا کیف شاء ما لم یکن یأتیھا فی دبرھا او فی الحیض ۔ (جامع البیان جلد ۴ صفحہ ۸۹۳)


دوسری روایت میں ہے : یأتیھا قائمۃ وقاعدۃ ومن بین یدیھا ومن خلفھا وکیف شاء بعد ان یکون فی المأتی ۔ (مساوی الاخلاق حدیث نمبر ۸۴۴)


حضرت عکرمہ نے فرمایا : یأتیھا کیف شاء قائم وقاعد وعلی کل حال یأتیھا ما لم یکن فی دبرھا ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ج۴ص۹۲۲)


اگر اس باب میں مرویات کا احاطہ کیا جائے تو لاتعداد مرفوعات، موقوفات ومقطوعات موجود ہیں جن کا ذکر اس مختصر تحریر کو نہایت درجہ طویل کر دے گا۔اس لیے مذکورہ مرویات پر ہی اکتفاء مناسب ہے ۔


بہرحال ان کلمات نے ہمیں بتا دیا کہ اس آیت میں عورت کے پاس جیسے چاہو آنے کی چھوٹ دی جا رہی ہے لیکن جہاں چاہو کی چھوٹ ہر گز نہیں ۔


بلکہ ان کلمات شریفہ سے ہٹ کر خود آیہ مقدسہ کے کلمات مقدسہ کودیکھا جائے تو وہ بھی راہنمائی میں کافی ہیں، کیونکہ فرمایا : فأتوا حرثکم ۔ اپنی کھیتیوں کو آؤ ۔


ظاہر ہے کہ عورت حقیقی کھیتی تو ہے نہیں ، بلکہ آیہ مقدسہ میں کھیتی کے ساتھ تشبیہ ہے جو تقاضا فرما ہے کہ تم اپنی بیوی کے پاس آؤ لیکن اس جگہ سے جو کھیتی کی جگہ ہے ، اور ظاہر سی بات ہے کہ کھیتی کا محل عورت کے بدن میں نہ تو اس کا منہ ہے اور نہ ہی پچھلا مقام ، توپھر وہ مقامات کیسے حلال ہو سکتے ہیں ؟


اسی بات کو بیان کرتے ہوئے قاضی ابو محمد عبد الحق ابن عطیۃ الاندلسی المحاربی (المتوفی ۲۴۵ ھ) پھر شمس الدین قرطبی رحمہ اللہ تعالی (المتوفی ۱۷۶ ھ) ، پھر ابو زید عبد الرحمن بن محمد الثعالبی (المتوفی ۵۷۸ھ) نے فرمایا : لفظ الحرث یعطی ان الاباحۃ لم تقع الا فی الفرج خاصۃ اذ ھو المزدرع ۔ (المحرر الوجیز جلد ۱ صفحہ ٥٠)(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی جلد ۳ صفحہ ۳۹)(الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن للثعالبی جلد ۱ صفحہ ۹۲۱)


مذکورہ بالا آیہ مقدسہ سے پچھلی آیت میں ہے : فاذا تطھرن فأتوھن من حیث امرکم اللہ ۔ (البقرۃ ۲۲۲)

ترجمہ : جب تمہاری عورتیں پاک ہو جائیں تو اب تم ان کے پاس وہاں سے آؤ جہاں کی اللہ سبحانہ و تعالی نے تمہیں اجازت دی ہے ۔


اتیان کی ”من حیث امرکم اللہ“ سے تقیید دال ہے کہ عورت کے پاس آنا صرف اس مقام سے حلال ہے جس کی اللہ سبحانہ و تعالی نے اجازت دی ، ورنہ محض ”فاذا تطھرن فأتوھن“ فرما دینا کافی لگتا ہے ۔ اور جس مقام کی اللہ کریم جل مجدہ نے اجازت دی اس کا ذکر بعد والی آیت میں فرما دیا ، یعنی : کھیتی کی جگہ۔پس اس آیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عورت کے پاس صرف اسی مقام سے آیا جا سکتا ہے جو کھیتی کی جگہ ہے اس کے علاوہ ۔ چاہے وہ عورت کا پچھلا مقام ہو یا منہ ۔ اس میں آنا حلال نہیں ۔


ایک دوسری آیۂ مبارکہ میں ہے : فالآن باشروھن وابتغوا ماکتب اللہ لکم ۔ (سورہ البقرۃ ۷۸۱)

ترجمہ : پس اب تم اپنی بیویوں سے ہمبستری کرو اور اللہ کریم جل مجدہ نے جو کچھ تمہارا مقدر کیا اسے ڈھونڈو ۔


آیہ مقدسہ کے دوسرے جملہ میں بیوی سے مباشرت کا مقصد بتایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف سے مقدر یعنی اولاد کی تلاش ۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ جس طرح عورت کی دبر اولاد کی تلاش کا محل نہیں، عورت کا منہ بھی اس چیز کا محل نہیں، پس دونوں میں سے کسی کے بھی حلال ہونے کا کوئی سبب نہیں ۔ بعض اذھان کی فکر یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات محض عورت کے اگلے مقام کی حل کے بیان میں ہیں ، رہی اس کے ماسوا کی حرمت تو اس باب میں یہ آیات ساکت ہیں ۔ لیکن حق یہ ہے کہ : مذکورہ بالا آیاتِ بینات سے محض عورت کے اگلے مقام کی حلت مستفاد نہیں بلکہ حلت کا اس مقام میں حصر بھی مستفاد ہے جس کے صریح معنی دیگر سوراخوں کی حرمت کے ہیں ۔ ہمارے اس دعوی کی تائید کے لیے ما قبل میں مذکور کلماتِ ائمہ تفسیر کافی ہیں ۔ علاوہ ازیں جب امام شافعی رحمة اللہ علیہ نے امام محمد بن الحسن رضی اللہ عنہ سے عورت کے پچھلے مقام میں وطی سے متعلق سوال کیا : بأی شیئ حرمتہ ؟ ۔ آپ کس دلیل سے اسے حرام قرار دیتے ہیں ؟

امام محمد رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : بقول اللہ عزوجل : فأتوھن من حیث امرکم اللہ ۔ و قال : فأتوا حرثکم انی شئتم ۔ والحرث لایکون الا فی الفرج ۔


امام شافعی رحمة اللہ علیہ نے عرض کی : أفیکون ذلک محرما لما سواہ ؟


امام محمد رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : نعم ۔ (تلخیص الحبیر لابن حجر العسقلانی ج۳ص۲۹۳)


یوں ہی جب امام مالک رحمة اللہ علیہ کو معلوم پڑا کہ کچھ لوگ امام مالک کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ آپ عورت کے ساتھ اس کے پچھلے مقام میں وطی کے جواز کے قائل ہیں تو آپ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : کذبوا علی کذبوا علی کذبوا علی ۔ وہ لوگ مجھ پہ جھوٹ باندھ رہے ہیں ، مجھ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں ، مجھ پہ جھوٹ باندھ رہے ہیں ۔

پھر فرمایا : الستم قوما عربا ؟ الم یقل اللہ تعالی : نساؤکم حرث و ھل یکون الحرث الا فی موضع المنبت ؟ ۔ (تفسیر القرطبی جلد ۳ صفحہ ۵۹،چشتی)


امام مالک اور امام محمد رحمہما اللہ علیہما جیسی شخصیات کا ان آیاتِ مبارکہ سے عورت کے اگلے مقام کے علاوہ کی حرمت پر استدلال واضح دلیل ہے کہ یہ آیاتِ بینات حلت کو عورت کے اگلے مقام پہ منحصر فرما رہی ہیں ۔ پس جب حلت عورت کے اگلے مقام پہ منحصر ہو گی تو جس طرح عورت کا پچھلا مقام ماسوا ہونے کی وجہ سے حرام ہے یوں ہی عورت کا منہ بھی ماسوا ہونے کے سبب حرام ہے ۔


علاوہ ازیں حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے حلت کے ایک ہی سوراخ پہ منحصر ہونے کی تصریحات بھی موجود ہیں ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے آکر عرض کی کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا : نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم ۔

لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ میری بیوی کی دبر بھی میرے لیے حلال ہے سو میں بیوی کے پچھلے مقام سے مباشرت کرتا ہوں ۔

جواب میں حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : یا لکع ! انما قولہ : انی شئتم ، قائمۃ و قاعدۃ و مقبلۃ و مدبرۃ فی أقبالھن لاتعد ذلک الی غیرہ ۔ (الدر المنثور للسیوطی عن عبد بن حمید جلد ۲ صفحہ ۷۹۵)


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس جملہ پہ غور کیجیئے : ”لا تعد ذلک الی غیرہ“ صاف لفظوں میں غیرِ قبل سے منع فرما دیا ۔


یونہی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہود کا خیال تھا کہ مرد جب اپنی عورت کے پاس ایسی حالت میں آئے کہ عورت آگے کی جانب جھکی ہوئی ہو تو بچہ احول (بھینگا) ہوتا ہے ، اس پہ یہ آیہ مقدسہ نازل ہوئی : نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم ۔ (سورہ البقرۃ ۳۲۲)


ان شاء مجبیۃ وان شاء غیر مجبیۃ اذا کان فی صمام واحد ۔ (صحیح مسلم حدیث رقم ۳۹۵۲)(صحیح ابن حبان حدیث رقم ۶۶۱۴)(السنن الکبری للبیہقی حدیث رقم ۵۸۴۴۱)(المعجم الاوسط للطبرانی حدیث رقم ۵۳۰۸، چشتی)(شرح مشکل الآثار للامام الطحاوی حدیث رقم ۵۲۱۶)(شرح معانی الآثار حدیث رقم ۱۹۳۴)

”اذا کان فی صمام واحد“ بھی حلت کے ایک ہی سوراخ پہ انحصار میں صریح ہے ۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنی زبانِ اقدس سے حلت کو ایک ہی سوراخ پہ منحصر فرمایا ۔سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیہ مقدسہ : نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم ۔ سے متعلق فرمایا : یعنی : صماما واحدا ۔ (جامع الترمذی حدیث ۹۷۹۲)(مسند احمد حدیث ۳۴۶۶۲، ۵۸۶۶۲، ۹۴۷۶۲)(مصنف ابن ابی شیبۃ حدیث رقم ۴۳۹۶۱)


بعض روایات میں مکرر ہے یعنی : صماما واحدا صماما واحدا ۔ (جامع البیان للطبری جلد ۳ صحہ ۶۵۷ ، ۷۵۷)


بعض روایات میں فرمایا:سمام واحد سمام واحد ۔ (مسند ابی یعلی حدیث ۲۷۹۶) ۔ یعنی ایک ہی سوراخ میں آنا حلال ہے ۔


بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : یأتیھا مقبلۃ ومدبرۃ فی سر واحد یعنی فی ثقب واحد۔(السنن الکبری للبیہقی حدیث رقم ۷۸۴۴۱)


اور بعض روایات میں بسند حسن کلمہ حصر بھی مذکور ہے ، فرمایا : لا الا فی صمام واحد ۔(مسند احمد حدیث ۰۴۷۶۲)(تفسیر ابن ابی حاتم ج۲ص۴۰۴) ۔ یعنی ایک رستے کے سوا کوئی دوسرا رستہ جائز نہیں ۔


آخر الذکر روایت تو حلت کے ایک ہی سوراخ میں انحصار کے باب میں نصّ ہے ۔ اور جس طرح دبر دوسرا سوراخ ہے یونہی منہ بھی دوسرا سوراخ ہے ۔ پس دونوں میں سے کوئی بھی محلِّ حلت نہیں ۔


اس حدیث سے اس وہم کا ازالہ بھی ہو گیا کہ اگر مذکورہ بالا آیات فرج کی حلت اور غیرِ فرج کی حرمت کی مفید ہیں تو تفخیذ وتبطین وغیرہ بھی حرام ہونی چاہئیں ۔ کیونکہ کلماتِ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دال کہ کلام ”صمام“ یعنی رستے وسوراخ میں ہے ۔ تفصیلِ مقام یہ ہے کہ : مستثنی منہ میں اصل معنی میں مستثنی سے موافقت ہے ۔ ”مارأیت الا زیدا“ کی تقدیر میں اصل ”ما رأیت انسانا الا زیدا“ ہے۔امام فخر الاسلام علی بن محمد البزدوی (المتوفی ۲۸۴ھ) رقم فرما ہیں : ان المستثنی منہ إنما یثبت علی وفق المستثنی فیما استثنی من النفی کما قال فی الجامع أن کان فی الدار لا زید فعبدی حران المستثنی منہ بنوادم ولو قال الاحمار کان المستثنی منہ الحیوان لان المستثنی حیوان ولو قال الامتاع کان المستثنی منہ کل شیء ۔ (اصول البزدوی صفحہ۲۶۲)


امام شمس الائمۃ سرخسی کے کلمات بھی ایسے ہی ہیں فرمایا : الاصل فی الاستثناء من النفی أن المستثنی منہ فی معنی المستثنی، وعلی ہذا بنی علماؤنا مسائل:فی الجامع:إذا قال إن کان فی ہذہ الدار إلا رجل فعبدہ حر، فإذا فی الدار سوی الرجل دابۃ أو ثوب لم یحنث، وإن کان فیہا سوی الرجل امرأۃ أو صبی حنث۔ولو کان قال إلا حمارا فإذا فیہا حیوان آخر سوی الحمار یحنث، وإن کان فیہا ثوب سوی الحمار لم یحنث، وإن کان قال إلا ثوب فأی شیئ یکون فی الدار سوی الثوب مما ہو مقصود بالامساک فی الدور یحنث، فعرفنا أن المستثنی منہ فی معنی المستثنی ۔ (اصول السرخسی جلد ۲ صفحہ ۷۶۱ ، ۸۶۱)


ان کلمات سے ملتے جلتے کلمات لا تعداد کتبِ اصول میں درج ہیں لیکن ان امامان جلیلان رضی اللہ تعالی عنہما کی شہادت کے بعد کسی دوسری شہادت کی حاجت نہیں ۔ لہٰذا ”لا الا فی صمام واحد“ کی تقدیر ”لا یحل لہ الاتیان فی اصمتھا الا فی صمام واحد“ یا اس کی مثل ہونی چاہیے ۔


اور اب اس کلام کی دلالت خوب واضح ہو چکی ہے کہ کلام عورت کے بدن کے سوراخوں سے متعلق ہے اور ان میں سے ایک سوراخ کے علاوہ کوئی دوسرا سوراخ حلال نہیں ۔ لہٰذا عورت کی دبر ، منہ ، عورت کی فرج کے علاوہ بدن کے کسی بھی سوراخ میں مرد کےلیے حلال نہیں کہ وہ اس میں اپنا آلۂ تناسل داخل کرے ۔ پس اگر کان یا ناک میں ادخال متصور ہو تو ان کا حکم بھی منہ اور دبر والا ہی ہوگا ۔ رہی تفخیذ وتبطین وغیرھما تو ان میں ”ایلاج فی صمام“ یعنی ”سوراخِ بدن میں مباشرت“ نہ ہونے کی وجہ سے کلماتِ بالا ان سے مانع نہیں ۔


بہر حال کلمات مذکورہ بالا سے واضح ہو چکا کہ مرد کا اپنی بیوی کے منہ میں اپنا آلہ مردمی ڈالنا حرام ہے اور یوں دوسری بات کے ثانی کے جزء اول کا جواب آگیا ۔ ذیل میں مذکور کلام سے دوسری بات کے جزء ثانی کے جواب کے ساتھ ساتھ حکمِ بالا کی تائید تقویت بھی ہوتی ہے اور سوالِ اول کے جواب میں ہم نے جو صورتیں ذکر کیں ، ان میں سے جزء اخیر کا جواب بھی مستفاد ہے ۔


خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مرد کا اپنا آلہ مردمی عورت کے منہ میں ڈالنا ، جماع سے قبل شہوت کی حالت میں مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کو چوسنا اور چاٹنا اور یوں ہی اس حالت میں مخرج سے اجتناب کیے بغیر ایک دوسرے کے اندامِ نہانی کا بوسہ لینا مکروہ و حرام ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ : ہمبستری سے پہلے اکٹھے ہونے کی صورت میں مرد اور عورت کی شرمگاہوں سے مذی اور قذی نکلتی ہے جو ناپاک ہے ۔ پس اگر مرد اور عورت مخرج سے اجتناب کیے بغیر ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں ، یا مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چاٹے یاعورت اپنے شوہر کے آلہ مردمی کو چوسے ، یا اس حالت میں مرد اپنا آلہ تناسل عورت کے منہ میں ڈالے تو ہر ایک کا دہن و زبان ناپاکی سے لتھڑیں گے ۔ بلکہ بہت ممکن کہ وہ ناپاکی لعاب کے ساتھ مل کر حلق سے نیچے اتر جائے ۔ حالانکہ ناپاکی سے اجتناب واجب اور اس کو کھانے پینے کی حرمت ثابت ، لہٰذا ان افعالِ شنیعہ سے بچنا واجب اور ان کا ارتکاب حرام ٹھہرا ۔


ہمبستری سے پہلے مرد اور عورت کے مقاماتِ مخصوصہ سے مذی اور قذی کے نکلنے میں تو شاید ہی کسی کو اختلاف ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ مباشرتِ فاحشہ کو ناقض وضوء شمار کیا گیا ہے ۔ امام شامی رحمة اللہ علیہ رقمطراز ہیں : لانھا لاتخلو عن خروج مذی غالبا وھو کالمتحقق فی مقام وجوب الاحتیاط اقامۃ للسبب الظاہر مقام الامر الباطن ۔ (رد المحتار جلد ۱ صفحہ ۷۰۴)


رہا مذی کا ناپاک ہونا تو اس کا بیان مضمون میں گزر چکا ہے ۔


رہی یہ بات کہ ”ایسی حالت میں مخرج سے اجتناب کیے بغیر مرد اور عورت ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں یا چوسیں یا چاٹیں یا مرد اپنا ذَکر بیوی کے منہ میں ڈالے تو ان کے دہن وزبان مذی سے لتھڑیں گے اور قریب کہ وہ مذی لعاب سے مل کر شوہر وبیوی کے پیٹ میں داخل ہوجائے“ ۔ تو یہ امر فقیر کی نگاہ میں بدیہیات سے ہے اور فقیر پر امید ہے کہ اس کا انکار نہ کرے گا مگر جاہل یا معاند ۔ ہاں یہ مقدمہ باقی ہے کہ نجاسات سے اجتناب واجب اور ان کو کھانا پینا حرام ہے ۔


نجاست سے اجتناب کے وجوب کے بیان کےلیے وہ حدیث کافی ، جوحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عامۃ عذاب القبر من البول فاستنزھوا من البول ۔(مسند البزار حدیث رقم ۷۰۹۴)


اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : استنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبر منہ۔(سنن الدارقطنی حدیث رقم ۴۶۴،چشتی)

جب بدن کے عام اعضاء کو نجاست سے نہ بچانا حرام اور موجبِ عذاب قبر ہو سکتا ہے تو دہن و لسان تو بدن کے اکرم اعضاء سے ہیں ، انہیں یوں نجاسات پہ پیش کرنا اور ناپاکی سے لتھڑنا کیسے حلال ہو سکتا ہے ؟


واضح رہے کہ خاص حالتِ جماع میں بھی نجاستوں سے پرہیز لازم ہے الا آنکہ عذر ہو جیسے سلس البول ، استحاضۃ وغیرہ ۔ امام ابنِ عابدین شامی رحمة اللہ عیہ تحریر فرما ہیں : أفتی بعض الشافعیۃ بحرمۃ جماع من تنجس ذکرہ قبل غسلہ إلا إذا کان بہ سلس فیحل کوطء المستحاضۃ مع الجریان ویظہر أنہ عندنا کذلک لما فیہ من التضمخ بالنجاسۃ بلا ضرورۃ لإمکان غسلہ بخلاف وطء المستحاضۃ ووطء السلس تأمل۔ وبقی ما لو کان مستنجیا بغیر الماء ففی فتاوی ابن حجر أن الصواب التفصیل وہو أنہ إذا کان لعدم الماء جاز لہ الوطء للحاجۃ وإلا فلا۔ قال وروی أحمد بسند ضعیف أن رجلا قال یا رسول اللہ الرجل یغیب لا یقدر علی الماء أیجامع أہلہ قال نعم اھ ـ (رد المحتار ج۱ص۸۹۲)

کلماتِ بالا کا حاصل یہ ہے کہ : اگر مرد کے ذکر پہ نجاست لگی ہو ، چاہے صرف اتنا ہی ہوکہ پیشاب کیا اور سرے سے استنجاء نہیں کیا ، پھر بھی جب تک اپنے آلہ تناسل کو دھو کر پاک نہ کر لے اس کا بیوی سے ہمبستری کرنا حلال نہیں ۔ کیونکہ اگر وہ ایسی ہی حالت میں بیوی کے قریب جاتا ہے تو بلاحاجت بیوی کی شرمگاہ مرد کے آلہ تناسل پہ لگی نجاست سے لتھڑے گی ، اور بیوی کی فرج کی رطوبت سے مل کر وہ نجاست مرد کے آلہ تناسل کو مزید آلودہ کرے گی ، اور چونکہ بلاعذر نجاست سے لتھڑنا جائز نہیں ، لہٰذا ایسی حالت میں مرد کا اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا حرام ہے ۔


اللہ اکبر کہاں عورت کی شرمگاہ جو قریب کہ قذی کی نجاست سے پہلے ہی لتھڑی ہو اور مرد کا ناپاک آلۂ تناسل ۔ اور کہاں انسان بلکہ مسلمان کے ذکر الہٰی کرنے والے پاک دہن و زبان ۔ جس پاک شریعت کو بلاعذر عورت کی شرمگاہ کا ناپاکی سے لتھڑنا اور مرد کے ناپاک ذَکَر پہ ناپاکی کا پھیلنا پسند نہیں وہ بدن کے ان اکرم اعضاء کو یوں نجاستوں سے آلودہ کرنے کی اجازت دے گی ؟ واللہ ہر گز نہیں ۔ یہ دین دے کر بھیجے جانے والی ذاتِ مقدسہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رب جل و علا ان کے بارے میں فرماتا ہے : ویحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث ۔ (الاعراف ۷۵۱)

اس کریم آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خبیث چیزوں کو حرام فرمایا اور اس سے بڑھ کر خبث کیا ہو گا کہ انسان جان بوجھ کر اپنے منہ پہ ناپاکی ملے اور اسے زبان سے چاٹے ۔


اور رہی نجاسات کے کھانے پینے کی حرمت تو وہ محتاجِ بیان نہیں ، کیونکہ حکمِ نجاست میں حکمت ہی یہ ہے کہ ہر حال میں اس چیز سے اجتناب کیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ نجس کی حرمت علماء کے بیچ متفقہ ہے ۔ ابنِ حزم ظاہری نے اس پہ اتفاق ذکر کرتے ہوئے لکھا : واتفقوا علی ان اکل النجاسۃ وشربھا حرام حاشا النبیذ المسکر ۔ (مراتب الاجماع ص۹۱)


انام ابن عابدین شامی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : والحرمۃ فرع النجاسۃ ۔ (رد المحتار جلد ۶ صفحہ ۲۳۷،چشتی)


پس جب نجاستوں کو کھانا پینا حرام ہے تو اعضاءِ تناسلیہ کو چوسنا اور چاٹنا کیسے حلال ہو سکتا ہے کہ جس فعلِ شنیع میں نجاست کے پیٹ میں چلے جانے کا قوی احتمال ، بلکہ مقامِ وجوبِ احتیاط میں کالمتحقق اور متحقق کے حکم کا مستحق ۔ اور کم سے کم نجاست سے لتھڑنا تو یقینی ۔ تو کیا اثباتِ حرمت کےلیے یہ برائی کافی نہیں ؟

حق تو یہ ہے کہ ہر طبیعتِ سلیمہ اس فعلِ شنیع کو برا اورخبیث جانتی رہی ہے ۔ اہلِ عرب گالی دیتے وقت کہا کرتے تھے : امصص بظر امک ۔ (عمدۃ القاری جلد ٢٠ صفحہ ۹۹۴،چشتی)(فتح الباری جلد ۵ صفحہ ٣٤٠)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اذا سمعتم من یعتزی بعزاء الجاہلیۃ فأعضوہ ولاتکنوا ۔ (مسند احمد بن حنبل حدیث رقم ۱۷۲۱۲، ۲۷۲۱۲، ۳۷۲۱۲)


اور بعض روایات میں ہے : کنا نؤمر اذا الرجل تعزی بعزاء الجاہلیۃ فأعضوبھن ابیہ ولاتکنوا ۔ (مسند احمد بن حنبل حدیث رقم ۴۷۲۱۲، ۵۷۲۱۲)


شرح السنۃ میں ہے قولہ : بھن ابیہ یعنی : ذکرہ ، قلت : یرید یقول لہ : اعضض بأیر ابیک ۔ (شرح السنۃ للبغوی جلد ۳۱ صفحہ ۱۲۱)


غریب الحدیث لابن الجوزی اور النھایۃ فی غریب الاثر میں ہے:فأعضوہ بہن أبیہ ولا تکنوا أی قولوا لہ أعضض بأیر أبیک ولا تکنوا عن الأیر بالہن تنکیلا۔(غریب الحدیث لابن الجوزی ج۲ص۳۰۱، النھایۃ فی غریب الاثر ج۳ص۴۹۴)


”بھن ابیہ“ کے تحت علامہ عبد الرؤف مناوی لکھتے ہیں:ای قولوا لہ:اعضض بھن ابیک او بذکرہ۔(فیض القدیر ج۱ص۹۵۴)

آگے چل کر ”أعضوہ“ کے تحت فرمایا:ای قولوا لہ:اعضض بظر امک۔(فیض القدیر ج۱ص۹۸۴)


جب عروۃ بن مسعود نے دربار رسالت میں مسلمانوں سے متعلق اپنا یہ تأثر ظاہر کیا کہ یہ لوگ ٹکنے والے نہیں اور آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : امصص ببظر اللات انحن نفر عنہ وندعہ ؟ ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۱۳۷۲، ۲۳۷۲)(مسند احمد ۰۳۹۸۱)(مسند ابی یعلی حدیث رقم ۲۴)(السنن الکبری للبیہقی حدیث رقم ۰۸۲۹۱)(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۵۴۴۶۱،چشتی)(دلائل النبوۃ للبیہقی ج۴ص۳۰۱)(صحیح ابن حبان حدیث رقم ۲۷۸۴)(مصنف ابن ابی شیبۃ حدیث رقم ۰۱۰۸۳)(مصنف عبد الرزاق حدیث رقم ۰۲۷۹)


ان کلمات کا سب و شتم ہونا اور مقابل کی مذمت و تخسیس میں ان کا ذکر کیا جانا واضح ثبوت ہے کہ اربابِ عقولِِ سلیمہ و اصحابِ طبائع مستقیمہ کے ہاں یہ فعل قباحت وشناعت سے خالی نہیں ۔پھر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ماں ، باپ کے ذکر کے بجائے ”بظر اللات“ کہنا دلیلِ بین ہے کہ مدلولِ جملہ کی شناعت ماں اور باپ کی طرف نسبت پر موقوف نہیں بلکہ مص کی بظر کی طرف نسبت ہی مذمت و تحقیر کےلیے کافی ہے ۔


ایک ایسا فعل کہ جسے ہر صاحبِ عقلِ سلیم برا جانے ، شریعتِ مطہرہ اسلامیہ اس کو کب جائز ٹھہرائے گی ؟ اس کا ارتکاب نہیں کیا مگر کالانعام یہود و نصاری اور ان کے امثال نے ، وہ لوگ جو سرِ راہ زنا کو ترقی جانتے اور اپنی ماؤں بہنوں سے زنا کو فکرِ نو مانتے ہیں ۔ پھر ان انسانیت کے دشمنوں نے ان افعالِِ شنیعہ کی اشاعت کر کے انسانیت دشمنی کا حق ادا کیا ، اورپھر مسلمانوں میں سے بعض نے ان کی پیروی کی اور یہ نہ سوچا کہ یہ کام سراسر جانوروں کا ہے اور وہی وہ ہیں جو اپنی مادہ کی فرج کو چاٹتے ہیں ۔اور شریعتِ مطہرہ اسلامیہ کو ہر گز پسند نہیں کہ انسانِ مکرم جانوروں کے بُرے طریقے اپنائے بھلے وہ قضاءِ شہوت ہی سے متعلق کیوں نہ ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اذا اتی احدکم اہلہ فلیستتر ولا یتجرد تجرد العیرین ۔(سنن ابن ماجہ حدیث رقم ۱۲۹۱)(مسند البزار حدیث رقم ۱۰۷۱)(السنن الکبری للبیقہی حدیث رقم ۵۷۴۴۱،چشتی)(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۲۶۷۳۱)


اور فرمایا : فبینما ہم کذلک إذ بعث اللہ ریحا طیبۃ فتأخذہم تحت آباطہم فتقبض روح کل مؤمن وکل مسلم ویبقی شرار الناس یتہارجون فیہا تہارج الحمر فعلیہم تقوم الساعۃ۔(صحیح مسلم حدیث رقم ۰۶۵۷،چشتی)(سنن ابن ماجہ حدیث رقم ۵۷۰۴)(مسند احمد حدیث ۶۶۶۷۱)


اور حضرت عبد اللہ بن عمرو سے موقوفا ہے:فاذا کان ذلک اشتد غضب اللہ علی اہل الارض فاقام الساعۃ۔(مستدرک علی الصحیحین رقم الحدیث ۷۰۴۸)


حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ جل مجدہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:لایقع احدکم علی اہلہ مثل البہیمۃ علی البہیمۃ ۔ (الغرائب الملتقطۃ من مسند الفردوس حدیث رقم ۱۴۳۱)


جب شریعتِ طیبہ اسلامیہ مطہرہ جانوروں کا سا تجرد پسند نہیں کرتی تو کیا جانوروں کا سا ایک دوسرے کی فروج کو چاٹنا جائز ٹھہرائے گی ؟

اس سب سے ہٹ کر اگر اس فعلِ قبیح وشنیع کے انسانی طبیعت پہ برے اثرات دیکھے جائیں تو اس کا ارتکاب نہ کرے گا مگر اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنے والا ۔ جدید سائنسی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ منہ، گلے وغیرہ کے کینسرز کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب منہ کے ذریعے جنسی عمل کی ادائیگی ہے۔یعنی مرد کا اپنا ذَکَر عورت کے منہ میں ڈالنا، یا دونوں کا ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کو چوسنا یا چاٹنا ۔


اس کلام کی تصدیق کےلیے نیٹ پہ شائع ہونے والے لاتعداد مضامین کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ، یا کم از کم ڈاکٹرز حضرات سے رجوع کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ اصحابِ فن ہیں اور اس باب میں بہتر جانتے ہیں۔انگلش میگزین New Scientist 09 May 2007 میں ایک مضمون بعنوان ”Oral sex can cause throat cancer“ کے ابتدائی کلمات کچھ یوں ہیں :

People who have had more than five oral-sex partners in their lifetime are 250% more likely to have throat cancer than those who do not have oral sex, a new study suggests.


The researchers believe this is because oral sex may transmit human papillomavirus (HPV), the virus implicated in the majority of cervical cancers.


ویکیپیڈیا پر نشر مضمون بعنوان ”Oral Sex“ میں ہے :

Links have been reported between oral cancer and oral sex with HPV-infected people. In 2005, a research study at the College of Malmo" in Sweden suggested that performing unprotected oral sex on a person infected with HPV might increase the risk of oral cancer. The study found that 36 percent of the cancer patients had HPV compared to only 1 percent of the healthy control group.


Another recent study suggests a correlation between oral sex and head and neck cancer. It is believed that this is due to the transmission of human papillomavirus (HPV), a virus that has been implicated in the majority of cervical cancers and which has been detected in throat cancer tissue in numerous studies. The New England Journal of Medicine study concluded that people who had one to five oral-sex partners in their lifetime had approximately a doubled risk of throat cancer compared with those who never engaged in this activity and those with more than five oral-sex partners had a 250% increased risk.


جب جدید تحقیقات سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ یہ فعلِ شنیع وقبیح امراضِ مہلکہ کے بڑا سبب ہے تو اب شریعتِ مطہرہ کے احکام اور ان کی حِکَم پر مطلع شخص ہرگز اس فعلِ شنیع وقبیح کے شناعت وقباحت میں شک نہ کرے گا۔اس دین میں تو حلال نہیں مگر صرف طیب، رہا خبیث تو اس کی کوئی گنجائش نہیں:ویحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث ۔ (سورہ الاعراف ۷۵۱)


شریعتِ اسلامیہ اس کام سے روکتی ہے جس میں ضرر ہو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:لا ضرر ولاضرار ۔ (رواہ ابن ماجہ عن عبادۃ ابن الصامت برقم ۰۴۳۲، وعن ابن عباس برقم ۱۴۳۲) 


اور شریعتِ مطہرہ کے احکام اور ان کی حِکَم پر مطلع جانتا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے لاتعداد ایسے کاموں سے روک دیا جن میں انسان کو نقصان ہے ۔ خود رب جل مجدہ نے فرمایا : شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا الآیۃ ۔ (سورہ الشوری ۳۱)

یہ دین نفعِ عباد کےلیے ہے ، اسے عباد کا نقصان پسند نہیں ۔ اگر عباد کا نقصان پسند ہوتا تو بیوی اور کنیز کے اگلے مقام کو حلال فرمانے کے باوجود پچھلے مقام کو حرام فرمانے اور پھر حیض کے دوران ”ھو اذی“ فرما کر اگلے مقام سے بھی روک دینے کا کوئی قابلِ فہم سبب نظر نہیں آئے گا ۔ کتبِ فقہ کی طرف توجہ کی جائے تو فقہاء کرام کسی کام سے روکتے ہوئے جابجا فرماتے نظر آتے ہیں : لا ضرر و لاضرار فی الاسلام ۔

میں ان احکام کا نہ تو احصاء چاہوں گا اور نہ ہی مثال ، کیونکہ احصاء متعذر ہے اور مثال موہمِ انحصار ۔ بہر حال خلاصۂ کلام یہ ہے کہ : جنسی عمل کی منہ کے ذریعے ادائیگی کی صورت میں ازروئے شرع کثیر خرابیوں کے ساتھ ساتھ منہ ، گردن وغیرہ کے کینسر کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے لہٰذا اس سے اجتناب لازم اور اس کا ارتکاب اخروی بدنصیبی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی نقصان کا باعث۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

خارجی اور ناصبی

خارجی اور ناصبی وہ لوگ تھے جو حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مرید و معتقد تھے جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ...