Sunday, 1 March 2026

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان

محترم قارئینِ کرام : کسی بھی مسلمان شخص کو کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف جنگ میں غیر مسلم کے حق میں لڑنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگر وہ جنگ کرتے ہوئے قتل ہو جائے تو وہ شہید نہیں ہو گا ۔ دوسرا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کہ وہ کتنا مجبور تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف لڑنا پڑا ۔


حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا ۔ (صحیح بخاری نمبر 6875)(صحیح مسلم نمبر 2888)


عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا ، کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو (ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو) ۔ (سنن نسائی نمبر 4130) 


أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ۔

ترجمہ : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے ۔ (سنن نسائی كتاب تحريم الدم حدیث نمبر 4116)(صحیح بخاری نمبر 6044)


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "، قَالَ زُبَيْدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَوْلُ زُبَيْدٍ لِأَبِي وَائِلٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔ زبید نے کہا : میں نے ابووائل سے پوچھا : کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ شعبہ کی روایت میں زبید کے ابووائل سے پوچھنے کا ذکر نہیں ہے ۔ (صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ حدیث نمبر 221)


فسق کا مطلب ہے : اللہ تعالی کی نافرمانی ۔ تومسلمان کو گالی دینا فسق ہے کا مطلب ہے کہ : مسلمان کوگالی دیناگناہ وحرام ہے ۔


اور کفر کے یہاں مختلف معانی ہو سکتے ہیں : (1) نعمت کی ناشکری جوکہ حقیقی کفر کا سبب بن سکتی ہے ۔ (2) کافروں کا سا کام ۔ (3) حقیقی کفر ، اور یہ تب ہے جبکہ مسلمان کے ساتھ ناحق قتال کو حلال سمجھ کر کرے یا اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ قتال کرے ۔ (4) اور یا پھر وعید کی شدت بیان کرنے کےلیے کفر کا اطلاق کیا گیا ۔


قتال کا مطلب ہے : لڑائی جھگڑا ، مارپیٹ ، جنگ ، قتل ۔


مذکورہ حدیثِ مبارکہ کامطلب یہ بنے گا کہ : مسلمان کو ناحق گالی دینا گناہ و حرام ہے اور مسلمان سے ناحق قتال ناشکری ہے یا کافروں کا سا کام ہے یا اسےحلال سمجھ کر کرنا کفر ہے یا مسلمان سے ناحق قتال کی بہت ہی سخت سزاہے ۔


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : أي: شتمه۔۔۔ لأن شتمه بغير حق حرام۔ قال الأكمل: الفسوق۔۔۔شرعا هو الخروج عن الطاعة (وقتاله) أي: محاربته لأجل الإسلام (كفر) . كذا قاله شارح، لكن بُعده لا يخفى؛ لأن هذا من معلوم الدين بالضرورة فلا يحتاج إلى بيانه، بل المعنى: مجادلته ومحاربته بالباطل كفر بمعنى: كفران النعمة والإحسان في أخوة الإسلام، وأنه ربما يئول إلى الكفر، أو أنه فعل الكفرة، أو أراد به التغليظ والتهديد والتشديد في الوعيد، كما في قوله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من ترك صلاة متعمدا فقد كفر » نعم قتاله مع استحلال قتله كفر صريح ۔

ترجمہ : (سباب سے مراد) گالی دینا ہے ، کیونکہ مسلمان کو ناحق گالی دینا حرام ہے ۔ اور اکمل نے کہا کہ فسوق کا شرعی معنی ہے اللہ پاک کی اطاعت سے نکلنا ۔ اور قتال یعنی مسلمان سے اسلام کی وجہ سے لڑنا کفر ہے ۔ اسی طرح شارح نے کہا لیکن اس کا بعید ہونا مخفی نہیں کیونکہ یہ ضروریاتِ دین سے معلوم ہے اور اس کو بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں بلکہ معنی یہ ہے کہ مسلمان سے نا حق لڑنا جھگڑنا کفر ہے ، ان معنی میں کہ یہ نعمت اور اسلام میں بھائی چارے کی نیکی کا انکار ہے یا پھر یہ کہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے یا یہ کفار کا کام ہے یا اس سے جرم کی بڑائی ، اس سے ڈرانا اور وعید میں شدت مراد ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان میں ہے کہ : جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو تحقیق اس نے کفر کیا ۔ اور ہاں مسلمان کے ناحق قتل کو حلال جان کر اس سے قتال کرنا تو بلا شبہ صریح کفر ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الآداب باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم جلد 9 صفحہ 54 مطبوعہ کوئٹہ)


مراٰۃ المناجیح میں ہے : کفر یا بمعنی کفران نعمت یعنی ناشکری ہے ، ایمان کا مقابل یعنی بلا قصور مسلمان کو برا کہنا اور بلا قصور اس سے لڑنا بھڑنا ناشکری ہے یا کفا ر کا سا کام ہے یا اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے مارنا پیٹنا یا ناجائز جنگ کو حلال سمجھ کر کرنا کفر و بے ایمانی ہے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 448 نعیمی کتب خانہ گجرات)


احادیث مبارکہ کی روشنی میں خوارج کی نشانیاں : ⏬


خارجیت دراصل منتشرُالخیالی اور منتشرُالعملی کا ابلیسی فتنہ ہے جس کی کوکھ سے جہالت ، درندگی ، وحشت و دہشتگردی جنم لیتی ہے ۔ یہ تاریخ اسلام میں یہ فتنہ ابتدائی زمانے میں ہی پیدا ہوگیا تھا جس نے پہلا منظم حملہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی مقدس جماعت پر کیا اور (نعوذباللہ) امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو کافر و مشرک قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ۔ یہ ایک انتہا تھی ۔ قانونِ فطرت کے تحت اس کا رد عمل دوسرے بڑے فتنہ روافض کی صورت میں سامنے آیا جو کہ ایک دوسری انتہا تھی ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اعتقادی ، فکری ، کلامی فسادات رونما ہونے میں یہی دو فتنے (خوارج و روافض) کار فرما رہے ۔ البتہ فتنہ خوارج سے آگہی و پہچان قرآن و سنت میں واضح کروا دی گئی ہے ۔ آئمہ تاریخ کی تحقیقات کے مطابق خوارج کے تقریباً بیس مختلف فرقے ہیں لیکن احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان کے دو گروہ نمایاں ہیں ۔ پہلا نجدیہ دوسرا حروریہ ۔ البتہ تاریخ اسلام میں اہل حق طبقہ ہمیشہ اعتدال ، سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، صبر ، قربانی ، باہمی رواداری اور جمعیت کا دامن تھامے نظر آتا ہے ۔ جسے عام اصطلاح یں ’’اہلسنت و جماعت‘‘ کہا جاتا ہے ۔


خوارج کون ہیں اور ان کے عقائد کیا ہیں ؟ اس کے بارے میں امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ‫: نافع بن الازرق خارجی اور اس کے ساتھی یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جب تک ہم شرک کے ملک میں ہیں تب تک مشرک ہیں اور جب ملک شرک سے نکل جائیں گے تو مومن ہوں گے ان کا کہنا تھا کہ جس کسی سے گناہ کبیرہ سرزد ہوا وہ مشرک ہے اور جو ہمارے اس عقیدے کا مخالف ہوا وہ بھی مشرک ہے جو لڑائی میں ہمارے ساتھ نہ ہو وہ کافر ہے ‫۔ ابراہیم الخارجی کا عقیدہ تھا کہ دیگر تمام مسلمان قوم کفار ہیں اور ہم کو اُن کے ساتھ سلام و دُعا کرنا اور نکاح ورشتہ داری جائز نہیں اور نہ ہی میراث میں اُن کا حصہ بانٹ کر دینا درست ہے ۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے بچے اور عورتوں کا قتل بھی جائز تھا کیونکہ اللہ تعالٰی نے یتیم کا مال کھانے پر آتش جہنم کی وعید سنائی ہے لیکن اگر کوئی شخص یتیم کو قتل کر دے یا اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے یا اس کا پیٹ پھاڑ ڈالے تو جہنم واجب نہیں ۔ (تلبس ابلیس علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ صفحہ 126 ، 127،چشتی)


(1) أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ’، وہ کم سن لڑکے ہوں گے ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب ، 6 : 2539، رقم : 6531۔۔مسلم، الصحيح، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066)


(2)  سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، دماغی طور پر ناپختہ ہوں گے ۔ (3) کَثُّ اللِّحْيَةِ ، گھنی ڈاڑھی رکھیں گے ۔ (4) مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ،بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے ۔ (5) يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے ۔ (6) لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ ، یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا ۔ (7) لَا يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ (8) يَتَعَمَّقُوْنَ وَيَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ ، وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 10 صفحہ 155 رقم : 18673،چشتی)


(9) يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ ۔ (بخاری) ، تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا ۔


(10) لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ ، نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔ (مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066)


(11) يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَ تِهِمْ بِشَيءٍ . وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی ۔


(12)  يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. ’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔


(13) يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ. ’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا ۔


(14) يَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ ﷲِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ. (ابوداود باب فی قتل الخوارج) وہ لوگوں کو کتاب ﷲ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا ۔


(15) يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ. ’’وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے ۔ (بخاری)


(16) يَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا. ’’ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی ۔ (طبرانی)


(17) يُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ. ’’مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔‘‘ (أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765،چشتی)


(18) هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. ’’وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے ۔ (مسلم)


(19) يَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَيَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ. ’’وہ حکومت وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتويٰ لگائیں گے ۔

هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 228، وقال : رجاله رجال الصحيح.


(20) يَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ . وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا ۔ (متفق علیہ)


(21) يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدْعُوْنَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ . وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ۔ (متفق علیہ)


(22) يَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ. ’’وہ ناحق خون بہائیں گے ۔ (مسلم)


(23) يَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَيَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ ﷲِ وَيَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ . (من کلام عائشة رضي ﷲ عنها) ۔ وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا ﷲ تعاليٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے ۔ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔) (حاکم، المستدرک، 2 : 166، رقم : 2657)


(24) يُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَيَهْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِهه. (قول ابن عباس رضی الله عنه) . وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے ۔ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما) (امام طبری۔عسقلانی)


(25) يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. (قول علي رضی الله عنه) ’’وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔ (قولِ علی رضی اللہ عنہ) (مسلم)


(26) ينْطَلِقُوْنَ إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَيَجْعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ . (من قول ابن عمر رضی الله عنهما) (بخاری) ۔ وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے ۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں ۔ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)


(27) يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ . وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے ۔


(28) اَلْأَجْرُ الْعَظِيْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ. ’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا ۔ مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066،چشتی)


(29) وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے ۔ (ترمذی)


(30) کلاب النار ۔۔ خوارج جہنم کے کتے ہیں ۔ (السنن ابن ماجہ۔ باب فی الذکر الخوارج ۔ ۱: ۶۲، رقم۔۱۷۶


متعدد احادیث مبارکہ میں فرامین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہ خوارج دہشت گردوں کے گروہ امت مسلمہ کے اندر یکے بعد دیگرے نکلتے رہیں گے۔ حتی کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ جا کر ملے گا ۔


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یخرج قوم من قبل المشر یقروون القرآن ، لایجاوز تراقیم کلما قطع قرن نشا قرن، حتی یخرج فی بقیتھم الدجال ۔

ترجمہ : مشرق کی طرف سے کئی لوگ نکلیں گے ۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ، جب ایک شیطانی سینگ یعنی دہشت گرد گروہ کو کاٹ دیا جائے گا تو دوسرا نکلے گا ، یعنی گروہ در گروہ پیدا ہوتے رہیں گے ۔ حتی کہ ان کے آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا ۔ (احمد بن حنبل المسند۔ ۲، ۲۰۹، رقم ۶۹۵۲)(طبرانی المعجم الاوسط۔ ۷: ۴۱، رقم ۶۷۹۱)(امام حاکم المستدرک ۔ ۴: ۵۵۶، رقم ۸۵۵۸)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان محترم قارئینِ کرام : کسی بھی مسلمان شخص کو کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف جنگ میں غیر مس...