غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم
محترم قارئینِ کرام : جمہور ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے نزدیک قتل غیرت دیانۃ جائز ہے ، لیکن قاتل پر قضاء قصاص لازم ہے ۔ فقہائے کرام اربعہ علیہم الرحمہ نے صراحت کی ہے کہ حد و تعزیر نافذ کرنا حاکمِ اسلام یا اس کے مقرر کردہ حکام کا کام ہے ۔ فتاوی رضویہ میں کسی مسلمان کو بلاوجہ کافر کہنے کے متعلق ہے : کسی شخصِ مسلم پر بلا وجہ شرعی حکمِ تکفیر بحسبِ ظواہر احادیث صحیحہ و نصوص صریحہ جمہور فقہاء خود قائل کےلیے مستلزم کفر ہے ۔ قال صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فقد باء بہ احد ھما “حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو ''اوکافر '' کہے ، تو وہ کفر دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹ پڑتا ہے ۔ اور اس پر ضرور تعزیر شرعی لازم ہے کہ حاکمِ اسلام کی رائے پر ہے ، سلطان اسلام یا اس کے مقرر کردہ حکام ضرب و حبس سے قتل تک اسے تعزیر دے سکتے ہیں ، تعزیر ہم لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ، ہمارے پاس اسی قدر ہے کہ اس سے میل جول سلام کلام ترک کریں ۔ قال صلی ﷲ تعالیٰ علیہ و سلم فایاکم و ایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ و قال تبارک وتعالیٰ : وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : (لوگو!) گمراہوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ تمہیں گمراہ نہ کریں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ، اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو ۔ (فتاوی رضویہ جلد21 صفحہ 252 رضا فاؤنڈیشن لاھور)
حدود شرعیہ صرف حاکمِ اسلام ہی قائم کر سکتا ہے ، نہ خود مجرم اپنے کو سزا دے اور نہ کوئی اور ۔ (مراۃ المناجیح باب مالا یدعی علی المحدود باب محدود کو بددعا نہ کی جائے جلد 5 صفحہ 322 نعیمی کتب خانہ گجرات)
چند صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں حاکمِ اسلام کےلیے مجرم کو قتل کرنے کی اجازت ہے جیسے قاتل کو قصاص میں ، شادی شدہ زانی کو رجم میں اور مرتد کو سزا کے طور پر قتل کرنا ، البتہ یہ یاد رہے کہ قتلِ برحق کی جو صورتیں بیان ہوئیں ، اِن پر عام لوگ عمل نہیں کر سکتے ، بلکہ اس کی اجازت صرف حاکمِ اسلام کو ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان جلد 3 صفحہ 240 مکتبۃ المدینہ کراچی)
فقہاۓ احناف علیہم الرحمہ کے ہاں دیگر مذاہب کی بنسبت اس بارے میں قدرے تفصیل ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عین موقع پر عدم انزجار بمادون السلاح کی شرط کے ساتھ قتل کرنے کی صورت میں قصاص سے بچنے کےلیےنفس بینہ (دوگواہ) کافی ہیں ، جبکہ عین حالت مباشرت نہ ہو یا کسی اور طریقہ سے باز آنے کا ظن غالب تھا تو قصاص سے بچنے کےلیےمقتول کے محصن (شادی شدہ) ہونے کی صورت میں چار گواہ پیش کرنا ضروری ہے ، ورنہ قاتل بہر صورت قصاصاً قتل ہوگا ، نیز دیگر مذاہب میں یہ حکم صرف بیوی یا محرم خاتون یا بیٹے ، بیٹی کے ساتھ خاص ائمہ مذہب سےمنقول ہے ، جبکہ احناف میں اس بارے میں تخصیص زوجہ و محرمہ یا بیٹا و بیٹی اور عدمِ تخصیص دونوں قسم کی روایات موجود ہیں ، نیز عین موقع پر قتل اور بعد میں قتل کے بارے میں بھی فرق ہے ۔ نیز احناف کے مطابق اس دیانۃ قتل کی علت امر بالمعروف یا نہی عن المنکر ہے ، لہٰذا اصل حکم تو عین موقع پر جواز قتل دیانۃ ہے ، جبکہ حکومت اگر اپنی ذمہ داری پوری نہ کر رہی ہو تو ایسی صورت میں بعض فقہی جزئیات کی روشنی میں بعد از حالت مباشرت اور باوجود امکان انزجار بماوون السلاح کے نفس قتل دیانۃ جائز (صرف اخروی لحاظ سے ناقابل مؤاخذہ) ہوگا ۔ (مزید تفصیل ان کتب میں دیکھیں : المحيط البرهاني في الفقه النعماني جلد 10 صفحہ 98)(فتح القدير جلد 12 صفحہ 156)(حاشیۃ الشلبی علی فتح القدیر جلد 5 صفحہ 112)(الفتاوى الهندية جلد 42 صفحہ 421)(البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي جلد 11 صفحہ 110)
واضح رہے کہ دیانۃ قتل کے جواز کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا قتل کر چکا ہے تو اس بارے میں متعلقہ کوائف اور شرائط کی تکمیل کی صورت میں وہ قتل ناحق کے گناہ کا مرتکب نہ ہوگا ، لیکن یہ مطلب نہیں کہ قصاص یا دیت سے بچنے کےلیے وہ قانونی تقاضے بھی پورے کرنے سے بھی مکمل آزاد ہے یا اس قتل کے جواز کی قانونی یا شرعی حوصلہ افزائی کی جائے یا لوگوں کو اس کی فتوی کی روسے اجازت دی جائے ، یہ مطلب ہرگز نہیں اور نہ ہی اس کی فقہاء کرام علیہم الرحمہ کے کلام سےثبوت یا تایید ہوتی ہے ، بلکہ فقہاء کرام علیہم الرحمہ کی مذکورہ کتب سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ غیرت کے نام پر جائز قتل کرنے کی صورت میں بھی ریاست کو قانونی تقاضے پورے کرنے کا مکمل اختیار ہے ، یعنی قاتل جوازِ قتل کی بنیادی شرطوں یعنی عین حالت مباشرت اور قتل کے بغیر کسی اور طریقے سے باز نہ آنے کا یقین یاظن غالب کے اثبات پر شرعی گواہی یا اس کے متبادل ثبوت (مثلاً جانچ شدہ ویڈیو ریکارڈ) پیش کرنے کا پابند ہوگا ۔ لہذا اگر اثبات جرم پر گواہی نہ ہو اور عند البعض دیگر ذرائع سے ریاست اس کے اس اقدام کے جواز سے مطمئن نہ ہو تو وہ قاتل کو قصاصاً قتل کر سکتی ہے ۔
باقی قتل غیرت کے دیانت کے درجہ میں جائز ہونے کی شرعی دلیل صحیح بخاری ، صحیح مسلم شریف ، موطا مالک اورسنن ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق کی روایات ہیں جن سے دیانۃ اجازت اور قضاء ممانعت پر اہلِ علم نے استدلال فرمایا ہے ، اس بارے میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی لعان کے بارے میں مشہورروایت کے بعض طرق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےارشاد " اتعجبون من غیرۃ سعد ؟ " اوربعض میں " کفی بالسیف شاھدا " فرمانےسے اس قتل کے دیانۃ جواز پر اور اسی روایت کے بعض طرق میں اس کے بعد " لا ، انی اخاف ان یتتابع فی ذالک السکران والغیران " اوربعض دیگر میں " یابی اللہ الا بالبینۃ " فرمانے سے ، نیز اس جیسی دیگر روایات اور آثار میں ما من امر الابالبینۃ اور ان لم یجئ باربعۃ شہداء فلیدفع برامتہ سے قضاء عدم جواز پر استدلال کیا گیا ہے ۔ متعدد آثار میں مادون الزنا جرم (دواعی زنا یاصرف قابل اعتراض خلوت) ثابت ہونے کی صورت میں ایسے مجرم کو قضاءسو کوڑے مارنا بطور تعزیر ثابت ہے ۔
جن روایات سے اس قتل کا مطلقاً جواز معلوم ہوتا ہے وہ تمام روایات بصورت صحت نقل و ثبوت اقامت بالبینہ کے ساتھ مقیدومؤول ہیں ۔ فقہاء احناف کرام علیہم الرحمہ کی ذکر کردہ صورتیں : ⏬
۱ ۔ اپنی بیوی کے ساتھ کسی نامحرم مرد کو دیکھنا ۔
۲ ۔ کسی اجنبی یا نامحرم عورت کے ساتھ کسی نامحرم مرد کو دیکھنا ۔
۳ ۔ کسی محرم عورت کے ساتھ کسی اجنبی یا نامحرم مرد کو دیکھنا ۔
۴ ۔ کسی امردلڑکے نے کسی مرد کو اپنے ساتھ بدکاری کے ارادے میں دیکھا یا کسی نے کسی ۔ مرد کو امرد لڑکےکے ساتھ بدکاری میں مبتلا دیکھا ۔
پھر چاروں میں سے ہر ایک کی تین حالتیں ہیں : ⏬
۱ ۔ عین حالت زنا (بد کاری) یا بدفعلی دیکھنا ۲ ۔ بحالت دواعی زنا ومقدمات بدفعلی دیکھنا ۳ ۔ صرف (قابل اعتراض) حالت خلوت میں دیکھنا ۔ (چار کو تین سے ضرب دینے سے بارہ صورتیں حاصل ہوئیں)
اور یہ تینوں حالتیں دو حال سے خالی نہیں یا تو عورت یا مفعول کی رضا مندی شامل ہوگی یا جبری ہوگا ۔ یہ کل چوبیس صورتیں ہو گئیں ۔ (بارہ کودو سےضرب دینے سے چوبیس صورتیں حاصل ہوئیں)
فقہاء کرام کی بیان کردہ تفصیل کا حاصل : ⏬
اس کے بعد اس بارے میں اولا روایات ائمہ و عبارات متون و شروح میں اور ثانیا ان کی بنیاد پر اقوال فقہاء کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس بارے میں توجمہور کا اتفاق ہے کہ قتل کی اجازت مشروط ہے ، البتہ اختلاف اقوال اس بارے میں یہ ہے کہ جواز قتل کی شرائط کیا ہیں ؟لہٰذا پہلے شرائط کو ذکر کیا جاتا ہے ، جن میں بعض شرائط اتفاقی اور بعض شرائط مختلف فیہ ہیں ، نیز بعض شرائط تمام صورتوں کےلیے ہیں ، جبکہ بعض شرائط خاص صورتوں کےلیے ہیں ، جس کا حاصل درج ذیل ہے : ⏬
اتفاقی شرط : براہ راست مشاہدہ ہونا ۔
اختلافی شرائط : بدون جارحانہ کاراوائی سے کم درجہ کی مار اور صرف شور اور ڈانٹ وغیرہ سے باز نہ آنا ۔ (عامۃ الفقہاء) ۔ حالت مباشرت ۔ (عامۃ الفقہاء) ۔ احصان ( شادی شدہ ہونا)(اضافی شرط ازخانیہ) ۔ صرف زنا اور دواعی زنا کا ارتکاب ہونا (حاصل تطبیق ازعلامہ شامی علیہ الرحمہ)
اختلاف اقوال فقہاء احناف کرام علیہم الرحمہ : ⏬
پہلا قول یہ ہے کہ مذکورہ چار صورتوں کی تینوں حالتوں میں اگرقتل کے علاوہ کسی اور کم درجہ کی سزا یا شور وغیرہ سے رکنے کی امید نہ ہو اور اور عین حالت مباشرت معصیت یا محض خلوت ہو اور فاعل و مفعول دونوں راضی ہوں تو دونوں کو ورنہ فاعل راضی کو قتل کرنا جائز ہے ۔ (رد المحتار جلد 15 صفحہ 209،چشتی)(رد المحتار جلد 15 صفحہ 212)
دوسرا قول یہ ہے کہ بیوی اور محرم خاتون کےساتھ غیرمرد کو دیکھنے کی صورت میں عدم انزجار بمادون السلاح شرط نہیں ، بلکہ مطلقاً قتل جائز ہے ، جبکہ اجنبیہ کے ساتھ غیر مرد کو دیکھے تو عدم انزجار بمادون السلاح جواز قتل کی شرط ہے ۔ (ابن نجیم،البحر الرائق،صاحب درمختار) البتہ مفعول یا موطوءۃ کی رضا مندی اس کےقتل کے جواز کےلیے دونوں صورتوں میں شرط ہے ۔ (رد المحتار جلد 15 صفحہ 214)
تیسرا قول یہ ہے کہ چاروں صورتوں کی پہلی اور دوسری حالت (مباشرت زنا و بدفعلی یا اس کے دواعی) میں مطلقاً (بلا فرق مفعول و عورت) قتل جائز ہے اور تیسری حالت یعنی صرف قابل اعتراض خلوت میں عدم انزجار بمادون السلاح کی شرط کے ساتھ قتل جائز ہے ۔ (شامیہ ابن عابدین) لیکن اصولی طور پر یہاں بھی قتل مفعول یا عورت کےلیے رضا کی شرط ہوگی ۔ (رد المحتار جلد 15 صفحہ 215)
چوتھا قول یہ ہے کہ چاروں صورتوں کی پہلی حالت میں عین مباشرت زنااورعدم انزجار بمادون السلاح اور احصان کی شرط کے ساتھ قتل جائز ہے،ورنہ نہیں ۔ (فتاوی قاضی خان ، فتاوی خانیہ)(رد المحتار جلد 15 صفحہ 215)
پانچواں قول یہ ہے کہ جب فقہائے کرام علیہم الرحمہ کی ذکر کردہ (چاروں) صورتوں کی تینوں حالتوں میں سے کسی بھی صورت وحالت کا براہ راست مشاہدہ ہو اور عورت یا مفعول کی رضامندی بھی شامل ہو تو دیکھنے والے کےلیے دونوں کو قتل کرنا جائز ہے ، ورنہ صرف فاعل مرد کو قتل کرنا جائز ہے ، خواہ قتل کے علاوہ کسی اور کم درجہ کی سزا یا شور وغیرہ سے رکنے کی امید ہو یا نہ ہو ، اسی طرح حالت عین مباشرت میں قتل ہو یا بعد میں ، اسی طرح زانی محصن ہو یا کہ غیر محصن ۔
حاصل اس قول کایہ ہے کہ حالت مباشرت میں پانا اورمقتول کا قتل کےعلاوہ کسی اورسزاسے باز نہ آنے کا ظنِ غالب کی شرطیں قاتل کے نزدیک جرم کے تحقق کے بعد نفس جواز قتل کےلیے شرط نہیں ، بلکہ قضاء قصاص سے بچنے کےلیے ان شرائط کے تحقق پر اقامت بینہ شرط ہیں ۔ لہٰذا یہ کوئی مستقل قول نہیں ، بلکہ فقہاء کرام علیہم الرحمہ کےسابقہ کلام کی صحیح تفہیم و تطبیق ہے ۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ بدکاری کے جرم کے نتیجہ میں کسی مرد یا اس کے ساتھ عورت کو بھی قتل کرنے کی اجازت بعض فقہاء کرام علیہم الرحمہ نے مشروط انداز میں دی ہے ۔ (عینی) ۔ اور ان شرائط میں ان میں شدید اختلاف بھی ہے ، نیز قتل کی اجازت بھی دیانۃ دی گئی ہے نہ کہ قضاء ۔ (شامیہ) ، یعنی قانونی طور پر ایسا قاتل اگرچہ متعلقہ کیس میں جواز قتل کی تمام شرائط کی تکمیل کرچکا ہو تب بھی وہ عدالت میں قصاص سے بچنے کےلیے مقتول پر اثباتِ جرم کےلیے شواہد پیش کرنے کا پابند ہوگا ۔
واضح رہے کہ دوسری صورت جس میں قتل غیرت کا دیانۃ جواز متفق علیہ ہے ، عدالت میں مقتول کے جرم کو شواہد سے ثابت کرنے کی صورت میں قاتل کو سزا بالخصوص قتل کی سزا سے معافی دینا اس کا ایک شرعی حق ہے ، اس کے خلاف فیصلہ اور اقدام خلاف مصلحت شرعیہ ہوگا ۔
قتل غیرت میں بینہ (شواہد)کامصداق کیا ہے ؟ : ⏬
اگر قتل غیرت کی جواز کی تمام یا بنیادی دو شرطیں (حالت مباشرت اور عدم انزجار بمادون السلاح کا ظن غالب) پوری ہوتے ہوئے قتل ہوا ہو تو ایسی صورت میں قصاص اور دیت سے بچنے کےلیے قضاء صرف اپنے دعوی (مذکورہ دوشرطوں کے تحقق) پر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی پیش کرنا کافی ہے ، نیزبوقت ضرورت ثبوت جرم کےقانونی طور پر دیگر معتبر قرائن قویہ (مثلا جانچ شدہ ویڈیو ریکارڈ) بھی اس کے قائم مقام ہو سکتی ہیں ، البتہ اگر شرعی گواہی یا قطعی قرائن میں سے تو کوئی نہ پایا جائے ، لیکن اگر مقتول اس قبیح فعل میں لوگوں میں معروف و مشہور ہو تو مطلقاً بالاتفاق اور اگر متہم ہو تو ایسی صورت میں عندالبعض قاتل کی یمین کےساتھ قصاص ساقط ہوگا ، لیکن دیت لازم ہوگی ۔ (تقریرات رافعی)
اور جہاں یہ دونوں شرطیں (حالت مباشرت اور عدم انزجار بمادون السلاح کا ظن غالب) یا کوئی ایک نہ پائی گئی ہو تو ایسی صورت میں قصاص اور دیت سے بچنے کےلیےنفسِ زنا پر قضاء چار عادل گواہوں کا پیش کرنا ضروری ہے ، بشرطیکہ مقتول شادی شدہ بھی ہو ، اس لیے کہ ایسی صورت میں قتل حد کے طور پر ہے اور اس کےلیے ثبوت زنا اور زانی کا محصن ہونا شرط ہے) ورنہ (یعنی چار گواہوں کے ذریعہ ثبوت زنا اور مقتول کا شادی شدہ بھی ہونا یہ دونوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ثابت نہ ہو تو) قاتل قصاصاً قتل ہوگا ، اگرچہ قاتل کے نزدیک نفسِ زنا کے تحقق اور مقتول کے شادی شدہ ہونے کی صورت میں دیانۃ نفسِ قتل کا گناہ نہ ہوگا ، لیکن قانون کی خلاف ورزی (بلاذن امام اجراءِ حد) کا گناہ ہوگا ،ورنہ (مذکورہ دوباتوں (زنا اور احصان زانی) میں سے کسی ایک بات کےبھی تحقق نہ ہونے کی صورت میں ناحق قتل کا گناہ ملے گا ۔ البتہ اگر غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں مقتول کا جرم سے قتل کےبغیر باز نہ آنے کا یقین یا ظن غالب تھااورقتل بھی حالت معصیت میں کیاتھایا تو ایسی صورت میں بھی قتل ناحق کا گناہ نہ ہوگا ، لیکن قصاص بلا بینہ ساقط نہ ہوگا ۔
واضح رہے کہ چونکہ یہ قتل از قبیل تعزیر ہے ، لہٰذاحالتِ مباشرت اور عدم انزجار بمادون السلاح کا ظنِ غالب یہ قتل غیرت کے دیانۃ نفس جواز (اخروی مواخذہ سے بچنے) کےلیے شرط نہیں ، بلکہ قضاء قصاص اور دیت سے بچنے کےلیے عدالت میں شرعی شواہد سے ان کا ثبوت و تحقق ضروری ہے ۔ (رد المحتار جلد 15 صفحہ 204،چشتی)(رد المحتار جلد 15 صفحہ 214)
اس تفصیل یہ بات واضح ہوگئی کہ قتل غیرت میں قصاص اور دیت سے بچنے کےلیے نفسِ زنا اور دواعی زنا پر دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتیں بطور گواہ پیش کرنا یا پکی سچی قسم اٹھانا بہر صورت کافی نہیں ، بلکہ اس میں وہ تفصیل ہے جو اوپر گزر چکی ہے ۔
امام شافعی اور ابوثور علیہما الرحمہ کے نزدیک اگر مقتول شادی شدہ ہو اور زنا کے ارتکاب کا قاتل کویقینی علم ہو تو اس کے لیے دیانۃ یہ قتل جائز ہے ، لیکن قصاص سے بچنے کےلیے اثباتِ جرم (نفسِ زنا) پر چار گواہ پیش کرنا ضروری ہو گا ، ورنہ (اگرمقتول شادی شدہ نہ ہو ، اگرچہ چار گواہ ہوں یا مقتول شادی شدہ تھا ، لیکن چار گواہ نہ تھے یا دونوں باتیں نہ پائی جائیں یعنی نہ مقتول شادی شدہ ہو اور نہ ہی چار گواہ ہوں) توان تینوں صورتوں میں قضاء قاتل قصاصا قتل ہوگا ۔
مالکیہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں : امام ابن حبیب مالکی علیہ الرحمہ کے مطابق مقتول کے شادی شدہ ہونے کی صورت میں چار گواہ پیش کرنے پر قاتل قصاص سے بچ جائے گا اور مقتول کے غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں قاتل پر قصاص بہر صورت ہے ، اگرچہ چار گواہ بھی پیش کرلے ، یعنی اگرمقتول شادی شدہ نہ ہو ،اگرچہ چار گواہ ہوں یا مقتول شادی شدہ تھا ، لیکن چار گواہ نہ تھے یا دونوں باتیں نہ پائی جائیں یعنی نہ مقتول شادی شدہ ہو اور نہ ہی چار گواہ ہوں) توان تینوں صورتوں میں قضاء قاتل قصاصا قتل ہوگا ۔
جبکہ مالکیہ کی دوسری روایت ابن قاسم علیہ الرحمہ سے ہے کہ اس بارے میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی تفریق کے بغیر جرم کے مشاہدہ پر مطلق بینہ (شرعی گواہی اگرچہ دو گواہ ہوں) کا فی ہے ، جس سے قاتل قصاص سے بچ جائے گا ، البتہ ابن قاسم علیہ الرحمہ غیر محصن مقتول کی صورت میں استحباب دیت کے بھی قائل ہیں ۔
مذہب شافعی میں اور مالکی میں فرق یہ ہے کہ مذہب شافعی میں محصن اور غیرمحصن کے قتل میں فرق ہے جبکہ مذہب مالکی میں اس بارے میں دو روایتیں ہیں ، نیز مذہب شافعی میں محصن کے قتل میں قصاص سے بچنے کےلیے چار گواہ پیش کرنا ضروری ہے جبکہ مذہب مالکی میں دو روایتیں ہیں ۔ امام ابن حبیب علیہ الرحمہ کے مطابق چار گواہ جبکہ ابن قاسم علیہ الرحمہ کے مطابق دو گواہ کافی ہیں ۔ تیسرا فرق یہ ہے کہ مذہب شافعی میں نفسِ زنا کی صورت میں یہ قتل دیانۃ جائز ہے ، جبکہ مالکیہ کے نزدیک زنا کی تصریح نہیں ، لیکن امام ابن حبیب رحمہ اللہ تعالی کی روایت کی چار گواہ کی شرط سے نفس زنا پر گواہی معلوم ہوتی ہے ، جبکہ امام ابن قاسم رحمہ اللہ تعالی کی روایت میں رؤیت پر نفس بینہ سے دو گواہ کی شرط سے زنا کا شرط نہ ہونا بھی معلوم ہوتا ہے اور یہی معروف ہے،جیساکہ علامہ جزائری علیہ الرحمہ نے المذہب الاربعہ میں مذہب مالکی یہی لکھا ہے ۔
امام احمد اور امام اسحاق علیہما الرحمہ کے نزدیک بیوی کے ساتھ غیر محرم کے پانے پر بینہ ( شرعی گواہی) قائم ہونے پر قاتل قصاص سے بچ جائے گا ، پھراس بارے میں اختلاف منقول ہے کہ بینہ سے کیا مراد ہے ؟ ایک روایت کے مطابق چار گواہ ، جبکہ دوسری روایت کے مطابق دو گواہ اور یہی روایت مشہور اور راجح ہے اور امام احمد علیہ الرحمہ کے مذہب کے مطابق اس حکم کے بارے میں مقتول کے شادی شدہ ہونے اور نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ، اسی طرح مقتول کے اس جرم میں معروف ہونے اور نہ ہونے کی وجہ سے بھی فرق نہیں پڑتا ۔ (زاد المعاد) ۔ البتہ حنابلہ کے مطابق یہ متعلقہ شرائط کے ساتھ یہ قتل دیانۃ جائز ہونے میں اختلاف اقوال ہے ۔ (المبدع،زادالمعاد) ۔ بعض حنابلہ نے قتل کے جواز کو دفع بالاسہل کے ممکن نہ ہونے کے ساتھ بھی مشروط کیا ہے ۔ البتہ ابن قیم جوزی نے امام احمد علیہ الرحمہ سے اور احادیث کے ظاہر سے اس تفصیل کی نفی کی ہے ۔ بعض کتب حنابلہ میں اس قتل کےدیانۃوجوب کابھی قول منقول ہے ۔ (کما فی المبدع)
ان تینوں مذاہب کی نصوص میں تصریح ہے کہ قتل کا یہ حکم دیانۃ صرف زوجہ یا کسی محرم خاتون (بہن ، بیٹی) کے ساتھ یا بیٹے وغیرہ کے ساتھ بدفعلی کے ساتھ خاص ہے ، لہٰذا اجنبی یا اجنبیہ کے بارے میں ان کا کلام ساکت ہے ، بلکہ مسئلہ کی تعلیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ حکم اجنبیہ اور اجنبی کےلیے نہیں ، چنانچہ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک علت اس حکم دیانت کی حرمت و حفاظت عرض و عزت بیان کی ہے ۔ کمافی کتب الحنابلہ ، البتہ الحاوی میں امام ماوردی علیہ الرحمہ نے مذہب شافعی میں یہ تفصیل لکھی ہے کہ بیوی اور محرمہ ومحرم کی صورت میں دفاع عزت کے پیش نظر قتل واجب ہے ، جبکہ اجنبیہ کے حق میں قتل جائز ہے ، اس لیے کہ اجنبیہ کے حق میں دفاع عرض فرض کفایہ ہے ، جبکہ اپنوں کے حق میں دفاع فرض عین ہے ۔ نیز اسی الحاوی میں قتل کے جواز کے بارے میں مزید یہ تفصیل شامل کی ہے کہ اگر زنا کا عمل شروع نہیں ہوا تو قتل کے بغیر دفع ممکن ہو تو قتل جائز نہیں ، البتہ اگر زنا شروع کر چکا ہے تو فوری قتل جائز ہے ۔ (المبدع شرح المقنع لابن مفلح المقدسي جلد 9 صفحہ 159) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
