Thursday, 2 April 2020

احتیاطی تدابیر تقدیر و توکل کے منافی نہیں ہیں

احتیاطی تدابیر تقدیر و توکل کے منافی نہیں ہیں

حدثنا ابو حفص عمرو بن علي ، حدثنا يحيى بن سعيد القطان ، حدثنا المغيرة بن ابي قرة السدوسي ، قال:‏‏‏‏ سمعت انس بن مالك يقول : قَالَ رَجُلٌ :‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللہِ (صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم) أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ ، أَوْ أطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ ۔ قَالَ :‏‏‏‏ اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ ۔
ترجمہ : حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک‌ شخص نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم کیا میں اونٹ باندھ کر اللہ پر بھروسہ کروں ، یا ( کُھلا ) چھوڑ کر ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم نے فرمایا : باندھ کر اللہ پر بھروسہ کرو ۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (1) یہ حدیث انس کی روایت سے غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ (2) اسی طرح سے یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم سے مروی ہے ۔ (جامع ترمذی جلد دوم حدیث نمبر 2330 صفحہ 89،چشتی) ، شيخ ناصر البانی نے اپنی کتاب تخریج مشکلۃ الفقر میں اس حدیث کو "حسن " کہا ؛ اسی طرح اپنی دوسری کتاب صحيح الجامع الصغير وزياداته میں بھی حسن کہا ہے ۔

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم سے مروی ہے ۔ اس روایت کو امام ابوبکر ابن ابی عاصم رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے : حدثنا هشام بن عمار، نا حاتم بن إسماعيل، نا يعقوب بن عبد الله بن عمرو بن أمية ، عن جعفر بن عمرو بن أمية قال : قال عمرو بن أمية رضي الله عنه : قلت: يا رسول الله أرسل ناقتي وأتوكل ؟ قال : أعقلها وتوكل ۔
ترجمہ : عمرو بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم سے عرض کیا : کیا میں اونٹ کوآزاد چھوڑ دوں اور اللہ پر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا : اسے باندھ دو ، پھر توکل کرو ۔ اسے علامہ حسین سلیم اسد نے (موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان ) کی تخریج میں " حسن " کہا ہے ، لکھتے ہیں : إسناده حسن من أجل هشام بن عمار، وباقي رجاله ثقات. يعقوب وهو ابن عمرو بن عبد الله ترجمه البخاري في الكبير 8/ 389 - 390 ولم يورد فيه جرحاً ولا تعديلاً، وتبعه على ذلك ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 9/ 212، وذكره ابن حبان في الثقات 7/ 640 وأورد له هذا الحديث. وجود الذهبي حديثه. ووثقه الهيثمي ۔ لہٰذا تدبیر اختیار کر کے اللہ پر بھروسہ و توکل اختیار کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم کت صدقے وباؤں سےمحفوظ رکھے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ محترم قارئینِ کرام : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے ...