Tuesday, 8 October 2024

حلال جانوروں کا پیشاب و گوبر ناپاک و حرام ہے

حلال جانوروں کا پیشاب و گوبر ناپاک و حرام ہے

محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡکُمُ الۡمَيۡتَةَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ‌ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 173)

ترجمہ : اس نے یہی تم پر حرام کیے ہیں مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو نا چار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔


ماکول اللحم وہ جانور ہیں جن کا گوشت کھانا حلال ہے ۔ ان جانوروں کا پیشاب ، تھوک اور پسینہ نجاست خفیفہ کہلاتا ہے ۔


غیرماکول اللحم وہ جانور ہیں جن کا گوشت کھانا حرام ہے۔ ان جانوروں کا پیشاب، تھوک اور پسینہ نجاست غلیظہ کہلاتا ہے ۔


ماکول اللحم اور غیر ماکول اللحم دونوں طرح کے جانوروں کا پاخانہ نجاست غلیظہ ہے ۔ نجاست غلیظہ کی مقدار کم ہو خواہ زیادہ اسے پاک کرنا ضروری ہے ۔


اہلسنت و جماعت کے نزدیک علاج کے طور پر یا کسی دوسرے مقصد کےلیے  کسی بھی جانور کا پیشاب  پینا جائز نہیں ، کیونکہ یہ ناپاک وحرام ہوتا ہے ۔ اور اس سے شفابھی یقینی نہیں اور پھراس کے متبادل حلال و جائز دوائیں عام طور پر موجود ہوتی ہیں ۔ اور ایک روایت میں جو آیا ہے کہ ایک موقع پر بیمار افراد کو اونٹ کے پیشاب پینے کا حکم فرمایا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بذریعہ وحی اس بات کا یقینی علم تھاکہ ان کا علاج اس میں ہے ، اس لیے اجازت عطاء فرمائی جبکہ ہمارے پاس یقینی علم کاکوئی ذریعہ نہیں ۔ اور یا پھر یہ روایت منسوخ ہے اس روایت کی وجہ سے کہ جس میں پیشاب سے بچنے کاحکم فرمایا گیا ہے ۔ مشکوۃ المصابیح میں حدیث پاک ہے کہ : عن ابن عباس قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبرين فقال إنهما ليعذبان وما يعذبان في كبير أما أحدهما فكان لا يستتر من البول - وفي رواية لمسلم: لا يستنزه من البول - وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة ثم أخذ جريدة رطبة فشقها نصفين ثم غرز في كل قبر واحدة قالوا يا رسول الله لم صنعت هذا قال لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دیے جارہے ہیں اورکسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیےجا رہے ان میں سے ایک تو پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور مسلم کی روایت میں ہے کہ پیشاب سے پرہیز نہ کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا  ، پھر آپ نے ایک ہری تر شاخ لی اور اسے چیرکر دوحصے فرمائے پھر ہرقبر میں ایک گاڑ دی لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے یہ کیوں کیا ، تو فرمایا کہ شاید جب تک یہ نہ سوکھیں تب تک ان کا عذاب ہلکا ہوا ۔(مشکوۃ المصابیح،جلد01 صفحہ 110 مطبوعہ بیروت،چشتی)


مذکورہ بالا حدیث اور اسی واقعہ سے متعلق دیگر کئی احادیث روایت کے اعتبار سے صحیح ہیں اور ان کی صحت میں محدثانہ اصولوں کے مطابق ضعف نہیں پایا جاتا  لہٰذا علماءِ اسلام میں اس روایت یا واقعہ کے سچ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ البتہ اس کی تشریح و تفسیر میں بہت سا اختلاف موجود رہا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ درج بالا حدیث کو پڑھ کر اہلِ علم کے ایک طبقے نے اونٹ کے پیشاب کو جائز یا پاک مان لیا ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ جید علماء کے دوسرے طبقے نے اس سمجھ کو نہ صرف مسترد کیا ہے بلکہ اس پر علمی تنقید کر کے غلطی کو واضح بھی کر دیا ہے ۔ یہ معاملہ عجیب ہے کہ کچھ احباب ایک طرف تو اس حدیث کو بنیاد بنا کر اونٹ کا پیشاب پینا درست سمجھتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف اکثر ہندوؤں کے گائے موتر (پیشاب) پینے پر تحقیری جملے کس رہے ہوتے ہیں ۔ یہ کیسا دہرا میعار ہے ؟ جہاں اونٹ کا پیشاب پینا آپ کو بلکل معیوب نہ لگے مگر گائے کا پیشاب پیتے دیکھنا گھن کا سبب بن جائے ؟ اونٹ کے پیشاب پینے کے قائلین جیسے ڈاکٹر ذاکر ناٸیک اس کی افادیت کو بیان کرتے کچھ سائنسی تحقیقات بھی پیش کرتے ہیں اور ٹھیک اسی طرح ہندو دھرم کے حاملین گائے موتر پینے کے بیشمار فوائد سے متعلق سائنسی ریسرچز کا حوالہ دیتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اونٹ کے پیشاب پر شائع ہوئی 'سائنسی' تحقیقات اکثر عرب میں ہوا کرتی ہیں جبکہ گائے کے پیشاب پر پبش سائنسی ریسرچز اکثر انڈیا میں انجام پاتی ہیں ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ نام کی تحقیقات دراصل اپنے پہلے سے قائم کردہ نتیجے کو صحیح ثابت کرنے کی سعی ہوا کرتی ہیں ۔ یہ بلکل ممکن ہے کہ ان دونوں جانوروں کے پیشاب میں کچھ ایسے کیمکلز ہوں جو کسی درجے انسانی صحت میں معاون ہو سکیں ۔ مگر پھر بات ان ہی جانوروں کے پیشاب تک نہیں رہے گی بلکہ دیگر جانوروں کے فضلہ ، شراب ، منشیات یا دیگر نجس و حرام اشیاء کے اجزاء اور کیمکل ساخت تک بھی جائے گی ۔ جو اپنے حرام و نجس ہونے کے باوجود مختلف صورتوں میں انسانی صحت کےلیے استعمال ہو سکتے ہیں یا ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ایسی کوئی دلیل پیش کرکے اونٹ کے پیشاب کے قصیدے پڑھنا کسی طور درست نہیں ۔ یہ اور بات کہ نہ اونٹ کا پیشاب پینا قرآنِ حکیم میں درج ہے اور نہ ہی گائے کا پیشاب پینا ہندوؤں کے نمائندہ صحائف میں مذکور ہے ۔


اسلام کی تعلیمات جو سراسر طہارت و پاکیزگی پر مبنی ہیں ، اس میں کسی جانور کے پیشاب کو پینے کا حکم ہونا اسلام کی عمومی تعلیمات و روح کے یکسر خلاف محسوس ہوتا ہے ۔ پیشاب سے کسی بھی سلیمُ الفطرت انسان کا کراہت اور گریز کرنا لازم ہے ۔ دھیان رہے کہ جہاں کچھ فقہاء درج بالا حدیث کی تشریح میں اونٹ کے پیشاب کا پینا جائز مانتے ہیں ، وہاں امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام ابو یوسف ، امام سفیان ثوری اور دیگر جبال فقہاء علیہم الرحمہ اونٹ کے پیشاب کو نجس ہی کہتے ہیں ۔ چنانچہ احناف جو برصغیر پاک و ہند میں اکثریت میں ہیں ، ان کے یہاں اس کا استعمال جائز نہیں ۔ ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کی بھی یہی رائے ہے (گو ان کی یہی رائے ہونے نہ ہونے میں اختلاف ہے ۔ اس کے برعکس رائے بھی ان سے منسوب کی جاتی ہے) ۔ دیگر صریح نصوص احادیث مبارکہ میں ایسے موجود ہیں جن میں واضح طور پر پیشاب کو نجس بتایا گیا ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی انسان یا جانور کے پیشاب کی کسی درجے میں بھی تخصیص نہیں کی ۔ جیسے ارشاد پاک ہے : پیشاب سے بچو کیونکہ عمومی طور پر قبر کا عذاب پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ (مستدرک حاکم ، ابن ماجہ ، دار قطنی ، صحیح ابن خزیمہ)


اسی طرح دوسری دلیل مسند امام احمد میں مذکور ہے کہ دفن کے بعد میت کو قبر نے زور سے بھینچا اور دبایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ یہ عذاب ان کا پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے تھا ۔ گویا متعدد احادیث صحیحہ سے پیشاب کا بلا تفریق نجس و ناپاک ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ کئی طیب غذائیں ایسی ہیں جن کو شفاء کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو استعمال کی تلقین کی جیسے کھجور ، شہد ، کلونجی ، دودھ وغیرہ ۔ اسی طرح حجامہ جیسے طریق علاج کا ذکر صراحت سے ہم سب کےلیے موجود ہے ۔ اس کے برعکس اونٹ کے پیشاب کی کوئی فضیلت یا عوام الناس کو اس کے استعمال کی کوئی ترغیب احادیث میں موجود نہیں ہے ۔ بس یہی ایک مبہم سا واقعہ اس ضمن میں بیان ہوتا ہے ۔ اب اس مقام پر ضروری ہے کہ ہم مذکورہ حدیثِ مبارکہ کے الفاظ و مضمون پر بات کریں اور ممکنہ زاویوں یا امکانات سے اس خبر احد کو سمجھنے کی کوشش کریں : ⏬


1 : جس سخت تکلیف یا وبائی مرض میں اس قبیلے کے افراد مبتلا ہوئے تھے ، کیا معلوم وہ اس نوعیت کا ہو جس کی کوئی طیب دوا موجود نہ ہو ؟ اس طرح یہ لوگ مضطر کے حکم میں آگئے اور مضطر کےلیے نجس چیز کا استعمال جائز ہے ۔ یعنی اگر کسی انسان کی جان خطرہ میں ہو تو اس کی جان بچانے کےلیے حرام چیز سے علاج کیا جا سکتا ہے ۔ آج بھی اگر کسی جان لیوا بیماری کا کوئی طیب و حلال علاج میسر نہ ہو تو بطور علاج نجس و حرام اختیار کرنا جائز ہے ۔


2 :  حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کسی خاص وبائی بیماری کے 'علاج' کےلیے تھا ۔ اس بیماری کی درست تفصیل ہمیں حاصل نہیں ۔ کچھ کے نزدیک وہ پیٹ پھولنے اور خارش کا مرض تھا ۔ اب جب ہمیں اس مرض کا ہی درست ادراک نہیں جس کےلیے اونٹ کے پیشاب کو بطور دوا استعمال کی بات کی جاتی ہے تو پھر آج اس نجس و حرام کو کسی اور بیماری کےلیے استعمال کرنا خلاف عقل و شریعت ہے ۔


3 : جب اس پر بحث نہیں کہ یہ استعمال بیماری کے 'علاج' کے واسطے تھا تو پھر آج اسے سافٹ ڈرنک ، شیمپو ، صابن یا دیگر بیوٹی ٹریٹمنٹ کے طور پر بیچنا یا استعمال کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔


4 : حدیثِ مبارکہ کے مضمون سے آخری درجے میں یہ بات واضح ہے کہ یہ مریض اندر سے منافق و فسادی تھے ۔ لہٰذا شفاء یاب ہوتے ہی انہوں نے فساد یعنی قتل کیا اور ارتداد اختیار کر لیا ۔ ایسے میں قوی تر امکان یہی ہے کہ رب تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کردیا ہو یا خاص ان ہی منافقین کےلیے پیشاب پینے کا حکم دیا ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمیشہ وحی سے تائید حاصل رہتی تھی ۔ اس امکان کو تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ اونٹ سمیت کسی بھی طرح کا پیشاب پینے کا حکم نہ اس واقعہ سے قبل کبھی بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوا اور نہ ہی اس کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کو کوئی ایسی ترغیب ملی ۔


5 : اکابر علماء میں ایک رائے یہ بھی رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب پینے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اس کے خارجی استعمال کا حکم دیا تھا اور اصل عبارت یوں تھیں : اشربوا من البانہا واضمدوا من ابوالہا ۔ اضمدوا کے معنی ہیں لیپ چڑھانا ۔ کچھ اہل علم عربی لغت اور زبان کے قاعدے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بھی اضافہ کرتے ہیں کہ بعض اوقات جملے میں ایک بات کا عملی اطلاق بیان کر کے دوسری بات کا اطلاق یہ بھروسہ رکھتے ہوئے حذف کر دیا جاتا ہے کہ سامع یا قاری اسے لازمی سمجھ لے گا ۔ جیسے میں کہوں کہ 'وہاں کھانے کو لذیز پکوان ہیں اور مناظر' ۔ اب سننے والا یہ بخوبی سمجھ لے گا کہ مناظر 'کھانے' کےلیے نہیں ہیں بلکہ دیکھنے کےلیے ہیں ۔ اسی طرح مذکورہ حدیث میں جب الفاظ آئے " واﻣرھم ان ﯾﺷرﺑوا ﻣن اﻟﺑﺎﻧﮭﺎ وأﺑواﻟﮭﺎ" - "ان لوگوں کو انہوں نے کہا (وہاں جا کر ان اونٹنیوں کا) دودھ پی لیں اور پیشاب بھی ۔ تو یہاں مراد پیشاب پینا نہیں بلکہ عرب میں رائج طریقہ علاج کے تحت اسے زخم پر لگانا ہے ۔


6 : صحیح بخاری میں ہی اس حدیث سے قبل حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث بھی مذکور ہے جس میں ان حضرات کا علاج صرف دودھ سے مذکور ہے ، اس حدیث میں پیشاب کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہے ۔


7 : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ہمارا دین سیکھانے آئے اور اونٹ کا پیشاب بطور علاج پینا کسی طور بھی دین میں شامل نہیں ۔ اس اصول کو سمجھنے کےلیے ایک صحیح ترین حدیث پڑھیے : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں فرمایا : یہ کیسی آوازیں ہیں ؟ صحابہ نے جواب دیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگ کجھوروں کی پیوندکاری کر رہے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگریہ لوگ ایسانہ کریں تو بہتر ہے '' تو اس سال لوگوں نے کجھور کی پیوندکاری نہیں کی ، جس کی وجہ سے اس سال کجھورکی فصل اچھی نہ ہوئی ، تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:''جب تمہارے دنیا کا کوئی معاملہ ہو تو تم اسے جس طرح چاہو انجام دو لیکن اگرتمہارے دین کا معاملہ ہو تو میری طرف رجوع کرو ۔ (مسند أحمد 41 / 401 و اسنادہ صحیح علی شرط مسلم،چشتی)


یہ وہ چند ممکنہ زاویئے و امکانات ہیں جو اہلِ علم نے مذکورہ حدیث کی تشریح میں بیان کیے ہیں ، جنہیں فقیر چشتی نے قرینِ قیاس پایا ہے اور جنہیں مدِنظر رکھ کر ہم اسے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں ۔ کچھ فقہاء جیسے  امام مالک علیہ الرحمہ نے جو رائے اختیار کی ہے ، اس کے مطابق جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے اور جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا اُن کا پیشاب ناپاک ہے ۔ اس رائے کے استدلال میں وہ دو احادیث پیش کرتے ہیں ۔ پہلی تو وہی جو اونٹ کے پیشاب کو بطور علاج استعمال کرنے سے متعلق ہے اور جس کی وضاحت اپر کی جاچکی ہے ۔ جبکہ دوسری حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہو ۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ اگر ان کا پیشاب ناپاک ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت کیوں دیتے ؟ یہ دلیل دیگر فقہاء کے سامنے خاصی کمزور ہے ۔ اول تو ہلال جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب کو بھی اس حدیث کی بناء پر پاک و جائز کہنا سمجھ نہیں آتا ۔ پھر اگر ایک لمحے کو اسے مان بھی لیں تو گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پائخانہ کو ناپاک اور ان کے پیشاب کو پاک قرار دینے کی وجہ سمجھ نہیں آتی ۔ اب آجایے اس دوسری حدیث پر جس میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے تو اس کے مکمل الفاظ یہ ہیں : صَلُّوا فِیْ مَرَابضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِی اعْطَانِ الْاِبِل " بکریوں کے باڑہ میں نماز ادا کرلو لیکن اونٹوں کے باڑہ میں نماز ادا نہ کرو " ۔ اس حدیث کے معنیٰ یہ ہیں کہ بکریوں کا پیشاب عموماً دور دور نہیں جاتا ہے لہٰذا بکریوں کے باڑے میں تو کسی پاک وصاف جگہ نماز پڑھ سکتے ہو لیکن اونٹ کا پیشاب دور دور تک بہتا ہے لہٰذا اونٹ کے باڑے میں پاک وصاف جگہ کا موجود ہونا دشوار ہے لہٰذا اونٹ کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو ۔ گویا اس حدیث سے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور اس حوالے سے ان کے ہم خیال فقہاء کی رائے کا انکار ممکن نہیں ۔


ایک اور اشکال و اعتراض جو اس حدیث کی آخری سطر سے پیدا ہوتا ہے ، وہ ان افراد کا تشدد آمیز قتل ہے (ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی) اس کا جواب ایک دوسری حدیث سے ملتا ہے جس کے مطابق ان مرتدین و منافقین نے اونٹوں کے چرواہے کو اسی تشدد و ظلم سے قتل کیا تھا اور اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی تھی ۔ لہٰذا انہیں بھی بطور سزا ایسی ہی موت دی گئی اور آنکھوں میں سلائی پھیری گئی ۔


مراۃ المناجیح میں  ہے : حلال جانوروں کا پیشاب نجس ہے جس سے بچنا واجب۔دیکھو اونٹ کا چرواہا اونٹ کے پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوا ۔ (مرأۃ المناجیح جلد 1 صفحہ 260 نعیمی کتب خانہ،چشتی)


ضرورت کے وقت حرام چیزوں سے علاج کے متعلق احادیث اور فقہاء اسلام کی تشریحات : ⏬


امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ سے کچھ لوگ آئے اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں ‘ جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرواہوں کو قتل کردیا ۔


علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں : امام بخاری علیہما الرحمہ نے اس حدیث کو آٹھ سندوں سے روایت کیا ہے ‘ امام مسلم نے اس حدیث کو سات سندوں سے روایت کیا ہے ‘ امام ابوداؤد اور امام نسائی علیہما الرحمہ نے بھی اس حدیث کو متعدد سندوں سے روایت کیا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ١٥١‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ،چشتی) ۔ نیز اس حدیث کو امام ترمذی علیہ الرحمہ نے کتاب الطہارۃ ‘ اطعمہ اور الطب میں روایت کیا ہے ‘ امام ابن ماجہ نے کتاب الحدود میں روایت کیا ہے ‘ امام احمد بن حنبل نے مسند احمد ج ١ ص ١٩٢‘ ج ٣ ص ٣٧٠۔ ١٩٠۔ ٢٨٧۔ ٢٠٥۔ ١٩٨۔ ١٧٧۔ ١٦١۔ ١٠٧) میں روایت کیا ہے ۔


علامہ بدرالدین عینی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پیشاب پینا تو حرام ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اس وقت حرام ہے جب دوسری دوا کا بھی اختیار ہو ۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ‘ ١٥٥ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)


علامہ نووی شافعی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ خمر اور باقی نشہ آور مشروبات کے سوا ہر نجس چیز کے ساتھ علاج کرنا جائز ہے ۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٥٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) ۔ لیکن علامہ نووی نے ” شرح المہذب “ میں لکھا ہے کہ ضرورت کی بناء پر شراب سے بھی علاج جائز ہے ۔ (شرح المہذب ج ٩ ص ٤١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)


امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خارش کی وجہ سے حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دی ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٠٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ بدرالدین عینی حنفی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : علامہ نووی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث امام شافعی علیہ الرحمہ اور ان کے موافقین کے موقف پر صراحۃ دلالت کرتی ہے کہ اگر مردوں کو خارش ہو تو ان کےلیے ریشم جائز ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ٤ ص ١٩٦‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)


ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : جوؤں یا خارش کی وجہ سے ریشم پہننے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٢٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)


امام ابوداؤد علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : عبدالرحمن بن طرفہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا عرفجہ بن اسعد کی جنگ کلاب میں ناک کٹ گئی ‘ انہوں نے چاندی کی ناک گالی ‘ اس میں بدبو پیدا ہو گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنانے کا حکم دیا ۔ امام ابوداؤد نے اس حدیث سے دانت کو سونے کے ساتھ باندھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے ۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٢٢٥ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)


امام ترمذی علیہ الرحمہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس حدیث سے دانت کو سونے کے ساتھ باندھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے ۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٢٦٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)۔(امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٢ ھ ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٢٨٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی،چشتی)(امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ٢٣ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)


ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث کی بناء پر سونے کی ناک لگانے اور سونے کے ساتھ دانت کے باندھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٢٨٠‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)


فقیر چشتی نے اس بحث میں فقہاء احناف ‘ فقہاء شافعیہ اور فقہاء مالکیہ علیہم الرحمہ کی تصریحات پیش کی ہیں کہ ضرورت کے وقت حرام دواؤں سے علاج کرنا جائز ہے ‘ فقہاء حنبیلہ کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے ‘ بعض منع کرتے ہیں اور جمہور جائز کہتے ہیں ‘ علامہ مرداوی حنبلی لکھتے ہیں : جمہور اصحاب کے نزدیک اضطرار کے وقت حرام چیز بہ قدر ضرورت کھانا جائز ہے اور اضطرار اس وقت ہے جب جان کی ہلاکت کا خدشہ ہو یا جان کے نقصان کا خدشہ ہو یا مرض کا خدشہ ہو یا مرض کے بڑھنے کا خدشہ ہو اور اگر مرض کے طول کا خدشہ ہو تو صحیح مذہب یہ ہے کہ پھر بھی اضطرار ہے ۔ (الانصاف ج ١٠ ص ٣٧٠۔ ٣٦٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)


صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم باقی تمام احکام پر مقدم ہے ۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ خون کی حرمت قطعی ہے اور خون منتقل کرنے سے مریض کا بچ جانا یا اس کا صحت یاب ہو جانا ظنی ہے اور ظنی فائدہ کی امید پر حرام قطعی کا ارتکاب کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو عرنیین کو بیماری میں اونٹنیوں کا پیشاب پلایا تھا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ علم تھا کہ ان کی اسی سے شفا ہوگی اور وحی کا علم قطعی ہے ‘ اس لیے اس سے معارضہ نہیں کیا جاسکتا ‘ اور فقہاء نے شدید بھوک کی حالت میں مردار اور خنزیر کھانے کا جو جواز لکھا ہے اس سے بھی معارضہ صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ کسی چیز کے کھانے سے بھوک کا زائل ہونا قطعی ہے اور دوا سے بیماری کا علاج ظنی ہے ‘ اسی طرح یہ استدلال بھی صحیح نہیں ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر حلق میں لقمہ پھنسا ہو اہو اور کوئی اور پینے کی چیز نہ ملے تو شراب کا گھونٹ پی کر لقمہ کو حلق سے نیچے اتارنا جائز ہے کیونکہ کسی مشروب سے لقمہ کا حلق سے اترجانا قطعی ہے اور دوا سے صحت اور شفاء کا حاصل ہونا ظنی کےلیے فرض قطعی کو ترک کر دیا جائے گا ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ولاتقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما ۔ (النساء : ٢٩) 

ترجمہ : اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکہ ۔ (البقرہ : ١٩٥) 

ترجمہ : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔


اٸمہ احناف علیہم الرحمہ نے دیگر عمومی احادیث کی بنا پر اونٹ کے پیشاب کو بھی مطلقًا ناپاک قرار دیا ہے ، اور ان روایات کی درج ذیل توجیہات کی ہیں : ⏬


1 :  یہ حکم عمومی نہیں تھا ، بل کہ خاص اس قوم کے ساتھ مخصوص تھا ۔


2 :  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کے  ذریعے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان لوگوں کی شفا اونٹی کے پیشاب میں منحصر ہے ، اس کے علاوہ ان کی شفا  ممکن نہیں ہے تو یہ لوگ مضطر کے حکم میں ہو گئے تھے ، اور حالتِ اضطرار میں نجس استعمال کی گنجائش ہو جاتی ہے ۔


3 :  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پیشاب پینے کا حکم نہیں دیا تھا ، بلکہ اس کے خارجی استعمال کا حکم دیا تھا ، اور اس جملہ میں تضمین تھی ، اصل جملہ یوں تھا ”اشربوا من ألبانها واستنشقوا أو واضمدوا من أبوالها“  یعنی اونٹنیوں کے  دودھ  سے  پیو اور ان کے  پیشاب سے  چھڑکاؤ کرو یا لیپ کرلو ۔


4 :  بعض شارحینِ حدیث  فرماتے  ہیں : یہ حدیث دیگر عمومات سے منسوخ ہے ۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري (3 / 154) : وَقَالَ أَبُو حنيفَة وَالشَّافِعِيّ وَأَبُو يُوسُف وَأَبُو ثَوْر وَآخَرُونَ كَثِيرُونَ: الأبوال كلهَا نَجِسَة إلاَّ مَا عُفيَ عَنهُ، وَأَجَابُوا عَنهُ بِأَن مَا فِي حَدِيث العرنيين قدكَانَ للضَّرُورَة، فَلَيْسَ فِيهِ دَلِيل على أَنه يُبَاح فِي غير حَال الضَّرُورَة؛ لِأَن ثمَّة أَشْيَاء أبيحت فِي الضرورات وَلم تبح فِي غَيرهَا، كَمَا فِي لبس الْحَرِير، فَإِنَّهُ حرَام على الرِّجَال وَقد أبيح لبسه فِي الْحَرْب أَو للحكة أَو لشدَّة الْبرد إِذا لم يجد غَيره، وَله أَمْثَال كَثِيرَة فِي الشَّرْع، وَالْجَوَاب الْمقنع فِي ذَلِك أَنه عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، عرف بطرِيق الْوَحْي شفاهم، والاستشفاء بالحرام جَائِز عِنْد التيقن بِحُصُول الشِّفَاء، كتناول الْميتَة فِي المخصمة، وَالْخمر عِنْد الْعَطش، وإساغة اللُّقْمَة، وَإِنَّمَا لَايُبَاح مَا لَايستيقن حُصُول الشِّفَاء بِهِ ۔ 

وَقَالَ ابْن حزم: صَحَّ يَقِيناً أَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِنَّمَا أَمرهم بذلك على سَبِيل التَّدَاوِي من السقم الَّذِي كَانَ أَصَابَهُ، وَأَنَّهُمْ صحت أجسامهم بذلك، والتداوي منزلَة ضَرُورَة. وَقد قَالَ عز وَجل: {إلاَّ مَا اضطررتم إِلَيْهِ} [الْأَنْعَام: 119] فَمَا اضْطر الْمَرْء إِلَيْهِ فَهُوَ غير محرم عَلَيْهِ من المآكل والمشارب ۔


وَقَالَ شمس الأئمة : حَدِيث أنس رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ قد رَوَاهُ قَتَادَة عَنهُ أَنه رخص لَهُم فِي شرب ألبان الْإِبِل، وَلم يذكر الأبوال، وَإِنَّمَا ذكره فِي رِوَايَة حميد الطَّوِيل عَنهُ، والْحَدِيث حِكَايَة حَال، فَإِذا دَار بَين أَن يكون حجَّة أَو لَايكون حجَّة سقط الِاحْتِجَاج بِهِ، ثمَّ نقُول: خصهم رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بذلك؛ لِأَنَّهُ عرف من طَرِيق الْوَحْي أَن شفاءهم فِيهِ وَلَايُوجد مثله فِي زَمَاننَا، وَهُوَ كَمَا خص الزبير رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ بِلبْس الْحَرِير لحكة كَانَت بِهِ، أَو للقمل، فَإِنَّهُ كَانَ كثير الْقمل، أَو لأَنهم كَانُوا كفَّارًا فِي علم الله تَعَالَى وَرَسُوله  عَلَيْهِ السَّلَام علم من طَرِيق الْوَحْي أَنهم يموتون على الرِّدَّة، ولايبعد أَن يكون شِفَاء الْكَافِر بِالنَّجسِ. انْتهى ۔


فَإِن قلت : هَل لأبوال الْإِبِل تَأْثِير فِي الِاسْتِشْفَاء حَتَّى أَمرهم صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بذلك؟ قلت: قد كَانَت إبله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم ترعى الشيح والقيصوم، وأبوال الْإِبِل الَّتِي ترعى ذَلِك وَأَلْبَانهَا تدخل فِي علاج نوع من أَنْوَاع الِاسْتِشْفَاء، فَإِذا كَانَ كَذَلِك كَانَ الْأَمر فِي هَذَا أَنه عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام عرف من طَرِيق الْوَحْي كَون هَذِه للشفاء، وَعرف أَيْضاً مرضهم الَّذِي تزيله هَذِه الأبوال، فَأَمرهمْ لذَلِك، وَلَايُوجد هَذَا فِي زَمَاننَا، حَتَّى إِذا فَرضنَا أَن أحداً عرف مرض شخص بِقُوَّة الْعلم، وَعرف أَنه لَايُزِيلهُ إلاَّ بتناول الْمحرم، يُبَاح لَهُ حِينَئِذٍ أَن يتَنَاوَلهُ، كَمَا يُبَاح شرب الْخمر عِنْد الْعَطش الشَّديد، وَتَنَاول الْميتَة عِنْد المخمصة، وَأَيْضًا التَّمَسُّك بِعُمُوم قَوْله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: (استنزهوا من الْبَوْل فَإِن عَامَّة عَذَاب الْقَبْر مِنْهُ) أولى؛ لِأَنَّهُ ظَاهر فِي تنَاول جَمِيع الأبوال، فَيجب اجتنابها لهَذَا الْوَعيد، والْحَدِيث رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَة، وَصَححهُ ابْن خُزَيْمَة وَغَيره مَرْفُوعاً ۔


حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ، حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ اور جمہور علمائے امت کے نزدیک اونٹ ، گائے ، بھینس وغیرہ ان تمام جانوروں کا پیشاب حرام و ناپاک ہے ، جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ، اور اس پر احادیث سے متعدد دلائل قائم ہیں اور سوال میں جس حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جس میں بعض روایات کے مطابق قبیلہ عرینہ والوں کو ایک بیماری میں بہ طور دوا اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کی اجازت دی گئی تھی و ہ علی الاطلاق معمول بہ نہیں ہے ، جس کی تفصیل شروح حدیث کی کتابوں (جیسے : عمدة القاری ، فتح الباری وغیرہ) میں موجود ہے ، اس لیے جو لوگ گائے کا پیشاب پاک قرار دیتے اور پیتے ہیں ، وہ اسلام کی صحیح تعلیمات سے بالکل ناواقف و بے خبر ہیں ، آپ ان کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔


قالوا : أبوال الإبل نجسة، وحکمہا حکم دمائہا لا حکم لحومہا، وأراد بہم أبا حنیفة وأبا یوسف والشافعي، وقال ابن حزم في المحلي: والبول کلہ من کل حیوان: إنسان أو غیر إنسان، فما یوٴکل لحمہ أو لا یوٴکل لحمہ کذٰلک، أو من طائر یوٴکل لحمہ أو لا یوٴکل لحمہ فکل ذٰلک حرام أکلہ وشربہ إلا لضرورة تداوي أو إکراہ أو جوع أو عطش فقط۔ وفرض اجتنابہ في الطہارة والصلاة إلا ما لا یمکن التحفظ منہ إلا بحرج، فہو معفو عنہ … وقالوا: أما ما رویتموہ من حدیث العرنیین فذٰلک إنما کان للضرورة، فلیس في ذٰلک دلیل أنہ مباح في غیر حال الضرورة؛ لأنا قد رأینا أشیاء أبیحت في الضرورات ولم تبح في غیر الضرورات (نخب الأفکار في تنقیح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار، کتاب الطہارة، باب حکم بول مایوٴکل لحمہ ۲: ۳۸۲، ط: وزارة الأوقاف والشوٴون الإسلامیة، دولة قطر،چشتی)(الدر المختار ورد المحتار کتاب الطھارة، باب المیاہ، ۱: ۳۶۵)


ان تمام جانوروں کا بول و براز (جن کا گوشت کھانا جائز ہے) ناپاک و نجس ہے ، اس کا پینا جائز نہیں ، اس طرح کپڑے کو لگ جانے کی صورت میں وہ نجس و ناپاک ہو جاتا ہے ، جبکہ سوال میں مذکور ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خاص موقع پر بطورِ علاج مذکور ہے ، تفصیل جاننے کےلیے شروحاتِ حدیث کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے ، اس لیے اس حکم کو عام سمجھنے اور ہر شخص کےلیے ہر حال میں پینے کا جواز ثابت کرنے سے احتراز لازم ہے ۔ فی الفقه الإسلامي و أدلته : و قال الشافعية و الحنفية : البول و القيء و الروث من الحيوان أو الإنسان مطلقاً نجس ، لأمره صلّى الله عليه و سلم بصب الماء على بول الأعرابي في المسجد ، و لقوله صلّى الله عليه و سلم في حديث القبرين : «أما أحدهما فكان لا يستنزه من البول»، و لقوله صلّى الله عليه و سلم السابق : «استنزهوا من البول» (إلی قوله) و أما حديث العرنيين و أمره عليه السلام لهم بشرب أبوال الإبل، فكان للتداوي ، و التداوي بالنجس جائز عند فقد الطاهر الذي يقوم مقامه اھ (1/ 313)۔

و فی إعلاء السنن : تحت هذا الحدیث : فالجواب عن الأول کما فی فتح الباری ج۱/ ص ۲۹۱ : قال ابن العربی : تعلق بهذا الحدیث من قال بطهارة أبوال الإبل و عورضوا بأنه إذن لهم فی شربها للتداوی (إلی قوله) اختلف فی التداوی بالمحرم و ظاهر المذهب المنع کما فی رضاع البحر ، لکن نقل المصنف ثمة و هنا عن الحاوی : و قیل یرخص إذا علم فیه الشفاء و لم یعلم دواء آخر ، کما رخص الخمر للعطشان و علیه الفتویٰ اھ (۱/ ۲۹۵)


حرام چیز سے شفا کے متعلق جامع صغیر کی حدیث پاک ہے : ان اللہ تعالی لم یجعل شفاءکم فیما حرم علیکم“ ترجمہ :بے شک اللہ پاک نے ان چیزوں میں تمہاری شفاء نہیں رکھی جو اس نےتم پر حرام کی ہیں ۔ (فیض القدیر شرح جامع صغیر جلد 06 صفحہ 252 مطبوعہ مصر،چشتی)


ہدایہ میں ہے : وتأويل ما روي أنه عليه الصلاة والسلام عرف شفاءهم فيه وحيا ثم عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى لا يحل شربه للتداوي ولا لغيره لأنه لا يتيقن بالشفاء فيه فلا يعرض عن الحرمة“ ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے جو مروی ہے کہ (آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عرینہ والوں کو بطور علاج اونٹوں کے پیشاب پینے کا حکم فرمایاتو)اس کی تاویل یہ ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے وحی کے ذریعے جان لیا تھا کہ ان کی شفاء اس میں ہے۔پھر امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک  اونٹ کا پیشاب پینا علاج کے طور پر یا اس کے علاوہ  کسی اورمقصد کےلیے ،حلال نہیں کیونکہ اس کے ذریعے شفاء کا حصول یقینی نہیں تو حرمت سےچشم پوشی نہیں کی جائے گی ۔ (ہدایہ کتاب الطھارات جلد 1 صفحہ 24 دار احیاء التراث العربی بیروت)


کمال الدرایۃ وجمع الروایۃ والدرایۃ ،شرح ملتقی الابحر میں ہے”قلنا: إنه صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم  عرف شفاءهم فيه وحياً، ولم يوجد في زماننا، أو أنه منسوخ بحديث «استنزهوا من البول؛ فإن عامة عذاب القبر منه صححه ابن خزيمة ۔

ترجمہ : (حدیث عرینہ) کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی سے جان لیا تھا کہ ان کی شفاء اسی میں ہے اور یہ ہمارے زمانے میں موجود نہیں ، یا حدیث عرینہ ، اس حدیث سے منسوخ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پیشاب سے بچو کہ عام طور پر عذاب قبر اسی سے نہ بچنے کی بناء پر ہوتا ہے ۔ ابن خزیمہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ۔ (کمال الدرایۃ وجمع الروایۃ والدرایۃ کتاب الطھارۃ جلد 1 صفحہ 125 دار الکتب العلمیۃ بیروت،چشتی)


فقہاءِ احناف کے نزدیک اونٹ سمیت تمام جانوروں کا پیشاب انسان کے پیشاب کی طرح ناپاک ہے اور اس کا پینا ناجائز ہے ، محدثین علیہم الرحمہ فرماتے ہیں : یہ حکم عمومی نہیں تھا ، بلکہ خاص اس قوم کے ساتھ مخصوص تھا ۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اونٹ کا پیشاب پینے کا ہی فرمایا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بذریعہ وحی بتادیا گیا تھا کہ ان کی شفا اس کے علاوہ نہیں ہے ، اور اگر واقعۃً ایسی اضطراری صورتِ حال پیش آجائے یعنی کوئی جائز، حلال دوا نہ ہو اور مرض ناقابلِ برداشت ہو اور مسلمان دین دار ماہر ڈاکٹر یقینی طور پر کہیں کہ فلاں (ناپاک/ ممنوعہ) چیز میں شفا یقینی ہے ، تو شدید ضرورت کی حالت میں اس علاج کی بقدر ضرورت گنجائش ہو گی ۔ وقال أبو حنيفة والشافعي وأبو يوسف وأبو ثور وآخرون كثيرون: الأبوال كلها نجسة إلا ما عفي عنه، وأجابوا عنه بأن ما في حديث العرنيين قد كان للضرورة، فليس فيه دليل على أنه يباح في غير حال الضرورة؛ لأن ثمة أشياء أبيحت في الضرورات ولم تبح في غيرها، كما في لبس الحرير؛ فإنه حرام على الرجال وقد أبيح لبسه في الحرب أو للحكة أو لشدة البرد إذا لم يجد غيره، وله أمثال كثيرة في الشرع، والجواب المقنع في ذلك أنه عليه الصلاة والسلام، عرف بطريق الوحي شفاهم، والاستشفاء بالحرام جائز عند التيقن بحصول الشفاء، كتناول الميتة في المخصمة، والخمر عند العطش، وإساغة اللقمة، وإنما لايباح ما لايستيقن حصول الشفاء به. وقال ابن حزم: صح يقيناً أن رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما أمرهم بذلك على سبيل التداوي من السقم الذي كان أصابه، وأنهم صحت أجسامهم بذلك، والتداوي منزلة ضرورة. وقد قال عز وجل: {إلا ما اضطررتم إليه} (الأنعام: 119) فما اضطر المرء إليه فهو غير محرم عليه من المآكل والمشارب. وقال شمس الائمة: حديث أنس رضي الله تعالى عنه، قد رواه قتادة عنه أنه رخص لهم في شرب ألبان الإبل. ولم يذكر الأبوال، وإنما ذكره في رواية حميد الطويل عنه، والحديث حكاية حال، فإذا دار بين أن يكون حجةً أو لايكون حجةً سقط الاحتجاج به، ثم نقول: خصهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك لأنه عرف من طريق الوحي أن شفاءهم فيه ولايوجد مثله في زماننا، وهو كما خص الزبير رضي الله تعالى عنه بلبس الحرير لحكة كانت به، أو للقمل، فإنه كان كثير القمل، أو لأنهم كانوا كفاراً في علم الله تعالى ورسوله عليه السلام علم من طريق الوحي أنهم يموتون على الردة، ولايبعد أن يكون شفاء الكافر بالنجس. انتهى. فإن قلت: هل لأبوال الإبل تأثير في الاستشفاء حتى أمرهم صلى الله عليه وسلم بذلك؟ قلت: قد كانت إبله صلى الله عليه وسلم ترعى الشيح والقيصوم، وأبوال الإبل التي ترعى ذلك وألبانها تدخل في علاج نوع من أنواع الاستشفاء، فإذا كان كذلك كان الأمر في هذا أنه عليه الصلاة والسلام عرف من طريق الوحي كون هذه للشفاء، وعرف أيضاً مرضهم الذي تزيله هذه الأبوال، فأمرهم لذلك، ولايوجد هذا في زماننا، حتى إذا فرضنا أن أحداً عرف مرض شخص بقوة العلم، وعرف أنه لايزيله إلا بتناول المحرم، يباح له حينئذ أن يتناوله، كما يباح شرب الخمر عند العطش الشديد، وتناول الميتة عند المخمصة، وأيضاً التمسك بعموم قوله صلى الله عليه وسلم: (استنزهوا من البول؛ فإن عامة عذاب القبر منه) أولى؛ لأنه ظاهر في تناول جميع الأبوال، فيجب اجتنابها لهذا الوعيد، والحديث رواه أبو هريرة وصححه ابن خزيمة وغيره مرفوعاً ۔ (عمدة القاری شرح بخاری جلد 3 صفحہ 154)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 26 September 2024

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امی ہونا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امی ہونا

محترم قارئینِ کرام : عرب میں  ایک چیز یا شخصیت کے متعدد نام رکھنے کا رواج ہے ا ن کے یہاں یہ بات معروف ہے کہ جس ذات کے جتنے کثیر اسماء ہوں گے وہ اتنی ہی زیادہ معظم و مکرم ہے ، ان زائد اسماء کو لقب یا صفت کہا جاتا ہے ، اللہ عزوجل کا ذاتی نام ”اللہ“ ہے مگر صفاتی نام بہت ہیں ۔ اللہ عزوجل کے 99 نام معروف ہیں ۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےذاتی نام ”محمد و احمد“ ہیں جبکہ صفاتی نام کثیر ہیں ۔ ان موضوعات پر علمائے اسلام نے کئی کتب و رسائل لکھے ہیں جن میں اسمائے صفاتیہ کی وجوہات و حکمتوں پر کلام کیا گیا ہے ۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "امی" ہیں اور اس میں کوئی عیب و نقصان نہیں بلکہ بے شمار معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا "امی" ہونا بھی ہے اور اللہ عزوجل نے قرآن مجید و فرقان حمید میں ایک جگہ نہیں بلکہ کٸی مقامات پر اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امی کے خطاب سے مخاطب فرمایا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ آیت ٧٨ و سورہ اعراف آیت ١٥٧ و ١٥٨ و سورہ جمعہ آیت ٢ و دیگر مقامات پر لفظ امی موجود ہے ۔ عربی لغت میں ایک لفظ کے بے شمار معانی ہوتے ہیں ، اُمی کا ایک معنی ہے اصل ، جڑ ۔ مکہ کو ام القری بھی کہتے ہیں ، کیونکہ سب سے پہلے مکہ کو سرزمین بنایا گیا ۔ اسی طرح ماں کو عربی زبان میں ام کہتے ہیں ، کیونکہ یہ اپنی اولاد کی اصل ہوتی ہے ، اسی طرح حضرت اماں حوا کو اماں اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ تمام انسانوں کی اصل اور جڑ ہیں ۔


دوسرا معنی ہے ایسی شخصیت جو کسی سے پڑھی نہ ہو اور ساری دنیا کے علوم اسے آتے ہوں ، یہی معنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے ہے ۔ اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امی کہا جاتا ہے ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی انسان سے علم حاصل نہیں کیا ۔ انسانوں میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استاد نہیں ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمیع علوم سکھائے ہیں ۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جو ساری دنیا کو سکھانے کےلیے آیا ہو ، سیدھا راستہ دکھانے کےلیے آیا ہو ، وہ خود ہی کچھ نہ جانتا ہو ۔ ایسا کوئی بدبخت ، بد نصیب اور گستاخ ہی سوچ سکتا ہے کہ معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پڑھ ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایسا کہنا ، سوچنا اور عقیدہ رکھنا کفر ہے ۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن مجید میں جو امی کہا گیا ہے اس کا معنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مخلوق سے پڑھنا نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا کے سارے علوم آتے ہیں ۔


قرآن کریم میں بھی لفظ اُمی مختلف مقامات پر حسب حال مختلف معانی میں مستعمل ہے : سورہ بقرہ آیت نمبر 78 میں ارشاد ہوا: وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ ۔

ترجمہ : اور ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں کہ جو کتاب کو نہیں جانتے مگر زبانی پڑھ لینا یا کچھ اپنی من گھڑت اور وہ نرے گمان میں ہیں ۔


سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 میں فرمایا : هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ ۔

ترجمہ : وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں ۔


سورۂ اعراف کے 2 مقامات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’امی ‘‘ کے لقب سے ملقب فرمایا گیا ۔ آیت نمبر 157 میں : اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘ ۔

ترجمہ : وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں ۔

اور دوسرا مقام اسی سے اگلی آیت نمبر 158 میں : فَآمِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُون ۔

ترجمہ : تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں ، ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں ، اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پالو ۔


حدیث پاک میں لفظ ’’امی ‘‘ کا استعمال : ⏬


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اپنی زبان مبارک سے لفظ امی کے معنیٰ کی وضاحت فرمائی امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن عمر سے حدیث نقل فرمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ “ یعنی ہم اہل عرب امی قوم ہیں ہم نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ۔ (صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 631 حدیث نمبر 1913 دارالکتب العلمیہ بیروت)


ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمَيَّةٍ “ یعنی مجھے امی قوم کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا ۔ (صحیح ابن حبان جلد 3 صفحہ 14 حدیث نمبر 739 موسسۃ الرسالہ بیروت)


شارحین کا بیان کردہ معنیٰ : ⏬


ان دونوں احادیث پر امام ابوالسعادات مبارک بن محمد جزری رحمہ اللہ لکھتے ہیں : آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ ہماری طرح اپنی پہلی جبلت پر ہیں جس پر پیدا ہوئے تھے ، اور (اُمّی کا) ایک معنیٰ یہ بھی بیان کیا گیا کہ اُمّی وہ ہوتا ہے جو لکھتا نہ ہو مزید فرماتے ہیں یہاں امی سے اہلِ عرب مراد ہیں کیونکہ ان کے ہاں لکھنے لکھانے کا رواج بہت ہی کم تھا یا بالکل ہی نہیں تھا ۔ (النہایۃ فی غریب الاثر جلد 1 صفحہ 69 دارالکتب العلمیہ بیروت)


شیخ امام عبدالرحمٰن جوزی رحمہ اللہ آخری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: لفظ امیۃ سے مراد وہ قوم ہے جو لکھنا نہ جانتی ہو (غریب الحدیث لابن جوزی ، 1/ 41، دار الکتب العلمیہ بیروت)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اپنے لیے امی کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم امی لوگ ہیں لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٩١٣‘ صحیح مسلم الصیام ‘ ١٥ (١٠٨٠) ٢٤٧٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٣١٩‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢١٤١‘ السنن الکبری ٰ للنسائی رقم الحدیث : ٢٤٥١‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٤٤‘ طبع قدیم ‘ جامع الاصول ج ٦‘ رقم الحدیث : ٤٣٩٣)


لفظ ’’اُمّی ‘‘ کا لغوی معنیٰ : ⏬


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمائے صفاتیہ میں سے ایک صفت ”اُمّی“ بھی ہے ۔ چونکہ یہ ایک عربی لفظ ہے اس لیے سب سے پہلے لغت عرب سے اس کا معنی دیکھتے ہیں : اُمّی ، اُم سے نکلا ہے اس کا ایک معنیٰ ہے اصل ، اُمّی کا ایک معنیٰ ہے جو اپنی جبلتِ اولیٰ پر ہو یعنی جیسا پیدا ہوا ویسا ہی رہے یعنی لکھنے پڑھنے والا نہ ہو ، اُمّی کا ایک معنیٰ ام القریٰ جو کہ مکہ معظمہ ہی کا ایک نام ہے ۔ اُمّی کا ایک معنیٰ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو ۔ (قاموس الغات، تاج العروس و صحاح وغیرہم)


علامہ راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : امی وہ شخص ہے جو نہ لکھتا ہو اور نہ کتاب سے دیکھ کر پڑھتا ہو۔ اس آیت میں امی کا یہی معنی ہے ” ھوالذی بعث فی المیین رسولا منھم “ قطرب نے کہا امیہ “ کے معنی غفلت اور جہالت ہیں سوامی کا معانی قلیل المعرفت ہیں۔ اسی معنی میں ہے ” ومنہم امیون لا یعلمون الکتاب الا امانی “ یعنی وہ امی ہیں جب تک ان پر تلاوت نہ کی جائے وہ از خود نہیں جانتے۔ فراء نے کہا یہ وہ عرب لوگ ہیں جن کے پاس کتاب نہ تھی اور قرآن مجید میں ہے ” والنبی الامی الدی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل “ ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امی اس لیے فرمایا ہے کہ آپ امین کے نبی تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ کو امی اس لیے فرمایا کہ آپ لکھتے تھے نہ کتاب سے پڑھتے تھے ‘ اور یہ آپ کی فضیلت ہے کیونکہ آپ حفظ کرنے سے مستغنی تھے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی ضمانت پر اعتماد تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” سنقرئک فلا تنسسی “ عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے اور آپ نہیں بھولیں گے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ آپ کو امی اس لیے فرمایا کہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے تھے ۔ (المفردات ج ا ‘ ص ٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت،چشتی)


علامہ ابن اثیر جزری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : حدیث میں ہے ” انا امۃ لا نکتب ولا تحسب “ ہم اہل عرب امی ہیں لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ” آپ کی مراد یہ تھی کہ ہم اسی طرح ہیں جس طرح اپنی مائوں سے پیدا ہوئے تھے۔ یعنی اپنی جبلت اولیٰ پر ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ امی وہ ہے جو لکھتا نہ ہو۔ نیز حدیث میں ہے بعثت الی امۃ امیۃ “ میں امی امت کی طرف بھیجا گیا ہوں “ یا امی سے عرب مراد ہیں کیونکہ عرب میں لکھنا بالکل نہ تھا یا بہت کم تھا۔ (النہایہ ج ١‘ ص ٦٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 


علامہ محمد طاہر پٹنی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں : حدیث میں ہے ہم امی لوگ ہیں لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں۔ یعنی اپنی ماں سے پیدائش کی اصل پر ہیں۔ لکھنا سیکھا ہے نہ حساب کرنا۔ تو وہ اپنی اصل جبلت پر ہیں اور اسی نہج پر ہے امیین میں رسول بھیجا گیا۔ علامہ کرمانی نے کہا اس میں ام القریٰ کی طرف نسبت ہے یعنی مکہ والوں کی طرف۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ عرب میں لکھنے والے بھی تھے اور ان میں سے اکثر حساب جاننے والے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لکھنا نہیں جانتے تھے اور حساب سے مراد ستاروں کا حساب ہے اور وہ اس کو بالکل نہیں جانتے تھے۔ علامہ طیبی نے کہا کہ ابن صیاد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا آپ امین کے رول ہیں اس شیطان کا مطلب یہ تھا کہ آپ صرف عرب کے رسول ہیں دوسروں کے نہیں ۔ (مجمع بحارالانوارج ١‘ ص ١٠٧‘ مطبوعہ مکتبہ دارالامان ‘ المدینہ المنورہ ‘ ١٤١٥ ھ،چشتی)


علامہ زبیدی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : قاموس میں ہے امی وہ شخص ہے جو لکھتا نہ ہو یا اپنی ماں سے پیدائش کے حال پر باقی ہو اور امی غبی اور قلیل الکلام کو بھی کہتے ہیں۔ اس کی تشریح میں علامہ زبیدی لکھتے ہیں : حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امی اس لیے کہا جاتا ہے کہ عرب قوم لکھتی تھی نہ پڑھتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا در آنحالیکہ آپ لکھتے تھے نہ کتاب کو پڑھتے تھے۔ اور یہ آپ کا معجزہ ہے کیونکہ آپ نے بغیر کسی تغیر اور تبدل کے بار بار قرآن مجید کو پڑھا۔ قرآن مجید میں ہے ” وما کنت تتلو من قبلہ من کتاب “ (الایۃ) حافظ ابن حجر عسقلانی نے احادیث رافعی کی تخریج میں لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لکھنے اور شعر گوئی کو حرام کردیا گیا تھا۔ یہ اس وقت ہے اگر آپ شعر گوئی اور لکھنے کو اچھی طرح بروئے کار لاتے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہرچند کہ آپ کو شعر اور خط میں مہارت تو نہیں تھی لیکن آپ اچھے اور برے شعر میں تمیز رکھتے تھے۔ اور بعض علماء کا یہ دعویٰ ہے کہ پہلے آپ لکھنا نہیں جانتے تھے لیکن بعد میں آپ نے لکھنا جان لیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وما کنت تتلوا من قبلہ (الایہ) آپ سے پہلے نہ کسی کتاب کو پڑھتے تھے نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اور ” اس سے پہلے “ کی قید کا یہ معنی ہے کہ بعد میں آپ نے اس کو جان لیا ‘ کیونکہ آپ کا پہلے نہ جاننا معجزہ کے سبب سے تھا اور جب اسلام پھیل گیا اور لوگوں کے شکوک کا خطرہ نہ رہا تو پھر آپ نے اس کو جان لیا ‘ اور امام ابن ابی شیبہ اور دیگر محدثین نے مجاہد سے روایت کیا ہے ” مامات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی کتب وقرء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک فوت نہیں ہوئے جب تک کہ آپ نے لکھ نہیں لیا ‘ اور پڑھ نہیں لیا اور مجاہد نے شعبی سے کہا ‘ اس آیت میں اس کے خالف نہیں ہے۔ ابن وحیہ نے کہا کہ علامہ ابوذر ‘ علامہ ابو ذر ‘ علامہ ابوالفتح نیشاپوری اور علامہ باجی مالکی کا بھی یہی نظریہ ہے۔ علامہ باجی نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے ‘ بعض افیقی علماء نے بھی علامہ باجی کی موافقت کی ہے اور کہا ہے کہ امی ہونے کے بعد لکھنے کو جان لینا معجزہ کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ آپ کا دوسرا معجزہ ہے ‘ کیونکہ بغیر کسی انسان کے سکھائے کتاب کو پڑھنا اور لکھنا بھی معجزہ ہے۔ ابو محمد بن مفوز نے علامہ باجی کی کتاب کا رد لکھا ہے اور علامہ سمنانی وغیرہ نے کہا ہے کہ آپ بغیر علم کے لکھتے تھے ‘ جیسے بعض ان پڑھ بادشاہ بعض حروف لکھ لیتے تھے حالانکہ ان کو حروف کی تمیز اور شناخت نہیں ہوتی تھی ۔ (تاج العروس جلد ٨ صفحہ ١٩١‘ مطبوعہ المطبعہ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ،چشتی)


علامہ سید محمود آلو سی حنفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ١٢٧٠ ھ امی کی تفسیر میں لکھتے ہیں : زجاج نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امی اس لیے کہا ہے کہ آپ امت عرب کی طرف منسوب ہیں جس کے اکثر افراد لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اور امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عمر (رض) سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ اہم امی لوگ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ گنتی کرتے ہیں۔ امام باقر نے کہا ہے کہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ کے رہنے والے تھے اس لیے آپ کو امی فرمایا ‘ آپ اپنی ام (ماں) کی طرف منسوب تھے ‘ یعنی آپ اسی حالت پر تھے جس حال پر اپنی ماں سے پیدا ہوئے تھے ‘ آپ کا یہ وصف اس تنبیہہ کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ آپ اپنی پیدائشی حالت پر قائم رہنے (یعنی کسی سے پڑھنا ‘ لکھنا نہ سیکھنے) کے باوجود اس قدر عظیم علم رکھتے تھے سو یہ آپ کا معجزہ ہے۔ امی کا لفظ صرف آپ کے حق میں مدح ہے اور باقی کسی کے لیے ان پڑھ ہونا باعث فضلیت نہیں ہے ‘ جیسا کہ تکبر کا لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے باعث مدح ہے اور دوسروں کے حق میں باعث مذمت ہے ۔ 

نیز علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی وقت لکھنے کا صدور ہوا ہے یا نہیں ہوا ؟ ایک قول یہ ہے کہ ہاں صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح نامہ لکھا اور یہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ ہے اور احادیث ظاہرہ کا بھی یہی تقاضا ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ آپ نے بالکل نہیں لکھا اور آپ کی طرف لکھنے کی نسبت مجاز ہے ‘ اور بعض اہل بیت سے روایت ہے کہ آپ لکھے ہوئے الفاظ کو دیکھ کر پڑھتے تھے لیکن اس روایت کی کوئی معتمد سند نہیں ہے ‘ ہاں ابو الشیخ نے اپنی سند کے ساتھ عقبہ سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک فوت نہیں ہوئے جب تک آپ نے پڑھا اور لکھا نہیں ‘ شعبی نے اس روایت کی تصدیق کی ہے ۔ (روح المعانی ‘ ج ٩‘ ص ٧٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)


اُمّی کا معنی و ترجمہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے’’بے پڑھے ‘‘ فرمایا اور یہ ترجمہ بالکل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمّی ہونا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اَوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں ۔ (تفسیر خازن سورہ الاعراف تحت الآیۃ ۱۵۷ جلد ۲ صفحہ ۱۴۷،چشتی)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ”امی“ کا معنی و مفہوم بیان کرتے ہیں کہ ”امی“ جو پڑھنے ، لکھنے سے علیحدہ ہو یعنی بے پڑھے، لکھے  ہوئے یعنی ماں کی پیٹ سے عالم و عارف پیدا ہونے والے جن کےدامن میں کسی کی شاگردی، کسی کی مریدی ، کسی سے فیض لینے کا دھبہ نہ ہو ۔ ( تفسیر نعیمی پارہ ٧ صفحہ ٢٤٨)


حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا قادری رضوی ازہری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ : بیشک ہمارے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امی لقب ہیں ، اور امی اسے کہتے ہیں جو اسی حالت پر باقی ہو جس پر وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ، یعنی کسی سے پڑھنا لکھنا نہ سیکھا ہو ، اور یہ وصف عامۃ الناس میں عیب کا ہے بخلاف ہمارے نبی امی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہ ان میں یہ وصف کمال ہے اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی استاد ومذہب اخلاق کا مرہون منت نہ کیا اور نہ بنایا ، ایسا دانا کہ سارے عالم کے دانا ان کے آگے ہیج ہیں ۔ بلکہ ان کی دانائی ہمارے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی دین ہے ، اور تہذیب سے نا آشناؤں میں ایسا مؤدب و آراستہ اٹھایا کہ خلق مجسم بنا دیا ۔ قال اللہ تعالیٰ انک لعلی خلق عظیم ، اور ایک عالم کی بھلائی انہیں کے اخلاق حمیدہ کی پیروی میں ہے ، قال اللہ تعالیٰ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ ، اور جس طرح علوم و اخلاق وعادات میں یہ کمال خاصہ آنجناب ہے اسی طرح یہ لقب امی ان کا خاصہ ہے اور اس کا معظم و محترم ہونا ضروریات دین سے ہے اور اسے محل تعظیم آنجناب میں بولنا لازم ہے اور اسے محل اہانت میں بولنا قلب و عکس مراد قرآن ہے اور یہ کفر ہے ۔ (دعوت شریعت صفحہ ٢٣ ، ٢٤)


لفظ اُمّی کا ایک معنیٰ ہے ”اصل“۔ اس معنیٰ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کائنات کی اصل بنا کر بھیجے گئے، باقی سب تو آپ کی فروعات (یعنی اولاد/امتی /آپ ہی کے دم قدم سے ہے) ہیں ۔ اسی طرح لفظ امام کی اصل بھی یہی مادہ ہے امام کہتے ہیں اس ذات کو جس کی طرف مقتدی جھکیں، جو وہ اشارہ کریں اس کی پابندی کریں غرض ہر معاملے میں وہی رہبر و رہنما ہے ۔ امام عشق و محبت ، امام اہل سنت سیدی امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اس تخیل کو کیسے خوبصورت انداز میں بصورت شعری فرماتے ہیں : ⏬


ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں

اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے


(حدائقِ بخشش صفحہ 206 مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)


مذکورہ دلاٸل سے اتنا ثابت ہوا کہ امی اسے کہتے ہیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو ، اس معنی کے عموم کو لے کر ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوئی معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری زندگی ایسے ہی رہے جو کہ سراسر خلافِ واقعہ بات ہے ، ان لوگوں کو لفظِ امی کا معنیٰ سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ لفظ جسے صفتِ محمودہ کے طور پر قرآنِ کریم نے بیان کیا اس سے لوگ ایک مذموم معنیٰ نکال کر حضور کےلیے ثابت کرتے ہیں ، حالانکہ حضور کے امی لقب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سکھانے والے کے سکھائے سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھے یہ معنیٰ نہیں کہ ربِ تعالیٰ نے آپ کو ایسا ہی رہنے دیا بلکہ وہ رب اپنے محبوب کی شان میں فرماتا ہے : وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا ۔

ترجمہ : اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اُتاری اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے ۔ (سورہ النساء آیت:4)


صدرالافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی  رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت خزائن العرفان میں لکھتے ہیں : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کائنات کے علوم عطا فرمائے اور کتاب و حکمت کے اَسرارو حقائق پر مطلع کیا اوریہ مسئلہ قرآن کریم کی بہت آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے ۔


وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔

ترجمہ : اور اس (نزولِ قرآن) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا تو باطل والے ضرور شک لاتے ۔ (سورہ العنکبوت آیت:48)


ان آیات سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ پاک نے نزولِ قرآن سے قبل ہی تمام علوم عطا فرما دیے ۔


ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ نزولِ قرآن سے قبل آپ کو صفتِ امِیَّت پر رکھنے میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں ، اب وہ حکمتیں بیان کی جاتی ہیں : ⏬


(1) ابھی جو آیت کریمہ گزری اس میں ہی ایک حکمت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ لکھتے پڑھتے تو یہود آپ کی ضرور تکذیب کرتے اس لیے کہ ان کی کتب میں آخری نبی کی ایک نشانی اُمی ہونا بیان کی گئی تھی، مگر انہیں شک کا موقع اس لیے نہ مل سکا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ نشانی موجود تھی ۔


(2) ایک حکمت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت ، آپ پر وحی کا نزول اور قرآن پاک کے کلام اللہ ہونے پر کسی کو کوئی اعتراض نہ رہے چونکہ یہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے ہیں تو یہ جسے قرآن اور وحی کہتے ہیں وہ خود ان کا اپنا کلام ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بڑے بڑے دشمنوں تک نے تکذیبِ وحی کے سلسلے میں یہ اعتراض نہ کیا گویا دل سے وہ بھی مانتے تھے کہ یہ جو قرآن پیش کرتے ہیں وہ واقعی کلام اللہ ہے کسی بشر کا کلام نہیں ہو سکتا ۔ ہاں مگر کچھ مستشرقین نے تعصب میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اساتذہ کو ثابت کرنے کی سعی لاحاصل ضرور کی مگر ان کا یہ اعتراض اور ان کی یہ تحقیقات کسی قابل نہیں ، جب وہ لوگ کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی نظر میں غلط ثابت کرنے کےلیے کسی بھی قسم کا الزام لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے انہوں نے بھی ایسا کوئی اعتراض ذاتِ گرامی پر نہیں کیا تو صدیوں بعد آنے والے محققین کی تحقیقات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امی تھے مگر اس معنیٰ میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی دنیاوی استاد نہ تھا آپ کو تمام علوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب عزوجل نے عطا فرمائے ۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی لقبِ اُمّی میں بہت حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اُمّی ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفتِ محمودہ ہے ۔


امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا : ⏬


ایسا اُمّی کس لیے منت کشِ استاد ہو

کیا کفایت اس کو اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمْ نہیں


(حدائق بخشش صفحہ 106)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے اور پڑھنے پر قرآن مجید سے دلائل : ⏬


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما کنت تتلومن قبلہ من کتاب ولا تخطہ بیمینک اذا الار تاب المبطلون ۔ (العنکبوت : ٤٨ )

ترجمہ : اس (کتاب کے نزول) سے پہلے آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ‘ ایگر ایسا ہوتا تو باطل پرستوں کو شبہ پڑ جاتا ۔


اس آیت کے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی استاد سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا ‘ قریش مکہ کے سامنے آپ کی پوری زندگی تھی ‘ آپ کے اہل وطن اور رشتہ داروں کے سامنے ‘ روز پیدائش سے اعلان نبوت تک آپ کی ساری زندگی گزری اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ نے کبھی کوئی کتاب پڑھی نہ قلم ہاتھ میں لیا اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آسمانی کتابوں کی تعلیمات ‘ گزشتہ انبیاء ورسل کے حالات ‘ قدیم مذاہب کے عقائد ‘ تاریخ ‘ تمدن ‘ اخلاق اور عمرانی اور عائلی زندگی کے جن اہم مسائل کو یہ امی شخص انتہائی فصیح وبلیغ زبان سے بیان کر رہے ہیں ‘ اس کا وحی الہٰی کے سوا اور کوئی سبب نہیں ہوسکتا ‘ اگر انہوں نے کسی مکتب میں تعلیم پائی ہوتی اور گذشتہ مذاہب اور تاریخ کو پڑھا ہوتا تو پھر اس شبہ کی بنیاد ہوسکتی تیے کہ جو کچھ یہ بیان کر رہے ہیں وہ دراصل ان کا حاصل مطالعہ ہے ۔ ہرچند کہ کوئی پڑھا لکھا انسان بلکہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے آدمی مل کر اور تمام علمی وسائل بروئے کار لا کر بھی ایسی بےنظیر کتاب تیار نہیں کرسکتے ‘ تاہم اگر آپ نے اعلان نبوت سے پہلے لکھنے پڑھنے کا مشغلہ اختیار کیا ہوتا تو جھوٹوں کو ایک بات بنانے کا موقع ہاتھ لگ جاتا ‘ لیکن جب آپ کا امی ہونا ‘ فریق مخالف کو بھی تسلیم تھا تو اس سر سری شبہ کی بھی جڑ کٹ گئی اور یوں کہنے کو تو ضدی اور معاند لوگ پھر بھی یہ کہتے تھے : وقالو اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا (الفرقان : ٥)

ترجمہ : اور انہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے لکھے ہوے قصے ہیں جو اس (رسول) نے لکھوا لیے ہیں ‘ سو وہ صبح و شام اس پر پڑھے جاتے ہیں ۔


اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے لکھنے اور پڑھنے کی نفی کو آپ کے اعلان نبوت سے پہلے کی قید سے مقید کیا ہے اور یہی مقصود ہے۔ کیونکہ اگر اعلان نبوت اور نزول قرآن سے پہلے آپ کا لکھنا پڑھنا ثابت ہوتا تو اس شبہ کی راہ نکل سکتی تھی اور اس آیت سے آپ کی نبوت اور قرآن مجید کے منزل من اللہ ہونے پر استدلال نہ ہوسکتا۔ اور اس قید لگانے کا یہ تقاضا ہے کہ اعلان نبوت کے بعد آپ سے لکھنے اور پڑھنے کا صدور ہو سکتا ہے اور بعد میں آپ کا لکھنا اور پڑھنا اس استدلال کے منافی نہیں ہے ۔


علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض اجلہ علماء کا یہ قول نقل کیا ہے : اس قد سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن مجید کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھنے اور پڑھنے پر قادر تھے اور اگر اس قید کا اعتبار نہ کیا جائے تو یہ قید بےفائدہ ہوگی ۔ (تفسیر روح المعانی ج ٢١‘ ص ٥‘ مطبوعہ بیروت)


اس استدلال پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ یہ مفہوم مخالف سے استدلال ہے۔ اور فقہاء احناف کے نزدیک مفہوم مخالف سے استدلال معتبر نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مفہوم مخالفت کا استدلال میں معتبر نہ ہونا اتفاقی نہیں ہے کیونکہ باقی ائمہ مفہوم مخالف کا اعتبار کرتے ہیں ‘ خصوصاً جب کہ بکثرت احادیث صحیحہ سے بعثت کے بعد آپ کا لکھنا ثابت ہے ‘ جیسا کہ ہم عنقریب انشاء اللہ با حوالہ بیان کریں گے ۔


خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیگرعلمی اور عملی کمالات عطا فرمائے ہیں اسی طرح آپ کو لکھنے پڑھنے کا بھی کمال عطا فرمایا ہے ‘ لکھنے کا علم ایک عظیم نعمت ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم (العلق : ٤٠٥) ” جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ‘ اور انسان کو وہ علم دیا ‘ جس کو وہ جانتا نہ تھا “۔ امت کے ان گنت افراد کو پڑھنے اور لکھنے کا کمال حاصل ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کمال حاصل نہ ہو ! اور امی ہونے کا فقط یہ مفاد ہے کہ آپ نے کسی مخلوق سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو براہ راست یہ علم عطا فرمایا ہے اور بعثت سے پہلے آپ لکھنے اور پڑھنے میں مشغول نہیں رہے تاکہ آپ کی نبوت میں کسی شبہ نہ ہو اور بعثت کے بعد آپ نے پڑھا اور لکھا اور یہ ایک الگ معجزہ ہے ۔ کیونکہ بغیر کسی مخلوق سے کسب فیض کے پڑھنا اور لکھنا خلاف عادت ہے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے پر مودودی اور اس کے پیروکاروں کے اعتراضات اور ان کے جوابات : ⏬

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے پر اعتراض کرتے ہوئے مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتا ہے : ان لوگوں کی جسارت حیرت انگیز ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ حالانکہ یہاں قرآن صاف الفاظ میں حضور کے ناخواندہ ہونے کو آپ کی نبوت کے حق میں ایک طاقتور ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے ‘ جن روایات کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضور لکھے پڑھے تھے یا بعد میں آپ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا ‘ وہ اوّل تو پہلی ہی نظر میں رد کردینے کے لائق ہیں کیونکہ قرآن کے خلاف کوئی روایت بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی ‘ پھر وہ بجائے خود بھی اتنی کمزور ہیں کہ ان پر کسی استدلال کی بنیاد قائم نہیں ہوسکتی ‘ ان میں سے ایک بخاری کی یہ روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کا معاملہ جب لکھا جا رہا تھا تو کفار مکہ کے نمائندے نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام کے ساتھ رسول اللہ لکھنے جانے پر اعتراض کیا۔ اس پر حضور نے کاتب (یعنی حضرت علی) حکم دیا کہ اچھا رسول اللہ کا لفظ کاٹ کر محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔ (الی قولہ) ہوسکتا ہے کہ صحیح صورت واقعہ یہ ہو کہ جب حضرت علی نے ” رسول اللہ “ کا لفظ مٹانے سے انکار کردیا تو آپ نے اس کی جگہ ان سے پچھ کر اور پھر ان سے یا کسی دوسرے کاتب سے ابن عبداللہ کے الفاظ کے الفاظ لکھوا دئے ہوں (الی قولہ) تاہم اگر واقعہ یین ہو کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا نام اپنے ہی دست مبارک سے لکھا ہو تو ایسی مثالیں دنیا میں بکثرت پائی جاتی ہیں کہ ان پڑھ لوگ صرف نام لکھنا سیکھ لیتے ہیں ‘ باقی کوئی چیز نہ پڑھ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن جلد ٣ صفحہ ٧١٣ ۔ ٧١٤ ملتخصا مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن لاہور)

جواب : پہلی بات یہ ہے کہ سید مودودی کا یہ لکھنا غلط ہے کہ اعلان نبوت کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لکھنا قرآن مجید کی اس آیت اور اس استدلال کے خلاف ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید نے آپ کے لکھنے اور پڑھنے کی مطلقاً نفی نہیں کی ‘ بلکہ نزول قرآن سے پہلے آپ لکھنے اور پڑھنے کی نفی کی ہے۔ لہذا نزول قرآن کے بعد جن احادیث میں آپ کے لکھنے کا ثبوت ہے وہ روایات قرآن مجید کے خلاف نہیں ہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم اور دیگر بکثرت کتب صحاح سے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لکھنا ثابت ہے اور سید مودودی کا ان احادیث کو بجائے خود کمزور کہنا لائق التفات نہیں ہے۔ ثالثاً سید مودودی نے جو یہ تاویل کہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے کسی اور کاتب سے لکھوا دیا ہو سو یہ احتمال بلا دلیل ہے اور الفاظ کو بلا ضرورت مجاز پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے۔ رابعاً اس بحث کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سید مودودی نے نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عام ان پڑھ لوگون پر قیاس کیا ہے اور لکھا ہے اگر آپ نے اپنا نام اپنے ہی دست مبارک سے لکھا ہو تو اییل مثالیں دنیا میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ کہ ان پڑھ لوگ صرف اپنا نام لکھنا سیکھ لیتے ہیں ‘ باقی کوئی چیز نہیں پڑھ سکتے ‘ نہ لکھ سکتے ہیں۔ عام لوگوں کا ان پڑھ ہونا ان کا نقص اور ان کی جہالت ہے اور رسول اللہ کا امی ہونا ‘ آپ کا کمال ہے ‘ کہ دنیا میں کسی استاد کے آگے زانو تلمذتمہ نہیں کیا ‘ کسی مکتب میں جا کر لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا اور براہ راست خدائے لم یزل سے علم پاکر اولیں اور آخرین کے علوم بیان فرمائے اور پڑھ کر بھی دکھایا اور لکھ بھی دکھایا ۔

یتیمے کہ ناکردہ قرآن درست
کتب خانہ چند ملت بشت

اب ہم قارئین کے سامنے بکثرت حوالہ جات کے ساتھ وہ احادیث پیش کرتے ہیں ‘ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لکھنے کا اسناد کیا گیا ہے : ⏬

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالقعدہ میں عمرہ کیا تو اہل مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے منع کر دیا ‘ حتی کہ اس بات پر صلح کی آپ آئندہ سال عمرہ کریں اور مکہ میں صرف تین دن قیام کریں ‘ جب انہوں نے صلح نامہ لکھا تو اس میں یہ لکھا کہ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی ‘ کفار مکہ نے کہا کہ ہم اس کو نہیں مانتے۔ اگر ہم کو یہ یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو نہ منع کرتے لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں۔ آپ نے فرمایا میں تو رسول اللہ ہوں اور میں محمد بن عبداللہ ہوں ۔ پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا رسول اللہ (کے الفاظ) مٹا دو ‘ حضرت علی نے کہا نہیں ! خدا کی قسم ! میں آپ (کے الفاظ) کو ہرگز نہیں مٹاٶں گا ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لکھنا شروع کیا ‘ اور آپ اچھی طرح (مہارت سے) نہیں لکھتے تھے ۔ پس آپ نے لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی کہ کوئی شخص مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہیں ہوگا ‘ سو اس کے کہ تلوار نیام میں ہو ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢٥١‘ مسند احمد ج ٤‘ ص ٢٩٨‘ جامع الا صول ج ٨ رقم الحدیث : ٦١٣٣)

امام بخاری نے اس واقعہ کو ایک اور سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں اس طرح ہے : جب انہوں نے صلح نامہ لکھا تو اس میں یہ لکھا کہ یہ وہ ہے جس پر محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی کفار مکہ نے کہا ہم اس کو نہیں مانتے اگر ہم کو یہ یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو منع نہ کرتے ‘ لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں ‘ آپ نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں اور میں محمد بن عبداللہ ہوں ‘ پھر آپ نے حضرت علی سے کہا رسول اللہ (کے الفاظ) کو مٹا دو ‘ حضرت علی نے کہا نہیں ! خدا کی قسم ! میں آپ (کے الفاظ) کو نہیں مٹائوں گا ‘ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مکتوب کو پکڑا اور لکھا : وہ یہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٩٩)

ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ ان احادیث پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے : حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضطراب ہے اور راویوں نے حضرت براء کے جوں کے توں الفاظ نقل نہیں کیے۔ کسی روایت میں لکھنے کا مطلقاً ذکر نہیں ‘ کسی میں صرف ” کتب “ ہے اور کسی میں ہے ” لیس یحسن یکتب ۔ (تفہیم القرآن ‘ ج ٣‘ ص ٧١٤‘ ملحصا ‘ مطبوعہ ادارہ ترجمن القرآن)

یعنی بعض روایات میں ہے ۔ آپ نے لکھا اور بعض روایات میں ہے آپ اچھی طرح یعنی مہارت سے نہیں لکھتے تھے ۔ مودودی کا اس اختلاف کا اضطراب قرار دینا صحیح نہیں ہے ۔ یہ ایسا اختلاف نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے ان روایات کا معنی مضطرب ہوجائے۔ اگر اس قسم کی اختلاف کو اضطرا کہا جائے تو پھر تمام احادیث ساقط الاستدلال قرار پائیں گی ۔

علاوہ ازیں جن احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے کا ثبوت ہے وہ اور بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں اور ان میں ” کتب “ اور ” لیس یحسن یکتب “ کا اختلاف بھی نہیں ہے ۔ اب ہم دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایات کو پیش کر رہے ہیں : ⏬

سعید بن جیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جمعرات کا دین ! کیسا تھا وہ جمعرات کا دن ! پھر وہ رونے لگے حتی کہ ان کے آنسوٶں سے سنگریزے بھیگ گئے ۔ پس میں نے کہا اے ابن عباس ! جمعرات کے دن میں کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دور زیادہ ہو گیا تھا ‘ آپ نے فرمایا میرے پاس (قلم اور کاغذ) لاٶ میں تمہیں ایک ایسا مکتوب لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ‘ پس صحابہ میں اختلاف ہوگیا اور نبی (علیہ السلام) کے پاس اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا ‘ صحابہ نے کہا آپ کا کیا حال ہے ؟ کیا آپ بیماری میں کچھ کہہ رہے ہیں ؟ آپ سے پوچھ لو ۔ مسلم کی ایک روایت (٤١٥٢) میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ان کا اختلاف اور شور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے لکھنے کے درمیان حائل ہو گیا ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٣١،چشتی)(صحیح مسلم ‘ الوصیۃ ‘ ٢٠‘ (١٦٣٧) ٤١٥٤)(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٠٢٩ )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض میں مجھ سے فرمایا میرے لیے ابوبکر کو اور اپنے بھائی کو بلائو حتی کہ میں ایک مکتوب لکھ دوں ‘ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے الا کہے گا میں ہی (خلافت کا) مستحق ہوں ‘ اور اللہ اور مومنین ابوبکر کے غیر پر انکار کردیں گے ۔ (صحیح مسلم فضائل الصحابتہ ١١‘ (٢٣٨٧) ٦٠٦٤ )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روم کی طرف مکتوب لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا وہ صرف اسی مکتوب کو پڑھتے ہیں جس پر مہر لگی ہوئی ہو ‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی گویا کہ میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں دیکھ رہا تھا اس پر نقش تھا ” محمد رسول اللہ ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٥،چشتی)(صحیح مسلم ‘ لباس ‘ ٥٦‘ (٢٠٩٢) ٥٣٧٩)(سنن التسائی رقم الحدیث : ٥٢٠٢)(سنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٨٤٨ )

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسری کی طرف ‘ قیصر کی طرف ‘ نجاشی کی طرف اور ہر جابر بادشاہ کی طرف مکاتب لکھے ۔ آپ ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور یہ وہ نجاشی نہیں ہے جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھتی تھی ۔ (صحیح مسلم ١ الجہادو السیر ٧٥‘ (١٧٧٤) ٤٥٢٩‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٢٣‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٨٨٤٧ )

امام بخاری اور امام مسلم نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں اور امام ابو دائود اور امام داری نے صرف اس واقعہ کو روایت کیا ہے : حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یلہ کے بادشاہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا اور ایک سفید خچر آپ کو ہدیہ میں بھجی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کو خط لکھا اور اس کو ایک چادر ہدیہ میں بھجی ‘ اور آپ نے حکم دیا کہ وہ سمندر کے ساتھ جس شہر میں رہتے ہیں اس میں ان کو جزیہ پر رہنے دیا جائے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٨)(صحیح مسلم ‘ فضائل ‘ ١٢‘ (١٣٩٢) ٥٨٣٩)(سسن ابوداٶد رقم الحدیث : ٣٠٧٩،چشتی)(سنن واری رقم الحدیث : ٢٤٩٥)(مسند احمد ج ٥‘ ص ٤٢٥ )

حضرت سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سہل اور حضرت محیصہ کسی کام سے خیبر گئے ‘ پھر حجرت محیصہ کو خبر پہنچی کہ حضرت عبداللہ بن سہل کو قتل کر کے کنویں میں ڈال دیا گیا ‘ وہ یمود کے پاس گئے ‘ (الی ان قال) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو یمود تمہارے مقتول کی دیت ادا کریں گے اور یا وہ اعلان جنگ کو قبول کرلیں ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ (فیصلہ) یمود کی طرف لکھ کر بھیج دیا ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١٩٢‘ صحیح مسلم الحدود ‘ ٦ (١٦٦٩) ٤٧٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٥٢١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٧٢٥۔ ٤٧٢٤‘ موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٦٣٠)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ حضرت عباس ‘ حضرت عائشہ ‘ حضرت انس ‘ حضرت ابو حمید ساعدی اور حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہم کی روایات ہیں اور یہ سب صحاح ستہ کی روایات ہیں ‘ ان میں سے کسی حدیث کی سند ضعیف نہیں ہے ‘ اور ان تمام احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے کی تصریح ہے اور ان سب کی یہ تاویل کرنا کہ لکھنے سے مراد لکھنے کا حکم دینا ہے صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ مجاز ہے اور جب تک کوئی عقلی یاشرعی استحالہ نہ ہو کسی لفظ کو حقیقت سے ہٹا کر مجاز پر محمول کرنا جائز نہیں ہے اور بلا وجہ حدیث کے الفاظ کو اپنی مرضی کا معنی پہنانا محض اتباع ہوس ہے ‘ خصوصاً اس صورت میں جب کہ قرآن مجید سے نزول قرآن کے بعد آپ کے لکھنے اور پڑھنے کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ ہم پہلے واضح کرچکے ہیں ‘ نیز لکھنا اور پڑھنا اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت اور کمال ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کیا مت کو توبہ نعمت عطا فرمائے اور آپ کو اس نعمت سے محروم رکھے ‘ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ آپ کو لکھنا اور پڑھنا نہیں آتا تھا تو لازم آئے گا کہ اس نعمت اور کمال میں امت آپ سے بڑھ جائے اور یہ کسی طرح جائز نہیں ہے ‘ امت کو اپنے نبی پر مطلقاً فضیلت نہیں ہوتی ‘ جزوی نہ کلی ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے کے متعلق محدثین علیہم الرحمہ کی تحقیق : ⏬

علامہ ابو العباس احمد بن عمرالقرطبی المالکی التموفی ٦٥٦ ھ حضرت براء بن عازب ص سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے لکھا محمد بن عبداللہ اور ایک روایت میں ہے آپ نے یہ لکھا ‘ حالانکہ آپ مہارت سے نہیں لکھتے تھے ۔ (صحیح البخاری ٤٢٨١‘ ٢٦١٩) ۔ علامہ السمنانی ‘ علامہ ابوزر اور باجی نے اس حدیث کو اپنے ظاہر پر محمول کیا ہے اور ان کی تحقیق یہ ہے کہ یہ لکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امی ہونے کے منافی نہیں ہے ‘ اور نہ اس آیت کے معارض ہے ‘ اور آپ نزول قرآن سے پہلے کسی کتاب کو نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے ۔ (العنکبوت : ٤٨) اور نہ اس حدیث کے خلاف ہے ہم ان پڑھ امت ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ۔ (صحیح مسلم ٧٦١‘ سنن ابودائود ٢٣١٩،چشتی) ۔ بلکہ ان کی تحقیق یہ ہے کہ آپ کا لکھنا آپ کے معجزہ کا اور زیادہ ہونا ہے ‘ اور یہ آپ کے صدق اور آپ کی رسالت کی اور قوی دلیل ہے ‘ آپ نے کسی سے سیکھے بغیر اوعر اس کے عادی اسباب کے حصول کے بغیر لکھا ہے لہذا یہ اپنی جگہ ایک الگ معجزہ ہے ‘ اور جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی سے پڑھے بغیر اور علم کے دیگر اسباب حاصل کیے بغیر لکھنا بھی آپ کے امی ہونے کے خلاف نہیں اور یہ آپ کا بہت بڑا معجزہ ہے اور اعلیٰ درجہ کی فضلیت ہے ‘ اسی طرح کسی سے سیکھے بغیر لکھنا بھی آپ کے امی ہونے کے خلاف نہیں اور یہ آپ کا بہت بڑا معجزہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس وقت آپ نے محمد بن عبداللہ لکھا اس وقت آپ نے چند لکیریں ڈالی ہوں اور ان کا مفہوم محمد بن عبداللہ ہو ‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ان حروف کی شناخت ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو ان کی شناخت نہ ہو اور ہر تقدیر پر آپ سے امی کا لقب ساقط نہیں ہوگا ‘ اندلسی اور اندلس کے علاوہ دوسرے ممالک کے علماء نے اس نظریہ کی مخالفت کی بلکہ علامہ باجی کی تکفیر کی لیکن یہ درست نہیں ہے اور شریعت میں اس پر کوئی قطعی دلیل نہیں ہے ۔ (المفہم ج ٤‘ ص ٦٣٨ ا ٔ٦٣٧‘ مطبوعہ دارابن کثیر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں : قاضی عیاض نے کہا ہے کہ اس حدیث سے علماء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر یہ لکھائی جاری کردی ‘ یا تو آپ کے علم کے بغیر قلم نے لکھ دیا یا اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے لکھنے کا علم دے دیا اور آپ کو پڑھنے والا بنادیا جب کہ آپ اعلان نبوت کے بعد پڑھتے نہ تھے ‘ اور اس سے آپ کے امی ہونے پر اعتراض نہیں ہوتا اور انہوں نے اس موقف پر شعبی کی روایات سے استدلال کیا ہے ‘ اوعر بعض سلف سے منقول ہے کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھ نہیں لیا آپ کی وفات نہیں ہوئی ‘ اور اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ آپ کا لکھنا مطقاً ممنوع ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور آپ نزول قرآن سے پہلے کسی کتاب کو نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے ۔ (العنکبوت : ١٤٨) ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے استدال کیا ہے : ہم ان پڑھ امت ہیں نہ لکھتے ہیں ‘ نہ حساب کرتے ہیں ۔ (صحیح مسلم : ٧٦١‘ ابودائود ‘ ٢٣١٩) ۔ اور بخاری اور مسلم کی حدیث میں جو ہے کہ آپ نے محمد بن عبداللہ لکھا ‘ اس کا معنی ہے کہ آپ نے اس کے لکھنے کا حکم دیا ‘ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کو رحم کیا ‘ یا آپ نے چور کے ہاتھ کاٹے یا شرابی کو کوڑے لگائے ۔

قاضی عیاض نے کہا لکھنے کے قائلین نے اس آیت کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر نزول وحی سے پہلے آپ کتبا سے پڑھتے یا لکھتے تو کفار اس قرآن کے متعلق شک میں پڑجاتے ‘ اور جس طرح آپ کا تلاوت کرنا جائز ہے۔ اسی طرح آپ کا لکھنا بھی جائز ہے اور یہ آپ کے امی ہونے کے منافی نہیں ہے۔ آپ کا صرف امی ہونا معجزہ نہیں ہے کیونکہ نزول وحی سے پہلے آپکا نہ پڑھنا اور نہ لکھنا ‘ اور نہ لکھنا ‘ اور پھر قرآن پیش کرنا اور ان علوم کو پیش کرنا جن کو امی نہیں جانتے یہ ایک معجزہ ہے ۔ اور جن لوگوں نے اس حدیث میں یہ تاویل کہ ہے کہ لکھنے کا معنی ہے آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ یہ تاویل ظاہر حدیث سے بلا ضرورت عدول کرنا ہے ‘ جب کہ حدیث کی عبارت یہ ہے کہ آپ مہارت سے نہیں لکھتے تھے ‘ پھر آپ نے لکھا ‘ اس میں یہ تصریح ہے کہ ٓپ نے خود لکھا اور جس طرح قرآن مجید میں ہے : ہم نے آپ کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ یہ آپ کے لائق ہے ۔ (یسین : ٦٩) ۔ اس کے باوجود آپ نے منظوم کلام کہا مثلاً : ⏬

ھل انت الا اصبع دمیت
وفی سبیل اللہ ما لقیت

تو صرف ایک انگلی ہے جو زخمی ہوئی ہے ‘ حالانکہ تیرے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ اللہ کی راہ میں ہوا ہے ۔

کیونکہ آپ نے شعر گوئی کے قصد اور ارادہ کے بغیر یہ منظوم کلام فرمایا اسی طرح ہوسکتا ہے کہ لکھنا بھی آپ سے اسی طرح صادر ہوا ہو ۔ (شرح الطیبی ج ٨‘ ص ٧٧ : ٧٦‘ مطبوعہ ادارہ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤١٣ ھ)

علامہ طیبی کی اس آخری توجہیہ سے ہم متفق نہیں ہیں۔ ہمارے نزدیک آپ کو لکھنے کا علم تھا اور آپ نے قصداً لکھا تھا ‘ غیر ارادی طور پر آپ سے لکھنا صادر نہیں ہوا۔ جو شخص آپ کے امی ہونے کی وجہ سے آپ کے لکھنے اور پڑھنے کا انکار کرتا ہے ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم ہیں یا نہیں۔ اگر وہ آپ کو عالم نہیں مانتا تو وہ مسلمان نہیں ہے اور اگر وہ آپ کو عالم مانتا ہے تو جس طرح لکھنا پڑھنا امی کے منافی ہے ‘ اسی طرح عالم ہونا بھی امی کے منافی ہیں۔ خصوصا وہ جو تمام مخلوقات سے بڑے عالم ہوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام شرعیہ کے الم ہیں اور اسرار الہیہ کے عارف ہیں ایک امی کی یہ صفت کیسے ہوسکتی ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے امی ہونے کے باوجود آپ کو ان علوم سے نوازا ‘ اسی طرح آپ کو لکھنے اور پڑھنے کے علم سے بھی نوازا ۔ علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٢٧٦ ھ ‘ علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ اور علامہ سنوسی متوفی ٨٩٥ ھ ‘ ان سب نے قاضی عیاض کی عبارت نقل کی ہے اور ان لوگوں کا رد کیا ہے۔ جنہوں نے علامہ باجی مالکی متوفی ٨٩٤ ھ پر تشنیع کی ہے ۔ (صحیح مسلم مع شرح النوادی ج ٨‘ ص ٤٩٦٦‘ اکمال المعلم ج ٦‘ ص ٤٢٢۔ ٤٢١‘ معلم اکمال الاکمال ‘ ج ٦‘ ص ٤٢١،چشتی) علامہ بدالدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں کہ یہ منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لکھا ۔ (عمدہ القاری ج ٢‘ ص ٣٠‘ مطبوعہ مصر)
نیز لکھتے ہیں : اور یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢‘ ص ١٧١‘ مطبوعہ مصر)

صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمد بن عبداللہ لکھا ‘ اس پر یہ سوال ہوا کہ آپ تو امی تھے آپ نے اپنا نام کیسے لکھا ؟
علامہ عینی نے اس کے تین جواب دیے ہیں : پہلا جواب یہ ہے کہ امی وہ شخص ہے جو مہارت سے نہ لکھتا ہو نہ کہ وہ جو مطلقاً نہ لکھتا ہو ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں اسناد مجازی ہے ‘ اور تیسرا جواب یہ ہے کہ آپ کا لکھنا آپ کا معجزہ تھا۔ (عمدۃ القاری ‘ ج ١٨‘ ص ١١٣‘ مطبوعہ مصر)
علامہ عینی کا دوسرا جواب صحیح نہیں ہے اور ان کی پہلی تصریحات کے بھی غلاف ہے۔ انہوں نے یہ جواب علامہ باجی کے مخالفین سے نقل کیا ہے ‘ صحیح جواب دہ ہے جس کو انہوں نے آخر میں ذکر کیا ہے ۔

حافظ شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ء نے اس مسئلہ پر بہت تفصیل سے لکھا ہے ‘ ہم یہ پوری عبارت پیش کر رہے ہیں ہرچند کہ اس کی بعض چیزیں علامہ طیبی کی عبارت میں آچکی ہیں ۔

علامہ ابوالولید باجی مالکی نے صیحح بخاری کی اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے پر استدلال کیا ہے ‘ جس میں ہے ” پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھا “ یہ محمد بن عبداللہ کا فیصلہ ہے ‘ حالانکہ آپ مہارت سے نہیں لکھتے تھے۔ ان کے زمانہ کے علماء اندلس نے ان پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ قول قرآن مجید کے خلاف ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے : ” وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک “ آپ نزول قرآن سے پہلے نہ تو کتاب سے پڑھتے تھے نہ لکھتے تھے۔ علامہ باجی نے اس کے جواب میں کہا کہ قرآن مجید میں نزول قرآن میں نزول قرآن سے پہلے آپ کے پڑھنے اور لکھنے کی نفی ہے ‘ اور جب معجزات سے آپ کی نبوت ثابت ہوگئی اور آپ کی نبوت میں شک کا خطرہ نہ رہا تو پھر آپ کے پڑھنے اور لکھنے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی ‘ اور یہ آپ کا دوسرا معجزہ ہے۔ علامہ ابن وحیہ نے کہا ہے کہ علماء کی ایک جماعت نے علامہ باجی کے موقف کی حمایت کی ‘ ان میں شیخ ابوذر ہر وی ‘ ابو الفتح نیشا پوری اور افریقہ اور دوسرے شہروں کے علماء شامل ہیں۔ بعض علماء نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لکھنے پر امام ابن ابی شیبہ کی اس روایت سے استدلال کیا ہے : مجاہد ‘ عون بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک فوت نہیں ہوئے ‘ جب تک آپنے لکھ اور پڑھ نہیں لیا ‘ مجاہد کہتے ہیں کہ نے شعبی سے اس روایت کا ذکر کیا انہوں نے کہا عون بن عبداللہ نے سچ کہا ہے ‘ میں اس روایت کا سنا ہے ‘ (حافظ ابن ھجر لکھتے ہیں) سہل بن حنظلیہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاویہ سے کہا کہ وہ اقراع اور عینہ کے لیے لکھیں۔ عینہ نے اس پر کہا تمارا کیا خیال ہے کیا میں متلمس کا صحیفہ لے کر جائوں گا ؟ (یعنی تم نے کچھ کا کچھ تو نہیں لکھ دیا ؟ ) اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس صحیفہ پر نظر ڈالی اور فرمایا معاویہ نے وہی لکھا ہے جو میں نے کہا تھا یونس کہتے ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول قرآن کے بعد لکھا ہے (سہل بن حنظلیہ کی روایت مذکورہ میں آپ کے پڑھنے کا ثبوت ہے) قاضی عیاض نے کہا ہے کہ بعض آثار سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لکھنے اور خوش خطی کی معرفت تھی ‘ کیونکہ آپ نے کاتب سے فرمایا قلم اپنے کان پر رکھو یہ تم کو یاد دلائے گا اور آپ نے حضرت معاویہ سے فرمایا دوات رکھ اور قلم ایک کنار سے رکھو ‘ باء کو لمبا کر کے لکھو ‘ سین دندانے دار لکھو اور میم کو کا نا مت کرو۔ قاضی عیاض نے کہا ہرچند کہ اس روایت سے آپ کا لکھنا ثابت نہیں ہوتا لیکن آپ کو لکھنے کا علم دیا جانا مستبعد نہیں ہے ‘ کیونکہ آپ کو ہر چیز کو علم دیا گیا ہے ‘ اور جمہور نے ان احادیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ احادیث ضعیف ہیں اور حدیبہ کی حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ ایک واقعہ ہے اور اس میں لکھنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ‘ اور مسور کی حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حجرت علی نے لکھا تھا اور صحیح بخاری کی حدیث میں تقدیر عبارت اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح نامہ کو لیا اور اس میں محمد رسول اللہ کو مٹا دیا پھر حضرت علی کو وہ صلح نامہ دوبارہ دے دیا ‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس میں لکھا۔ علامہ ابن التین نے اسی پر اعتماد کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ حدیث میں جو ہے ” آپ نے لکھا “ اس معنی ہے آپ نے لکھنے کا حکم دیا ‘ اور اس کی حدیث میں بہت مثالیں ہیں ‘ جیسے ہے آپ نے قیصر کی طرف لکھا اور آپ نے کسریٰ کی طرف لکھا ‘ اور اگر اس حدیث کو اپنے ظاہر پر بھی محمول کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا اسم مبارک لکھا تھا ‘ حالانکہ آپ مہارت سے نہیں لکھتے تھے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ لکھنے کے عالم ہوں اور آپ امی نہ ہوں ‘ کیونہ بہت سے لوگ مہارت سے نہیں لکھتے ‘ اس کے باوجود وہ بعض الفاظ کو پہنچانتے ہیں اور ان کو اپنی جگہ پر رکھ سکتے ہیں خصوصا اسماء کو ‘ اور اس وصف کی وجہ سے وہ امی (ان پڑھ) ہونے سے خارج نہیں ہوتے۔ جیسا اکثر بادشاہ اسی طرح ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت آپ کے ہاتھ پر لکھنے کا عمل جاری ہوگیا ہو اور آپ مہارت سے نہ لکھتے ہوں اور اس صلحنامہ کو آپ نے حسب منشا لکھ دیا ہو ‘ اور یہ اس خاص وقت میں الگ ایک معجزہ ہو ‘ اور اس سے آپ امی ہونے سے خارج نہ ہوں۔ اشاعرہ کے ائمہ اصول میں سے علامہ السمنانی نے یہی جواب دیا ہے ‘ اور علامہ ابن جوزی نے بھی ان کی اتباع کی ہے ‘ علامہ سہیلی نے اس جواب کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ ہرچند کہ یہ ممکن ہے اور آپ کے لکھنے سے ایک اور معجزہ ثابت ہوتا ہے ‘ لیکن یہ اس کے مخالف ہے کہ آپ امی تھے جو لکھتا نہیں ‘ اور جس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ” اگر آپ نزول قرآن سے پہلے لکھتے ہوتے تو منکرین آپ کی نبوت کے متعلق شک میں پڑجاتے “ اس آیت نے تمام شکوک و شبہات کی جڑ کاٹ دی ہے ‘ اگر نزول وحی کے بعد کے بعد آپ کا لکھنا جائز ہوتا تو منکرین پھر شبہ میں پڑجاتے اور قرآن کے معاندین یہ کہتے کہ آپ مہارت سے لکھتے تھے لیکن اس کو چھپاتے تھے ‘ علامہ سہیلی نے اس کے جواب میں کہا یہ محال ہے کہ بعض معجزات ‘ بعض دوسرے معجزات کے مخالف ہوں ‘ اور حق یہ ہے کہ آپ کے لکھنے کا معنی یہ ہے کہ آپ نے حضرت علی ص کو لکھنے کا حکم دیا ‘ علامہ سہیلی کی بات ختم ہوئی ‘ حاٖط عسقلانی فرماتے ہیں : یہ کہ ان کہ فقط اپنا نام لکھنا ‘ آپکے امی ہونے اور معجزہ کے مخالف ہے۔ سو یہ بہت قابل اعتراض ہے ۔ (فتح الباری ج ٧‘ ص ٥٠٤‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ‘ ١٤٠١ ھ،چشتی)

حافظ ابن حجر عسقلانی کی اس آخری بات سے یہ معلوم ہوا کہ جس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لکھنے کا ذکر ہے اس سے آپ کا لکھنا مراد ہے اور آپ کا لکھنا مراد ہے اور آپکا لکھنا آپ کے معجزہ یا آ کے امی ہونے کے خلاف نہیں ہے۔ چناچہ جسٹس محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں : حافظ کا میلان اس طرف ہے کہ اس باب کی حدیث (یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا نام لکھنا) اپنے ظاہر پر محمول ہے ‘ اور اس خاص وقت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امی ہونے کے باوجود اپنا نام لکھنا آپ کا معجزہ ہے ۔ (نکتملتہ فتح المعلم ‘ ج ٣‘ ص ١٨٠‘ مطبوعہ مکتبہ دارالعلوم کراچی ’ ١٤١٤ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس حدیث کو ظاہر پر محمول کرنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امی ہونے اور معجزہ کے خلاف ہے اس میں نظر کبیر ہے یعنی بہت بڑا اعتراض ہے ‘ ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ نے اس نظر کبیر کو بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں : معجزہ قرانیہ وجوہ کثیرہ سے ثابت ہے۔ اگر اس سے قطع نظر کرلی جاتی کہ قرآنی لانے والے امی ہیں ‘ تب بھییہ معجزہ تھا ‘ اور جب اس پر یہ وصف زائدہ ہوا کہ قرآن کو لانے والے پہلے پڑھتے اور لکھتے نہ تھے تو اس سے اس کا معجزہ ہونا بہ طریق کمال ظاہر ہوا۔ اور معاندین کے اعتراضات منہدم ہوگئے ‘ اس سے ظاہر ہوگیا کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتدا ہی سے قاری اور کاتب ہوتے اور قرآن پیش کرتے ‘ تب بھی یہ آپ کا معجزہ ہوتا اور بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ (مرقات ج ٨‘ ص ٧٨‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

نیز ملا علی قاری دوسرے مقام پر لکھتے ہیں : قاضی عیاض نے کہا ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلاوت کرنا آپ کے امی ہونے کے منافی نہیں ہے اسی طرح آپ کا لکھنا بھی آپ کے امی ہونے کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کا صرف امی ہونا معجزہ نہیں ہے ‘ آپ نے جب پہلے لکھے ‘ پڑھے بغیر قرآن مجید کو پیش کیا تو آپ کا معجزہ تھا ‘ پھر آپ نے قرآن مجید میں ایسے علوم پیش کیے جن کو امی نہیں جانتے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ نے ایسے علوم پیش کیئے جن کو تمام علماء نہیں جانتے اور وہ ایسے علوم ہیں کہ اگر آپ بالکل امی نہ ہوتے تو پھر بھی ان علوم کو پیش کرنا آپ کا معجزہ تھا ‘ کیونکہ قرآن معجزات کثیرہ پر مشتمل ہے اور جن لوگوں نے یہ توجیہہ کی ہے کہ آپ کے لکھنے کا معنی یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا یہ بلاضرورت ظاہر معنی سے عدول کرنا ہے۔ یہاں پر قاضی عیاض کی عبارت ختم ہوئی ‘ (ملا علی قاری کہتے ہیں) اس تو جیہہ میں مجھے قاضی عیاض کے ساتھ توا رد ہو گیا ہے ۔ جیسا کہ ان لوگوں پر ظاہر ہو گیا ۔ (مرقات ج ٨‘ ص ٩٢۔ ١٩‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

شیخ امین احسن اصلاحی امی کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : امی ‘ مدرسی و کتابی تعلیم و تعلم سے نا آشنا کو کہتے ہیں ‘ امیین کا لفظ اسماعیلی عربوں کےلیے بطور لقب استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مدرسی اور رسمی تعلیم و کتابت سے نا آشنا اپنی بدویانہ سادگی پر قائم تھے۔ اور اسی طرح بنی اسرائیل جو کہ حامل کتاب تھے ان کے مقابل کے لیے امیت ایک امتیازی علامت تھی۔ (الی قولہ) چناچہ قرآن نے اس لفظ کو عربوں کے لیے ان کو اہل کتاب سے محض ممیز کرنے کےلیے استعمال کیا ہے۔ اسی پہلو سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نبی امی کالقب استعمال ہوا ہے ۔ (تدبر قرآن ج ٢‘ ص ٥٣‘ مطبوعہ فار ان فائونڈیشن ‘ ١٤٠٦ ھ)

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امی اس لیے فرمایا ہے کہ آپ نے کسی مدرسہ میں جا کر لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا ‘ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو براہ راست لکھنا پڑھنا سکھا دے اور آپ لکھیں اور پڑھیں تو وہ آپ کے امی ہونے کے خلاف نہیں ہے ‘ یا بنو اسرائیل سے امتیاز کےلیے آپ کو امی فرمایا سو یہ بھی آپ کے لکھنے پڑھنے کے خلاف نہیں ہے ‘ جیسا کہ قرآن مجید نے تمام اہل مکہ کو امین فرمایا حالانکہ ان میں لکھنے پڑھنے والے بھی تھے ‘ کاتیبین وحی تھے اور بدر کے بعض قیدیوں کے پاس فدیہ کےلیے رقم نہیں تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ انصاری کی اولاد کو پڑھنا لکھنا سکھائیں ۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢١٦‘ المستد رک ج ٢‘ ص ١٤٠،چشتی)

’’اُمی‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک لقب ہے جو قرآن مجید میں دو بار وارد ہوا ہے اس لقب کی اصل کے سلسلے میں علما نے کئی توجیہات پیش کی ہیں۔ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں کہ : اُمی اسے کہتے ہیں جو لکھنا نہ جانتا ہو، زجاج کہتے ہیں اُمی اسے کہتے ہیں کہ جو اپنی خلقت کے اعتبار سے ہی اصل/ جڑ ہو اور جو لکھنا نہ جانتا ہو۔ التنزیل العزیز میں ہے کہ اُمی انہیں کہتے ہیں کہ جو لکھنا نہیں جانتے ۔ (لسان العرب، ج: 1، ص: 34 )

علامہ طوسی لفظ ’’اُمی‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اُمی کو اس امت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو اصل پر قائم ہو، جس نے لکھنا اور پڑھنا نہ سیکھا ہو۔ اس کے علاوہ اسے ماں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی ماں کی تربیت میں رہتا ہے اور وہ آدمی صرف وہی کچھ جانتا ہے جو اس کی ماں اسے سکھاتی ہے ۔ (ابوجعفر محمد الطوسی، تہذیب الاحکام، ج: 1، ص: 95)

گویا اُمی کا لفظ اُمّ سے نکلا ہے اور امّ عربی زبان و ادب میں دو معنوں میں مستعمل ہے: 1۔ اصل اور جڑ 2۔ ماں ۔

ذیل میں اس کی وضاحت درج کی جاتی ہے : ⏬

(1) اُم بمعنی اصل : اگر لفظ اُم اصل کے معنوں میں مستعمل ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ ذات جو اپنی اصل پر قائم ہو۔ اصل اور جڑ وہ فطرت ہے جس پر رب کائنات انسان کو تخلیق کرتا ہے ۔ ارشاد باری ہے : فِطْرَتَ اللهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا ۔ (الروم، 30: 30)
ترجمہ : اللہ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو) ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ ۔ (بخاری الصحیح، 5: 143، رقم: 127)

گویا ہر بچہ خواہ وہ کسی یہودی کے ہاں پیدا ہو یا نصرانی کے ہاں، کسی مسلمان گھرانے میں اس کی ولادت ہو یا کسی ہندو کے گھرانے میں آنکھ کھولے، ابتداء سے اللہ کی توحید اور معرفت اس کے من میں موجود ہوگی۔ جب وہ آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر کے ماحول سے اثر قبول کرتا ہے۔ اگر اس کےو الدین ہندو ہوں گے تو وہ بھی ہندو بنے گا، اگر یہودی ہوں گے تو بچہ بھی یہودی بنے گا اور اگر مسلمان ہوں گے تو بچہ بھی مسلمان ہو گا ۔

بچے کی مذہب سے وابستگی عموماً اسے والدین کی طرف سے منتقل ہوتی ہے یا وہ ماحول کے اثر کو قبول کرتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد گرامی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے قبل جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ محترمہ نے اس وقت انتقال فرمایا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک صرف چھ سال تھی ۔ علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس ماحول میں آنکھ کھولی، وہاں ہر طرف کفرو شرک اور ظلم و بربریت کے ڈیرے تھے۔ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن سے لے کر لڑکپن تک کا مطالعہ کریں تو اس خوشگوار حیرت کا انکشاف ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے مذہبی افکار ونظریات سے کوئی اثر قبول نہ کیا۔ اپنے زمانے کی سماجی قدریں اور خارجی ماحول جو صنم تراشی اور صنم پرستی سے عبارت تھا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قطعاً متاثر نہ ہوئے اور ایک بچے کی جو اصل فطرت ہوتی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس میں کسی شکست و ریخت کا شکار ہوئے بغیر محفوظ رہی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مقدسہ کے ابتدائی چالیس سال ایک ایسے ماحول میں گزارے جہاں سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش ہوتی تھی، حرمِ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت نصب تھے جنہیں لوگ اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے پکارتے تھے۔ اخلاقی اقدارکا جنازہ نکل چکا تھا، زمین پر آباد انسانی معاشرے حیوانی معاشروں کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ کوئی قانون اور ضابطہ نہ تھا۔ بات بات پر تلواریں نیام سے باہر آجاتیں۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم رہتا۔ قبائلی عصبیت انتقام در انتقام میں ڈھل کر اوراقِ زندگی پر انسانی لہو کی ارزانی کی علامت بن جاتی۔ جھوٹ، دغا، منافقت، دجل اور فریب نے زمین پر محیط طویل شبِ زندگی کے اندھیروں کو کچھ اور بھی گہرا کردیا تھا۔ شرک اور کفر کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچپن اور لڑکپن گزرا۔ کردار کی مضبوطی کا یہ عالم تھا کہ یقین کی شمع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول و عمل میں ہمیشہ فروزاں رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دامنِ عصمت بداخلاقی کے چھینٹوں سے کبھی داغدار نہ ہو سکا ۔

گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی فطرت پر اسی طرح پاک اور صاف رہے جس فطرت پر رب کائنات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق مکمل کی تھی۔ استحصال اور ظلم پر مبنی اس بے روح معاشرے میں زندگی کی چالیس بہاریں دیکھ چکنے کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امیت اور اصلیت اپنی فطرت پر قائم رہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان بعثت کے وقت کردار کی اسی خوشبو اور شخصیت کی اسی روشنی کو نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ۔

(2) اُم بمعنی ماں : لفظ اُم اگر بمعنی ماں مستعمل ہو تو اس لحاظ سے اُمی کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ ہستی جو اپنی ساری زندگی گزار کر بھی اسی حالت میں ہو جس حالت میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھی۔ کیونکہ جب کوئی بچہ پیدا ہو تو یہ دو بنیادی خوبیوں کا حامل ہوتا ہے ایک یہ کہ وہ برائی، گناہ اور آلائش سے پاک ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ تمام اکتسابی علوم سے بھی منزہ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اکتساب کا تعلق پیدائشِ انسانی کے بعد شروع ہوتا ہے اور جب انسان سیکھنے کے عمل کا آغاز کرتا ہے تو اچھائی اور برائی دونوں کا اس کی سیرت کا جزو بننے کا امکان ہوتا ہے ۔

قرآن حکیم میں رب کائنات نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس لیے اُمی قرار دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزار کر بھی اسی طرح معصوم تھے جیسے اپنی پیدائش کے وقت۔ ماحول کی گندگی کا ہلکا سا دھبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامنِ روز و شب کو داغدار نہ کر سکا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی ظاہری و باطنی طہارت اور پاکیزگی کی بنا پر قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’النبی الامی‘‘ کے لقب سے یاد کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ ۔ (الاعراف، 7: 157)
ترجمہ : (یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے ہیں جو امی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر منجانب اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) ۔

دوسرے مقام پر ارشاد خداوندی ہے : فَاٰمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ ۔(الاعراف، 7: 158)
ترجمہ : سو تم اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ جو شانِ اُمیّت کا حامل نبی ہے ۔

آیات مذکورہ سے واضح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمی نبی ہیں ۔ اس لیے کہ انھوں نے سوائے اپنے رب کے کسی سے کچھ پڑھا اور نہ کچھ سیکھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم عطائی ہے، اکتسابی نہیں اور یہ علم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کرنے والا ان کا پروردگار ہے جو کل جہانوں کا پالنے والا اور ہر مخلوق کا خالق ہے اور جس کی قدرتِ مطلقہ کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی کہنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ایک ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ عرب میں یہود و نصاریٰ اہل کتاب کہلاتے تھے اور وہ لوگ جوکسی آسمانی کتاب رکھنے کے مدعی نہ تھے، اُمیین کہلاتے تھے ۔ یہ اصطلاح اس لیے تھی کہ اہلِ کتاب ان لوگوں کو اپنے سے الگ کرکے مخاطب کرتے تھے جیسا کہ سورۃ آل عمران میں ارشاد ہوا : وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ أَ اَسْلَمْتُمْ ۔ (آل عمران، 3: 20)
ترجمہ : اور آپ اہلِ کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے فرما دیں: کیا تم بھی اللہ کے حضور جھکتے ہو (یعنی اسلام قبول کرتے ہو) ۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رشد و ہدایت کےلیے قوانینِ الہٰی کا جو نظام قائم کیا، وہ انبیائے کرام علیہم السلام کی وساطت سے ان کو ملتا رہا اور اس سلسلہ کی آخری کڑی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان لوگوں کے درمیان مبعوث فرمایا گیا جو اُمیین کہلاتے تھے یعنی جاہل یا ان پڑھ نہیں بلکہ جن کے پاس اس سے پہلے کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسا نظام متشکل فرمایا جس کے ذریعہ ان لوگوں کی صلاحیتوں کی برومندی اور ان کی ذات کی نشوونما ہو سکے ۔ اس حقیقت کو سورۃ الجمعہ کی دوسری آیت میں اس طرح واضح فرمایا گیا کہ : هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُزَکِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ق وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الجمعۃ، 62: 2)
ترجمہ : وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں بے شک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اُمیین سے مراد ناخواندہ یا ان پڑھوں کی جماعت نہیں بلکہ عرب باشندوں کی وہ جماعت ہے جو اہلِ کتاب کے مقابلے میں اس وقت حاملِ کتاب نہیں تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلق انہی اُمیین سے تھا ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اُمّیت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ قرار پاتی ہے ۔ اللہ رب العزت نے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی کہا تو یقیناً اس میں ہزارہا حکمتیں پوشید ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر حکمت اور ہر دانش کا سرچشمہ ہے ، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی کہنا بھی خالی از حکمت نہیں ہو سکتا ۔ ذیل میں چند حکمتیں ذکر کی جاتی ہیں : ⏬

پہلی حکمت : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کتاب کو پڑھنا جانتے تھے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے لکھنا سیکھا تھا۔ اس وصف سے باری تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو کیوں مزین کیا اس کا جواب قرآن یوں دیتا ہے : وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّا رْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔ (العنکبوت، 29: 48)
ترجمہ : اور (اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی کتاب نہیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل اسی وقت ضرور شک میں پڑ جاتے ۔

علامہ شہاب الدین محمود آلوسی فرماتے ہیں : اس میں ایک حکمتِ الہٰیہ یہ بھی تھی کہ استاد کی فضیلت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ثابت نہ ہو، نیز یہ کہ کلام اللہ کو مخالف لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکتسابی علوم و فنون کا نتیجہ نہ سمجھ لیں ۔ چنانچہ اُمی ہونا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں صفتِ مدح ہے جو دوسروں کے حق میں نہیں ۔ (روح المعانی، ج: 9، ص: 70)

گویا معلم اعظم حضور رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی قرار دینے کی پہلی حکمت یہ تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی استاد سے کچھ پڑھا ہوتا، کسی مکتب میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہوتی، لکھنا سیکھا ہوتا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منصبِ رسالت پر جلوہ افروز ہونے کا اعلان فرماتے اور احکامِ الہٰی بیان کرتے تو شک کرنے والے حاسدین اور معاندین یہ تہمت عائد کرتے کہ یہ احکام منجانب اللہ نہیں، یہ وحی الہٰی نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات فلاں کتاب سے پڑھ کر یا فلاں استاد سے سیکھ کر بیان کررہے ہیں۔ یوں انہیں شانِ نبوت میں تنقیص کا موقع مل جاتا اور وہ تحریک اسلامی اور اس کے عظیم قائد کے خلاف اپنا پروپیگنڈہ تیز کردیتے۔ یہ نکتہ تحریکِ اسلامی کی قیادت کی کردار کشی کی مہم میں خوب اچھالا جاتا اور نبوت کی صداقت اور حقانیت پر مسلمانوں کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے منصبِ نبوت کو اس اتہام سے بچانے کے لیے اور تمام کسبی علوم سے اکتساب کے امکان کو رد کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چالیس سالہ حیاتِ مقدسہ کا ایک ایک لمحہ ان کے سامنے رکھا ۔

دوسری حکمت : اکتسابی اور وہبی علم میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ اکتسابی علم کو دہرانے سے الفاظ ادھر ادھر ہوجاتے ہیں حتی کہ بعض اوقات مفہوم میں بھی تھوڑا بہت فرق آجاتا ہے لیکن وہبی علم میں ایسا ممکن نہیں ہوتا ۔ بار بار دہرانے سے بھی ایک لفظ اِدھر اُدھر نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ آیاتِ قرآنی میں کسی لفظی تبدیلی کا امکان ہی نہیں۔ پوری دنیا کے حفاظ جن کی زبانیں مختلف، ثقافتیں الگ، رہن سہن کے طریقے جدا جدا، لیکن جب وہ قرآن پڑھتے ہیں تو اس میں زیر زبر کا بھی فرق نہیں ہوتا ۔ آقائے کل جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن بذریعہ وحی نازل ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں سالہا سال سیکڑوں بار ان آیات کو دہرایا لیکن ایک لفظ تو کجا ایک حرف بھی کبھی تبدیل نہ ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی ان آیاتِ مقدسہ کو حفاظ کی طرح از بر نہیں کیا بلکہ ہر آیت اپنی صحتِ لفظی کے ساتھ خود بخود زبانِ اقدس پر جاری ہو جاتی ۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دائمی معجزے کا فیض قیامت تک جاری رہے گا، اس لیے کہ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو النبی الامی کی شان کے ساتھ مبعوث کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس کو اکتسابی علم کی ہر آلائش سے پاک کردیا تھا ۔

تیسری حکمت : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی قرار دینے کی تیسری حکمت اور اس میں کارفرما فلسفہ یہ تھا کہ وہبی علم کے مقابلے میں دنیوی علم ظنی ہوتا ہے۔ اس میں گمان اور غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو دنیوی علوم اور کتابوں سے اس لیے بے نیاز کردیا کہ غلطی، گمان اور نقص کا احتمال تک باقی نہ رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس کو ظنی نہیں بلکہ یقینی علم کا گنجینہ بنادیا گیا۔ یقینِ کامل ایمان کی بنیاد ہے اور یقین کامل عموماً اکتسابی عمل کی نہیں بلکہ وہبی علم کی عطا ہے اور اس میں نقص یا غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم وہبی تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلقِ خدا میں ایمان کے ساتھ یقینِ کامل کی دولت بھی تقسیم کی۔ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کرتا ہے : مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ ۔ (الشوریٰ، 42: 52)
ترجمہ : اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وحی سے قبل اپنی ذاتی درایت و فکر سے) نہ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان (کے شرعی احکام کی تفصیلات کو ہی جانتے تھے جو بعد میں نازل اور مقرر ہوئیں) ۔

رسول اُمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کا منبع و سرچشمہ وحی الہٰی تھا، دنیوی یا اکتسابی علم نہ تھا۔ وحی الہٰی میں جہاں غلطی، گمان یا نقص کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں ہوتا، وہاں اس کے ذریعہ حاصل ہونے والا علم یقینی، حتمی اور قطعی بھی ہوتا ہے۔ غبارِ تشکیک اس علم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور نہ ذہنِ انسانی اس میں اختراع کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ اکتسابی علوم و فنون کو حرفِ آخر ہونے کی سند عطا کی جاسکتی ہے کیونکہ ان میں اصلاح و ترمیم اور اضافہ کی گنجائش ہر لمحہ موجود رہتی ہے جبکہ اس کے برعکس وہبی علم ان اسقام سے پاک ہوتا ہے۔ اس لیے انبیاء و مرسلینf کے علاوہ کوئی فلاسفر یا دانشور یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کی نگارشات میں کسی غلطی کا امکان موجود نہیں۔ صرف انبیاء و رسلf ایسی ہستیاں ہیں جن کی زبانِ ترجمانِ حقیقت سے جو صادر ہوتا ہے، اس میں قیامت تک اصلاح و ترمیم اور اضافہ ممکن نہیں۔ وہ حرفِ آخر ہوتا ہے اور قیامت تک اس میں کسی قسم کا کوئی ردوبدل نہیں کیا جا سکتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی کہا گیا تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھانے والا خود اس کائنات کا رب ہے جو ہر قسم کے نقائص اور عیوب سے مبرا ہے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات بھی ظنی علوم کے نقائص سے پاک اور مبرا ہیں ۔

چوتھی حکمت : عربی گرائمر کی رو سے لفظ نبی ؛ نباء سے مشتق ہے ۔ نباء کا معنی غیب کی خبریں جاننا یا غیب کی خبریں دینا ہے۔ اس اعتبار سے نبی اس شخص کو کہتے ہیں جو غیب کی خبریں نہ صرف جانتا ہو بلکہ لوگوں کو ان سے آگاہ بھی کرتا ہو ۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْکَ ۔ (آل عمران، 3: 44)
ترجمہ : (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی فرماتے ہیں ۔‘

جب نبی کی تعریف ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف خود غیب کی خبریں رکھتا ہے بلکہ ان خبروں سے دوسروں کو بھی مطلع کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی کا سارا علم غیبی ہوتا ہے ۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمی نہ ہوتے تو کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استاد بھی ہوتا لیکن یہ صورت حال اللہ رب العزت کو گوارہ نہ ہوئی کہ ہو تو ہمارا محبوب لیکن اس کا معلم کوئی عام شخص ہو۔ یہ چیز شانِ نبوت کے بھی منافی ہوتی۔چنانچہ باری تعالیٰ نے اکتسابی علم کےسارے دروازے بند کردیئے کہ محبوب ہم اپنی وحی کے ذریعے آپ کو پڑھاتے بھی ہیں اور سکھاتے بھی ہیں اور پھر آپ سارے انسانوں اور سارے زمانوں کے معلم قرار پائیں گے ۔ آپ شہر علم ہوں گے اور ساری دنیا آپ کے در سے حصولِ علم کی خیرات کی تمنائی ہو گی ۔ پس اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی بنایا گیا تاکہ کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معلم ہونے کا دعویٰ نہ کر سکے ۔

اُمی ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک عظیم معجزہ : ⏬

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھرپور مجلسی، ثقافتی، عائلی اور سماجی زندگی بسر کی۔ بکریوں کو چرانے سے لے کر تجارت کے لیے شام تک کا سفر اختیار کیا۔ کفار و مشرکین کے ساتھ معاہدات کیے، غزوات میں شرکت کی، ثالث بن کر لوگوں کے جھگڑے ختم کرائے، تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دیا لیکن دنیاوی علم کے حصول کی کبھی دل میں خواہش پیدا نہ ہوئی۔ کسی کے در پر حصولِ علم کے لیے دستک دینا بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس کے منافی ہوتا۔ اکتسابی علوم کے حصول کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ اس کا سبب فقط یہ تھا کہ انہیں بتادیا گیا تھا کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم کے سارے خزانے آپ کے قدموں کی خیرات ہیں۔ چنانچہ وقت آنے پر یہ سارے خزانے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کھلتے گئے اور سارے علومِ غیب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر منکشف ہوتے چلے گئے ۔ امام خازن اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمی ہونا کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اُمی ہونا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا پھر ایسی کتاب بھی لائے جس میں اولین و آخرین کے علوم و غیوب ہیں ۔ (تفسیر خازن، 2: 138،چشتی)

ہر چیز پر قادر رب نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام علوم کی کنجیاں عطا فرمائیں ۔ اس کائنات کی کوئی چیز بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائرہ علم سے باہر نہیں۔ معراج کی شب تمام حجابات اٹھادیے گئے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدارِ الہٰی کے شرفِ عظیم سے بھی مشرف ہوئے اور کوئی چیز آپ ﷺ کی نظروں سے اوجھل نہ رہی ۔ دکھانے اور سکھانے والے نے علمِ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حد مقرر نہ کی ۔ اس حقیقت کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے : وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا ۔ (النساء، 4: 113)
ترجمہ : اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں جانتے تھے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم عطائی ہے، ذاتی نہیں اور یہ علم عطا کرنے والا اس کائنات کا خالق ہے ۔ اس کائناتِ رنگ و بو میں سوائے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوئی شخص ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ لوگو! جو کچھ تم نہیں جانتے، مجھے وہ بھی عطا کردیا گیا ہے۔ کوئی شخص بیک وقت سارے علوم پر دسترس نہیں رکھ سکتا لیکن تمام علوم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش کفِ پا کا تصدق ہیں ۔ اللہ رب العزت مذکورہ آیاتِ مقدسہ میں حضور رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بارگاہ سے تمام علوم عطا کیے جانے کو اپنا بہت بڑا فضل قرار دے رہا ہے۔ اس آیت کریمہ کی رو سے تمام عوالم اور کائنات کی ہر چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احاطہ علم میں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کا انکار اللہ رب العزت کے علم کے انکار کے مترادف ہے ۔ کفار و مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم پر طعن کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے دل کی کیفیت کو نہیں جانتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : سلونی عما شئتم ۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، 1: 162، رقم:90،چشتی)
ترجمہ : جس چیز کے متعلق مجھ سے پوچھنا چاہو، پوچھ لو ۔

اپنے اس ارشادِ گرامی سے قیامت تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب پر اعتراض کرنے والوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی جواب دے دیا ۔ ایک اور مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کی تباہی کا کیا عالم ہوگا جو میرے علم کی وسعت پر طعن زنی کرتے ہیں (آؤ) تم اس وقت سے لے کر قیامت تک جو بات چاہو، مجھ سے پوچھ لو ۔ (تفسیر بغوی، 2: 381-382)

اس اعتماد کے ساتھ وہی ذات دعویٰ کرسکتی ہے جسے اس کے رب نے قیامت تک کے حالات سے آگاہ کردیا ہو ۔

خلاصہ کلام : بچہ جب رحمِ مادر سے دنیا میں آتا ہے تو وہ اَن پڑھ اور ناخواندہ ہوتا ہے ، اسی نسبت سے عرب میں اُمی اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو ۔ اگرچہ یہ لفظ کسی شخص کےلیے صفتِ مدح نہیں ہے بلکہ ایک عیب سمجھا جاتا ہے ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علوم و معارف اور خصوصیات و حالات و کمالات کے ساتھ اُمی ہونا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے بڑی صفت کمال بن گئی ہے ۔ ایک ایسے شخص کا جس نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہ کیا ہو ، اس کا علوم و معارف کا دریا بہادینا اور اس سے ایسے بیش بہا علوم اور بے نظیر حقائق و معارف کا صدور ایک ایسا کھلا معجزہ ہے جس سے کوئی معاند و مخالف بھی انکار نہیں کرسکتا۔ خصوصاً جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک کے چالیس سال مکہ میں سب کے سامنے اس طرح گزرے ہوں کہ کسی سے ایک حرف پڑھا اور نہ سیکھا اور پھر ٹھیک چالیس سال پورے ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک پر وہ کلام جاری ہوا جس کی ایک چھوٹی سی آیت کی مثال لانے سے پوری دنیا عاجز ہو گئی تو ان حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمی ہونا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول من جانب اللہ ہونے اور قرآن کے کلامِ الہٰی ہونے پر ایک بڑی شہادت ہے ۔ پس اس لیے اُمی ہونا اگرچہ دوسروں کےلیے کوئی صفتِ مدح نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے عظیم صفتِ مدح و کمال ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 27 August 2024

بریلوی نیا فرقہ نہیں اہل سنت و جماعت کی پہچان ہے

بریلوی نیا فرقہ نہیں اہل سنت و جماعت کی پہچان ہے

محترم قارئینِ کرام : بے شک ’’بریلوی‘‘ اور مسلک اعلیٰحضرت سچے پکے اصلی اور حقیقی اہلسنت کی علامت و نشان و شناخت و پہچان ہے ۔ اہل علم و فن کا دستور رہا ہے کہ جب کسی شئی کی کما حقہ معرفت کراتے ہیں تو اس کا معرف جامع و مانع لاتے ہیں اور جامعیت مابہ الاشتراک سے آتی ہے اور مانعیت مابہ الامتیاز سے تاکہ معرَّف یعنی جس کی معرفت کرانا مقصود ہوتی ہے اس کا وجود اغیار سے ممتاز ہوکر ذہن میں متصور ہوجائے جیسے علماء نحو نے “کلمہ” کی معرفت کرائی تو صرف “الکلمة لفظ” سے نہ کرائی بلکہ “وضع لمعنی مفرد” کی قید کے ساتھ کرائی کہ یہاں “لفظ” مابہ الاشتراک کی حیثیت کا حامل ہے جو “موضوع و مہمل لفظ” دونوں کو شامل ہے اور یہ کلمہ کےلیے جنس قریب ہے چاہتے تو جنس بعید سے معرفت کراتے یعنی “الکلمة شئی” کہ دیتے لیکن یہ تعریف حد تام نہ ہوتی یہاں تام کا بھی لحاظ رکھا گیا تا کہ مطلوب اغیار قریبہ سے بھی ممتاز ہو کر متصور ہو جائے اور “وضع لمعنی مفرد” مابہ الامتیاز کی حیثیت کا حامل ہے جس سے مہملات اور وہ الفاظ نکل گئے جو کسی معنی پر باعتبار وضع دال نہیں ہیں اور “حروف تہجی” نکل گئے اور مرکب نکل گئے خوا تام ہو یا ناقص اور اس جامعیت اور مانعیت کے لحاظ سے کلمہ کی کما حقہ معرفت حاصل ہوئی اور وہ اغیار بعیدہ و قریبہ سے ممتاز ہو کر ذہن میں متصور ہوا معلوم ہوا کسی شئی کی کما حقہ معرفت حاصل کرنے کے لئے مابہ الاشتراک کے ساتھ ساتھ مابہ الامتیاز کی ضرورت پڑتی ہے مابہ الامتیاز کے بغیر کما حقہ معرفت ہرگز نہیں حاصل ہو سکتی جیسے مناطقہ انسان کی تعریف حیوان ناطق سے کرتے ہیں یہاں حیوان مابہ الاشتراک ہے اور ناطق مابہ الامتیاز جس کی بنا پر انسان کے اغیار یعنی فرس و غنم و غیرہ انسان کی تعریف میں داخل نہ ہوسکے اور انسان کی تعریف جامع و مانع رہی لیکن اگر انسان کی تعریف صرف حیوان سے کی جائے تو اس سے انسان کی تعریف دخول غیر سے مانع نہ رہے گی یعنی فرس و غنم بھی تعریف میں شامل ہوجائیں گے اور انسان کا وجود اغیار سے ممتاز ہوکر متصور نہ ہو پائے گا ۔


اگر مابہ الامتیاز نہ ہو تو معرف یعنی جس کی معرفت کرانی مقصود ہوتی ہے اسکا وجود ذہن میں اغیار سے ممتاز ہوکر نہیں ہوگا بلکہ ابہام باقی رہےگا اور تعریف کا مقصد اصلی فوت ہوجائے گا ۔


پہلے زمانے میں صرف کلمہ پڑھنا ہی اہل حق کا امتیازی نشان رہا ہے یہی اھل حق و باطل کے مابین ممیِز و فصل کا کام کرتا رہا لیکن جب اِنھیں کلمہ پڑھنے والوں میں معتزلہ و جبریہ قدریہ جیسے فرقے وجود میں آئے جو نت نئے طریقوں سے اسلام کو نقصان پہچانے میں مشغول ہونے لگے اور قران و حدیث کے غلط معانی اور مطالب بیان کرنے لگے تو اشتراک پیدا ہوا کہ جو لوگ کلمہ طیب پڑھتے تھے ان میں ایسے نظریات رکھنے والوں کی شرکت ہوئی کہ معرَّف کی معرفت میں ابہام پیدا ہوا اور عوام الناس ابہام کی تاریکی میں گمراہی کے راستے پر چل پڑی اور اھل حق کی معرفت کرنا اندھیرے میں ہاتھ مارنے کے مترادف ہوگیا کیونکہ کوئی خط امتیاز نہ رہا جسکی بنا پر سب میدان اشتراک میں نظر آنے لگے اسلئے کہ عرف میں اصل مسلمان کی پہچان مشکل ہوگئی تھی لھذہ ایسا معرِّف جو معرَّف یعنی اصل مسلمان کی ایسی معرفت کرائے جس سے اصل مسلمان کی شناخت ہوسکے کہ اشتراک ختم ہو کی اشد ضرورت آن پڑی کہ اھل حق و باطل کے مابین تمیز ہوجائے تو اس وقت حضرت ابو الحسن اشعری رحمۃ الله علیه نے معتزلہ سے علیحدگی اختیار کی اور انکے رائے سے اختلاف کیا اور انکے متبعین معتزلہ کی رائے کے باطل کرنے میں مشغول ہوئے اور انھوں نے سنت کی اتباع کی تو انکا نام “اھل سنت و جماعت” ہوا…(جیسا کہ شرح عقائد میں ذکر ہے) تو اسی نام (معرِف) نے اپنے معرَف کی ایسی معرفت کرائی کہ جس سے معتزلہ وغیرہ نکل گئے اور اھل حق جنکی معرفت مشکل تھی,مبہم تھی اب واضح ہوگئی،عیاں ہوگئی اور یہی نام اھل حق کا امتیازی نشان بنارہا ہے کہ جو خود کے بارے میں یہ کہتا تھا کہ ہم “اھل سنت و جماعت” ہیں تو وہی اھل حق جانا جاتا تھا،پہچانا جاتا تھا لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ ہم صرف مسلمان ہیں تو یہ کہنے سے اسکی پہچان نہیں ہوپاتی تھی بلکہ لفظ مسلمان کے ساتھ ساتھ اسے “اھل سنت و جماعت” کی قید لگانی پڑتی تھی تبھی اھل حق میں شمار کیا جاتا تھا ورنہ معتزلہ وغیرہ بھی خود کو مسلمان کہتے تھے اسکے بعد ایک ایسا دور آیا کہ “اھل سنت و جماعت” میں سے ایسے فرقے وجود میں آئے جو قطعیات کے خلاف بکواس کرنے لگے کہ یہ خود کو “اھل سنت و جماعت” کہتے تھے جیسے وہابیہ دیابنہ لھذا پھر اھل حق کی معرفت امتیازی حیثیت سے محروم ہوگئی غیر بھی شامل ہونے لگے ۔ لہٰذا ایسے معرِف کی ضرورت آن پڑی جو ان باطل عقائد کے حاملین کو نکال سکے, اور اھل حق کا کوئی امتیازی نشان ہوجائے تاکہ اصل اھل سنت کی معرفت غیروں کے تصور سے ممتاز ہوکر ہوسکے تو اس وقت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے ان کے باطل عقائد کا رد فرمایا انکے رائے سے اختلاف,ان سے علیحدگی اختیار فرمائی,انکے متبعین و معتقدین نے ان فرقوں کی رائے باطل کرنے میں سرگرم رہے لھذا اصل اھل سنت و جماعت کی پہچان عرف میں پھر فصل ممیز کی محتاج ہوگئی تو ہمارے علماء و اکابر نے بنام “مسلک اعلی حضرت” کی اصطلاح کو پسند فرمایا جس کو استعمال کرکے یہ معلوم ہوسکے کہ یہ شخص اصل اھل سنت و جماعت ہے اور افکار اعلی حضرت رحمۃ الله علیه کی طرف نسبت کرنے کےلیے خود کو “بریلی” کی طرف منسوب کیا ۔ جیسے ماترید ایک جگہ کا نام ہے لیکن حضرت ابو منصور علیہ الرحمہ کے نظریات کی طرف نسبت کرنے کے لیے ماتریدی کہا جاتا ہے ۔


کہ اس سے اصل “اہل سنت و جماعت” کی معرفت ہوئی کہ ہم نہ دیوبندی ہیں نہ وہابی بلکہ اصلی سنی ہیں یہی عرفا بطور امتیاز مستعمل ہوا یہی اھل حق کا امتیازی نشان رہا ‘اہل سنت و جماعت” کے ساتھ یہ ایسی قید ہے کہ جس سے عقائد باطلہ کے حاملین خارج ہوگئے اور اس معرِف سے “اہل سنت و جماعت” کی معرفت جامع و مانع طریقے سے ہوگئی اصل “اہل سنت جماعت کی معرفت کے لئے خود کو صرف بریلوی کہدینا ہی کافی ہوگیا جیسے پہلے “اھل سنت و جماعت” ہی کہدینا کافی تھا اصل مسلمان کی شناخت کے لئے اور اس سے پہلے صرف کلمہ طیب ہی پڑھنا کافی تھا اہل حق و باطل کے مابین امتیاز پیدا کرنے کے کے لیے ۔ (چشتی)


اب جس جگہ جو اہل حق کا امتیازی نشان رہےگا جیسے باہر ممالک میں لفظ “صوفی” مابہ الامتیاز ہے لہٰذا یہی اہل حق کا امتیازی نشان ہے ۔


اہل و علم و فن کے دستور کو اپناتے ہوئے کس طرح اہل سنت کے مقتدر و معتبر علماء نے لفظ “بریلوی” کو پسند فرمایا ۔


غیر مقلد وہابی مصنف البریلویۃ کے ایک رفیق و معین ہمدم و دمساز مولوی امیر حمزہ اپنی کتاب ’’آسمانی جنت اور درباری جہنم‘‘ کے صفحہ نمبر 250,251 پر خود تسلیم کرتے ہیں:

’’1866ء میں دیوبند شہر میں حنفی حضرات نے ایک مدرسے کی داغ بیل ڈالی۔ یہاں سے جو علماء فارغ ہوئے وہ پھر بیسویں صدی میں دیوبندی کے نام سے معروف ہوگئے… آج کل ان کی پہچان اہلسنت و الجماعت حنفی دیوبندی کے نام سے ‘‘

پھر لکھتا ہے ’’احمد رضا خاں بریلوی جوکہ ہندوستان کے صوبہ اترپردیش (یو۔پی) کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے… جس کے ماننے والے اپنے آپ کو اہلسنت و الجماعت حنفی بریلوی کہلواتے ہیں‘‘ (درباری جہنم صفحہ 252)

پھر لکھتا ہے ’’حنفیوں میں سے دیوبندی بنے اور بریلوی بنے‘‘ (آسمانی جنت ص 253)

اسی کتاب میں ندوۃ العلماء اور ندیوں کو بھی اہلسنت حنفی ندوی لکھا ہے اور شیعوں اور غیر مقلدوں (نام نہاد اہلحدیثوں کو بھی اہلسنت لکھا ہے۔ اب مولوی اصدق صاحب بتائیں۔ اب جبکہ کئی فرقے اپنے آپ کو اہلسنت کہلوا رہے ہیں تو آپ کے لئے اہلسنت بریلوی بطور علامت و شناخت و امتیاز و پہچان بریلوی کہلانا کیوں قیامت ہے؟ یہ فتنوں اور فرقوں کا زمانہ ہے۔ اگر حقیقی اہلسنت اکابر کرام اپنی شناخت و پہچان بریلوی متعین کریں تو آپ کو کیا دکھ ہے؟ یا تو آپ یوں کریں کہ وہابیوں، غیر مقلدوں کو آمادہ کریں کہ مہاراج آپ وہابی کہلایا کریں، وہابی ہوکر اہلسنت کالیبل نہ لگائیں اور دیوبندیوں وہابیوں کو پابند کریں کہ آپ کے اکابر وہابی، دیوبندی ہونے کے دعویدار تھے۔ آپ اہلسنت کا نام سرقہ نہ کریں اور دیوبندی وہابی کہلائیں۔ جب آپ ان دونوں فرقوں کو قائل کرلیں تو حقیقی اہلسنت صرف اور صرف اہلسنت و جماعت کہلایا کریں گے اور آپ کے من کی مراد پوری ہوجائے گی اور مسلمانان اہلسنت وہابیوں، دیوبندیوں کی دھوکہ منڈی سے بچ جائیں گے۔ لیکن اب جبکہ دیوبندی بھی نام نہاد اہلسنت کہلائیں، غیر مقلد بھی اہلحدیث اہلسنت کہلائیں، ندوی و مودودی ورافضی بھی خود کو اہلسنت کہلائیں اور ہم بھی تو آپ دیدہ دانستہ سنیوں کو مذکورہ بالا باطل و بد دین فرقوں کے جال میں پھنسانا چاہتے ہیں کیونکہ بقول سیدنا مجدد اعظم سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ:

سنی حنفی اور چشتی، بن بن کے بہکاتے یہ ہیں

خوشتر و اصدق و ذیشان اندھے کی لاٹھی نہ گھمائیں اور مسلک اعلیٰ حضرت، اور بریلوی کے علامتی و شناختی نشان کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے اہلسنت کو بدمذہبوں کے لئے ترنوالہ نہ بنائیں۔ آپ کو چاہئے تھا کہ جس طرح آپ نے مسلک اعلیٰ حضرت اور بریلوی انتساب کے خلاف آپ حضرات نے اندھا دھند اپنی ساری توانائیاں جھونک دیں۔ آپ اپنا سارا زور اور تمامتر صلاحیتیں اس پر صرف کرتے، وہابی دیوبندی غیر مقلد مودودی وغیرہ اہلسنت نہیں ہیں۔ ان جعلی بناسپتی، مصنوعی نقلی بناوٹی اہلسنت سے بچو اور اجتناب کرو۔ مگر آپ حضرات یہ تو کرنہ سکے اور الٹا ’’شاخ پہ بیٹھ کر جڑ کانٹنے کی فکر‘‘ مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا اور بے جوڑ شوشے چھوڑنے ، مغالطے دینے شروع کردیئے۔ بہرحال فقیر بفضلہ تعالیٰ ان ہرسہ باغیان مسلک اعلیٰ حضرت کی فریب کاریوں، مکاریوں، کیادیوں، مغالطہ آمیزیوں کا راز شواہد و حقائق کی روشنی میں جلد طشت از بام کرے گا، لیکن پہلے موضوع زیر بحث اکابر دیوبند سے خود دیوبندی کہلاتا اور مسلک دیوبند۔ دیوبندی مسلک کہلاتا مزید حوالوں سے ثابت کرتا ہے جو ان نوزائیدہ قلم کاروں کی دھندلی نظر سے اخفاء میں رہے یا دیدہ دانستہ صرف نظر سے کام لیا۔

کتاب جائزہ مدارس عربیہ مغربی پاکستان مرتبہ حافظ نذر احمد صاحب مسلم اکادمی لاہور پہلی بار 1960ء میں مرتب ہوکر طبع ہوئی۔ ہمارے پاس محرم الحرام 1392ھ بمطابق مارچ 1972ء کا طبع شدہ و شائع کردہ ایڈیشن ہے جس میں بریلوی دیوبندی، غیر مقلد اہلحدیث و شیعہ مدارس کی تفصیل موجود و مرقوم ہے۔ پہلے دیوبندی مدارس کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ صفحہ 18، جامعہ اشرفیہ لاہور مسلک حنفی دیوبندی جامعہ مدینہ لاہور صفحہ 25,24، مسلک حنفی دیوبندی صفحہ 34، جامعہ حنفیہ مسلک حنفی دیوبندی صفحہ 42، جامعہ عربیہ رحیمیہ لاہور مسلک حنفی دیوبندی دارالعلوم مدینہ بہاولپور اہلسنت والجماعت مشرب اکابر دیوبند ،مدرسہ عطاء العلوم، عطاء العلوم والفیوض بہاولپور، نور پور مسلک حنفی دیوبندی ص 74، دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی ص 124، مسلک حنفی دیوبندی، مخزن العلوم خان پور مسلک حنفی دیوبندی ص 143، جامعہ رشیدیہ ساہیوال مسلک حنفی دیوبندی ص 160، مدرسہ اشاعت العلوم لائل پور فیصل آباد مسلک حنفی دیوبندی ص 251، جامعہ قاسمیہ لائل پور فیصل آباد مسلک حنفی دیوبندی ص 259، جامعہ اشرفیہ پشاور مسلک حنفی دیوبندی ص 406، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک حنفی دیوبندی ص 407، دارالعلوم کراچی مفتی محمد شفیع دیوبندی مسلک دیوبندی حنفی ص 477، مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی، مسلک حنفی دیوبندی ص 480، دارالعلوم قوت الاسلام حیدرآباد سندھ مسلک حنفی دیوبندی ص 514، مدرسہ مطلع العلوم کوئٹہ بلوچستان مسلک دیوبندی حنفی ص 565، مدرسہ قاسم العلوم ملتان مسلک حنفی دیوبندی ص 309، مدرسہ خیر المدارس ملتان، مسلک حنفی دیوبندی ص 300، الغرض پاکستان میں دیوبندی مسلک و مکتب فکر کے کل 291 مدارس ہیں جو خود کو حنفی دیوبندی اہلسنت دیوبندی کہلاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو کتاب جائزہ مدارس عربیہ ص 688، یہ مدارس 1972ء سے پہلے کے قائم ہیں۔ مولوی اصدق صاحب غور کرکے بتائیں کہ یہ خود فخریہ دیوبندی مسلک کہلاتے ہیں یا ہم نے کہا ہے؟ مولوی اصدق صاحب یہ بھی بتائیں اب جبکہ دیوبندی خود کو اہلسنت اور حنفی دیوبندی کہلا رہے ہیں تو ہمیں اپنی شناخت و علامت امتیاز و نشان کے طور پر بریلوی حنفی یا اہلسنت بریلوی کہلانا عقلاً و نقلاً کس طرح ممنوع ہے؟

اور بحوالہ کتب یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ ہم اہلسنت اور ہمارے مسلمہ اکابر علماء و مشائخ ایک مدت مدید ایک سو سال سے بھی پہلے کے حنفی بریلوی، اہلسنت بریلوی کہلا رہے ہیں، محکمہ اوقاف، محکمہ تعلیم اور افواج پاکستان میں بطور امام و خطیب ہمیں بریلوی اہلسنت حنفی بریلوی لکھا گیا ہے۔ اصدق و خوشتر اور ذیشان سارے سرکاری محکموں سے بریلوی کا انتساب اور علامتی و شناختی نشان کیسے تلف کروائیں گے۔ دنیا آپ کو دیوانہ سمجھے گی۔ ہماری مسجدوں اور ہمارے مدارس کو سرکاری اداروں میں اہلسنت بریلوی، حنفی بریلوی لکھ کر رجسٹریشن کی جاتی ہے، رجسٹرڈ کروانے میں اگر ہم اپنا شناختی و امتیازی نشان بریلوی نہ لکھوائیں  صرف مسلمان یا صرف اہلسنت لکھوا دیں تو ایک تو رجسٹریشن ناممکن اور پھر مسجدوں، مدرسوں پر بدمذہبوں کے قبضہ کا خطرہ، لڑائی جھگڑوں، مقدمہ بازیوں تک نوبت پہنچے گی یا نہیں… کیونکہ ہر باطل فرقہ یہ کہہ کر قبضہ کرلے گا ہم بھی مسلمان ہیں، ہم بھی اہلسنت ہیں، ہم بھی حنفی ہیں۔ خدا جانے آپ کیوں عقل و شعور فراست و بصیرت سے ریٹائر ہوکر خالص سنیت کے علامتی نشان بریلوی کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ذرا غور کرکے بتائو۔ ہمارے مرکزی مدارس کے بانی و مہتمم و ناظم اعلیٰ منصرم و منتظم اور حضرات شیوخ الاحادیث کیا فہم و فراست سے بالکل خالی تھے جنہوں نے اپنے مدارس کو حنفی بریلوی متعارف کرایا اور سرکاری اداروں کے ریکارڈ میں بریلوی کا اندراج کرایا۔(چشتی)

آپ ہی اپنی ادائوں پر ذرا غور کریں

ہم اگر بات کریں گے تو شکایت ہوگی

دیکھئے ہمارے مسلمہ اکابر علماء و مشائخ کس فراخدلی اور خندہ پیشانی سے اپنے مدارس دینی اداروں کا عقیدہ و مسلک بریلوی حنفی بریلوی قرار دے رہے ہیں۔ ملاحظہ کتاب جائزہ مدارس عربیہ پاکستان دارالعلوم حزب الاحناف لاہوریہ دارالعلوم حضرت علامہ سید محمد دیدار علی شاہ محدث الوری علیہ الرحمہ شاگرد و خلیفہ حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی علیہ الرحمہ نے قائم کیا۔ بعد میں سیدنا مجدد اعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے بھی خلافت سے سرفراز فرمایا۔ آپ کے وصال کے بعد شیخ المشائخ حضور سیدنا شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی کے مرید وخلیفہ اور حضور سیدنا صدر الافاضل مولانا شاہ نعیم الدین مراد آبادی کے شاگرد مفتی پاکستان علامہ سید ابوالبرکات، سید احمد قادری ناظم اعلیٰ و شیخ الحدیث ہوئے۔ اپنے دارالعلوم حزب الاحناف کا مسلک حنفی بریلوی لکھا اور کتاب جائزہ میں بریلوی کے علاوہ احناف بریلوی لکھا ہے۔ دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور بانی و مہتمم مفتی محمد حسین نعیمی حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کے مرید اور جامعہ نعیمیہ مراد آباد شریف کے فاضل ہیں اور حضرت علامہ مفتی عزیز احمد قادری بدایونی فاضل دارالعلوم قادریہ بدایوں شریف وغیرہ حضرات مدرسین تھے۔ کتاب جائزہ صفحہ 22 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ صفحہ 49 دارالعلوم نعمانیہ لاہور مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ صفحہ 36 جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ یہ دارالعلوم نائب اعلیٰ حضرت محدث اعظم علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد قدس سرہ کے حکم پر قائم کیاگیا۔ حضرت قبلہ محدث اعظم علیہ الرحمہ نے ہی افتتاح فرمایا۔ یہاں پہلے محدث اعظم پاکستان قدس سرہ کے داماد محترم اور شاگرد رشید المعقول علامہ غلام رسول رضوی علیہ الرحمہ صدر مدرس و مہتمم تھے۔ بعد میں علامہ مفتی عبدالقیوم قادری رضوی ہزاروی علیہ الرحمہ مہتمم و شیخ الحدیث ہوئے۔ دارالعلوم کی بیشتر روئیدادوں میں مسلک اعلیٰ حضرت لکھا ہے۔ غوث العلوم جامعہ رحیمیہ رضویہ سمن آباد لاہور صفحہ 41 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ جامعہ صدیقیہ سراج العلوم لاہور مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے صفحہ 41، دارالعلوم گنج بخش داتا دربار لاہور مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے (کتاب جائزہ صفحہ 43) دارالعلوم جامعہ حنفیہ قصور صفحہ 59 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ صفحہ 63 پر جامعہ نقشبندیہ فیض لاثانیہ رائے ونڈ نزد مرکز دیوبندی تبلیغی جماعت رائے ونڈ مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپوریہ دارالعلوم حضور سیدنا محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کے جلیل القدر محقق فاضل شاگرد اور سلسلہ اویسیہ کے روحانی پیشوا علامہ مفتی فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ نے قائم کیا۔ صفحہ 68 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ آپ مصنف کتب کثیرہ ہیں۔ مسلک اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و ناشر تھے۔ دارالعلوم فیضیہ رضویہ احمد پور شرقیہ، بہاولپور یہ جامعہ علامہ محمد منظور احمد فیضی چشتی علیہ الرحمہ نے قائم کیا۔ صفحہ 72 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ اسلامیہ عربیہ سید المدارس بہاولنگر صفحہ 84 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ فیض العلوم فقیر والی بہاول نگر اور مدرسہ اسلامیہ عربیہ کمال العلوم آستانہ عالیہ توگیرہ بہاول نگر صفحہ 89 پر مسلک حنفی بریلوی ہے۔ دارالعلوم جامعہ رضویہ عربیہ ہارون آباد صفحہ 91 مسلک حنفی بریلوی ہے۔ جامعہ قطبیہ رضویہ جھنگ صفحہ 119 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ عربیہ صدیقیہ شاہ جمالیہ فیض آباد ڈیرہ غازی خان صفحہ 122، مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی یہ جامعہ علامہ محب النبی صاحب اجازت از حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب قادری چشتی نظامی علیہ الرحمہ، و علامہ مشتاق احمد صاحب کانپوری صفحہ 125 پر مسلک حنفی بریلوی ہے۔ اس جامعہ میں شیخ الحدیث و ناظم اعلیٰ استاذ العلماء علامہ حسین احمد صاحب  فاضل جامعہ رضویہ مظہر اسلام لائل پور ہیں۔ جامعہ غوثیہ مظہر الاسلام راولپنڈی صفحہ 144 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ صدر مدرس مولانا محمد سلمان فاضل جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد لائل پور ہیں۔ جامعہ اسلامیہ تدریس القرآن اسلام آباد راولپنڈی صفحہ 125 مسلک حنفی بریلوی ہے۔ جامعہ محمدیہ رضویہ رحیم یار خان مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ عربیہ سراج العلوم خان پور صفحہ 125 مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ جامعہ فریدیہ ساہیوال منٹگمری صفحہ 163 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ علامہ ابوالنصر منظور احمد چشتی فریدی نظامی خلیفہ حضرت خواجہ میاں علی محمد خان صاحب بسی شریف چشتی نظامی مہتمم و شیخ الحدیث ہیں۔ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیرپور ضلع اوکاڑہ صفحہ 168 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ بانی و اولین شیخ الحدیث استاذ العلماء علامہ محمد نور اﷲ نعیمی علیہ الرحمہ، دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ ضلع سرگودھا صفحہ 186 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مگر تحذیر الناس مصنفہ نانوتوی پر پیر کرم شاہ کی رائے سے اکابر اہلسنت متفق نہیں ہیں۔ حسام الحرمین کے برعکس موقف ہے۔ بریلوی لکھا، دارالعلوم جامعہ حنفیہ سیالکوٹ صفحہ 200 پر مسلک حنفی بریلوی ہے۔ مدرسہ خدام الصوفیہ گجرات جامعہ شاہ ولایت گجرات امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری نقشبندی رحمتہ اﷲ علیہ کے خلیفہ حضرت پیر سید ولایت شاہ نقشبندی رحمتہ اﷲ علیہ، 1920ء میں قائم کیا صفحہ 219 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ غوثیہ نعیمیہ گجرات شیخ التفسیر علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی بدایونی علیہ الرحمہ اس کے بانی تھے۔ صفحہ 220ء پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ حنفیہ رضویہ سراج العلوم گوجرانوالہ یہ جامعہ محدث اعظم پاکستان قدس سرہ کے حکم سے قائم کیاگیا۔ حکیم الامت علامہ ابو دائود، مولانا محمد صادق صاحب قادری رضوی مدظلہ اس کے مہتمم و بانی ہیں۔ مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ (جائزہ مدارس عربیہ ص 234،چشتی) دارالعلوم جامعہ رضویہ مظہر اسلام لائل پور فیصل آباد نائب اعلیٰ حضرت محدث اعظم پاکستان قدس سرہ نے قائم فرمایا۔ یہاں سے ہزاروں علماء فارغ التحصیل ہوئے مغربی یورپی افریقی ممالک میں خدمات دینیہ سرانجام دے رہے ہیں۔ صفحہ 253 پر مسلک حنفی رضوی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوارالعلوم ملتان غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ نے قائم کیا۔ آپ کے برادر اکبر اور استاد محترم و پیر و مرشد علامہ قاری سید محمد خلیل کاظمی قدس سرہ بھی خدمات تدریس انجام دے چکے ہیں۔ مدرسہ کے آغاز و افتتاح پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم شیخ العلماء علامہ شاہ مصطفی رضا خان بریلوی محدث اعظم ہند ابو المحامد سید محمد محدث کچھوچھوی محدث اعظم پاکستان علامہ محمد سردار احمد لائل پوری قدس سرہ کی تشریف آوری کی بابرکت موقع پر ہوا۔ صفحہ 311 پر مسلک حنفی بریلوی ہے۔ حضرت علامہ کاظمی علیہ الرحمہ فرماتے تھے وہ میرا مرید نہیں، ہاں وہ میرا مرید نہیں جو مسلک اعلیٰ حضرت پر نہیں ایک بار چوک حسین آگاہی ملتان کے جلسہ میں ڈپٹی کمشنر ملتان کی موجودگی میں دیوبندی احراری مولوی محمد علی جالندھری نے کہا کہ میں لوہے کی لٹھ دیوبندی ہوں۔ علامہ کاظمی علیہ الرحمہ نے اپنی جوابی تقریر میں کہا لوہا پگھل جاتا ہے اور فرمایا میں پتھر کی طرح سخت بریلوی ہوں، پتھر پگھلتا نہیں۔ دارالعلوم امجدیہ کراچی علامہ  مفتی محمد ظفر علی نعمانی قادری رضوی مصباحی فاضل اشرفیہ مبارک پور نے قائم کیا۔ فخر الاسلام علامہ عبدالمصطفی ازہری، علامہ مفتی وقار الدین رضوی یہاں شیخ الحدیث رہ چکے ہیں، علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی مصباحی علامہ قاری محبوب رضا بریلوی یہاں مدرس اور مفتی رہ چکے ہیں۔ صفحہ 483 پر مسلک حنفی بریلوی ہے۔ 1966ء سے آج تک دارالعلوم امجدیہ کی سالانہ روئیداد اور امجدیہ کے سالانہ مجلہ رفیق علم میں مسلک اعلیٰ حضرت لکھا ہوتا ہے۔ دارالعلوم حامدیہ رضویہ کراچی صفحہ 487 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ صبغۃ الہدیٰ جامعہ راشدیہ گوٹھ غلام علی تھرپارکر صفحہ 494 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ دارالعلوم احسن البرکات حیدرآباد سندھ بانی علامہ مفتی محمد خلیل خاں برکاتی امجدی رحمتہ اﷲ علیہ صفحہ 511 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ رکن الاسلام جامعہ مجددیہ میدان ہیراآباد حیدرآباد علامہ مفتی محمد محمود صاحب نقشبندی مجددی خلف الرشید شیخ طریقت حضرت مولانا صوفی رکن الدین نقشبندی علیہ الرحمہ صفحہ 513 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ جامعہ راشدیہ پیر گوٹھ سندھ جامعہ راشدیہ کے بانی حضرت پیر صاحب پاگارہ ہیں۔ حضرت علامہ مفتی محمد صاحبداد خان صاحب علیہ الرحمہ، حضرت علامہ مفتی محمد تقدس علی خاں صاحب علیہ الرحمہ، شیخ الحدیث و صدر مدرس و مفتی رہ چکے ہیں۔ صفحہ 531 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ سفینۃ العلوم احمد پور خیرپور سندھ صفحہ 533 مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ محمدیہ کنزالعلوم دادو سندھ صفحہ 534 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ جامعہ راشدیہ سے منسلک مدارس کی تعداد 21 ہے، سب پر حنفی بریلوی لکھا ہے۔ مدرسہ انوار العلوم مورو نواب شاہ صفحہ 561 پر مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ کتاب جائز و مدارس میں صفحہ 688 پر 1972ء حنفی بریلوی مدرس کی تعداد 122 ہے۔ اب حنفی بریلوی مدارس 570 ہیں۔ اب مولوی اصدق صاحب اور خوشتر و ذیشان ارشاد فرمائیں اتنے جلیل القدر اکابر علماء کرام اور مشائخ طریقت نے جو خود کو اور اپنے مدارس و مراکز دینیہ کو حنفی بریلوی کا نام دیا اور مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو اختیار کیا۔ کیا ان کو جماعتی نقصان اور نسبت بریلوی کے مضمرات کا پتہ نہ تھا۔ کیا آپ حضرات ان اکابر سے زیادہ وسعت علم کے حامل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی بطور خاص ملحوظ خاطر رہے کہ ہم نے بفضلہ بریلوی اور مسلک اعلیٰ حضرت کے اطلاق و استعمال کے باب میں صرف قادری برکاتی رضوی اکابر اعاظم بزرگان اہلسنت ہی نہیں، جملہ سلاسل اربعہ قادری، چشتی، نقشبندی، سہروردی اکابرین کرام اور جملہ سلاسل کے علماء کے زیر اہتمام مدارس و جامعات دینیہ کو بحوالہ کتب معتبرہ بیان کیا ہے تاکہ اصدق مصباحی جیسے سطحی سوچ رکھنے والوں کو یہ شوشہ چھوڑنے اور عوام اہلسنت کو جھانسہ دینے کا موقع نہ ملے کہ بریلوی کہلانے اور مسلک اعلیٰ حضرت کا نعرہ لگانے سے دوسری خانقاہوں دوسرے سلسلہ کے بزرگوں کو ماننے والوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ وہ بریلوی اور مسلک اعلیٰ حضرت کو قبول نہیں ہے۔ یہ مولوی اصدق اور خوشتر کی ذاتی و انفرادی سوچ ہے۔ بات یہاں تک پہنچی تھی کہ مختلف سلاسل کے کچھ اور بزرگان اہلسنت کے چندارشادات و فرمودات سامنے آئے۔ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لئے پیش خدمت ہیں۔ ملاحظہ ہو، ماہر رضویات ڈاکٹر پروفیسر محمد مسعود احمد مظہری نقشبندی مرحوم کے عظم المرتبت والد بزرگوار مفتی اعظم دہلی علامہ مفتی محمد مظہر اﷲ صاحب نقشبندی مجددی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مجموعہ ’’فتاویٰ مظہری‘‘ ص 375,374 پھر صفحہ 377,376 پھر صفحہ 380,379 پر بار بار بریلوی، دیوبندی، بریلوی، دیوبندی لکھا ہے جس سے بریلوی دیوبندی کے اطلاق استعمال، ستر۔ اسی سال سے بھی بہت پہلے کا ہے۔ فقیر کے پاس حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اﷲ قدس سرہ کے مختلف مسائل پر کافی خطوط ہیں۔ دو خطوط میں صاف لکھا ہے ’’اعلیٰ حضرت امام اہلسنت قدس سرہ کی تحقیق و مسلک میں کس کا زہرہ ہے جو جرأت لب کشائی کرسکے‘‘ (قلمی مکتوب)

سیدنا حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب گیلانی تاجدار گولڑہ شریف قادری چشتی نظامی سلسلہ کے عظیم روحانی پیشوا تھے۔ آپ کی مستند سوانح عمری ’’مہر منیر‘‘ میں جگہ جگہ بریلوی دیوبندی بریلوی لکھا ہے جس سے ثابت ہوا کہ یہ استعمال و اطلاق بہت پہلے کا ہے۔ 20,25 سال کی بات نہیں ہے۔

آج سے ساٹھ سال پہلے جب فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لاء لگایا اور محکمہ اوقاف بنایا تو محکمہ اوقاف کے کچھ افسر معلومات حاصل کرنے اور سرکاری فارم پر کرنے کے لئے آستانہ عالیہ گولڑہ شریف پہنچے تو حضرت مخدوم سجادہ نشین علیہ الرحمہ حضرت بابوجی صاحب سے معلوم کیا کہ آپ کا مسلک کیاہے؟ انہوں نے اپنے دارالعلوم و آستانہ کے مفتی و شیخ الحدیث مولانا محمد فیض احمد فیض چشتی علیہ الرحمہ کی طرف اشارہ کیا کہ تم بتائو، وہ کھڑے ہوکر کہنے لگے۔ ہم اہلسنت ہیں۔ افسر نے سوال کیا، ہم نے مسلک پوچھا ہے، بریلوی ہو یا دیوبندی؟ مولانا فیض احمد مرحوم نے کہا ہم گولڑوی ہیں۔ افسر نے کہا کہ ہمارے پاس دو خانے بریلوی اور دیوبندی۔ حضرت مخدوم سجادہ نشین بابوجی رحمتہ اﷲ علیہ خلف گرامی حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’لکھو ہم بریلوی ہیں‘‘ (ماہنامہ سوئے حجاز لاہور مارچ 2006ء و ماہنامہ رضائے مصطفے گوجرانوالہ جولائی 2006ء صفحہ 23)

حضرت صاحبزادہ فیض الحسن نقشبندی سجادہ نشین آلو مہار شریف شعلہ نوا خطیب تھے۔ دیوبندی مجلس احرارمیں امیر الاحرار مولوی عطاء بخاری دیوبندی کے رفیق خاص تھے جب حضور سیدنا محدث اعظم پاکستان علامہ محمد سردار احمد قدس سرہ کی برکت اور خواب میں رہنمائی سے توبہ کی توفیق نصیب ہوئی تو حضرت امیر شریعت علامہ ابو دائود محمدصادق صاحب مدظلہ کی مساعی سے انہوں نے حضرت محدث اعظم علیہ الرحمہ کو تحریر لکھ کر دی، میں حسام الحرمین کی بھرپور تائید و تصدیق کرتا ہوں۔ مسلک اعلیٰ حضرت بریلوی کی پابندی کروں گا (ملخصاً) یہ بھی 55 سال پہلے کی بات ہے۔

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کا عظیم روحانی آستانہ جہاں شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اﷲ علیہ محو استراحت ہیں، مراقبہ میں حضور سیدنا غوث اعظم سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ سے رابطہ ہوا۔ عرض کیا حضور اس وقت آپ کا نائب کون ہے۔ فرمایا بریلی میں مولانا احمد رضا خاں حضرت شیر ربانی شرقپوری رحمتہ اﷲ علیہ کے جامعہ حضرت میاں صاحب ہیں۔ ہمیشہ سنی حنفی بریلوی علماء و صدر مدرس و مفتی رہے اور سرکاری کاغذات میں مسلک حنفی بریلوی لکھا ہے۔ ملخصاً (نور مظہور قصور، کتاب سیدی امام احمد رضا و کتاب دیوبندی مذہب مصنفہ علامہ غلام مہر علی چشتی گولڑوی چشتیاں شریف، کتاب محاسبہ دیوبندیت مصنفہ فقیر محمد حسن علی رضوی بریلوی میلسی،چشتی)

جامعہ حضرت میاں صاحب میں سیدی سندی  حضور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کے داماد و تلمیذ خاص شیخ المعقول علامہ غلام رسول رضوی قدس سرہ صدر مدرس رہے، جو سیدنا حضور مفتی اعظم شہزادہ اعلیٰ حضرت قدس سرہما کے خلیفہ تھے۔ شیخ طریقت عارف باﷲ میاں علی محمد خان چشتی نظامی قدس سرہ جن کے شیخ المحدثین علامہ سید محمد دیدار علی محدث الوری اور سیدنا محدث اعظم سے خصوصی علمی روحانی مسلکی تعلقات بڑے گہرے تھے۔ ان کے کافی مکتوبات فقیر کے پاس محفوظ ہیں۔ ایک بار مودودیوں نے مودودی پارٹی کے زیر اہتمام بھاشانی کے یوم سوشلزم کے جواب میں یوم شوکت الاسلام منانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سنی بریلوی بعض علماء کے نام سے مغالطہ دیا۔ شہر میلسی میں حضرت میاں علی محمد خاں علیہ الرحمہ کے کچھ مریدین مودودیوں کے جھانسہ میں آگئے۔ فقیر نے میاں صاحب علی الریہمہ کو ایک مکتوب کے ذریعے صورتحال سے آگاہ کیا اور عرض کیا حضرت اپنے مریدین کو مودودیوں کے یوم شوکت الاسلام میں شمولیت سے روکیں۔ تحریری حکم نامہ ارسال کریں۔ حضرت میاں صاحب ان دنوں پاک پتن شریف کی بجائے کراچی تشریف فرما تھے۔ پاک پتن شریف سے فقیر کا عریضہ کراچی گیا اور جواب آیا… وعلیکم السلام ثم السلام علیکم، ہمیں اپنے سنی بریلوی علماء کے ساتھ رہنا چاہئے۔ علماء اہلسنت بریلوی کے فتاویٰ اور شرعی احکام پر عمل کرنا چاہئے۔ خادم الفقیر میاں علی محمد خاں چشتی فریدی نظامی، مکتوب موجود ہے۔

حضور امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ نقشبندی مجددی رحمتہ اﷲ علیہ کے نام گرامی سے پاک و ہند بنگلہ دیش حرمین طیبین کے علماء و مشائخ عوام و خواص بخوبی واقف ہیں۔ اہلسنت کے ممتاز و موقر ماہنامہ رضائے مصطفے گوجرانوالہ میں بار بار چھپ چکا ہے۔ حضرت امیر ملت محدث علی پوری، اور نبیرۂ محدث علی پور مخدوم محترم مولانا پیر سید اختر حسین نقشبندی علیہ الرحمہ مسلک اعلیٰ حضرت کے پابند تھے۔

آل انڈیا سنی کانفرنس کی اولین تاسیس اور سنی کی تعریف میں مسلک اعلیٰ حضرت کی شرط ہے۔ یاد رہے کہ سنی کانفرنس میں حضرت صدر الشریعہ اعظمی، حضرت صدر الافاضل مراد آبادی حضور مفتی اعظم نوری بریلوی، حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی حضور پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری، مبلغ الاسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی، حضور محدث اعظم پاکستان لائل پوری، علامہ ابوالحسنات قادری، علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری، مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی، پیر صاحب بھرچونڈی شریف، پیر صاحب سیال شریف علماء بدایوں، پیر صاحب مشوری شریف سندھ وغیرہم کثیر اکابر اہلسنت شامل تھے۔ یہاں بھی مسلک اعلیٰ حضرت کی شرط ہے (سواد اعظم لاہور جلد 2 صفحہ 23,24،  وصفحہ 41 مطبوعہ لاہور،چشتی)

دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں شیر بیشہ اہل سنت علامہ محمد حشمت علی خان صاحب علیہ الرحمہ کے قلم سے سنی کی تعریف اور حضرت سیدی صدر الافاضل مراد آبادی علیہ الرحمہ کے تائیدی دستخط جس میں مسلک اعلیٰ حضرت کی شرط موجود ہے، قلمی تحریر موجود ہے۔ جو فقیر کو حضرت مفتی پاکستان علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری علیہ الرحمہ نے خود دکھائی۔ یہ تحریر اس وقت کی ہے جب سنی کانفرنس اور تحریک پاکستان کے دور میں حضرت شیر بیشۂ اہلسنت مولانا محمد حشمت علی خاںصاحب علیہ الرحمہ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں قیام فرما تھے اور حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ بھی تشریف لے آئے تھے اور علامہ سید ابوالبرکات سید احمد علیہ الرحمہ سے فرمایا یہ بڑے سنی بنے پھرتے ہیں۔ ذرا سنی کی تعریف تو لکھ دیں۔ اس پر شیر بیشۂ اہل سنت نے سنی کی بڑی جامع ومدلل تعریف ارقام فرمائی جس میں مسلک اعلیٰ حضرت بھی موجود تھا۔ حضرت صدر الافاضل نے ملاحظہ فرما کر کہا ہاں ٹھیک ہے۔ لائو میں بھی دستخط کرتا ہوں۔

اسی طرح فقیر کے پاس پرانی ڈاک میں حضرت علامہ سید محمد خلیل محدث امروہوی چشتی صابری علیہ الرحمہ کے متعدد خطوط ہیں جس میں واضح طور پر مسلک اعلیٰ حضرت مرقوم و موجود ہے۔ یہاں پاکستان میں مرکزی جمعیت العلماء پاکستان اور جماعت اہلسنت کے دستور و منشور میں دیگر اکابر کے ساتھ مسلک اعلیٰ حضرت کی تصریح موجود ہے۔ یہاں پاکستان میں بہت سی علاقائی دینی تبلیغی اصلاحی انجمنیں ہیں اور بکثرت ادارے ایسے ہیں جس میں مسلک اعلیٰ حضرت کی شرط موجود ہے۔ حضور سیدی ملجائی مرشدی مولائی امام اہلسنت محدث اعظم علامہ محمد سردار احمد قبلہ قدس سرہ برملا فرمایا کرتے تھے ’’جو مولوی سیدنا اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تحقیق و مسلک کے مقابلہ میں اپنی تحقیق پر اتراتا ہے وہ محقق نہیں، مجہول ہے، اس کی تحقیق نہیں تجہیل ہے‘‘

سیدی سندی حضور محدث اعظم پاکستان کے شجرہ قادریہ برکاتیہ رضویہ و شجرہ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں صاف صاف مرقوم ہے، مسلک سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ پر عمل کریں۔ فقیر کے پاس حضرت صاحب کے ایک سو سے زائد خطوط و مکتوب موجود ہیں جن میں بار بار مسلک اعلیٰ حضرت کی تاکید و تلقین فرمائی ہے۔ کاش کہ اصدق و خوشتر و ذیشان ماہنامہ اشرفیہ کا حافظ ملت نمبر اور مجاہد ملت نمبر ہی دیکھ لیتے جہاں مسلک اعلیٰ حضرت کا لفظ متعدد مقامات پر ملے گا۔

شیخ العرب والعجم خلیفہ اعلیٰ حضرت قطب مدینہ کی مفصل و جامع طویل وضخیم سوانح عمری بنام ’’سیدی ضیاء الدین احمد القادری علیہ الرحمہ، جناب علامہ حکیم محمد عارف ضیائی رضوی علیہ الرحمہ، خادم و خلیفہ خاص سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کے قلم سے دو جلدوں پر مشتمل چھپ چکی ہے اور فقیر نے مدینہ منورہ حاضری کے دوران اس کی تصحیح و پروف ریڈنگ کی۔ اس میں کتنے ہی مقامات پر مسلک اعلیٰ حضرت پایا جاتا ہے۔

جامع اشرفیہ اور مصباح العلوم مبارک پور کا ایک جہاں بھر میں نام روشن ہے اور ہزاروں علماء یہاں سے فیض یاب ہیں۔ حضور سیدنا حافظ ملت بانی اشرفیہ قدس سرہ کی ذات گرامی مینارہ نور ہے۔ وہ حضور سیدی سندی سرکار محدث اعظم پاکستان علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد قدس سرہ کے استاد بھائی ہم سبق و ہم مدرس تھے۔ دونوں حضرات کو سیدنا صدر الصدور صدر الشریعہ قدس سرہ نے ایک دن ایک وقت خلافت و اجازت عطاء فرمائی تھی۔ دستور اساسی دارالعلوم جامعہ اشرفیہ مبارکپور ص 5 ملاحظہ ہو۔ صاف صاف لکھا ہے ’’ادارہ کا مسلک موجود زمانہ میں جس کی واضح نشانی یہ ہے جو اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب بریلوی سے عقائد و اعمال میں بالکل متفق ہو‘‘ (دستور اساسی ص 5 جامعہ اشرفیہ مبارکپور)

دارالعلوم فیض الرسول برائون شریف کا ایک دنیا میں نام ہے جس کو حضور شعیب الاولیاء مولانا شاہ یار علی شاہ صاحب قبلہ قدس سرہ نے قائم فرمایا تھا جہاں بحرالعلوم علامہ غلام جیلانی، علامہ عبدالمصطفے اعظمی، علامہ بدرالدین احمد قدست اسرارہم جیسے مشاہیر کرام شیخ الحدیث و صدر مدرس رہے، فتاویٰ دارالعلوم فیض الرسول ایک نظر ملاحظہ ہو۔ پچاسوں مقام پر مسلک اعلیٰ حضرت کی جلوہ گری ہے۔

خدا جانے اصدق و خوشتر و ذیشان بے خبری و لاعلمی کی کن وادیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ انہیں کچھ پتہ نہیں یا تجاہل عارفانہ ہے۔ ذرا ایک نظر بمبئی سے شائع ہونے والا ماہنامہ المیزان کا امام احمد رضا نمبر اور جامعہ اشرفیہ مبارکپور کا حافظ ملت نمبر، مجاہد ملت نمبر، صدر الشریعہ نمبر ہی ایک نظر ملاحظہ کرلیتے۔ بالخصوص ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور کا طویل و ضخیم شاہکار سیدین نمبر میں اور اس میں شہنشاہ برکات و خانوادہ عالیہ برکاتیہ کے مسلمہ اکابر حضور سیدنا تاج العلماء اولاد رسول مولانا شاہ محمد میاں برکاتی، حضور سیدنا سید العلماء سید شاہ آل مصطفے میاں حضور سیدنا شاہ اسماعیل حسن برکاتی، سیدنا حضرت احسن العلماء الشاہ حافظ مصطفے حیدر حسن، میاں حضرت علامہ حسنین میاں نظمی برکاتی، حضرت علامہ ڈاکٹر امین میاں برکاتی (قدست اسرارہم و دامت برکاتہما) کے مسلک اعلیٰ حضرت سے متعلق ارشادات و فرمودات سرسری نظر سے ہی دیکھ لیتے۔ فقیر (محمد حسن علی رضوی بریلوی) نے مختلف مقامات سے 55 حوالہ جات مسلک اعلیٰ حضرت سے متعلق سیدین نمبر سے نوٹ کئے ہیں۔

فقیر کے خیال میںتو ان باغیان مسلک اعلیٰ حضرت نے رضا اکیڈمی ممبئی سے شائع ہونے والی طویل وضخیم معارف شارح بخاری بھی دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی وہاں بھی مسلک اعلیٰ حضرت اور بریلوی کی جلوہ گری ہے۔ عالمی مبلغ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ اور قائد جمعیت العلماء پاکستان مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی مسلک اعلیٰ حضرت اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے۔ مولانا نورانی میاں نے دارالعلوم امجدیہ میں عرس امجدی میں خطاب کرتے ہوئے بتایا ’’میرے والد گرامی مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کی ایک نصیحت میرے پاس موجود ہے۔ فرمایا الحمدﷲ میں مسلک اہلسنت پر زندہ رہا۔ مسلک اہلسنت وہی ہے جو مسلک اعلیٰ حضرت ہے جو اعلیٰ حضرت کی کتابوں میں مرقوم ہے اور الحمدﷲ اسی پر میری عمر گزری اور الحمدﷲ آخری وقت اسی مسلک اعلیٰ حضرت پر حضور پرنورﷺ کے قدم مبارک میں خاتمہ بالخیرہورہا ہے‘‘ ۔ (ماہنامہ ترجمان اہلسنت کراچی ذی الحجہ 1397ھ و ماہنامہ سنی آواز ناگپور ستمبر اکتوبر 1995،چشتی)

مفتی اعظم پاکستان علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری خلف گرامی رئیس المحدثین علامہ سید محمد دیدار علی شاہ محدث الوری قدس سرہما فرماتے ہیں ’’تعجب ہے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت قدس سرہ کا فتویٰ ہوتے ہوئے مجھ سے استفسار کیا جارہا ہے، فقیر کا فقیر کے آبائو و اجداد کا وہی مسلک ہے جو اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا ہے‘‘ (قلمی مکتوب بنام فقیر محمد حسن علی رضوی بریلوی میلسی)

فقیہ اعظم علامہ محمد شریف محدث کوٹلوی، امام العلماء مولانا محمد امام الدین کوٹلوی حضرت علامہ مفتی محمد عبداﷲ کوٹلوی قدست اسرارہم کے متعلق علامہ ابو النور محمد بشیر کوٹلوی مدیر ماہنامہ ماہ طیبہ رقم طراز ہیں، فرمایا ’’مولوی بشیر مجھ سے مصافحہ کرلو، میں اب جانے والا ہوں، میری تمہارے لئے دعا ہے، دیکھو تمہارے والد فقیہ اعظم محدث کوٹلوی رحمتہ اﷲ علیہ اور تمہارے تایا حضرت مولانا محمد عبداﷲ قادری رضوی اور میں عمر بھر اعلیٰ حضرت بریلی شریف والوں کے مسلک کی تبلیغ کرتے رہے۔ تم بھی اسی مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم رہنا، خدا تمہاری مدد فرمائے گا‘‘ (ماہنامہ ماہ طیبہ اکتوبر 1961ء ص 50)

کہاں تک لکھا جائے اور کون شمار کرسکتا ہے، کتنے بڑے بڑے جلیل القدر اساطین امت نے مسلک اعلیٰ حضرت اور بریلوی کی مقدس نسبت کو اپنایا اور اختیار کیا اور تو اور بالخصوص یہاں پاکستان میں جو سرکاری ادارے اور سرکاری محکمے مساجد اور دینی مدارس کو رجسٹرڈ کرتے ہیں، سرکاری ادارے جو فارم فراہم کرتے ہیں وہاں جمہور اہلسنت کو حنفی بریلوی، بریلوی حنفی اہلسنت بریلوی لکھنا پڑتا ہے۔ اسی طرح جب مساجد اور دینی مدارس کے لئے جب اراضی (زمین) خریدنی ہو تو تحصیل ہیڈ کوارٹر میں اہلسنت کو حنفی بریلوی، اہلسنت بریلوی، بریلوی حنفی لکھنا اور لکھوانا پڑتا ہے۔ دوسرے فرقے اپنا عقیدہ و مسلک لکھتے ہیں۔ مولانا رکن الدین اصدق اور جناب خوشتر کہاں کہاں سے بریلوی اور مسلک اعلیٰ حضرت کٹوائیں اور مٹوائیں گے؟

اے رضا روز ترقی پہ ہے چرچا تیرا

اوج اعلیٰ پہ چمکتا ہے ستارا تیرا

اہلسنت کے دلوں میں ہے محبت تیری

دشمن دین کو سدا رہتا ہے کھٹکا تیرا

مقام غور و فکر ہے کہ ایک طرف تو یہ ہزاروں اکابر امت اساطین ملت خود کو بریلوی، اور مسلک اعلیٰ حضرت کا تابع ظاہر فرما رہے ہیں اور بلا امتیاز قادری چشتی نقشبندی سہروردی جملہ سلاسل عالیہ کے اعاظم مشائخ طریقت اپنے مسلمہ امام و مجدد کی مبارک نسبت سے بریلوی کہلانے میں فخر اور ناز سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف نومولود کمسن قلمکار اصدق و خوشتر و ذیشان آج سنی قوم کو یہ سمجھانے اور باور کرانے چلے ہیں کہ بریلوی کا نام ہمیں ہمارے دشمنوں وہابیوں غیر مقلدوں نے دیا ہے۔ مولوی ظہیر غیر مقلد نے اپنی کتاب البریلویہ میں یہ نام ہمیں دے کر دنیا بھر میں ہمیں ایک نیا فرقہ مشہور کردیاہے۔ بہت خوب:

قلمکار بالی عمریا کے طور

ذرا ان کے بھی کروفر دیکھ لینا

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

مدیروں کے جھرلو ہنر دیکھ لینا

گویا یہ معدودے چند عناصر اپنے زعم حسد و عناد میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ہزاروں اکابر امت سے زیادہ وسعت علم کے حامل وماہر اور ان سے زیادہ وسعت نظر اور جماعتی مفاد کو سمجھنے والے ہیں۔ ان کثیر الاتعداد اکابر امت نے تو بریلوی کہلا کر اور مسلک اعلیٰ حضرت کا نعرہ لگا کر اہلسنت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ مذکورہ بالا اکابر سے ہم بہتر انداز میں جماعت اہلسنت کا تحفظ دفاع کرسکتے مگر آسمان کا تھوکا منہ پر پڑتا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سواداعظم اہلسنت کو جدا نہیں کرسکتی ۔


آج مدعیانِ اسلام کے تمام فرقے قرآن و حدیث پر ایمان و عمل کے دعویدار ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ قرآن و حدیث پر پورے طور سے ایمان رکھنے والی بڑی جماعت یعنی سواد اعظم صرف اہلسنت و جماعت ہے اور یہی فرقۂ ناجیہ (جنتی فرقہ) ہے باقی سارے فرقے ناری (جہنمی) ہیں ۔ قرآنی آیات اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا صحیح مطلب وہی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور آپ کے صحابۂ کرام نے بیان فرمایا ۔ اسی پر ایمان لانا ضروری ہے ، اس کے خلاف جانا گمراہی ہے ۔ ناجی فرقہ کی بابت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ما انا علیہ واصحابی‘‘ یعنی نجات پانے والا وہ گروہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر قائم رہے ۔ دوسری حدیث میں فرمایا : ’’وھی الجماعۃ‘‘ وہ ناجی گروہ بڑی جماعت ہے ۔ وہ باطل پرست جو خود کو مسلمان کہتے ہیں صرف ان کے زبانی دعوے کافی نہیں ہیں بلکہ دل سے اقرار لازمی ہے ۔ مومن وہ ہیں جنہوں نے دل سے مانا اور عمل کیا ، انہیں کو ’’یاایھاالذین اٰمنوا‘‘ سے خطاب کیا گیا اور وہی دینِ حق اسلام اور صراط مستقیم پر قائم ہیں اور جنت کے وہی مستحق ہیں ۔

صحابۂ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے زمانے سے تابعین تبع تابعین ، ائمہ مجتہدین عیہم الرحمہ اور آج تک فرقے در فرقے ظاہر ہوتے رہے ۔ مگر بڑی جماعت وہی ہے جس پر صحابۂ کرام ، اہل بیت اطہار، ائمہ مجتہدین ، غوث و خواجہ اوراولیاء ، صلحاء و علماء رہے ہیں، اور وہ ہے مذہبِ اہلسنت و جماعت ۔ آج بھی یہی بڑی جماعت ہے ۔ تمام فرقے صدی اول کے بعد ظاہر ہوئے اور ان کے بطلان کے لئے یہی ثبوت کافی ہے کہ اصل اور بڑے فرقے آٹھ ہیں: معتزلہ-۲۰، شیعہ-۲۲، خوارج- ۲۰، مرجیہ-۵ نجاریہ-۳، جبریہ- ۱، مشبہہ- ۱، ناجیہ-۱۔ یہ تہتر؍۷۳ فرقے ہوئے جن میں بہتر ؍۷۲ ناری ہیں اور ایک ناجی ہے ۔ ایک یعنی سوادِ اعظم اہلسنت۔ شیعہ جو اب روافض ہیں وہ تو پہلی صدی ہجری میں ہی سواد اعظم سے کٹ چکے تھے۔ یہ جو حضرت علی مرتضی ص کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں اور ایمان کا سارا مدار صرف ان پر رکھتے ہیں۔ اور معاذاللہ انہیں شیعہ اور شیعیت کا علمبردار کہتے ہیں قطعاً باطل ہے۔ خود مولائے کائنات سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کا ارشاد ہے کہ اہلسنت و جماعت ہی حق ہے او روہ بھی اہلسنت و جماعت میں ہیں۔

شیعہ مذہب کی کتاب ’’احتجاج طبرسی‘‘ میں ہے کہ حضرت علی مرتضیٰص ایک دن جب بصرہ میں خطبہ دے رہے تھے تو ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ: ’’اے امیر المومنین! آپ مجھے بتائیں کہ اہلِ جماعت، اہلِ فرقہ، اہلِ بدعت اور اہلِ سنت کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا تعجب ہے تجھ پر اور جب تو نے مجھ سے بات پوچھی ہے تو مجھ سے سمجھ لے اور اس کے بعد تجھ پر لازم نہیں ہے کہ میرے بعد تو یہ بات کسی اور سے دریافت کرے لیکن اہل جماعت میں ہوں اور میرے پیروکار…… اور اہلسنت وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالی کے احکام اور رسول اللہ ا کی سنت کو مضبوطی سے پکڑنے والے ہیں، جو ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے …… اہلِ بدعت وہ ہیں جو اللہ تعالی کی کتاب (قرآن مجید) اور اس کے رسول ا کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اور صرف اپنی رائے اور خواہشات پر عمل کرنے والے ہیں۔‘‘ (عربی سے ترجمہ)
سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے اہل سنت اور اہل جماعت کی مدح اور تعریف ثابت ہوتی ہے او راہلِ بدعت اور اہل فرقہ کی مذمت واضح ہوتی ہے۔ معتزلہ، شیعہ، خوارج، نجاریہ، جبریہ، مشبہہ وغیرہ اپنے عقائدِ باطلہ کے سبب جماعت حقہ سے نکل کر فرقۂ ناریہ میں شامل ہوئے۔ آج کل کے وہابی، دیوبندی، غیر مقلد (اہلحدیث)، اہل قرآن (چکڑالوی)، نیچری، ندوی، قادیانی وغیرہ سب انہیں گمراہ فرقوں کی شاخیں ہیں نیز مودودی جماعت (جماعت اسلامی) و الیاسی جماعت (تبلیغی جماعت) بھی دیوبندیہ کی ذُرّیات ہیں اور سب باطل ہیں۔
یہ سارے کے سارے باطل فرقے خود کو شیعہ کے مقابل میں سنی مسلمان کہتے ہیں۔ لہٰذا بھولے بھالے سنّی مسلمان بھی ان کے دھوکے میں آجاتے ہیں۔ لیکن یہ احسان ہے، چودہویں صدی ہجری کے مجددِ اسلام اعلیٰحضرت امام احمد رضا بریلوی ص کا جنہوں نے ان گستاخانِ خدا و رسول کے چہروں سے نقاب الٹ کر ان کی بدمذہبی ظاہر کردی اور حرمین شریفین اور دوسرے علماء و مشائخ سے ان کے متعلق فتوے لے کر انہیں مرتد او رکافر ڈکلئیر کرادیا…… اعلیٰحضرت امام احمد رضا نے اصل اسلامی عقائد پیش کئے جو صحابۂ کرام سے لیکر آج تک کے صالحین کے عقائد ہیں اور اسی مسلک کو ’’مسلک ِاعلیٰحضرت‘‘ سے پکارا جارہا ہے تا کہ بدمذہب خود کو سنی کہہ کر سنی مسلمانوں کو اپنے جال میں نہ پھانس سکیں۔ یہ مسلکِ اعلیٰحضرت ہی دراصل مسلک ِاہل سنت و جماعت ہے۔ یہی صحیح مذہب ہے اور یہی حق ہے۔

اعلیٰحضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ

ولادت : ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲؁ھ مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۵۶؁ء، بریلی شریف۔وصال: ۲۵؍ صفرالمظفر ۱۳۴۰؁ھ مطابق ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۲۱؁ء
اعلیٰحضرت امام احمد رضا ص جیسی عظیم علمی شخصیت اور عاشقِ رسول کئی صدیوں میں نظر نہیںآتے۔ آپ ۷۰؍ دینی و دنیاوی (نقلی اورعقلی) علوم و فنون پر حاوی تھے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) فقہ Jurisprudence (۲) اصولِ فقہ Principle of Jurisprudence (۳) لغتِ فقہ Lexicas of Jurisprudence (۴) تفسیرExcegesis (۵) اصولِ تفسیر Princeple of Excegesis (۶) حدیث Hadith (۷) اصولِ حدیث Principle of Hadith (۸) لغتِ حدیث Lexicus of Hadith (۹) جرح و تعدیل Critical Examination of Hadith (۱۰) علمِ اسماء الرجال Ency clohaedha of Narrators of Hadith (۱۱) دینیات Theology (۱۲) اسلامیات Islameology (۱۳) فلسفہ Philosophy (۱۴) منطق (۱۵) علم الاخلاق Ethichs (۱۶) لسانیات Languaestic (۱۷) فونیات Phonetics (۱۸) علمِ مناظرہ Draletic (۱۹) علم القرآن Knowledge of the Quraan (۲۰) قرأۃ و تجوید Recitation of the Quraan
with Correct Pronounciation (۲۱) عروض Prosody (۲۲) صرف و نحو Accidence & Syntax (۲۳) ہندی شاعری Hindi Poetry (۲۴) اردو شاعری Urdu Poetry (۲۵) فارسی شاعری Percian Poetry (۲۶) عربی شاعری Arabic Poetry (۲۷) عربی نثر Arabic Prose (۲۸) فارسی نثر Percian Prose (۲۹) اُردو نثر Urdu Prose (۳۰) تنقیدات، لغت، ادب Criticism, Lexican, Style etc. (۳۱) خط نسخ Usal form of Arabic Script (۳۲) خط نستعلیق Percian Caligraphy (۳۳) تصوف Mysticism (۳۴) مابعد الطبیعات Meta Physics (۳۵) علم جفر Leterology & Numerology (۳۶) تکسیر Carryeingthefigures (۳۷) اوراد و وظائف وغیرہ Incantation & Invocation (۳۸) توقیت Timings (۳۹) نجوم Astrology (۴۰) ہیئت Astronomy (۴۱) زایرجہ Horoscolism (۴۲) نفسیات Pcychology (۴۳) سیاست Political Science (۴۴) عمرانیات Sociology (۴۵) سیر و تاریخ Biography & History (۴۶) Chronogram (۴۷) جغرافیہ Geography (۴۸) معاشیات Economics (۴۹) علم تجارت Commerce (۵۰) بینک کاری Banking (۵۰)ارثماطبقی Arithmetic (۵۱) ہندسہ Eucledian Geometry (۵۲) ابتدائی الجبرا Simple Algebra (۵۳) جدید اور ہائر الجبرا Modern & Higher Algebra Setheory & Topology (۵۴) مثلث مسطح Plane Tegonometry (۵۵) مثلث کروی Spherical Tegnometry (۵۶)علم Education (۵۷) حساب سمینی Hisab-e-Sateni (۵۸) شماریات Statistics (۵۹) حرکیات Dynamic (۶۰) آبی حرکیات Hydro Dynamic (۶۱) سکونیات Statics (۶۲) آبی سکونیات Hydro Statics (۶۳) حیاتیات Zoology (۶۴) نباتات Botany (۶۵) علم زراعت اور باغبانی Hartienline (،چشتی۶۶) ارضیات Geology (۶۷) طبیعات Physics (۶۸) نامیاتی کیمیاءOrganic Chemistry (۶۹) غیر نامیاتی کیمیاء Inorganic Chemistry (۷۰) طبیعاتی کیمیاء Physical Chemistry (۷۱) طب یونانی Unani Medicine وغیرہ۔

اعلیٰحضرت علیہ الرحمہ نے ایک ہزار سے زائد کتابیں مندرجہ بالا علوم و فنون میں لکھیں ۔ آپ کے دینی و تجدیدی کارناموں کی وجہ سے حرمین طیبین نیز دیگر بلادِ اسلامیہ کے علماء و مشائخ نے ۱۴؍ ویں صدی ہجری کا مجدِد تسلیم کیا۔ نیز آپ کو بڑے بڑے القاب سے یاد کرنے لگے۔ مولوی اسمٰعیل دہلوی، مولوی اشرف علی تھانوی، مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی خلیل احمد انبیٹھوی، مولوی قاسم نانوتوی، مرزا غلام احمد قادیانی، ندویہ، نیچریہ وغیرہ کے عقائد باطلہ اور کلمات کفر سے زمانہ واقف ہے۔ یہاں مختصر ا ً انہیں پیش کیا جارہا ہے۔
مولوی اسمٰعیل دہلوی نے حضورا کا مرتبہ بڑے بھائی کے برابر قرار دیا، بے اختیار کہا، مر کر مٹی میں مل جانیو الا بتایا، ان کے علم غیب کا انکار کیا۔ اللہ تعالی اور فرشتوں کی شان میں گستاخیاں کیں۔ (دیکھئے اسمٰعیل دہلوی کی کتاب، تقویۃ الایمان، صراط مستقیم اور ایک روزی وغیرہ)۔ اعلیٰحضرت نے خصوصیت کے ساتھ اس کے رد میں ’’الکوکبۃ الشہابیہ فی کفریات ابی الوہابیہ‘‘ نامی کتاب لکھی او راس پر ۷۰؍ وجوہ سے لزوم کفر ثابت کیا۔

دیوبند کے عناصر اربعہ

(۱) مولوی رشید احمد گنگوہی نے اللہ کو جھوٹ پر قادر بتایا، میلاد شریف ، ذکر شہادت، عرس سبیل وغیرہ کو شرک و بدعت قرار دیا۔ وغیرہ (فتاویٰ رشیدیہ)
(۲) مولوی قاسم نانوتوی نے حضورا کی خاتمیت کا انکار کیا۔ (تحذیرالناس)
(۳) مولوی اشرفعلی تھانوی نے حضور ا کے علم غیب کو پاگلوں ، بچوں اور جانوروں کے علم کے برابر بتایا۔ (حفظ الایمان)
(۴) مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے اللہ کے جھوٹ کی تائید کی وغیرہ (براہین قاطعہ)
(۵) مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور کی خاتمیت کا انکار کرتے ہوئے خود کو نبی اور مسیح موعود کہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کی۔
اعلیٰحضرت امام احمد رضا نے ان کے رد میں مندرجہ ذیل کتب خاص طور سے تحریر کیں۔ سبحٰن السبوح، اخباریہ کی خبرگیری، اقامۃ القیامۃ، منیرالعین، المعتمد المستند، انوارالانتباہ، تمہیدِ ایمان، الدولۃ المکیۃ وغیرہ۔ نیز ردّ ِقادیانی میں قہر الدّیان، السوء والعقاب، ختم النبوۃ وغیرہ۔ اورندویہ کے رد میں آپ نے فتاویٰ الحرمین، فتاویٰ القدوہ، بارشِ بہاری وغیرہ۔ اور اہلحدیث، تقلید کے قائل نہیں ہیں اس لئے ان کے رد میں اعلیٰحضرت امام احمد رضا نے ہدی الحیران، الامن والعلی وغیرہ کتابیں تصنیف کیں۔ نیچریت کے بانی سرسید احمد نے معجزہ کا انکار کیا، اللہ کی معرفت کے لئے بجائے قرآن و حدیث کے صرف عقل کو کافی قرار دیا۔ وغیرہ
اعلیٰحضرت امام احمد رضا کے پیش کردہ عقائد حسب ذیل ہیں۔
۱۔ اللہ بے نیاز ہے، ہر عیب و خطا، جسم و جسمانیت، مکان و زمان وغیرہ سے پاک ہے۔
۲۔ حضور ا اللہ کے نور اور ایجاد ِعالم کے مادہ ہیں۔
۳۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سارے نبیوں اور رسولوں کے سردار اور خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔
۴۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آج بھی حیات ہیں، حاضر و ناظر ہیں۔
۵۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اللہ نے علم غیب عطا کیا تھا۔
۶۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی معراج جسمانی تھی۔
۷۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مختار دو عالم ہیں۔
۸۔ نداء اور وسیلہ جائز ہے۔
۹۔ میلاد پاک ، عرس، نذر و نیاز و فاتحہ جائز ہیں۔
۱۰۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شافعِ محشر ہیں۔ وغیرہ
مندرجہ بالا عقائد کی توضیح و تشریح میں اعلیٰحضرت امام  احمد رضا علیہ الرحمہ نے حسب ذیل کتابیں لکھیں۔ سبحٰن السبوح، الفرق الوجیز، فتاویٰ رضویہ جلد اول، قمر التمام، اسماع الاربعین، تمہیدِ ایمان، الدولۃ المکیۃ، برکات الامداد، تجلی الیقین، الامن والعلی اور متعدد کتب و رسائل لکھے۔

اکابرینِ دیوبند اور قادیانی کی تکفیر

اعلیٰحضرت علیہ الرحمہ نے ان غدّارانِ اسلام سے اتمام حجت کے بعد حضرت علاّمہ فضلِ رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ’’المعتقد المنتقد‘‘ پر تعلیقات و حواشی کا اضافہ فرماکر تاریخی نام ’’المعتمد المستند بناء نجاۃ الابد‘‘ (۱۲۲۰ھ/ ۱۹۰۲ء) رکھا او راس میں تھانوی، گنگوہی، انبیٹھوی، نانوتوی او رقادیانی کی عبارتوں کو پیش فرما کر ۲۱؍ ذی الحجہ ۱۳۲۳؁ھ کو حرمین شریفین اور دیگر بلادِ اسلامیہ کے علماء و مشائخ کے سامنے پیش کیا۔ ان حضرات نے ان پانچوں پر کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا۔ اعلیٰحضرت نے اسے ’’حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین‘‘ کے نام سے شائع فرمایا۔ بعد میں ہند و پاک کے مفتیانِ کرام نے بھی اس کی تصدیق کی اور کتاب ’’الصوارم الہندیۃ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اعلیٰحضرت کے تجدیدی کارناموں میں یہ سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

مسلکِ اعلٰیحضرت مسلکِ اہلسنت ہے

مسلکِ اعلیٰحضرت،صحابۂ کرام ، اہلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم ، تابعین ، تبعِ تابعین، ائمہ مجتہدین، صلحاء، اولیاء اور علماء علیہم الرحمہ کا مسلک ہے۔ اعلیٰحضرت کے پیش کردہ عقائد قرآن و سنت اور اخبار و آثار سے ظاہر ہیں۔
تصدیق کے لئے مندرجہ ذیل کتب دیکھ سکتے ہیں۔ انباء الاذکیاء، الخصائص الکبریٰ، مواہب الدنیۃ، حیات الانبیاء، القول البدیع، شرح الشفاء، اشعۃ اللّمعات، فیوض الحرمین وغیرہ۔
مزید معلومات کے لئے مفتی جلال الدّین احمد امجدی علیہ الرحمہ کی کتاب ’’بزرگوں کے عقیدے‘‘ تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کے رد کے لئے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی تصانیف ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔ حضرت سید العلماء علامہ مولانا سید آلِ مصطفیٰ سید میاں قبلہ مارہروی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
یا الٰہی مسلکِ احمد رضا خاں زندہ باد
حفظ ِناموسِ رسالت کا جو ذمہ دار ہے
(ماہنامہ المیزان، ممبئی۔ امام احمد رضا نمبر ۲۳۷،چشتی)
۲۔ امین ملت سیدی سرکار امین میاں مارہروی قبلہ تحریر فرماتے ہیں:’’نوری دادا میرے مرشد برحق تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری برکاتی صاور عم محترم حضور سید العلماء نے اپنی پوری زندگی مسلکِ اعلیٰحضرت کی اشاعت کے لئے وقف فرمادی۔ خاندانِ برکاتیہ کا بچہّ بچہّ اعلیٰحضرت کا شیدائی ہے۔ ہماری نِجی مجالس ہوں یا عوامی جلسے ہر جگہ مسلکِ اعلیٰحضرت کی تبلیغ و اشاعت ہی ہم لوگوں کا نصب العین اور مطمحِ نظر ہوا کرتا ہے۔‘‘(ماہنامہ المیزان، ممبئی۔ امام احمد رضا نمبر ۲۷۳،چشتی)
شیخ المشا ئخ سید ناعلی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کی وصیت:
آپ فرمایا کرتے تھے کہ میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے، جو حضور پر نُور اعلیٰحضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے لہذا میرے مسلک پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لئے سیدنا اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصانیف ضرور زیر مطالعہ رکھو۔‘‘(مجدد اسلام از مولانا نسیم بستوی، ص ۳۴)
حضور قبلہ اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مسلک کو ’’مسلکِ  اعلٰٰیٰحضرت سے منسوب کیا یعنی یہی مسلک ِاہل سنت اور مذہبِ حق ہے۔
حضرت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں۔
’’سنی وہ ہے جو ’’ما انا علیہ واصحابی‘‘ کا مصداق ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ائمہ دین، خلفائے راشدین، مسلم مشائخِ طریقت اور متأخرین علما ء کرام میں سے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی، حضرت ملک العلماء ،بحرالعلوم فرنگی محلّی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رام پوری اور حضرت مولانا مفتی شاہ احمد رضا خاں صاحب بریلوی کے مسلک پر ہوں۔رحمہم اللہ تعالیٰ‘‘۔ (ماہنامہ عرفات، خصوصی نمبر، لاہور، ص۳۷۲)
گویا حضرت صدرالافاضل رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مسلکِ اہلِ سنت کو ’’مسلکِ اعلیٰحضرت‘‘ سے منسوب کیا۔
(۵) حافظِ بخاری حضرت علامہ، مولانا سید شاہ عبدالصمد سہسوانی علیہ الرحمہ کے خلف گرامی قدر اور جانشین حضرت علامہ ،مولانا سید شاہ مصباح الحسن علیہ الرحمہ (پھُپھوَند شریف) نے اپنی وصیت میں یہ بھی فرمایا:
’’مذہب حق اہلِ سنت جس کا معیار اس زمانہ میں حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحبصبریلوی کی تصانیف ہیں۔ یہی مسلک میرے حضرت قبلہ عالم (حضرت حافظ بخاری) کا تھا اور یہی مسلک حضرت پیرانِ عظام ِسلسلہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کا تھا اور اسی کا میں پابند ہوں۔ اس کی حمایت میں کسی مخالف کی پرواہ نہیں کرنا چاہئے اور پابندی مذہب کے لئے ’’الحب فی اللہ والبغض فی اللہ‘‘ کا پابند رہنا چاہئے اس سے ہٹنا بدمذہبی ہے جس کی گنجائش نہ میں اپنے جانشینوں کا دیتا ہوں اور نہ متوسلین کو ‘‘ ۔ (ملفوظ مصاہیب القلوب مُرَتبہٗ جناب ظہی السجاد صاحب ۳۱۸)
حضرت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسلکِ اعلیٰحضرت کہنا درست ہے۔‘‘ ’’جو لوگ سنی ہونے کے باوجود مسلکِ اعلیٰحضرت کہنے پر اعتراض کرتے ہیں وہ اعلیٰحضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان کے حسد میں مبتلا ہیں اور حسد حرام و گناہ کبیرہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حسد، حاسدوں کی نیکیوں کواس طرح جلاتاہے جیسے آگ لکڑی کو جلاتی ہے۔(سنن ابوداؤد شریف، جلد۲، ص۳۱۶،چشتی)
یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ مسلک اہل سنت اور مسلک حنفی کہنا کافی ہے اس لئے کہ دیوبندی اور مودودی بھی مسلک اہلسنت اور مسلک حنفی کے دعویدار ہیں تو دیوبندی مسلک اور مودودی مسلک سے امتیاز کے لئے موجودہ زمانہ میں مسلکِ اعلیٰحضرت بولنا ضروری ہے یعنی مسلکِ اعلیٰحضرت،دیوبندی اور مودودی مسلک سے امتیاز کے لئے بولا جاتا ہے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو مسلک اہلسنت اور مسلک حنفی کا ماننے والا بتائے اور یہ نہ کہے کہ میں مسلک ِاعلیٰحضرت کا پابند ہوں ظاہر نہیں ہوگا کہ وہ سنی ہے یا بدمذہب۔ لہٰذا مذہبِ حق اہلسنت و جماعت سے ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے اس زمانہ میں مسلکِ اعلیٰحضرت سے ہونے کو بتانا ضروری ہوگیا ہے۔ اس پر اعتراض کرنے والے کو خدائے تعالیٰ صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین!
(شائع کردہ: مرکز تربیت افتاء، دارالعلوم امجدیہ اہلسنت ارشد العلوم اوجھا گنج، ضلع بستی، یوپی)
آج اعلیٰحضرت کا نام حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچتا ہے۔ اعلیٰحضرت اور ان کا نام سنت کی علامت ہے اور ان سے بغض بدعتی  کی پہچان ہے۔
حضرت مفتی سعد اللہ مکی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
’’نحن نعرفہ بتصنیفاتہ و تالیفاتہ حبّہ علامۃ السنۃ و بغضۃ علامۃ البدعۃ‘‘ یعنی ہم لوگ فاضل بریلوی کو ان کی تصنیفات و تالیفات سے جانتے ہیں۔ انکی محبت سنت کی علامت ہے اور بغض بدعتی کی پہچان۔‘‘
عصر حاضر کے وہابی دیوبندی وغیرہ اپنی بدمذہبی کو چھپانے کے لئے مسلک اہلسنت، مسلک حق، مسلک اعلیٰحضرت کو ’’بریلویت‘‘ کہہ کر مطعون کرتے ہیں لیکن خود ان کے اپنے ہی اس کی تردید کرتے ہیں۔
۱) ماہنامہ الحسنات رام پور: یہ خیال درست نہیں ہے کہ احمد رضا خاں نے دین اسلام میں ایک نئے فرقے کی بنیاد ڈالی ہے البتہ یہ درست ہے کہ علماء کی اس جماعت کو عرف عام میں امام احمد رضا خان بریلوی سے عقیدت کی بنا پر بریلوی کہا جاتا ہے اور دوسرے احناف سے بعض مسائل میں اختلاف کی بناء پر الگ تشخص قائم ہوگیا۔‘‘ (شخصیات نمبر: سالنامہ، ص۵۵، ۱۹۷۶؁۔ء)
۲) احسان الٰہی ظہیر مصنف البریلویہ: ’’یہ جماعت اپنی پیدائش اور نام کے لحاظ سے نئی ہے لیکن افکار اور عقائد کے اعتبار سے قدیم ہے۔‘‘ (البریلویہ، صفحہ ۷)
جماعت اہلسنت کے ممتاز عالم دین اور پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید محمد مدنی میاں کچھوچھوی قبلہ تحریر فرماتے ہیں۔ ’’غور فرمایئے کہ فاضل بریلوی کسی نئے مذہب کے بانی نہ تھے، ازاول تا آخر مقلد رہے، ان کی ہر تحریر کتاب و سنت اوراجماع و قیاس کی صحیح ترجمان رہی نیز سلف صالحین و ائمہ مجہتدین کے ارشادات اور مسلک اسلاف کو واضح طور پر پیش کرتی رہی وہ زندگی کے کسی گوشے میں ایک پل کے لئے بھی سبیل مومنین صالحین سے نہیں ہٹے۔
اب اگر ایسے کے ارشادات حقانیہ اور توضیحات و تشریحات پر اعتماد کرنے والوں کو ’’بریلوی‘‘ کہلایا گیا تو کیا بریلویت و سنیت کو بالکل مترادف المعنی نہیں قرار دیا گیا اور بریلویت کے وجود کا آغاز فاضل بریلوی کے آغاز سے پہلے ہی تسلیم نہیںکرلیا گیا؟‘‘ (تقدیم: دور حاضر میں بریلوی اہلسنت کا علامتی نشان، صفحہ ۱۱،چشتی)
بقول شیخ الاسلام مدنی میاں صاحب قبلہ سنیت متعارف ہے بریلویت سے اور یہی ’’مسلکِ اعلیٰحضرت‘‘ ہے یعنی مسلک اہل سنت و جماعت (سنی مذہب)۔
اب کوئی حنفی ہو یا شافعی، مالکی ہو یا حنبلی۔ سب کا عقیدہ،عقدۂ اہلسنت ہے اور جو سنی نہیں ہے یعنی مسلک ِاعلیٰحضرت کا پیرو نہیں ہے، وہ لاکھ بہلاوا دے کہ وہ حنفی المذہب ہے یا حنبلی المذہب وغیرہ مشربی اعتبار سے وہ قادری ہے یا چشتی یا سہروردی یا نقشبندی ،ان سب سے پہلے وہ مسلکِ اعلیٰحضرت کا پیرو ہے یا نہیں ۔ آیا اس کے عقائد، اعلیٰحضرت امام احمد رضا خاں کے پیش کردہ عقائد کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اگر اس کے عقائد اعلیٰحضرت کے پیش کردہ عقائد کے مطابق ہیں تو بیشک وہ سُنّی ہے اور پھر حنفی، حنبلی، مالکی۔۔۔۔۔۔ یا قادری، چشتی، سہروردی، نقش بندی کوئی بھی ہو ہمارا اپنا ہے۔
الحمداللہ ! آج پوری دنیا کے مسلمانوں میں ۷۵؍ فیصد مسلمان مسلکِ اعلیٰ حضرت ہی کے ماننے والے ہیں یعنی سنی ہیں اور اہلسنت ہی سوادِ اعظم ہے ۔

محترم قارٸینِ کرام : برصغیر پاک و ہند میں مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا ظہور اتنا واضح اور انقلابی تھا کہ بدعقیدہ قوتیں آج تک لرزہ براندام ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ نے اپنے ایمان افروز فقہی افکار اور نعتیہ شاعری کے ذریعے زندگی بھر گستاخان رسول کاڈنکے کی چوٹ پر محاسبہ جاری رکھا۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے دین دشمنوں کے خلاف قلم سے تلوار کا کام لیا اور بھرپور انداز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے والہانہ محبت کی تبلیغ کی۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی ولولہ انگیز شخصیت اور علمی کارناموں سے متاثرہ کروڑوں مسلمان آپ علیہ الرحمہ سے اظہار قربت کے طور پر خود کو بریلوی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ اس پر بدعقیدہ عناصر کے حاسدانہ تبصرے بھی جاری رہتے ہیں ۔ چنانچہ یہ پراپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ بریلوی ایک نیا دینی فرقہ ہے حالانکہ محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سفیر ہر بریلوی حضرت امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کی فقہ کا قائل ہے ۔ خود اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنے آپ کو فقہ حنفی کا ترجمان قرار دیا۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مقام و مرتبے سے متاثر ہوکر انہیں اپنے دور کا امام ابو حنیفہ رضی ﷲ عنہ قرار دیا تھا۔ اس تناظر میں اہلسنت کے محبوب ادیب اور صاحب طرز مصنف علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا خصوصی مقالہ ’’بریلوی‘‘ دور حاضر میں اہلسنت کا علامتی نشان ، یارسول ﷲ کہنے والے غلامان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ذوق مطالعہ کی نذر کررہا ہوں ۔ علامہ ارشد القادری اپنی پاپولر کتابوں اور دل موہ لینے والی باکمال تحریروں کے باعث پڑھنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ یہ مقالہ بھی ایک ایسی ہی لافانی اور لاجواب تحریر ہے۔ یہ مقالہ ایسے نام نہاد روشن خیال عناصر کی بھی رہنمائی کرتا ہے جو سنی ہونے کے باوجود خود کو ’’بریلوی‘‘ کہلانے میں شرم محسوس کرتے ہیں ۔ ⬇
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے دور فتن میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت فاضل علیہ الرحمہ رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ کا منصب تجدید و ارشاد اتنا واضح ہوچکا ہے کہ اب وہ محتاج بحث و استدلال نہیں رہا۔ غیر جانبداری اور انصاف و دریافت کے ساتھ اسلام کے مذہب و مسلک کا مطالعہ کرنے والا یہ اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بریلوی اسلام کے ماضی اور حال کے درمیان ایک عظیم رابطہ کی حیثیت سے اپنے وقت میں جلوہ گر ہوئے اور اپنی خداداد قوت علم و یقین اور لگاتار قلمی جہاد کے ذریعہ انہوں نے ملحدانہ قوتوں کی، ان ساری کوششوں کو ناکام بنادیا جو ہمارے فکر و اعتقاد اور کردار و عمل کا رشتہ ہمارے مقدس ماضی سے منقطع کرنا چاہتے تھے ۔

دراصل یہی ہے وہ منصب تجدید و ارشاد جس پر وقت کا ایک مجدد فائز ہوتا ہے۔ وہ کسی نئے مذہب و فکر کی بنیاد نہیں ڈالتا بلکہ اسی مذہب اسلام کو نئی توانائیوں اور صحیح تعبیر کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے جو نقطہ آغاز سے لے کر ماضی کے بے شمار اشخاص و رجال کا ذریعہ اس تک پہنچا ہے۔ اس کی ساری جدوجہد اس نقطے پر مرکوز رہتی ہے کہ ملت اسلامیہ کے افراد کے ساتھ فکر و اعتقادکے زاویئے کا وہ سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے جس نے ماضی کے ہر دور میں کروڑوں افراد کو اسلام کے ساتھ مربوط رکھا ہے۔ مسلم معاشرہ کی چھوٹی سی چھوٹی چیز کے لئے جس پر اسلام کے مقدس ماضی کی چھاپ لگی ہوئی ہے، وہ لوگوں سے جنگ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم ایک عظیم اور مقدس ماضی کے وارث ہیں۔ اس لئے ماضی کے بزرگوں سے جو کچھ ہمیں ملا ہے ہمیں کل کا کل قبول کرنا ہوگا۔ کچھ لینے اور کچھ چھوڑنے کی اگر اجازت دے دی گئی تو ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے کہ کچھ چھوڑنے والے سبھی کچھ چھوڑ دیں اور اس کے بعد بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے رہیں۔ یونہی کسی چھوٹی چیز کو اس پیمانے سے مت دیکھو کہ وہ چھوٹی ہے بلکہ اس زاویہ نگاہ سے دیکھو کہ وہ ماضی کے مقدس بزرگوں سے ورثے میں ملی ہے۔ جو آج ماضی کی چھوٹی چیز کو ٹھکرا سکتا ہے، وہ کل ماضی کی بڑی چیز کو بھی ٹھکرا دے گا کیونکہ ماضی سے مربوط رہنے کا ذریعہ وہ حسن اعتقاد ہے جو ماضی کے بزرگوں کے ساتھ قائم ہے اور جب وہی مجروح ہوگیا تو آئندہ مسلمان باقی رہنے کی ضمانت کیا ہے۔ قرآن کی زبان میں اسلام اس صراط مستقیم کا نام ہے جو صدیقین و صالحین کے قدموں کے نشانات سے پہچانا جاتا ہے، اس کے علاوہ سینکڑوں راہوں کے درمیان اسے ممیز کرنے کا اور کوئی محسوس ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ پس جسے اس گزر جانے والے فاصلے کے نقوش قدم کی پیروی سے انکار ہے اس کی حق میں دو ہی بات کہی جاسکتی ہے یا تو وہ اپنے تئیں اس منزل کا مسافر ہی نہیں ہے یا پھر گمشدگی اس کی تقدیر کا نوشتہ ہے ۔

آپ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی کوئی بھی تصنیف اٹھا لیجئے ایک روایاتی مجدد کا یہ انداز فکر آپ کو پوری کتاب میں پھیلا ہوا نظر آئے گا۔ کسی بھی مسئلے پر اعلیٰ حضرت کا قلم جب اٹھتا ہے تو بالاتزام بحث و استدلال کی ترتیب یہ ہوتی ہے۔ سب سے پہلے آیات قرآنی پھر احادیث کریمہ پھر آثار صحابہ پھر ارشادات تابعین و تبع تابعین پھر اقوال ائمہ مجتہدین پھر تصریحات، مشاہیر امت، تحریر و بیان کا یہ اسلوب اس نقطہ نظر کو پوری طرح واضح کرتا ہے کہ کسی بھی مسئلے میں شارع کا منشاء معلوم کرنے کے لئے ماضی کے ہر مسند طبقے کے ساتھ منسلک رہنا نہایت ضروری ہے۔ اعتماد و وابستگی کا یہ سلسلہ الذہب کسی سے بھی ٹوٹ گیا تو ایمان و یقین کی سلامتی کو کبھی بھی خطرہ پیدا پیش آ سکتا ہے ۔ واقعات و حالات کی روشنی میں اگر آپ مذہبی امور میں آزادی رائے کی تاریخ کا تجزیہ کریں تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اپنے وقت کے مجدد کا یہ اندیشہ غلط نہیں تھا کہ چھوٹی چیز کو چھوڑنے والے ایک دن بڑی چیز کو بھی چھوڑ دیں گے اور سواد اعظم کی پیروی سے انکار کرنے والے ایک دن رسول ہی کی پیروی سے انکار کر بیٹھیں گے ۔ چنانچہ تجربات شاہد ہیں کہ رسم کہہ کر جن لوگوں نے ماضی کے بزرگوں کی روایات سے لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کی ، انہیں کچھ مدت کے بعد اپنے ہی درمیان ایک ایسے طبقے کا سامنا کرنا پڑا جس نے یہ کہتے ہوئے ائمہ مجتہدین کی تقلید کا قلاوہ اپنی گردنوں سے اتار کر پھینک دیا کہ وہ بھی ہماری ہی طرح ایک عام امتی ہیں… دین کے مسائل و احکام معلوم کرنے کے لئے ان مجتہدانہ صوابدید پر اعتماد کرنا ہمارے لئے کیا ضروری ہے۔ ہمیں بھی خدا نے فکر کی قوت بخشی ہے ہم براہ راست احادیث سے رابطہ قائم کریں گے۔ ہمارے لئے حدیث رسول کافی ہے۔ اقوال آئمہ کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ اقوال آئمہ اغلاط کا مجموعہ ہیں۔ لیکن ابھی چند سال بھی نہیں گزرے تھے کہ اسی دعوت انحراف کے بطن سے ایک تیسرے گروہ نے جنم لیا۔ اس نے بڑے طمطراق سے کہنا شروع کیا کہ دین دراصل خدا کا ہے۔ پیغمبر کی حیثیت تو صرف ایک قاصد کی ہے۔ دین کے متعلق خدا کی مکمل ہدایات قرآن کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔ ہمارے پاس قرآن کافی ہے۔ حدیث کی کوئی ضرورت نہیں۔ احادیث اغلاط کا مجموعہ ہیں۔ مسلمانوں کے فکری زوال اور قومی انتشار کا سب سے بڑا ذریعہ یہ احادیث ہیں ۔بغاوت و الحاد کا یہ قیامت خیز فتنہ جب جوان ہوگیا اور سر پر چڑھ کر آواز دینے لگا تو اب لوگ بدحواس ہوکر سینہ پیٹ رہے ہیں کہ ہائے اسلام میں کتنا بڑا رخنہ ڈال دیا ان ظالموں نے۔ امت کا شیرازہ جس رشتے سے بندھا ہوا تھا اسی کو توڑ دیا۔ اب اس کی کیا ضمانت ہے کہ حدیث کو چھوڑنے والے ایک دن قرآن کو نہیں چھوڑ دیں گے اور اس کے بعد بھی کہیں گے ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں مسلم معاشرہ میں ایک مسلمان کا حق ملنا چاہئے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ پہنچنے والے یہاں تک اچانک نہیں پہنچ گئے، انہیں الحاد و انکار کے متعدد مراحل سے گزرنا پڑا۔ اس سے پہلے اعتماد و یقین کے کئی رشتے انہوں نے بتدریج توڑے، تب جاکر حدیث کے رشتے تک ان کا ہاتھ پہنچا…اس لئے مجھے کہنے دیا جائے کہ اسلام میں رخنے کی بنیاد تو اسی دن پڑ گئی تھی جس دن دہلی کے ایک ناخدا ترس باغی نے ’’بزرگوں کی رسم‘‘ کہہ کر ماضی کی متوارث روایات کے خلاف بغاوت کا علم اٹھایا تھا۔ اسلامی اقدار کے خلاف ایک نیا فتنہ عین اپنی ولادت کے وقت ہی کچل دیاگیا ہوتا تو آج ہمیں یہ سیاہ دن کیوں دیکھنا پڑتا… اور اس پر مزید ستم یہ کہ جو اسلام میں نئے فتنوں کا بانی تھا، اسے آج بھی ملت کا محسن سمجھا جاتا ہے اور جس نے اپنے خون جگر سے ایمان و یقین کے فیصلوں کی بنیاد مستحکم کی، اس کی خدمات کا کوئی اعتراف نہیں ہے۔ مسلم ہندوستان کی مذہبی تاریخ پر قلم اٹھانے والے جو اپنے آپ کو غیر جانبدار اور حقائق پسند کہتے ہیں، اگر انہوں نے دیدہ وا دانستہ احیائے ملت کی ایک عظیم تاریخ کے ساتھ بے اعتنائی برتی ہے تو یہ حقائق کے خلاف ایک کھلا ہوا تعصب ہے اور اگر انہوں نے ناواقفیت کی بنیاد پر تاریخ کی یہ اہم کڑی چھوڑ دی ہے تو سوا اس کے اور کیا کہا جائے گا کہ کچھ نہ لکھنا ایک گمراہ کن تاریخ لکھنے سے کہیں بہتر تھا۔ واقعات کے ساتھ انصاف کرنے والوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ تجدید و ارشاد کو سمجھنے کے لئے جہاں اس دور کے مذہبی اور سیاسی ماحول کو سمجھنا ضروری ہے وہاں ان کی فکری اور اخلاقی محرکات کا پیش نظر رکھنا بھی لازمی ہے جو اعلیٰ حضرت کی علمی خدمات اور ان کی تصنیفات کے پیچھے ہیں… کیونکہ فکر و اعتقاد کے جن مقاصد کی اصلاح کرنے کے لئے وہ اٹھے تھے وہ انفرادی نہیں تھے بلکہ ایک منظم گروہ اور ایک مربوط مکتبہ فکر کی پشت پناہی میںوہ پھیل رہے تھے۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو اپنے وقت میں ’’دیوبندی جماعت‘‘ کے نام سے ایک ایسے الحاد پرور اور زمانہ ساز گروہ کا سامنا کرنا پڑا جو ایک طرف اپنے آپ کو ’’حنفی‘‘ بھی کہتا تھا اور دوسری طرف ابن تیمیہ سے لے کر ابن عبدالوہاب نجدی اور شاہ اسماعیل دہلوی تک، ان سارے آئمہ الحاد و فتن کے عقائد و افکار کا علمبردار بھی تھا جو سلف صالحین اور آئمہ اسلام کی بارگاہوں سے ٹھکرائے جاچکے تھے اور اتنا ہی نہیں بلکہ آئمہ اسلام کے اس باغی طبقے کے ساتھ جسے ہم غیر مقلدین کے نام سے جانتے ہیں، اعتقادی اور فکری رابطہ بھی قائم ہوگیا تھا اور دونوں گروہوں کے درمیان شاہ اسماعیل دہلوی کی تقویۃ الایمان جسے ابن عبدالوہاب نجدی کی کتاب التوحید کا اردو ایڈیشن کہنا چاہئے، بزرگان اسلام کے خلاف بغاوت کے لئے قدر مشترک کے طور پر استعمال کی جاتی تھی اور دونوں گروہ اس کتاب کے گمراہ کن اور ایمان سوز مضامین کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا مقدس ترین فریضہ سمجھتے تھے اور آج تک سمجھ رہے ہیں۔ غیر مقلدین کے ساتھ ان نام نہاد حنفی مقلدین کے گٹھ جوڑ نے نہ صرف یہ کہ حنفی مذہب کو نقصان پہنچایا اور غیر مقلدیت کے لئے مسلم معاشرہ میں داخل ہونے کا راستہ ہموار کیا بلکہ دونوں گروہوں کی مشترک جدوجہد سے زندگی کے بیشتر مسائل میں آئمہ اسلام اور سلف صالحین کے ساتھ عامہ مسلمین کے فکری رابطے کا اعتماد بھی مجروح ہونے لگا۔ اس طرح کے پیچیدہ اور سنگین ماحول میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے اصلاح و ارشاد کا کام شروع کیا۔ آندھیوں کی زد پر چراغ جلانے کا محاورہ ہم نے سنا تھا لیکن اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمی و دینی تاریخ میں یہ محاورہ حقیقت کا ایک پیکر محسوس بن گیا ۔بلاشبہ انہوں نے آندھیوں کی زد پر چراغ جلایا، قلم کی تلوار ہاتھ میں لے کر تنہا اترے اور عرب سے عجم تک مذہب اہلسنت کی حقانیت و صداقت کا سکہ بٹھادیا ۔ مومنین کے قلوب میں سید کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عظمت و توقیر، سلف صالحین کی محبت و عقیدت اور شریعت طیبہ طاہرہ کے احترام کا جذبہ کچھ اس طرح جگایا کہ اہل ایمان کی زندگی کا نقشہ بدل گیا۔

ویسے ہندوستان میں اس وقت اس گروہ کے علاوہ بھی بہت سے فرقہائے باطلہ تھے جن سے مسلمانوں کی مذہبی سلامتی کو نقصان پہنچا اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ان کے فتنوں سے بھی ملت کی تطہیر فرمائی لیکن خصوصیت کے ساتھ فتنہ وہابیت کے استحصال میں ان کے مجاہدانہ اقدامات نے امت کو ایک عظیم ابتلا سے بچالیا۔ فتنہ وہابیت کے استیصال کی طرف اعلیٰ حضرت کی خصوصی توجہ کا باعث یہ امر ہوا کہ اس فتنے کے علمبردار اپنے آپ کو حنفی کہہ کر، حنفی مسلمانوں میں بار پانے کی کوشش کررہے تھے اور حنفی مسلمانوں کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ جو خیالات وہ ان کے سامنے پیش کررہے ہیں وہ عین حنفی مذہب کے مطابق ہیں حالانکہ حنفی مذہب سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ ان حالات میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے شدت کے ساتھ یہ خطرہ محسوس فرمایا کہ اگر واضح اور مدلل بیان کے ساتھ اس فریب کا پردہ چاک نہ کیا گیا تو پاک و ہند کے احناف سخت گمراہی کا شکار ہوجائیں گے۔ اس لئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ایک ایک اختلافی مسئلہ پر قرآن و حدیث اقوال آئمہ اور حنفی مذہب کی کتابوں سے دلائل و شواہد کا انبار لگا کر حنفیت اور وہابیت کے درمیان کھلا ہوا امتیاز قائم کردیا… فکر و اعتقاد اور کردار و عمل کی مختلف سمتوں میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی مجددانہ اصلاحات اور ان کی علمی خدمات کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔

پہلا شعبہ

سنی حنفی مسلمانوں کے وہ عقائد و روایات جنہیں دیوبندی حضرات شرک و حرام کہتے تھے، اعلیٰ حضرت نے قرآن و حدیث، فقہ حنفی اور اسلام کی کتابوں سے روشن بیانات اور واضح دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ وہ امور شرک اور حرام نہیں بلکہ قرآن و حدیث کے عین مطابق اور آئمہ اور سلف صالحین کے نزدیک مستحسن اور پسندیدہ ہیں اور یہ امور کچھ آج کے ایجاد کردہ نہیں ہیں بلکہ اسلام کے ماضی سے ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ لہذا جو ان امور کو شرک یا حرام کہتا ہے اس کا یہ حملہ ہم پر نہیں بلکہ ان اسلاف کرام پر ہے جن کے ساتھ وابستگی ہماری دینی سلامتی کی ضمانت ہے۔

اس شعبے کے ضمن میں مندرجہ ذیل مباحث بطور امثال ملاحظہ فرمائیں :

(1) تقبیل ابہامین (2) ندائے یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (3) عقیدہ شفاعت (4) عرس و فاتحہ (5) عقیدہ علم غیب (6) عقیدت حیات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (7) میلاد و قیام (8) توسل (9) نذر (10) تذکرہ شہادت کربلا (11) محافل گیارہویں (12) تثویب (13) استعانت بالانبیاء و الاولیاء (14) بناء قبا برمزارات (15) سفر بائے زیارت قبور انبیاء واولیاء وغیرہ ۔

اہلسنت کی یہ وہ مذہبی اور اعتقادی روایات تھیں جن پر دیوبندی اور وھابی گروہ کے علماء حملہ آور تھے اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اہلسنت کی طرف سے ان کا دفاع فرمایا تھا۔ یہ روایات صدیوں سے امت مسلمہ کے اندر تمام شرق و غرب اور عرب وعجم میں رائج تھیں… اور آج بھی مسلم معاشرہ کی عظیم اکثریت کے تمام اسلامی اور غیر اسلامی ملکوں میں ان روایات پر عملدرآمد ہے۔ اس لیے کہنے دیجئے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ دنیائے اسلام کے عظیم محسن ہیں جنہوں نے ان روحانی اور مذہبی نقوش کو مٹنے سے بچالیا جو عالم اسلام کو اپنے قابل تقلید اسلاف سے ورثے میں ملے تھے ۔

دوسرا شعبہ : دیوبندی اور وھابی فرقے کے وہ مخصوص عقائد جنہیں وہ تقریر و تحریر کے ذریعہ مسلم معاشرہ میں پھیلا رہے تھے اور آج بھی ان کی تبلیغ و اشاعت کا سلسلہ جاری ہے اور ازراہ فریب سادہ لوح عوام سے کہتے ہیں کہ یہ وہ اسلامی عقائد ہیں جو قرآن و حدیث سے اخذ کئے گئے ہیں ایک سچے مسلمان کو انہی عقائد پر چلنا چاہئے۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے امت مسلمہ کو عقیدے کے فساد سے بچانے کے لئے جس پامردی اور صبر و استقامت کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کیا وہ ایک مجدد ہی کی شان ہوسکتی ہے۔ وقت کی ساری باطل قوتوں کو اپنا حریف بنالینے کے باوجود اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے قرآن و حدیث، فقہ حنفی اور سلف صالحین کی بوجھل شہادتوں سے ان مصنوعی عقائد کی دھجیاں اڑادیں اور ہر کہہ و مہ پر آفتاب نیمروز کی طرح واضح کردیا کہ یہ عقائد سرتاسر باطل اور ایمان و اسلام کے لئے مہلک ہیں۔ مسلمانوں کو ان فاسد عقائد سے سخت اجتناب کرنا چاہیے اور کھلے بندوں ان کی مذمت کرنی چاہئے تاکہ معاشرہ میں انہیں اعتماد کی جگہ نہ مل سکے۔

اس شعبے کے ضمن میں مندرجہ ذیل دیوبندی عقائد بطور مثال ملاحظہ فرمائیں ۔

(1) امتی عمل میں انبیاء سے بڑھ جاتے ہیں ۔ (تحذیرالناس)

(2) صریح جھوٹ سے انبیاء کا محفوظ رہنا ضروری نہیں ۔ (تصفیۃ العقائد)

(3) کذب کو شان نبوت کے منافی سمجھنا غلط ہے ۔ (تصفیۃ العقائد)

(4) انبیاء کو معاصی سے معصوم سمجھنا غلط ہے ۔ (تصفیة العقاٸد)

(5) نماز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا خیال کرنا ڈوب جانے سے بھی بدتر ہے ۔ (صراط مستقیم)

(6) نماز میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا خیال لانے سے نمازی مشرک ہوجاتا ہے اور اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے ۔(صراط مستقیم)
اللہ کےلیے جھوٹ بولنا ممکن ہے (براہین قاطعہ، یکروزی وغیرہ) خدا کو زمان و مکان اور جہت سے پاک و منزہ سمجھنا گمراہی ہے ۔ (ایضاح الحق ، یک روزہ)

(7) جادوگروں کے شعبدے انبیاء کے معجزات سے بڑھ کر ہوتے ہیں ۔ (منصب امامت)

(8) صحابہ کرام کو کافر کہنے والا سنت جماعت سے خارج نہیں ہے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ)

(9) محمد یا علی جس کا نام ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ۔ (تقویۃ الایمان)

(10) ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا، وہ ﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ۔ (تقویۃ الایمان)

(11) رسول بخش، نبی بخش، پیر بخش، عبدالنبی، عبدالمصطفی، غلام معین الدین، غلام محی الدین نام رکھنا یا اسے پسند کرنا شرک ہے ۔ (تقویۃ الایمان)

(12) یہ کہنا کہ خدا اور رسول چاہے گا تو فلاں کام ہوجائے گا شرک ہے ۔

(13) رحمتہ للعالمین ہونا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے امتی بھی رحمتہ للعالمین ہوسکتے ہیں ۔ (فتاویٰ رشیدیہ)

(14) بزرگان دین کی فاتحہ کا تبرک کھانے سے دل مردہ ہوجاتا ہے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ)

(15) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہمارے بڑے بھائی ہیں اور ہم ان کے چھوٹے بھائی ہیں ۔ (تقویۃ الایمان)

(16) جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو قیامت کے دن اپنا وکیل اور سفارشی سمجھتا ہے وہ ابوجہل کے برابر مشرک ہے ۔ (تقویۃ الایمان)

(17) کسی نبی یا ولی کے مزار پر روشنی کرنا، فرش بچھانا، جھاڑو دینا، پانی پلانا اور لوگوں کے لئے غسل اور وضو کرنا شرک ہے ۔ (تقویۃ الایمان) وغیرہ

انصاف اور دیانت کے ساتھ دیوبندی مکتبہ فکر کے ان عقائد پر غور فرماٸیے ۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جن سے وہ عقیدہ توحید و تقدس کو ٹھیس پہنچتی ہے اور کچھ وہ ہیں جو شان رسالت کو مجروح کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جنہیں اگر صحیح مان لیا جائے تو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ایمان و اسلام کی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہے اور بات یہاں تک نہیں رکتی بلکہ صدیوں پر مشتمل ماضی کے وہ اسلاف کرام بھی زد میں آجاتے ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا عقائد و اعمال کی توثیق فرمائی ہے ۔

اب ایک طرف ہمارے معتقدات و روایات پر جارحانہ حملہ نظر میں رکھئے اور دوسری طرف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کا یہ دفاعی کردار ملاحظہ فرمایئے کہ انہوں نے ایک پرجوش وکیل اور ایک پرخلوص محافظ کی طرح امت کے سر سے کفر و شرک کے الزامات کا دفاع کیا ہے اور نہایت اخلاص و دیانت کے ساتھ قرآن و حدیث، فقہ حنفی اور سلف صالحین کے اقوال سے یہ ثابت کردیا ہے کہ امت کے جن عقائد و اعمال کو اہل دیوبند کفر و شرک کہتے ہیں وہ ایمان و اسلام کے بہترین مظاہر ہیں ۔

اب جمہور اسلام کے افراد ہی اس کا فیصلہ کریں کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا یہ عظیم کارنامہ ان کے حق میں ہے یا ان کے خلاف ہے ۔ اپنی ان گراں قدر خدمات کے ذریعہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے امت میں تفرقہ ڈالا ہے یا انہیں ٹوٹنے سے بچالیا ہے ۔ عین شورش اور طوفان کی زد میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جن عقائد و اعمال کی حمایت کی ہے اور جن روحانی احساسات کو مٹنے سے بچایا ہے اگر آج بھی روئے زمین کے جمہور مسلمین کا وہی مذہب ہے تو یہ فیصلہ جمہور ہی کو کرنا ہوگا کہ اپنے ایک جاں نثار وکیل اور ایک بے غرض محسن کو جذبہ محبت کے ساتھ یاد کیا جائے یا دشمن کے ناپاک پروپیگنڈوں کا شکار ہوکر احسان فراموشوں کا رویہ اختیار کر لیا جائے ۔ ان سوالوں کے جواب کے لیے آپ سے آپ ہی کے ضمیر کا انصاف چاہتا ہوں ۔ علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا مقالہ مکمل ہوا ۔


وہابیوں کو وہابی علامہ ابن عابدین شامی نے کہا دیکھو ردالمحتار حاشیہ و صاحب تفسیر صاوی علی الجلالین علامہ جمیل آفندی عاقی الفجر الصادق صفحہ 17-18، علامہ احمدین زینی دحلان مکی)(الفتوحات الاسلامیہ جلد 2 صفحہ 268)(الدر السنیہ صفحہ 49)(مولوی عبید ا للہ سندھی ابجد العلوم صفحہ 87 بحوالہ تاریخ وہابیہ صفحہ 83)

بلکہ وہابی اپنی وہابیت پر اس قدر نازاں تھے کہ نواب الوہابیہ نواب صدیق حسن بھوپالی نے اپنے رسالہ کا نام ہی ’’ترجمان وہابیہ‘‘ رکھ لیا تھا اور وہابیوں کی ایک کتاب ’’تحفہ وہابیہ‘‘ ہے ۔ ترجمہ بقلم مولوی اسماعیل غزنوی وہابی یہ جملہ کتب اور ان کے مصنفین سیدنا اعلیٰحضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی ولادت باسعادت سے پہلے کے ہیں ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ وہابیوں نے نام وہابی اور وہابیہ خود پسند کیا اور رکھا ۔ ہم مندرجہ بالا قسم کے پچاس حوالہ جات اور نقل کرسکتے ہیں کہ وہابی بقلم خود وبیدہ خود وہابی ہیں ۔

اِن جہلا کے روحانی پیشوا مولوی احسان الٰہی ظہیر کی ولادت اور ان کی کتاب ’’البریلویہ‘‘ کے معرض وجود میں آنے سے بہت پہلے متعدد کتب لغت سے ثابت کرسکتا ہے کہ وہابیوں کو وہابی کا لقب ہم نے نہیں دیا ۔ سیدنا اعلیٰحضرت قدس سرہ نے نہیں دیا ، بلکہ لفظ وہابی کے معنی کی وضاحت میں اہل لغت متفق البیان ہیں اور سب نے یہی لکھا ہے ۔ (وہابی (ع) عبدالوہاب نجدی کا پیروکار فرقہ (جو صوفیوں کے مدِ مقابل خیال کیا جاتا ہے ۔ (حسن اللغات، فیروز اللغات ، امیر اللغات وغیرہم زیر و۔ہ)

اکابر علماء بدایوں شریف کی سیدنا مجدد اعظم اعلیٰحضرت علیہ الرحمہ سے بہت پہلے کی کتاب سیف الجبار اور مجاہد جلیل وعظیم شیر حق علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ کی کتاب برد وہابیہ تحقیق الفتویٰ لسلب الطغویٰ اور بوارق محمدیہ وغیرہ ملاحظہ فرماتے اور تو اور مقالات سرسید میں خود مولوی اسماعیل پانی پتی وہابی فخریہ طور پر اپنی اور اپنے فرقہ کی وہابیت کا برملا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں اور ’’انگلش گورنمنٹ ہندوستان میں خود اس فرقہ کے لئے جو وہابی کہلاتا ہے، ایک رحمت ہے جو سلطنتیں اسلامی کہلاتی ہیں ان میں بھی وہابیوں کو ایسی آزادی مذہب ملنا دشوار بلکہ ناممکن ہے (مسلم) سلطان کی عمل داری میں وہابی کا رہنا مشکل ہے ۔ (مقالات سرسید حصہ نہم ص 211-212، از مولوی اسماعیل پانی پتی وہابی و علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ بابت 2 فروری 1889،چشتی)

دیوبندی خود کو دیوبندی کہتے ہیں اور وہابی ہونے کا اقرار و اعتراف بھی کرتے ہیں۔ اس عنوان اور اس موضوع پر مولانا اصدق جتنے حوالے ثاہیں نقد بہ نقد موجود ہیں۔ ان کی ضیافت طبع کے لئے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔

دیوبندیت وہابیت ہند کے امام دوم بانی ثانی مدرسہ دیوبند مولوی رشید احمد گنگوہی وہابیت اور بانی وہابیت عبدالوہاب شیخ نجدی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’محمد بن عبدالوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں۔ ان کے عقائد عمدہ تھے، وہ عامل بالحدیث تھا۔ شرک و بدعت سے روکتا تھا ۔ (فتاویٰ رشیدیہ جلد 1ص 111 و ص 551)

دیوبندی حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی بدیں الفاظ اپنی وہابیت کا اقرار و اعتراف کرتے ہیں : بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں، یہاں فاتحہ نیاز کیلئے کچھ مت لایا کرو ۔ (اشرف السوانح جلد 1ص 45)

یہی تھانوی صاحب کہتے ہیں : اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو تو سب کی تنخواہ کردوں پھر لوگ خود ہی وہابی بن جائیں ۔ (الاضافات الیومیہ جلد 5ص 67)

مولوی فیض الحسن صاحب سہارنپوری بڑے ظریف تھے ۔ کسی نے ان سے بدعتی اور وہابی کے معنی پوچھے تو عجیب تفسیر کی، فرمایا : بدعتی کے معنی ہیں باداب، بے ایمان اور وہابی کے معنی ہیں بے ادب باایمان ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 2ص 326)

دیوبندی وہابیوں کے منظور مضرور مناظر اعظم مدیر الفرقان کہتے ہیں : ہم خود اپنے بارے میں بڑی صفائی سے عرض کرتے ہیں کہ ہم بڑے سخت وہابی ہیں ۔ (سوانح مولانا محمد یوسف کاندھلوی تبلیغی وہابی ص 192)

مولوی محمد ذکریا امیر تبلیغی جماعت کہتے ہیں : مولوی صاحب! میں خود تم سے بڑا وہابی ہوں ۔ (سوانح مولانا محمد یوسف تبلیغی وہابی صفحہ 193)

فقیر انہی چند حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہے ، ورنہ بحمدہ تعالیٰ ایسے بیسیوں حوالے مزید پیش کئے جاسکتے ہیں ۔

ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ وہابی دیوبندی اکابر اپنے آپ کو فخریہ وہابی کہتے ہیں اور اسی طرح وہابی دیوبندی خود کو دیوبندی اور دیوبندی مسلک و مسلک دیوبندی کہتے اور لکھتے ہیں ۔

ملاحظہ ہوں … مکمل تاریخ دارالعلوم دیوبند جس کا مقدمہ قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے لکھا ہے ، میں صاف صاف لکھا ہے ، مسلک دیوبند ص 424و ص 428 و ص 431 و ص 476 بیسوں صفحات پر مسلک دیوبند،دیوبندی مسلک لکھا ہوا ہے ۔

کتب خانہ مجیدیہ ملتان کے شائع کردہ المہند عقائد علماء دیوبند کے مصنفہ مولوی خلیل انبیٹھوی کے صفحہ 20 صفحہ 21، صفحہ 164، صفحہ 165، صفحہ 187 پر بار بار مسلک دیوبند مسلک حق دیوبند، دیوبندی مسلک لکھا ہے۔ انجمن ارشاد المسلمین کے پاکستانی ایڈیشن حفظ الایمان کے متعدد صفحات پر دیوبندی، بریلوی، دیوبندی لکھا ہے۔ پاکستان دیوبندیوں کے مصنف اعظم مولوی سرفراز صفدر گکھڑوی نے اپنی کتاب عبارات اکابر کے صفحات 143,115,58,18,15 پر بار بار دیوبندی مسلک دیوبندی مسلک لکھا ہے ۔

مولوی منظور سنبھلی مولوی رفاقت حسین دیوبندی کی کتاب بریلی کا دلکش نظارہ کے پاکستانی ایڈیشن شائع کردہ مکتبہ مدینہ صفحہ 35، صفحہ 181وغیرہ پر متعدد صفحات پر دیوبندی بریلوی دیوبندی دیوبندی لکھا ہے ۔

مولوی خلیل بجنوری بدایونی کی کتاب انکساف حق کی پاکستانی ایڈیشن کے صفحہ 6 صفحہ 7 پر دیوبندی، بریلوی، بریلوی دیوبندی ہر دو اہلسنت لکھا ہے ۔

مولوی عارف سنبھلی ندوۃ العلماء کی کتاب بریلوی فتنہ کا نیا روپ صفحہ 121، صفحہ 124پر مسلک دیوبندی، علماء دیوبند کا مسلک لکھا ہے ۔

دیوبندیوں کے خر دماغ ذہنی مریض کذاب مصنف پروفیسر خالد محمود مانچسٹروی اپنی تردید شدہ کتاب مطالعہ بریلویت جلد اول کے صفحہ 401، صفحہ 402 پر دیوبندی مسلک دیوبندی دیوبندی لکھتا ہے ۔ اسی کتاب کی جلد 3 کے صفحہ 202 پر اہلسنت بریلوی دیوبندی لکھا ہے ۔ مطالعہ بریلویت جلد دوم صفحہ 16 پر دیوبندی بریلوی، مطالعہ بریلویت صفحہ 234 پر دیوبندی بریلوی، صفحہ 235 جلد 4 دیوبندیوں، بریلویوں دیوبندیوں جلد 4 صفحہ 237، دیوبندیوں صفحہ 238 جلد 4 دیوبندیوں بریلیوں، بار بار دیوبندیوں بریلویوں صفحہ 239، دیوبندیوں، دیوبندی بار بار دیوبندی صفحہ 240، جلد 4 دیوبندیوں صفحہ 316، اہلسنت والجماعۃ دیوبند مسلک ، دیوبندی بریلوی، صفحہ 317، دیوبندی، دیوبندیوں، دیوبندی مسلک، مسلک دیوبند وغیرہ وغیرہ، بکثرت مقامات پر دیوبندیوں نے خود کو بقلم خود دیوبندی لکھا ہے ۔

مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی الاقاضات الیومیہ جلد 5 صفحہ 220، دیوبندیوں اور بریلیوں، مولوی انور کاشمیری صدر مدرس و شیخ الحدیث مدرسہ دیوبند کتاب حیات انور صفحہ 333، مضمون وقت کی پکار نوائے وقت لاہور، 8 مارچ 1976، جماعت دیوبندی ۔

دیوبندی امیر شریعت عطاء اللہ بخاری احراری دیوبندی لکھتے ہیں… مولانا غلام اللہ خان دیوبندی بھی اہلسنت و الجماعت ہین، وہ ابن تیمیہ کے پیروکار ہیں (مکتوب بنام علامہ محمد حسن علی قادری رضوی) دیوبندی جمعیت العلماء اسلام دیوبند کے ناظم اعلیٰ مولوی غلام غوث ہزاروی دیوبندی لکھتے ہیں ۔ اہلسنت و جماعت مسلمانوں کی تمام شاخیں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث سب مسلمان ہیں ۔ (خدام الدین لاہور)

قصص الاکبر ص 205 میں تھانوی لکھتے ہیں ’’میرا مسلک شیخ الہند کا مسلک‘‘ (دیوبندی مسلک، الافاضات الیومیہ جلد 5 صفحہ 135) میرا مسلک تھانوی ۔ (اشرف السوانح جلد 3ص 153 وصفحہ 164، تھانوی مسلک ۔

ایک کتاب ’’آئینہ بریلویت‘‘ مولوی عبدالرحیم رائے پوری دیوبندی اور مولوی حسن احمد ٹانڈوی وغیرہ اکابر دیوبند کے پڑپوتے مرید مولوی عبدالرحمن شاہ عالمی مظفر گڑھ کی ہے ۔اس کے صفحہ 24، 27، 30، 34، 40، 42، 43، 45، 54، 57، 61، 63، چالیس صفحات پر بار بار دیوبندی مسلک، مسلک دیوبند، دیوبندیوں، دیوبندی اہلسنت دیوبندی لکھا ہے اور فخریہ طور پر اپنے دیوبندی ہونے کا اقرار کیا ہے ۔

ایک کتاب تسکین الاتقیاء فی حیاۃ الانبیاء مرتبہ مولوی محمد مکی دیوبندی صفحہ 79 مسلک اکابر دیوبند، صفحہ 99، اکابر دیوبند کا مسلک صفحہ 100اکابردیوبند کا مسلک، صفحہ 01 مسلک دیوبند، صفحہ 102 علماء دیوبند کا مسلک، صفحہ 103، علماء دیوبند کا مسلک، صفحہ 106، صفحہ 107 بار دیوبندی دیوبندی… اس کتاب پر پاکستان کے صف اول کے اکابردیوبند مولوی محمد یوسف بنوری شیخ الجامعہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی، مولوی شمس الحق افغانی، صدر وفاق المدرس العربیہ دیوبند، مفتی محمد حسن مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، مفتی محمد شفیع سابق مفتی دیوبند مہتمم دارالعلوم کراچی، مولوی عبدالحق دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، مولوی ظفر احمد عثمانی شیخ الحدیث دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ، مولوی محمد ادریس کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاوہر، مولوی محمد رسول خان جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور ، مولوی احمد علی امیر خدام الدین وامیر جمعیت العلماء اسلام، مولوی محمد صادق، ناظم محکمہ امور مولوی حامد میاں جامعہ مدینہ، مولوی مسعود احمد سجادہ نشین درگاہ دین پور وغیرہ اٹھارہ اکابر دیوبند کی تصدیقات ہیں۔ اس قسم کے حوالے اگر فقیر چاہے تو پچاسوں نقل کرسکتا ہے ۔ مرزا جی اپنی اوقات میں رہنا سیکھو بزرگان اہلسنت اور مسلمانان اہلسنت پر بکنا بند کرو ۔

بریلوی نیا فرقہ ہے مخالفین اہلسنت کی سازش کا مدلّل جواب : ⏬

محترم قارئینِ کرام : اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار ونظریات کی بے پناہ مقبولیت سے متاثر ہوکر مخالفین نے ان کے ہم مسلک علماء ومشائخ کو بریلوی کا نام دے دیا ، مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ دوسرے فرقوں کی طرح یہ بھی ایک نیا فرقہ ہے جو سرزمین ہند میں پیدا ہوا ہے ۔

اسی سال پہلے سب سنی حنفی بریلوی خیال کے تھے مدعی لاکھ پہ بھاری گواہی تیری

مولوی ثناء ﷲ امرتسری غیرمقلد وہابی لکھتے ہیں : اسی (80) سال پہلے قریبا سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو آج کل بریلوی حنفی کہا جاتا ہے ۔ (رسائل ثنائیہ ، شمع توحید صفحہ نمبر 163 مطبوعہ لاہور،چشتی)

معلوم ہوا وہابیت اس کے بعد کی پیداوار ہے برِّ صغیر پاک و ہند میں اور بریلویوں کے عقائد و نظریات وہی ہیں جو قدیم سنی مسلمانوں کے تھے بطور پہچان آج کل انہیں بریلوی حنفی کہا جاتا ہے حق حق ہوتا ہے ۔

غیرمقلد وہابی ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی لکھتے ہیں : یہ جماعت امام ابو حنیفہ رحمۃ ﷲ علیہ کی تقلید کی مدعی ہے ، مگر دیوبندی مقلدین (اور یہ بھی بجائے خود ایک جدید اصطلاح ہے) یعنی تعلیم یافتگانِ مدرسہ دیوبند اور ان کے اتباع انہیں'' بریلوی'' کہتے ہیں . (تراجم علمائے حدیث ہند صفحۃ نمبر 482 مطبوعہ مکتبہ اہلحدیث ٹرسٹ کورٹ روڈ کراچی)

جب کہ حقیقت حال اس سے مختلف ہے ، بریلی کے رہنے والے یا اس سے سلسلہ شاگردی یا بیعت کا تعلق رکھنے والے اپنے آپ کو بریلوی کہیں تو یہ ایسا ہی ہوگا ، جیسے کوئی اپنے آپ کو قادری، چشتی، یا نقشبندی اور سہروردی کہلائے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ خیر آبادی، بدایونی، رامپوری سلسلہ کا بھی وہی عقیدہ ہے جو علماء بریلی کا ہے، کیا ان سب حضرات کو بھی بریلوی کہا جائے گا ؟ ظاہر ہے کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اگرچہ مخالفین ان تمام حضرات کو بھی بریلوی ہی کہیں گے، اسی طرح اسلاف کے طریقے پر چلنے والے قادری، چشتی، نقشبندی، سہروردی اور رفاعی مخالفین کی نگاہ میں بریلوی ہی ہیں ۔ (ظہیر، البریلویہ، ص٧)

میں یہی کہوں گا کہ اہلسنت و جماعت کو بریلوی کہنا ہندوستانی دیوبندیوں کا طریقہ ہے ۔ (الحق المبین عربی صفحہ نمبر 3 از تاج الشریعہ حضرت علامہ محمد اختر رضا خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ)

مبلغ اسلام حضرت علامہ سیّد محمد مدنی کچھوچھوی فرماتے ہیں : غور فرمائیے کہ فاضل بریلوی کسی نئے مذہب کے بانی نہ تھے، از اوّل تا آخر مقلد رہے، ان کی ہر تحریر کتاب وسنت اور اجماع وقیاس کی صحیح ترجمان رہی، نیز سلف صالحین وائمّہ ومجتہدین کے ارشادات اور مسلکِ اسلاف کو واضح طور پر پیش کرتی رہی ، وہ زندگی کے کسی گوشے میں ایک پل کے لئے بھی ''سبیل مومنین صالحین'' سے نہیں ہٹے ۔ اب اگر ایسے کے ارشاداتِ حقانیہ اور توضیحات و تشریحات پر اعتماد کرنے والوں، انہیں سلفِ صالحین کی رَوش کے مطابق یقین کرنے والوں کو ''بریلوی'' کہہ دیا گیا تو کیا بریلویت وسنیت کو بالکل مترادف المعنی نہیں قرار دیا گیا؟ اور بریلویت کے وجود کا آغاز فاضل بریلوی کے وجود سے پہلے ہی تسلیم نہیں کرلیا گیا ؟ ۔ (سیّد محمد مدنی، شیخ الاسلام، تقدیم''دور حاضر میں بریلوی ، اہل سنت کا علامتی نشان''، مکتبہ حبیبیہ لاہور، ص١٠۔١١،چشتی)

خود مخالفین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں : یہ جماعت اپنی پیدائش اور نام کے لحاظ سے نئی ہے، لیکن افکار اور عقائد کے اعتبار سے قدیم ہے''(احسان الٰہی ظہیر، البریلویہ، ص٧)

اب اس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ بریلویت کا نام لے کر مخالفت کرنے والے دراصل ان ہی عقائد وافکار کو نشانہ بنارہے ہیں جو زمانہ قدیم سے اہل سنت وجماعت کے چلے آہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ کھلے بندوں اہل سنت کے عقائد کو مشرکانہ اور غیر اسلامی قرار دے سکیں، باب عقائد میں آپ دیکھیں گے کہ جن عقائد کو بریلوی عقائد کہہ کر مشرکانہ قرار دیا گیا ہے، وہ قرآن وحدیث اور متقدمین علمائے اہل سنت سے ثابت اور منقول ہیں، کوئی ایک ایسا عقیدہ بھی تو پیش نہیں کیا جاسکا جو بریلویوں کی ایجاد ہو، اور متقدمین ائمہ اہل سنت سے ثابت نہ ہو ۔

امام اہل سنت شاہ احمد رضا بریلوی کے القاب میں سے ایک لقب ہی عالم اہل السنۃ تھا ۔ اہل سنت وجماعت کی نمائندہ جماعت آل انڈیا سُنی کانفرنس کا رکن بننے کے لئے سُنی ہونا شرط تھا، اس کے فارم پر سُنی کی یہ تعریف درج تھی : سُنی وہ ہے جو ما انا علیہ واصحابی کا مصداق ہوسکتا ہو، یہ وہ لوگ ہیں، جو ائمہ دین، خلفاء اسلام اور مسلم مشائخ طریقت اور متاخرین علماء دین سے شیخ عبدالحق صاحب محدّث دہلوی، حضرت ملک العلماء بحر العلوم صاحب فرنگی محلی، حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی، حضرت مولانا فضل رسول صاحب بدایونی، حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب رامپوری، اعلیٰ حضرت مولانا مفتی احمد رضا خاں رحمہم ﷲ تعالیٰ کے مسلک پر ہو''۔ (مولانا محمد جلال الدین قادری، خطبات آل انڈیا سنی کانفرنس، مطبوعہ مکتبہ رضویہ لاہور، صفحہ نمبر ٨٥، ٨٦،چشتی)

خود مخالفین بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ لوگ قدیم طریقوں پر کار بند رہے، مشہور موّرخ سلیمان ندوی جن کا میلان طبع اہل حدیث کی طرف تھا، لکھتے ہیں : تیسرا فریق وہ تھا جو شدّت کے ساتھ اپنی روش پر قائم رہا اور اپنے آپ کو اہل السنۃ کہتا رہا، اس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علماء تھے ۔ (سلیمان ندوی، حیات شبلی، ص٤٦)(بحوالہ تقریب تذکرہ اکابر اہل سنت، ص٢٢)

مشہور رائٹر شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں : انہوں(امام احمد رضا بریلوی) نے نہایت شدت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی ۔ (محمد اکرام شیخ، موج کوثر، طبع ہفتم١٩٦٦ئ، ص٧٠،چشتی)

اہل حدیث کے شیخ الاسلام مولوی ثناء ﷲ امرتسری لکھتے ہیں : امرتسر میں مسلم آبادی، غیر مسلم آبادی(ہندو سکھ وغیرہ) کے مساوی ہے، اسّی سال قبل پہلے سب مسلمان اسی خیال کے تھے، جن کو بریلوی حنفی خیال کیا جاتا ہے ۔ (ثناء ﷲ امرتسری، شمع توحید، مطبوعہ سرگودھا پنجاب صفحہ ٤٠،چشتی)

یہ امر بھی سامنے رہے کہ غیر مقلدین براہ راست قرآن وحدیث سے استنباط کے قائل ہیں اور ائمّہ مجتہدین کو ا ستنادی درجہ دینے کے قائل نہیں ہیں، دیوبندی مکتب فکر رکھنے والے اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں، تاہم وہ بھی ہندوستان کی مسلم شخصیت یہاں تک کہ شاہ ولی ﷲ محدّث دہلوی اور شیخ عبدالحق محدّث دہلوی کو دیوبندیت کی ابتدا ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔

علامہ انور شاہ کشمیری کے صاحبزادے ، دارالعلوم دیوبند کے استاذ التفسیر مولوی انظر شاہ کشمیری لکھتے ہیں : میرے نزدیک دیوبندیت خالص ولی الہٰی فکر بھی نہیں اور نہ کسی خانوادہ کی لگی بندھی فکر دولت ومتاع ہے، میرا یقین ہے کہ اکابر دیوبند جن کی ابتداء میرے خیال میں سیدنا الامام مولانا قاسم صاحب رحمۃ ﷲ علیہ اور فقیہ اکبر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے ہے۔۔۔۔۔۔ دیوبندیت کی ابتدا حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ ﷲ علیہ سے کرنے کے بجائے مذکورہ بالا دو عظیم انسانوں سے کرتا ہوں ۔ (انظر شاہ کشمیری، استاذ دیوبند، ماہنامہ البلاغ ، کراچی، شمارہ مارچ ١٩٦٩ئ/١٣٨٨ھ، ص٤٨)

پھر شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے دیوبند کا تعلق قائم نہ کرنے کا ان الفاظ میں اظہار کرتے ہیں : اوّل تو اس وجہ سے کہ شیخ مرحوم تک ہماری سند ہی نہیں پہنچتی ، نیز حضرت شیخ عبدالحق کا فکر کلیۃً دیوبندیت سے جوڑ بھی نہیں کھاتا ۔۔۔۔۔۔ سنا ہے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری فرماتے تھے کہ''شامی اور شیخ عبدالحق پر بعض مسائل میں بدعت وسنت کا فرق واضح نہیں ہوسکا'' بس اسی اجمال میں ہزارہا تفصیلات ہیں، جنہیں شیخ کی تالیفات کا مطالعہ کرنے والے خوب سمجھیں گے''۔ (فٹ نوٹ ، انظر شاہ کشمیری، استاذدیوبند، ماہنامہ البلاغ ، کراچی، شمارہ مارچ ١٩٦٩ئ/١٣٨٨ھ، ص٤٩،چشتی)

تاج الشریعہ حضرت علامہ محمد اختر رضا خان صاحب ازہری سے ایک انٹرویو کے دوران جب سوال کیا گیا کہ پاکستان میں بعض لوگ اپنے آپ کو بریلوی کہتے ہیں اور بعض اپنے آپ کو دیوبندی، کیا یہ اچھی بات ہے۔ اس کے جواب میں حضور ازہری میاں نے ارشاد فرمایا کہ؛ بریلوی کوئی مسلک نہیں ۔ ہم مسلمان ہیں ، اہلسنت والجماعت ہیں ۔ ہمارا مسلک یہ ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو آخری نبی مانتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اصحاب کا ادب کرتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اہلبیت سے محبت کرتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی امت کے اولیاءاللہ سے عقیدت رکھتے ہیں ، فقہ میں امامِ اعظم ابوحنیفہ کے مقلد ہیں ۔ ہم اپنے آپ کو بریلوی نہیں کہتے ، ہمارے مخالف ہمیں بریلوی کہتے ہیں ۔ (ماہنامہ ضیائے حرم لاہور فروری 1988 صفحہ 14)

ماہرِ رضویات پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : امام احمد رضا پر ایک الزام یہ ہے کہ وہ بریلوی فرقے کے بانی ہیں ۔ اگر تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بریلوی کوئی فرقہ نہیں بلکہ سوادِ اعظم اہلسنت کے مسلکِ قدیم کو عرفِ عام میں بریلویت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ عرف بھی پاک وہند میں محدود ہے ۔ اصل میں امام احمد رضا اور اس مسلکِ قدیم کے مخالفین نے اس کے بریلویت کے نام سے یاد کیا ہے اور بقول ابو یحییٰ امام خان نوشروی "یہ نام علما دیوبند کا دیا ہوا ہے"۔ ڈاکٹرجمال الدین (جامعہ حنفیہ دہلی) نے بھی اپنے ایک تحقیقی مقالے میں یہی تحریر فرمایا ہے کہ یہ نام مخالفین کا دیا ہوا ہے ۔ (آئینہ رضویات صفحہ 300)

صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری اسے جاہلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں؛ "اہلسنت و جماعت کو بریلوی کہنا کسی طرح درست نہیں ۔ اگر آج جماعتِ اسلامی کے افراد کو مودودی پارٹی کہیئے یا مودودئیے کہنا اور تبلیغی جماعت کو الیاسی جماعت کہنا درست نہیں تو آخر ملک کے سوادِ اعظم کو بریلوی کہنا کس منطق کی رو سے درست ہے ؟ تعجب ہے کہ خود اہلسنت کے بعض اصحاب کو بھی اس کا احساس نہیں اور وہ بڑے فخر سے اپنے آپ کو بریلوی کہہ کر متعارف کراتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام بریلی یا دیوبند کی سرزمین سے نہیں پھوٹا ۔ لہٰذا اس طرح کی تراکیب و نسبتیں اپنا عالمانہ نقطہ نظر سے فریقین کےلیے ایک جاہلانہ اقدام ہے ۔ (فاضلِ بریلی اور امورِ بدعت صفحہ 69) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پ...