Tuesday, 24 July 2018

مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بحیثیت سیاستدان

مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بحیثیت سیاستدان

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کائنات کی سب سے بڑی صاحب کمالات شخصیت ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کمال کی ہر صفت عروج کے اعلیٰ ترین درجہ پر عطا ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے بڑے رسول و نبی ہیں، سب سے بڑے قانون دان ہیں ، سب سے بڑے جرنیل ہیں، سب سے اعلیٰ حکمران ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے سیاست دان بھی ہیں۔ آنحضرتؐ کی سیاسی زندگی کے مختلف اور متنوع پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر مستقل کام کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں سیرت نبویؐ کے ان پہلوؤں پر سب سے کم کام ہو رہا ہے۔ ہم نے قرآن کریم کی طرح جناب نبی اکرمؐ کی سنت و سیرت کو بھی صرف برکت و رحمت اور اجر و ثواب کے حصول کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اکرمؐ کا تذکرہ برکات و فیوض، رحمتوں اور اجر و ثواب کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن اس کا اصل مقصد راہ نمائی حاصل کرنا ہے اور اپنے مسائل و مشکلات کا حل اس میں سے تلاش کرنا ہے جس کی طرف ہماری توجہ بہت ہی کم ہے ۔ نبی کریم کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کے ہر فرد کے لیے بے مثل آئیڈیل ہیں ، جب کائنات کے بادشاہ اللہ کریم نے دین حق کی تکمیل کا فیصلہ فرمایا اورجہالت کی اندھیر نگری میں ٹھوکریں کھاتے انسانوں پر رحم فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے سب سے اطہر ,اکمل,اعلیٰ,پیارے اور لاڈلے محبوب حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا میں مبعوث فرمادیا ۔ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ایک عالمگیر انقلاب کا سنگ بنیاد تھا ۔
امام الانبیاء تاجدار حق سچ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی مبارک کا ایک ایک لمحہ بلا شبہ قرآن عظیم الشان کی مقدس تعلیمات کا پورا پورا ترجمان ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کی دینی اہمیت۔ علمی اہمیت۔ تاریخی اہمیت۔ معاشی اہمیت ۔
عصری و بین الاقوامی اہمیت۔ آئینی ودستوری اہمیت۔ ریاستی اہمیت۔ انتظامی اہمیت۔ سائنسی اہمیت۔ تہذیبی و ثقافتی اہمیت۔ نظریاتی و انقلابی اہمیت قیامت تک کے لیے لاذوال ہے ۔
سیدالمرسلین حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیت داعی اعظم۔ بحیثیت لیڈر۔ بحیثیت سیاستدان۔ بحیثیت مدبر و منتظم۔ بحیثیت سپہ سالار۔ بحیثیت ماہر نفسیات۔ بحیثیت رحمت اللعالمین۔ بحیثیت مشفق انسانیت۔ بحیثیت داعی عدل و انصاف۔ بحیثیت ذی وقار شہری۔ بحیثیت صادق امین تاجر۔ بحیثیت کامیاب ترین داعی انقلاب۔ بحیثیت اعلیٰ ترین معلم انسانیت۔ بحیثیت بے مثال مربی و مذکی۔ بحیثیت عدیم النظیر منصف و قاضی۔ بحیثیت عظیم الشان معاشرتی اسوہ کی مالک ہستی۔ بحیثیت صاحب خلق عظیم۔ بحیثیت قابل تقلید سربراہ خاندان۔ بحیثیت عظیم و خلیق شوہر۔ بحیثیت مصلح اعظم۔ بحیثیت نبی کل کائنات اللہ رب العزت کی خلافت کے بے مثل علمبردار اور اللہ رب العزت کی قدرت کا بے مثل شاہکار ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاندانی وجاہت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلسی و عوامی زندگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غیر مسلموں سے حسن سلوک۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عفودرگزر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فن حرب ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچوں سے پیار۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انداذ تربیت۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنگی قیدیوں سے حسن سلوک۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اعتدال پسندی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئیاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثل انسانیت۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیوانات پر شفقت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شگفتہ مزاجی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منافقین کے ساتھ رویہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں تاریخ انسانیت کا سب سے خوبصورت ۔ سب سے انمول ۔ سب سے پاکیزہ ۔ سب سے اعلیٰ۔ سب سے جامع ۔ سب سے سچا ۔ سب سے منفرد اور مستند ریکارڈ ہے ۔ الغرض :

جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے
تمہارا نقش کف پا دکھائی دیتا ہے
یہ سارا عالم امکان تمہارے سامنے ہے
تمہیں کہو کوئی تم سا دکھائی دیتا ہے

سیاسیات کے حوالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کا ایک حصہ وہ ہے جن میں اسلام کے سیاسی نظام کا تعارف کرایا گیا ہے، اسلامی ریاست کی بنیادوں کا تعین کیا گیا ہے اور ایک مسلم حکومت کے فرائض اور ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں۔ آنحضرتؐ کی سینکڑوں احادیث اس سلسلہ میں موجود ہیں۔ جبکہ دوسرا حصہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے ایک سیاستدان اور حاکم وقت کے طور پر سینکڑوں فیصلے کیے ہیں جن میں سے ہر فیصلہ ہمارے لیے سرمۂ بصیرت اور راہ نمائی کا سرچشمہ ہے، بشرطیکہ ہم ان فیصلوں اور واقعات کو سیاسی حکمت و تدبر کے تناظر میں دیکھیں اور ان میں اپنے دور کی مشکلات و مسائل کا حل تلاش کرنے کا ذوق ہم میں بیدار ہو جائے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کے سیاسی نظام کا تعارف بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق اس طرح کرایا ہے کہ بنی اسرائیل میں سیاست و حکومت کے فرائض حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سر انجام دیتے تھے، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ آجاتا یعنی سیاست و حکومت کی بنیاد وحی الٰہی پر ہوتی تھی، لیکن میرے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا ہے اور کوئی نیا نبی اب نہیں آئے گا۔ اس لیے میرے بعد سیاست و حکومت کا نظام خلفاء کے سپرد ہوگا۔ چنانچہ رسول اکرمؐ کے بعد خلافت کا یہ نظام قائم ہوا اور مسلمانوں کی ریاست و حکومت کی بنیاد بنا۔ اسلامی خلافت کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ملک کا نظام چلایا جائے اور امت مسلمہ کے اجتماعی امور سر انجام دیے جائیں، جیسا کہ خلفاء راشدینؓ اور ان کے بعد خلفاء کرام کرتے رہے ہیں ۔ چشتی ۔

خلافت کے بارے میں ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ خلافت کیسے قائم ہوگی اور خلیفہ کا تقرر کون کرے گا ؟ اس کے لیے میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیا کرتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اسلامی ریاست و حکومت کے سربراہ کے منصب پر فائز ہوئے تھے ۔ انہوں نے یہ منصب نہ تو طاقت کے زور پر حاصل کیا تھا اور نہ ہی بادشاہی نظام کی طرح خاندانی استحقاق کی بنیاد پر انہیں حکومت ملی تھی۔ بلکہ امت کی اجتماعی صوابدید اور عمومی مشاورت ان کے منصب خلافت کی اساس تھی ۔ اس لیے خلافت کا قیام امت کی اجتماعی صوابدید کی بنیاد پر ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت مبارکہ میں ہمیں نمائندگی کا اصول بھی ملتا ہے کہ ایک موقع پر بنو ہوازن کے قیدی واپس کرنے کے لیے جب ہزاروں افراد سے براہ راست رائے لینا مشکل نظر آیا تو آپؐ نے عرفاء کو درمیان میں ڈالا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کی رائے معلوم کر کے بتائیں تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ یعنی جناب رسول اکرمؐ نے عوام کی اجتماعی رائے ان کے نمائندوں کے ذریعے معلوم کی۔ عرفاء اور نقباء کی یہ اصطلاح قدیم سے چلی آرہی ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اس لیے عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے نمائندگی کا یہ طریقہ بھی اسلامی ریاست کی ایک اہم بنیاد بن جاتا ہے ۔

لیکن میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ اسلامی ریاست کے اس پہلو کی طرف دلانا چاہوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک فلاحی اور رفاہی ریاست کا نظام دیا جسے آج کی دنیا میں ویلفیئر سوسائٹی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ معاشرہ میں جو لوگ بوجھ تلے دبے ہیں یا بے سہارا ہیں وہ میری ذمہ داری ہیں ، یعنی ان کی کفالت بیت المال کرے گا ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظاہری دور مبارک میں اور پھر خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے دور میں بیت المال کا یہ نظام کفالت اس قدر مستحکم ہوگیا تھا کہ پورے ملک کے بے روزگاروں ، معذوروں اور بے سہارا لوگوں کی کفالت بیت المال کے ذمہ سمجھی جاتی تھی اور یہ ضروریات بطریق احسن پوری کی جاتی تھیں ۔

میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی ریاست کی بنیاد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات کے مطابق تین اصولوں پر ہے : ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی اطاعت ریاست و حکومت کی سب سے بڑی اساس ہے ۔ دوسرا یہ کہ حکومت کا قیام امت مسلمہ کی صوابدید پر عوامی مشاورت کے ذریعہ ہوگا ۔ اور تیسرا یہ کہ اسلامی حکومت نظم مملکت کو چلانے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کی اجتماعی کفالت اور تمام شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھی ذمہ دار ہے ۔ اگر ہم ان اصولوں کو سامنے رکھ کر پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کی طرف پیش رفت کریں تو قیام پاکستان کے اس مقصد کی تکمیل ہو سکتی ہے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے بعد یہ وطن عزیز وجود میں آیا تھا ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لیے جو دین بھیجا، وہ جس طرح ہماری انفرادی زندگی کا دین ہے، اسی طرح ہماری اجتماعی زندگی کا بھی دین ہے۔ جس طرح وہ عبادت کے طریقے بتاتا ہے، اسی طرح وہ سیاست کے آئین بھی سکھاتا ہے ، اور جتنا تعلق اس کا مسجد سے ہے اتنا ہی تعلق اس کا حکومت سے بھی ہے ۔ اس دین کو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا اور سکھایا بھی، اور ایک وسیع ملک کے اندر اس کو عملاً جاری و نافذ بھی کردیا ۔ اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جس طرح بحیثیت ایک مزکیِ نفوس اور ایک معلّم اخلاق کے ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے، اسی طرح بحیثیت ایک ماہرِ سیاست اور ایک مدبرِ کامل کے بھی اسوہ اور مثال ہے ۔ ،چشتی،

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکی بعثت سے پہلے عرب قوم سیاسی اعتبار سے ایک نہایت پست حال قوم تھی۔ مشہور مؤرخ علّامہ ابن خلدون نے تو اُن کو اُن کے مزاج کے اعتبار سے بھی ایک بالکل غیرسیاسی قوم قرار دیا ہے۔ ممکن ہے ہم میں سے بعض لوگوں کو اس رائے سے پورا پورا اتفاق نہ ہو، تاہم اس حقیقت سے تو کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اہلِ عرب اسلام سے پہلے اپنی پوری تاریخ میں کبھی وحدت اور مرکزیت سے آشنا نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ہمیشہ ان پر نراج اور انارکی کا تسلط رہا۔ پوری قوم جنگ جُو اور باہم نبرد آزما قبائل کا ایک مجموعہ تھی، جس کی ساری قوت و صلاحیت خانہ جنگیوں اور آپس کی لوٹ مار میں برباد ہورہی تھی۔ اتحاد، تنظیم، شعور، قومیت اور حکم و اطاعت وغیرہ جیسی چیزیں، جن پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں، ان کے اندر یکسر مفقود تھیں۔ ایک خاص بدویانہ حالت پر صدیوں تک زندگی گزارتے گزارتے ان کا مزاج نراج پسندی کے لیے اتنا پختہ ہوچکا تھا کہ ان کے اندر وحدت و مرکزیت پیدا کرنا ایک امرِمحال بن چکا تھا۔ خود قرآن نے ان کو قوما لُدا کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، جس کے معنی جھگڑالو قوم کے ہیں اور ان کی وحدت و تنظیم کے بارے میں فرمایا کہ: لَو اَنفَقتَ مَا فِی الاَرضِ جَمِیعًا مَّآ اَلَّفتَ بَینَ قُلُوبِھِم (الانفال 8:62) ’’اگر تم زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کرڈالتے جب بھی ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ نہیں سکتے تھے‘‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 23برس کی قلیل مدت میں اپنی تعلیم و تبلیغ سے اس قوم کے مختلف عناصر کو اس طرح جوڑ دیا کہ یہ پوری قوم ایک بنیانِ مرصوص بن گئی۔ یہ صرف متحد اور منظم ہی نہیں ہوگئی بلکہ اس کے اندر سے صدیوں کے پرورش پائے ہوئے اسبابِ نزاع و اختلاف بھی ایک ایک کرکے دور ہوگئے۔ یہ صرف اپنے ظاہر ہی میں متحد و مربوط نہیں ہوگئی بلکہ اپنے باطنی عقائد و نظریات میں بھی ہم آہنگ اور ہم رنگ ہوگئی۔ یہ صرف خود ہی منظم نہیں ہوگئی بلکہ اس نے پوری انسانیت کو بھی اتحاد و تنظیم کا پیغام دیا اور اس کے اندر حکم اور اطاعت دونوں چیزوں کی ایسی اعلیٰ صلاحیتیں ابھر آئیں کہ صرف استعارے کی زبان میں نہیں بلکہ واقعات کی زبان میں یہ قوم شتربانی کے مقام سے جہاں بانی کے مقام پر پہنچ گئی اور اس نے بلااستثنا دنیا کی ساری ہی قوموں کو سیاست اور جہاں بانی کا درس دیا۔
اصلاحِ معاشرہ کی بنیاد
اس تنظیم و تالیف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک بالکل اصولی اور انسانی تنظیم تھی۔ اس کے پیدا کرنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو قومی، نسلی، لسانی اور جغرافیائی تعصبات سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ قومی حوصلوں کی انگیخت سے کوئی کام لیا، نہ دُنیوی مفادات کا کوئی لالچ دلایا، نہ کسی دشمن کے ہوّے سے لوگوں کو ڈرایا۔ دنیا میں جتنے بھی چھوٹے یا بڑے مدبر اور سیاست دان گزرے ہیں، انھوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی منصوبوں کی تکمیل میں انھی محرکات سے کام لیا ہے۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتے تو یہ بات آپؐ کی قوم کے مزاج کے بالکل مطابق ہوتی، لیکن آپؐ نے نہ صرف یہ کہ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ان میں سے ہرچیز کو ایک فتنہ قرار دیا اور ہر فتنے کی خود اپنے ہاتھوں سے بیخ کنی فرمائی۔
آپؐ نے اپنی قوم کو صرف خدا کی بندگی اور اطاعت، عالم گیر انسانی اخوت، ہمہ گیر عدل و انصاف، اعلائے کلمۃ اللہ اور خوفِ آخرت کے محرکات سے جگایا۔ یہ سارے محرکات نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ تھے۔ اس وجہ سے آپؐ کی مساعی سے دنیا کی قوموں میں صرف ایک قوم کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ ایک بہترین امت ظہور میں آئی جس کی تعریف یہ بیان کی گئی: (ترجمہ) ’’تم دنیا کی بہترین امت ہو، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہو‘‘۔(آلِ عمران 3:110)
ہرقیمت پر اصولوں کی پاس داری
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اور آپؐ کے تدبر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپؐ جن اصولوں کے داعی بن کر اٹھے، اگرچہ وہ جیسا کہ مَیں نے عرض کیا: فرد، معاشرہ اور قوم کی ساری زندگی پر حاوی تھے، انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ہرگوشہ ان کے احاطے میں آتا تھا لیکن آپؐ نے اپنے کسی اصول کے معاملے میں کبھی کوئی لچک قبول نہیں کی، نہ دشمن کے مقابل میں، نہ دوست کے مقابل میں۔ آپؐ کو سخت سے سخت حالات سے سابقہ پیش آیا، ایسے سخت حالات سے کہ لوہا بھی ہوتا تو ان کے مقابل میں نرم پڑجاتا، لیکن آپؐ کی پوری زندگی گواہ ہے کہ آپؐ نے کسی سختی سے دب کر کسی اصول کے معاملے میں کوئی سمجھوتا گوارا نہیں فرمایا۔ اسی طرح آپؐ کے سامنے پیش کش بھی کی گئی اور آپؐ کو مختلف قسم کی دینی و دنیوی مصلحتیں بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی لیکن اس قسم کی تدبیریں اور کوششیں بھی آپؐ کے کسی اصول کو بدلوانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ آپؐ جب دنیا سے تشریف لے گئے تو اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپؐ کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوئی ہربات اپنی اپنی جگہ پر پتھر کی لکیر کی طرح ثابت و قائم تھی۔ دنیا کے مدبروں اور سیاست دانوں میں سے کسی ایسے مدبر اور سیاست دان کی نشان دہی آپ نہیں کرسکتے، جو اپنے دوچار اصولوں کو بھی دنیا میں برپا کرنے میں اتنا مضبوط ثابت ہوسکا ہو کہ اس کی نسبت یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ اس نے اپنے کسی اصول کے معاملے میں کمزوری نہیں دکھائی یا کوئی ٹھوکر نہیں کھائی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پورا نظامِ زندگی کھڑا کردیا، جو اپنی خصوصیات کے لحاظ سے زمانے کے مذاق اور رجحان سے اتنا بے جوڑ تھا کہ وقت کے مدبرین اور ماہرینِ سیاست اس انوکھے نظام کے پیش کرنے کے سبب سے حضورؐ کو دیوانہ کہتے تھے، لیکن حضورؐ نے اس نظامِ زندگی کو عملاً دنیا میں برپا کرکے ثابت کردیا کہ جو لوگ حضورؐ کو دیوانہ سمجھتے تھے، وہ خود دیوانے تھے۔
صرف یہی نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذاتی مفاد یا مصلحت کی خاطر اپنے کسی اصول میں کوئی ترمیم نہیں فرمائی بلکہ اپنے پیش کردہ اصولوں کے لیے بھی اپنے اصولوں کی قربانی نہیں دی۔ اصولوں کے لیے جانی اور مالی اور دوسری تمام محبوبات کی قربانی دی گئی۔ ہر طرح کے خطرات برداشت کیے گئے اور ہر طرح کے نقصانات گوارا کیے گئے، لیکن اصولوں کی ہر حال میں حفاظت کی گئی۔ اگر کوئی بات صرف کسی خاص مدت تک کے لیے تھی تو اس کا معاملہ اور تھا، اس کی مدت ختم ہوجانے کے بعد وہ ختم ہوگئی یا اس کی جگہ اس سے بہتر کسی دوسری چیز نے لے لی، لیکن باقی رہنے والی چیزیں ہرحال اور ہر قیمت پر باقی رکھی گئیں۔ آپؐ کو اپنی پوری زندگی میں یہ کہنے کی نوبت کبھی نہیں آئی کہ میں نے دعوت تو دی تھی فلاں اصول کی لیکن اب حکمتِ عملی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو چھوڑ کر اس کی جگہ پر فلاں بات بالکل اس کے خلاف اختیار کرلی جائے۔
اصولی سیاست
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اس اعتبار سے بھی دنیا کے لیے ایک نمونہ اور مثال ہے کہ آپؐ نے سیاست کو عبادت کی طرح ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔
آپؐ جانتے ہیں کہ سیاست میں وہ بہت سی چیزیں مباح بلکہ بعض حالات میں مستحسن سمجھی جاتی ہیں جو شخصی زندگی کے کردار میں مکروہ اور حرام قرار دی جاتی ہیں۔ کوئی شخص اگر اپنی کسی ذاتی غرض کے لیے جھوٹ بولے، چال بازیاں کرے، عہد شکنیاں کرے، لوگوں کو فریب دے یا ان کے حقوق غصب کرے تو اگرچہ اِس زمانے میں اقدار اور پیمانے بہت کچھ بدل چکے ہیں، تاہم اخلاق بھی ان چیزوں کو معیوب ٹھیراتا ہے اور قانون بھی ان باتوں کو جرم قرار دیتا ہے۔ لیکن اگر ایک سیاست دان اور ایک مدبر یہی سارے کام اپنی سیاسی زندگی میں اپنی قوم یا اپنے ملک کے لیے کرے تو یہ سارے کام اُس کے فضائل و کمالات میں شمار ہوتے ہیں۔ اُس کی زندگی میں بھی اُس کے اس طرح کے کارناموں پر اُس کی تعریفیں ہوتی ہیں اور مرنے کے بعد بھی انھی کمالات کی بنا پر وہ اپنی قوم کا ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ سیاست کے لیے یہی اوصاف و کمالات عرب جاہلیت میں بھی ضروری سمجھے جاتے تھے اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ جو لوگ ان باتوں میں شاطر ہوتے تھے وہی اُبھر کر قیادت کے مقام پر آتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیاسی زندگی سے دنیا کو یہ درس دیا کہ ایمان داری اور سچائی جس طرح انفرادی زندگی کی بنیادی اخلاقیات میں سے ہے، اسی طرح اجتماعی اور سیاسی زندگی کے لوازم میں سے بھی ہے، بلکہ آپؐ نے ایک عام شخص کے جھوٹ کے مقابل میں ایک صاحبِ اقتدار اور ایک بادشاہ کے جھوٹ کو کہیں زیادہ سنگین قرار دیا ہے۔ آپؐ کی پوری سیاسی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ اس سیاسی زندگی میں وہ تمام مراحل آپؐ کو پیش آئے ہیں، جن کے پیش آنے کی ایک سیاسی زندگی میں توقع کی جاسکتی ہے۔
آپؐ نے ایک طویل عرصہ نہایت مظلومیت کی حالت میں گزارا اور پھر کم و بیش اتنا ہی عرصہ آپؐ نے اقتدار اور سلطنت کا گزارا۔ اس دوران میں آپؐ کو حریفوں اور حلیفوں دونوں سے مختلف قسم کے سیاسی اور تجارتی معاہدے کرنے پڑے، دشمنوں سے متعدد جنگیں کرنی پڑیں، عہد شکنی کرنے والوں کے خلاف جوابی اقدامات کرنے پڑے، قبائل کے وفود سے معاملے کرنے پڑے، آس پاس کی حکومتوں کے وفود سے سیاسی گفتگوئیں کرنی پڑیں اور سیاسی گفتگوؤں کے لیے اپنے وفود ان کے پاس بھیجنے پڑے، بعض بیرونی طاقتوں کے خلاف فوجی اقدامات کرنے پڑے۔ یہ سارے کام آپؐ نے انجام دیے لیکن دوست اور دشمن ہر شخص کو اس بات کا اعتراف ہے کہ آپؐ نے کبھی کوئی وعدہ جھوٹا نہیں کیا، اپنی کسی بات کی غلط تاویل کرنے کی کوشش نہیں فرمائی، کوئی بات کہہ چکنے کے بعد اس سے انکار نہیں کیا، کسی معاہدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی۔ حلیفوں کا نازک سے نازک حالات میں بھی ساتھ دیا اور دشمنوں کے ساتھ بدتر سے بدتر حالات میں بھی انصاف کیا۔ اگر آپ دنیا کے مدبرین اور اہلِ سیاست کو اس کسوٹی پر جانچیں تو مَیں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو بھی آپ اس کسوٹی پر کھرا نہ پائیں گے۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ سیاست میں عبادت کی سی دیانت اور سچائی قائم رکھنے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سیاست میں کبھی کسی ناکامی کا تجربہ نہیں کرنا پڑا۔ اب آپ اس چیز کو چاہے تدبر کہیے یا حکمتِ نبوت۔
خوں ریزی سے پاک انقلاب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اور آپؐ کے تدبر کا یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ آپؐ نے عرب جیسے ملک کے ایک ایک گوشے میں امن و عدل کی حکومت قائم کردی۔ کفار و مشرکین کا زور آپؐ نے اس طرح توڑ دیا کہ فتح مکہ کے موقع پر فی الواقع انھوں نے گھٹنے ٹیک دیے، یہود کی سیاسی سازشوں کا بھی آپؐ نے خاتمہ کردیا، رومیوں کی سرکوبی کے لیے بھی آپؐ نے انتظامات فرمائے۔ یہ سارے کام آپؐ نے کرڈالے لیکن پھر بھی انسانی خون بہت کم بہا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی تاریخ بھی شہادت دیتی ہے اور آج کے واقعات بھی شہادت دے رہے ہیں کہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے انقلابات میں بھی ہزاروں لاکھوں جانیں ختم ہوجاتی ہیں اور مال و اسباب کی بربادی کا تو کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے جو انقلاب برپا ہوا، اس کی عظمت اور وسعت کے باوجود شاید اُن نفوس کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہوگی جو اس جدوجہد کے دوران میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے شہید ہوئے یا مخالف گروہ کے آدمیوں میں سے قتل ہوئے۔
پھر یہ بات بھی غایت درجہ اہمیت رکھتی ہے کہ دنیا کے معمولی معمولی انقلابات میں بھی ہزاروں لاکھوں آبروئیں فاتح فوجوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں اور مفتوحہ ملک کی سڑکیں اور گلیاں حرام کی نسلوں سے بھرجاتی ہیں۔ اِس تہذیب و تمدن کے عہد میں بھی اس صورتِ حال پر اربابِ سیاست شرمندگی اور ندامت کے اظہار کے بجائے اس کو ہرانقلاب کا ایک ناگزیر نتیجہ قرار دیتے ہیں، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں دنیا میں جو انقلاب رونما ہوا، اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کوئی ایک واقعہ بھی ہم کو ایسا نہیں ملتا کہ کسی نے کسی کے ناموس پر دست درازی کی ہو۔
دنیوی کرّوفر کے بجائے فقر و درویشی
اہلِ سیاست کے لیے طمطراق بھی سیاست کے لوازم میں سے سمجھا جاتا ہے۔ جو لوگ عوام کو ایک نظام میں پرونے اور ایک نظم قاہر کے تحت منظم کرنے کے لیے اُٹھتے ہیں وہ بہت سی باتیں اپنوں اور بے گانوں پر اپنی سطوت جمانے اور اپنی ہیبت قائم کرنے کے لیے اختیار کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ یہ ساری باتیں ان کی سیاسی زندگی کے لازمی تقاضوں میں سے ہیں۔ اگر وہ یہ باتیں نہ اختیار کریں گے تو سیاست کے جو تقاضے ہیں وہ انہیں پورا کرنے سے قاصر رہ جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے جب وہ نکلتے ہیں تو بہت سے لوگ ان کے جلو میں چلتے ہیں، جہاں وہ بیٹھتے ہیں ان کے نعرے بلند کرائے جاتے ہیں، جہاں وہ اُترتے ہیں ان کے جلوس نکالے جاتے ہیں، جلسوں میں ان کے حضور میں ایڈریس پیش کیے جاتے ہیں اور ان کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ جب وہ مزید ترقی کرجاتے ہیں تو ان کے لیے قصرو ایوان آراستہ کیے جاتے ہیں، ان کو سلامیاں دی جاتی ہیں، ان کے لیے بَرّی و بحری اور ہوائی خاص سواریوں کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ جب وہ کبھی کسی سڑک پر نکلنے والے ہوتے ہیں تو وہ سڑک دوسروں کے لیے بند کردی جاتی ہے۔
اُس زمانے میں ان چیزوں کے بغیر نہ کسی صاحبِ سیاست کا تصور دوسرے لوگ کرتے اور نہ کوئی صاحبِ سیاست ان لوازم سے الگ خود اپنا کوئی تصور کرتا، لیکن ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس اعتبار سے بھی دُنیا کے تمام اہلِ سیاست سے الگ رہے۔ جب آپؐ اپنے صحابہؓ میں چلتے تو کوشش فرماتے کہ سب کے پیچھے چلیں، مجلس میں تشریف رکھتے تو اس طرح گھل مل کر بیٹھتے کہ یہ امتیاز کرنا مشکل ہوتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ کھانا کھانے کے لیے بیٹھتے تو دوزانو ہوکر بیٹھتے اور فرماتے کہ میں اپنے رب کا غلام ہوں اور جس طرح ایک غلام کھانا کھاتا ہے، اس طرح مَیں بھی کھانا کھاتا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک بدو اپنے اس تصور کی بنا پر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اُس کے ذہن میں رہا ہوگا، سامنے آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کانپ گیا۔ آپؐ نے اُس کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ڈرو نہیں، میری ماں بھی سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی، یعنی جس طرح تم نے اپنی ماں کو بدویانہ زندگی میں سوکھا گوشت کھاتے دیکھا ہوگا، اس طرح کا سوکھا گوشت کھانے والی ایک ماں کا بیٹا مَیں بھی ہوں۔ نہ آپؐ کے لیے کوئی خاص سواری تھی، نہ کوئی خاص قصر و ایوان تھا، نہ کوئی خاص باڈی گارڈ تھا۔ آپؐ جو لباس دن میں پہنتے، اس میں شب میں استراحت فرماتے اور صبح کو وہی لباس پہنے ہوئے ملکی اور غیرملکی وفود اور سفرا سے مسجد نبویؐ کے فرش پر ملاقاتیں فرماتے اور تمام اہم سیاسی امور کے فیصلے فرماتے۔
یہ خیال نہ فرمایئے کہ اُس زمانے کی بدویانہ زندگی میں سیاست اس طمطراق اور ٹھاٹ باٹ سے آشنا نہیں ہوئی تھی، جس طمطراق اور جس ٹھاٹ باٹ کی وہ اب عادی ہوگئی ہے۔ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ سیاست اور اہلِ سیاست کی تو آشا ہی ہمیشہ سے یہی رہی ہے۔ فرق اگر ہوا ہے تو محض بعض ظاہری باتوں میں ہوا ہے۔ البتہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئے طرز کی سیاسی زندگی کا نمونہ دنیا کے سامنے رکھا، جس میں دنیوی کرّوفر کے بجائے خلافتِ الٰہی کا جلال اور ظاہری ٹھاٹ باٹ کی جگہ خدمت اور محبت کا جمال تھا، لیکن اس سادگی اور اس فقر و درویشی کے باوجود اس کے دبدبے اور اس کے شکوہ کا یہ عالم تھا کہ روم و شام کے بادشاہوں پر اس کے تصور سے لرزہ طاری ہوتا تھا۔
اہل اور تربیت یافتہ رفقا کی تیاری
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اور آپؐ کے تدبر کا ایک اور پہلو بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ آپؐ نے اپنی حیاتِ مبارک ہی میں ایسے لوگوں کی ایک بہت بڑی جماعت بھی تربیت کرکے تیار کردی جو آپؐ کے پیدا کردہ انقلاب کو اس کے اصلی مزاج کے مطابق آگے بڑھانے، اس کو مستحکم کرنے اور اجتماعی و سیاسی زندگی میں اس کے تمام مقتضیات کو بروئے کار لانے کے لیے پوری طرح اہل تھے۔ چنانچہ اس تاریخی حقیقت سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس انقلاب نے عرب سے نکل کر آس پاس کے دوسرے ممالک میں قدم رکھ دیا اور دیکھتے دیکھتے اس کرۂ ارض کے تین براعظموں میں اس نے اپنی جڑیں جمالیں اور اس کی اس وسعت کے باوجود اس کی قیادت کے لیے موزوں اشخاص و رجال کی کمی نہیں محسوس ہوئی۔ میں نے جن تین براعظموں کی طرف اشارہ کیا ہے، ان کے متعلق یہ حقیقت بھی ہرشخص جانتا ہے کہ ان کے اندر وحشی قبائل آباد نہیں تھے بلکہ وقت کی جبار و قہار سلطنتیں نہایت ترقی یافتہ تھیں، لیکن اسلامی انقلاب کی فوجوں نے جزیرۂ عرب سے اٹھ کر اُن کو اُن کی جڑوں سے اس طرح اکھاڑ پھینکا گویا زمین میں اُن کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی اور اُن کے ظلم و جَور کی جگہ ہرگوشے میں اسلامی تہذیب و تمدن کی برکتیں پھیلا دیں جن سے دنیا صدیوں تک متمتع ہوتی رہی۔
دنیا کے تمام مدبرین اور اہلِ سیاست کی پوری فہرست پر نگاہ ڈال کر غور کیجیے کہ ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر آتا ہے جس نے اپنے دوچار ساتھی بھی ایسے بنانے میں کامیابی حاصل کی ہو جو اس کے فکر و فلسفہ اور اس کی سیاست کے ان معنوں میں عالم اور عامل رہے ہوں، جن معنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے عالم و عامل ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔
نبیِ خاتم اور پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
آخر میں ایک بات بطور تنبیہ عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصلی مرتبہ اور مقام یہ ہے کہ آپ نبیِ خاتم اور پیغمبرِعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔ سیاست اور تدبر اس مرتبۂ بلند کا ایک ادنیٰ شعبہ ہے ۔ جس طرح ایک حکمران کی زندگی پر ایک تحصیل دار کی زندگی کے زاویے سے غور کرنا ایک بالکل ناموزوں بات ہے، اس سے زیادہ ناموزوں بات شاید یہ ہے کہ ہم سیّدکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر ایک ماہرِ سیاست یا ایک مدبر کی زندگی کی حیثیت سے غور کریں ۔
نبوت و رسالت ایک عظیم عطیۂ الٰہی ہے ۔ جب یہ عطیہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو بخشتا ہے تو وہ سب کچھ اس کو بخش دیتا ہے، جو اس دنیا میں بخشا جاسکتا ہے ۔ پھر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو صرف نبی ہی نہیں تھے بلکہ خاتم الانبیا علیہم السلام ہیں ۔ صرف رسول ہی نہیں تھے بلکہ سیّدالمرسلین علیہم السلام ہیں ۔ صرف اہلِ عرب ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور آپؐ کی تعلیم و ہدایت صرف کسی خاص مدت تک ہی کے لیے نہیں تھی بلکہ ہمیشہ باقی رہنے والی تھی۔ اور یہ بھی ہرشخص جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی دینِ رہبانیت کے داعی بن کر نہیں آئے، بلکہ ایک ایسے دین کے داعی تھے جو روح اور جسم دونوں پر حاوی اور دنیا و آخرت دونوں کی حسنات کا ضامن تھا، جس میں عبادت کے ساتھ سیاست اور درویشی کے ساتھ حکمرانی کا جوڑ محض اتفاق سے نہیں پیدا ہوگیا تھا بلکہ یہ عین اس کی فطرت کا تقاضا تھا۔ جب صورتِ حال یہ ہے تو ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سیاست دان اور مدبر اور کون ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ چیز آپؐ کا اصلی کمال نہیں بلکہ جیسا کہ مَیں نے عرض کیا آپؐ کے فضائل و کمالات کا محض ایک ادنیٰ شعبہ ہے ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 22 July 2018

مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کا خلق عظیم حصہ سوم

مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کا خلق عظیم حصہ سوم

زید بن سعنہ نامی یہودی آقا علیہ السلام کو دیئے گئے قرض کی قبل از وقت واپسی کا مطالبہ لے کر حاضر ہوا ۔ اس وقت قرض کی ادائیگی کا اہتمام آقا علیہ السلام کے پاس نہ تھا لیکن وہ یہودی مزید مہلت دینے کے لئے تیار نہ ہوا ۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ تم بیٹھ جاؤ میں تمہارے پاس ہی بیٹھا رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ تمہارے قرض کی واپسی کا سامان پیدا نہ فرمادے۔ نماز ظہر کا وقت تھا، اس دن کی ظہر سے لے کر اگلے دن کی فجر تک پانچ نمازوں کا وقت آقا صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم صرف اس کی تالیف قلب اور اطمینان کے لئے گھر نہ گئے، نہ آرام فرمایا، اس کے پاس بیٹھے رہے تاکہ اس کو یہ وہم نہ ہوکہ مجھے چھوڑ کر جارہے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کو طعن و تشنیع کرنے لگے اور برا بھلا کہنے لگے کہ اس نے کل سے آقا علیہ السلام کو روک رکھا ہے اور انہیں تکلیف میں مبتلا کیا ہے۔ اس پر آقا علیہ السلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا خبردار میرے رب نے مجھے کسی غیر مسلم پر ظلم کرنے اور زیادتی کرنے سے منع کررکھا ہے۔ اس نے زیادتی کی ہے تو کوئی بات نہیں، میرا اخلاق اور میرا منصب اجازت نہیں دیتا کہ میں اس سے بداخلاقی کروں ۔ اس نے آقا صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے جب یہ کلمات سنے اور آپ کا حسن اخلاق اور طرزِ عمل دیکھا تو اسی وقت کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگیا اور کہا باخدا میں نے جو آپ کے ساتھ سلوک کیا اس کا ایک سبب تھا۔ میں یہودی ہوں، میں نے تورات میں پڑھ رکھا تھا کہ نبی آخرالزماں تشریف لائیں گے۔ ان کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا۔ ان کا مولد شہر مکہ ہوگا، ان کی ہجرت گاہ شہر مدینہ ہوگی۔ ان کی حکومت ملک شام کی حدوں تک پھیل جائے گی۔ ان کا کردار یہ ہوگا کہ نہ تو ان کی زبان میں ترشی ہوگی، نہ ان کے دل میں سختی ہوگی، نہ ان کی گفتگو میں کوئی سختی ہوگی، نہ فحش گو ہوں گے، نہ بے ہودہ بات کریں گے، نہ کسی کی زیادتی کا جواب زیادتی سے دیں گے۔ میں نے چونکہ تورات میں یہ اوصاف پڑھے تھے لہذا اس پڑھی ہوئی روایت کا امتحان لینے آیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہی محمد بن عبداللہ اور وہی رسول آخرالزماں ہیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتحان لوں۔ میں نے آپ کو سچا پایا ۔ (مشکوٰة المصابيح، 3 : 268، 5832)

نوٹ : اس پیراگراف کے تمام حوالہ جات نمبرز کے حساب سے آخر میں دیے گے ہیں : ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ جو رویہ اختیار کرتاہے اسے اخلاق کہاجاتاہے ۔ یہ رویہ پسندیدہ اور شریفانہ ہے تو اسے حسنِ اخلاق کہاجائے گا۔ اگر نا پسندیدہ اور غیر مہذب ہے تو اسے بداخلاقی کہاجائے گا۔ اخلاق کا پوری زندگی پر اثر پڑتاہے۔ اس کی اہمیت کے مختلف پہلوہیں۔ قرآن وحدیث میں ان کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اعلیٰ اخلاق و کردار کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور اہل ایمان کو ان پر عمل کی ترغیب دی گئی ہے اور بتایاگیاہے کہ مومن انتہائی مہذب اور شائستہ ہوتاہے، دیانت دار اور امانت دار ہوتا ہے،کذب بیانی اور دروغ گوئی سے اس کی زبان آلودہ نہیں ہوتی۔ وہ کسی کے ساتھ مکر و فریب اور دغابازی نہیں کرتا،متوضع اور خاک سار ہوتاہے، نخوت اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرتا، چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے احترام سے پیش آتاہے، مظلوموں کی داد رسی کرتاہے۔ بیوی، بچوں، قرابت داروں اور پڑوسیوں کے حقوق اداکرتاہے۔اس طرح کی اخلاقی خوبیاں ایک مومن کی پہچان ہیں۔ ان کے بغیر ایک مومن صادق کا تصورنہیں کیاجاسکتا۔ رسول اللہ ﷺ اعلی اخلاق کے پیکر قرآن مجید نے جن اعلی اخلاقی اوصاف کا ذکر کیاہے، رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس کا عملی نمونہ تھی۔حضرت عائشہؓسے ہشام بن عامر نے درخواست کی کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے جواب دیا:کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کیا کہ ہاں پڑھتاہوں۔ فرمایا:ان خلق نبی اللہ کان القرآن۔ ۱؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عین قرآن تھے۔ جن اعلی اخلاق کا قرآن میں ذکر ہے وہی رسول اللہ ﷺ کے اخلاق تھے۔ آپ کی زندگی ان کا عملی نمونہ تھی یہی بات ایک اور حدیث میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ کان خلقہ القرآن۔ ۲؎ آپ کے اخلاق مکمل قرآن تھے۔ حسن خلق کی فضیلت حسن خلق کی فضیلت میں بکثرت احادیث مروی ہیں۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان المومن لیدرک بحسن خلقہ درجۃ قائم الیل وصائم النھار ۳؎ ’’بے شک مومن اپنے حسن اخلاق کے ذریعہ وہ مقام حاصل کرلیتاہے جو قائم اللیل اور صائم النہار کا ہے‘‘۔ ’قائم اللیل‘ اس شخص کو کہاجاتاہے جو اپنی رات نماز تہجد میں گزارے،صائم النہار‘وہ جو دن میں مستقل روزے رکھے۔ یہاں نفل نماز اور روزوں کا ذکر ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حسنِ اخلاق بڑی سے بڑی نفل عبادات کے برابر ہے۔ حسن کلام اللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے جن اہم باتوں کا عہد لیاتھا ان میں ایک یہ تھی: وقولوا للناس حسنا (البقرہ:۸۳) ’’لوگوں سے اچھی طرح بات کہو‘‘۔ اس سے حسن کلام کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ مخاطب کو اپنے سے قریب کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس میں نرمی، محبت، تہذیب و شائستگی جیسی خوبیاں شامل ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ فلاں عورت کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ کثرت سے نماز پڑھتی اور روزے رکھتی ہے۔ صدقہ و خیرات بھی کرتی ہے، لیکن (بدخلق ہے) اپنی زبان سے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی رہتی ہے۔ آپ نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گی۔ اس شخص نے کہا اے اللہ کے رسول اللہﷺ ایک دوسری عورت ہے۔ کہاجاتاہے کہ اس کے ہاں (نفل) نمازوں اور روزوں کا زیادہ اہتمام نہیں ہے۔ تھوڑا صدقہ پنیر جیسی چیز کا کردیتی ہے۔ لیکن (پڑوسیوں سے اس کا رویہ اچھاہے)اپنی زبان سے انہیں تکلیف نہیں دیتی۔ آپ نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔ ۴؎ حدیث میں زبان کوقابو میں رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حضرت سہل بن سعدؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من یضمن لی مابین لحییہ ومابین رجلیہ أضمن لہ الجنۃ۔ ۵؎ ’’جوکوئی مجھے ضمانت دے اس چیز کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان(زبان) ہے اور اس چیز کی جو اس کے دو پیروں کے درمیان(شرم گاہ) ہے تومیں اسے جنت کی ضمانت دیتاہوں۔ ‘‘ رسول اللہ ﷺ نے زبان او رعفت و عصمت کی حفاظت پر جنت کی ضمانت دی ہے۔ اس سے بڑی ضمانت اور کس کی ہوسکتی ہے؟ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا خوف ہے؟آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا اس سے۔ ۶؎ یہ درحقیقت زبان کے استعمال میں انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت ہے۔ زبان کی حفاظت اسی وقت ہوگی جب کہ آدمی اذیت رسانی، لاف زنی، لایعنی، لغو اور بے دینی کی باتیں جیسی خرابیوں سے اسے محفوظ رکھے۔ غصہ سے اجتناب قرآن مجید میں اہل ایمان کے بارے میں ایک جگہ فرمایا وہ زمین و آسمان جیسی وسعت والی جنت کے مستحق ہوں گے۔ ان کی جو خوبیاں بیان ہوئی ہیں ان میں یہ تین خوبیاں بھی ہیں۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِب ُّالْمُحْسِنِیْنَ (آل عمران:۱۳۴) ’’وہ غصہ کو پی جاتے ہیں، لوگوں کی زیادتی کو معاف کرتے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتاہے‘‘۔ جب کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے یا اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو وہ بے قابو ہوجاتاہے اور غیظ و غضب کا مظاہرہ کرنے لگتاہے۔ لیکن اہل ایمان کی خوبی یہ ہے کہ کوئی اپنے قول و فعل سے ان کو اذیت پہنچاتاہے، بدزبانی کرتاہے یا ان پر دست درازی کرتاہے تو فطری طور پر انہیں تکلیف تو ہوتی ہے اور غصہ بھی آتاہے لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ غصہ کا تلخ گھونٹ پی جاتے ہیں،۔ یہی نہیں بلکہ اس سے آگے وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ غصہ نہ ہونا اور تحمل و برداشت سے کام لینا بڑی خوبی ہے۔ اس سے بڑی خوبی یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے کو معاف کودیاجائے۔ اس سے اونچا مقام یہ ہے کہ اس کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کیاجائے۔ اس کی مدد کی جائے جو فائدہ پہنچایاجاسکتاہے پہنچایا جائے۔ حدیث میں کہا گیاہے کہ انسان کی اصل جرأت و شجاعت مادی نہیں اخلاقی ہے۔ حضرت ابوھریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لیس الشدید بالصرعۃ انما الشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب۔ ۷؎ ’’طاقت ور (پہلوان) وہ نہیں ہے جو (مقابل کو)پچھاڑدے بلکہ طاقت ور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے‘‘۔ غصہ پر قابو پانا اللہ تعالی کو بہت محبوب عمل ہے۔ اس سے وہ بے حد خوش ہوتاہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ماتجرع عبدافضل عنداللہ من جرعۃ غیظ یکظمھا ابتغاء وجہ اللہ تعالی۔۸؎ ’’بندے نے ایسا کوئی گھونٹ نہیں پیا جو اللہ کے نزدیک اس گھونٹ سے افضل اور برتر ہو جو اس نے اللہ کی رضا کی طلب میں غصہ کو فرو کرکے نوش کیا‘‘۔ بعض جامع احادیث بعض احادیث بڑی جامع ہیں۔ ان میں سے ہر حدیث میں ایک سے زیادہ اعلیٰ اخلاق اور ان کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ اس طرح کی چند حدیثیں یہاں پیش کی جارہی ہیں۔ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: من ترک الکذب، وھو باطل۔ بنی لہ فی ربض الجنۃ ومن ترک المراء وھو محق بنی لہ فی وسط الجنۃ ومن حسن خلقہ بنی لہ فی اعلاھا۔۹ ’’جو کذب بیانی ترک کردے۔ اس لیے کہ جھوٹ بہرحال باطل عمل ہے، اس کے لیے جنت کے کنارے مکان بنایاجائے گا۔ جو حق پر ہونے کے باوجود نزاع اور جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے وسط میں مکان بنایاجائے گا اور جس کے اخلاق اچھے ہوں اس کے لیے جنت کے بلند ترین مقام پر مکان بنایاجائے گا۔‘‘ ایک اور حدیث میں یہی بات اس طرح بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابو امامہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انا زعیم ببیت فی ربض الجنۃ لمن ترک المراء وان کان محقا وببیت فی وسط الجنۃ لمن ترک الکذب وان کان مازحا و ببیت فی اعلیٰ الجنۃ لمن حسن خلقہ ۱۰؎ ’’میں ضامن ہوں جنت کے احاطہ میں مکان کا اس شخص کے لیے جو جھگڑا ترک کردے چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو۔ میں ضامن ہوں جنت کے وسط میں مکان کا جو جھوٹ چھوڑدے، چاہے وہ مذاق ہی کیوں نہ کررہاہو۔ اور میں ضمانت دیتاہوں جنت کے سب سے اونچے مقام پر مکان کی جو اپنا اخلاق بہتر کرلے۔‘‘ ان دونوں حدیثوں میں تھوڑا سافرق ہے کہ کس شخص کو جنت کا ابتدائی درجہ حاصل ہوگا اور کون وسط ِجنت کا مستحق ہوگا۔ یہ راوی کے بیان کا فرق بھی ہوسکتاہے۔ اس سے قطع نظر یہ بات مشترک ہے کہ جس شخص کا دامن دروغ گوئی سے پاک ہو اور جو نزاع اور فساد سے دور رہے وہ جنت کا حق دار ہوگا۔ آدمی کا جب کسی سے تنازعہ ہوتاہے تو خود کو برحق ثابت کرنے کے لیے وہ کذب بیانی سے کام لیتاہے۔کذب بیانی بہر حال غلط ہے۔اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔مذاق میں بھی اس سے بچنا چاہیے۔ جو شخص جھگڑے اور فساد سے دامن کش رہے اور اس کے لیے اپنا حق چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہوجائے وہ نقصان اٹھاکر معاشرہ کو بگاڑسے بچاتاہے۔اس سے آگے جس کی زندگی حسن اخلاق سے آراستہ ہو اور جو ہر قدم پر اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دے اس کا مقام سب سے آگے ہے۔ جس کسی میں یہ تمام خوبیاں یا ان میں سے ایک خوبی بھی ہوتو رسول ﷺ نے اس کے لیے جنت کی ضمانت لی ہے۔ اس سے بڑی ضمانت اور کس کی ہوسکتی ہے؟ حضرت عبادہ بن صامتؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أضمنوا لی ستاً من أنفسکم أضمن لکم الجنۃ۔ أصدقوا إذا حدثتم، واوفوا إذا وعدتم، وأدوا إذا ائتمنتم، واحفظوا فروجکم، وغضوا أبصارکم وکفوا أیدیکم۔ ۱۱ ’’تم اپنی طرف سے مجھے چھ باتوں کی ضمانت دو۔ میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتاہوں۔ جب بولو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب تمہارے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اسے ادا کردو۔ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرواور اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔‘‘ یہ وہ اخلاقی خوبیاں ہیں جن سے انسان جنت کا مستحق ہوتاہے۔ یہاں ان کی تھوڑی سی تفصیل پیش کی جارہی ہے۔ ۱۔ ’بولوتو سچ بولو‘صداقت اور راست بازی تمہاری پہچان ہو۔دروغ گوئی سے تمہاری زبان کبھی آلودہ نہ ہو۔بخاری اور مسلم کی روایت ہے۔ حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں بھی یہ روایت موجود ہے کہ صداقت کی پابندی سے اللہ تعالی کے ہاں انسان’ صدّیق ‘ یاصادق القول قرار پاتاہے اور مستقل کذب بیانی سے اسے ’کذّاب‘ بڑا دروغ گو کا لقب دیاجاتاہے۔اسی لحاظ سے ان کا انجام بھی ہوگا۔حضرت عبداللہ بن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علیکم بالصدق فان الصدق یھدی إلی البر، وإن البر یھدی إلی الجنۃ، وما یزال الرجل یصدق ویتحری الصدق حتی یکتب عنداللہ صدیقا وإیاکم والکذب فإن الکذب یھدی الی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار وما زال الرجل یکذب ویتحری الکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا۔ ۱۲ ’’سچائی کو اپنے اوپر لازم کرلو، اس لیے کہ سچائی نیکی کی راہ دکھاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ بندہ سچ بولتاہے اور اس کے لیے سخت محنت کرتاہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے ’صدّیق‘لکھ دیاجاتاہے۔ تم جھوٹ سے بچو، کیوں کہ جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتاہے اور فسق و فجور جہنم تک پہنچاتاہے۔ بندہ مستقل جھوٹ بولتاہے اور جھوٹ ہی کے لیے سعی و جہد کرتارہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے ’کذّاب‘ لکھ دیاجاتاہے۔‘‘ ۲۔وعدہ کرو تو پورا کر اور تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے اداکردو۔ یہ دونوں خوبیاں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ قرآن نے اہل ایمان کے اوصاف میں ان کا ایک ساتھ ذکر کیاہے۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِأَمَانَاتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُون (المعارج:۳۲ ) ’’جو اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ‘‘ امانت کئی طرح کی ہوتی ہے۔ راز کی بات بھی امانت ہے۔ مال کی امانت بھی ہوتی ہے۔ بیوی بچے کسی کی نگرانی میں ہوں تو وہ بھی امانت ہے۔ عہدہ و منصب اور حکومت بھی امانت ہے۔ اگر آدمی کو یہ اطمینان ہوکہ اس کی امانت محفوظ ہے، اس میں خیانت نہ ہوگی تو وہ سکون کے ساتھ عرصۂ حیات میں اپنی تگ و دو جاری رکھ سکتا اور ترقی کرسکتاہے۔ اسی طرح آدمی کا یہ اطمینان کہ اس کے ساتھ وعدہ خلافی نہ ہوگی، جو عہد و پیمان ہواہے وہ لازما پورا ہوگا تو وہ بے خوف و خطر معاملہ کرسکتا اور آگے بڑھ سکتاہے۔ اس سے پورے معاشرے میں امن و سکون کا ماحول ہوگااور ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ ۳۔اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو اور اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔ حفاظت اس چیز کی کی جاتی ہے جو بہت قیمتی ہو اور اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ عفت و عصمت بڑاگراں بہا اخلاقی سرمایہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن نے اہل ایمان کی ایک سے زیادہ مقام پر ستائش کی ہے: وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُومِیْنَ فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْعَادُون (المومنون:۵،۷۔المعارج:۲۹،۳۰) ’’جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے یا اپنی باندیوں کے (کسی اور ذریعہ سے اپنی خواہش پوری نہیں کرتے)اس پر ان کی ملامت نہیں ہے۔ ہاں جو اس کے علاوہ کسی اور کا خواہش مند ہو تو یہی لوگ اپنی حد سے نکلنے والے ہیں۔ ‘‘ مطلب یہ کہ اللہ کے نیک بندے اپنی عفت و عصمت کی نگہداشت کرتے ہیں کہ کہیں یہ آبگینہ ٹوٹ نہ جائے۔ وہ اپنے جنسی جذبہ کو ختم کرکے ترک دنیا اور رہبانیت کی راہ نہیں اختیار کرتے، بلکہ جائز حدود میں اس کو پورا کرتے ہیں۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیاجاسکتا۔ عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کی نگاہیں بھٹکنے نہ پائیں۔ نگاہ کی آوارگی سے قلب آلودئہ معصیت ہوتاہے۔ اس سے زنا اور بدکاری کی راہیں کھلتی ہیں۔ اس وجہ سے قرآن نے غضّ ِبصر اور عفت و عصمت کی حفاظت کا ایک ساتھ حکم دیاہے۔ قُل ْلِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَلِکَ أَزْکَی لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ (النور:۳۰، ۳۱) ’’اے پیغمبر!مومنوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور بے شک اللہ جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کی خبر رکھتاہے۔مومنات سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ ‘‘ اس سے عفت اور پاک دامنی کے لیے غضّ بصر کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ۶۔’اپنے ہاتھ روکے رکھو‘ اللہ نے طاقت دی ہے اور زورِ بازو عطاکیاہے تو کسی پر دست درازی نہ کرو۔ تمہارا وجود دنیا سے ظلم و جور مٹانے کے لیے ہے، تمہارے ہاتھ کبھی ظلم سے آلودہ نہ ہوں۔ مظلوم کی حمایت میں کمر بستہ رہو اور ظالم کو چیرہ دستی سے باز رکھو۔ حضرت ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں کہ ایک بار میں اپنے غلام کو مار رہاتھا۔ پیچھے سے آواز آئی :ابومسعود!جان لو! تمہیں اس غلام پر جتنی قدرت حاصل ہے اللہ تعالی اس سے زیادہ تم پر قدرت رکھتاہے۔ پلٹ کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تھی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول(ﷺ)اب یہ غلام آزاد ہے۔ اللہ مجھ سے خوش ہوجائے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم یہ اقدام نہ کرتے تو جہنم کی آگ کی لپیٹ میں آجاتے۔ ۱۳؎ یہ ان اخلاق عالیہ کی ایک جھلک ہے جن کی قرآن و حدیث میں تعلیم دی گئی ہے۔دعاہے کہ ہماری زندگیاں ان سے آراستہ ہوں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ان پر جو بشارتیں دی ہیں ان کے حق دار ہوں۔ حواشی ۱۔ مسلم کتاب صلوۃ المسافرین و قصرھا، باب جامع صلوۃ اللیل الخ۔ حدیث نمبر:۷۴۶) ۲۔مسند احمد:۷؍۳۹ حدیث نمبر۲۵۲۸۵) ۳۔ابودائود کتاب الادب، باب حسن الخلق۔ ۴۔ مشکوۃ، کتاب الآداب، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق بحوالہ احمد، بیہقی) ۵۔ رواہ الترمذی، مشکوۃ حدیث نمبر ۴۸۶۲ ۶۔بخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان۔ حدیث نمبر:۶۴۷۴ ۷۔ بخاری کتاب الادب، باب الحذر من الغضب۔ مسلم کتاب البر والصلۃ، باب فضل من یملک نفسہ عندالغضب ۸۔ مسند احمد ۲؍۱۲۸، حدیث نمبر:۶۰۸۱ ۹۔ترمذی، ابواب البر والصلۃ۔باب ماجاء فی المراء، حدیث نمبر:۱۹۹۳ ۱۰۔ ابو دائود، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق۔ حدیث نمبر۴۸۰۰) ۱۱۔ مسند احمد:ج ۲؍۲۸۴، حدیث نمبر ۶۰۸۱۔ ورواہ ابن ابی الدنیا وابن حبان فی صحیحہ والحاکم والبیھقی وقال الحاکم صحیح الاسناد۔ اس کی سند میں کسی قدر سقم ہے۔ اس کے راوی مطلب بن عبداللہ کا حضرت عبادہؓ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ ملا علی قاری مرقاۃ المفاتیح:۸؍۶۰۷۔ اس میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان کی صحت قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ ۱۲۔ بخاری، کتاب الادب، باب قول اللہ تعالیٰ یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین۔ مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب قبح الکذب وحسن الصدق و فضلہ،حدیث نمبر۶۶۳۹۔ ۱۳۔ مسلم، کتاب الأیمان، حدیث نمبر:۴۳۰۸)(الحمد للہ مضمون مکمل ہوا)(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کا خلق عظیم حصہ دوم

مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کا خلق عظیم حصہ دوم

نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے ہمیں حلم، بردباری، تحمل، عفو و درگزر اور صبر و استقلال کی تعلیم دی۔ ان رویوں سے انفرادی و اجتماعی سطح پر سوسائٹی میں تحمل و برداشت جنم لیتا ہے۔ اسی تحمل و برداشت کے ذریعے سوسائٹی کے اندر Moderation اعتدال و توازن آتا ہے۔ یہ رویہ انسانوں اور معاشروں کو پرامن بناتا اور انتہا پسندی سے روکتا ہے۔ ایسا معاشرہ ہی عالم انسانیت کے لئے خیر اور فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ وہی معاشرے مستحکم، پرامن، متوازن اور ترقی یافتہ ہوتے ہیں جو اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ میں سب سے اعلیٰ ترین پہلو ایک طرف حلم، تحمل، عفو و درگزر اختیار کرنا ہے اور دوسری طرف ناپسندیدہ اور شدید مصائب و آلام کے حالات میں صبرو استقامت اختیار کرنا ہے ۔

اللہ رب العزت نے آقا علیہ السلام کو آداب و اخلاق خود سکھائے۔ ارشاد فرمایا : خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ۔ (الاعراف : 199)
ترجمہ : آپ (صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم) درگزر فرمانا اختیار کریں، اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں ۔

یعنی اگر بداعمال، بداخلاق اور ناروا سلوک کرنے والے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادتی کریں تو آپ ان سے اعراض کریں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل امین علیہ السلام سے پوچھا کہ جبرائیل علیہ السلام ! اللہ رب العزت کے اس حکم کی کیا منشاء ہے؟ اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خود کچھ نہیں کہہ سکتا جب تک میں پیغام بھیجنے والے مولا کے پاس جاکر اس کا معنی دریافت نہ کروں۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام واپس گئے۔ اللہ رب العزت سے اس آیت کریمہ کا معنی پوچھ کر واپس آئے اور عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : يامحمد (صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم) ان الله تعالیٰ يامرک ان تعفو عمن ظلمک وتعطی من حرمک وتصل من قطعک ۔ (قرطبی، تفسير قرطبی،7 : 345،چشتی)
ترجمہ : (یارسول اللہ!) اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اس شخص کوجو آپ پر زیادتی کرے، معاف فرمادیں اور جو شخص آپ کو محروم رکھے، آپ اس کو عطا فرمائیں۔ جو شخص آپ سے رشتہ منقطع کرے آپ اس سے صلہ رحمی فرمائیں ۔

یعنی اگر کوئی خونی رشتہ دار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زیادتی کرے، رشتے کو کاٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹے ہوئے خونی رشتے کو حسن اخلاق سے جوڑ دیں، سوسائٹی کا کوئی شخص اگر کسی زیادتی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے حق سے محروم کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی اپنی سخاوت کے باعث اسے عطا کرنے سے گریز نہ کریں اور اگر کوئی شخص صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے درگزر کرتے ہوئے معاف کردیں، انتقام نہ لیں ۔

قرآن مجید میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انبیاء کرام کے صبر کی مثال دیتے ہوئے اخلاق حسنہ کے اس پہلو کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا : فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ.
ترجمہ : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبر کیے جائیں جس طرح (دوسرے) عالی ہمّت پیغمبروں نے صبر کیا تھا ۔ (الاحقاف : 35)

آیئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہِ مبارکہ اور اخلاقِ حسنہ کے عملی نمونہ کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں مسلم قوم اور معاشرے کے لئے ایک واضح پیغام ہے ۔

غزوہ احد کے موقع پر آقا علیہ السلام کے دانت مبارک کا ایک کونہ شہید ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس زخمی ہوگیا، خون مبارک بہہ نکلا اور ایک وقت کے لئے بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ صحابہ کرام کے لئے یہ ناقابل برداشت لمحات اور ناقابل تصور کیفیات تھیں۔ ان لمحات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : لودعوت عليهم ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ پر ان لوگوں نے ظلم، مصائب و آلام اور جفاکاری کی انتہاء کردی ہے، اگر آپ چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لئے بددعا کریں۔ اس پر آقا علیہ السلام نے جواب دیا : انی لم ابعث لعانا ولکنی بعثت داعياً ورحمة ۔ یعنی میں اپنے اوپر ظلم اور زیادتی کرنے والوں کے لئے بد دعا نہیں کروں گا، اس لئے کہ میں لوگوں کو رحمت سے محروم کرنے والا بن کر مبعوث نہیں ہوا بلکہ میں تو خیر، فلاح اور نیکی و احسان کی طرف ایک ایسا دعوت دینے والا بن کر مبعوث ہوا ہوں کہ جو سر تاپا ہر اپنے پرائے کے لئے رحمت ہی رحمت ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دست اقدس اٹھائے اور عرض کیا : اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَايَعْلَمُوْن ۔ باری تعالیٰ میری قوم کو ہدایت دے یہ مجھے پہنچانتے نہیں ہیں ۔ (صحيح مسلم، 4 : 2006، الرقم : 2599،چشتی)
یعنی یہ لوگ میری حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔ میں ان کا کتنا ہمدرد اور خیر خواہ ہوں، اس سے یہ واقف نہیں ہیں۔ میں ان کی خیرو فلاح کا متمنی ہوں لیکن یہ اس حقیقت سے آشنا نہیں، ناسمجھ لوگ ہیں تو انہیں معاف کردے ۔

قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے الشفاء میں ایک روایت کا ذکر کیا ہے کہ اس مقام پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : بابی انت وامی یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ آپ کی عظمت، اخلاق، شفقت، رحمت اور اسوہ حسنہ پر قربان ہوجائیں۔۔۔ اپنی بے وفا و جفاکار قوم پر بھی رحمت و شفقت کے اس خوبصورت انداز پر قربان ہوجائیں۔۔۔ لقد دعا نوح علی قومه. ایسی مشکل کی گھڑیاں حضرت نوح علیہ السلام پر بھی آئی تھیں۔ جب وہ کشتی بناکر قوم کو چھوڑ کر روانہ ہوگئے تھے۔ جب قوم نوح کے آلام اور جفاکاری انتہاء پر پہنچے تو انہوں نے بھی اپنی قوم کے لئے بددعا کی، حالانکہ ان پر حملے نہ ہوئے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اقدس پر حملے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زخمی بھی ہوئے۔ نوح علیہ السلام نے عرض کیا تھا : رَّبِّ لَا تََذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰـفِرِيْنَ دَيَّارًا ۔ اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا باقی نہ چھوڑ ۔ (نوح : 26) ۔ یعنی باری تعالیٰ ان ظالموں، کافروں نے ظلم اور جفاکاری کی حد کردی ہے، اب ان پر وہ عذاب بھیج کہ کافروں میں سے ایک جان بھی زمین پر زندہ نہ بچے ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی تو بددعا کی تھی لیکن یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کی عظمت اور رحمت و شفقت پر ہم قربان جائیں۔۔۔ آپ کی عظمت، صبر و استقامت، وسعت ظرفی اور وسعت رحمت پر قربان جائیں۔۔۔ ولو دعوت علينا مثلها لهلکنا من عند آخرنا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت نوح علیہ السلام سے بھی زیادہ کڑا وقت آیا ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بددعا کردیتے تو اس دنیا کے آخری زمانے تک بھی ہماری نسلوں میں سے کوئی فرد نہ بچتا، تمام ہلاک اور تباہ و برباد ہوجاتے۔ فابيت ان تقول الاخيرا. مگر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے حق میں خیر، محبت، رحمت اور شفقت کے کلمہ کے سوا کوئی کلمہ زبان پر نہ لائے اور یہی کہتے رہے : اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْن ۔ مولا! میری اس قوم کو معاف کردے، یہ میری حقیقت، میری رحمت، میری خیر خواہی، میری شفقت اور میری عظمت کو نہیں پہچانتے، انہیں معاف کردے ۔ (کتاب الشفاء، قاضی عياض، 1 : 171،چشتی)

ہمیں آج اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ کیا تھا۔۔۔؟ ان کا اخلاق، سیرت، زندگی، طرز عمل، طرز معاشرت اور رویہ کیا تھا۔۔۔؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور غلامی کا حق ادا کرتے ہوئے ہمیں یہ کوشش کرنا ہوگی کہ آقا علیہ السلام کے طرز عمل اور اسوہِ حسنہ کا یہ عکس ہم اپنی زندگیوں میں پیدا کریں۔ اگر اس کا ہلکا سا عکس بھی ہماری زندگیوں میں آجائے تو اس ملک سے شر کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور خیر کے چشمے پھوٹ سکتے ہیں ۔ مذکورہ حدیث مبارکہ میں درج ذیل نکات توجہ طلب ہیں کہ ظلم و ستم کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت و محبت کا کتنا وسیع اظہار فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے مظالم اور مصائب پر صبر کرتے ہوئے خاموش رہتے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار نہ فرمائی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لئے بددعا بھی کرسکتے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا نہیں کی بلکہ ان کی ہدایت اور مغفرت کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف دعا ہی کردیتے کہ باری تعالیٰ انہیں معاف کردے، انہیں ہدایت دے دے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی بڑھ کر ایسا اظہار فرمایا کہ انسانی عقل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت و رحمت اور محبت کا تصور کرنے سے بھی قاصر ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف ہدایت اور مغفرت کی دعا کی بلکہ یہ کہہ کر دعا کی اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ. وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کے درپے ہیں، ان کو ان سارے مظالم کے باوجود یہ کہہ کر دعا دے رہے ہیں کہ باری تعالیٰ یہ میری قوم ہے، ان کو معاف کردے، ان کو ہدایت دے دے اور پھر کفار کی طرف سے معذرت کے اظہار کے بغیر از خود اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں : اِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْن. باری تعالیٰ انہیں اس لئے معاف کردے کہ یہ مجھے پہچانتے نہیں ہیں۔ یہ مغالطے، بدگمانی اور بدعقیدگی میں ہیں، اس لئے بد زبان و بد عمل اور بدعقیدہ ہیں۔ اگر مجھے پہچانتے تو ایسا نہ کہتے اور نہ ایسا کرتے۔ پس آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی معذرت بھی اپنی طرف سے بیان فرمارہے ہیں۔ ایسا اخلاق انسانی تاریخ میں کسی شخص میں ہوا اور نہ ہوگا۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نجد کے غزوہ سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں دوپہر کا وقت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھوڑی دیر آرام کرلیں۔ آقا علیہ السلام خود بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوگئے۔ اتنے میں غورث بن حارث نامی ایک شخص آیا اور اس نے درخت کے ساتھ لٹکتی ہوئی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار اتار لی اور پوچھا کہ : من یمنعک منی۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اب مجھ سے کون بچا سکتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استقامت، جرات اور شجاعت و بہادری کا اس لمحہ بھی یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے تین بار کہا : ’’اللہ‘‘۔ اس پر وہ کانپ اٹھا اور اس کے ہاتھوں سے تلوار گرگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تلوار اٹھالی۔ وہ کانپنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر اس کو معاف کردیا ۔ (البخاری ،الصحيح، کتاب الجهاد، باب، من علق سيفه، بالشجر فی السفر عند القائلة 3 : 1065، رقم : 2753)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن کردار، حسن اخلاق اور حسن شفقت دیکھ کر وہ شخص جب اپنے قبیلے میں واپس لوٹا تو اس نے اپنی کافرو مشرک قبیلہ سے کہا : جئتکم من عند خير الناس ۔ لوگو! سنو آج میں ایک ایسے شخص کو دیکھ کر آرہا ہوں کہ کائنات انسانی میں اس سے بہتر اخلاق و کردار کا کوئی اور شخص نہیں ہے۔ اسے خیر کی طرف، اسلام کی طرف جس چیز نے راغب کیا وہ کوئی دعوت و تبلیغ کا عمل نہ تھا، وہ کوئی توحید ورسالت اور آخرت کی دلیل نہ تھی، فقط آقا علیہ السلام کا معاف کردینا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن اخلاق اس شخص کی قلبی ہیت کے بدلنے کا باعث بن جاتا ہے ۔ (المستدرک علی الصحيحين، 3 : 31، الرقم : 1322)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ زینب نامی ایک یہودیہ خاتون نے خیبر کے دن زہر آلود گوشت بھون کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آقا علیہ السلام نے تناول فرمالیا۔ یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ آقا علیہ السلام کی خدمت میں یہودیہ خاتون نے گوشت بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تو انکار کردیتے کہ جس عورت نے بھیجا ہے وہ یہودیہ ہے، میں نہیں کھاتا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہ فرمایا۔ آج ہماری تنگ نظری اور تنگ فکری بھی ہر ایک کے سامنے ہے کہ غیر مسلم تو بڑی دور کی بات ہم دوسرے مسلک اور کسی نچلے درجے کے پیشے سے وابستہ لوگوں سے بھی تعلقات رکھنا گوارا نہیں کرتے۔ ہم نے اپنی سوچ اور اسلام کو تنگ نظر بنادیا ہے۔ اپنی طبیعت، فکر، نظریے اور اپنے مزاج کی تنگی کو ہم نے اسلام پر مسلط کردیا ہے۔ اسلام تو اتنا وسیع ہے جتنی رب العالمین کی ربوبیت وسیع ہے۔ اسلام میں تو اتنی وسعت ہے، جتنی رحمۃ للعالمین کی رحمت میں وسعت ہے۔ جس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہم کلمہ پڑھتے اور غلامی کا دم بھرتے ہیں، ان کی وسعت نظری اور وسعت فکری سے اسلام کے تشخص کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اندازہ کریں کہ خیبر میں محاذ آرائی یہودیوں سے ہے اور یہ لوگ مخالف اور محارب ہیں۔ جنگ ختم ہوجانے کے بعد ان مخالف و محارب یہودیوں میں سے ایک گھر سے زینب یہودیہ وہ گوشت بھون کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطور دعوت بھیجتی ہے۔ عام انسانی عقل یہ کہتی ہے کہ آقا علیہ السلام رد فرمادیتے کہ یہ ہمارے دشمن ہیں اور یہودی ہیں، نہ کھاتے، فرمادیتے کہ یہ ہرگز جائز نہیں ہے ۔ مگر آقا علیہ السلام کے عظیم حسن کردار، حسن اخلاق اور وسعت قلب و نظر کا عالم دیکھئے کہ یہ جانتے ہوئے کہ یہ کھانا یہودیوں کے گھر سے آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی تناول فرمایا۔ وہ زہر آلود تھا، چند لقمے کھائے تھے کہ گوشت کی بوٹیاں بول پڑیں کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ کھایئے، میرے اندر زہر ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اس خاتون کو پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا کیونکہ اب نہ صرف ارادہِ قتل تھا بلکہ فعلِ قتل تھا، جو معجزانہ طور پر ناکام ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت بشیر بن برائ رضی اللہ عنہ نے بھی وہ گوشت کھایا لیکن موقع پر شہید ہوگئے۔ آقا علیہ السلام شہید نہ ہوئے کیونکہ فرمان باری تعالیٰ والله يعصمک من الناس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی تھی۔اس عورت کو پکڑ کر لایا گیا کہ سزا دیں لیکن آقا علیہ السلام نے اس کو معاف کر دیا ۔ (اخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب المغازی، باب الشاة التی سمت النبی بخيبر، 4 : 1551، رقم : 4003،چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں آقا علیہ السلام ایک مقام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گلے میں ایک کھردری سی سخت قسم کی چادر لپیٹی ہوئی تھی۔ ایک اعرابی آیا، اسے کچھ طلب تھی۔ اس نے اپنی نادانی و جہالت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادرکو پکڑ کر اس شدت سے کھینچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن مبارک پر اس کا زخم آگیا، چادر کھینچ کر کہنے لگا! یامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں محتاج ہوں۔ میرے گھر والے بھی بھوکے ہیں، پریشان ہیں، میں دو اونٹ لایا ہوں، میرے دونوں اونٹوں کو غلے اور اناج سے بھرکر مجھے واپس بھیجئے۔ اُس کے اس اندازِ طلب کے باوجود آقا علیہ السلام کے چہرہ انور پر ملال اور رنجیدگی کے اثرات نہیں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بندے سب مال اللہ کا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں ۔ فَضَحِکَ ثُمَّ اَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ ۔ اور مسکرا پڑے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مال عطا کرنے کا حکم فرمایا ۔ (البخاری، الصحيح، کتاب الوضوء، باب صب الماء علی البول فی المسجد، 1 / 89، رقم : 219) ۔ اس کی حاجت پوری کرنے کے بعد اس سے سوال کیا کہ یہ بتا : ويقاد منک يااعرابی مافعلت بی ۔ جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا ہے؟ کیا خیال ہے اس کا بدلہ لیا جانا چاہئے یا نہیں؟ اس نے کہا : نہیں ہونا چاہئے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا : کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ اس نے کہا : لانک لا تکافی بالسيئة السيئة .(کتاب الشفاء، 1 : 86) ۔ بدلہ نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور اخلاق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے کاموں کا بدلہ برے کاموں سے نہیں دیتے، برائی کو برائی سے رد نہیں کرتے بلکہ برائی کو اچھائی کے ساتھ رد فرمانے والے ہیں۔ یہ آقا علیہ السلام کی وسعتِ اخلاق، وسعتِ ظرف، عظمتِ شفقت اور عظمت رحمت کا ایک اظہار ہے جس سے روشنی لینے کی ضرورت ہے ۔

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حالات جتنے بھی غصہ دلانے والی ہی کیوں نہ ہوں مگر میں نے پوری عمر یہ ہی دیکھا کہ ہر کیفیت میں آقا علیہ السلام نے عفو و درگزر اور بردباری کا اظہار فرمایا حتی کہ : ماضرب بيده شيئا قط الا ان يحاهد فی سبيل الله وما ضرب خادما قط ولا امراة ۔ کبھی بھی کسی کو ہاتھ سے نہیں مارا، سوائے جہاد کی صورت میں اپنے دفاع پر اور نہ عمر بھر کسی خادم اور نہ ہی کسی زوجہ کو مارا ۔ (صحيح مسلم، 4 : 1814، الرقم : 2328)

لوگ عورتوں کو زمانہ جاہلیت میں بھی مارتے تھے اور آج بھی مارتے ہیں ۔ Domestic violence عورتوں پر تشدد ہماری سوسائٹی پر بہت بڑا داغ ہے ۔ یہ بہت بڑی بدخلقی ہے ۔ ہمارے ہاں بسبب جہالت لوگ عورتوں کو مارتے ہیں۔ یاد رکھیں عورتوں کی تذلیل وہی شخص کرتا ہے جو خود ذلیل اور کمینہ ہے اور اپنی بیوی اور عورتوں کو عزت وہی شخص دیتا ہے جو خود باعزت اور کریم ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اُن کا حیا کریں جن کے ساتھ پہلو بہ پہلو رہتے اور زندگی گزارتے ہیں۔ ہم بسا اوقات یہ قربتیں بھول کر ان کو ہاتھوں سے مارتے ہیں۔ یہ باعثِ شرم ہے۔ آقا علیہ السلام نےDomestic Violence کو کلیتاً رد کردیا۔ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ صدیاں قبل جب سارا معاشرہ ہر طرح کے استحصال سے لبریز تھا، جب غلاموں پر ظلم ہوتے تھے، زنجیروں میں باندھ کر کوڑے مارے جاتے تھے ا س وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلاموں اور عورتوں پر تشدد سے منع فرمایا جبکہ مغربی دنیا انسانی حقوق کے تحت خواتین پر عدم تشدد کی باتیں آج کررہی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دس سال حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا۔ کسی کام کرنے میں یہ نہیں فرمایا کہ کیوں کیا اور نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ کیوں نہیں کیا ۔ (صحيح بخاری، کتاب الادب، باب حسن الخلق، 5 : 2245، الرقم : 5691،چشتی)

فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاتح کی شان کے ساتھ مکہ شہر میں داخل ہوئے تو وہ کفار مکہ جنہوں نے تلواروں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کرکے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہجرت پر مجبور کیا، مدینہ کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعاقب کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مدینہ میں جنگیں مسلط کی تھیں اور لمحہ بہ لمحہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان اور دکھی کیا تھا، سکون اور راحت کی زندگی بسر کرنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ ان کفار و مشرکین کے شہر میں جب فاتح بن کر پہنچے تو وہ لوگ کانپ رہے تھے، انہیں ڈر تھا کہ انتقام لیا جائے گا، ہماری گردنیں کاٹ دی جائیں گی، سزا دی جائے گی، ہمارے مظالم کا بدلہ لیا جائے گا۔ لیکن صورت حال اُن کی سوچوں کے برعکس ہوئی۔ آقا علیہ السلام فتح مکہ کا خطبہ دے رہے ہیں اور اجتماع سے پوچھتے ہیں : ماتقولون انی فاعل بکم ۔ اے اہل مکہ! مجھ پر اکیس سال تک ظلم اور جفا کرنے والو! مصائب و آلام کے پہاڑ گرانے والو! آج تم کیا سوچ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟ اس پر وہ جواب دیتے ہیں : خيراً اخ کريم ابن اخ کريم ۔ ہم خیر کی توقع کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیک اعلیٰ اخلاق والے، شفقت و محبت والے بھائی ہیں اور شفقت و محبت اور بزرگی والے باپ کے بیٹے ہیں۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا جاؤ میں تمہیں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا : لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْکُمُ الْيَوْمَط يَغْفِرُ اﷲُ لَکُمْ ۔ جاؤ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی اللہ تمہیں معاف کردے گا ۔ (يوسف : 92) ۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اِذْهَبُوْا فَاَنْتُمُ الطَّلَقَاء ۔ اپنے گھروں کو چلے جاؤ آج میں نے تم سب کو معاف کردیا ۔ (البيهقی، السنن الکبریٰ، 9،118، رقم : 18055)
اکیس سال دشمنی مسلط کرنے والی قوم پر جب فتح یاب ہوئے تو آقا علیہ السلام نے ایک کلمہ بھی سخت اور ایک عمل بھی شدت کا اختیار نہیں کیا اور انہیں معاف کردیا ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آقا علیہ السلام ایک مقام پر فجر کی نماز کے بعد بیٹھے تھے کہ کفارو مشرکین کے 80 افراد کا مسلح گروپ آقا علیہ السلام اور صحابہ پر حملہ آور ہوگیا۔ صحابہ کرام نے دفاع کیا، ان سب کو پکڑ لیا اور گرفتار کرکے آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں لے آئے۔ فاعتقہم رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں معاف فرماتے ہوئے رہا کردیا ۔
(مسلم، الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب قول الله تعالیٰ وهوالذی کف ايدی، 3 : 1442، رقم : ٌ1808)(بقیہ حصہ سوم میں)(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق عظیم حصہ اول

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق عظیم حصہ اول
 محترم قارئینِ کرام : اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایمان و عقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال و افعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے متصف نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کےلیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی ۔ جب کہ ہر مسلمان دین کا داعی ہے ۔ اس لحاظ سے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقِ حسنہ سے آراستہ و پیراستہ کرے ۔ ابتداے اسلام میں جہاں مجاہدینِ اسلام کی کوششوں سے اسلام کی ترویج و اشاعت ہوئی وہیں زمانۂ خیرالقرون کے نیک سیرت داعیانِ اسلام کے اخلاقِ حسنہ کی تلوار سے بھی اسلام خوب خوب پھیلا ۔

نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اخلاق کا اتمام بھی ہے ۔ آقاے کائنات صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے اس کائناتِ گیتی میں مبعوث ہوئے ۔ آپ کی حیاتِ تابندہ کا ایک ایک ورق آپ کے خُلقِ عظیم کا اجلا نقش ہے ۔ قرآن کریم میں رب کریم جل جلالہٗ نے اپنے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے اخلاقِ حسنہ کی عظمت کو بیان فرمایا ہے۔ قرآن کے علاوہ آقاے کائنات صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے اخلاق سے متعلق نیز اخلاقِ حسنہ کی عملی زندگی میں اہمیت و ضرورت کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ انسانی معاشرے ہمیشہ تعلیم و تربیت اور اخلاق حسنہ سے عروج اور استحکام حاصل کرتے ہیں ۔ معاشرہ کے امن، خوشحالی اور استحکام کا راز علم، عمل اور اخلاق میں پوشیدہ ہے ۔ اسی طرح قیادتیں بھی علم، عمل اور اخلاق حسنہ سے تشکیل پاتیں اور ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ اخلاق حسنہ کی اہمیت کے پیش نظر ہی اللہ رب العزت نے اپنے محبوب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلق عظیم کے اعلیٰ درجہ پر فائز کیا ۔ ارشاد فرمایا : اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ.(القلم : 4)
ترجمہ : بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں) ۔

عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ۔
ترجمہ : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے فرمایا: میں اچھے اخلاق کو اُن کے اتمام تک پہنچانے کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں ۔ (احمد، رقم ٨٩٥٢)

ہر صاحبِ ایمان و اسلام سے دین کے اہم ترین مطالبات میں سے ایک تزکیۂ اخلاق بھی ہے۔دنیو ی و اُخروی کامیابی وسرفرازی کے لیے یہ لازم ہے کہ انسان خالق اور مخلوق دونوں کے ساتھ اپنے عمل کو خلوص و للہیت کے ساتھ طہارت و پاکیزگی کا مظہر بنائے۔ پاکیزہ عمل ہی’’ عملِ صالح ‘‘کہلاتا ہے۔نبیِ کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ اعلیٰ اخلاق کی تکمیل فرمادیں ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آقا علیہ السلام کے اخلاق حسنہ جن کی تعریف قرآن مجید میں انک لعلی خلق عظیم کہہ کر کی گئی۔ وہ کیا ہیں؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ ۔ انہوں نے عرض کیا کہ پڑھتا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ الْقُرْآن.’’حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کا خلق قرآن ہی تو ہے۔‘‘(صحيح، مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، 1 / 512، الرقم : 746،چشتی)

یعنی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اخلاق حسنہ، خصائل حمیدہ، فضائل کریمہ اور انسان کی عادات شریفہ کا جو جو ذکر، جز، گوشہ اور پہلو بیان کیا ہے، ان ساری خوبیوں کے عملی پیکر اتم کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اللہ رب العزت کے بیان کردہ اخلاق کو اگر تعلیمات کی شکل میں دیکھنا ہو تو اس وجود کا نام قرآن ہے اور اللہ رب العزت کے تعلیم کردہ اخلاق اور خصائل حمیدہ کو اگر ایک انسانی پیکر اور شخصی اسوہ و ماڈل کی صورت میں دیکھنا ہو تو ان کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اخلاق کی ترویج و فروغ کو اپنی منصبی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الأَخَلَاقِ ۔ مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ (أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 10 / 191، الرقم : 20571)

یعنی میری بعثت اس لئے کی گئی ہے کہ میں کائنات انسانی میں اخلاقی فضائل کو کمال اور عروج پر پہنچادوں۔ اخلاق (Morality) انسان کی خوبیوں اور اعلیٰ فضائل و خصائل میں سے ایک ایسا اعلیٰ مرتبہ، اعلیٰ رویہ، اعلیٰ طرز فکر، طرز عمل اور ایک ایسا عظیم خزانہ ہے جو دنیا کے تمام انسانی معاشروں میں بغیر انقطاع قائم و دائم رہا اور اس پر ہمیشہ سب کا عمل رہا۔ ہر دور میں اخلاق کی نہ صرف پذیرائی ہوئی بلکہ ہر دور کا انسان اخلاق کی عظمت سے متاثر ہوتے ہوئے اس کا معترف بھی ہوا۔ جوں جوں انسانی معاشرے، انسانی عقل، ادراک، نظریات اور تصورات ترقی کرتے جارہے ہیں، اسی طرح معاشرے کی ارتقاء پذیری کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار بھی بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی ہیں۔ بلاشک و شبہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت جہاں توحید، رسالت اور آخرت کی بنیادی تعلیمات پر مشتمل تھی وہاں ہر پیغمبر کی دعوت کا مرکزی نقطہ اخلاق حسنہ بھی تھا۔ ہر پیغمبر کی اپنی شخصیت اور اسوہِ مبارکہ کا مرکز و محور اخلاق حسنہ اور اعلیٰ اخلاقی اقدار تھے۔ جن سے انسانیت کو حسن کاملیت اور اپنے مراتب میں بلندی ملی۔

جب ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ چیز واضح نظر آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اخلاق حسنہ کے ہزارہا گوشوں کی تعلیم دی، انہیں اپنی عملی زندگی میں سمویا اور ان کے ذریعے اپنے اسوہِ حسنہ اور شخصیت مقدسہ کو فکری، علمی اور عملی طور پر انسانیت کے سامنے رکھا۔ الغرض اخلاقِ حسنہ کا نمونہ کامل اور پیکر اتم بن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کائنات خلق اور افق انسانیت پر ظہور پذیر ہوئے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق حسنہ پاکستان کے لئے بالخصوص اور پورے عالم اسلام و عالم انسانیت کے لئے بالعموم ناگزیر ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی انفرادی، اجتماعی، معاشرتی، سماجی، سیاسی، تہذیبی، ثقافتی، روحانی اور قومی زندگی حتی کہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی اعلیٰ اخلاقی اقدار پیدا کریں، انہیں مضبوط و مستحکم کریں اور ہمیشہ فروغ دیں۔ اسی میں پاکستان، امت مسلمہ اور تمام انسانی معاشروں کی ترقی کا راز مضمر ہے۔ ذیل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے انہی گوشوں کا تذکرہ کیاجارہا ہے جن کے ذریعے ہم نہ صرف انفرادی سطح پر امن و سکون حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر بھی تحمل و برداشت اور عفو و درگزر کے رویے تشکیل پاسکتے ہیں ۔

اخلاقِ نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کا معیارِ فضیلت

خالقِ کائنات کی جملہ مخلوقات میں ہر لحاظ سے سب سے افضل و اشرف اور اعظم و اکرم ذات نبیِ کونین صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم ہی ہیں ۔ آپ کی ذاتِ ستودہ صفات کو اللہ کریم جل جلالہٗ نے جملہ عیوب سے پاک و منزہ بناکر اس دنیا میں مبعوث فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کو اللہ کریم جل جلالہٗ نے اخلاقِ حسنہ کا پیکرِ حسین بنایا اورآپ کی ذات کو جمیل اور اخلاق کو عظیم قرار دیا ۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ’’اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے‘‘ (سورۃ القلم آیت ۴)

امام احمد رضا قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ یوں نغمہ سرا ہوتے ہیں

ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا ، تری خَلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا، ترے خالقِ حُسن و اداد کی قسم

نبیِ کریم مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے خطبات کے اخلاقِ کریمانہ بڑے عظیم تھے آپ ہر ایک سے بڑی خوش اخلاقی سے پیش آتے ، کسی سے بد زبانی نہ کرتے نہ ہی کبھی بد گوئی ۔ رحمتِ عالم مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے خطبات اُسی انسان کو سب سے اچھا قرار دیتے جس کے اخلاق اچھے ہوتے ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمْ يَکُنْ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَکَانَ يَقُولُ: إِنَّ مِنْ خِيَارِکُمْ أَحْسَنَکُمْ أَخْلَاقًا ۔
ترجمہ : عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے خطبات بد گوئی کرنے والے تھے نہ بد زبانی۔ آپ فرمایا کرتے تھے : تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں ۔ (صحيح بخاری، رقم ٣٥٥٩،چشتی)

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَی الْکُوفَةِ فَذَکَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَکُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ خِيَارِکُمْ أَحَاسِنَکُمْ أَخْلَاقًا ۔
ترجمہ : مسروق سے روایت ہے کہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ہم (ان کے ساتھ آنے والے صحابی) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے۔ انھوں نے دورانِ گفتگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کا ذکر چھیڑا اور یہ بتایا کہ آپ نہ بد گوئی کرنے والے تھے نہ بد زبانی اور یہ بھی بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں ۔ (صحيح مسلم، رقم ٦٠٣٣)

(٤) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ:إِنَّ مِنْ أَحَبِّکُمْ إِلَیَّ أَحْسَنَکُمْ أَخْلَاقًا ۔
ترجمہ : عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نہ بد گوئی کرنے والے تھے نہ بد زبانی۔ آپ کا ارشادہے : مجھے تم میں سے وہی لوگ سب سے زیادہ محبوب ہیں جو دوسروں سے بہتر اخلاق والے ہیں ۔ (بخاری، رقم ٣٧٥٩)

درج بالا احادیث آقاے کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے اخلاق عالیہ کے پہلوؤں کو بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم تلخ و شیریں ، غصہ و محبت، اچھے اور برے کسی حال میں بھی بد گوئی اور بد زبانی کرنے والے نہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم خود بھی اعلیٰ اخلاق کے حامل تھے اور آپ کے نزدیک وہی لوگ زیادہ پسندیدہ تھے جو اخلاق میں دوسروں سے بہتر ہوتے تھے۔

اخلاقِ حسنہ کی حیثیت

ایمان و عقیدے کی پختگی اور فرائض و واجبات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اخلاقِ حسنہ کو اپنی زندگی کا لازمی جز بنانا ہر مسلمان پر ضروری ہے ۔ اخلاقِ حسنہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ احادیث طیبہ میں واردہوا ہے کہ میزانِ عمل پر اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہ ہوگی ۔اور یہ کہ اللہ کریم جل جلالہٗ بد گو اور بے حیا شخص کو پسند نہیں فرماتا ۔ چناں اللہ کریم جل جلالہٗ کی قربت و محبوبیت کے ساتھ دنیوی و اخروی اطمینان و سکون کے لیے بے حیائی اور بدگوئی سے پرہیز کرتے ہوئے اخلاقیات سے اپنے آپ کو مزین کریں ۔

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ شَیْء ٍ أَثْقَلُ فِی الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ ۔ (ابوداؤد، رقم٤٧٩٩)
ترجمہ : ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے فرمایا: قیامت کے دن میزان میں کوئی چیز بھی اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی نہ ہو گی ۔

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا شَیْء ٌ أَثْقَلُ فِی مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيئَ ۔ (ترمذی، رقم ٢٠٠٢،چشتی)
ترجمہ : ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے فرمایا : قیامت کے دن مؤمن کی میزان میں کوئی چیز بھی اُس کے اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی نہ ہو گی اور بے شک اللہ تعالیٰ بے حیا بد گو شخص کو دشمن رکھتا ہے ۔

درج بالا احادیث طیبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخرت میں نجات کے لیے وہ بہترین اور عمدہ عمل جس کا انسان تصور کر سکتا ہے، وہ اس کا اچھا اخلاق ہی ہے، چناں چہ یہی عمل میدانِ محشر میں میزان عمل پر سب سے زیادہ وزنی ہو گا۔ بے حیائی اور بد گوئی، ان دونوں صفات کو وہی شخص اپنا سکتا ہے جو اخلاق سے اصلاًعاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں مبغوض اور ناپسندیدہ ہے ۔

اخلاق حسنہ کا درجہ

اخلاقِ حسنہ سے مسلمان کو بلند رتبہ حاصل ہوتا ہے۔ ایمان و عقائد کی درستگی اور فرائض و واجبات کی ادایگی کے بعد جب تک مسلمان اخلاقِ حسنہ کا پیکر نہیں بن جاتا اس کے درجات میں بلندی نہیں ہوتی۔ اللہ کریم جل جلالہٗ اُس بندۂ مومن کو درجوں بلند فرماتا ہے جس کا اخلاق اچھا ہوتا ہے ۔

عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِم ۔ (ابو داؤد، رقم ٤٧٩٨)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندہ مومن حسن اخلاق سے وہی درجہ حاصل کر لیتا ہے جو دن کے روزوں اور رات کی نمازوں سے حاصل ہوتا ہے ۔

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ شَیْء ٍ يُوضَعُ فِی الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ ۔ (ترمذی، رقم٢٠٠٣)
ترجمہ : ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میزان میں کوئی بھی ایسی چیز نہ رکھی جائے گی جو حسن خلق سے بھی زیادہ وزنی ہو۔ انسان اپنے اچھے اخلاق سے دن بھر روزے رکھنے اور رات بھر نماز پڑھنے والے شخص کا درجہ حاصل کر لیتا ہے ۔

درج بالا احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کی رضا و خوش نودی کے لیے دن بھر روزے رکھنا اور رات بھر نماز پڑھنا یقیناً یہ دونوں بہت بڑے اعمال ہیں اور انسان ان سے بہت بلند درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن آقاے کائنات صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے اخلاق عالیہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہی درجہ انسان اچھے اخلاق سے بھی حاصل کر سکتا ہے۔اس سے اخلاقِ حسنہ کی عظمت کو بآسانی فہم کیا جاسکتا ہے ۔

صراط مستقیم کی مثال

عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْکِلَابِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَی کَنَفَیْ الصِّرَاطِ زُورَانِ لَهُمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ عَلَی الْأَبْوَابِ سُتُورٌ وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَی رَأْسِ الصِّرَاطِ وَدَاعٍ يَدْعُو فَوْقَه (وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلَی دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِی مَنْ يَشَاء ُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ) وَالْأَبْوَابُ الَّتِی عَلَی کَنَفَیْ الصِّرَاطِ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا يَقَعُ أَحَدٌ فِی حُدُودِ اللّهِ حَتَّی يُکْشَفَ السِّتْرُ وَالَّذِی يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ رَبِّهِ۔ (ترمذی، رقم٢٨٥٩)
ترجمہ : نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کی مثال بیان کی ہے کہ وہ ایسا راستہ ہے جس کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں ، جن میں جا بجا دروازے کھلے ہوئے ہیں اور اُن پر پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ ایک بلانے والا اس راستے کے سرے پر بلا رہا ہے اور دوسرا اس کے اوپر سے بلا رہا ہے۔ (اللہ دارالسلام (جنت) کی طرف بلاتا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے)۔ یہ دروازے جو صراط مستقیم کی دونوں اطراف پر ہیں ، یہ اللہ کی حدود ہیں ، کوئی شخص بھی ان حدود میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ پردہ نہ اٹھایا جائے اور وہ جو اس راستے کے اوپر سے بلا رہا ہے وہ اس کے رب کا ایک واعظ ہے ۔

عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَلَی جَنْبَتَیْ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَی الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ وَعَلَی بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا وَلَا تَتَفَرَّجُوا وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ جَوْفِ الصِّرَاطِ فَإِذَا أَرَادَ يَفْتَحُ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ وَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللَّهِ تَعَالَی وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللَّهِ تَعَالَی وَذَلِكَ الدَّاعِی عَلَی رَأْسِ الصِّرَاطِ کِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالدَّاعِی فَوْقَ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللَّهِ فِی قَلْبِ کُلِّ مُسْلِمٍ۔ (مسند احمد، رقم ١٧١٨٢،چشتی)
ترجمہ : نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کی مثال بیان کی ہے کہ اس (راستے) کے دونوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں ، ان میں جا بجا کھلے ہوئے دروازے ہیں ، جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اے لوگو سب اس راستے پر آ جاؤ اور اس سے نہ ہٹو اور ایک پکارنے والا اس کے اندر سے پکار رہا ہے، چنانچہ جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کا پردہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ پکار کر کہتا ہے : خبردار ، پردہ نہ اٹھانا۔ اٹھاؤ گے تو اندر چلے جاؤ گے۔ (آپ نے فرمایا:) یہ راستہ اسلام ہے ، دیواریں اللہ کے حدود ہیں ، دروازے اُس کی قائم کردہ حرمتیں ہیں ، راستے کے سرے پر پکارنے والا منادی قرآن مجید ہے اور راستے کے اوپر سے پکار نے والا منادی خدا کا وہ واعظ ہے جو ہر بندہ مومن کے دل میں موجود ہے ۔

ان احادیث میں صراط مستقیم، اس کے ارد گرد موجود دنیوی ترغیبات، اِن ترغیبات کا انسان کیسے شکار ہوتا ہے، قرآن مجید کی دعوت کیا ہے اور ضمیر انسان کی زندگی میں کیا کردار ادا کرتا ہے، اس سب کچھ کو بہت عمدہ اور بڑی واضح تمثیل میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس دنیا کو بڑی متوازن صورت میں آزمائش بنایا ہے۔ اس میں اگر ایک طرف نافرمانی کی ترغیبات موجود ہیں تو اُس کے مقابل میں اس سے روکنے کے لیے تنبیہات بھی موجود ہیں ، چنانچہ یہاں اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو وہ صرف اپنے فیصلے اور اپنے ارادے ہی سے کرتا ہے۔ وہ کسی دوسرے کو اپنی بد عملی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتا۔

اعمالِ صالحہ کا دارو مدار

عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِیَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِءٍ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَی امْرَأَةٍ يَنْکِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَی مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔ (بخاری، رقم١)، (مسلم، رقم ٤٩٢٧)
ترجمہ : علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اعمال کا دارو مدار تو بس نیتوں پر ہے۔ ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہو گا جس کی اُس نے نیت کی ہو گی۔ چنانچہ جس کی ہجرت دنیا کی کسی چیز کے لیے ہوئی جسے وہ پانا چاہتا تھا یا کسی عورت کی خاطر ہوئی جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا تھا تو اُس کی ہجرت (خدا اور اُس کے رسول کے لیے نہیں بلکہ) اسی چیز کے لیے شمار ہو گی جس کی خاطر اُس نے ہجرت کی ہو گی ۔

عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ – سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِیَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّی اسْتُشْهِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِیء ٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِیَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّهِ فَأُتِیَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِیَ فِی النَّارِ۔ (مسلم، رقم ٤٩٢٣،چشتی)
ترجمہ : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : قیامت کے دن سب سے پہلے اُس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا جو دنیا میں شہید ہوا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں لایا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اُسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان سب کو تسلیم کرے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو نے اِن نعمتوں کو پا کر کیا اعمال کیے۔وہ کہے گا: اے باری تعالیٰ میں تیری راہ میں لڑا، یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو جھوٹ بولتا ہے تو میری راہ میں نہیں ، بلکہ اِس لیے لڑا تھا کہ تُو بہادر کہلائے اور وہ تُو کہلا چکا۔ پھر اُسے جہنم میں پھینکنے کا حکم ہو گا، چنانچہ وہ اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
دوسرا وہ شخص ہو گا جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن پڑھا (اور پڑھایا) تھا۔ اُسے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں لایا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اُسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ اُن سب کو تسلیم کرے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو نے اِن نعمتوں کو پا کر کیا اعمال کیے۔وہ کہے گا: اے باری تعالیٰ میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیری خوشنودی کے لیے قرآن پڑھا (اور پڑھایا)۔ پروردگار کہے گا: تو جھوٹ کہتا ہے، تو نے میری خوشنودی کے لیے نہیں ، بلکہ اس لیے علم سیکھا اور سکھایا تھا تا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور اس لیے قرآن پڑھا (اور پڑھایا) تاکہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری (قرآن کا معلم) ہے، اور یہ تجھے کہا جا چکا۔ پھر اُسے جہنم میں پھینکنے کا حکم ہو گا، چنانچہ وہ اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
تیسرا وہ شخص ہو گا جسے اللہ نے کشادگی عطا فرمائی اور ہر طرح کا مال دیا تھا۔ اُسے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں لایا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اُسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ اُن سب کو تسلیم کرے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اِن نعمتوں کو پا کر کیا اعمال کیے۔ وہ کہے گا: اے باری تعالیٰ میں نے تیری رضا کی خاطر ہر اُس موقع پر انفاق کیا ہے، جہاں انفاق کرنا تجھے پسند تھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو جھوٹ کہتا ہے تو نے میری رضا کے لیے نہیں ، بلکہ اِس لیے مال خرچا تھا کہ لوگ تجھے سخی کہیں اور وہ تجھے کہا جا چکا۔ پھر اُسے بھی جہنم میں پھینکنے کا حکم ہو گا، چنانچہ وہ بھی اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘

کسی عمل کے بارے میں جو دعویٰ کیا جا رہا ہے کیا وہ عمل اپنی حقیقت میں بھی ویسا ہی ہے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگر ‘ہاں ‘ میں ہو تو اس عمل کو ہم خالص عمل قرار دیتے ہیں اور اگر اس کا جواب ‘نہ’ میں ہو تو پھر اس عمل کو نا خالص عمل قرار دیا جاتا ہے۔ ان احادیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ جن اعمال کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ خدا کی رضا کے لیے کیے گئے ہیں ، اگر وہ حقیقت میں کسی اور غرض سے کیے گئے تھے تو وہ انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیں گے، کیونکہ خدا کسی نا خالص عمل کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

ایک سچے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایمان و عقیدے کی درستگی کے ساتھ فرائض و واجبات اور نوافل کا اہتمام کرے۔ لیکن یاد رکھے کہ حقو ق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرے اور اپنے آپ کو حُسنِ اخلاق سے مکمل طور پر اس طرح آراستہ و پیراستہ کرے کہ لوگ اُس کی عادات و اطوار کو دیکھ کر اسلام کی طرف راغب ہوں ۔(بقیہ حصہ دوم میں)(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پ...