Saturday, 7 November 2026

مدارِ افضلیت کیا ہے ؟ اور افضلیت و فضیلت میں فرق

مدارِ افضلیت کیا ہے ؟ اور افضلیت و فضیلت میں فرق

محترم قارئینِ کرام : افضلیت اور فضیلت میں فرق ہے ۔ افضلیت قرآن ، احادیث ، اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم اور اجماعِ اہلسنت سے ثابت ہوتی ہے ۔ اس کی شرائط کڑی ہیں اب ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا جائے افضلیت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قرآن وہی ، احادیث وہی اور اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی وہی نئے آنے سے تو رہے ۔ فضیلت باب فضائل سے ہے ۔ اس کے واسطے ضعیف احادیث بھی کافی ہیں ، لیکن افضلیت باب عقائد سے ہے ۔ اس کے ثبوت کےلیے ضعیف احادیث نا کافی ہیں ۔ عہدِ حاضر میں نیم روافض تفضیلیوں نے ادھم مچا رکھا ہے ۔ حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضیلت قطعی دلیل سے ثابت ہے ۔ اس کے بالمقابل ضعیف احادیث پیش کر کے شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی افضلیت ثابت کرتے ہیں ، حالانکہ احادیثِ ضعیفہ سے افضلیت ثابت نہیں ہو سکتی ۔ افضلیت باب عقائد سے ہے ، خالص باب فضائل سے نہیں ۔ باب فضائل میں بھی احادیثِ ضعیفہ اسی وقت قابل قبول ہیں ، جب کسی قوی دلیل کے مخالف نہ ہوں ۔ اگر قوی دلیل کی مخالفت ہو تو حدیث ضعیف فضائل میں بھی مقبول نہیں ۔

اہل سنت و جماعت کا متفقہ اور  اجماعی عقیدہ ہے کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء و مرسلین (رسل بشر اور رسل ملائکہ علیہم السلام) کے  بعد علی الاطلاق تمام انس و جن اور فرشتوں سے افضل ہیں ۔

اس معنیٰ "افضلیت" کی تفہیم و تعیین میں معاون چند ضروری امور ہدیہ قارئین ہیں ۔

افضل : افعل کے وزن پر اسم تفضیل کا صیغہ ہے ، جس میں معنی حقیقی کے اعتبار سے  دوسرے کی بہ نسبت زیادتی ہوتی ہے ۔ اور معنیٰ یہ ہوتے ہیں کہ "افضل و مفضول"  دونوں میں ایک ہی قسم کی فضیلت ہے مگر افضل میں وہ فضیلت زیادہ ہے اور مفضول میں کم ۔

کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ افضل میں "صفت فضیلت" ہوتی ہے اور مفضول میں نہیں ہوتی ۔ جیسے زید عالم ہو اور حامد جاہل تو کہا جاتا ہے کہ زید حامد سے افضل ہے ۔

شرعی اعتبار سےافضلیت کا اطلاق دو معنی پر ہوتا ہے : (1) ظاہری افضلیت یعنی نیک اعمال جیسے نماز ، روزہ وغیرہ کی زیادتی ۔ (2) باطنی افضلیت یعنی خلوص دل ، پرہیزگاری اور اجرو ثواب کی زیادتی ۔

یہ بھی مد نظر رہے کہ کثرت اجر و ثواب کا مفہوم اللہ تعالی کے نزدیک زیادتِ کرامت اور کثرتِ قرب و وجاہت ہے ۔ (حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت اسی معنیٰ کے لحاظ سے ہے) ۔ نہ کہ جنت کے مطاعم و ملابس و ازواج و خدم و حور و قصور میں زیادتی ۔

شرح مقاصد میں ہے : الكلام في الأفضليت بمعنى الكرامة عند الله تعالى ، و كثرة الثواب ۔ (شرح مقاصد جلد 3 صفحہ 523 الفصل الرابع في الامامة)

الصواعق المحرقہ میں ہے : ثم يجب الايمان والمعرفة بأن خير الخلق و أفضلهم و أعظمهم منزلة عند الله بعد النبيين والمرسلين وأحقهم بخلافة  رسول الله أبو بكر الصديق ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ 706 خاتمہ فی امور مہمۃ)

باطنی افضلیت کا مفہوم "زیادت کرامت اور کثرت قرب و وجاہت ہے" ، اس پر اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ایک عقلی دلیل بھی پیش فرمائی ، تاکہ ہر عام و خاص کے ذہن میں افضلیت کا معنیٰ واضح ہو جائے ۔ فرماتے ہیں: دو درباریوں نے بادشاہ کو اپنی عمدہ کار گزاریوں سے راضی کیا بادشاہ نے ایک کو ہزار اشرفی دے کر پائے تخت کے نیچے جگہ دی ۔ دوسرے کو انعام تو ایک لاکھ اشرفی ملا، لیکن مقام اس پہلے کی کرسی منصب سے نیچے ۔ پھر فرماتے ہیں : اے انصاف والی نگاہ : اہل دربار میں افضل کسے کہا جائے گا ؟
اس مثال سے واضح ہوا کہ بلاشبہ جس کو بادشاہ سے زیادہ قرب ہے ، وہی سب سے زیادہ فضیلت والا ہے ۔
اس کے بعد اس معنی کو کثیر دلائل سے ثابت فرمایا اور  اخیر میں تحریر فرمایا : بالجملہ سنیوں کا حاصلِ مذہب یہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم جو قرب و وجاہت ، و عزت و کرامت ، و علو شان ، و رفعت مکان ، و غزارتِ فخر ، و جلالتِ قدر  بارگاہ حق تبارک و تعالیٰ میں ، حضرا ت خلفائےاربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو حاصل ، ا ن کا غیر اگر چہ کسی درجہ علم و عبادت و معرفت و ولایت کو پہنچے ، اولیٰ ہو  آخری ، اہل بیت ہو یا صحابی ، ہر گز ہر گز اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ مگر شیخین رضی اللہ عنہما کو امورِ مذکورہ میں ختنین رضی اللہ عنہما پر تفوق ظاہر و رجحان باہر ، بغیر اس کے کہ عیاذا باللہ فضل و کمال ختنین میں کوئی قصور و فتور راہ پائے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 21 صفح 120 رسالہ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین)
 
یہاں پر یہ بھی پیش نظر رہے کہ افضلیت کی تین صورتیں ہوتی ہیں :

افضلیت جزئیہ : یعنی افضل فضیلت کے کسی خاص باب میں بڑھا ہوا ہو ۔
جیسے زید عمر سے علم نحو میں افضل ہے ۔

افضلیت کلیہ افرادیہ : یعنی افضل فضیلت کے ہر باب میں مفضول سے بڑھا ہوا ہو ۔

افضلیت کلیہ مجموعیہ : یعنی افضل مجموعی طور پر مفضول سے بڑھا ہوا ہو ۔ جیسے مرد مجموعی طور پر عورت سے افضل ہے ۔

اس افضلیت کو افضلیت مطلقہ بھی کہتے ہیں ۔ جیسے زید کو جتنے مسائل یاد ہوں ، بکر کو بھی اتنے ہی مسائل یاد ہوں ، مگر زید کو ان کی معرفت دلائل کے ساتھ ہو اور بکر کو دلائل کے بغیر تو علی الاطلاق کہیں گے کہ زید بکر سے افضل ہے ۔

افضلیت جزئیہ اور افضلیت مطلقہ میں منافات نہیں ۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ زید کو عمرو پر "افضلیت مطلقہ" حاصل ہو اور عمرو کو زید پر افضلیت جزئیہ ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعد باطنی افضلیت کلیہ افرادیہ تو درکنار ظاہری افضلیت کلیہ افرادیہ بھی کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی ،
کیوں کہ دنیا میں بہت سے لوگ کوئی نہ کوئی ایسا نیک کام کر لیتے ہیں جو دوسرے کیے ہوئے نہیں ہوتے ۔ رہی افضلیت جزئیہ تو وہ  حدیث اور قرآن کے مطابق بہت سے صحابہ کو ایک دوسرے پر حاصل ہے ، بلکہ اجمالاً بعض غیر صحابہ کو بھی حاصل ہے ۔

افضلیت کا اثبات دو طریقے سے  ہوتا ہے :

پہلا طریقہ : یہ ہے کہ افضلیت نصوص شرعیہ سے ثابت ہو جائے ، کہ فلاں ، فلاں سے افضل ہے ۔ یہ احسن و اسلم طریقہ ہے ۔

دوسرا طریقہ : استدلال و استنباط اور ترتیب مقدمات کا ہے ۔ اور یہ طریقہ تنقیح طلب ۔

اس کی توضیح یہ ہے کہ بنائے تفضیل دو چیزیں ہیں : اول : ما فیہ التفاضل ۔ اس میں افضل و مفضول دونوں مشترک ہوتے ہیں ۔ مگر بالتشکیک کہ افضل میں زیادہ اور مفضول میں کم ۔ دوم : ما بہ الافضلیت ، یعنی جو مافیہ التفاضل میں افضل کی زیادت کرے ۔ اور یہ صرف  ذات افضل کے ساتھ قائم  ہوتا ہے ۔ اور مفضول کا اس میں افضل کے  کم و کیف کے ساتھ اشتراک نہیں ہوتا ۔ جیسے شمشیرِ تیز براں کو تیغِ کند ناکارہ پر تفضیل ہے ۔

اس مثال میں ما فیہ التفاضل "قطع و جرح" ہے کہ "شمشیرِ براں" خوب کاٹتی ہے اور "تیغ کند" قطع میں قصور کرتی ہے ۔ اور ما بہ الافضلیت "خوش آبی و پاکیزہ جوہری" ہے ، جو "شمشیرِ براں" کے ساتھ مختص ہے ۔

"باب افضلیت" میں مافیہ التفاضل تو واضح ہے  اور ما بہ الافضلیت کا ادراک نہایت غامض اور مزلت اقدام ہے ۔ اہل سنت و جماعت کا مرجع ہر بات میں قرآن کریم، حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔ اور مقام شرح و تفسیر میں پیشوا و مقتدا اکابر کے اقوال ۔ اس باب میں غور کریں تو تفسیر ، شرح حدیث اور اقوال سلف پر مابہ الافضلیت ۔ زیادت تقوی ، سبقت الی الخیرات ،  زمانہ غربت اسلام میں دین کی اعانت ، فضل صحبت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، کثرت نفعِ اسلام وغیرہ امور کثیرہ وغیرہ اوصاف ہیں ۔

ان امور کی وضاحت کے بعد افضلیت حضرت صدیق اکبر  رضی اللہ عنہ کا مفہوم یہ ہوا کہ : عند اللہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو  زیادت کرامت اور کثرت قرب و وجاہت حاصل ہے ۔ اور بعد انبیا و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم اس مقام رفیع میں آپ کا کوئی سہیم نہیں ۔ نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت ، افضلیت مطلقہ ہے ۔ یونہی مابہ الافضلیت والے اوصاف میں اس  کم و کیف کے ساتھ جو آپ کےلیے ہے ، آپ کا کوئی سہیم و شریک نہیں ۔

حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : فضیلت و افضلیت میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ اسی باب سے ہے جس میں ضعاف بالاتفاق قابلِ قبول اور یہاں بالاجماع مردود و نامقبول ۔
پھر فرمایا : بلکہ انصافاً اگر تفضیل شیخین کے خلاف کوئی حدیث صحیح بھی آئے قطعاً واجب التاویل ہے اور اگر بفرضِ باطل صالح تاویل نہ ہو واجب الرد کہ تفضیل شیخین متواتر واجماعی ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 580 ، 581)
یہی وجہ ہے جب اس قطعی اجماعی عقیدے کے خلاف کسی سنداً صحیح روایت کو بھی لایا جائے خبر واحد ہونے کی بنا پر رد کر دی جاتی ہے ۔ چہ جائیکہ روایات ضعیفہ ۔ جیسا کہ مولود کعبہ ہونا وغیرہ ۔ فضیلت خوبی کو کہا جاتا ہے اور اس کےلیے سند صحیح تو کیا ضعیف بلکہ ضعیف جدا عند الامام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ بھی کفایت کر جاتی ہے ۔
حضرت مولا علی اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی شان کو بیان کرنا سنیوں کو سکون دیتا ہے ۔ خدا غارت کرے تفضیلیوں کو جو فضیلت والی روایات کو ہوائے نفس کی بنا پر اجماعی عقیدہ افضلیت کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں ۔ پھر معنیٰ کا تعین ، محتمل کا احتمال اور ضعیف کا ضعف بیان کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ اور یہ سب تفضیلیت کی حماقتوں کا ثمرہ ہے ۔

کلی فضیلت اور جزوی فضیلت : ⏬

کلی اور جزوی فضیلت کی مثال : فضیلت ایک تو کلی ہوتی ہے ، یعنی جنت میں اونچا درجہ کس کا ہو گا ؟ اور دوسرے جزوی فضیلت ہوتی ہے ، مثلا راہِ خدا میں شہادت کی فضیلت ، اذان کی فضیلت ، باپ ، دادا اور پردادا کے نبی ہونے کی فضیلت ، کعبہ کے معمارِ اول ہونے کی فضیلت ، تمام انسانوں کے باپ ہونے کی فضیلت ، سنت ختنہ جاری کرنے والے کی فضیلت ، راہِ خدا میں بیٹے کی قربانی کی فضیلت ، وغیرہ ۔ ظاہر ہے یہ وہ فضیلتیں ہیں جو بظاہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے نہیں دی ہیں ۔ جیسے ایک طالب علم کو امتحان میں حساب کے مضمون میں 99 نمبر آتے ہیں ، جب کہ درجہ کے اول طالب علم کو صرف 95 نمبر آتے ہیں ۔ درجے کا سب سے بہتر طالب علم تو یقیناً اول مقام والا ہے ، مگر خاص حساب کے مضمون میں یہ حسابی آگے بڑھ گیا ۔ اسی طرح مدرسے میں سب سے افضل مہتمم یا پرِنسِپَل ہوتا ہے ۔ البتہ ممکن ہے کہ لمبائی میں یا مال میں کوئی اور استاذ بلکہ کوئی طالب علم ہی بڑھ جائے ۔ جزوی فضیلت میں کوئی بھی صحابی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے افضل ہو سکتا ہے لیکن مجموعی مطلق افضیلیت کا مدار جزوی فضیلت پر نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی گواہی دو کے برابر تھی اور اس جزوی فضیلت میں ، حضرت حذیفہ ، حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی سمیت تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر افضل ہیں کہ کسی بھی صحابی کی گواہی دو کے برابر نہیں سوائے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ۔ اب کوئی بھی اس جزوی فضیلت کی بنیاد پر مطلق طور پر حضرت حذیفہ کو مطلق تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر افضیلیت کا اطلاق نہیں کر سکتا ۔ایسے ہی اہلِ بیت رضی اللہ عنہم ہونا بھی ایک جزوی فضیلت ہے نہ کہ کلی افضیلیت کا معیار ۔ اگر ایسا ہوتا تو امام حسن و امام حسین مولا علی رضی اللہ عنہم سے زیادہ حق دار بنتے افضیلیت کلی کے ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نسب کو معیارِ افضلیت قرار نہیں دیا بلکہ تقویٰ کو قرار دیا جو تقویٰ میں سب سے بہتر ہو گا وہ اللہ کے زیادہ قریب ہو گا اور باقیوں سے بہتر ہو گا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وقت علالت میں تمام نمازوں میں حضرت ابوبکر صدیق کو حضرت علی سمیت تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا امام بنایا اور امام کی ایک شرط ہے کہ وہ تقویٰ و علم میں بھی تمام سے بہتر ہو ۔ اور یہ عمومی شریعت کا اصول ہے سوائے یہ کہ کوئی مجبوری ہو ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ایسی مجبوری نہ تھی کہ مولا علی رضی اللہ عنہ کو اس لائق سمجھتے اور اس کے باوجود ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ کھڑا کرتے ۔ معلوم ہوا چاہتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ابو بکر ہیں اور معیارِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں افضیلیت میں ۔

مؤذن اور داعی کی فضیلت : ⏬

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۔ (سورہ فصلت آیت نمبر 33)
ترجمہ : اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جس نے اللہ کی طرف دعوت دی، نیک عمل کیا اور اس بات کا اعلان کیا کہ میں مسلمان ہوں ۔

یہاں سب سے بہتر انسان ، داعی یعنی دعوت دینے والے کو کہا گیا ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، عکرمہ اور مجاہد علیہما الرحمہ کے مطابق یہاں ”داعی“ سے مراد مؤذن ہے ۔ (تفسیر المنیر جلد ٢٤ صفحہ ٢٢٧)

اب غور کیجیے : راجح قول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کبھی اذان نہیں دی ہے ۔ اس لحاظ سے اس آیت کے مطابق مؤذن کا مقام بڑھ گیا ۔ مگر کیسا بڑھا ؟

صحیح مسلم  میں ایک حدیث ہے کہ : أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلَالٌ ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر ٢٤٥٧)
مفہوم : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت دیکھی ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے آگے حضرت بلال کے چپّل کی آہٹ سنائی دی ۔ یعنی حضرت بلال رضی اللہ عنہ جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی آگے ہوں گے ، جیسے خادم اپنے سیٹھ سے آگے ہوتا ہے ، سپاہی بادشاہ سے آگے ہوتے ہیں ۔

دیگر مفسرین علیہم الرحمہ کے نزدیک اس آیت میں اللہ کے دین کی دعوت دینے والے سارے لوگ مراد ہیں ۔

بہر حال ، کچھ فضیلتیں ایسی ہیں ، جو سب سے بہتر انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ لوگوں کو بھی ملی ہیں ، مگر سب سے بہتر انسان ، سب سے بہتر داعی ، سب سے بہتر امام ، سب سے بہتر خطیب ، سب سے بہتر مدرس ۔ یہ سب کچھ اور ان کے علاوہ بھی بہت کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں ۔ البتہ بعض فضیلتیں مثلاً برِّ اعظم امریکہ یا آسٹریلیا میں دین کی دعوت ، اسی طرح آسمان میں ہوائی جہاز کے اندر دین کی دعوت ۔ یہ سب فضیلتیں پرانے زمانے کے بزرگوں کو حاصل نہیں تھیں ۔

اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خون پاک کا جز ہونے کے باوجود افضل نہیں تین خلفاء رضی اللہ عنہم سے : ⏬

امام اہلسنت شاہ احمد رضا خان قادی رحمة اللہ علیہ مطلع القمرین فی ابانة سبقة العمرین میں لکھتے ہیں : ایک غلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون حجامت پی لیا تو اسے ارشاد ہوا : توں دوزخ سے بچ گیا ، عزیز ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خون پاک کی برکت سے آتش دوزخ حرام ہو گئی تو جو اسی خون سے بنے ہیں (اہل بیت) اور وہ ان کے رگ وپے میں جاری و ساری ہے ان کے غلاموں کی دوزخ کی آگ کیونکر پہنچ سکتی ہے ۔
پھر مذید اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں : مگر اس (فضیلت) کے باوجود جو قرآن و حدیث نے ہمیں کان کھول کر سنا دیا ۔ کہ نسب و جزئیت عنداللہ مدار افضلیت نہیں بلکہ اس کا مدار مزیت دین وتقویٰ ہے ۔ یعنی حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر اور حضرت عثمان یہ تینوں خلفاء بالترتیب تقوی اور قرب خدا اور قرب رسول کی وجہ سے سب باقی سب پر افضل ہے یہ معیار ہے شریعت اسلامیہ کا نہ کہ نسب وغیرہ چاہے جتنا بھی افضل ہو یعنی نبی کا ہی نسب ہو وہ جزوی فضیلت تو ہے لیکن افضیلت کا معیار نہیں اجماعی طور پر ۔
پھر آگے ایک جگہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اگر نسب و جزئیت مدارِ افضلیت ہوتا تو فاطمہ و زینب و رقیہ و ام کلثوم رضی اللہ عنہن کو مولیٰ علی رضی اللہ عنہ پر تفضیل ہوتی بلکہ حسنین کریمین مولا علی رضی اللہ عنہم سے افضل ہوتے حالانکہ یہ باجماع فریقین باطل ہے ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو حسنین کریمین رضی اللہ عنہ پر تفضیل دی ۔ اس سے پتا چلا کہ نسب و جزئیت مدار فضیلت نہیں ۔

خلاصہ کلام : امتِ مسلمہ میں جو تقویٰ یعنی قربِ الٰہی میں سب سے زیادہ ہو گا اور قربِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کو سب سے زیادہ حاصل ہو گا تو وہ مقدم ہو گا سب پر ۔ شریعتِ اسلام کا معیارِ افضلیت یہ ہے نہ کہ فقط نسب وغیرہ وہ فضیلت کا باعث تو بنتا ہے لیکن افضلیت کا مدار نہیں بنتا کیونکہ یہ معیارِ افضلیت ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس کا تقابل ہے ۔ اور اگر اس کا تقابل ہی دلیل ہوتا تو حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ہیں جن کا رشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ قریبی ہے مولا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت تو وہ زیادہ افضل ہوتیں بلکہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما بھی زیادہ افضل ہوتے کیونکہ ان کے والدین دونوں اہلبیت رضی اللہ عنہم سے ہیں اور نانا اس دنیا کی سب سے عظیم ہستی ہیں تو ان کے پاس رشتے زیادہ قرب اور تعداد میں بھی زیادہ تھے ۔ لیکن یہ بات تفضیلیوں اور رافضیوں کو بھی منظور نہیں ۔ معلوم ہوا تفضیلی بدعتی (گمراہ) ہیں ۔ تفضیلیوں اور رافضیوں کا مقصد مولا علی رضی اللہ عنک کی شان مبارگ میں غلو کرنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے مقام سے گرانا ہے ۔ کیونکہ جس چیز کی آڑ میں یہ مولا علی رضی اللہ عنہم کو افضل قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ چیز معیار افضلیت ہی نہیں قرآن و سنت کی روشنی میں ۔

فضیلت و افضلیت میں فرق : ⏬

فضیلت و افضلیت میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ (فضیلت) اسی باب سے ہے جس میں ضعاف بالاتفاق قابل قبول اور یہاں (افضلیت میں) بالاجماع مردود و نامقبول ۔ قبول ضعاف صرف محل نفع بے ضرر میں ہے جہاں ان کے ماننے سے کسی تحلیل یا تحریم یا اضاعت حق غیر غرض مخالفت شرع کا بوجہ من الاجوہ اندیشہ نہ ہو ۔ فضائل رجال مثل فضائل اعمال ایسے ہی ہیں ، جن بندگان خدا کا فضل تفصیلی خواہ صرف اجمالی دلائل صحیحہ سے ثابت ہے ان کی کوئی منقبت خاصہ جسے صحاح و ثوابت سے معارضت نہ ہو اگر حدیث ضعیف میں آئے اس کا قبول تو آپ ہی ظاہر کہ ان کا فضل تو خود صحاح سے ثابت ، یہ ضعیف اسے مانے ہی ہوئے مسئلہ میں تو فائدہ زائدہ عطا کرے گی اور اگر تنہا ضعیف ہی فضل میں آئے اور کسی صحیح کی مخالفت نہ ہو وہ بھی مقبول ہوگی کہ صحاح میں تائید نہ سہی خلاف بھی تو نہیں ۔ بخلاف افضلیت کے کہ اس کے معنی ایک کو دوسرے سے عنداللہ بہتر و افضل ماننا ہے یہ جب ہی جائز ہوگا کہ ہمیں خدا ورسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد سے خوب ثابت و محقق ہو جائے ، ورنہ بے ثبوت حکم لگادینے میں محتمل کہ عنداللہ امر بالعکس ہو تو افضل کو مفضول بنایا ، یہ تصریح تنقیص شان ہے اور وہ حرام تو مفسدہ تحلیل حرام و تضیع حق غیر دونوں درپیش کہ افضل کہنا حق اس کا تھا اور کہہ دیا اس کو ۔ یہ اس صورت میں تھا کہ دلائل شرعیہ سے ایک کی افضلیت معلوم نہ ہو ۔ پھر وہاں کا تو کہنا ہی کیا ہے ، جہاں عقائد حقہ میں ایک جانب کی تفصیلی محقق ہو ۔ اور اس کے خلاف احادیث مقام و ضعاف سے استناد کیا جائے ، جس طرح آج کل کے جہال حضرات شیخین رضی اللہ عنہما پر تفضیل حضرت مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم میں کرتے ہیں ۔ یہ تصریح مضادت شریعت و معاندت سنت ہے ۔ و لہٰذا ائمہ دین نے تفضیلیہ کو روافض سے شمار کیا ۔ کمابیناہ فی کتابنا المبارک "مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین"(۱۳۹۷ھ) ۔ بلکہ انصافاً اگر تفضیل شیخین کے خلاف کوئی حدیث صحیح بھی آئے قطعاً واجب التاویل ہے اور اگر بفرض باطل صالح تاویل نہ ہو واجب الرد کہ تفضیل شیخین متواتر و اجماعی ہے کما اثبتنا علیہ عرش التحقیق فی کتابنا المذکور اور متواتر و اجماع کے مقابل احاد ہرگز نہ سنے جائیں گے ۔ ولہٰذا امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں زیر حدیث عرض علی عمر بن الخطاب وعلیہ قمیص یجرہ قالوا فما اولت ذلك یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال الدین (مجھ پر عمر بن الخطاب کو پیش کیا گیا اور وہ اپنی قمیص گھسیٹ کر چل رہے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے ؟ فرمایا دین ۔ ت) فرماتے ہیں : لئن سلمنا التخصیص بہ (ای بالفاروق رضی اللہ تعالی عنہ) فھو معارض بالاحادیث الکثیرۃ البالغۃ درجۃ التواتر المعنوی الدالۃ علی افضلیۃ الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ فلا تعارضھا الاحاد، ولئن سلمنا التساوی بین الدلیلین لکن اجماع اھل السنۃ والجماعۃ علی افضلیتہ وھو قطعی فلا یعارضہ ظنی ۔ (ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب تفاضل اہل ایمان فی الاعمال مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت جلد ۱ صفحہ ۱۰۶)

اگر ہم یہ تخصیص ان (یعنی فاروق رضی اللہ عنہ) کے ساتھ مان لیں تو یہ ان اکثر احادیث کے منافی ہے جو تواتر معنوی کے درجہ پر ہیں اور افضلیت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر دال ہیں اور احاد کا ان کے ساتھ تعارض ممکن ہی نہیں اور اگر ہم ان دونوں دلیلوں کے درمیان مساوات مان لیں لیکن اجماع اہلسنت وجماعت افضلیت صدیق اکبر پر دال ہے اور وہ قطعی ہے، تو ظن اس کا معارض کیسے ہوسکتا ہے ۔ (ت)

الجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز باب فضائل سے نہیں جس میں ضعاف سن سکیں ۔ بلکہ موافقت وشرح مواقف میں تو تصریح کی کہ باب عقائد سے ہے اور اس میں احاد صحاح بھی نامسموع ، حیث قال لیست ھذہ المسألۃ یتعلق بھا عمل فیلتفی فیھا بالظن الذی ھوکاف فی الاحکام العلمیۃ بل ھی مسألۃ علمیۃ یطلب فیھا الیقین ۔ (شرح مواقف المرصد الرابع ازموقف سادس فی السمعیات مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ایران جلد ۸ صفحہ ۳۷۲)
ان دونوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عمل سے متعلق نہیں کہ اس میں دلیل ظنی کافی ہوجائے جو احکام میں کافی ہوتی ہے بلکہ یہ معاملہ تو عقائد میں سے ہے اس کےلیے دلیل قطعی کا ہونا ضروری ہے ۔ (ت)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے فضیلت وافضلیت سے متعلق رقم فرمایا : ⏬

فائدہ : ۱ : نفیسہ جلیلہ ۔ (فضیلت وافضلیت میں فرق ہے ۔ دربارۂ تفضیل حدیث ضعیف ہرگز مقبول نہیں)

فضیلت و افضلیت میں زمین آسمان کافرق ہے ۔ وہ اسی باب سے جس میں ضعاف بالاتفاق قابل قبول ، اوریہاں بالاجماع مردود و نامقبول ۔

اقول : جس نے قبول ضعاف فی الفضائل کا منشا کہ افاداتِ سابقہ میں روشن بیانوں سے گزرا،ذہن نشین کرلیا ہے ، وہ اس فرق کو بنگاہِ اولیں سمجھ سکتا ہے ۔ قبول ضعاف صرف محل نفع بے ضرر میں ہے ، جہاں اُن کے ماننے سے کسی تحلیل یا تحریم یا اضاعتِ حق غیر ، غرض مخالفت شرع کا بوجہ من الوجوہ اندیشہ نہ ہو ۔

فضائل رجال مثل فضائل اعمال ایسے ہی ہیں ۔ جن بندگانِ خدا کا فضل تفصیلی ، خواہ صرف اجمالی دلائل صحیحہ سے ثابت ہے ، اُن کی کوئی منقبت خاصہ جسے صحاح و ثوابت سے معارضت نہ ہو ، اگر حدیث ضعیف میں آئے ، اُس کا قبول تو آپ ہی ظاہر کہ اُن کا فضل تو خود صحاح سے ثابت، یہ ضعیف اُسے مانے ہی ہوئے مسئلہ میں تو فائدہ زائدہ عطا کرے گی ۔ اور اگر تنہا ضعیف ہی فضل میں آئے،اور کسی صحیح کی مخالفت نہ ہو، وہ بھی مقبول ہوگی کہ صحاح میں تائید نہ سہی ، خلاف بھی تو نہیں ۔ بخلاف افضلیت کے کہ اس کے معنی ایک کو دوسرے سے عنداللہ بہتر وافضل ماننا ہے ،  یہ جب ہی جائز ہوگا کہ ہمیں خدا ورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد سے خوب ثابت و محقق ہو جائے ، ورنہ بے ثبوت حکم لگادینے میں محتمل کہ عنداللہ امر بالعکس ہو تو افضل کو مفضول بنایا ، یہ تصریح تنقیص شان ہے اور وہ حرام تو مفسدہ تحلیل حرام وتضیع حق غیر دونوں درپیش کہ افضل کہنا حق اُس کا تھا ، اور کہہ دیا اِس کو ۔ یہ اس صورت میں تھا کہ دلائل شرعیہ سے ایک کی افضلیت معلوم نہ ہو،پھر وہاں کا تو کہنا ہی کیا ہے،جہاں عقائدِ حقہ میں ایک جانب کی تفضیل محقق ہو،اور اس کے خلاف احادیث سقام وضعاف سے استناد کیا جائے، جس طرح آج کل کے جہال حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہماپر تفضیل حضرت مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم میں کرتے ہیں ۔ یہ تصریح مضادتِ شریعت ومعاندتِ سنّت ہے ، ولہٰذا ائمہ دین نے تفضیلیہ کو روافض سے شمار کیا:کمابیناہ فی کتابنا المبارک:مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین (۷۹۲۱؁ھ,چشتی)(جیسا کہ ہم نے اسے اپنی مبارک کتاب“ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین“ میں بیان کیا ہے ۔ ت)

بلکہ انصافًا اگر تفضیل شیخین کے خلاف کوئی حدیث صحیح بھی آئے ، قطعاً واجب التاویل ہے ، اور اگر بفرضِ باطل صالح تاویل نہ ہو ، واجب الرد کہ تفضیل شیخین متواتر واجماعی ہے : کما اثبتنا علیہ عرش التحقیق فی کتابنا المذکور (جیسا کہ ہم نے اپنی اس مذکورہ کتاب میں اس مسئلہ کی خوب تحقیق کی ہے ۔ ت) اور متواتر واجماع کے مقابل آحاد ہرگز نہ سنے جائیں گے ۔

ولہٰذا امام احمد قسطلانی ”ارشاد الساری شرح صحیح بخاری“ میں زیر حدیث : (عرض عَلَیَّ عمر بن الخطاب وعلیہ قمیص یجرّہ-قالوا:فما اولت ذلک یا رسول اللّٰہ (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) ؟ قال الدین) ۔ (مجھ پر عمر بن الخطاب کو پیش کیا گیا اور وہ اپنی قمیص گھسیٹ کر چل رہے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے ؟ فرمایا : دین ۔ ت)

فرماتے ہیں : (لئن سلّمنا التخصیص بہ(ای بالفاروق رضی اللّٰہ  تعالٰی عنہ) فھو معارض بالاحادیث الکثیرۃ البالغۃ درجۃ التواتر المعنوی الدالۃ علٰی افضلیۃ الصدیق رضی اللّٰہ  تعالٰی عنہ فلا تعارضھا الاحاد-ولئن سلمنا التساوی بین الدلیلین،لکن اجماع اھل السنۃ والجماعۃ علی افضلیتہ وھو قطعی فلا یعارضہ ظنی) ۔ (اگر ہم یہ تخصیص ان (یعنی فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ساتھ مان لیں تو یہ ان اکثر احادیث کے منافی ہے جو تواتر معنوی کے درجہ پر ہیں اور افضلیت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دال ہیں اور آحاد کا ان کے ساتھ تعارض ممکن ہی نہیں،اور اگر ہم ان دونوں دلیلوں کے درمیان مساوات مان لیں ، لیکن اجماعِ اہل سنت وجماعت افضلیت صدیق اکبر پر دال ہے،اور وہ قطعی ہے ، تو ظن اس کا معارض کیسے ہوسکتا ہے۔ ت)

بالجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز باب فضائل سے نہیں جس میں ضعاف سن سکیں،بلکہ مواقف وشرح مواقف میں تو تصریح کی کہ بابِ عقائد سے ہے، اور اس میں آحاد صحاح بھی نامسموع:(حیث قالا:لیست ھذہ المسألۃ یتعلق بھا عمل فیکتفی فیھا بالظن الذی ھوکاف فی الاحکام العلمیۃ بل ھی مسألۃ علمیۃ یطلب فیھا الیقین) ۔ (ان دونوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عمل سے متعلق نہیں کہ اس میں دلیل ظنی کافی ہوجائے جو احکام میں کافی ہوتی ہے، بلکہ یہ معاملہ تو عقائد میں سے ہے، اس کےلیے دلیل قطعی کا ہونا ضروری ہے ۔ ت)

فائدہ ۲ : مہمہ عظیمہ ۔ (مشاجرات صحابہ میں تواریخ و سیر کی موحش حکایتیں قطعاً مردود ہیں)

افادہ : ۲۳ : پر نظر تازہ کیجیے ۔ وہاں واضح ہوچکا ہے کہ کتبِ سیر میں کیسے کیسے مجروحوں، مطعونوں، شدید الضعفوں کی روایات بھری ہیں ۔وہیں کلبی رافضی متہم بالکذب کی نسبت سیرت عیون الاثر کا قول گزرا کہ اُس کی غالب روایات سیر وتواریخ ہیں جنہیں علما ایسوں سے روایت کرلیتے ہیں ، وہیں سیرت انسان العیون کا ارشاد گزرا کہ سیر موضوع کے سوا ہر قسم ضعیف وسقیم وبے سند حکایات کو جمع کرتی ہے، پھر انصافًا یہ بھی انہوں نے سیر کا منصب بتایا جو اُسے لائق ہے کہ موضوعات تو اصلًا کسی کام کے نہیں ، اُنہیں وہ بھی نہیں لے سکتے،ورنہ بنظر واقع سیر میں بہت اکاذیب واباطیل بھرے ہیں : کما لایخفی ۔

بہرحال فرق مراتب نہ کرنا اگر جنوں نہیں تو بدمذہبی ہے ۔ بد مذہبی نہیں تو جنون ہے ۔ سیر جن بالائی باتوں کےلیے ہے ، اُس میں حد سے تجاوز نہیں کر سکتے ۔ اُس کی روایات مذکورہ کسی حیض ونفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں ، نہ کہ معاذاللہ اُن واہیات و معضلات وبے سروپا حکایات سے صحابہ کرام حضور سیدالانام علیہ وعلیٰ آلہٖ وعلیہم افضل الصّلاۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا ، اعتراض نکالنا ، اُن کی شانِ رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا ، مگر گمراہ بددین مخالف و مضاد حق مبین ۔
آج کل کے بدمذہب مریض القلب منافق شعار ان جزافات سیر و خرافات تواریخ و امثالہا سے حضرات عالیہ خلفائے راشدین و ام المومنین و طلحہ و زبیر و معاویہ و عمرو بن العاص ومغیرہ بن شعبہ وغیرہم ، اہل بیت و صحابہ رضی اللہ عنہم کے مطاعن مردودہ ، اور ان کے باہمی مشاجرات میں موحش و مہل حکایات بیہودہ جن میں اکثر تو سرے سے کذب و واحض اور بہت الحاقات ملعونہ روافض چھانٹ لاتے ، اور اُن سے قرآنِ عظیم و ارشاداتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واجماعِ اُمّت واساطین ملّت کا مقاببلہ چاہتے ہیں ۔ بے علم لوگ اُنہیں سُن کر پریشان ہوتے یا فکر جواب میں پڑتے ہیں۔اُن کا پہلا جواب یہی ہے کہ ایسے مہملات کسی ادنیٰ مسلمان کو گنہگار ٹھہرانے کے لیے مسموع نہیں ہو سکتے، نہ کہ اُن محبوبانِ خدا پر طعن جن کے مدائح تفصیلی خواہ اجمالی سے کلام اللہ وکلام رسول اللہ مالامال ہیں: جل جلالہ، وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

امام حجۃ الاسلام مرشد الانام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں : (لا تجوز نسبۃ مسلم الٰی کبیرۃ من غیر تحقیق ۔ نعم یجوز ان یقال ان ابن ملجم قتل علیا فان ذلک ثبت متواترا) ۔ (کسی مسلمان کو کسی کبیرہ کی طرف بے تحقیق نسبت کرنا حرام ہے۔ ہاں، یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم شقی خارجی اشقی الآخرین نے امیرالمومنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو شہید کیا کہ یہ بتواتر ثابت ہے ۔ ت)

حاشا للہ ، اگر مؤرخین و امثالہم کی ایسی حکایات ادنیٰ قابلِ التفات ہوں تو اہل بیت و صحابہ درکنار خود حضرات عالیہ انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہم اجمعین سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے کہ ان مہملات مخذولہ نے حضرات سعاداتنا و مولٰینا آدم صفی اللہ و داؤد خلیفۃ اللہ و سلیمان نبی اللہ و یوسف رسول اللہ سے سیدالمرسلین محمد حبیب اللہ صلی اللہ علیہ و علیہم وسلم تک سب کے بارہ میں وہ وہ ناپاک بیہودہ حکایات موحشہ نقل کی ہیں کہ اگر اپنے ظاہر پر تسلیم کی جائیں تو معاذاللہ اصل ایمان کو رد بیٹھنا ہے ۔

ان ہولناک اباطیل کی بعض تفصیل مع رد جلیل کتاب مستطاب شفا شریف امام قاضی عیاض اور اس کی شروح وغیرہا سے ظاہر ۔ لاجرم ائمہ ملّت وناصحانِ اُمت نے تصریحیں فرمادیں کہ ان جہال وضلال کے مہملات اور سیر و تواریخ کی حکایت پر ہرگز کان نہ رکھا جائے ۔ شفا و شروح شفا و مواہب و شرح مواہب و مدارج شیخ محقق وغیرہا میں بالاتفاق فرمایا ، جسے میں صرف مدارج النبوت سے نقل کروں کہ عبارت فارسی ترجمہ سے غنی اور کلمات ائمہ مذکورین کا خود ترجمہ ہے ۔ فرماتے ہیں : رحمہ اللہ تعالیٰ : ازجملہ توقیر وبرآں حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم توقیر اصحاب وبرایشاں است وحسن ثنا ورعایت ادب بایشاں ودُعا واستغفار مرایشاں را،وحق است مرکسے راکہ ثنا کردہ حق تعالیٰ بروے،وراضی ست ازوے کہ ثنا کردہ شودبروے ۔ و سب و طعن ایشاں اگر مخالف ادلہ قطعیہ است ، چناں کہ قذف عائشہ کفر است والا بدعت و فسق است ، کذا قال فی المواہب اللدنیہ ۔ وہم چنیں امساک و کف نفس از ذکر اختلاف و منازعات و وقائع کہ میان ایشاں شدہ و گذشتہ است ۔ و اعراض واضراب از اخبار مورخین وجہلہ رواۃ وضلال شیعہ وغلاۃ ایشاں ومبتدعین کہ ذکرمثالب ومعائب وقوادح وزلات ایشاں کنند کہ اکثر آں کذب وافترا است ۔ و طلب کردن والتماس نمودن در آں چہ نقل کردہ شدہ است از ایشاں از مشاجرات ومحاربات باحسن تاویلات واصوب خارج از جہت بودن ایشاں اہل آں وعدم ذکر ہیچ یکے ازیشاں بہ بدی وعیب بلکہ ذکر حسنات وفضائل وعمائد صفات ایشاں از جہت آں کہ صحبت ایشاں بآں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یقینی است وماورائے آں ظنی است ۔ و کافیست دریں باب کہ حق تعالیٰ برگزید ایشاں رابرائے صحبت حبیبہ خود صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔طریقہ اہل سنّت وجماعت دریں باب این است، درعقائد نوشتہ اند:(لا تذکر احدا منھم الا بخیر) وآیات واحادیث کہ درفضائل صحابہ عموماً وخصوصاً واقع شدہ است، دریں باب کافی است - اھ مختصرا ۔
ترجمہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم واحترام درحقیقت آپ کے صحابہ کا احترام اور ان کے ساتھ نیکی ہے،ان کی اچھی تعریف اور رعایت کرنی چاہے،اور ان کے لیے دعا وطلبِ مغفرت کرنی چاہئے، بالخصوص جس جس کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی ہے ،اور اس سے راضی ہوا ہے، اس سے وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے، پس اگر ان پر طعن وسب کرنے والا دلائل قطعیہ کا منکر ہے تو کافر ، ورنہ مبتدع و فاسق ۔
اسی طرح ان کے درمیان جو اختلافات یا جھگڑے یا واقعات ہُوئے ہیں ، ان پر خاموشی اختیار کرنا ضروری ہے ، اور ان اخبار واقعات سے اعراض کیا جائے جو مورخین، جاہل راویوں اور گمراہ وغلو کرنے والے شیعوں نے بیان کیے ہیں ، اور بدعتی لوگوں کے ان عیوب اور برائیوں سے جو خود ایجاد کرکے ان کی طرف منسوب کردیے ، اور ان کے ڈگمگا جانے سے ، کیوں کہ وہ کذب بیانی اور افترا ہے ، اور ان کے درمیان جو محاربات ومشاجرات منقول ہیں، ان کی بہتر توجیہ وتاویل کی جائے ، اور ان میں سے کسی پر عیب یا برائی کا طعن نہ کیا جائے ، بلکہ ان کے فضائل ، کمالات اور عمدہ صفات کا ذکر کیا جائے، کیوں کہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ساتھ ان کی صحبت یقینی ہے ، اور اس کے علاوہ باقی معاملات ظنی ہیں ۔ اور ہمارے ل یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے حبیب علیہ الصلوٰۃوالسلام کی محبت کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ اہل سنت وجماعت کا صحابہ کے بارے میں یہی عقیدہ ہے، اس لیے عقائد میں تحریر ہے کہ صحابہ میں سے ہر کسی کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کیا جائے ، اور صحابہ کے فضائل میں جو آیات و احادیث عموماً یا خصوصاً وارد ہیں،وہ اس سلسلہ میں کافی ہیں ۔ اھ مختصرا۔ت)

امام محقق سنوسی وعلامہ تلمسانی ، پھر علّامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں : (مانقلہ المؤرخون قلۃ حیاء وادب)(مؤرخین کی نقلیں قلت حیا وادب سے ہیں)

امام اجل ثقہ مثبت حافظ متقن قدوہ یحییٰ بن سعید قطان نے کہ اجلّہ ائمہ تابعین سے ہیں،عبداللہ قوایری سے پُوچھا:کہاں جاتے ہو؟ کہا: وہب بن جریر کے پاس سیر لکھنے کو ۔ فرمایا : (تکتب کذبا کثیرا)(بہت سا جھوٹ لکھوگے) ۔ (ذکرہ فی المیزان) (اس کا ذکر میزان میں ہے ۔ ت)

تفصیل اس مبحث کی اُن رسائل فقیر سے لی جائے کہ مسئلہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں تصنیف کیے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 585 - 580 جامعہ نظامیہ لاہور)

انبیاء و مرسلین کے بعد تمام انسانوں میں سب سے افضل ہستی حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت ، فضیلتِ مطلقہ ہے  اور اس اعتبار سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد انسانوں میں سے جو قرب و وجاہت ، عزت و کرامت ، علوِ شان و رفعتِ مکان حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے ، کسی اور کو حاصل نہیں ، حسب نسب یا خلافت کے اعتبار سے یہ فضیلت نہیں ہے ، لہٰذا آپ رضی اللہ عنہ کو یہ فضیلت سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام کے والدین کریمین پر بھی حاصل ہے ، البتہ بعض جزوی فضیلتیں دیگر ہستیوں کو حاصل ہیں ،جیسے سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام کے والدین ہونے کا شرف یقینا والدین کریمین رضی اللہ عنہما ہی کو حاصل ہے۔ اسی طرح دیگر کئی جزوی فضیلتیں ایسی ہیں ، جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل نہیں ، لیکن دیگر اصحاب کو حاصل ہیں اور اس سے آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلتِ مطلقہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

امام ابو احمد ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ ( سالِ وفات 365 ھ ) حدیثِ پاک نقل کرتے ہیں : قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أبو بكر وعمر خير الأولين وخير الآخرين وخير أهل السماوات وخير أهل الأرضين إلا النبيين والمرسلين ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پہلے والوں اور بعد والوں ، زمین والوں اور آسمان والوں میں سے انبیاء و مرسلین کے علاوہ باقی تمام سے بہترین ہیں ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال جلد 2 صفحہ 443 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت)

افضلیت سے مراد کیا ہے ؟

اس سے متعلق علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : هما أعلى المؤمنين صفة وأعظمهم بعد الأنبياء قدرا ۔
ترجمہ : حضرت ابوبکر صدیق و فاروق اعظم رضی اللہ عنہما مومنین میں سے سب سے زیادہ صفت کے اعتبار سے اعلیٰ ہیں اور (بارگاہ الٰہی میں) انبیاء کے بعد مومنین میں سے سب سے بڑی قدر و منزلت والے ہیں ۔ (التیسیر شرح جامع الصغیر جلد 2 صفحہ 172 مطبوعہ بیروت)

شرح مواقف میں ہے : و مرجعھا ای مرجع الافضلیۃ التی نحن بصددھا الی کثرۃ الثواب و الکرامۃ عند اللہ ۔
ترجمہ : جس افضلیت سے متعلق ہم بحث کر رہے ہیں  ، اس کا مرجع یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثواب کی کثرت اور عزت و کرامت ( ان حضرات کی ) ہے ۔ (شرح المواقف المرصد الرابع المقصد الخامس الافضل بعد الرسول جلد 3 صفحہ 638 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت،چشتی)

نسب کے اعتبار سے یہ فضیلت نہیں ، جیسا کہ شرح عقائد کی شرح نبراس میں ہے : ’’ ذکر المحققون ان فضیلۃ المبحوث عنھا فی الکلام ھی کثرۃ الثواب ای عظم الجزاء علی اعمال الخیر لاشرف النسب  ‘‘ ترجمہ : محققین نے ذکر کیا ہے کہ جس فضیلت سے متعلق ہم بات کر رہے ہیں ، اس سے مراد یہ ہے کہ ثواب کا زیادہ ہونا اور اعمالِ صالحہ پر جزاء کا عظیم ہونا ، نہ کہ نسب کے اعتبار سے شرف حاصل ہونا ۔ (النبراس افضل البشر بعد الانبیاء الخ صفحہ 299 مطبوعہ ملتان)

نوٹ : علماء کے کلام میں افضلیت کی شرح میں جو کثرتِ ثواب کہا گیا ہے ، اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وہ کثرتِ ثواب سے زیادتِ قرب مراد لیتے ہیں ، کہ بنی نوع انسان میں قرب بذریعۂ اعمال حاصل ہوتا ہے ، اسی طرح کثرتِ نفع فی الاسلام قوت کیفیتِ ایمانیہ کا اثر و ثمرہ اور یہی کیفیت وجہِ تفاضلِ انبیاء و ملائکہ ہے ۔ (حاشیہ مطلع القمرین (جدید تخریج شدہ) صفحہ 124 مطبوعہ مکتبہ بہارِ شریعت لاہور )

افضلیت کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : سنیوں کا حاصلِ مذہب یہ ہے کہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ و السلام کے بعد جو قرب و وجاہت و عزت و کرامت و علوِ شان و رفعتِ مکان و غزارتِ (وفور و کثرت) فخر و جلالتِ قدر بارگاہِ حق تبارک و تعالیٰ میں حضراتِ خلفاء اربعہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حاصل ، ان کا غیر اگرچہ کسی درجۂ علم و عبادت و معرفت و ولایت کو پہنچے ، اولیٰ ہو یا آخری ، اہل بیت ہو یا صحابی ، ہر گز ہرگز اس تک نہیں پہنچ سکتا ، مگر شیخین کو امورِ مذکورہ میں ختنین پر تفوق ظاہر و رجحان باہر ، بغیر اس کے کہ عیاذ باللہ فضل و کمالِ ختنین میں کوئی قصور و فتور راہ پائے اور تفضیلیہ دربارہ جناب مولیٰ اس کا عکس مانتے ہیں ۔ یہ ہی تحریر مادۂ نزاع ، بحمد اللہ اس نہجِ قویم و اسلوبِ حکیم کے ساتھ جس میں ان شاء اللہ تعالیٰ شک مشکک و وہمِ واہم کو اصلاً محلِ طمع نہیں ۔ ( مطلع القمرین (جدید تخریج شدہ) صفحہ 114 مطبوعہ مکتبہ بھارِ شریعت لاہور)

امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو نسب کی بناء پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینے والے شخص سے متعلق سوال ہوا ، تو جواباً آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : اگر وہ یہ کہتا کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما بوجہ جزئیت کریمہ ایک فضل جزئی حضرات عالیہ خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم پر رکھتے ہیں اور مرتبہ حضرات خلفاء رضی اللہ عنہم کا اعظم و اعلیٰ ہے ، تو حق تھا ، مگر اس نے اپنی جہالت سے فضل کلی سبطین کو دیا اور افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو عام مخصوص منہ البعض ٹھہرایا اور انہیں امیر ا لمومنین مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے افضل کہا ، یہ سب باطل اور خلاف اہلسنت ہے ، اس عقیدہ باطلہ سے توبہ فرض ہے ، ورنہ وہ سنی نہیں اور اس کی دلیل محض مردود و ذلیل ۔ اگرجزئیت موجبِ افضلیت مرتبہ عنداللہ ہو ، تو لازم کہ آج کل کے بھی سارے میر صاحب اگرچہ کیسے ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوں اللہ عزوجل کے نزدیک امیر المومنین مولیٰ علی سے افضل واعلیٰ ہوں اور یہ نہ کہے گا مگر جاہل اجہل مجنون یا ضال مضل مفتون ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 274 تا 276 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

انبیاء و مرسلین علیہم  السلام کے بعد تمام انسانوں میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔اس پر تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اجماع ہے اور اس عقیدے پر بہت ساری احادیثِ نبویہ ، آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین علیہم الرحمہ کے اقوال موجود ہیں ، کسی بھی صحابی کا اس کے خلاف عقیدہ نہیں تھا ، بلکہ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو شیخین رضی اللہ عنہما پر فضیلت دینے والے سے متعلق آپ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ہی سزا کی روایت منقول ہے اور یہی مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت حسب نسب  یا خلافت  کے اعتبار سے نہیں ، بلکہ مطلقہ ہے ، یعنی بغیر کسی خاص وصف کا لحاظ کیے یوں ہے کہ قربِ الٰہی  و کثرتِ ثواب میں آپ بقیہ سب سے فائق ہیں ، جیسا کہ پہلے جواب میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ۔

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رآني النبي (صلى اللہ عليه وسلم) وأنا أمشي أمام أبي بكر الصديق فقال يا أبا الدرداء أتمشي أمام من هو خير منك في الدنيا والآخرة ما طلعت الشمس ولا غربت على أحد بعد النبيين والمرسلين أفضل من أبي بكر ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ، تو ارشاد فرمایا : اے ابودرداء ! کیا تم ایسے شخص کے آگے چل رہے تھے ، جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے ۔ انبیاء و مرسلین کے علاوہ کسی بھی ایسے شخص پر سورج طلوع و غروب نہیں ہوا ، جو ابوبکر سے افضل ہو ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر جلد 30 صفحہ 209 مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)

امام دیلمی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات 509 ھ) حدیثِ پاک نقل کرتے ہیں  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : أتاني جبريل قلت يا جبريل من يهاجر معي قال أبو بكر وهو يلي أمر أمتك من بعدك وهو أفضل أمتك ۔
ترجمہ : میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے ، تو میں نے کہا : اے جبریل ! میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا ؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا : ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کی امت کے والی ہوں گے اور آپ کی امت میں سے سب سے افضل ہیں ۔(الفردوس بماثور الخطاب جلد 1 صفحہ 404 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

صحابی ابن صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کنا نقول ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حی افضل ھذہ الامة بعد نبیھا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان و یسمع ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاینکرہ ۔
ترجمہ : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں حضرت ابوبکر ، پھر حضرت عمر ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہم افضل ہیں ، پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتے اور آپ انکار نہ فرماتے ۔ (المعجم الکبیر جلد 12 صفحہ285 مکتبۃ العلوم و الحکم الموصل)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمدبن حنفیہ تابعی ہیں ، آپ فرماتے ہیں : قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ؟ قال ابوبکر قلت ثم من ؟ قال عمر ۔
ترجمہ : میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ توحضرت علی رضی اللہ عنہ  نے جواب دیاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں ۔ میں نے کہا پھر کون افضل ہیں ؟ توآپ نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ افضل ہیں ۔ (صحیح بخاری باب فضل ابی بکر جلد 1 صفحہ 518 مطبوعہ کراچی،چشتی)

امام اعظم امام ابو حنیفہ (تابعی) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : افضل النا س بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان  ثم علی  بن ابی طالب رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، پھر عمربن خطاب ، پھر عثمان بن عفان ، پھر علی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین افضل ہیں ۔ (فقہ اکبر مع شرح صفحہ61 مطبوعہ کراچی)

حضرت میمون بن مہران رضی اللہ عنہ تابعی ہیں ، آپ سے پوچھا گیا کہ حضرت علی افضل ہیں یا حضرت ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہم) ؟ تو یہ سنتے ہی آپ کا جسم لرز اٹھا اور آپ کے ہاتھ سے عصا گِر گیا اور فرمایا : ما كنت أظن أن أبقى إلى زمان يعدل بهما ۔
ترجمہ : مجھے گمان نہ تھا کہ میں ایسے زمانے تک زندہ رہوں گا ، جس میں لوگ حضرت ابوبکر و عمر کے برابر کسی دوسرے کو ٹھہرائیں گے ۔ (تاریخ الخلفاء ، الخلیفۃ الاول ابوبکر الصدیق صفحہ 31،چشتی)

صحابہ و تابعین کا افضلیتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ پر اجماع تھا ، جیسا کہ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات 923 ھ) فرماتے ہیں : الافضل بعدالانبیاء علیھم الصلوة والسلام ابوبکر رضی اللہ عنہ وقداطبق السلف علی انہ افضل الامة ۔ حکی الشافعی وغیرہ اجماع الصحابة والتابعین علی ذلک ۔
ترجمہ : انبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افضل ہیں اور سلف نے ان کے افضل الامت ہونے پر اتفاق کیا ۔ امام شافعی وغیرہ نے اس مسئلہ پر صحابہ اور تابعین کا اجماع نقل کیا ۔(ارشاد الساری باب فضل ابی بکر بعد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلد 8 صفحہ 147 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات 676 ھ) فرماتے ہیں : وأجمع أهل السُنة على أن أفضلهم على الإطلاق أبو بكر، ثم عمر ۔
ترجمہ : اہلسنت و جماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ میں علی الاطلاق سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (تھذیب الاسماء و اللغات جلد 1 صفحہ 15 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت،چشتی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شیخین پر فضیلت دینے والے سے متعلق حضرت علی  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : من فضلني على أبي بكر وعمر جلدتهم حد المفتري ۔
ترجمہ : جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے گا ، میں اسے الزام لگانے والے کی سزا دوں گا ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر جلد 30 صفحہ 383 مطبوعہ دار الفکر ، بیروت)

یہ افضلیت خلافت کے اعتبار سے ہے یا ولایت کے اعتبار سے ؟

اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : سلسلہ تفضیل عقیدہ اہلسنت میں یوں منتظم ہوا کہ افضل العٰلمین و اکرم المخلوقین محمد رسول رب العٰلمین ہیں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، پھر انبیاء سابقین ، پھر ملائکہ مقربین ، پھر شیخین ، پھر ختنین ، پھر بقیہ صحابہ کرام صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین اور پُر ظاہر کہ سلسلہ واحدہ میں مافیہ التفاضل یعنی وہ امر جس میں کمی بیشی کے اعتبار سے سلسلہ مرتب ہوا ، ایک ہی ہوگا ۔ پس بالضرورۃ وہ امر یہاں بھی ایک ہی ہوگا اور جس بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انبیاء اور انبیاء کو تمام ملائکہ اور ملائکہ مقربین کو شیخین پر زیادتی مانی گئی ہے ، بعینہ اسی امر میں شیخین کو جنابِ عثمان و حضرت مرتضوی پر پیشی ۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہم و سلم اجمعین ۔ اب ہم پوچھتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور انبیاء سے افضل کہا جاتا ہے ، تو آیا اس کے سوا کچھ اور معنیٰ و مفہوم ہوتے ہیں کہ حضور کا رتبۂ عالی اور قرب و وجاہت و عزت و کرامت ان سے زیادہ ، اسی طرح جب انبیاء کو ملائکہ اور ملائکہ کو صحابہ سے افضل کہتے ہیں ،  اس معنیٰ کا غیر ذہن میں نہیں آتا ، تو شیخین کو جو مولیٰ علی سے افضل کہا ، وہاں بھی قطعاً یہی معنیٰ لیے جائیں گے ، ورنہ سلسلہ بکھر جائے گا اور ترتیب غلط ہوجائے گی اور جو یہاں زیادتِ اجر وغیرہا معانی مخترع مراد لیتے ہو ، تو بحکمِ مقدمۂ مذکورہ اوپر بھی یہی لینا پڑے گا ، حالانکہ فرشتے بایں معنیٰ اہل ثواب نہیں ، نہ بعض ملائکہ مقربین مثل حملۂ عرشِ عظیم میں باعتبار نفع فی الاسلام کلام جاری ہو اور خلافت تو خلفاء اربعہ سے اوپر کسی میں نہیں ، پھر یہ معانی تراشیدہ کیوں کر درست ہوسکتے ہیں ؟ لطف یہ ہے کہ جیسے اوپر کی ترتیبوں میں تفضیل بمعنیٰ علوِ شان و رفعتِ مکان لیتے آئے ، یوں جب نیچے آکر مولیٰ علی کو بقیہ صحابہ سے افضل کہتے ہیں ، وہاں بھی اسی معنیٰ پر ایمان لاتے ہیں ، بیچ میں شیخین کی نوبت آتی ہے ، تو اگلا پچھلا یاد نہیں رہتا ، نئے نئے معنیٰ گڑھے جاتے ہیں اور اس معنیٰ کے رد پر بڑے بڑے اہتمام ہوتے ہیں ۔ اب بھی دعویٰ انصاف باقی ہے ۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ (مطلع القمرین (جدید تخریج شدہ) صفحہ 123 تا 124 مکتبہ بہارِ شریعت لاہور )

تفضلیوں اور رافضیوں کا اعتراض : جب حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) بقول اہلسنت تمام امتِ محمدیہ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھائی چارہ قائم فرمایا تو حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو کیوں نا اپنا بھائی فرمایا ؟ جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر بوقت مواخات فرمایا : علی انت اخی فی الدنیا والاخرة ۔ انصاف مطلوب ۔ یعنی اس سے افضلیت حضرت موﻻ علی رضی اللہ عنہ ثابت ہوتی ہے ۔

جواب : اس میں حضرت موﻻ علی رضی اللہ عنہ کی جزوی فضیلت ہے جو کہ کلی فضیلت کو مستلزم نہیں ہے ۔ متعدد خصوصیات دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کےلیے بیان ہوئی مگر وہ صراحت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے بیان نہ کی گئی مگر اس کے باوجود تمام انبیاء و رُسل پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت ایک مسلمہ امر ہے مثلا حضرت آدم علیہ السلام کو صفی اللہ ،  نوح علیہ السلام کو نجی اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ وغیرہ ، مگر ان الفاظ کی صراحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مذکور نہیں ہیں ، اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سردار الانبیاء ہیں ۔

اس سے ثابت کرنا یہ مقصود ہے کہ جزوی فضیلت سے کلی فضیلت کا اثبات نہیں ہو سکتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخی فرمانا یقیناً باعث فضیلت ہے مگر جزوی فضیلت سے کلی فضیلت کا اثبات تفضیلیوں اور رافضیوں کی جہالت پر دال ہے ۔ یہ الفاظ حقیقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کےلیے مرقوم و مذکور ہیں ۔ حدیث بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لو کنت متخذا من امتی خلیلا لاتخذت ابابکر ولکن اخی و صاحبی وفی روایة لاتخذت خلیلا ولکن اخوة الاسلام افضل او کما قال علیہ السلام ۔
ترجمہ : اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو یقیناً ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور دوست ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ میں ان کو خلیل بناتا مگر اسلام کا بھائی چارہ بڑا افضل ہے ۔
(بخاری جلد 1 صفحہ 516،چشتی)(مصابیح السنہ جلد 4 صفحہ 148)

بلکہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انت اخونا و مولانا " تم ہمارے بھائی اور محبوب ہو ۔ (صحیح بخاری جلد 1 صفحہ528)

تو اب کہیے کہ اس افضلیت سے کیا ثبوت ملتا ہے ؟

اس کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت تو پوری امت مسلمہ  کے اجماع سے بھی ثابت ہے اور قرآن و سنت کے بے شمار دلائل قاہرہ سے ثابت ہے بلکہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سب سے بہتر ہیں ۔ (کنزالعمال جلد 13 صفحہ 20،چشتی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اطاعت کرو تم ہدایت پا جاؤ گے اور ان دونوں کے اقتداء کرو ہدایت پا جاؤ گے ۔ (تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر جلد 32 صفحہ 149)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد تم ان دونوں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرو ۔ (ترمذی جلد 2 صفحہ 207)(مشکاۃ المصابیح عربی صفحہ 560،چشتی)(سنن ابن ماجہ صفحہ 10)(مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 290 ابن حبان جلد 10 صفحہ 26)(شرح السنہ جلد 14 صفحہ)(مسند احمد جلد 5 صفحہ386)(مصابیح السنہ جلد 4 صفحہ 162)

◇ مزید فرماتے ہیں کہ : سب سے پہلے جنت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما داخل ہوں گے ۔ (کنزالعمال جلد 13)

محمد ابن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے :  لوگوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہے ؟ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ ۔ (بخاری جلد 1 صفحہ 518،چشتی)(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 12 صفحہ 12)(تاریخ بنی عساکر جلد32 صفحہ 229)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دوران خلافت برسرِ منبر ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ساری امت میں سب سے افضل ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (مسند احمد جلد 1 صفحہ 277 کنزالعمال جلد 13 صفحہ 20)

امام سیوطی نے امام ذہبی علیہما الرحمہ سے نقل کیا ہے کہ یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تواتر سے ثابت ہے ۔ (تاریخ الخلفا صفحہ 45)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کے حوالے سے پوری ترتیب فضیلت بیان فرمائی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر ہیں پھر حضرت عمر ہیں پھر حضرت عثمان ہیں اور پھر میں ہوں ۔ (تاریخ دمشق مدینہ لابن عساکر  جلد 41 صفحہ 104)

شیعہ کتب سے چند حوالہ جات درج ذیل ہیں : ⏬

شیعہ کی کتاب رجال کشی سے روایت ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو کہ مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہوں میں اسے کوڑے لگاؤں گا جو مفتری اور کذاب کی حد ہے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھنا ایمان اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ (رجال کشی صفحہ 338)

شیعہ کتاب احتجاج طبرسی میں ہے کہ امام باقر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی عظمت و فضیلت کا منکر نہیں ہوں مگر افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ479،چشتی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دعا فرمائی اے اللہ ہم پر رحم فرما جس طرح تو نے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم پر رحم فرمایا تو ایک قریشی نوجوان نے سوال کیا کہ یہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کون ہیں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ دونوں میرے محبوب اور تمہارے چچا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں دونوں ہدایت کے امام اسلام کے بزرگ اور قریش کی شخصیتیں ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان دونوں کی اقتداء ہے جس نے ان کی اقتداء کی  محفوظ ہو گیا جس نے ان کے فرامین کی اتباع کی وہ صراط مستقیم پر ہے ۔ (تلخیص الشافی جلد 3 صفحہ 318)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ہی اپنے ایام وصال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرکارصدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنا مصلی عطا فرمایا اور امامت کا حکم دیا اس کو شیعہ نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ (درہ نجفیہ صفحہ 225)(ناسخ تواریخ جلد 1 صفحہ 547)

افضلیت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور منکرین کی سزا حضرت مولیٰ علی و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی زبانی : ⏬

محترم قارئینِ کرام : صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہما سے ہے : قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من، قال ثم عمرثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت، فقال ما انا الاّرجل من المسلمین ، رواہ ایضا ابن ابی عاصم و خشیش وابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء ۔
ترجمہ : میں نے اپنے والد ماجد مولٰی علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہے ؟ فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ ۔ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا : پھر عمر ۔ پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرمادیں عثمان رضی اللہ عنہ ، اس لیے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے ! پھر آپ ؟ فرمایا : میں تو نہیں مگر ایک مرد مسلمانوں میں سے ۔ اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے ۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب،فضائل ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/ ۵۱۸)(جامع الاحادیث بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، حدیث ۷۷۱۴ دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۷)(کنزالعمال ، بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، ۳۶۰۹۴ موسسۃ الرسالہ،بیروت،۱۳/ ۷)

حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمان : جو مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے میں اسے مفتری کی سزا دونگا : ⏬

افضلیتِ شیخین اور حدِ مفتری : ​حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ عنہ کا ایک انتہائی مشہور اور متواتر فرمان کتبِ احادیث میں موجود ہے ، جس میں آپ نے خود کو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت دینے والوں کےلیے سخت سزا کا اعلان فرمایا ۔ ​حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمانِ عالی شان ہے : ​لَا اَجِدُ اَحَدًا فَضَّلَنِيْ عَلٰی اَبِيْ بَكْرٍ وَ عُمَرَ اِلَّا جَلَّدْتُهٗ حَدَّ الْمُفْتَرِيْ ۔
ترجمہ : میں جسے بھی پاؤں گا کہ وہ مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے ، میں اسے الزام تراشی (بہتان) کی سزا کے طور پر 80 کوڑے ماروں گا ۔ (​فضائل الصحابة للامام احمد بن حنبل حدیث نمبر 49 ، 387 عن حکم بن حجل)(​السنة لعبد اللہ ابن احمد حدیث نمبر 49 ، 387 عن علقمہ)(​السنة لابن ابی عاصم حدیث نمبر 1027 ، 1254)(​شرح اصول اعتقاد اهل السنة للالكائي جلد 2 صفحہ 107،چشتی)(​الاعتقاد للبیہقی صفحہ 504 عن حکم بن حجل آپ نے فرمایا : حضرت علی نے ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا)(​تاریخ الخلفاء للسیوطی عربی صفحہ 122 ، مترجم اردو صفحہ 167)(الصواعق المحرقة لابن حجر الہیتمی عربی صفحہ 187)(​کنز العمال حدیث نمبر 36157)

​راویوں کا مقام اور سند کی تحقیق : ⏬

​اس حدیث کے راویوں میں حضرت محمد بن حنفیہ ، حضرت علقمہ ، حضرت عبد خیر ، حضرت جابر بن حمید ، اور حضرت حکم بن حجل عن ابیہ (رضی اللہ عنہم و علیہم الرحمہ) شامل ہیں ، جو براہِ راست مولا علی سے روایت کر رہے ہیں ۔

​ملاقات کا ثبوت : حضرت حکم بن حجل صراحت سے فرماتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں خطاب فرمایا ۔ کتبِ رجال میں حکم بن حجل کو ثقہ لکھا گیا ہے ، اس لیے ان کی حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات میں کوئی شک نہیں ۔

​علماء کا فیصلہ : محدثین اور جلیل القدر علماء علیہم الرحمہ نے اس حدیث کو بالکل صحیح قرار دیا ہے ۔
​شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اسے صحیح لکھا ۔ (فتاویٰ عزیزی صفحہ 383)
​امام ابنِ حجر عسقلانی اور امام ذہبی علیہما الرحمہ کے حوالے سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدری علیہ الرحمہ نے لکھا : قَالَ سُلْطَانُ الشَّانِ اَبُوْ عَبْدِ اللہِ الذَّھَبِیُّ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ ۔ (یہ حدیث صحیح ہے) ۔ (الزلال الانقیٰ صفحہ 95)
​
منبرِ کوفہ پر حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی : ⏬

​حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ (تابعی الکبیر) نے منبر پر ہاتھ مار کر حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کا یہ تفصیلی خطبہ بیان فرمایا : ہمیں حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ نے اس منبر پر بیٹھ کر خطاب فرمایا اور فرمایا : خبردار! مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں ، اگر میں نے اس کے بارے میں پہلے سزا کا اعلان کر دیا ہوتا تو میں ان لوگوں کو سزا دیتا ۔ آئندہ جس نے ایسا کہا وہ بہتان باندھنے والا ہوگا اور اسے مفتری کی سزا (80 کوڑے) ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر ۔ (السنۃ لعبد اللہ بن احمد : 1322)(السنۃ لابن ابی عاصم : 702 ، اسنادہ صحیح)

​یہی حدیث سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ یہ تمام احادیث اس متواتر عقیدے کا حصہ ہیں جسے تقریباً 80 راویوں نے نقل کیا ہے کہ : خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ۔

​حضرت امام اعظم ابو حنیفہ تابعی رضی اللہ عنہ کی روایت اور سزا کا فلسفہ : ​⏬

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے آپ سے بہتر کوئی نہیں دیکھا ۔ آپ نے پوچھا : کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا ابوبکر و عمر کو دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم کہتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو میں تمہیں (توہینِ رسالت پر) قتل کر دیتا ، اور اگر تم کہتے کہ میں نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا ہے تو میں تمہیں (توہینِ صحابہ اور جھوٹ پر) سخت سزا دیتا ۔ (کتاب الآثار لابی یوسف : 922،چشتی)

​یہ فیصلہ حضرت سیدنا امام حسین بن حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے عین مطابق ہے کہ : نبی کے گستاخ کی سزا قتل ہے اور صحابی کے گستاخ کی سزا کوڑے ہے ۔ (کتاب الشفاء جلد 2 صفحہ 194)
​
اہم نکتہ : یہی وجہ تھی کہ جب عبداللہ بن سبا اور اس کے مفسد گروہ نے غلو کی تمام حدیں پار کیں اور حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی شان میں حدِ مفتری سے بھی بڑا جرم کیا ، تو آپ نے انہیں سخت ترین عبرتناک سزا دی اور زندہ جلا دیا تھا ۔ (صحیح بخاری حدیث : 37)(مستدرک حاکم حدیث : 6405)

​حاصلِ کلام : حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا اپنا عقیدہ اور فیصلہ بالکل واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہی امت میں سب سے افضل ہیں، اور اس عقیدے کے خلاف غلو کرنے والا حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک مجرم ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ گستاخوں اور فتنہ پروروں کے شر سے بچاۓ آمین ۔

طبرا نی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی ، جب امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ، امیر المؤمنین فرماتے : السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الٰی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر ۔
ترجمہ : ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں ۔ (المعجم الاوسط، حدیث ۷۱۶۴،مکتبۃ المعارف الریاض، ۸/ ۸۲،چشتی)(جامع الاحادیث بحوالہ طس،حدیث ۷۶۸۸، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۹)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی رائے : ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی ، امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا : ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ، فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر ثم عمر (زاد غیر الطلحی) ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء ۔
ترجمہ : اے لوگو ! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کر چکا ہوتا تو اب سزا دیتا ، آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے ، اس پر مفتری کی حد آئے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر، پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا ۔ (کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۳۶۱۴۳،موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۳/ ۲۱)(جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۷۷۳۵ ، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲)

امام ابو عمران عبدالبر علیہ الرحمہ استیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی علیہ الرحمہ سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ حد المفتری ۔
ترجمہ : میں جسے پاؤں گا کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسّی کوڑے لگاؤں گا ۔ (جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی، حدیث ۷۷۴۷، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، ترجمہ ۲۲، عبداللہ ابن ابی قحافہ ، دارالفکر بیروت، ۱۳/ ۱۱۰)

ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداللہ بن کثیر راوی ، امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلداوجیعا ۔
ترجمہ : جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ سے افضل کہے گا اسے درد ناک کوڑے لگاؤں گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۷۷۲۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۹،چشتی)(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۳۶۱۰۳، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۳/ ۹)

امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرک اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی ، امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سبق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواللہ عمن یشاء ۔ وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے ، پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسّی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے ۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم، مناقب ابی بکر، دارالفکر بیروت، ۳/ ۶۸۔۶۷)(کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۳۶۱۰۲، موسسۃ الرسالہ،بیروت، ۱۳/ ۹)(جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۷۷۲۲، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)

ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی ، ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : آپ خیر الناس ہیں ۔ فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے ؟ کہا نہ ۔ فرمایا : ابو بکر کو دیکھا ؟ کہا : نہ فرمایا : عمر کو دیکھا ؟ کہا : نہ ، فرمایا : اما انک لو قلت انک رأیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقتلتک ولو قلت رأیت ابا بکر و عمر لجلد تک ۔
ترجمہ : سن لے اگر تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے کے بعد خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اقرار کرتا اور پھر مجھے خیرالناس کہتا تو میں تجھے قتل کرتا اور اگر تو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کو دیکھے ہوتا اور مجھے افضل بتاتا تو تجھے حد لگاتا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ العشاری، حدیث ۷۷۴۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(کنزالعمال بحوالہ العشاری، حدیث ۳۶۱۵۳،موسسۃ الرسالہ بیروت، ۱۳/ ۲۶)

ابن عسا کر سیدنا عمار بن یا سر رضی اللہ عنہما سے راوی ، امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لایفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاوقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : جو مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم پر تفضیل دے گا وہ میر ے اور تمام اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق کا منکر ہو گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر، حدیث ۷۷۳۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۔۲۲۱)
حضرات شیخین اوّلین جنتی ہیں:

ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی ، میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا ؟ فرمایا : ابوبکر و عمر ۔ میں نے عرض کی : یا امیر المؤمنین ! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گے ؟ فرمایا : ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علٰی فرشہا وانا موقوف بالحساب ۔
ترجمہ : ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشک وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے ، اس کے پانی سے سیراب ہوں گے ، اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والا صفہانی الخ حدیث ۷۷۲۰، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)

ابو ذر ہروی و دارقطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے راوی میں نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی : یا خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال مھلا یا ابا جحیفۃ الا اخبرک بخیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر و عمر ۔ یا خیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا ٹھہرو اے ابو جحیفہ ! کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ کون ہے ؟ فرمایا اے ابوجحیفہ ! خیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ الصابونی فی المائتین، حدیث ۷۷۳۴، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲،چشتی)(کنزالعمال بحوالہ الصابونی فی المائتین، وطس وکر حدیث ۳۶۱۴۱،موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۱۳/ ۲۱)

ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا : ان افضل الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان ۔
ترجمہ : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم ہیں ، اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان ۔ (کنز العمال، بحوالہ ابن عسا کر وحل ابن شاہین فی السنہ، حدیث ۸۰۰۶،دارالفکربیروت، ۱۶/ ۲۹۰،چشتی)

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے سنا ابوبکر سے بہتر کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ اس کے بعد حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے روایت میں غلط بیانی کی ہو تو مجھے شفاعت نصیب نہ ہو اور میں تو قیامت کے دین صدیق کی شفاعت کا طلب گار رہونگا ۔ اسی کے ساتھ دوسری روایت ہے کہ ساری امت سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (الرّیاض النضرہ مترجم اردو جلد اوّل صفحہ نمبر 267 ، 268 مطبوعہ مکتبہ نورِ حسینیہ لاہور،چشتی)

حضرت ابو الدرداء رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : انبیاء کرام علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) سے افضل کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ ایک روایت میں ہے کہ انبیاء و رسل علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر سے زیادہ افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ حضرت جابر رضی ﷲ عنہ کی حدیث میں بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں فرمایا ﷲ کی قسم آپ سے افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ (مسند عبد بن حمید حدیث 212، ص 101 ابو نعیم طبرانی)

حضرت عمرو رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال باکمال کے بعد افضل ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اﷲ عنہم اجمعین ہیں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107،چشتی)

ابوالبختری طائی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا ، میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر اور وہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اُمّت کے والی یعنی خلیفہ ہوں گے اور وہی اُمّت میں سب سے افضل اور سب سے بڑھ کر نرم دل ہیں ۔ (ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 73)

حضرت محمد بن حنفیہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے (فرماتے ہیں) کہ میں نے اپنے باپ حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے عرض کی کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکر ، میں نے عرض کی ، پھر کون ؟ فرمایا حضرت عمر رضی ﷲ عنہم ۔ (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،حدیث 3671، جلد 2، ص 522)

حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ۔ میری امت میں میرے بعد سب سے بہتر شخص ابوبکر ہیں ، پھر عمر ۔ (ابن عساکر)

حضرت ابو حجیفہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر میں داخل ہوا ۔ میں نے عرض کی اے رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل شخص ! تو آپ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا اے ابو حجیفہ ! کیا تجھے بتاؤں کہ رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے افضل کون ہے ؟ وہ حضرت ابوبکر ہیں ، پھر حضرت عمر ، اے ابو حجیفہ ! تجھ پر افسوس ہے ، میری محبت اور ابوبکر کی دشمنی کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہوسکتی اور نہ میری دشمنی اور ابوبکر و عمر کی محبت کسی مومن کے دل میں جمع ہوسکتی ہے ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی من اسمہ علی، حدیث 3920، جلد 3، ص 79)

حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر عرض کی کہ اے ﷲ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ! ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر فرمایئے ۔ ارشاد فرمایا کہ نہیں ! ﷲ تعالیٰ اسے تم پر خلیفہ مقرر فرمادے گا جو تم میں سب سے بہتر ہوگا پھر ﷲ تعالیٰ نے ہم میں سے سب سے بہتر ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو جانا ، جنہیں ہم پر خلیفہ مقرر فرمایا ۔ (دارقطنی، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 290-289)

ہمدانی سے باکمال روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنے وصال کے وقت مجھے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر ، ان کے بعد عمر ، ان کے بعد عثمان خلیفہ ہے۔ بعض روایات میں یہ لفظ ہے کہ پھر انہیں خلافت ملے گی ۔ (ابن شاہین، فضائل الصدیق لملا علی قاری، ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 5، ص189،چشتی)

حکم بن حجل سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو بھی مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما پر فضیلت دے اس پر جھوٹ بولنے کی حد جاری کروں گا ۔ (الصارم المسلول، ص 405)

اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ پر فضیلت دے گا، اسے بہتان کی سزا میں درے لگاؤں گا اور اس کی گواہی ساکت ہوجائے گی یعنی قبول نہیں ہوگی ۔ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36097، جلد 13،ص 6/7)

حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے معلوم ہوا کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے افضل بتاتے ہیں۔ آئندہ جو مجھے ان سے افضل بتائے گا وہ بہتان باز ہے ۔ اسے وہی سزا ملے گی جو بہتان لگانے والوں کی ہے ۔ (تاریخ دمشق، جلد 30، ص 382)

حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دینے والا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی نظر میں : ⬇

سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو شخص حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دے گا تو میرے نزدیک اس کی توبہ کبھی بھی قبول نہیں ہوگی ۔ (ابن عساکر، فضائل الصحابۃ للدار قطنی)

ابن شہاب عبد ﷲ بن کثیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ہم سے محبت اور ہماری جماعت سے ہونے کا دعویٰ کریں گے ، مگر وہ ﷲ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے شریر ہوں گے جوکہ حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دیں گے ۔ (ابن عساکر، کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36098)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت بر سر ممبر بیان فرمائی : ⬇

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس امت میں نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے افضل ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں ۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ بات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تواتر کے سات ثابت ہے ۔ تاریخ الاسلام باب عہد الخلفاء جلد نمبر صفحہ نمبر 115 امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)

حضرت عمرو رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال باکمال کے بعد افضل ابوبکر، عمر اور عثمان رضی ﷲ عنہم اجمعین ہیں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سب سے بہتر ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 33 امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اسناد صحیح ہیں)

جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دے گا میں اسے مفتری کی حد کوڑے لگاؤں گا اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد افضل ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔فرمان حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم صفحہ 34 امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سب سے افضل ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 37 اس روایت کےرجال ثقہ ہیں)

حضرت ابراہیم نخعی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مولیٰ علی رضی ﷲ عنہ کو خبر پہنچی کہ عبد ﷲ بن اسود حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کی توہین کرتا ہے تو آپ نے اسے بلوایا ، تلوار منگوائی اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا پھر اس کے بارے میں سفارش کی گئی تو آپ نے اسے تنبیہ کی کہ جس شہر میں رہوں ، آئندہ تو وہاں نہیں رہے گا ، پھر اسے ملک شام کی طرف جلا وطن کردیا ۔ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36151)

افضلیت ابوبکر صدیق پر مولا علی رضی ﷲ عنہما کے اقوال کتب شیعہ سے : ⬇

حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ۔ ابوبکر کو سب لوگوں سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے نماز کے ساتھی اور ثانی اثنین ہیں اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی حیات ظاہری میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا ۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی حدید شیعی، جلد اول، ص 332)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : ان خیر ہذہ الامۃ بعد نبیہا ابوبکر و عمر ۔
ترجمہ : اس امت میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر و عمر ہیں ۔ (کتاب الشافی، جلد دوم، ص 428،چشتی)

حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر و عمر کے بارے میں فرمایا : انہما اماما الہدی و شیخا الاسلام والمقتدی بہما بعد رسول اللہ ومن اقتدی بہما عصم ۔
ترجمہ : یہ حضرت ابوبکر و عمر دونوں ہدایت کے امام اور شیخ الاسلام اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد مقتدیٰ ہیں اور جس نے ان کی پیروی کی، وہ برائی سے بچ گیا ۔ (تلخیص الشافی للطوسی، جلد 2،ص 428)

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ان ابابکر منی بمنزلۃ السمع وان عمر منی بمنزلۃ البصر ۔
ترجمہ : بے شک ابوبکر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میرے کان اور عمر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میری آنکھ ۔ (عیون اخبار الرضا لابن بابویہ قمی، جلد اول، ص 313، معانی الاخبار قمی، ص 110، تفسیر حسن عسکری،چشتی)

حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ کے منبر پر ارشاد فرمایا : لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حد المفتری ۔
ترجمہ : اگر ایسا شخص میرے پاس لایا گیاتو جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتا ہوگا تو میں اس پر مفتری کی حد جاری کروں گا ۔ (رجال کشی ترجمہ رقم (257) معجم الخونی (جلد ص 153)

مولا علی رضی ﷲ عنہ کو صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ پر فضیلت دینے والوں کو تنبیہ شیعہ حضرات کی کتب سے شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے ان کو افضل کہنے والوں کےلیے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے ۔ فرمان مولا علی رضی ﷲ عنہ : جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ۔ حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہما سے ان کو افضل کہنے والوں کے لئے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے اور حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ شیعوں کا محققِ اعظم لکھتا ہے : انہ رای علیا (علیہ السلام) علی منبر بالکوفۃ وہو یقول لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر لا جلدنہ حد المفتری ،،،، وحب ابی بکر و عمر ایمان و بغضہما کفر ۔
ترجمہ : انہوں نے حضرت علی کو کوفہ کے منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو مجھے ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ،،،،،،، حضرت ابو بکر عمر (رضی اللہ عنہما) کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 283 مطبوعہ بیروت لبنان)،(رجال کشی صفحہ 338 ، سطر 4 تا 6، مطبوعہ کربلا)

اے محبتِ حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کا دعویٰ کرنے والو اب جواب دو تم لوگ حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی بات مانو گے یا سڑک چھاپ جاہل ذاکروں ، جاہل پیروں اور جاہل خطیبوں کی ؟ ۔

مذکورہ دلائل سے پوری امت میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ہے جو ثابت ہو گئی ۔ اور تفضیلیوں اور رافضیوں کے استدلال باطل کا مدلل و منہ توڑ جواب ہو گیا الحَمْدُ ِلله ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا منکر اہل سنت سے خارج اور فتنہ گر ہے اہلسلنت میں چھپے جہلا کو مدلل جواب

افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا منکر اہل سنت سے خارج اور فتنہ گر ہے اہلسلنت میں چھپے جہلا کو مدلل جواب محترم قارئینِ کرام : مسلمانوں کا متف...