Saturday, 23 May 2026

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں


محترم قارئینِ کرام : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) حضرت ادریس علیہ السلام (2) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ اوردو زمین پر ۔ (1) حضرت خضر علیہ السلام ۔ (2) حضرت الیاس علیہ السلام ۔ حضرت خضر علیہ السلام سمندر پر اور حضرت الیاس علیہ السلام خشکی پر مُنْتَظِم ہیں ۔ (تفسیر روح البیان سورة الصافات آیت نمبر ۱۲۳  جلد ۷ صفحہ ۴۸۱ ، ۴۸۳)


حظرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آج بھی چار نبی علیہم السلام (دنیاوی حیات کے ساتھ) زندہ ہیں دو زمین پر ہیں اور دو آسمان میں ، جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں علہیم السلام ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)(الدرالمثور جلد ٧ صفحہ ١٠٣ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)


یاد رہے کہ چار انبیاء علیہم ُالصلوٰۃ والسلام وہ ہیں جن پر ابھی ایک آن کےلیے بھی موت طاری نہیں ہوئی ۔ دو آسمان پر حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ اور دو زمین پر حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہمُ الصلوٰۃ والسلام ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ 505)


نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے زمانہ میں اور آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا ، اگر پہلے کے کوئی نبی زندہ ہوں تو مضائقہ نہیں ان کی زندگی حضور انور کے خاتم النبیین ہونے کے خلاف نہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 8)


بارگاہِ رسالت میں حاضری: حضرت الیاس علیہ السَّلام نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کو ایک غار میں یہ دعا کرتے ملے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنْ اُمَّۃِ اَحْمَدَ الْمَرْحُوْمَۃِ الْمُبَارَکَۃِ الْمُسْتَجَابِ لَھَا ، یعنی اے اﷲ ! مجھے احمد کی امت سے بنادے جس پر تیری رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور جس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 213)(فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 639،چشتی)


اور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پہنچانے کا فرمایا کہ آپ کے بھائی الیاس آ پ کو سلام بھیجتے ہیں ، نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں تشریف لائے اور حضرت الیاس سے معانقہ فرمایا پھر دونوں مقدس حضرات نے وہیں بیٹھ کر آپس کی کچھ گفتگو بھی کی ۔ (فیض القدیر جلد 3 صفحہ 672 تحت الحدیث : 4133)


صلح حدیبیہ کے موقع پر جو بیعتُ الرضوان لی گئی اس میں حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السَّلام بھی شامل تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 274)


حضرت الیاس اور حضرت خضر علیہما السلام دونوں نبی رمضان کے مبارک مہینے میں بیتُ المقدس میں ہوتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، دونوں صاحبان حج کو ہرسال تشریف لاتے ہیں بعدِ حج آبِ زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تک ان کے کھانے پینے کو کفایت کرتا ہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی جلد 8 صفحہ 86 سورہ الصفت آیت ننبر 123،چشتی)(فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 401)


ایک روایت کے مطابق ہر سال حج کے موسم میں مِنیٰ کے مقام پر ملاقات کرتے ، ایک دوسرے کا حلق فرماتے اور ان کلمات پر باہمی ملاقات ختم فرماتے ہیں : سُبْحٰنَ اللهِ مَا شَاءَ اللهُ لَا يَسُوقُ الْخَيْرَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا يُصْلِحُ السُّوْ ءَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ یعنی اللہ پاک ہے ، جو اللہ چاہے، بھلائی صرف اللہ لاتا ہے ، جو اللہ چاہے ، بُرائی کو صرف اللہ ٹالتا ہے ، جواللہ چاہے ، نیکی کی طاقت صرف اللہ کی توفیق سے ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 211)


حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں : جو ان کلمات کو صبح و شام تین بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے ڈوبنے، جل جانے اور  (اس کا مال) چوری ہونے سے محفوظ رکھے گا، شیطان، ظالم بادشاہ، سانپ اور بچھو سے بھی حفاظت کی جائے گی ۔ (سیرت حلبیہ جلد 3 صفحہ 212)


 وفات مبارکہ: سال کے باقی دنوں میں حضرت الیاس علیہ السَّلام تو جنگلوں اور میدانوں میں گشت فرماتے رہتے ہیں اور پہاڑوں اور بیابانوں میں اکیلے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں جبکہ حضرت خضر علیہ السَّلام دریاؤں اور سمندروں کی سیر فرماتے اور اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں،یہ دونوں مقدس حضرات دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے تابع ہیں اور آخری زمانے میں وفات پائیں گے ۔ (عجائب القرآن صفحہ 294)(مستدرک جلد 3 صفحہ 470 حدیث نمبر 4175،چشتی)(فیض القدیر جلد 4 صفحہ 572 تحت الحدیث : 5880)


امام ابن عسا کر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، ہم ایک جگہ ٹھہرے تو وہاں وادی میں ایک شخص یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے بنا دے جو مرحومہ اور مغفورہ ہے اور ثواب پانے والی ہے ، پس میں نے وادی میں جھانک کر دیکھا تو ایک آدمی کھڑا تھا جس کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سوفٹ) تھا ، اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا میں انس بن مالک ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم ہوں ، اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ، میں نے کہا وہ یہیں ہیں اور تمہاری باتیں سن رہے ہیں ، اس نے کہا تم ان کے پاس جائو اور ان کو میرا سلم پہنچاٶ اور ان سے کہو کہ آپ کا بھائی آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، پس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ، آپ آئے اور آپ نے ان سے ملاقات کی اور ان سے معانقہ کیا اور سلام کیا اور سلام کیا پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ، انہوں نے کا یا رسول اللہ ! میں سال میں صرف ایک دن کھانا کھاتا ہوں اور آج میرے کھان کا دن ہے ، پس آپ اور میں دونوں کھاتے ہیں ، پھر آسمان سیایک دستر خوان نازل ہوا اس میں روٹیذ مچھلی اور اجوائن تھی ، ان دونوں نے وہ کھانا کھایا اور مجھے بھی کھلایا اور ہم نے عصر کی نماز پڑھی ، پھر آپ نے ان کو الوداع کیا وہ بادل میں بیٹھ کر آسمان کی طرف چلے گئے ، امام عسا کر کہتے ہیں کہ حافظ بیہقی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٩،چشتی)(المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ طبع قدیم)(المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٢١ طبع جدید)


امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ اس حدیث میں جو قصہ ذکر کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معجزات عطاء فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات عطا فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں وہ کافی ہیں ۔ (دلائل النبوۃ جلد ٥ صفحہ ٤٢٢ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢٣ ھ)


حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں : یہ قصہ حترت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے وہ کہتے ہیں ہم غزوہ تبوک میں ایک جگہ پہنچے جس کا نام الحوزۃ تھا ، تہائی رات کے بعد ہمیں ایک غم ناک آواز سنائی دی : اے اللہ ! مجھے امت محمد سے بنادے جو مرحوم اور مغفور ہے اور جس کی دعا قبول ہوتی ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حذیفہ ! اور اے انس ! تم اس گھاٹی میں جاٶ اور دیکھو یہ کیسی آواز ہے ، اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کے قصہ کو حافظ ابن عسا کرنے زیادہ تفصیل سے لکھا ہے ، اور اس کے آخر میں لکھا ہے یہ حدیث منکر ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٦٠ ۔ ١٥٩ رقم الحدیث : ٢٢٧٥ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ،چشتی)


مام حاکم نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد جو لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے (المستدرک جلد ٢ صفحہ ١١٦)


اس پر شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذھبی متوفی ٨٤٨ ھ نے تلخیص المستدرک میں یہ تبصرہ کیا ہے : بلکہ یہ حدیث موضوع ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو خراب کرے جس نے اس حدیث کو وضع کیا ہے ، مجھے یہ گمان نہ تھا کہ حاکم کا جہل اس حد تک پہنچے گا کہ وہ ایسی حدیث کو صحیح الاسناد کہیں گے ۔ (تلخیص المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ دارالباز للنشر والتویع مکہ مکرمہ)


اور میران الاعتدال میں یہ تبصرہ کیا ہے : پس حاکم کو اس سے حیاء نہیں آئی کہ اس نے اس کو صحیح کہا ۔ (میزان الاعتدال جلد ٧ صفحہ ٢٦٤ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٦ ھ)


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی المتوفی ٧٧٤ ھ نے اس روایت پر یہ تبصرہ کیا ہے : حاکم نیشاپوری پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی مستدرک میں درج کیا ہے ، حالانکہ یہ حدیث موضوع ہے اور احادیث صحیحہ کے حسبِ ذیل وجوہ سے مخالف ہے : ⏬


(١) حدیث صحیح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ، بیشک اللہ نے آدم کو پیدا کیا آسمان میں ان کے جسم کا طول ساٹھ ذراع (نوے فٹ) تھا ، (الی قولہ) پھر مخلوق کا قدکم ہوتے ہوتے اتنا رہ گیا جتنا اب ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٢٦)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤١)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٦٢)(الاسماء والصفات صفحہ ٢٩٠ ۔ ٢٨٩)(شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٩٨)(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٨)(المستدرک جلد ١ صفحہ ٦٤،چشتی)(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٤٣٥)(مسند احمد جلد ٢ صفحہ ٣١٥ رقم الحدیث : ٨١٧١ دارالفکر)(مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦٥٨٠) ۔ اور اس روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سو فٹ) تھا ۔


(٢) اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں گئے حتی کہ آپ خود ان کے پاس گئے اور یہ صحیح نہیں کیونکہ ان پر یہ حق تھا کہ وہ خود خاتم الانبیاء کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔


(٣) اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضرت الیاس سال میں صرف ایک مرتبہ کھاتے تھے ، اور وہب بن منبہ سے یہ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کھانے اور پینے کی لذت سلب کرلی تھی اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ سال میں صرف ایک بار زمزم کا پانی پیتے تھے اور یہ تمام اشیاء متعارض اور باطل ہیں ان میں سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۔


(٤) حافظ ابن عسا کرنے اس حدیث کو واثلہ بن الاسقع سے بھی روایت کیا ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے اور اس میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس حضرت انس بن مالک اور حضرت حذیفہ بن یمان کو بھیجا تھا اور اس میں یہ ذکر ہے کہ ان کا قدان سے دو یا تین ذراع زیادہ تھا ، اور اس میں یہ ذکر ہے کہ جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے تو انہوں نے جنت کا کھانا کھایا ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت الیاس نے کہا میں ہر چالیس دن کے بعد کھانا کھاتا ہوں ، اور اس میں یہ ہے کہ آسمان سے نازل ہونے والے دستر خوان میں روٹی ‘ انار ‘ انگور ‘ بادام ‘ تازہ کھجوریں اور سبزیاں تھیں ‘ اور اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خضر کے متعلق سوال کیا تو حضرت الیاس نے کہا میں سال کی ابتداء میں ان سے ملاقات کروں گا اور آپ نے فرمایا کہ جب آپ کی ان سے ملاقات ہو تو آپ ان سے میرا سلام کہیں ‘ اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس موجود ہیں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ نو ہجری تک خضر اور حضرت الیاس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور یہ وہ چیز ہے جو شرعاً جائز نہیں اور یہ بھی موضوع ہے ۔ (البدایہ والنہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ ۔ ٤٤٤ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ)


حضرت الیاس (علیہ السلام) سمیت چار نبیوں کے ابھی تک زندہ ہونے پر حافظ ابن کثیر کا تبصرہ اور اس پر فقیر کا تبصرہ : کعب نے روایت کیا ہے کہ آج بھی چار نبی رندہ ہیں دوزمین پر ہیں اور دو آسمان میں ہیں ‘ جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)


مذکورہ روایت کے متعلق حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : ہم اس سے پہلے بعض لوگوں کا یہ قول ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہر سال ماہ رمضان میں بیت المقدس میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور وہ ہر سال حج کرتے ہیں اور ززم سے پانی پیتے ہیں جو ان کو اگلے سال تک کے لیے کافی ہوتا ہے ‘ اور ہم وہ دیث بیان کرچکے ہیں کہ وہ دونوں ہر سال میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور ہم یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہے ‘ اور جو چیز دلیل سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور اسی طرح حضرت الیاس بھی ‘ اور وہب بن منبہ نے جو یہ روایت کیا ہے کہ جب حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تکذیب کی اور ان کو ایذاء پہنچائی تو حضرت الیاس نے اپنے رب سے دعا کی ‘ پھر آگ کے رنگ کا ایک جانور آیا ‘ حضرت الیاس اس پر سوار ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو نور کا لباس پہنا دیا اور ان سے کھانے اور پینے کی لذت کو منقطع کردیا اور وہ فرشہ اور بشر کی صورت میں زمین آسمان پر گئے ‘ اور انہوں نے الیسع بن اخوطب کو وصیت کی ‘ سو اس روایت پر اعتراضات ہیں اور یہ اسرائیلیات میں سے ہے جس کی تصدیق واجب ہے نہ تکذیب ‘ بلکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ روایت بہت بعید ہے۔ (البدایہ النہایہ ج ٠ ص ٤٤٤۔ ٤٤٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)


اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت الیاس اور خضر (علیہما السلام) پر ابھی تک طبعی موت نہیں آئی ‘ لیکن بہر حال قیامت سے پہلے ان پر موت آئے گی اور واضح رہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو موت کے بعد پھر حیات عطا کردی جاتی ہے اور انبیاء علیہم السلام پر صرف ایک آن کے لیے موت آتی ہے ‘ اسی طرح حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابھی تک موت نہیں آئی لیکن قیامت سے پہلے ان پر بہر حال موت آئے گی ۔


حضرت الیاس کے لوگوں سے ملاقات کرنے کی روایت : ⏬


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : حافظ ابن عسا کرنے کئی سندوں سے یہ روایت ذکر کی ہیں کہ حضرت الیاس کی اللہ کے بندوں سے ملاقات ہوئی ‘ یہ تمام روایات ضعیف یا مجہول ہیں اور بہترین حدیث وہ ہے جس کو امام ابن ابی الدنیا نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے : ثابت بیان کرتے ہیں کہ ہم مصعب بن الزبیر کے ساتھ کوفہ کے مضافات میں تھے ‘ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی سو میں نے سورة المومن کی یہ تین آیتیں تلاوت کیں۔ حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافرالذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول اس وقت میرے پیچھے ایک شخص سرخ خچر پر سوار کھڑا تھا اور اس نے یمن کا لباس پہنا ہوا تھا ‘ اس نے کہا جب تم غافر الذنب پڑھو تو یہ دعا کر ویا غافر الذنب اغفرلی ذنبی ( اے گناہ بخشنے والے میرے گناہ بخش دے) اور جب تم پڑھو قابل التوب تو یہ دعا کرو یا قابل التوب تقبل توبتی (اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول فرما) اور جب تم پڑھو شدید العقاب تو یہ دعا کرو یا شدید العقاب لا تعاقبنی (اے سخت سزا دینے والے مجھے سزانہ دینا) اور جب تم پڑھو ذی الطول تو یہ دعا کرنا یا ذالطول تطول علی برحمتی ( اے قدرت والے ! اپنی قدرت سے مجھ پر رحمت نازل فرما) میں نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ‘ میں باغ سے باہر نکل آیا اور لوگوں سے پوچھا کیا تم نے ایک شخص کو دیکھا ہے جو سرخ خچر پر سوار تھا اور اس نے یمنی لباس پہنا ہا تھا ‘ لوگوں نے کہا یہاں پر ایسا کوئی شخص نہیں تھا ‘ اور ان کا یہ گمان تھا کہ وہ شخص حضرت الیاس کے سوا اور کوئی نہیں تھا ۔ (البدایہ النہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ،چشتی)


حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو حسن کے بجائے احسن لکھا ہے اور اس سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔


ان چار حضرات کو وعدہ الٰہیہ آیا ہی نہیں ۔ ان میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پر ۔ حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السلام زمین پر ہیں اور حضرت عیسیٰ و حضرت ادریس علیہما السلام آسمان پر ۔ (ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 484)


حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا واقعہ : ⏬


قرآن مجید میں ارشاد ہے : ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا ۔ (سورہ مریم آیت نمبر 57)


 بعض روایات میں ہے کہ بعد موت آپ آسمان پر تشریف لے گئے ۔(تفسیر البغوی) ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک بار آپ دوپہر، دھوپ کی شدت میں تشریف لے لیے جا رہے تھے ۔ آپ کو سخت تکلیف ہوئی ۔ خیال فرمایا کہ جو فرشتہ آفتاب پر مقرر ہے اسے کس قدر تکلیف ہوتی ہوگی ؟ عرض کی : یا اللّٰہ ! اس فرشتہ پر تخفیف فرما ۔ فورا دعا قبول ہوئی اور اس ہر تخفیف ہو گئی ۔ اس فرشتہ نے عرض کی : یا اللّٰہ ! مجھ پر تخفیف کس طرف سے آئی ؟ ارشاد ہوا : میرے بندے ادریس نے تری تخفیف کے واسطے دعا کی ، میں نے اس کی دعا قبول کی ، عرض کی : مجھے اجازت دے کہ میں ان کی خدمات میں حاضر ہوں ۔ اجازت ملنے پر حاضر ہوا ۔ تو تمام واقعہ بیان کیا اور عرض کیا کہ اگر کوئی بات ہو تو ارشاد فرمائیں ۔ فرمایا : مجھے ایک مرتبہ جنت میں لے چلو ۔ عرض کی : یہ تو میرے قبضے سے باہر ہے لیکن عزرائیل علیہ السلام سے میرا دوستانہ ہے ، ان کو لاتا ہوں شاید کوئی تدبیر چل جائے ۔ غرض عزرائیل علیہ السلام آئے ، آپ نے ان سے فرمایا : انہوں نے عرض کی : حضور ! بغیر موت کے تو جنت میں جانا نہیں ہو سکتا ۔ فرمایا : روح قبض کر لو ۔ انہوں نے بحکم خدا ایک لمحے کےلیے ان کی روح قبض کی اور فوراً جسم میں ڈال ڈی ۔ آپ نے فرمایا : مجھے جنت اور دوزخ کی سیر کراؤ ۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام حضرت ادریس علیہ السلام کو دوزخ پر لائے ، طبقات جہنم کھلوائے ، آپ دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے ۔ عزرائیل علیہ السلام وہاں سے لے کر آئے توان کے ہوش میں آنے کے بعد عرض کیا : یہ تکلیف آپ نے اپنے ہاتھوں سے اٹھائی ۔ پھر جنت میں لے گئے ، وہاں کی سیر کرنے کے بعد عزرائیل علیہ السلام نے چلنے کے واسطے عرض کیا ۔ آپ نے دو مرتبہ التفات نہ فرمایا ۔ تیسری بار فرمایا کہ اب چلنا کیسا ، جنت میں آکر بھی کوئی وآپس جاتا ہے ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے واسطے بھیجا ۔ عزرائیل علیہ السلام سے بات کرنے کے بعد فرشتے نے حضرت ادریس علیہ السلام سے پوچھا : آپ واپس تشریف کیوں نہیں لے جاتے ؟ ارشاد فرمایا : اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،(سورہ أل عمران آیت نمبر 185) ، اور میں موت کا مزہ چکھ چکا ہوں ۔ اور فرماتا ہے : تم میں سے ہر ایک جہنم کی سیر کرے گا ۔ (سورہ مریم آیت ننبر 171) ، اور میں جہنم کی سیر بھی کر آیا ہوں ، اور فرماتا ہے : اور وہ لوگ جنت سے کبھی نہ نکالے جائیں گے (الحجر آیت ننبر 48) ، اب میں جنت میں آگیا ، کیوں جاؤں ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرا بندہ ادریس علیہ السلام سچا ہے ، اس جو چھوڑ دو ۔ ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 485)


فتویٰ دارالعلوم دیوبند : ⏬


چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام

سوال

محترم المقام السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ


لوگ کہتے ہیں کہ چار انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں ؛ جن میں دو آسمانوں میں ہیں:حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام ، جب کہ دو اسی دنیا میں ہیں: حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟ نیز، مہربانی فرماکرکیا اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ حضرت خضر و حضرت الیاس علیہما السلام کہاں ہیں ؟ ۔ شکریہ ! والسلام ۔


جواب : بسم الله الرحمن الرحيم ۔ (فتوی: ۱۷۶/ب) ۔ تحقیق یہ ہے کہ صرف ایک نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان پر موجود ہیں ، حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں جس آیت سے آسمان پر اٹھائے جانے کا مفہوم نکلتا ہے اس سے مراد رفعت مکانی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے مرتبہ کو بلند فرمایا ۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں زندہ ہونے کی کوئی آیت یا حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری۔ حضرت خضر علیہ السلام، صحیح قول کے مطابق وہ نبی نہ تھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء ، دارالعلوم دیوبند ۔ اس فتوے کا لنک : ⏬

چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام https://www.darulifta.info/d/deoband/fatwa/vq/char-anbyaaa-ka-znd-ona-aor-hdrt-khdr-o-alyas-aalym-alslam-ka-mkam


حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مکان پر اٹھالینے کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے آپ علیہ السلام کے مرتبے کی بلندی مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور زیادہ صحیح یہی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے ۔ (تفسیر خازن سورہ مریم آیت نمبر ۵۷ جلد ۳ صفحہ ۲۳۸) ۔ اور آپ علیہ السلام اب بھی حیاتِ ظاہری سے متصِف ہیں ۔


اللہ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے : اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورہ آلعمران آیت نمبر ۵۵)

ترجمہ : یاد کرو جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہیں پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے نجات عطاکروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے توجن باتوں میں تم جھگڑتے تھے ان باتوں کا میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا ۔


پہلی بات تَوَفّٰی ہے ۔ مرزائیوں نے آیتِ پاک کے ان الفاظ کو بنیاد بنا کر یہود و نصاریٰ کی پیروی میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ کیا اور یہ سراسر غلط ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ تَوَفّٰی کا حقیقی معنی ہے ، پورا کرنا ، جیسے قرآن پاک میں ہے : وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ۔ (النجم آیت نمبر ۳۷)

ترجمہ : اور ابراہیم جو پورے احکام بجا لایا ۔


اور یہ موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، لیکن یہ ا س کا مجازی معنی ہے اور جب تک کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو اس وقت تک لفظ کا حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا ، اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں کہ تَوَفّٰی کا معنی موت کیا جائے بلکہ اس کا حقیقی معنی مراد لینے پر واضح قرائن بھی موجود ہیں اور وہ قرائن احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قربِ قیامت میں واپس تشریف لائیں گے ۔ لہٰذا اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی ۔ دوسرے نمبر پر بالفرض اگر تَوَفّٰی کا معنیٰ ،وفات دینا، ہی ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ صرف یہ فرمایا ہے کہ ، اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دوں گا ۔ تو یہ بات تو ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات پائیں گے ، یہ معنی نہیں ہے کہ ہم نے تجھے فوت کر دیا ۔ اب یہ بات کہ آیت میں تَوَفّٰی یعنی وفات دینے کا پہلے تذکرہ ہے اور اٹھائے جانے کا بعد میں اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جا چکے ہیں لہٰذا ان کی وفات بھی پہلے ثابت ہو گئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں ’’مُتَوَفِّیْكَ‘‘ اور ’’رَافِعُكَ‘‘ کے درمیان میں ’’واؤ‘‘ ہے اور عربی زبان میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں آتی کہ جس کا مطلب یہ نکلے کہ وفات پہلے ہوئی اور اٹھایا جانا بعد میں ، جیسے قرآن پاک میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا گیا : وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ ۔ (سورہ آلِ عمران آیت نمبر ۴۳)

ترجمہ : اور سجدہ اور رکوع کر ۔

یہاں سجدے کا پہلے تذکرہ ہے اور رکوع کا بعد میں ، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا رکوع بعد میں کرتی تھیں اور سجدہ پہلے ، ہر گز نہیں ۔ لہٰذا جیسے یہاں ’’واؤ‘‘ کا آنا ترتیب کےلیے نہیں ہے ایسے ہی مذکورہ بالا آیت میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں ہے ۔

دوسری بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا ہے ۔ فرمایا گیا کہ ہم تمہیں  بغیر موت کے اٹھا کر آسمان پر عزت کی جگہ اور فرشتوں کی جائے قرار میں پہنچا دیں گے ۔ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام میری امت پر خلیفہ ہو کر نازل ہوں گے ، صلیب توڑیں گے ، خنزیروں کو قتل کریں گےط، چالیس سال رہیں گے ، نکاح فرمائیں گے ، اولاد ہوگی اور پھر آپ علیہ السلام کا وصال ہوگا ۔ وہ امت کیسے ہلاک ہو جس کا اوّل میں ہوں اور آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور وسط میں میرے اہلِ بیت میں سے حضرت مہدی رضی اللہ عنہُ ۔ (تفسیر مدارک سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۵۵ صفحہ ۱۶۳،چشتی)(ابن عساکر ذکر من اسمہ عیسیٰ ، عیسی بن مریم جلد ۴۷ صفحہ ۵۲۲)


مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منارۂ شرقی دمشق پر نازل ہوں گے ۔ (صحیح مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ صفحہ ۱۵۶۸ الحدیث : ۱۱۰ (۲۹۳۷))


یہ بھی حدیث میں ہے : نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حجرہ میں مدفون ہوں گے ۔ (الوفاء باحوالِ المصطفٰی ابواب بعثہ وحشرہ وما یجری لہ صلی اللہ علیہ وسلم الباب الثانی فی حشر عیسی بن مریم مع نبینا صفحہ ۳۲۵ الجزء الثانی)


تیسری بات کہ کفار سے نجات دلاؤں گا ۔ اس طرح کہ کفار کے نرغے سے تمہیں بچا لوں گا اور وہ تمہیں سولی نہ دے سکیں گے ۔


چوتھی بات ماننے والوں کومنکروں پر غلبہ دینا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں سے مراد ہے ’’ان کو صحیح طور پر ماننے والے‘‘ اور صحیح ماننے والے یقیناً صرف مسلمان ہیں کیونکہ یہودی تو ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن ہیں اور عیسائی انہیں خدا مانتے ہیں تو یہ ’’ماننا ‘‘ تو بدترین قسم کا ’’نہ ماننا‘‘ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی کو معبود نہ مانو اور یہ کہیں ، نہیں ، ہم توآپ کو بھی معبود مانیں گے ۔


اور دو نبی زمین پر تشریف فرما ہیں : ⏬


حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام آپ دونوں بھی حیات ہیں ۔


مرأة المناجیح میں ہے : آپ (خضر علیہ السلام) کا نام عباس یا بلیا ابن ملکان ہے ۔ آپ نوح علیہ السلام کی ساتویں پشت پر ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے ۔ آپ کا مقام سمندر ہے ۔ الیاس علیہ السلام کا مقام خشکی ہے ۔ قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ بزرگوں سے ملاقات کرتے ہیں ۔ حضور غوث پاک نے آپ سے فرمایا تھا کہ اے اسراٸیلی ولی محمدی ولی کی بات سنتے جاٸیے ۔ آپ نبی ہیں ہر سال حج کے موقع پر آپ اور الیاس علیہما السلام جمع ہوتے ہیں ۔ (مرأة المناجیح شرح مشکٰوة المصابیح جلد ٧ صفحہ ٤٢٤)


اہلسنت کے نزدیک یہ چار انبیإ آج بھی ظاہری حیات میں موجود ہیں ، بایں کہ تمام انبیاء علیہم الصلٰوة والسلام اپنی قبروں میں حیات ہیں ۔ جب قیامت قریب آئے گی تو اس وقت وفات پائیں گے اور بعض بزرگوں کی ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں محترم قارئینِ کرام : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) ح...