اذان سے پہلے اور بعد میں درود و سلام پڑھنا
محترم قارئینِ کرام : قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف بھیجنے کا حکم ہے ، لہذا عمر بھر میں ایک بار درود شریف پڑھنا فرض ہے اور ہر مجلس ذکر میں ایک بار واجب ہے۔ خواہ خود آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مبارک زبان سے بولے یا کسی اور سے سنے اور اگر ایک مجلس میں سو بار بھی اسم گرامی بولے یا سنے تو درود و سلام بھیجے ۔ (در المختار مع ردالمحتار جلد 1 صفحہ 518 طبع کراچی)
نفس مسئلہ قرآن سے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے : اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ ۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ۔ (سور الأحزاب آیت نمبر ٥٦)
ترجمہ : بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو، ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے کسی وقت کو خاص نہیں فرمایا کہ اس وقت پڑھو اور اس وقت نہ پڑھو،اور ایسے احکام جن میں کوئی قید نہ ہو ان کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر وہ کام اچھا ہے تو جہاں ، جس وقت اور جس انداز میں بھی وہ کام کیا جائے گا ، اچھا ہی رہے گا،سوائے یہ کہ کسی خاص صورت میں وہ کام کرنے کی ممانعت شریعت میں آ جائے ۔ قرآن کریم کے اس عظیم الشان ارشاد پاک سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔ نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کے اوقات متعین ہیں ۔ نماز کو اوقات مکروہہ میں ادا کرنے سے منع فرما دیا ۔ روزہ دن کو رکھنا اور وہ بھی چند دن کے سوا یعنی سال میں پانچ دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا گیا ، یعنی عیدالفطر کے دن اور چار دن ایام نحر کے (10 ، 11 ، 12 ، 13 ذی الحجہ) ۔ حج ذی الحجہ کے چند دن میں ہی ہو سکتا ہے ۔ چونکہ ان تینوں عبادات میں وقت کی پابندی ہے ، لہٰذا مقررہ وقت کے علاوہ ان پر عمل کرنا جائز نہیں ۔ مگر درود و سلام میں یہ صورت نہیں ۔ درود و سلام پڑھنے کےلیے کوئی وقت مقرر نہیں ۔
امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : عموم و اطلاق سے اِستدلال زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے آج تک علماء میں شائع و ذائع ، یعنی جب ایک بات کوشرع نے محمود فرمایا ، تو جہاں اور جس وقت اور جس طرح وہ بات واقع ہوگی ، ہمیشہ محمود رہے گی ، تاوقتیکہ کسی صورتِ خاصہ کی مُمانعت خاص شرع سے نہ آجائے ۔ مثلاً : مطلق ذکرِالٰہی کی خوبی قرآن وحدیث سے ثابت ، تو جب کبھی ، کہیں ، کسی طور پر خدا کی یاد کی جائے گی ، بہتر ہی ہوگی ، ہر ہر خصوصیت کا ثبوت شرع سے ضرور نہیں ، مگر پاخانہ (ٹوائلٹ) میں بیٹھ کر زبان سے یادِالٰہی کرنا ممنوع ، کہ اس خاص صورت کی برائی شرع سے ثابت ۔ غرض جس مطلق کی خوبی معلوم ، اس کی خاص خاص صورتوں کی جدا جدا خوبی ثابت کرنا ضرور نہیں ، کہ آخروہ صورتیں اسی مطلق کی تو ہیں ، جس کی بھلائی ثابت ہوچکی ، بلکہ کسی خصوصیت کی برائی ماننایہ محتاج دلیل ہے ۔ مسلم الثبوت میں ہے : شاع وذاع احتجاجھم سلفاً وخلفاً بالعمومات من غیرنکیر ‘‘ متقدمین اور متاخرین علماء کا عمومات سے استدلال کرنا ، بغیر کسی انکار کے معروف اور رائج ہے ۔ پس بحکم اطلاق جس جس طریقہ سے ان کی یاد کی جائے گی ، حسن ومحمود ہی رہے گی اور مجلس میلاد و صلوٰۃ بعدِ اذان وغیرہما کسی خاص طریقے کےلیے ثبوتِ مطلق کے سوا کسی نئے ثبوت کی ہرگز حاجت نہ ہوگی ، ہاں جوکوئی ان طُرُق کوممنوع کہے ، وہ ان کی خاص ممانعت ثابت کرے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 26 صفحہ 528 تا 530 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)
حدیث پاک میں ہر اچھے کام سے پہلے رب تعالی کی حمد اور درودِ پاک پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ اذان بھی یقیناً ایک اچھا فعل ہے ، لہذا اس سے پہلے بھی درود و سلام پڑھنا اسی حدیث پر عمل ہے ۔ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے : کل امر ذی بال لا یبدا فیہ بحمد اللہ والصلاۃ علی ، فھو اقطع ، ابتر ، ممحوق من کل برکۃ ۔
ترجمہ : ہر وہ ذی مرتبہ کام ، جس کی ابتداء اللہ تعالی کی حمد اور مجھ پر درودِ پاک بھیج کر نہ کی جائے ، تو وہ ادھورا ، نامکمل اور ہر طرح کی برکت سے خالی ہے ۔ (تیسیر شرح جامع صغیر جلد 2 صفحہ 211 مطبوعہ مکتبہ امام شافعی ریاض)
فتاویٰ شامی میں ہے : (قوله ومستحبة في كل أوقات الإمكان) أي حيث لا مانع. ونص العلماء على استحبابها في مواضع: يوم الجمعة وليلتها، وزيد يوم السبت والأحد والخميس، لما ورد في كل من الثلاثة، وعند الصباح والمساء، وعند دخول المسجد والخروج منه، وعند زيارة قبره الشريف ۔ صلى الله عليه وسلم ۔ وعند الصفا والمروة، وفي خطبة الجمعة وغيرها، وعقب إجابة المؤذن، وعند الإقامة، وأول الدعاء وأوسطه وآخره، وعقب دعاء القنوت، وعند الفراغ من التلبية، وعند الاجتماع والافتراق، وعند الوضوء، وعند طنين الأذن، وعند نسيان الشيء ۔
ترجمہ : اذان دینا تمام ممکنہ اوقات میں مستحب ہے ، یعنی جب کوئی مانع نہ ہو ۔ علمائے کرام نے ان مواضع پر اذان پڑھنا مستحب ہونے کی صراحت فرمائی ہے : جمعے کے دن اور شب جمعہ میں ، ان میں ہفتہ ، پیر اور جمعرات کا دن بھی شامل کیا گیا ہے ، کیونکہ ان تینوں ایام کے بارے میں روایات آئی ہیں ، صبح اور شام کے وقت ، مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت ، نبی کریم صلى الله عليه وآلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے وقت ، صفا مروہ کے پاس ، جمعے اور اس کے علاوہ دیگر خطبوں میں ، موذن کی اذان کا جواب دینے کے بعد ، اقامت کے وقت ، دعا کے آغاز ، درمیان اور آخر میں ، دعائے قنوت کے بعد ، تلبیہ سے فارغ ہونے کے بعد ، اکٹھے ہونے اور جدا ہونے کے وقت ، وضو کرتے وقت ، کان بجتے وقت اور کوئی چیز بھول جانے پر ۔ (ردالمحتار جلد 1 صفحہ 518،چشتی)
درود و سلام کی مثال جہاد ، سچ بولنے ، خرچ کرنے ، انصاف کرنے ، امانت ادا کرنے ، دین کی تبلیغ و تلقین ، کاروبار میں اسلامی ہدایات پر عمل کرنے ، بیوی ، بچوں ، ماں ، باپ ، ہمسائے اور دیگر مخلوق کے حقوق ادا کرنے کی سی ہے ۔ یہ سب حکم شرعی ہیں ، فرض ہیں ، مگر ان کی ادائیگی میں وقت کی قید نہیں ۔ جب موقع ملے ان پر عمل کریں، درود و سلام پر عمل کرنے کا بھی شریعت نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔ یونہی کسی بھی وقت میں درود و سلام پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا ۔ لہٰذا جب موقع ملے ، بندہ مومن درود و سلام پڑھ کر اپنے رب کا حکم بجا لا سکتا ہے اور اپنے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے ۔ جس طرح آپ ہر سڑک اور ہر راستے پر چل سکتے ہیں ، اس کےلیے ضروری نہیں کہ راستوں میں لکھا ہو ۔ آپ یہاں چل سکتے ہیں ، جس جگہ چلنا یا گزرنا منع ہو وہاں لکھا ہوتا ہے ۔ "یہاں داخلہ ممنوع ہے" اسی طرح شریعت نے جو حکم فرض و واجب تھے وہ بتا دیے گئے ، جو منع تھے ، ان سے روک دیا گیا ۔
پس درود و سلام کی ادائیگی کا حکم تو ہے وقت کی قید نہیں ۔ جب بھی کوئی مسلمان پڑھے گا، حکم قرآن و سنت پر عمل ہو جائے گا۔ اذان سے پہلے یا بعد میں بھی ۔ چونکہ قرآن و حدیث میں درود و سلام پڑھنے سے منع نہیں فرمایا گیا ، لہذا جب بھی کوئی مسلمان پڑھے قرآن و حدیث پر عمل ہو گا۔ ناجائز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو ناجائز کہے وہ قرآن و حدیث سے دلیل پیش کرے ۔ اذان سے پہلے ، اذان کے بعد ، اقامت سے پہلے ، اقامت کے بعد جب چاہیں درود شریف پڑھ سکتے ہیں، شرعاً اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ رہا یہ اشکال کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ ظاہری اور خلفائے راشدین علیہم الرضوان کے دور مبارک میں تو اذان سے پہلے دُرُودشریف نہیں پڑھا جاتا تھا ، اور اب یہ پڑھا جارہا ہے ، تو اذان سے پہلے درود پاک پڑھنے کا یہ عمل تو بدعت اور گناہ ہوگا ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً : اگریہ قاعِدہ تسلیم کر لیاجائے کہ جوکام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری اور خلفائے راشدین کے دور مبارکہ میں نہیں ہوتا تھا ، اب اسے قائم کرنا بُری بدعت اور گناہ ہے توپھر فی زمانہ دنیا کا سارا نظام دَرہم برہم ہو کر رہ جائیگا ۔ بے شمار ایسی چیزیں ہیں کہ جو اُس مُبارَک دور میں نہیں ہوتی تھیں ، مگر اب ان کو سب نے اپنایا ہوا ہے ، جیسے قرآن پاک پر نقطے اور اِعراب پہلے نہیں تھے ، قرآن پاک کی چھپائی، مسجدکے درمیان میں طاق نمُا محراب ، چھ کلمے ، علم صَرف و نَحو ، درسِ نظامی ، ہوائی جہاز کے ذریعے سفرِحج اور اس کے علاوہ سینکڑوں کام اس مبارک دَورمیں نہیں تھے ، اور اب ہیں لیکن اُنہیں کوئی گناہ و برانہیں کہتا تو پھراذان واقامت سے پہلےدرود شریف پڑھنا ہی کیوں بُری بدعت اورگناہ ہوگا ؟
ثانیاً : کسی چیز کا دور رسالت و دور صحابہ میں نہ ہونا اس کے ناجائز ہونے کےلیے دلیل نہیں ہوتا ، بلکہ ممانعت کا اصل مدار قرآن و حدیث میں اس کی حرمت کے ثابت ہونے پر ہے ، لہٰذا جس کام کو اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے تو وہ کام ناجائز ہے اور جس کام سے منع نہیں فرمایا ہے ، تو وہ کام شرعاً جائز ہے اگرچہ وہ دور رسالت و دور صحابہ میں موجود نہ ہو ۔
ثالثاً : بدعت کی دو قسمیں ہیں : ایک بدعت حسنہ یعنی وہ نیا کام جو قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو اور دوسری بدعت سیئہ یعنی وہ نیا کام جو قرآن و سنت کے خلاف ہو ۔ احادیث مبارکہ میں جو بدعت کی مذمت بیان کی گئی ہے وہاں بدعت سے مُراد یہی بُری بدعت ہے ، ورنہ اچھی بدعت تو باعث ثواب ہے ۔ لہذا کسی عمل کا مطلقاً بدعت ہونا بھی اس کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں ہوگا ، بلکہ بدعت وہ ممنوع ہے کہ جو شریعت اسلامیہ کے کسی اصول سے ٹکرانے والی ہو یا سنت کو ختم کرنے والی ہو۔ اذان سے پہلے درود شریف پڑھنا اسلام کے کسی اصول سے ٹکرانے والا ، یا کسی سنت کو ختم کرنے والا عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھا طریقہ ہے اور اسلام میں اچھا طریقہ کہ جو شریعت و سنت کے خلاف نہ ہو ، اُسے ایجاد کرنے کی تو خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترغیب ارشادفرمائی ہے اور ایجاد کرنے والے کو اس پر عمل کرنے والوں کی مثل ثواب کی بشارت دی گئی ہے ، چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے مسلمانوں میں کوئی نیک طریقہ جاری کیا اور اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا ، تو اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس جاری کرنے والے کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اَجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔
اذان کے بعد درود پڑھنے کی تو حدیث مبارکہ میں تر غیب موجود ہے، چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث مبارکہ ہے : عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول: «إذا سمعتم المؤذن، فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي، فإنه من صلى علي صلاة صلى الله عليه بها عشرا، ثم سلوا الله لي الوسيلة، فإنها منزلة في الجنة، لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله، و أرجو أن أكون أنا هو، فمن سأل لي الوسيلة حلت له الشفاعة ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم مؤذن کو سنو تو ویسا ہی کہو جیسا وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے ، اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔ پھر اللہ سے میرے لیے وسیلہ مانگو ، کیونکہ وہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو صرف اللہ کے ایک بندے کےلیے مخصوص ہوگا ، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ مانگا ، اس کےلیے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔ (صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 288 رقم الحدیث : 11 (384) دار إحياء التراث العربی بيروت،چشتی)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں ارشاد فرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ اذان کے بعد درود شریف پڑھناسنت ہے، بعض مؤذن اذان سے پہلے ہی درود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں ، ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے ۔ شامی نے فرمایا کہ اقامت کے وقت درود شریف پڑھنا سنت ہے ۔ خیال رہے کہ اذان سے پہلے یا بعد بلند آواز سے درود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے ، بلاوجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 1 صفحہ 402 نعیمی کتب خانہ گجرات)
جس کام کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح و جائز ہوتاہے، چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ ۔ وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ ۔ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ ۔ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔
ترجمہ : اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم انہیں اس وقت پوچھو گے جبکہ قرآن نازل کیا جارہا ہے تو تم پروہ چیزیں ظاہر کر دی جائیں گی اور اللہ ان کو معاف کر چکا ہے اور اللہ بخشنے والا ، حلم والا ہے ۔ (سورۃ المائدۃ آیت نمبر 101)
حلت و حرمت کا اہم اصول : اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس امر کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح و جائز ہے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ حلال وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اورحرام وہ ہے جس کو اُس نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا تووہ معاف ہے ۔ (جامع ترمذی کتاب اللباس باب ما جاء فی لبس الفراء جلد ۳ صفحہ ۲۸۰ الحدیث : ۱۷۳۲)
اسلام میں کوئی نیا نیک طریقہ ایجاد کرنے والے کی فضیلت سے متعلق صحيح مسلم کی حدیث مبارکہ ہے : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من سن في الإسلام سنة حسنة ، فعمل بها بعده، كتب له مثل أجر من عمل بها، ولا ينقص من أجورهم شيء، و من سن في الإسلام سنة سيئة ، فعمل بها بعده ، كتب عليه مثل وزر من عمل بها ، و لا ينقص من أوزارهم شيء ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے اسلام میں کوئی نیک طریقہ جاری کیا اور اس پر اس کے بعد عمل کیا گیا ، تو اس کےلیے اس پر عمل کرنے والوں کے جتنا ثواب لکھا جائے گا ، اور اُن ( عمل کرنے والوں) کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا اور اس پر اس کے بعد عمل کیا گیا ، تو اس کےلیے اس پرعمل کرنے والوں کے جتنا گناہ لکھا جائے گا جتنا اس پر ہوگا ، اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔ (صحیح مسلم جلد 4 صفحہ 2059 رقم الحدیث : 15 - (1017) دار احیاء التراث العربی بیروت،چشتی)
ممنوع بدعت سے مراد وہ بدعت ہے جو شریعت اسلامیہ کے خلاف ہو ، فتح الباری میں ہے : قال الشافعي البدعة بدعتان محمودة و مذمومة فما وافق السنة فهو محمود وما خالفها فهو مذموم ۔ و جاء عن الشافعي أيضا ما أخرجه البيهقي في مناقبه قال المحدثات ضربان ما أحدث يخالف كتابا أو سنة أو أثرا أو إجماعا فهذه بدعة الضلال و ما أحدث من الخير لا يخالف شيئا من ذلك فهذه محدثة غير مذمومة ۔
ترجمہ : امام شافعی علیہ الرحمہ نے فرمایا : بدعت کی دو قسمیں ہیں : محمودہ (تعریف کے لائق) اور مذمومہ (مذمت کے لائق) ۔ جو چیز سنت کے موافق ہو ، وہ محمود (قابلِ تعریف) ہے ، اور جو اس کے مخالف ہو ، وہ مذموم (قابلِ مذمت) ہے ۔ اسی طرح امام شافعی سے ایک اور قول جو امام بیہقی علیہ الرحمہ نے ان کے مناقب میں نقل کیا ہے ، جس میں فرمایا : نئی پیدا کی گئی چیزیں (محدثات) دو قسم کی ہوتی ہیں : جو نئی ایجاد کردہ چیزکتاب (قرآن) ، سنت (حدیث) ، اثر (صحابہ کا قول یا عمل) یا اجماع کے خلاف ہو ، تو وہ گمراہی والی بدعت ہے ۔ اور جو اچھی ایجاد کردہ چیز جو ان میں سے کسی چیز کے خلاف نہ ہو، تو وہ نئی پیدا کردہ چیز قابلِ مذمت نہیں ۔ (فتح الباری جلد 13 صفحہ 253 دار المعرفة بيروت)
حضرت عبد اللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم اذا سمعتم الموذن فقولو مثل ما يقول ثم صلو علی فانه من صلی علی صلوة صلی الله عليه بها عشرا ثم سلوا الله لی الوسيلة فانها منزلة فی الجنة لا ينبغی الا لعبد من عبادالله وارجو ان اکون انا هو فمن سال لی الوسيلة حلت عليه الشفاعة ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب موذن کو سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود و سلام بھیجو، جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس بار رحمت بھیجتا ہے ۔ پھر میرے لیے وسیلہ کی دعا کرو۔ (اللهم رب هذه الدعوة.....) یہ جنت میں ایک درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں جس نے میرے لیے وسیلہ مانگا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ، کنز العمال)
اس حدیث پاک میں اذان کے بعد درود شریف پڑھنے کا حکم ہے ۔ ارشاد بالکل واضح ہے ۔ پھر درود شریف کے بعد دعا مانگنے کا حکم ہے ۔
حدیث شریف کا نام لے کر عوام کو گمراہ کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے یہ دونوں حکم کس دلیل سے رد کیے ؟ نہ وہ اذان کے بعد درود شریف پڑھیں ، نہ دعا مانگیں۔ کیا انہوں نے کبھی ان پر عمل کیا؟ کیا اپنے عوام کو کبھی یہ حدیث شریف سنائی ؟ اگر کہو ہم دل میں پڑھتے ہیں، تو اس کی دلیل بھی قرآن یا حدیث سے پیش کریں جو قرآن و سنت پر عمل کریں وہ بدعتی نہیں، پکے مسلمان ہیں۔ جو قرآن و حدیث کی مخالفت کریں وہ پکے منکر ، بدعتی ہیں ۔ تمام منکرین جمع ہو کر بلکہ ممکن ہو تو مرے ہوؤں کو بھی بلا لیں اور ہمارے مطالبہ کا شرعی جواب دیں ۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دیگر آئمہ دین، اللہ رسول کی ہر بات ماننے والے تھے۔ جب آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے کہ اذان کے بعد درود پڑھو تو یقیناً تمام مؤذن خواہ وہ صحابہ کرام میں سے ہوں، خواہ بعد والوں میں، یقیناً اذان کے ساتھ درود و سلام بھی پڑھتے تھے اور دعا بھی مانگتے تھے۔ چونکہ آج کے بد بختوں سے پہلے کبھی کسی مسلمان نے ایسے واضح ارشاد میں شک ہی نہیں کیا، نہ سوال کیا۔ لہذا آئمہ دین نے اس کی لمبی چوڑی تفصیل کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اگر آپ کو کوئی ثبوت مل چکا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ یا دیگر اصحاب اذان کے ساتھ پہلے یا پیچھے درود و سلام نہ پڑھتے تھے، ثبوت پیش کریں۔
جب حکم شرعی واضح ہے اور صحابہ و آئمہ دین عامل بالکتاب و الحدیث تھے تو لا محالہ وہ قرآن و حدیث کے اس حکم پر بھی عامل تھے۔ اس پر حوالہ مانگنا ایسے ہی جاہلانہ بات ہے جیسے قرآن و حدیث سے ثابت کرو کہ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی شیر خدا، امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام شافعی، شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہم نماز عصر پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، زکوۃ دیتے تھے، سورہ یاسین پڑھتے تھے، نماز عید ادا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ
ان بزرگوں کی بڑائی احکام شرع پر عمل کرنے میں ہے، مخالفت کی بدگمانی کوئی شیطان ہی کر سکتا ہے۔ لہذا وہ اذان کے ساتھ اپنے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق ضرور درود و سلام پڑھتے تھے۔ اس کے خلاف دلیل رکھتے ہو تو لاؤ، ورنہ فرمان والا شان کے آگے جھک جاؤ۔ کہیں مخالفت امر رسول تمہاری ہلاکت کا سبب نہ بن جائے ۔ عوام ان گمراہوں سے کہیں ۔
ہاں درود و سلام پڑھنے کا انداز وہ تو نہیں جو اذان کا ہے۔ اذان میں انگلیاں کانوں میں ٹھونسنے اور اونچی آواز نکالنے کی ہدایت تھی۔ جبکہ درود و سلام میں یہ نہ ہوتا تھا۔ آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ البتہ لاؤڈ اسپیکر کی وجہ سے درود و سلام کی آواز بھی دور تک پہنچ جاتی ہے۔ چونکہ اذان کے کلمات سن کر شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگ جاتا ہے، لہذا درود و سلام پر اس کا بھڑکنا فضول ہے۔ اسے چاہیے جہاں اذان سے بچنے کے لیے وہ اتنا دور بھاگ نکلتا ہے جہاں تک آواز جاتی ہے۔ ( حدیث پاک ) وہاں ذرا مزید ٹھہرا رہے تا کہ درود و سلام کی آواز سے بچا رہے۔ اہل ایمان کے لیے تو یہ پاکیزہ اور حسین آوازیں غذائے قلب و روح ہیں۔ امید ہے ان کے لیے بات کافی ہے ۔
گو شرعاً درود و سلام ہر وقت جائز ہے۔ جیسا کہ تفصیل ذکر کر دی گئی ہے۔ اذان سے پہلے بھی، بعد بھی۔ تاہم منکرین سے گزارش ہے کہ ان احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سر جھکا لیں۔ جس کا حوالہ اوپر درج ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے مولانا عبد الرحمن اشرفی نے بھی جنگ جمعہ میگزین میں لکھا ہے کہ اذان کے بعد درود شریف پڑھنے کا حکم حدیث مسلم میں موجود ہے۔
آئیں سب فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآّلہ وسلم کےمطابق اذان کے بعد درود شریف اپنی اپنی مسجدوں میں پڑھنا شروع کر دیں۔ پہلے پڑھنے پر ہم اصرار نہیں کرتے، بعد میں پڑھنے سے آپ انکار نہ کریں۔ درود شریف جو پسند ہے وہ پڑھیں، پڑھیں تو سہی یا اس حدیث پاک کا جواب دیں۔
رہا سپیکر کا سوال، تو جب تک یہ سہولت میسر نہ تھی ہم اور آپ سبھی بغیر سپیکر کے بلالی اذان دیتے تھے۔اب قدرت نے یہ نعمت دی ہے تو اذان اور بعد میں درود شریف اور دعا کیوں نہ سپیکر میں پڑھیں۔ اگر سپیکر پر دی جانے والی اذان اذانِ بلالی ہو سکتی ہے تو سپیکر پر پڑھا جانے والا درود و سلام کیوں قرآنی، حدیثی اور بلالی بلکہ خدائی و مصطفائی نہیں ہو سکتا ؟
کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ( ظاہری ) زمانے میں اذان سے پہلے ’’صلوٰۃ ‘‘ پڑھی جاتی تھی؟
اگر اس پر اعتراض کیا جائے تو جس وقت اور جس جگہ بھی کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھے گا، اس پر فوراً یہ جاہلانہ، متعصبانہ اعتراض جڑ دیا جائے گا کہ کیا اس دن، اس تاریخ، اس جگہ ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں درود پڑھا جاتا تھا؟ اور یہ سوال صرف درودو سلام پر ہی نہیں وارد ہو گا بلکہ ہر اس امر شرعی پر وارد ہو گا ، جس میں جگہ اور وقت کی قید نہیں ۔ مثلاً نفلی صدقہ، نفلی نماز، نفلی روزہ، اللہ تعالیٰ کا ذکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام، قرآن پڑھنا، مسکین کو کھلانا، پہنانا، درس و تدریس، وغظ وتقریر، جہاد و قتال ، تالیف و تصنیف وغیرہ، جب قرآن و سنت یا اجماع امت و قیاس و استنباط سے کوئی مسئلہ ثابت ہو تو پھر اس کی شرعی حیثیت پر سوال کرنا محض حماقت ہے ۔
قرآن و سنت اور علماء امت نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ فلاں زمانے میں ہونے والا عمل جائز ہے اور فلاں زمانے میں ہونے والا عمل ناجائز ہے۔ صحابہ و تابعین یا غوث الاعظم یا ائمہ اربعہ کے دور تک جو کام ہوا ہو، جائز ہے اور جو کام فلاں سن کے بعد ہوا وہ ناجائز۔ یہ قاعدہ قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، اصول حدیث، اصول فقہ میں کہبیں بھی کسی نے ذکر نہیں کیا۔ یہ اس دور کے کم فہم، متعصب، بیمار ذہنوں کی اختراع ہے۔ کیا دور اول میں چوری، زنا، قتل، تخریب کاری، منافقت، کفر و ارتداد، قذف، جھوٹ، غیبت اور نماز، روزہ، زکوٰۃ و حج و جہاد کا ترک کرنا جائز تھا؟ صرف اس بناء پر کہ وہ نزول قرآن کا زمانہ تھا، بہترین زمانہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری کا دور تھا۔ جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:خير الناس قرنی ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل الصحابة النبی صلی الله عليه وآله وسلم ورضی اللہ 3 : 1335، الرقم: 3451،چشتیی)
تمام لوگوں میں بہتر زمانہ میرا ہے پھر ان لوگوں کا جو ان سے ملے ہوں گے پھر ان کا جو ان سے ملے ہوں گے۔
ہرگز نہیں، جائز و ناجائز کا تعلق لوگوں کے طبقات، زمان و مکاں سے نہیں اصولوں سے ہے۔ اسلامی اصولوں کی پابندی اس وقت بھی نیکی تھی ، آج بھی نیکی ہے۔ اسلامی احکام کی خلاف ورزی اس وقت بھی جرم تھا اور اس کے مرتکب مجرم تھے اور ان کو اسی طرح شرعی سزائیں دی گئیں، جس طرح بعد کے مجرموں کو، حدود و قصاص کے شرعی احکام ان پر اسی طرح جاری ہوئے جیسے بعد والوں پر، کسی مجرم کو یہ کہہ کر چھوڑا نہیں گیا کہ یہ دور بہترین ہے، یہ زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہترین زمانہ ہے ، یہ طبقہ امت ، صحابہ کرام کا مقدس طبقہ ہے۔ یوں بعد والے علمائے امت، فقہائے ملت اور محافظان سنت کے علمی فقہی، تفسیری اور احادیث نبوی کے عظیم قابل قدر کام کو کسی نے یہ کہہ کر رد نہیں کر دیا کہ یہ ذخیرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہترین زمانہ میں نہ تھا۔ اچھا کام ہے خواہ وہ کسی کے ہاتھوں اور کسی بھی زمانے میں ہو اور برا کام برا ہے خواہ کرنے والا کوئی ہو، زمانہ و مقام کوئی ہو، بات زمان و مکاں و طبقات کی نہیں اصولوں کی ہے ۔
جو فعل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں : ⏬
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ یہ جنگ یمامہ کا دور تھا۔ (جب صحابہ کرام اور جھوٹی نبوت کے دعویدار مسیلمہ کذاب کے درمیان خونریز جنگ ہو رہی تھی) میں حاضر خدمت ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر فاروق میرے پاس آئے اور انہوں نے فرمایا کہ جنگ یمامہ کے سخت معرکے میں قرآن کے قاری کثرت سے شہید ہو گئے (تقریباً سات سو حافظ و قاری)، مجھے ڈر ہے کہ مختلف محاذوں پر اگر قراء اسی طرح شہید ہوتے رہے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع نہ ہو جائے۔ میری رائے ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں۔ میں نے عمر فاروق سے کہا:
کيف تفعل شيئا لم يفعله رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم ، آپ وہ کام کیسے کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : هذا واللہ خير ’’اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے ۔‘‘
عمر فاروق بار بار مجھ سے کہتے رہے ۔
حتی شرح اللہ صدری لذلک ورايت فی ذلک الذی رای عمر
’’حتی کہ اللہ نے میرا سینہ اس کےلیے کھول دیا اور مجھے بھی اس میں وہ حقیقت نظر آ گئی جو عمر کو نظر آئی تھی۔‘‘
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم عقلمند جوان ہو۔ ہم تم پر کوئی تہمت نہیں لگائیں گے۔ جبکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وحی (بھی) لکھا کرتے تھے۔ پس قرآن ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کرو۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فو اللہ لو کلفونی نقل جبل من الجبال ماکان اثقل علی مما امرنی به من جمع القرآن
’’اللہ کی قسم اگر مجھے کسی پہاڑ کو اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنے کی تکلیف دیتے تو یہ کام قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری سے بڑھ کر مجھ پر بھاری نہ تھا۔‘‘
کہتے ہیں میں نے کہا : کيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم ’’ آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا ۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : هو واللہ خير.
اللہ کی قسم یہ کام اچھا ہے ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بار بار مجھے فرمائش کرتے رہے ۔
۔ حتی شرح اللہ صدری للذی شرح له صدر ابی بکر و عمر
یہاں تک کہ اس کام کےلیے اللہ تعالیٰ نے میرا بھی سینہ کھول دیا جس کےلیے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا ۔
میں نے قرآن کریم کو ڈھوڈنا اور جمع کرنا شروع کردیا ، کجھوروں کی ٹہنیوں سے ، پتھروں سے اور لوگوں کے سینوں سے ، یہاں تک کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ مجھے ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے ملا ، کسی اور کے پاس نہ ملا۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم سورہ براۃ کے آخر تک ، یہ مجموعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس زندگی بھر رہا۔ پھر آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہا ۔ (بخاری الصحيح کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن جلد 4 صفحہ 1907 الرقم : 4701) ۔
اللہ عزوجل نے درو د و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے : ⏬
محترم قارئینِ کرام : قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اذان سے پہلے اذان کے بعد نماز کے بعد ہر وقت صلوٰۃ و سلام بلند آواز سے یا آہستہ پڑھنا جائز ہے ۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے : اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ۔
ترجمہ : بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اے ایمان والوان پر درود اور خوب سلام بھیجو ۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر ٥٦)
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو درود و سلام پڑھنے کا حکم فرمایا ہے اس میں کسی وقت' جگہ یا کسی خاص صیغہ سے پڑھنے کی پابندی نہیں لگائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور شجر و حجر پڑھتے تھے ''الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ۔ (سیرۃ الحلبیہ صفحہ ٤٩٣ جلد ٣)(معارج النبوۃ صفحہ ٦٧٧، جلد ٣)(مشکوٰۃ شریف)(ابوداؤد شریف صفحہ ٣٥١ ، ٢١٦)(حزب الصلوٰۃ والسلام محمد ہاشم دیوبندی)(فتاویٰ علماء حدیث صفحہ ١٥ جلد ٩)
صحابہ کرام علیہم الرضوان اسی صیغہ خطاب سے صلوٰۃ و سلام دربار رسالت میں عرض کرتے تھے ۔ (نسیم الریاض ، شفا شریف جلد ٣ ، ص ٤٥٤)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس پتھر اور درخت کے پاس سے گزرتے وہ حضورنبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کرتا ''الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ۔ (سیرۃ حلبیہ ص ٢١٤) ۔ یہی روایت السلام علیک یا رسول اللہ کے الفاظ کے ساتھ مشکوٰۃ شریف میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔
حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد ''الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ'' پڑھتے تھے ۔ (ماہنامہ حرمین اہلحدیث جہلم جنوری ١٩٩٢)
صحابہ کرام سے جو مختصر درود و سلام مروی ہے وہ ''الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ'' ہی ہے ۔ (حزب الصلوٰۃ والسلام ص١٥٤تا١٦٩ ، مولوی محمد ہاشم دیوبندی ' معارف القرآن مفتی محمد شفیع دیوبندی)
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صرف درودِ ابراہیمی پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ بہت فضیلت والا ہے اور مذکورہ درودشریف اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ بنوٹی درود ہے اِس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اب دیکھیں کہ یہ بد مذہب حقیقت میں درودِابراہیمی کے خود دو مرتبہ منکر ہیں ۔ درودِ ابراہیمی (نماز والے درود) میں آلِ ابراہیم اور آلِ محمد پر درود بھیجا جاتا ہے ۔ آلِ ابراہیم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے والدین شامل ہیں اور آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں حضور نبی پاک کے نواسے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ شامل ہیں ۔ یہ لوگ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے والدین کو مسلمان مانتے ہیں اور نہ ہی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو حق پر تسلیم کرتے ہیں تو پھران کو درودِ ابراہیمی پڑھنے کا کیا فائدہ ہو گا ۔ اگر یہ نماز والا درود افضل اور بہتر ہے تو نماز والے سلام پر کیوں ایمان نہیں ہے ۔ نماز میں زندہ و حیات نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں السلام علیک ایہاالنبی حرفِ ندا کے ساتھ سلام عرض کیا جاتا ہے ۔
معترضین کی کتب سے ثبوت : ⬇
(1) ہمارے بزرگان دین اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اللہ پڑھنا مستحب جانتے ہیں اور اپنے متعلقین کو اس کا حکم دیتے ہیں ۔ (الشہاب ثاقب صفحہ ٦٥)
(2) اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں ۔
(امداد المشتاق صفحہ ٥٩ از اشرف علی تھانوی)
(3) مولوی خلیل احمد دیوبندی کو صاحب التاج والمعراج ؐ کی زیارت ہوئی حضور علیہ السلام کو دیکھتے ہی مولوی صاحب اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ پڑھنے لگے ۔ (تذکرہ خلیل صفحہ ٢٢٣ عاشق الٰہی میرٹھی دیوبندی)
(4) اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں
(فیصلہ ہفت مسلہ ص ٣٢:ازحاجی امداد اللہ مہاجر مکی )
(5) تین بار اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ پڑھے۔
( ضیاء القلوب ص ١٥ ،حاجی امداد اللہ مہاجر مکی )
(6) روضہ اطہر پر حاضر ہو کر بصیغہ اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ سلام پیش کرنا جائز ہے۔(خیر الفتاویٰ ج ١، ص ١٨٠ خیر محمد جالندھری دیوبندی )
(7)اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ پڑھے تو زیادہ اچھا ہے ۔
(فضائل اعمال مطبوعہ لاہور ص ٦٤٦'مولوی زکریا سہارن پوری
(8) نداء درود و سلام کے ساتھ صلی اللہ علیک یا رسول اللہ یا اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ بصورت حدیث کی رُو سے جائز ہے
( شبیر احمد دیوبندی یا حرف محبت ص ٦)
(9) گرمی سے بچنے کا نسخہ مولوی اسحاق علی کا نپوری کیلئے: کہ ''جب سانس اندر جائے تو صَلَّ اللہ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّد ؐ اور جب سانس باہر آئے تو صلی اللہ علیک وسلم زبان تالو سے لگا کر خیال سے کہا کرو'' ۔ (یا حرف محبت ص ٦٣)
(10) اس لئے بندہ کے خیال میں اگر ہر جگہ درود و سلام دونوں کو جمع کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے یعنی بجائے السلام علیک یا رسول اللہ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِی اللہ کے اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ ، اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیُّ اللہ اسی طرح آخر تک سلام کے ساتھ ''الصلوٰۃ '' کا لفظ بھی بڑھائے تو زیادہ اچھا ہے ۔ ۔ (فضائل درود شریف ص ٢٥ ، زکریا سہارنپوری دیوبندی)
(11) اس ناپاک او ر ناکارہ کے خیال میں روضہ اقدس پر نہایت خشوع و خضوع وسکون و وقار سے ستر مرتبہ اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ ہر حاضری کے وقت پڑھ لیا کرے تو زیادہ بہتر ہے ۔ (فضائل حج مولوی زکریا سہارنپوری دیوبندی)
(12) روضہ رسول پر خشوع و خضوع اور ادب کے ساتھ پڑھے۔
اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ، اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نبی اللہ ، اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حبیب اللہ۔
(فضائل درود شریف ص ٢٣ ، از مولوی زکر یا سہارنپوری)
(13) ہم اور ہمارے اکابر اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کو بطور درود شریف پڑھنے کے جواز کے قائل ہیں کیونکہ یہ بھی فی الجملہ اور مختصر درود کے الفاظ ہیں''۔(درود شریف پڑھنے کا شرعی طریقہ ص ٧٥،سرفراز گکھڑوی دیوبندی)
(14) یوں جی چاہتا ہے کہ درود شریف زیادہ پڑھوں وہ بھی ان الفاظ سے
اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ
(شکرالنعمہ بذکر الرحمۃ الرحمہ ص ١٨، اشرف علی تھانوی)
(15) گجرات روزنامہ ڈاک ١٨،٢٠ نومبر ٢٠٠٢ء : دیوبندی مکتب فکر کے نامور عالم ضیاء اللہ بخاری نے درس قرآن میں کہا کہ اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہنا جائز ہے۔ لیکن اسے اذان کا حصہ نہ بنایا جائے ۔
(16) عاشق الٰہی دیوبندی نے اپنی کتاب طریقہ حج و عمرہ صفحہ نمبر ١٥١ پر لکھا ہے : ⬇
اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ
اَلصَّلٰوۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حبیب اللہ
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض علماء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بغیر سلام کے صرف صلوۃ بھیجنے کے مکروہ ہونے پر نص فرماٸی ہے ۔ (شرح صحیح مسلم جز اول صفحہ ۴۴)
دیوبندیوں کے مفتی اعظم مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے خالی درود پڑھنے کو مکروہ لکھا ہے ۔ (تفسیرمعارف القرآن جلد ۷ صفحہ ۲۲۵)
مشہور دیوبندی عالم علامہ دوست محمد قریشی لکھتے ہیں : بغیر سلام کے شیعوں کا درود ناقص ہے اہلسنت کا درود سلام کے ساتھ مکمل ہے ۔ (اہلسنت پاکٹ بک سوم صفحہ ۴۰۳)
امام الوہابیہ قضی شوکانی لکھتے ہیں : دورود ابراہیمی کا حکم خاص نماز کے ساتھ ہے نماز کے علاوہ اللہ کے حکم درود و سلام دونوں پر عمل کرنا چاہیے ۔ (تحفۃ الذاکرین صفحہ ۱۴۸)
قرآن مجید میں دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے : ⬇
اصل درود پاک وہی ہے جس میں صلوٰۃ و سلام دونوں کا ذکر موجود ہو ، کیونکہ قرآن مجید میں صلوٰۃ و سلام دونوں کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 56)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ۔ تفسیر جلالین میں یہ الفاظ مذکور ہیں : اللهم صلی علی سيدنا محمد وسلم ۔
امام بدر الدین عینی علیہ الرحمہ نے یہ کلمات لکھے ہیں : اللهم صلی علی سيدنا محمد و علی آله وصحبه مادامت اَزمنة و اوقات وسلم تسليما کثير او بارک عليهم وعلی من تبع هديهم بتحيات مبارکات زاکيات ۔ (عمدة القاری جلد 25 صفحہ 203)
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن مجید میں مطلقاً بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فقط نماز کےلیے درود ابراہیمی متعین کیا ہے ۔ نماز کے علاوہ کسی بھی موقع پر کوئی بھی درود و سلام پڑھ سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بے شمار صیغوں میں درود و سلام موجود ہے ۔
آج ہر طبقے ، مذہب اور فکر کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب نام مبارک لیتے ہیں تو فقط علیہ الصلوٰۃ والسلام یا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے ہیں ۔ اگر درود ابراہیمی ہی اصل ہے تو پھر یہ کیوں پڑھتے ہیں ؟ ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جب مطلق حکم فرما دیا کہ درود و سلام پڑھو تو پھر جس مرضی صیغے کے ساتھ پڑھیں ، مقصود حاصل ہو جاتا ہے ۔ ہمیں مقید کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، قرآن و سنت میں کہیں بھی درود و سلام کی تقلید نہیں ہے ۔
درود ابراہیمی اصل میں نماز کےلیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تجویز کیا تھا۔ چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم هذا تسليم فکيف نصلی عليک قال ، قولوا اللهم صل علی محمد الخ ۔ (صحيح بخاری، 2 : 708)
ترجمہ : صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو سلام ہے تو درود کیسے پڑھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللھم صل پڑھو ۔
جب درود شریف کا حکم آیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یارسول اللہ اما السلام عليک فقد عرفناه فکيف الصلوة قال قولوا اللهم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صليت علی ابراهيم وعلیٰ اٰل ابراهيم انک حميد مجيد ۔ (صحيح بخاری جلد 2 صفحہ 708)
ترجمہ : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا سلام کا تو ہمیں پتہ ہے درود کیسے پڑھیں۔ فرمایا اللھم صل پڑھو ۔ چونکہ صحابہ کرام نماز کے اندر درود شریف کے حوالے سے پوچھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اللھم صل پڑھا کرو ۔
درود و سلام ۔ بخاری و مسلم یا کوئی بھی حدیث کی ایسی کتاب نہیں ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ درود ابراہیمی لکھا ہوا ہو ۔ ساری کتب میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا علیہ الصلوۃ والسلام) کے الفاظ ہی موجود ہیں ۔ قرآن پاک میں بھی درود اور سلام دونوں ہی پڑھنے کا حکم ہے اس لیے صرف درود ابراہیمی پڑھنے سے حکم باری تعالیٰ پر عمل نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ درود کا بھی حکم ہے اور سلام کا بھی بلکہ سلام کےلیے ڈبل حکم یعنی تاکید پیدا کی گئی ہے ۔ نماز میں ہم درود ابراہیمی پڑھنے سے پہلے سلام پڑھتے ہیں ۔ اس لیے حکم باری تعالیٰ پر مکمل عمل ہو جاتا ہے ۔ لیکن نماز کے علاوہ ممکن نہیں ہے کہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک آئے ہم درود ابراہیمی پڑھیں ۔ تاریخ گواہ ہے ، کتابیں موجود ہیں ۔ آج تک کسی نے کوئی کتاب نہیں لکھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ درود ابراہیمی لکھا ہو نہ ہی کسی نے ایسا خطاب کیا کہ جہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک آیا ہو اس نے درود ابراہیمی پڑھا ہو ، آج تک ایسا نہیں ہوا ۔ لہٰذا صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین رضی اللہ عنہم ، ائمہ فقہ ، ائمہ حدیث اور تمام سلف صالحین علیہم الرحمہ کی تحریر اور تقریر سے درود ابراہیمی کے علاوہ درود و سلام ثابت ہیں جو بھی اپنے اپنے انداز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کرے قبول ہے ۔ اعتراض کرنے والے خود بھی اس پر عمل نہیں کرتے صرف عوام کو گمراہ کرنے کی خاطر طرح طرح کے اختلافات پیدا کرتے رہتے ہیں ، حالانکہ واضح حکم ہے درود کا بھی اور سلام کا بھی ، جب درود ابراہیمی ہے ہی صرف درود تو پھر سلام کہاں گیا ؟ ۔ نماز میں سلام معلوم تھا لیکن درود معلوم نہ تھا فرمایا اللھم صل پڑھو ۔ اب درود شریف نماز کے باہر بھی پڑھا جاتا ہے اس لیے اگر نماز کے باہر فقط درود ابراہیمی پڑھنا ہے تو قرآن کے ایک حکم سلام پر عمل نہیں ہوتا اور یہ خلافِ اطاعت الہٰی ہے ۔ اس لیے تمام مفسرین ، محدثین اور علماء کرام کتابوں میں اکثر نام گرامی کے ساتھ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھتے ہیں اس میں سلام اور صلاۃ دونوں ہیں ۔ لہٰذا نماز میں درود ابراہیمی پڑھنا چاہیے چونکہ اس سے پہلے سلام پڑھا جاتا ہے نماز کے باہر کوئی بھی صیغہ ہو لیکن صلاۃ و سلام دونوں ہوں تو پڑھنا چاہیے تاکہ حکم ربی پر مکمل عمل ہو ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment