Sunday, 30 March 2025

بحیثیت مسلمان ہم عید کیسے منائیں

بحیثیت مسلمان ہم عید کیسے منائیں

محترم قارئینِ کرام : عیدالفطر مسلمانون کےلیے اللہ کریم کی طرف سے ایک بہترین تحفہ ہے ۔ اللہ عزوجل کا کرم بالائے کرم ہے کہ اس نے ہمیں رمضانُ المبارک کے بعد عیدُ الفطر کی نعمت عطا فرمائی ۔ احادیثِ کریمہ میں عیدِ سعید کے کئی فضائل بیان کیے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتا ہے جو زمین پر اتر کر راستوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر ندا دیتے ہیں جسے انسان اور جنّ کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے ، وہ کہتے ہیں : اے اُمّتِ محمدیہ ! اپنے رب کریم کی طرف آؤ ، وہ تمہیں بہت دے گا اور تمہارے بڑے گناہ معاف فرمائے گا ۔ جب لوگ عیدگاہ میں آجاتے ہیں تو اللہ پاک فرشتوں سے فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! مزدور کا بدلہ کیا ہے جب وہ اپنا کام مکمل کر لے ؟ ملائکہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک ! اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پوری اجرت دی جائے۔ اللہ پاک فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنی رضا اور مغفرت کوان کے رمضان میں روزے رکھنے اور قیام کرنے کا ثواب بنادیا ۔ (اخبار مکہ للفاکہی جلد 2 صفحہ 316 حدیث نمبر 1575)


ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کے ملنے پر اپنے ربِّ کریم کا خوب شکر ادا کریں ۔ شکر ادا کرنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں ، مثلاً : سجدۂ شکر ادا کریں ، (سجدہ (شکر) کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اَللہُ اَکْبَرْ کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے ، پھر اَللہُ اَکْبَرْ کہتاہوا کھڑا ہو جائے ۔ (بہار شریعت جلد 1 صفحہ 731،چشتی)


اپنے اعضاء کو نیکی کے کاموں میں لگائیں اور اس دن کو غفلت میں گزارنے کے بجائے اپنے رب کی اطاعت میں گزاریں ۔ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں ۔ شکرانے کے نوافل ادا کریں ۔ زبان سے شکر ادا کریں یعنی اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کریں۔ غریبوں کی مدد کیجیے : اس موقع پر اپنی زکوٰۃ و صدقات میں غریب و نادار اور سفید پوش لوگوں کو بھی یاد رکھیں جس طرح ہو سکے ان کی مدد کریں اللہ ۔


اس دن غریب مسلمان بھائیوں کی صدقہ فطر کی صورت میں مدد کو اللہ پاک نے فرض قرار دیا ہوا ہے ۔ آج کل جس طرح مہنگائی اور بے روزگاری نے صورتحال اختیار کی ہوئی ہے ۔ اس میں تو بہت بڑی تعداد اپنے بچوں کو دو وقت کی خوراک مہیا کرنے سے بھی قاصر ہے ۔ کجا یہ کہ وہ عید پر ان بچوں کی خوشیوں کےلیے کوئی کپڑے وغیرہ خرید سکیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ اسلامی عید الفطر کے تصور کے مطابق زیادہ سے زیادہ مدد کریں ۔ ایسے لوگوں کی اور اسمیں ہم صدقہ فطر صرف گندم کے حوالے سے ادا کرنے کی بجائے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق دوسرے معیار کے مطابق زیادہ سے زیادہ ادا کریں اور جب اپنے بچوں کےلیے کپڑے خرید رہے ہوں تو کم از کم ایک غریب بچے کےلیے بھی اسی طرح کے کپڑے خرید لیں ، اسی طرع جب عید کے پکوانوں کےلیے خریداری کریں تو کم از کم ایک غریب گھر کے بھی خریداری کر کے باعزت طریقے سے ان کے گھر تک پہنچا دیں ۔ ہم سب نے رمضان میں خوب عبادات کی ہوتی ہیں اور ان روضوں اور عبادات کا اجر تو اللہ کریم ضرور ہمیں عطا فرمائیں گے لیکن اگر ہم اپنی عبادات کے ساتھ غریب بھائیوں کی مدد کا اہتمام کر لین تو یقین مانئے ہمیں کہیں زیادہ اجر مل جائے گا ۔ ہم ویسے بھی صدقات کا اہتمام تو کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اگر فطرانہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مزید صدقات بھی دے دیئے جائیں تو اس سے نہ صرف غریب مسلمان اچھی عید منا سکیں گے بلکہ ان کے دل سے نکلی دعاوں کے زیر اثر ہماری عید بھی بہترین ہو جائے گی ۔ (چشتی)


ہمیں یہ عید الفطر مناتے ہوئے اپنے غزہ فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمانوں کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے اور من حیثُ القوم طرف سے خصوصی امدادی سامان کے ساتھ ساتھ عید الفطر کے حوالے سے اپنے ان مظلوم مسلمان بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کےلیے لباس ، خوراک اور ادویات وغیرہ بھی بھجوانا چاہیے صرف دعائیں کافی نہی ہیں، دوائیں بھی بھجوانا چاہیے ۔ غزہ میں حالات بہت خراب ہیں ۔ 90 فیصد سے زیادہ شہری بغیر چھت کے نیلے آسماں تلے اپنی عید گزاریں گے ۔ ہمیں چاہیے کہ انہیں بھائیوں کی طرع بھائی کا درجہ دیتے ہوئے اپنی خوشیوں میں انہیں شریک کرین یا پھر کم از کم ہم خود بھی عید پہ ہونے والے اضافی اخراجات کرنے کی بجائے وہ تمام اخراجات مدد کی صورت میں ان مظلوموں تک پہنچا دیں اور حکومتِ وقت پر بھی اتنا پریشر ڈالیں کہ وہ خصوصی جہازوں کے ذریعے یہ امدادی سامان عید سے پہلے وہاں پہنچانے کا خصوصی بندوبست کرے ۔ اسی طرح پوری امت مسلمہ کو ہمیں یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ امت مسلمہ کا ہر ملک حکومتی سطح پر اس بات کو ممکن بنائے کہ ہر مسلم ملک سے عید الفطر کے حوالے سے خصوصی امدادی سامان غزہ کے مسلمانوں تک پہنچایا جائے ۔


مسلمان کا دل خوش کرنے کی نیّت سے اپنے رشتہ داروں اور دوست و احباب کو مبارکباد دیں ۔ خدانخواستہ  اگر کسی سے کوئی ناراضی ہے تو عید کے موقع سے فائدہ اٹھاکر ان سے بھی رابطہ کریں ، عید کی مبارک باد دیں اور اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنے کےلیے صلح کی جانب قدم بڑھائیں ۔ خوشیاں منائیے مگر ؟ عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ، اس میں خوب خوشیاں منائیں مگر ایسا لباس ہرگز نہ پہنیں اورنہ ہی اپنی بچیوں کو پہنائیں جس سے بے پردگی کا اندیشہ ہو ۔ ایسے زیورات بھی نہ پہنیں جو شریعت نے منع فرمائے ہیں جیسے بعض صورتوں میں جھانجن یعنی گھنگرو والا زیور کہ حدیث پاک کے مطابق اُس گھر میں رحمت کےفِرِشتے نہیں آتے جس میں جھانج ہو ۔ (سنن ابوداؤد جلد 4 صفحہ 125 حديث نمبر 4231،چشتی)


عید کے نا م کے سا تھ ہی چہروں پر چمک آجا تی ہے ، خوشی و انبسا ط سے اطرا ف کا ما حول خوش کن نظر آ رہا ہو تا ہے چہا ر جانب بچو ں کی پکاریں ، رنگ رنگے پیراہن ، بناؤ سنگھار ، مہندی سے سجے ہاتھ ، گھروں سے امڈتی خوشبؤیں ، روایتی و جدیدیت کی خوشبو میں رچے بسے پکوان ، میل ملاپ سلام دعا ، عید کی خوشیوں کو دوبالا کررہے ہوتے ہیں ۔ کیا امیر کیا غریب ، سب اپنی اپنی استعداد کے مطا بق عید کی خوشیاں منانے میں مگن ہیں اور کیوں نہ منائیں ؟ عید امت مسلمہ کےلیے رب کا انعام بھی تو ہے ۔ خوشی کے موقع پر خوشی منانا اور اس کا اظہار کرنا انسان کا فطری تقاضہ بھی ہے ، لیکن تھو ڑی دیر کےلیے دل کو تو ٹٹول کر دیکھ لیں ، کیا دل واقعی خوش ہے ؟ کوئی کسک تو دل میں نہیں پنپ رہی ، کوئی پھانس تو دل میں نہیں اٹکی ہوئی ، بدگمانیوں کی زہریلی سوچوں نے تو دل کو آلودہ نہیں کر رکھا ، اپنے ہی جسم کو تو زخم زخم نہیں کر رکھا ؟ اگر ایسا ہے تو عید کی خوشیاں مصنوعی ہیں، ہر وہ خوشی جس میں اپنے عزیز و اقارب ، بھا ئی ، بہن ، اپنے دوست و پڑوسی آپ کی خوشی میں شریک نہ ہوں آپ سے ناراض ہوں تو وہ خوشی نہ صرف ماند پڑجائے گی ، ادھوری رہے گی بلکہ اللہ کی بھی ناراضگی کا باعث ہوگی ۔


عید رمضان المبارک کے روزوں کا انعا م ہے اور اخلاص نیت کے ساتھ رب کے حضور کیے جانے والے نیک اعمال کی قبولیت کے یقین کا ثمر بھی لیکن جب زبانیں نشتر بن جائیں ، نفسانفسی و خود غرضی کے بادل امڈ آئیں ، اپنے ہی بھائی کا قتل عام ہوتے دیکھ کر بھی بے حسی طاری رہے ، دلوں میں بغض و عداوت ، زبانوں میں لفظوں کی کاٹ ، برا گُمان ، حسد و انتقام کی آگ ، اشتعال انگیز جذبات ، اور غیبت و بدگوئی سے زبانیں آراستہ رہیں تو پھر یہ ماہ رمضان المبارک میں کیے جانے والی تمام نیکیوں کو اس طرح ادھیڑ کر رکھ دے گی جیسے کوئی سوت کات کر خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے ۔


تو آئیے اب بھی وقت ہے پہلے دلوں کو صاف کرلیں ، محبتو ں سے مالا مال کرلیں ، ندامت کے آنسؤوں سے دلوں میں جمی بے حسی کو دھو ڈالیں ۔ مسلمان مسلمان کا آئینہ ہے ، ایک جسم کی مانند ہے ، ایک عضو کو پہنچنے والی تکلیف کا درد پورا جسم محسوس کرتا ہے ، فلسطین میں ، غزہ میں ہمارے جگر گوشے جیسے کمسن بچوں کے سا تھ ہونے والا بہیمانہ سلوک کیا ہم کو عید سعید منانے دے گا ؟ تڑپ کر بلک کر اپنی آواز کو ظلم کے خلاف بلند کرلیں ، اقتدار کے ایوانوں کی مسندوں تک اپنا احتجاج پہنچادیں ، اپنے والدین کو راضی کرلیں ، اپنے روٹھے بہن بھائی کو منالیں ، اپنی زبان کو محبتوں کی چاشنی سے میٹھا کرلیں ، خود غرضی و نفسانیت کی حدود سے بھی دور رہیں پھر مل کر گلے لگ جائیں ، ایک دوسرے کو “تقبل اللہ منا” کہہ کر عید کی مبارکباد کہیں ، اور اس وقت دل کو ٹٹولیں تو سچی خوشی کے احساس سے دل مالا مال ہوگا ۔ عید کی مسرتوں میں اپنے ان خاندانوں کو بھی یاد رکھیں جن کا آپ سے مذہب کا رشتہ ہے ، انسانیت کا رشتہ ہے ، جن کی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں کی ویرانیاں آپ کی مدد سے دور ہوجائیں گی ، جہاں ہلال عید ان کےلیے بھی خوشیوں کا پیامبر ثابت ہوگا، بغیر کسی کسک کے ، بغیر کسی پھانس کے دل کی سچی خوشی ہی قلب کو طمانیت سے معمور کرتی ہے ، رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے تو عید اس کا پھل ہے ، اس کسان کی طرح اپنے موسم بہار کو انفاق سے ، ایثار سے ، ہمدردی و غم گساری سے تعلق باللہ سے ، عشق و محبت سے سرشار مشن نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکمیل میں اپنے اعمال سے سینچیں اور میٹھے پھل کی صورت عید کی خوشیاں منائیں ۔ (چشتی)


عید غریبوں سے ہمدردی اور اپنوں سے صلہ رحمی کا دن ہے ۔ یہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی بے بسی کے خاتمے اور حصول آزادی کے اس سلسلہ کی عملی جدوجہد کے عہد کا دن ہے ۔ یہ دن دلوں سے نفرتوں کو مٹانے ، روٹھے ہوئے چہروں کو منانے ، غریبوں ، مسکینوں کے کام آنے ، بھائی چارے ، محبت اور امن کا پیغام آگے بڑھانے سے منسوب ہے ۔


دنیا بھر کی سبھی قوموں میں تہوار منانے کا رواج ہے ، جسے ہر مذہب کے لوگ اپنی روایت کے مطابق مناتے ہیں ۔ جس میں ”عیدالفطر“ ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جو امتِ مسلمہ میں خاص مقام اور اہمیت کا حامل ہے ۔ عید الفطر دراصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے ، ماہِ صیام کے روزوں کی خوشی، قیام شب ہائے رمضان المبارک کی خوشی ، نزول قرآن کی خوشی ، لیلۃ القدر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کےلیے رحمت و بخشش اور عذابِ جہنم سے آزادی کی خوشی ۔ پھر ان تمام خوشیوں کا اظہار صدقہ و خیرات جسے صدقہ فطر بھی کہا جاتا ہے ۔ جس سے عبادت کے ساتھ انفاق و خیرات کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے ۔ انہی وجوہات کی بناءپر اسے مومنوں کے لیے خوشی کا دن قرار دیا گیا ہے ۔ آقائے کل جہاں رحمت للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کےلیے دعا مانگتے ہوئے دو عیدوں کا تحفہ امتِ مسلمہ کو دیا ۔ مہینہ شوال کی پہلی تاریخ کو مسلمان عید الفطر مناتے ہیں۔ ”عید“ کے معنی خوشی اور ”فطر“ کے معنی کھولنا ہیں ۔ یہ دن ماہِ صیام کے روزوں کی تکمیل اور اس تربیتی مہینے میں عبادات کی انجام دہی کے بعد اظہارِ تشکر کے طور پر منانے کا دن ہے ۔ جسے امتِ مسلمہ کے لیے سچی خوشی کا دن قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دن دلوں سے نفرتوں کو مٹانے، روٹھے ہوئے چہروں کو منانے ، غریبوں ، مسکینوں کے کام آنے ، بھائی چارے ، محبت اور امن کا پیغام آگے بڑھانے سے منسوب ہے ۔


ہمارے اردگرد بہت سے افراد ، خاندان ایسے ہیں جن کے پاس عید کرنے تو دور دو وقت کی روٹی کے وسائل دستیاب نہیں ۔ مالی طور پر آسودہ طبقات کےلیے عید واقعی ایک خوشی کا موقع ہوتی ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ غربت کی چکی میں پسے ہوئے اور بنیادی ضرورتوں تک سے محروم مسلمانوں کےلیے عید بھی کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتی کیونکہ انہیں عید کی خوشیاں منانے کےلیے مطلوبہ وسائل میسر نہیں ہوتے جبکہ اُن کے معصوم بچے یہ تلخ حقیقت قبول کرنے کے لائق نہیں ہوتے ۔ عید کی خوشیوں میں مستحق و بے سہارا بچے آپ کے تعاون کے منتظر ہیں ۔ اور مستحق و بے سہارا بچوں کو مختلف دیہاتوں میں مفت دینی و عصری تعلیم دینے ، ان کے کھانے پینے و علاج معالجہ ، اور دینی کتب کی خریداری کے سلسلہ میں تعاون کیجیے جزاكم الله خیرا آمین ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : بڑے بیٹے محمد جواد کا اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 میزان بینک لاہور پاکستان ، موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666 ۔ موبی کیش و ایزی پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03215555970 ۔ دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی خطیب لاہور پاکستان ۔


یہ ظلم ہے کہ ہم خود تو عیش و عشرت کریں اور غریب بے بسی کی تصویر بنے رہیں ۔ اسی لیے صدقہ فطر مقرر کیا گیا ۔ لیکن ہم حسب استطاعت نہیں دیتے ۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ آخری ایام میں کم از کم فطرانہ ادا کیا جائے ۔ کیا اس مہنگائی کے طوفان میں ایک غریب ہزار پندرہ سو میں خاندان کو عید کروا سکتا ہے ؟ ہمیں دوسروں کا احساس کرنا چاہیے ۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے دِیا ہے اس حساب سے فطرانہ دیا جانا چاہیے تاکہ غربا ، مسکین ، نادار بھی شریک ہو سکیں ۔ خوشیاں منائیں نئے کپڑے نئے جوتے لیکن اس کے ساتھ ہی ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اس خوشی کے موقع پر اپنے غریب مسلمان بھائیوں اور بےسہارا بچوں کو بھی نہ بھولیں ۔ حسبِ توفیق انہیں بھی اپنی عید کی خوشیوں میں ضرور شریک کریں ۔ عید اصل میں ہے ہی دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کا نام ہے یا دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے کا نام ہے ۔ یہ عید تیرے واسطے خوشیوں کا نگر ہو ۔


اگر ہمارے پڑوس میں خاندان میں کوئی عید کی خوشیوں شامل نہیں ہو سکتا غربت کی وجہ سے تو اس کی مدد کرنے سے ہی عید کی دلی خوشیاں ملیں گئیں۔ ”عید“ غریبوں سے ہمدردی اور اپنوں سے صلہ رحمی کا دن ہے ۔ یہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی بے بسی کے خاتمے اور حصول آزادی کے اس سلسلہ کی عملی جدوجہد کے عہد کا دن ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ مہنگائی نے عوام میں سے اکثریت کی زندگی مشکل کر دی ہے ہم کو چاہیے خاص طور پر ان مسلمانوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں جن کو ایک وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی تا کہ وہ غریب مسلمان بھی مسرتوں اور خوشیوں کا تھوڑا سا حصہ حاصل کر سکیں اور ویسے بھی ایک غریب مسلمان کی خوشی کے موقع پر بے لوث مدد اور خدمت کرنے سے جو روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ لازوال ہوتی ہے ۔ اور ایسی مدد کرنے پر اللہ عزوجل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی خوش ہوتے ہیں اور اگر ہو سکے تو ابھی سے ان کی مدد کر دیں تاکہ وہ اپنے بچوں کےلیے کپڑے خرید سکے ۔ یہ ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہم پر فرض ہے ۔ اللہ نے ہم کو دیا ہے تو ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے ۔


عید کے روز دل میں کوئی رنجش نہ رکھیں ۔ جن سے ماں باپ کی کوئی نافرمانی ہوئی ہے ان سے معافی مانگ لیں ۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے پیار محبت سے پیش آئیں ۔ اپنی خوشی میں غریبوں ، یتیموں ، بے سہارا لوگوں کو بھی شامل کریں اور سب کے ساتھ اپنی خوشیاں اور مسکراہٹیں بانٹیں ۔ کیونکہ خوشی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ اس کی چاشنی میں مزید اضافہ ہی ہوتا ہے ۔ ایسی بھی کیا خوشی ! کہ جس میں اللہ عزوجل کی یاد سے غفلت برتی جائے ! جس میں فرائض و واجبات کو فراموش کر دیا جائے ۔ لہٰذا خوشیاں مناتے ہوئے فرائض و واجبات کی بجا آواری کا بھی خوب خیال رکھیں اللہ عزوجل نے چاہا تو ان کی برکت سے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی و دیدار کی عیدی مل جائے گی ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 12 March 2025

فضائل و مناقب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ

فضائل و مناقب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ

محترم قارئینِ کرام : تین (3) ہجری میں پندرہ (15) رمضان المبارک کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت ہوئی ، آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پہلی اولاد ہیں ۔ قُرب ولادت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام ایمن اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو سیدہ عالم کی دیکھ بھال کےلیے مامور کیا ۔ انہوں نے آیت الکرسی اور تینوں معوذ پڑھ کر ان کو دم کیا ، بچے کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتویں دن نومولود کے عقیقے کے موقع پردو دُنبے ذبح کیے اور اپنی پیاری بیٹی سے فرمایا کہ بچے کے سر کے بال اتروائیں اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کریں ۔ جب آپ کا سر منڈا کر بالوں کا وزن کیا گیا تو یہ وزن ایک درہم کے برابر تھا ۔ اتنی چاندی خیرات کی گئی ۔ دایہ کو دنبے کی ران اور ایک دینار دیا گیا ۔ سرمنڈانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے نومولود کے سر پر خوشبو ملی اور اسی دن آپ کا نام رکھا گیا اور ختنہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی آپ کے کان میں اذان کہی تھی ۔ (مدارج النبوۃ ، سیرت حلبیہ و دیگر کتب)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام سینہ سے سرتک نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں اور حضرت امام حسین علیہ السلام سینہ سے نیچے تک حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3779،چشتی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود مبارک میں تھے اور وہ اپنی انگلیاں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک میں ڈال رہے تھے اور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں ڈالتے اور فرماتے : اللهم انی احبه فاحبه ۔
ترجمہ : اے اللہ میں اسے محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ ۔ (صواعق محرقہ صفحہ نمبر467)

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ بیٹے سے مراد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3773)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادۂ عالیہ کے ہر فرد کو اللہ تعالی نے فضائل وکمالات کا جامع بنایا اور بے شمار خصائص وکرامات سے بہرہ مند فرمایا ۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی ذات اقدس سے خصوصی تعلق ہے،انہیں اہل بیت نبوت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور وہ صحابیت کے شرف سے بھی مشرف ہیں،اسی وابستگی وتعلق کے سبب اللہ تعالی نے انہیں حق وصداقت کا پیکر بنایا،وہ گفتار وکردار کے پاکیزہ ہیں اور ان کا ہر طریقۂ کار بے مثل وبے مثال اور امت کےلیے عمدہ نمونہ ہے،ان کی تابناک زندگی امت کے لئے مشعل راہ ہے۔

جنتی جوانوں کے سردار،امام المتقین ، سبط رسول،امام عالی مقام  سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا نام مبارک "حسن " اور کنیت شریفہ "ابو محمد" رضی اللہ تعالی عنہ ہے ۔

معجم کبیر طبرانی میں روایت ہے : عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , أَنَّهُ  سَمَّى ابْنَهُ الأَكْبَرَ حَمْزَةَ ، وَسَمَّى حُسَيْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّهِ ، فَسَمَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے شہزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کانام مبارک حمزہ اور سید نا حسین رضی اللہ عنہ کا نام  مبارک ان کے چچا حضرت جعفر کے نام پر رکھا،پھر حضو راکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ان کا نام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا ۔ (معجم کبیر طبرانی ، حد یث نمبر:2713)

حسن اور حسین رضی اللہ عنہما یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء سے ہیں اور قبل اسلام عرب نے یہ دونوں نام نہ رکھے ۔

علامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے الصواعق المحرقۃ صفحہ 115 ، میں روایت درج کی ہے : أخرج ابن سعد عن عمران بن سليمان قال : " الحسن والحسين " اسمان من أسماء أهل الجنة ، ما سمت العرب بهما في الجاهلية ۔ (الصواعق المحرقہ، ص:115- تاریخ الخلفاء،ج:1 ص:76)

جب آپ  کی ولادت ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے کان میں اذان کہی جیساکہ روایت ہے : عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ حِينَ وُلِدَا ۔ (معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر: 2515)

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ فرمایا : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا ۔
ترجمہ : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے حضرات حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فى العقيقة ، ص:392، حدیث نمبر:2843،چشتی)(سنن نسائی کتاب العقيقة ، حدیث نمبر: 4230)(سنن بیہقی، حدیث نمبر:1900)

صحیح بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ  سے بڑھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا -
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَنِى أَنَسٌ قَالَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ ۔ (صحیح بخاری شریف، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب الحسن والحسين رضى الله عنهما، حدیث نمبر:3752)

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما رشد و ہدایت کے علمبردار ہیں ، ان کا وجود باجود حقانیت کی واضح دلیل ہے ۔ نجران کے عیسائی حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے ان کا عقیدہ تھا کہ (نعوذ باللہ) حضرت عیسی علیہ السلام خدا اور خدا کے بیٹے ہیں ، انہوں نے بطور دلیل یہ بات پیش کی کہ حضرت عیسی علیہ السلام بغیر والد کے پیدا ہوئے ہیں ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت عیسی کا بغیر والد کے پیدا ہونا یہ قدرت الہی کی دلیل ہے ، اورحضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا ہے ۔ جس طرح آپ کا بغیر ماں باپ کے پیدا ہونا قدرت الہی کی دلیل ہے اسی طرح حضرت عیسی کا بغیر والد کے پیدا ہونا بھی قدرت الہی کی دلیل ہے۔آپ کے سمجھانے کے باوجود وہ بحث کرنے لگے تو آپ نے انہیں بحکم خدا مباہلہ کی دعوت دی ، ارشاد الہی ہے : فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔
ترجمہ : اے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! صحیح علم آنے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق) آپ سے بحث کریں تو آپ ان سے فرمادیجیے کہ آؤ ! ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو ، ہم اپنی خواتین کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو ، اور ہم خود بھی آتے ہیں اور تم خود بھی آؤ،پھر ہم سب گڑگڑا کر دعائیں کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں ۔ (سورۃ آل عمران:61)

مباہلہ کےلیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میدان میں اس شان سے تشریف لائے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی گود میں ہیں اور امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ آپ کی انگشت مبارک تھامے ہوئے ہیں،سیدۂ کائنات آپ کے پیچھے اور حضرت مولائے کائنات ان کے پیچھے ہیں،جب عیسائیوں کے پادری نے ان برگزیدہ حضرات کے چہروں کی نورانیت کو دیکھا تو پکار اٹھا:اے لوگو!میں ایسے نورانی چہروں کو دیکھ رہا ہوں،اگر یہ اللہ کے دربار میں معروضہ کریں کہ پہاڑ کو اس کے مقام سے ہٹادے تو اللہ تعالی ان کی دعا کے سبب ضرور پہاڑ کو اس کے مقام سے ہٹادے گا،ان سے مباہلہ نہ کرو!ورنہ تم سب کے سب ہلاک ہوجاؤگے،اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہیں رہیگا،چنانچہ وہ مصالحت کرکے واپس ہوگئے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!اہل نجران پر عذاب بالکل قریب آچکا تھا،اگر وہ مقابلہ کرتے تو ان کے چہروں کو مسخ کردیا جاتا،وہ بندر اور بدجانور بنادئے جاتے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی سراپا معجزہ ہے،اسلام کی حقانیت کو پیش کرنے کے لئے صرف آپ کی ذات گرامی ہی کافی تھی لیکن آپ نے حضرات حسنین کریمین کو بحکم خدا اپنے ساتھ میدان میں اس لئے لایا تاکہ امت کو معلوم ہوجائے کہ یہ حق وصداقت کے پیکر ہیں اور ان کا وجود باجود حقانیت اسلام کی واضح دلیل ہے۔

مقام غور ہے کہ بچپن میں شہزادوں کا میدان میں تشریف لانا حق وصداقت کی دلیل ہے تو جب وہ داعئ حق اور مصلح امت کی حیثیت سے تحفظ اسلام اور پاسدارء شریعت کی خاطر میدان میں آئیں تو ان کے  اقدام کو کس طرح دنیوی اقدام کہا جا سکتا ہے ؟

معجم کبیر طبرانی ، جامع الاحادیث اور کنز العمال میں حدیث مبارک ہے : عَنْ فَاطِمَةَ بنتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! هَذَانِ ابْنَاكَ فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا، فَقَالَ:أَمَّا الْحَسَنُ فَلَهُ هَيْبَتِي وَسُؤْدُدِي، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَلَهُ جُرْأَتِي وَجُودِي ۔
ترجمہ : خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرضِ وصال کے دوران حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ  اور حضرت  حسین رضی اللہ تعالی عنہ  کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !یہ آپ کے شہزادے ہیں، انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ! تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نےارشاد فرمایا : حسن' میری ہیبت و سرداری کا وارث ہے اور حسین' میری جرات و سخاوت کا ۔ (معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر:18474،چشتی)(جامع الاحادیث للسیوطی، مسانيد النساء، مسند فاطمة رضی اللہ تعالی عنہا  حدیث نمبر: 43493)(کنز العمال،باب فضل الحسنين رضي الله عنهما، حدیث نمبر:  37712)

صحیح بخاری شریف اور جامع ترمذی شریف وغیرہ میں حدیث مبارک ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر شریف پر رونق افروز ہوئے،آپ کے پہلو مبارک میں حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ تھے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کبھی لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے اور کبھی آپ کی طرف متوجہ ہوتے ، آپ نے ارشاد فرمایا:میرا یہ بیٹا سردار ہے،یقینا اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح فرمائے گا ۔(صحیح بخاری شریف ،کتاب الصلح، حدیث نمبر:2704)(جامع ترمذی شریف ،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسين رضی اللہ تعالی عنہما ، حدیث نمبر: 4142)(سنن ابوداود،کتاب السنة،  باب ما يدل على ترك الكلام فى الفتنة. حدیث نمبر: 4664)(سنن نسائي کتاب الجمعة، باب مخاطبة الإمام رعيته وهو على المنبر. حدیث نمبر: 1421)

فَقَالَ الْحَسَنُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ  صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ إِلَى جَنْبِهِ ، وَهْوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرَى وَيَقُولُ  إِنَّ ابْنِى هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۔

انسان سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد احکام شریعت کا مکلف ہوتا ہے اور اس پر فرائض اسلام عائد ہوتے ہیں،پھر اعمال صالحہ کی قبولیت کے بعد جنت کا وعدہ ہے لیکن حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کو یہ شرف واعزاز حاصل ہے کہ بچپن ہی میں انہیں نہ صرف جنت بلکہ جنت میں سرداری کی بشارت عطا کردی گئی ۔

امام طبرانی کی معجم اوسط اورکنزالعمال میں روایت ہے : لما استقر أهل الجنة قالت الجنة: يا رب أليس وعدتني أن تزينني بركنين من أركانك؟ قال: ألم أزينك بالحسن والحسين؟ فماست  الجنة ميسا كما يميس العروس ۔
ترجمہ : جب جنتی حضرات جنت میں سکونت پذیر ہونگے تو جنت معروضہ کرے گی پروردگار ! ازراہ کرم کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ تو، دو ارکان سے مجھے آراستہ فرمائیگا ؟ تو رب العزت ارشاد فرمائیگا: کیا میں نے تجھے حسن و حسین رضی اللہ عنہماسے مزین نہیں کیا؟ یہ سن کر جنت دلہن کی طرح فخر و ناز کرنے لگے گی۔(معجم اوسط طبرانی،حدیث نمبر:343،چشتی)(جامع الاحادیث للسیوطی، حدیث نمبر:1331)(الجامع الکبیر للسیوطی، حدیث نمبر:1342)(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر:15096)(کنزالعمال، ج13ص:106،حدیث نمبر: 34290)

مستدرک علی الصحیحین میں حدیث مبارک ہے : عن علي رضي الله عنه قال : أخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن أول من يدخل الجنة أنا وفاطمة والحسن والحسين - قلت : يا رسول الله ، فمحبونا ؟ قال : من ورائكم - صحيح الإسناد ، ولم يخرجاه ۔
ترجمہ : سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے بتایا کہ (آپ کے ساتھ) سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں، میں، فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا، حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہم  ہوں گے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہوں گے ؟  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے پیچھے ہوں گے ۔ امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ (مستدرک علی الصحیحین،حدیث نمبر: 4706)

سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِى وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِى ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ  سےروایت  ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما  سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا ۔ (سنن ابن ماجہ شریف، باب فضل الحسن والحسين ابنى على بن أبى طالب رضى الله عنهم. حدیث نمبر: 148،چشتی)

ایک مرتبہ حضرت امام حسن‘ امام حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم مدینہ شریف سے حج کے لئے مکہ شریف جارہے تھے اور راستہ میں ایک بڑھیا کا گھر تھا‘ یہ حضرات اس کے گھر گئے اور اُس سے فرمائے کہ کچھ پلاؤ‘ پھر وہ بڑھیا اُن سب حضرات کو بکری کا دودھ پلائی‘ اُن حضرات نے فرمایا‘ کیا کھانے کے لئے کچھ ہے؟ اُس بڑھیا نے عرض کیا: میرے پاس اس بکری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے‘ اس کو ذبح کیجئے اور تناول فرمائے‘ چنانچہ اس بکری کو ذبح کرکے پکایا گیا اور سبھوں نے کھایا‘ اس کے بعد اُن حضرات نے اس بڑھیا سے فرمایا: ہم قریش سے ہیں‘ تم مدینہ منورہ آنا ہم کچھ دیں گے۔ یہ حضرات تو چلے گئے‘ اس بڑھیا کا خاوند آیا اور کہا کہ تو نے بکری ایسے اجنبیوں کو دے دی‘ نہیں معلوم وہ کون تھے ؟
ایک زمانہ کے بعد وہ بڑھیا اور اُس کا خاوند محتاج ہوکر مدینہ منورہ آئے اور محنت و مزدوری سے گزر کرنے لگے‘ اتفاقاً اس بڑھیا کا گزر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے گھر پر سے ہوا‘ اس بڑھیا نے نہیں پہچانا ‘ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اُس کو پہچان کر فرمایا: اے بڑھیا ! کیا تو مجھے جانتی ہے؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تیرا فلاں مہمان ہوں کہ جس کو تو نے دودھ اور بکری کے گوشت سے ضیافت کی تھی‘ پھر آپ نے اُس کو ایک ہزار بکری اور ایک ہزار اشرفی دے کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا‘ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی ایک ہزار بکری اور ایک ہزار اشرفی دے کر حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، انہوں نے بھی دو ہزار اشرفیاں اور دو ہزار بکریاں اُس بڑھیا کو دئے‘ بڑھیا چار ہزار بکریاں اور چار ہزار اشرفیاں لے کر دولت مند ہوکر خاوند کے پاس آئی ۔ (شہادت نامہ حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ صفحہ 19)

ایک بچہ کو دیکھا گیا کہ وہ مکہ معظمہ کے حرم میں ریت پر سر ملتے اور روتے جاتے تھے‘  شوقِ الٰہی میں بے سُدھ تھے‘ نزدیک آکر جب لوگوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہیں‘ انہوں نے کہا : تمہارے نانا شافع محشر‘ تمہارے والد عالی مقام‘ تمہاری ماں فاطمہ‘ تم کو کیا ڈر ہے ؟

آپ نے فرمایا : یہ دربار ماں باپ کی بزرگی پر ناز کرنے کی جگہ نہیں ہے‘ یہاں تو فضل کا امیدوار رہنا چاہیے ۔ (شہادت نامہ حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ صفحہ 91)

چھٹی صدی ہجری کے مشہور محدث امام ابوالقاسم علی بن حسن معروف بہ ابن عساکررحمۃ اللہ علیہ (متوفی 571ھ؁) نے جلیل القدر تابعی حضرت اعمش رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی : عن الا عمش قال خری رجل علی قبر الحسن فجن فجعل ینبح کما تنبح الکلاب قال فمات فسمع من قبرہ یعوی ویصیح ۔
ترجمہ : حضرت اعمش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ ایک بدبخت شخص نے سید نا امام حسن رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک پر بدبختی سے بول وبراز کیا تو وہ اسی وقت پاگل اور مجنون ہوگیا اور مرتے دم تک کتوں کی طرح بھونکتا رہا ، پھر مرنے کے بعداس کی قبرسے بھیانک آواز سے کُتا بھونکنے کی آواز سنائی دیتی ۔(تاریخ دمشق لابن عساکر ،ج 13، صفحہ 305 الحسن بن علی،چشتی)(جامع کرامات الاولیاء ،ج1،ص 131)

اس کرامت کو حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1350؁ھ) جو ملک شام کے بلند پایہ عالم گزرے ہیں،نے اپنی کتاب ’’جامع کرامات الاولیاء‘‘میں کتاب طبقات مناوی اور ابو نعیم سے نقل فرمایا ہے ۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے محبوب ومقرب بندوںکی بے ادبی کی جائے تو ایسی سزاد ی جاتی ہے جس کو اہل زمانہ،زمانۂ دراز تک یاد رکھتے ہیں، جب اس بدبخت شخص نے مزارِمبارک کی بے حرمتی کی تو اللہ تعالی نے اُس کی عقل سلب کردی اور جنون کی بیماری میں مبتلا کردیا‘ اس لئے کہ اس نے اپنی عقل کو استعمال کرنے کے بجائے بدبختی کا مظاہرہ کیا اور مزارِاقدس کی بے حرمتی کی ، اس شخص کا جنون عام مجنونوں جیسا نہیں تھا ، اللہ تعالی کو یہ منظور تھا کہ اس کی خوب ذلت ورسوائی ہو، اس لئے عام پاگلوں کے برخلاف وہ کتوں کی طرح بھونکنے لگا ، جب تک دنیا میں زندہ رہا اسی فضیحت وذلت کی زندگی بسر کرتا رہا اور جب مرگیا تو اس کی قبر سے کتے کے بھونکنے کی آواز آیا کرتی تھی ۔

یہ واقعہ امت مسلمہ کےلیے بڑی عبرت کا باعث اور نصیحت کا ذریعہ ہے ، اللہ تعالی سب کو ادب واحترام ملحوظ رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔

نویں صدی ہجری کے مشہور بزرگ حضرت نور الدین عبدالرحمن بن احمد جامی خراسانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 898ھ؁) نے اپنی کتاب ’’شواھدالنبوۃ ‘‘میں لکھا ہے : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ حج کے موقع پر مکہ معظمہ پیدل تشریف لے جارہے تھے تو آپ کے قدم مبارک میں ورم آگیا، آپ کے غلام نے عرض کیا کہ آپ کسی سواری پرسوار ہوجائیں تاکہ قدموں کی سوجن کم ہو ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے غلام کی درخواست قبول نہ فرمائی اور فرمایا :جب اپنی منزل پر پہنچوتو تمہیں ایک حبشی ملے گا، اس سے تیل خرید لو! آپ کے غلام نے کہا :ہم نے کسی بھی جگہ کوئی دوا‘نہ پائی اور جب اپنی منزل پر پہنچے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ وہی غلام ہے جس کے بارے میں تم سے کہاگیا ، جاؤ!اس سے تیل خریدواور قیمت اداکردو! غلام جب تیل خرید نے کے لئے حبشی کے پاس گیا اور تیل پوچھا تو حبشی نے کہا :کس کیلئے خرید رہے ہو؟ غلام نے کہا :حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کےلیے ، تو حبشی نے کہا : مجھے آپ کے پاس لے چلو! میں آپ کا غلام ہوں ، جب حبشی حضرت کے پاس آیا تو عرض کیا : میں آپ کا غلام ہوں ، آپ سے تیل کی قیمت نہیں لوںگا ؟بس میری بیوی کیلئے دعا فرمائیے ! وہ دردِزِہْ میں مبتلاہے اوردعا فرمائیے کہ اللہ تعالی صحیح الاعضاء بچہ عطافرمائے، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:گھر جاؤ!اللہ تعالی تمہیں ویسا ہی بچہ عطا فرمائے گا جیسا تم چاہتے ہو‘ او روہ ہمارا پیروکار رہے گا، حبشی گھر پہنچا توگھرکی حالت ویسی ہی پائی جیسی اس نے امام حسن رضی اللہ عنہ سے سنی تھی ۔(شواھد النبوۃمترجم،ص302)

اس واقعہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی دوکرامات مذکور ہیں : ⬇

پہلی کرامت : آپ نے پہلے ہی بتایا کہ پیروں کا ورم کم ہونے کی دوا کہا ں اور کس کے پاس ملے گی ۔

دوسری کرامت : آپ نے یہ بیان فرمایا کہ حبشی کو خواہش کے مطابق صحیح وسالم لڑکا ہوگا اور وہ لڑکا اہل بیت کرام کاتابعدارو فرمانبردار ہوگا ۔

حضرت نور الدین عبدالرحمن بن احمد جامی خراسانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 898ھ؁)نے ’’شواہد النبوۃ ‘‘میں لکھا ہے : حضرت سیدناامام حسن رضی اللہ عنہ ایک دن حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے کسی صاحبزادہ کے ساتھ سفر میں تھے،ایک خشک باغ میں کچھ دیر کےلیے قیام فرماہوئے ۔

حضرت ابن زبیر نے کہا:کاش اس باغ میں کچھ تروتازہ کھجور ہوتے تو ہم کھاتے ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تازہ کھجور کھانا چاہتے ہو ؟ حضرت ابن زبیر نے کہا : ہاں! حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ دعاء کےلئیے ہاتھ اٹھاکر کچھ تلاوت فرمائے، اچانک کھجور کا ایک درخت ظاہر ہوا اور اس کو تازہ کھجور لگ گئے ، حضرت ابن زبیر کے ایک ساتھی نے کہا :یہ تو جادو ہے ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرما یا : یہ جادو نہیں بلکہ اس دعاکا اثر ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے نے کی تھی ، پھر لوگوں نے اس درخت پر چڑھ کر تازہ کھجور توڑے جن سے تمام لوگ شکم سیر ہوئے۔(شواھدالنبوۃمترجم، صفحہ 302،چشتی)(شہادت نامہ، مؤلفہ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ، صفحہ 93)

پانچویں صدی ہجری کے مشہور مالکی فقیہ حضرت ابو عمر یوسف بن عبداللہ معروف بہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 463؁ھ) نے اپنی کتاب’’ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘ میں روایت بیان کی ہے :  عن عمیر بن إسحاق قال کنا عند الحسن بن علی فدخل المخرج ثم خرج فقال لقد سقیت السم مراراً وما سقیتہ مثل ہذہ المرۃ لقد لفظت طائفۃ من کبدی فرأیتنی أقلبہا بعود معی فقال لہ الحسین یا أخی من سقاک قال وما ترید إلیہ أترید أن تقتلہ قال نعم قال لئن کان الذی أظن فاللہ أشد نقمۃ ولئن کان غیرہ ما أحب أن تقتل بی بریئاً ۔
ترجمہ : حضرت عمیر بن اسحق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے ‘آپ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھے ،آپ حمام میںگئے پھر تشریف لاکرفرمایا:  مجھے کئی باردھوکہ سے زہر پلایا گیا مگر اس بارکی طرح شدید نہیں ،اس کا اثر ہے کہ میں نے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا تھو کا ہے، حیرت میں لکڑی سے اس کو الٹاتا،پلٹاتا رہا، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :بھائی جان!آپ کو کس نے زہر دیا؟ امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:آپ کیا چاہتے ہیں؟کیااُسے قتل کردوگے ؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا:  ہاں!آپ نے فرمایا:میں جس کو مجرم سمجھتاہوں اگر وہی ہے تو اللہ تعالی بہت سخت سزادینے والاہے،اور اگر کوئی دوسرا شخص ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے بے گناہ کو سزادی جائے۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، باب الافراد فی الحاء ، الحسن بن علی)

مذکورہ واقعہ اسی کتاب میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔

ائمہ دین کے پاس یہ امرمسلَّم ہے کہ اللہ تعالی نے کرامات اولیاء کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا مظہر بنایا ہے ، ہرایک ولی کی کرامت فیضان نبوت کا اثر ہے ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو متعدد بار زہر دیا گیا مگر اس کا اثر ظاہر نہ ہوا ، آپ کی یہ کرامت ا س معجزہ کے فیضان سے ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو یہودی عورت نے گوشت میں زہر کھلایا تھا مگر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا اثر نہ ہوا۔

امام ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 430؁ھ)نے اپنی کتاب ’’دلائل النبوۃ ‘‘میں لکھا ہے : عن ابی ہریرۃ قال:کان الحسن عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی لیلۃ ظلماء وکان یحبہ حبا شدیدا فقال : اذہب إلی أمی فقلت : أذہب یا رسول اللہ ؟ قال : فجاء ت برقۃ من السماء فمشی فی ضوئہا حتی بلغ إلی أمہ ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ آپ نے فرمایا : ایک وقت اندھیری رات میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بے پناہ محبت فرمایا کرتے، امام حسن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اپنی والدہ محترمہ کے پاس جانا چاہتا ہوں ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کیا :میں ان کے ساتھ جاؤں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ اتنے میں آسمان سے ایک نورظاہر ہوا جس کی روشنی میں چلتے ہوئے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ والدہ محترمہ کے پاس پہنچ گئے ۔ (دلائل النبوۃ للاصفھانی،باب ذکراضاء ۃ العصا،حدیث نمبر:487،چشتی)

تاریک رات میں آسمان سے روشنی کا ظاہر ہونا اور اس روشنی میں چلنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان سے امام حسن رضی اللہ عنہ کی کرامت ہے ۔


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : میری والدہ نے مجھ سے پو چھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کتنے دنوں بعد جاتے ہو۔میں نے کہا کہ : اتنے اتنے دنوں سے میرا آنا جانا چھوٹا ہوا ہے ۔ اس پر وہ ناراض ہو گئیں ۔ تو میں نے کہا کہ:اچھا ، اب آپ مان بھی جائیے ۔میں آج ہی حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر نماز مغرب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ادا کروں گا ، اپنی اور آپ کی مغفرت کی دعا کرنے کی درخواست کروں گا ، حضرت حذیفہ کہتے ہیں : میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب ادا کیا ، پھر حضور عشاء تک نماز میں مشغول رہے ، عشاء پڑ ھنے کے بعد جب آپ لوٹے تو میں آپ کے پیچھے ہو لیا ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب میری آواز سنی تو فر مایا : کون ؟ حذیفہ ، میں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اللہ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فر مائے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا : بے شک ایک فر شتہ جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ آیا ، آج اس نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ مجھے سلام کرے اور مجھے اس بات کی خوشخبری دے کہ : فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن ، حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (جامع ترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث :۳۷۸۱،چشتی)

شہادت عظمی

امام عالی مقام سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت عظمی پانچ (5) ربیع الاول ، 50 ہجری اور ایک روایت کے مطابق 49 ہجری ، مدینہ منورہ میں ہوئی،آپ کو زہر دیکر شہید کیا گيا،آپ کا مزار مقدس جنت البقیع شریف میں ہے ۔
توفي رضي الله عنه بالمدينة مسموماً۔۔۔۔ وكانت وفاته سنة تسع وأربعين وقيل في خامس ربيع الأول سنة خمسين ۔ (تاریخ الخلفاء،جلد 1 صفحہ 78)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بڑے حلیم ، کریم اور متقی و پر ہیز گار تھے ، انہوں نے اپنی زندگی میں دو بار اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا ۔اس کے علاوہ جب بھی راہ خدا میں مال لٹانے کی باری آئی تو انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے ۵۰/مرتبہ پیدل حج کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ : مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہےکہ میں اس سے ملاقات کروں اور اس تک پیدل چل کر نہ جاؤں ۔

۱۷/رمضان سن ۴۰/ہجری میں اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلیفہ ہوئے،چالیس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کیا ۔ اور آپ نے چھ یا سات مہینے تک عراق ، خراسان ، حجاز اور یمن وغیرہ پر حکومت کیا ۔پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ملک شام سے آپ کے خلاف فوج کشی کی ،آپ نے بھی اپنی فوج اُتاری اور جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئی اور قریب تھا کہ جنگ کی آگ بھڑک جائے تو آپ نے سوچا کہ :کوئی فریق دوسرے پر اس وقت تک غالب نہ ہوگا جب تک کہ دونوں طرف سے بہت سارے مسلمانوں کا خون نہ بہہ جائے ۔یہ سوچ کر آپ نے حضرت امیر معاویہ کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ : وہ اس شرط پر حکومت ان کے سپرد کرنے کےلیے تیار ہیں کہ ان کے بعد خلافت ہمارے پاس رہے اور یہ کہ ہمارے والد کے زمانے میں مدینہ ، حجاز اور عراق کے لوگوں کے پاس جو کچھ تھا اس کا مطا لبہ نہیں کریں گے ۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان شرائط کو منظور کر لیا اور اس طرح سے غیب داں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے بچپنے ہی میں فر مایا تھا کہ ” یہ میرا بیٹا سردار ہے ، اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرا دے گا ۔ جس ذات کےلیے حضور نے فر مایا ہو کہ : یہ سردار ہے اس کی عظمتوں کا اندازہ بھلا کون لگا سکتا ہے ۔ (اسد الغابہ باب الحاء والسین حسن بن علی رضی اللہ عنہما،چشتی)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی سنِ وصال میں مورخین کا اختلاف ہے ، ایک قول یہ ہے کہ سن ۴۹ ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰ ہجری میں ہوا ، اور سن ۵۱ ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے ۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔

حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت پانچ ربیع الاول ہے : ⬇

علامہ خطیب بغدادی لکھتے ہیں حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ کا وصال انچاس ہجری ماہ ربیع الاول کو ہوا
وتوفي الْحَسَن بْن عَلِيّ بْن أَبِي طالب في ربيع الأول من سنة تسع وأربعين ۔ (تاریخ بغداد : 1/140)

أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي (المتوفى: 463هـ) نے بھی سال انچاس اور پچاس لکھا مگر مہینہ ربیع الاول تھا ۔ ومات الحسن بن علي رضي الله عنهما بالمدينة واختلف في وقت وفاته فقيل مات سنة تسع وأربعين وقيل بل مات في ربيع الأول من سنة خمسين ۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الصحاب : 1/115)

محمد بن حبان ، الدارمي، البُستي (المتوفى: 354هـ) اکاون ہجری اور ماہ ربیع الاول لکھتے ہیں
فمات في شهر ربيع الأول سنة إحدى وخمسين ۔ (الثقات لابن حبان :3/68)

ابن عساکر اورابن جوزی پچاس ہجری پانچ ربیع الاول لکھتے ہیں
مات الحسن بن علي لخمس ليال خلون من شهر ربيع الأول سنة خمسين ۔ (تاریخ دمشق : 13/302)(صفوۃ الصفوۃ :1/762)

امام ذہبی نے پچاس ہجری ربیع الاول میں آپ کا وصال لکھا
تُوُفِّيَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَبِيعٍ الْأَوَّلَ سَنَةَ خَمْسِينَ ۔ (تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام:2/397)

امام سیوطی نے سن (سال) انچاس ، پچاس اور اکاون لکھے اور کہا کہ ربیع الاول کی پانچ تاریخ تھی ۔ وكانت وفاته سنة تسع وأربعين، وقيل: في خامس ربيع الأول سنة خمسين، وقيل: سنة إحدى وخمسين ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 147])

محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي، أبو جعفر الطبري (المتوفى: 310هـ) ۔ حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ پچاس ہجری پانچ ربیع الاول کو رخصت ہوئے ۔ مات الحسن بن على عليه السلام سنة 50 في ربيع الاول لخمس خلون منه ۔ (المنتخب من ذيل المذيل صفحہ نمبر 19)

مات الحسن بن علي لخمس ليال خلون من شهر ربيع الأول سنة خمسين ۔ حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ پچاس ہجری پانچ ربیع الاول کو رخصت ہوئے ۔ (الجزء المتمم لطبقات ابن سعد :1/354)

آپ کی وفات کاسبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ، جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر انتقال کر گئے ۔ جب بیماری زیادہ بڑھی تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ : مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے ؟ تو آپ نے فر مایا : یہ سوال کیوں پوچھتے ہو ؟ کیا تم ان سے جنگ کروگے ۔ میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔

کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی ۔ یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے ۔ کیو نکہ تمام مور خین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ : میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں ۔ تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا ۔ جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا ؟ اس لیے ایک ایسے مقدس امام جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ، پھر جنہیں نوجوانانِ جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ ان کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک بندوں کے صدقے دارین کی سر خروئی نصیب فرمائے ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے ؟ ۔ کا جواب : ⏬

محترم قارئینِ کرام : بہت عرصہ پہلے ہم رافضی شیعوں کے اس بھونڈے اور من گھڑت اعتراض کا مدلّل جواب دے چکے ہیں اب دوبارہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سنیوں کے لبادے میں رافضی جو کہ بُغضِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں مبتلا ہیں نے اس بات کو مختلف کمنٹس اور پوسٹوں کی صورت میں اچھالا اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی مگر یہ مبغضین بغض میں اتنا اندھے ہوگئے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہ پر بدکاری کا الزام لگا دیا کہ اس کے یزید سےناجائز تعلقات تھے استغفر اللہ ۔ ان بد بختوں کو اتتنا بھی حیاء نہ آئی کہ خانوادہ رسول علیہم السّلام کی بہو پر بیہودہ الزام لگا دیا اس سے ان بد بختوں کے اندر چھپی رافضیت و اسلام دشمنی واضح ہوتی ہے آئیے اس کے متعلق نئی ترتیب کے ساتھ مفصل و مسدلّل جواب پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے بد بختوں کو ہدایت عطاء فرمائے آمین ۔

محترم قارئینِ کرام : یہ الزام انتہائی بے بنیاد اور لغو ہے ۔ حتٰی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو کس نے قتل کیا ہے ، تو کس طرح دوسروں کو معلوم ہو گیا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کو  نعوذ باللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے ؟

قال بن سعد أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم أخبرنا بن عون عن عمير بن إسحاق دخلت أنا وصاحب لي على الحسن بن علي فقال لقد لفظت طائفة من كبدي وإني قد سقيت السم مرارا فلم أسق مثل هذا فأتاه الحسين بن علي فسأله من سقاك فأبى أن يخبره رحمه الله تعالى ۔
ترجمہ : عمیر بن اسحق کہتے تھے کہ میں اور میرے ایک ساتھی حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ میرے جگر کے کچھ ٹکڑے گرچکے ہیں اورمجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ؛ لیکن اس مرتبہ کہ ایسا قاتل کبھی نہ تھا اس کے بعد حسین رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا کس نے پلایا، لیکن انہوں نے بتانے سے انکار کیا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة ج ۲ ص ۷۳،چشتی)

عمیر بن اسحاق کہتے ہیں : دخلت أنا ورجل علی الحسن بن علی نعودہ ، فجعل یقول لذلک الرجل: سلنی قبل أن لا تسألنی ، قال: ما أرید أن أسألک شیئا ، یعافیک اللّٰہ ، قال: فقام فدخل الکنیف ، ثمّ خرج إلینا ، ثمّ قال: ما خرجت إلیکم حتی لفظت طائفۃ من کبدی أقلبہا بہذا العود ، ولقد سقیت السمّ مرارا ، ما شیء أشدّ من ہذہ المرّۃ ، قال: فغدونا علیہ من الغد ، فإذا ہو فی السوق ، قـال : وجاء الحسین فجلس عند رأسہ ، فقال: یا أخی ، من صاحبک ؟ قال : ترید قتلہ ؟ قال: نعم ، قال: لئن کان الذی أظنّ ، للّٰہ أشدّ نقمۃ ، وإن کان بریئا فما أحبّ أن یقتل برئی ۔
ترجمہ : میں اور ایک آدمی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پرعیادت کے لیے داخل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہمااس آدمی سے کہنے لگے : مجھ سے سوال نہ کرسکنے سے پہلے سوال کرلیں۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کوعافیت دے۔ آپ رضی اللہ عنہماکھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے ۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے ، پھرفرمایا: میں نے تمہارے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعہ)پھینک دیاہے۔ میں اس کو اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کررہاتھا۔ میں نے کئی بار زہر پیا ہے ، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہماحالت ِ نزع میں تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اورکہا : اے بھائی!آپ کو زہر دینے والا کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہمانے فرمایا : کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : اگر وہ شخص وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ انتقام لینے میں زیادہ سخت ہے۔ اوراگر وہ بری ہے تو میں ایک بری آدمی کوقتل نہیں کرنا چاہتا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۱۵/۹۳،۹۴، کتاب المحتضرین لابن ابی الدنیا : ۱۳۲، المستدرک للحاکم : ۳/۱۷۶، الاستیعاب لابن عبد البر : ۳/۱۱۵، تاریخ ابن عساکر : ۱۳/۲۸۲، وسندہٗ حسنٌ،چشتی)

اسی طرح اہل تشیع کی مشہور کتاب بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے مروج الذہب للمسعودی الشیعی سے مندرجہ زیل روایت نقل کی ہے : عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده علي بن الحسين عليهم السلام قال: دخل الحسين على عمي الحسن حدثان ما سقي السم فقام لحاجة الانسان ثم رجع فقال: سقيت السم عدة مرات، وما سقيت مثل هذه، لقد لفظت طائفة من كبدي ورأيتني أقلبه بعود في يدي، فقال له الحسين عليه السلام: يا أخي ومن سقاك؟ قال: وما تريد بذلك؟ فإن كان الذي أظنه فالله حسيبه، وإن كان غيره فما أحب أن يؤخذ بي برئ، فلم يلبث بعد ذلك إلا ثلاثا حتى توفي صلوات الله عليه ۔
ترجمہ : علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (زین العابدین) رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ حسین میرے چچا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے زہر پلانے کے وقت گئے تو حسن رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لئے گئے وہاں سے لوٹ کر کہا کہ مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ، لیکن اس مرتبہ کے ایسا کبھی نہ تھا اس میں میرے جگر کے ٹکڑے باہر آگئے تم مجھے دیکھتے کہ میں ان کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا ، حسین رضی اللہ عنہ نے پوچھا بھائی صاحب کس نے پلایا ؟ حسن رضی اللہ عنہ نے کہا، اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے ، اگر زہر دینے والا وہی شخص ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو خدا اس کے لئے کافی ہے اور اگر دوسرا ہے تو میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میری وجہ  سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے ، اس کے بعد حسن رضی اللہ عنہ زیادہ نہ ٹھہرے اور تین دن کے بعد انتقال کرگئے ۔ (بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٤٤ - الصفحة ١٤٨،چشتی)

پس معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگایا جانے والا یہ الزام کوئی بنیاد نہیں رکھتا ، یہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کا اپنا ایجادکردہ الزام ہے ۔

علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں : وما ينقل من ان معاوية دس إليه السم مع زوجه جعدة بنت الاشعث فهو من أحاديث الشيعة وحاشا لمعاوية من ذلك ۔
ترجمہ : اوریہ روایت کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان (امام حسن رضی اللہ عنہ) کی بیوی سے مل کر زہر دلایا شیعوں کی بنائی ہوئی ہے حاشا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات سے اس  کاکوئی تعلق نہیں ۔ (ابن خلدون ج ۲ ص ١۸۷،چشتی)

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : وأما قوله : إن معاوية سم الحسن ، فهذا  مما ذكره بعض الناس ، ولم يثبت ذلك ببينة شرعية ، أو إقرار معتبر ، ولا نقل يجزم به ، وهذا مما لا يمكن العلم به ، فالقول به قول بلا علم ۔ ترجمہ : بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ حسن کو معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دیا تھا کہ کسی شرعی دلیل اورمعتبر اقرار سے ثابت نہیں ہے اورنہ کوئی قابل وثوق روایت سے اس کی شہادت ملتی ہے اوریہ واقعہ ان واقعوں میں ہے جس کی تہ تک نہیں پہنچا جاسکتا اس لیے اس کے متعلق کچھ کہنا بے علم کی بات کہنا ہے ۔ (منہاج السنہ ج ۴ ص ۴٦۹،چشتی)

علامہ حافظ ابن کثیر اس کے متعلق لکھتے ہیں : وعندي أن هذا ليس بصحيح ، وعدم صحته عن أبيه معاوية بطريق الأولى ۔
ترجمہ : میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں کہ یزید نے سیدنا امام حسن کو زہر دے کر شہید کر دیا ہے ۔ اور  اس کے والد ماجد سیدنا امیر معاویہ کے متعلق یہ گمان کرنا بطریق اولٰی غلط ہے ۔ (البدایہ والنہایہ ج ۸ ص ۴۳)

امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں : قلت : هذا شيء لا يصح فمن الذي اطلع عليه ۔ ترجمہ : میں کہتا ہوں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے ، اور اس پر کون مطلع ہو سکا ہے ۔ (تاریخ اسلام ص ۴۰،چشتی)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی تایخ وصال میں مور خین کا اختلاف ہے،ایک قول یہ ہے کہ سن 49/ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰/ہجری میں ہوا،اور سن ۵۱/ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے۔لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔آپ کی وفات کاسبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ،جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر آپ کا وصال ہو گیا۔ جب بیماری زیادہ بڑھی  تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فر مایا کہ:مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟تو آپ نے فر مایا:یہ سوال کیوں پوچھتے ہو؟کیا تم ان سے جنگ کروگے۔میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔

کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ  کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی۔یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے۔کیو نکہ تمام مور خین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ:میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا۔جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا؟اس لئے  ایک ایسے مقدس امام  جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ،پھر جنہیں نوجوانا ن جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ان  کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک بندوں کے صدقے دارین کی سر خروئی نصیب فر مائے ۔

خلیفہ اعلیٰحضرت صدر الافاضل حضرت علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ سوانح کربلا میں فرماتے ہیں : مؤرخین نے زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنت اشعث ابن قیس کی طرف کی ہے اور اس کو حضرت امام کی زوجہ بتایا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ یہ زہر خورانی باغوائے یزید ہوئی ہے اور یزید نے اس سے نکاح کا وعدہ کیا تھا۔ اس طمع میں آکر اس نے حضرت امام کو زہردیا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲) لیکن اس روایت کی کوئی سندِ صحیح دستیاب نہیں ہوئی اور بغیر کسی سندِ صحیح کے کسی مسلمان پر قتل کا الزام اور ایسے عظیم الشان قتل کا الزام کس طرح جائز ہوسکتا ہے ۔

قطع نظر اس بات کے کہ روایت کے لئے کوئی سند نہیں ہے اور مؤرخین نے بغیر کسی معتبرذریعہ یا معتمدحوالہ کے لکھ دیاہے ۔ یہ خبر واقعات کے لحاظ سے بھی ناقابل اطمینان معلوم ہوتی ہے ۔ واقعات کی تحقیق خود واقعات کے زمانہ میں جیسی ہوسکتی ہے مشکل ہے کہ بعد کو ویسی تحقیق ہو خاص کر جب کہ واقعہ اتنا اہم ہو مگر حیرت ہے کہ اَہل بیتِ اَطہار کے اس امامِ جلیل کا قتل اس قاتل کی خبر غیر کو تو کیا ہوتی خود حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ نہیں ہے یہی تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے برادر ِمعظم سے زہردہندہ کا نام دریافت فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر دینے والے کا علم نہ تھا ۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کانام لیتے ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اب حضرت جعدہ رضی اللہ عنہا کو قاتل ہونے کیلئے معین کرنے والا کون ہے۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویاامامین کے صاحبزادوں میں سے کسی صاحب کواپنی آخر حیات تک جعدہ کی زہر خورانی کاکوئی ثبوت نہ پہنچانہ ان میں سے کسی نے اس پر شرعی مواخذہ کیا ۔ ایک اور پہلو اس واقعہ کاخاص طور پر قابل لحاظ ہے وہ یہ کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو غیر کے ساتھ سازباز کرنے کی شنیع تہمت کے ساتھ متہم کیا جاتا ہے یہ ایک بدترین تبرا ہے۔ عجب نہیں کہ ا س حکایت کی بنیاد خارجیوں کی افتراءات ہوں جب کہ صحیح اور معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثیر التزوج تھے اور آپ نے سو (۱۰۰) کے قریب نکاح کیئے اور طلاقیں دیں ۔ اکثرایک دو شب ہی کے بعد طلاق دے دیتے تھے اور حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم باربار اعلان فرماتے تھے کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت ہے ، یہ طلاق دے دیا کرتے ہیں ، کوئی اپنی لڑکی ان کے ساتھ نہ بیاہے ۔ مگر مسلمان بیبیاں اور ان کے والدین یہ تمنا کرتے تھے کہ کنیز ہونے کا شرف حاصل ہوجائے اسی کا اثر تھا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن عورتوں کو طلاق دیدیتے تھے ۔ وہ اپنی باقی زندگی حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت میں شیدایانہ گزاردیتی تھیں اور ان کی حیات کا لمحہ لمحہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد اور محبت میں گزرتا تھا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب ، ص۱۵۱) ایسی حالت میں یہ بات بہت بعید ہے کہ امام کی بیوی حضرت امام کے فیض صحبت کی قدر نہ کرے اور یزید پلید کی طرف ایک طمعِ فاسد سے اما م جلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل جیسے سخت جرم کا ارتکاب کرے ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت بابرکت نصیب ہوئی ہے اور آپ کی فضیلت وشرافت احادیث شریفہ میں مذکور ہے ، زبان رسالت سے آپ رضی اللہ عنہ کےلیے ھادی ومھدی ہونے کی دعاء جاری ہوئی چنانچہ جامع ترمذی شریف میں ہے ؛ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔

ترجمہ : اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔ (جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213)


حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان الفت ومحبت بڑی گہری تھی ، فرمان نبوی کے مطابق خلافتِ نبوت کے 30 سال حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی چھ ماہی خلافت پر تکمیل کو پہنچے ، مسلمانوں کی خون خرابے سے بچانے کیلئے آپ نے دستبرداری حاصل کی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی جس کے نتیجہ میں بہت بڑی جنگ ٹل گئی ، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :


عن الحسن سمع أبا بكرة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر والحسن إلى جنبه ينظر إلى الناس مرة وإليه مرة ويقول " ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔

ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکرة رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم منبر شریف پر جلوہ افروز تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کبھی آپ کی طرف دیکھتے اور کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سردار ہے اور اللہ تعالی ان کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ (صحیح بخاری شریف ،کتاب فضائل الصحابة ، باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، حدیث نمبر؛ 3536،چشتی)


تاجِ صحابیت نے بڑھائی ہے اُن کی شان

سونپی حَسَن نے اُن کو خلافت کی آن بان

ہوگا نہ کم کسی سے وقارِ معاویہ (رضی اللہ عنہما)


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اہل مدینہ نے خلیفہ بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سبائیوں اور فسادیوں کے دباؤ کے باوجود جنگ و جدل سے گریز کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 6 ماہ بعد آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا ۔ اللہ کے فضل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ثابت ھو گئے ،، ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔


اس طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ملت اسلامیہ کے متفقہ خلیفہ بن گئے ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ کی ایک حدیث ہے : عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔ ترجمہ : اے اللہ معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔ ﴿جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213،چشتی﴾


اس صلح کی برکت سے مسلم امہ میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور جہاد اور فتوحات کا جو سفررک گیا تھا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے دوبارہ سے شروع کیا ۔ اور برق رفتاری سے جاری رکھا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دو رخلافت میں قلات ، قندھار ، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ ، شمالی افریقہ ، جزیرہ روڈس ، جزیرہ اروڈ ، کابل ، صقلیہ (سسلی) سمیت 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔


اس صلح میں کئی معاہدے طئے کئے گئے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹے گی ۔ لیکن آپ کا وصال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہوگیا ۔ جیسا کہ ابو الحسن علی بن اثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : فارسل الی معاویة یبذل لی تسلیم الامر الیہ علی ان تکون لہ الخلافة بعدہ وعلی ان لایطلب احدا من اہل المدینة والحجاز والعراق بشیٴ مما کان ایام ابیہ وغیرذلک من القواعد فاجابہ معاویة الی ما طلب ۔ ﴿اسد الغابہ، الحسن بن علی﴾


امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت اور اس سے دست برداری


حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے ۔ چالیس ہزار اہالیان کوفہ نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی ۔ آپ چھ ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے اس کے بعد جب حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ آپ کے پاس کوفہ آئے تو مندرجہ ذیل تین شرطوں کے ساتھ آپ نے خلافت ان کے سپرد کرنا منظور فرمایا ۔


(1) بر وقت امیر معاویہ خلیفہ بنائے جاتے ہیں لیکن ان کے انتقال کے بعد امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین ہوں گے ۔


(2) مدینہ شریف اور حجاز و عراق وغیرہ کے لوگوں سے حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کے زمانہ کے متعلق کوئی مواخذہ اور مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔


(3) حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ کے ذمہ جو ہے ان سب کی ادائیگی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کریں گے ۔


ان تمام شرطوں کو حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے قبول کیا تو آپ میں صلح ہو گئی اور ﷲ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا وہ معجزہ ظاہر ہوا جو آپ نے فرمایا تھا کہ میر ایہ فرزند ارجمند مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔


حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ نے اس صلح کے بعد تخت خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لئے خالی کر دیا ۔ دستبرداری کا یہ واقعہ ربیع الاول ۔ 41ھ میں ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء)


خلافت سے دستبردار ہونا آپ کے بہت سے ہم نواؤں کو ناگوار ہوا انہوں نے طر ح طرح سے آپ پر ناراضگی کا اظہار کیا یہانتک کہ بعض لوگ آپ کو ’’عار المسلمین ‘‘ کہہ کر پکارتے تو آپ ان سے فرماتے ۔ العار خیر من النار ۔ عارنا ر سے بہتر ہے ۔


امر خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو سپرد کرنے کے بعد آپ کوفہ سے مدینہ طیبہ چلے گئے اور وہیں قیام پذیر رہے ۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ سے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں آپ پھر خلافت کے خواستگار ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت عربوں کے سر میرے ہاتھوں میں تھے یعنی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے وہ مجھ سے بیعت کر چکے تھے اس زمانہ میں ہم جس سے چاہتے ان کو لڑا دیتے لیکن میں اس وقت محض ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے خلافت سے دستبردار ہو گیا اور امت محمدیہ کا خون نہیں بہنے دیا ۔ تو جس خلافت سے میں صرف ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے دست بردار ہو گیا ہوں اب لوگوں کی خوشی کے لئے میں اسے دوبارہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ (تاریخ الخلفاء،چشتی)


کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شرائطِ صلح سے انحراف کیا تھا ؟


محترم قارئینِ کرام : شیعہ رافضی اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اس معاہدے کی مخالفت کی جوان کے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوا تھا ، جس کی ایک شق یہ تھی کہ : حضرت امیرمعاویہ اپنے بعد کسی کو خلافت نہیں سونپیں گے ، بلکہ امت مسلمہ کی طرف یہ معاملہ پھیریں گے ۔


اس بات سے قطع نظر کہ کیا حضرت امیر معاویہ حضرت حسن رضی اللہ عنہما جیسی شخصیت کے ساتھ سر عام ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں ، جنہوں نے رومیوں کے ساتھ عین جہاد کے موقع پر حضرت عمرو بن عبسہ کی زبانی ایک معاہدے کی یاد دہانی پر نہ صرف جنگ روک دی بلکہ مفتوحہ علاقہ بھی دشمن کے حوالے کیا ،نیز اس با ت سے بھی قطع نظر کہ اس وقت کی غالب اکثریت جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے سے متفق ہوگئی ، تو امت کی اکثریت کا اس رائے میں شامل ہونا خلافت کے معاملے کو امت کی طرف پھیرنا نہیں کہلائے گا ، نیز اس بات سے بھی قطع نظر کہ جن چار بنیادی صحابہ نے اس فیصلے پر اپنی اختلافی رائے دی ، انہوں نے کسی بھی موقع پر حتی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ یزید کو ولی عہد بنانا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔


ان سب باتوں سے قطع نظر معاہدے کی جس شق کو معترض اعتراض کی بنیاد بنا رہے ہیں ، یہ شق تاریخ کی بنیادی مصادر تاریخ میں ہی نہیں ہے ، حالانکہ اس میں معاہدے کی دیگر شقوں کا تذکرہ ہے ، خواہ مسعودی کی مروج الذہب ہو ، امام طبری کی تاریخ طبری ، ابن کثیر کی البدایہ ہو یا ابن اثیر کی الکامل ، ابن خلدون کی تاریخ ابن خلدون ہو یا ابن جوزی کی المنتظم ، ان میں سے کسی میں بھی یہ شق نہیں ہے ۔


یہ شق بلاذری کی انساب الاشراف میں بلا سند ذکر ہے ، اور وہاں سے مصنف الصواعق نے لیا ہے ۔


طرفہ تماشا یہ کہ اس شق کو کچھ معترضین نے متواتر کہا ، جبکہ اس کی ایک بھی صحیح سند نہیں ہے ، بلکہ اساسی مصادر میں سے ایک دو کتب میں نقل ہوئی ہے ۔ یا للعجب ۔


اس پر مستزاد یہ کہ شیعہ مصادر اور ابن عبد البر کی استیعاب نے ایک اور شق کا ذکر کیا ہے جو معترضین کی ذکر کردہ شق سے صراحتا معارض ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ اگر جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو خلافت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے گی ۔


طرفہ تماشا یہ کہ یہ شق بھی اسی شق کی طرح اوپر ذکر کردہ کسی اساسی مصدر میں شروط صلح کے ضمن میں مذکور نہیں ہے ۔ جس کا ذکر اور مختصر جواب ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں ۔


تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ دونوں متعارض شقیں سنی و شیعہ غالین کی وضع کردہ ہیں ۔ پہلی شق سے اہلسنت مناظرین اہل تشیع کو الزام دیتے ہیں کہ اگر امامت منصوص ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت میں شوری کی شرط کیوں لگائی ؟


اگر امامت اہل بیت رضی اللہ عنہم کا حق نہیں ہے اور شوری پر مبنی ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے جناب امیر رضی اللہ عنہ کے بعد اپنے لئے خلافت کو مختص کیوں کیا ؟


اس لئے غالین کی وضع کردہ بلا سند شروط سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاک دامن کو داغدار نہ کیا جائے ۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم شیعی مورخ ابوحنیفہ الدینوری کی کتاب ” الاخبار الطوال” میں بھی مذکورہ شرائط ندارد ۔

بلکہ انہیں کے بقول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے ساتھ جو شرائط طے کی تھیں ان میں کوئی کمی نہ کی ۔


کیا معاویہ رضی اللہ عنہ موروثی نظام حکومت کے بانی تھے اور کیا یزید کا استخلاف غیر شورائی تھا ؟


ڈاکٹر حامد محمد الخلیفہ اس ضمن میں لکھتے ہیں : رہے وہ نام نہاد اہل سنت جو اس بات کا پروپیگنڈا کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام میں ’’موروثی نظام حکومت‘‘ کے موسئسِ اول سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنھما تھے تو دراصل ان لوگوں نے حالات و واقعات کا صرف ایک زاویہ نگاہ سے جائزہ لیا ہے ، اسی یک طرفہ جائزے نے انہیں ایک ایسے صحابی رسول پر یہ تہمت لگانے پر ابھارا جن کی سیاست نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ روئے زمین کے سب سے ذہین ترین آدمی تھے اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے بعد سیاسی تدبر وشعور میں سب سے زیادہ قوت ومہارت اور دسترس رکھتے تھے ۔ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کو امر وراثت گمان کیا ہوتا تو انہیں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور دوسرے لوگوں کو اپنی رائے میں شریک کرنے کی کیا ضرورت تھی اور انہوں نے ان اکابر کے غصہ اور سختی کو کیوں برداشت کیا اور آخر یہ سب سہنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟

پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اکیلے ہی یزید کی نامزدگی کو کیوں کافی نہ سمجھا ؟ اور کیا یہی نظامِ وراثت نہیں ہوتا ؟ کہ والی کسی سے مشورہ یا رائے لیے بغیر اکیلے ہی اپنے ورثاء میں سے کسی کو اپنے بعد کے امر کا وارث قرار دے دیتا ہے ۔

پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات کے شدید متمنی کیوں تھے کہ عام قبائل عرب اور امت کے اکابر کو بھی یزید کی بیعت میں شریک کریں ؟

اور انہوں نے ہر خاص وعام ، قریب اور دُور کے آدمی سے اس بارے میں مشاورت کیوں کی ؟

کیا اس بات کو ہوا دیکر دراصل امت مسلمہ کے اکابر کی بابت بدگمانی کے زہر کو عام کرکے اعدائے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں کومضبوط کرنا مقصود ہے ؟

یوں اس شوروغوغا کا بدترین نتیجہ یہ نکلا کہ ہر بے اوقات ، جاہل ، عقل سے عاری اٹھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف محاکمہ کرنے اور ان کے خلاف عدالت قائم کرنے بیٹھ گیا اور اس کی جرأت بیجا اس حد تک جا پہنچی کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے تئیں صحیح بات کی فہمائش کرنے لگا ، حالانکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو ان عظیم ترین ہستیوں میں سے ہیں جن کے اقوال وافعال کو آج تک مشعل راہ بنایا جاتا ہے اور تاقیامت بنایا جاتا رہے گا ۔

پھر ان لوگوں کے لہجوں کی رعونت دیکھ کر یوں گمان ہونے لگتا ہے کہ غزوہ قسطنطینہ کے اصل بہادر اور شہ سوار یہی لوگ ہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مبارک دور خلافت میں لڑی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اونچے جلیل القدر کردار پر انگلیاں اٹھانے والے اور شوریٰ شوریٰ کا نام لیکر ٹسوے بہانے والے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ غل مچانے والے کہ انہوں نے شوریٰ کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا تھا ، خود کو یوں ظاہر اور پیش کرتے ہیں جیسے امت کی شیرازہ بندی کا سہرا انہی کے سر ہے اور جیسے روم کی سرکشی اور خودسری کو کچل کر خاک میں ملانے والے اور خون آشام جنگوں کے شہسوار یہی جغادری ہیں ۔۔۔

افسوس یہ حضرات یہ بات یکسر بھول جاتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو سب سے زیادہ شوریٰ پر عمل کرنے والے تھے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت شوریٰ سے ہی تعبیر تھا لیکن کوئی سچ بولنا اور انصاف کا دامن تھامنا بھی چاہے تو تب نا !! کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے انتخاب کی بابت کس کس سے مشورہ نہ کیا ؟ کس کس کے دروازے پر دستک نہ دی ؟ کیا ہر قبیلہ کی طرف وفود نہ بھیجے ؟ کیا لوگوں سے رائے نہ لی گئی اور انہوں نے اپنی آراء پیش نہ کیں ؟ کیا اقالیم و قبائل کے وفود نے آ آ کر اس مسئلہ میں شرکت نہ کی اور اپنی رضا کا اظہار کرکے برکت کی دعائیں نہ دی تھیں ؟ تاریخ کی کتابیں ان کے ذکر سے معمور ہیں ۔ ان واقعات کے تناظر میں برملا کہا جا سکتا ہے کہ یزید کا استخلاف شوریٰ سے تھا جس میں اغلبیت کی رائے ثابت ہے گو اجماعِ تام نہیں ملتا ۔۔۔ـ (سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے (مترجِم) تالیف : ڈاکٹر محمد الصلابی ڈاکٹرحامد محمد الخلیفہ ، مترجَم پروفیسر جار اللہ ضیاء صفحہ نمبرز 300 ، 301 ، 312 ، 313 مکتبہ الفرقان خان گڑھ)


نوٹ : اس موضوع پر ہم الگ سے لکھ چکے ہیں جسے اس لنک میں احباب تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید پلید کی ولی عہدی


محترم قارئینِ کرام : ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد کیوں مقرر کردیا تھا ۔


جواب : ہاں بے شک انہوں نے یزید کو ولی عہد مقرر کیا تھا اس لئے نہیں کہ خلافت ، مملکت اور حکومت کو اپنے خاندان میں بند کردیں ۔ یہ بدگمانی ہم نہیں کرسکتے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابہ کے حق میں مومن کو حسن ظن سے کام لینا چاہئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حکم ہے کہ : مومن کے حق میں خیر کا گمان کرو ۔ (مشکوۃ المصابیح)


معاذ اللہ یا تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تم کافر کہو اور اگر مومن کہتے ہو تو قرآن کریم کہتا ہے کہ مومن کے حق میں بدگمانی مت کرو میں کہتا ہوں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مومن ہیں لہٰذا ہم ان کے حق میں بدگمانی نہیں کریں گے اور جب بدگمانی نہیں کریں گے تو لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ انہوں نے اپنے خیال میں وہ بہتر سمجھ کرکیا اگرچہ اس کا نتیجہ بہتر نہیں نکلا ۔


بعض حضرات یزید کی ولی عہدی کے معاملے کو لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آڑ میں یزید کی ایسی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا قتل کوئی ظلم تھا ہی نہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اگر یزید ایسا ہی برا تھا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی برائیاں کیوں نہ دکھائی دیں ، پس ماننا پڑے گا کہ یزید بہت اچھا ہوگا اور اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہوگا ۔


اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یزید کی ولی عہدی کے بعد واقعہ کربلا و حرا وغیرہ رونما ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ ان کا انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے کہ امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان پر یزید اور اس کی حکومت کو ڈسکاؤنٹ دینا بھی جائز نہیں کہ ان معاملات کو طاقت کے یوں اندھا دھن استعمال کے بغیر بھی حل کرنا ممکن تھا ۔ مزید تفصیل اس لنک میں دیئے گئے مکمل مضمون میں پڑھیں : https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/09/blog-post_20.html


آج نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی یہ صلح و فضیلت پسند نہیں ہے یہ نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام خود کو حضرت امام حسن علیہ السّلام سے بڑا محقق و مفتی و عالم سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں ہدایت و عقلِ سلیم عطاء فرمائے اور ہمیں صحابہ کرام و اہلبیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی بے ادبی سے بچائے آمین ۔


صلح امام حسن و معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں ۔ ⏬

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت و مغفرت اور صلح امام حسن اور حضرت معاویہ کے بارے میں امام اہلسنت مجدد دین و ملت محدث ہند فاضل بریلوی الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فتویٰ رضویہ میں متعدد مقامات پر تحقیق پیش کی ہے ان میں سے مختلف اقتباسات پیش خدمت ہیں : ⬇

مگر فضل صحبت و شرف صحابیت سعادت خدائی دین ہے جس سے مسلمان آنکھ بند نہیں کرسکتے تو ان پر لعن طعن یا ان کی توہین تنقیص کیسے گوارہ رکھیں اور کیسے سمجھ لیں کہ مولا علی کے مقابلے میں انہوں نے جو کچھ کیا بربنائے نفسانیت تھا صاحب ایمان مسلمان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی ہاں ایک بات کہتے ہیں اور ایمان لگی کہتے ہیں ہم تو بحمد اللہ سرکار اہل بیت کرام علیہم الرضوان کے غلامان زاد ہیں اور موروثی خدمت گار ہیں ہمیں امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا رشتہ خدانخواستہ ان کی حمایت بے جاکریں مگر ہاں اپنی سرکار کی طرفداری اور امر حق میں ان کی حمایت و پاسداری اور ان کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خصوصاً الزام بدگویاں اور دریدہ دہنوں بدزبانوں کی تہمتوں سے بری رکھنا منظور ہے کہ ہمارے شہزادہ اکبر حضرت سبط اکبر حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسبِ بشارت اپنے جدِ امجد سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اختتام مدت خلافت راشدہ کو منہاج نبوت پر تیس سال رہی اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو چھ ماہ مدت خلافت پر ختم ہوئی عین معرکہ جنگ میں ایک فوج جرار کی ہمراہی کے باوجود ہتھیار رکھ دیئے بالمقصد والا اختیار اور ملک اور امور مسلمین کا انتظام و انصرام امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سپرد کردیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت فرما لی اگر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ العیاذباللہ کافر یا فاسق ہوتے یا ظالم جائر ہوتے تو الزام امام حسن پر آتا ہے کیونکہ انہوں نے کاروبار مسلمین و انتظام شرع و دین باختیار خود بلا جبر واحد واکرہ بلا ضرورت شرعیہ باوجود مقصد ایسے شخص کو تفویض فرمایا اور اس کی تحویل میں دے دیا اور خیر خواہی اسلام کو معاذاللہ کام نہ فرمایا اس سے ہاتھ اٹھا لیا گیا اگر مدت خلاقت ختم ہوچکی تھی اور آپ خود بادشاہت منظور نہیں فرماتے تھے تو صحابہ حجاز میں کوئی اور قابل نظم و نسق دین نہ رکھتا تھا جو انہیں اختیار کیا اور انہیں کے ہاتھ پر بیعت اطاعت کرلی حاش باللہ بلکہ یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی پیش گوئی میں ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سیادت کا نتیجہ ٹھہرایا کما فی صحیح البخاری جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے
صادق و مصدق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا : میرا بیٹا یہ سردار ہے سیادت کا علمبردار ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ عزوجل اس کے باعث دو بڑے گروہ اسلام میں صلح کرادو۔ (صحيح بخاری ج1ص373رقم530،چشتی)
آیت کریمہ کا ارشاد ہے
ونزعنامافی صدورھمہ من غل
اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ۔ (سورۃ نمبر 7آیت43)
جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبیعتوں میں جو کدورت و کشیدگی تھی اسے رفق و الفت سے بدل دیا اور ان میں آپس میں نہ رہی باقی مگر مودت و محبت انتھی ۔ (فتاویٰ رضویہ 29 278)

بے شک امام مجتبٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد فرمائی تھی اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویض خلافت اللہ و رسول کی پسند سے ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا میرا بیٹا سید ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرواے گا ۔ (صحيح بخاری کتاب المناقب الحسن والحسین 1 530)
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبٰی ہرگز انہیں تفویض نہ فرماتے اور نہ اللہ و رسول اسے جائز رکھتے ۔ (فتاویٰ رضویہ شریف ج29ورقہ337)

حدیث امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اجلہ صحابہ میں سے ہیں صحیح ترمزی شریف میں حدیث پاک موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نے ارشاد فرمایا اے اللہ اے راہ نما راہ یاب کر اور اس کے زریعے سے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب امیر معاویہ اب 225 سفیان امین کمپنی جلد 2 صفحہ 225،چشتی)
(اور یہ حدیث صحیح ہے کئ طرق سے یہ روایت بہت ساری کتابوں میں ملتی ہے)
صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے کسی صحابی کو کافر بے دین نہ کہے گا مگر کافر بے دین یاگمراہ بددین عزیز جبار و واحد قہار جل وعلاہ نے صحابہ کرام کو دو قسم کیا ایک وہ کہ قبل فتح مکہ جنہوں نے راہ خدا میں خرچ و قتال کیا دوسرے وہ جنہوں نے بعد فتح مکہ پھر فرمادیا کہ دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرما دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو بایں ہمہ اس نے تم سب سے حسنی کا وعدہ فرمایا یہاں قرآن عظیم نے ان دریدہ دہندوں بیباکوں بے ادب ناپاک کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے افعال سے اُن پر طعن چاہتے ہیں وہ بشریت صحت اللہ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی ان سے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا تو اب جو معترض ہے اللہ واحد قہار پر معترض ہے جنت و مدارج عالیہ اس معترض عالیہ اس معترض کے ہاتھ می نہیں اللہ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سر کھاتا رہے گا اور اللہ نے جو حسنیٰ کا وعدہ فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزا پاۓ گا
وہ آیۃ کریمہ یہ ہے
اے محبوب کے صحابیو تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ و قتال کیا وہ رُتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں اور دنوں فریق سے اللہ نے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو
(القرآن الکریم 57 10)
اب جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ حسنیٰ لیا ہے ان کا حال بھی قرآن عظیم سے سنیے ۔ بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔(القرآن الکریم 21 102 103)
یہ ہے جمیع صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئیے قرآن کریم کی شہادت امیر المومنین مولی المسلمین علی المرتضیٰ مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم قسم اول میں ہیں جن کو فرمایا اولیک اعظمہ درجۃ ۔ (القرآن الکریم 57 10)
اُن کے مرتبے قسم دوم والوں سے بڑے ہیں اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قسم دوم میں ہیں اور حسنی کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کو شامل و لہزا امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے ابن عساکر کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے اصحاب سے لغزش ہوگی جسے اللہ عزوجل معاف فرمائے گا اُس سابقہ کے سبب جو اُن کو میری بارگاہ میں ہے پھر اُن کے بعد کچھ لوگ آئیں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا ۔ (المعجم الاوسط ج4ورقہ142حدیث3243مکتبتہ الریاض)(مجمع الزوائد،چشتی)
یہ ہیں وہ صحابہ کہ صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے
علامہ شہاب خفاجی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب نسیم الریاض شرح شفا امام قاضی عہاض میں فرمایا : جو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت گجرات الہند جلد 3 صفحہ 430،چشتی)
اور اللہ تعالیٰ سچ فرماتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے ۔ (فتویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 279)

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ان کی شان میں گستاخی نہ کرے گا مگر رافضی جس کتاب میں ایسی باتیں ہوں اس کا پڑھنا سننا مسلمانوں پر حرام ہے اسے مسئلہ میں کتابوں کے حوالے کی کیا حاجت اہلسنت کے مسنون عقائد میں تصریح ہے ۔ صحابہ سب کے سب اہل خیرو عدالت ہیں ان کا ذکر نہ کریں گے مگر بھلائی سے ۔ اگر کوئی شخص اہلسنت کی کتابوں کو نہ مانے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نہ مانے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں
بہت لوگ وہ ہیں کہ اسلام لائے مگر عمرو بن العاص ان میں ہیں جو ایمان لائے ۔ (جامع الترمذی مناقب عمرو بن العاص حدیث 3870دار الفکر بیروت ج
5ص456)
باقی آپ اوپر صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق احادیث و قرآن پڑھ آئے ہیں جس سے یہ بات روز عیاں کی طرح روشن ہے کہ تمام صحابہ کرام جنتی ہیں

اہلسنت کے عقیدہ میں تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعظیم فرض ہے اور ان میں سے کسی پر بھی طعن کرنا حرام ہے اور انکے مشاجرات میں خوض ممنوع
حدیث پاک میں ارشاد ہے
اذا ذکر الصحابی فامسکوا
جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے رُک جاؤ ۔ (المعجم الکبیر حدیث 1427)
اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ جب صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر آئے تو خیر ہی سے کریں اور ان کے جو آپس میں معملات ہوے ان سے باز رہیں اور ان کا معاملہ اللہ عزوجل پر چھوڑ دیں اسی میں ہماری بھلائی ہے ۔

اللہ عزوجل سورہ حدید میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی دو قسمیں فرمائیں ایک وہ کہ فتح مکہ سے قبل ایمان لائے ہوئے اور راہ خدا میں مال خرچ کیا دوسرے وہ کہ بعد کے پھر فرمایا
وکلا اللہ وعدہ اللہ حسنا ۔ (القرآن 57 10)
دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور جن سے بھلائی کا ارادہ فرمایا ان کو فرماتا ہے اولیک عنھا مبعدون وہ جہنم سے دور رکھے گئے لا یسمعون حسیسھا اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اس کی بھنک تک نہ سنیں گے وَھُمْہ فِی اشْتَھَتْ. اَنْفُسُھُمْہ خَالِدُونَ °لاَ یَحْزُنُھُمُہ الْفَزَعُ. الْاَکْبَرُ اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی وَ تَتَلَقَّاھُمُ الْمَلَایِکَةُ اُن کا استقبال کریں گے ھٰذَا یَوْمُکُمُہ الَّزِیکُنْتُمْہ تُوعَدُونَ ۔ (القرآن الکریم 21 101)
یہ کہتے ہیں کہ یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیں رب عزوجل نے اُسی آیت میں اس کا منہ بھی بند فرما دیا کہ دنوں فریق صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمایا واللہ بما تعلمون خبیر ۔ (قرآن مجید 57 10)
اور اللہ تعالیٰ کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرو گے بااینہیہ میں تم سب بھلائی پر ہو اور تم سے وعدہ فرما چکا ہے ۔
اس کے بعد کوئی بکے اپنا سر کھاے خود جہنم جائے ۔

صحیح ترمزی شریف میں موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ معاویہ راہ نما راہ یاب کر اور اس کے زریعے سے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب معاویہ بن ابی سفیان امین کمپنی دہلی جلد 2 صفحہ 225،چشتی)
اس لیے جو بھی کسی صحابی کو کافر و بے دین کہے گا وہ خود گمراہ بے دین گمراہ ہے ۔

روافض کا قول کذب ہے عقائد نامہ میں خطا و منکر بود نہیں ہے بلکہ خطائے منکر وبود اہل سنت کے نزدیک امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خطا خطاء اجتہادی تھی اجتہاد پر طعن جائز نہیں خطاء اجتہادی دو قسم ہے مقرر ومنکر. مقرر وہ جس کے صاحب کو اُس پر برقرار رکھا جائے گا اور اس سے تعرض نہ کیا جائے گا جیسے حنفیہ کے نزدیک شافعی المزہب مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا اور منکر وہ جس پر انکار کیا جائے گا جب کہ اس کے سبب کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے جیسے اجلہ اصحاب جمل رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کہ قطعی جنتی ہیں اور ان کی خطاء یقیناً اجتہادی جس میں کسی نام سنیت لینے والے کو محل لب کشائی نہیں بااینہیہ اس پر انکار لازم تھا جیسا امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کیا باقی مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں مداخلت حرام ہے
حدیث پاک میں موجود ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذکر آئے تو زبان روکو ۔ (العجم الکبیر حدیث 1427)
دوسری حدیث فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم : قریب ہے کہ میرے صحابہ سے کچھ لغزش ہوگی جسے اللہ بخش دے گا اُس سابقہ کے سبب جو ان کو میری سرکار میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن کو اللہ جہنم کے بل اوندھا کردے گا یہ وہ ہیں جو اُن لغزشوں کے سبب صحابہ پر طعن کریں گے اللہ عزوجل نے تمام صحابہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن عظیم میں دو قسم کیا ۔
مومنین قبل فتح مکہ و مومنین بعد اول کو دوم پر تفضیل دی اور صاف فرمایا ۔ وکلا وعدہ اللہ الحسنا سورت 57.آیت 10
سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی ان کے افعال کی تفتیش کرنے والوں کا منہ بند کردیا واللہ بما تعملون خبیر 57 10
اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو باینہہ وہ تم سے سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا ہے پھر دوسرا کون ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر طعن کرے واللہ الہادی واللہ اعلم
بے شک امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد فرمائی اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویض خلافت اللہ و رسول کی پسند سے ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا
میرا بیٹا یہ سردار ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرا دے گا
امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبٰی ہرگز انہیں تفویضِ خلافت نہ فرماتے ۔ نہ اللہ و رسول اسے جائز رکھتے ۔ (فتاویٰ رضویہ 29 337)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باب میں یہ یاد رکھنا چاہیے وہ ک حضرات انبیاء علیہم السلام نہ تھے اور نہ ہی فرشتے کہ معصوم ہوں ان سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کو کسی بات پر گرفت اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہے اللہ عزوجل سورہ حدید میں صحابہ کرام کی دو قسمیں فرمائیں
من انفق من قبل الفتح وقٰتل
الزین انفقوا من بعد وقاتلو (57 آیت 10)
یعنی یہ کہ قبل فتح مکہ مشرف بایمان ہوئے راہ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال کر بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نزر کردیا یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین و اولین ہیں ان کے مراتب کیا پوچھنا
دوسرے کہ وہ بعد فتح مکہ ایمان لائے راہ مولا میں خرچ کیا اور جہاد کیا اور جہاد میں حصہ لیا ان اہل ایمان نے اس اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتال سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرت تعداد اور جاہ و مال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے اجر اُن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان سابقون اولون والوں کے درجہ نہیں ۔
اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں کو ان پچھلوں پر تفضیل دی
اور پھر فرمایا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی
ان سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا دیا کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو محروم کوئی نہ رہے گا اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے ۔ اولٰیک عنھا مبعدون وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے
لا یسمعون حسیسھا وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے
وھمہ فی مااشتھت انفسھمہ خٰلدون وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے ۔ (القرآن الکریم سورت 21 آیت 101 102)
لا یحزنھمہ الفزع الاکبر قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی
تتلقّٰھمہ الملٰئکۃ فرشتے ان کا استقبال کریں گے
ھٰذَا یومکہ الزی کنتمہ توعدون یہ کہتے ہوئے کہ یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا
(القرآن الکریم 21 ۔ 103)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان ہے اللہ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے ۔

ضروری تنبیہ : اہل سنت کا عقیدہ یہ کہو نکف عن ذکر الصحابہ الابخیر ۔ یعنی صحابہ کرام کا جب ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے ۔ (شرح عقائد النفسی دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان صفحہ 116،چشتی)
انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلام حقیقی پر تادم مرگ ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان جمہور کے خلاف اسلامی تعلیمات کے مقابل اپنی خواہشات کے اتباع میں کوئی نئ راہ نکالی اور بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہوکر اپنی دکان الگ جما بیٹھے اور اہل حق کے مقابل قتال پر آمادہ ہوگئے وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں اس لئیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جنگ جمل وصفین میں جو مسلمان ایک دوسرے کے مقابل آئے ان کا حکم خطائے اجتہادی کا ہے لیکن اہل نہروان جو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تکفیر کرکے بغاوت پر آمادہ ہوے وہ یقیناً فساق فجار طاغی و باغی تھے اور ایک نئے فرقے کے ساعی و ساتھی جو خوارج کے نام سے موسوم ہوا اور امت میں نئے فتنے اب تک اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 337)

اعلیٰ حضرت رحمة اللہ تعالیٰ علیہ نے تحقیق صحابہ رضی اللہ عنہم پر اینڈ ہی کر دیا ایسی وضاحت ایسی کمال کی گفتگو فرمائی ہے اگر بندہ تعصب کی عینک اتار کر پڑھے تو اس کا دل صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نعروں سے گونج اٹھے فقیر کو یقین ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ کے ان فتویٰ جات سے بہت سارے فوائد حاصل ہوں گے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب و احترام کرنے والا بنادے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

فضائل و مناقب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

فضائل و مناقب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

محترم قارئینِ کرام : ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔ جو مومنہ ، مہاجرہ اور بیوہ تھیں ۔ ان کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے شادی فرمائی ۔ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ ذہین اور مضبوط حافظے کی مالکہ تھیں ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی جملہ ازواج میں سب سے زیادہ محبت و الفت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے فرماتے تھے ۔ علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں ان کا رتبہ بڑا بلند تھا ۔ بل کہ اکثر صحابۂ  کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ عالمہ بھی تھیں اور بڑے بڑے علما صحابہ آپ سے بعض ایسے احکام کے بارے میں سوال کرتے تھے جو انہیں مشکل لگتے تھے ۔


حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مَیں نے طب ، فقہ اور شعر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا ۔ ‘‘ احادیث اور سیرت کی کتابیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بیش بہا علم اور سمجھ داری کی گواہ ہیں ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمانا بڑی حکمتوں کا حامل تھا ۔ چناں چہ عورتوں سے متعلق اکثر احکام و مسائل آپ ہی سے روایت کردہ ہیں ۔ آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سوالات کرتیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جو باتیں ارشاد فرماتے انھیں  ازبر کر لیتیں ۔ یہی وجہ ہے حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیثوں کی کافی تعداد ہے ۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہم الرحمۃ کے مطابق حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حدیث روایت نہیں کی ۔ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ ’’نزہۃ القاری شرح بخاری‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : اِن (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے ۲۲۱۰؍ حدیثیں مروی ہیں ، علما فرماتے ہیں کہ دین کا چوتھائی حصہ آپ سے مروی ہے ۔ (نزہۃ القاری شرح بخاری ص ۱۷۷،چشتی)


حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سیرت اور کردار پر یوں تو کئی ضخیم کتابیں لکھی گئیں ۔ رحمانی پبلی کیشنز کی تاریخی شخصیات سیریز کے لیے بچّوں کی عمر اور ان کی نفسیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیشِ نظر کتاب تالیف کی گئی ہے بہ ظاہر اسے کوئی اضافہ نہ قرار دیا جائے لیکن پھر بھی اس کتاب سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مختصر سوانح اور آپ کی زندگی کے اہم واقعات سے آگاہی ہو جاتی ہے۔ اہل علم سے التماس ہے کہ کتاب پر اپنی گراں قدر رائے سے ضرور نوازیں ۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نام ’’عائشہ‘‘ اور لقب ’’صدیقہ‘‘ اور ’’ حمیرا‘‘ ہے۔ اُن کی کنیت ’’اُم عبداللہ ‘‘ اور خطاب ’’ اُم المؤمنین‘‘ ہے۔ آپ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے محبوب بیوی ہیں ۔ آپ کے والد ماجد خلیفۂ  اول امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور والدۂ  ماجدہ مشہور صحابیہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا ہیں ۔ والدِ گرامی حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ کا سلسلۂ  نسب اس طرح ہے : عائشہ بنت ابو بکر بن ابو قحافہ بن عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک ۔

والدۂ  ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی طرف سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سلسلۂ  نسب اس طرح ہے : ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذنیہ بن سبع بن دھمان بن حارث بن غتم بن مالک بن کنانہ ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سلسلۂ  نسب ساتویں پشت میں جا کر مل جاتا ہے اور والدۂ  ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی طرف سے بارہویں پشت پر کنانہ سے جا ملتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے والدِ ماجد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ اعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سفر و  حضر کے ساتھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے جو بے مثال قربانیاں ہیں وہ اسلامی تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہی ہیں ۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے یارِ غار اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ کے لقب سے سرفراز ہوئے ۔ آپ کی شرافت اور بزرگی بڑی بے مثال ہے ، وصال کے بعد بھی آپ کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدۂ  ماجدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا بھی اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے لیے اپنی بے لوث خدمات کی وجہ سے عظیم المرتبت صحابیات میں نمایاں مقام کی حامل ہیں ۔آپ کی وفات   ۶   ھ میں ہوئی ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اُن کی قبر میں اترے اور فرمایا کہ : جو کوئی جنت کی حورِ عین کو دیکھنا چاہتا ہو وہ امِ رومان (رضی اللہ عنہا) کو دیکھ لے ۔

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدۂ  ماجدہ حضرت اُم رومان رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا ۔ عبداللہ کی موت کے بعد آپ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے  بطن سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک بیٹا حضرت عبدالرحمان اور ایک بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نصیب فرمائے ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس مقدس اور مبارک خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ جس میں سب سے پہلے اسلام کی کرنوں نے اپنا اجالا بکھیرا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر ابتدا ہی سے نبوت کے نور سے روشن و منور رہا ۔ کفر و شرک کا اس گھرا نے میں دور دور تک پتا نہ تھا اسی نورانی ماحول میں آنکھ کھولنے والی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا دامن بھی ہمیشہ کفر و شرک کی گندگیوں سے پاک و صاف رہا ۔ بچپن ہی سے آپ نے اسلامی اور ایمانی فضا میں اپنی گزر بسر کی ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بچپن ہی سے بے پناہ ذہین اور مثالی قوتِ حافظہ کی مالکہ تھیں ۔ آپ کے والدِ ماجد خلیفۃ المسلمین سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی بڑے علم و فضل والے اور حکمت و دانائی کے مجموعہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی دوسری اولاد کی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خصوصی تربیت فرمائی ۔ اور انھیں تاریخ و ادب کے علاوہ اُس زمانے کے ضروری علوم بھی پڑھائے ۔ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہو گیا اُس کے بعد بھی اُن کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔ والدِ ماجد کی اِن ہی تربیت کا اثر تھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ نکاح میں آ جانے کی وجہ سے مسلمان عورتوں کے زیادہ ترمسائل اور اُن کی ضروریات کی باتیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے توسط سے ہی پہنچیں ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے والدِ گرامی کے زیرِ سایا تعلیم و تربیت حاصل کرتی رہیں اور جلد ہی انھوں نے اپنے خداداد مثالی قوتِ حافظہ اور ذہن کی وجہ سے علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی۔ جب آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نکاح میں آ گئیں تو یہ دور اُن کی تعلیم و تربیت کا حقیقی دور بنا۔ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمکے کاشانۂ  اقدس میں آ کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ سیکھا وہ آج پوری امتِ مسلمہ خصوصاً مسلمان عورتوں کے لیے بھلائی اور نجات کا سامان بنا ہوا ہے ۔

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پوری کائنات کے معلمِ اعظم کی حیثیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تربیت فرماتے رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی جملہ ازواج کے ایک ایک فعل کی نگرانی فرماتے اور کہیں کوئی لغزش نظر آتی تو فوراً اصلاح فرماتے ۔اس سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو جو امتیاز حاصل ہوا وہ ایک مثال رکھتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف نکاح کے وقت کم تھی اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے ذریعہ امت کی عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام لینا مقصود تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اللہ رب العزت نے ذہانت عطا فرمائی تھی اس کے ہوتے آپ کے سامنے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آتا تو آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھ لیتیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسئلہ واضح فرما دیتے تو وہ انھیں ازبر کر لیتیں ۔ یہی وجہ ہے حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیثوں کی کافی تعداد ہے ۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہم الرحمۃ کے مطابق حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حدیث روایت نہیں کی ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پڑھنے کے ساتھ لکھنا بھی سیکھا ، ناظرہ قرآن پڑھا ، علم انساب سے واقفیت حاصل کی ، علمِ طب میں مہارت پیدا کی ، شریعت کے باریک باریک نکات یاد کیے،خطابت میں عبور حاصل کیا، ضروریاتِ دین اور قرآنی و نبوی علوم میں ملکہ پیدا کیا۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ رضی اللہ عنہا کو قرآن و سنت سے مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کا شعور بخشا ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت کے اثر نے آپ کو امت کی ایک بہترین فقیہ اور عالمہ بنا دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صحابہ مشکل سے مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے اور تسلی بخش جواب پاتے ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت ام عبداللہ ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  سے کنیت مقرر کرنے کی درخواست کی چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا: اپنے بھانجے ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے اپنی کنیت رکھ لو ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب اپنی بہن کے نوزائیدہ فرزند حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارگاہِ رسالت میں لے کر حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کے منہ میں لعاب دہن ڈال کر فرمایا :یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہرضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۸،چشتی)

خواب میں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صورت

 ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں :رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:تم تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں ایک فرشتہ تمہیں (تمہاری تصویر)ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیااوراس نے کہا:یہ آپ کی زوجہ ہیں ان کاچہرہ کھولئے۔ پس میں نے دیکھاتووہ تم تھیں میں نے کہا:اگریہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تووہ اسے پوراکرے گا ۔ (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ، الحدیث۲۴۳۸ ،ص ۱۳۲۴،چشتی)

 دوسری روایت میں یہ لفظ بھی ہیں ، یہ تمہاری زوجہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ (سنن الترمذی،کتاب المناقب ،باب فضل  عائشۃ،الحدیث۳۹۰۶، ج۵،ص۴۷۰)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور پیغام سنایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے فرمادیا ہے ، اوران کے پاس عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک تصویرتھی۔(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات،ج۴،ص۳۸۷)  

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نکاح مدینہ طیبہ میں چھ سال کی عمر میں ماہ شوال میں ہوا،اور ماہِ شوال ہی میں نو سال کی عمر میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی خدمت میں نو سال تک رہیں ۔ جب سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے وصال فرمایا تو اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عمر اٹھارہ سال تھی ۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ،ج۸،ص۴۶،۴۸،چشتی)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیااوررخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی تو کون سی عورت مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہے!ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس بات کوپسندکرتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو ۔ (صحیح مسلم،کتاب النکاح،باب استحباب التزوج ...الخ، الحدیث ۱۴۲۳،ص۷۳۹،چشتی)

حبیبہ حبیب خداعزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اعظم فضائل ومناقب میں سے ان سے حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کا بہت زیادہ محبت فرمانا بھی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  اپنی نعلین مبارک میں پیوند لگارہے تھے جبکہ میں چرخہ کات رہی تھی۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے چہرہ پر نور کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا اور اس پسینہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے جمال میں ایسی تابانی تھی کہ میں حیران تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے میری طرف نگاہ کرم اٹھاکر فرمایا: کس بات پر حیران ہو؟ سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رخِ روشن اور پسینۂ جبین نے مجھے حیران کردیا ہے اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کھڑے ہوئے اور میرے پاس آئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: اے عائشہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے تم اتنا مجھ سے لطف اندوز نہیں ہوئی جتنا تم نے مجھے مسرور کردیا ۔ (حلیۃ الاولیائ،ذکر النساء الصحابیات، عائشۃ زوج رسول اللہ ،الحدیث۱۴۶۴،ج۲،ص۵۶)

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:اے فاطمہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس سے میں محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو گی؟ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: ضرور یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  میں محبت رکھوں گی۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا :تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے محبت رکھو ۔ (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ، الحدیث ۲۴۴۲،ص۱۳۲۵)

حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کسی کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بارے میں بدگوئی کرتے سنا تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: او ذلیل و خوار! خاموش رہ، کیا تو اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی حبیبہ پربد گوئی کرتا ہے ۔ (حلیۃ الاولیائ،ذکر النساء الصحابیات،عائشۃ زوج رسول اللہ،الحدیث۱۴۶۰، ج۲،ص۵۵،چشتی)

حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذوق روایت

حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکابر تابعین میں سے ہیں ، جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت کرتے تو فرمایا کرتے :’’حدثتنی الصدیقۃ بنت الصدیق حبیبۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ‘‘مجھ سے حدیث بیان کی صدیقہ بنت صدیق، محبوبۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے یا کبھی اس طرح حدیث بیان کرتے حبیبۃ حبیب اللہ المبرّأۃ من السماء  اللہ کے حبیب کی محبوبہ جن کی پارسائی کی گواہی آسمان سے نازل ہوئی ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۹)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نازو نیاز

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو محبوب کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے ساتھ گفتگو کرنے کی بہت قدرت تھی اور وہ جو چاہتیں بلاجھجک عرض کردیتی تھیں اور یہ اس قرب و محبت کی وجہ سے تھا جو ان کے مابین تھی۔(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۱)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  میرے پاس تشریف لائے۔ میں اپنی گڑیا ں گھر کے ایک دریچہ میں رکھ کر اس پر پردہ ڈالے رکھتی تھی۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے ساتھ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے دریچہ کے پردہ کو اٹھایا اور گڑیاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کو دکھائیں ۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا: یہ سب کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا:میری بیٹیاں (یعنی میری گڑیاں ) ہیں ، ان گڑیوں میں ایک گھوڑا ملاحظہ فرمایا جس کے دو بازو تھے۔ فرمایا: کیا گھوڑوں کے بھی بازو ہوتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا:کیاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے تھے اور ان کے بازو تھے۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے اس پر اتنا تبسم فرمایاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں ۔(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۱،چشتی)

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا: کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا مگر حق تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کیا آپ بھی جنت میں داخل نہ ہوں گے مگر خدا کی رحمت سے؟ فرمایا: ہاں !میں بھی داخل نہ ہوں گا مگر یہ کہ مجھے حق تعالیٰ نے اپنی رحمت میں چھپا لیا ہے۔(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۲)

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن حضورپر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے درآنحالیکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے ساتھ بلندآواز سے باتیں کررہی تھیں ،توحضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہوئے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی طرف بڑھے کہ اے ام رومان کی بیٹی!کیاتورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  پراپنی آوازکوبلندکرتی ہے۔تونبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم درمیان میں حائل ہوگئے۔جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے چلے گئے تو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کومناتے ہوئے فرمایا:کیاتم نے نہ دیکھاکہ میں تمہارے اوران( حضرت ابوبکرصدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے درمیان حائل ہوگیا۔راوی فرماتے ہیں :پھرجب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضرہوئے توسیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بہت خوش پایا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بہت خوش ہوئے۔(المسندللامام أحمدبن حنبل،مسند الکوفیین، حدیث النعمان بن بشیر،ج۲،ص۲۵۴،چشتی)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا: میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی رہتی ہو اور جب تم خفا رہتی ہو میں نے پوچھا:آپ کیسے پہچانتے ہیں ؟ فرمایا:جب تم مجھ سے خوش رہتی ہو توکہتی ہو محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رب عزوجل کی قسم! اور جب ناراض رہتی ہوتوکہتی ہو ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! میں نے عرض کیا: ہاں ! یہی بات ہے میں صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا نام ہی چھوڑتی ہوں ۔ (صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب غیرۃ النساء ...الخ،الحدیث ۵۲۲۸، ج۳، ص۴۷۱)

مطلب یہ ہے کہ اس حال میں صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا نام نہیں لیتی۔ لیکن آپصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی ذات گرامی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی یاد میرے دل میں اور میری جان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت میں مستغرق ہے۔

تفقہ فی الدین

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فقہا و علما و فصحا بلغا اور اکابرمفتیانِ صحابہ میں سے تھیں اور حدیثوں میں آیا ہے کہ تم اپنے دو تہائی دین کو ان حمیرا(یعنی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)سے حاصل کرو ۔ (مدارج النبوت، قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۹،چشتی)

عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے کسی کو معانی قرآن احکام حلال و حرام، اشعار عرب اور علم انساب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ عالم نہیں دیکھا ۔ (حلیۃ الاولیائ،ذکر النساء الصحابیات،عائشۃ زوج رسول اللہ،الحدیث۱۴۸۲، ج۲،ص۶۰)

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ہم کوکسی حدیث کے بارے میں  مشکل پیش آتی ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کرتے تو ان کے پاس اس کے متعلق علم پاتے ۔ (سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فضل عائشۃ،الحدیث:۳۹۰۸،ج۵،ص۴۷۱)

برکاتِ آلِ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس منزل پر پڑاؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے، نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکایت لائے،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے،دیکھا کہ راحت العاشقین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دوعالم  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی چشمانِ مبارکہ خواب سے بیدا رہوجائیں چنانچہ صبح ہوگئی اور      نمازکے لئے پانی عدم دستیاب ، اس وقت اللہ عزوجل نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمم کے ساتھ ادا کی حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’ما ھی با ول برکتکم یا ال ابی بکر‘‘ اے اولاد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہیہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔( مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں ) سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا( گویا حکمت الٰہی عزوجل یہی تھی کہ مسلمانوں کے لئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے ۔ (صحیح البخاری ، کتاب التیمم ، باب التیمم ، الحدیث۳۳۴، ج۱، ص۱۳۳،چشتی)

ارفع شان

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :قبل اس کے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  میرے لئے پیام نکاح دیں جبرئیل علیہ السلام نے ریشمی کپڑے پر میری صورت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کودکھائی۔(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۰،چشتی)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی تھیں :بے شک اللہ عزوجل کی نعمتوں میں سے مجھ پریہ بھی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کا وصال میرے گھر میں اور میری باری میں ، میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوا،اور اللہ تعالیٰ نے میرے اوران کے لعاب کوان کے وصال کے وقت جمع فرمایا،عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی،اوررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  مجھ پرٹیک لگائے ہوئے تھے،تومیں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کودیکھاکہ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں ،میں نے پہچاناکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  مسواک کوپسندفرماتے ہیں ، میں نے پوچھا :آپ کے لئے مسواک لے لوں ؟ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے سر انور سے اشارہ فرمایاکہ ہاں ! میں نے مسواک لی(مسواک سخت تھی )میں نے عرض کی: اسے نرم کردوں ؟ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے سرسے اشارہ فرمایا کہ ہاں !تومیں نے( اپنے منہ سے چبا کر) اسے نرم کردیا،پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے اس کواپنے منہ میں پھیرا۔( اس طرح میرا اورسرور دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کالعاب جمع ہوگیا۔)(صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ ، الحدیث۴۴۴۹،ج۳، ص۱۵۷)

خلفائے مسلمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ایمان افروز اقوال

مروی ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلمسے عرض کی:(ام المؤمنین پر افترا کرنے والے) منافقین قطعاً جھوٹے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کواس سے محفوظ رکھاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمکے جسم اطہرپرمکھی بیٹھے، اس لئے کہ وہ نجاست پر بیٹھتی اوراس سے آلودہ ہوتی ہے، توجب اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمکواتنی سی بات سے بھی محفوظ رکھاپھر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمکو ایسے کی صحبت سے محفوظ نہ فرماتاجوایسی بے حیائی سے آلودہ ہو۔(تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲،چشتی)

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سائے کو زمین پر نہیں پڑنے دیااس لئے کہ کوئی شخص اس سائے پراپناپاؤں نہ رکھے توجب کسی کوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے سائے پرپاؤں رکھنے کابھی موقع نہ دیاتوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمکی زوجہ کی آبرو پرکسی کوکیسے اختیار دے دیتا ۔ (تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)

 حضرت سیدناعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :بے شک جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کواس بات پربھی مطلع کیاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی نعلین پرمیل لگاہواہے ،اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کی کہ اسے اپنے پاؤں سے اتاردیجئے کیونکہ اس میں میل لگاہواہے،لہٰذا اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو الگ کردینے کا حکم بھی نازل ہوجاتا۔(تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)

انفاق فی سبیل اللہ عزوجل

مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  سے عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  میرے لئے دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ مجھے جنت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں رکھے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا :اگر تم اس رتبہ کی تمنا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچاکر نہ رکھو۔ اور کسی کپڑے کو جب تک اس میں پیوند لگ سکتا ہے بے کار نہ سمجھو، سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی اس وصیت ونصیحت پر اس قدر کاربند رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کر نہ رکھا۔(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین ، حضرت عائشۃ، ج۲،ص۴۷۲)

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ستر ہزار درہم راہِ خدا میں صدقہ کرتے دیکھا حالانکہ ان کی قمیص کے مبارک دامن میں پیوند لگا ہوا تھا۔(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین، حضرت عائشۃ،ج۲،ص۴۷۳)

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اسی دن وہ سب دراہم  اقارب و فقرا میں تقسیم فرمادیئے ۔ اس دن روزہ سے ہونے کے باوجود شام کے کھانے کے لئے کچھ نہ بچایا۔ باندی نے عرض کیا کہ اگر ایک درہم روٹی خریدنے کے لئے بچالیتیں تو کیا ہوتا؟ فرمایا: یاد نہیں آیا اگر یاد آجاتا تو بچالیتی ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین،حضرت عائشۃ،ج۲،ص۴۷۲)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے کتب معتبرہ میں دوہزاردوسودس حدیثیں مروی ہیں ان میں سے بخاری و مسلم میں ایک سو چوہتر متفق علیہ ہیں اور صرف بخاری میں چوَّن اور صرف مسلم میں سٹر سٹھ ہیں ، بقیہ تمام کتابوں میں ہیں صحابہ و تابعین میں سے خلق کثیر نے ان سے روایتیں لی ہیں ۔(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین ، حضرت عائشۃ،ج۲،ص۴۷۲)

وصال

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں ۵۷ھ؁ میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ (شرح الزرقا نی علی المواہب،المقصدالثانی،الفصل الثالث،عائشۃ ام المؤمنین ،ج۴،ص۳۹۲)

 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال کے وقت فرمایا : کاش کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات، ج۲، ص۴۷۳)

جب سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں ۔ باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد ۔ (مدارج النبوت، قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

محترم قارئینِ کرام : پہلے کھلے رافضی اور اب سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی یہ جھوٹ بول کر کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کروایا اس طرح یہ کذّاب لوگ جھوٹ بھی بولتے ہیں اور توہین بھی کرتے ہیں آیئے حقائق کیا ہیں پڑھتے ہیں مستند دلائل کی روشنی میں ۔  ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں آپ کا وصال 17  رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ (شرح الزرقا نی علی المواہب ، المقصدالثانی ، الفصل الثالث،عائشۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۳۹۲،چشتی)

ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال کے وقت فرمایا : کاش کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

جب ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں ۔ باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ کا وصال 17  رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کو بیماری کے باعث اپنے گھر میں ہوئی۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ آپ کا نماز جنازہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز وتر کے بعد پڑھایا تھا ۔ (البداية والنهاية، لابن کثير، ج : 4، جز : 7، ص : 97)

امام بخاري رحمۃ الله علیہ (المتوفى256) صحیح بخاری میں روایت لکھتے ہیں : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ، قَالَتْ: أَخْشَى أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ، فَقِيلَ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ وُجُوهِ المُسْلِمِينَ، قَالَتْ: ائْذَنُوا لَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدِينَكِ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِنِ اتَّقَيْتُ، قَالَ: «فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكِ، وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ» وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلاَفَهُ، فَقَالَتْ: دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَى عَلَيَّ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا ۔ (صحيح البخاري: 6/ 106 رقم 4753،چشتی)

ترجمہ : ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے تھوڑی دیر پہلے، جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھیں، ابن عباس نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں ۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور خود بھی عزت دار ہیں (اس لئے آپ کو اجازت دے دینی چاہئے) اس پر انہوں نے کہا کہ پھر انہیں اندر بلا لو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں خدا کے نزدیک اچھی ہوں تو سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انشاءاللہ آپ اچھی ہی رہیں گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور آپ کی برات (قرآن مجید میں) آسمان سے نازل ہوئی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے ۔ محترمہ نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی، میں تو چاہتی ہوں کہ کاش میں ایک بھولی بسری گمنام ہوتی ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا اوراس کے اوپر سے اسے چھپا کر وہاں پر ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وہاں پہچنچی تو گڈھے میں گرگئی اور ان کی وفات ہوگئیں ۔ اس جھوٹ اور بہتان کے برعکس بخاری کی اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ فطری وفات ہوئی تھی کیونکہ اگر گڑھے میں گر کر وفات ہوگئی ہوتی تو پھر وفات سے قبل لوگوں کی آمدرفت کا سلسلہ نہ ہوتا اسی طرح اجازت وغیرہ کا ذکر بھی نہ ہوتا کیونکہ یہ صورت حال اسی وقت ہوتی ہے جب کسی کی وفات اس کے گھر میں فطری طور پر ہو ۔ نیز بخاری کی یہی حدیث صحیح ابن حبان میں بھی ہے اوراس میں ابن عباس کے لئے عیادت کے الفاظ ہیں ، ملاحظہ ہو : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكَ جَاءَكِ يَعُودُكِ , قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ۔(صحيح ابن حبان: 16/ 41)

عیادت کا لفظ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طریقہ پرہوئی تھی ۔ بلکہ حاکم کی روایت میں ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی پوری صراحت ہے ملاحظہ ہوں الفاظ : جاء ابن عباس يستأذن على عائشة رضي الله عنها في مرضها ۔ (المستدرك على الصحيحين للحاكم: 4/ 9 ، صححہ الحاکم ووافقہ الذھبی،چشتی)

یہ روایات اس بات کی زبردست دلیل ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  کی وفات فطری طور پر ان کے گھر پر ہوئی تھی ۔ آپ کا وصال 17  رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کا بھی ہے ۔ نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا نے پڑ ھائی اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ (اسد الغابہ،ج:۵/ص:۵۰۴)


عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: إِنَّ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَوْمًا: يَا عَائِشَةُ، هَذَا جِبْرِيْلُ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ. فَقُلْتُ: وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُةُ، تَرَي مَا لَا أَرَي تُرِددُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ میں نے جواب دیا : ان پر بھی سلام ہو اور الله کی رحمت اور برکات ہوں ۔ لیکن آپ (یعنی رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ دیکھ سکتے ہیں وہ میں نہیں دیکھ سکتی ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل أصحاب النبي، باب: فضل عائشة، 3 / 1374، الرقم: 3557، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة، 4 / 1895، الرقم؛ 2447، و الترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان، باب: ما جاء في تبليغ السلام، 5 / 55، الرقم: 2693)


عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : أُرِيْتُکِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ أَرَي أَنَّکِ فِي سَرَقَةٍ مِّنْ حَرِيْرٍ وَ يُقَالُ: هَذِهِ امْرَأَتُکَ، فَاکْشَفْ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُوْلُ إِنْ يَکُ هَذَا مِن عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے خواب میں دو مرتبہ تمہیں دیکھا میں نے دیکھا کہ تم ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی ہو اور مجھے کہا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ سو پردہ ہٹا کر دیکھیے، جب میں نے دیکھا تو تم تھی۔ تو میں نے کہا کہ اگر یہ الله تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ ایسا کر کے ہی رہے گا ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل أصحاب النبي، باب: تزويج النبي عائشة، 3 / 1415، الرقم: 3682، و في کتاب: النکاح، باب: قول الله ولا جناح عليکم فيما عرضتم به من خطبة النساء، 5 / 1969، ومسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: فضل عائشة، 4 / 1889، الرقم: 2438، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 41، الرقم: 24188،چشتی)


عَنْ أَبِي عُثْمَانَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلٰى جَيْشٍ ذَاتِ السُّلَاسِلِ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلٰىکَ؟ قَالَ: عَائِشَةُ. قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: أَبُوْهَا. قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ. فَعَدَّ رِجَالًا فَسَکَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ ۔

ترجمہ : حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ ذات السلاسل کے لئے حضرت عمرو بن العاص کو امیر لشکر مقرر فرمایا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! آپ کو انسانوں میں سب سے پیارا کون ہے ؟ فرمایا : عائشہ، میں عرض گزار ہوا : مردوں میں سے؟ فرمایا: اس کا والد، میں نے عرض کیا: ان کے بعد کو ن ہے؟ فرمایا: عمر، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند دیگر حضرات کے نام لئے لیکن میں اس خیال سے خاموش ہو گیا کہ کہیں میرا نام آخر میں نہ آئے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المغازي، باب: غزوة ذات السلاسل، 4 / 1584، الرقم: 4100، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: من فضائل أبي بکر، 4 / 1856، الرقم 2384، و الترمذي في السنن، کتاب: المناقب، باب: فضل عائشة، 5 / 706، الرقم: 3885، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 308، الرقم: 6885)


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَ إِذَا کُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَي. قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَ مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِکَ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِذَا کُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّکِ تَقُولِيْنَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَ إِذَا کُنْتِ غَضْبَي قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ وَاللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَکَ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں بخوبی جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں عرض گزار ہوئی کہ یہ بات آپ کس طرح معلوم کرلیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو کہ رب محمد کی قسم! اور جب تم ناخوش ہوتی ہو تو کہتی ہو رب ابراہیم کی قسم! وہ فرماتی ہیں کہ میں عرض گزار ہوئی کہ خدا کی قسم! یارسول الله! اس وقت میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: النکاح، باب: غيرة النساء ووجدهن، 5 / 2004، الرقم: 4930، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: فضل عائشة، 4 / 1890، الرقم: 2439، و ابن حبان في الصحيح، 16 / 49، الرقم: 7112، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 61، الرقم: 24363،چشتی)


عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها: أَنَّ النَّاسَ کَانُوْا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُوْنَ بِهَا أَوْ يَبْتَغُوْنَ بِذَلِکَ مَرْضَاةَ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ لوگ اپنے تحائف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرنے کیلئے میرے (ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخصوص کردہ) دن کی تلاش میں رہتے تھے، اور اس عمل سے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا چاہتے تھے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الهبة و فضلها و التحريض عليها، باب: قبول الهدية، 2 / 910، الرقم: 2435، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة، 4 / 1891، الرقم: 2441، و النسائي في السنن، کتاب: عشرة النساء، باب: حب الرجل بعض نسائه أکثر من بعض، 7 / 69، الرقم: 3951، و البيهقي في السنن الکبري، 6 / 169، الرقم: 11723)


عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَيَتَعَذُّرُ فِي مَرَضِهِ أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ ؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا ؟ اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللهُ بَيْنَ سَحْرِي وَ نَحْرِي وَ دُفِنَ فِي بَيْتِي ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الوصال) میں (میری) باری طلب کرنے کے لیے پوچھتے کہ میں آج کہاں رہوں گا؟ کل میں کہاں رہوں گا؟ پھر جس دن میری باری تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سرانور میری گود میں تھا کہ اللہ عزوجل نے آپ کی روح مقدسہ قبض کرلی اور میرے گھر میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدفون ہوئے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء في قبر النبي ﷺ، 1 / 486، الرقم: 1323، و مسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة رضی الله عنها ، 4 / 1893، الرقم؛ 2443)


عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَ أَنَا أَنْظُرُ إِلٰى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُوْنَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّي أَکُوْنَ أَنَا الَّتِي أَسْأَمُ فَاقْدُرُوْا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيْثَةِ السِّنِّ الْحَرِيْصَةِ عَلَي اللَّهْوِ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حبشی اپنے ہتھیاروں سے لیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں کھیل رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنی چادر میں چھپائے ہوئے تھے تاکہ میں ان کا کھیل دیکھتی رہوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری وجہ سے کھڑے رہے یہاں تک کہ میرا جی بھر گیا اور میں خود وہاں سے چلی گئی۔ اب تم خود اندازہ کر لو کہ جو لڑکی کم سن اور کھیل کی شائق ہو وہ کب تک دیکھے گی ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: النکاح، باب: نظر المرأة إلي الحبش و نحوهم من غير ريبة، 5 / 2006، الرقم: 4938، و مسلم في الصحيح، کتاب: صلاة العيدين، باب: الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد، 2 / 608، الرقم: 892، و النسائي في السنن، کتاب: صلاة العيدين، باب: اللعب في المسجد يوم العيد و نظر النساء إلي ذلک، 3 / 195، الرقم: 1595، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 85، الرقم: 24596، و الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 179، الرقم: 282،چشتی)


عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ. قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُبَيْلَ مَوْتِهَا عَلَي عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوْبَةٌ. قَالَتْ: أَخْشَي أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ، فَقِيْلَ: ابْنُ عَمِّ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَ مِنْ وُجُوْهِ الْمُسْلِمِيْنَ قَالَتْ: ائْذَنُوا لَهُ؟ فَقَالَ: کَيْفَ تَجِدِيْنَکِ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِنْ اتَّقَيْتُ. قَالَ: فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَي، زَوْجَةُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَلَمْ يَنْکِحْ بِکْرًا غَيرَکِ وَ نَزَلَ عُذْرُکِ مِنَ السَّمَاءِ، وَ دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلَافَهُ فَقَالَتْ: دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثَنَي عَلَيَّ وَ وَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا ۔

ترجمہ : امام ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی جبکہ وفات سے پہلے وہ عالم نزع میں تھیں۔ انہوں نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ یہ میری تعریف کریں گے۔ حاضرین نے کہا: یہ تو رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد اور سرکردہ مسلمانوں میں سے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اچھا انہیں اجازت دے دو۔ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما نے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟ جواب دیا: اگر پرہیزگارہوں تو بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا: ان شاء الله بہترہی رہے گا کیونکہ آپ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا انہوں نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا اور آپ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ ان کے بعد حضرت عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا نے فرمایا: حضرت عبد الله بن عباس آئے تھے وہ میری تعریف کر رہے تھے اور میں یہ چاہتی ہوں کہ کاش! میں گمنام ہوتی ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: التفسير، باب: ولولا إذ سمعتموه، 4 / 1779، الرقم: 4476،چشتی)


عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: کَانَتْ عَائِشَةُ رضی الله عنها لَا تُمْسِکُ شَيْئًا مِمَّا جَاءَ هَا مِنْ رِزْقِ اللهِ تَعَالَي إِلَّا تَصَدَّقَتْ بِهِ ۔

ترجمہ : حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس اللہ کے رزق میں سے جو بھی چیز آتی وہ اس کو اپنے پاس نہ روکے رکھتیں بلکہ اسی وقت (کھڑے کھڑے) اس کا صدقہ فرما دیتیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المناقب، باب: مناقب قريش، 3 / 1291، الرقم: 3314)


عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ جَارًا لِرَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَارِسِيًا کَانَ طَيبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوْهُ، فَقَالَ: وَ هَذِهِ لِعَائِشَةَ فَقَالَ: لاَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لَا، فَعَادَ يَدْعُوْهُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: وَ هَذِهِ قَالَ: لَا، قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لَا، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوْهُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: وَ هَذِهِ، قَالَ: نَعَمْ، فِي الثَّالِثَةِ، فَقَامَ يَتَدَافِعَانِ حَتَّي أَتَيَا مَنْزِلَهُ ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی بہت اچھا سالن بناتا تھا، پس ایک دن اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے سالن بنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دینے کیلئے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور یہ بھی یعنی عائشہ (بھی میرے ساتھ مدعو ہے یا نہیں) تو اس نے عرض کیا: نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں (میں نہیں جاؤں گا) اس شخص نے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی (یعنی عائشہ) تو اس آدمی نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار فرما دیا۔ اس شخص نے سہ بارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی، اس نے عرض کیا: ہاں یہ بھی، پھر دونوں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا) ایک دوسرے کو تھامتے ہوئے اٹھے اور اس شخص کے گھر تشریف لے کر آئے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الأشربة، باب: ما يفعل الضيف إذا تبعه غير من دعاه صاحب الطعام و استحباب إذن صاحب الطعام للتابع، 3 / 1609، الرقم: 2037، و أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 123، الرقم: 12265)


عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ جِبْرِيْلَ جَاءَ بِصُوْرَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيْرٍ خَضْرَاءَ إِلٰى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ زَوْجَتُکَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام ریشم کے سبز کپڑے میں (لپٹی ہوئی) ان کی تصویر لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دنیا و آخرت میں آپ کی اہلیہ ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله ﷺ، باب: من فضل عائشة، 5 / 704، الرقم: 3880، و ابن حبان في الصحيح، 16 / 6، الرقم: 7094، و ابن راهويه في المسند، 3 / 649، الرقم: 1237، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 140، 141،چشتی)


عَنْ أَبِي مُوْسَي، قَالَ: مَا أَشْکَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَدِيْثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا ۔

ترجمہ : حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جب کبھی بھی کوئی حدیث مشکل ہو جاتی تو ہم ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے اس کے بارے میں پوچھتے تو ان کے ہاں اس حدیث کا صحیح علم پالیتے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب: من فضل عائشة، 5 / 705، الرقم: 3883، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 179، و المزي في تهذيب الکمال، 12 / 423، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 32، و العسقلاني في الإصابة، 8 / 18)


عَنْ مُوْسَي بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ ۔

ترجمہ : حضرت موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر کسی کو فصیح نہیں دیکھا ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب: من فضل عائشة، 5 / 705، الرقم: 3884، و الحاکم في المستدرک، 4 / 12، الرقم: 6735، و الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 182، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 191، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 876، الرقم: 1646، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243، و قال: رجاله رجال الصحيح،چشتی)


عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها في رواية طويلة: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ لِفَاطِمَةَ: إِنَّهَا (أَي عَائِشَةَ) حِبَّةُ أَبِيْکَ وَ رَبِّ الْکَعْبَةِ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا ایک طویل حدیث میں روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی الله عنہا سے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! بے شک عائشہ تمہارے والد کو بہت زیادہ محبوب ہے ۔ (أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الانتصار، 4 / 274، الرقم: 4898، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 322)


عَنْ ذَکْوَانَ حَاجِبِ عَائِشَةَ: أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَي عَائِشَةَ... فَقَالَتْ: ائْذِنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ، قَالَ: فَأَدْخَلْتُهُ فَلَمَّا جَلَسَ، قَالَ: أَبْشِرِي، فَقَالَتْ: أَيْضًا، فَقَالَ: مَا بَيْنَکِ وَ بَيْنَ أَنْ تَلْقَي مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَ الْأَحِبَّةَ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الرُّوْحُ مِنَ الْجَسَدِ، کُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَ لَمْ يَکُنْ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا وَ سَقَطَتْ قِلاَدَتُکِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَأَصْبَحَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتَّي يُصْبِحَ فِي الْمَنْزِلِ وَ أَصْبَحَ النَّاسُ لَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عزوجل (فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا) فَکَانَ ذَلِکَ فِي سَبَبِکِ، وَ مَا أَنْزَلَ اللهُ عزوجل لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ، وَ أَنْزَلَ اللهُ بَرَاءَ تَکِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ جَاءَ بِهِ الرُّوْحُ الْأَمِيْنُ، فَأَصْبَحَ لَيْسَِﷲِ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ اللهِ يُذْکَرُ اللهُ فِيْهِ إِلَّا يُتْلَي فِيْهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنْکَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَ الَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًا ۔

ترجمہ : حضرت ذکوان جو کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کے دربان تھے، روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے ملنے کی اجازت طلب کرنے کیلئے تشریف لائے۔. . تو آپ نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو انہیں اجازت دے دو، راوی بیان کرتے ہیں پھر میں ان کو اندر لے آیا پس جب وہ بیٹھ گئے تو عرض کرنے لگے: اے ام المومنین! آپ کو خوشخبری ہو، آپ نے جواباً فرمایا: اور تمہیں بھی خوشخبری ہو، پھر انہوں نے عرض کیا: آپ کی آپ کے محبوب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات میں سوائے آپ کی روح کے قفس عنصری سے پرواز کرنے کے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام ازواج مطہرات سے بڑھ کر عزیز تھیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوائے پاکیزہ چیز کے کسی کو پسند نہیں فرماتے تھے، اور ابوا والی رات آپ کے گلے کا ہار گر گیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح تک گھر نہ پہنچے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے صبح اس حال میں کی کہ ان کے پاس وضو کرنے کیلئے پانی نہیں تھا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ’’پس تیمم کرو پاکیزہ مٹی کے ساتھ۔‘‘ اور یہ سارا آپ کے سبب ہوا اور یہ جو رخصت اللہ تعالیٰ نے (تیمم کی شکل میں) نازل فرمائی (یہ بھی آپ کی بدولت ہوا) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل فرمائی جسے حضرت جبریل امین علیہ السلام لے کر نازل ہوئے پس اب اللہ تعالیٰ کی مساجد میں سے کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے جس میں اس (سورئہ براءت) کی رات دن تلاوت نہ ہوتی ہو۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: اے ابن عباس! بس کرو میری اور تعریف نہ کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی (جسے کوئی نہ جانتا ہوتا) ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 276، الرقم: 2496، و ابن حبان في الصحيح في الصحيح، 16 / 41، 42، الرقم: 7108، و الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 321، الرقم: 10783، و أبو يعلي في المسند، 5 / 5765، الرقم: 2648،چشتی)


عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَي مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَ هُوَ يُکَلِّمُ رَجُلًا، قُلْتُ: رَأَيْتُکَ وَاضِعًا يَدَيْکَ عَلٰى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْکَلْبِيِّ وَ أَنْتَ تُکَلِّمُهُ، قَالَ: وَ رَأَيْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: ذَاکَ جِبْرِيْلُ عليه السلام وَ هُوَ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ، قَالَتْ: وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ، جَزَاهُ اللهُ خَيْراً مِنْ صَاحِبٍ وَ دَخِيْلٍ، فَنِعْمُ الصَاحِبُ وَ نِعْمَ الدَّخِيْلُ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے کی گردن پر اپنا دست اقدس رکھا ہوا ہے اور ایک آدمی سے کلام فرما رہے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے دحیہ کلبی کے گھوڑے کی گردن پر اپنا دست اقدس رکھا ہوا ہے اور ان سے کلام فرما رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے یہ منظر دیکھا؟ آپ نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے اور وہ تجھے سلام پیش کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں ہوں، اور اللہ تعالیٰ دوست اور مہمان کو جزائے خیر عطا فرمائے، پس کتنا ہی اچھا دوست (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس) اور کتنا ہی اچھا مہمان (حضرت جبریل علیہ السلام) ہیں ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 674، الرقم: 24506، 2 / 871، الرقم: 1635، و الحميدي في المسند، 1 / 133، الرقم: 277، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 46، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 20)


عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طَيِّبَ نَفْسٍ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، ادْعُ اللهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَ مَا تَأَخَّرَ مَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ فَضَحِکَتْ عَائِشَةُ حَتَّي سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضِّحْکِ، قَالَ لَهَا رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: أَيَسُرُّکِ دُعَائِي، فَقَالَتْ: وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُکَ، فَقَالَ ﷺ: وَاللهِ، إِنَّهَا لَدُعَائِي لِأُمَّتِي فِي کُلِّ صَلَاةٍ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشگوار حالت میں دیکھا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! عائشہ کے اگلے پچھلے، ظاہری و باطنی، تمام گناہ معاف فرما (ایسا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازرائے مزاح فرمایا) یہ سن کر حضرت عائشہ رضی الله عنہا اتنی ہنسیں یہاں تک کہ ان کا سر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں آ پڑا (یعنی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئیں) اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میری دعا تمہیں اچھی لگی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کی دعا مجھے اچھی نہ لگے، پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بے شک ہر نماز میں میری یہ دعا میری امت کیلئے خاص ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 6 / 48، الرقم: 7111، الحاکم في المستدرک، 4 / 13، الرقم: 6738، و ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 390، الرقم: 32285، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 498، الرقم: 2032، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 145، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243)


عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: کَانَتْ عَائِشَةُ أَفْقَهَ النَّاسِ وَ أَعْلَمَ النَّاسِ وَ أَحْسَنَ النَّاسِ رَأْيًا فِي الْعَامَّةِ ۔

ترجمہ : حضرت عطا بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا تمام لوگوں سے بڑھ کر فقیہ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر جاننے والیں اور تمام لوگوں سے بڑھ کر عام معاملات میں اچھی رائے رکھنے والی تھیں ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 15، الرقم: 6748، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 185، و العسقلاني في تهذيب التهذيب، 12 / 463، و المزي في تهذيب الکمال، 35 / 234، و ابن عبد البر في الاستيعاب، 4 / 1883، و العسقلاني في الإصابة، 8 / 18)


عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِشِعْرٍ، وَلَا فَرِيْضَةٍ، وَلَا أَعْلَمَ بِفِقْهٍ مِنْ عَائِشَةَ ۔

ترجمہ : حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر، شعر، فرائض اور فقہ کا عالم کسی کو نہیں دیکھا ۔ (أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 276، الرقم: 26044، و العسقلاني في تهذيب التهذيب، 12 / 463، و المزي في تهذيب الکمال، 35 / 234، و ابن عبد البر في الاستيعاب، 4 / 1883، و العسقلاني في الإصابة، 8 / 18،چشتی)


عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: لَوْ جُمِعَ عِلْمُ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِيْهِنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ عِلْمُ عَائِشَةَ أَکْثَرُ مِنْ عِلْمِهِنَّ ۔

ترجمہ : حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس امت کی تمام عورتوں کے جن میں امہات المومنین بھی شامل ہوں علم کو جمع کر لیا جائے تو عائشہ کا علم ان سب کے علم سے زیادہ ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 184، الرقم: 299، و العسقلاني في تهذيب التهذيب، 12 / 463، و المزي في تهذيب الکمال، 35 / 235، وابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 33، و الخلال في السنة، 2 / 476، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 185، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243، و قال: رجال هذا الحديث ثقات،چشتی)


عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا رَأَيْتُ خَطِيْبًا قَطُّ أَبْلَغَ وَلَا أَفْطَنَ مِنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها ۔

ترجمہ : قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کسی بھی خطیب کو عائشہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر بلاغت و فطانت (ذہانت) والا نہیں دیکھا ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 183، الرقم: 298، و الشيباني في الآحاد و المثاني، 5 / 398، الرقم: 3027، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 243)


عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَعْلَمَ بِالْقُرْآنِ وَ لَا بِفَرِيْضَةٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَ لَا بِشِعْرٍ وَلَا بِحَدِيْثِ الْعَرَبِ وَلَا بِنَسَبٍ مِنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها ۔

ترجمہ : حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر کسی کو قرآن، فرائض، حلال و حرام، شعر، عربوں کی باتیں، اور نسب کا عالم نہیں دیکھا ۔ (أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 49، 50، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 32)


عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ وَ کَانَتْ تَغْشَي عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَعَثَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلٰىهَا بِمَالٍ فِي غَرَارَتَيْنِ ثَمَانِيْنَ أَوْ مِائَةَ أَلْفٍ فَدَعَتْ بِطَبْقٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صَائِمَةٌ فَجَلَسَتْ تَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ فَأَمْسَتْ وَ مَا عِنْدَهَا مِنْ ذَلِکَ دِرْهَمٌ فَلَمَّا أَمْسَتْ، قَالَتْ: يَا جَارِيَةُ، هَلُمِّي فِطْرِي فَجَاءَ تْهَا بِخُبْزٍ وَ زَيْتٍ، فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ ذَرَّةَ: أَمَا اسْتَطَعْتِ مِمَّا قَسَمْتِ الْيَوْمَ أَنْ تَشْتَرِي لَنَا لَحْمًا بِدِرْهَمٍ نَفْطُرُ عَلَيْهِ، قَالَتْ: لاَ تُعَنِّفِيْنِي، لَوْ کُنْتِ ذَکَرْتِيْنِي لَفَعَلْتُ ۔

ترجمہ : حضرت ام ذرہ، جو کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ حضرت عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دو تھیلوں میں آپ کو اسی ہزار یا ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا، آپ نے (مال رکھنے کے لئے) ایک تھال منگوایا اور آپ اس دن روزے سے تھیں، آپ وہ مال لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئیں، پس شام تک اس مال میں سے آپ کے پاس ایک درہم بھی نہ بچا، جب شام ہو گئی تو آپ نے فرمایا: اے لڑکی! میرے لیے افطار کیلئے کچھ لاؤ، وہ لڑکی ایک روٹی اور تھوڑا سا گھی لے کر حاضر ہوئی، پس ام ذرہ نے عرض کیا: کیا آپ نے جو مال آج تقسیم کیا ہے اس میں سے ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت نہیں خرید سکتی تھیں جس سے آج ہم افطار کرتے، حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا: اب میرے ساتھ اس لہجے میں بات نہ کر اگر اس وقت (جب میں مال تقسیم کر رہی تھی) تو نے مجھے یاد کرایا ہوتا تو شاید میں ایسا کر لیتی ۔ (أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 47، و هناد في الزهد، 1 / 337، 338، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 187، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 8 / 67،چشتی)


عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ امْرَأَ تَيْنِ أَجْوَدَ مِنْ عَائِشَةَ وَ أَسْمَاءَ وَ جُوْدُهُمَا مَخْتَلِفٌ: أَمَّا عَائِشَةُ، فَکَانَتْ تَجْمَعُ الشَّيْئَ إِلٰى الشَّيْيئِ حَتَّي إِذَا کَانَ اجْتَمَعَ عِنْدَهَا قَسَمَتْ وَ أَمَّا أَسْمَاءُ فَکَانَتْ لَا تُمْسِکُ شَيْئًا لِغَدٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبد الله بن زبیر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ اور حضرت اسماء رضی الله عنہما سے بڑھ کر سخاوت کرنے والی کوئی عورت نہیں دیکھی اور دونوں کی سخاوت میں فرق ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا تھوڑی تھوڑی اشیاء جمع فرماتی رہتی تھیں اور جب کافی ساری اشیاء آپ کے پاس جمع ہو جاتیں تو آپ انہیں (غربا اور محتاجوں میں) تقسیم فرما دیتیں، جبکہ حضرت اسماء (بھی) اپنے پاس کل کیلئے کوئی چیز نہیں بچا کر رکھتی تھیں ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 106، الرقم: 286، و ابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 58، 59)


عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: بَعَثَ مُعَاوِيَةُ إِلٰى عَائِشَةَ بِطَوْقٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيْهِ جَوْهَرٌ قُوِّمَ بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَسَّمَتْهُ بَيْنَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

ترجمہ : حضرت عطا سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو سونے کا ہار بھیجا جس میں ایک ایسا جوہر لگا ہوا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، پس آپ نے وہ قیمتی ہار تمام امہات المومنین میں تقسیم فرما دیا ۔ (أخرجه هناد في الزهد، 1 / 337، الرقم: 618، وابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 29،چشتی)


عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ رضی الله عنها ، کَانَتْ تَسْرَدُ الصَّوْمَ. وَ عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ عَائِشَةَ کَانَتْ تَصُوْمُ الدَّهْرَ وَ لاَ تَفْطُرُ إِلَّا يَوْمَ أَضْحَي أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ ۔ و في رواية عنه: قَالَ: کُنْتُ إِذَا غَدَوْتُ أَبْدَأُ بِبَيْتِ عَائِشَةَ أُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَغَدَوْتُ يَوْمًا فَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تَسَبِّحُ وَ تَقْرَأُ: (فَمَنَّ اللهُ عَلَيْنَا وَ وَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِ) وَ تَدْعُوْ وَ تَبْکِي وَ تُرَدِّدُهَا فَقُمْتُ حَتَّي مَلَلْتُ الْقِيَامَ فَذَهَبْتُ إِلٰى السُّوْقِ لِحَاجَتِي ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هِي قَائِمَةٌ کَمَا هِيَ تُصَلِّي وَ تَبْکِي ۔

ترجمہ : حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا مسلسل روزے سے ہوتی تھیں۔ اور قاسم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ مسلسل روزہ سے ہوتی تھیں اور صرف عید الاضحی اور عید الفطر کو افطار فرماتی تھیں ۔ اور ان ہی سے روایت ہے کہ میں صبح کو جب گھر سے روانہ ہوتا تو سب سے پہلے سلام کرنے کی غرض سے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس جاتا، پس ایک صبح میں آپ کے گھر گیا تو آپ حالت قیام میں تسبیح فرما رہی تھیں اور یہ آیہ کریمہ پڑھ رہی تھیں (فَمَنَّ اللهُ عَلَيْنَا وَ وَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِ) اور دعا کرتی اور روتی جا رہی تھیں اور اس آیت کو بار بار دہرا رہی تھیں، پس میں (انتظار کی خاطر) کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ میں کھڑا ہو ہو کر اکتا گیا اور اپنے کام کی غرض سے بازار چلا گیا، پھر میں واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ اسی حالت میں کھڑی نماز ادا کر رہیں ہیں اور مسلسل روئے جا رہی ہیں ۔ (أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 451، الرقم: 4048، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 375، الرقم: 2092، وابن أبي عاصم في کتاب الزهد، 1 / 164، وابن الجوزي في صفوة الصفوة، 2 / 31)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نسبت “جبیر بن مطعم ” کے بیٹے سے ہوئی تھی مگر جبیر نے اپنی ماں کے ایماء پر یہ نسبت اس لیے فسخ کردی کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے اہل مسلمان ہوچکے ہیں ۔ اس کے بعد حضرت خولہ بنت حکیم کی تحریک پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے عقد مبارک مکہ مکر مہ ماہ شوال المکرم  میں ایک روایت کے مطابق ہجرت سے ایک سال قبل بروایت دیگر تین سال قبل 621 عیسوی میں انتہائی سادہ و سادگی سے ہوا ۔ امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خود نکاح پڑھایا, پانچ سو درہم حق مہر مقرر ہوا ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کے تین سال بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت فرما کر مدینہ شریف تشریف لے گئے ۔ مدینہ منور پہنچ کر سرور کائنات نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن حارثہ , حضرت ابورافع ‘ اور حضرت عبداللہ بن اریقط رضی اللہ عنہم کو اپنے اہل وعیال کولانے کےلیے مکہ مکرمہ بھیجا ۔ واپسی پر حضرت زید بن حارثہ کے ہمراہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا ‘حضرت ام کلثوم ‘ حضرت سودہ بنت زمعہ ‘حضرت ام ایمن اور حضرت اسامہ بن زید تھے ۔ اور حضرت عبداللہ بن اریقط کے  ہمراہ حضرت عبداللہ بن ابوبکر’ حضرت ام رومان’ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہم اجمعین تھیں ۔ (مدارج نبوۃ جلد دوم ‘ازواج مطہرات)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں آپ کا مقام و مرتبہ اور آپ سے جو محبت تھی وہ نا قابلِ بیان ہے : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جب غزوۂ سلاسِل سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا *عائشہ* ، انہوں نے عرض کی مردوں میں ؟ فرمایا ان کے والد (حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) ۔ {بخاری شریف}

ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن  میں آپ کا درجہ فقہ وحدیث علم وفضل میں بہت ہی بلند ترین اور ممتاز ہے ۔ خود آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے دین کا نصف علم اس حُمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سیکھو ۔ اور حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ آپ کے علم و ہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں فرماتے ہیں: اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے علم کے مقابلے میں تمام امّھات المؤمنین ، بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرتِ عائشہ صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا - ام المومنین  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ‘ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم اور امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہم کے دور میں آپ فتوی دیاکرتی تھیں ‘اکابر صحابہ ‘صحابیہ آپ کے علم وفضل کے معترف تھے اورمسائل میں آپ سے استفسار کیا کرتے تھے آپ سے دوہزار دوسو دس (2210) حدیثیں مروی ہیں جن میں سے ایک سوچوہتر (174)حدیثوں پر بخاری و مسلم نے اتفاق کیاہے ۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کا ایک چوتھائی آپ سے منقول ہے ۔ تفسیر ‘ حدیث ‘ اسرار شریعت ‘خطاب, ادب اور انساب میں آپ کو بہت کمال حاصل تھا ۔ (زرقانی جلد دوم’ جلد سوم فضائل اہلیت ‘شان صحابہ)

اوصاف وکمالاتِ ‘علم و فضل ‘فہم و فراست ‘ تبلیغِ دین ‘ زہد وتقوی اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لحاظ سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا  کو کافی فوقیت حاصل تھی ۔

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ خود فرماتی ہیں : دس خوبیوں (اوصاف) سے مجھے دیگر ازواجِ مطہرات پر فوقیت حاصل ہے ۔
(1)  حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا ۔
(2)  میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مُہاجر ہوں ۔
(3)  اللہ تعالٰی نے میری پاکدامنی کا بیان آسمان سے قرآن میں نازل فرمایا ۔
(4)  نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو دکھلا دی تھی اور آپ تین راتیں مجھے خواب میں دیکھتے رہے ۔
(5)  میں اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیا کرتے تھے یہ شرف میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا ۔
(6)  حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نمازِ تہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المؤمنین میں سے کوئی بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی اس کریمانہ محبت سے سرفراز نہیں ہوئی ۔
(7)  میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خدا کی وحی نازل ہوا کرتی تھی یہ اعزازِ خداوندی ہے جو میرے سوا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی کسی زوجہ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا ۔
(8)  وفاتِ اقدس کے وقت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو اپنی گود میں لیے ہوئی تھی اور آپ کا سرِ انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا وصال ہوا ۔
(9)  حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا ۔
(10)  نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا مزار مبارک خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ) میں بنی ۔ (سیرت المصطفی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا خدمت دین کے باب میں کردار اور مقام و مرتبہ کیا ہے ؟ اس کو سمجھنے کےلیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دین پر استقامت اور ریاضت و مجاہدہ میں آپ کو کتنا تمکن حاصل تھا ۔ خدمت دین اس وقت تک مقبول اور مبارک نہیں ہوتی جب تک دین کی خدمت کرنے والے خود اپنی زندگی سیرت و کردار کو اور اپنے شب و روز کو عملی نمونہ نہ بنالیں ۔ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی مقبول ترین زوجہ مطہرہ تو تھیں مگر خود وہ اپنی عملی زندگی میں دین کا عظیم الشان نمونہ تھیں ۔ یہاں آپ کی حیات مبارکہ چند گوشے اختصار کے ساتھ بیان کیے جارہے ہیں جس کی روشنی میں آپ کے کردار کے مبارک پہلو کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔

آپ رضی اللہ عنہا کا ذوق عبادت اور ریاضت و مجاہدہ اس قدر بلند مرتبے کا تھا کہ نماز میں طویل قیام فرماتیں۔ جس کو احمد بن حنبل نے اپنی المسند میں نقل کیا ہے ۔ اس طرح نفلی نمازیں ادا کرتیں تو قرات کے دوران جب آیت وعید کا ذکر آتا آپ پر گریہ و زاری طاری ہوجاتی ، آپ ان کا تکرار کرتیں ۔ نماز کے بعد دیر تک آپ پر گریہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ فرض نمازوں کا یہ عالم تھا کہ آپ اکثر و بیشتر نماز پنجگانہ با جماعت اداکرتیں ۔ وہ یوں کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مبارک متصل تھا ۔ امام کی آواز آتی تھی سو مسجد نبوی کے امام کی اقتداء میں متصل اپنے حجرہ مبارک میں نماز ادا کرتی تھیں ۔ جب خواتین زیادہ جمع ہوجاتیں تو الگ سے اہتمام کرتیں اور خود صف کے وسط میں قیام فرماکر انہیں نماز پڑھاتیں ۔ آپ صائم الدھر تھیں اکثر و بیشتر روزے کا اہتمام فرماتیں ۔ سخت گرمیوں میں بھی نفلی روزہ ترک نہ کرتیں ۔ امام احمد بن حنبل نے المسند ، امام ابن سعد طبقات میں آپ کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ایک مرتبہ گھر پر تھیں ، حج پر نہیں گئی تھیں نویں ذوالحج تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے فرمان کے مطابق روزہ رکھا تھا کیونکہ سخت گرمی تھی ۔ آپ اپنے اوپر پانی گرارہی تھیں ۔ آپ سے افطار کرلینے کا کہا گیا فرمایا : میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے ۔ جو لوگ حج پر نہ گئے ہوں ان کے لیے یوم عرفہ کا روزہ پچھلے پورے سال کےلیے کفارہ بن جاتا ہے ۔

عبادت میں کوئی ایک فضیلت کا امر اپنی حیات میں ترک نہ کرتی تھیں ۔ حتی کہ سفر میں بھی روزہ ترک نہ کرتی تھیں ۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے سوال کیا کہ آپ نے جہاد کو افضل ترین اعمال قرار دیا ہے ۔ کیا ہم جہاد نہ کیا کریں ؟ یعنی شوق جہاد پیدا ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا : سب سے افضل عبادت حج مبرور ہے دوسری روایت میں ہے ۔ حج و عمرہ افضل عبادت ہے آپ اس پر اکتفاء کریں ۔ اسی طرح آپ کی حیات طیبہ میں اور عادت مبارک میں جود و سخا کمال درجے کا تھا ۔ تھوڑا زیادہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دست مبارک تک پہنچ جاتا یا آپ کی ملکیت میں آجاتا اسی وقت خیرات کر دیتیں ۔

حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے فرمان کو اکثر بیان فرماتیں ۔ ’’دوزخ کی آگ سے بچائو اختیار کرو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کی خیرات کے ذریعے سے ہو ۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے وصال کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بہت فتوحات ہوئیں ۔ اموال کثرت سے آنے لگے جو مال آپ رضی اللہ عنہا کے حصے میں آئے آپ اس مال کو اسی لمحے خرچ کر دیتیں ۔

امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں بیان فرمایا ایک مرتبہ ایک لاکھ درہم آپ کے حصہ میں آئے۔ آپ نے سورج غروب ہونے سے پہلے پورا ایک درہم خیرات کردیا۔ ایک روز آپ کی خادمہ نے عرض کیا : اگر آپ ایک درہم بچا کر رکھ لیتی اس سے ہمارے لیے کچھ گوشت آجاتا ۔ فرمایا : بیٹے ! اگر مجھے پہلے بتادیتیں تو میں بچا لیتی ۔

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زہد و ورع بھی کمال درجے کا تھا آپ نے پوری حیات مبارکہ میں فرائض و واجبات اور سنن کا پوری صحت سے اہتمام کیا اور شبہات سے بچیں ۔ ایک روز ایک نابینا شخص سوال کرنے کے لیے آیا تو آپ نے اس سے پردہ کرلیا جس پر آپ سے کہا گیا کہ وہ تو دیکھتا نہیں اس پر آپ نے فرمایا کہ میں تو دیکھتی ہوں ۔

آپ کے حجرہ مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا مزار مبارک تھا ۔ بعد ازاں حضرت صدیق اکبر بھی وہاں مدفون ہوئے جب سیدنا فاروق اعظم تو آپ پردے کا زیادہ اہتمام کرتیں کیونکہ وہ آپ کےلیے نامحرم تھے اس سے آپ کے اعتقاد کا اندازہ ہوتا ہے کہ صاحب مزار حاضر ہونے والے کو دیکھتا ہے ۔

اس طرح دعوت و تبلیغ میں آپ کا کردار بڑا نمایاں تھا ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بڑا اہتمام کرتیں ، جب کسی کے عمل میں کوئی کمی بیشی آپ مشاہدہ فرماتیں اسی وقت اس کو حکمت و بصیرت اور محبت سے اصلاح اور تربیت کرتیں ۔ آپ کا علم دین اتنا وسیع تھا کہ جس قرآن کے علم، علم التفسیر ، علم الحدیث ، علم فقہ میں گہرائی و گیرائی ، عربی ادب، شعر و نثر ، علم میراث ، علم تاریخ ، علم انساب، علم طب پر کمال درجے کی مہارت رکھتیں ۔ علم میں آپ کا درجہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہن میں بلند تھا ۔ ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں ۔

جسے امام ترمذی نے روایت کیا جب بھی صحابہ کرام کو علمی مسائل میں اشکال ہوتا اور کسی سے کوئی حل نہ ہورہا ہوتا تو آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ اس مسئلہ کو حل فرما دیتیں ۔ آپ کے دروازے پر علم کا کوئی طلبگار بھی آتا مشکل حل کروائے بغیر واپس نہ جاتا ۔ جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور آکر سوال کرتے تھے ۔

حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت عبداللہ ابن عباس ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم آپ سے اخذ فیض ، استفادہ اور مسائل دریافت کرتے ۔ اس وجہ سے 100 سے زائد صحابہ کرام ، تابعین عظام رضی اللہ عنہم نے آپ سے علم اور احادیث نبوی روایت کی ہیں ۔ آپ کا درجہ صحابہ اور صحابیات میں استاذ کا تھا ۔

امام زہری فرماتے ہیں آپ کے علم کو جملہ خواتین علماء کے علم کے ساتھ سے موازنہ کیا جائے بلکہ سب کے علم کو جمع کرلیا جائے تو بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ان سب سے وسیع تر ہے ۔ امام بدرالدین زرکشی نے الاجابہ کے نام سے کتاب لکھی جس میں آپ کی دقت علم کو بیان کیا ہے ۔

امام جلال الدین سیوطی نے عین الصحابہ کے نام سے ایک رسالہ رقم فرمایا ہے آپ کے علم کی گہرائی ، گیرائی ، فقہ اجتہاد علم کا بیان کیا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو آپ کا ہی حجرہ مبارک محبط وحی تھا اکثر و بیشتر نزول وحی آپ کے ہی حجرہ مبارکہ میں ہوتا ۔ اسی وجہ سے آپ صحابہ کرام تابعین عظام کےلیے معلمہ تھیں ۔ آپ مفسرہ ، محدثہ ، مجتہدہ ، فقیہہ ، زاہدہ ، عابدہ ، طیبہ طاہرہ تھیں ۔ پوری امت مسلمہ کی ماں ہیں ۔ آپ کا شمار کبار حفاظ حدیث و سنت میں ہوتا ہے ۔ آپ پردہ کے پیچھے سے تعلیم دیتی تفسیر پڑھاتیں ، حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی حدیث روایت کرتیں ۔ سنت نبوی کے احکام سمجھاتیں ، استنباط اور اجتہاد کے ذریعے پوری امت کی رہنمائی فرماتیں ۔ آقا صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے وصال کے بعد کم و بیش 50 برس تک حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی سنت کو امت تک پہنچایا ، حدیث نبوی کی تعلیم دی ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرویات 2210 ہیں یہ مسند عائشہ ہیں ۔ اس میں متفق علیہ 174 ہیں جو بخاری اور مسلم دونوں میں روایت ہوئی ہیں۔ بقیہ میں سے صحیح بخاری میں 54 اور صحیح مسلم میں 69 بیان ہوئی ہیں ۔ بقیہ حدیث دیگر کتب احادیث ہیں ۔

اگر آپ کی مرویات نہ ہوتیں تو سنت نبوی کا بہت بڑا حصہ امت کو معلوم نہ ہوسکتا۔ خاص کر سنت فعلیہ کا حصہ، آپ کا حجرہ مبارک اس امت کا سب سے بڑا مدرسہ، حدیث و سنت تھا۔ جہاں علم، فقہ، علم، حدیث، علم قرآن، علم تفسیر کے چشمے بہتے تھے۔ صحابہ کرام تابعین عظام مختلف شہروں سے اطراف عالم سے سفر کرکے آپ سے اکتساب فیض کرتے۔ آپؓ کا فیض آج بھی امت کو جاری ہے۔ آج بھی عالم رئویا میں ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا حدیث کی اجازت فرماتیں ہیں حدیث کی سند حدیث کا سبق دیتی اور حدیث کا سبق سنتی ہیں ۔ بخاری و مسلم کی کتب کی اجازت اور سند خود دیتی ہیں ۔ آج بھی آپ کا فیض امت محمدی صلی اللہ علیہ والہ و سلم میں جاری و ساری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ طریق جاری رہے گا ۔

آپ نے حدیث میں روایت بالمعنی کا طریق اختیار نہیں اپنایا بلکہ روایت بالفظ پر تمسک کیا۔ ضبط الفاظ حدیث کا بڑی اہتمام کیا۔ امت کی سب بڑی فقیہ تھیں۔ کبار مجتہدین میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ صحابہ کرام کی طرف سے آپ سے فتویٰ طلب کیا جاتا احکام میں اجتہاد اور استنباط کرتیں، آپ نے بہت سے شاگرد چھوڑے جن میں عروہ بن زبیر ہیں جنہیں عالم المدینہ کا لقب دیا جاتا تھا یہ آپ کے بھانجے اور حضرت اسما بن ابی بکر کے صاحبزادے ہیں ۔ انہوں نے طویل عمر آپ کی صحبت میں رہ کر اخذ علم اور اکتساب فیض کیا اور مدینہ طیبہ کے سب سے بڑے عالم بنے۔ اس طرح آپ کے تلامذہ میں حضرت قاسم بن ابی بکر آپ کے بھتیجے ہیں جو اتنے بڑے زاہد اور اتنے بڑے صوفی زہد و ورع کے پیکر تھے کہ دور دراز سے تابعین چل کر آپ سے اکتساب فیض کے لیے تشریف لاتے ۔

آپ کے معمولات کو دیکھ کر دین سیکھتے ۔ یہ قاسم بن محمد بن ابی بکر وہ ہستی آپ کے درس کے دوران جن کی مسجد نبوی میں مسند حدیث تھی اور مسجد نبوی بھری رہتی تھی ۔ طلبہ ان سے حدیث کا درس لیتے یہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فیض کے قاسم ہیں ۔ بعد ازاں ان کی مسند پر عبدالرحمن بن قاسم بن محمدبن ابی بکر بیٹھے ۔ انہوں نے علم حدیث کے چشمے بنائے ۔ یہی وہ نشست ہے جس پر بعد ازاں امام مالک بیٹھے ۔ آپ کے تلامذہ میں ان تابعین کے علاوہ سعید بن مسیب جیسی جلیل القدر ہستیاں ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عامر حضرت مسروق بن اجداء بھی ہیں ۔ آپ سے حضرت عکرمہ نے بھی براہ راست اخذ علم اور اکتساب فیض کیا ۔

اسی طرح خواتین میں بھی بہت سی مفسرہ، محدثہ اور فقیہہ ہوئیں جن کے ذریعے آپ نے امت میں علم کے چشمے اور دریا بہائے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں میں امت میں کسی ایسی عالمہ،محدثہ، فقیہا، مفسرہ سے واقف نہیں ہوں جن کا علم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جتنا ہو ۔

حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے علم کا بہت سا حصہ یاد کرلیا اور 50 برس تک اس نبوی علم کی امانت امت کو پہنچاتی رہیں اور کثیر تعداد میں خلق نے آپ سے اخذ علم کیا اور استفادہ کیا ۔ اور دین کے احکام و اداب سیکھے اور حافظ ابن حجر فرماتے ہیں شریعت کے کم و بیش ایک چوتھائی احکام ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔ آپ سے استفادہ کرنے والے جلیل القدر تلامذہ کا عدد 88 ہے ۔ جیسے خلق کثیر کہا جاتا ہے ۔ حضرت عائشہ بنت طلحہ کہتی ہیں کہ آپ مرجع خاص و عام تھیں ہر شہر سے طالبان علم سفر کرکے آپ کی بارگاہ میں آتے ۔ امام بخاری نے الادب المفرد میں کہاں ہے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا چشمہ علم محمدی صلی اللہ علیہ والہ و سلم تھیں ۔ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے علم کے دریا بہادیے ۔ کتب حدیث آپ کی مرویات سے معمور ہیں۔ نسلاً بعد نسل امت کے علماء، محدثین ، مجتہدین، فقہاء بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ سے فیض لیتے رہے۔ دین میں آپ کی خدمات کا یہ عالم ہے کہ آپ ام المومنین تو ہیں ہی مگر محسنہ المومنین بھی ہیں۔ علم کے باب میں پوری امت کی سرپرستی فرمانے والی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ سے اکتساب فیض کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے علم سے حاصل ہونے والے نور سے اپنی زندگیوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

عبادت و ریاضت میں بھی آپ کا مقام و مرتبہ بہت ہی اَرفع و اعلیٰ ہے ۔ آپ بکثرتِ فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں، ہر سال حج کرتیں ۔ آپ کے بھتیجے حضرتِ قاسم بن محمدبن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدّیقہ  رضی اللہ تعالٰی عنہا بلا ناغہ تہجد کی نماز پڑھنے کی پابند تھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہا کرتیں ۔
(ازواج مطہرات)

خوفِ خداوندی اور خشیتِ ربانی کا یہ عالم کہ ایک بار دوزخ کی یاد آگئی تو رونا شروع کر دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیا کہ مجھے دوزخ کا خیال آگیا اس لیے رو رہی ہوں ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو شعروشاعری میں بھی بہت مہارت حاصل تھی - جب کوئی ضرورت درپیش ہوتی تو فی البدیہ اشعار میں گفتگو کرتی تھیں ۔

ام المومنین رضی اللہ عنہا کے یہ دو شعر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی مدح میں مروی ہیں : ⬇

لوسمعوافی مصر اوصاف خدہ
لمابذلو فی سوم یوسف من نقد
لواحی زلیخالوراین حبیبۂ
لاثرن بالقطع القلوب علی الایدی
(زرقانی جلد سوم)

ماہ رمضان المبارک کی سترہ تاریخ 57 یا 58 ہجری مطابق 13 جولائی 678 عیسوی چھیاسٹھ (66) سال کی عمر میں آپ کا وصال مدینہ منوّرہ میں ہوا طانا للہ و انا الیہ راجعون ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8،چشتی)

حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیّت کے مطابق رات میں آپ کو جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی قبروں کے پہلو میں تدفین ہوئی ۔
ام المؤمنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ذاتِ مبارکہ حُسن علم و ادب فضل وکمال ‘ ریاضت و روحانیت’ پیکرِ شرم و حیا ‘ مجسمۂ عفّت و عصمت ‘ سیرت و خصلت ‘ ذہانت و فطانت ‘ علم و ہنر کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں کا مجموعہ کمالات تھیں  آپ کی ذاتِ مبارکہ خواتین کے لئے حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کا ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے جن کی زندگی کے آئینہ میں دنیا اور دین دونوں سنوارے جا سکتے ہیں ۔ حضرت ام المؤمنین کی سیرتِ مبارکہ سے ہماری ماں بہنوں کو اپنی زندگی سنوارنی چاہیے اور ہم سب کو زیادہ سے خراج عقیدت پیش کرکے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی بارگاہ اقدس کا قرب حاصل کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا وصال مبارک : پہلے کھلے رافضی اور اب سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی یہ جھوٹ بول کر کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کروایا اس طرح یہ کذّاب لوگ جھوٹ بھی بولتے ہیں اور توہین بھی کرتے ہیں آئیے حقائق کیا ہیں پڑھتے ہیں مستند دلائل کی روشنی میں ۔ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ (شرح الزرقا نی علی المواہب ، المقصدالثانی ، الفصل الثالث،عائشۃ ام المؤمنین جلد ۴ صفحہ ۳۹۲)

ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال کے وقت فرمایا : کاش کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

جب ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں ۔ باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کو بیماری کے باعث اپنے گھر میں ہوئی۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ آپ کا نماز جنازہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز وتر کے بعد پڑھایا تھا ۔ (البداية والنهاية، لابن کثير، ج : 4، جز : 7، ص : 97)

امام بخاري رحمۃ الله علیہ (المتوفى256) صحیح بخاری میں روایت لکھتے ہیں : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ، قَالَتْ: أَخْشَى أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ، فَقِيلَ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ وُجُوهِ المُسْلِمِينَ، قَالَتْ: ائْذَنُوا لَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدِينَكِ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِنِ اتَّقَيْتُ، قَالَ: «فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكِ، وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ» وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلاَفَهُ، فَقَالَتْ: دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَى عَلَيَّ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا ۔ (صحيح البخاري: 6/ 106 رقم 4753،چشتی)
ترجمہ : ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے تھوڑی دیر پہلے، جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھیں، ابن عباس نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں ۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور خود بھی عزت دار ہیں (اس لئے آپ کو اجازت دے دینی چاہئے) اس پر انہوں نے کہا کہ پھر انہیں اندر بلا لو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں خدا کے نزدیک اچھی ہوں تو سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انشاءاللہ آپ اچھی ہی رہیں گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور آپ کی برات (قرآن مجید میں) آسمان سے نازل ہوئی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے ۔ محترمہ نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی، میں تو چاہتی ہوں کہ کاش میں ایک بھولی بسری گمنام ہوتی ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا اوراس کے اوپر سے اسے چھپا کر وہاں پر ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وہاں پہچنچی تو گڈھے میں گرگئی اور ان کی وفات ہوگئیں ۔ اس جھوٹ اور بہتان کے برعکس بخاری کی اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ فطری وفات ہوئی تھی کیونکہ اگر گڑھے میں گر کر وفات ہوگئی ہوتی تو پھر وفات سے قبل لوگوں کی آمدرفت کا سلسلہ نہ ہوتا اسی طرح اجازت وغیرہ کا ذکر بھی نہ ہوتا کیونکہ یہ صورت حال اسی وقت ہوتی ہے جب کسی کی وفات اس کے گھر میں فطری طور پر ہو ۔ نیز بخاری کی یہی حدیث صحیح ابن حبان میں بھی ہے اوراس میں ابن عباس کے لئے عیادت کے الفاظ ہیں ، ملاحظہ ہو : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكَ جَاءَكِ يَعُودُكِ , قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ۔(صحيح ابن حبان: 16/ 41)

عیادت کا لفظ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طریقہ پرہوئی تھی ۔ بلکہ حاکم کی روایت میں ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی پوری صراحت ہے ملاحظہ ہوں الفاظ : جاء ابن عباس يستأذن على عائشة رضي الله عنها في مرضها ۔ (المستدرك على الصحيحين للحاكم: 4/ 9 ، صححہ الحاکم ووافقہ الذھبی،چشتی)

یہ روایات اس بات کی زبردست دلیل ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طور پر ان کے گھر پر ہوئی تھی ۔ آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کا بھی ہے ۔ نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا نے پڑ ھائی اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ (اسد الغابہ،ج:۵/ص:۵۰۴،چشتی)

کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ماتم کیا ؟

ہمارے پیج کے ان باکس میں شیعہ حضرات کی طرف سے کیے گئے اعتراض کے بارے میں ہم سے جواب طلب کیا گیا جس کا ہم مدلل جواب تحریر کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں ۔

شیعہ جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف اپنے مطلب کی بات کرتے ہیں اور پوری بات نہیں کرتے۔ جس طرح حضرت عائشہ کا ماتم ثابت کرنا چاہ رہے ہیں لیکن مکمل روایت نقل نہیں کی اور یہ مکمل روایت ہے اور فیصلہ خود کریں : ⬇

حدثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عباد قال سمعت عاشة تقول مات رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري وفي دولتي لم أظلم فيه أحدا فمن سفهي وحداثة سني أن رسول الله قبض وهو في حجري ثم وضعت رأسه على وسادة وقمت ألتدم مع النسا وأضرب وجهي ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی ۔ (مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 6258 إسناده حسن)

اس میں ماتم کا جواز نہیں ملتا بلکہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرما رہی ہیں کہ “یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی” ۔
یہ وفات کسی عام بندے کی نہیں تھی بلکہ افضل البشر ورحمۃ اللعالمین کی وفات تھی اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے یہ عمل ہو بھی گیا ہے تو اس کو ماتم کرنے کی دلیل نہیں لی جا سکتی ۔
ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو معصوم عن الخطاء نہیں سمجھتے اور شیعہ جنہیں امام معصوم سمجھتے ہیں ان سے بھی کافی غلطیاں ہوئیں تھی.جیساکہ شیعہ کتاب “ملاذ الاخیار / ج10/ صفحہ 126 پر لکھا ہے علی ع نے غلطی سے آدمی کو چوری کے الزام میں ہاتھ کٹوا دیئے لیکن اصل چور کوئی اور تھا۔
اگر حضرت عائشہ سے ایک بارماتم ثابت ہے اور جس میں وہ خود اپنی غلطی کا ازھار بھی کر رہی ہے تو کیا اسے جس طرح شیعہ ماتم کرتے ہیں اس کی دلیل لی جا سکتی ہے؟ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے ہر سال ماتم کیا ؟
اگر شیعہ سمجھتے ہیں کی ماتم کرنا محبت کی نشانی ہے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک پر حضرت علی، فاطمہ، حسن وحسین رضی اللہ عنھم اجمعین نے ماتم کیوں نہ کیا ؟ کیوں سینہ نہیں پیٹا ؟ کیوں تلوار سے ماتم نہیں کیا ؟ کیوں قمی زنی نہیں کی؟ کیا ان حضرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں تھی؟
کیا شیعہ حضرات نبی ص کی وفات پر ہر سال ماتم کرتے ہیں ؟ کیونکہ ماتم تو شیعہ کے نزدیک عبادت ہے ، اور بعض کے نزدیک تو اصل نماز ہی ماتم ہے ۔
ہم شیعہ حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ عزوجل سے ڈریں اور جب بھی بات کریں تو مکمل کیا کریں صرف اپنے مطلب کی بات کاٹ کر لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔

اللہ عزوجل نے ہمیں اشرف المخلوقات میں سے پیدا کیا اگر وہ چاہتا تو ہمیں جانوروں میں سے بھی پیدا کر سکتا تھا اس وجہ سے اللہ کا شکر ادا کریں اللہ سبحان وتعالی نے ہمیں صحت جیسی نعمت دی، ہمیں دماغ دیا سوچنے کیلئے اس وجہ سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کفر نہ کریں اپنا خون بہا کر ۔

اللہ ہم سب کو حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان صبر کرنے والوں میں سے کردے جنہیں اللہ نے قرآن میں بشارت دی ہے آمین ۔

القرآن۔ سورۃ البقرۃ ۔ آیت 155-156

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے

جنہیں ، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور رخصتی کے وقت عمر کی تحقیق : ⏬

محترم قارئینِ کرام : منکرین حدیث نے اس بات کو بہت اچھالا ہے کہ حدیث شریف میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  کی شادی کے وقت 9 سال عمر بتائی گئی ہے جو عقل و نقل کی رو سے غلط ہے ۔ اس سے غیر مسلموں بلکہ پڑھے لکھے مسلمانوں کو بھی انکار حدیث کا بہانہ مل گیا ہے ۔ فقیر کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک شادی کے وقت کم سے کم 17 یا 19 سال تھی ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  کی بڑی بہن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا  طویل العمر صحابیات میں سے ہیں ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ  کی والدہ محترمہ ہیں ۔ بڑی خدا رسیدہ عبادت گذار اور بہادر خاتون ان کی عمر تمام مورخین نے سو سال لکھی ہے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  ان سے دس سال چھوٹی ہیں ۔ سیدہ اسماء حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے پانچ یا دس دن بعد فوت ہوئیں ۔ سن وفات 73ھ ہے ۔ اس حساب سے سیدہ اسماء کی عمر ہجرت کے وقت 27 سال ہوئی اور سیدہ عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  ان سے دس سال چھوٹی ہیں تو آپ کی عمر ہجرت کے وقت 17 سال ہوئی ۔ اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  کی رخصتی 2ھ کو مانی جائے تو رخصتی کے وقت آپ کی عمر مبارک 19 سال ہوئی۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں ۔

اسلمت اسماء قديما وهم بمکة فی اول الاسلام... وهی آخر المهاجرين والمهاجرات موتا. وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين.. بلغت من العمر ماته سنة ۔
ترجمہ : اسماء مکہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مہاجرین مردوں عورتوں میں سب سے آخر فوت ہونے والی ہیں۔ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے دس سال بڑی تھیں ۔ (ابن کثير، البدايه والنهايه 8 / 346 طبع بيروت)

اسلمت قديما بعد اسلام سبعة عشر انسانا... ماتت بمکة بعد قتله بعشره ايام وقيل بعشرين يوماً وذلک فی جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين ۔
ترجمہ : مکہ معظمہ میں سترہ آدمیوں کے بعد ابتدائی دور میں مسلمان ہوئیں۔۔۔ اور مکہ مکرمہ میں اپنے بیٹے (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) کی شہادت کے دس یا بیس دن بعد فوت ہوئیں اور یہ واقع ماہ جمادی الاولیٰ سن 73ھ کا ہے ۔ (علامه ابن حجر عسقلانی، تهذيب التهذيب 12 ص 426 طبع لاهور، الامام ابوجعفر محمد بن حرير طبری، تاريخ الامم والملوک ج 5 ص 31 طبع بيروت، حافظ ابونعيم احمد بن عبدالله الاصبهانی م 430ه، حلية الولياء وطبقات الاصفياء 2 ص 56 طبع بيروت)

اسلمت قديما بمکة وبايعت رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم.. ماتت اسماء بنت ابی بکرالصديق بعد قتل ابنها عبدالله بن الزبير وکان قتله يوم الثلثاء لسبع عشرة ليلة خلت من جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين ۔
ترجمہ : سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  مکہ معظمہ میں قدیم الاسلام ہیں ۔ آپ نے رسول اللہ A کی بیعت کی ۔ اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے چند دن بعد فوت ہوئیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ  کی شہادت بروز منگل 12 جمادی الاولیٰ 73ھ کو ہوئی ہے ۔ (محمد ابن سود الکاتب الواقدی 168ه م 230ه الطبقات الکبریٰ ج 8 / 255 طبع بيروت)

کانت اسن من عائشة وهی اختها من ابيها.. ولدت قبل التاريخ لسبع وعشرين سنة ۔
ترجمہ : سیدہ اسمائ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے زیادہ عمر کی تھیں۔ باپ کی طرف سے سگی بہن تھیں۔ ہجرت سے 27 سال قبل پیدا ہوئیں ۔ (امام ابن الجوزی، اسدالغايه فی معرفة الصحابة ج 5 ص 392 طبع رياض)

اسلمت قديما بمکة قال ابن اسحق بعد سبعة عشر نفسا .. بلغت اسماء مائة سنة ولدت قبل الهجرة لسبع وعشرين سنة ۔
ترجمہ : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا  مکہ مکرمہ میں ابتدائً مسلمان ہوئیں ۔ ابن اسحاق نے کہا سترہ انسانوں کے بعد سو سال عمر پائی ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں ۔ (شهاب الدين ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی، الاصابة فی تميز الصحابة 4 ص 230 م 773ه طبع بيروت، سيرة ابن هشام م 1 ص 271 طبع بيروت، علامه ابن الاثير، الکامل فی التاريخ 4، ص 358 طبع بيروت،چشتی،علامه ابوعمر يوسف ابن عبدالله بن محمد بن عبدالقرطبی 363ه، الاستيعاب فی اسماء الاصحاب علی هامش الاصابة 463ه ج 4 ص 232 طبع بيروت، حافظ شمس الدين محمد بن احمد الذهبی، تاريخ الاسلام ودفيات المشاهير والاسلام ج 5 ص 30 طبع بيروت، الروض الانف شرح سيرة ابن هشام ج 1 ص 166 طبع ملتان)

حضرت عائشہ کی عمر اور حضرت اسماء کی عمر کی نسبت
بقول عبدالرحمن ابن ابی الذناد۔ حضرت اسماء، حضرت عائشہ سے دس سال بڑی تھیں ۔ (سیار العلم النبالہ، الذہابی ، جلد 2 ، صفحہ 289 عربی ۔ موسستہ الرسالہ، بیروت ، 1992،چشتی)

بقول ابن کثیر: حضرت اسماء اپنے بہن حضرت عائشہ سے 10 سال بڑی تھیں۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، ص371، دار الفکر العربی الجزاہ، 1933)

بحوالہ ابن کثیر : حضرت اسماء نے اپنے بیٹے کو 73ھ میں مرتے ہوئے دیکھا۔ اور پھر 5 دن، یا 10 دن یا 20 دن یا' کچھ دن' یا 100 دن بعد( دنوں کی تعداد مورخ یا محدث پر منحصر ہے) ان کی وفات 100 برس کی عمر میں ہوئی ۔ (البدیاہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، ص 372، دار الفکر العربی، الجزاہ، 1933)

بحوالہ ابن حجار الاثقلینی : حضرت اسماء - 100 سو برس زندہ رہیں اور 73ھ یا 74 ھجری میں وفات پائی ۔ (تقریب التہذیب، ابن حجار الاثقلینی، ص 654، عربی۔ باب فی النساء، الحرف الیف، لکھنئو،چشتی)

تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت اسماء کی وفات - سو برس کی عمر میں 73ھ یا 74 ھ میں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ھجرت کے وقت ، 27 یا 28 برس کی تھیں ۔ جس کے حساب سے حضرت عائشہ کی عمر ہجرت کے وقت 17 یا 18 سال اور رسول اللہ کے گھر 19 یا 20 سال کی عمر سے رہنا شروع کیا ۔

حجار ، ابن کثیر ، اور عبدالرحمن کی درج روایات کے مطابق ، حساب کرنے سے ، حضرت عائشہ کی عمر ، شادی کے وقت 19 یا 20 سال بنتی ہے ۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں سن ہجری کا آغاز نہیں ہوا اور سن عیسوی یا کسی اور سن کا عرب معاشرے میں تعارف یا چلن نہ تھا۔

اہل عرب کسی مشہور تاریخی واقعہ سے سالوں کا حساب کرتے تھے مثلاً واقعہ اصحاب فیل، سے اتنا عرصہ پہلے یا بعد وغیرہ۔ باقاعدہ سن ہجری کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے اپنے دور خلافت میں کیا اور اس کا آغاز سال ہجرت سے کیا ۔

پہلی سن ہجری ، دوسری سن ہجری، تیسری سن ہجری میں کم سے کم امکانی مدت ۔ پہلی سن ہجری کا آخری دن یعنی 30 ذی الحجہ لیں اور دوسری سن ہجری کا پہلا دن یعنی یکم محرم ، دو سنوں میں وقفہ ایک دن ۔ دوسرے رخ سے دیکھیں پہلی سن ہجری کا پہلا دن یعنی یکم محرم، دوسری سن ہجری کا آخری دن یعنی 30 ذی الحجہ، کل مدت دو سال مکمل۔ دونوں صورتوں میں سن بدل گئے مگر ایک طرف ایک دن ملا اور دوسری طرف پورے دو سال ۔ جب تک تاریخ اور مہینہ متعین نہ ہو یہ فرق باقی رہ کر ابہام پیدا کرتا رہے گا ۔

آج کل پرنٹ میڈ یا کتنی ترقی کر چکا ہے مگر کتابوں میں ، اخبارات میں ، حد تو یہ کہ قرآن کریم کی طباعت و کتابت میں غلطی ہوجاتی ہے ، پہلا دور تو ہاتھوں سے کتابت کا دور تھا ، ممکن ہے ’’تسع عشر‘‘ انیس سال عمر مبارک ہو ، مگر کتابت کی غلطی سے تسع یا تسعاً رہ گیا اور عشر کا لفظ کتابت میں ساقط ہوگیا ہو ، تسع عشر انیس سال کی جگہ تسعاً یا تسع یعنی نو سال باقی رہ گیا اور آنے والوں نے نقل درنقل میں اسی کو اختیار کرلیا کہ نقل کرنے والے اعلیٰ درجہ کے ایماندار ، پرہیزگار ، علوم وفنون کے ماہر ، صحیح و سقیم میں امتیاز کرنے والے ، نہایت محتاط لوگ تھے ۔ وجہ سقوط کچھ بھی ہونا ممکن نہیں ۔ حقائق بہر حال حقائق ہوتے ہیں ، ان کے چہرے پر گردو غبار تو پڑ سکتا ہے مگر ہمیشہ کےلیے اسے مسخ نہیں کیا جا سکتا ۔ احادیث کی تمام کتب میں ایسے تسامحات کا ازالہ کیا جانا چاہیے تاکہ بد اندیش کو زبان طعن دراز کرنے کی ہمت نہ رہے ۔

ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا وصال مبارک : ⏬

محترم قارئینِ کرام : پہلے کھلے رافضی اور اب سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی یہ جھوٹ بول کر کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کروایا اس طرح یہ کذّاب لوگ جھوٹ بھی بولتے ہیں اور توہین بھی کرتے ہیں آیئے حقائق کیا ہیں پڑھتے ہیں مستند دلائل کی روشنی میں ۔ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔ (شرح الزرقا نی علی المواہب ، المقصدالثانی ، الفصل الثالث،عائشۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۳۹۲)

ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال کے وقت فرمایا : کاش کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

جب ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں ۔ باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کو بیماری کے باعث اپنے گھر میں ہوئی۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ آپ کا نماز جنازہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز وتر کے بعد پڑھایا تھا ۔ (البداية والنهاية، لابن کثير، ج : 4، جز : 7، ص : 97)

امام بخاري رحمۃ الله علیہ (المتوفى256) صحیح بخاری میں روایت لکھتے ہیں : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ، قَالَتْ: أَخْشَى أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ، فَقِيلَ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ وُجُوهِ المُسْلِمِينَ، قَالَتْ: ائْذَنُوا لَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدِينَكِ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِنِ اتَّقَيْتُ، قَالَ: «فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكِ، وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ» وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلاَفَهُ، فَقَالَتْ: دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَى عَلَيَّ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا ۔ (صحيح البخاري: 6/ 106 رقم 4753،چشتی)
ترجمہ : ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے تھوڑی دیر پہلے، جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھیں، ابن عباس نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں ۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور خود بھی عزت دار ہیں (اس لئے آپ کو اجازت دے دینی چاہئے) اس پر انہوں نے کہا کہ پھر انہیں اندر بلا لو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں خدا کے نزدیک اچھی ہوں تو سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انشاءاللہ آپ اچھی ہی رہیں گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور آپ کی برات (قرآن مجید میں) آسمان سے نازل ہوئی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے ۔ محترمہ نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی، میں تو چاہتی ہوں کہ کاش میں ایک بھولی بسری گمنام ہوتی ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا اوراس کے اوپر سے اسے چھپا کر وہاں پر ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وہاں پہچنچی تو گڈھے میں گرگئی اور ان کی وفات ہوگئیں ۔ اس جھوٹ اور بہتان کے برعکس بخاری کی اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ فطری وفات ہوئی تھی کیونکہ اگر گڑھے میں گر کر وفات ہوگئی ہوتی تو پھر وفات سے قبل لوگوں کی آمدرفت کا سلسلہ نہ ہوتا اسی طرح اجازت وغیرہ کا ذکر بھی نہ ہوتا کیونکہ یہ صورت حال اسی وقت ہوتی ہے جب کسی کی وفات اس کے گھر میں فطری طور پر ہو ۔ نیز بخاری کی یہی حدیث صحیح ابن حبان میں بھی ہے اوراس میں ابن عباس کے لئے عیادت کے الفاظ ہیں ، ملاحظہ ہو : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكَ جَاءَكِ يَعُودُكِ , قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ۔(صحيح ابن حبان: 16/ 41)

عیادت کا لفظ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طریقہ پرہوئی تھی ۔ بلکہ حاکم کی روایت میں ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی پوری صراحت ہے ملاحظہ ہوں الفاظ : جاء ابن عباس يستأذن على عائشة رضي الله عنها في مرضها ۔ (المستدرك على الصحيحين للحاكم: 4/ 9 ، صححہ الحاکم ووافقہ الذھبی)

یہ روایات اس بات کی زبردست دلیل ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طور پر ان کے گھر پر ہوئی تھی ۔ آپ کا وصال 17 رمضان المبارک سن 57 / ہجری میں ہوا ۔ ایک قول 58 / ہجری کا بھی ہے ۔ نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا نے پڑ ھائی اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ (اسد الغابہ،ج:۵/ص:۵۰۴)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

نجدی وہابیوں اور آلِ سعود کے مسلمانوں پر مظالم

نجدی وہابیوں اور آلِ سعود کے مسلمانوں پر مظالم محترم قارئین : آج کل کچھ لوگ سعودی سعودی کرتے ہیں فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے اس مختصر مضمون ...