Tuesday, 1 April 2025

نجدی وہابیوں اور آلِ سعود کے مسلمانوں پر مظالم

نجدی وہابیوں اور آلِ سعود کے مسلمانوں پر مظالم





محترم قارئین : آج کل کچھ لوگ سعودی سعودی کرتے ہیں فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے اس مختصر مضمون میں ایسے لوگوں کو آئینہ دیکھانے کےلیے یہ مختصر مضمون نجدیوں کی کتابوں سے ترتیب دیا ہے جس میں نجدیوں کے مسلمانوں پر بے انتہاء مظالم کی چند جھلکیاں پیش کی ہیں تاکہ سادہ لوح مسلمان اِن ظالم ، فتنہ پرور ، تفرقہ و فساد پھیلانے والے ان خارجی نجدیوں کی اصلیت کو پہچانیں اور اِن کے فریب سے بچیں آیئے مضمون پڑھتے ہیں : ⏬


شیخ الاسلام دیوبند علاّمہ حسین احمد مدنی دیوبندی لکھتے ہیں : محمد بن عبدالوھاب نجدی ابتدا تیرھویں صدی نجد عرب سے ظاھر ہوا اور چونکہ یہ خیالات باطلہ اور عقائد فاسدہ رکھتا تھا اس لئے اس نے اھل سنت والجماعت سے قتل و قتال کی ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا ان کے اموال کہ غنیمت کا مال اور حلال سمجھا گیا ان کے قتل کرنے کو باعث ثواب و رحمت شمار کرتا رہا اھل حرمین کو خصوصا اور اھل حجاز کو عموما اس نے تکلیف شاقہ پہنچائیں سلف صالحین اور اتباع کی شان میں نہایت گستاخی اور بے ادبی کے الفاظ استعمال کئے بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کی تکلیف شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کے اور اس کی فوج کے ہاتھوں شھید ہو گئے-الحاصل وہ ایک ظالم و باغی خونخوار فاسق شخص تھا اس وفہ سے اھل عرب کو خصوصا اس کے اتباع سے دلی بغض تھا اور ہے اور اس قدر ہے لہ اتنا قوم یہود سے ہے نہ نصاری سے نہ مجوس سے نہ ہنود سے ۔ (الشہاب الثاقب ص221 دارالکتاب غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور،چشتی)


شیخ الاسلام دیوبند علاّمہ حسین احمد مدنی دیوبندی لکھے ہیں : محمدبن عبد الوہاب نجدی کا عقیدہ تھا جملہ اہلِ عالم و مسلمانانِ دیار کافر ہیں انہیں قتل کرنا اور اُن کے مال لوٹنا حلال بلکہ واجب ہیں ۔ (الشہاب الثاقب صفحہ نمبر 222 شیخ الاسلام دیوبند علاّمہ حسین احمد مدنی دیوبندی)


ابن سعود نے وہابی افکار و نظریات کی توسیع میں سب سے پہلا معرکہ سعودی عرب کے موجودہ دار السلطنت ریاض کے والی امیر دہم بن دواس کے خلاف قائم کیا جو کہ سعودی وہابی اشتراک کے سخت خلاف تھا ، مسلسل تیس سال تک جنگی کشمکش جاری رہی حتیٰ کہ 1773ء میں عبد العزیز بن محمد بن سعود نے ریاض کو فتح کر لیا ۔ اس تیس سالہ جنگ میں 1700 نام نہاد موحدین مارے گئے اور 2300 مظلوم مسلمان تہہ تیغ ہوئے ۔ ( سید سردار محمد حسنی سوانح حیات سلطان عبد العزیز آل سعود صفحہ نمبر 42 ، 43)


شاہ سعود کے ہاتھوں اسلامی وراثتوں کی تباہی اور مسلمانوں کا قتل عام


جب اہل حساء پر شاہ سعود کی فوج کے مظالم کی انتہاء ہو گئی تو اہل حساء کے دلوں میں ان کا زبر دست رعب بیٹھ گیا اور وہ انتہائی خوف زدہ ہو گئے اور شاہ سعود نے مقام طف میں احساء کے پانی کے ذخیرہ پر قبضہ کر لیا اور کافی طویل مدت تک اہل حساء پر پانی بند رکھا یہاں تک کہ اہل حساء کے سردار نے مجبور ہو با دل ناخواستہ اہل حسا کی جانب سے سعود کے ہاتھوں پر بیعت کی پیشکش کی تو سعود شہر سے باہر ایک چشمہ پر جا کر بیٹھ گیا اور لوگوں نے وہاں جا کر اس کے ہاتھوں پر بیعت کی ۔ اس کے بعد انہوں نے احساء کا رخ کیا اور وہاں مزارات پر جتنے بھی گنبد بنے ہوئے تھے ان سب کو منہدم کر دیا اور ان کے تمام آثار و باقیات کو مٹا دیا ۔ (عثمان بن بشیر نجدی متوفی 1288 ھجری عنوان المجد فی تاریخ نجد مطبوعہ ریاض جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 98،چشتی)


 شاہ سعود نے نواسہ رسول حضرت امام حسن ، حضرت طلحہ اور دیگر صحابہ کرام و اہلبیت رضی اللہ عنہم کے مزارات اور آثار و باقیات کو بھی مٹایا اور بے شمار مسلمانوں کا بے دریغ خون ناحق بھی بہایا :


عثمان بن بشیر نجدی لکھتا ہے : اس کے بعد سعود نے جامعہ زبیر پر حملہ کیا اور جامع مسجد کے قرب و جوار میں اور شہر کے باہر مزارات پر جس قدر گنبد اور آثار موجود تھے ان سب کو توڑ دیا یہاں تک کہ حضرت امام حسن اور حضرت طلحہ (رضی اللہ عنہما) کے مزارات پر بنے گنبد کو بھی منہدم کر دیا اور ان کی قبروں کا نام و نشان تک مٹا دیا ۔ سقوط درعیہ کے بعد حضرت امام حسن اور حضرت طلحہ (رضی اللہ عنہما) کے مزارات پر دوبارہ گنبد بنا دئے گئے تھے ۔ لہٰذا سعود نے نجدی فوج کو دوبارہ بہیمہ کے قصر پر دھاوا بول دینے کا حکم دیا اور انہوں نے دوبارہ تمام قبروں کو زمین بوس کر دیا اور اس کے حامیوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ۔ (عثمان بن بشیر نجدی متوفی 1288 ھجری عنوان المجد فی تاریخ نجد مطبوعہ ریاض ج1، ص 132)


سرزمین کربلا پر وہابی نجدی افواج کے انسانیت سوز مظالم : ⏬


مسعود عالم ندوی لکھتا ہے : اور اس سال 1214 ھ میں سعود نے نجد، حجاز اور تہامہ سے ایک لشکر جرار لیکر سرزمین کربلا کا رخ کیا اور بلد الحسین کے باشندوں پر پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ یہ واقعہ ذی قعدہ کا ہے۔ مسلمانوں (وہابی نجدی فوج) نے اس شہر پر دھاوا بول دیا۔ فوجی اس کی دیواروں پر چڑھ گئے اور جبراً اس میں داخل ہو گئے اور کثرت کے ساتھ وہاں کے باشندوں کو گھروں اور بازاروں میں تہہ تیغ کر دیا اور اس قبہ کو منہدم کر دیا جو ان کے اعتقاد کے مطابق حسین رضی اللہ عنہ کی قبر پر بنایا گیا تھا۔ قبہ اور اس کے آس پاس موجود چڑھاوے کی تمام چیزوں کو ضبط کر لیا۔ قبہ زمرد، یاقوت اور جواہر سے آراستہ تھا۔ اور اس کے علاوہ شہر کے اندر جو بھی مال و متاع تھا سب کو اپنے قبضے میں لے لیا اور وہ شہر میں ایک پہر سے زیادہ نہیں ٹھہرے بلکہ ظہر کے وقت تمام مال و اسباب لیکر وہاں سے نکل آئے، اس حملےمیں اس شہر کے تقریباً دو ہزار آدمی قتل کئے گئے ۔ ( مسعود عالم ندوی محمد بن عبد الوہاب صفحہ نمبر 77،چشتی)


عثمان بن بشیر نجدی لکھتا ہے : 1216ھ میں سعود اپنی طاقتور فوج اور گھڑ سوار لشکر جرار اور تمام نجدی غارت گروں کو لیکر بہ قوت تمام سرزمین کربلا پر حملہ آور ہوا اور ذی قعدہ میں نجدی سورماؤں نے بلد حسین کا محاصرہ کر لیا اور شہر کی تمام گلیاں اور بازار اہلیان شہر کی لاشوں سے بھرے پڑے تھے ، قتل عام سے فارغ ہو کر انہوں نے امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی قبر مبارک کے قبہ کو منہدم کر دیا ۔ روضہ کے اوپر زمرد ، ہیرے اور یاقوت کے جو نقش و نگار بنے ہوئے تھے ، وہ سب لوٹ لیئے ۔ اس کے علاوہ شہر کے اندر لوگوں کے گھروں میں جو مال و متاع ، اسلحہ ، کپڑے حتیٰ کہ چارپائیوں سے بستر تک لوٹ لیئے ۔ اور یہ سب مال و متاع لوٹ کر تقریباً دو ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد وہ نجد واپس لوٹ گئے ۔ (عثمان بن بشیر نجدی متوفی 1288 ھجری عنوان المجد فی تاریخ نجد مطبوعہ، ریاض ج1، ص 121-122)


طائف میں شاہ سعود کی قتل و غارت گری : ⏬


عثمان بن بشیر نجدی لکھتا ہے : سعود نے اپنے ایک کمانڈر عثمان کو سرزمین طائف کو لوٹنے پر مامور کیا ۔ طائف کا امیر غالب شریف قلعہ بند ہو گیا ۔ نجدیوں نے اس پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ۔ یہاں تک کہ وہ جان بچا کر مکہ کی طرف نکل بھاگا ۔ عثمان نے طائف کی گلیوں اور بازاروں کو مسلمانوں کی لاشوں سے بھر دیا اور دو سو سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا اور طائف کے گھروں سے مال و متاع ، سونا چاندی ، اسلحہ اور تمام قیمتی اشیاء جن کا شمار حد بیان سے باہر ہے ، لوٹ کر نجدیوں میں تقسیم کیا اور اس کا پانچواں حصہ عبد العزیز کے پاس بھیجا جس کے صلہ میں اس کو طائف اور حجاز کا امیر مقرر کر دیا گیا ۔ (عثمان بن بشیر نجدی متوفی 1288 ھجری عنوان المجد فی تاریخ نجد مطبوعہ، ریاض ج1، ص 123)


مکہ اور طائف کی فتح کے بعد سعود کے مزید مظالم : ⏬


عثمان بن بشیر نجدی لکھتا ہے : ثم ان سعوداً و المسلمین رحلو من العقیق و نزلوا المفاصل فاحرموا منھا بعمرۃ و دخل سعود مکۃ و استولی علیھا و اعطیٰ اھلھا الامان و بذل فیھا من الصدقات و العطاء الاھلھا شیئا کثیراً فلما فرغ سعود و المسلمون من الطواف و السعی فوق اھل النواحی یھدمون القباب التی بنیت علی القبور و المشاھد الشرکیۃ ۔

ترجمہ : پھر سعود اپنے ساتھیوں کو لیکر مقام عقیق سے روانہ ہوا اور مفاصل پہنچ کر عمرہ کے لئے احرام باندھا ۔ مکہ پہنچ کر اہل مکہ کو امان دی اور زر کثیر خرچ کیا ۔ عمرہ سے فارغ ہو کر سعود اور اس کے تمام نجدی ساتھیوں نے مکہ کے تمام مزارات کے گنبد گرا دیئےاور متبرک مقامات کی تمام علامات کو مٹا دیا ۔ (عثمان بن بشیر نجدی متوفی 1288 ھجری عنوان المجد فی تاریخ نجد مطبوعہ ریاض جلد 1 صفحہ 123،چشتی)


شدت پسند وہابی تحریک حجاز سے بر صغیر میں : ⬇


اسلام کو نقصان پہنچانے اور امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے کےلیے انگریزوں  اور یہودیوں نے ہر حربے آزمائے، سیاسی، معاشی ، فکری، نظریاتی، اعتقادی،  تعلیمی، تمدنی، نسلی… اور داخلی و خارجی بھی۔ داخلی حملے یعنی مسلمانوں کے  ذریعے سازش رچنا یہ زیادہ خطرناک طریقہ ہے۔ جس کی بہت سی مثالیں پوری دنیا  میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔


تحریک وہابیت : تاریخ پر نظر رکھنے والے  افراد یہ جانتے ہیں کہ ماضی میں ایک صدی پیش تر مسلمانوں کی سب سے بڑی  مملکت سلطنت عثمانیہ تھی جس کی سرحدیں نیل کے ساحل سے کاشغر تک پھیلی ہوئی  تھیں۔ اور عثمانی سلاطین سنی صحیح العقیدہ مسلمان تھے۔ رحمت عالم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم سے سچی محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ حجاز مقدس حرمین میں  انھیں کی خدمت تھی، تمام اسلامی یادگاریں اور نبی کونین صلی اللہ تعالیٰ  علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والے آثار نہایت احترام سے محفوظ کر دیا تھا۔ ان  کی دین داری مثالی تھی جو برطانیہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ انھیں ایسے  شخص کی تلاش تھی جو بہ ظاہر مسلمان ہو اور برطانوی کاز کے لیے کام کرے۔ اس  سلسلے میں حکومت برطانیہ نے اپنے جاسوس پورے خطۂ عرب میں پھیلا دیے۔  انھیں میں ایک جاسوس مسٹر ہمفرے تھا جس نے پوری تن دہی سے کام کیا اور ایسے  شخص کو تیار کر لیا جو مسلمانوں میں ایک نئے فرقے ’’وہابی‘‘کی بنیاد کا  سبب بنا۔ اس کا نام محمد ابن عبدالوہاب (ولادت ۱۷۰۳ء) تھا۔ اس نے نبی کونین  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم و ادب کو ہی شرک قرار دیا۔ اس کے  نزدیک پوری دنیا کے مسلمان مشرک تھے۔ ’’توحید‘‘ کے قرآنی احکام سے جدا  مفہوم تراشے۔ دوسری طرف نسلی منافرت کے لیے لارنس آف عربیہ نے کام کیا اور  ترک عرب قضیہ کھڑا کر کے سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کروا ڈالے۔ ادھر ابن  عبدالوہاب نے برطانوی تعاون سے وہابی تحریک کو ’’توحید‘‘ کے ٹائٹل سے  متعارف کروایا ۔


وہابیوں کے نزدیک سارے مسلمان مشرک ہیں : ⏬


ان کی تحریک کا ایک  ٹائٹل تھا شرک، وہ اپنے علاوہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو مشرک سمجھتے تھے۔  حتیٰ کہ ان کے نزدیک حرمین کے مسلمان بھی مشرک تھے ، سعودی نجدی مفتی  عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں : اہل حرمین اپنے سابقہ موقف مثلاً  گنبدوں کی تعظیم، قبروں پر تعمیر، قبروں کے پاس شرک کا ارتکاب اور اہل قبر  سے فریاد طلبی پر جمے رہے۔(محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت، ص۴۹)


حرمین شریفین اور یمن میں شرک و بدعت… کا رواج جڑ پکڑ گیا تھا۔ (محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت ص۲۷)


وہابی عقیدے میں صحابی رسول حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کا آستانہ بھی شرک کا مرکز تھا، یہی نجدی صاحب اس بابت لکھتے ہیں:


اس قبہ نے لوگوں کو فتنہ میں ڈال دیا ہے، عقیدے خراب کر دیے ہیں اور اس سے  شرک کو رواج ملا، اس لیے اسے ڈھانا بہت ضروری ہے۔ (محمد بن عبدالوہاب:  دعوت و سیرت ص۲۵۔۲۶)


تشدد کا آغاز : ⏬


سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے  کہ وہابیت کا مفہوم کیا ہے، ابوالمکرم عبدالجلیل وہابی لکھتے ہیں: ’’وہابیت  کا مطلب بغاوت سمجھا جاتا تھا‘‘ (ابن عبدالوہاب کی دعوت اور علماے اہل  حدیث کی مساعی ص۳۲) ظاہر سی بات ہے جو تحریک بغاوت سے فیض یاب ہو گی وہ  ’’امن‘‘ کے بجائے ’’تشدد‘‘ کا ہی راستہ اختیار کرے گی، اور اس کے بانی ابن  عبدالوہاب نے ایسا کیا بھی۔ ایک مثال دیکھیں، وہابی مفتی عبدالعزیز بن باز  ’’محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت‘‘ میںلکھتے ہیں:تن من دھن کی بازی لگا  دی(محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت ص۳۰)… دعوت جاری رکھی اور پھر جہاد شروع  کیا (محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت ص۳۷)… ۱۱۵۸ھ میں زبان و قلم اور دلیل  و برہان کے ساتھ ہی جہاد بالسیف کا آغاز ہو گیا، اور پھر جہاد بالسیف سے  دعوت کا کام بدستور جاری رہا۔(محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت ص۴۳)…  تقریباً پچاس سال تک جہاد (محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت ص۴۶) (یعنی پچاس  سال تک مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیلتے رہے۔)


قارئین غور کریں!  حجاز مقدس میں یہ جہاد کن سے ہو رہا تھا، مسلمانوں سے، تلواریں کن پر برس  رہی تھیںمسلمانوں پر، کیا مسلمانوں کو قتل کرنا جہاد کہلائے گا؟ معلوم ہوا  کہ وہابی تحریک کا آغاز ہی تشدد کے ساتھ ہوا۔ اور یہی فکر ان کے ماننے  والوں میں آگے بڑھی۔ وہابیت کی اشاعت کے لیے جو تشدد کا راستہ اختیار کیا  گیا اس کا اعتراف بھی مذکورہ کتاب میں موجود ہے: ’’اس عقیدے (وہابی) کو  منوانے کے لیے جہاد کیا۔‘‘ (ص۵۳) وہابی تحریک کے بانی کے بارے میں دیوبندی  مکتب فکر کے مولوی حسین احمد مدنی لکھتے ہیں:’’وہ ایک ظالم و باغی خوں خوار  فاسق شخص تھا، (الشہاب الثاقب،ص۵۴،چشتی) … اس نے اہل سنت و جماعت سے قتل و قتال  کیا ۔


ہند میں وہابیت : وہابی۱۲۱۸ھ میں مکہ پر قابض ہوئے، ۱۲۲۰ھ میں  مدینہ منورہ پر آل سعود کی حکومت قایم ہوئی(محمد بن عبدالوہاب: دعوت و  سیرت ص۵۰) باضابطہ سعودی حکومت کے قیام سے متعلق ان کی تحریر یہ ہے:  ’’حرمین شریفین عرصۂ دراز تک سعودی حکومت سے الگ رہے پھر ۱۳۴۳ھ میں ان کی  بازیابی عمل میں آئی۔‘‘ (محمد بن عبدالوہاب: دعوت و سیرت ص۵۷)


ادھر  ہندوستان میں ۱۲۲۱ھ میں ہی وہابی رسالہ ’’ردالاشراک‘‘ پہنچایا گیا مولوی  اسمٰعیل دہلوی جو ابن عبدالوہاب سے متاثر تھا اس نے جزوی تبدیلی کے ساتھ اس  کا ترجمہ ’’تقویت الایمان‘‘ کے نام سے کیا اس طرح ہند میں اس کتاب کے  ذریعے ہندوستان میں وہابیت کی بنیاد پڑی۔ اس میں مسلمانوں کو مشرک لکھا  گیا، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں لکھا گیا: ’’میں بھی  ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں۔‘‘ (تقویت الایمان،طبع سعودی ص۱۰۳) اس  کی اول اشاعت فورٹ ولیم کالج پریس کلکتہ سے انگریزوں نے کی اور مفت تقسیم  ہوئی۔ وہابی عقائد کی اشاعت طاقت و قوت کے زور پر بھی کی گئی ۔


ہند  میں وہابی تشدد : حجاز میں وہابی ظلم و ستم اور جور و تشدد کے سبب ہندوستان  میں ان کے مؤید اہل حدیث کے بارے میں مسلمانوں کا ذہن متنفر تھا، اعتراف  ملاحظہ ہو’’ ابن عبدالوہاب کی دعوت اور علماے اہل حدیث کی مساعی‘‘ کا مصنف  اس میں لکھتا ہے: ’’جماعت اہل حدیث کے بارے میں ہندوستان کی فضا انتہائی  نازک اور مکدر تھی۔‘‘ (علماے اہل حدیث کی مساعی ص۵۰،چشتی) ازیں قبل مولوی اسمٰعیل دہلوی اور ان کے احباب  نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کیا اور بہ زور قوت سرحدی پٹھانوں کو انگریز  کا وفادار بنانے چلے اور سرحد میں ہی ذلت و رسوائی کے ساتھ مسلمانوں کے  ہاتھوں زندگی سے محروم ہوئے ۔


اسی فکر کے علما کو انگریز نے وظائف  دیے، ان کے اداروں کو گرانٹ دی اور دوسری طرف صدیوں سے اسلاف کے طریقے پر  قایم اہل سنت کے ان سیکڑوں مدارس جن کو مغل حکومت کی سرپرستی حاصل تھی  انھیں ختم کر دیا۔ اسماعیل دہلوی نے دہلی میں تشدد کے ذریعے انارکی  پھیلائی، لال قلعے میں مغل سلطنت دم ٹوڑ رہی تھی، ایسے حالات کا اس نے پورا  پورا فائدہ انگریز کو پہنچایا، ہر دور میں وہابیت اپنے متشدد چہرے کے ساتھ  سرگرم نظر آتی ہے، ان کی فکری بنیاد چوں کہ شدت پسندی پر رکھی گئی تھی،  اس لیے طاقت کا غلط استعمال وہابیت کی فرت ثانیہ بن چکا ہے۔ جس کا مظاہرہ  ہر جگہ نظر آتا ہے ۔


عراق و افغانستان کی تاراجی : عراق پر امریکی  حملہ کے پس پشت سعودی ہاتھ کار فرما ہے، جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا، تو  اس مسئلے کو عرب لیگ یا عربوں کے نمائندہ اجلاس میں حل کیا جا سکتا تھا،  سعودی نے امریکہ کو عراق پر حملے کی دعوت دی، اپنی زمین، اپنی دولت امریکی  فوج کو دی، انھیں اپنا ہوائی اڈہ دیا، ان کی مستقل خدمت کی اور کر رہے ہیں،  اس طرح عراق تباہ ہوا… افغانستان میں طالبانی انقلاب وہابی فکر کے مدارس  کے تربیت یافتہ طلبا کے نتیجے میں آیا، اسامہ بن لادن جو امریکہ کا منظور  نظر تھاوہ ابن عبدالوہاب کی فکر سے فیض یاب تھا، لیکن امریکہ سے اس کے  اختلاف کے سبب سعودی عرب سے کوچ کر جانا پڑا، انھیں کی امریکہ مخالف پالیسی  نے افغانستان کو تباہی سے دوچار کیا، یہ تو جا چھپے لیکن عوام مسلسل ماری  گئی اور انسانیت کا یہ قتل اب بھی جاری ہے ۔


اہل حدیث اور وہابی ایک  ہی ہیں : وہابی کاز کے فروغ لیے ہندوستان میں ان کے فکری حامی اہل حدیث کے  ٹائٹل کے ساتھ سرگرم ہیں۔اب اگر اہل حدیث خود کو وہابیت سے الگ بتاتے ہیں  تو ان میں فکری اشتراک کی دلیل بھی انھیں کے الفاظ میں دیکھیں : اہل حدیث  عقیدہ و منہج کے اعتبار سے شیخ محمد بن عبدالوہاب کے حامی اور ان کی دعوت  کے مؤید تھے، غیر مقلد اہلحدیث ابن وہاب نجدی خارجی کے حامی اور اسی کے  عقائد کے پیروکار ہیں اور ابن وہاب نجدی ان کا امام ہے ۔ (امام محمد بن  عبالوہاب اور علمائے اہلحدیث  صفحات 10 ، 11،چشتی)


خود غیر مقلد اہلحدیث  حضرات  کا اقرار اور ابن وہاب کو اپنا امام لکھا جو کہتے ہیں ہمارے امام  صرف محمد الرّسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم ہیں یہ سادہ لوح مسلمانوں کو  دھوکہ دیتے ہیں حقیقت یہی ہے کہ ان کا امام ابن وہاب نجدی خارجی ہے اور یہ  اسی کے عقائد و نظریات کے پیروکار ہیں اب بھی کسی کو شک ہے اور نہ مانوں کی  رٹ ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے ۔


عقیدہ و منہج میں ربط اور ہم  آہنگی کا لازمی نتیجہ تھا کہ جماعت اہل حدیث نے ہر دور میں شیخ (وہابی) کی  اصلاحی دعوت اور شاہ عبدالعزیز کی موحد حکومت کی تائید اور ان کے متعلق ہر  غلط افواہ کی پر زور تردید کی۔ (ابن عبدالوہاب کی دعوت اور علماے اہل حدیث  کی مساعی ص ۱۵) ۔ ظاہر ہے کہ جب یہ جماعت وہابیت کا بدلا ہوا چہرہ ہے تو  اس کی فکر بھی ان میں نظر آئے گی ، نتیجہ یہ ہوا کہ جو تشدد حجاز سے چلا  تھا وہ ان میںبھی منتقل ہوا، ان کے نزدیک بھی مسلمان مشرک ٹھہرے، ان کے  نزدیک بھی مزارات اولیا شرک کے اڈے قرار پائے ، بانیِ وہابیت نے بہ زور طاقت  مزارات صحابہ کو شہید کیا ، ادھر بر صغیر میں وہابی فکر کی طالبانی تحریک  نے پاکستان کے سرحدی علاقے میں اولیا کے مزارات پر تشدد کے ساتھ لوگوں کو  روکنا شروع کیا، ان کو طاقت ملی تو کئی مزارات پر تالے بھی لگا دیے ۔ ابھی  گزشتہ ماہ ممبئی میں اہل حدیث مولوی معراج ربانی نے خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی  توہین کی ، ماضی میں اجمیر شریف اور مزار داتا صاحب میں بم بلاسٹ ہوا ظاہر ہے جو مزارات صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم کو شرک کا اڈہ سمجھ کے توڑتے تھے وہ بھلا درِ خواجہ کو کب چھوڑتے ؟ مزارات  اولیا پر اس طرح بموں کے ذریعے حملہ کیااسی گروہ کا ہو سکتا ہے ؟ جو تشدد پر  یقین رکھتا ہے ۔ یہ سوچنے اور غور کرنے والی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ فتنہ خارجیت وہابیت سے بچائے آمین ۔


آلِ سعود سے متعلق وہ حقائق ، جو آپ کو جاننے چاہیں : ⬇


سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن سعود کی بائیس بیویاں تھیں۔ ان میں سے ستّرہ بیویوں کے ہاں پینتالیس بیٹے پیدا ہوئے۔ اب السعود کے شاہی خاندان کے شہزادوں کی تعداد سات ہزار سے بھی زائد ہو چکی ہے۔


عبدالعزیز بن سعود نے 1932ء میں آج کے سعودی عرب کی بنیاد رکھتے ہوئے خود کو بادشاہ قرار دیا۔


آل سعود ہی نے تیل کی دولت سے مالا مال اس خلیجی ملک کو سعودی عرب کا نام دیا۔ سعودی عرب کے حکمران خاندان کے شہزادوں اور شہزادیوں کے پاس دولت کی کمی نہیں ہے۔ السعود خاندان کا تعلق اٹھارویں صدی میں جزیرہ نما عرب کے ایک مقامی شیخ سعود بن محمد سے ملتا ہے۔ سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا نام دو صدیاں پہلے پیدا ہونے والے مقامی حکمران پر رکھا گیا ہے۔


شیخ سعود کے بیٹے محمد نے 1744ء میں شعلہ بیان مذہبی عالم محمد بن عبدالوہاب سے اتحاد کر لیا۔ محمد بن عبدالوہاب ہی نے ’خالص اسلام کی واپسی‘ کا نعرہ لگایا اور یہاں سے وہابی نظریات کے پرچار کا آغاز ہوا۔


بعدازاں سعود بن محمد کی نسل کو 1818ء میں عثمانی افواج (ترکی) کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ لیکن اس کے چھ برس بعد ہی سعود خاندان نے صحرائی طاقت کے مرکز ریاض پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ 1902ء میں عبدالعزیز بن سعود نے ریاض سے اپنے حریف راشدی قبیلے کو بے دخل کرتے ہوئے اپنی طاقت کو مزید مستحکم بنا لیا۔ اس کے بعد عبدالعزیز نے مختلف قبیلوں سے لڑائی جاری رکھی اور انہیں شکست دیتے ہوئے بہت سے علاقوں کو متحد کر دیا۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور 1913ء میں خلیجی ساحل کا کنڑول حاصل کر لیا۔


دوسری جانب 1918ء میں سلطنت عثمانیہ کو سعودی عرب میں شکست ہوئی اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف لڑنے والے حسین بن علی آخری شریفِ مکہ قرار پائے۔ شریفِ مکہ کا منصب فاطمینِ مصر کے دور میں 967ء میں قائم کیا گیا تھا۔ شریف مکہ کا منصب رکھنے والی شخصیت کی بنیادی ذمہ داری مکہ اور مدینہ میں عازمین حج و عمرہ کا انتظام و انصرام ہوتا تھا۔


حسین بن علی کے شریف مکہ بننے کے بعد 1924ء میں عبدالعزیز بن سعود نے اپنے حملے تیز کر دیے اور آخر کار 1925ء حسین بن علی کو بھی اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ عبدالعزیز بن سعود نے 1932ء میں آج کے سعودی عرب کی بنیاد رکھتے ہوئے خود کو بادشاہ قرار دیا۔


اس کے بعد عبدالعزیز بن سعود کی طاقت میں اس طرح بھی اضافہ ہوا کہ انہوں نے بہت سے قبائلی سرداروں کی بیٹیوں سے شادیاں کیں۔ آج اس شاہی خاندان کے مجموعی افراد کی تعداد تقریباﹰ پچیس ہزار ہے جبکہ اثرو رسوخ رکھنے والے شہزادوں کی تعداد تقریبا دو سو بنتی ہے۔


اس قدامت پسند وہابی ریاست میں تیل کی پیداوار کا آغاز 1938ء میں ہوا، جس کے بعد سعودی عرب کا شمار دنیا کے امیر ترین ملکوں میں ہونے لگا۔


عبدالعزیز بن سعود کے بیٹوں کی مجموعی تعداد پینتالیس بنتی ہے۔ نو نومبر 1953ء میں سعودی ریاست کے بانی عبدالعزیز کا انتقال ہوا اور اس کے بعد سعود کو ان کا جانشیں مقرر کیا گیا۔


دو نومبر 1964ء کو شاہ سعود کرپشن اور نااہلی کے الزامات کے تحت معزول کر دیا گیا اور ان کے سوتیلے بھائی شاہ فیصل نے اقتدار سنبھالا۔ شاہ سعود کی وفات 1969ء کو جلاوطنی میں ہوئی۔


جدید سعودی عرب کے معمار کا خطاب حاصل کرنے والے شاہ فیصل کو مارچ 1975ء میں ان کے ایک بھتیجے نے قتل کردیا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ قاتل کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ اسلام آباد میں واقع فیصل مسجد اور پنجاب کے شہر فیصل آباد کا نام سعودی شاہ فیصل کے نام پر ہی رکھا گیا۔


اس کے بعد سعودی عرب کی حکمرانی شاہ فیصل کے سوتیلے بھائی شاہ خالد کے حصے میں آئی اور وہ 1982ء میں اپنی وفات تک حکمران رہے۔ اس کے بعد شاہ فہد حکمران بنے اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی عمر سے دو سال چھوٹے شاہ عبداللہ کو ولی عہد مقرر کر دیا تھا۔


1995ء میں شاہ فہد پر فالج کا حملہ ہوا، جس کے بعد عملی طور پر زیادہ تر فرائض شاہ عبداللہ ہی سرانجام دیتے رہے۔ 2005ء میں شاہ فہد انتقال کر گئے اور ان کی جگہ شاہ عبداللہ نے لی۔ رواں برس تیئس جنوری کو انتقال کرنے والے شاہ عبداللہ کی جگہ اُن کے سوتیلے بھائی سلمان بن عبدالعزیز نے لی ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 30 March 2025

بحیثیت مسلمان ہم عید کیسے منائیں

بحیثیت مسلمان ہم عید کیسے منائیں

محترم قارئینِ کرام : عیدالفطر مسلمانون کےلیے اللہ کریم کی طرف سے ایک بہترین تحفہ ہے ۔ اللہ عزوجل کا کرم بالائے کرم ہے کہ اس نے ہمیں رمضانُ المبارک کے بعد عیدُ الفطر کی نعمت عطا فرمائی ۔ احادیثِ کریمہ میں عیدِ سعید کے کئی فضائل بیان کیے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتا ہے جو زمین پر اتر کر راستوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر ندا دیتے ہیں جسے انسان اور جنّ کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے ، وہ کہتے ہیں : اے اُمّتِ محمدیہ ! اپنے رب کریم کی طرف آؤ ، وہ تمہیں بہت دے گا اور تمہارے بڑے گناہ معاف فرمائے گا ۔ جب لوگ عیدگاہ میں آجاتے ہیں تو اللہ پاک فرشتوں سے فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! مزدور کا بدلہ کیا ہے جب وہ اپنا کام مکمل کر لے ؟ ملائکہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک ! اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پوری اجرت دی جائے۔ اللہ پاک فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنی رضا اور مغفرت کوان کے رمضان میں روزے رکھنے اور قیام کرنے کا ثواب بنادیا ۔ (اخبار مکہ للفاکہی جلد 2 صفحہ 316 حدیث نمبر 1575)


ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کے ملنے پر اپنے ربِّ کریم کا خوب شکر ادا کریں ۔ شکر ادا کرنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں ، مثلاً : سجدۂ شکر ادا کریں ، (سجدہ (شکر) کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اَللہُ اَکْبَرْ کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے ، پھر اَللہُ اَکْبَرْ کہتاہوا کھڑا ہو جائے ۔ (بہار شریعت جلد 1 صفحہ 731،چشتی)


اپنے اعضاء کو نیکی کے کاموں میں لگائیں اور اس دن کو غفلت میں گزارنے کے بجائے اپنے رب کی اطاعت میں گزاریں ۔ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں ۔ شکرانے کے نوافل ادا کریں ۔ زبان سے شکر ادا کریں یعنی اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کریں۔ غریبوں کی مدد کیجیے : اس موقع پر اپنی زکوٰۃ و صدقات میں غریب و نادار اور سفید پوش لوگوں کو بھی یاد رکھیں جس طرح ہو سکے ان کی مدد کریں اللہ ۔


اس دن غریب مسلمان بھائیوں کی صدقہ فطر کی صورت میں مدد کو اللہ پاک نے فرض قرار دیا ہوا ہے ۔ آج کل جس طرح مہنگائی اور بے روزگاری نے صورتحال اختیار کی ہوئی ہے ۔ اس میں تو بہت بڑی تعداد اپنے بچوں کو دو وقت کی خوراک مہیا کرنے سے بھی قاصر ہے ۔ کجا یہ کہ وہ عید پر ان بچوں کی خوشیوں کےلیے کوئی کپڑے وغیرہ خرید سکیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ اسلامی عید الفطر کے تصور کے مطابق زیادہ سے زیادہ مدد کریں ۔ ایسے لوگوں کی اور اسمیں ہم صدقہ فطر صرف گندم کے حوالے سے ادا کرنے کی بجائے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق دوسرے معیار کے مطابق زیادہ سے زیادہ ادا کریں اور جب اپنے بچوں کےلیے کپڑے خرید رہے ہوں تو کم از کم ایک غریب بچے کےلیے بھی اسی طرح کے کپڑے خرید لیں ، اسی طرع جب عید کے پکوانوں کےلیے خریداری کریں تو کم از کم ایک غریب گھر کے بھی خریداری کر کے باعزت طریقے سے ان کے گھر تک پہنچا دیں ۔ ہم سب نے رمضان میں خوب عبادات کی ہوتی ہیں اور ان روضوں اور عبادات کا اجر تو اللہ کریم ضرور ہمیں عطا فرمائیں گے لیکن اگر ہم اپنی عبادات کے ساتھ غریب بھائیوں کی مدد کا اہتمام کر لین تو یقین مانئے ہمیں کہیں زیادہ اجر مل جائے گا ۔ ہم ویسے بھی صدقات کا اہتمام تو کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اگر فطرانہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مزید صدقات بھی دے دیئے جائیں تو اس سے نہ صرف غریب مسلمان اچھی عید منا سکیں گے بلکہ ان کے دل سے نکلی دعاوں کے زیر اثر ہماری عید بھی بہترین ہو جائے گی ۔ (چشتی)


ہمیں یہ عید الفطر مناتے ہوئے اپنے غزہ فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمانوں کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے اور من حیثُ القوم طرف سے خصوصی امدادی سامان کے ساتھ ساتھ عید الفطر کے حوالے سے اپنے ان مظلوم مسلمان بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کےلیے لباس ، خوراک اور ادویات وغیرہ بھی بھجوانا چاہیے صرف دعائیں کافی نہی ہیں، دوائیں بھی بھجوانا چاہیے ۔ غزہ میں حالات بہت خراب ہیں ۔ 90 فیصد سے زیادہ شہری بغیر چھت کے نیلے آسماں تلے اپنی عید گزاریں گے ۔ ہمیں چاہیے کہ انہیں بھائیوں کی طرع بھائی کا درجہ دیتے ہوئے اپنی خوشیوں میں انہیں شریک کرین یا پھر کم از کم ہم خود بھی عید پہ ہونے والے اضافی اخراجات کرنے کی بجائے وہ تمام اخراجات مدد کی صورت میں ان مظلوموں تک پہنچا دیں اور حکومتِ وقت پر بھی اتنا پریشر ڈالیں کہ وہ خصوصی جہازوں کے ذریعے یہ امدادی سامان عید سے پہلے وہاں پہنچانے کا خصوصی بندوبست کرے ۔ اسی طرح پوری امت مسلمہ کو ہمیں یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ امت مسلمہ کا ہر ملک حکومتی سطح پر اس بات کو ممکن بنائے کہ ہر مسلم ملک سے عید الفطر کے حوالے سے خصوصی امدادی سامان غزہ کے مسلمانوں تک پہنچایا جائے ۔


مسلمان کا دل خوش کرنے کی نیّت سے اپنے رشتہ داروں اور دوست و احباب کو مبارکباد دیں ۔ خدانخواستہ  اگر کسی سے کوئی ناراضی ہے تو عید کے موقع سے فائدہ اٹھاکر ان سے بھی رابطہ کریں ، عید کی مبارک باد دیں اور اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنے کےلیے صلح کی جانب قدم بڑھائیں ۔ خوشیاں منائیے مگر ؟ عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ، اس میں خوب خوشیاں منائیں مگر ایسا لباس ہرگز نہ پہنیں اورنہ ہی اپنی بچیوں کو پہنائیں جس سے بے پردگی کا اندیشہ ہو ۔ ایسے زیورات بھی نہ پہنیں جو شریعت نے منع فرمائے ہیں جیسے بعض صورتوں میں جھانجن یعنی گھنگرو والا زیور کہ حدیث پاک کے مطابق اُس گھر میں رحمت کےفِرِشتے نہیں آتے جس میں جھانج ہو ۔ (سنن ابوداؤد جلد 4 صفحہ 125 حديث نمبر 4231،چشتی)


عید کے نا م کے سا تھ ہی چہروں پر چمک آجا تی ہے ، خوشی و انبسا ط سے اطرا ف کا ما حول خوش کن نظر آ رہا ہو تا ہے چہا ر جانب بچو ں کی پکاریں ، رنگ رنگے پیراہن ، بناؤ سنگھار ، مہندی سے سجے ہاتھ ، گھروں سے امڈتی خوشبؤیں ، روایتی و جدیدیت کی خوشبو میں رچے بسے پکوان ، میل ملاپ سلام دعا ، عید کی خوشیوں کو دوبالا کررہے ہوتے ہیں ۔ کیا امیر کیا غریب ، سب اپنی اپنی استعداد کے مطا بق عید کی خوشیاں منانے میں مگن ہیں اور کیوں نہ منائیں ؟ عید امت مسلمہ کےلیے رب کا انعام بھی تو ہے ۔ خوشی کے موقع پر خوشی منانا اور اس کا اظہار کرنا انسان کا فطری تقاضہ بھی ہے ، لیکن تھو ڑی دیر کےلیے دل کو تو ٹٹول کر دیکھ لیں ، کیا دل واقعی خوش ہے ؟ کوئی کسک تو دل میں نہیں پنپ رہی ، کوئی پھانس تو دل میں نہیں اٹکی ہوئی ، بدگمانیوں کی زہریلی سوچوں نے تو دل کو آلودہ نہیں کر رکھا ، اپنے ہی جسم کو تو زخم زخم نہیں کر رکھا ؟ اگر ایسا ہے تو عید کی خوشیاں مصنوعی ہیں، ہر وہ خوشی جس میں اپنے عزیز و اقارب ، بھا ئی ، بہن ، اپنے دوست و پڑوسی آپ کی خوشی میں شریک نہ ہوں آپ سے ناراض ہوں تو وہ خوشی نہ صرف ماند پڑجائے گی ، ادھوری رہے گی بلکہ اللہ کی بھی ناراضگی کا باعث ہوگی ۔


عید رمضان المبارک کے روزوں کا انعا م ہے اور اخلاص نیت کے ساتھ رب کے حضور کیے جانے والے نیک اعمال کی قبولیت کے یقین کا ثمر بھی لیکن جب زبانیں نشتر بن جائیں ، نفسانفسی و خود غرضی کے بادل امڈ آئیں ، اپنے ہی بھائی کا قتل عام ہوتے دیکھ کر بھی بے حسی طاری رہے ، دلوں میں بغض و عداوت ، زبانوں میں لفظوں کی کاٹ ، برا گُمان ، حسد و انتقام کی آگ ، اشتعال انگیز جذبات ، اور غیبت و بدگوئی سے زبانیں آراستہ رہیں تو پھر یہ ماہ رمضان المبارک میں کیے جانے والی تمام نیکیوں کو اس طرح ادھیڑ کر رکھ دے گی جیسے کوئی سوت کات کر خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے ۔


تو آئیے اب بھی وقت ہے پہلے دلوں کو صاف کرلیں ، محبتو ں سے مالا مال کرلیں ، ندامت کے آنسؤوں سے دلوں میں جمی بے حسی کو دھو ڈالیں ۔ مسلمان مسلمان کا آئینہ ہے ، ایک جسم کی مانند ہے ، ایک عضو کو پہنچنے والی تکلیف کا درد پورا جسم محسوس کرتا ہے ، فلسطین میں ، غزہ میں ہمارے جگر گوشے جیسے کمسن بچوں کے سا تھ ہونے والا بہیمانہ سلوک کیا ہم کو عید سعید منانے دے گا ؟ تڑپ کر بلک کر اپنی آواز کو ظلم کے خلاف بلند کرلیں ، اقتدار کے ایوانوں کی مسندوں تک اپنا احتجاج پہنچادیں ، اپنے والدین کو راضی کرلیں ، اپنے روٹھے بہن بھائی کو منالیں ، اپنی زبان کو محبتوں کی چاشنی سے میٹھا کرلیں ، خود غرضی و نفسانیت کی حدود سے بھی دور رہیں پھر مل کر گلے لگ جائیں ، ایک دوسرے کو “تقبل اللہ منا” کہہ کر عید کی مبارکباد کہیں ، اور اس وقت دل کو ٹٹولیں تو سچی خوشی کے احساس سے دل مالا مال ہوگا ۔ عید کی مسرتوں میں اپنے ان خاندانوں کو بھی یاد رکھیں جن کا آپ سے مذہب کا رشتہ ہے ، انسانیت کا رشتہ ہے ، جن کی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں کی ویرانیاں آپ کی مدد سے دور ہوجائیں گی ، جہاں ہلال عید ان کےلیے بھی خوشیوں کا پیامبر ثابت ہوگا، بغیر کسی کسک کے ، بغیر کسی پھانس کے دل کی سچی خوشی ہی قلب کو طمانیت سے معمور کرتی ہے ، رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے تو عید اس کا پھل ہے ، اس کسان کی طرح اپنے موسم بہار کو انفاق سے ، ایثار سے ، ہمدردی و غم گساری سے تعلق باللہ سے ، عشق و محبت سے سرشار مشن نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکمیل میں اپنے اعمال سے سینچیں اور میٹھے پھل کی صورت عید کی خوشیاں منائیں ۔ (چشتی)


عید غریبوں سے ہمدردی اور اپنوں سے صلہ رحمی کا دن ہے ۔ یہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی بے بسی کے خاتمے اور حصول آزادی کے اس سلسلہ کی عملی جدوجہد کے عہد کا دن ہے ۔ یہ دن دلوں سے نفرتوں کو مٹانے ، روٹھے ہوئے چہروں کو منانے ، غریبوں ، مسکینوں کے کام آنے ، بھائی چارے ، محبت اور امن کا پیغام آگے بڑھانے سے منسوب ہے ۔


دنیا بھر کی سبھی قوموں میں تہوار منانے کا رواج ہے ، جسے ہر مذہب کے لوگ اپنی روایت کے مطابق مناتے ہیں ۔ جس میں ”عیدالفطر“ ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جو امتِ مسلمہ میں خاص مقام اور اہمیت کا حامل ہے ۔ عید الفطر دراصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے ، ماہِ صیام کے روزوں کی خوشی، قیام شب ہائے رمضان المبارک کی خوشی ، نزول قرآن کی خوشی ، لیلۃ القدر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کےلیے رحمت و بخشش اور عذابِ جہنم سے آزادی کی خوشی ۔ پھر ان تمام خوشیوں کا اظہار صدقہ و خیرات جسے صدقہ فطر بھی کہا جاتا ہے ۔ جس سے عبادت کے ساتھ انفاق و خیرات کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے ۔ انہی وجوہات کی بناءپر اسے مومنوں کے لیے خوشی کا دن قرار دیا گیا ہے ۔ آقائے کل جہاں رحمت للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کےلیے دعا مانگتے ہوئے دو عیدوں کا تحفہ امتِ مسلمہ کو دیا ۔ مہینہ شوال کی پہلی تاریخ کو مسلمان عید الفطر مناتے ہیں۔ ”عید“ کے معنی خوشی اور ”فطر“ کے معنی کھولنا ہیں ۔ یہ دن ماہِ صیام کے روزوں کی تکمیل اور اس تربیتی مہینے میں عبادات کی انجام دہی کے بعد اظہارِ تشکر کے طور پر منانے کا دن ہے ۔ جسے امتِ مسلمہ کے لیے سچی خوشی کا دن قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دن دلوں سے نفرتوں کو مٹانے، روٹھے ہوئے چہروں کو منانے ، غریبوں ، مسکینوں کے کام آنے ، بھائی چارے ، محبت اور امن کا پیغام آگے بڑھانے سے منسوب ہے ۔


ہمارے اردگرد بہت سے افراد ، خاندان ایسے ہیں جن کے پاس عید کرنے تو دور دو وقت کی روٹی کے وسائل دستیاب نہیں ۔ مالی طور پر آسودہ طبقات کےلیے عید واقعی ایک خوشی کا موقع ہوتی ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ غربت کی چکی میں پسے ہوئے اور بنیادی ضرورتوں تک سے محروم مسلمانوں کےلیے عید بھی کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتی کیونکہ انہیں عید کی خوشیاں منانے کےلیے مطلوبہ وسائل میسر نہیں ہوتے جبکہ اُن کے معصوم بچے یہ تلخ حقیقت قبول کرنے کے لائق نہیں ہوتے ۔ عید کی خوشیوں میں مستحق و بے سہارا بچے آپ کے تعاون کے منتظر ہیں ۔ اور مستحق و بے سہارا بچوں کو مختلف دیہاتوں میں مفت دینی و عصری تعلیم دینے ، ان کے کھانے پینے و علاج معالجہ ، اور دینی کتب کی خریداری کے سلسلہ میں تعاون کیجیے جزاكم الله خیرا آمین ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : بڑے بیٹے محمد جواد کا اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 میزان بینک لاہور پاکستان ، موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666 ۔ موبی کیش و ایزی پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03215555970 ۔ دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی خطیب لاہور پاکستان ۔


یہ ظلم ہے کہ ہم خود تو عیش و عشرت کریں اور غریب بے بسی کی تصویر بنے رہیں ۔ اسی لیے صدقہ فطر مقرر کیا گیا ۔ لیکن ہم حسب استطاعت نہیں دیتے ۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ آخری ایام میں کم از کم فطرانہ ادا کیا جائے ۔ کیا اس مہنگائی کے طوفان میں ایک غریب ہزار پندرہ سو میں خاندان کو عید کروا سکتا ہے ؟ ہمیں دوسروں کا احساس کرنا چاہیے ۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے دِیا ہے اس حساب سے فطرانہ دیا جانا چاہیے تاکہ غربا ، مسکین ، نادار بھی شریک ہو سکیں ۔ خوشیاں منائیں نئے کپڑے نئے جوتے لیکن اس کے ساتھ ہی ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اس خوشی کے موقع پر اپنے غریب مسلمان بھائیوں اور بےسہارا بچوں کو بھی نہ بھولیں ۔ حسبِ توفیق انہیں بھی اپنی عید کی خوشیوں میں ضرور شریک کریں ۔ عید اصل میں ہے ہی دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کا نام ہے یا دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے کا نام ہے ۔ یہ عید تیرے واسطے خوشیوں کا نگر ہو ۔


اگر ہمارے پڑوس میں خاندان میں کوئی عید کی خوشیوں شامل نہیں ہو سکتا غربت کی وجہ سے تو اس کی مدد کرنے سے ہی عید کی دلی خوشیاں ملیں گئیں۔ ”عید“ غریبوں سے ہمدردی اور اپنوں سے صلہ رحمی کا دن ہے ۔ یہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی بے بسی کے خاتمے اور حصول آزادی کے اس سلسلہ کی عملی جدوجہد کے عہد کا دن ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ مہنگائی نے عوام میں سے اکثریت کی زندگی مشکل کر دی ہے ہم کو چاہیے خاص طور پر ان مسلمانوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں جن کو ایک وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی تا کہ وہ غریب مسلمان بھی مسرتوں اور خوشیوں کا تھوڑا سا حصہ حاصل کر سکیں اور ویسے بھی ایک غریب مسلمان کی خوشی کے موقع پر بے لوث مدد اور خدمت کرنے سے جو روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ لازوال ہوتی ہے ۔ اور ایسی مدد کرنے پر اللہ عزوجل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی خوش ہوتے ہیں اور اگر ہو سکے تو ابھی سے ان کی مدد کر دیں تاکہ وہ اپنے بچوں کےلیے کپڑے خرید سکے ۔ یہ ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہم پر فرض ہے ۔ اللہ نے ہم کو دیا ہے تو ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے ۔


عید کے روز دل میں کوئی رنجش نہ رکھیں ۔ جن سے ماں باپ کی کوئی نافرمانی ہوئی ہے ان سے معافی مانگ لیں ۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے پیار محبت سے پیش آئیں ۔ اپنی خوشی میں غریبوں ، یتیموں ، بے سہارا لوگوں کو بھی شامل کریں اور سب کے ساتھ اپنی خوشیاں اور مسکراہٹیں بانٹیں ۔ کیونکہ خوشی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ اس کی چاشنی میں مزید اضافہ ہی ہوتا ہے ۔ ایسی بھی کیا خوشی ! کہ جس میں اللہ عزوجل کی یاد سے غفلت برتی جائے ! جس میں فرائض و واجبات کو فراموش کر دیا جائے ۔ لہٰذا خوشیاں مناتے ہوئے فرائض و واجبات کی بجا آواری کا بھی خوب خیال رکھیں اللہ عزوجل نے چاہا تو ان کی برکت سے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی و دیدار کی عیدی مل جائے گی ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 12 March 2025

فضائل و مناقب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ

فضائل و مناقب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ

محترم قارئینِ کرام : تین (3) ہجری میں پندرہ (15) رمضان المبارک کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت ہوئی ، آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پہلی اولاد ہیں ۔ قُرب ولادت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام ایمن اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو سیدہ عالم کی دیکھ بھال کےلیے مامور کیا ۔ انہوں نے آیت الکرسی اور تینوں معوذ پڑھ کر ان کو دم کیا ، بچے کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتویں دن نومولود کے عقیقے کے موقع پردو دُنبے ذبح کیے اور اپنی پیاری بیٹی سے فرمایا کہ بچے کے سر کے بال اتروائیں اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کریں ۔ جب آپ کا سر منڈا کر بالوں کا وزن کیا گیا تو یہ وزن ایک درہم کے برابر تھا ۔ اتنی چاندی خیرات کی گئی ۔ دایہ کو دنبے کی ران اور ایک دینار دیا گیا ۔ سرمنڈانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے نومولود کے سر پر خوشبو ملی اور اسی دن آپ کا نام رکھا گیا اور ختنہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی آپ کے کان میں اذان کہی تھی ۔ (مدارج النبوۃ ، سیرت حلبیہ و دیگر کتب)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام سینہ سے سرتک نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں اور حضرت امام حسین علیہ السلام سینہ سے نیچے تک حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3779،چشتی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود مبارک میں تھے اور وہ اپنی انگلیاں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک میں ڈال رہے تھے اور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں ڈالتے اور فرماتے : اللهم انی احبه فاحبه ۔
ترجمہ : اے اللہ میں اسے محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ ۔ (صواعق محرقہ صفحہ نمبر467)

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ بیٹے سے مراد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3773)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادۂ عالیہ کے ہر فرد کو اللہ تعالی نے فضائل وکمالات کا جامع بنایا اور بے شمار خصائص وکرامات سے بہرہ مند فرمایا ۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی ذات اقدس سے خصوصی تعلق ہے،انہیں اہل بیت نبوت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور وہ صحابیت کے شرف سے بھی مشرف ہیں،اسی وابستگی وتعلق کے سبب اللہ تعالی نے انہیں حق وصداقت کا پیکر بنایا،وہ گفتار وکردار کے پاکیزہ ہیں اور ان کا ہر طریقۂ کار بے مثل وبے مثال اور امت کےلیے عمدہ نمونہ ہے،ان کی تابناک زندگی امت کے لئے مشعل راہ ہے۔

جنتی جوانوں کے سردار،امام المتقین ، سبط رسول،امام عالی مقام  سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا نام مبارک "حسن " اور کنیت شریفہ "ابو محمد" رضی اللہ تعالی عنہ ہے ۔

معجم کبیر طبرانی میں روایت ہے : عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , أَنَّهُ  سَمَّى ابْنَهُ الأَكْبَرَ حَمْزَةَ ، وَسَمَّى حُسَيْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّهِ ، فَسَمَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے شہزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کانام مبارک حمزہ اور سید نا حسین رضی اللہ عنہ کا نام  مبارک ان کے چچا حضرت جعفر کے نام پر رکھا،پھر حضو راکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ان کا نام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا ۔ (معجم کبیر طبرانی ، حد یث نمبر:2713)

حسن اور حسین رضی اللہ عنہما یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء سے ہیں اور قبل اسلام عرب نے یہ دونوں نام نہ رکھے ۔

علامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے الصواعق المحرقۃ صفحہ 115 ، میں روایت درج کی ہے : أخرج ابن سعد عن عمران بن سليمان قال : " الحسن والحسين " اسمان من أسماء أهل الجنة ، ما سمت العرب بهما في الجاهلية ۔ (الصواعق المحرقہ، ص:115- تاریخ الخلفاء،ج:1 ص:76)

جب آپ  کی ولادت ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے کان میں اذان کہی جیساکہ روایت ہے : عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ حِينَ وُلِدَا ۔ (معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر: 2515)

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ فرمایا : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا ۔
ترجمہ : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے حضرات حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فى العقيقة ، ص:392، حدیث نمبر:2843،چشتی)(سنن نسائی کتاب العقيقة ، حدیث نمبر: 4230)(سنن بیہقی، حدیث نمبر:1900)

صحیح بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ  سے بڑھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا -
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَنِى أَنَسٌ قَالَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ ۔ (صحیح بخاری شریف، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب الحسن والحسين رضى الله عنهما، حدیث نمبر:3752)

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما رشد و ہدایت کے علمبردار ہیں ، ان کا وجود باجود حقانیت کی واضح دلیل ہے ۔ نجران کے عیسائی حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے ان کا عقیدہ تھا کہ (نعوذ باللہ) حضرت عیسی علیہ السلام خدا اور خدا کے بیٹے ہیں ، انہوں نے بطور دلیل یہ بات پیش کی کہ حضرت عیسی علیہ السلام بغیر والد کے پیدا ہوئے ہیں ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت عیسی کا بغیر والد کے پیدا ہونا یہ قدرت الہی کی دلیل ہے ، اورحضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا ہے ۔ جس طرح آپ کا بغیر ماں باپ کے پیدا ہونا قدرت الہی کی دلیل ہے اسی طرح حضرت عیسی کا بغیر والد کے پیدا ہونا بھی قدرت الہی کی دلیل ہے۔آپ کے سمجھانے کے باوجود وہ بحث کرنے لگے تو آپ نے انہیں بحکم خدا مباہلہ کی دعوت دی ، ارشاد الہی ہے : فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔
ترجمہ : اے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! صحیح علم آنے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق) آپ سے بحث کریں تو آپ ان سے فرمادیجیے کہ آؤ ! ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو ، ہم اپنی خواتین کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو ، اور ہم خود بھی آتے ہیں اور تم خود بھی آؤ،پھر ہم سب گڑگڑا کر دعائیں کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں ۔ (سورۃ آل عمران:61)

مباہلہ کےلیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میدان میں اس شان سے تشریف لائے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی گود میں ہیں اور امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ آپ کی انگشت مبارک تھامے ہوئے ہیں،سیدۂ کائنات آپ کے پیچھے اور حضرت مولائے کائنات ان کے پیچھے ہیں،جب عیسائیوں کے پادری نے ان برگزیدہ حضرات کے چہروں کی نورانیت کو دیکھا تو پکار اٹھا:اے لوگو!میں ایسے نورانی چہروں کو دیکھ رہا ہوں،اگر یہ اللہ کے دربار میں معروضہ کریں کہ پہاڑ کو اس کے مقام سے ہٹادے تو اللہ تعالی ان کی دعا کے سبب ضرور پہاڑ کو اس کے مقام سے ہٹادے گا،ان سے مباہلہ نہ کرو!ورنہ تم سب کے سب ہلاک ہوجاؤگے،اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہیں رہیگا،چنانچہ وہ مصالحت کرکے واپس ہوگئے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!اہل نجران پر عذاب بالکل قریب آچکا تھا،اگر وہ مقابلہ کرتے تو ان کے چہروں کو مسخ کردیا جاتا،وہ بندر اور بدجانور بنادئے جاتے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی سراپا معجزہ ہے،اسلام کی حقانیت کو پیش کرنے کے لئے صرف آپ کی ذات گرامی ہی کافی تھی لیکن آپ نے حضرات حسنین کریمین کو بحکم خدا اپنے ساتھ میدان میں اس لئے لایا تاکہ امت کو معلوم ہوجائے کہ یہ حق وصداقت کے پیکر ہیں اور ان کا وجود باجود حقانیت اسلام کی واضح دلیل ہے۔

مقام غور ہے کہ بچپن میں شہزادوں کا میدان میں تشریف لانا حق وصداقت کی دلیل ہے تو جب وہ داعئ حق اور مصلح امت کی حیثیت سے تحفظ اسلام اور پاسدارء شریعت کی خاطر میدان میں آئیں تو ان کے  اقدام کو کس طرح دنیوی اقدام کہا جا سکتا ہے ؟

معجم کبیر طبرانی ، جامع الاحادیث اور کنز العمال میں حدیث مبارک ہے : عَنْ فَاطِمَةَ بنتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! هَذَانِ ابْنَاكَ فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا، فَقَالَ:أَمَّا الْحَسَنُ فَلَهُ هَيْبَتِي وَسُؤْدُدِي، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَلَهُ جُرْأَتِي وَجُودِي ۔
ترجمہ : خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرضِ وصال کے دوران حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ  اور حضرت  حسین رضی اللہ تعالی عنہ  کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !یہ آپ کے شہزادے ہیں، انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ! تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نےارشاد فرمایا : حسن' میری ہیبت و سرداری کا وارث ہے اور حسین' میری جرات و سخاوت کا ۔ (معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر:18474،چشتی)(جامع الاحادیث للسیوطی، مسانيد النساء، مسند فاطمة رضی اللہ تعالی عنہا  حدیث نمبر: 43493)(کنز العمال،باب فضل الحسنين رضي الله عنهما، حدیث نمبر:  37712)

صحیح بخاری شریف اور جامع ترمذی شریف وغیرہ میں حدیث مبارک ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر شریف پر رونق افروز ہوئے،آپ کے پہلو مبارک میں حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ تھے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کبھی لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے اور کبھی آپ کی طرف متوجہ ہوتے ، آپ نے ارشاد فرمایا:میرا یہ بیٹا سردار ہے،یقینا اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح فرمائے گا ۔(صحیح بخاری شریف ،کتاب الصلح، حدیث نمبر:2704)(جامع ترمذی شریف ،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسين رضی اللہ تعالی عنہما ، حدیث نمبر: 4142)(سنن ابوداود،کتاب السنة،  باب ما يدل على ترك الكلام فى الفتنة. حدیث نمبر: 4664)(سنن نسائي کتاب الجمعة، باب مخاطبة الإمام رعيته وهو على المنبر. حدیث نمبر: 1421)

فَقَالَ الْحَسَنُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ  صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ إِلَى جَنْبِهِ ، وَهْوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرَى وَيَقُولُ  إِنَّ ابْنِى هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۔

انسان سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد احکام شریعت کا مکلف ہوتا ہے اور اس پر فرائض اسلام عائد ہوتے ہیں،پھر اعمال صالحہ کی قبولیت کے بعد جنت کا وعدہ ہے لیکن حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کو یہ شرف واعزاز حاصل ہے کہ بچپن ہی میں انہیں نہ صرف جنت بلکہ جنت میں سرداری کی بشارت عطا کردی گئی ۔

امام طبرانی کی معجم اوسط اورکنزالعمال میں روایت ہے : لما استقر أهل الجنة قالت الجنة: يا رب أليس وعدتني أن تزينني بركنين من أركانك؟ قال: ألم أزينك بالحسن والحسين؟ فماست  الجنة ميسا كما يميس العروس ۔
ترجمہ : جب جنتی حضرات جنت میں سکونت پذیر ہونگے تو جنت معروضہ کرے گی پروردگار ! ازراہ کرم کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ تو، دو ارکان سے مجھے آراستہ فرمائیگا ؟ تو رب العزت ارشاد فرمائیگا: کیا میں نے تجھے حسن و حسین رضی اللہ عنہماسے مزین نہیں کیا؟ یہ سن کر جنت دلہن کی طرح فخر و ناز کرنے لگے گی۔(معجم اوسط طبرانی،حدیث نمبر:343،چشتی)(جامع الاحادیث للسیوطی، حدیث نمبر:1331)(الجامع الکبیر للسیوطی، حدیث نمبر:1342)(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر:15096)(کنزالعمال، ج13ص:106،حدیث نمبر: 34290)

مستدرک علی الصحیحین میں حدیث مبارک ہے : عن علي رضي الله عنه قال : أخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن أول من يدخل الجنة أنا وفاطمة والحسن والحسين - قلت : يا رسول الله ، فمحبونا ؟ قال : من ورائكم - صحيح الإسناد ، ولم يخرجاه ۔
ترجمہ : سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے بتایا کہ (آپ کے ساتھ) سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں، میں، فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا، حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہم  ہوں گے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہوں گے ؟  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے پیچھے ہوں گے ۔ امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ (مستدرک علی الصحیحین،حدیث نمبر: 4706)

سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِى وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِى ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ  سےروایت  ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما  سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا ۔ (سنن ابن ماجہ شریف، باب فضل الحسن والحسين ابنى على بن أبى طالب رضى الله عنهم. حدیث نمبر: 148،چشتی)

ایک مرتبہ حضرت امام حسن‘ امام حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم مدینہ شریف سے حج کے لئے مکہ شریف جارہے تھے اور راستہ میں ایک بڑھیا کا گھر تھا‘ یہ حضرات اس کے گھر گئے اور اُس سے فرمائے کہ کچھ پلاؤ‘ پھر وہ بڑھیا اُن سب حضرات کو بکری کا دودھ پلائی‘ اُن حضرات نے فرمایا‘ کیا کھانے کے لئے کچھ ہے؟ اُس بڑھیا نے عرض کیا: میرے پاس اس بکری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے‘ اس کو ذبح کیجئے اور تناول فرمائے‘ چنانچہ اس بکری کو ذبح کرکے پکایا گیا اور سبھوں نے کھایا‘ اس کے بعد اُن حضرات نے اس بڑھیا سے فرمایا: ہم قریش سے ہیں‘ تم مدینہ منورہ آنا ہم کچھ دیں گے۔ یہ حضرات تو چلے گئے‘ اس بڑھیا کا خاوند آیا اور کہا کہ تو نے بکری ایسے اجنبیوں کو دے دی‘ نہیں معلوم وہ کون تھے ؟
ایک زمانہ کے بعد وہ بڑھیا اور اُس کا خاوند محتاج ہوکر مدینہ منورہ آئے اور محنت و مزدوری سے گزر کرنے لگے‘ اتفاقاً اس بڑھیا کا گزر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے گھر پر سے ہوا‘ اس بڑھیا نے نہیں پہچانا ‘ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اُس کو پہچان کر فرمایا: اے بڑھیا ! کیا تو مجھے جانتی ہے؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تیرا فلاں مہمان ہوں کہ جس کو تو نے دودھ اور بکری کے گوشت سے ضیافت کی تھی‘ پھر آپ نے اُس کو ایک ہزار بکری اور ایک ہزار اشرفی دے کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا‘ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی ایک ہزار بکری اور ایک ہزار اشرفی دے کر حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، انہوں نے بھی دو ہزار اشرفیاں اور دو ہزار بکریاں اُس بڑھیا کو دئے‘ بڑھیا چار ہزار بکریاں اور چار ہزار اشرفیاں لے کر دولت مند ہوکر خاوند کے پاس آئی ۔ (شہادت نامہ حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ صفحہ 19)

ایک بچہ کو دیکھا گیا کہ وہ مکہ معظمہ کے حرم میں ریت پر سر ملتے اور روتے جاتے تھے‘  شوقِ الٰہی میں بے سُدھ تھے‘ نزدیک آکر جب لوگوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہیں‘ انہوں نے کہا : تمہارے نانا شافع محشر‘ تمہارے والد عالی مقام‘ تمہاری ماں فاطمہ‘ تم کو کیا ڈر ہے ؟

آپ نے فرمایا : یہ دربار ماں باپ کی بزرگی پر ناز کرنے کی جگہ نہیں ہے‘ یہاں تو فضل کا امیدوار رہنا چاہیے ۔ (شہادت نامہ حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ صفحہ 91)

چھٹی صدی ہجری کے مشہور محدث امام ابوالقاسم علی بن حسن معروف بہ ابن عساکررحمۃ اللہ علیہ (متوفی 571ھ؁) نے جلیل القدر تابعی حضرت اعمش رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی : عن الا عمش قال خری رجل علی قبر الحسن فجن فجعل ینبح کما تنبح الکلاب قال فمات فسمع من قبرہ یعوی ویصیح ۔
ترجمہ : حضرت اعمش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ ایک بدبخت شخص نے سید نا امام حسن رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک پر بدبختی سے بول وبراز کیا تو وہ اسی وقت پاگل اور مجنون ہوگیا اور مرتے دم تک کتوں کی طرح بھونکتا رہا ، پھر مرنے کے بعداس کی قبرسے بھیانک آواز سے کُتا بھونکنے کی آواز سنائی دیتی ۔(تاریخ دمشق لابن عساکر ،ج 13، صفحہ 305 الحسن بن علی،چشتی)(جامع کرامات الاولیاء ،ج1،ص 131)

اس کرامت کو حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1350؁ھ) جو ملک شام کے بلند پایہ عالم گزرے ہیں،نے اپنی کتاب ’’جامع کرامات الاولیاء‘‘میں کتاب طبقات مناوی اور ابو نعیم سے نقل فرمایا ہے ۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے محبوب ومقرب بندوںکی بے ادبی کی جائے تو ایسی سزاد ی جاتی ہے جس کو اہل زمانہ،زمانۂ دراز تک یاد رکھتے ہیں، جب اس بدبخت شخص نے مزارِمبارک کی بے حرمتی کی تو اللہ تعالی نے اُس کی عقل سلب کردی اور جنون کی بیماری میں مبتلا کردیا‘ اس لئے کہ اس نے اپنی عقل کو استعمال کرنے کے بجائے بدبختی کا مظاہرہ کیا اور مزارِاقدس کی بے حرمتی کی ، اس شخص کا جنون عام مجنونوں جیسا نہیں تھا ، اللہ تعالی کو یہ منظور تھا کہ اس کی خوب ذلت ورسوائی ہو، اس لئے عام پاگلوں کے برخلاف وہ کتوں کی طرح بھونکنے لگا ، جب تک دنیا میں زندہ رہا اسی فضیحت وذلت کی زندگی بسر کرتا رہا اور جب مرگیا تو اس کی قبر سے کتے کے بھونکنے کی آواز آیا کرتی تھی ۔

یہ واقعہ امت مسلمہ کےلیے بڑی عبرت کا باعث اور نصیحت کا ذریعہ ہے ، اللہ تعالی سب کو ادب واحترام ملحوظ رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔

نویں صدی ہجری کے مشہور بزرگ حضرت نور الدین عبدالرحمن بن احمد جامی خراسانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 898ھ؁) نے اپنی کتاب ’’شواھدالنبوۃ ‘‘میں لکھا ہے : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ حج کے موقع پر مکہ معظمہ پیدل تشریف لے جارہے تھے تو آپ کے قدم مبارک میں ورم آگیا، آپ کے غلام نے عرض کیا کہ آپ کسی سواری پرسوار ہوجائیں تاکہ قدموں کی سوجن کم ہو ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے غلام کی درخواست قبول نہ فرمائی اور فرمایا :جب اپنی منزل پر پہنچوتو تمہیں ایک حبشی ملے گا، اس سے تیل خرید لو! آپ کے غلام نے کہا :ہم نے کسی بھی جگہ کوئی دوا‘نہ پائی اور جب اپنی منزل پر پہنچے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ وہی غلام ہے جس کے بارے میں تم سے کہاگیا ، جاؤ!اس سے تیل خریدواور قیمت اداکردو! غلام جب تیل خرید نے کے لئے حبشی کے پاس گیا اور تیل پوچھا تو حبشی نے کہا :کس کیلئے خرید رہے ہو؟ غلام نے کہا :حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کےلیے ، تو حبشی نے کہا : مجھے آپ کے پاس لے چلو! میں آپ کا غلام ہوں ، جب حبشی حضرت کے پاس آیا تو عرض کیا : میں آپ کا غلام ہوں ، آپ سے تیل کی قیمت نہیں لوںگا ؟بس میری بیوی کیلئے دعا فرمائیے ! وہ دردِزِہْ میں مبتلاہے اوردعا فرمائیے کہ اللہ تعالی صحیح الاعضاء بچہ عطافرمائے، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:گھر جاؤ!اللہ تعالی تمہیں ویسا ہی بچہ عطا فرمائے گا جیسا تم چاہتے ہو‘ او روہ ہمارا پیروکار رہے گا، حبشی گھر پہنچا توگھرکی حالت ویسی ہی پائی جیسی اس نے امام حسن رضی اللہ عنہ سے سنی تھی ۔(شواھد النبوۃمترجم،ص302)

اس واقعہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی دوکرامات مذکور ہیں : ⬇

پہلی کرامت : آپ نے پہلے ہی بتایا کہ پیروں کا ورم کم ہونے کی دوا کہا ں اور کس کے پاس ملے گی ۔

دوسری کرامت : آپ نے یہ بیان فرمایا کہ حبشی کو خواہش کے مطابق صحیح وسالم لڑکا ہوگا اور وہ لڑکا اہل بیت کرام کاتابعدارو فرمانبردار ہوگا ۔

حضرت نور الدین عبدالرحمن بن احمد جامی خراسانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 898ھ؁)نے ’’شواہد النبوۃ ‘‘میں لکھا ہے : حضرت سیدناامام حسن رضی اللہ عنہ ایک دن حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے کسی صاحبزادہ کے ساتھ سفر میں تھے،ایک خشک باغ میں کچھ دیر کےلیے قیام فرماہوئے ۔

حضرت ابن زبیر نے کہا:کاش اس باغ میں کچھ تروتازہ کھجور ہوتے تو ہم کھاتے ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تازہ کھجور کھانا چاہتے ہو ؟ حضرت ابن زبیر نے کہا : ہاں! حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ دعاء کےلئیے ہاتھ اٹھاکر کچھ تلاوت فرمائے، اچانک کھجور کا ایک درخت ظاہر ہوا اور اس کو تازہ کھجور لگ گئے ، حضرت ابن زبیر کے ایک ساتھی نے کہا :یہ تو جادو ہے ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرما یا : یہ جادو نہیں بلکہ اس دعاکا اثر ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے نے کی تھی ، پھر لوگوں نے اس درخت پر چڑھ کر تازہ کھجور توڑے جن سے تمام لوگ شکم سیر ہوئے۔(شواھدالنبوۃمترجم، صفحہ 302،چشتی)(شہادت نامہ، مؤلفہ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ، صفحہ 93)

پانچویں صدی ہجری کے مشہور مالکی فقیہ حضرت ابو عمر یوسف بن عبداللہ معروف بہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 463؁ھ) نے اپنی کتاب’’ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘ میں روایت بیان کی ہے :  عن عمیر بن إسحاق قال کنا عند الحسن بن علی فدخل المخرج ثم خرج فقال لقد سقیت السم مراراً وما سقیتہ مثل ہذہ المرۃ لقد لفظت طائفۃ من کبدی فرأیتنی أقلبہا بعود معی فقال لہ الحسین یا أخی من سقاک قال وما ترید إلیہ أترید أن تقتلہ قال نعم قال لئن کان الذی أظن فاللہ أشد نقمۃ ولئن کان غیرہ ما أحب أن تقتل بی بریئاً ۔
ترجمہ : حضرت عمیر بن اسحق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے ‘آپ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھے ،آپ حمام میںگئے پھر تشریف لاکرفرمایا:  مجھے کئی باردھوکہ سے زہر پلایا گیا مگر اس بارکی طرح شدید نہیں ،اس کا اثر ہے کہ میں نے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا تھو کا ہے، حیرت میں لکڑی سے اس کو الٹاتا،پلٹاتا رہا، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :بھائی جان!آپ کو کس نے زہر دیا؟ امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:آپ کیا چاہتے ہیں؟کیااُسے قتل کردوگے ؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا:  ہاں!آپ نے فرمایا:میں جس کو مجرم سمجھتاہوں اگر وہی ہے تو اللہ تعالی بہت سخت سزادینے والاہے،اور اگر کوئی دوسرا شخص ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے بے گناہ کو سزادی جائے۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، باب الافراد فی الحاء ، الحسن بن علی)

مذکورہ واقعہ اسی کتاب میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔

ائمہ دین کے پاس یہ امرمسلَّم ہے کہ اللہ تعالی نے کرامات اولیاء کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا مظہر بنایا ہے ، ہرایک ولی کی کرامت فیضان نبوت کا اثر ہے ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو متعدد بار زہر دیا گیا مگر اس کا اثر ظاہر نہ ہوا ، آپ کی یہ کرامت ا س معجزہ کے فیضان سے ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو یہودی عورت نے گوشت میں زہر کھلایا تھا مگر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا اثر نہ ہوا۔

امام ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 430؁ھ)نے اپنی کتاب ’’دلائل النبوۃ ‘‘میں لکھا ہے : عن ابی ہریرۃ قال:کان الحسن عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی لیلۃ ظلماء وکان یحبہ حبا شدیدا فقال : اذہب إلی أمی فقلت : أذہب یا رسول اللہ ؟ قال : فجاء ت برقۃ من السماء فمشی فی ضوئہا حتی بلغ إلی أمہ ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ آپ نے فرمایا : ایک وقت اندھیری رات میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بے پناہ محبت فرمایا کرتے، امام حسن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اپنی والدہ محترمہ کے پاس جانا چاہتا ہوں ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کیا :میں ان کے ساتھ جاؤں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ اتنے میں آسمان سے ایک نورظاہر ہوا جس کی روشنی میں چلتے ہوئے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ والدہ محترمہ کے پاس پہنچ گئے ۔ (دلائل النبوۃ للاصفھانی،باب ذکراضاء ۃ العصا،حدیث نمبر:487،چشتی)

تاریک رات میں آسمان سے روشنی کا ظاہر ہونا اور اس روشنی میں چلنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان سے امام حسن رضی اللہ عنہ کی کرامت ہے ۔


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : میری والدہ نے مجھ سے پو چھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کتنے دنوں بعد جاتے ہو۔میں نے کہا کہ : اتنے اتنے دنوں سے میرا آنا جانا چھوٹا ہوا ہے ۔ اس پر وہ ناراض ہو گئیں ۔ تو میں نے کہا کہ:اچھا ، اب آپ مان بھی جائیے ۔میں آج ہی حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر نماز مغرب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ادا کروں گا ، اپنی اور آپ کی مغفرت کی دعا کرنے کی درخواست کروں گا ، حضرت حذیفہ کہتے ہیں : میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب ادا کیا ، پھر حضور عشاء تک نماز میں مشغول رہے ، عشاء پڑ ھنے کے بعد جب آپ لوٹے تو میں آپ کے پیچھے ہو لیا ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب میری آواز سنی تو فر مایا : کون ؟ حذیفہ ، میں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اللہ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فر مائے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا : بے شک ایک فر شتہ جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ آیا ، آج اس نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ مجھے سلام کرے اور مجھے اس بات کی خوشخبری دے کہ : فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن ، حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (جامع ترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث :۳۷۸۱،چشتی)

شہادت عظمی

امام عالی مقام سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت عظمی پانچ (5) ربیع الاول ، 50 ہجری اور ایک روایت کے مطابق 49 ہجری ، مدینہ منورہ میں ہوئی،آپ کو زہر دیکر شہید کیا گيا،آپ کا مزار مقدس جنت البقیع شریف میں ہے ۔
توفي رضي الله عنه بالمدينة مسموماً۔۔۔۔ وكانت وفاته سنة تسع وأربعين وقيل في خامس ربيع الأول سنة خمسين ۔ (تاریخ الخلفاء،جلد 1 صفحہ 78)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بڑے حلیم ، کریم اور متقی و پر ہیز گار تھے ، انہوں نے اپنی زندگی میں دو بار اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا ۔اس کے علاوہ جب بھی راہ خدا میں مال لٹانے کی باری آئی تو انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے ۵۰/مرتبہ پیدل حج کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ : مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہےکہ میں اس سے ملاقات کروں اور اس تک پیدل چل کر نہ جاؤں ۔

۱۷/رمضان سن ۴۰/ہجری میں اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلیفہ ہوئے،چالیس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کیا ۔ اور آپ نے چھ یا سات مہینے تک عراق ، خراسان ، حجاز اور یمن وغیرہ پر حکومت کیا ۔پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ملک شام سے آپ کے خلاف فوج کشی کی ،آپ نے بھی اپنی فوج اُتاری اور جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئی اور قریب تھا کہ جنگ کی آگ بھڑک جائے تو آپ نے سوچا کہ :کوئی فریق دوسرے پر اس وقت تک غالب نہ ہوگا جب تک کہ دونوں طرف سے بہت سارے مسلمانوں کا خون نہ بہہ جائے ۔یہ سوچ کر آپ نے حضرت امیر معاویہ کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ : وہ اس شرط پر حکومت ان کے سپرد کرنے کےلیے تیار ہیں کہ ان کے بعد خلافت ہمارے پاس رہے اور یہ کہ ہمارے والد کے زمانے میں مدینہ ، حجاز اور عراق کے لوگوں کے پاس جو کچھ تھا اس کا مطا لبہ نہیں کریں گے ۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان شرائط کو منظور کر لیا اور اس طرح سے غیب داں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے بچپنے ہی میں فر مایا تھا کہ ” یہ میرا بیٹا سردار ہے ، اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرا دے گا ۔ جس ذات کےلیے حضور نے فر مایا ہو کہ : یہ سردار ہے اس کی عظمتوں کا اندازہ بھلا کون لگا سکتا ہے ۔ (اسد الغابہ باب الحاء والسین حسن بن علی رضی اللہ عنہما،چشتی)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی سنِ وصال میں مورخین کا اختلاف ہے ، ایک قول یہ ہے کہ سن ۴۹ ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰ ہجری میں ہوا ، اور سن ۵۱ ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے ۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔

حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت پانچ ربیع الاول ہے : ⬇

علامہ خطیب بغدادی لکھتے ہیں حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ کا وصال انچاس ہجری ماہ ربیع الاول کو ہوا
وتوفي الْحَسَن بْن عَلِيّ بْن أَبِي طالب في ربيع الأول من سنة تسع وأربعين ۔ (تاریخ بغداد : 1/140)

أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي (المتوفى: 463هـ) نے بھی سال انچاس اور پچاس لکھا مگر مہینہ ربیع الاول تھا ۔ ومات الحسن بن علي رضي الله عنهما بالمدينة واختلف في وقت وفاته فقيل مات سنة تسع وأربعين وقيل بل مات في ربيع الأول من سنة خمسين ۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الصحاب : 1/115)

محمد بن حبان ، الدارمي، البُستي (المتوفى: 354هـ) اکاون ہجری اور ماہ ربیع الاول لکھتے ہیں
فمات في شهر ربيع الأول سنة إحدى وخمسين ۔ (الثقات لابن حبان :3/68)

ابن عساکر اورابن جوزی پچاس ہجری پانچ ربیع الاول لکھتے ہیں
مات الحسن بن علي لخمس ليال خلون من شهر ربيع الأول سنة خمسين ۔ (تاریخ دمشق : 13/302)(صفوۃ الصفوۃ :1/762)

امام ذہبی نے پچاس ہجری ربیع الاول میں آپ کا وصال لکھا
تُوُفِّيَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَبِيعٍ الْأَوَّلَ سَنَةَ خَمْسِينَ ۔ (تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام:2/397)

امام سیوطی نے سن (سال) انچاس ، پچاس اور اکاون لکھے اور کہا کہ ربیع الاول کی پانچ تاریخ تھی ۔ وكانت وفاته سنة تسع وأربعين، وقيل: في خامس ربيع الأول سنة خمسين، وقيل: سنة إحدى وخمسين ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 147])

محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي، أبو جعفر الطبري (المتوفى: 310هـ) ۔ حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ پچاس ہجری پانچ ربیع الاول کو رخصت ہوئے ۔ مات الحسن بن على عليه السلام سنة 50 في ربيع الاول لخمس خلون منه ۔ (المنتخب من ذيل المذيل صفحہ نمبر 19)

مات الحسن بن علي لخمس ليال خلون من شهر ربيع الأول سنة خمسين ۔ حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ پچاس ہجری پانچ ربیع الاول کو رخصت ہوئے ۔ (الجزء المتمم لطبقات ابن سعد :1/354)

آپ کی وفات کاسبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ، جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر انتقال کر گئے ۔ جب بیماری زیادہ بڑھی تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ : مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے ؟ تو آپ نے فر مایا : یہ سوال کیوں پوچھتے ہو ؟ کیا تم ان سے جنگ کروگے ۔ میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔

کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی ۔ یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے ۔ کیو نکہ تمام مور خین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ : میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں ۔ تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا ۔ جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا ؟ اس لیے ایک ایسے مقدس امام جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ، پھر جنہیں نوجوانانِ جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ ان کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک بندوں کے صدقے دارین کی سر خروئی نصیب فرمائے ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے ؟ ۔ کا جواب : ⏬

محترم قارئینِ کرام : بہت عرصہ پہلے ہم رافضی شیعوں کے اس بھونڈے اور من گھڑت اعتراض کا مدلّل جواب دے چکے ہیں اب دوبارہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سنیوں کے لبادے میں رافضی جو کہ بُغضِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں مبتلا ہیں نے اس بات کو مختلف کمنٹس اور پوسٹوں کی صورت میں اچھالا اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی مگر یہ مبغضین بغض میں اتنا اندھے ہوگئے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہ پر بدکاری کا الزام لگا دیا کہ اس کے یزید سےناجائز تعلقات تھے استغفر اللہ ۔ ان بد بختوں کو اتتنا بھی حیاء نہ آئی کہ خانوادہ رسول علیہم السّلام کی بہو پر بیہودہ الزام لگا دیا اس سے ان بد بختوں کے اندر چھپی رافضیت و اسلام دشمنی واضح ہوتی ہے آئیے اس کے متعلق نئی ترتیب کے ساتھ مفصل و مسدلّل جواب پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے بد بختوں کو ہدایت عطاء فرمائے آمین ۔

محترم قارئینِ کرام : یہ الزام انتہائی بے بنیاد اور لغو ہے ۔ حتٰی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو کس نے قتل کیا ہے ، تو کس طرح دوسروں کو معلوم ہو گیا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کو  نعوذ باللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے ؟

قال بن سعد أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم أخبرنا بن عون عن عمير بن إسحاق دخلت أنا وصاحب لي على الحسن بن علي فقال لقد لفظت طائفة من كبدي وإني قد سقيت السم مرارا فلم أسق مثل هذا فأتاه الحسين بن علي فسأله من سقاك فأبى أن يخبره رحمه الله تعالى ۔
ترجمہ : عمیر بن اسحق کہتے تھے کہ میں اور میرے ایک ساتھی حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ میرے جگر کے کچھ ٹکڑے گرچکے ہیں اورمجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ؛ لیکن اس مرتبہ کہ ایسا قاتل کبھی نہ تھا اس کے بعد حسین رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا کس نے پلایا، لیکن انہوں نے بتانے سے انکار کیا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة ج ۲ ص ۷۳،چشتی)

عمیر بن اسحاق کہتے ہیں : دخلت أنا ورجل علی الحسن بن علی نعودہ ، فجعل یقول لذلک الرجل: سلنی قبل أن لا تسألنی ، قال: ما أرید أن أسألک شیئا ، یعافیک اللّٰہ ، قال: فقام فدخل الکنیف ، ثمّ خرج إلینا ، ثمّ قال: ما خرجت إلیکم حتی لفظت طائفۃ من کبدی أقلبہا بہذا العود ، ولقد سقیت السمّ مرارا ، ما شیء أشدّ من ہذہ المرّۃ ، قال: فغدونا علیہ من الغد ، فإذا ہو فی السوق ، قـال : وجاء الحسین فجلس عند رأسہ ، فقال: یا أخی ، من صاحبک ؟ قال : ترید قتلہ ؟ قال: نعم ، قال: لئن کان الذی أظنّ ، للّٰہ أشدّ نقمۃ ، وإن کان بریئا فما أحبّ أن یقتل برئی ۔
ترجمہ : میں اور ایک آدمی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پرعیادت کے لیے داخل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہمااس آدمی سے کہنے لگے : مجھ سے سوال نہ کرسکنے سے پہلے سوال کرلیں۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کوعافیت دے۔ آپ رضی اللہ عنہماکھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے ۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے ، پھرفرمایا: میں نے تمہارے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعہ)پھینک دیاہے۔ میں اس کو اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کررہاتھا۔ میں نے کئی بار زہر پیا ہے ، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہماحالت ِ نزع میں تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اورکہا : اے بھائی!آپ کو زہر دینے والا کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہمانے فرمایا : کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : اگر وہ شخص وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ انتقام لینے میں زیادہ سخت ہے۔ اوراگر وہ بری ہے تو میں ایک بری آدمی کوقتل نہیں کرنا چاہتا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۱۵/۹۳،۹۴، کتاب المحتضرین لابن ابی الدنیا : ۱۳۲، المستدرک للحاکم : ۳/۱۷۶، الاستیعاب لابن عبد البر : ۳/۱۱۵، تاریخ ابن عساکر : ۱۳/۲۸۲، وسندہٗ حسنٌ،چشتی)

اسی طرح اہل تشیع کی مشہور کتاب بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے مروج الذہب للمسعودی الشیعی سے مندرجہ زیل روایت نقل کی ہے : عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده علي بن الحسين عليهم السلام قال: دخل الحسين على عمي الحسن حدثان ما سقي السم فقام لحاجة الانسان ثم رجع فقال: سقيت السم عدة مرات، وما سقيت مثل هذه، لقد لفظت طائفة من كبدي ورأيتني أقلبه بعود في يدي، فقال له الحسين عليه السلام: يا أخي ومن سقاك؟ قال: وما تريد بذلك؟ فإن كان الذي أظنه فالله حسيبه، وإن كان غيره فما أحب أن يؤخذ بي برئ، فلم يلبث بعد ذلك إلا ثلاثا حتى توفي صلوات الله عليه ۔
ترجمہ : علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (زین العابدین) رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ حسین میرے چچا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے زہر پلانے کے وقت گئے تو حسن رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لئے گئے وہاں سے لوٹ کر کہا کہ مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ، لیکن اس مرتبہ کے ایسا کبھی نہ تھا اس میں میرے جگر کے ٹکڑے باہر آگئے تم مجھے دیکھتے کہ میں ان کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا ، حسین رضی اللہ عنہ نے پوچھا بھائی صاحب کس نے پلایا ؟ حسن رضی اللہ عنہ نے کہا، اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے ، اگر زہر دینے والا وہی شخص ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو خدا اس کے لئے کافی ہے اور اگر دوسرا ہے تو میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میری وجہ  سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے ، اس کے بعد حسن رضی اللہ عنہ زیادہ نہ ٹھہرے اور تین دن کے بعد انتقال کرگئے ۔ (بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٤٤ - الصفحة ١٤٨،چشتی)

پس معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگایا جانے والا یہ الزام کوئی بنیاد نہیں رکھتا ، یہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کا اپنا ایجادکردہ الزام ہے ۔

علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں : وما ينقل من ان معاوية دس إليه السم مع زوجه جعدة بنت الاشعث فهو من أحاديث الشيعة وحاشا لمعاوية من ذلك ۔
ترجمہ : اوریہ روایت کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان (امام حسن رضی اللہ عنہ) کی بیوی سے مل کر زہر دلایا شیعوں کی بنائی ہوئی ہے حاشا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات سے اس  کاکوئی تعلق نہیں ۔ (ابن خلدون ج ۲ ص ١۸۷،چشتی)

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : وأما قوله : إن معاوية سم الحسن ، فهذا  مما ذكره بعض الناس ، ولم يثبت ذلك ببينة شرعية ، أو إقرار معتبر ، ولا نقل يجزم به ، وهذا مما لا يمكن العلم به ، فالقول به قول بلا علم ۔ ترجمہ : بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ حسن کو معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دیا تھا کہ کسی شرعی دلیل اورمعتبر اقرار سے ثابت نہیں ہے اورنہ کوئی قابل وثوق روایت سے اس کی شہادت ملتی ہے اوریہ واقعہ ان واقعوں میں ہے جس کی تہ تک نہیں پہنچا جاسکتا اس لیے اس کے متعلق کچھ کہنا بے علم کی بات کہنا ہے ۔ (منہاج السنہ ج ۴ ص ۴٦۹،چشتی)

علامہ حافظ ابن کثیر اس کے متعلق لکھتے ہیں : وعندي أن هذا ليس بصحيح ، وعدم صحته عن أبيه معاوية بطريق الأولى ۔
ترجمہ : میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں کہ یزید نے سیدنا امام حسن کو زہر دے کر شہید کر دیا ہے ۔ اور  اس کے والد ماجد سیدنا امیر معاویہ کے متعلق یہ گمان کرنا بطریق اولٰی غلط ہے ۔ (البدایہ والنہایہ ج ۸ ص ۴۳)

امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں : قلت : هذا شيء لا يصح فمن الذي اطلع عليه ۔ ترجمہ : میں کہتا ہوں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے ، اور اس پر کون مطلع ہو سکا ہے ۔ (تاریخ اسلام ص ۴۰،چشتی)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی تایخ وصال میں مور خین کا اختلاف ہے،ایک قول یہ ہے کہ سن 49/ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰/ہجری میں ہوا،اور سن ۵۱/ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے۔لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔آپ کی وفات کاسبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ،جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر آپ کا وصال ہو گیا۔ جب بیماری زیادہ بڑھی  تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فر مایا کہ:مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟تو آپ نے فر مایا:یہ سوال کیوں پوچھتے ہو؟کیا تم ان سے جنگ کروگے۔میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔

کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ  کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی۔یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے۔کیو نکہ تمام مور خین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ:میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا۔جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا؟اس لئے  ایک ایسے مقدس امام  جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ،پھر جنہیں نوجوانا ن جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ان  کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک بندوں کے صدقے دارین کی سر خروئی نصیب فر مائے ۔

خلیفہ اعلیٰحضرت صدر الافاضل حضرت علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ سوانح کربلا میں فرماتے ہیں : مؤرخین نے زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنت اشعث ابن قیس کی طرف کی ہے اور اس کو حضرت امام کی زوجہ بتایا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ یہ زہر خورانی باغوائے یزید ہوئی ہے اور یزید نے اس سے نکاح کا وعدہ کیا تھا۔ اس طمع میں آکر اس نے حضرت امام کو زہردیا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲) لیکن اس روایت کی کوئی سندِ صحیح دستیاب نہیں ہوئی اور بغیر کسی سندِ صحیح کے کسی مسلمان پر قتل کا الزام اور ایسے عظیم الشان قتل کا الزام کس طرح جائز ہوسکتا ہے ۔

قطع نظر اس بات کے کہ روایت کے لئے کوئی سند نہیں ہے اور مؤرخین نے بغیر کسی معتبرذریعہ یا معتمدحوالہ کے لکھ دیاہے ۔ یہ خبر واقعات کے لحاظ سے بھی ناقابل اطمینان معلوم ہوتی ہے ۔ واقعات کی تحقیق خود واقعات کے زمانہ میں جیسی ہوسکتی ہے مشکل ہے کہ بعد کو ویسی تحقیق ہو خاص کر جب کہ واقعہ اتنا اہم ہو مگر حیرت ہے کہ اَہل بیتِ اَطہار کے اس امامِ جلیل کا قتل اس قاتل کی خبر غیر کو تو کیا ہوتی خود حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ نہیں ہے یہی تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے برادر ِمعظم سے زہردہندہ کا نام دریافت فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر دینے والے کا علم نہ تھا ۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کانام لیتے ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اب حضرت جعدہ رضی اللہ عنہا کو قاتل ہونے کیلئے معین کرنے والا کون ہے۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویاامامین کے صاحبزادوں میں سے کسی صاحب کواپنی آخر حیات تک جعدہ کی زہر خورانی کاکوئی ثبوت نہ پہنچانہ ان میں سے کسی نے اس پر شرعی مواخذہ کیا ۔ ایک اور پہلو اس واقعہ کاخاص طور پر قابل لحاظ ہے وہ یہ کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو غیر کے ساتھ سازباز کرنے کی شنیع تہمت کے ساتھ متہم کیا جاتا ہے یہ ایک بدترین تبرا ہے۔ عجب نہیں کہ ا س حکایت کی بنیاد خارجیوں کی افتراءات ہوں جب کہ صحیح اور معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثیر التزوج تھے اور آپ نے سو (۱۰۰) کے قریب نکاح کیئے اور طلاقیں دیں ۔ اکثرایک دو شب ہی کے بعد طلاق دے دیتے تھے اور حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم باربار اعلان فرماتے تھے کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت ہے ، یہ طلاق دے دیا کرتے ہیں ، کوئی اپنی لڑکی ان کے ساتھ نہ بیاہے ۔ مگر مسلمان بیبیاں اور ان کے والدین یہ تمنا کرتے تھے کہ کنیز ہونے کا شرف حاصل ہوجائے اسی کا اثر تھا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن عورتوں کو طلاق دیدیتے تھے ۔ وہ اپنی باقی زندگی حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت میں شیدایانہ گزاردیتی تھیں اور ان کی حیات کا لمحہ لمحہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد اور محبت میں گزرتا تھا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب ، ص۱۵۱) ایسی حالت میں یہ بات بہت بعید ہے کہ امام کی بیوی حضرت امام کے فیض صحبت کی قدر نہ کرے اور یزید پلید کی طرف ایک طمعِ فاسد سے اما م جلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل جیسے سخت جرم کا ارتکاب کرے ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت بابرکت نصیب ہوئی ہے اور آپ کی فضیلت وشرافت احادیث شریفہ میں مذکور ہے ، زبان رسالت سے آپ رضی اللہ عنہ کےلیے ھادی ومھدی ہونے کی دعاء جاری ہوئی چنانچہ جامع ترمذی شریف میں ہے ؛ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔

ترجمہ : اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔ (جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213)


حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان الفت ومحبت بڑی گہری تھی ، فرمان نبوی کے مطابق خلافتِ نبوت کے 30 سال حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی چھ ماہی خلافت پر تکمیل کو پہنچے ، مسلمانوں کی خون خرابے سے بچانے کیلئے آپ نے دستبرداری حاصل کی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی جس کے نتیجہ میں بہت بڑی جنگ ٹل گئی ، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :


عن الحسن سمع أبا بكرة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر والحسن إلى جنبه ينظر إلى الناس مرة وإليه مرة ويقول " ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔

ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکرة رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم منبر شریف پر جلوہ افروز تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کبھی آپ کی طرف دیکھتے اور کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سردار ہے اور اللہ تعالی ان کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ (صحیح بخاری شریف ،کتاب فضائل الصحابة ، باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، حدیث نمبر؛ 3536،چشتی)


تاجِ صحابیت نے بڑھائی ہے اُن کی شان

سونپی حَسَن نے اُن کو خلافت کی آن بان

ہوگا نہ کم کسی سے وقارِ معاویہ (رضی اللہ عنہما)


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اہل مدینہ نے خلیفہ بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سبائیوں اور فسادیوں کے دباؤ کے باوجود جنگ و جدل سے گریز کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 6 ماہ بعد آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا ۔ اللہ کے فضل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ثابت ھو گئے ،، ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔


اس طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ملت اسلامیہ کے متفقہ خلیفہ بن گئے ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ کی ایک حدیث ہے : عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔ ترجمہ : اے اللہ معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔ ﴿جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213،چشتی﴾


اس صلح کی برکت سے مسلم امہ میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور جہاد اور فتوحات کا جو سفررک گیا تھا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے دوبارہ سے شروع کیا ۔ اور برق رفتاری سے جاری رکھا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دو رخلافت میں قلات ، قندھار ، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ ، شمالی افریقہ ، جزیرہ روڈس ، جزیرہ اروڈ ، کابل ، صقلیہ (سسلی) سمیت 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔


اس صلح میں کئی معاہدے طئے کئے گئے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹے گی ۔ لیکن آپ کا وصال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہوگیا ۔ جیسا کہ ابو الحسن علی بن اثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : فارسل الی معاویة یبذل لی تسلیم الامر الیہ علی ان تکون لہ الخلافة بعدہ وعلی ان لایطلب احدا من اہل المدینة والحجاز والعراق بشیٴ مما کان ایام ابیہ وغیرذلک من القواعد فاجابہ معاویة الی ما طلب ۔ ﴿اسد الغابہ، الحسن بن علی﴾


امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت اور اس سے دست برداری


حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے ۔ چالیس ہزار اہالیان کوفہ نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی ۔ آپ چھ ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے اس کے بعد جب حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ آپ کے پاس کوفہ آئے تو مندرجہ ذیل تین شرطوں کے ساتھ آپ نے خلافت ان کے سپرد کرنا منظور فرمایا ۔


(1) بر وقت امیر معاویہ خلیفہ بنائے جاتے ہیں لیکن ان کے انتقال کے بعد امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین ہوں گے ۔


(2) مدینہ شریف اور حجاز و عراق وغیرہ کے لوگوں سے حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کے زمانہ کے متعلق کوئی مواخذہ اور مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔


(3) حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ کے ذمہ جو ہے ان سب کی ادائیگی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کریں گے ۔


ان تمام شرطوں کو حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے قبول کیا تو آپ میں صلح ہو گئی اور ﷲ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا وہ معجزہ ظاہر ہوا جو آپ نے فرمایا تھا کہ میر ایہ فرزند ارجمند مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔


حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ نے اس صلح کے بعد تخت خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لئے خالی کر دیا ۔ دستبرداری کا یہ واقعہ ربیع الاول ۔ 41ھ میں ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء)


خلافت سے دستبردار ہونا آپ کے بہت سے ہم نواؤں کو ناگوار ہوا انہوں نے طر ح طرح سے آپ پر ناراضگی کا اظہار کیا یہانتک کہ بعض لوگ آپ کو ’’عار المسلمین ‘‘ کہہ کر پکارتے تو آپ ان سے فرماتے ۔ العار خیر من النار ۔ عارنا ر سے بہتر ہے ۔


امر خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو سپرد کرنے کے بعد آپ کوفہ سے مدینہ طیبہ چلے گئے اور وہیں قیام پذیر رہے ۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ سے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں آپ پھر خلافت کے خواستگار ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت عربوں کے سر میرے ہاتھوں میں تھے یعنی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے وہ مجھ سے بیعت کر چکے تھے اس زمانہ میں ہم جس سے چاہتے ان کو لڑا دیتے لیکن میں اس وقت محض ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے خلافت سے دستبردار ہو گیا اور امت محمدیہ کا خون نہیں بہنے دیا ۔ تو جس خلافت سے میں صرف ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے دست بردار ہو گیا ہوں اب لوگوں کی خوشی کے لئے میں اسے دوبارہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ (تاریخ الخلفاء،چشتی)


کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شرائطِ صلح سے انحراف کیا تھا ؟


محترم قارئینِ کرام : شیعہ رافضی اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اس معاہدے کی مخالفت کی جوان کے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوا تھا ، جس کی ایک شق یہ تھی کہ : حضرت امیرمعاویہ اپنے بعد کسی کو خلافت نہیں سونپیں گے ، بلکہ امت مسلمہ کی طرف یہ معاملہ پھیریں گے ۔


اس بات سے قطع نظر کہ کیا حضرت امیر معاویہ حضرت حسن رضی اللہ عنہما جیسی شخصیت کے ساتھ سر عام ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں ، جنہوں نے رومیوں کے ساتھ عین جہاد کے موقع پر حضرت عمرو بن عبسہ کی زبانی ایک معاہدے کی یاد دہانی پر نہ صرف جنگ روک دی بلکہ مفتوحہ علاقہ بھی دشمن کے حوالے کیا ،نیز اس با ت سے بھی قطع نظر کہ اس وقت کی غالب اکثریت جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے سے متفق ہوگئی ، تو امت کی اکثریت کا اس رائے میں شامل ہونا خلافت کے معاملے کو امت کی طرف پھیرنا نہیں کہلائے گا ، نیز اس بات سے بھی قطع نظر کہ جن چار بنیادی صحابہ نے اس فیصلے پر اپنی اختلافی رائے دی ، انہوں نے کسی بھی موقع پر حتی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ یزید کو ولی عہد بنانا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔


ان سب باتوں سے قطع نظر معاہدے کی جس شق کو معترض اعتراض کی بنیاد بنا رہے ہیں ، یہ شق تاریخ کی بنیادی مصادر تاریخ میں ہی نہیں ہے ، حالانکہ اس میں معاہدے کی دیگر شقوں کا تذکرہ ہے ، خواہ مسعودی کی مروج الذہب ہو ، امام طبری کی تاریخ طبری ، ابن کثیر کی البدایہ ہو یا ابن اثیر کی الکامل ، ابن خلدون کی تاریخ ابن خلدون ہو یا ابن جوزی کی المنتظم ، ان میں سے کسی میں بھی یہ شق نہیں ہے ۔


یہ شق بلاذری کی انساب الاشراف میں بلا سند ذکر ہے ، اور وہاں سے مصنف الصواعق نے لیا ہے ۔


طرفہ تماشا یہ کہ اس شق کو کچھ معترضین نے متواتر کہا ، جبکہ اس کی ایک بھی صحیح سند نہیں ہے ، بلکہ اساسی مصادر میں سے ایک دو کتب میں نقل ہوئی ہے ۔ یا للعجب ۔


اس پر مستزاد یہ کہ شیعہ مصادر اور ابن عبد البر کی استیعاب نے ایک اور شق کا ذکر کیا ہے جو معترضین کی ذکر کردہ شق سے صراحتا معارض ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ اگر جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو خلافت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے گی ۔


طرفہ تماشا یہ کہ یہ شق بھی اسی شق کی طرح اوپر ذکر کردہ کسی اساسی مصدر میں شروط صلح کے ضمن میں مذکور نہیں ہے ۔ جس کا ذکر اور مختصر جواب ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں ۔


تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ دونوں متعارض شقیں سنی و شیعہ غالین کی وضع کردہ ہیں ۔ پہلی شق سے اہلسنت مناظرین اہل تشیع کو الزام دیتے ہیں کہ اگر امامت منصوص ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت میں شوری کی شرط کیوں لگائی ؟


اگر امامت اہل بیت رضی اللہ عنہم کا حق نہیں ہے اور شوری پر مبنی ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے جناب امیر رضی اللہ عنہ کے بعد اپنے لئے خلافت کو مختص کیوں کیا ؟


اس لئے غالین کی وضع کردہ بلا سند شروط سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاک دامن کو داغدار نہ کیا جائے ۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم شیعی مورخ ابوحنیفہ الدینوری کی کتاب ” الاخبار الطوال” میں بھی مذکورہ شرائط ندارد ۔

بلکہ انہیں کے بقول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے ساتھ جو شرائط طے کی تھیں ان میں کوئی کمی نہ کی ۔


کیا معاویہ رضی اللہ عنہ موروثی نظام حکومت کے بانی تھے اور کیا یزید کا استخلاف غیر شورائی تھا ؟


ڈاکٹر حامد محمد الخلیفہ اس ضمن میں لکھتے ہیں : رہے وہ نام نہاد اہل سنت جو اس بات کا پروپیگنڈا کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام میں ’’موروثی نظام حکومت‘‘ کے موسئسِ اول سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنھما تھے تو دراصل ان لوگوں نے حالات و واقعات کا صرف ایک زاویہ نگاہ سے جائزہ لیا ہے ، اسی یک طرفہ جائزے نے انہیں ایک ایسے صحابی رسول پر یہ تہمت لگانے پر ابھارا جن کی سیاست نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ روئے زمین کے سب سے ذہین ترین آدمی تھے اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے بعد سیاسی تدبر وشعور میں سب سے زیادہ قوت ومہارت اور دسترس رکھتے تھے ۔ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کو امر وراثت گمان کیا ہوتا تو انہیں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور دوسرے لوگوں کو اپنی رائے میں شریک کرنے کی کیا ضرورت تھی اور انہوں نے ان اکابر کے غصہ اور سختی کو کیوں برداشت کیا اور آخر یہ سب سہنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟

پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اکیلے ہی یزید کی نامزدگی کو کیوں کافی نہ سمجھا ؟ اور کیا یہی نظامِ وراثت نہیں ہوتا ؟ کہ والی کسی سے مشورہ یا رائے لیے بغیر اکیلے ہی اپنے ورثاء میں سے کسی کو اپنے بعد کے امر کا وارث قرار دے دیتا ہے ۔

پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات کے شدید متمنی کیوں تھے کہ عام قبائل عرب اور امت کے اکابر کو بھی یزید کی بیعت میں شریک کریں ؟

اور انہوں نے ہر خاص وعام ، قریب اور دُور کے آدمی سے اس بارے میں مشاورت کیوں کی ؟

کیا اس بات کو ہوا دیکر دراصل امت مسلمہ کے اکابر کی بابت بدگمانی کے زہر کو عام کرکے اعدائے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں کومضبوط کرنا مقصود ہے ؟

یوں اس شوروغوغا کا بدترین نتیجہ یہ نکلا کہ ہر بے اوقات ، جاہل ، عقل سے عاری اٹھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف محاکمہ کرنے اور ان کے خلاف عدالت قائم کرنے بیٹھ گیا اور اس کی جرأت بیجا اس حد تک جا پہنچی کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے تئیں صحیح بات کی فہمائش کرنے لگا ، حالانکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو ان عظیم ترین ہستیوں میں سے ہیں جن کے اقوال وافعال کو آج تک مشعل راہ بنایا جاتا ہے اور تاقیامت بنایا جاتا رہے گا ۔

پھر ان لوگوں کے لہجوں کی رعونت دیکھ کر یوں گمان ہونے لگتا ہے کہ غزوہ قسطنطینہ کے اصل بہادر اور شہ سوار یہی لوگ ہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مبارک دور خلافت میں لڑی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اونچے جلیل القدر کردار پر انگلیاں اٹھانے والے اور شوریٰ شوریٰ کا نام لیکر ٹسوے بہانے والے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ غل مچانے والے کہ انہوں نے شوریٰ کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا تھا ، خود کو یوں ظاہر اور پیش کرتے ہیں جیسے امت کی شیرازہ بندی کا سہرا انہی کے سر ہے اور جیسے روم کی سرکشی اور خودسری کو کچل کر خاک میں ملانے والے اور خون آشام جنگوں کے شہسوار یہی جغادری ہیں ۔۔۔

افسوس یہ حضرات یہ بات یکسر بھول جاتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو سب سے زیادہ شوریٰ پر عمل کرنے والے تھے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت شوریٰ سے ہی تعبیر تھا لیکن کوئی سچ بولنا اور انصاف کا دامن تھامنا بھی چاہے تو تب نا !! کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے انتخاب کی بابت کس کس سے مشورہ نہ کیا ؟ کس کس کے دروازے پر دستک نہ دی ؟ کیا ہر قبیلہ کی طرف وفود نہ بھیجے ؟ کیا لوگوں سے رائے نہ لی گئی اور انہوں نے اپنی آراء پیش نہ کیں ؟ کیا اقالیم و قبائل کے وفود نے آ آ کر اس مسئلہ میں شرکت نہ کی اور اپنی رضا کا اظہار کرکے برکت کی دعائیں نہ دی تھیں ؟ تاریخ کی کتابیں ان کے ذکر سے معمور ہیں ۔ ان واقعات کے تناظر میں برملا کہا جا سکتا ہے کہ یزید کا استخلاف شوریٰ سے تھا جس میں اغلبیت کی رائے ثابت ہے گو اجماعِ تام نہیں ملتا ۔۔۔ـ (سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے (مترجِم) تالیف : ڈاکٹر محمد الصلابی ڈاکٹرحامد محمد الخلیفہ ، مترجَم پروفیسر جار اللہ ضیاء صفحہ نمبرز 300 ، 301 ، 312 ، 313 مکتبہ الفرقان خان گڑھ)


نوٹ : اس موضوع پر ہم الگ سے لکھ چکے ہیں جسے اس لنک میں احباب تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید پلید کی ولی عہدی


محترم قارئینِ کرام : ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد کیوں مقرر کردیا تھا ۔


جواب : ہاں بے شک انہوں نے یزید کو ولی عہد مقرر کیا تھا اس لئے نہیں کہ خلافت ، مملکت اور حکومت کو اپنے خاندان میں بند کردیں ۔ یہ بدگمانی ہم نہیں کرسکتے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابہ کے حق میں مومن کو حسن ظن سے کام لینا چاہئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حکم ہے کہ : مومن کے حق میں خیر کا گمان کرو ۔ (مشکوۃ المصابیح)


معاذ اللہ یا تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تم کافر کہو اور اگر مومن کہتے ہو تو قرآن کریم کہتا ہے کہ مومن کے حق میں بدگمانی مت کرو میں کہتا ہوں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مومن ہیں لہٰذا ہم ان کے حق میں بدگمانی نہیں کریں گے اور جب بدگمانی نہیں کریں گے تو لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ انہوں نے اپنے خیال میں وہ بہتر سمجھ کرکیا اگرچہ اس کا نتیجہ بہتر نہیں نکلا ۔


بعض حضرات یزید کی ولی عہدی کے معاملے کو لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آڑ میں یزید کی ایسی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا قتل کوئی ظلم تھا ہی نہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اگر یزید ایسا ہی برا تھا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی برائیاں کیوں نہ دکھائی دیں ، پس ماننا پڑے گا کہ یزید بہت اچھا ہوگا اور اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہوگا ۔


اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یزید کی ولی عہدی کے بعد واقعہ کربلا و حرا وغیرہ رونما ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ ان کا انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے کہ امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان پر یزید اور اس کی حکومت کو ڈسکاؤنٹ دینا بھی جائز نہیں کہ ان معاملات کو طاقت کے یوں اندھا دھن استعمال کے بغیر بھی حل کرنا ممکن تھا ۔ مزید تفصیل اس لنک میں دیئے گئے مکمل مضمون میں پڑھیں : https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/09/blog-post_20.html


آج نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی یہ صلح و فضیلت پسند نہیں ہے یہ نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام خود کو حضرت امام حسن علیہ السّلام سے بڑا محقق و مفتی و عالم سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں ہدایت و عقلِ سلیم عطاء فرمائے اور ہمیں صحابہ کرام و اہلبیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی بے ادبی سے بچائے آمین ۔


صلح امام حسن و معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں ۔ ⏬

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت و مغفرت اور صلح امام حسن اور حضرت معاویہ کے بارے میں امام اہلسنت مجدد دین و ملت محدث ہند فاضل بریلوی الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فتویٰ رضویہ میں متعدد مقامات پر تحقیق پیش کی ہے ان میں سے مختلف اقتباسات پیش خدمت ہیں : ⬇

مگر فضل صحبت و شرف صحابیت سعادت خدائی دین ہے جس سے مسلمان آنکھ بند نہیں کرسکتے تو ان پر لعن طعن یا ان کی توہین تنقیص کیسے گوارہ رکھیں اور کیسے سمجھ لیں کہ مولا علی کے مقابلے میں انہوں نے جو کچھ کیا بربنائے نفسانیت تھا صاحب ایمان مسلمان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی ہاں ایک بات کہتے ہیں اور ایمان لگی کہتے ہیں ہم تو بحمد اللہ سرکار اہل بیت کرام علیہم الرضوان کے غلامان زاد ہیں اور موروثی خدمت گار ہیں ہمیں امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا رشتہ خدانخواستہ ان کی حمایت بے جاکریں مگر ہاں اپنی سرکار کی طرفداری اور امر حق میں ان کی حمایت و پاسداری اور ان کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خصوصاً الزام بدگویاں اور دریدہ دہنوں بدزبانوں کی تہمتوں سے بری رکھنا منظور ہے کہ ہمارے شہزادہ اکبر حضرت سبط اکبر حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسبِ بشارت اپنے جدِ امجد سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اختتام مدت خلافت راشدہ کو منہاج نبوت پر تیس سال رہی اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو چھ ماہ مدت خلافت پر ختم ہوئی عین معرکہ جنگ میں ایک فوج جرار کی ہمراہی کے باوجود ہتھیار رکھ دیئے بالمقصد والا اختیار اور ملک اور امور مسلمین کا انتظام و انصرام امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سپرد کردیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت فرما لی اگر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ العیاذباللہ کافر یا فاسق ہوتے یا ظالم جائر ہوتے تو الزام امام حسن پر آتا ہے کیونکہ انہوں نے کاروبار مسلمین و انتظام شرع و دین باختیار خود بلا جبر واحد واکرہ بلا ضرورت شرعیہ باوجود مقصد ایسے شخص کو تفویض فرمایا اور اس کی تحویل میں دے دیا اور خیر خواہی اسلام کو معاذاللہ کام نہ فرمایا اس سے ہاتھ اٹھا لیا گیا اگر مدت خلاقت ختم ہوچکی تھی اور آپ خود بادشاہت منظور نہیں فرماتے تھے تو صحابہ حجاز میں کوئی اور قابل نظم و نسق دین نہ رکھتا تھا جو انہیں اختیار کیا اور انہیں کے ہاتھ پر بیعت اطاعت کرلی حاش باللہ بلکہ یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی پیش گوئی میں ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سیادت کا نتیجہ ٹھہرایا کما فی صحیح البخاری جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے
صادق و مصدق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا : میرا بیٹا یہ سردار ہے سیادت کا علمبردار ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ عزوجل اس کے باعث دو بڑے گروہ اسلام میں صلح کرادو۔ (صحيح بخاری ج1ص373رقم530،چشتی)
آیت کریمہ کا ارشاد ہے
ونزعنامافی صدورھمہ من غل
اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ۔ (سورۃ نمبر 7آیت43)
جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبیعتوں میں جو کدورت و کشیدگی تھی اسے رفق و الفت سے بدل دیا اور ان میں آپس میں نہ رہی باقی مگر مودت و محبت انتھی ۔ (فتاویٰ رضویہ 29 278)

بے شک امام مجتبٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد فرمائی تھی اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویض خلافت اللہ و رسول کی پسند سے ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا میرا بیٹا سید ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرواے گا ۔ (صحيح بخاری کتاب المناقب الحسن والحسین 1 530)
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبٰی ہرگز انہیں تفویض نہ فرماتے اور نہ اللہ و رسول اسے جائز رکھتے ۔ (فتاویٰ رضویہ شریف ج29ورقہ337)

حدیث امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اجلہ صحابہ میں سے ہیں صحیح ترمزی شریف میں حدیث پاک موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نے ارشاد فرمایا اے اللہ اے راہ نما راہ یاب کر اور اس کے زریعے سے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب امیر معاویہ اب 225 سفیان امین کمپنی جلد 2 صفحہ 225،چشتی)
(اور یہ حدیث صحیح ہے کئ طرق سے یہ روایت بہت ساری کتابوں میں ملتی ہے)
صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے کسی صحابی کو کافر بے دین نہ کہے گا مگر کافر بے دین یاگمراہ بددین عزیز جبار و واحد قہار جل وعلاہ نے صحابہ کرام کو دو قسم کیا ایک وہ کہ قبل فتح مکہ جنہوں نے راہ خدا میں خرچ و قتال کیا دوسرے وہ جنہوں نے بعد فتح مکہ پھر فرمادیا کہ دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرما دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو بایں ہمہ اس نے تم سب سے حسنی کا وعدہ فرمایا یہاں قرآن عظیم نے ان دریدہ دہندوں بیباکوں بے ادب ناپاک کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے افعال سے اُن پر طعن چاہتے ہیں وہ بشریت صحت اللہ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی ان سے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا تو اب جو معترض ہے اللہ واحد قہار پر معترض ہے جنت و مدارج عالیہ اس معترض عالیہ اس معترض کے ہاتھ می نہیں اللہ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سر کھاتا رہے گا اور اللہ نے جو حسنیٰ کا وعدہ فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزا پاۓ گا
وہ آیۃ کریمہ یہ ہے
اے محبوب کے صحابیو تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ و قتال کیا وہ رُتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں اور دنوں فریق سے اللہ نے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو
(القرآن الکریم 57 10)
اب جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ حسنیٰ لیا ہے ان کا حال بھی قرآن عظیم سے سنیے ۔ بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔(القرآن الکریم 21 102 103)
یہ ہے جمیع صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئیے قرآن کریم کی شہادت امیر المومنین مولی المسلمین علی المرتضیٰ مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم قسم اول میں ہیں جن کو فرمایا اولیک اعظمہ درجۃ ۔ (القرآن الکریم 57 10)
اُن کے مرتبے قسم دوم والوں سے بڑے ہیں اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قسم دوم میں ہیں اور حسنی کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کو شامل و لہزا امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے ابن عساکر کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے اصحاب سے لغزش ہوگی جسے اللہ عزوجل معاف فرمائے گا اُس سابقہ کے سبب جو اُن کو میری بارگاہ میں ہے پھر اُن کے بعد کچھ لوگ آئیں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا ۔ (المعجم الاوسط ج4ورقہ142حدیث3243مکتبتہ الریاض)(مجمع الزوائد،چشتی)
یہ ہیں وہ صحابہ کہ صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے
علامہ شہاب خفاجی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب نسیم الریاض شرح شفا امام قاضی عہاض میں فرمایا : جو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت گجرات الہند جلد 3 صفحہ 430،چشتی)
اور اللہ تعالیٰ سچ فرماتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے ۔ (فتویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 279)

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ان کی شان میں گستاخی نہ کرے گا مگر رافضی جس کتاب میں ایسی باتیں ہوں اس کا پڑھنا سننا مسلمانوں پر حرام ہے اسے مسئلہ میں کتابوں کے حوالے کی کیا حاجت اہلسنت کے مسنون عقائد میں تصریح ہے ۔ صحابہ سب کے سب اہل خیرو عدالت ہیں ان کا ذکر نہ کریں گے مگر بھلائی سے ۔ اگر کوئی شخص اہلسنت کی کتابوں کو نہ مانے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نہ مانے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں
بہت لوگ وہ ہیں کہ اسلام لائے مگر عمرو بن العاص ان میں ہیں جو ایمان لائے ۔ (جامع الترمذی مناقب عمرو بن العاص حدیث 3870دار الفکر بیروت ج
5ص456)
باقی آپ اوپر صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق احادیث و قرآن پڑھ آئے ہیں جس سے یہ بات روز عیاں کی طرح روشن ہے کہ تمام صحابہ کرام جنتی ہیں

اہلسنت کے عقیدہ میں تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعظیم فرض ہے اور ان میں سے کسی پر بھی طعن کرنا حرام ہے اور انکے مشاجرات میں خوض ممنوع
حدیث پاک میں ارشاد ہے
اذا ذکر الصحابی فامسکوا
جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے رُک جاؤ ۔ (المعجم الکبیر حدیث 1427)
اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ جب صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر آئے تو خیر ہی سے کریں اور ان کے جو آپس میں معملات ہوے ان سے باز رہیں اور ان کا معاملہ اللہ عزوجل پر چھوڑ دیں اسی میں ہماری بھلائی ہے ۔

اللہ عزوجل سورہ حدید میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی دو قسمیں فرمائیں ایک وہ کہ فتح مکہ سے قبل ایمان لائے ہوئے اور راہ خدا میں مال خرچ کیا دوسرے وہ کہ بعد کے پھر فرمایا
وکلا اللہ وعدہ اللہ حسنا ۔ (القرآن 57 10)
دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور جن سے بھلائی کا ارادہ فرمایا ان کو فرماتا ہے اولیک عنھا مبعدون وہ جہنم سے دور رکھے گئے لا یسمعون حسیسھا اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اس کی بھنک تک نہ سنیں گے وَھُمْہ فِی اشْتَھَتْ. اَنْفُسُھُمْہ خَالِدُونَ °لاَ یَحْزُنُھُمُہ الْفَزَعُ. الْاَکْبَرُ اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی وَ تَتَلَقَّاھُمُ الْمَلَایِکَةُ اُن کا استقبال کریں گے ھٰذَا یَوْمُکُمُہ الَّزِیکُنْتُمْہ تُوعَدُونَ ۔ (القرآن الکریم 21 101)
یہ کہتے ہیں کہ یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیں رب عزوجل نے اُسی آیت میں اس کا منہ بھی بند فرما دیا کہ دنوں فریق صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمایا واللہ بما تعلمون خبیر ۔ (قرآن مجید 57 10)
اور اللہ تعالیٰ کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرو گے بااینہیہ میں تم سب بھلائی پر ہو اور تم سے وعدہ فرما چکا ہے ۔
اس کے بعد کوئی بکے اپنا سر کھاے خود جہنم جائے ۔

صحیح ترمزی شریف میں موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ معاویہ راہ نما راہ یاب کر اور اس کے زریعے سے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب معاویہ بن ابی سفیان امین کمپنی دہلی جلد 2 صفحہ 225،چشتی)
اس لیے جو بھی کسی صحابی کو کافر و بے دین کہے گا وہ خود گمراہ بے دین گمراہ ہے ۔

روافض کا قول کذب ہے عقائد نامہ میں خطا و منکر بود نہیں ہے بلکہ خطائے منکر وبود اہل سنت کے نزدیک امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خطا خطاء اجتہادی تھی اجتہاد پر طعن جائز نہیں خطاء اجتہادی دو قسم ہے مقرر ومنکر. مقرر وہ جس کے صاحب کو اُس پر برقرار رکھا جائے گا اور اس سے تعرض نہ کیا جائے گا جیسے حنفیہ کے نزدیک شافعی المزہب مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا اور منکر وہ جس پر انکار کیا جائے گا جب کہ اس کے سبب کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے جیسے اجلہ اصحاب جمل رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کہ قطعی جنتی ہیں اور ان کی خطاء یقیناً اجتہادی جس میں کسی نام سنیت لینے والے کو محل لب کشائی نہیں بااینہیہ اس پر انکار لازم تھا جیسا امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کیا باقی مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں مداخلت حرام ہے
حدیث پاک میں موجود ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذکر آئے تو زبان روکو ۔ (العجم الکبیر حدیث 1427)
دوسری حدیث فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم : قریب ہے کہ میرے صحابہ سے کچھ لغزش ہوگی جسے اللہ بخش دے گا اُس سابقہ کے سبب جو ان کو میری سرکار میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن کو اللہ جہنم کے بل اوندھا کردے گا یہ وہ ہیں جو اُن لغزشوں کے سبب صحابہ پر طعن کریں گے اللہ عزوجل نے تمام صحابہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن عظیم میں دو قسم کیا ۔
مومنین قبل فتح مکہ و مومنین بعد اول کو دوم پر تفضیل دی اور صاف فرمایا ۔ وکلا وعدہ اللہ الحسنا سورت 57.آیت 10
سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی ان کے افعال کی تفتیش کرنے والوں کا منہ بند کردیا واللہ بما تعملون خبیر 57 10
اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو باینہہ وہ تم سے سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا ہے پھر دوسرا کون ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر طعن کرے واللہ الہادی واللہ اعلم
بے شک امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد فرمائی اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویض خلافت اللہ و رسول کی پسند سے ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا
میرا بیٹا یہ سردار ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرا دے گا
امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبٰی ہرگز انہیں تفویضِ خلافت نہ فرماتے ۔ نہ اللہ و رسول اسے جائز رکھتے ۔ (فتاویٰ رضویہ 29 337)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باب میں یہ یاد رکھنا چاہیے وہ ک حضرات انبیاء علیہم السلام نہ تھے اور نہ ہی فرشتے کہ معصوم ہوں ان سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کو کسی بات پر گرفت اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہے اللہ عزوجل سورہ حدید میں صحابہ کرام کی دو قسمیں فرمائیں
من انفق من قبل الفتح وقٰتل
الزین انفقوا من بعد وقاتلو (57 آیت 10)
یعنی یہ کہ قبل فتح مکہ مشرف بایمان ہوئے راہ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال کر بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نزر کردیا یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین و اولین ہیں ان کے مراتب کیا پوچھنا
دوسرے کہ وہ بعد فتح مکہ ایمان لائے راہ مولا میں خرچ کیا اور جہاد کیا اور جہاد میں حصہ لیا ان اہل ایمان نے اس اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتال سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرت تعداد اور جاہ و مال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے اجر اُن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان سابقون اولون والوں کے درجہ نہیں ۔
اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں کو ان پچھلوں پر تفضیل دی
اور پھر فرمایا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی
ان سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا دیا کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو محروم کوئی نہ رہے گا اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے ۔ اولٰیک عنھا مبعدون وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے
لا یسمعون حسیسھا وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے
وھمہ فی مااشتھت انفسھمہ خٰلدون وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے ۔ (القرآن الکریم سورت 21 آیت 101 102)
لا یحزنھمہ الفزع الاکبر قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی
تتلقّٰھمہ الملٰئکۃ فرشتے ان کا استقبال کریں گے
ھٰذَا یومکہ الزی کنتمہ توعدون یہ کہتے ہوئے کہ یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا
(القرآن الکریم 21 ۔ 103)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان ہے اللہ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے ۔

ضروری تنبیہ : اہل سنت کا عقیدہ یہ کہو نکف عن ذکر الصحابہ الابخیر ۔ یعنی صحابہ کرام کا جب ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے ۔ (شرح عقائد النفسی دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان صفحہ 116،چشتی)
انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلام حقیقی پر تادم مرگ ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان جمہور کے خلاف اسلامی تعلیمات کے مقابل اپنی خواہشات کے اتباع میں کوئی نئ راہ نکالی اور بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہوکر اپنی دکان الگ جما بیٹھے اور اہل حق کے مقابل قتال پر آمادہ ہوگئے وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں اس لئیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جنگ جمل وصفین میں جو مسلمان ایک دوسرے کے مقابل آئے ان کا حکم خطائے اجتہادی کا ہے لیکن اہل نہروان جو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تکفیر کرکے بغاوت پر آمادہ ہوے وہ یقیناً فساق فجار طاغی و باغی تھے اور ایک نئے فرقے کے ساعی و ساتھی جو خوارج کے نام سے موسوم ہوا اور امت میں نئے فتنے اب تک اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 337)

اعلیٰ حضرت رحمة اللہ تعالیٰ علیہ نے تحقیق صحابہ رضی اللہ عنہم پر اینڈ ہی کر دیا ایسی وضاحت ایسی کمال کی گفتگو فرمائی ہے اگر بندہ تعصب کی عینک اتار کر پڑھے تو اس کا دل صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نعروں سے گونج اٹھے فقیر کو یقین ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ کے ان فتویٰ جات سے بہت سارے فوائد حاصل ہوں گے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب و احترام کرنے والا بنادے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

نجدی وہابیوں اور آلِ سعود کے مسلمانوں پر مظالم

نجدی وہابیوں اور آلِ سعود کے مسلمانوں پر مظالم محترم قارئین : آج کل کچھ لوگ سعودی سعودی کرتے ہیں فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے اس مختصر مضمون ...