نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس کس صحابی کو مولا اور بھائی کہا
محترم قارئینِ کرام : الحمد لله اہلسنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ عشرہ مبشرہ ، شہدا بدر احد و تمام مومنین کے مولا ہیں ۔ مولا کا معنی دوست پیارا اور محبوب کے ہیں ۔ اس میں شک کرنے والا ناصبی اور خارجی ہی ہو سکتا ہے ۔ لیکن اس حدیث سے شیعوں اور نیم شیعوں تفضلیوں کا یہ کہنا کہ اس کا معنی آقا ہے اور اس سے پتہ چلا کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کے بھی آقا ہیں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل ہیں اسی طرح شیعوں کا یہ کہنا کہ آپ سارے نبیوں کے آقا و اُن سے افضل ہیں باطل اور غلط ہے ۔ قرآن نے حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مولا کہا ہے ۔ اکثر رافضی اور کے ہمنوا تفضیلی حضرات اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا کہا اور پھر اس فرمان سے یہ باطل نتیجہ اخذ کرتے ہوۓ مولا علی رضی اللہ عنہ کو شیخین کریمین پر مقدم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر اسی اصول کو لیا جائے تو پھر شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو تو خود قرآن مولا کہہ رہا ہے آئیں ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد قثنا علي بن الجعد قال سمعت مقاتلا يقول في قول الله عز وجل : اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4) قال أبو بكر وعمر وعلي ۔
ترجمہ : امام علی بن جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام مقاتل رحمہ اللہ نے فرمایا الله عز وجل کے (فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين) اس فرماں کا مقصود یہ ہے کے حضرت ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حضور علیہ السلام کے مولا ہیں ۔ (فضائل صحابہ الامام احمد بن حنبل الجز الاول صفحہ ۴۱٦ حدیث ٦۴۸ مطبوعہ احیاء التراث مکة المکرمہ ، اسنادہ صحیح)
قرآن کريم ميں بھی مولیٰ کا لفظ مختلف معانی ميں استعمال ہوا ہے ۔ صرف مولیٰ کا لفظ تنہا بھی استعمال ہوا اور متعدد ضميروں کے ساتھ بھی يہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ سورة الحج ، آيت 78 ميں 2 جگہ مولیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، ايک جگہ ”کُم“ ضمير کے ساتھ جبکہ دوسری مرتبہ بغير ضمير کے اور دونوں جگہوں پر اللہ کی ذات مراد ہے ۔ قرآن کريم ميں مولیٰ کا لفظ دوسرے معانی ميں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الدخان آيت 41 میں ہے : جس دن کوئی حمايتی کسی حمايتی کے ذرا بھی کام نہيں آئے گا اور ان ميں سے کسی کی کوئی مدد نہيں کی جائے گی ۔ اس ميں مولیٰ ، اللہ ، کےلیے نہيں بلکہ دوست کے معنیٰ ميں يعنی انسان کےلیے استعمال ہوا ہے ۔ اسی طرح سورة الحديد آيت نمبر 15 میں ہے : چنانچہ آج نہ تم سے کوئی فديہ قبول کيا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کفر اختيار کيا تھا ، تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے ، وہی تمہاری رکھوالی ہے اور يہ بہت برا انجام ہے ۔ اس ميں لفظ مولیٰ ، کُم ، ضمير کے ساتھ جگہ يا ٹھکانے کےلیے استعمال ہوا ہے ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کريم ميں يہ واضح کرديا کہ مولیٰ کے متعدد معانی ہيں ۔ قرآن کريم ميں لفظ مولیٰ ، نا ، ضمير کے ساتھ 2 جگہ سورة البقرة آيت نمبر 286 اور سورہ التوبہ آيت نمبر 51 میں استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ پر اللہ کی ذات مراد ہے يعنی ليکن اس کا مطلب ہرگز يہ نہيں کہ مولانا ايک لفظ ہے اور وہ صرف اللہ کے ساتھ خاص ہے ۔ مولیٰ ايک مستقل لفظ ہے اور اس کے ساتھ مختلف ضميريں استعمال کی جاسکتی ہيں : مولائی ، مولانا ، مولاکم ، مولاہ وغيرہ ۔
لفظ مولا یا لفظ مولانا کا اطلاق جس طرح باری تعالی پر ہوا ہے ، اسی طرح اس لفظ کا استعمال قرآن واحادیث میں دیگر مختلف معانی کےلیے بھی ہوا ہے ۔ چنانچہ درج ذیل سطور میں اس لفظ کی صحیح تحقیق اوراس کا استعمال کس انداز اور کس کس معنی میں ہوا ہے پیش کیا جا رہا ہے ۔
مولا کا اطلاق اللہ تعالی پرقرآن کریم میں : ⏬
(1) فانصرناأنت مولانا ۔ (البقرہ:۲۸۶)
(2) بل اللہ مولاکم ۔ (آل عمران ۱۵۰)
(3) فاعلموا أن اللہ مولاکم ۔ (انفال:۴۰)
(4) واعتصموا باللہ ھومولاکم فنعم المولی ونعم النصیر ۔ (الحج:۷۸)
(5) ذلک نأن اللہ مولی الذین اٰمنوا (محمد:۱۱)
(6) واللہ مولاکم ۔ (تحریم:۲)
(7) الاماکتب اللہ لنا ھومولانا ۔ (توبہ:۵)
(8) فان اللہ ھومولاہ وجبرئیل وصالح المؤمنین ۔ (تحریم:۴)
(9) ثم ردواالی اللہ مولھم الحق ۔ (انعام:۶۲)
(10) وردواالی اللہ مولھم الحق ۔ (یونس:۳۰)
مولا کا اطلاق اللہ تعالی پر احادیث میں : ⏬
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : قولوا اللہ مولانا ولا مولالکم ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۰۴۳)
ترجمہ : لوگو تم کہوکہ اللہ ہمارا مولی اور کارساز ہے نہ کہ تمہارا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ولیقل .... سیدی ومولای ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۵۵۲)(صحیح مسلم حدیث نمبر ۲۲۴۹)
ترجمہ : اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے بارے میں میرا آقا اور میرا مولی کہے ۔
مولا کا اطلاق اللہ تعالی کے علاوہ پر قرآن کریم میں : ⏬
لبئس المولی ۔ (حج:۱۳) ۔ امام مجاھد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : اس آیت میں مولی بت کے معنی میں ہے ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۷۸۰،چشتی)
یوم یغنی مولی عن مولی شیئا ۔ (دخان:۴۱) ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : أی لا ینفع قریب قریبا ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۱۸۳) ، کہ کوئی رشتہ دار کسی بھی رشتہ دار کونفع نہیں پہنچائے گا اس جگہ رشتہ دار پرمولی کا اطلاق ہواہے ۔
مأوٰکم النارھی مولاکم ۔ (تحدید : ۱۵) ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : ھی مولاکم : ھی أولی بکم من کل منزل علی کفرکم وارتیابکم ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۳۹۵) ، کہ مولاکم سے مراد تمہارے لیے ہرمنزل پر تمہارے کفر اور شک کی بناء پر جہنم بہتر ہے ۔ اس جگہ مولی کا استعمال جہنم کےلیے ہوا ہے ۔
وکل علی مولاہ ۔ (نحل :ب۷۶) امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ای غلیظ وثقیل علی مولاہ‘ ۔ (التفسیر الکبیرجلد ۲۰ صفحہ ۸۸) ، وہ اپنے آقا پر بھاری اور بوجھ ہے ۔ اس جگہ مولی کا اطلاق مالک اور آقا پر ہوا ہے ۔
ولکل جعلنا موالی مماترک ۔ (نساء) ۔ اس آیت میں لفظ موالی کا اطلاق وارث پر ہوا ہے ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۱ صفحہ ۶۳۸)
انی خفت الموالی ۔ (مریم : ۵) ۔ امام مجاھد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اراد بالمولی العصبۃ ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۱۵۰) ، یہاں پرمولی کااطلاق ان رشتہ داروں پر ہوا ہے جن کو اصطلاح شرح میں عصبہ کہا جاتا ہے جنہیں میت کے ترکہ میں سے ذوی الفروض کو ان کا حصہ دینے کے بعد بچا ہوا مال دیا جاتا ہے ۔
فاخوانکم فی الدین وموالیکم ۔ (احزاب : ۵) ای ’’أنا من اخوانکم فی الدین ‘‘ کہ میں تمہارا دینی بھائی ہوں ۔ اس آیت میں موالی بھائی کے میں استعمال ہوا ہے ۔
احادیث میں مولانا کا اطلاق اللہ تعالی کے علاوہ پر : ⏬
وَقَالَ الْبَرَاءُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا ۔
ترجمہ : اور حضرت براء رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ، تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہو ۔ (صحيح بخاری كتاب فضائل الصحابة باب مناقب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حدیث نمبر 3730)
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ تَبِعَتْهُمْ تُنَادِي: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ فَحَوِّلِيهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ"، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ :" أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ"، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي"، وَقَالَ لِزَيْدٍ:" أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا"، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ؟ فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ۔
رجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچا جان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا، اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، (جب ہم مدینہ منورہ پہنچے) تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا : جعفر ! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں ، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں ، اور زید ! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ ہیں ، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ فرمایا : اس لیے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے ۔ (مسند احمد مسند الخلفاء الراشدين الجزء الثانی حدیث نمبر 931 مطبوعہ موسسة الرسالہ بیروت ، حکم إسناده حسن)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی اور صاحب فرمایا : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي ۔
ترجمہ : ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کو اپنا جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی اور میرے ساتھی ہیں ۔ (صحيح بخاری كتاب فضائل الصحابة حدیث نمبر 3656)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی فرمایا : قال : استاذنت النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في العمرة ، فاذن لي ، وقال : لا تنسنا يا اخي من دعائك ، فقال كلمة ما يسرني ان لي بها الدنيا، قال شعبة : ثم لقيت عاصما بعد بالمدينة فحدثنيه ، وقال : اشركنا يا اخي في دعائك ۔
ترجمہ : عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا : میرے بھائی ! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا ، آپ نے ( یہ) ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں : پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا ۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت ، لا تنسنا يا أخى من دعائك ۔ کے بجائے ، أشركنا يا أخى في دعائك ، کے الفاظ کہے اے میرے(دینی) بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ۔ (سنن ابوداود حدیث نمبر 1498،چشتی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا دینی بھائی فرمایا : ابن عمر ، قال : آخى رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بين اصحابه فجاء علي تدمع عيناه، فقال : يا رسول الله آخيت بين اصحابك ولم تؤاخ بيني وبين احد ، فقال له رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : انت اخي في الدنيا والآخرة ۔ قال ابو عيسى : هذا حسن غريب ، وفي الباب عن زيد بن ابي اوفى ۔
ترجمہ : عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں ۔ (سنن ترمذی حدیث نمبر 3720)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھائی فرمایا : وَقَالَ لِزَيْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید کےلیے فرمایا تم ہمارے بھائی ہو ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 4251)
اگر بقول روافض وتفضلیہ مولا کا معنیٰ خلیفہ بِلا فصل ہے تو پھر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی خلیفہ بِلا فصل ہونا چاہیے تھا نا ؟
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا انت اخونا یعنی تم ہمارے بھائی ہو کیا اب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھائی کہہ کر پکارا جانا چاہیے ؟
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ : مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو آپ ان دونوں مواقع پر احرام کی حالت میں نہیں تھے ، میں ان دونوں ہستیوں کے درمیان قاصد تھا ۔ (الفتح الربانی حدیث نمبر 11455)(سنن ترمذی حدیث نمبر 841،چشتی)(مسند أحمد ترقيم الرسالة حدیث نمبر 27197 ترقیم بيت الأفكار الدولية حدیث نمبر 27739)
حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : واما المولی فکثیرالتصرف فی الوجوہ المختلفۃ من ولی وناصر وغیرذلک ،ولکن لایقال السید ولا الموتی علی الاطلاق من غیراضافۃ الا فی صفۃ اللہ تعالی ۔۔۔ فکان اطلاق المولی أسھل وأقرب الی عدم الکراھۃ ۔ (فتح الباری جلد ۶ صفحہ ۹۸۶)
ترجمہ : لفظ مولی کا اطلاق بہت سے معانی پر ہوتا ہے ، مثلا ولی ، ناصر ، وغیرہ ، لیکن لفظ مولی اور سید مطلقا بغیرکسی اضافت کے اللہ تعالی کےلیے ہی استعمال ہوتا ہے ، اور لفظ مولی کا اطلاق اللہ کے علاوہ پر کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔ (اس لیے کہ جب سید کا اطلاق اللہ کے علاوہ پر ہو سکتا ہے جب کہ اس میں ایک ہی معنی ، سردار ، پائے جاتے ہیں تو مولی میں چونکہ بہت سارے معنی پائے جاتے ہیں اس اعتبار سے اللہ کے علاوہ پراستعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔
ماکنت مولاہ فعلی مولاہ ۔ (سنن ترمذی : ۳۷۲۲) ، اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ جس کا میں ذمہ دارہوں اس کا علی رضی اللہ عنہ بھی ذمہ دارہے یا جس سے میں محبت کرتا ہوں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔
امام جزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کہ حدیث پاک میں لفظ مولی کا تزکرہ بکثرت آیا ہے ، اور لفظ مولی ایک ایسا نام ہے جوبہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ رب ، مالک ، آقا ، احسان کرنے والا ، آزاد کرنے والا ، مدد کرنے والا ، محبت کرنے والا ، الغرض ہر وہ شخص جوکسی معاملہ کا ذمہ دار ہو اس پر مولی اور ولی کا اطلاق ہوتا ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ثلاثۃ علی کثبان المسک یوم القیامۃ ، عبدادی حق اللہ وحق مولاہ ۔ (سنن ترمذی:۱۹۸۶) کہ قیامت کے دن تین لوگ مشک کے ٹیلوں پرہوگے ، وہ غلام جس نے اللہ تعالی کا حق ادا کیا اور اپنے آقا کا حق ادا کیا ۔ اس حدیث میں بھی مولی آقا اور سردار کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ولابأس بقول العبد لسیدہ : مولای ، فان المولی وقع علی ستۃ عشر معنی ۔۔۔ منھاالناصروالمالک ۔ (شرح مسلم جلد ۵ صفحہ ۹۰۴،چشتی)
ترجمہ : غلام کےلیے اپنے آقا کو مولا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس لیے کہ لفظ مولی سولہ معنی میں استعمال ہوتا اس میں سے مالک اور ناصر بھی ہے ۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ لفظ مولی کا اطلاق اللہ عزوجل کے علاوہ دیگر معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔
قرآن نے حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مولا کہا ہے : ⏬
اکثر رافضی اور کے ہمنوا تفضیلی حضرات اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا کہا اور پھر اس فرمان سے یہ باطل نتیجہ اخذ کرتے ہوۓ مولا علی رضی اللہ عنہ کو شیخین کریمین پر مقدم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر اسی اصول کو لیا جائے تو پھر شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو تو خود قرآن مولا کہہ رہا ہے آئیں ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد قثنا علي بن الجعد قال سمعت مقاتلا يقول في قول الله عز وجل : اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4) قال أبو بكر وعمر وعلي ۔
ترجمہ : امام علی بن جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام مقاتل رحمہ اللہ نے فرمایا الله عز وجل کے (فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين) اس فرماں کا مقصود یہ ہے کے حضرت ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حضور علیہ السلام کے مولا ہیں ۔ (فضائل صحابہ الامام احمد بن حنبل الجز الاول صفحہ ۴۱٦ حدیث ٦۴۸ مطبوعہ احیاء التراث مکة المکرمہ ، اسنادہ صحیح)
یہ دعویٰ کرنا کہ مولا کے الفاظ کسی دوسرے صحابی کےلیے استعمال نہیں ہوئے یہ درست نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد شدہ غلام صحابی رسول حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : قال لزید انت اخونا و مولانا ۔
ترجمہ : آپ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے مولٰی ہیں ۔ (مشکوۃ شریف صفحہ نمبر ۲۹۳ بحوالہ بخاری ومسلم باب بلوغ صغیرالفصل الاول)
مذکورہ روایت میں لفظ مولا وارد ہے ۔
مفسّرِین کے نزدیک مولیٰ کے معنیٰ : ⏬
وہ تفاسیر جن میں مولا کے معنیٰ مددگار لکھے ہیں : اِس آیتِ مبارکہ میں وارِد لفظ مولیٰ کے معنیٰ وَلی اور ناصِر ( یعنی مدد گار) لکھے ہیں ۔ (تفسیرطَبَری جلد 12 صفحہ 154)(تفسیر قُرطُبی جلد 18 صفحہ 143،چشتی)(تفسیرِ کبیر جلد 10 صفحہ 570)(تفسیرِ بَغْوی جلد 4 صفحہ 337)(تفسیرِ خازِن جلد 4 صفحہ 286)(تفسیرِ نَسفی صفحہ1257)
اُن چار کتابوں کے نام بھی حاضِر ہیں جن میں آیتِ مبارَکہ کے لفظ مولیٰ کے معنیٰ ناصر (یعنی مددگار) کیے گئے ہیں ۔ (تفسیرِ جلالین صفحہ 465)(تفسیرِ رُوحُ الْمَعانی جلد 28 صفحہ 481)(تفسیرِ بیضاوی جلد 5 صفحہ 356،چشتی)(تفسیر ابی سُعُود جلد 5 صفحہ 738)
النہایہ میں لفظ مولا کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں : ⏬
(1) رب ۔ پرورش کرنیوالا ۔
(2) مالک ۔ سردار ۔
(3) انعام کرنے والا ۔
(4) آزاد کرنے والا ۔
(5) مدد گار ۔
(6) محبت کرنے والا ۔
(7) تابع ۔ پیروی کرنے والا ۔
(8) پڑوسی ۔
(9) ابن العم ۔ چچا زاد ۔
(10) حلیف ۔ دوستی کا معاہدہ کرنے والا ۔
(11) عقید ۔ معاہدہ کرنے والا ۔
(12) صھر ۔ داماد ، سسر ۔
(13) غلام ۔
(14) آزاد شدہ غلام ۔
(15) جس پر انعام ہوا ۔
(16) جو کسی چیز کا مختار ہو ۔ کسی کام کا ذمہ دار ہو ۔ اسے مولا اور ولی کہا جاتا ہے ۔
(17) جس کے ہاتھ پر کوئی اسلام قبول کرے وہ اس کا مولا ہے یعنی اس کا وارث ہوگا وغیرہ ۔ (ابن اثير النہايه جلد 5 صفحہ 228،چشتی)
حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے الفاظ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں کے تحت فرماتے ہیں : مولیٰ کے بَہُت (سے) معنٰی ہیں : دوست ، مددگار ، آزاد شُدہ غلام ، (غلام کو) آزاد کرنے والا مولیٰ ۔ اِس (حدیثِ پاک میں مولیٰ) کے معنٰی خلیفہ یا بادشاہ نہیں یہاں (مولیٰ) بمعنی دوست (اور) محبوب ہے یا بمعنی مددگار اور واقِعی حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوست بھی ہیں ، مددگار بھی ، اِس لیے آپ رضی اللہ عنہ کو مولیٰ علی کہتے ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد نمبر ۸ صفحہ نمبر ۴۲۵)
قرآنِ کریم میں اللہ عزوجل ، جبریلِ امین اور نیک مؤمنین کو مولیٰ کہا گیا ہے ۔ پارہ 28 سُوْرَۃُ التَّحْرِیْم آیت نمبر 4 میں اللہعزول فرماتا ہے : فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ ترجمہ : توبے شک اللہ اُن کا مدد گار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے ۔
مولا کے معنی کتاب وسنت اورلغت عرب میں متعدد پائے جاتے ہیں : ⏬
النہایہ لابن اثیرالجزری ۔ (جو لغت حدیث میں مشہور تصنیف ہے) میں مولا کہ سولہ عدد معانی ذکر کئے ہیں لیکن ان میں خلیفہ بلا فصل اور حاکم والا معنی کہیں نہیں ملتا یکسر مفقود ہے ۔ یعنی لغت حدیث والوں نے مولا کا یہ معنی کہیں نہیں بیان کیا۔ باقی معانی انہوں نے لکھے ہیں ۔ (النہایہ فی غریب الحدیث جلد ۴ صفحہ ۲۳۱،چشتی)
اسی طرح ؛ المنجد ؛ میں مولا کے اکیس معنی ذکر کئے گے ہیں وہاں بھی مولا کا معنی خلیفہ یا حاکم نہیں پایا گیا ۔ یہ تو کسی مسلمان کی تالیف نہیں ایک عسائی کی علمی کاوش ہے۔ سو یہ بات پختہ ہے کہ اس روایت میں مولا کا لفظ خلیفہ اور حاکم کے معنی میں ہر گز وارد نہیں۔ اس طرح کتاب اللہ اور دیگر احادیث صحیحہ میں مولا کا لفظ خلیفہ یا حاکم کے معنی میں کہیں مستعمل نہیں دیگر معانی میں وارد ہے ۔
اہل علم کےلیے یہ لمحہ فکریہ ہے خلافت بلا فصل ثابت کرنے کےلیے نص صریح درکار ہے ۔ لفظ ؛ مولا ؛ جیسے مجمل الفاظ جو متعدد معانی کے حامل ہوں اور مشترک طور پر مستعمل ہوتے ہیں سے یہ مدٰعی ہر گز ثابت نہیں ہو سکتا ۔
مختصر یہ کہ خلافت بلا فصل کا دعوٰی خاص ہے اور اس کے اثبات کے لئے جو دلیل پیش کی گئی ہے۔ اس میں لفظ مولا اگر بمعنی حاکم ہو تو بھی یہ لفظ عام ہے دلیل عام مدعٰی خاص کو ثابت نہیں کرتی ۔ اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ خلافت بلا فصل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں ارشاد فرمایا تھا اور جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ بلا فصل خلیفہ نامزد تھے تو درج ذیل چیزوں پر غور فرمائیں اصل مسئلہ کی حقیقت واضح ہو جائے گی ۔ (طالبِ و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)







No comments:
Post a Comment