Saturday, 23 May 2026

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں


محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) حضرت ادریس علیہ السلام (2) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ اوردو زمین پر ۔ (1) حضرت خضر علیہ السلام ۔ (2) حضرت الیاس علیہ السلام ۔ حضرت خضر علیہ السلام سمندر پر اور حضرت الیاس علیہ السلام خشکی پر مُنْتَظِم ہیں ۔ (تفسیر روح البیان سورة الصافات آیت نمبر ۱۲۳  جلد ۷ صفحہ ۴۸۱ ، ۴۸۳)


حظرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آج بھی چار نبی علیہم السلام (دنیاوی حیات کے ساتھ) زندہ ہیں دو زمین پر ہیں اور دو آسمان میں ، جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں علہیم السلام ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)(الدرالمثور جلد ٧ صفحہ ١٠٣ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)


یاد رہے کہ چار انبیاء علیہم ُالصلوٰۃ والسلام وہ ہیں جن پر ابھی ایک آن کےلیے بھی موت طاری نہیں ہوئی ۔ دو آسمان پر حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ اور دو زمین پر حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہمُ الصلوٰۃ والسلام ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ 505)


نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے زمانہ میں اور آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا ، اگر پہلے کے کوئی نبی زندہ ہوں تو مضائقہ نہیں ان کی زندگی حضور انور کے خاتم النبیین ہونے کے خلاف نہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 8)


بارگاہِ رسالت میں حاضری: حضرت الیاس علیہ السَّلام نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کو ایک غار میں یہ دعا کرتے ملے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنْ اُمَّۃِ اَحْمَدَ الْمَرْحُوْمَۃِ الْمُبَارَکَۃِ الْمُسْتَجَابِ لَھَا ، یعنی اے اﷲ ! مجھے احمد کی امت سے بنادے جس پر تیری رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور جس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 213)(فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 639،چشتی)


اور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پہنچانے کا فرمایا کہ آپ کے بھائی الیاس آ پ کو سلام بھیجتے ہیں ، نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں تشریف لائے اور حضرت الیاس سے معانقہ فرمایا پھر دونوں مقدس حضرات نے وہیں بیٹھ کر آپس کی کچھ گفتگو بھی کی ۔ (فیض القدیر جلد 3 صفحہ 672 تحت الحدیث : 4133)


صلح حدیبیہ کے موقع پر جو بیعتُ الرضوان لی گئی اس میں حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السَّلام بھی شامل تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 274)


حضرت الیاس اور حضرت خضر علیہما السلام دونوں نبی رمضان کے مبارک مہینے میں بیتُ المقدس میں ہوتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، دونوں صاحبان حج کو ہرسال تشریف لاتے ہیں بعدِ حج آبِ زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تک ان کے کھانے پینے کو کفایت کرتا ہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی جلد 8 صفحہ 86 سورہ الصفت آیت ننبر 123،چشتی)(فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 401)


ایک روایت کے مطابق ہر سال حج کے موسم میں مِنیٰ کے مقام پر ملاقات کرتے ، ایک دوسرے کا حلق فرماتے اور ان کلمات پر باہمی ملاقات ختم فرماتے ہیں : سُبْحٰنَ اللهِ مَا شَاءَ اللهُ لَا يَسُوقُ الْخَيْرَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا يُصْلِحُ السُّوْ ءَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ یعنی اللہ پاک ہے ، جو اللہ چاہے، بھلائی صرف اللہ لاتا ہے ، جو اللہ چاہے ، بُرائی کو صرف اللہ ٹالتا ہے ، جواللہ چاہے ، نیکی کی طاقت صرف اللہ کی توفیق سے ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 211)


حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں : جو ان کلمات کو صبح و شام تین بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے ڈوبنے، جل جانے اور  (اس کا مال) چوری ہونے سے محفوظ رکھے گا، شیطان، ظالم بادشاہ، سانپ اور بچھو سے بھی حفاظت کی جائے گی ۔ (سیرت حلبیہ جلد 3 صفحہ 212)


 وفات مبارکہ: سال کے باقی دنوں میں حضرت الیاس علیہ السَّلام تو جنگلوں اور میدانوں میں گشت فرماتے رہتے ہیں اور پہاڑوں اور بیابانوں میں اکیلے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں جبکہ حضرت خضر علیہ السَّلام دریاؤں اور سمندروں کی سیر فرماتے اور اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں،یہ دونوں مقدس حضرات دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے تابع ہیں اور آخری زمانے میں وفات پائیں گے ۔ (عجائب القرآن صفحہ 294)(مستدرک جلد 3 صفحہ 470 حدیث نمبر 4175،چشتی)(فیض القدیر جلد 4 صفحہ 572 تحت الحدیث : 5880)


امام ابن عسا کر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، ہم ایک جگہ ٹھہرے تو وہاں وادی میں ایک شخص یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے بنا دے جو مرحومہ اور مغفورہ ہے اور ثواب پانے والی ہے ، پس میں نے وادی میں جھانک کر دیکھا تو ایک آدمی کھڑا تھا جس کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سوفٹ) تھا ، اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا میں انس بن مالک ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم ہوں ، اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ، میں نے کہا وہ یہیں ہیں اور تمہاری باتیں سن رہے ہیں ، اس نے کہا تم ان کے پاس جائو اور ان کو میرا سلم پہنچاٶ اور ان سے کہو کہ آپ کا بھائی آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، پس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ، آپ آئے اور آپ نے ان سے ملاقات کی اور ان سے معانقہ کیا اور سلام کیا اور سلام کیا پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ، انہوں نے کا یا رسول اللہ ! میں سال میں صرف ایک دن کھانا کھاتا ہوں اور آج میرے کھان کا دن ہے ، پس آپ اور میں دونوں کھاتے ہیں ، پھر آسمان سیایک دستر خوان نازل ہوا اس میں روٹیذ مچھلی اور اجوائن تھی ، ان دونوں نے وہ کھانا کھایا اور مجھے بھی کھلایا اور ہم نے عصر کی نماز پڑھی ، پھر آپ نے ان کو الوداع کیا وہ بادل میں بیٹھ کر آسمان کی طرف چلے گئے ، امام عسا کر کہتے ہیں کہ حافظ بیہقی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٩،چشتی)(المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ طبع قدیم)(المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٢١ طبع جدید)


امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ اس حدیث میں جو قصہ ذکر کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معجزات عطاء فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات عطا فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں وہ کافی ہیں ۔ (دلائل النبوۃ جلد ٥ صفحہ ٤٢٢ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢٣ ھ)


حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں : یہ قصہ حترت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے وہ کہتے ہیں ہم غزوہ تبوک میں ایک جگہ پہنچے جس کا نام الحوزۃ تھا ، تہائی رات کے بعد ہمیں ایک غم ناک آواز سنائی دی : اے اللہ ! مجھے امت محمد سے بنادے جو مرحوم اور مغفور ہے اور جس کی دعا قبول ہوتی ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حذیفہ ! اور اے انس ! تم اس گھاٹی میں جاٶ اور دیکھو یہ کیسی آواز ہے ، اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کے قصہ کو حافظ ابن عسا کرنے زیادہ تفصیل سے لکھا ہے ، اور اس کے آخر میں لکھا ہے یہ حدیث منکر ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٦٠ ۔ ١٥٩ رقم الحدیث : ٢٢٧٥ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ،چشتی)


مام حاکم نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد جو لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے (المستدرک جلد ٢ صفحہ ١١٦)


اس پر شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذھبی متوفی ٨٤٨ ھ نے تلخیص المستدرک میں یہ تبصرہ کیا ہے : بلکہ یہ حدیث موضوع ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو خراب کرے جس نے اس حدیث کو وضع کیا ہے ، مجھے یہ گمان نہ تھا کہ حاکم کا جہل اس حد تک پہنچے گا کہ وہ ایسی حدیث کو صحیح الاسناد کہیں گے ۔ (تلخیص المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ دارالباز للنشر والتویع مکہ مکرمہ)


اور میران الاعتدال میں یہ تبصرہ کیا ہے : پس حاکم کو اس سے حیاء نہیں آئی کہ اس نے اس کو صحیح کہا ۔ (میزان الاعتدال جلد ٧ صفحہ ٢٦٤ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٦ ھ)


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی المتوفی ٧٧٤ ھ نے اس روایت پر یہ تبصرہ کیا ہے : حاکم نیشاپوری پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی مستدرک میں درج کیا ہے ، حالانکہ یہ حدیث موضوع ہے اور احادیث صحیحہ کے حسبِ ذیل وجوہ سے مخالف ہے : ⏬


(١) حدیث صحیح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ، بیشک اللہ نے آدم کو پیدا کیا آسمان میں ان کے جسم کا طول ساٹھ ذراع (نوے فٹ) تھا ، (الی قولہ) پھر مخلوق کا قدکم ہوتے ہوتے اتنا رہ گیا جتنا اب ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٢٦)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤١)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٦٢)(الاسماء والصفات صفحہ ٢٩٠ ۔ ٢٨٩)(شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٩٨)(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٨)(المستدرک جلد ١ صفحہ ٦٤،چشتی)(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٤٣٥)(مسند احمد جلد ٢ صفحہ ٣١٥ رقم الحدیث : ٨١٧١ دارالفکر)(مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦٥٨٠) ۔ اور اس روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سو فٹ) تھا ۔


(٢) اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں گئے حتی کہ آپ خود ان کے پاس گئے اور یہ صحیح نہیں کیونکہ ان پر یہ حق تھا کہ وہ خود خاتم الانبیاء کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔


(٣) اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضرت الیاس سال میں صرف ایک مرتبہ کھاتے تھے ، اور وہب بن منبہ سے یہ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کھانے اور پینے کی لذت سلب کرلی تھی اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ سال میں صرف ایک بار زمزم کا پانی پیتے تھے اور یہ تمام اشیاء متعارض اور باطل ہیں ان میں سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۔


(٤) حافظ ابن عسا کرنے اس حدیث کو واثلہ بن الاسقع سے بھی روایت کیا ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے اور اس میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس حضرت انس بن مالک اور حضرت حذیفہ بن یمان کو بھیجا تھا اور اس میں یہ ذکر ہے کہ ان کا قدان سے دو یا تین ذراع زیادہ تھا ، اور اس میں یہ ذکر ہے کہ جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے تو انہوں نے جنت کا کھانا کھایا ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت الیاس نے کہا میں ہر چالیس دن کے بعد کھانا کھاتا ہوں ، اور اس میں یہ ہے کہ آسمان سے نازل ہونے والے دستر خوان میں روٹی ‘ انار ‘ انگور ‘ بادام ‘ تازہ کھجوریں اور سبزیاں تھیں ‘ اور اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خضر کے متعلق سوال کیا تو حضرت الیاس نے کہا میں سال کی ابتداء میں ان سے ملاقات کروں گا اور آپ نے فرمایا کہ جب آپ کی ان سے ملاقات ہو تو آپ ان سے میرا سلام کہیں ‘ اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس موجود ہیں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ نو ہجری تک خضر اور حضرت الیاس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور یہ وہ چیز ہے جو شرعاً جائز نہیں اور یہ بھی موضوع ہے ۔ (البدایہ والنہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ ۔ ٤٤٤ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ)


حضرت الیاس (علیہ السلام) سمیت چار نبیوں کے ابھی تک زندہ ہونے پر حافظ ابن کثیر کا تبصرہ اور اس پر فقیر کا تبصرہ : کعب نے روایت کیا ہے کہ آج بھی چار نبی رندہ ہیں دوزمین پر ہیں اور دو آسمان میں ہیں ‘ جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)


مذکورہ روایت کے متعلق حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : ہم اس سے پہلے بعض لوگوں کا یہ قول ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہر سال ماہ رمضان میں بیت المقدس میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور وہ ہر سال حج کرتے ہیں اور ززم سے پانی پیتے ہیں جو ان کو اگلے سال تک کے لیے کافی ہوتا ہے ‘ اور ہم وہ دیث بیان کرچکے ہیں کہ وہ دونوں ہر سال میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور ہم یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہے ‘ اور جو چیز دلیل سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور اسی طرح حضرت الیاس بھی ‘ اور وہب بن منبہ نے جو یہ روایت کیا ہے کہ جب حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تکذیب کی اور ان کو ایذاء پہنچائی تو حضرت الیاس نے اپنے رب سے دعا کی ‘ پھر آگ کے رنگ کا ایک جانور آیا ‘ حضرت الیاس اس پر سوار ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو نور کا لباس پہنا دیا اور ان سے کھانے اور پینے کی لذت کو منقطع کردیا اور وہ فرشہ اور بشر کی صورت میں زمین آسمان پر گئے ‘ اور انہوں نے الیسع بن اخوطب کو وصیت کی ‘ سو اس روایت پر اعتراضات ہیں اور یہ اسرائیلیات میں سے ہے جس کی تصدیق واجب ہے نہ تکذیب ‘ بلکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ روایت بہت بعید ہے۔ (البدایہ النہایہ ج ٠ ص ٤٤٤۔ ٤٤٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)


اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت الیاس اور خضر (علیہما السلام) پر ابھی تک طبعی موت نہیں آئی ‘ لیکن بہر حال قیامت سے پہلے ان پر موت آئے گی اور واضح رہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو موت کے بعد پھر حیات عطا کردی جاتی ہے اور انبیاء علیہم السلام پر صرف ایک آن کے لیے موت آتی ہے ‘ اسی طرح حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابھی تک موت نہیں آئی لیکن قیامت سے پہلے ان پر بہر حال موت آئے گی ۔


حضرت الیاس کے لوگوں سے ملاقات کرنے کی روایت : ⏬


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : حافظ ابن عسا کرنے کئی سندوں سے یہ روایت ذکر کی ہیں کہ حضرت الیاس کی اللہ کے بندوں سے ملاقات ہوئی ‘ یہ تمام روایات ضعیف یا مجہول ہیں اور بہترین حدیث وہ ہے جس کو امام ابن ابی الدنیا نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے : ثابت بیان کرتے ہیں کہ ہم مصعب بن الزبیر کے ساتھ کوفہ کے مضافات میں تھے ‘ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی سو میں نے سورة المومن کی یہ تین آیتیں تلاوت کیں۔ حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافرالذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول اس وقت میرے پیچھے ایک شخص سرخ خچر پر سوار کھڑا تھا اور اس نے یمن کا لباس پہنا ہوا تھا ‘ اس نے کہا جب تم غافر الذنب پڑھو تو یہ دعا کر ویا غافر الذنب اغفرلی ذنبی ( اے گناہ بخشنے والے میرے گناہ بخش دے) اور جب تم پڑھو قابل التوب تو یہ دعا کرو یا قابل التوب تقبل توبتی (اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول فرما) اور جب تم پڑھو شدید العقاب تو یہ دعا کرو یا شدید العقاب لا تعاقبنی (اے سخت سزا دینے والے مجھے سزانہ دینا) اور جب تم پڑھو ذی الطول تو یہ دعا کرنا یا ذالطول تطول علی برحمتی ( اے قدرت والے ! اپنی قدرت سے مجھ پر رحمت نازل فرما) میں نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ‘ میں باغ سے باہر نکل آیا اور لوگوں سے پوچھا کیا تم نے ایک شخص کو دیکھا ہے جو سرخ خچر پر سوار تھا اور اس نے یمنی لباس پہنا ہا تھا ‘ لوگوں نے کہا یہاں پر ایسا کوئی شخص نہیں تھا ‘ اور ان کا یہ گمان تھا کہ وہ شخص حضرت الیاس کے سوا اور کوئی نہیں تھا ۔ (البدایہ النہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ،چشتی)


حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو حسن کے بجائے احسن لکھا ہے اور اس سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔


ان چار حضرات کو وعدہ الٰہیہ آیا ہی نہیں ۔ ان میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پر ۔ حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السلام زمین پر ہیں اور حضرت عیسیٰ و حضرت ادریس علیہما السلام آسمان پر ۔ (ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 484)


حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا واقعہ : ⏬


قرآن مجید میں ارشاد ہے : ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا ۔ (سورہ مریم آیت نمبر 57)


 بعض روایات میں ہے کہ بعد موت آپ آسمان پر تشریف لے گئے ۔(تفسیر البغوی) ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک بار آپ دوپہر، دھوپ کی شدت میں تشریف لے لیے جا رہے تھے ۔ آپ کو سخت تکلیف ہوئی ۔ خیال فرمایا کہ جو فرشتہ آفتاب پر مقرر ہے اسے کس قدر تکلیف ہوتی ہوگی ؟ عرض کی : یا اللّٰہ ! اس فرشتہ پر تخفیف فرما ۔ فورا دعا قبول ہوئی اور اس ہر تخفیف ہو گئی ۔ اس فرشتہ نے عرض کی : یا اللّٰہ ! مجھ پر تخفیف کس طرف سے آئی ؟ ارشاد ہوا : میرے بندے ادریس نے تری تخفیف کے واسطے دعا کی ، میں نے اس کی دعا قبول کی ، عرض کی : مجھے اجازت دے کہ میں ان کی خدمات میں حاضر ہوں ۔ اجازت ملنے پر حاضر ہوا ۔ تو تمام واقعہ بیان کیا اور عرض کیا کہ اگر کوئی بات ہو تو ارشاد فرمائیں ۔ فرمایا : مجھے ایک مرتبہ جنت میں لے چلو ۔ عرض کی : یہ تو میرے قبضے سے باہر ہے لیکن عزرائیل علیہ السلام سے میرا دوستانہ ہے ، ان کو لاتا ہوں شاید کوئی تدبیر چل جائے ۔ غرض عزرائیل علیہ السلام آئے ، آپ نے ان سے فرمایا : انہوں نے عرض کی : حضور ! بغیر موت کے تو جنت میں جانا نہیں ہو سکتا ۔ فرمایا : روح قبض کر لو ۔ انہوں نے بحکم خدا ایک لمحے کےلیے ان کی روح قبض کی اور فوراً جسم میں ڈال ڈی ۔ آپ نے فرمایا : مجھے جنت اور دوزخ کی سیر کراؤ ۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام حضرت ادریس علیہ السلام کو دوزخ پر لائے ، طبقات جہنم کھلوائے ، آپ دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے ۔ عزرائیل علیہ السلام وہاں سے لے کر آئے توان کے ہوش میں آنے کے بعد عرض کیا : یہ تکلیف آپ نے اپنے ہاتھوں سے اٹھائی ۔ پھر جنت میں لے گئے ، وہاں کی سیر کرنے کے بعد عزرائیل علیہ السلام نے چلنے کے واسطے عرض کیا ۔ آپ نے دو مرتبہ التفات نہ فرمایا ۔ تیسری بار فرمایا کہ اب چلنا کیسا ، جنت میں آکر بھی کوئی وآپس جاتا ہے ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے واسطے بھیجا ۔ عزرائیل علیہ السلام سے بات کرنے کے بعد فرشتے نے حضرت ادریس علیہ السلام سے پوچھا : آپ واپس تشریف کیوں نہیں لے جاتے ؟ ارشاد فرمایا : اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،(سورہ أل عمران آیت نمبر 185) ، اور میں موت کا مزہ چکھ چکا ہوں ۔ اور فرماتا ہے : تم میں سے ہر ایک جہنم کی سیر کرے گا ۔ (سورہ مریم آیت ننبر 171) ، اور میں جہنم کی سیر بھی کر آیا ہوں ، اور فرماتا ہے : اور وہ لوگ جنت سے کبھی نہ نکالے جائیں گے (الحجر آیت ننبر 48) ، اب میں جنت میں آگیا ، کیوں جاؤں ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرا بندہ ادریس علیہ السلام سچا ہے ، اس جو چھوڑ دو ۔ ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 485)


فتویٰ دارالعلوم دیوبند : ⏬


چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام

سوال

محترم المقام السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ


لوگ کہتے ہیں کہ چار انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں ؛ جن میں دو آسمانوں میں ہیں:حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام ، جب کہ دو اسی دنیا میں ہیں: حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟ نیز، مہربانی فرماکرکیا اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ حضرت خضر و حضرت الیاس علیہما السلام کہاں ہیں ؟ ۔ شکریہ ! والسلام ۔


جواب : بسم الله الرحمن الرحيم ۔ (فتوی: ۱۷۶/ب) ۔ تحقیق یہ ہے کہ صرف ایک نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان پر موجود ہیں ، حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں جس آیت سے آسمان پر اٹھائے جانے کا مفہوم نکلتا ہے اس سے مراد رفعت مکانی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے مرتبہ کو بلند فرمایا ۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں زندہ ہونے کی کوئی آیت یا حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری۔ حضرت خضر علیہ السلام، صحیح قول کے مطابق وہ نبی نہ تھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء ، دارالعلوم دیوبند ۔ اس فتوے کا لنک : ⏬

چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام https://www.darulifta.info/d/deoband/fatwa/vq/char-anbyaaa-ka-znd-ona-aor-hdrt-khdr-o-alyas-aalym-alslam-ka-mkam


حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مکان پر اٹھالینے کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے آپ علیہ السلام کے مرتبے کی بلندی مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور زیادہ صحیح یہی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے ۔ (تفسیر خازن سورہ مریم آیت نمبر ۵۷ جلد ۳ صفحہ ۲۳۸) ۔ اور آپ علیہ السلام اب بھی حیاتِ ظاہری سے متصِف ہیں ۔


اللہ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے : اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورہ آلعمران آیت نمبر ۵۵)

ترجمہ : یاد کرو جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہیں پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے نجات عطاکروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے توجن باتوں میں تم جھگڑتے تھے ان باتوں کا میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا ۔


پہلی بات تَوَفّٰی ہے ۔ مرزائیوں نے آیتِ پاک کے ان الفاظ کو بنیاد بنا کر یہود و نصاریٰ کی پیروی میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ کیا اور یہ سراسر غلط ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ تَوَفّٰی کا حقیقی معنی ہے ، پورا کرنا ، جیسے قرآن پاک میں ہے : وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ۔ (النجم آیت نمبر ۳۷)

ترجمہ : اور ابراہیم جو پورے احکام بجا لایا ۔


اور یہ موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، لیکن یہ ا س کا مجازی معنی ہے اور جب تک کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو اس وقت تک لفظ کا حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا ، اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں کہ تَوَفّٰی کا معنی موت کیا جائے بلکہ اس کا حقیقی معنی مراد لینے پر واضح قرائن بھی موجود ہیں اور وہ قرائن احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قربِ قیامت میں واپس تشریف لائیں گے ۔ لہٰذا اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی ۔ دوسرے نمبر پر بالفرض اگر تَوَفّٰی کا معنیٰ ،وفات دینا، ہی ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ صرف یہ فرمایا ہے کہ ، اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دوں گا ۔ تو یہ بات تو ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات پائیں گے ، یہ معنی نہیں ہے کہ ہم نے تجھے فوت کر دیا ۔ اب یہ بات کہ آیت میں تَوَفّٰی یعنی وفات دینے کا پہلے تذکرہ ہے اور اٹھائے جانے کا بعد میں اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جا چکے ہیں لہٰذا ان کی وفات بھی پہلے ثابت ہو گئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں ’’مُتَوَفِّیْكَ‘‘ اور ’’رَافِعُكَ‘‘ کے درمیان میں ’’واؤ‘‘ ہے اور عربی زبان میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں آتی کہ جس کا مطلب یہ نکلے کہ وفات پہلے ہوئی اور اٹھایا جانا بعد میں ، جیسے قرآن پاک میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا گیا : وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ ۔ (سورہ آلِ عمران آیت نمبر ۴۳)

ترجمہ : اور سجدہ اور رکوع کر ۔

یہاں سجدے کا پہلے تذکرہ ہے اور رکوع کا بعد میں ، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا رکوع بعد میں کرتی تھیں اور سجدہ پہلے ، ہر گز نہیں ۔ لہٰذا جیسے یہاں ’’واؤ‘‘ کا آنا ترتیب کےلیے نہیں ہے ایسے ہی مذکورہ بالا آیت میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں ہے ۔

دوسری بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا ہے ۔ فرمایا گیا کہ ہم تمہیں  بغیر موت کے اٹھا کر آسمان پر عزت کی جگہ اور فرشتوں کی جائے قرار میں پہنچا دیں گے ۔ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام میری امت پر خلیفہ ہو کر نازل ہوں گے ، صلیب توڑیں گے ، خنزیروں کو قتل کریں گےط، چالیس سال رہیں گے ، نکاح فرمائیں گے ، اولاد ہوگی اور پھر آپ علیہ السلام کا وصال ہوگا ۔ وہ امت کیسے ہلاک ہو جس کا اوّل میں ہوں اور آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور وسط میں میرے اہلِ بیت میں سے حضرت مہدی رضی اللہ عنہُ ۔ (تفسیر مدارک سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۵۵ صفحہ ۱۶۳،چشتی)(ابن عساکر ذکر من اسمہ عیسیٰ ، عیسی بن مریم جلد ۴۷ صفحہ ۵۲۲)


مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منارۂ شرقی دمشق پر نازل ہوں گے ۔ (صحیح مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ صفحہ ۱۵۶۸ الحدیث : ۱۱۰ (۲۹۳۷))


یہ بھی حدیث میں ہے : نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حجرہ میں مدفون ہوں گے ۔ (الوفاء باحوالِ المصطفٰی ابواب بعثہ وحشرہ وما یجری لہ صلی اللہ علیہ وسلم الباب الثانی فی حشر عیسی بن مریم مع نبینا صفحہ ۳۲۵ الجزء الثانی)


تیسری بات کہ کفار سے نجات دلاؤں گا ۔ اس طرح کہ کفار کے نرغے سے تمہیں بچا لوں گا اور وہ تمہیں سولی نہ دے سکیں گے ۔


چوتھی بات ماننے والوں کومنکروں پر غلبہ دینا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں سے مراد ہے ’’ان کو صحیح طور پر ماننے والے‘‘ اور صحیح ماننے والے یقیناً صرف مسلمان ہیں کیونکہ یہودی تو ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن ہیں اور عیسائی انہیں خدا مانتے ہیں تو یہ ’’ماننا ‘‘ تو بدترین قسم کا ’’نہ ماننا‘‘ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی کو معبود نہ مانو اور یہ کہیں ، نہیں ، ہم توآپ کو بھی معبود مانیں گے ۔


اور دو نبی زمین پر تشریف فرما ہیں : ⏬


حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام آپ دونوں بھی حیات ہیں ۔


مرأة المناجیح میں ہے : آپ (خضر علیہ السلام) کا نام عباس یا بلیا ابن ملکان ہے ۔ آپ نوح علیہ السلام کی ساتویں پشت پر ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے ۔ آپ کا مقام سمندر ہے ۔ الیاس علیہ السلام کا مقام خشکی ہے ۔ قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ بزرگوں سے ملاقات کرتے ہیں ۔ حضور غوث پاک نے آپ سے فرمایا تھا کہ اے اسراٸیلی ولی محمدی ولی کی بات سنتے جاٸیے ۔ آپ نبی ہیں ہر سال حج کے موقع پر آپ اور الیاس علیہما السلام جمع ہوتے ہیں ۔ (مرأة المناجیح شرح مشکٰوة المصابیح جلد ٧ صفحہ ٤٢٤)


اہلسنت کے نزدیک یہ چار انبیإ آج بھی ظاہری حیات میں موجود ہیں ، بایں کہ تمام انبیاء علیہم الصلٰوة والسلام اپنی قبروں میں حیات ہیں ۔ جب قیامت قریب آئے گی تو اس وقت وفات پائیں گے اور بعض بزرگوں کی ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Friday, 22 May 2026

منافق کسے کہتے ہیں ، منافقت کی علامات اور منافقین کی پہچان

منافق کسے کہتے ہیں ، منافقت کی علامات اور منافقین کی پہچان






محترم قارئینِ کرام : قرآن کریم کی معروف اصطلا حات میں سے ایک اصطلاح منافق بھی ہے ۔ اسلامی سو سائٹی میں جو عناصر بظاہر مسلمان نظر آتے ہیں لیکن باطن میں وہ اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں ، ایسے افراد کو منافق کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے یعنی یہ ’’دوست نما دشمن‘‘ کا کردار کرتے ہیں ۔

سورۃ العنکبوت کے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلَيَـعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيَـعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ۔ (سورۃ العنكبوت آیت نمبر 11)

ترجمہ : اور ضرور الله ظاہر کردے گا ایمان والوں کو اور ضرور ظاہر کردے گا منافقوں کو ۔


"منافق" نفق سے ماخوذ ہے ۔ جس کا معنی سرنگ ہے اور بعض نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لومڑی اپنے بل کے دو منہ رکھتی ہے ۔ ایک کا نام نافقاء اور دوسرے کا نام قاصعاء ہے ۔ ایک طرف سے وہ داخل ہوتی ہے اور جب کوئی شکاری اس کا تعاقب کرتا ہے تو وہ دوسری طرف سے نکل جاتی ہے اور اگر دوسری جانب سے کوئی اس کا تعاقب کرتا ہے تو وہ پہلے سوراخ سے نکل جاتی ہے ۔ اس کے بل کے ایک طرف کا نام نافقاء ہے ، اسی سے "منافق" ماخوذ ہے ۔ اس کے بھی دو پہلو ہیں ۔ ایک کفر ، جو اس کے دل میں ہے۔ دوسرا ایمان جو اس کی زبان پر ہے ۔ اگر کفر سے اسے کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے لگتا ہے اور اگر اسلام کے باعث اسے کوئی تکلیف پہنچ رہی ہو تو وہ فوراَ اپنے کافر ہونے کا اعلان کر دیتا ہے ۔ (لسان العرب)


مُنافقت کا معنیٰ ہے اپنے قول او رعمل سے وہ کچھ ظاھر کرنا جو دِل میں موجود عقائد و عزائم کے خِلاف ہو اور اِسلام میں منافقت کا مفہوم ، دِل میں کفر ، شرک اور گناہوں کا اقرار اور عمل کے وجود کے ساتھ ، اپنے آپ کو قولی اور عملی طور پر اِیمان والا ، اللہ کی توحید کو ماننے والا، اور گناہوں سے دُور رہنے و الا ظاہر کرنا ۔

اللہ تعالیٰ نے جہنم کا سب سے نچلا درجہ ، منافقین ، یعنی ، منافقت کرنے والوں کا ٹھکانہ مقرر فرما رکھا ہے : اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ‌ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيۡرًا ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 145)

ترجمہ : بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور (اے مخاطب) تو ان کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہیں پائے گا ۔


خواہ یہ مُنافق ، نفاق اکبر (بڑی مُنافقت) پر عمل کرنے والے ہوں ، یا نفاق اصغر (چھوٹی مُنافقت) پر ، اعتقادی نفاق والے ہوں یا عملی مُنافقت والے ، سب کا ٹھکانہ وہی ہے ۔


اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا منافق آگ کے سب سے نچلے درک میں ہوں گے ، ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ درک کا معنی منزل ہے اور جہنم میں کئی منازل ہیں اور منافق سب سے نچلی منزل میں ہوں گے ، ابن الانباری نے کہا ہے کہ درک سیڑھی کے ڈنڈے کو کہتے ہیں ، ضحاک نے کہا جب منازل میں یہ لحاظ کیا جائے کہ بعض ، بعض سے اوپر ہیں تو ان کو درج (درجہ) کہتے ہیں اور جب یہ لحاظ کیا جائے کہ بعض بعض سے نیچے ہیں تو ان کو درک کہتے ہیں ۔ ابن فارس نے کہا جنت میں درجات ہیں اور دوزخ میں درکات ہیں ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کی تفسیر میں فرمایا منافق لوہے کہ ایک ایسے تابوت میں ہوں گے جس کا کوئی دروازہ نہیں ہوگا ۔ (جامع البیان جز ٥ صفحہ ٤٥٤)


منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان سرگرداں پھرنے والی بکری کی مانند ہے : ⏬


أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ ۔

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو ، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے ۔ (سنن نسائی كتاب الإيمان وشرائعه حدیث: نمبر 5040)(صحیح مسلم المنافقین حدیث نمبر 2784)(تحفة الأشراف حدیث نمبر 8472)(مسند احمد (2 / 32 ، 47 ، 68 ، 82 ، 88 ، 102)(حکم الحدیث صحیح)


 نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُوسَى بْنُ خَاقَانَ، نا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً، لَا تَدْرِي أَيُّهَمَا تَتْبَعُ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : منافق کی مثال (دو ریوڑوں کے درمیان) سرگرداں پھرنے والی بکری کی مانند ہے جو کبھی ایک ریوڑ کی طرف (جفتی کے لیے بکرے کی تلاش میں) بھاگتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کی طرف (بھاگتی ہے) وہ نہیں جانتی کہ ان دونوں میں سے کس کے پیچھے جائے ۔ (مسند الشهاب حدیث نمبر 1374)(صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2784)(والنسائي: 5040)(وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4)(وأخرجه الحميدي فى «مسنده» برقم: 705)(وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 585)(وأحمد فى «مسنده» برقم: 4966»


منافقین کےلیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی تو ہین ہے کہ ان کو مؤنث سے مشابہت دی گئی ہے ، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں کبھی کافروں کی لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی حیران و پریشان ہی رہتے ہیں ۔ (سنن نسائی حدیث نمبر 1317)


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر  7043)

ترجمہ؛ عبیداللہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ممیاتی ہوئی بھاگی پھرتی ہے ، کبھی بھاگ کر اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس طرف جاتی ہے۔( کسی بھی ایک ریوڑ کا حصہ نہیں ہوتی)


أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ ۔ (سنن النسائی حدیث نمبر 5040)

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکرے کی طلب میں دو ریوڑوں کے درمیان رہتی ہے ۔ کبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے ، کبھی اس ریوڑ میں ۔ اس کو تسلی نہیں ہوتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ رہے ۔


عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مثل المنافق كالشاة العائرة بين الغنمين تعير الى هذه مرة وإلى هذه مرة ۔ (مشکوة المصابیح جلد اول حدیث نمبر 50) 

ترجمہ : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے (چکر لگائے) کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی اس بکرے کے پاس ۔


امام صدرالدین محمد بن إبراهيم السلمي المناوي رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۸۰۳ھ) فرماتے ہیں : تعير إلى هذه مرة وإلى هذه مرة أي تتردد وتذهب بين الغنمين أي القطيعين من الغنم، ويقال: عارت الدابة إذا انقلبت وذهبت ۔

ترجمہ : وہ کبھی اِس کی طرف اور کبھی اُس کی طرف مائل ہوتی ہے، یعنی دو بکروں کے ریوڑوں کے درمیان آمد و رفت کرتی اور تردد میں رہتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے : ،عَارَتِ الدَّابَّةُ، جب جانور پلٹ جائے اور اِدھر اُدھر چلا جائے ۔ (كشف المناهج والتناقيح في تخريج أحاديث المصابيح جلد  ١ صفحہ ٨٧)


امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی676ھ) فرماتے ہیں : قَوْلُهُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تُعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً) الْعَائِرَةُ الْمُتَرَدِّدَةُ الْحَائِرَةُ لَا تَدْرِي لِأَيِّهِمَا تَتْبَعُ وَمَعْنَى تُعِيرُ أَيْ تُرَدَّدُ وَتَذْهَبُ وَقَوْلُهُ فِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً أَيْ تَعْطِفُ عَلَى هَذِهِ وَعَلَى هَذِهِ وَهُوَ نَحْوُ تُعِيرُ وَهُوَ بكسر الكاف ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان (منافق کی مثال اُس بکری کی مانند ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران و سرگرداں پھرتی رہتی ہے، کبھی اِس طرف جاتی ہے اور کبھی اُس طرف) میں «العائرة» سے مراد وہ بکری ہے جو تردد، حیرانی اور اضطراب میں ہو ، اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے۔ اور «تُعِيرُ» کا معنی ہے : وہ بار بار اِدھر اُدھر پھرتی، تردد کرتی اور جاتی رہتی ہے۔“ اور دوسری روایت میں جو الفاظ ہیں : «تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً» ، تو اس کا مطلب ہے : وہ کبھی اِس کی طرف جھکتی اور مائل ہوتی ہے اور کبھی اُس کی طرف ۔ یہ معنی بھی «تُعِيرُ» کے قریب ہے۔ اور لفظ «تَكِرُّ» میں کاف کے نیچے زیر ہے ۔ (شرح النووي على مسلم ١٧/‏١٢٨)


امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1014ھ) فرماتے ہیں : فشبه تردده بين الطائفتين أي المسلمين والكافرين تبعاً لهواه ومراداته وقصداً إلى شهواته بتردد الشاة العائرة التي لا تستقر على حال ۔

ترجمہ : پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافق کو تشبیہ دی  جو متردد رہتا ہے دو گروہوں کے درمیان یعنی مسلمانوں اور کافروں کے اپنی خواہشات، اغراض اور شہوات کی پیروی میں ڈگمگاتے پھرنے کو اُس آوارہ بکری کے تردد سے تشبیہ دی جو کسی ایک حال پر قائم اور ثابت نہیں رہتی۔ (مرقاة المفاتیح جلد 1 صفحہ 215 الحدیث 57)


مظاہر حق جدید شرح مشکوة شریف میں مذکورہ حدیث کے تحت تشریح میں لکھا ہے :  منافق کی مثال اس بکری سے دی گئی ہے جو اپنے نر کی تلاش میں ادھر ادھر ماری ماری پھرتی ہے اسی طرح منافق کی حالت ہوتی ہے کہ اس کے سامنے چونکہ صرف دنیا کا لالچ اور مال و جاں کی حفاظت کا مقصد ہوتا ہے اس لیے وہ مادہ صفت بن کر بھی تو مسلمانوں کی آغوش میں آکر پناہ لیتا ہے اور کبھی کافروں کے گروہ میں جاکر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، نفاق سے نفرت پیدا کرنے کےلیے ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ بہت موثر ہے ۔ (مظاہر حق جدید جلد 1 صفحہ 136 دارالاشاعت کراچی)


اس کتاب کو ترتیب جدید دینے والے دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولوی عبداللہ جاوید غازی پوری دیوبندی ہیں،اسی طرح اس کتاب پر مقدمہ لکھنے والے دارالعلوم دیوبند انڈیا کے استاذ الحدیث مولوی سالم دیوبندی ہیں ۔


بہرکیف ! مذکورہ دلائل سے واضح ہوا کہ یہ حدیث پاک کتب احادیث میں موجود ہے ۔ اس کو جھوٹ کہنا ، بیہودگی کہنا سراسر جہالت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عظیم کے خلاف بہت بڑی ناپاک جسارت ہے ۔ پھر اس حدیثِ مبارکہ میں منافق کو اُس بکری کے ساتھ تشبیہ دی گئی جو کبھی ایک بکرے کے پاس جاۓ تو کبھی دوسرے بکرے کے پاس جاۓ ۔ یہی حالت منافق کی ہے کہ منافق بھی اپنی خواہشات کےلیے کبھی مسلمانوں کے پاس جاتا ہے تو کبھی کفار کے پاس۔۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں منافقین کی حالت تھی۔ مزید ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے واضح فرمادیا ۔ کتاب مظاہر حق جدید شرح مشکواة میں اس حدیث پاک کی تشریح میں منافق کے متعلق دی گئی تشبیہ کے حوالے سے واضح لکھا ہے کہ : نفاق سے نفرت پیدا کرنے کےلیے ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ بہت موثر ہے ۔


علامہ سید محمود آلوسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : دوزخ کے سات طبقات ہیں ، پہلا طبقہ جہنم ہے دوسرا لظی ہے ، تیسرا الحطمہ ہے چوتھا السعیر ہے ، پانچواں سقر ہے چھٹا جحیم ہے اور ساتواں ھاویہ ہے اور کبھی ان تمام طبقات پر جہنم کا اطلاق بھی کر دیا جاتا ہے ، ان طبقات کو درکات اس لیے کہتے ہیں کہ یہ تہ در تہ ہیں ، اور منافقوں کا آخری طبقہ میں ہونا ان کے شدت عذاب پر دلالت کرتا ہے ۔ (تفسیر روح المعانی جلد ٥ صفحہ ١٧٧ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)


امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٦٨٢‘ ٣٣،چشتی)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩)(سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٦)(مسند احمد جلد ٣ رقم الحدیث : ٩١٦٩)(سنن کبری للبیہقی جلد ٦ صفحہ ٢٨٨)


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالص منافق ہوگا ، اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی حتی کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے ، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ، اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٦٨٢ ‘ ٣٣)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩،چشتی)(سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٦)(مسند احمد جلد ٣ رقم الحدیث : ٩١٦٩)(سنن کبری للبیہقی جلد ٦ صفحہ ٢٨٨)


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالص منافق ہوگا ‘ اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی حتی کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے ‘ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٤٥٩ ، ٣٤)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٨)(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤١)(سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٤٦٨٨)(سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠٣)(مسند احمد جلد ٢ رقم الحدیث : ٦٧٨٢)(سنن کبری جلد ٩ صفحہ ٢٣٠)


بظاہر اس حدیث میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے اس میں نفاق کی خصلت ہوگی ، محدثین کرام نے اس حدیث کے متعدد جوابات ذکر کیے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں : ⏬


یہ علامتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص تھیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو وحی کے نور سے لوگوں کے دلوں میں کے حال پر مطلع تھے ، اور آپ جانتے تھے کہ کون منافق ہے اور کون منافق نہیں ہے اور چونکہ یہ غیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے آپ نے اپنے اصحاب کو یہ نشانیاں بتائیں تاکہ وہ ان علامتوں سے منافقوں کو پہچان لیں اور ان سے احتراز کریں اور آپ نے معین کر کے نہیں بتایا کہ فلاں فلاں منافق ہے تاکہ فتنہ پیدا نہ ہو اور یہ لوگ مرتد ہو کر مشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں ۔


دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ جو شخص حلال اور جائز سمجھ کر یہ چار کام کرے وہ منافق کے حکم میں ہوگا ۔


جو شخص ان اوصاف کے ساتھ متصف ہو وہ منافقین کے مشابہ ہوگا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تغلیظا اور تہدیدا منافق کا اطلاق فرمایا ہے اور یہ اس شخص کے متعلق فرمایا ہے جو عادۃ یہ چار کام کرتا ہو اور اس کے متعلق نہیں فرمایا جس سے نادرا یہ کام سرزد ہوں ۔


عرف میں منافق اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ظاہر باطن کے خلاف ہو سو ایسا شخص عرفا منافق ہے شرعا منافق نہیں لہٰذا ایسے شخص کا کافر نہیں قرار دیا جائے گا نہ وہ اس آیت کی وعید کا مصداق ہوگا ۔ 


دینی معاملات میں ایسے شخص کا حکم منافق کا ہوگا اور اس کی خبر معتبر نہیں ہوگی ۔


ایک حدیثِ مبارکہ میں تین کاموں کو منافق کی علامت فرمایا ہے اور دوسری میں چار کاموں کو منافق کی علامت قرار دیا ہے ، یہ اختلاف مقتضی حال اور مقام کے اعتبار سے ہے ۔ کبھی آپ کے سامنے ایسے منافق تھے جس میں چار خصلتیں تھیں اور کبھی ایسے تھے جن میں تین خصلتیں تھی اس وجہ سے کبھی آپ نے تین علامتیں بیان فرمائیں اور کبھی چار ۔


مذکورہ آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور (اے مخاطب) تو ان کےلیے کوئی مددگار نہیں پائے گا اس آیت میں منافقین کی نصرت کی نفی کی تخصیص کی ہے اور یہ تخصیص اس وقت صحیح ہوگی جب مخلص مسلمانوں کی نصرت اور ان کی شفاعت کی جاسکے ، اور تب ہی منافقین کی مدد کا نہ کیا جانا ان کےلیے باعث حسرت اور افسوس ہوگا اور اگر مخلص مسلمانوں کی بھی مدد نہ کی جائے تو منافقین کو کیوں ندامت اور حسرت ہوگی ۔


بد قسمتی سے ہمارے نام نہاد مسلم معاشرہ میں یہ رذائل بہت تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں اور اس پر مزید یہ کہ اس منا فقانہ طرز عمل کو چالاکی اور ہوشیاری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنا جائزہ لینے کی سخت ضرورت ہے ۔


اس حدیث مبارک میں منافق کی پہلی خصلت امانت میں خیانت بتا ئی گئی ہے ۔ امانت کی پاسداری دراصل مومن کی پہچان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : مومن کے اندر ہر عادت ہو سکتی ہے جھوٹ اور خیانت کے سوا ۔ (رواہ احمد عن ابی امامہ ورواہ البزار)


امانت میں خیانت کی درج ذیل شکلیں ہمارے معاشرے میں رائج ہیں ، اس فہرست میں مزید اضافہ ممکن ہے : ⬇


۱۔ امانت میں خیانت یعنی کم مال واپس کرنا، اچھے مال سے خراب مال بدل لینا۔

۲ ۔ اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی بھی امانت میں خیانت ہے۔

۳۔ ناپ تول میں کمی کرنا بھی امانت میں خیانت ہے۔

۴۔ راز بھی امانت ہے، اس کی حفاظت نہ کرنا خیانت ہے۔

۵۔ وقت کا ضیاع، کام چوری اور غیر متعلق امور سے دلچسپی بھی خیانت ہے۔

۶۔ رشوت لے کر کام کرنا اور ناحق فائدہ پہنچانا بھی خیانت ہے۔

کذب بیانی

منافق کی دوسری خصلت کذب بیانی کہی گئی ہے، اس کی درج ذیل مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں:

۱۔ اللہ کے معاملے میں جھوٹ بولنا یعنی حلال کو حرام اور حرام کو حلال بتا نا۔

۔ اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا،

۳۔ جھوٹی خبریں، اور جھوٹے واقعات بیان کرنا، سنسنی خیز صحافت بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔

۴۔ جھوٹی قسمیں، جھوٹے وعدے، جھوٹے مقدمات قائم کرنا۔ جھوٹی گواہی دینے والے کے تعلق سے ارشاد خدا وندی ہے:’’ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو حقیر قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا‘‘۔( آل عمران: ۷۷)

اس معاملے کی سختی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ نبیؐ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نا فرمانی کرنا، سنو! جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا۔ آپ بار بار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ راوی نے اپنے دل میں کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔‘‘ (بخاری، مسلم، ترمذی)

جھوٹی قسم کھاکر تجارت کو فروغ دینا، غلط طریقے سے سامان بیچنا ،اور خریدار کو فریب دینا بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے، اس ضمن میں نبیؐ کا ارشاد ہے:’’ تین ایسے آدمی ہیں جن کی طرف روز قیامت اللہ تعالی نہ دیکھے گا، نہ ان کا تزکیہ کرے گا، اس روز ان کو درد ناک عذاب ہوگا(۱) تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا (متکبر)، (۲) احسان جتانے والا، (۳) جھوٹی قسم کھاکر اپنی تجارت کو فروغ دینے والا۔

۵۔ ایک اور انتہائی درجہ بد اخلاقی کی جیتی جاگتی تصویر جس میں نوجوان طبقہ خاص طور سے ملوث ہے، بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر بد چلنی کا الزام لگانا، حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے: ’’بے شک جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہوگی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘۔ (النور: ۳۳)

اسلامی معاشرہ کی اصل روح تو یہ ہے کہ دوسروں کے واقعی عیبوں پر بھی پردہ ڈالا جائے اور کسی بھی مومن یا مومنہ کی سرِ بازار پگڑی نہ اچھالی جائے۔ ورنہ نفرت، بغض وکینہ وغیرہ سے معاشرہ کا پاک رہ جانا بڑا ہی مشکل ہو گا ۔ اگر اتفاقاً کسی کی کوئی غلط حرکت سامنے آبھی جائے تو خلوت میں حکمت کے ساتھ اسے سمجھانا ہی افضل ہے ۔


منافق کی تیسری خصلت بد عہدی یا معا ہدہ شکنی ہے ۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’اور عہد کو پورا کر و کیونکہ عہد کی پرسش ہونی ہے‘‘۔ (سورہ بنی اسرائیل)

’’ اس عہد میں ہر قسم کا عہد شامل ہے خواہ وہ کسی معا ہدے کی صورت میں وجود میں آئے، لیکن عادتاً اور عرفاََاُن کو عہد ہی سمجھا اور مانا جاتا ہو، جس نوعیت کا بھی عہد ہو، اگر وہ خلاف شریعت نہیں ہے تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے‘‘۔ عہد کی دو قسمیں ہیں:

الف) اللہ اور بندے کے درمیان یعنی ہر شخص کا اللہ سے یہ عہد کہ وہ سچا پکا مومن ہوگا اور جملہ معاملات میں شریعت الہی کی اتباع کرے گا۔ یہی بات سورۃ المائدۃ کی پہلی آیت میں بھی کہی گئی ہے، ارشاد ربانی ہے:’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پوری پابندی کرو‘‘۔( سورۃ المائدۃ، آیت:۱)

’’ یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورہ میں تم پر عائد کی جارہی ہیں اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں ‘‘

عہد کی دوسری قسم وہ ہے جو بندوں کے درمیان ہے، اس کی مثال ہے کام چوری کرنا، دھوکہ دینا، وعدہ پورا نہ کرنا، وغیرہ

بد زبانی و بد کلامی

منا فق کی چوتھی خصلت بد زبانی اور بد کلامی ہے، یعنی وہ مخاصمت کے وقت آپے سے باہر ہو جاتا ہے، نبیؐ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگ جہنم میں اپنی بد زبانی کے سبب جائیں گے‘‘(ترمذی) جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہاں اہل ایمان کوئی لا یعنی اور لغو یات نہیں سنیں گے، جیسا سورۃ الواقعۃ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی‘‘۔ (سورۃ الواقعۃ: ۲۵۔۲۶)

سطور بالاکی روشنی میں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم غیر شعوری طور سے ہی سہی منافقت کے مہلک مرض میں مبتلا تو نہیں ہو رہے ہیں ؟


عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کےلیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں : ⏬


محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یَقُوْلُوْنَ لَىٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّؕ  وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ ۔ (سورہ منافقون آیت نمبر 8)

ترجمہ : کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اُسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں ۔


یعنی منافق کہتے ہیں : اگر ہم اس غزوہ سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نہایت ذلت والے کو نکال دے گا ۔ منافقوں نے اپنے آپ کو عزت والا کہا اور مسلمانوں کو ذلت والا ، اللّٰہ تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو معلوم نہیں ، اگر وہ یہ بات جانتے تو ایسا کبھی نہ کہتے ۔منقول ہے کہ یہ آیت نازل ہونے کے چند ہی روز بعد عبد اللّٰہ بن اُبی منافق اپنے نفاق کی حالت پر مر گیا ۔ (تفسیر خازن المنافقون : ۸، ۴/۲۷۴)


عبد اللّٰہ بن اُبی کے بیٹے کا نام بھی عبد اللّٰہ رضی اللہ عنہ تھا اور یہ بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشقِ رسول تھے ، جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور باپ سے کہنے لگے اس وقت تک مدینہ میں داخل ہونے نہیں دوں گا جب تک تو اس کا اقرار نہ کرے کہ تو ذلیل ہے اور محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عزیز ہیں ۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے والے تھے مگر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقابلے میں باپ کی کوئی عزت و محبت دل میں نہ رہی ۔ آخر اس نے مجبور ہوکر اقرار کیا کہ واللّٰہ میں ذلیل ہوں اور محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عزیز ہیں ، اس کے بعد مدینہ میں داخل ہوسکا۔( سیرت حلبیہ، باب ذکر مغازیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ،غزوۃ بنی المصطلق ،۲/۳۹۳،چشتی)(مدارج النبوۃ، قسم سوم، باب پنجم، ۲/۱۵۷)


ہر مومن عزت والا ہے کسی مسلم قوم کو ذلیل جاننا یا اسے کمین کہنا حرام ہے ۔ مومن کی عزت ایمان اور نیک اعمال سے ہے ، روپیہ پیسہ سے نہیں ۔ مومن کی عزت دائمی ہے فانی نہیں اسی لئے مومن کی لاش اور قبر کی بھی عزت کی جاتی ہے ۔ جو مومن کو ذلیل سمجھے وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل ہے ، غریب مسکین مومن عزت والا ہے جبکہ مالدار کافر بد تر ہے ۔


اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ ۔ (سورہ حضرات آیت نمبر 13)

ترجمہ : اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے ۔


آیت کے اس حصے میں وہ چیز بیان فرمائی جارہی ہے جو انسان کے لئے شرافت و فضیلت کا سبب ہے اور جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت حاصل ہوتی ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم میں سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں جاننے والا اور تمہارے باطن سے خبردار ہے ۔


شانِ نزول : نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ کے بازار میں تشریف لے گئے ، وہاں ملاحظہ فرمایا کہ ایک حبشی غلام یہ کہہ رہا تھا : جو مجھے خریدے اس سے میری یہ شرط ہے کہ مجھے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِقتداء میں پانچوں نمازیں ادا کرنے سے منع نہ کرے ۔ اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا ، پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے ، پھر اس کی وفات ہوگئی اور رنبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی تدفین میں تشریف لائے ، اس کے بارے میں لوگوں نے کچھ کہا تو اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی ۔ (تفسیر مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۱۵۶، جلالین، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۴۲۸،چشتی)


اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت و فضیلت کا مدار نسب نہیں بلکہ پرہیزگاری ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نسب پر فخر کرنے سے بچے اور تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے عزت و فضیلت نصیب ہو ۔


حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا فرماتے ہیں : فتحِ مکہ کے دن نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلِیَّت کا غرور اور ایک دوسرے پر خاندانی فخر دور کر دیا ہے اور اب صرف دو قسم کے لوگ ہیں (1) نیک اور متقی شخص جو کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہے ۔ (2) گناہگار اور بد بخت آدمی ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ذلیل و خوار ہے ۔ تمام لوگ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد ہیں اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ‘‘ ۔

ترجمہ : اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو ، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجرات، ۵/۱۷۹، الحدیث: ۳۲۸۱)


حضرت عداء بن خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں حجۃ الوداع کے دن نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے منبر ِاقدس کے نیچے بیٹھا ہوا تھا ، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى ۔

ترجمہ : اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ‘‘ ۔

ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے ۔

تو کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے ،کسی کا لے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر فضیلت حاصل ہے بلکہ فضیلت صرف تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے (تو جو مُتَّقی اور پرہیز گار ہے وہ افضل ہے) ۔ (معجم الکبیر، عداء بن خالد بن ہوذہ العامری، ۱۸/۱۲، الحدیث: ۱۶،چشتی)


حضر ت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو بندوں کواللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اس حال میں کہ وہ غیرمختون ہوں گے اوران کی رنگت سیاہ ہوگی ، تواللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : ’’اے میرے بندو ! میں نے تمہیں حکم دیا اور تم نے میرے حکم کو ضائع کردیا اورتم نے اپنے نسبوں کو بلند کیا اور انہی کے سبب ایک دوسرے پر فخر کرتے رہے ، آج کے دن میں تمہارے نسبوں کو حقیر و ذلیل قراردے رہاہوں ، میں ہی غالب حکمران ہوں ، کہاں ہیں مُتَّقی لوگ ؟ کہاں ہیں متقی لوگ ؟ بیشک اللہ تعالیٰ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے ۔ (تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ علیّ، حرف الالف من آباء العلیین، ۶۱۷۲-علیّ بن ابراہیم العمری القزوینی، ۱۱/۳۳۷)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے ۔ امام ابن ماجہ سے مروی حدیثِ مبارکہ ملاحظہ ہو : ⏬


عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ ، وَيَقُولُ: مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی ﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا : (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے ، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت ﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932)(طبراني، مسند الشاميين، 2: 396، رقم: 1568،چشتی)(منذري، الترغيب والترهيب، 3: 201، رقم: 3679)


حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یصف اھل النار فیمُرُبِھِم ُ الرجل من اھل الجنۃ فیقول الرجل منھم یا فلان! اما تعرفنی اناالذی سقیتک شربَۃً و قال بعضھم اناالّذی وھبتُ لک وضوءً فیشفعہ لہ فید خلہ الجنۃ ۔ (ابن ماجہ:3685،مشکوٰۃ،494)

ترجمہ : گنہگار دوزخیوں کو دوزخ میں بھیجنے کیلئے علیحدہ کر دیا جائے گا وہ صفِ بستہ کھڑے ہوں گے کہ ایک جنتی بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ ان کے قریب سے گزرے گاتو دوزخی اپنے اس نیک صالح انسان کو پہچان لیں گے کوئی کہے گا آپ مجھے نہیں پہچانتے فلاں موقع پر میں نے آپ کو پانی پلایا تھا کوئی کہے گا میں نے آپ کو وضو کےلیے پانی لا کر دیا تھا اتنے سے تعارف اور معمولی سی خدمت پر ہی وہ نیک انسان ان کی شفاعت کرے گا جو قبول کی جائے گی اور وہ انہیں اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا ۔


امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُنَافِقَ الْعَلِیمَ ، میں اس اُمت پر صاحبء علم منافقوں کے بارے میں بہت ڈرتا ہوں ۔ پوچھا گیا ، منافق صاحبء علم کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو أمیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے اِرشاد فرمایا عَالِمُ اللِّسَانِ، جَاهِلُ الْقَلْبِ وَالْعَملِ ، زبان کا عِالم لیکن دِل اور عمل سے جاھل ۔ (الاحادیث المختارہ حدیث نمبر 236 روایۃ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ ، ابو عثمان عبدالرحمٰن بن مل النھدی عن عمر رضی اللہ عنہ،چشتی)


صاحب کتاب امام محمد بن عبدالواحد المقدسی علیہ الرحمہ کا کہنا ہے کہ اسے مخلتف اسناد سے روایت کیا گیا ہے ، جن میں مرفوع بھی ہیں اور موقوف بھی ہیں اور زیادہ درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے ، یعنی عُمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ۔


حذیفہ ابن الیمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ منافق کون ہے ؟ فرمایا الَّذِی یصِفُ الْإِسْلَامَ وَلَا یعْمَلُ بِهِ ، یعنی وہ جو اِسلام کا دعویٰ دار ہو لیکن اُس پر عمل نہ کرتا ہو ۔ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ہم حکمرانوں اور سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو کچھ اور بات (یعنی ان کی تعریف ہی) کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو اس بات کے خلاف بات کرتے ہیں " تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا ہم اُسے مُنافقت میں گنا کرتے تھے ۔ (صحیح بخاری کتاب الاحکام باب 27) ۔ مختلف الفاظ میں یہ اثر بہت سی کتابوں میں صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہے ، مثلاً سُنن ابن ماجہ حدیث 3975 کتاب الفتن باب 12 ، مسند احمد حدیث 5829)


منافقت ایسے طرز عمل کو کہتے ہیں جو قول و فعل کے تضاد سے عبارت ہو جس میں انسان کا ظاہر، باطن سے مختلف بلکہ برعکس ہو ۔ سورۃ البقرہ کی آیات 8 تا 20 میں مسلسل منافقین کی علامات بیان کی گئی ہیں ۔ یہ علامات منافقین پر قرآن حکیم کا واضح چارٹر ہے جو اس لیے دیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے احوال اور معاملات کا جائزہ لے سکے اور ان کی روشنی میں اپنی اصلاح کی کوشش کر سکے ۔ منافقت کی علامات درج ذیل ہیں : ⏬


 (1) دعویٰ ایمان صرف زبانی حد تک کرنا اور باطن کا اس کی تصدیق سے خالی ہونا۔

(2) محض توحید و آخرت پر ایمان کو کافی سمجھنا اور رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کو اس قدر ضروری نہ سمجھنا۔

(3) دھوکہ دہی اور مکر و فریب کی نفسیات کا پایا جانا۔

(4) یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری حالتِ نفاق سے بے خبر ہیں۔

(5) یہ سمجھنا کہ ہم اپنی مکاریوں، حیلہ سازیوں اور چالاکیوں سے دوسروں کو فریب دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

(6) قلب و باطن کا بیمار ہونا۔

(7) جھوٹ بولنا۔

(8) نام نہاد اصلاح کے پردے میں مفسدانہ طرز عمل اپنانے کے باوجود خود کو صالح سمجھنا۔

(9) دوسروں کو بیوقوف اور صرف خود کو اہل عقل و دانش سمجھنا۔

(10) امت مسلمہ کی اکثریت کو گمراہ تصور کرنا۔

(11) اجماع امت یا سوادِ اعظم کی پیروی نہ کرنا۔

(12) کردار میں دوغلاپن اور ظاہر و باطن کا تضاد ہونا۔

(13) اہل حق کے خلاف خفیہ سازشیں اور تخریبی منصوبے تیار کرنا۔

(14) مسلمانوں پر طنز، طعنہ زنی اور حقیر سمجھتے ہوئے ان کا مذاق اڑانا۔

(15) باطل کو حق پر ترجیح دینا۔

(16) سچائی کی روشن دلیل دیکھتے ہوئے بھی اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا۔

(17) تنگ نظری اور دشمنی میں اس حد تک چلے جانا کہ کان حق بات نہ سن سکیں، زبان حق بات نہ کہہ سکے اور آنکھیں حق نہ دیکھ سکیں۔

(18) اسلام کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات سے گھبرانا اور ان سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا۔

(19) اہل حق کی کامیابیوں پر حیران رہ جانا اور ان پر حسد کرنا۔

(20) اپنے مفادات کے حصول کےلیے اہل حق کا ساتھ دینا اور خطرات و مصائب میں قربانی سے گریز کرتے ہوئے ان سے علیحدہ ہو جانا۔

(21) حق کے معاملے میں نیم دلی اور ہچکچاہٹ کی کیفیت میں مبتلا رہنا۔


گذارش : ہم سب ذرا اپنے بارے میں سوچیں تو کہ ہم کونسی سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ؟ اور ہمارے اَرد گِرد کس کس میں کیا کیا نشانی پائی جاتی ہے ؟ اور اگر ہمارے اندر اِن میں سے کوئی نشانی ہے تو اُس سے نجات کی کوشش کریں ، اور اپنے جِس مُسلمان بھائی بہن میں اِن میں سے کوئی نشانی پائیں اُسے بھی حِکمت اور نرمی کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے اصلاح کی رغبت دلائیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو مُنافقت اور مُنافقین سے محفوظ رکھے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 21 May 2026

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟




محترم قارئین کرام : بڑے جانور یعنی گائے ، بیل یا اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں اوراس سے کم میں کوئی تعداد مقرر نہیں ، لہذا سات شرکاء سے کم جتنے بھی ہوں ، وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں ، کیونکہ ایسا جانور جس میں سات شرکاء کی شرعا اجازت ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں سے کم نہ ہو ۔ اگر بعض شریکوں کا حصہ ساتواں اور دوسرے بعض کا ساتویں سے زیادہ ہے ، تو یہ جائز ہے ، اسی طرح اگر سب شریکوں کا حصہ ساتویں سے زیادہ ہے ، تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا ، ہاں البتہ اگر ساتویں سے کم حصہ کسی کا ہو ، افراد سات ہوں یا کم تو اس صورت میں کسی کی قربانی نہیں ہوگی ۔


اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی کا حکم ارشاد فرمایا اور خود بھی اسی پر عمل فرمایا ۔


حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البقرۃ عن سبعۃ والجزور عن سبعۃ ۔

ترجمہ : گائے اور اونٹ سات کی طرف سے قربان ہو سکتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ 40 کتاب الضحایا باب فی البقر والجزور عن کم تجزی مطبوعہ لاھور)(معجم اوسط جلد 9 صفحہ 35،چشتی)(معجم کبیر جلد 9 صفحہ 35)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بھی سات افراد کی طرف سے اونٹ قربان کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں : امرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان نشترک فی الابل والبقرکل سبعۃ منا  فی بدنۃ ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں شریک ہو کر قربانی کریں اس طرح کہ ایک اونٹ میں سات افراد شریک ہوں ۔ (صحیح المسلم کتاب الحج باب بیان وجوہ الاحرام جلد 1 صفحہ 392 مطبوعہ کراچی)(مسند احمد بن حنبل جلد 22 صفحہ 15،چشتی)(معجم کبیر للطبرانی جلد 7 صفحہ 120)


عن جابر بن عبد الله ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : البقرة عن سبعة ، والجزور عن سبعة ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ : گائے  سات  افراد کی جانب سے اور اونٹ  سات  کی جانب سے کرنا کافی ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 3 صفحہ 98 مطبوعہ بیروت)


عن جابر بن عبد الله ، قال : نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة ، والبقرة عن سبعة ۔

ترجمہ : حضرت  جابر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اونٹ سات افراد  کی طرف سے نحر کیا تھا ، اور گائے کو سات افراد کی طرف سے ذبح کیا تھا ۔ (صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 955 دار احیاء التراث العربی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی سات افراد کی طرف سے ہی اونٹ قربان کیا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں : نحرنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الحدیبیۃ البدنۃ عن سبعۃ ، والبقرۃ عن سبعۃ ۔

ترجمہ : ہم نے حدیبیہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے دونوں کو سات سات افراد کی طرف سے قربان کیا ۔ (صحیح المسلم کتاب الحج باب الاشتراک جلد 1 صفحہ 424 مطبوعہ کراچی)(سنن کبریٰ للبیہقی جلد 5 صفحہ 383)(صحیح ابن خزیمہ جلد 2 صفحہ 1364)


مذکورہ حدیثِ مبارکہ کو نقل کرنے کےبعد امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : حدیث جابر ، حدیث حسن صحیح ، والعمل علی ھذاعنداھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وغیرھم یرون الجزور عن سبعۃوالبقرۃ عن سبعۃ ، وھو قول سفیان الثوری والشافعی واحمد ۔

ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ،حسن صحیح ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وہ اونٹ اور گائے کو سات افراد کی طرف سے کافی سمجھتے تھے ، یہی قول سفیان ثوری ، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ تعالی کا بھی ہے ۔ (سنن ترمذی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم نے بھی اپنے اپنے دور میں یہی فتوی دیا کہ اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہی ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ در الحکام شرح غرر الاحکام جلد 1 صفحہ 266 ، تبیین الحقائق جلد 6 صفحہ 3 ، بحر الرائق جلد 8 صفحہ 198 ، مجمع الانہر جلد 2 صفحہ 517 اور بدائع الصنائع میں بالفاظِ مختلفہ یہ مسئلہ موجود ہے : ولا یجوز بعیر واحد ولا بقرۃ واحدۃ عن اکثر من سبعۃ،ویجوز ذلک عن سبعۃاواقل من ذلک،وھذا قول عامۃ العلماء ۔

ترجمہ : سات سے زیادہ شرکاء کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی جائز نہیں ، بلکہ ان میں فقط سات یا اس سے کم افراد ہی شریک ہو سکتے ، یہی اکثر علماء کا قول ہے ۔ (بدائع الصنائع کتاب التضحیہ فصل فی محل اقامۃ الواجب فی الاضحیۃ جلد 4 صفحہ 206 تا 207 مطبوعہ کوئٹہ)


رہی یہ بات کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ہم نے اونٹ دس افراد کی طرف سے قربان کیا ، تو یہ حدیث جامع ترمذی میں ان الفاظ کے ساتھ موجودہے : عن ابن عباس قال : کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی سفر،فحضر الاضحی ، فاشترکنا فی البقرۃ سبعۃ ، وفی الجزور عشرۃ ۔ ترجمہ : مفہوم مذکور ہوا ۔ (سنن ترمذ ی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


لیکن یاد رہے یہ حدیث چند وجوہ سے قابل ِعمل نہیں : ⏬


اولاً : یہ حدیث دیگر کتب میں بھی موجود ہے ، مگر ان میں شک کے الفاظ ہیں ، یعنی دس افراد شریک ہوئے تھے یا سات ، جبکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یقین کے الفاظ ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں ، لہٰذا یہ حدیث قابل عمل نہیں ۔


چنانچہ صحیح  ابن حبان میں یہ حدیث شک کے الفاظ کے ساتھ یوں مروی ہے : کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی سفر فحضر النحر ، فاشترکنا فی البقرۃ سبعۃ ، وفی البعیر سبعۃ او عشرۃ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے اسی حالت میں عید الاضحی آ گئی ، تو ہم نے گائے سات افراد کی طرف سے جبکہ اونٹ سات یا دس افراد کی طرف سے قربان کیا ۔ (صحیح ابن حبان جلد 9 صفحہ 318 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت)


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : واما ما ورد:فی البدنۃ سبعۃ او عشرۃ فھو شاک ، وغیرہ جازم بالسبعۃ ۔

ترجمہ : بہرحال جس حدیث میں دس یا سات افراد کی شرکت کا تذکرہ ہے تو یہ شک کے ساتھ مروی ہے ، اور اس کے علاوہ دیگر احادیث یقین کے ساتھ مروی ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 3 صفحہ 1086 مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)


ثانیاً : یہ حدیث حسن غریب ہے ، جبکہ سات افراد کی شرکت والی حدیث حسن صحیح ہے ، لہذا اُس کے مقابلے میں یہ حدیث متروک ہے ۔


چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد خود ارشاد فرمایا : ھذا حدیث حسن غریب ۔

ترجمہ : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (سنن ترمذ ی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور سات کی روایات نہایت صحیح ، لہٰذا اُس کے مقابل یہ حدیث متروک ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 2 صفحہ 374 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ کراچی)


ثالثاً : دس افراد کی شرکت والی حدیث سات افراد کی شرکت والی حدیث سے منسوخ ہے ۔


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : انہ منسوخ مما مر من قولہ:البقرۃ عن سبعۃ ، والجزور عن سبعۃ ۔

ترجمہ : دس افراد کی شرکت والی حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے جس میں یہ بیان ہوا کہ گائے اور اونٹ سات افراد کی طرف سے ہی قربان ہو سکتے ہیں ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 3 صفحہ 1086 مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)


اگر اس حدیث کو قابل عمل مان بھی لیا جائے ، تو اس سے مراد قیمت میں شرکت ہے ، نہ کہ قربانی میں ، یعنی حقیقتاً اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک تھے ، مگر اس کی قیمت دس افراد نے مل کر ادا کی جو ہمارے نزدیک بھی درست ہے ۔


التعلیق الممجد علی مؤطا محمدمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے تحت ہے : محمول علی الاشتراک فی القیمۃ ، لا فی التضحیۃ ۔

ترجمہ : یہ حدیث قیمت کی شرکت پر محمول ہے ، نہ کہ قربانی کی شرکت پر ۔ (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد باب الذبائح جلد 2 صفحہ 626 مطبوعہ دار القلم دمشق)


اسی طرح وہ روایات جن میں اونٹ کی قربانی میں دس افراد کی شرکت کا تذکرہ ہے ، تو وہ بھی مذکورہ یا ان کے علاوہ دیگر وجوہات کی بناء پر قابل ِعمل نہیں ۔


در مختار میں ہے : تجب شاۃ أو سبع بدنۃ ھی الإبل و البقر ، و لو لأحدھم أقل من سبع لم یجز عن أحد ، و تجزی عما دون سبعۃ بالأولی ۔

ترجمہ : ایک بکری یا بڑے جانور جیسے اونٹ اور گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے اور اگر ان میں سے کسی ایک کا ساتویں حصے سے کم ہو ، تو کسی ایک کی طرف سے بھی جائز نہیں ہوگی اور اگر شریک سات سے کم ہیں، تو قربانی بدرجہ اولیٰ جائز ہے ۔ (در مختار مع رد المحتار جلد 9 صفحہ 524 ، 525 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجدی علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: جب قربانی کی شرائط مذکورہ پائی جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے ، ساتویں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا ، بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکاء میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے ، تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی ، یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اس کی بھی قربانی نہیں ہوئی ، گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے ، مثلاً : گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ، ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکاء کے حصے برابر ہوں، بلکہ کم و بیش بھی ہو سکتے ہیں ، ہاں یہ ضرور ہے کہ جس کا حصہ کم ہے ، تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو ۔ (بھار شریعت جلد 3 حصہ 15 صفحہ 335 مکتبۃ المدینہ کراچی)


مفتی اعظم پاکستان، مفتی وقارالدین رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ تین اشخاص یعنی زید ، خالد اور عمر نے مل کر گائے کی قربانی کا فیصلہ کیا ۔ تو عرض خدمت ہے کہ گائے کی قربانی میں کیا سات حصہ داروں کو ہونا ضروری ہے یا کہ قربانی میں تین یا پانچ اشخاص مل کر بھی کرسکتے ہیں ؟

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ : قربانی کی شرط یہ ہے کہ بکری ، بھیڑ وغیرہ صرف ایک آدمی کر سکتا ہے جبکہ گائے اور اونٹ وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور سات سے کم بھی شریک ہوسکتے ہیں ، مگر شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو ۔ (وقار الفتاوی جلد 2 صفحہ 473 بزم وقار الدین) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 20 May 2026

بھینس اور کٹے کی قربانی کا جواز غیرمقلد وہابیوں اور دیگر مستند دلائل کی روشنی میں

بھینس اور کٹے  کی قربانی کا جواز غیرمقلد وہابیوں اور دیگر مستند دلائل کی روشنی میں


محترم قارئین کرام : قرآنِ کریم نے قربانی کےلیے بَھِیمَۃ الْـأَنْعَام کا انتخاب فرمایا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ِگرامی ہے : وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِۚ ۔ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىٕسَ الْفَقِیْرَ ۔ (سورہ الحج 22 : 28)

ترجمہ :  اور اللہ کا نام لیں جانے ہوئے دنوں میں اس پر کہ انہیں روزی دی بے زبان چوپائے تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ ۔


خود قرآنِ کریم نے الْـأَنْعَام کی توضیح کرتے ہوئے ضَاْن (بھیڑ) ، مَعْز(بکری) ، اِبِل(اونٹ) اور بَقَر(گائے) ، چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ۔ اور ان کے مذکر و مؤنث کو ملا کر انہیں ثَمَانِیَۃ أَزْوَاج (جوڑوں کے لحاظ سے آٹھ)کہا ۔ (سورہ الأنعام 6:144-142)


جانوروں کی نسل کا اعتبار ہو گا ، علاقائی ناموں کا نہیں انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت ِمسلمہ کے نزدیک اجماعی و اتفاقی طور پر مشروع ہے ۔ ان جانوروں کی خواہ کوئی بھی نسل ہو اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی نام دیتے ہوں ، اس کی قربانی جائز ہے ۔ مثلاً بھیڑ کی نسل میں سے دنبہ ہے ۔ اس کی شکل اور نام اگرچہ بھیڑسے کچھ مختلف بھی ہے ، لیکن چونکہ وہ بھیڑ کی نسل اور قسم میں شامل ہے ، لہٰذا اس کی قربانی مشروع ہے ۔ اسی طرح مختلف ملکوں اور علاقوں میں بھیڑ کی اور بھی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیں جو دوسرے علاقوں والوں کےلیے اجنبی ہیں اور وہ انہیں مختلف نام بھی دیتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان سب کی قربانی بھیڑ کی نسل و قسم ہونے کی بنا پر جائز اور مشروع ہے ۔ اسی طرح اونٹوں وغیرہ کا معاملہ ہے ۔ قربانی کے جانوروں میں سے ایک ''بقر'' (گائے) بھی ہے ۔ اس کی قربانی کےلیے کوئی نسل قرآن و سنت نے خاص نہیں فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السّلام کی زبانی ان کی قوم کو ''بقر'' ذبح کرنے کا حکم دیا ، لیکن قومِ موسیٰ نے اس کی ہیئت و کیفیت کے بارے میں سوال پر سوال شروع کر دیے جس کی بنا پر انہیں سختی کا سامنا کرنا پڑا ۔سورہ بقرہ کی کئی آیات اس کی تفصیل بیان کرتی ہیں ۔


انہی آیات کی تفسیر میں امام المفسرین،علامہ ابوجعفر، محمد بن جریر بن یزید بن غالب، طبری (310-224ھ)صحابہ و تابعین اور اہل علم کا قول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : إِنَّھُمْ کَانُوا فِي مَسْأَلَتِھِمْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مُوسٰی ، ذٰلِکَ مُخْطِئِینَ، وَأَنَّھُمْ لَو کَانُوا اسْتَعْرَضُوا أَدْنٰی بَقَرَۃٍ مِّنَ الْبَقَرِ، إِذْ أُمِرُوا بِذَبْحِھَا، ۔۔۔۔۔، فَذَبَحُوھَا، کَانُوا لِلْوَاجِبِ عَلَیْھِمْ، مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ فِي ذٰلِکَ، مُؤَدِّینَ، وَلِلْحَقِّ مُطِیعِینَ، إِذْ لَمْ یَکُنِ الْقَوْمُ حُصِرُوا عَلٰی نَوْعٍ مِّنَ الْبَقَرِ دُونَ نَوْعٍ، وَسِنٍّ دُونَ سِنٍّ، ۔۔۔۔۔، وَأَنَّ اللَّازِمَ کَانَ لَھُمْ، فِي الْحَالَۃِ الْـأُولٰی، اسْتِعْمَالُ ظَاھِرِ الْـأَمْرِ، وَذَبْحُ أَيِّ بَھِیمَۃٍ شَاءُ وا، مِمَّا وَقَعَ عَلَیْھَا اسْمُ بَقَرَۃٍ .''قومِ موسیٰ،گائے کے بارے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے سوالات کرنے میں غلطی پر تھی۔جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیاتھا،اس وقت وہ گائے کی کوئی ادنیٰ قسم بھی ذبح کر دیتے تو حکم الٰہی کی تعمیل ہو جاتی اور ان کا فرض ادا ہو جاتا،کیونکہ ان کے لیے گائے کی کسی خاص قسم یا کسی خاص عمرکا تعین نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔ ان کےلیے ضروری تھا کہ پہلی ہی دفعہ ظاہری حکم پر عمل کرتے ہوئے کوئی بھی ایسا جانور ذبح کر دیتے ،جس پر 'بقر' کا لفظ بولا جاتا تھا ۔ (جامع البیان عن تأویل آي القرآن)(تفسیر الطبری 100/2،چشتی)


معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ گائے ذبح کرنے کا حکم فرمائے تو گائے کی کوئی بھی قسم یا نسل ذبح کرنے سے حکم الٰہی پر عمل ہو جاتا ہے اور یہ بات لغت ِعرب میں اور اہل علم کے ہاں طَے ہے کہ جس طرح بختی،اِبِل (اونٹ) کی ایک نسل ہے ، اسی طرح بھینس، بقر (گائے)کی ایک نسل و قسم ہے ۔ حضرت مولائے کائنات علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ   فرماتے ہیں : الجاموس تجزی عن سبعة فی الأضحيۃ ۔

ترجمہ : بھینس قربانی میں سات افراد کی طرف سے کافی ہے ۔ (الفردوس بماثور الخطاب کتاب الاضحیۃ جلد 2 صفحہ نمبر 124 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)(فردوس الاخبار جلد 2 صفحہ نمبر 202 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)


مصنّف ابنِ ابی شیبہ میں  ہے : عن الحسن انّہ  کان یقول : الجوامیس بمنزلۃ البقر ۔

ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بھینس گائے کی طرح ہی ہے (یعنی تمام احکام میں گائے کی طرح ہے) ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ357 رقم : 10839 مطبوعہ مکتبۃ الرشد)


بھینس گائے کی ایک قسم ہے ، اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے : ⏬


امام ابن المنذر فرماتے ہیں : واجمعوا علی ان حکم الجوامیس حکم البقر ۔

ترجمہ : اور اس بات پر اجماع ہےکہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے ۔ (الاجماع کتاب الزکاۃ صفحہ ۴۳)


ابنِ قدامہ لکھتے ہیں : لا خلاف فی ھذا نعلمہ ۔

ترجمہ : اس مسئلے میں ہمارے علم کے مطابق کوئی اختلاف نہیں ۔ (المغنی جلد ۲ صفحہ ۲۴۰)


لیث بن ابوسلیم تابعی رضی اللہ عنہ (متوفی 138/148ھ) کا قول ہے : اَلْجَامُوسُ وَالْبُخْتِيُّ مِنَ الْـأَزْوَاجِ الثَّمَانِیَۃِ ۔

ترجمہ : بھینس (گائے کی ایک قسم) اور بختی (اونٹ کی ایک قسم) ان آٹھ جوڑوں میں سے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے ۔ (تفسیر ابن أبي حاتم جلد 5 صفحہ 1403)


لغت و ادب ِعربی کے امام ابومنصور محمد بن احمد ازہری ہروی (370-282ھ) فرماتے ہیں : وَأَجْنَاسُ الْبَقَرِ ، مِنْھَا الْجَوَامِیسُ ، وَاحِدُھَا جَامُوسٌ، وَھِيَ مِنْ أَنْبَلِھَا ، وَأَکْرَمِھَا ، وَأَکْثَرِھَا أَلْبَانًا ، وَأَعْظَمِھَا أَجْسَامًا ۔

ترجمہ : گائے کی نسلوں میں سے جوامیس (بھینسیں) ہیں ۔ اس کی واحد جاموس ہے ۔ یہ گائے کی بہترین اورعمدہ ترین قسم ہے ۔ یہ گائے کی سب اقسام میں سے زیادہ دودھ دینے والی اور جسمانی اعتبار سے بڑی ہوتی ہے ۔(الزاھر في غریب ألفاظ الشافعي صفحہ 101،چشتی)


امامِ لغت علامہ ابوالحسن علی بن اسماعیل،المعروف بہ ابن سیدہٖ (458-398ھ) لکھتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ (المحکم والمحیط الأعظم جلد 7 صفہ 283)


عربی زبان کے ادیب اور لغوی ابوالفتح ناصربن عبد السید معتزلی مطرزی (610-538ھ)لکھتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے ہی کی نسل سے ہے ۔ (المغرب في ترتیب المعرب صفحہ 89)


مشہور فقیہ و محدث علامہ عبد اللہ بن احمد بن محمد المعروف بہ ابن قدامہ مقدسی (620-541ھ) فرماتے ہیں : وَالْجَوَامِیسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ، وَالْبَخَاتِي نَوْعٌ مِّنَ الْإِبِلِ ۔

ترجمہ : بھینسیں ، گائے کی نوع (نسل) سے ہیں اور بختی ، اونٹوں کی نوع (نسل)سے ۔ (الکافي في فقہ الإمام أحمد جلد 1 صفحہ 390)


محدث و مفسر ابوالبرکات عبد السلام بن عبد اللہ حرانی (652-590ھ) فرماتے ہیں : وَالْجَوَامِسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینسیں ، گائے کی ایک نوع (نسل) ہیں ۔ (المحرّر في الفقہ علٰی مذہب الإمام احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 215،چشتی)


شارحِ صحیح مسلم معروف لغوی حافظ ابوزکریا یحییٰ بن شرف نووی (676-631ھ) ابواسحاق شیرازی(474-393ھ) کی کتاب التنبیہ في الفقہ الشافعي کی تشریح و تعلیق میں فرماتے ہیں : وَیُنْکَرُ عَلَی الْمُصَنِّفِ کَوْنُہ ، قَالَ : وَالْجَوَامِسُ وَالْبَقَرُ، فَجَعَلَہُمَا نَوْعَیْنِ لِلبَقَرِ ، وَکَیْفَ یَکُونُ الْبَقَرُ أَحَدَ نَوْعَيِ الْبَقَرِ ۔ وَیُنْکَرُ عَلَی الْمُصَنِّفِ کَوْنُہ ، قَالَ : وَالْجَوَامِسُ وَالْبَقَرُ ، فَجَعَلَہُمَا نَوْعَیْنِ لِلبَقَرِ ، وَکَیْفَ یَکُونُ الْبَقَرُ أَحَدَ نَوْعَيِ الْبَقَرِ ، قَالَ الْـأَزْھَرِيُّ : أَنْوَاعُ الْبَقَر ، مِنْھَا الجَوَامِیسُ ، وَھِيَ أَنْبَلُ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : مصنف کا (وَالْجَوَامِیسُ وَالْبَقَرُ) کہنا قابل اعتراض ہے ، انہوں نے گائے اور بھینس کو گائے کی نسلیں قرار دیا ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گائے ہی گائے کی دو نسلوں (بھینس اور گائے میں سے) ایک نسل ہو ؟ ۔ ازہری کہتے ہیں کہ بھینس ، گائے کی ایک نوع ہے اور یہ گائے کی تمام نسلوں سے عمدہ ترین نسل ہے ۔ (تحریر الفاظ التنبیہ صفحہ 106)


لغتِ عرب میں امام و حجت کا درجہ رکھنے والے علامہ ابوالفضل محمد بن مکرم انصاری المعروف بہ ابن منظور افریقی (711-630ھ)فرماتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ (لسان العرب جلد 6 صفحہ 43)


معروف لغوی علامہ ابوالعباس احمدبن محمدبن علی حموی (م:770ھ) لکھتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ (المصباح المنیر في غریب الشرح الکبیر جلد 1 صفحہ 108،چشتی)


لغت ِعرب کی معروف و مشہور کتاب ”تاج العروس” میں مرقوم ہے : اَلْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ،گائے کی نسل سے ہے ۔ (تاج العروس من جواھر القاموس لأبي الفیض الزبیدي جلد 15 صفحہ 513،چشتی)


لغتِ عرب کی معروف کتاب ”المعجم الوسیط” میں ہے : اَلْجَامُوسُ حَیَوَانٌ أَھْلِيٌّ، مِنْ جِنْسِ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی نسل سے ایک گھریلو جانور ہے ۔ (المعجم الوسیط جلد 1 صفحہ 134)

نیز اسی کتاب میں لکھا ہے : اَلْبَقَرُ : جِنْسٌ مِّنْ فَصِیلَۃِ الْبَقَرِیَّاتِ، یَشْمَلُ الثَّوْرَ وَالْجَامُوسَ ۔

ترجمہ : بَقَر ، گائے کے خاندان سے ایک جنس ہے جو کہ بَیل (گائے) اور بھینس پر مشتمل ہے ۔ (المعجم الوسیط جلد 1 صفحہ 65)


اس سے معلوم ہوا کہ چودھویں صدی کے بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ' بھینس کا گائے کی نسل سے ہونا اہل علم سے واضح طور پر ثابت نہیں ، بلکہ بھینس بعض احکام میں گائے کی طرح تھی اور اس کےلیے لفظ کَالْبَقَرِ/بِمَنْزِلَۃِ الْبَقَرِ (گائے جیسی) مستعمل تھا ۔ اور کسی لغوی کو غلطی لگنے کی وجہ سے اس نے کَالْبَقَرِ/بِمَنْزِلَۃِ الْبَقَرِ (گائے جیسی) کے بجائے نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَر (گائے کی نسل) لکھ دیا ۔ قطعاً درست نہیں ، کیونکہ غلطی کسی ایک اہل علم یا لغوی کو لگنی تھی یا سارے اہل علم اور لغویوں کو ؟ بہت سے معروف لغویوں اور اہل علم نے اپنی مشہور زمانہ کتب میں بھینس کے گائے کی نسل ہونے کی تصریح کی اور فقیر چشتی کے علم کے مطابق تیرہویں صدی ہجری تک کسی ایک بھی لغوی نے اس کی تردید یا انکار نہیں کیا ۔ اگر یہ بات غلط ہوتی تو ماہرین لغت ِعرب ضرور اس کی وضاحت کرتے ۔ کیا اہل لغت کا کوئی اعتبار ہے ؟ بعض لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ کیا شریعت میں لغت ِعرب دلیل بن سکتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سارا ذخیرہ عربی زبان میں ہے ۔قرآن و سنت پر عمل تب ہی ہو گا،جب اس کا معنیٰ و مفہوم سمجھا جائے گا اور قرآن و سنت کا معنیٰ و مفہوم تب ہی سمجھا جا سکتا ہے ، جب لغت ِعرب کو سمجھا جائے گا ۔ کوئی شخص اگر قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کا ترجمہ کرتا ہے تو وہ لغتِ عرب کو پڑھ اور سمجھ کر ہی اپنی کاوش میں کامیاب ہو سکتا ہے اور اس کے ترجمے کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کےلیے لغت ِعرب ہی راہنمائی کرے گی ۔ جو لوگ لغت ِعرب کا اعتبار نہیں کرتے ، ان سے سوال ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ ''بقر'' کا معنیٰ ''گائے'' کیوں ہے ؟ بھینس کا نام ہی گائے ہے بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ گائے اور بھینس کے نام ہی میں فرق ہے ۔ اگر بھینس ، گائے کی نسل سے ہوتی تو اس کا نام گائے ہوتا ، نہ کہ کچھ اور ۔ جب عرف میں اسے کوئی گائے کہتا اور سمجھتا ہی نہیں تو یہ گائے ہے ہی نہیں ۔ ان کےلیے عرض ہے کہ بھینس کےلیے عربی میں لفظ ''جاموس'' استعمال ہوتا ہے جو کہ فارسی سے منتقل ہو کر عربی میں گیا ہے ۔ فارسی میں یہ نام ''گاؤمیش'' تھا ۔ عربی زبان کی اپنی خاص ہیئت کی بنا پر اس کا تلفظ تھوڑا سا بدل گیا اور یہ ''جاموس'' ہو گیا ۔ اس بات کی صراحت لغت ِعرب کی قریباً تمام امہات الکتب میں لفظ ''جاموس'' کے تحت موجود ہے ۔ اس فارسی نام میں واضح طور پر لفظ ''گاؤ'' (گائے) موجود ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھینس اصل میں گائے ہی کی ایک نسل ہے ۔ چونکہ گائے کی یہ نسل (بھینس) عربی علاقوں میں موجود نہیں تھی ، بلکہ عجمی علاقوں میں ہوتی تھی ، عربوں کے ہاں معروف نہ تھی ، اسی لیے اس کا نام فارسی سے عربی میں لانا پڑا ۔


بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ گائے اور بھینس کے نام ہی میں فرق ہے ۔ اگر بھینس ، گائے کی نسل سے ہوتی تو اس کا نام گائے ہوتا ، نہ کہ کچھ اور ۔ جب عرف میں اسے کوئی گائے کہتا اور سمجھتا ہی نہیں تو یہ گائے ہے ہی نہیں ۔ ان کےلیے عرض ہے کہ بھینس کےلیے عربی میں لفظ ”جاموس” استعمال ہوتا ہے جو کہ فارسی سے منتقل ہو کر عربی میں گیا ہے ۔ فارسی میں یہ نام ”گاؤمیش” تھا ۔ عربی زبان کی اپنی خاص ہیئت کی بنا پر اس کا تلفظ تھوڑا سا بدل گیا اور یہ ”جاموس” ہو گیا ۔ اس بات کی صراحت لغتِ عرب کی قریباً تمام امہات الکتب میں لفظ ”جاموس” کے تحت موجود ہے ۔ اس فارسی نام میں واضح طور پر لفظ ”گاؤ” (گائے) موجود ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھینس اصل میں گائے ہی کی ایک نسل ہے ۔چونکہ گائے کی یہ نسل (بھینس) عربی علاقوں میں موجود نہیں تھی ، بلکہ عجمی علاقوں میں ہوتی تھی ، عربوں کے ہاں معروف نہ تھی ، اسی لیے اس کا نام فارسی سے عربی میں لانا پڑا ۔ اس کی وضاحت کےلیے وہابیوں کے معروف عالم شیخ محمد بن صالح عثیمین (1421-1347ھ) کا قول نقل کرتے ہیں ۔ ان سے بھینس کی قربانی کے بارے میں سوال ہوا اور پوچھا گیا کہ جب بھیڑ اور بکری دونوں کا ذکر قرآنِ کریم نے کیا ہے (حالانکہ یہ ایک ہی نسل [غنم] سے ہیں) تو بھینس اور گائے دونوں کا ذکر کیوں نہیں کیا (اگر یہ بھی ایک ہی نسل ہیں) ؟ 

اس کے جواب میں لکھا : اَلْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ، وَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذَکَرَ، فِي الْقُرْآنِ، الْمَعْرُوفَ عِنْدَ الْعَرَبِ الَّذِینَ یُحَرِّمُونَ مَا یُرِیدُونَ، وَیُبِیحُونَ مَا یُرِیدُونَ، وَالْجَامُوسُ لَیْسَ مَعْرُوفًا عِنْدَ الْعَرَبِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے ہی کی نسل ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں صرف ان جانوروں کا ذکر کیا ہے ، جو عربوں کے ہاں معروف تھے ۔ (دورِ جاہلیت میں) عرب اپنے پسندیدہ جانوروں کو حلال اور اپنے ناپسندیدہ جانوروں کو حرام قرار دیتے تھے ۔ بھینس تو عربوں کے ہاں معروف ہی نہ تھی (اور مقصد حلت و حرمت بتانا تھا ، نہ کہ نسلیں) ۔ (مجموع فتاوی ورسائل فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین)


غیرمقلد وہابیوں کے فتوے اور تحقیق ملاحظہ ہو قربانی کے جانور : ⏬


قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِاثْنَیْنِ ۔۔۔ الایۃ ۔ وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ ۔ الایۃ ۔ (سورۃ الانعام:143)

ترجمہ : آٹھ نر مادہ ہیں دو بھیڑوں میں سے ، دوبکریوں میں سے ، دو اونٹوں میں سے اوردو گایوں میں سے ۔

نوٹ : بھینس گائے کے حکم میں ہے اور بھینس کی قربانی جائز ہے ۔

بھینس کی قربانی جائز ہے : وَاجْمَعُوْا عَلٰی اَنَّ حُکْمَ الْجَوَامِیْسَ حُکْمُ الْبَقَرَۃِ ۔

(کتاب الاجماع امام ابن منذر صفحہ 37)

ترجمہ : أئمہ حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے ۔ (یعنی دونوں کا حکم ایک ہے) ۔


قاضی محمد عبداللہ ایم اے ایل ایل بی (خانپوری غیرمقلد وہابی) کا فتویٰ : تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب بہیمۃ الانعام (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے ۔ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور جلد 20 شمارہ 42 ، 43 صفحہ 9)


مولوی ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد وہابی کا فتویٰ : جہاں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے وہاں یہ الفاظ مرقوم ہیں : قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا ۔ (سورۃ الانعام:145) ۔ ان چیزوں کے سواء جس چیز کی حرمت ثابت نہ ہو وہ حلال ہے بھینس ان میں نہیں اس کے علاوہ عرب لوگ بھینس کو بقرہ (گائے) میں داخل سمجھتے ہیں ۔ تشریح : ہاں ! اگر اس (بھینس) کو جنس بقر (گائے کی جنس) سے مانا جائے یا عموم بہیمۃ الانعام پر نظر ڈالی جائے تو حکمِ جواز قربانی کےلیے یہ علت کافی ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد 1 صفحہ 810،چشتی)(اخبار اہل حدیث صفحہ 11 دہلی)


حافظ محمد گوندلوی غیرمقلد وہابی کا فتوی : بھینس بھی بقر میں شامل ہے اس کی قربانی جائز ہے ۔ (ہفت روزہ الاعتصام جلد 20 شمارہ 9،10 صفحہ 29)


عبدالقادر حصاروی غیرمقلد وہابی ساہیوال کا فتویٰ : خلاصہ بحث یہ ہے کہ بکری گائے کی (قربانی) مسنون ہے اور بھینس بھینسا کی قربانی جائز اور مشروع ہے اور ناجائز لکھنے والے کا مسلک واضح نہیں ہے ۔ (اخبار الاعتصام جلد 26 شمارہ 150 بحوالہ فتوی علمائے حدیث جلد 13 صفحہ 71)


ابوعمر عبدالعزیز نورستانی غیرمقلد وہابی کافتویٰ : مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر میری ناقص رائے میں ان علماء کا مؤقف درست اور صحیح ہے جو (بھینس کی قربانی کے) قائل ہیں ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ از حافظ نعیم الحق ملتانی صفحہ 154)


حافظ عبدالقہار نائب مفتی جماعت غرباء اہلحدیث کراچی غیرمقلد وہابی کا فتویٰ : واضح ہو کہ شرعاً بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور اس کی قربانی کرنا درست ہے ۔ کیونکہ گائے کی جنس سے ہے گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی جائز و درست ہے اس دلیل کو اگر نہ مانا جائے تو گائے کے ہم جنس   بھینس کے دودھ اور اس کے گوشت کے حلال ہونے کی بھی دلیل مشکوک ہو جائے گی ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ 156،چشتی)


حافظ احمداللہ فیصل آبادی غیرمقلد وہابی کا فتویٰ : میری کئی سالوں کی تحقیق ہے کہ بھینسے کی قربانی جائز ہے لہٰذا میں آپ کے ساتھ بھینسے کی قربانی کرنے میں متفق ہوں ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ 159)


پروفیسر سعد مجتبیٰ السعیدی غیرمقلد وہابی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : آخر میں لکھتے ہیں کہ لہٰذا گائے کی مانند بھینس کی قربانی بلا تردد جائز ہے ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ 18)


مولوی محمد رفیق الاثری غیرمقلد وہابی پیش لفظ میں لکھتے ہیں : یہ مسئلہ کہ قربانی میں بھینس ذبح کی جا سکتی ہے یا نہیں ۔ سلف صالحین میں متنازعہ مسائل میں شمار نہیں ہوا چند سال سے یہ مسئلہ اہلحدیث عوام میں قابلِ بحث بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ایسے مسئلہ میں شدت پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ پیش لفظ)


غیرمقلد وہابی حضرات کے شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی اپنے فتوے میں لکھتے ہیں : اور سن بکری کا ایک سال یعنی ایک سال پورا اور دوسرا شروع ، اور گائے اور بھینس کا دو سال یعنی دو سال پورے اور تیسرا شروع الخ ۔ آگے لکھتے ہیں : ویدخل في البقر الجاموس لانہ من جنسہ انتہی ما في الہدایة ۔

ترجمہ : گائے میں بھینس داخل ہے ، اس لیے کہ بھینس گائے ہی کی ایک جنس ہے ۔ (فتاوی نذیریہ جلد ۳ صفحہ ۲۵۷ ، ۲۵۸ اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)


  (۲) مفتی عبد الستار صاحب ایک سوال کے جوب میں لکھتے ہیں :

 سوال : کیا بھینس کی قربانی جائز ہے ؟

جواب : جائز ہے ، کیوں کہ بھینس اور گائے کا ایک حکم ہے ۔ ( فتاوی ستاریہ ۳ / ۲)


فتاوی علماء اہل حدیث کے مؤلف غیرمقلد وہابی مولوی ابوالحسنات علی محمد سعیدی سے بھینس کی قربانی کے جواز کے سلسلے میں سوال کیا گیا ، تو انہوں نے جواب دیا : جائز ہے ، چوں کہ گائے اور بھینس کا ایک ہی حکم ہے ۔ بعینہ یہی جواب مفتی عبد الستار صاحب نے بھی دیا ہے ۔ (فتاوی علماء اہل حدیث جلد ۱۳ صفحہ ۴٦،چشتی)


مولوی عبد القادر حصاروی غیرمقلد وہابی لکھتے ہیں : خلاصہ بحث یہ ہے کہ بکری ، گائے کی قربانی مسنون ہے ، تاہم بھینس بھینسا کی قربانی بھی جائز اور مشروع ہے اور ناجائز کہنے والے کا مسلک درست نہیں ہے ۔ (فتاوی حصاریہ و مقالات علمیہ جلد ۵ صفحہ ۴۴۶)


حافظ زبیر علیزئی غیرمقلد وہابی کا فتوی : اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری کی قربانی کتاب و سنت سے ثابت ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ بھینس گائے کی ایک قسم ہے ، اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے  ۔ (فتاوی علمیہ جلد ۲ صفحہ ۱۸۱)


محدث العصر حافظ گولندوی کا فتوی : بھینس بھی بقر میں شامل ہے ، اس کی قربانی جائز ہے ۔ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور جلد ۲۰ شمارہ نمبر ۹ صفحہ ۲۹)


مولوی امین اللہ پشاوری غیرمقلد وہابی ایک مفصل فتوے میں جواز کے دلائل پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ لغت میں لفظ البقر ، الجاموس ، کو بھی شامل ہے ، تو شرعا بھی اس کا یہی حکم ہو گا ، لہٰذا اس کی قربانی کا ثبوت قرآن مجید اور سنت صحیحہ سے مل گیا ، اب اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ یہ قیاسی مسئلہ ہے ، یا وضاحت کے ساتھ ثابت نہیں، جیسا کہ اس طرح کی باتیں کچھ جاہل قسم کے لوگ سے سنی جا رہی ہیں ، جو قرآن و سنت سے استدلال کے طریقوں سے نابلد ، ان کی معرفت سے نا آشناء اور ان کے قواعد سے ناواقف ہیں ۔ عقل و بصیرت رکھنے والوں کےلیے یہ ایک دلیل کافی ہے ، جاہل اور بیکار لوگوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ (فتاوی الدین الخالص جلد ۶ صفحہ ۳۹۵،چشتی)


جماعت غرباء اہل حدیث کے نائب مفتی مولانا عبد القہار صاحب کا فتوی : صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ شرعاً بھینس چوپایہ جانورں میں سے ہے اور اس کی قربانی درست ہے؛ کیوں کہ گائے کی جنس سے ہے ، اس لیے بھینس کی قربانی جائز اور درست ہے۔اس دلیل کو اگر نہ مانا جائے، تو گائے کے ہم جنس بھینس کے دودھ اور اس کے گوشت کے حلال ہونے کی دلیل بھی مشکوک ہو جائے گی ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۳۷ مطبوعہ اسلامک سینٹر ملتان)


غیر مقلد عالم مولوی نعیم الحق ملتانی نے اس موضوع پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے : بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ، اس میں اس طرح کے اور بہت سے علماء غیر مقلدین کے اقوال ذکر کیے ہیں ، جنھوں نے بھینس کی قربانی کو جائز کہا ہے ، تفصیل کےلیے اس کا مطالعہ فرمائیں ۔


تنبیہ : بعض لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں کہ چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھینس کی قربانی نہیں کی ، لہٰذا اس کی قربانی سے احتراز بہتر ہے اور یہ احوط واولیٰ ہے ۔ ہمارا ان اہل علم سے مؤدبانہ سوال ہے کہ ان کی یہ احتیاط صرف گائے کی ایک نسل ''بھینس'' ہی کے بارے میں کیوں ہے ؟ ان کو چاہیے کہ گائے کی جو جو نسلیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے قربانی میں ذبح کیں ، صرف انہی کی اجازت دیں ۔ کیا بھینس کے علاوہ موجودہ دور میں پائے جانے والی گائے کی تمام نسلیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانی میں ذبح کی تھیں ؟ اس طرح تو دیسی ، ولائتی ، فارسی ، افریقی ، تمام قسم کی گائے کی قربانی سے احتراز کرنا ہو گا اور اسی طرح بھیڑ و بکری اور اونٹ کا بھی معاملہ ہو گا ۔ پھر ہر شخص قربانی کےلیے عربی گائے ، عربی اونٹ ، عربی بھیڑ اور عربی بکرا کہاں سے لائے گا ؟ اگر کوئی عربی نسل سے کوئی جانور تلاش بھی کر لے تو اسے تحقیق کرنا پڑے گی کہ یہ بعینہٖ اسی نسل سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانی کی تھی یا بعد میں پیدا ہونے والی کوئی نسل ہے!!!پھر یہ احتیاط والی بات اس لیے بھی عجیب سی ہے کہ اگر بھینس ، گائے نہیں تو اس کی قربانی سرے سے جائز ہی نہیں اور اگر یہ گائے ہے تو اس کی قربانی بالکل جائز ہے ۔ اس میں کوئی درمیانی راستہ تو ہے ہی نہیں ۔


الحاصل : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ اس کی قربانی بالکل جائز ہے ۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ۔


قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۔ (سورہ الأنعام آیت نمبر 162)

ترجمہ : آپ کہیے کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کےلیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔


صلوۃ سے مراد یا تو تہجد کی نماز ہے یا نماز عید ہے اور نسک نسی کہ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے ذبیحہ اور اس کا معنی ہے حج اور عمرہ میں مینڈھا ذبح کرنا اور نماز اور ذبیحہ کو اس آیت میں اس طرح جمع کیا ہے جیسے (آیت) ” فصل لربک وانحر “۔ (الکوثر : ٢) میں جمع کیا ہے۔ حسن بصری نے کہا نس کی سے مراد ہے میرا دین۔ زجاج نے کہا اس سے مراد ہے میری عبادت۔ ایک قوم نے کہا اس آیت میں نسک سے مراد تمام نیک کام اور عبادات ہیں ۔


منسک کے معنی کی تحقیق : ⏬


منسلک کے معنی میں کئی اقوال ہیں (١) حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد عید کا دن ہے جس میں وہ جانور ذبح کرتے ہیں (٢) مجاہد نے کہا منسک کا لفظ قربانی کے جانوروں کےلیے مخصوص ہے۔ (٣) کسی عبادت کی ادائیگی کے لئے عرف میں ہیں جو جگہ یا جو وقت معین ہو اس کو منسلک کہتے ہیں ۔ (٤) قفال کا مختاریہ ہے کہ منسک کا معنی ہے شریعت اور عبادت کرنے کا مخصوص طریقہ ، اور یہ معنی اس آیت کے قریب ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا ۔ (سورہ المائدۃ : ٤٨) ۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے عبادت کا ایک مخصوص منشور اور دستور مقرر کردیا ہے ۔


اور منسک کا لفظ نسک سے بنا ہے جس کا معنی عبادت ہے اور جب منسک کا لفظ ہر عبادت پر بولا جاتا ہے تو اس کو کسی ایک طریقہ عبادت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم نے منسلک کے لفظ کو ذبح پر محمول کیوں نہیں کیا کیونکہ عرف میں نسک کے لفظ سے قربانی کا ہی معنی سمجھا جاتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درستن ہیں ہے کہ عرف میں نسک کے لفظ سے قربانی کا ہی معنی سمجھا جاتا ہے کیونکہ عرق میں تمام افعال حج کو مناسک کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خذاواعنی منا سکم ۔ (سنن بیہقی ج ٥ ص ١٢٥) ۔ مجھ سے اپنے حج کے ارکان اور افعال کا علم حاصل کرو ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کی عبادت کرنے کےلیے جو طریقہ بھی مقرر کریں اس پر کسی کو اعتراض اور بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہر نبی علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے مخصوص حالات ، رسم و رواج اور تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے خصوص عبادت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور ہر زمانہ کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں ۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے یہ اعتراض کیا کہ جو جانور طبعی موت مر جائے تم اس کو نہیں کھاتے اور جس کو تم ذبح کرتے ہو اس کو کھا لیتے ہو ، گویا اللہ کا مارا ہوا نہیں کھاتے اور اپنا مارا ہوا کھا لیتے ہو ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے طریقہ پر قائم رہیں اور لوگوں کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے طریقہ پر قائم رہیں اور لوگوں کو اللہ کی توحید اس کے دین اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دیتے رہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھی راہ پر ہیں اس میں کوئی کجی نہیں ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)






















آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک ...