Thursday, 4 June 2026

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ


















محترم قارئینِ کرام : اٹھارہ (18) ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر مناتے ہیں کہتے ہیں کہ اس روز حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم مقام پے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : میں جس کا مولا علی اس کا مولی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس فرمان کے ذریعے اپنا خلیفہ بلافصل بنایا ۔ اٹھارہ 18 ذی الحج جو کہ خلیفہ راشد دُہرے دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے عین اُس دن رافضی شیعہ اور اب اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے نیم رافضی جشنِ غدیر منا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟


حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی ۔ صحیح ترین کتابی و عقلی دلاٸل سے ان کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہی ثابت ہے ۔ سب سے پہلے میں کچھ چیزیں بیان کر دیتا ہوں جن پر سب کا اتفاق ہے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 35 ہجری کو شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔ لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔ ان تمام چیزوں کو ذہن نشین کر لیں کیونکہ اس سے پوسٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔ کچھ لوگ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ بتاتے ہیں ۔ ان کی دلیل ابو عثمان النہدی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ ایام تشریق (11 ، 12 ، 13 ذی الحجہ) کے درمیان میں (یعنی 12 کو) شہید ہوئے ۔ یہ قول مردود ہے ۔ ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا صحیح و صریح قول 18 ذی الحجہ کا ہی ہے ۔ جو کہ ہم آگے بیان کریں گے ۔


اب ہم مفصل دلائل سے حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ثابت کریں گے ۔


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا : ⏬


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا ہی ایامِ تشریق میں شہادت نا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سال میں پانچ دنوں کے بارے میں فرمایا یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ عید الفطر کا دن ، عید الاضحٰی کا دن ، اور ایام تشریق کے تین دن (11 ، 12 ، 13) ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 2677،چشتی)


اور اعلیٰ حضرت علیہ الحمہ سے بھی پوچھا گیا کہ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیوں کیا گیا ؟

تو آپ نے فرمایا : یہ دن اللہ کی طرف سے بندوں کی دعوت کے دن ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 355)


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے دن روزے سے تھے : ⏬


طبری نے اپنی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن انہوں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرما رہے ہیں کہ آج آپ افطار ہمارے ساتھ کریں گے ۔ (تاریخ طبری صحیح باب ذکر الخیر عن قتل عثمان رضی اللہ عنہ صفحہ 343)


اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔


اب ہم آتے ہیں کہ شہادت حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ۔


حافظ ابنِ کثیر اور طبری نے نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 299)


اب یہاں پر یہ چیز ذہن نشین کر لیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لوگوں نے 19 ذی الحجہ کو شروع کی اور وہ ہفتے کا دن تھا ۔


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کس دن مکمل ہوئی ۔


امام طبری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت جمعہ کے دن کی گئی اس وقت ماہِ ذی الحجہ ختم ہونے میں پانچ روز باقی تھے ۔ (یعنی 25 تاریخ کو کی گئی) ۔ (تاریخ طبری جلد 3 حصہ دوم صفحہ 28،چشتی)


اور ابنِ کثیر نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 300)


اس سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔


اب ہم آتے ہیں حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی ۔


امام ابنِ خلدون رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ خلدون جلد 2 صفحہ 364)


اور حافظ ابنِ کثیر نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو شہید ہوئے اور آپ کی تدفین سے پہلے لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع کر دی تھی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر: جلد 7 صفحہ 299)


یہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے ہی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہو گئی تھی اور صحیح ترین اقوال سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تین دن تک دفن نہیں کیا گیا تھا ۔ اور حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 تاریخ کو شروع ہوئی ۔ تو واضح معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 تاریخ ہی ہے ۔


امام طبری صحیح سند کے ساتھ قول نقل کیا ہے کہ ابو عثمان النہدی اور دوسرے راویوں علیہم الرحمہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید کیا گیا ۔ (تاریخ طبری الجزالرابع باب 35 ہجری کے واقعات صفحہ ۴۱۷ ، ۴۱۸ )(تاریخ طبری مترجم اردو جلد 3 حصہ اول صفحہ 476،چشتی)


نوٹ : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے طبری کے اردو ترجمے میں اسناد بیان نہیں کی گئیں اس لیے اردو ترجمے میں یہ لکھا گیا ہے کہ سیف کی مشہور سلسلہ روایت کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہے ۔ تو جب آپ عربی نسخہ دیکھیں گے تب آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا قول نقل کیا گیا ہے ۔


صحیح ترین اقوال سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے اور ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا بھی یہی قول ہے جو کہ حادثے کے معاصر ہیں ۔


تو اب ہم زرا عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ہی ہے ۔


1 : اب آپ کو وہ تمام چیزیں دوبارہ ذہن میں لانی ہوں گیں جن کے بارے میں نے کہا تھا کہ ان کو یاد کر لیں ۔


2 : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔


4: لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔


5 : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔


اب ہم تاریخ اور دن کے حساب سے یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح قول کون سا ہے ۔


اب وقتی طور پر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی اور اس دن سے لے کر 25 ذی الحجہ تک چلتے ہیں کہ کیا روایات کے مطابق اس لحاظ سے 25 تاریخ کو جمعہ کا دن بنتا ہے یا نہیں ؟


12 : جمعہ


13 : ہفتہ


14 : اتوار


15 : سوموار


16 : منگل


17 : بدھ


18 : جمعرات


19 : جمعہ (یہاں ہی تاریخ غلط ہو گئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق 19 کو حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہوئی اور تب ہفتے کا دن تھا ۔ خیر ہم آگے چلتے ہیں ۔


20 : ہفتہ


21 : اتوار


22 : سوموار


23 : منگل


24 : بدھ


25 : جمعرات (یہاں پھر سے غلطی آگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ کو مکمل ہو گئی اور اس حساب سے یہاں جمعرات بنتا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ 12 ذی الحجہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن نہیں ۔


اب ہم راجح قول کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ مانتے ہیں اور یہی حساب دوبارہ کرتے ہیں ۔


18 : جمعہ 


19 : ہفتہ (یہ حساب یہاں ہی درست ثابت ہو گیا کیونکہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ شروع ہوئی ، آگے چلتے ہیں ۔


20 : اتوار


21 : سوموار


22 : منگل


23 : بدھ


24 : جمعرات (یہاں بھی درست ہو گیا کیونکہ 24 ذی الحجہ بروز جمعرات کو کوفیوں میں سب سے پہلے اشتر نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی)


25 : جمعہ (بیعت مکمل ہونے کا دن جمعہ)


تو تمام روایات کے مطابق 18 ذی الحجہ ہی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے کیونکہ باقی تمام روایات و شواہد پر یہی تاریخ پوری اترتی ہے ۔


اہلِ تشیع ویب سائیٹ ویکی شیعہ پر بھی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی لکھی ہوئی ہے ۔ (ویکی شیعہ ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیان : باب معاصرہ اور قتل)


ہم نے الحمد للہ کتابی و عقلی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہے ۔ اور تمام عقلی دلائل سے بھی یہی تاریخ ثابت ہے ۔ اور اس کے علاوہ کے اقوال کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

تیرے سوا کون ہے صدیق اکبر و فاروق اعظم ؟

تیرے سوا کون ہے صدیق اکبر و فاروق اعظم ؟ ۔ جواباً عرض ہے حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر کو صدیق اکبر اور حضرت...