Monday, 27 June 2022

ماہِ ذو الحجہ کے فضائل و مسائل

ماہِ ذو الحجہ کے فضائل و مسائل
محترم قارئینِ کرام : ماہِ ذو الحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہونے کے اعتبار سے مسلمانوں کےلیے درس عبرت ہے کہ الله نے زندگی کی صورت میں جو نعمت تمہیں عطا فرمائی تھی اس میں ایک سال اور کم ہو گیا اور یہ نعمت عظمی جس مقصد کےلیے عطا کی گئی تھی وہ کہاں تک پورا ہوا ؟ ۔ اس اعتبار سے ماہ ذوالحجہ انسان کو اس کی غفلت سے بیدار کرنے والا بھی ہے ۔ رب ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازا گیا ہے اور اس عشرہ میں اعمال پر خاص اجر و ثواب رکھا گیا ہے ۔ ماہ ذوالحجہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قدر برکتیں اور سعادتیں عطا کر رکھی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا : پہلی رات کے چاند کے ساتھ ذوالحجہ کا آغاز ہوتا ہے تو اس کی پہلی دس راتوں میں سے ہر رات اپنی عظمت میں لیلۃ القدر کے برابر ہے ۔ لیلۃ القدر کی مناسبت سے جہاں ماہ رمضان المبارک کو منفرد شان والی ایک رات لیلۃ القدر نصیب ہوئی ہے جس کے اندر چند ساعتیں اللہ کے بندوں کی مغفرت و بخشش کا سامان لئے ہوئے وارد ہوتی ہیں اور جن میں اخلاص کے ساتھ بندہ اپنے رب سے جو بھی بھلی شے طلب کرتا ہے وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے ۔ ادھر ماہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتوں کو عظمت و فضیلت کا وہ خزانہ عطا کیا گیا ہے کہ ہر ایک رات رمضان المبارک کی لیلۃ القدر کے برابر ہے ۔ جس طرح رمضان المبارک کی برکتوں کو سمیٹ کر عید الفطر میں رکھ دیا گیا اور اس دن کو خوشی کے دن کے طور پر مقرر کر دیا گیا ۔ ان دس راتوں کے اختتام پر اللہ رب العزت نے عیدالاضحٰی کے دن کو مسرت و شادمانی کے دن کی صورت میں یادگار حیثیت کر دی ۔ اس دن کو عرف عام میں قربانی کی عید کہتے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مامن ايام العمل الصالح فيهن احب الی الله من هذه الايام العشرة قالوا يارسول الله ولا الجهاد في سبيل الله، قال ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلک بشئی ۔
ترجمہ : ان دس دنوں (عشرہ ذی الحجہ) میں اللہ تعالیٰ کے حضور نیک عمل جتنا پسندیدہ و محبوب ہے کسی اور دن میں اتنا پسندیدہ و محبوب تر نہیں ۔ صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کے راستہ میں جہاد بھی نہیں، فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ۔ ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ لے کر گھر نہ لوٹا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ما من ايام احب الی الله ان يتعبدله فيها من عشر ذی الحجة، يعدل صيام کل يوم منها بصيام سنة وقيام کل ليلة منها بقيام ليلة القدر ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کو اپنی عبادت بجائے دوسرے اوقات و ایام میں کرنے کے عشرہ ذوالحجہ میں کرنی محبوب تر ہے۔ اس کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ایک ایک رات کا قیام، لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے ۔ (ترمذی، ابن ماجه،چشتی)

قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں عشرۂ ذی الحجہ میں جن اعمال کے کرنے کی فضیلت آئی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں : ⬇

ذکر الٰہی کا اہتمام کرنا

اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں ان دس دنوں میں اپنا ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ ۔
ترجمہ : اور مقررہ دنوں کے اندر ﷲ کے نام کا ذکر کرو ۔ (سورہ الْحَجّ 22: 28)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور محدثین و مفسرین کے نزدیک ان ایام معلومات سے مراد عشرۂ ذی الحجہ کے دس دن ہیں ۔

کثرت سے تہلیل ، تکبیر اور تحمید کہنا

امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی دن بارگاہ الٰہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں ، اور نہ ہی کسی دن کا (اچھا) عمل اللہ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر اور الحمد للہ کہو ۔

سلف صالحین علیہم الرحمہ اس عمل کا بہت اہتمام کیاکرتے تھے ۔ امام بخاری علیہ الرحمہ نے بیان کیا ہے کہ ’’ان دس دنوں میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہما تکبیر کہتے ہوئے بازار نکلتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے ۔

عشرہ ذو الحجہ کے اعمال فضیلتـ میں جہاد فی سبیل اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں ۔ حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :  الله تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرہ ذوالحجہ (یکم ذوالحجہ سے دس ذوالحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں ، صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہ جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے ، ہاں ! جو شخص جان اور مال لے کر الله کی راہ میں نکلا ، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا ، سب کچھ الله کے راستے میں قربان کر دیا، بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے ۔

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: قال رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : «ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى من هذه الأيام» يعني أيام العشر، قالوا: يا رسول الله، ولا الجهاد في سبيل الله؟ قال : ولا الجهاد في سبيل الله، إلا رجل خرج بنفسه وماله، فلم يرجع من ذلك بشيء ۔ (سنن أبي داود 2/ 325 رقم الحديث 2438 باب  في صوم العشر)
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو عمل اس دن میں کیا جائے اس سے کوئی عمل افضل نہیں ہے ، لوگوں نے سوال کیا کیا جہاد بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جہاد بھی نہیں ، بجز اس شخص کے جس نے اپنی جان ومال کو خطرے میں ڈالا اور کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا ۔
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّهُ قَالَ : مَا العَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ ؟ قَالُوا : وَلاَ الجِهَادُ ؟ قَالَ : وَلاَ الجِهَادُ ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ ۔ (صحيح البخاري رقم الحديث 969 باب  فضل العمل في أيام التشريق،چشتی)

عشرہ ذوالحجہ سال کے بارہ مہینوں میں بڑ ی ممتاز حیثیت رکھتا ہے، پارہ عم میں سورہ فجر کی آیات  والفجر ولیال عشرمیں الله رب العزت نے دس راتوں کی قسم کھائی اور کسی چیز پر الله تعالیٰ کا قسم کھانا اس چیز کی عزت اور حرمت پر دلالت کرتا ہے تو الله تعالیٰ نے سورہ فجر میں جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے اس بارے میں مفسرین کی ایک بڑی جماعت کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد ماہ ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں، لہٰذا اس سے ان دس راتوں کی عزت،عظمت او رحرمت کی نشان دہی ہوتی ہے ۔

ایک دن کی روزے کا ثواب ایک سال کے برابر اور رات کی عبادت شب قدر کے برابر : ایک  روایت میں ان دس ایام کی فضیلت واہمیت بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : ان دنوں میں سے کسی دن میں بھی بندے کا عبادت کرنا الله کو اتنا محبوب نہیں جتنا عشرہ ذوالحجہ میں محبوب ہے ۔ اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں ۔
عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ ، عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : ما من أيام أحب إلى أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر ۔ (سنن الترمذي ت بشار  رقم الحديث 758 باب ما جاء في العمل في أيام العشر،چشتی)

یعنی ایک روزہ کا ثواب بڑھا کر ایک سال کے روزوں کے ثواب کے برابر کر دیا اور ان راتوں میں سے ایک رات میں بھی اگر عبادت کی توفیق ہو گئی تو وہ اس طرح ہے جیسے لیلۃ القدر میں عبادت کر لی ہو ۔

عشرہ ذو الحجہ کے محبوبـ اعمال

ایک اور روایت میں ان دس ایام کی فضیلت واہمیت بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” دنوں میں سے کسی دن میں بھی بندے کا عبادت کرنا الله کو اتنا محبوب نہیں جتنا عشرہ ذوالحجہ میں محبوب ہے ۔ پس اس میں  تہلیل ، تکبیر اور اللہ کا ذکر کثرت سے کریں ، اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں  اور اعمال ان دنوں میں سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔

یعنی سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ، کثرت سے پڑھا کریں ۔

عَن ابْن عَبَّاس رضی اللہ عنہما قَالَ قَالَ رَسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مَا من أَيَّام أفضل عِنْد وَلَا الْعَمَل فِيهِنَّ أحب إِلَى عز وَجل من هَذِه الْأَيَّام يَعْنِي من الْعشْر فَأَكْثرُوا فِيهِنَّ من التهليل وَالتَّكْبِير وَذكر وَإِن صِيَام يَوْم مِنْهَا يعدل بصيام سنة وَالْعَمَل فِيهِنَّ يُضَاعف بسبعمائة ضعف ۔ (الترغيب والترهيب للمنذري 2/ 128 رقم الحديث 1787 كتاب الْحَج)

عشرہ ذو الحجہ کے اعمال اجر و ثواب میں بڑھ کر ہیں

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:نیکی کا کوئی بھی عمل عشرہ ذو الحجہ میں کیے جانے والے کام سے اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہے نہ اجرو ثواب میں بڑھ کر ہے ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّهُ قَالَ : مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْكَى عِنْدَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَعْظَمَ مَنْزِلَةً مِنْ خَيْرِ عَمَلٍ فِي الْعَشْرِ مِنَ الْأَضْحَى ۔ (شرح مشكل الآثار  رقم الحديث 2970)

عشرہ ذو الحجہ کا ایک دن فضیلت میں دس ہزار دنوں کے  برابر ہے ۔ حضرت انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عشرہ ذو الحجہ کے متعلق یہ فرماتے تھے کہ :ایک دن ہزار دن کے برابر ہے اور عرفہ کا دن دس ہزار دنوں کے برابر ہے یعنی فضیلت میں ۔
وَعَن أنس بن مَالك رضی اللہ عنہ قَالَ كَانَ يُقَال فِي أَيَّام الْعشْر بِكُل يَوْم ألف يَوْم وَيَوْم عَرَفَة عشرَة آلَاف يَوْم قَالَ يَعْنِي فِي الْفضل، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ والأصبهاني وَإسْنَاد الْبَيْهَقِيّ لَا بَأْس بِهِ ۔ (الترغيب والترهيب للمنذري 2/  128 رقم الحديث 1788 كتاب الحج)

عشرہ ذوالحجہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا کی تحقیق و شرعی حکم

عشرہ ذوالحجہ کا خاص الخاص عمل حج ہے اور یہ اہل استطاعت مسلمان پر زندگی میں صرف ایک ہی دفعہ فرض کیا گیا ہے، لہٰذا اس کی خاص برکات صرف وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو بیت الله میں حاضر ہو کر حج کریں ، لیکن الله نے اپنے فضل وکرم اور بے پایہ رحمت سے تمام اہل ایمان کو اس بات کا موقع عنایت فرما دیا کہ وہ اپنے مقام پر رہ کر بھی حجاج کرام سے ایک طرح کی نسبت پیدا کر لیں اور ان کے کچھ اعمال میں شریک ہو جائیں، لہٰذا ذوالحجہ کا چاند دیکھتے ہی جو حکم مسلمانوں کو سب سے پہلے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت سلمہ  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک کہ قربانی نہ کرے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے" ایک روایت میں یوں ہے کہ " نہ بال کٹوائے اور نہ ناخن کتروائے ۔" ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ " جو آدمی بقر عید کا چاند دیکھے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ (قربانی کے لینے تک) اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا» وَفِي رِوَايَةٍ «فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا» وَفِي رِوَايَةٍ «مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ ۔ (رَوَاهُ مُسلم مشكاة المصابيح 1/ 458 رقم الحديث 1459 باب في الأضحية،چشتی)

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے ، قربانی کے روز عید منانے کا، جو الله تعالیٰ نے اس امت کےلیے مقرر فرمائی ہے۔ ایک شخص عرض گزار ہوا کہ اگر مجھے کچھ میسر نہ آئے سوائے اس اونٹی یا بکری وغیرہ کے، جو دودھ دوہنے کے لیے عاریتاً یا کرائے پر ملی ہو تو کیا اس کی قربانی پیش کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں ! بلکہ تم اپنے بال کتراؤ ، ناخن کاٹو ، مونچھیں پست کرو اور موئے زیر ناف صاف کرو، الله تعالیٰ کے نزدیک بس یہی تمہاری قربانی ہے ۔
عَنْ عَبْدِ  بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ  عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ». قَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أُضْحِيَّةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ عَزَّ وَجَلَّ ۔ (سنن أبي داود رقم الحديث 2789 بَابُ مَا جَاءَ فِي إِيجَابِ الْأَضَاحِيِّ،چشتی)

ام المؤمنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا، وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا
جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہوجائے تو جس شخص کے پاس قر بانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو،وہ اپنے بال اتارے نہ ناخن تراشے ۔
    
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا ۔
جب عشرہ ذوالحج شروع ہو جائے اور تم میں کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تووہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے ۔

إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا، وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا ۔
جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہوجائے تو جس شخص کے پاس قر بانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو،وہ اپنے بال اتارے نہ ناخن تراشے ۔

إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ ۔
جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کاا رادہ رکھتا ہو،وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو(نہ کاٹے) اپنے حال پر رہنے دے ۔

مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ ۔
جس شخص کے پاس ذ بح کرنے کے لئے کوئی ذبیحہ ہوتو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے،وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے،یہاں تک کہ قربانی کرلے ۔ (صحیح مسلم :  بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا ؛ 3/1565،چشتی)

اب وہ روایات جن سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود ایسا نہیں کرتے تھے یعنی ناخن اور بال نہ کٹوانے پر آپ کا اپنا مبارک نہیں تھا اور ایسی کوئی پابندی آپ ان دنوں نہیں فرماتے تھے ملاحظہ کریں : ⬇

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللهِ  صلی اللہ علیہ والہ وسلم  فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اکثر میں بناتی تھی پھر ان کے گلے میں ہار ڈال کر روانہ کر دیتے پھر آپ ٹھہرے رہتے اور کسی ایسی  چیز سے پرہیز نہیں فرماتے تھے جن سے محرم پرہیز کرتا ہے (احرام میں جو امور منع ہیں ان میں ناخن اور بال کاٹنا بھی شامل ہے ۔

كَانَ رَسُولُ اللهِصلی اللہ علیہ والہ وسلم  يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کے جانور روانہ کر دیا کرتے تھے اور میں جانوروں کے ہار خود بناتی تھی (پھر) آپ ان چیزوں سے پرہیز نہیں کیا کرتے تھے جن سے محرم (احرام باندھنے والا) پرہیز کرتا ہے ۔

كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ، ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ ۔
ترجمہ : میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار بناتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز کرتے تھے نہ کسی چیز کو چھوڑتے تھے ۔
 
كَانَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ والہ وسلميَبْعَثُ بِالْهَدْيِ أَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ، ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلَالُ ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم قربانی کے اونٹ روانہ فرما دیا کرتے تھے میں ان کے ہار اپنے ہاتھوں سے بناتی تھی پھر آپ کسی ایسی چیز کو نہیں چھوڑتے تھے جس کو حلال نہیں چھوڑتا ۔   
   
كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ ، فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللهِصلی اللہ علیہ والہ وسلم حَلَالٌ ، لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ ۔
ترجمہ : ہم بکریوں کی گردنوں میں ہار ڈال کر ان کو مکہ مکرمہ روانہ کر دیا کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حلال ہی رہتے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے ۔ (صحیح مسلم : بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ ، 2/959،چشتی)

زیاد بن ابی سفیان نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ جس نے یعنی قربانی کا جانور بھیج دیا اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو ایک حاجی پر حرام ہوتی ہیں تا آنکہ اس کی ہدی کی قربانی کر دی جائے، عمرہ نے کہا کہ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جو کچھ کہا مسئلہ اس طرح نہیں ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے خود بٹے ہیں، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ان جانوروں کو قلادہ پہنایا اور میرے والد محترم (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ انہیں بھیج دیا لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کیا جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ  وسلم کے لیے حلال کی تھی، اور ہدی کی قربانی بھی کر دی گئی ۔ (صحیح البخاری باب من قلد القلائد بیدہ :2/ 169، حدیث نمبر1700)۔[(مؤطا امام مالک ؛ باب ما لا يوجب الإحرام من تقليد الهدي  :1/433 حدیث نمبر 1096،چشتی)۔(السنن الکبری للبیہقی : حدیث نمبر 10190)

دو طرح کے مضمون کی روایات کتب احادیث میں آتی ہیں ایک میں قربانی کرنے والے کیےلیے ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں قربانی کرنے سے پہلے بالوں اور ناخنوں کا کاٹنا منع ہے جبکہ دیگر احادیث کہتی ہیں ایسا کو ئی امر نہیں ۔ اب ان دونوں کا معنی مختلف ہے احادیث اپنی درجے میںدرجے اور قوت میں برابر ہیں ایسی صورت میں کیا حکم ہو گا تو اس کیلئے علم اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ جب دومقبول احادیث بظاہر متعارض اور معنیً مخالف ہوں تو سب سے پہلے ان میں تطبیق کی کوشش کی جائے گی دونوں کو اس طرح جمع کیا جائے گاکہ اختلاف ختم ہواور دونوں طرح کی روایات پر عمل ہو سکے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر دوسرے اصولوںپر عمل کیا جائے گا یہاں دونوں طرح کی احادیث پر یوں عمل ممکن ہو گا کہ منع والی احادیث جن میں ناخن اور بال کاٹنے کی ممانعت ہے کو استحباب پر اور دوسری احادیث کو رخصت پر محمول کیا جائےگا مسئلہ یوں ہو گا کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کو عشرہ ذوالحجہ میں قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے ناخن اور بال نہ کاٹنا مستحب ہوگا اور اگر کوئی کاٹنا چاہے تو اس کیےلیے اباحت اور جواز ہے ۔

فقہائے اسلام کی آراء

قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : قال الإمام : مذهبنا أن هذا الحديث لا يلزم العمل به، واحتج أصحابنا بقول عائشة - رضى الله عنها : " أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ والہ وَسَلَّمَ «يُهْدِي مِنَ المَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ المُحْرِمُ ۔
ترجمہ : امام فرماتے ہیں ہمارا مذہب یہ ہے اس حدیث پر عمل واجب نہیں اور اس پر ہماری دلیل حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ کی روایت کردہ حدیث ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ سے ہدی (اونٹ کی قربانی ) بھیجتے تھے اور آپ کی قربانی کےلئیے ہار میں بناتی تھی پھر آپ ان امور سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم (احرام والا) اجتناب کرتا ہے ۔ (اکمال العلم بفوائد مسلم : 6/431]')

غیرمقلد عالن عبد الرحمٰن مبارکپوری لکھتے ہیں : وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَصْحَابُهُ هُوَ مَكْرُوهٌ كَرَاهَةَ تَنْزِيهٍ وَلَيْسَ بِحَرَامٍ
شافعیہ کا مذہب ہے قربانی کرنے والے کےلیے عشرہ ذو الحجہ میں بال اور ناخن کاٹنا مکروہ تنزیہہ ہے حرام نہیں ۔
وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لَا يُكْرَهُ
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی علیہ کہتے ہیں مکروہ ( بھی ) نہیں ۔
وَقَالَ مَالِكٌ فِي رِوَايَةٍ لَا يُكْرَهُ وَفِي رِوَايَةٍ يُكْرَهُ وَفِي رِوَايَةٍ يَحْرُمُ فِي التَّطَوُّعِ دُونَ الْوَاجِبِ ۔
امام مالک رحمہ اللہ تعالی علیہ کی ایک روایت میں کراہت نہیں جبکہ ایک روایت کے مطابق کراہت ہےایک روایت میںہے یہ عمل نفل قربانی میں حرام ہے واجب میں نہیں ۔ (تحفۃ الاحوذی : 5/99)

محمَّدُ بنُ عزِّ الدِّينِ عبدِ اللطيف  الكَرمانيّ، الحنفيُّ لکھتے ہیں : ذهب قومٌ إلى ظاهر الحديث، فمنع من أخذ الشعر والظفر ما لم يذبح، وكان مالكٌ والشافعي يَريان ذلك على الاستحباب، ورخَّص فيه أبو حنيفة وأصحابه ۔
تعجمہ : ایک قوم اس حدیث کے ظاہر معنی پر گئی ہے کہ قربانی کرنے والے کو اپنی ناخن اور بال کاٹنا منع ہیں جب تک وہ ذبح نہ کر لے مالکیہ اور شافعیہ کی رائے استحباب کی ہے جبکہ حنفیہ رخصت کے قائل ہیں ۔ (شرح مصابيح السنة للإمام البغوي:2/263،چشتی)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں : مَحْمُولٌ عَلَى النَّدْبِ دُونَ الْوُجُوبِ بِالْإِجْمَاعِ ۔
ترجمہ : یہ حکم بالاجماع مندوب اور مستحب پر محمول ہے واجب پر نہیں ۔ (حاشیہ ابن عابدین : 2/181)

ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نیک اعمال کی فضیلت صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ، ان نیک اعمال میں روزہ رکھنا بھی شامل ہے ، چنانچہ بالعموم ان دنوں کے روزوں کی فضیلت حدیث شریف میں وارد ہوئی ہے اور خاص طور پر عرفہ (نو ذی الحجہ) کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت الگ سے بیان فرمائی گئی ہے، ذیل میں ان روایات کو ذکر کیا جاتا ہے : ⬇

صحیح بخاری کی روایت ہے : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں اِن (ذی الحجہ کے) دس دنوں کے نیک عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے ، مگر وہ شخص جو جان اور مال لے کراللہ کے راستے میں نکلے ، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آئے۔ (سب اللہ کے راستے میں قربان کردے ، اور شہید ہو جائے یہ ان دنوں کے نیک عمل سے بھی بڑھ کر ہے) ۔ (صحيح البخاري ٢/ ٢٠ (٩٦٩)كتاب العيدين/ باب فضل العمل في أيام التشريق،چشتی)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث کو عشرہ ذی الحجہ میں روزے رکھنے کی فضیلت کے ثبوت کے لیے بطور دلیل پیش کیا گیا ہے ، کیونکہ نیک اعمال میں روزہ بھی شامل ہے ۔ (فتح الباري لابن حجر: ٢/ ٤٦٠)

صحيح مسلم کی روایت ہے : حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا ۔ (صحیح مسلم: رقم الحدیث 1162،چشتی)

شعب الایمان کی روایت ہے : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں اِن (ذی الحجہ کے) دس دنوں کے نیک عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو ، لہذا تم ان ایام میں کثرت سے تہلیل اور تکبیر (لا الہ الااللہ اور اللہ اکبر) پڑھا کرو ، بے شک یہ تہلیل اور تکبیر کے ایام ہیں اور ان دنوں میں ایک دن کے روزے کا ثواب ایک سال روزہ رکھنے کے ثواب برابر ہے اور ان ایام میں نیک عمل کا ثواب سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے ۔ (شعب الإيمان: 5/ 311) (3481) تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن)

ابن عدی کی "الکامل" میں روایت ہے : حضرت جابر بن عبد الله رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے ان دس ایام میں روزہ رکھا ، تو اس کے ہر روزے کے بدلے میں ایک سال کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا ، سوائے عرفہ کے دن کے ، کیوں کہ جس نے عرفہ کے دن کا روزہ رکھا تو اس کےلیے دو سال روزہ رکھنے کا ثواب لکھا جائے گا ۔ (الكامل لابن عدي: ٦/ ١٥٧)

شعب الإيمان کی روایت ہے : امام اوزاعى کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچى ہے کہ عشرہ ذى الحجہ میں نیک عمل کا ثواب اللہ تعالى کے راستے میں جہاد کے اجر کى طرح ہے، جس کے دن میں روزہ اور رات میں پہرہ دیا جائے، مگر اس شخص کا اجر زیادہ ہوگا، جو جہاد میں جائے اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو جائے ۔

امام اوزاعى کہتے ہیں : مجھے یہ حدیث بنو مخزوم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب کرکے سنائی ہے ۔ (شعب الایمان للبيهقي:٥ /٣٠٩ (٣٤٧٧) باب في الصيام/ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن،چشتی)

سنن الترمذی کی روایت ہے :
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں ، جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو ، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے ۔
(سنن الترمذي: ٢/ ١٢٢ (٧٥٨) أبواب الصوم عن رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم/ باب ما جاء في العمل في أيام العشر)

واضح رہے کہ نفل روزے کی الگ حیثیت ہے اور فرض روزے کی قضا کی الگ اور مستقل حیثیت ہے ، لہذا نفل اور قضا روزوں کو الگ الگ رکھا جائے گا ، ایک روزہ میں نفل اور قضا دونوں کی نیت نہیں کر سکتے ۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کوئی ایسے دن نہیں جن میں نیک اعمال اللہ جل شانہ کو عشرۂ ذی الحجہ (میں نیک اعمال) سے زیادہ محبوب ہوں ، پوچھا گیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا اللہ کے راستے میں جہاد سے بھی (ان دنوں کی عبادت افضل ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ (جی ہاں) اللہ کے راستے میں جہاد بھی برابر نہیں ہو سکتا مگر وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جان و مال سمیت نکلے اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹے ۔ (رواہ البخاری مشکوٰۃ المصابیح، رقم الحدیث:1460 باب فی الأضحیۃ،چشتی)

حضرت عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ جل شانہ کے نزدیک عشرۂ ذی الحجہ کے برابر زیادہ عظمت والے دن کوئی نہیں اور نہ کسی دنوں میں نیک عمل اتنا پسند ہے (جتنا ان دنوں میں) پس تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح (سبحان اللہ) ، تکبیر (اللہ اکبر) اور تہلیل (لاالہ الااللہ) کیا کرو ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 11116)

عید رات کی فضیلت

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دونوں عیدوں  کی رات (یعنی چاند رات) کو اللہ تعالیٰ سے ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے عبادت کرے ، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوں گے ۔ (سنن ابن ماجۃ،رقم الحدیث: 1712،چشتی)

عشرۂ ذی الحجہ میں دن کو روزہ اور رات میں عبادت کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ’’ ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہو ، اس کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے ۔ اور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے ۔ (جامع الترمذی رقم الحدیث: 758)

یومِ عرفہ ( نوذی الحجہ) کے روزے کی خاص فضیلت

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ گزشتہ ایک سال اور آیندہ ایک سال کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جائے گا ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث:749)

یوم عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کی معافی کا  ذریعہ ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ ایک سال گزشتہ او رایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔
صيام يوم عرفة ، أحتسب على أن يكفر السنة التي قبله، والسنة التي بعده ۔ (صحيح مسلم رقم الحديث 1162 باب استحباب صيام ثلاثة أيام من كل شهر)

فضائل پر گناہوں کی معافی  سے مراد صغیرہ گناہ ہیں

احادیث فضائل میں جہاں بھی کسی نیک عمل سے گناہوں کے معاف ہونے کا ذکر ہے ان سے صغیرہ گناہ مراد ہیں او رجہاں تک کبیرہ گناہوں کا تعلق ہے وہ بغیر توبہ وندامت کے کسی عمل سے معاف نہیں ہوتے او رپھر توبہ سے بھی وہ گناہ کبیرہ معاف ہوتے ہیں جن کا تعلق حقوق الله سے ہو نہ کہ حقوق العباد سے ۔

عرفہ کا روزہ غیر حاجی کےلیے ہے

عرفہ کے دن ، جو دراصل حج کا اہم ترین دن ہے ، روزہ کی یہ فضیلت غیر حاجیوں کےلیے ہے کہ اس طرح حجاج کرام پر نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ جب کہ حجاج کےلیے مقبول ترین عمل اس دن وقوف عرفات ہے ، اگر حجاج اس دن روزہ رکھیں گے تو انہیں وقوف عرفہ کے بعد مزدلفہ جانے میں مشکل پیش آئے گی ، لہٰذا حجاج کرام کےلیے اس دن روزہ رکھنے کی ممانعت بھی ہے ۔

حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عرفہ کے دن کے روزہ کے متعلق اختلاف کیا  بعضوں نے کہا کہ : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ سے ہیں ، بعضوں نے کہا کہ : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ سے نہیں ہیں ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹ پر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پی لیا ۔
عَنْ أُمِّ الفَضْلِ بِنْتِ الحَارِثِرضي الله عنها، أَنَّ نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، «فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ، فَشَرِبَهُ ۔ (صحيح البخاري 2/ 162 رقم الحدیث 1661)

 تکبیراتِ تشریق

وَاذْكُرُوا فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ ۔ اور یاد کرتے رہو اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں ، ایام معدودات سے ایام تشریق مراد ہیں ۔ (تفسیر مظہری)

تکبیر تشریق کی اصلیت یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو لٹایا تو ﷲ تبارک و تعالیٰ نے حضرت جبرئیل  علیہ السلام کو حکم دیا کہ فدیہ لے کر جاؤ ۔ لیکن یہ فدیہ لے کر آئے تو اس ڈر سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسمعیل  علیہ السلام کو ذبح کر ڈالیں  گے ، ﷲ اکبر ﷲ اکبر پکارنے لگے ۔ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام  نے جب یہ آواز سنی تو بشارت سمجھ کر پکار اٹھتے ’’ لا الہ الا ﷲ وﷲ اکبر‘‘ حضرت اسمعیل علیہ السلام  سمجھے کہ فدیہ آگیا تو ﷲ اکبر وﷲ الحمد کہتے ہوئے ﷲ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرنے لگے ۔ (شامی ج۱ ص ۵۸۵)

تکبیرِ تشریق کب سے کب تک ہے ؟

 تکبیرِ تشریق نویں ذی الحجہ کی نماز فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کی نماز عصر تک ہر فرض نماز کے فوراً بعد مردوں کےلیے بآواز بلند اور عورتوں کےلیے ایک مرتبہ آہستہ کہنا واجب ہے ۔
اجْتَمَعَ عُمَرُ وعَلِىٌّ وابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى التَّكْبِيرِ فِى دُبُرِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَأمَّا ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَاةُ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، وَأَمَّا عُمَرُ وَعَلِىٌّ قَالَا: صَلَاةُ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ۔ (الجامع الكبير15/ 290)
عن عبيدةَ قالَ : قَدِمَ عَلينَا علىُّ بنُ أبِى طالبٍ فَكَبَّر يَومَ عرفةَ من صلاةِ الغداةِ إلى صلاةِ العصرِ من آخرِ أيَّامِ التشريقِ يقولُ : أكبرُ، أكبرُ، لاَ إِلَهَ إلاَّ الله، و أَكْبَرُ أكبرُ وِلله الحمدُ ۔ (الجامع الكبير 17/ 631)
 أوله من فجر عرفة إلی عصر الیوم الخامس آخر أیام التشریق وعليه الاعتماد ۔ (شامی زکریا ۳؍۶۴، ایضاح المسائل ۳۷)

 تکبیر تشریق کے الفاظ یہ ہیں :

أکبر أکبر لا إله إلا و أکبر أکبر ولله الحمد ۔

تکبیرِ تشریق کتنی مرتبہ پڑھی جائے ؟

تکبیرِ تشریق اصلا ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے، تاہم کوئی شخص ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھ لے تو بھی حرج نہیں ۔ ویجب تکبیر التشریق فی الأصح للأمر به مرة وإن زاد عليها یکون فضلاً ۔ (درمختار 2/177)

تکبیرِ تشریق کن لوگوں پر واجب ہے؟

تکبیرِ تشریق مقیم ، مسافر ، منفرد ، جماعت ، عورت ، اہلِ شہر اور دیہات کے رہنے والوں پر واجب ہے ۔ ووجوبه علی إمام مقیم بمصر و علی مقتد مسافر أو قروی أو امرأة لکن المرأة تخافت ویجب علی مقیم اقتدی بمسافر ، وقالا بوجوبه فور کل فرض مطلقاً ولو منفرداً أو مسافراً أو امرأة لأنه تبع للمکتوبة ۔ (رد المحتار ، زکریا ۳؍۶۴)

 تکبیرِ تشریق بھول جانا

تکبیرِ تشریق کہنا واجب ہے اگر کوئی مانع فعل صادر ہوجائے مثلاً مسجد سے باہر نکل گیا یا کوئی بات چیت کرلی یا عمداً وضو توڑ دیا، تو ان تمام صورتوں میں تکبیرِ تشریق ساقط ہوجائے گی لیکن سہواً وضو ٹوٹ جائے تو تکبیر کہہ لے اور اگر قبلہ سے سینہ پھر گیا تو اس میں دو روایتیں ہیں؛ لہٰذا احتیاطاً تکبیر کہہ لی جائے ۔ عقب کل فرض عینی بلا فصل یمنع البناء فلو خرج من المسجد أو تکلم عامداً أو ساهیاً أو أحدث عامداً سقط عنه التکبیر وفی استدبار القبلة روایتان ولو أحدث ناسیاً بعد السلام الأصح أنه یکبر ولایخرج للطهارة ۔ (فتاویٰ شامی زکریا ۳؍۶۳،چشتی)

مسبوق پر تکبیرِ تشریق

مسبوق پر بھی تکبیرِ تشریق واجب ہے وہ اپنی بقیہ رکعات پوری کرنے کے بعد پڑھے گا ۔ والمسبوق یکبر وجوباً کاللاحق ۔ (فتاویٰ شامی زکریا ۳؍۶۵، ہندیہ ۱؍۱۵۲)

عورتوں پر تکبیرِ تشریق

 عورتوں پر بھی تکبیرِ تشریق واجب ہے ، لیکن وہ بالکل آہستہ آہستہ پڑھیں گی ۔ یجب علی المرأة والمسافر، والمرأة تخافت بالتکبیر ۔ (ہندیہ ۱؍۱۵۲، شامی زکریا ۳؍۶۴)

اگر حاجی کو اس روزے کی وجہ سے یومِ عرفہ کے قیمتی دن کی عبادات اور دعا مانگنے میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں حاجی کے لیے یہ روزہ رکھنا مکروہ ہے ۔ (فتاویٰ شامی)

واضح رہے کہ یکم ذوالحجہ سے نو ذوالحجہ تک روزہ رکھنا مستحب ہے لیکن عید کے دن روزہ رکھنا شرعاً ممنوع ہے کیوں کہ حدیث میں اس دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اسی طرح عید الاضحیٰ کے دوسرے اور تیسرے دن بھی روزہ رکھنا جائز نہیں ۔ البتہ عیدالاضحیٰ کے دن اگر کوئی شخص اپنے کھانے اگر کوئی شخص اپنے کھانے کی ابتداء قربانی کے گوشت سے کرے اور اس سے پہلے کچھ نہ کھائے تو اس کو فقہاء کرام نے مستحب لکھا ہے اور یہ عمل سنت سے ثابت ہے ۔ (بدائع الصنائع ہندیہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں محترم قارئینِ کرام : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) ح...