Monday, 5 February 2018

کعبہ کرتا ہے طواف درِ والا تیرا شعر پر اعتراض کا جواب

کعبہ کرتا ہے طواف درِ والا تیرا شعر پر اعتراض کا جواب






محترم قارئینِ کرام : امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا یک شعر منقبتِ غوث اعظم رحمۃ اللہ میں ہے : ⬇ سارے اقطابِ جہاں کرتے ہیں کعبے کا طواف کعبہ کرتا ہے طواف درِ والا تیرا یعنی شان غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ میں منقبت لکھی ۔ اس شعر میں جس بات پر ان جہلاء کو اعتراض ہے جس میں اعتراض کی کوئی تُک بنتی ہی نہیں آیئے جواب پڑھتے ہیں ۔ خانہ کعبہ بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے : ⏬ خانہ کعبہ شریف کا بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جانا کرامت کے طور پر جائز ہے ۔ فقہاء علیہم الرّحمہ نے بھی اس کی تائید کی ہے ۔ چنانچہ امام حصکفی رحمتہ اللہ علیہ متوفیٰ 1088 ھجری در مختار مین فرماتے ہیں : مفتی جن و انس امام نسفی رحمۃ اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ سنا ہے خانہ کعبہ اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے ، کیا یہ کہنا شرعاً جائز ہے ؟ امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : خرق العادۃ علی سبیل الکرامۃ لا ھل الولایۃ جائز عند اھل السنۃ) یعنی ، خرق عادت کرامت کے طور پر اولیاء اللہ کےلیے اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (الدُّرُّ المختار کتاب الطلاق صفحہ نمبر 253) مفتی بغداد امام سیّد محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کعبۃ اللہ بعض اولیاء اللہ کی زیارت کو جاتا ہے اور یہ اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (تفسیر روح المعانی جلد 13 صفحہ 14) امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جن کا طواف بیت اللہ کرتا ہے ۔ (احیاء العلوم جلد اوّل صفحہ 450،چشتی) مولوی محمد زکریا کاندہلوی دیوبندی لکھتے ہیں : بعض اللہ والے ایسے ہوتے ہیں کہ خود کعبہ ان کی زیارت کو جاتا ہے ۔ (فضائل حج صفحہ 93 دارالاشاعت) ۔ حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی صاحب بوادر النوادر میں یہی بات لکھی ہے ۔ دارالعلوم دیوبند کا فتوی ٰ : ⏬ سوال نمبر : 7126 عنوان : مولانا زکریا رحمة اللہ علیہ نے فضائل حج میں فرمایا: کعبہ نیک لوگوں کی زیارت کو جاتا ہے۔ کیایہ واقعی جاتا ہے؟ میں نے فتاوی شامی،ج:۱، ص:۲۹۰ اور رد مختار ، ج:۲، ص:۸۶۸، میں پڑھا کہ کعبہ اپنی جگہ سے دور جائے یہ بات ممکن ہے۔ اوراگر کوئی شخص کعبہ کواس کی جگہ پر نہ پائے تو حنفی فقہ کے مطابق (نماز کے لیے) اپنا چہرہ اس جگہ کی طرف کرے ۔ دوسری طرف احمد رضا خان نے عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ کے سلسلے میں فرمایا:کریں اقطاب عالم کعبہ کا طواف # کعبہ کرتا ہے طواف دار والے تیرا ۔ سوال : مولانا زکریا رحمة اللہ علیہ نے فضائل حج میں فرمایا: کعبہ نیک لوگوں کی زیارت کو جاتا ہے۔ کیایہ واقعی جاتا ہے؟ میں نے فتاوی شامی،ج:۱، ص:۲۹۰ اور رد مختار ، ج:۲، ص:۸۶۸، میں پڑھا کہ کعبہ اپنی جگہ سے دور جائے یہ بات ممکن ہے۔ اوراگر کوئی شخص کعبہ کواس کی جگہ پر نہ پائے تو حنفی فقہ کے مطابق (نماز کے لیے) اپنا چہرہ اس جگہ کی طرف کرے ۔ دوسری طرف احمد رضا خان نے عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ کے سلسلے میں فرمایا:کریں اقطاب عالم کعبہ کا طواف # کعبہ کرتا ہے طواف دار والے تیرا ۔ جواب نمبر : 7126 ۔ بسم الله الرحمن الرحيم ۔ فتوی : 1582=1351/ ب ۔ نیک لوگوں کی زیارت کے لیے کعبہ کا جانا اور اپنی جگہ سے ہٹنا ممکن ہے۔ اگر کعبہ کو کوئی اپنی جگہ پر نہ پائے تو اس جگہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے ۔ اوراحمد رضاخاں نے جو شعر کہا ہے وہ مبالغہ پر محمول ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند ۔ شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ شعر سر کار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منقبت میں ہے اور در والا سے مراد سر کار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا در پاک ہے ۔ یہ اصل میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں تصریح ہے کہ : کعبہ نے سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے در پاک کا طواف کیا ، جو سر کار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب کی کتاب میں درج ہے جو بد نصیب اس کا انکار کرتا ہے وہ اپنی خیر منائے سر کا رغوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ”انکاری سم قاتل لا دیانکم “ ایسے جاہلوں کے منھ نہیں لگنا چاہیے ، ہر بات کے ثبوت کےلیے قرآن وحدیث سے دلیل مانگنا حماقت نہیں شرارت ہے ، خود اس بد نصیب سے پوچھیے کہ تو قرآن و حدیث سے دلیل لا کہ تو فلاں کا بیٹا ہے ۔ کیا لا سکے گا ؟ جامعہ عربیہ کے فتوی کی نقل میرے پاس بھیج دی جائے تو میں غور کروں میرا ظن غالب یہ ہے کہ یہ شخص نے شخص غلط کہہ رہا ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں کہ کعبہ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے در پاک کا طواف کرے ، یہ واقعہ تذکرۃ الاولیا وغیرہ بہت سی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہا کے استقبال کےلیے کعبہ گیا ہوا تھا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (فتاوی شارح بخاری جلد ۲ صفحہ ۱۴۰) ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:

Post a Comment

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں محترم قارئینِ کرام : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) ح...