مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی دولہا اور داڑھی والی دلہن مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی
مولوی انوار الحسن دیوبندی لکھتا ہے : بیداری میں جن خیالات اور افکار کا ہجوم ہوتا ہے خواب میں ان ہی کا تصور سامنے آجاتا ہے ۔ (مبشرات دارالعلوم دیوبند صفحہ نمبر 19 )
مولوی رشید احمد کو خواب آتا ہے کہ مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی دلہن کی صورت ہے ، ان سےنکاح ہوا ہے اور وہ اس سے میاں بیوی والےفوائد اٹھاتا ہے ۔ مولوی عاشق الٰہی بلند شہری دیوبندی لکھتا ہے : حضرت گنگوہی کا حضرت نانوتوی سے خواب میں نکاح ہوا دونوں نے ایک دوسرے کو وہی فائدہ پہنچایا جو میاں بیوی ایک دوسرے کو پہنچاتے ہیں ۔ (تذکرۃ الرشید جلد دوم صفحہ 289 مطبوعہ انڈیا قدیم ایڈیشن)(تذکرۃ الرشید جلد 2 صفحہ 289 مطبوعہ ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور)
مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی کہتا ہے : خواب میں بانی دیوبند قاسم نانوتوی سے میرا نکاح ہوا وہ دلہن کی صورت میں تھے میاں بیوی والا لطف اٹھایا جس طرح میاں بیوی کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح مجھے انہوں نے اور میں نے ان کو پہنچایا ۔ (ارشادات گنگوہی صفحہ 123 مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)
آخر یہ سرخی قائم کر کے کہ حضرت گنگوہی کا حضرت نانوتوی سے خواب میں نکاح اور یہ لکھنا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو وہی (سمجھ گئے نا وہی) فائدہ پہنچایا جو میاں بیوی ایک دوسرے کو پہنچاتے لکھنے کی کیا ضرورت تھی یہ کون سے شرم و حیاء اور کون سے دین کی تعلیم پھیلائی جا رہی ہے اور کتابیں مسلسل چھاپی جا رہی ہیں مجھے تو ایک بات سمجھ اس طرح کی باتیں لکھ کر سادہ لوح نوجوان نسل کو گمراہی نے حیائی کے راستے پر ڈالا جا رہا ہے باقی آپ کی سمجھ میں کیا آتا ہے خود پڑھیے مکمل واقعہ اور فیصلہ کیجیے ۔
ہو سکتا ہے کوئی یہ اعتراض کر ے کہ یہ تو خواب کا واقعہ ہے ۔ حالانکہ گنگوہی صاحب کا اس خواب کواستدلالی صورت میں بر سرِ عام بیان کرنا ہمیں بھی اتنی اجازت تو دیتا ہے کہ ہم بھی اس نیک خواب کو دوسروں کے سامنے پیش کر سکیں ۔ نیز ضروری ہے کہ ہم اس خواب کی کچھ عملی تعبیراور نمونہ بھی آپ کے سامنے رکھ دیںتاکہ آلِ دیوبند کےلیے سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔



No comments:
Post a Comment