Sunday, 24 May 2026

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

محترم قارئینِ کرام : ایسا نام جو خاص کفار رکھتے ہوں یا ان کی علامت اور پہچان ہو ، مسلمان کو رکھنا جائز نہیں ، لہٰذا اسے تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ مگر ہمارے پنجاب کے حکمران مختلف مقامات کے اسلامی نام بدل کر ہندوٶں اور انگریزوں والے نام رکھ اور بحال کر رہے ہیں جن مقامات کے ناموں کو اسلامی بنانے اور پاکستان حاصل کرنے کےلیے بیشمار قربانیاں دی گٸیں آج جس طرح ھندوستان میں مودی مقامات کے مسلم نام بدل رہا اسی کی پیروی کرتے ہوۓ پنجاب کے حکمران کر رہے ہیں ۔ امام ابو عمر یوسف بن عبد اللہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ الاستیعاب میں ، امام عزالدین ابن اثیر جزری رحمۃ اللہ علیہ اسد الغابہ میں اور امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ میں لکھتے ہیں : حضرت عبد العزیز بن بدر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے ساتھ حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ما اسمك ؟ قال : عبد ‌العزى ، فغير علیہ السلام اسمه، وسماه عبد العزیز ۔

ترجمہ : تمہارا نام کیا ہے ؟ عرض کی : عبدُ الْعُزّی(عزی کفار کے بت کانام کا بندہ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا نام بدل کر عبدالعزیز (غالب و طاقتور کا بندہ) رکھ دیا ۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد 3 صفحہ 1006 مطبوعہ دار الجيل، بيروت)


نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں چونکہ ناموں کی غیرمعمولی اہمیت تھی ، اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا عام معمول یہ تھا کہ جب کوئی اسلام قبول کرتا ، اور اس کا نام قابلِ اصلاح ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت اہتمام سے اس کے نام کی اصلاح فرماتے تھے ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں : أن النبي أن يغير الاسم القبيح ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدلتے تھے ۔ (سنن الترمذی جلد ۵ صفحہ ۱۱۴ باب فی تغير الأسماء مطبوعہ دارالرسالۃ العالميۃ)


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةُ ۔ قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ ، أَخْبَرَنِي عَنْ ۔

ترجمہ : احمد بن حنبل ، زہیر بن حرب ، محمد بن مثنیٰ ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے (ان سب نے) کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) کا نام تبدیل کر دیا اور فرمایا : تم جمیلہ (خوبصورت) ہو ۔ احمد نے (مجھے خبر دی) کی جگہ (سے روایت ہے) کہا ہے ۔ (صحيح مسلم كتاب الآداب حدیث نمبر 5604)


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" مَا اسْمُكَ , قَالَ: حَزْنٌ , قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ , قَالَ: لَا، السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ" , قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ، قَالَ أبو داود: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْعَاصِ، وَعَزِيزٍ، وَعَتَلَةَ، وَشَيْطَانٍ، وَالْحَكَمِ، وَغُرَابٍ، وَحُباب، وَشِهَابٍ، فَسَمَّاهُ: هِشَامًا، وَسَمَّى حَرْبًا: سَلْمًا، وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ: الْمُنْبَعِثَ، وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا: خَضِرَةَ، وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ: شَعْبَ الْهُدَى، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ: بَنِي الرِّشْدَةِ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ: بَنِي رِشْدَةَ , قَالَ أبو داود: تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ ۔

ترجمہ : حرت سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہم) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ کہا : حزن آپ نے فرمایا : تم سہل ہو ، انہوں نے کہا : نہیں ، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے ، سعید کہتے ہیں : تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاص (گنہگار) عزیز (اللہ کا نام ہے) ، عتلہ (سختی) شیطان ، حکم (اللہ کی صفت ہے) ، غراب (کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں) ، حباب (شیطان کا نام) اور شہاب (شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے) کے نام بدل دیے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا ، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا ، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا ، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا ، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا ، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا ، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں ۔ (سنن ابي داود كتاب الأدب حدیث نمبر 4956)(صحیح البخاری الأداب 107 حدیث نمبر 6190) ، 108 حدیث نمبر 6193)(تحفة الأشراف حدیث نمبر 3400))(مسند احمد جد 5 حدیث نمبر 433)


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ : أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اسْمُكَ , قال : أَنَا أَصْرَمُ , قَالَ : بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ ۔

ترجمہ : اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ ایک آدمی جسے ، اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا ، اس گروہ میں تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اصرم ہوں ، آپ نے فرمایا : نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو ، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے ) ۔ (سنن ابي داود كتاب الأدب حدیث نمبر 4954)


حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ۔

ترجمہ : ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے ، انہیں ابورافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا ، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا ۔ (صحيح البخاری كتاب الأدب حدیث نمبر 6192)


امام طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی : 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں : قسم یختص بالکفار … کجرجس وپطرس ویوحنا ، … فھذا لایجوز للمسلمین التسمی بہ لما فیہ من المشابھۃ ۔

ترجمہ : ناموں کی ایک قسم کفار کے ساتھ خاص ہے، جیسے جرجس ، پطرس اور یوحنا ، وغیرہ ، لہٰذا اس قسم کے نام مسلمانوں کےلیے رکھنا جائز نہیں ، کیونکہ اس میں کفار سے مشابہت پائی جاتی ہے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 473 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں : دسوندی نام کفّار ہنود سے ماخوذ ہے اور مسلمان کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے ، کما صرحوا بہ فی التسمی بیوحنا ، وغیرہ ، (جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق فقہاء نے تصریح فرمائی ہے) ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 260 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)


ایک اَور مقام پر امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ سےسوال ہوا کہ : بکرنے اپنی اولاد کے نام تین زبانوں میں رکھ چھوڑے ہیں ، عربی انگریزی، ہندی ، ایک لڑکے کا مطیع الاسلام ہے ، دوسرے کا پالس ، لڑکی کا نام کنول دیوی ، جواس سے کہا جاتا ہے ، تو کہتا ہے کہ زبان کا فرق ہے ، مگر بُرے نہیں ، تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نےجواباً ارشاد فرمایا : یہ اس کافعل شیطانی شیطانی حرکت ہے ۔ قال ﷲ تعالیٰ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۔ (یعنی) اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ (القرآن الکریم ، 2 / 208) ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 663 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)


شریعت کی نظر میں کونسا نام بُرا ہے ، اس حوالے سے اُصول بیان کرتے ہوئے علامہ ابوالمَعَالی بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 616ھ /1219ء) لکھتےہیں : التسميةباسم لم يذكره اللہ تعالى في كتابه ولا ذكره رسول اللہ عليه السلام ، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه ، والأولى أن لا تفعل ۔

ترجمہ : ایسانام رکھنا جس کا ذکر نہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن کریم میں کیا ہو ، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (احادیث میں ) کیا ہو اور نہ ہی مسلمانوں میں ایسانام مستعمل ہو ، تواس میں علماء کا اختلاف ہے  اور بہتریہ ہے کہ نہ رکھے ۔ (المحیط البرھانی کتاب الاستحسان جلد 5 صفحہ 382 دارالکتب العلمیۃ بیروت) ، یونہی فتاوی عالمگیری ، فتاوی شامی اور بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے  ۔ اسی طرح اوپر مراٰۃ المناجیح کے جزئیہ میں بیان ہوا  کہ جو نام بے معنی ہو ، جس میں فخر و تکبر پایا جاتا ہو اور جس کے معنی بُرے ہوں، وہ نام رکھنا بھی بُرا ہے ۔


وہ بعض نام جو نبی کریم صَلَّی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل فرمائے ، صحیح مسلم ، سنن ترمذی اور دیگر کتب احادیث میں ہے : عن ‌ابن عمرأن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیراسم عاصیۃ ، وقال أنت جميلة ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ نام تبدیل کیا اور فرمایا :  تم (تمہارا نام) جمیلہ ہو ۔ (سنن الترمذی کتاب الادب جلد 2 صفحہ 572 مطبوعہ لاھور،چشتی)


اس حدیث پاک کے تحت امام علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1014ھ  /1605ء) لکھتے ہیں : قال النووي :  وفيه استحباب تغییر الاسم ‌القبيح ، كما يستحب تغيير الأسامي المكروهة إلى حسن ۔

ترجمہ : امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا : اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ برے نام کو بدلنا مستحب ہے ، جیساکہ ناپسندیدہ ناموں کو اچھے ناموں میں تبدیل کرنا مستحب ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح باب الاسامی جلد 79 صفحہ 16 مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)


سنن ابوداؤد میں ہے : قال أبو داود : وغيّر النبي صلى اللہ عليه وسلم اسم العاص ‌وعزيز وعتلة وشيطان والحكم وغرإب وحباب، وشهاب فسماه هشاما، وسمى حربا : سلما ، وسمى المضطجع المنبعث، وأرضا تسمى عفرة سماها خضرة وشعب الضلالة سماه شعب الهدى ، وبنو الزنية سماهم بني الرشدة ، وسمى بني مغوية بني رشدة ۔

ترجمہ : عظیم محدِّث امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےعَاص (گنہگار) ، عَزِیْز (غالب ، طاقتور) ، عَتَلَۃ (شدت اور سختی) ، شیطان (ہلاک ہونے والا ، بھلائی سے دور) ، حَکَم (دائمی حکومت والا) ، غُرَاب (کوا ، دور نکل جانے والا) اور حُبَاب (شیطان کا نام ، سانپ کی ایک قسم) کے نام تبدیل فرما دئیے اور شِہَاب (آگ کا شعلہ) کا نام ھِشَام (سخاوت) ، حَرْب (جنگ) کا نام سَلْم (صلح) اور مُضْطَجِع (لیٹنے والا) کا نام مُنْبَعِث (اٹھنے والا)رکھا ۔ (سنن ابی داٶد کتاب الادب جلد 2 صفحہ 335 مطبوعہ لاھور)


اس کے تحت شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1052ھ) لکھتےہیں : فكره التسمية بهذه الأسماء ۔

ترجمہ : پس ان ناموں میں سے کوئی نام رکھنا مکروہ ہے ۔ (لمعات التنقیح باب الاسامی جلد 8 صفحہ 109 مطبوعہ دار النوادر دمشق)


ان سب جزئیات سے واضح ہوا کہ ایسا نام جس میں کفار سے مشابہت نہ بھی ہو ، مگر وہ اچھا نہ ہو ، تو اسے بھی بدل دینا چاہیے ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل کر دئیےتھے ، البتہ ایسا نام جو مسلمان اور غیر مسلموں میں مشترک ہو ، اسے تبدیل کرنا ضروری نہیں ہے ، جیسا کہ : یحیی ، عیسی ، سلیمان ، وغیرہا ، لہٰذا اگر کسی غیر مسلم کا ایسا نام ہو ، تو اسلام قبول کرنے کے بعد اسے تبدیل کرنا ضروری نہیں ، کیونکہ یہ دونوں کو رکھنا جائز ہے ، چنانچہ ناموں کے حوالے سے تقسیم کاری بیان کرتے ہوئے امام طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ لکھتے ہیں : قسم یختص بالمسلمین وقسم یختص بالکفار وقسم مشترک ۔ ۔ ۔  والثالث :  کیحیی و عیسی و ایوب و داود و سلیمان و زید و عمرو و عبد اللہ و عطیۃ و سلام ، ونحوھا ، فھذا لایمنع منہ المسلمون ولا اھل الذمۃ ۔

ترجمہ : ناموں کی ایک قسم مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے ، ایک قسم کفار کے ساتھ خاص ہے اور ایک قسم دونوں میں مشترک ہے ۔ ۔ ۔  یہ تیسری قسم کے نام ، مثلاً یحیی ، عیسی ، ایوب ، داود ، سلیمان ، زید ، عَمرو ، عبد اللہ ، عطیہ ، سلام اور ان جیسے دیگر نام ، تو (ان کا حکم یہ ہے کہ) یہ نام رکھنے سے نہ مسلمانوں کو روکا جائے گا اور نہ ہی غیر مسلموں کو ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 473 مطبوعہ کوئٹہ)


اسی مقام پر امام طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا کہ وہ اسلامی نام جو مسلمانوں کے ساتھ خاص ہوں وہ غیر مسلم کو رکھنے کی اجازت نہیں ، جیسا کہ محمد ، احمد ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نام ، مگر غیر مسلم نے رکھ لیا اور بعد میں اسلام قبول کر لیا ، تو اب وہ نام جو اسے پہلے رکھنے کی اجازت نہیں تھی ، اب رکھنے کی اجازت ہو گئی ، لہٰذا اسے بھی تبدیل کرنے کی حاجت نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں محترم قارئینِ کرام : ایسا...