Thursday, 4 June 2015

حکم جہاد قرآن و حدیث کی روشنی میں ( 1 )


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(۱) كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ۔ (البقرہ۔۲۱۶)

قتال کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو (طبعاً) برا لگتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ تم کسی بات کو برا سمجھو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور ممکن ہے تم ایک کام کو بھلاسمجھو اور وہ تمہارے حق میں برا ہو اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

(۲) وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ [/ARABIC](البقرہ۔۲۴۴)

اور لڑو اللہ کے راستے میں اور جان لو بے شک اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:

(۳) وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الأرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ [/ARABIC](البقرہ۔۲۵۱)

اور اگر اللہ تعالیٰ کا بعض لوگوں کے ذریعے بعض کو دفع کرانا نہ ہوتا تو زمین فساد سے بھر جاتی لیکن اللہ تعالیٰ جہاں والوں پر بڑے مہربان (کہ انہوں نے جہاد کا حکم نازل فرما کر فساد کے خاتمے اور امن کے قیام کی صورت پیدا فرما دی)

اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا:

(۴)فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ۔(التوبہ۔۵)

ان مشرکوں کو جہاں پاؤ مارو اور پکڑو اور گھیرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو۔

No comments:

Post a Comment

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں محترم قارئینِ کرام : ایسا...